asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Hudoodi

From 1423 to 1463

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

جس پر حد واجب نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا سونے والا یہاں تک کہ بیدار ہو جائے، بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے اور پاگل جب تک کہ عقل نہ آجائے، اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے حدیث علی اسی طریق سے حسن غریب ہے اور آپ سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے بعض علماء سے بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے کہ الفاظ بھی مذکور ہیں حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کا حضرت علی سے سماع ہمارے علم میں نہیں یہ حدیث بواسطہ عطاء بن سائب ابو ظبیان اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اعمش سے بواسطہ ابو ظبیان اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ سے موقوفًا بھی مروی ہے اہل علم کے نزدیک اس حدیث پر عمل ہے ابو ظبیان کا نام حصین بن جندب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۰،مَا جَاءَ فِيمَنْ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ،جلد۱ص۷۱۱،حديث نمبر ١٤٢٣)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ لاَ يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ , عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ , وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَشِبَّ , وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ عَلِيٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ: وَعَنِ الْغُلَامِ حَتَّى يَحْتَلِمَ , وَلَا نَعْرِفُ لِلْحَسَنِ سَمَاعًا مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ , وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ عَلِيٍّ , مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: قَدْ كَانَ الْحَسَنُ فِي زَمَانِ عَلِيٍّ وَقَدْ أَدْرَكَهُ , وَلَكِنَّا لَا نَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنْهُ , وَأَبُو ظَبْيَانَ اسْمُهُ: حُصَيْنُ بْنُ جُنْدَبٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1423

حدود کا ساقط کرنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک ہو سکے مسلمانوں سے حدود کو دور کرو اگر اس کے لیے کوئی راستہ ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دو امام کا غلطی سے معاف کر دینا غلطی سے سزا دینے سے بہتر ہے۔ ہناد نے بواسطہ وکیع یزید بن زیاد سے محمد بن ربیعہ کی روایت کے ہم معنی غیر مرفوع ذکر کیا اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث حضرت عائشہ کو مرفوعاً ہم صرف محمد بن ربیعہ کی روایت سے پہچانتے ہیں وکیع نے یزید بن زیاد سے اس کے ہم معنی غیر مرفوع روایت کیا وکیع کی روایت اصح ہے متعدد صحابہ کرام سے اس کے ہم معنی مذکور ہے یزید بن زیاد دمشقی حدیث میں ضعیف ہے یزید بن زیاد کوفی اس سے اثبت و اقدم ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۱،مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحُدُودِ،جلد۱ص۷۱۱،حديث نمبر ١٣٢٤)

باب مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحُدُودِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ , فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ , فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ ". حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ , نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعَةَ , وَلَمْ يَرْفَعْهُ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَوَاهُ وَكِيعٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ , نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ , وَرِوَايَةُ وَكِيعٍ أَصَحُّ , وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُمْ قَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ , وَيَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ , وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ , أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1424

مسلمان کی پردہ پوشی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی مسلمان سے دنیاوی مصائب میں سے کوئی مصیبت دور کرے اللہ تعالٰی اس سے قیامت کے دن مصیبت دور فرمائے گا جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالٰی بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں رہے، اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ کو اسی طرح متعدد افراد نے بواسطہ اعمش اور ابو صالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اسباط بن محمد نے اعمش سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے ابو صالح نے اسی طرح روایت بیان کی۔ ہمیں عبید بن اسباط بن محمد نے بواسطہ والد اعمش سے اس کی خبر دی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۲،مَا جَاءَ فِي السِّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ،جلد۱ص۷۱۲،حديث نمبر ١٤٢٥)

باب مَا جَاءَ فِي السَّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا , نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ , وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ , سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ , هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ رِوَايَةِ أَبِي عَوَانَةَ , وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَكَأَنَّ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ , حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ الْأَعْمَشِ , بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1425

حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ہلاک کرے جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے اللہ تعالٰی اس کی ضرورت پوری کرتا ہے اور جو آدمی کسی مسلمان کی تکلیف دور کرے اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی کوئی مصیبت دور فرمائے گا جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا یہ حدیث حسن صحیح ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۲،مَا جَاءَ فِي السِّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ،جلد۱ص۷۱۲،حديث نمبر ١٤٢٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ , وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ , كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ , وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً , فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا , سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1426

حدیں تلقین کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک سے فرمایا،، مجھے آپ کے متعلق پہنچنے والی خبر صحیح ہے ؟ انہوں نے عرض کیا (یا رسول اللہ) آپ کو میرے بارے میں کیا خبر پہنچی ہے آپ نے فرمایا مجھے معلوم ہوا کہ تم فلاں کی لونڈی سے صحبت کر بیٹھے ہو انہوں نے عرض کیا ,,جی ہاں,, پھر انہوں نے چار مرتبہ گواہی دی ازاں بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں رجم کیا گیا اس باب میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے حدیث ابن عباس حسن ہے شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ سماک بن حرب حضرت سعید بن جبیر سے مرسل روایت کی ہے حضرت ابن عباس کا واسطہ مذکور نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۳،مَا جَاءَ فِي التَّلْقِينِ فِي الْحَدِّ،جلد۱ص۷۱۳،حديث نمبر ١٣٢٧)

باب مَا جَاءَ فِي التَّلْقِينِ فِي الْحَدِّ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ: " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ؟ " قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي , قَالَ: " بَلَغَنِي أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ " , قَالَ: نَعَمْ , فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ , فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ. قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَرَوَى شُعْبَةُ، هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مُرْسَلًا , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1427

معترف اپنے اقرار سے پھر جائے تو حد ساقت ہو جاتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز اسلمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ انہوں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے آپ نے رخ پھیر لیا پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کیا ہے آپ نے رخ انور پھیر لیا وہ تیسری جانب سے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوا چوتھی مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کرنے کا حکم دیا چنانچہ انہیں پتھریلی زمین کی طرف لے جا کر سنگسار کیا گیا جب انہیں پتھروں سے تکلیف پہنچی تو بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے اس کے پاس اونٹ کا جبڑا تھا اس نے اس سے ان کو مارا اور لوگوں نے بھی مارا حتیٰ کہ فوت ہو گئے لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا کہ جب انہوں نے پتھروں اور موت کے تکلیف محسوس کی تو بھاگ گئے آپ نے فرمایا تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا یہ حدیث حسن ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے بواسطہ ابو سلمہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس کے ہم معنیٰ مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۴،مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحَدِّ عَنِ الْمُعْتَرِفِ اِذَا رَجَعَ،جلد۱ص۷۱۳،حديث نمبر ١٤٢٨)

باب مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحَدِّ عَنِ الْمُعْتَرِفِ إِذَا رَجَعَ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زَنَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْآخَرِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْآخَرِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ قَدْ زَنَى , فَأَمَرَ بِهِ فِي الرَّابِعَةِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْحَرَّةِ , فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ , فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ , حَتَّى مَرَّ بِرَجُلٍ مَعَهُ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ , وَضَرَبَهُ النَّاسُ حَتَّى مَاتَ , فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ فَرَّ حِينَ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ وَمَسَّ الْمَوْتِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1428

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر زنا کا اعتراف کیا آپ نے اعراض فرمایا اس نے پھر اعتراف کیا آپ نے پھر توجہ نہ فرمائی یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اپنے خلاف گواہی دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم پاگل ہو ؟ عرض کیا نہیں پوچھا شادی شدہ ہو عرض کیا جی ہاں پھر آپ کے حکم سے اسے عید گاہ میں سنگسار کیا گیا جب پتھر پڑنے لگے تو وہ بھاگ گیا لیکن پکڑا گیا اور پھر پتھر مارے گئے یہاں تک کہ مر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اچھے کلمات فرمائے لیکن نماز جنازہ نہیں پڑھی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ زنا کا معترف جب اپنے خلاف چار مرتبہ شہادت دے اس پر حد قائم کی جائے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں ایک مرتبہ بھی گواہی دے تو حد لگائی جائے امام مالک بن انس اور شافعی رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں ان لوگوں نے حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما کی روایت سے استدلال کیا کہ دو آدمی بارگاہ نبوی میں اپنا جھگڑا لے کر حاضر ہوئے ایک نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے بیٹے نے اس کی بیوی سے زنا کیا ہے( طویل حدیث ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،اے انیس ! اس کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ کی قید نہیں لگائی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۴،مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحَدِّ عَنِ الْمُعْتَرِفِ اِذَا رَجَعَ،جلد۱ص۷۱۳،حديث نمبر ١٤٢٩)

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلالُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ اعْتَرَفَ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبِكَ جُنُونٌ؟ " , قَالَ: لَا , قَالَ: " أَحْصَنْتَ " , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ , فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى , فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ , فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَيْرًا " , وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ الْمُعْتَرِفَ بِالزِّنَا إِذَا أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ , أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ مَرَّةً , أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ , وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وَحُجَّةُ مَنْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ , حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ ابْنِي زَنَى بِامْرَأَةِ , هَذَا الْحَدِيثُ بِطُولِهِ , وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا , فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " , وَلَمْ يَقُلْ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1429

حدود میں سفارش کرنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے قریش ایک مخزومی عورت کے بارے میں متفکر ہوئے جس نے چوری کی تھی کہنے لگے اس کے متعلق بارگاہ رسالت میں کون سفارش کرے۔ سب نے کہا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں۔ کے سوا کون اس کی جراءت کر سکتا ہے چنانچہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ نے فرمایا کیا تم حدوداللہ میں سفارش کرتے ہو پھر آپ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا تم سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا کوئی معزز چوری کرتا اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا اس پر حد قائم کرتے اللہ کی قسم اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتیں میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔ اس باب میں حضرت مسعود بن عجماء( ابن اعجم بھی کہا جاتا ہے) ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث مذکور ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب،۹۶۵،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَن يُشْفَعَ في الْحُدُودِ،جلد۱ص۷۱۵،حديث نمبر ١٤٣٠)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُشْفَعَ فِي الْحُدُودِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ , فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " , ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ , فَقَالَ: " إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ , أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ , وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ , وَايْمُ اللَّهِ , لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ مَسْعُودِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ , وَابْنِ عُمَرَ , وَجَابِرٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَيُقَالُ: مَسْعُودُ بْنُ الْأَعْجَمِ , وَلَهُ هَذَا الْحَدِيثُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1430

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رجم کیا، اور میں نے بھی رجم کیا اگر مجھے اللہ کی کتاب میں زیادتی ناپسند نہ ہوتی تو میں اسے مصحف میں لکھ دیتا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کچھ آنے والے لوگ اسے کتاب اللہ میں نہ پا کر اس کا انکار نہ کر جائیں۔ اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے حدیث عمر حسن صحیح ہے اور آپ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۶،مَا جَاءَ فِي تَحْقِيقِ تحقيقِ الرَّجْمِ،جلد۱ص۷۱۵،حديث نمبر ١٤٣١)

باب مَا جَاءَ فِي تَحْقِيقِ الرَّجْمِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ: " رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَجَمَ أَبُو بَكْرٍ , وَرَجَمْتُ , وَلَوْلَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَزِيدَ فِي كِتَابِ اللَّهِ , لَكَتَبْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ , فَإِنِّي قَدْ خَشِيتُ أَنْ تَجِيءَ أَقْوَامٌ فَلَا يَجِدُونَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ , فَيَكْفُرُونَ بِهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ عُمَرَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1431

تحقیق رجم حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالٰی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا آپ پر کتاب اتاری اور جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا اس میں آیت رجم بھی ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا مجھے ڈر ہے کہ کہیں طویل عرصہ گزرنے پر کوئی کہنے والا کہے ہم اللہ تعالٰی کی کتاب میں رجم (کا حکم نہیں پاتے) پس وہ اللہ تعالٰی کے نازل کردہ ایک فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں،، سن لو ! بے شک رجم اس زانی پر ثابت ہے جو شادی شدہ ہو اس پر گواہی قائم ہو جائے یا حمل ہو جائے یا خود اعتراف کر لے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۶،مَا جَاءَ فِي تَحْقِيقِ تحقيقِ الرَّجْمِ،جلد۱ص۷۱۵،حديث نمبر ١٤٣٢)

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ , وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ , وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ , فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ " الرَّجْمِ " , فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ , وَإِنِّي خَائِفٌ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ , فَيَقُولَ قَائِلٌ: لَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ , فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ , أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى , إِذَا أَحْصَنَ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ , أَوْ كَانَ حَبَلٌ أَوِ اعْتِرَافٌ ". وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ عُمَرَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1432

شادی شدہ ( زانی ) کو سنگسار کرنا حضرت ابوہریرہ زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ یہ تینوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے دو آدمی جھگڑتے ہوئے آئے ان میں سے ایک آپ کی طرف بڑھا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ کو اللہ تعالی کی قسم دیتا ہوں کہ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اس کے مخالف نے جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا بھی کہا یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کیجئے اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجیے میرا لڑکا اس کے ہاں مزدوری کرتا تھا تو اس نے اس کی عورت سے زنا کر لیا لوگوں نے مجھے بتایا کہ تمہارے بیٹے پر رجم کا حکم آتا ہے پس میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک غلام فدیہ میں دے دیا پھر اہل علم سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا تمہارے بیٹے پر درے اور ایک سال تک جلا وطن کر دینا ہے اور اس شخص کی عورت پر سنگساری ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا سو بکریاں اور غلام تجھے واپس ملے گا اور تیرے لڑکے پر سو درے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے (پھر فرمایا) اے انیس اس آدمی کی بیوی کے پاس جاؤ اگر اقرار کرے تو اسے رجم کر دو۔ انیس اس کے پاس گئے اس نے اقرار کیا تو انہوں نے اسے رجم کیا۔ اسحٰاق بن موسیٰ انصاری بواسطہ معن، مالک ابن شہاب اور عبید اللہ بن عبداللہ، حضرت ابوہریرہ و زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث نقل فرماتے ہیں۔ قتیبہ بواسطہ لیث، ابن شہاب سے اپنی سند سے حدیث مالک کے ہم معنی روایت نقل کی اس باب میں حضرت ابوبکر عبادہ بن صامت، ابو ہریرہ، ابو سعید، ابن عباس جابر بن سمرہ، ہزال، بریدہ،سلمہ بن محبق، ابو برزہ،اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما کی روایت حسن صحیح ہے مالک بن انس، معمر اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ زہری اور عبید اللہ بن عبداللہ اور حضرت ابو ہریرہ و زید بن خالد رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت کیا ہے اس اسناد سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا اگر لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اگر چوتھی مرتبہ زنا کا ارتکاب کرے تو اسے فروخت کر دو اگرچہ ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔ سفیان بن عیینہ بواسطہ زہری اور عبید اللہ،حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے ابن عیینہ نے دونوں حدیثیں حضرت ابوہریرہ ،زید بن خالد اور شبلی رضی اللہ عنہم سے روایت کی۔ ابن عیینہ کی روایت میں وہم ہوا سفیان بن عیینہ نے ایک حدیث کو دوسری میں داخل کر دیا۔ صحیح وہ ہے جو زبیدی یونس بن یزید اور زہری کے بھتیجے نے بواسطہ زہری اور عبید اللہ حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لونڈی زنا کرے الخ۔ زہری بواسطہ عبید اللہ اور شبل بن خالد عبداللہ بن مالک اوسی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب لونڈی زنا کرے الخ، محدثین کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے شبل بن خالد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا شبل عبداللہ بن مالک اوسی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں یہ صحیح ہے حدیث ابن عیینہ غیر محفوظ ہے انہی سے شبل بن حامد مذکور ہے جو غلط ہے صحیح نام شبل بن خالد ہے شبل بن خلید بھی کہا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۷،مَا جَاءَ فِي الرَّجْمِ عَلَى الثَّيْبِ،جلد۱ص۷۱۶،حدیث نمبر ١٤٣٣)

باب مَا جَاءَ فِي الرَّجْمِ عَلَى الثَّيِّبِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , سَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَشِبْلٍ , أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ , فَقَامَ إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا , وَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَمَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ , فَقَالَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ , وَائْذَنْ لِي فَأَتَكَلَّمَ , إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا , فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ , فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ , فَفَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ , ثُمَّ لَقِيتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ , فَزَعَمُوا أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ , وَتَغْرِيبَ عَامٍ , وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ , الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ , وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ , وَتَغْرِيبُ عَامٍ , وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا , فَإِنِ اعْتَرَفَتْ , فَارْجُمْهَا " , فَغَدَا عَلَيْهَا , فَاعْتَرَفَتْ , فَرَجَمَهَا. حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنَا مَعْنٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , بِإِسْنَادِهِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ بِمَعْنَاهُ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي بَكْرَةَ , وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , وَهَزَّالٍ , وَبُرَيْدَةَ , وَسَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ , وَأَبِي بَرْزَةَ , وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وأبي هريرة , وأبي سعيد , وابن عباس , وجابر بن سمرة , وهزال , وبريدة , وسلمة بن المحبق , وأبي برزة , وعمران بن حصين. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَهَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَمَعْمَرٌ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَوَوْا بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا , فَإِنْ زَنَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " , وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَشِبْلٍ , قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا رَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَشِبْلٍ , وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ , وَهِمَ فِيهِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , أَدْخَلَ حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ , وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ , وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ , وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا " , وَالزُّهْرِيُّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ شِبْلِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ " , وَهَذَا الصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وَشِبْلُ بْنُ خَالِدٍ , لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِنَّمَا رَوَى شِبْلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا الصَّحِيحُ , وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ , وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: شِبْلُ بْنُ حَامِدٍ , وَهُوَ خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ: شِبْلُ بْنُ خَالِدٍ وَيُقَالُ أَيْضًا: شِبْلُ بْنُ خُلَيْدٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1433

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے سیکھو اللہ تعالٰی نے عورتوں کے لیے راستہ مقرر کر دیا شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے تو سو درے اور پھر رجم ہے اور اگر دونوں غیر شادی ہوں تو سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کرنا ہے یہ حدیث صحیح ہے بعض صحابہ کرام جن میں حضرت علی بن ابی طالب، ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہم) بھی شامل ہیں اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے کہ شادی شدہ کو درے بھی مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے بعض علماء اسی کی طرف گئے ہیں امام اسحٰاق رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے بعض صحابہ کرام جن میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور دوسرے حضرات بھی شامل ہیں فرماتے ہیں شادی شدہ کو صرف سنگسار کرنا ہے درے مارنا نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ماعز وغیرہ کے قصہ میں اسی طرح مذکور ہیں کہ آپ نے رجم کا حکم دیا اور رجم سے پہلے درے مارنے کا حکم نہیں دیا بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان پوری، ابن مبارک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۷،مَا جَاءَ فِي الرَّجْمِ عَلَى الثَّيْبِ،جلد۱ص۷۱۶،حديث نمبر ١٤٣٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا عَنِّي فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا , الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ , ثُمَّ الرَّجْمُ , وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ , وَنَفْيُ سَنَةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ , عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ , وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: الثَّيِّبُ تُجْلَدُ وَتُرْجَمُ , وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ: إِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ , أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَغَيْرُهُمَا , الثَّيِّبُ إِنَّمَا عَلَيْهِ الرَّجْمُ , وَلَا يُجْلَدُ , وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ هَذَا فِي غَيْرِ حَدِيثٍ فِي قِصَّةِ مَاعِزٍ وَغَيْرِهِ , أَنَّهُ أَمَرَ بِالرَّجْمِ , وَلَمْ يَأْمُرْ أَنْ يُجْلَدَ قَبْلَ أَنْ يُرْجَمَ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَابْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1434

بچہ جننے کے بعد حاملہ کو رجم کرنے کا بیان حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اعتراف کیا اور کہا میں حاملہ ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلا کر فرمایا اس سے اچھا سلوک کرو جب بچہ پیدا ہو جائے تو مجھے بتانا انہوں نے ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس پر اس کے کپڑے باندھ دیے گئے پھر آپ نے سنگساری کا حکم دیا تو اسے سنگسار کیا گیا آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا (یا رسول اللہ) آپ نے اسے سنگسار بھی کیا اور اس پر جنازہ بھی پڑھا آپ نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی کہ اگر ستر اہل مدینہ پر تقسیم کی جائے تو ان سب کو کافی ہو، کیا تم نے اس سے افضل چیز پائی کہ اس نے اپنی جان اللہ تعالٰی کے لیے قربان کر دی، یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۸،جلد۱ص۷۱۸،حديث نمبر ١٤٣٥)

باب تَرَبُّصِ الرَّجْمِ بِالْحُبْلَى حَتَّى تَضَعَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلِّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالزِّنَا , فَقَالَتْ: إِنِّي حُبْلَى فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا , فَقَالَ: " أَحْسِنْ إِلَيْهَا , فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا , فَأَخْبِرْنِي ". فَفَعَلَ , فَأَمَرَ بِهَا فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا , ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا , فَرُجِمَتْ , ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا , فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ , وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1435

اہل کتاب کو سنگسار کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک عورت کو سنگسار کیا اس حدیث میں واقعہ ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۹،مَا جَاءَ فِي رَجُمِ أَهْلِ الْكِتَابِ،جلد۱ص۷۱۵،حديث نمبر ١٤٣٦)

باب مَا جَاءَ فِي رَجْمِ أَهْلِ الْكِتَابِ حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنَا مَعْنٌ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ , وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1436

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو سنگسار کیا، اس باب میں حضرت ابن عمر، براء، جابر ابن ابی اوفٰی، عبداللہ بن حارث بن جزء اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں جابر بن سمرہ کی روایت حسن غریب ہے اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے فرماتے ہیں کہ جب اہل کتاب کا جھگڑا ہو اور وہ اپنا مقدمہ مسلمان حکام کے پاس لائیں تو ان کے درمیان قرآن و سنت اور مسلمانوں کے احکام کے ساتھ فیصلہ کیا جائے، امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں ان پر زنا کی حد نہ لگائی جائے پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۹،مَا جَاءَ فِي رَجُمِ أَهْلِ الْكِتَابِ،جلد۱ص۷۱۹،حديث نمبر ١٤٣٧)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَالْبَرَاءِ , وَجَابِرٍ , وَابْنِ أَبِي أَوْفَى , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , قَالُوا: إِذَا اخْتَصَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ , وَتَرَافَعُوا إِلَى حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ , حَكَمُوا بَيْنَهُمْ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَبِأَحْكَامِ الْمُسْلِمِينَ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يُقَامُ عَلَيْهِمُ الْحَدُّ فِي الزِّنَا , وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1437

جلا وطن کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درے مارے اور جلا وطن کیا حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے بھی درے مارے اور جلا وطن کیا ،اس باب میں حضرت ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابن عمر غریب ہے متعدد افراد نے اسے عبداللہ بن ادریس سے مرفوعاً روایت کیا بعض نے عبداللہ بن ادریس سے ہی یہ حدیث روایت کی کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے درے مارے اور جلا وطن کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے درے مارے اور جلا وطن کیا۔ ابو سعید اشج نے عبداللہ بن ادریس سے اسی طرح نقل کیا ابن ادریس کے علاوہ بھی یہ حدیث عبید اللہ بن عمر سے اسی طرح مروی ہے محمد بن اسحٰاق نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جلا وطن کرنا ثابت ہے حضرت ابوہریرہ، زید بن خالد، عبادہ بن صامت اور دیگر صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا صحابہ کرام جن میں حضرت ابوبکر، عمر، علی ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود اور ابوذر وغیرھم( رضی اللہ عنہم) شامل ہیں کا اس پر عمل ہے متعدد فقہاء تابعین سے بھی اسی طرح منقول ہے سفیان ثوری، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۰،مَا جَاءَ فِی النَّفِي،جلد۱ص۷۱۹،حديث نمبر ١٤٢٨)

باب مَا جَاءَ فِي النَّفْىِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ , وَغَرَّبَ " , وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ , وَأَنَّ عُمَرَ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ. قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ. رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ , فَرَفَعُوهُ , وَرَوَى بَعْضُهُمْ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ , هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ أَبَا بَكْرٍ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ , وَأَنَّ عُمَرَ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ. وَهَكَذَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ رِوَايَةِ ابْنِ إِدْرِيسَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَحْوَ هَذَا , وَهَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ أَبَا بَكْرٍ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ , وَأَنَّ عُمَرَ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ , وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَدْ صَحَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّفْيُ , رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ , وَزَيْدُ بْنُ خَالِدٍ , وعبادة بن الصامت , وغيرهم , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعَلِيٌّ , وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ , وَأَبُو ذَرٍّ , وَغَيْرُهُمْ , وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1438

حدود کفارہ گناہ ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے آپ نے فرمایا مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے چوری نہیں کرو گے اور زنا کے مرتکب نہیں ہو گے پھر آپ نے آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا تم میں سے جس نے اپنا عہد پورا کیا اس کا ثواب اللہ تعالٰی کی ذمہ ہے جس نے ان میں سے کسی بات کا ارتکاب کیا پھر اسے سزا دی گئی تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو ان میں سے کسی کا مرتکب ہوا پھر اللہ تعالٰی نے اس کی پردہ پوشی فرمائی وہ اللہ تعالٰی کے سپرد ہے چاہے اسے عذاب دے اور چاہے بخش دے, اس باب میں حضرت علی، جریر بن عبداللہ اور حزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث عبادہ بن صامت حسن صحیح ہے، امام شافعی فرماتے ہیں اس باب میں حد اپنے اہل کے لیے کفارہ ہے اس سے احسن حدیث میں نے نہیں سنی نیز فرماتے ہیں جو گناہ کرے پھر اللہ تعالٰی اس پر پردہ ڈال دے تو مجھے پسند ہے کہ وہ بھی اپنے گناہ کو چھپائے اور اپنے رب سے توبہ کرے حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے کہ ان دونوں حضرات نے ایک آدمی کو اپنا گناہ چھپانے کا حکم دیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۱،مَا جَاءَ أَنَّ الْحُدُودَ كَفَارَةٌ لِأَهْلِهَا،جلد۱ص۷۲۰،حديث نمبر ١٤٣٩)

باب مَا جَاءَ أَنَّ الْحُدُودَ كَفَّارَةٌ لأَهْلِهَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا , وَلَا تَسْرِقُوا , وَلَا تَزْنُوا " , قَرَأَ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ عَلَيْهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَمْ أَسْمَعْ فِي هَذَا الْبَابِ أَنَّ الْحُدُودَ تَكُونُ كَفَّارَةً لِأَهْلِهَا شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأُحِبُّ لِمَنْ أَصَابَ ذَنْبًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ , أَنْ يَسْتُرَ عَلَى نَفْسِهِ , وَيَتُوبَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ , وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ , أَنَّهُمَا أَمَرَا رَجُلًا أَنْ يَسْتُرَ عَلَى نَفْسِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1439

لونڈیوں پر حد قائم کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کا ارتکاب کرے اسے کتاب اللہ کے مطابق تین مرتبہ تک درے مارے اگر چوتھی مرتبہ زنا کا ارتکاب کریں تو اسے فروخت کر دے اگرچہ بالوں کی رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو اس باب میں حضرت زید بن خالد اور بواسطہ شبل عبداللہ بن مالک اوسی رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اور آپ سے متعدد طرق سے مروی ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس کے مطابق عمل ہے کہ مالک خود اپنے غلام پر حد قائم کر سکتا ہے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں کہ حاکم کے حوالہ کرے خود حد نہ لگائے پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۲،مَا جَاءَ فِی أَقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْإِمَاءِ،جلد۱ص۷۲۱) (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۲،مَا جَاءَ فِی أَقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْإِمَاءِ،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٤٤٠)

باب مَا جَاءَ فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الإِمَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَجْلِدْهَا ثَلَاثًا بِكِتَابِ اللَّهِ , فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَشِبْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَغَيْرِهِمْ رَأَوْا أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ الْحَدَّ عَلَى مَمْلُوكِهِ دُونَ السُّلْطَانِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , قَالَ بَعْضُهُمْ: يُرْفَعُ إِلَى السُّلْطَانِ , وَلَا يُقِيمُ الْحَدَّ هُوَ بِنَفْسِهِ , وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1440

لونڈیوں پر حد قائم کرنا حضرت ابو عبدالرحمٰن سلمی سے روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا لوگو ! اپنی شادی شدہ اور کنوارے غلاموں پر حد قائم کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کا ارتکاب کیا تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اسے درے لگاؤں میں اس کے پاس آیا تو کیا دیکھا کہ اس کے ہاں نیا نیا بچہ پیدا ہوا ہے مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو وہ میرے ہاتھوں ہلاک ہو جائے گی یا (فرمایا) مر جائے گی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا تم نے اچھا کیا یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۲،مَا جَاءَ فِی أَقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْإِمَاءِ،جلد۱ص۷۲۱،حديث نمبر ١٤٤١)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ , فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى أَرِقَّائِكُمْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ , وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ , وَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ , فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا , فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ , فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا , أَوْ قَالَ: تَمُوتَ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " أَحْسَنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ: إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مِنَ التَّابِعِينَ , قَدْ سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , وَرَأَى حُسَيْنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1441

نشہ والے کی حد حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حد میں چالیس جوتے مارے مسعر فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ شراب کی حد ماری تھی ،اس باب میں حضرت علی، عبدالرحمٰن بن ازہر، ابو ہریرہ ،سائب ،ابن عباس اور عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ابو سعید کی روایت حسن ہے، ابو صدیق ناجی کا نام بکر بن عمرو ہے۔ جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۳،مَا جَاء فِي حَدِّ السَكَرَانِ،جلد۱ص۷۲۲،حديث نمبر ١٤٤٢)

باب مَا جَاءَ فِي حَدِّ السَّكْرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ الْحَدَّ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ ". قَالَ مِسْعَرٌ: أَظُنُّهُ فِي الْخَمْرِ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَالسَّائِبِ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَعُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ: بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو , وَيُقَالُ: بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1442

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی آپ نے اسے کھجور کی دو چھڑیوں سے تقریبا چالیس بار مارا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا سب سے ہلکی حد اسی درے ہے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کا حکم فرمایا، یہ حدیث حسن صحیح ہے، صحابہ کرام اور تابعین اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ شرابی کی سزا اسّی کوڑے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۳،مَا جَاء فِي حَدِّ السَكَرَانِ،جلد۱ص۷۲۲،حديث نمبر ١٤٤٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ , فَضَرَبَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ " , وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ , فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ , اسْتَشَارَ النَّاسَ , فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: كَأَخَفِّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ , فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنَّ حَدَّ السَّكْرَانِ ثَمَانُونَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1443

شرابی کی سزا تین مرتبہ تک کوڑے اور چوتھی مرتبہ پر قتل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب پینے والے کو کوڑے مارو اگر چوتھی مرتبہ ہے تو قتل کرو ،اس باب میں حضرت ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس ،جریر، ابو رمد بلوی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں ثوری نے بھی اسی طرح بواسطہ عاصم اور ابو صالح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ابن جریج اور معمر نے بواسطہ سہیل بن ابی صالح اور ابو صالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں اس باب میں ابو صالح کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی نسبت زیادہ صحیح ہے۔ قتل کا حکم شروع شروع میں تھا بعد میں منسوخ ہو گیا محمد بن اسحٰاق نے بواسطہ محمد بن منکدر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شراب پیئے اسے کوڑے مارو چوتھی مرتبہ پیئے تو قتل کر دو۔ فرماتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی تو آپ نے اسے درے مارے قتل نہیں کیا زہری نے بواسطہ قبیصہ بن ذویب،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت کیا فرماتے ہیں قتل کا حکم اٹھا دیا گیا۔ اور رخصت دی گئی عام علماء کا اس پر عمل ہے کہ ہم اس بارے میں پہلے اور پچھلے علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پاتے اس بات کو ایک دوسری حدیث سے بھی تائید حاصل ہے جو مختلف طرق سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا توحید و رسالت کی گواہی دینے والے مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے حلال ہے کسی کو جان بوجھ کر قتل کرے شادی شدہ ہو کر زنا کرے اور اپنے دین کو چھوڑ دے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۴،مَا جَاءَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ،جلد۱ص۷۲۲،حديث نمبر ١٤٤٤)

باب مَا جَاءَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ وَمَنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ , فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَالشَّرِيدِ , وَشُرَحْبِيلَ بْنِ أَوْسٍ , وَجَرِيرٍ , وَأَبِي الرَّمَدِ الْبَلَوِيِّ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا رَوَى الثَّوْرِيُّ أَيْضًا , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ , وَمَعْمَرٌ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الْأَمْرِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ , هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ , فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ " , قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الرَّابِعَةِ , فَضَرَبَهُ , وَلَمْ يَقْتُلْهُ , وَكَذَلِكَ رَوَى الزُّهْرِيُّ , عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا , قَالَ: فَرُفِعَ الْقَتْلُ , وَكَانَتْ رُخْصَةً , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ , لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ فِي الْقَدِيمِ وَالْحَدِيثِ , وَمِمَّا يُقَوِّي هَذَا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ , أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ , إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ , النَّفْسُ بِالنَّفْسِ , وَالثَّيِّبُ الزَّانِي , وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ ".

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1444

کس قدر چوری پر ہاتھ کاٹا جائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دینار کے چوتھے حصے یا اس سے زائد پر ہاتھ کاٹتے تھے، حدیث عائشہ حسن صحیح ہے یہ حدیث متعدد طرق سے بواسطہ عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے بعض نے بواسطہ عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کی ہے۔

باب مَا جَاءَ فِي كَمْ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَتْهُ عَمْرَةُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ , حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , مَرْفُوعًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1445

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین درہم مالیت کی ڈھال چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا۔ اس باب میں حضرت سعد، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، ابوہریرہ اور ام ایمن رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے، بعض صحابہ کرام کا اس پر عمل ہے ،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان میں شامل ہیں انہوں نے پانچ درہم پر ہاتھ کاٹا حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہے انہوں نے چوتھائی دینار میں ہاتھ کاٹا حضرت ابوہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ان دونوں نے فرمایا پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے بعض فقہاء تابعین کا اس پر عمل ہے۔ امام مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے آپ نے فرمایا ایک دینار یا دس درہم سے کم پر ہاتھ کاٹنا نہیں ہے۔ یہ حدیث مرسل ہے قاسم بن عبدالرحمٰن نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا حالانکہ قاسم کو آپ سے سماع نہیں بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں دس دراہم سے کم میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۵،مَا جَاءَ فِی کمْ تُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ،جلد۱ص۷۲۳،حديث نمبر ١٤٤٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: " قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ سَعْدٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَيْمَنَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ , أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: قَطَعَ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ , وَرُوِي عَنْ عُثْمَانَ , وَعَلِيٍّ , أَنَّهُمَا: قَطَعَا فِي رُبُعِ دِينَارٍ , وَرُوِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , أَنَّهُمَا قَالَا: تُقْطَعُ الْيَدُ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ , وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , رَأَوْا الْقَطْعَ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا , وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّهُ قَالَ: لَا قَطْعَ إِلَّا فِي دِينَارٍ , أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ , وَهُوَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ , رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ , قَالُوا: لَا قَطْعَ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ , وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ , أَنَّهُ قَالَ: لَا قَطْعَ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1446

چور کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکانا عبدالرحمٰن بن محیریز سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں پوچھا کہ آیا یہ سنت ہے ؟ انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا اور اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ کے حکم سے اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف بواسطہ عمر بن علی مقدمی, حجاج بن ارطاۃ کی روایت سے جانتے ہیں عبدالرحمٰن بن محیریز، عبداللہ بن محیریز کے بھائی ہیں اور شامی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۶،مَا جَاءَ فِي تَعْلِيقِ يَدِ السَّارِقِ،جلد۱ص۷۲۴،حديث نمبر ١٤٤٧)

باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيقِ يَدِ السَّارِقِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ , قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ , عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ , أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ؟ قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ , فَقُطِعَتْ يَدُهُ , ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ , عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ: هُوَ أَخُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ شَامِيٌّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1447

خائن،اچکے اور لٹیرے کا حکم حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا خیانت کرنے والے اچکے اور لٹیرے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے مغیرہ بن مسلم نے بواسطہ ابو زبیر،حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ابن جریج کی روایت کے ہم معنی نقل کیا مغیرہ بن مسلم بصری ہیں عبدالعزیز قسملی کے بھائی ہیں، علی بن مدینی نے یہی کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۷،مَا جَاءَ فِي الْخَائِنِ وَالْمُخْتَلِسِ وَالْمُنْتَهِب،جلد۱ص۷۲۵،حدیث نمبر ١٤٤٨)

باب مَا جَاءَ فِي الْخَائِنِ وَالْمُخْتَلِسِ وَالْمُنْتَهِبِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ , وَلَا مُنْتَهِبٍ , وَلَا مُخْتَلِسٍ , قَطْعٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَقَدْ رَوَاهُ مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ , وَمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ هُوَ: بَصْرِيٌّ أَخُو عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقَسْمَلِيِّ , كَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1448

درخت پر پھل اور گابھے کی چوری پر ہاتھ کاٹنا نہیں۔ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ درخت پر لٹکے ہوئے پھل اور گابھے کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں، بعض محدثین نے بواسطہ یحییٰ بن سعید، محمد بن یحیٰی بن حبان اور ان کے چچا واسع بن حبان حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے لیث بن سعد کی روایت کے ہم معنیٰ بیان کیا، مالک بن انس اور کئی دوسرے حضرات نے یہ حدیث بواسطہ یحیٰی بن سعید، محمد بن یحییٰ بن حبان اور رافع بن خدیج، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ واسع بن حبان نقل کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۸،مَا جَاءَ لَا قَطْعَ فِی ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ،جلد۱ص۷۲۵،حديث نمبر ١٤٤٩)

باب مَا جَاءَ لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ , أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ , وَلَا كَثَرٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى بَعْضُهُمْ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَ رِوَايَةِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ , وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1449

جہاد کے موقع پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں حضرت بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جہاد میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ابن لہیعہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اسی سند کے ساتھ اس کے معنی روایت نقل کی بعض اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے امام اوزاعی بھی ان میں شامل ہیں ان کے نزدیک میدان جہاد میں دشمن کے سامنے حد قائم کرنا جائز نہیں،ممکن ہے وہ شخص دشمن سے جا ملے البتہ جب امام دارالحرب سے دارالسلام میں واپس آئے تو اس وقت مجرم پر حد قائم کرے امام اوزاعی نے اسی طرح فرمایا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۹،مَا جَاءَ أَنْ لَا يُقْطَعَ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ،جلد۱ص۷۲۵،حديث نمبر ١٤٥٠)

باب مَا جَاءَ أَنْ لاَ تُقْطَعَ الأَيْدِي فِي الْغَزْوِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ شُيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ , عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ , عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ لَهِيعَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ هَذَا , وَيُقَالُ بُسْرُ بْنُ أَبِي أَرْطَاةَ أَيْضًا , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , مِنْهُمْ الْأَوْزَاعِيُّ , لَا يَرَوْنَ أَنْ يُقَامَ الْحَدُّ فِي الْغَزْوِ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ , مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ مَنْ يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِالْعَدُوِّ , فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ مِنْ أَرْضِ الْحَرْبِ , وَرَجَعَ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ , أَقَامَ الْحَدَّ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ , كَذَلِكَ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1450

بیوی کی لونڈی سے صحبت کرنا حضرت حبیب بن سالم سے روایت ہے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کیا تھا انہوں نے فرمایا میں اس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا اگر اس کی بیوی نے اپنی لونڈی سے صحبت اس کے لیے حلال کی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر حلال نہیں کی تھی تو اسے رجم کر دوں گا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۰،مَا جَاءَ فِی الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِامْرَاَتِهٖ،جلد۱ص۷۲۶،حديث نمبر ١٤٥١)

باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , وَأَيُّوبَ بْنِ مِسْكِينٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , قَالَ: رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , رَجُلٌ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ , فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ لَأَجْلِدَنَّهُ مِائَةً , وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ ".

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1451

علی بن حجر نے بواسطہ ھُشیم ،ابو بشر اور حبیب بن سلیم، نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے اس کے معنی روایت کیا اس باب میں حضرت سلمہ بن محبق سے بھی اس کے ہم معنی مذکور ہے۔ اس کی سند میں اضطراب ہے میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں قتادہ نے حبیب بن سالم سے یہ حدیث نہیں سنی۔ انہوں نے اسے خالد بن عرفطہ سے روایت کیا ہے۔ ابو بشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی بلکہ خالد بن عرفطہ سے روایت کیا ہے علماء کا اس آدمی کے بارے میں اختلاف ہے جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرے متعدد صحابہ کرام سے جن میں حضرت علی اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں، مروی ہے کہ اس پر رجم ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس پر حد نہیں تعزیر ہے۔ امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایت کو اپنایا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۰،مَا جَاءَ فِی الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِامْرَاَتِهٖ،جلد۱ص۷۲۶،حديث نمبر ١٤٥٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ نَحْوَهُ، قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ , قَالَ: أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ النُّعْمَانِ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ , قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا , يَقُولُ: لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ , إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ , وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ , أَنَّهُ قَالَ: كُتِبَ بِهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , وَأَبُو بِشْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا أَيْضًا , إنما قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ , فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ , فَرُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِنْهُمْ عَلِيٌّ , وَابْنُ عُمَرَ , أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ , وقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ , وَلَكِنْ يُعَزَّرُ , وَذَهَبَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق , إِلَى مَا رَوَى النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1452

جس عورت سے زبردستی زنا کیا جائے اس کا حکم عبدالجبار بن وائل بن حجر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک عورت زنا پر مجبور کی گئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد نہ لگائی اور مرد پر حد قائم کی راوی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آیا آپ نے اس کو مہر دینے کا فیصلہ کیا یا نہیں یہ حدیث غریب ہے اس کی سند متصل نہیں یہ روایت متعدد طرق سے مروی ہے میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں عبدالجبار بن وائل بن حجر نے نہ تو اپنے والد سے کچھ سنا اور نہ ان کا زمانہ پایا کہا جاتا ہے یہ اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد پیدا ہوئے بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ مجبور کی گئی عورت پر حد نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۱،مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا اسْتُكْرِهَتْ عَلَى الزِّنَا،جلد۱ص۷۲۶،حديث نمبر ١٤٥٣)

باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا اسْتُكْرِهَتْ عَلَى الزِّنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ , عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَرَأَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدَّ , وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا , وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ , قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا , يَقُولُ: عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ , وَلَا أَدْرَكَهُ , يُقَالُ: إِنَّهُ وُلِدَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ بِأَشْهُرٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنْ لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَكْرَهَةِ حَدٌّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1453

علقمہ بن وائل کندی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک عورت نماز پڑھنے کے ارادے باہر نکلی ایک آدمی اسے ملا اور اس نے اسے ڈھانک لیا پھر اس سے اپنی حاجت پوری کی وہ چلائی لیکن وہ چلا گیا ایک دوسرا آدمی گزرا تو اس عورت نے کہا فلاں آدمی نے میرے ساتھ ایسا کیا ہے پھر وہ مہاجرین کی ایک جماعت کے پاس سے گزری اور کہا فلاں نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے وہ گئی اور اس آدمی کو پکڑ لائے جس کے متعلق اس عورت کا گمان تھا کہ اس نے اس سے زنا کیا ہے جب اس کے سامنے لائے تو اس نے کہا ہاں یہی ہے پھر وہ اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے جب آپ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا تو اصل زانی کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ! اس عورت سے میں نے زنا کیا ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے فرمایا جاؤ اللہ تعالٰی نے تمہیں بخش دیا ہے۔ پہلے آدمی سے اچھا کلام کیا اور زانی کے بارے میں فرمایا اسے سنگسار کرو پھر فرمایا اس نے ایسی تو بہ کی اگر تمام اہل مدینہ یہ توبہ کریں تو ان سے قبول کی جاتی یہ حدیث حسن غریب ہے علقمہ بن وائل بن حجر کو اپنے والد سے سماع حاصل ہے عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں عبدالجبار نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۱،مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا اسْتُكْرِهَتْ عَلَى الزِّنَا،جلد۱ص۷۲۶،حديث نمبر ١٤٥٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْكِنْدِيِّ , عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ , فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا , فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا , فَصَاحَتْ , فَانْطَلَقَ , وَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ , فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا , وَمَرَّتْ بِعِصَابَةٍ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ , فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا , فَانْطَلَقُوا , فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا وَأَتَوْهَا , فَقَالَتْ: نَعَمْ هُوَ هَذَا , فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ لِيُرْجَمَ , قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَا صَاحِبُهَا , فَقَالَ لَهَا: اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا , وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: ارْجُمُوهُ , وَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ , وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ , وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ , وَعَبْدُ الْجَبَّارِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1454

چوپائے سے بدفعلی کرنے کی سزا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو چوپائے سے بدفعلی کرتے پاؤ اسے قتل کر دو اور جانور کو بھی ہلاک کر دو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا چوپائے کا کیا قصور ؟ آپ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا لیکن میرا خیال ہے آپ ایسے جانور کا گوشت کھانا یا اس سے نفع اٹھانا کہ جس کے ساتھ ایسا عمل کیا گیا ناپسند کرتے تھے، اس حدیث کو ہم صرف عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے پہچانتے ہیں سفیان ثوری نے بواسطہ عاصم اور ابی رزین، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے کہ جو آدمی چوپائے سے بدفعلی کرے اس پر حد نہیں۔ محمد بن بشارنے بواسطہ عبدالرحمٰن بن مہدی سفیان ثوری سے اس کی خبر دی اور یہ پہلی حدیث سے اصح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۲،مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقَعُ عَلَى الْبَهِيمَةِ،جلد۱ص۷۲۸،حديث نمبر ١٤٥٥)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقَعُ عَلَى الْبَهِيمَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدْتُمُوهُ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ " , فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا , وَلَكِنْ: " أَرَى رَسُولَ اللَّهِ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْ لَحْمِهَا , أَوْ يُنْتَفَعَ بِهَا , وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي رُزَيْنٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ " , حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1455

لواطت کی سزا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو قوم لوط جیسا عمل کرتے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔ اس باب میں حضرت جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ہم اسے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں محمد بن اسحٰاق نے اس حدیث کو عمرو بن ابی عمرو سے روایت کیا اور فرمایا قوم لوط کا سا عمل کرنے والا ملعون ہے قتل کا ذکر نہیں کیا۔ نیز یہ بھی مذکور ہے کہ چوپائے سے بدفعلی کرنے والا بھی ملعون ہے۔ بواسطہ عاصم بن عمر، سہیل بن ابی صالح اور ابو صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاعل اور مفعول (دونوں) کو قتل کر دو۔ اس حدیث کی اسناد میں کلام ہے ہم نہیں جانتے کہ اسے عاصم کے سوا کسی اور نے سہیل بن ابی صالح سے روایت کیا ہو۔ عاصم بن عمر حفظ کے اعتبار سے حدیث میں ضعیف ہے۔ لوطی کی سزا میں علماء کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک شادی شدہ ہو یا کنوارا اس پر رجم ہے یہ امام مالک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا قول ہے بعض فقہاء تابعین جن میں حضرت حسن بصری، ابراہیم نخعی اور عطاء بن ابی رباح رحمہم اللہ شامل ہے فرماتے ہیں لواطت کرنے والے کی حد وہی حد ہے جو زانی کی ہے،سفیان ثوری اور اہل کوفہ رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۳،مَا جَاءَ فِي حَدِ اللُّوْطِیْ،جلد۱ص۷۲۸،حديث نمبر ١٤٥٦)

باب مَا جَاءَ فِي حَدِّ اللُّوطِيِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ , فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ , وَالْمَفْعُولَ بِهِ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ جَابِرٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , فَقَالَ: مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْقَتْلَ , وَذَكَرَ فِيهِ مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى بَهِيمَةً , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ , وَلَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ , وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ , وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي حَدِّ اللُّوطِيِّ , فَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ أَحْصَنَ أَوْ لَمْ يُحْصِنْ , وَهَذَا قَوْلُ مَالِكٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ , وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ , وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ , وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: حَدُّ اللُّوطِيِّ حَدُّ الزَّانِي , وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1456

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر قوم لوط کے عمل کا ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے اس طریق یعنی بواسطہ عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۳،مَا جَاءَ فِي حَدِ اللُّوْطِیْ،جلد۱ص۷۲۸،حديث نمبر ١٤٥٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمَكِّيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , عَنْ جَابِرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1457

مرتد کی سزا حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک جماعت کو جو اسلام سے پھر چکی تھی جلا دیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا اگر میں ہوتا تو انہیں ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق قتل کرتا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔ میں انہیں نہ جلاتا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کی سزا نہ دو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی تو فرمایا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صحیح کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے مرتد کے بارے میں اہل علم کا اس پر عمل ہے عورت اسلام کو چھوڑ جائے تو اس کے بارے میں اختلاف ہے علماء کی ایک جماعت کہتی ہے اسے بھی قتل کیا جائے امام اوزاعی احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے جبکہ ایک جماعت کہتی ہے اسے قید کیا جائے قتل نہ کیا جائے سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۴،مَا جَاءَ فِی الْمُرْتَدِ،جلد۱ص۷۲۹،حديث نمبر ١٤٥٨،حديث نمبر ١٤٥٨)

باب مَا جَاءَ فِي الْمُرْتَدِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ عِكْرِمَةَ , أَنَّ عَلِيًّا حَرَّقَ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ , لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " , وَلَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ , لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ " , فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا , فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْمُرْتَدِّ , وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَرْأَةِ إِذَا ارْتَدَّتْ عَنِ الْإِسْلَامِ , فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: تُقْتَلُ , وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: تُحْبَسُ , وَلَا تُقْتَلُ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1458

مسلمان پر ہتھیار اٹھانا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے ہم پر (مسلمانوں پر) ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں اس باب میں حضرت ابن عمر ،ابن زبیر، ابو ہریرہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ابو موسٰی کی روایت حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۵،مَا جَاءَ فِيمَن شَهَرَ السّلاحَ،جلد۱ص۷۳۰،حديث نمبر ١٤٥٩)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ شَهَرَ السِّلاَحَ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ الزُّبَيْرِ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي مُوسَى , حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1459

جادوگر کی سزا حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جادوگر کی سزا تلوار کی ایک مار ہے اس حدیث کو ہم مرفوعاً صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں اسماعیل بن مسلم مکی حفظ کے اعتبار سے حدیث میں ضعیف ہے اسماعیل بن مسلم عبدی بصری کے بارے میں وکیع فرماتے ہیں یہ ثقہ ہیں۔ یہ حسن سے بھی روایت کرتے ہیں یہ صحیح ہے کہ یہ روایت حضرت جندب سے موقوف ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس حدیث پر عمل ہے مالک بن انس کا یہی قول ہے امام شافعی فرماتے ہیں اگر جادوگر کا عمل کفر تک پہنچ جائے تو اسے قتل کیا جائے ورنہ نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۶،مَا جَاءَ فِي حَدِّ السَّاحِرِ،جلد۱ص۷۳۰،حديث نمبر ١٤٦٠،حديث نمبر ١٤٦١)

باب مَا جَاءَ فِي حَدِّ السَّاحِرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ جُنْدُبٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا , إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ , يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ , قَالَ وَكِيعٌ: هُوَ ثِقَةٌ , وَيُرْوَى عَنْ الْحَسَنِ أَيْضًا , وَالصَّحِيحُ عَنْ جُنْدَبٍ مَوْقُوفٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وقَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا يُقْتَلُ السَّاحِرُ إِذَا كَانَ يَعْمَلُ فِي سِحْرِهِ مَا يَبْلُغُ بِهِ الْكُفْرَ , فَإِذَا عَمِلَ عَمَلًا دُونَ الْكُفْرِ , فَلَمْ نَرَ عَلَيْهِ قَتْلًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1460

خائن کی سزا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے مال غنیمت میں چوری کرتا پاؤ اس کا سامان جلا دو۔ صالح (راوی) کہتے ہیں میں مسلمہ کے پاس گیا ان کے پاس سالم بن عبداللہ بھی تھے انہوں نے ایک ایسے آدمی کو پایا جس نے خیانت کی تھی سالم نے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اس کا سامان جلانے کا حکم دیا۔ اس کا سامان جلایا گیا تو اس میں سے ایک قرآن شریف بھی ملا حضرت سالم نے فرمایا اسے فروخت کر دو اور قیمت صدقہ کرو یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام اوزاعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اسے صالح بن محمد بن زائدہ نے روایت کیا ہے اور یہ ابو واقد لیثی منکر الحدیث ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے علاوہ بھی خیانت کرنے والے کے بارے میں روایات ہیں لیکن آپ نے اس کا سامان جلانے کا حکم نہیں دیا امام بخاری فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۷،مَا جَاءَ فِي الْغَالِّ مَا يُصْنَعُ بِهِ،جلد۱ص۷۳۱،حديث نمبر ١٤٦١)

باب مَا جَاءَ فِي الْغَالِّ مَا يُصْنَعُ بِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَجَدْتُمُوهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , فَاحْرِقُوا مَتَاعَهُ " , قَالَ صَالِحٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى مَسْلَمَةَ , وَمَعَهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , فَوَجَدَ رَجُلًا قَدْ غَلَّ، فَحَدَّثَ سَالِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ , فَأَمَرَ بِهِ فَأُحْرِقَ مَتَاعُهُ، فَوُجِدَ فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفٌ , فَقَالَ سَالِمٌ: بِعْ هَذَا وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ , فَقَالَ: إِنَّمَا رَوَى هَذَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ وَهُوَ: أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ , وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ , قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَالِّ , فَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِحَرْقِ مَتَاعِهِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1461

کسی کو ہجڑا کہنے کی سزا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص کسی دوسرے کو،،اے یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس درے مارو اور جب کہے اے ہجڑے تب بھی بیس درے لگاؤ، اور جو محرم عورت سے زنا کرے اسے قتل کر دو۔ اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ابراہیم بن اسماعیل کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف طرق سے مروی ہے براء بن عازب اور قرہ بن ایاس روایت کرتے ہیں ایک آدمی نے اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہمارے اصحاب کے نزدیک اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جو آدمی جان بوجھ کر کسی محرم عورت کے پاس جائے (یعنی زنا کرے) تو اسے قتل کیا جائے امام احمد فرماتے ہیں ماں سے نکاح کرنے والے کو قتل کیا جائے امام اسحٰاق فرماتے ہیں جو کسی محرم عورت سے نکاح کرے اسے بھی قتل کیا جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۸،مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقُولُ لِلْآخِرِ يَا مُخَنَّثِ،جلد۱ص۷۳۱،حديث نمبر ١٤٦٢)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقُولُ لآخَرَ يَا مُخَنَّثُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ , فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ , وَإِذَا قَالَ: يَا مُخَنَّثُ , فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ , وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ , فَاقْتُلُوهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ , وَقُرَّةُ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ , أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ , فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا , قَالُوا: مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ وَهُوَ يَعْلَمُ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ , وقَالَ أَحْمَدُ: مَنْ تَزَوَّجَ أُمَّهُ قُتِلَ , وقَالَ إِسْحَاق: مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ قُتِلَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1462

تعزیر حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حدود اللہ میں سے کسی حد کے سوا۔ (کسی دوسری سزا میں) دس کوڑوں سے زائد نہ مارے جائیں ابن لہیعہ نے اس حدیث کو بکیر سے روایت کیا لیکن غلطی کی اور کہا عبدالرحمٰن بن جابر بن عبداللہ بواسطہ والد۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں یہ سند غلط ہے صحیح وہ ہے جو لیث بن سعد نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن جابر بن عبداللہ اور ابو بردہ بن نیار، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ،یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف بکیر بن اشج کی روایت سے پہچانتے ہیں علماء کا تعزیر کے بارے میں اختلاف ہے تعزیر کے ضمن میں سب سے بہتر یہی روایت ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۹،مَا جَاء فِي التَّعْزِيرِ،جلد۱ص۷۳۲،حديث نمبر ١٤٦٣)

باب مَا جَاءَ فِي التَّعْزِيرِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبيبٍ , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ , إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ , وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّعْزِيرِ , وَأَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي التَّعْزِيرِ , هَذَا الْحَدِيثُ , قَالَ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ بُكَيْرٍ , فَأَخْطَأَ فِيهِ , وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ خَطَأٌ , وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ , إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Hudoodi, Hadees No. 1463

Tirmizi Shareef : Abwabul Hudoodi

|

Tirmizi Shareef : ابواب الحدود

|

•