
قربانی کی فضیلت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کے دن اللہ تعالٰی کے ہاں انسان کا کوئی عمل خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور بے شک اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالٰی کے ہاں مقام قبولیت حاصل کر لیتا ہے ،پس دل کی خوشی کے ساتھ قربانی کیا کرو، اس باب میں حضرت عمران بن حصین اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ہشام بن عروہ کی روایت سے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ابو المثنٰی کا نام سلیمان بن یزید ہے ابن ابی فدیک ان سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے قربانی کے بارے میں فرمایا کہ قربانی کرنے والے کے لیے ہر بال کے بدلے نیکی ہے نیز یہ بھی روایت ہے کہ ہر سینگ کے بدلے نیکی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۰۸،مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَضْحِيَةِ،جلد۱ص۷۴۴،حديث نمبر ١٤٩٣)
دو مینڈہوں کی قربانی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سیاہی مائل سفید دو مینڈھے اپنے دست مبارک سے ذبح کیے بسم اللہ پڑھ کر تکبیر کہی اور ان کی گردن پر اپنا پاؤں مبارک رکھا، اس باب میں حضرت علی، عائشہ ،ابوہریرہ ،جابر، ابو ایوب ابو درداء، ابو رافع ابن عمر اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۰۹،فِی الْأَضْحِيَةِ بِكَبْشَيْنِ،جلد۱ص۷۴۵،حديث نمبر ١٤٩٤)
حضرت حنش سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دو مینڈھوں کی قربانی دیا کرتے تھے ایک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور ایک اپنی طرف سے آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا ہے پس میں اسے کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف شریک کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ میت کی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ بعض کے نزدیک یہ جائز نہیں حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک میت کی طرف سے صدقہ دینا زیادہ پسندیدہ ہے اور اس کی طرف سے قربانی نہ کی جائے اور اگر کرے تو اس سے کچھ بھی نہ کھائے بلکہ تمام کا تمام صدقہ کر دے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۰۹،فِی الْأَضْحِيَةِ بِكَبْشَيْنِ،جلد۱ص۷۴۵،حديث نمبر ١٤٩٥)
کس جانور کی قربانی مستحب ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے موٹے تازے نر دنبے کی قربانی دی۔ وہ سیاہی میں کھاتا سیاہی میں چلتا اور سیاہی میں دکھتا تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف حفص بن غیاث کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۰،مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَضَاحِى،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٦)
کس جانور کی قربانی ناجائز ہے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لنگڑے جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو نہ اس کانے جانور کی جس کا کانا پن ظاہر ہو اور نہ اس بیمار جانور کی قربانی کی جائے جس کی بیماری ظاہر ہو اور نہ ایسے دبلے پتلے کی جس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔ ھناد نے بواسطہ ابن ابی زائدہ، شعبہ، سلیمان بن عبدالرحمٰن عبید بن فیروز اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے ہم اسے صرف بواسطہ عبید بن فیروز حضرت براء بن عازب کی روایت سے جانتے ہیں علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۱،مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٧)
کس جانور کی قربانی مکروہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیا کریں اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کے کان آگے یا پیچھے سے کٹے ہوئے ہوں یا پھٹے ہوئے ہوں یا ان میں سوراخ ہو۔ حسن بن علی نے بواسطہ عبید اللہ بن موسیٰ، اسرائیل، ابو اسحٰاق، شریح بن نعمان اور حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کی لیکن اس میں اضافہ یہ ہے آپ نے فرمایا مقابلہ وہ ہے جس کا کان کنارے سے کٹا ہوا ہو۔ مدابرہ وہ ہے جس کے کان کو پچھلی طرف سے کاٹا گیا ہو شرقاء وہ ہے جس کا کان پھٹا ہوا ہو اور حرقاء وہ ہے جس کے کان میں سوراخ ہو،یہ حدیث حسن صحیح ہے شریح بن نعمان صائدی کوفی ہیں اور شریح بن حارث کندی کوفی ہیں اور قاضی ہیں ابو امیہ ان کی کنیت ہے۔ شریح بن ہانی کوفی ہیں اور ہانی کو شرف صحبت حاصل ہے یہ تمام ہم عصر ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۲،مَا يَكْرَهُ مِنَ الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٨)
چھ مہینے کی بھیڑ کی قربانی حضرت ابو کباش فرماتے ہیں میں چھ ماہی بھیڑیں بغرض تجارت مدینہ طیبہ لایا وہ کسادبازاری کا شکار ہو گئیں۔ پھر میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا چھ مہینے کی بھیڑ (مینڈھا جو اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال کا نظر آتا ہو) کی قربانی اچھی ہے ابو کباش کہتے ہیں (یہ سن کر) لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ خرید لیا، اس باب میں حضرت ابن عباس ،ام بلال، بنت ہلال، بلال، جابر ،عقبہ بن عامر، اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ غریب ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفًا بھی مروی ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم حضرات کا اس حدیث پر عمل ہے کہ چھ ماہی مینڈھے کی قربانی جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۳،فِی الْجَذَاءِ مِنَ الضَّانِ في الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۷،حديث نمبر ١٤٩٩)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں کہ آپ کے صحابہ کرام کے درمیان قربانی کے لیے تقسیم کر دیں۔ تقسیم کے بعد ایک چھ یا سات ماہ کا بچہ رہ گیا فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا تم خود اس کی قربانی کر دو۔ وکیع فرماتے ہیں جذعہ چھ یا سات ماہ کا ہوتا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس طریق کے علاوہ بھی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے تو ایک جذعہ باقی رہ گیا فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا تم خود اس کی قربانی کر دو۔ ہم سے یہ حدیث محمد بن بشار نے یزید بن ہارون اور ابو داؤد سے بیان کی۔ یہ دونوں فرماتے ہیں ہم سے ہشام بن دستوائی نے بواسطہ یحیٰی بن کثیر،بعجہ بن عبداللہ بن بدر اور عقبہ بن عامر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۳،فِی الْجَذَاءِ مِنَ الضَّانِ في الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۷،حديث نمبر ١٥٠٠)
قربانی میں شریک ہونا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ عید قربانی آگئی چنانچہ ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوئے، اس باب میں حضرت ابو الاشد اسلمی بواسطہ اپنے والد، دادا سے روایت کرتے ہیں اور ابو ایوب رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت حسن غریب ہے ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب القربانی،باب۱۰۱۴،فِی الْاشْتِرَاكِ فِي الْأَضْحِيَةِ،جلد۱ص۷۴۸،حديث نمبر ١٥٠١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ میں سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ کی قربانی دی اور سات ہی کی طرف سے گائے قربان کی یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمداور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ اسحٰاق فرماتے ہیں اونٹ دس کی طرف سے بھی جائز ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے استدلال کیا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۴،فِی الْاشْتِرَاكِ فِي الْأَضْحِيَةِ،جلد۱ص۷۴۸،حديث نمبر ١٥٠٢)
حضرت جحیہ بن عدی سے مروی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہے میں نے عرض کیا اگر بچہ جنے ؟ فرمایا بچے کو ساتھ ہی ذبح کر دو میں نے عرض کیا لنگڑی گائے کا کیا حکم ہے فرمایا جب قربان گاہ تک پہنچ جائے میں نے پوچھا جس کے سینگ ٹوٹے ہوئے ہوں فرمایا کچھ حرج نہیں ہمیں حکم دیا گیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم آنکھوں اور کانوں کو غور سے دیکھ لیا کریں، یہ حدیث حسن صحیح ہے سفیان ثوری نے اسے سلمہ بن کہیل سے روایت کیا ہے۔ جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۴،جلد۱ص۷۴۸،حديث نمبر ١٥٠٣)
حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے ہوئے سینگ والے اورپھٹے کان والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا، قتادہ کہتے ہیں میں نے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا عضب سے آدھا یا اس سے زائد کا کٹ جانا مراد ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۴،جلد۱ص۷۴۸،حديث نمبر ١٥٠٤)
ایک بکری تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہے حضرت عمارہ بن عبداللہ کہتے ہیں میں نے عطاء بن یسار سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے ابو ایوب سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زمانہ اقدس میں قربانیاں کیسے ہوا کرتی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا ایک آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربان کیا کرتا تھا اور اس سے خود بھی کھاتے اور لوگوں کو بھی کھلاتے یہاں تک کہ لوگوں نے فخر شروع کیا اور اب یہ صورت ہو گئی جو تم دیکھ رہے ہو، یہ حدیث حسن صحیح ہے عمارہ بن عبداللہ مدینی ہے مالک بن انس نے بھی اس سے روایت کی ہے بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کیا کہ آپ نے ایک مینڈھا ذبح کیا اور فرمایا یہ میرے اس امتی کی طرف سے ہے جو قربانی نہ کر سکے۔ بعض علماء فرماتے ہیں ایک بکری صرف ایک آدمی کی طرف سے جائز ہے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اہل علم (حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی مسلک ہے)ے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۵،مَا جَاءَ أَنَّ الشَّاةَ الْوَاحِدةَ تُجْزِیءُ عَنْ أَهْلِ الْبَيْتِ،جلد۱ص۷۴۹،حديث نمبر ١٥٠٥)
قربانی سنت ہے جبلہ بن سحیم بیان کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے قربانی کے متعلق پوچھا کہ آیا یہ واجب ہے آپ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے قربانی کی اس نے دوبارہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا تجھے عقل ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے، یہ حدیث حسن ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ قربانی واجب نہیں بلکہ سنت ہے اس پر عمل کرنا مستحب ہے سفیان ثوری اور ابن مبارک کا یہی قول ہے۔ جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۶،جلد۱ص۷۵۹،حديث نمبر ١٥٠٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں دس سال قیام پذیر رہے اور آپ قربانی دیتے رہے، یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۶،جلد۱ص۷۵۹،حديث نمبر ١٥٠٧) (امام اعظم ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام ظفر اور امام حسن کے نزدیک ہر آزاد مسلمان اور مقیم صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے امام احمد سے ایک روایت ہے کہ ان کے نزدیک مالدار پر واجب اور فقیر کے لیے سنت ہے وجوب کی دلیل مخنف بن سلیم کی روایت ہے جسے ترمذی ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا حضرت مخنف فرماتے ہیں ہم عرفات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے آپ نے فرمایا اے لوگو ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی واجب ہے اور یہ انداز وجوب کا ہے نیز فرمایا جو گنجائش کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے اس قسم کی وعید واجب کے چھوڑنے پر ہوتی ہے۔ (ترمذی،ص۲۳۶،مترجم)
نماز عید کے بعد ذبح کرنا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا نماز عید پڑھنے سے پہلے کوئی شخص قربانی کا جانور ذبح نہ کرے فرماتے ہیں میرے ماموں نے اٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ آج کے دن(زیادہ ہونے کی وجہ سے) گوشت ناپسند ہوتا ہے اور میں نے قربانی میں جلدی کی تاکہ اپنے گھر والوں اور ہمسائیوں کو کھلاؤں آپ نے فرمایا دوسرا جانور ذبح کرو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس سال سے کم عمر کا بکری کا بچہ ہے جو دو گوشت والی بکریوں سے اچھا ہے کیا میں اسے ذبح کر دوں آپ نے فرمایا ہاں اور یہ تیری اچھی قربانی ہے اور تیرے بعد کسی کے لیے بکری کا سال سے کم عمر کا بچہ جائز نہیں، اس باب میں حضرت جابر، جندب انس، عویمر بن اشقر،ا بن عمر اور ابو زید انصاری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ شہر میں امام کے نماز عید پڑھانے سے قبل قربانی نہ کرے علماء کی ایک جماعت نے دیہاتیوں کو طلوع فجر کے بعد قربانی کی اجازت دی ہے ابن مبارک رحم اللہ کا یہی قول ہے اہل علم کا اجماع ہے کہ چھ ماہی بکری کی قربانی جائز نہیں اور بھیڑ کا چھ ماہ بچہ جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۷،فِی الذَّبْحِ بَعْدَ الصَّلٰوةِ،جلد۱ص۷۵۱،حديث نمبر ١٥٠٨) (حضور صلی اللہ علیہ وسلم حکم خداوندی کے تحت جس کے لیے جو چاہیں حلال فرمائیں جس کے لیے جو چاہیں حرام قرار دیں اللہ تعالٰی نے آپ کو اختیارات بخشے جس پر یہ واقعہ شاہد عدل ہے مزید تفصیل کے لیے امام احمد رضا بریلی قدس سرہ، کی تصنیف ،الامن والعلیٰ،، کا مطالعہ کیجئے۔)
قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ مکروہ ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھائے، اس باب میں حضرت عائشہ اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے منع فرمایا تھا پھر اجازت دے دی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۸،فِي کَرَاهِيَةِ أَكْلِ الْأَضْحِيَةِفَوقَ ثَلٰثَةِ أَيَّامٍ،جلد۱ص۷۵۲،حديث نمبر ١٥٠٩)
تین دن کے بعد گوشت کھانے کی اجازت حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا کرتا تھا تاکہ گنجائش والے ان لوگو پر وسعت کریں۔ جنہیں گنجائش نہیں پس جتنا چاہو کھاؤ کھلاؤ اور جمع کر لو، اس باب میں حضرت ابن مسعود، عائشہ ، نبیشہ ،ابو سعید، قتادہ بن نعمان، انس اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث بریدہ حسن صحیح ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۹،فِی الرُّخْصَةِ فِی اَکْلِهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ،جلد۱ص۷۵۲،حديث نمبر ١٥١٠)
حضرت عابس بن ربیعہ فرماتے ہیں میں نے ام المومنین رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا کرتے تھے انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ قربانی کرنے والے کم تھے اس لیے آپ چاہتے تھے کہ ان لوگوں کو کھلایا جائے جو قربانی نہیں کر سکتے پس ہم جانور کا ہاتھ بچا کر رکھتے اور اسے دس دن بعد کھاتے یہ حدیث حسن صحیح ہے ام المومنین سے مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ام المومنین سے یہ حدیث دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۹،فِی الرُّخْصَةِ فِی اَکْلِهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ،جلد۱ص۷۵۲،حديث نمبر ١٥١١)
فرع اور عتیرہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں فرع اور عتیرہ کا کوئی جواز نہیں اونٹنی کے سب سے پہلے بچے کو کہتے ہیں جسے لوگ زمانہ جاہلیت میں ذبح کیا کرتے تھے، اس باب میں حضرت نبیشہ اور مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہا سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے عتیرہ وہ ذبیحہ ہے جسے وہ رجب کی تعظیم کی خاطر رجب میں ذبح کرتے تھے کیونکہ یہ حرمت والے مہینوں میں سب سے پہلا مہینہ ہے حرمت والے مہینے رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم ہیں حج کے مہینے شوال، ذوالقعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں بعض صحابہ کرام اور دیگر حضرات سے حج کے مہینوں کے بارے میں اسی طرح مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۲۰،فِی الْفَرَعِ وَالْعَتيرَةِ،جلد۱ص۷۵۳،حديث نمبر ١٥١٢)
عقیقہ حضرت یوسف بن ماہک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حفصہ بنت عبدالرحمٰن کے پاس گئے اور ان سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا انہوں نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم فرمایا، اس باب میں حضرت علی، ام کرز، بریدہ ،سمرہ، ابو ہریرہ عبداللہ بن عمر، انس، سلمان بن عامر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے حفصہ حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۱،مَا جَاءَ فِی الْعَقِيقَةِ،جلد۱ص۷۵۳،حديث نمبر ١٥١٣)
بچے کے کان میں اذان دینا حضرت عبید اللہ بن ابو رافع اپنے والد (ابو رافع) رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے کان میں جب وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن اطہر سے پیدا ہوئے نماز کی اذان جیسی اذان کہی، یہ حدیث صحیح ہے اور اس پر عمل ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے طرق سے بھی عقیقہ کے بارے میں مروی ہے کہ بچے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ دیا بعض علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۲،الْأَذَانِ فِي أُذُنِ الْمَوْلُودِ،جلد۱ص۷۵۴،حديث نمبر ١٥٠١٤)
حضرت سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ پیدا ہونے پر عقیقہ سنت ہے اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے ایزارساں چیزیں بال وغیرہ دور کرو۔ حسن نے بواسطہ عبدالرزاق ابن عیینہ، عاصم بن سلیمان احول، حفصہ بنت سرین, رباب اور سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۱،مَا جَاءَ فِی الْعَقِيقَةِ،جلد۱ص۷۵۳،حديث نمبر ١٤١٥)
سباع بن ثابت سے روایت ہے محمد بن سباع بن ثابت نے انہیں ام کرز سے خبر دی انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ان کا نر یا مادہ ہونا کچھ نقصان نہیں دیتا۔یہ حدیث حسن صحیح ہے. (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۱،مَا جَاءَ فِی الْعَقِيقَةِ،جلد۱ص۷۵۳،حديث نمبر ١٥١٦)
بہترین قربانی اور کفن حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین قربانی سینگ والے دنبے کی ہے اور بہترین کفن حلہ ہے ،یہ حدیث غریب ہے عفیر بن معدان کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۳،جلد۱ص۷۵۵،حديث نمبر ١٥١٧)
قربانی واجب ہے حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ میں نے سنا آپ نے فرمایا اے لوگو ہر سال ہر گھر والوں پر قربانی واجب ہے اور عتیرہ تو تم جانتے ہو عتیرہ کیا ہے یہ وہی ہے جسے تم رجبیہ کہتے ہو۔ پیچھے مفہوم گزر چکا ہے یہ حدیث حسن غریب ہے اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق یعنی ابن عون کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۴،جلد۱ص۷۵۵،حديث نمبر ١٥١٨)
ایک بکری سے عقیقہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک بکری عقیقہ میں ذبح کی اور فرمایا اے فاطمہ ! ان کا سر مونڈھ کر بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرو تو ان کا وزن ایک درہم یا درہم سے کچھ کم تھا، یہ حدیث حسن غریب ہے اس کی سند متصل نہیں ابو جعفر محمد بن علی نے حضرت علی بن ابی طالب کو نہیں پایا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۵،جلد۱ص۷۵۵،حديث ١٥١٩)
تکبیر کہہ کر ذبح کرنا حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا پھر نیچے تشریف لائے اور دو مینڈھے منگوا کر انہیں ذبح کیا یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۶،جلد۱ص۷۵۶،حديث نمبر ١٥٢٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں عید قربانی کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عیدگاہ میں حاضر ہوا آپ نے خطبہ ختم فرمایا تو ممبر سے نیچے تشریف لائے ایک مینڈھا لایا گیا اور آپ نے اسے اپنے دست مبارک سے ذبح فرمایا اور فرمایا، بسم اللہ اللہ اکبر، یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے جو قربانی نہیں کر سکتے، یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ ذبح کرتے وقت آدمی کو تکبیر کہنی چاہیے ابن مبارک رحمہ اللہ کا یہی قول ہے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماع حاصل نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۶،جلد۱ص۷۵۶،حديث نمبر ١٥٢١)
عقیقہ کب کیا جائے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ عقیقہ کے عوض رہن رکھا جاتا ہے ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے نام رکھا جائے اور اس کا سر منڈایا جائے۔ حسن بن علی خلال نے بواسطہ یزید بن ہارون، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، حسن اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی، یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ مستحب سمجھتے ہیں کہ بچے کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کا جانور ذبح کیا جائے اگر ساتویں دن میسر نہ ہو تو چودھویں دن اگر چودھویں دن بھی نہ ہو تو اکسویں دن ذبح کیا جائے علماء فرماتے ہیں عقیقہ میں اسی قسم کی بکری جائز ہے جو قربانی میں جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۷،جلد۱ص۷۵۶،حديث نمبر ١٥٢٢)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ یہ حدیث حسن ہے صحیح نام عمرو بن مسلم ہے عمر بن مسلم نہیں ان سے محمد بن عمرو بن علقمہ اور کئی دوسرے افراد نے روایت کیا ہے یہ حدیث بواسطہ سعید بن مسیب اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے طرق سے بھی اسی طرح مروی ہے بعض علماء کا یہی قول ہے سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی فرماتے ہیں امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ بھی اس حدیث کی طرف گئے ہیں بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے وہ فرماتے ہیں بال اور ناخن کاٹنے میں کوئی حرج نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ اسی کے قائل ہیں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ سے قربانی کا جانور بھیجتے اور کسی ایسی چیز سے پرہیز نہ کراتے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی، ۱۰۲۸،جلد۱ص۷۵۷،حديث نمبر ١٥٢٣)
Tirmizi Shareef : Abwabul Adahiyya
|
Tirmizi Shareef : ابواب الاضاحی
|
•