
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطاء میں بیس اونٹ اور بیس اونٹنیاں ایک سالہ بیس اونٹ دو سالہ بیس اونٹ تین سالہ اور بیس اونٹ چار سالہ ﴿کل ایک سو اونٹ﴾دیت مقرر فرمائی۔ ابو ہشام رفاعی نے بواسطہ ابن ابی زائدہ اور ابو خالد احمر حجاج بن ارطاۃ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت مذکور ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کو ہم صرف اسی طریق سے مرفوعاً جانتے ہیں اس سے مرفوعاً بھی مروی ہے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے اہل علم کا اتفاق ہے کہ دیت تین سالوں میں ہر سال ایک تہائی کے حساب سے لی جائے نیز فرماتے ہیں کہ قتل خطاء کی دیت عاقلہ پر ہے بعض علماء کے نزدیک عاقلہ سے مرد کی طرف سے رشتہ دار مراد ہیں۔ امام شافعی اور مالک رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں دیت مردوں پر ہے عورتوں اور بچوں پر نہیں ان میں سے ہر ایک پر ایک چوتھائی دینار جرمانہ کیا جائے بعض نے نصف دینار کہا ہے اگر دیت پوری ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ باقی دیت رشتہ داروں میں سے زیادہ قریب کے قبیلہ پر ڈالی جائے۔ جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۳۸،مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الْإِبِلِ،جلد۱ص۶۹۷،حديث نمبر ١٣٨٦)
عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو جان بوجھ کر قتل کرے وہ مقتول کے ورثا کے حوالہ کیا جائے وہ اگر چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور اگر چاہیں دیت لے لیں۔ اور یہ (دیت)تیس تین سالہ تیس چار سالہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں اور اگر صلح کر لیں تو وہی ہے جس پر صلح کر لی اور یہ دیت کے سخت ہونے کی وجہ سے ہے عبداللہ بن عمرو کی روایت غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۳۸،مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الْإِبِلِ،جلد۱ص۶۹۷،حديث نمبر ١٣٨٧)
نقد کی صورت میں دیت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ ہزار درہم دیت مقرر فرمائی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۳۹،مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الدَّرَاهِم،جلد۱ص۶۹۸،حديث نمبر ١٣٨٨)
سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی بواسطہ سفیان بن عیینہ عمرو بن دینار اور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا واسطہ مذکور نہیں ابن عیینہ کی روایت میں اس سے زیادہ کلام ہے ہم نہیں جانتے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے محمد بن مسلم کے علاوہ کسی اور نے یہ حدیث روایت کی ہو بعض اہل علم کے نزدیک اس حدیث پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے بعض علماء کے نزدیک دیت دس ہزار درہم ہیں سفیان ثوری اور اہل کوفہ﴿ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ﴾ اسی کے قائل ہیں امام شافعی فرماتے ہیں دیت میں اونٹوں کا دینا ہی صحیح سمجھتا ہوں اور وہ سو اونٹ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۳۹،مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الدَّرَاهِم،جلد۱ص۶۹۸،حديث نمبر ١٣٨٩)
ایسے زخم کی دیت جس میں ہڈی ظاہر ہو جائے۔ عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن زخموں میں ہڈی کھل جائے ان میں پانچ پانچ اونٹ دیت ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے کہ ایسے زخموں میں پانچ اونٹ دیت ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۰،مَا جَاءَ فِي الْمُوْضِحَةِ،جلد۱ص۶۹۹،حديث نمبر ١٣٩٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے ایک انگلی کے بدلے دس اونٹ ہیں، اس باب میں حضرت ابو موسٰی اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح غریب ہے، بعض علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۱،مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الأَصَابِع،جلد۱ص۶۹۹،حديث نمبر ١٣٩١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اور یہ یعنی چھنگلی انگلی اور انگوٹھا ﴿دیت میں﴾ برابر ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۱،مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الأَصَابِع،جلد۱ص۶۹۹،حديث نمبر ١٣٩٢)
دیت معاف کرنا حضرت ابو السفر سے روایت ہے قریش کے ایک آدمی نے ایک انصاری کا دانت توڑ دیا اس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے استغاثہ کرتے ہوئے عرض کیا امیر المومنین اس نے میرا دانت توڑا ہے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا عنقریب ہم تجھے راضی کریں گے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تجھے اپنے ساتھی کا اختیار ہے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص کا بدن زخمی ہو جائے اور وہ معاف کر دے اللہ تعالٰی اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند فرماتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے انصاری نے کہا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے حضرت ابو درداء نے فرمایا میرے کانوں نے سنا اور دل نے محفوظ رکھا اس پر انصاری نے کہا میں اسے معاف کرتا ہوں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یقیناً میں تمہیں محروم نہیں کروں گا اور آپ نے اس کے لیے کچھ مال کا حکم دیا، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ ابو السفر کو حضرت ابو درداء سے سماع حاصل ہے ابوالسفر کا نام سعید بن احمد ہے۔ ابن یحمد ثوری بھی کہا جاتا ہے۔ ﴿جامع ترمذی شریف،کتاب الذیت،باب۹۴۲،مَا جَاءَ فِي الْعَفْوِ،جلد۱ص۶۹۹،حديث نمبر ١٣٩٣﴾
کسی کا سر پتھر سے کچلنے والے کی سزا۔ حضرت انس سے روایت ہے ایک لڑکی باہر نکلی وہ زیور پہنے ہوئے تھی ایک یہودی نے اسے پکڑا اس کا سر پتھر سے کچل دیا اور زیور اتار لیا راوی فرماتے ہیں وہ اس حالت میں پائی گئی کہ اس میں جان باقی تھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئی تو آپ نے اس سے پوچھا تجھے کس نے قتل کیا ؟ کیا فلاں نے قتل کیا ؟ لڑکی نے سر سے اشارہ کیا نہیں۔ آپ نے پوچھا کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ آپ نے یہودی کا نام لیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہا راوی فرماتے ہیں وہ یہودی پکڑا گیا اور اس نے اعتراف کر لیا چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا، یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں قصاص صرف تلوار سے ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۳،مَا جَاءَ فِيمَنْ رُضِخَ رَأْسُهُ بِصَخْرَةٍ،جلد۱ص۷۰۰،حديث نمبر ١٣٩٤)
قتل مومن حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی کے نزدیک مسلمان کے قتل سے دنیا کا ختم ہو جانا زیادہ بے وقعت ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطہ محمد بن جعفر، شعبہ، یعلیٰ بن عطا اور عطاء حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی غیر مرفوع حدیث روایت کی۔ ابن ابی عدی کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے، اس باب میں حضرت سعد ابن عباس ابو سعید، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور بریدہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت کو ابن ابی عدی نے بواسطہ شعبہ یعلیٰ بن عطاء سے یوں ہی غیر مرفوع روایت کیا سفیان ثوری نے بھی یعلیٰ بن عطاء سے اسی طرح موقوف روایت کیا حدیث مرفوع سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۴،مَا جَاءَ فِي تَشْدِيدِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ،جلد۱ص۷۰۰،حديث نمبر ١٣٩٥)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندوں کے درمیان سب سے پہلے خون (قتل) کا فیصلہ کیا جائے گا،حدیث عبداللہ حسن صحیح ہے۔ کئی افراد نے اعمش سے اسی طرح مرفوع روایت کی بعض نے اعمش سے غیر مرفوع حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۵،الْحُكْمِ فِي الدِّمَاءِ،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٣٩٦)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے دن) بندوں کے درمیان سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ ہوگا وہ خون ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۵،الْحُكْمِ فِي الدِّمَاءِ،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٣٩٧)
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمام آسمانوں و زمین والے کسی مومن کے قتل میں شریک ہوں تو یقیناً اللہ تعالٰی ان سب کو جہنم میں جھونک دے گا یہ حدیث غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۵،الْحُكْمِ فِي الدِّمَاءِ،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٣٩٨)
باپ بیٹے کو قتل کرے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹے سے باپ کا قصاص لیتے تھے لیکن باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیتے تھے اس حدیث کو سراقہ کی روایت سے ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں اس کی سند صحیح نہیں اسماعیل بن عیاش نے مثنیٰ بن صباح سے روایت کیا اور مثنیٰ بن صباح کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ابو خالد احمر نے اس کو بواسطہ حجاج بن ارطاۃ عمرو بن شعیب بواسطہ والد ان کے دادا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت کیا اس حدیث میں اضطراب ہے اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے کہ باپ بیٹے کو قتل کرے تو قصاص نہ لیا جائے اور اگر تہمت لگائے تو حد قائم نہ کی جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۶،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتَلُ ابْنَهُ يُقَادُ مِنْهُ اَمْ لَا،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٣٩٩)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ باپ سے بیٹے کا قصاص نہ لیا جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۶،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتَلُ ابْنَهُ يُقَادُ مِنْهُ اَمْ لَا،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٤٠٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجدوں میں حدیں قائم نہ کی جائیں اور بیٹے کے بدلے باپ کو قتل نہ کیا جائے اس حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے مرفوعاً جانتے ہیں اسماعیل بن مسلم مکی کے حفظ میں بعض اہل علم نے کلام کیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۶،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتَلُ ابْنَهُ يُقَادُ مِنْهُ اَمْ لَا،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٤٠١)
تین باتوں کے علاوہ مسلمان کا قتل جائز نہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان اللہ تعالٰی کی وحدانیت اور میری رسالت کی گواہی دیتا ہے۔ تین صورتوں کے علاوہ ان کا خون حلال نہیں۔ شادی شدہ زانی۔ قتل کرنے والا اور دین اسلام کو چھوڑنے اور( مسلمان )جماعت سے الگ ہونے والا (مرتد) اس باب میں حضرت عثمان، حضرت عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۷،مَا جَاءَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِي مُسْلِمٍ إِلَّابِإِحْدَى ثَلٰثٍ،جلد۱ص۷۰۲،حديث نمبر ١٤٠٢)
معاہدہ کو قتل کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگاہ رہو جو کسی معاہد (جس سے معاہدہ ہو) کو قتل کرے جس کے لیے اللہ اور رسول کا ذمہ ہو اس نے اللہ تعالٰی کا ذمہ توڑ دیا وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے آتی ہوگی۔ اس باب میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے حدیث حضرت ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اور آپ سے مختلف طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۸،مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقْتُلُ نَفْسًا مُعَاهَدَةً،جلد۱ص۷۰۳،حديث نمبر ١٤٠٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عامریوں کو مسلمان کی دیت دلوائی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں سے عہد تھا ، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ابو سعید بقال کا نام سعید بن مرزبان ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۹،جلد۱ص۷۰۳،حديث نمبر ١٤٠٤)
مقتول کے ولی کو اختیار ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ تعالٰی نے جب اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں فتح عطا فرمائی تو آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا جس کا کوئی رشتہ دار قتل ہو جائے وہ معاف کرنے یا قتل کرنے میں سے جس کو بہتر سمجھے اختیار کرے اس باب میں حضرت وائل بن حجر، انس ابو شریح اور خویلد بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۰،مَا جَاءَ فِي حُكْمِ وَلِي الْقَتِيلِ فِي الْقِصَاصِ وَالْعَفْوِ . جلد۱ص۷۰۳، حديث نمبر ١٤٠٥)
حضرت ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا لوگوں نے نہیں بنایا جو شخص اللہ تعالٰی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ نہ تو اس میں خونریزی کرے اور نہ ہی اس کا کوئی درخت کاٹے اور اگر کوئی بہانہ بنانے والا یہ عذر پیش کرے کہ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی تو حلال کیا گیا تھا تو (بات یہ ہے کہ ) اللہ تعالٰی نے میرے لیے حلال کیا لوگوں کے لیے نہیں اور میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی حلال کیا تھا پھر یہ تا قیامت حرام ہے (اس کے باوجود) پھر تم نے اے خزاعہ کی جماعت ہزیل کہ ایک شخص کو قتل کیا میں اس کا خون بہا دیتا ہوں اس کے بعد جن کا رشتہ قتل ہو جائے انہیں دو باتوں میں بہتر بات کا اختیار ہے یا قتل کریں یا دیت لے لیں یہ حدیث اور حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے شیبان نے بھی اس کو یحییٰ بن ابی کثیر سے اس کی مثل روایت کیا ابو شریح خزاعی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس کا کوئی عزیز قتل ہو جائے اسے اختیار ہے کہ قصاص لے یا معاف کر دے اور دیت لے لے۔ بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۰،مَا جَاءَ فِي حُكْمِ وَلِي الْقَتِيلِ فِي الْقِصَاصِ وَالْعَفْوِ . جلد۱ص۷۰۳، حديث نمبر ١٤٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک آدمی قتل کیا گیا قاتل مقتول کے ورثاء کے حوالہ کیا گیا تو اس نے کہا یا رسول اللہ! اللہ کی قسم میں نے اسے قتل کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچ کہتا ہے اور اس کے باوجود تو نے اس کے قصاص میں قتل کر دیا تو تو جہنم میں جائے گا اس پر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا وہ رسی سے باندھا ہوا تھا اس کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکالا گیا تو وہ رسی والا (ذالنسعہ) مشہور ہو گیا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۰،مَا جَاءَ فِي حُكْمِ وَلِي الْقَتِيلِ فِي الْقِصَاصِ وَالْعَفْوِ . جلد۱ص۷۰۳، حديث نمبر ١٤٠٧)
مثلہ کی ممانعت حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو امیر لشکر بنا کر بھیجتے تو اسے خاص طور پر اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہنے اور اپنے مسلمان ساتھیوں سے بھلائی کرنے کی وصیت کرتے آپ فرماتے اللہ تعالٰی کے نام سے اس کے راستے میں کفار سے جہاد کرو۔ خیانت نہ کرو عہد شکنی نہ کرو مثلہ نہ کرو (اعضاء جسم نہ کاٹو) اور بچوں کو قتل نہ کرو اس حدیث میں ایک واقعہ ہے، اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود شداد بن اوس، سمرہ، مغیرہ، یعلیٰ بن مرہ اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث بریدہ حسن صحیح ہے اہل علم نے مثلہ کو مکروہ کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۱،مَاجَاءَ فِي النَّهْي عَنِ الْمُثْلَةِ،جلد۱ص۷۰۵،حديث نمبر ١٤٠٨)
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے ہر چیز میں احسان کو لازم رکھا لہذا جب قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو۔ جب ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے کرو جب تم میں سے کوئی ذبح کرنا چاہے تو چھری تیز کر لے اور ذبیحہ کو آرام دے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ابوالاشعث کا نام شرجیل بن اُدہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۱،مَاجَاءَ فِي النَّهْي عَنِ الْمُثْلَةِ،جلد۱ص۷۰۵،حديث نمبر ١٤٠٩)
جنین کی دیت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے دوسو کنیں تھیں ایک نے دوسرے کو پتھر یا خیمہ کی لکڑی دے ماری جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جنین (پیٹ کے بچے) کی دیت ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا اور اسے عورت کے خاندان کے ذمہ قرار دیا۔ حسن کہتے ہیں زید بن حباب نے بواسطہ سفیان۔ منصور سے یہ حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۲،مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الْجَنِينِ۔ جلد۱ص۷۰۵،حديث نمبر ١٤١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کی دیت میں ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا جس کے خلاف فیصلہ دیا اس نے عرض کیا کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ ہی چلایا اس قسم کے بچے کی دیت نہیں لی جا سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو شاعروں کی سی باتیں کرتا ہے بےشک اس کی دیت ایک غرہ ہے غلام ہو چاہے لونڈی اس باب میں حمید بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے بعض علماء فرماتے ہیں غرہ سے مراد غلام یا لونڈی یا پانچسو درہم ہیں بعض فرماتے ہیں گھوڑا یا خچر بھی اس میں داخل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۲،مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الْجَنِينِ۔ جلد۱ص۷۰۵،حديث نمبر ١٤١١)
Tirmizi Shareef : Abwabud Diyaat
|
Tirmizi Shareef : ابواب الدیات
|
•