asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Adahiyya

From 1493 to 1523

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

قربانی کی فضیلت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کے دن اللہ تعالٰی کے ہاں انسان کا کوئی عمل خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور بے شک اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالٰی کے ہاں مقام قبولیت حاصل کر لیتا ہے ،پس دل کی خوشی کے ساتھ قربانی کیا کرو، اس باب میں حضرت عمران بن حصین اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ہشام بن عروہ کی روایت سے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ابو المثنٰی کا نام سلیمان بن یزید ہے ابن ابی فدیک ان سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے قربانی کے بارے میں فرمایا کہ قربانی کرنے والے کے لیے ہر بال کے بدلے نیکی ہے نیز یہ بھی روایت ہے کہ ہر سینگ کے بدلے نیکی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۰۸،مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَضْحِيَةِ،جلد۱ص۷۴۴،حديث نمبر ١٤٩٣)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الأُضْحِيَةِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ أَبُو مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ , أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ , إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا , وَأَشْعَارِهَا , وَأَظْلَافِهَا , وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ , فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَأَبُو الْمُثَنَّى اسْمُهُ: سُلَيْمَانُ بْنُ يَزِيدَ , وَرَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " فِي الْأُضْحِيَّةِ لِصَاحِبِهَا بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ " , وَيُرْوَى بِقُرُونِهَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1493

دو مینڈہوں کی قربانی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سیاہی مائل سفید دو مینڈھے اپنے دست مبارک سے ذبح کیے بسم اللہ پڑھ کر تکبیر کہی اور ان کی گردن پر اپنا پاؤں مبارک رکھا، اس باب میں حضرت علی، عائشہ ،ابوہریرہ ،جابر، ابو ایوب ابو درداء، ابو رافع ابن عمر اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۰۹،فِی الْأَضْحِيَةِ بِكَبْشَيْنِ،جلد۱ص۷۴۵،حديث نمبر ١٤٩٤)

باب مَا جَاءَ فِي الأُضْحِيَةِ بِكَبْشَيْنِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ , ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ , وَسَمَّى , وَكَبَّرَ , وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَعَائِشَةَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي أَيُّوبَ , وَجَابِرٍ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَأَبِي رَافِعٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي بَكْرَةَ أَيْضًا , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1494

حضرت حنش سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دو مینڈھوں کی قربانی دیا کرتے تھے ایک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور ایک اپنی طرف سے آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا ہے پس میں اسے کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف شریک کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ میت کی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ بعض کے نزدیک یہ جائز نہیں حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک میت کی طرف سے صدقہ دینا زیادہ پسندیدہ ہے اور اس کی طرف سے قربانی نہ کی جائے اور اگر کرے تو اس سے کچھ بھی نہ کھائے بلکہ تمام کا تمام صدقہ کر دے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۰۹،فِی الْأَضْحِيَةِ بِكَبْشَيْنِ،جلد۱ص۷۴۵،حديث نمبر ١٤٩٥)

باب مَا جَاءَ فِي الأُضْحِيَةِ عَنِ الْمَيِّتِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْكُوفِيُّ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنْ الْحَكَمِ , عَنْ حَنَشٍ , عَنْ عَلِيٍّ " أَنَّهُ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ , أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ " , فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: أَمَرَنِي بِهِ يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ , وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُضَحَّى عَنِ الْمَيِّتِ , وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُضَحَّى عَنْهُ , وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: " أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُتَصَدَّقَ عَنْهُ , وَلَا يُضَحَّى عَنْهُ , وَإِنْ ضَحَّى , فَلَا يَأْكُلُ مِنْهَا شَيْئًا , وَيَتَصَدَّقُ بِهَا كُلِّهَا " , قَالَ مُحَمَّدٌ , قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ , وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ شَرِيكٍ , قُلْتُ لَهُ: أَبُو الْحَسْنَاءِ مَا اسْمُهُ , فَلَمْ يَعْرِفْهُ , قَالَ مُسْلِمٌ اسْمُهُ: الْحَسَنُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1495

کس جانور کی قربانی مستحب ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے موٹے تازے نر دنبے کی قربانی دی۔ وہ سیاہی میں کھاتا سیاہی میں چلتا اور سیاہی میں دکھتا تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف حفص بن غیاث کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۰،مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَضَاحِى،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٦)

باب مَا جَاءَ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الأَضَاحِي حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ , فَحِيلٍ يَأْكُلُ فِي سَوَادٍ , وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ , وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1496

کس جانور کی قربانی ناجائز ہے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لنگڑے جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو نہ اس کانے جانور کی جس کا کانا پن ظاہر ہو اور نہ اس بیمار جانور کی قربانی کی جائے جس کی بیماری ظاہر ہو اور نہ ایسے دبلے پتلے کی جس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔ ھناد نے بواسطہ ابن ابی زائدہ، شعبہ، سلیمان بن عبدالرحمٰن عبید بن فیروز اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے ہم اسے صرف بواسطہ عبید بن فیروز حضرت براء بن عازب کی روایت سے جانتے ہیں علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۱،مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٧)

باب مَا لاَ يَجُوزُ مِنَ الأَضَاحِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , رَفَعَهُ , قَالَ: " لَا يُضَحَّى بِالْعَرْجَاءِ بَيِّنٌ ظَلَعُهَا , وَلَا بِالْعَوْرَاءِ بَيِّنٌ عَوَرُهَا , وَلَا بِالْمَرِيضَةِ بَيِّنٌ مَرَضُهَا , وَلَا بِالْعَجْفَاءِ الَّتِي لَا تُنْقِي " , حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ , عَنْ الْبَرَاءِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1497

کس جانور کی قربانی مکروہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیا کریں اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کے کان آگے یا پیچھے سے کٹے ہوئے ہوں یا پھٹے ہوئے ہوں یا ان میں سوراخ ہو۔ حسن بن علی نے بواسطہ عبید اللہ بن موسیٰ، اسرائیل، ابو اسحٰاق، شریح بن نعمان اور حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کی لیکن اس میں اضافہ یہ ہے آپ نے فرمایا مقابلہ وہ ہے جس کا کان کنارے سے کٹا ہوا ہو۔ مدابرہ وہ ہے جس کے کان کو پچھلی طرف سے کاٹا گیا ہو شرقاء وہ ہے جس کا کان پھٹا ہوا ہو اور حرقاء وہ ہے جس کے کان میں سوراخ ہو،یہ حدیث حسن صحیح ہے شریح بن نعمان صائدی کوفی ہیں اور شریح بن حارث کندی کوفی ہیں اور قاضی ہیں ابو امیہ ان کی کنیت ہے۔ شریح بن ہانی کوفی ہیں اور ہانی کو شرف صحبت حاصل ہے یہ تمام ہم عصر ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۲،مَا يَكْرَهُ مِنَ الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٨)

باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الأَضَاحِي حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيِّ وَهُوَ الْهَمْدَانِيُّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ , وَالْأُذُنَ , وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ , وَلَا مُدَابَرَةٍ , وَلَا شَرْقَاءَ , وَلَا خَرْقَاءَ " , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ , عَنْ عَلِيٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ , وَزَادَ , قَالَ: " الْمُقَابَلَةُ: مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا , وَالْمُدَابَرَةُ: مَا قُطِعَ مِنْ جَانِبِ الْأُذُنِ , وَالشَّرْقَاءُ: الْمَشْقُوقَةُ , وَالْخَرْقَاءُ: الْمَثْقُوبَةُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , قَالَ أَبُو عِيسَى , وَشُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيُّ هُوَ كُوفِيٌّ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ , وَشُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ كُوفِيٌّ وَلِوَالِدِهِ صُحْبَةٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ , وَشُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ الْكِنْدِيُّ أَبُو أُمَيَّةَ الْقَاضِي , قَدْ رَوَى عَنْ عَلِيٍّ , وَكُلُّهُمْ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ , قَوْلُهُ أَنْ نَسْتَشْرِفَ: أَيْ أَنْ نَنْظُرَ صَحِيحًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1498

چھ مہینے کی بھیڑ کی قربانی حضرت ابو کباش فرماتے ہیں میں چھ ماہی بھیڑیں بغرض تجارت مدینہ طیبہ لایا وہ کسادبازاری کا شکار ہو گئیں۔ پھر میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا چھ مہینے کی بھیڑ (مینڈھا جو اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال کا نظر آتا ہو) کی قربانی اچھی ہے ابو کباش کہتے ہیں (یہ سن کر) لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ خرید لیا، اس باب میں حضرت ابن عباس ،ام بلال، بنت ہلال، بلال، جابر ،عقبہ بن عامر، اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ غریب ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفًا بھی مروی ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم حضرات کا اس حدیث پر عمل ہے کہ چھ ماہی مینڈھے کی قربانی جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۳،فِی الْجَذَاءِ مِنَ الضَّانِ في الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۷،حديث نمبر ١٤٩٩)

باب مَا جَاءَ فِي الْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ فِي الأَضَاحِي حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ , عَنْ كِدَامِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي كِبَاشٍ , قَالَ: جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا إِلَى الْمَدِينَةِ , فَكَسَدَتْ عَلَيَّ , فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نِعْمَ " أَوْ: " نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ " , قَالَ: فَانْتَهَبَهُ النَّاسُ قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَأُمِّ بِلَالِ ابْنَةِ هِلَالٍ , عَنْ أَبِيهَا , وَجَابِرٍ , وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ , حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا , وَعُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ هُوَ: ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنَّ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ يُجْزِئُ فِي الْأُضْحِيَّةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1499

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں کہ آپ کے صحابہ کرام کے درمیان قربانی کے لیے تقسیم کر دیں۔ تقسیم کے بعد ایک چھ یا سات ماہ کا بچہ رہ گیا فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا تم خود اس کی قربانی کر دو۔ وکیع فرماتے ہیں جذعہ چھ یا سات ماہ کا ہوتا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس طریق کے علاوہ بھی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے تو ایک جذعہ باقی رہ گیا فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا تم خود اس کی قربانی کر دو۔ ہم سے یہ حدیث محمد بن بشار نے یزید بن ہارون اور ابو داؤد سے بیان کی۔ یہ دونوں فرماتے ہیں ہم سے ہشام بن دستوائی نے بواسطہ یحیٰی بن کثیر،بعجہ بن عبداللہ بن بدر اور عقبہ بن عامر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۳،فِی الْجَذَاءِ مِنَ الضَّانِ في الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۷،حديث نمبر ١٥٠٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا , فَبَقِيَ عَتُودٌ , أَوْ جَدْيٌ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , قَالَ وَكِيعٌ , الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ: يَكُونُ ابْنَ سَنَةٍ أَوْ سَبْعَةِ أَشْهُرٍ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنَّهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا , فَبَقِيَ جَذَعَةٌ , فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا أَنْتَ "،

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1500

قربانی میں شریک ہونا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ عید قربانی آگئی چنانچہ ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوئے، اس باب میں حضرت ابو الاشد اسلمی بواسطہ اپنے والد، دادا سے روایت کرتے ہیں اور ابو ایوب رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت حسن غریب ہے ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب القربانی،باب۱۰۱۴،فِی الْاشْتِرَاكِ فِي الْأَضْحِيَةِ،جلد۱ص۷۴۸،حديث نمبر ١٥٠١)

باب مَا جَاءَ فِي الاِشْتِرَاكِ فِي الأُضْحِيَةِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ , حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى , عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ , عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَحَضَرَ الْأَضْحَى , فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةً , وَفِي الْبَعِيرِ عَشَرَةً " , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي الْأَسَدِ السُّلَمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , وَأَبِي أَيُّوبَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1501

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ میں سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ کی قربانی دی اور سات ہی کی طرف سے گائے قربان کی یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمداور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ اسحٰاق فرماتے ہیں اونٹ دس کی طرف سے بھی جائز ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے استدلال کیا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۴،فِی الْاشْتِرَاكِ فِي الْأَضْحِيَةِ،جلد۱ص۷۴۸،حديث نمبر ١٥٠٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ , وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَابْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ إِسْحَاق: يُجْزِئُ أَيْضًا الْبَعِيرُ عَنْ عَشَرَةٍ , وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1502

حضرت جحیہ بن عدی سے مروی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہے میں نے عرض کیا اگر بچہ جنے ؟ فرمایا بچے کو ساتھ ہی ذبح کر دو میں نے عرض کیا لنگڑی گائے کا کیا حکم ہے فرمایا جب قربان گاہ تک پہنچ جائے میں نے پوچھا جس کے سینگ ٹوٹے ہوئے ہوں فرمایا کچھ حرج نہیں ہمیں حکم دیا گیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم آنکھوں اور کانوں کو غور سے دیکھ لیا کریں، یہ حدیث حسن صحیح ہے سفیان ثوری نے اسے سلمہ بن کہیل سے روایت کیا ہے۔ جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۴،جلد۱ص۷۴۸،حديث نمبر ١٥٠٣)

باب فِي الضَّحِيَّةِ بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالأُذُنِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ: الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ , قُلْتُ: فَإِنْ وَلَدَتْ , قَالَ: اذْبَحْ وَلَدَهَا مَعَهَا , قُلْتُ: فَالْعَرْجَاءُ , قَالَ: إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسِكَ , قُلْتُ: فَمَكْسُورَةُ الْقَرْنِ , قَالَ: لَا بَأْسَ , أُمِرْنَا أَوْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَيْنِ , وَالْأُذُنَيْنِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1503

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے ہوئے سینگ والے اورپھٹے کان والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا، قتادہ کہتے ہیں میں نے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا عضب سے آدھا یا اس سے زائد کا کٹ جانا مراد ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۴،جلد۱ص۷۴۸،حديث نمبر ١٥٠٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ النَّهْدِيِّ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ , وَالْأُذُنِ " , قَالَ قَتَادَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , فَقَالَ: الْعَضْبُ: مَا بَلَغَ النِّصْفَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1504

ایک بکری تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہے حضرت عمارہ بن عبداللہ کہتے ہیں میں نے عطاء بن یسار سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے ابو ایوب سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زمانہ اقدس میں قربانیاں کیسے ہوا کرتی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا ایک آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربان کیا کرتا تھا اور اس سے خود بھی کھاتے اور لوگوں کو بھی کھلاتے یہاں تک کہ لوگوں نے فخر شروع کیا اور اب یہ صورت ہو گئی جو تم دیکھ رہے ہو، یہ حدیث حسن صحیح ہے عمارہ بن عبداللہ مدینی ہے مالک بن انس نے بھی اس سے روایت کی ہے بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کیا کہ آپ نے ایک مینڈھا ذبح کیا اور فرمایا یہ میرے اس امتی کی طرف سے ہے جو قربانی نہ کر سکے۔ بعض علماء فرماتے ہیں ایک بکری صرف ایک آدمی کی طرف سے جائز ہے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اہل علم (حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی مسلک ہے)ے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۵،مَا جَاءَ أَنَّ الشَّاةَ الْوَاحِدةَ تُجْزِیءُ عَنْ أَهْلِ الْبَيْتِ،جلد۱ص۷۴۹،حديث نمبر ١٥٠٥)

باب مَا جَاءَ أَنَّ الشَّاةَ الْوَاحِدَةَ تُجْزِئُ عَنْ أَهْلِ الْبَيْتِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ , حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَال: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ , يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ: كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " كَانَالرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ , وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ , فَيَأْكُلُونَ , وَيُطْعِمُونَ , حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ , فَصَارَتْ كَمَا تَرَى " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَعُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ: مَدَنِيٌّ , وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق: " وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشٍ , فَقَالَ: هَذَا عَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " , وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا تُجْزِي الشَّاةُ إِلَّا عَنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ , وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ: وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1505

قربانی سنت ہے جبلہ بن سحیم بیان کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے قربانی کے متعلق پوچھا کہ آیا یہ واجب ہے آپ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے قربانی کی اس نے دوبارہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا تجھے عقل ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے، یہ حدیث حسن ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ قربانی واجب نہیں بلکہ سنت ہے اس پر عمل کرنا مستحب ہے سفیان ثوری اور ابن مبارک کا یہی قول ہے۔ جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۶،جلد۱ص۷۵۹،حديث نمبر ١٥٠٦)

باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الأُضْحِيَةَ سُنَّةٌ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ , عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأُضْحِيَّةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ؟ فَقَالَ " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ " , فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ , فَقَالَ: أَتَعْقِلُ , ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: " أَنَّ الْأُضْحِيَّةَ لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ , وَلَكِنَّهَا سُنَّةٌ مِنْ سُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْتَحَبُّ أَنْ يُعْمَلَ بِهَا " , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَابْنِ الْمُبَارَكِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1506

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں دس سال قیام پذیر رہے اور آپ قربانی دیتے رہے، یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۶،جلد۱ص۷۵۹،حديث نمبر ١٥٠٧) (امام اعظم ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام ظفر اور امام حسن کے نزدیک ہر آزاد مسلمان اور مقیم صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے امام احمد سے ایک روایت ہے کہ ان کے نزدیک مالدار پر واجب اور فقیر کے لیے سنت ہے وجوب کی دلیل مخنف بن سلیم کی روایت ہے جسے ترمذی ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا حضرت مخنف فرماتے ہیں ہم عرفات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے آپ نے فرمایا اے لوگو ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی واجب ہے اور یہ انداز وجوب کا ہے نیز فرمایا جو گنجائش کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے اس قسم کی وعید واجب کے چھوڑنے پر ہوتی ہے۔ (ترمذی،ص۲۳۶،مترجم)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , وَهَنَّادٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1507

نماز عید کے بعد ذبح کرنا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا نماز عید پڑھنے سے پہلے کوئی شخص قربانی کا جانور ذبح نہ کرے فرماتے ہیں میرے ماموں نے اٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ آج کے دن(زیادہ ہونے کی وجہ سے) گوشت ناپسند ہوتا ہے اور میں نے قربانی میں جلدی کی تاکہ اپنے گھر والوں اور ہمسائیوں کو کھلاؤں آپ نے فرمایا دوسرا جانور ذبح کرو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس سال سے کم عمر کا بکری کا بچہ ہے جو دو گوشت والی بکریوں سے اچھا ہے کیا میں اسے ذبح کر دوں آپ نے فرمایا ہاں اور یہ تیری اچھی قربانی ہے اور تیرے بعد کسی کے لیے بکری کا سال سے کم عمر کا بچہ جائز نہیں، اس باب میں حضرت جابر، جندب انس، عویمر بن اشقر،ا بن عمر اور ابو زید انصاری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ شہر میں امام کے نماز عید پڑھانے سے قبل قربانی نہ کرے علماء کی ایک جماعت نے دیہاتیوں کو طلوع فجر کے بعد قربانی کی اجازت دی ہے ابن مبارک رحم اللہ کا یہی قول ہے اہل علم کا اجماع ہے کہ چھ ماہی بکری کی قربانی جائز نہیں اور بھیڑ کا چھ ماہ بچہ جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۷،فِی الذَّبْحِ بَعْدَ الصَّلٰوةِ،جلد۱ص۷۵۱،حديث نمبر ١٥٠٨) (حضور صلی اللہ علیہ وسلم حکم خداوندی کے تحت جس کے لیے جو چاہیں حلال فرمائیں جس کے لیے جو چاہیں حرام قرار دیں اللہ تعالٰی نے آپ کو اختیارات بخشے جس پر یہ واقعہ شاہد عدل ہے مزید تفصیل کے لیے امام احمد رضا بریلی قدس سرہ، کی تصنیف ،الامن والعلیٰ،، کا مطالعہ کیجئے۔)

باب مَا جَاءَ فِي الذَّبْحِ بَعْدَ الصَّلاَةِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ نَحْرٍ , فَقَالَ: " لَا يَذْبَحَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ " , قَالَ: فَقَامَ خَالِي , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ , وَإِنِّي عَجَّلْتُ نُسُكِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي , وَأَهْلَ دَارِي , أَوْ جِيرَانِي , قَالَ: " فَأَعِدْ ذَبْحًا آخَرَ " , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ أَفَأَذْبَحُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ , وَهِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ , وَلَا تُجْزِئُ جَذَعَةٌ بَعْدَكَ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ جَابِرٍ , وَجُنْدَبٍ , وَأَنَسٍ , وَعُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ , وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يُضَحَّى بِالْمِصْرِ حَتَّى يُصَلِّيَ الْإِمَامُ , وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لِأَهْلِ الْقُرَى فِي الذَّبْحِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ , وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ لَا يُجْزِئَ الْجَذَعُ مِنَ الْمَعْزِ , وَقَالُوا: إِنَّمَا يُجْزِئُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1508

قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ مکروہ ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھائے، اس باب میں حضرت عائشہ اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے منع فرمایا تھا پھر اجازت دے دی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۸،فِي کَرَاهِيَةِ أَكْلِ الْأَضْحِيَةِفَوقَ ثَلٰثَةِ أَيَّامٍ،جلد۱ص۷۵۲،حديث نمبر ١٥٠٩)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الأُضْحِيَةِ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَأْكُلُ أَحَدُكُمْ مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَائِشَةَ , وَأَنَسٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَإِنَّمَا كَانَ النَّهْيُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَدِّمًا , ثُمَّ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1509

تین دن کے بعد گوشت کھانے کی اجازت حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا کرتا تھا تاکہ گنجائش والے ان لوگو پر وسعت کریں۔ جنہیں گنجائش نہیں پس جتنا چاہو کھاؤ کھلاؤ اور جمع کر لو، اس باب میں حضرت ابن مسعود، عائشہ ، نبیشہ ،ابو سعید، قتادہ بن نعمان، انس اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث بریدہ حسن صحیح ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۹،فِی الرُّخْصَةِ فِی اَکْلِهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ،جلد۱ص۷۵۲،حديث نمبر ١٥١٠)

باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِهَا بَعْدَ ثَلاَث حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُنْتُنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ لِيَتَّسِعَ ذُو الطَّوْلِ عَلَى مَنْ لَا طَوْلَ لَهُ , فَكُلُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَعَائِشَةَ , وَنُبَيْشَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَقَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ , وَأَنَسٍ , وَأُمِّ سَلَمَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1510

حضرت عابس بن ربیعہ فرماتے ہیں میں نے ام المومنین رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا کرتے تھے انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ قربانی کرنے والے کم تھے اس لیے آپ چاہتے تھے کہ ان لوگوں کو کھلایا جائے جو قربانی نہیں کر سکتے پس ہم جانور کا ہاتھ بچا کر رکھتے اور اسے دس دن بعد کھاتے یہ حدیث حسن صحیح ہے ام المومنین سے مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ام المومنین سے یہ حدیث دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۹،فِی الرُّخْصَةِ فِی اَکْلِهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ،جلد۱ص۷۵۲،حديث نمبر ١٥١١)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ , قَالَ: " قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ؟ قَالَتْ: لَا , وَلَكِنْ قَلَّ مَنْ كَانَ يُضَحِّي مِنَ النَّاسِ فَأَحَبَّ أَنْ يَطْعَمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي , وَلَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ: عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْهَا هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1511

فرع اور عتیرہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں فرع اور عتیرہ کا کوئی جواز نہیں اونٹنی کے سب سے پہلے بچے کو کہتے ہیں جسے لوگ زمانہ جاہلیت میں ذبح کیا کرتے تھے، اس باب میں حضرت نبیشہ اور مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہا سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے عتیرہ وہ ذبیحہ ہے جسے وہ رجب کی تعظیم کی خاطر رجب میں ذبح کرتے تھے کیونکہ یہ حرمت والے مہینوں میں سب سے پہلا مہینہ ہے حرمت والے مہینے رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم ہیں حج کے مہینے شوال، ذوالقعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں بعض صحابہ کرام اور دیگر حضرات سے حج کے مہینوں کے بارے میں اسی طرح مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۲۰،فِی الْفَرَعِ وَالْعَتيرَةِ،جلد۱ص۷۵۳،حديث نمبر ١٥١٢)

باب مَا جَاءَ فِي الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ , وَالْفَرَعُ: أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ نُبَيْشَةَ , وَمِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ , وَأَبِي الْعُشَرَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَتِيرَةُ: ذَبِيحَةٌ كَانُوا يَذْبَحُونَهَا فِي رَجَبٍ , يُعَظِّمُونَ شَهْرَ رَجَبٍ لِأَنَّهُ أَوَّلُ شَهْرٍ مِنْ أَشْهُرِ الْحُرُمِ , وَأَشْهُرِ الْحُرُمِ: رَجَبٌ , وَذُو الْقَعْدَةِ , وَذُو الْحِجَّةِ , وَالْمُحَرَّمُ , وَأَشْهُرُ الْحَجِّ: شَوَّالٌ , وَذُو الْقَعْدَةِ , وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ , كَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1512

عقیقہ حضرت یوسف بن ماہک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حفصہ بنت عبدالرحمٰن کے پاس گئے اور ان سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا انہوں نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم فرمایا، اس باب میں حضرت علی، ام کرز، بریدہ ،سمرہ، ابو ہریرہ عبداللہ بن عمر، انس، سلمان بن عامر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے حفصہ حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۱،مَا جَاءَ فِی الْعَقِيقَةِ،جلد۱ص۷۵۳،حديث نمبر ١٥١٣)

باب مَا جَاءَ فِي الْعَقِيقَةِ حَدَّثَنَا أبو سلمة يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ , أَنَّهُمْ دَخَلُوا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَسَأَلُوهَا عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَأَخْبَرَتْهُمْ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَهُمْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ , وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَأُمِّ كُرْزٍ , وَبُرَيْدَةَ , وَسَمُرَةَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَأَنَسٍ , وَسَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَحَفْصَةُ هِيَ: بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1513

بچے کے کان میں اذان دینا حضرت عبید اللہ بن ابو رافع اپنے والد (ابو رافع) رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے کان میں جب وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن اطہر سے پیدا ہوئے نماز کی اذان جیسی اذان کہی، یہ حدیث صحیح ہے اور اس پر عمل ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے طرق سے بھی عقیقہ کے بارے میں مروی ہے کہ بچے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ دیا بعض علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۲،الْأَذَانِ فِي أُذُنِ الْمَوْلُودِ،جلد۱ص۷۵۴،حديث نمبر ١٥٠١٤)

باب الأَذَانِ فِي أُذُنِ الْمَوْلُودِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَا: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ فِي الْعَقِيقَةِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ , وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ , وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا: أَنَّهُ عَقَّ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بِشَاةٍ , وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1514

حضرت سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ پیدا ہونے پر عقیقہ سنت ہے اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے ایزارساں چیزیں بال وغیرہ دور کرو۔ حسن نے بواسطہ عبدالرزاق ابن عیینہ، عاصم بن سلیمان احول، حفصہ بنت سرین, رباب اور سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۱،مَا جَاءَ فِی الْعَقِيقَةِ،جلد۱ص۷۵۳،حديث نمبر ١٤١٥)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ , عَنْ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا , وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى " , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ , عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ , عَنْ الرَّبَابِ , عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1515

سباع بن ثابت سے روایت ہے محمد بن سباع بن ثابت نے انہیں ام کرز سے خبر دی انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ان کا نر یا مادہ ہونا کچھ نقصان نہیں دیتا۔یہ حدیث حسن صحیح ہے. (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۱،مَا جَاءَ فِی الْعَقِيقَةِ،جلد۱ص۷۵۳،حديث نمبر ١٥١٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ , عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ , أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ , فَقَالَ: " عَنْالْغُلَامِ شَاتَانِ , وَعَنِ الْأُنْثَى وَاحِدَةٌ , وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1516

بہترین قربانی اور کفن حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین قربانی سینگ والے دنبے کی ہے اور بہترین کفن حلہ ہے ،یہ حدیث غریب ہے عفیر بن معدان کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۳،جلد۱ص۷۵۵،حديث نمبر ١٥١٧)

باب حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُفَيْرِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الْأُضْحِيَّةِ الْكَبْشُ , وَخَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , وَعُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1517

قربانی واجب ہے حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ میں نے سنا آپ نے فرمایا اے لوگو ہر سال ہر گھر والوں پر قربانی واجب ہے اور عتیرہ تو تم جانتے ہو عتیرہ کیا ہے یہ وہی ہے جسے تم رجبیہ کہتے ہو۔ پیچھے مفہوم گزر چکا ہے یہ حدیث حسن غریب ہے اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق یعنی ابن عون کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۴،جلد۱ص۷۵۵،حديث نمبر ١٥١٨)

باب حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ , حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ , قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ , فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ وَعَتِيرَةٌ , هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1518

ایک بکری سے عقیقہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک بکری عقیقہ میں ذبح کی اور فرمایا اے فاطمہ ! ان کا سر مونڈھ کر بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرو تو ان کا وزن ایک درہم یا درہم سے کچھ کم تھا، یہ حدیث حسن غریب ہے اس کی سند متصل نہیں ابو جعفر محمد بن علی نے حضرت علی بن ابی طالب کو نہیں پایا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۵،جلد۱ص۷۵۵،حديث ١٥١٩)

باب الْعَقِيقَةِ بِشَاةٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , قَالَ: " عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَسَنِ بِشَاةٍ , وَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ , احْلِقِي رَأْسَهُ , وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً , قَالَ: فَوَزَنَتْهُ , فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ , وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1519

تکبیر کہہ کر ذبح کرنا حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا پھر نیچے تشریف لائے اور دو مینڈھے منگوا کر انہیں ذبح کیا یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۶،جلد۱ص۷۵۶،حديث نمبر ١٥٢٠)

باب حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ , عَنْ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَطَبَ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِكَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1520

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں عید قربانی کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عیدگاہ میں حاضر ہوا آپ نے خطبہ ختم فرمایا تو ممبر سے نیچے تشریف لائے ایک مینڈھا لایا گیا اور آپ نے اسے اپنے دست مبارک سے ذبح فرمایا اور فرمایا، بسم اللہ اللہ اکبر، یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے جو قربانی نہیں کر سکتے، یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ ذبح کرتے وقت آدمی کو تکبیر کہنی چاہیے ابن مبارک رحمہ اللہ کا یہی قول ہے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماع حاصل نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۶،جلد۱ص۷۵۶،حديث نمبر ١٥٢١)

باب حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ الْمُطَّلِبِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: " شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَضْحَى بِالْمُصَلَّى , فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ نَزَلَ عَنْ مِنْبَرِهِ , فَأُتِيَ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ , وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ إِذَا ذَبَحَ , بِسْمِ اللَّهِ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ , وَالْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ , يُقَالُ: إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَابِرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1521

عقیقہ کب کیا جائے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ عقیقہ کے عوض رہن رکھا جاتا ہے ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے نام رکھا جائے اور اس کا سر منڈایا جائے۔ حسن بن علی خلال نے بواسطہ یزید بن ہارون، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، حسن اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی، یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ مستحب سمجھتے ہیں کہ بچے کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کا جانور ذبح کیا جائے اگر ساتویں دن میسر نہ ہو تو چودھویں دن اگر چودھویں دن بھی نہ ہو تو اکسویں دن ذبح کیا جائے علماء فرماتے ہیں عقیقہ میں اسی قسم کی بکری جائز ہے جو قربانی میں جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۲۷،جلد۱ص۷۵۶،حديث نمبر ١٥٢٢)

باب مِنَ الْعَقِيقَةِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ , يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ , وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ " حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُذْبَحَ عَنِ الْغُلَامِ الْعَقِيقَةُ يَوْمَ السَّابِعِ , فَإِنْ لَمْ يَتَهَيَّأْ يَوْمَ السَّابِعِ , فَيَوْمَ الرَّابِعَ عَشَرَ , فَإِنْ لَمْ يَتَهَيَّأْ عُقَّ عَنْهُ يَوْمَ حَادٍ وَعِشْرِينَ , وَقَالُوا: لَا يُجْزِئُ فِي الْعَقِيقَةِ مِنَ الشَّاةِ , إِلَّا مَا يُجْزِئُ فِي الْأُضْحِيَّةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1522

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ یہ حدیث حسن ہے صحیح نام عمرو بن مسلم ہے عمر بن مسلم نہیں ان سے محمد بن عمرو بن علقمہ اور کئی دوسرے افراد نے روایت کیا ہے یہ حدیث بواسطہ سعید بن مسیب اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے طرق سے بھی اسی طرح مروی ہے بعض علماء کا یہی قول ہے سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی فرماتے ہیں امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ بھی اس حدیث کی طرف گئے ہیں بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے وہ فرماتے ہیں بال اور ناخن کاٹنے میں کوئی حرج نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ اسی کے قائل ہیں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ سے قربانی کا جانور بھیجتے اور کسی ایسی چیز سے پرہیز نہ کراتے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی، ۱۰۲۸،جلد۱ص۷۵۷،حديث نمبر ١٥٢٣)

باب تَرْكِ أَخْذِ الشَّعْرِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَكَمِ الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ عَمْرٍو أَوْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ , وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ , فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ , وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالصَّحِيحُ هُوَ عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ , قَدْ رَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ نَحْوَ هَذَا , وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَبِهِ كَانَ يَقُولُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , وَإِلَى هَذَا الْحَدِيثِ ذَهَبَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق , وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ , فَقَالُوا: لَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعَرِهِ وَأَظْفَارِهِ , وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ , وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ مِنْ الْمَدِينَةِ , فَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ مِنْهُ الْمُحْرِمُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1523

Tirmizi Shareef : Abwabul Adahiyya

|

Tirmizi Shareef : ابواب الاضاحی

|

•