
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی نماز بغیر طہارت(بغیر پاکی) کے قبول نہیں ہوتی اور نہ کوئی صدقہ خیانت سے قبول ہوتا ہے:ہناد نے اپنی حدیث میں بِغَیرِ طُھُورٍ کی جگہ إِلَّا بِطُهُورٍ کے الفاظ نقل کئے ہیں امام ابوعیسٰی(امام ترمذی) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس باب میں زیادہ صحیح اور احسن ہے اس باب میں ابوملیح سے ان کے والد کے واسطے سے اور ابوہریرہ اور انس سے بھی روایات منقول ہیں ابوملیح بن اسامہ کا نام عامر ہے ان کو زید بن اسامہ بن عمیر الہذلی بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مسلمان بندہ یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنے چہرہ کو دھوتا ہے تو پانی یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کی تمام خطائیں دھل جاتی ہیں جن کا ارتکاب اس نے آنکھوں سے کیا تھا اور جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کی تمام خطائیں پانی یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ دھل جاتی ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئی تھیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر نکلتا ہےامام ابوعیسٰی(امام ترمذی)کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اسے مالک سہیل سے وہ اپنی اولاد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نقل کرتے ہیں سہیل کے والد ابوصالح سمان کا نام ذکوان ہے اور حضرت ابوہریرہ کے نام میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ ان کا نام عبد شمس ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ہے محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی اسی طرح کہا ہے اور یہی صحیح ہے اور اس باب میں عثمان ثوبان صنابحی عمرو بن عبسہ سلیمان اور عبداللہ بن عمر سے بھی احادیث مذکور ہیں اور صنابحی جو حضرت ابوبکر سے روایت کرتے ہیں ان کا سماع نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ان کا نام عبدالرحمن بن عسیلہ اور کینت ابوعبداللہ ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرف ملاقات کے لئے سفر کیا وہ سفر میں تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سی حدیثیں روایت کی ہیں صنابح بن اعسر احمس ہیں وہ صحابی ہیں ان کو بھی صنابحی کہا جاتا ہے ان سے صرف ایک ہی حدیث مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری کثرت پر دوسری امتوں پر فخر کرنے والا ہوں پس میرے بعد آپس میں قتال نہ کرنا۔
حضرت مولا علی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کی کنجی طہارت(پاکی) ہے اس کی تحریم تکبیر اور اس کی تحلیل سلام ہے: ابوعیسیٰ (امام ترمذی) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حدیث اس باب میں صحیح اور احسن ہے عبداللہ بن محمد بن عقیل سچے ہیں بعض محدیثیں نے ان کے حافظے پر اعتراض کیا ہے اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن ابراہیم اور حمیدی عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے محمد بن اسماعیل نے ان کو مقا رب الحدیث کہا ہے اور اس باب میں حضرت جابر اور ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایات منقول ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی وضو ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو فرماتے ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِکَ) اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں شعبہ کہتے ہیں کہ ایک اور مرتبہ فرمایا (أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبِيثِ أَوْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ) میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شر سے اور اہل شر سے یا فرمایا ناپاک جنوں سے اور ناپاک جنوں کی عورتوں سے اس باب میں حضرت مولا علی حضرت زید بن ارقم جابر اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں امام ابوعیسٰی(امام ترمذی) فرماتے ہیں حدیث انس اس باب میں اصح اور احسن ہے اور زید بن ارقم کی روایت میں اضطراب ہے ہشام دستوائی اور سعید بن ابی عروبہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں سعید نے کہا وہ قاسم بن عوف شیبانی سے اور وہ زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں ہشام نے کہا وہ قتادہ سے اور وہ زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں اس حدیث کو شعبہ اور معمر نے قتادہ سے اور انہوں نے نضر بن انس سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم سے روایت ہے کہ معمر کہتے ہیں کہ روایت ہے نضر بن انس سے وہ روایت کرتے ہیں اپنے باپ سےامام ابوعیسٰی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے متعلق تو انہوں نے کہا کہ احتمال ہے کہ قتادہ نے دونوں سے اکٹھے نقل کیا ہو یعنی قاسم اور نضر سے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت اس طرح استغاذہ فرماتے ،، اے اللّٰہ! میں ضرررساں اشیاء اور ناپاکیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ؛ یہ حدیث احسن صحیح ہے ؛؛ (ترمذی شریف،ابواب الطہارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ،حدیث نمبر ٦،ج ١ ،ص ١٠،)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ؛ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ؛ بیت الخلاء سے باہر آتے وقت فرمایا کرتے تھے ؛ اے اللّٰہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ؛؛ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب حسن ہے ہم اسے صرف اسرائیل بواسطہ یوسف بن ابی بردہ کی روایت سے پہچانتے ہیں ؛ ابوبردہ بن ابو موسیٰ کا نام عامر بن عبداللہ بن قیس اشعری تھا ؛ اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہی معروف ہے؛؛ (ترمذی شریف،ابواب الطہارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ،حدیث نمبر ٧،ج ١ ،ص ١٢،)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قضائے حاجت یا پیشاب کے لئے جاؤ تو قبلہ رخ نہ بیٹھو ، اور نہ ہی ادھر پیٹھ کرو بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف ہو جاؤ ؛ اہل مدینہ کے لئے یہ حکم ہے دوسروں کے لئے شمال یا جنوب کی طرف رخ کرنا ہوگا ؛؛ (مترجم) ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ہم ملک شام میں گئے تو ہم نے قبلہ رخ بنے ہوئے بیت الخلاء دیکھے ہم ادھر سے منہ پھیر لیتے اور طلب مغفرت کرتے اس باب میں عبد اللہ بن حارث اور معقل بن ابی ہیثم ! جنہیں معقل بن معقل بھی کہا جاتا ہے ) ابو امامہ) ابو ہریرہ اور سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ؛ امام ترمذی فرماتے ہیں ابو ایوب کی حدیث اس باب میں احسن اور اصح ہے ؛ ان کا نام خالد بن زید تھا زہری کا نام محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن شہاب زہری اور کنیت ابو بکر ہے ؛ ابو ولید مکی ؛ ابوعبداللہ شافعی کا قول نقل کرتے ہیں ، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک ؛ قضائے حاجت اور پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ اور پیٹھ نہ کرو ؛ سے مراد جنگلوں میں ممانعت ہے آبادیوں کے پاخانوں میں قبلہ رخ ہونے کی اجازت ہے ؛ اسحٰق کا بھی یہی قول ہے ، امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں ، حضور سے قضاۓ حاجت یا پیشاب کے لیے قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے کی اجازت ہے قبلہ رخ ہونے کی اجازت نہ جنگلوں میں ہے اور نہ آبادی میں ؛؛ (ترمذی شریف،ابواب الطہارۃ،بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ،حدیث نمبر ٨،ج ١ ،ص ١٢،)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ بیٹھ کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا پھر میں نے آپ کو وصال شریف سے ایک سال قبل قبلہ کی طرف منہ کئے (پیشاب کرتے) دیکھا ؛ اس باب میں حضرت ابو قتادہ ، عائشہ اور عمار رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت جابر کی حدیث حسن غریب ہے اس حدیث کو ابن لہیہ نے ابو زبیر , جابر اور ابو قتادہ کے واسطہ سے روایت کیا ابو قتادہ کہتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ رخ بیٹھنے پیشاب کرتے دیکھا اور قتیبہ نے ابن لہیہ کے واسطہ سے اس کی خبر دی ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ، ابن لہیہ کی روایت سے اصح ہے ابن لہیہ ؛ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے اور یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے اسے ضعیف کہا (ترمذی شریف،ابواب الطہارۃ،بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر ٩،ج ١ ،ص ١٥،)
ابوالزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث ابن لہیعہ کی حدیث (جس میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ ہے) سے زیادہ صحیح ہے، ابن لہیعہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعیدالقطان وغیرہ نے ان کی حفظ کے اعتبار سے تضعیف کی ہے۔ (ترمذی شریف،ابواب الطہارۃ،بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر ١٠،ج ١ ،ص ١٥،)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک روز میں(اپنی بہن) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت فرما رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف،ابواب الطہارۃ ،حدیث نمبر ١١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جو شخص تم سے کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب فرمایا کرتے تھے اس کی تصدیق مت کرو آپ ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیشاب فرماتے تھے ؛ اس باب میں حضرت عمرو بریدہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث احسن اور اصح ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث عبدالکریم ابن ابو مخارق نافع اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے مروی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،، مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کرتے دیکھا تو فرمایا ؛؛ اے عمر ! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو ؛؛ اس کے بعد میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا ، عبدالکریم بن ابو مخارق نے اس حدیث کو مرفوعاً روایت کیا ہے ، اور وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ایوب سختیانی نے اسے ضعیف قرار دیا اور اس کے بارے میں کلام کیا ، عبیداللّٰہ ، بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، کہ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا ؛؛ اسلام لانے کے بعد میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا یا ؛؛ یہ حدیث عبدالکریم کی حدیث سے اصح ہے بریدہ کی حدیث اسمیں غیر محفوظ ہے ، کھڑے ہو کر پیشاب کرنیکی ممانعت تادیباً ہے حرام نہیں ، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا ظلم ہے ؛؛؛ (ترمذی شریف،ابواب الطہارۃ،بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ قَائِمًا،حدیث نمبر ١٢)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قوم کے ایک ڈھیر پر تشریف لائے اور اس پر کھڑے ہو کر پیشاب فرمایا ، پھر میں آپ کے وضو کے لئے پانی لایا جب پیچھے ہٹنے لگا تو آپ نے بلا لیا ؛ یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آ گیا ، آپ نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا ؛ امام ترمذی فرماتے ہیں اعمش کی روایت کی طرح منصور اور عبیدہ ضبی نے ابو وائل اور حذیفہ کے واسطہ سے روایت بیان کی ، حماد بن سلیمان اور عاصم بن بہدلہ بواسطہ ابووائل؛ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ، ابو وائل کی روایت حذیفہ کی روایت سے اصح ہے ، بعض اہل علم نے عزر کی وجہ سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کو جائز رکھا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر ١٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم قضاۓ حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین کے قریب نہ ہو جاتے کپڑا نہ اٹھاتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کو اسی طرح محمد بن ربیعہ نے بواسطہ اعمش حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ، وکیع اور رحمانی نے بواسطہ اعمش حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے وقت جب تک زمین کے قریب نہ ہو جاتے کپڑا نہ اٹھاتے ؛ دونوں حدیثیں مرسل ہیں کہا جاتا ہے اعمش نے نہ تو حضرت انس سے کوئی روایت سنی اور نہ ہی کسی دوسرے صحابی سے سماع کیا اعمش کہتے ہیں ؛؛ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا ؛ اور پھر انہوں نے ان کی نماز کو بھی بیان کیا ، اعمش کا نام سلیمان ابن مہران ہے ابومحمد کاہلی ان کے مولیٰ تھے اعمش کہتے ہیں میرے باپ کو بچپن میں اپنے شہر سے لایا گیا اور حضرت مسروق نے ان کو اپنا وارث بنایا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي الِاسْتِتَارِ عِنْدَ الْحَاجَةِ،حدیث نمبر ١٤)
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرمگاہ کو دایاں ہاتھ لگانے سے منع فرمایا ، اس باب میں حضرت عائشہ ، سلمان ، ابو ہریرہ اور سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں ؛ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ؛ ابو قتادہ کا نام حارث بن ربعی ہے اس حدیث پر علماء کا عمل (یو ں) ہے کہ دائیں ہاتھ سے استنجاء مکروہ ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي كَرَاهَةِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ،حدیث نمبر ١٥)
عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تمہارے نبی نے تمہیں ہر بات سکھائی حتٰی کہ قضاۓ حاجت کا طریقہ بھی بتایا ؛ آپ نے فرمایا ؛ ہاں ؛ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہو کر بیٹھنے سے منع فرمایا ، دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے ، تین پتھروں سے کم نیز گوبر اور ہڈی کے ساتھ استنجاء کرنے سے منع فرمایا ، اس باب میں حضرت عائشہ ، حزیمہ بن ثابت ، جابر اور خلادبن سائب بواسطہ سائب سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت سلمان کی حدیث حسن صحیح ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا یہی قول ہے کہ صرف پتھر سے بھی استنجاء جائز ہے اگرچہ پانی استعمال نہ کرے جبکہ پاخانے اور پیشاب کا اثر زائل ہو جائے ، سفیان ثوری ، ابن مبارک ؛ شافعی ؛ احمد اور اسحٰاق رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے، (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ ،حدیث نمبر ١٦)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے باہر تشریف لے گئے تو آپ نے مجھے فرمایا ؛ میرے لئے تین ڈھیلے تلاش کرو ؛ فرماتے ہیں ؛ میں دو پتھر اور لید کا ایک ٹکڑا لے کر حاضر خدمت ہوا ؛ آپ نے ڈھیلے لے لئے اور لید کو پھینک دیا فرمایا ؛ یہ ناپاک ہے ؛ امام ترمذی فرماتے ہیں ، قیس بن ربیع نے اس حدیث کو اسی طرح اسرائیل کی حدیث کے ہم معنی بواسطہ ابواسحٰق اور ابو عبیدہ ، حضرت عبداللہ سے روایت کیا ، معمر نے بواسطہ عماربن رزیق ، ابو اسحٰق ، اور علقمہ ، حضرت عبداللہ سے روایت کیا ، زہیر نے بواسطہ ابواسحٰق عبدالرحمن بن اسود اور اسود بن یزید حضرت عبداللہ سے روایت کیا زکریا بن ابی زائدہ نے ابو اسحٰق ، اور عبدالرحمن بن یزید کے واسطہ سے حضرت عبداللہ سے روایت کیا ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت میں اضطراب ہے، آپ فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن عبدالرحمن سے پوچھا ابو اسحٰق کی ان روایات میں سے کونسی روایت صحیح ہے ؟ انہوں نے کوئی فیصلہ نہ فرمایا پھر میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا انہوں نے بھی کچھ نہ بتایا لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے زہیر کی روایت کو پسند کیا کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب ؛ الجامع ؛ (بخاری شریف) میں نقل کیا (امام ترمذی کہتے ہیں) میرے نزدیک اسرائیل اور قیس کی روایت اصح ہے کیونکہ دوسرے راویوں کی بہ نسبت اسرائیل ابواسحٰق کی حدیثوں کو زیادہ قائم اور یاد رکھنے والا ہے ، قیس بن ربیع نے اس کی متابعت کی ، میں نے ابوموسٰی محمد مثنّٰی سے سنا ، وہ کہتے تھے میں نے عبدالرحمن بن مہدی سے سنا انہوں نے فرمایا سفیان ثوری کے واسطے سے ابواسحٰق کی جو احادیث مجھ سے چھوٹ گئی ان میں ؛ میں نے اسرائیل پر بھروسہ کیا ؛ کیونکہ وہ انہیں مکمل لاتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ، ابو اسحٰق کی روایات میں زہیراس درجہ پر نہیں ہے کیونکہ ابو اسحٰق سے اس کا سماع آخری عمر میں ہوا ، میں نے احمد بن حسن سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا ؛ کہ جب تم زائدہ اور زہیر سے احادیث سنو تو کسی دوسرے سے سننے کی ضرورت نہیں ، البتہ ابو اسحٰق کی روایات (دوسروں سے بھی سنو) ابو اسحٰق کا نام عمرو بن عبد اللہ سبیعی ہمدانی ہے اور ابو عبیدہ کا نام معلوم نہیں اور نہ ہی انہیں اپنے والد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ہے عمرو بن مرہ کہتے ہیں میں نے ابو عبیدہ سے پوچھا کیا آپ کو اپنے باپ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کچھ یاد ہے ؟ انہوں نے فرمایا ؛ نہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ بِالْحَجَرَيْنِ،حدیث نمبر ١٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، نہ لید سے استنجا کرو اور نہ ہی ہڈی سے کیوں کہ یہ( ہڈی) تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے اس باب میں حضرت ابوہریرہ ، سلمان ،جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کو اسماعیل بن ابراہیم وغیرہ نے داؤد بن ہند ، شبعی اور علقمہ کے واسطہ سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں ، لیلۃ الجن کے موقع پر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، آگے طویل حدیث ہے شعبی کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، لید سے استنجاء نہ کرو اور نہ ہی ہڈی سے کیونکہ وہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے ، اسماعیل کی روایت ، حفص بن غیاث کی روایت سے اصح ہے علماء کا اس حدیث پر عمل ہے اور اس باب میں حضرت جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایت ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ كَرَاهِيَةِ مَا يُسْتَنْجَى بِهِ،حدیث نمبر ١٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اے مسلمان عورتو )اپنے خاوندوں کو پانی سے استنجاء کرنے کا کہو ، مجھے ان سے (کہتے ہوئے) شرم آتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجاء فرمایا کرتے تھے ، اس باب میں جریر بن عبداللہ بجلی انس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے اور اس پر علماء کا عمل ہے کہ وہ پانی سے استنجاء کو پسند کرتے ہیں اگرچہ ان کے نزدیک صرف ڈھیلوں سے بھی استنجاء جائز ہے وہ پانی سے استنجاء کرنا پسند کرتے ہیں ، اور اسے افضل جانتے ہیں ؛؛ سفیان ثوری ، ابن مبارک، شافعی احمد اور اسحٰق رحمہمُ اللہ کا یہی قول ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک بھی یہی ہے) مترجم، (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ،حدیث نمبر ١٩)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا تھا ، آپ نے قضائے حاجت کی ضرورت محسوس فرمائی تو دور تشریف لے گئے ، اس باب میں عبدالرحمن بن ابی قراد ، ابوقتادہ، جابر، یحیی بن عبید اللّہ بواسطہ ان کے والد ابو موسیٰ ابن عباس اور بلال بن حارث رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لئے ایسے ہی نرم جگہ تلاش فرماتے ، جیسے پڑاؤ کے لئے نرم و خوشگوار مکان تلاش فرماتے ، ابو سلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالرحمن بن عوف زہری ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ،حدیث نمبر ٢٠)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل خانے میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ، اور فرمایا کہ عام شبہات اسی سے پیدا ہوتے ہیں اس باب میں ایک اور صحابی سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اس کو مرفوعاً صرف اشعث بن عبداللہ کی حدیث سے پہچانتے ہیں ، انہیں اشعث اعمیٰ کہا جاتا ہے ، علماء کے ایک طبقہ نے غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ کہا اور کہا کہ اس سے شبہات پیدا ہوتے ہیں ، اور بعض علماء جیسے ابن سیرین وغیرہ نے اس کی اجازت دی ہے حضرت ابن سیرین سے کہا گیا کہ عام وسواس اس سے پیدا ہوتے ہیں تو انہوں نے فرمایا ، ہمارا رب اللہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، ابن مبارک فرماتے ہیں اگر غسل خانہ میں پانی جاری ہو تو اس میں پیشاب کی گنجائش ہے ، ابوعیسٰی فرماتے ہیں، یہ بات ہم سے احمد بن عبدہ اٰملے نے بواسطہ حبان ، عبداللہ بن مبارک سے بیان کی۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ۔بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ،حدیث نمبر ٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا تو انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا امام ترمذی فرماتے ہیں ،، اس حدیث کو محمد بن اسحٰق نے بواسطہ محمد بن ابراہیم اور ابو سلمہ ،، زید بن خالد سے روایت کیا ، ابو سلمہ کی دونوں روایتیں ( حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد سے) میرے نزدیک صحیح ہیں کیونکہ کئ طرق سے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، اس لئے اسے صحیح قرار دیا گیا ، امام بخاری کے خیال میں زید بن خالد سے ابو سلمہ کی روایت اصح ہے ، اس باب میں حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت علی، عائشہ،ابن عباس، حذیفہ ، زید بن خالد ، انس ، عبداللہ بن عمرو ، ام حبیبہ ، ابن عمر ، ابو امامہ ، ایوب تمام بن عباس ، عبداللہ بن حنظلہ ، ام سلمہ ، واثلہ ، اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ،حدیث نمبر ٢٢)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا:اگر میں اپنی امت پر بھاری نہ سمجھتا تو انہیں ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز کو رات کی ایک تہائی تک دیر سے پڑھتا ، ابو سلمہ کہتے ہیں ( اس کے بعد) حضرت زید بن خالد مسجد میں نماز پڑھنے آتے تو مسواک ان کے کان پر اس جگہ رکھی ہوتی ، جہاں کاتب قلم رکھتے ہیں ، آپ ہر نماز کے لئے مسواک کرتے پھر اسے وہاں ہی رکھ دیتے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ،حدیث نمبر ٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب تک تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو برتن میں ہاتھ نہ ڈالے ، جب تک کہ دو یا تین مرتبہ دھو نہ لیں کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے اس باب میں حضرت ابن عمر ، جابر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، امام شافعی فرماتے ہیں جو شخص بھی نیند سے بیدار ہو چاہے قیلولہ یا دوسری کوئی نیند ) دھونے سے پہلے ہاتھ وضو کے برتن میں نہ ڈالے اگر دھونے سے پہلے ڈالے گا تو یہ مکروہ ہے لیکن پانی خراب نہیں ہوگا بشرطیکہ اس کے ہاتھوں پر نجاست نہ ہو ، امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں اگر رات کو سو کر اٹھا اور دھوئے بغیر ہاتھ پانی میں ڈال دیئے تو اس پانی کا گرا دینا مناسب ہے ، اسحٰق فرماتے ہیں رات ہو یا دن ، جب بیدار ہو دھونے سے پہلے ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا،نیند سے بیداری پر دھوئے بغیر ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جائیں، حدیث نمبر ٢٤)
رباح بن عبدالرحمن بن سفیان بن خویطب ؛ بواسطہ اپنی دادی ان کے والد سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا اس شخص کا وضو (کامل) نہیں جس نے ؛ بسم اللّٰہ؛ نہ پڑھی اس باب میں حضرت عائشہ ؛؛ابوہریرہ ؛ ابو سعید خدری ؛ سہیل بن سعد اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں امام احمد کا قول ہے کے اس باب میں مجھے کوئی ایسی حدیث معلوم نہیں جس کی سند جید ہو ؛ امام اسحٰق فرماتے ہیں ؛ جان بوجھ کر بسم اللہ چھوڑنے سے وضو لوٹایا جائے بھول کر یا چھوڑنے سے وضو جائز ؟ ہے ، محمد بن اسماعیل بخاری فرماتے ہیں اس باب میں رباح بن عبدالرحمن کی حدیث احسن ہے ؛ امام ترمذی فرماتے ہیں ، رباح بن عبدالرحمن کی وہ روایت مراد ہے جو انہوں نے اپنی دادی کے واسطہ سے ان کے والد سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے روایت کی ہے ابو ثقال مری کا نام ثمامہ بن حصین ہے رباح بن عبدالرحمن سے مراد ابوبکر بن خویطب ہے بعض راوی نے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے ان کی نسبت دادا کیطرف کی اور کہا ؛ عن ابوبکر بن خویطب۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الْوُضُوءِ،وضو کے وقت؛ بسم اللّٰہ ؛ پڑھنا، حدیث نمبر ٢٥, ٢٦)
حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، وضو کرتے وقت ناک جھاڑو اور استنجاء کے لئے طاق ڈھیلے استعمال کرو اس باب میں حضرت عثمان ؛ لقیط بن صبرہ ، ابن عباس ، مقدام بن معد یکرب ، وائل بن حجر ، اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں سلمہ بن قیس کی حدیث صحیح ہے کلی اور ناک میں پانی نہ ڈالنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے ، ایک گروہ کے نزدیک وضو میں ان دونوں کو چھوڑنے سے نماز کا اعادہ ہے ، اور وہ وضو اور جنابت دونوں میں ان کا حکم یکساں بیان کرتے ہیں ، ابن ابی لیلیٰ ، عبداللہ بن مبارک ، امام احمد اور امام اسحٰق کا بھی یہی قول ہے امام احمد فرماتے ہیں کلی کرنے سے ناک میں پانی ڈالنے کی زیادہ تاکید ہے امام ترمذی فرماتے ہیں بعض علماء کے نزدیک جنابت میں لوٹا ئے وضو میں نہ لوٹائے سفیان ثوری اور بعض اہل کوفہ ( حضرت امام ابو حنیفہ اور ان کے متبعین) کا یہی مسلک ہے ایک جماعت کے نزدیک نہ وضو میں لوٹائے اور نہ ہی غسل جنابت میں کیونکہ یہ سنت رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہے لہذا جو ان دونوں کو وضو میں چھوڑے چاہے غسل جنابت میں اس پر نماز کا اعادہ نہیں یہ قول امام مالک اور امام شافعی کا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ،کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا،حدیث نمبر ٢٧)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ایک ہی چلو سے کلی بھی کی اور ناک میں بھی پانی ڈالا آپ نے تین مرتبہ ایسا کیا اس باب میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں عبداللہ بن زید کی حدیث حسن غریب ہے ، مالک ، ابن عینیہ اور کئی دوسرے راویوں نے اسے عمروبن یحییٰ سے روایت کیا اور یہ کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی بھی کی اور ناک میں بھی پانی ڈالا ، یہ قول صرف خالد بن عبداللہ کا ہے اور خالد ، محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں بعض علماء فرماتے ہیں ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز ہے بعض علماء کہتے ہیں دونوں کے لیے جدا جدا پانی لے یہ ہمارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے امام شافعی فرماتے ہیں اگر ایک ہی چلو دونوں کے لیے استعمال کرے تو یہ جائز ہے اگر جدا جدا کرے تو یہ ہمارے نزدیک محبوب ترین ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ،حدیث نمبر ٢٨)
حضرت حسان بن بلال فرماتے ہیں میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے وضو فرمایا اور پھر داڑھی کا خلال کیا کسی نے پوچھا یا(حسان کہتے ہیں) میں نے پوچھا کیا آپ داڑھی کا خلال کرتے ہیں ؟ حضرت عمار نے فرمایا کون سی چیز میرے لئے مانع ہے جب کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ،داڑھی کا خلال کرنا،حدیث نمبر ٢٩)
اس سند سے بھی عمار بن یاسر سے اوپر ہی کی حدیث کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:اس باب میں عثمان، عائشہ، ام سلمہ، انس، ابن ابی اوفی اور ابوایوب رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین سے بھی احادیث آئی ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے زیادہ صحیح حدیث عامر بن شقیق کی ہے، جسے انہوں نے ابو وائل سے اور ابو وائل نے عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے (جو آگے آرہی ہے)صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں، ان لوگوں کی رائے ہے کہ داڑھی کا خلال (مسنون) ہے اور اسی کے قائل امام شافعی بھی ہیں،امام احمد کہتے ہیں کہ اگر کوئی داڑھی کا خلال کرنا بھول جائے تو وضو جائز ہوگا، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی بھول کر چھوڑ دے یا خلال والی حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو اسے کافی ہوجائے گا اور اگر قصداً جان بوجھ کر چھوڑے تو وہ اسے (وضو کو) لوٹائے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ،حدیث نمبر ٣٠)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ،حدیث نمبر ٣١)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے سر کا مسح فرمایا ان کو آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے کی طرف لائے ، پیشانی کی طرف سے شروع کیا پھر ان کو پیچھے کی طرف لے گئے پھر لوٹا کر اس مقام پر لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا ، پھر پاؤں مبارک دھوئے ، اس باب میں حضرت معاویہ ، مقدام بن معدیکرب اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں عبداللہ بن زاہد کی حدیث اصح ہے ، امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق کا بھی یہ مسلک ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ يَبْدَأُ بِمُقَدَّمِ الرَّأْسِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ،حدیث نمبر ٣٢)
حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک کا دو مرتبہ مسح فرمایا ایک مرتبہ پچھلے حصہ سے شروع کیا اور ایک مرتبہ اگلے حصے سے نیز دونوں کانوں کا اندر اور باہر سے مسح فرمایا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ( لیکن ) عبداللہ بن زید کی حدیث اس سے اصح اور اجود ہے ، بعض اہل کوفہ جن میں وکیع بن جراح بھی ہیں اس حدیث پر عمل کیا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّهُ يَبْدَأُ بِمُؤَخَّرِ الرَّأْسِ،حدیث نمبر ٣٣)
حضرت ربیعہ بن معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا فرماتی ہیں آپ نے وضو فرمایا تو سرکا آگے پیچھے مسح کیا اور دونوں کنپٹیوں اور کانوں کا ایک ایک مرتبہ مسح فرمایا ، اس باب میں حضرت علی اور طلحہ بن مصرف بن عمرو کے دادا سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ربیع کی حدیث حسن صحیح ہے کئ طرق کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے ایک دفعہ سر کا مسح فرمایا اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل تھا ، جعفر بن محمد ، سفیان ثوری ، ابن مبارک ، امام شافعی ، امام احمد ، امام اسحٰق (اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ) نے ایک ہی مرتبہ مسح کا قول کیا ہے ، سفیان بن عینیہ کہتے ہیں میں نے جعفر بن محمد سے سر کے مسح کے بارے میں پوچھا کہ آیا ایک مرتبہ کفایت کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ؛ ہاں ؛ اللہ کی قسم۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ مَسْحَ الرَّأْسِ مَرَّةً،حدیث نمبر ٣٤)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو فرمایا اور ہاتھ کے نہ بچے ہوئے ( یعنی نئے ) پانی سے سر کا مسح فرمایا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ابن لہیہ نے اس حدیث کو ؛ حبان بن واسع نے بواسطہ ان کے والد عبداللہ بن زید سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اس پانی سے سر کا مسح کیا جو ہاتھوں کا بچا ہوا نہ تھا ، عمرو بن حارث کی بواسطہ حبان روایت اصح ہے کیونکہ انہوں نے عبداللہ بن زید کے علاوہ اور کئی طرق سے اسے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے لیے نیا پانی لیا ، اکثر علماء کا اسی پر عمل ہے کے سر کے لیے نیا پانی لیا جائے ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّهُ يَأْخُذُ لِرَأْسِهِ مَاءً جَدِيدًا،حدیث نمبر ٣٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اور اور کانوں کے اندر اور باہر کا مسح فرمایا اس باب میں حضرت ربیع سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے ، اور اکثر علماء کا اسی پر عمل ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَسْحِ الْأُذُنَيْنِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا،حدیث نمبر ٣٦)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، تین مرتبہ منہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھ دھوئے ، سر کا مسح فرمایا ، اور فرمایا ؛ کان سر کے حکم میں ہیں ؛؛ امام ترمذی فرماتے ہیں حماد نے کہا میں نہیں جانتا کہ یہ قول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے یا ابو امامہ کا اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ، اکثر صحابہ کرام تابعین کا عمل یہی ہے کے کان سر کے حکم میں ہیں ، سفیان ثوری، ابن مبارک ، امام احمد ، امام اسحٰق کا بھی یہ مسلک ہے (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک بھی یہی ہے ٫ مترجم) بعض علماء کہتے ہیں کانوں کا اگلا حصّہ چہرہ ہے اور پچھلا حصّہ سر کے حکم میں ہے امام اسحٰق کہتے ہیں مجھے یہ بات پسند ہے کہ کانوں کے اگلے حصے کا مسح چہرے کے ساتھ کیا جائے اور پچھلے حصے کا مسح سر کے ساتھ کیا جائے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الْأُذُنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ،حدیث نمبر ٣٧)
حضرت عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کرتے وقت انگلیوں کا خلال کیا کر اس باب میں حضرت ابن عباس ؛ مستورد اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں ؛ یہ حدیث حسن صحیح ہے (بعض) علماء کا اس بات پر عمل ہے کہ وضو میں پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا جائے ، امام احمد اور امام اسحٰق کا بھی یہی قول ہے ، امام اسحٰق فرماتے ہیں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا جائے ، ابو ہاشم کا نام اسماعیل بن کثیر ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي تَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ،حدیث نمبر ٣٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، وضو کرتے وقت ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا کرو ؛؛ امام ترمذی فرماتے ہیں ؛؛ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي تَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ،حدیث نمبر ٣٩)
حضرت مستورد بن شداد فہری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو فرمایا اور چھنگلی انگلی سے پاؤں کی انگلیوں کا خلال فرمایا ؛؛ امام ترمذی فرماتے ہیں ؛؛ یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي تَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ،حدیث نمبر ٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛؛ ایڑیوں کے لئے دوزخ سے ہلاکت ہے ؛؛ (خشک رہ جانے پر تنبیہ فرمائی گئی) اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو ،، عائشہ ، جابر بن عبد اللہ ، عبد اللہ بن حارث ، معیقیب ، خالد بن ولید ، سُرحبیل بن حسنہ ، عمرو بن عاص اور یزید بن سفیان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ؛ امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا ،، ایڑیوں اور پاؤں کے تلوؤں کے کیلئے جہنم سے ہلاکت ہے اس حدیث سے یہ فقہی مسئلہ معلوم ہوا کہ جب تک پاؤں پر موزے اور جراب ( جو شرائط مسح پر پوری اترتی ہوں) نہ ہوں پاؤں پر مسح جائز نہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ،حدیث نمبر ٤١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا ، اس باب میں حضرت عمر ، جابر ، بریدہ ، ابو رافع اور ابن فاکہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، حضرت ابن عباس کی حدیث اس باب میں اصح اور احسن ہے رشدین بن سعد وغیرہ نے اس حدیث کو ضحاک بن شرحبیل زید بن اسلم اور اسلم کے واسطہ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم سے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا ، یہ روایت کچھ نہیں ، صحیح وہ ہے جسے ابن عجلان ، ہشام بن سعد ، سفیان ثوری ، اور عبدالعزیز بن محمد نے بواسطہ زید بن اسلم اور عطا بن یسار ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً،حدیث نمبر ٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اس کو ابن ثوبان بواسطہ عبد اللہ بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں ،، اور یہ سند حسن صحیح ہے اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ،حدیث نمبر ٤٣)
حضرت علی کرم اللّٰہُ وجہہ الکریم سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا ، اس باب میں حضرت عثمان ، ربیع ، ابن عمر ، عائشہ ، ابو امامہ ابو رافع ، عبداللہ بن عمر ، معاویہ ، ابوہریرہ ، جابرعبد اللہ بن زید اور ابوذر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث احسن اور اصح ہے عام علماء کے نزدیک یہی معمول ہے کہ ایک مرتبہ دھونا کافی ہے دو مرتبہ بہتر ہے اور تین تین مرتبہ زیادہ اچھا ہے اس سے زائد کی فضیلت نہیں ابن مبارک فرماتے ہیں جو اس سے زیادہ مرتبہ دھوئے اس کو گناہ سے امن نہیں امام احمد اور امام اسحٰق فرماتے ہیں ایسا صرف مجنوں ہی کر سکتا ہے، (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا،حدیث نمبر ٤٤)
ثابت بن ابی صفیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے ابو جعفر سے پوچھا کیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے تجھ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک ایک بار کبھی دو دو اور کبھی تین تین بار اعضائے وضو کو دھویا انہوں نے فرمایا ،، ہاں ،، امام ترمذی فرماتے ہیں وکیع نے یہ حدیث ثابت بن ابی صفیہ سے روایت کی وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو جعفر سے پوچھا کیا تم سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا ؟ انہوں نے فرمایا ؛ ہاں ؛ یہی حدیث ھناد اور قتیبہ نے وکیع اور ثابت کے واسطہ سے بیان کی اور یہ حدیث ،، شریک کی حدیث سے اصح ہے کیونکہ یہ حضرت ثابت سے کئی طرق سے وکیع کی روایت کے ہم معنی مروی ہے شریک کثیر الغلط ہے اور ثابت بن ابھی صفیہ سے مراد ابو حمزہ ثمالی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً، وَمَرَّتَيْنِ، وَثَلَاثًا،حدیث نمبر ٤٥ و حدیث نمبر ٤٦)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو چہرہ اقدس کو تین مرتبہ دھویا ، ہاتھوں کو دو مرتبہ دھویا ، سر کا مسح کیا اور پاؤں مبارک دھوئے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے دوسری روایات میں ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اعضاء کو ایک مرتبہ اور بعض کو تین مرتبہ دھویا بعض علماء نے اس میں رخصت دی ہے اور وہ بعض اعضاء کو ایک بار اور بعض کو تین بار دھونے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔ ف : ایک بار دھونے سے بھی وضو ہو جاتا ہے لیکن تمام اعضاء کو تین تین بار دھونا سنت ہے ( مترجم) (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِيمَنْ يَتَوَضَّأُ بَعْضَ وُضُوئِهِ مَرَّتَيْنِ، وَبَعْضَهُ ثَلَاثًا،حدیث نمبر ٤٧)
ابو حیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دیکھا آپ نے وضو فرمایا (پہلے) دونوں ہاتھوں کو دھویا ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو گئے پھر تین مرتبہ کلی کی تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ منہ اور تین ہی دفعہ بازوؤں کو دھویا ایک مرتبہ سر کا مسح کیا اور قدموں کو ٹخنوں سمیٹ دھویا پھر آپ نے کھڑے ہو کر وضو کا بچا ہوا پانی پیا اور فرمایا میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرمایا کرتے تھے اس باب میں حضرت عثمان ، عبداللہ بن زید ، ابن عباس ، عبداللہ بن عمرو ، عائشہ ، ربیع اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں, (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ،حدیث نمبر ٤٨)
قتیبہ اور ہناد نے ابو احواس اور ابو اسحٰق اور عبد خیر کے واسطہ سے ابو حیہ کی حدیث کی مثل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی البتہ عبدخیر نے یہ بھی کہا کے جب آپ وضو سے فارغ ہوئے تو بچا ہوا پانی چلو میں لے کر نوش فرمایا ، امام ترمذی فرماتے ہیں ابو اسحٰق ہمدانی نے ابوحیَّہ کے واسطہ سے اور عبد خیر اور حارث نے بلاواسطہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا ، زائدہ بن قدامہ اور کئی دوسرے راویوں نے خالد بن علقمہ اور عبدخیر کے واسطہ سے حدیث وضو طویل بیان کی یہ حدیث حسن صحیح ہے شعبہ نے اس حدیث کو خالد بن علقمہ سے روایت کیا اور ان کے نام اور ولدیت میں خطا کرتے ہوئے خالد بن علقمہ کی بجائے مالک بن عرفطہ کہا ابو عوانہ سے بھی یہ روایت بواسطہ خالد بن علقمہ ، اور عبد خیر ، منقول ہے اور اس میں بھی روایت شعبہ کی طرح مالک بن عرفطہ کہا گیا ہے جبکہ صحیح نام خالد بن علقمہ ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ،حدیث نمبر ٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میرے پاس حضرت جبرئیل حاضر ہوئے اور کہا اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ جب وضو فرمائیں ازار پر پانی چھڑک لیا کریں ،، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے سنا کہ حسن بن علی ہاشمی (راوی) منکر حدیث ہے ، اسباب میں حکم بن سفیان ، ابن عباس ، زید بن حارثہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، ابن سفیان کے نام میں راویوں کا اختلاف ہے بعض نے سفیان بن حکم کہا اور بعض نے حکم بن سفیان۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر ٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ کام نہ بتاؤ ں جس کے سبب اللہ تعالی خطائیں مٹاتا اور درجات بلند فرماتا ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہاں کیوں نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تکلیف کے وقت مکمل وضو کرنا ، مساجد کی طرف زیادہ جانا اور ایک کے بعد دوسری نماز کی انتظار کرنا یہ جہاد ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر ٥١)
عبدالعزیز بن محمد نے حضرت علاء بن عبدالرحمن سے اسی کے ہم معنی روایت بیان کی ، قتیبہ نے اپنی حدیث میں کہا یہ جہاد ہے تین مرتبہ کہا اس باب میں حضرت علی ، عبداللہ بن عمر ، ابن عباس عبیدہ ( عبیدہ بن عمرو وہ بھی کہا گیا ہے ) عائشہ عبدالرحمٰن دن عائش اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے علاء بن عبدالرحمن سے مراد ابن یعقوب جہنی ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر ٥٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا ، جس کے ساتھ وضو کے بعد ( اعضائے وضو ) پونچھا کرتے تھے ، اس باب میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ وضو فرماتے ، کپڑے کے کنارے سے ،(اعضاء کو) خشک فرماتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اس کی سند ضعیف ہے اور رشدین ابن سعد اور عبدالرحمن بن زیاد بن انعم افریقی (دونوں) حدیث میں ضعیف ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث قوی نہیں اور اس باب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات ثابت نہیں ابو معاذ سے مراد سلیمان بن ارقم ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین نے وضو کے بعد کپڑے سے خشک کرنے کی رخصت دی ہے البتہ مکروہ کہنے والوں کے نزدیک عجلت کراہت یہ ہے کہ کہا جاتا ہے وضو کا وزن کیا جائے گا اور یہ بات حضرت سعید بن مسیب اور امام زہری سے مراد ہے امام زہری کہتے ہیں میں اس لئے وضو کے بعد کپڑے کا استعمال مکروہ جانتا ہوں ، کہ وضو کا وزن کیا جائے گا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر ٥٣ و حدیث نمبر ٥٤)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے فرمایا ،، جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر کلمہ شہادت پڑھا اور یہ دعا مانگی ،، اے اللہ ! مجھے خوب توبہ کرنے والوں اور خوب پاک ہونے والوں میں سے بنا دے ،، اس کے لئے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیئے جائیں گے جس دروازے سے چاہے داخل ہو ،،، اس باب میں حضرت انس اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو زید بن حباب کی وجہ سے قبول نہیں کیا گیا کیونکہ عبداللہ بن صالح نے یہی حدیث روایت کی اور اس میں ابو ادریس اور حضرت عمر کے درمیان چار واسطے ہیں اسی طرح ابو عثمان اور حضرت عمر کے درمیان ایک واسطہ ہے جبکہ زید بن خباب کی روایت میں یہ دونوں (ابو ادریس خولانی اور ابو عثمان) براہ راست حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں اسی طرح اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے اس باب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ زیادہ تفصیل ثابت نہیں ہے امام محمد بن اسماعیل بخاری فرماتے ہیں کہ ابو ادریس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع حاصل نہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا يُقَالُ بَعْدَ الوُضُوءِ،حدیث نمبر ٥٥)
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد (ڈیڑھ سیر ) پانی سے وضو اور ایک صاع (چار سیر ) پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے ، اس باب میں حضرت عائشہ ، جابر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث سفینہ ، حسن صحیح ہے ابو ریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر ہے بعض علماء کی رائے یہی ہے کہ وضو ایک مد سے اور غسل ایک صاع سے ہونا چاہیئے امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب مقدار کا متعین کرنا نہیں کہ اس سے زیادہ یا کم سے جائز نہ ہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ اندازہ کافی ہے (امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ کا بھی یہی مسلک ہے (مترجم)۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ بِالمُدِّ،حدیث نمبر ٥٦)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، وضو کا ایک شیطان ہے جس کا نام ولہان ہے لہذا پانی کے وسوسے سے بچو ،، اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ابی بن کعب کی حدیث غریب ہے محدثین کے نزدیک اس کی سند قوی نہیں کیونکہ ہم اس کی سند میں خارجہ کے سوا کسی دوسرے کو نہیں جانتے ، کئی طریقوں سے یہ حدیث حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر روایت کی گئی اس باب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز ثابت نہیں ، اور خارجہ ہمارے اصحاب کے نزدیک قوی نہیں ابن مبارک نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ كَرَاهِيَةِ الْإِسْرَافِ فِي الْمَاءِ،حدیث نمبر ٥٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ( وضو ہونے نہ ہونے دونوں صورتوں میں ) ہر نماز کے لیے وضو فرمایا کرتے تھے ، حمید کہتے ہیں میں نے حضرت انس سے پوچھا تم کس طرح کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہم ایک ہی وضو کیا کرتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن غریب ہے محدثین کے نزدیک حضرت انس سے عمرو بن عامر کی روایت مشہور ہے بعض علماء ، ہر نماز کے لئے وضو کو مستحب جانتے ہیں واجب قرار نہیں دیتے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر ٥٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا ۔امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث افریقی نے ابوغطیف سے اور ابوغطیف نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ہم سے اسے حسین بن حریث مروزی نے محمد بن یزید واسطی کے واسطے سے بیان کیا ہے اور محمد بن یزید نے افریقی سے روایت کی ہے اور یہ سند ضعیف ہے، علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں: انہوں نے اس حدیث کا ذکر ہشام بن عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سند مشرقی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر ٥٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لئے وضو فرمایا کرتے تھے ، عمروبن انصاری نے حضرت انس سے پوچھا آپ لوگ کس طرح کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہم جب تک بے وضو نہ ہو جائیں ،، ایک ہی وضو سے تمام نمازیں ادا کیا کرتے تھے ،، امام ترمذی فرماتے ہیں ،، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر ٦٠)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور جب فتح مکہ کا سال ہوا تو آپ نے کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کی ہے جسے کبھی نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: میں نے اسے جان بوجھ کر کیا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے،اور اس حدیث کو علی بن قادم نے بھی سفیان ثوری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا۔ سفیان ثوری نے بسند «محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» (مرسلاً روایت کیا ہے) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ، اور اسے وکیع نے بسند «سفیان عن محارب عن سلیمان بن بریدہ عن بریدہ» سے روایت کیا ہے،نیز اسے عبدالرحمٰن بن مھدی وغیرہ نے بسند «سفیان عن محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ روایت وکیع کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں، جب تک «حدث» نہ ہو،بعض اہل علم استحباب اور فضیلت کے ارادہ سے ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ نیز عبدالرحمٰن افریقی نے بسند «ابی غطیفعن ابن عمر» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو وضو پر وضو کرے گا تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اس باب میں جابر بن عبداللہ سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وضو سے ظہر اور عصر دونوں پڑھیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّهُ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر ٦١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھ سے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا آپ فرماتی ہیں ،، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے عام فقہاء کا یہی قول ہے کہ مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں اس باب میں حضرت علی ،، عائشہ ،، انس ، ام ہانی ،، ام حبیبہ ، ام سلمہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں ابو شعثاء کا نام جابر بن زید ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي وُضُوءِ الرَّجُلِ وَالمَرْأَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر ٦٢)
قبیلہ بنی غفار سے ایک شخص راوی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے سے منع فرمایا اس باب میں عبداللہ بن سرجس سے روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں بعض فقہا نے عورت کے وضو سے باقی ملزہ پانی کے ساتھ وضو کو مکروہ کہا ہے البتہ جھوٹے میں کوئی حرج نہیں ، یہ قول امام احمد اور امام اسحٰق کا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ فَضْلِ طَهُورِ المَرْأَةِ،حدیث نمبر ٦٣)
حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے عورتوں کے بچے ہوئے پانی یا(فرمایا) اس کے جھوٹے (راوی کوشک ہے) سے وضو کرنے سے منع فرمایا ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن ہے ، اور ابو صاحب کا نام سوادہ بن عاصم ہے ، محمد بن بشار نے اپنی روایت میں بغیر شک کے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کی ممانعت فرمائی, (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ فَضْلِ طَهُورِ المَرْأَةِ،حدیث نمبر ٦٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے ایک بڑے برتن میں غسل کیا ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کا ارادہ فرمایا انہوں نے عرض کیا حضور ! میں حالت جنابت سے تھی آپ نے فرمایا پانی جنبی نہیں ہوتا ،، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، سفیان ثوری ، امام مالک ، اور امام شافعی کا یہی قول ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر ٦٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بارگاہ رسالت میں عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر لیا کریں یہ وہ کنواں تھا جس میں حیض کے کپڑے ، کتوں کا گوشت اور بدبو دار چیزیں ڈالی جاتی تھی ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ، ابو اسامہ نے اس حدیث میں عمدگی پیدا کی بیر بضاعہ کے بارے میں حدیث ابو سعید کو اسامہ سے اچھا کسی نے روایت نہیں کیا ، یہ حدیث حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کئ طرق سے مروی ہے ، اور اس باب میں حضرت ابن عباس اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ المَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ،حدیث نمبر ٦٦)
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے میں نے سنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میدانوں اور جنگلوں کے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر درندے اور چار پاۓ گزرتے ہیں آپ نے فرمایا جو پانی دو قلوں کو پہنچ جائے تو ناپاک نہیں ہوتا ، محمد ابن اسحٰق کہتے ہیں قلہ مٹکے کو کہا جاتا ہے اور چرس کو بھی کہتے ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں ، امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق کا یہی مسلک ہے کہ جب پانی دو مٹکوں کو پہنچ جائے تو جب تک بویا ذائقہ نہ بدلے ، ناپاک نہیں ہوتا اور قلہ تقریبا پانچ مشکوں کے برابر ہوتا ہے۔ ف : امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جاری پانی یادہ دردہ حوض کا پانی جب تک کوئی وصف نہ بدلے ناپاک نہیں ہوتا اس سے کم پانی نجاست کے گرنے سے ناپاک ہو جاتا ہے ( مترجم) (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مِنْهُ آخَرُ،حدیث نمبر ٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے ، کہ پھر اسی سے وضو کرے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ كَرَاهِيَةِ البَوْلِ فِي المَاءِ الرَّاكِدِ،حدیث نمبر ٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ،، یا رسول اللہ ! ہم دریا ( اور سمندر ) میں سفر کرتے ہیں ہمارے پاس تھوڑا سا پانی ہوتا ہے ، اگر ہم اس سے وضو کریں ، پیاسے رہ جاتے ہیں تو کیا ہم دریا کے پانی سے وضو کر لیا کریں ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال ہے ،، اس باب میں حضرت جابر اور فراسی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اکثر فقہا صحابہ جن میں سے حضرت ابوبکر ، عمر فاروق ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم بھی ہیں ، کا مسلک یہی ہے کہ دریا کے پانی سے وضو میں کوئی حرج نہیں ، بعض صحابہ کرام کے نزدیک دریا اور سمندر کے پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے ان صحابہ میں حضرت عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عمرو بھی ہیں موخر الذکر فرماتے ہیں ، وہ آگ ہے یعنی نقصان دہ ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي مَاءِ البَحْرِ أَنَّهُ طَهُورٌ،حدیث نمبر ٦٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے تشریف لے جا رہے تھے تو فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے لیکن کسی بڑے جرم کی وجہ سے نہیں ایک پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا اس باب میں حضرت زید بن ثابت ، ابوبکر اور ابو ہریرہ ، ابو موسیٰ اور عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے منصور نے اسے حضرت مجاہد کے واسطہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا اس روایت میں طاؤس کا ذکر نہیں ، اعمش کی روایت اصح ہے ( امام ترمذی فرماتے ہیں ) میں نے محمد بن ابان سے سنا انہوں نے وکیع کا قول نقل کیا کہ اعمش ابراہیم کی اسناد کے لئے ، منصور سے احفظ ہیں ،، ف : اللہ تعالی نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف ان اصحاب قبور جو غائب ہیں کے عذاب پر مطلع فرمایا ، بلکہ عذاب کے سبب بھی آگاہ فرمایا ، معلوم ہوا اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کو عالم دنیا میں رہتے ہوئے عالم برزخ کے واقعات پر اطلاع دیتا ہے (مترجم)۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ،حدیث نمبر ٧٠)
ام قیس بنت محصن فرماتی ہیں ، میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی میرے ساتھ میرا شیر خوار بچہ بھی تھا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا آپ نے پانی منگوایا اور اس جگہ پر چھینٹے مارے (یعنی معمولی دھویا ) اس باب میں حضرت علی ، عائشہ ، زینب ، لبابہ بنت حارث (فضل بن عباس کی والدہ ) ابو السمع ، عبداللہ بن عمرو ، ابو لیلیٰ ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں کئ صحابہ ، تابعین ، اور ان کے بعد کے فقہاء مثلاً امام احمد اور امام اسحٰق وغیرہما کا بھی یہی قول ہے کے شیر خوار بچے کا پشاب معمولی دھویا جائے اور بچی کا اچھی طرح دھویا جاۓ اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو پھر دونوں کا پیشاب اچھی طرح دھویا جائے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي نَضْحِ بَوْلِ الغُلَامِ قَبْلَ أَنْ يُطْعَمَ،حدیث نمبر ٧١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کہ کچھ لوگ مدینہ طیبہ میں آئے انہیں یہاں کی آب و ہوا موافق نہ ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (شہر سے باہر ) صدقہ کے اونٹوں میں بھیج دیا اور فرمایا ان کے دودھ اور پیشاب پیو ، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے (مقرر کردہ ) نگران کو قتل کیا ، اونٹوں کو ہنکایا اور اسلام سے مرتد (ہو کر بھاگ کھڑے) ہوئے انہیں پکڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیئے اور آنکھوں میں سلاخیں بھروا کر ریگستان میں ڈلوادیا ، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دیکھتا تھا کہ ان میں سے ایک زمین کو اپنے منہ سے کھود رہا ہے یہاں تک کہ وہ سب مر گئے حماد نے بعض اوقات ،، کھودنے ،، کی بجائے کاٹنے کے الفاظ استعمال کئے ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کئ طرف سے مروی ہے اکثر علماء کہتے ہیں حلال جانور کا پیشاب پینے میں کوئی حرج نہیں ، ف : امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہا اللّٰہ فرماتے ہیں تمام پیشاب نجس ہیں ان لوگوں کو بیماری کی وجہ سے حضور نے اجازت دی۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ،حدیث نمبر ٧٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلاخیں اس لئے پھروائی تھی ، کہ انہوں نے حضور کے چرواہوں کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب یزید بن زریع سے یحییٰ بن غیلان کے علاوہ کسی دوسرے کی روایت ہمیں معلوم نہیں حضور کا ان کے ساتھ یہ سلوک قرآن کے حکم ،، والجروح قصاص ،، (زخموں میں بدلہ ہے) کا یہی مطلب ہے محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ حضور کا عمل (آیات) حدود کے نزول سے پہلے کا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ،حدیث نمبر ٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، وضو صرف آواز اور ہوا سے ہے ،، امام ترمذی فرماتے ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ،حدیث نمبر ٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو اور اپنے سرینوں کے درمیان ہوا پائے تو جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ آئے ، مسجد سے باہر نہ نکلے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، جب تم میں سے کوئی بے وضو ہو ، تو جب تک وضو نہ کرلے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور اس باب میں حضرت عبداللہ بن زید ، علی بن طلق ، عائشہ ، ابن عباس اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے اور علماء کا یہی قول ہے کہ جب تک آواز یا بدبو نہ آئے وضو واجب نہیں ہوتا ابن مبارک کہتے ہیں شک سے وضو واجب نہیں ہوتا جب تک کہ بے وضو ہونے کا اس قدر یقین نہ ہو جس پر قسم اٹھا سکے ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے کہ جب عورت کے آگے سے ہوا نکلے تو وضو واجب ہوگا امام شافعی اور امام احمد کا مسلک بھی یہی ہے ،،، ف : امام ابو حنیفہ رحیمہ اللہ کے نزدیک یہ ہوا نہیں بلکہ اختلاج ہے لہٰذا اس سے وضو واجب نہیں ہوگا بشرطیکہ کے کسی عورت کے دونوں مقام ایک نہ ہوں گئے ہوں ایسی صورت میں اگر ہوا بدبودار ہے تو وضو واجب ہوگا ورنہ نہیں کتب فقہ (مترجم) (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ،حدیث نمبر ٧٥ و ٧٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ حالت سجدہ میں سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے (یا محض سانس تھا) پھر آپ نے کھڑے ہو کر نماز شروع کردی ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ تو سو گئے تھے آپ نے فرمایا وضو اسی حالت پر واجب ہوتا ہے جو لیٹ کر سوئے کیونکہ اس صورت میں جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ابو خالد کا نام یزید بن عبدالرحمن ہے اس باب میں حضرت عائشہ ، ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر ٧٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صحابہ کرام (بیٹھے بیٹھے ) سو جاتے پھر اٹھ کر وضو کئے بغیر نماز پڑھتے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، صالح بن عبداللہ کہتے ہیں ، میں نے ابن مبارک سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو تکیہ لگا کر سوتا ہے انہوں نے فرمایا اس پر وضو نہیں ، سعید بن عروبہ نے بواسطہ قتادہ حضرت ابن عباس کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں نہ تو ابو عالیہ کا ذکر ہے اور نہ اس کو مرفوعاً بیان کیا ہے نیند سے بیداری پر وضو کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے اکثر کے نزدیک بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر سونے والے پر وضو واجب نہیں جب تک کے لیٹ نہ جائے ، سفیان ثوری ابن مبارک اور امام احمد کا یہی قول ہے ، بعض علماء کہتے ہیں جب اتنا سوئے کہ عقل مغلوب ہوجائے ، وضو واجب ہو جائے گا ، امام اسحٰق کا یہی قول ہے امام شافعی فرماتے ہیں اگر کوئی بیٹھا ہوا سو گیا پھر خواب دیکھا یا اونگھ کی وجہ سے سرین اپنی جگہ سے ہٹ گئے تو اس پر وضو واجب ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر ٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو (ہاتھ دھونا اور کلی کرنا ہے ) اگرچہ پنیر کا ٹکڑا ہی ہو ، حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کیا ہم (گرم) تیل یا گرم پانی استعمال کرنے پر بھی وضو کریں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھتیجے ! جب تو حضور کی حدیث سنے تو اس کے لئے مثال نہ دیا کر ، اس باب میں ام حبیبہ ، ام سلمہ ، زید بن ثابت ، ابو طلحہ ، ابو ایوب اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں بعض علماء آگ کی پکی ہوئی چیز کے استعمال پر وضو کا حکم دیتے ہیں جبکہ اکثر صحابہ کرام ، تابعین اور بعد کے علماء کا مذہب ، وضو نہ کرنا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ،حدیث نمبر ٧٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں باہر تشریف لے گئے میں آپ کے ہمراہ تھا ، آپ ایک انصاری عورت کے گھر داخل ہوئے ، اس عورت نے آپ کے لئے بکری ذبح کی ، آپ نے تناول فرمائی پھر وہ کھجوروں کا ایک تھال لے آئی آپ نے وہ بھی تناول فرمائیں پھر ظہر کے لئے وضو فرمایا اور نماز ادا کی نماز کے بعد بکری کا بچا ہوا گوشت دوبارہ تناول فرمایا اور وضو کئے بغیر عصر کی نماز ادا فرمائی ، اس باب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے لیکن سند کے اعتبار سے وہ روایت صحیح نہیں اسے حسان بن مصک نے ابن سرین اور ابن عباس کے واسطہ سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا صحیح یہ ہے کہ حضرت ابن عباس براہ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اکثر حفاظ سے اسی طرح روایت کی ہے ، ابن سیرین بواسطہ ابن عباس حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی طرق سے یہ مروی ہے عطاء بن یسار ، عکرمہ ، محمد بن عمرو بن عطاء ، علی بن عبداللہ بن عباس اور کئی دوسرے راویوں نے بواسطہ حضرت ابن عباس ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے یہ اصح ہے اس باب میں حضرت ابوہریرہ ابن مسعود ، ابو رافع ، ام حکم ، عمرو بن امیہ ، ام عامر ، سوید بن نعمان اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں اکثر صحابہ کرام ، تابعین اور بعد کے فقہا مثلا ابو سفیان ابن مبارک ، امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق نے آگ سے پکی ہوئی چیز استعمال کرنے کے بعد وضو نہ کرنے کا قول کیا ہے اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو فعلوں میں سے یہ دوسرا ہے گویا کہ اس حدیث سے پہلی حدیث منسوخ ہے ۔ ف : جہاں وضو کا ذکر ہے وہاں ہاتھ دھونا اور کلی کرنا مراد ہے جہاں عدم وضو کا بیان ہے وہاں اصطلاحی وضو مراد ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک بھی یہی ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا (مترجم)۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي تَرْكِ الوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر ٨٠)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا ،، وضو کرو ،، بکری کے گوشت کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ،، وضو نہ کرو ،، اس باب میں حضرت جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حجاج بن ارطات نے اس حدیث کو عبداللہ بن عبداللہ نے بواسطہ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ، اسید بن حضیر سے روایت کیا ہے ، لیکن براء بن عازب سے مروی حدیث صحیح ہے امام احمد اور امام اسحٰق کا یہی قول ہے (اونٹ کے گوشت سے وضو کا لازم ہونا) عبیدہ ضبی نے یہ حدیث ، بواسطہ عبد اللہ بن عبد اللہ رازی ، عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ، اور ذوالغرہ روایت کی ہے ، حماد بن سلمہ نے اسے حجاج بن ارطات سے روایت کیا لیکن اس سے خطا واقع ہوئی وہ یہ کہ اس نے عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے کہا ، جو بواسطہ اپنے والد اسید بن حضیر سے راوی ہیں جبکہ صحیح عبد اللہ بن عبد اللہ رازی ہے جو بواسطہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ حضرت براء بن عازب سے روایت کرتے ہیں اسحٰق فرماتے ہیں اس باب میں زیادہ صحیح صرف دو حدیثیں ہیں ایک برا بن عازب کی اور دوسری جابر بن سمرہ کی رضی اللہ عنہما )۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ،حدیث نمبر ٨١)
بسرہ بنت صفوان فرماتی ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مرد اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے ، وضو کئے (ہاتھ دھوئے ) بغیر نماز نہ پڑھے ، اس باب میں حضرت ام حبیبہ ابو ایوب ، ابوہریرہ ، اروی ابنتہ انیس ، عائشہ ، جابر ، زید بن خالد اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، متعدد راویوں نے اس کی مثل روایت کی ہے ہشام بن عروہ نے بواسطہ اپنے والد ، بسرہ سے روایت کی ہے ، ابو اسحٰق منصور نے بواسطہ ابو اسامہ اسی طرح روایت کی ، ابو زناد نے بواسطہ عروہ بسرہ سے نقل کی ، علی بن حجر نے عبدالرحمن بن ابی زناد ، ابو زناد اور عروہ کے واسطہ سے بسرہ سے اسی کے ہم معنی روایت بیان کی ، کئ صحابہ کرام اور تابعین کا یہی قول ہے امام اوزاعی ، امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق بھی اسی کے قائل ہیں ، امام بخاری فرماتے ہیں اس باب میں بسرہ کی حدیث اصح ہے ،، ابو زرعہ کا قول ہے کہ ام حبیبہ کی حدیث اصح ہے ، اور وہ علاء بن حارث ، مکحول ، عنبسہ ابوسفیان کے واسطہ سے ام حبیبہ سے مروی ہے ، امام بخاری فرماتے ہیں ، مکحول نے عنبسہ بن ابوسفیان سے سماع نہیں کیا ، مکحول نے ایک شخص کے واسطہ سے عنبسہ سے حدیث روایت کی ، گویا کہ امام بخاری کے نزدیک یہ حدیث صحیح نہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ،حدیث نمبر ٨٢ و ٨٣،و ٨٤)
قیس بن طلق بن علی حنفی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ (شرمگاہ) انسان سے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اس بعد میں حضرت ابو امامہ سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، متعدد صحابہ اور بعض تابعین شرمگاہ کو ہاتھ لگانے کے بعد ضروری نہیں سمجھتے ، اہل کوفہ اور ابن مبارک کا یہی مسلک ہے اس باب میں روایت کردہ احادیث میں سے یہ حدیث احسن ہے ایوب بن عتبہ اور محمد بن جابر نے قیس بن طلق کے واسطہ سے ان کے والد سے یہ حدیث روایت کی ، بعض محدثین نے محمد بن جابر اور ایوب بن عتبہ کے بارے میں کلام کیا ہے ، ملازم بن عمرو کی عبداللہ بن بدر سے روایات اصح اور احسن ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ تَرْكِ الوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ،حدیث نمبر ٨٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات میں سے ایک کا بوسہ لیا پھر وضو کئے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے حضرت عروہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا ،، وہ آپ ہی ہو سکتی ہیں ،، اس پر آپ ہنس پڑیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں اسی کے ہم معنی حدیث کئ صحابہ کرام اور تابعین سے منقول ہے ، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی مذہب ہے کہ بوسہ لینے سے وضو نہیں ٹوٹتا ، مالک بن انس ، اوزاعی ، شافعی ، احمد اور اسحٰق کے نزدیک بوسہ لینے سے وضو واجب ہوتا ہے کئی صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ہمارے احباب نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر اس لئے عمل نہیں کیا کہ ان کے نزدیک یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں فرماتے ہیں میں نے ابوبکر عطاء بصری سے سنا وہ علی بن مدینی کا قول نقل کرتے ہیں یحییٰ بن سعید قطعان نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے محمد بن اسماعیل بخاری کو سنا وہ بھی اسے ضعیف قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں حبیب بن ابی ثابت کو حضرت عروہ سے سماع نہیں ، ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہ سے روایت کیا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں فرمایا ،، یہ حدیث بھی صحیح نہیں نعت وابراھیم تیمی کے لئے ام المومنین سے سے سماع ثابت ہے اور نہ ہی اس باب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ تَرْكِ الوُضُوءِ مِنَ القُبْلَةِ،حدیث نمبر ٨٦)
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قے آئ پھر آپ نے وضو فرمایا (اذان بعد ) میں نے دمشق کی مسجد میں حضرت ثوبان کو ملاقات کے دوران یہ بات بتائی انہوں نے فرمایا ابو درداء نے سچ کہا میں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے لئے پانی ڈالا ، اسحٰق بن منصور نے معدان بن طلحہ کہا ، امام ترمذی فرماتے ہیں میرے نزدیک ابن ابی طلحہ زیادہ صحیح ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کئی صحابہ کرام اور تابعین عظام نے قے اور نکسیر سے وضو (واجب ہونے) کا قول کیا ہے سفیان ثوری ابن مبارک ، امام احمد اور امام اسحٰق کا یہی نظریہ ہے بعض علماء کے نزدیک قے اور نکسیر میں وضو نہیں امام مالک اور امام شافعی کا یہی مسلک ہے حسین معلم نے اس حدیث میں عمدگی پیدا کی اور حسین کی حدیث اس باب میں اصح ہے معمر نے یہ حدیث یحیی بن ابی کثیر سے روایت کرتے ہوئے خطا کی اور کہا یعیش بن ولید کا بواسطہ خالد بن معدان ، ابو درداء سے راوی ہیں اوزاعی کا ذکر نہیں کیا نیز خالد بن معدان کہا حالانکہ کے وہ معدان بن ابی طلحہ ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ مِنَ القَيْءِ وَالرُّعَافِ،حدیث نمبر ٨٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں مجھ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ،، تیرے توشہ دان میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا ،، بنیز ،،، ہے آپ نے فرمایا ،، پاکیزہ پھل اور پاک پانی ہے حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں پھر آپنے اس سے وضو فرمایا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ابو زید اور عبداللہ کے واسطہ سے بھی حضور سے مروی ہے محدثین کے نزدیک ابو زید مجہول ہے اس حدیث کے علاوہ اس کی کوئی روایت معروف نہیں بعض علماء جیسے سفیان وغیرہ کے نزدیک نبیز سے وضو جائز ہے اور بعض علماء فرماتے ہیں نبیذ سے وضو نہ کیا جائے ، امام شافعی ، امام احمد اور اسحٌق کا یہی قول ہے امام اسحٰق فرماتے ہیں اگر کسی کے پاس نبیز ہی ہو تو (اس سے) وضو اور تیمم (دونوں کو جمع کرنا) مجھے پسند ہے امام ترمذی فرماتے ہیں نبیذ سے وضو کو جائز کہنے والوں کا قول قرآنی حکم کے زیادہ قریب اور مشابہ ہے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ، اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا ارادہ کرو ،، (تیمم کرو )۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ الوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ،حدیث نمبر ٨٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا اس میں چکناہٹ ہے ، اس باب میں حضرت سہیل بن سعد اور مسلمہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض علماء نے کہا کہ دودھ پینے کے بعد کلی ضروری ہے ، ہمارے نزدیک یہ مستحب ہے جبکہ بعض علماء کے نزدیک لازمی نہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ المَضْمَضَةِ مِنَ اللَّبَنِ،حدیث نمبر ٨٩)
حضرت ابن عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا آپ پشاب فرما رہے تھے (اس لئے) آپ نے جواب نہ دیا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ اسی وقت مکروہ ہے جب پیشاب کر رہا ہو یا پاخانہ پھر رہا ہو بعض علماء نے اس حدیث کی یہی تفسیر بیان کی ہے اس باب میں روایت کی گئی احادیث میں یہ حدیث احسن ہے نیز اس باب میں مہاجر بن قنفذ ، عبداللہ بن حنظلہ بن شفواء ، جابین اور براء رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ رَدِّ السَّلَامِ غَيْرَ مُتَوَضِّئٍ،حدیث نمبر ٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے فرمایا ، جس برتن کو کتے نے منہ لگایا اس کو سات مرتبہ دھویا جائے پہلے اور آخری مرتبہ مٹی سے دھویا جائے ) بلی کا جھوٹا برتن ایک مرتبہ دھویا جائے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق کا یہی قول ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کئ طرف سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی گئی ہے ، لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ،، بلی کا جھوٹا برتن ایک مرتبہ دھویا جائے ،، اس باب میں حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الكَلْبِ،حدیث نمبر ٩١)
کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ابو قتادہ میرے ہاں تشریف لائے میں نے ان کے وضو کے لئے برتن میں پانی ڈالا جسے بلی نے آکر پینا شروع کر دیا آپ نے اس کی طرف برتن کو ٹیڑہا کیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا ، ابو قتادہ نے میری طرف دیکھا جب کہ میں بھی ادھر تعجب سے دیکھ رہی تھی ، آپ نے فرمایا اے بھتیجی ! کیا تجھے تعجب ہوا ؟ میں نے کہا ،، ہاں ،، آپ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ ناپاک نہیں ہے کیونکہ (گھروں میں ) آنے جانے والوں میں سے ہیں (لہذا اس سے بچاؤ مشکل ہے ) اس باب میں حضرت عائشہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اکثر صحابہ تابعین اور بات کے فقہا مثلاً امام شافعی ، احمد ، اسحٰق (اور امام ابو حنیفہ رحیمہم اللہ کا یہی مسلک ہے کہ وہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ) یعنی نجس نہیں مکروہ ہے ) اس باب میں یہ حدیث احسن ہے مالک نے اسے اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے عمدہ طریقہ پر روایت کیا کسی راوی نے اس حدیث کو مالک سے زیادہ مکمل بیان نہیں کیا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الهِرَّةِ،حدیث نمبر ٩٢)
ہمام بن حارث سے روایت ہے ، جریر بن عبداللہ نے پیشاب کیا پھر وضو کر کے موزوں پر مسح کیا آپ سے پوچھا گیا ، کیا آپ یہ کام (یعنی مسح) کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے راوی کہتے کہ حدیث جریر سب کو پسند تھی کیونکہ وہ سورہ مائدہ کے نزول کے بعد مسلمان ہوئے اس باب میں حضرت عمر ، علی،حزیفہ ، مغیرہ ،بلال ، سعد ، ابو ایوب ، سلمان بریدہ ، عمر بن امیہ ، انس ، سہیل بن سعد ، یعلی بن مرہ ، عبادہ بن صامت ، اسامہ بن شریک ، ابو امامہ ، جابر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں جریر کی حدیث حسن صحیح ہے شہر بن حوشب سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے جریر بن عبداللہ کو دیکھا انہوں نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا ، میں نے اس سلسلے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا ، شہر بن حوشب کہتے ہیں کیا یہ واقعہ نزول مائدہ سے پہلے کا ہے یا بعد کا ؟ انہوں نے فرمایا ،، میں نزول مائدہ کے بعد اسلام لایا ہوں ،، امام ترمذی فرماتے ہیں ہم سے قتیبہ نے متعدد واسطوں سے حضرت جریر کی حدیث بیان کی اور یہ حدیث وضاحت ہے اس لئے کہ بعض منکرین مسح تاویل کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ، نزول مائدہ سے قبل موزوں پر مسح فرمایا کرتے تھے اور اس حدیث میں حضرت جریر کا یہ بیان ہے کہ انہوں نے نزول مائدہ کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ المَسْحِ عَلَى الخُفَّيْنِ،حدیث نمبر ٩٣ و حدیث نمبر ٩٤)
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا مسافر کے لئے تین دن رات اور مقیم کے لئے ایک دن رات کی مدت ہے ابو عبداللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اس باب میں حضرت علی ، ابوبکرہ ، ابوہریرہ ، صفوان بن عسال عوف بن مالک ، ابن عمر اور جریر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب ہم سفر میں ہوتے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تین دن رات تک موزے نہ اتارنے کا حکم فرماتے جنابت میں اتارنے کا حکم ہوتا لیکن پیشاب پاخانے اور نیند سے نہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، حکم بن عتیبہ اور اور حماد نے بواسطہ ابراہیم نخعی اور ابو عبداللہ جدلی ، حضرت خزیمہ بن ثابت سے روایت کیا اور یہ صحیح نہیں ، علی بن مدینی نے یحیٰی کے واسطہ سے شعبہ کا قول نقل کیا کہ ابراہیم نخعی نے ابو عبداللہ جدلی سے حدیث مسح کا سماع نہیں کیا ، زائدہ ، منصور سے روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم تیمی کے حجرہ میں تھے اور ہمارے ساتھ ابراہیم نخعی تھے ،، پس ابراہیم تیمی نے ہم سب عمرو بن میمون ، ابو عبداللہ جدلی اور خزیمہ بن ثابت کے واسطہ سے حدیث مسح بیان کی امام بخاری فرماتے ہیں اس باب میں صفوان بن عسال کی حدیث احسن ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ، صحابہ کرام ، تابعین اور بعد کے فقہا مثل سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحٰق کا یہی مسلک ہے کہ مقیم ایک دن رات اور مسافر تین دن رات مسح کر کے بعض علماء کہتے ہیں موزوں پر مسح کے بارے میں وقت کی تعیین نہیں ، یہ قول مالک بن انس کا ہے ، (لیکن) وقت کا تعین ،، اصح ہے (ترمذی شریف، ابواب الطہارۃ ،بَابُ المَسْحِ عَلَى الخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ وَالمُقِيمِ،حدیث نمبر ٩٥،و حدیث نمبر ٩٦)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کے اوپر اور نیچے فرمایا امام ترمذی فرماتے ہیں متعدد صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے امام مالک ، شافعی ، اسحٰق رحیم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے ، یہ حدیث معلول ہے اور ثور بن یزید سے صرف ولید بن مسلم نے سند بیان کی ، (باقی رواہ نے مرسل بیان کیا اور مغیرہ کا ذکر نہیں کیا ) میں نے ابو زرعہ اور محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا یہ صحیح نہیں کیونکہ ابن مبارک نے اسے بواسطہ ثور ، رجاء سے بیان کیا اور کہا کہ حضرت مغیرہ کے کاتب سے یہ حدیث مرسل بیان کی گئی حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي المَسْحِ عَلَى الخُفَّيْنِ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ،حدیث نمبر ٩٧)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں کے صرف اوپر والے حصہ پر مسح کرتے دیکھا ، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت مغیرہ کی حدیث حسن ہے اور وہ عبد الرحمن بن ابو زناد کی روایت ہے جو ابو زناد اور عروہ کے واسطہ سے حضرت مغیرہ سے بیان کی گئی موزوں کے صرف ظاہر پر مسح کے بارے میں حضرت مغیرہ سے عروہ کے سوا کسی دوسرے کی روایت ہمارے علم میں نہیں اکثر علماء کا یہی قول ہے سفیان ثوری اور احمد بھی یہی فرماتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں مالک ، عبد الرحمن بن ابی زناد (کے ضعف) کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي المَسْحِ عَلَى الخُفَّيْنِ ظَاهِرِهِمَا،حدیث نمبر ٩٨)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور جوتوں اور موزوں پر مسح کیا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے متعدد علماء کا یہی قول ہے سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں جرابوں پر مسح جائز ہے اگرچہ نعل نہ ہوں لیکن دبیز ہوں ، اس باب میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي المَسْحِ عَلَى الجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ،حدیث نمبر ٩٩)
حسن بن مغیرہ نے اپنے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں وپگڑی پر مسح فرمایا ، بکر کہتے ہیں میں نے حسن بن مغیرہ سے یہ حدیث بلاواسطہ سنی ، محمد بن بشار نے بھی یہ حدیث روایت کی اور کہا کہ آپ نے پیشانی اور پگڑی مبارک پرمسح فرمایا ، حضرت مغیرہ بن شعبہ سے یہ حدیث کئ طرق سے مروی ہے بعض نے پیشانی اور عمامہ کا ذکر کیا جبکہ بعض نے پیشانی کا ذکر نہیں کیا (امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے احمد بن حسن سے امام احمد بن حنبل کا قول سنا اور فرماتے ہیں میری آنکھوں نے سعید بن قطان کی مثل کسی کو نہیں دیکھا اس باب میں حضرت عمرو بن امیہ ، سلمان ، ثوبان اور ابو امامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت مغیرہ بن شعبہ کی حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ جیسے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر اور حضرت انس رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے امام اوزاعی ، احمد اور اسحٰق کہتے ہیں پگڑی پر مسح کیا جائے گا جارود بن معاذ کہتے ہیں میں نے وکیع بن جراح سے سنا انہوں نے کہا کہ اس حدیث کی بنا پر پگڑی پر مسح جائز ہے ،، ف : امام اعظم ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہا اللّٰہ کے نزدیک پگڑی پر مسح ناجائز ہے یہ حدیث آیت مسح کے نزول سے پہلے کی ہے (مترجم) حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور چادر (پگڑی) پر مسح فرمایا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پوتے ، ابو عبیدہ بن محمد سے روایت ہے ، کہتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے فرمایا اے بھتیجے ! یہ سنت ہے پگڑی پر مسح کے بارے میں پوچھا تو جواب دیا بالوں کو بھی ہاتھ لگانا ہے متعدد صحابہ اور تابعین نے فرمایا ، پگڑی پر مسح کرتے وقت سر کا بھی مسح کیا جائے ، سفیان ثوری ، مالک بن انس ، ابن مبارک اور امام شافعی رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي المَسْحِ عَلَى العِمَامَةِ،حدیث نمبر ١٠٠،و حدیث نمبر ١٠١،و حدیث نمبر ١٠٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں فرماتی ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لئے پانی رکھا آپ غسل جنابت فرمایا بائیں ہاتھ سے برتن کو دائیں ہاتھ کی طرف جھکا کر دونوں ہاتھوں کو دھویا پھر ہاتھ برتن میں ڈالا اور استنجا فرمایا پھر ہاتھ کو دیوار یا زمین پر رگڑا ، پھر کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، چہرہ اور بازو دھوۓ اور تین مرتبہ سر پر پانی ڈالا پھر تمام جسم پر پانی بہا کر اس جگہ سے علیحدہ ہوئے اور پاؤں دھوئے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں حضرت ام سلمہ ، جابر ، ابو سعید ، جبیر بن مطعم اورابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں ،، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے دھوتے پھر استنجاء کرتے اور نماز کے وضو جیسا وضو فرماتے پھر بالوں کو پانی پہنچاتے اور تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور غسل جنابت میں ، اہل علم کا مختار یہی طریقہ ہے کہ نماز کے وضو جیسا وضو کریں پھر تین مرتبہ سر پر پانی ڈالے پھر تمام جسم پر ایک مرتبہ پانی بہائے پھر پاؤں دھوئے اس پر علماء کا عمل ہے نیز ان کا یہ قول بھی ہے کہ اگر کوئی جنبی پانی میں غوطہ لگائے اور وضو نہ کرے تو بھی جائز ہے (امام ابو حنیفہ) امام شافعی ، امام احمد ، اور امام اسحٰق کا یہی مسلک ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر ١٠٣،و حدیث نمبر ١٠٤)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے سر کی چوٹی سختی سے باندھی ہوئی ہے کیا میں غسل جنابت کے لئے کھولا کروں آپ نے فرمایا کھولنے کی ضرورت نہیں البتہ اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیا کرو پھر ایک مرتبہ پورے جسم پر پانی بہاؤ ، پاک ہو جاؤ گی ، یا فرمایا اس وقت تو بے شک پاک ہوگئ ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب عورت غسل جنابت کرے اور بالوں کو کھولے بغیر سر پر پانی ڈالے تو جائز ہے ،، ف : عورت کے لیے بالوں کو کھولنے کی ضرورت نہیں بشرطیکہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے ورنہ کھولنا لازمی ہے اور مرد کے لیے ہر حال میں کھولنا ضروری ہیں (مترجم) (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ هَلْ تَنْقُضُ المَرْأَةُ شَعْرَهَا عِنْدَ الغُسْلِ؟حدیث نمبر ١٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بال کے نیچے جنابت ہے لہذا بالوں کو دھوؤ اور جلد کو صاف کرو اس باب میں حضرت علی اور انس رضی اللہ عنہما سے حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے ہم صرف اسی کے واسطہ سے جانتے ہیں اور وہ بوڑھے اور غیر معتمد علیہ ہیں ان سے کئ ائمہ نے روایت کی ہے لیکن اس حدیث میں وہ مالک بن دینار سے روایت کرنے میں تنہا ہیں ان کو حارث بن وجیہ بھی کہتے ہیں اور ابن وجیہ بھی۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً،حدیث نمبر ١٠٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم غسل کے بعد وضو نہیں فرمایا کرتے تھے ، امام ترمذی فرماتے ہیں اکثر صحابہ و تابعین کا یہی قول ہے کہ غسل کے بعد وضو کرنا (ضروری نہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي الوُضُوءِ بَعْدَ الغُسْلِ،حدیث نمبر ١٠٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جب دو شرم گاہیں باہم مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بستر ہوتے پھر ہم دونوں غسل کرتے اس باب میں حضرت ابوہریرہ ، عبداللہ بن عمر ، اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو شرمگاہیں باہم مل جائیں غسل واجب ہو جاتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ، حسن صحیح ہے ، یہ حدیث حضرت عائشہ سے کئ طرف سے مروی ہے کہ جب دو شرمگاہیں باہم مل جائیں غسل واجب ہو جاتا ہے اکثر صحابہ کرام جن میں حضرت ابوبکر ، عمر، عثمان ، علی ، اور عائشہ رضی اللہ عنھم بھی ہیں تابعین اور بعد کے فقہاء مثلاً سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے کہ دو شرم گاہوں کے باہم ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے ،، ف: حنفیہ کے نزدیک محض شرمگاہوں کے ملنے سے وضو واجب ہو جاتا ہے یہاں مراد دخول ہے جس سے غسل واجب ہوتا ہے انزال ہو یا نہ ہو (مترجم)۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ إِذَا التَقَى الخِتَانَانِ وَجَبَ الغُسْلُ،حدیث نمبر ١٠٨،و حدیث نمبر ١٠٩)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، ابتدائے اسلام میں منی نکلنے سے غسل واجب نہ ہونے کی رخصت تھی پھر یہ منسوخ ہوگئی۔ احمد بن منیع نے زہری سے اس سند کے ساتھ اس کی مثل روایت ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ابتدائے اسلام میں منی سے غسل واجب ہوتا تھا پھر منسوخ ہوگیا ، اسی طرح کی صحابہ کرام نے روایت کیا جن میں ابی بن کعب اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما بھی ہیں ، اکثر علماء کا اس پر عمل ہے کہ مرد جب عورت سے جماع کرے دونوں پر غسل واجب ہو جائے گا اگرچہ انزال نہ ہو ،، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے احتلام میں منی کے نکلنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے جارود سے وکیع کا قول سنا کہ ہمیں یہ حدیث صرف شریک سے ملی ، اس باب میں حضرت عثمان بن عفان ، علی بن ابی طالب ، زبیر ، طلحہ ابو ایوب اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی(منی) سے پانی(غسل)ہے ابوحجاف کا نام داؤد بن ابو عوف ہے ، سفیان ثوری کہتے ہیں ، ہم سے ابوحجاف نے بیان کیا اور وہ پسندیدہ شخص ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ المَاءَ مِنَ المَاءِ،حدیث نمبر ١١٠،و حدیث نمبر ١١١،و حدیث نمبر ١١٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جسے احتلام یاد نہ ہو اور وہ تری پائے آپ نے فرمایا ، غسل کرے ،، اس کے بارے میں پوچھا گیا جسے احتلام تو یاد ہے لیکن اس نے (اپنے جسم یا کپڑے پر ) تری نہیں پائی ، آپ نے فرمایا ، اس پر غسل نہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! کیا یہ بات دیکھنے سے عورت پر بھی غسل ہے ؟ آپ نے فرمایا ،، ہاں ،، عورتیں ، مردوں ہی کی طرح ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں عبداللہ بن عمر نے عبیداللہ بن عمر سے حدیث عائشہ روایت کی کے جو تری پائے اور احتلام یاد نہ ہو ، یحییٰ بن سعید نے عبداللہ کو حفظ حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیا ، متعدد صحابہ کرام اور تابعین کا یہی قول ہے کہ جب آدمی نیند سے بیدار ہو اور تری پائے تو غسل کرے سفیان ثوری اور امام احمد کا بھی یہی خیال ہے بعض تابعی علامہ نے فرمایا کہ غسل اس صورت میں واجب ہوتا ہے جب منی کی تری ہو ، امام شافعی اور امام اسحٰق کا یہی قول ہے احتلام یاد ہو لیکن تری نہ پائے تو عام علماء کے نزدیک غسل واجب نہیں ہوتا (احناف کا بھی یہی مسلک ہے )۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِيمَنْ يَسْتَيْقِظُ فَيَرَى بَلَلًا وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا،حدیث نمبر ١١٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مزی کا حکم پوچھا تو آپ نے فرمایا مزی سے وضو اور منی سے غسل واجب ہوتا ہے ، اس باب میں حضرت مقداد بن اسود اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے حضرت علی سے یہ روایت کئ طرق سے مروی ہے کہ مزی سے وضو اور منی سے غسل ہے متعدد صحابہ کرام اور تابعین کا یہی قول ہے امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق (اور امام ابو حنیفہ) رحمہم اللّٰہ بھی اسی مسلک پر کاربند ہیں ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي المَنِيِّ وَالمَذْيِ،حدیث نمبر ١١٤)
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مزی کے باعث شدت اور مشقت برداشت کیا کرتا ، اور اکثر غسل کرتا چنانچہ ایک دفعہ میں نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کر کے اس کا حکم پوچھا آپ نے فرمایا ، اس سے صرف وضو کافی ہے میں نے عرض کیا ،، حضور ! اگر کپڑے کو مزی لگ جائے تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا جہاں مزی لگی ہو ایک چلو پانی اس پر چھڑک دو کافی ہے ،، امام ترمذی فرماتے ہیں ،، یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور یہ صرف محمدبن اسحٰق سے معروف ہے ، جس کپڑے کو مزی لگ جائے اس میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں ،، دھونا ضروری ہے ، امام شافعی اور امام اسحٰق کا یہی قول ہے بعض کے نزدیک صرف پانی کا چھڑک دینا کافی ہے امام احمد فرماتے ہیں میرے خیال میں صرف پانی کے چھینٹے دے دینا ہی کافی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي المَذْيِ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر ١١٥)
ھمام بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک شخص مہمان ہوا ، آپ نے اس کے لئے لحاف کا حکم دیا جس میں وہ سو گیا رات کو اسے احتلام ہوگیا چنانچہ اس نے اثر احتلام کے ساتھ واپس بھیجنے میں شرم محسوس کرتے ہوئے اسے پانی میں ڈبو کر بھیج دیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا صرف انگلیوں سے کھرچنا ہی کافی تھا میں نے کئی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے ( اثر احتلام کو ) انگلیوں سے رگڑا ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور کئ فقہاء کا یہی قول ہے جیسے سفیان ثوری ، احمد ، اور اسحٰق یہ کہتے ہیں کپڑے پر منی لگ جائے تو صرف کھرچنا کافی ہے دھونا ضروری نہیں ، ابراہیم اور ہمام بن الحارث کے واسطہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح اعمش کی روایت کی مثل مروی ہے ابو معشر نے بھی یہ حدیث ابراہیم اور اسود کے واسطہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ، اعمش کی روایت اصح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي المَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر ١١٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے منی کو دھویا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ پہلی حدیث کے مخالف نہیں اگرچہ کھرچنا اور رگڑ نا جائز ہے تاہم مستحب یہ ہے کہ کپڑے پر نشان نہ دکھائی دے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں منی ناک رینٹھ کی طرح ہے ، اسے اپنے (کپڑے) سے مٹا دے اگرچہ اذخر (گھاس) کے ساتھ ہی ہو۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ غَسْلِ المَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ،حدیث نمبر ١١٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم (بعض اوقات) حالت جنب میں آرام فرماتے ، اور پانی کو نہ چھوتے ، ہناد نے بواسطہ وکیع اور سفیان ابو اسحٰق سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ قول سعید بن مسیب وغیرہ کا ہے کئ راوی نے اسود کے واسطہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (جنابت کے بعد ) رات کو آرام فرمانے سے قبل غسل فرماتے اسود سے ابو اسحٰق کی روایت کی بہ نسبت یہ حدیث اصح ہے ابو اسحٰق سے شعبہ اور سفیان ثوری نے بھی یہ روایت ذکر کی ہے لیکن ان کے نزدیک ابو اسحٰق سے روایت میں غلطی واقع ہوئی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ فِي الجُنُبِ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ،حدیث نمبر ١١٨ و حدیث نمبر ١١٩)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، کیا ہم میں سے کوئی بھی حالت جنب میں سو سکتا ہے ، آپ نے فرمایا ، ہاں جب کہ وضو کر لے ، اس باب میں حضرت عمار ، عائشہ ، جابر ، ابو سعید اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت عمر کی حدیث احسن واضح ہے متعدد صحابہ ، تابعین ، سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی احمد ، اور اسحٰق کا بھی یہی قول ہے کہ جنبی جب سونے کا ارادہ کرے وضو کرلے ، (یہ سنت ہے فرض نہیں ، (مترجم) ( ترمذی شریف،ابواب الطہارۃ ،بابٌ فِي الوُضُوءِ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ،حدیث نمبر ١٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور وہ (ابوہریرہ) جنبی تھے ، فرماتے ہیں میں علیحدہ ہٹ گیا اور غسل کرکے حاضر ہوا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تو کہاں تھا ، (فرمایا) کہاں گیا تھا ؟ میں نے عرض کیا ، میں جنبی تھا آپ نے فرمایا مومن ناپاک نہیں ہوتا ، اس باب میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے کئی علماء نے جنبی سے مصافحہ میں رخصت دی ہے اور جنبی و حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي مُصَافَحَةِ الجُنُبِ،حدیث نمبر ١٢١)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، ام سلیم بنت ملحان ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، یا رسول اللہ ! بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں فرماتا تو کیا عورت پر بھی غسل ہے جب وہ خواب میں وہ چیز دیکھے جسے مرد دیکھتے ہیں (یعنی احتلام) آپ نے فرمایا ،، ہاں ،، جب عورت ، پانی ،(منی) دیکھے غسل کرے ، ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا اۓ ام سلیم تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ،عام فقہاء کا یہی مسلک ہے کہ عورت کو خواب میں احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے ، سفیان ثوری اور امام شافعی بھی اس کے قائل ہیں ، اس باب میں حضرت ام سلیم خولہ ، عائشہ اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي المَرْأَةِ تَرَى فِي المَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ،حدیث نمبر ١٢٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بارہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرما کر میرے پاس تشریف لاتے ، اور حرارت حاصل کرتے میں انہیں اپنے ساتھ چپٹا لیتی حالانکہ میں نے غسل نہیں کیا ہوتا تھا ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند میں کوئی خرابی نہیں اور متعدد صحابہ کرام وتابعین کا یہی قول ہے کہ جب مرد غسل کر لے تو عورت کے غسل کرنے سے پہلے اس سے گرمی حاصل کرنے اور اس کے ساتھ سونے میں کوئی حرج نہیں ، سفیان ثوری ، امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق کا یہی مذہب ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَسْتَدْفِئُ بِالمَرْأَةِ بَعْدَ الغُسْلِ،حدیث نمبر ١٢٣)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مسلمان کے لئے پاکیزگی ہے اگرچہ، بیس سال تک پانی نہ پائے جب پانی مل جائے تو جسم پر اسے استعمال کریں کیونکہ یہ بہتر ہے محمود نے اپنی روایت میں کہا ، پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے ، اس باب میں حضرت ابوہریرہ عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں اسی طرح کئ راوی نے باسط خالدخذاء ، ابو قلابہ اور عمرو بن بجدان ، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ایوب نے ابوقلابہ اور بنی عامر کے ایک شخص کے واسطہ سے حضرت ابوذر سے اس حدیث کو روایت کیا ، اس شخص کا نام نہیں لیا ، یہ حدیث حسن ہے اور عام فقہاء کا یہی قول ہے کہ جنبی اور حائضہ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کر کے نماز پڑھیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ جنبی کے لیے تیمم جائز نہیں سمجھتے اگرچہ پانی نہ ملتا ہو ، یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے اس قول سے رجوع کر لیا اور فرمایا کہ پانی نہ ملے تو تیمم کر لے ، سفیان ثوری ، امام مالک ، امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق کا یہی مذہب ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ التَّيَمُّمِ لِلْجُنُبِ إِذَا لَمْ يَجِدِ المَاءَ،حدیث نمبر ١٢٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فاطمہ بنت ابو جیش نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں مستحاضہ عورت ہوں اس لئے پاک نہیں رہتی کیا نماز چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں کیونکہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے حیض نہیں جب حیض آئے نماز چھوڑ دو ، جب ختم ہو جائے خون دھولو اور نماز ادا کرو ، ابو معاویہ اپنی روایت میں کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہر نماز کے لئے وضو کرو یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے ،، اس باب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے متعدد صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے ، سفیان ثوری ، امام مالک ، ابن مبارک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ جب مستحاضہ کے ایام حیض ختم ہو جائیں وہ غسل کرے اور ہر نماز کے لئے وضو کرے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي المُسْتَحَاضَةِ،حدیث نمبر ١٢٥)
عدی بن ثابت بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایام حیض میں نماز ترک کردے ، پھر غسل کرے اور ہر نماز کیلئے وضو کرے ، روزے رکھے ، اور نماز پڑھے ،، علی بن حجر نے بواسطہ شریک اسی کے ہم معنی روایت بیان کی امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث میں شریک بواسطہ یقظان متفرد ہے اور میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ یہ حدیث عدی بن ثابت نے بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کی ان کے دادا کا نام کیا تھا ؟ امام بخاری کو ان کا نام معلوم نہ تھا میں نے ان سے یحییٰ بن معین کا قول ذکر کیا کہ ان کا نام دینار تھا مگر امام بخاری نے اس کو بھی قابل اعتماد نہ سمجھا ، امام احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں مستحاضہ عورت کے لئے ہر نماز کے وقت غسل کرنے میں زیادہ احتیاط ہے اور ہر نماز کے لئے وضو جائز ہے اگر ایک ہی غسل سے دو نمازیں پڑھے تو بھی جائز ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ المُسْتَحَاضَةَ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر ١٢٦ و حدیث نمبر ١٢٧)
حمنۃ بنت جحش کہتی ہیں مجھے بہت زیادہ حیض آتا تھا ، میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے حاضر ہوئی آپ اس وقت میری ہمشیرہ زینب بنت جحش کے گھر تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے بہت زیادہ حیض آتا ہے جس نے نماز اور روزے سے روک رکھا ہے لہٰذا آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں آپ نے فرمایا میں نے تمہیں کرسف (گدی) رکھنے کا طریقہ بتایا ہے یہ خون کو روکتی ہے عرض کیا وہ اس سے زیادہ ہے ، آپ نے فرمایا ،، لگام کی طرح کپڑا باندھ لے ، عرض کیا ، اس سے بھی زیادہ ہے ، آپ نے فرمایا ،، (لگام کے نیچے) ایک کپڑا رکھ لو ) انہوں نے عرض کیا وہ اس سے بھی زیادہ ہے تو خون میں بہہ جاتی ہوں ،، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ، ان میں جو کر لوگی جائز ہے اگر دونوں کر سکو تو تم بہتر جانتی ہو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شیطان کی طرف سے ایک ٹھوکر ہے پس علم الٰہی میں اپنے آپ کو چھ یا سات دن حائضہ سمجھو پھر غسل کرلو اگر سمجھو کہ (حیض سے) پاک ہوگئی ہو تو تئیس یا چوبیس راتیں نماز پڑھو اور روزہ رکھو یہ تمہیں کافی ہے اور ان عورتوں کی طرح کرو جن کو وقت پر حیض آتا ہے اور مقررہ وقت پر پاک ہو جاتی ہیں اگر تم ظہر کو موخر اور عصر کو جلدی سے پڑھ سکو تو غسل کر کے دونوں نمازیں پاک ہو کر پڑھو ، مغرب کی نماز دیر سے اور عشاء کی جلدی پڑھو غسل کر کے دونوں نمازیں جمع کرو صبح کی نماز الگ غسل کر کے ادا کرو اسی طرح نماز پڑھتی رہو اور روزہ رکھو اگر کر سکو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ مجھے زیادہ پسند ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے عبید اللہ بن عمرو رقی ابن جریج اور شریک نے عبداللہ بن محمد عقیل ، ابراہیم بن محمد بن طلحہ اور ان کے چچا عمران کے واسطہ سے عمران کی ماں حمنہ سے روایت کیا ہے ، البتہ جریج نے عمران بن طلحہ کہا ، جبکہ صحیح نام عمران بن طلحہ ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ،، میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ، یہ حدیث حسن ہے ، امام احمد بن حنبل نے بھی اسی طرح اس کو حسن صحیح قرار دیا ، امام احمد اور امام اسحٰق فرماتے ہیں جب مستحاضہ عورت اپنے حیض کو خون کے آنے جانے سے پہچانتی ہو آتے وقت سیاہ رنگ کا ہوگا اور جاتے وقت زرد ہو تو اس حالت میں فاطمہ بنت ابی حبیش کی حدیث پر عمل ہوگا اور اگر مستحاضہ کے لئے ایام حیض متعین ہوں تو وہ ایام حیض میں نماز ترک کردے پھر غسل کرے اور ہر نماز کے لئے نیا وضو کرکے نماز پڑھے اور اگر خون مسلسل آئے اور ایام حیض مقرر نہ ہوں اور خون کے آنے جانے سے بھی حیض کا تعین نہ ہو سکے اس وقت حمنہ بنت جحش کی حدیث پر عمل ہوگا ، امام شافعی فرماتے ہیں جب مستحاضہ نے پہلی مرتبہ خون دیکھا اور وہ بند نہ ہوا بلکہ مسلسل جاری رہا تو وہ پندرہ دن کی نمازیں چھوڑ دے اگر پندرہ دن یا کم میں بند ہو جائے تو یہ حیض اگر اس سے آگے بڑھ جائے تو چودہ دن کی نماز قضا کرے اور آئندہ حیض کی کم از کم مدت یعنی ایک دن نماز چھوڑے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حیض کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک کم از کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہیں ، سفیان ثوری اور اہل کوفہ (امام ابو حنیفہ رح وغیرہ ) کا یہی مسلک ہے ابن مبارک بھی اسی کے قائل ہیں ، البتہ ان سے اس کے خلاف بھی روایت ہے ، بعض علماء جن میں عطاء بن ابی رباح بھی ہیں ، کہتے ہیں حیض کی کم از کم مدت ایک دن رات ہے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ (دن رات) ہے امام اوزاعی ، امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق اور ابو عبیدہ کا یہی مذہب ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي المُسْتَحَاضَةِ أَنَّهَا تَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر ١٢٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے فتوی پوچھتے ہوئے عرض کیا ،، میں مستحاضہ ہوں پاک نہیں رہتی کیا نماز چھوڑ دوں آپ نے فرمایا ، نہیں ،، یہ ایک رگ (کا خون) ہے غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو ، چنانچہ آپ ہر نماز کے لئے غسل کیا کرتی تھیں، قتیبہ، لیث کے واسطہ سے کہتے ہیں ابن شہاب نے یہ نہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ کو ہر نماز کے لئے وضو کا حکم فرمایا بلکہ وہ از خود ایسا کرتی تھی ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث بواسطہ زہری و عمرہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ا م حبیبہ بنت جحش نے فتویٰ پوچھا ، بعض علماء کہتے ہیں مستحاضہ ہر نماز کے لئے غسل کرے ، اوزاعی نے زہری ، عروہ اور عمرہ کے واسطہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي المُسْتَحَاضَةِ أَنَّهَا تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر ١٢٩)
حضرت معاذہ سے روایت ہے ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ،، کیا ہم ایام حیض کی نمازیں قضا کیا کریں ؟ ام المومنین نے پوچھا ، کیا تو خارجی ہے ؟ ہم میں سے کسی کو حیض آتا تو اسے ایام حیض کی نمازیں قضا کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کئی طریقوں سے مروی ہے کہ حائضہ ، نماز قضا نہ کرے عام فقہاء کا یہی مذہب ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حائضہ پر روزوں کی قضاء ہے نمازوں کی نہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَائِضِ أَنَّهَا لَا تَقْضِي الصَّلَاةَ،حدیث نمبر ١٣٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے فرمایا حائضہ اور جنبی قرآن پاک سے کچھ نہ پڑھیں ، اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ہم ابن عمر کی حدیث کو اسماعیل بن عیاش ، موسیٰ بن عقبہ اور نافع کے واسطہ سے پہچانتے ہیں جس میں حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھیں ، اکثر صحابہ ، تابعین اور بعد کے فقہاء سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے کہ حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں البتہ آیت کا ایک ٹکڑا یا حرف (جو قرآت نہیں کہلاتا ) پڑھ سکتے ہیں، تسبیح و تہلیل کے پڑھنے میں حائضہ اور جنبی کے لئے رخصت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے سنا انہوں نے فرمایا کہ اسماعیل بن عیاش اہل حجاز اور اہل عراق سے منکر حدیثیں روایت کرتا ہے گویا کہ ان (اہل حجاز و عراق ) سے اسماعیل بن عیاش کی ان روایات کو جن میں وہ منفرد ہے امام بخاری ضعیف کرار دیتے ہیں امام بخاری مزید کہتے ہیں البتہ اہل شام سے اسماعیل بن عیاش کی روایات معتبر ہیں امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں اسماعیل بن عیاش بقیہ سے بہتر ہیں بقیہ ثقہ راویوں سے منکر حدیثیں روایت کرتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ہیں امام احمد بن حنبل کا یہ قول مجھ سے احمد بن حسن نے بیان کیا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الجُنُبِ وَالحَائِضِ أَنَّهُمَا لَا يَقْرَآنِ القُرْآنَ،حدیث نمبر ١٣١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جب میں حائضہ ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے چادر باندھنے کا فرماتے اور پھر مجھ سے بوس و کنار فرماتے اس باب میں ام سلمہ اور میمونہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے اکثر صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق کا یہی مسلک ہے۔ ف:: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے بشرطیکہ اپنے نفس پر کنٹرول ہو (مترجم)۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي مُبَاشَرَةِ الحَائِضِ،حدیث نمبر ١٣٢)
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ عورت کے ساتھ کھانا کھانے کا مسئلہ پوچھا آپ نے فرمایا ،،، اس کے ساتھ کھا سکتے ہو ،، اس باب میں حضرت عائشہ اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں عبداللہ بن سعد کی حدیث حسن غریب ہے عام علماء کا یہی قول ہے کہ وہ حائضہ کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے البتہ اس کے وضو سے بچے ہوئے پانی میں اختلاف ہے بعض نے رخصت دی اور بعض نے اسے مکروہ کہا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي مُؤَاكَلَةِ الحَائِضِ وَسُؤْرِهَا،حدیث نمبر ١٣٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد سے چٹائی پکڑانے کا فرمایا ، میں نے عرض کیا ،، میں حائضہ ہوں ،، آپ نے فرمایا ،، تمہارا حیض ہاتھوں میں تو نہیں ،، اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے عام علماء کا یہی قول ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ حائضہ مسجد سے کو کوئی چیز پکڑ سکتی (جبکہ خود مسجد سے باہر ہو )۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَائِضِ تَتَنَاوَلُ الشَّيْءَ مِنَ المَسْجِدِ،حدیث نمبر ١٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے حائضہ سے ہمبستری کی یا عورت سے بدفعلی کی یا کاہن کے پاس گیا اس نے شریعت محمدیہ (علی صاحبہاالصلوتہ والسلام ) کا انکار کیا ، امام ترمذی فرماتے ہیں ہم اس حدیث کو صرف حکیم اثرم بواسطہ ابو تمیمہ جُہیمی ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے پہچانتے ہیں ، اہل علم کے نزدیک اس حدیث کا مطلب تنبیہ کرنا ہے کیوں کہ دوسری حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک مروی ہے کہ جو آدمی حائضہ سے ہمبستر ہو وہ ایک دینار صدقہ دے اگر یہ کفر ہوتا تو کفارہ کا حکم نہ دیا جاتا ، امام بخاری نے اسے سند کے اعتبار سے ضعیف قرار دیا ہے ، ابو تمیمہ جُہیمی کا نام نام طریف بن مجالد ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ إِتْيَانِ الحَائِضِ،حدیث نمبر ١٣٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی حائضہ عورت سے ہم بستر ہو وہ ایک دینار صدقہ کرے ،، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر (حیض کا) خون سرخ وہ تو (جماع کرنے پر) ایک دینار اور اگر زرد ہو تو نصف دینار(کفارہ ہے)امام ترمذی فرماتے ہیں،حائضہ عورتوں سے جماع کرنے کے کفارہ کی حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اور موقوفًا دونوں طرح مروی ہے بعض علماء کا یہی نظریہ ہے امام احمد اور امام اسحٰق بھی یہی کہتے ہیں ابن مبارک فرماتے ہیں وہ شخص بخشش طلب کرے اور اس پر کفارہ نہیں ، بعض تابعین جن میں سعید بن جبیر اور ابراہیم بھی ہیں سے بھی ابن مبارک کے قول کی مثل مروی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الكَفَّارَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر ١٣٦ و حدیث نمبر ١٣٧)
حضرت حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض لگی کپڑے کے بارےحکم پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، اسے کھرچو پھر انگلیوں سے رگڑ کر پانی بہا دو اور اس میں نماز پڑھو ، اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہما سے روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں خون دہونے کے سلسلے میں حضرت اسماء کی حدیث حسن صحیح ہے خون حیض والے کپڑے کو دھونے سے پہلے اس میں نماز پڑھنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض تابعین کا قول ہے کہ اگر ایک درہم کے برابر خون ہے اور دھونے سے پہلے اس میں نماز پڑھ لی تو اعادہ ہوگا بعض کہتے ہیں جب درہم سے زیادہ ہو تو لوٹائی جائے گی ، سفیان ثوری اور ابن مبارک کا یہی قول ہے بعض تابعین اور دیگر علماء فرماتے ہیں اعادہ واجب نہیں اگرچہ ایک درہم سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو امام احمد اور اسحٰق کا یہ قول ہے ، امام شافعی نے اس مسئلہ میں شدت اختیار کرتے ہوئے فرمایا ایک درہم سے کم ہو تو بھی دھونا واجب ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي غَسْلِ دَمِ الحَيْضِ مِنَ الثَّوْبِ،حدیث نمبر ١٣٨)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نفاس والی عورتیں (جن کے ہاں بچہ پیدا ہو ) چالیس دن انتظار کرتی تھی اور ہم اپنے چہروں پر چھائیوں کے لیے ورس(ایک خوشبودار گھاس) استعمال کرتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں ہم اس حدیث کو صرف ابو سہیل بواسطہ مسہ ازدیہ ، پہچانتے ہیں ابو سہیل کا نام کثیر بن زیاد ہے محمد بن اسماعیل بخاری فرماتے ہیں علی بن عبد الاعلٰی اور ابو سہیل دونوں ثقہ ہیں امام بخاری اس حدیث کو صرف ابو سہیل کی روایت سے ہی پہچانتے ہیں ، صحابہ کرام ، تابعین اور بعد کے فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نفاس والی عورتیں چالیس دن تک نماز چھوڑیں ہاں اس سے پہلے طہارت حاصل ہوجائے تو غسل کرکے نماز پڑھنا شروع کر دے ، اگر چالیس دن کے بعد بھی خون نظر آئے تو اکثر علماء کے نزدیک نماز نہ چھوڑیں ، اکثر فقہاء کا یہی قول ہے ، سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے ، حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے اس صورت میں پچاس دن ، اور عطاء بن ابی رباح سے ساٹھ دن کا قول منقول ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَمْ تَمْكُثُ النُّفَسَاءُ،حدیث نمبر ١٣٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی غسل سے تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے ، اس باب میں ابو رافع سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت انس کی روایت صحیح ہے متعدد علماء جن میں حضرت حسن بصری بھی ہیں کا یہی مذہب ہے کہ وضو کۓ بغیر دوبارہ جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں ، محمد بن یوسف نے اسے سفیان سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ ابو عروہ نے بواسطہ ابو خطاب ، حضرت انس سے روایت کیا ، ابو عروہ سے مراد معمر بن راشد اور ابو الخطاب سے مراد قتادہ بن دعامہ ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر ١٤٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ایک مرتبہ جماع کے بعد دوبارہ جماع کا ارادہ کرے اسے وضو کر لینا چاہیے ، اس باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ابو سعید خدری کی حدیث حسن صحیح ہے ، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے اور متعدد علماء اسی کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جماع کے بعد دوبارہ ارادہ ہو تو وضو کر لینا چاہیے ،،ابوالمتوکل کا نام علی بن داؤد اور ابو سعید خدری کا نام نام سعد بن مالک بن سنان ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعُودَ تَوَضَّأَ،حدیث نمبر ١٤١)
حضرت عروہ فرماتے ہیں نماز کھڑی ہوئی تو عبداللہ بن ارقم نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر اس کو آگے کردیا جب کہ حضرت عبداللہ بن ارقم قوم کے امام تھے ، انہوں نے فرمایا ،، نہیں نہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا حضور نے فرمایا جب نماز کھڑی ہونے لگے اور تم میں سے کسی کو قضائے حاجت درپیش ہو تو پہلے فارغ ہو لے ، اس باب میں حضرت عائشہ ، ابوہریرہ ثوبان اور ابو امامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں عبداللہ بن ارقم کی حدیث حسن صحیح ہے مالک بن انس یحییٰ بن سعید قطان اور کئ دوسرے حفاظ نے بواسطہ ہشام بن عروہ اور زید بن ارقم سے اسی طرح روایت کی ہے وہیب وغیرہ نے ہشام بن عروہ ، عروہ اور ایک دوسرے شخص کے حوالے سے زید بن ارقم سے روایت کیا ہے کئ صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے امام احمد اور امام اسحٰق فرماتے ہیں اگر پاخانہ اور پیشاب کی حاجت ہو تو نماز کے لئے نہ کھڑا ہو اور اگر دوران نماز ان میں سے کچھ محسوس ہو تو نماز توڑے جب تک کہ نماز میں خلل نہ واقع ہو ، بعض علماء کہتے ہیں ، جب تک نماز میں خلل واقع نہ ہو ، پیشاب و پاخانہ کی حاجت کے باوجود نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الخَلَاءَ فَلْيَبْدَأْ بِالخَلَاءِ،حدیث نمبر ١٤٢)
حضرت عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد کہتی ہیں میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا میرے دامن لمبے ہیں اور میں ناپاک جگہ پر چلتی ہوں (لہذا اس کا حکم بتائیں) ام المومنین نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بعد والی جگہ اس کو پاک کردیتی ہے عبداللہ بن مبارک نے یہ حدیث بواسطہ مالک بن انس ، محمدبن عمارہ ، محمد بن ابراہیم ، ہود بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد نے ام سلمہ سے روایت کی ہے اور یہ صحیح ہے اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے آپ فرماتے ہیں ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور گندے راستوں میں سے گزرنے پر وضو نہیں کرتے تھے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، کئ علماء کا یہی قول ہے فرماتے ہیں جب کوئی شخص گندے راستے سے گزرے تو قدموں کا دھونا واجب نہیں ، ہاں اگر گندگی تر ہو تو نجاست کی جگہ دھو ڈالے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الوُضُوءِ مِنَ المَوْطَإِ،حدیث نمبر ١٤٣)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چہرے اور ہتھیلیوں کے تیمم کا حکم فرمایا اس باب میں حضرت عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت عمار کی حدیث حسن صحیح ہے حضرت عمار سے متعدد طرق کے ساتھ مروی ہے متعدد صحابہ کرام جن میں حضرت علی ، عمار ، ابن عباس بھی ہیں کئ تابعین جن میں شعبی ، عطاء اور مکحول بھی ہیں کہتے ہیں تیمم چہرے اور ہاتھوں کے لئے صرف ایک بار ہاتھوں کو زمین پر مارنا ہے امام احمد اور امام اسحٰق بھی یہی کہتے ہیں بعض علماء جن میں جابر ، ابن عمر ، ابراہیم اور حسن ہیں ، کہتے ہیں تیمم دوضربیں ہیں ایک چہرے کے لئے اور ایک کہنیوں سمیت ہاتھوں کے لئے سفیان ثوری ، مالک ، ابن مبارک ، اور امام شافعی اور امام اعظم رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے ، حضرت عمار کے الفاظ ، ایک ضرب چہرے اور ہاتھوں کے لئے متعدد طرق سے مروی ہے ، اور حضرت عمار سے یہ بھی روایت ہے آپ نے فرمایا ہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مونڈھوں اور بغلوں تک تیمم کیا ، بعض علماء نے حضرت عمار کی ،، چہرے اور ہاتھوں کے لئے ایک ضرب ،، والی حدیث کو ،، کاندھوں اور بغلوں تک ،، والی حدیث کے سبب ضعیف قرار دیا ، اسحٰق بن ابراہیم کہتے ہیں حضرت عمار کی پہلی حدیث صحیح ہے اور دوسری حدیث جس میں بغلوں اور مونڈھوں کا ذکر ہے وہ اس پہلی حدیث کے مخالف نہیں کیونکہ حضرت عمار نے یہ نہیں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا بلکہ انہوں نے اپنا عمل بتایا ، اور جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے چہرے اور ہاتھوں کا حکم دیا ، اس کی دلیل حضرت عمار کا وہ فتویٰ ہے جو آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تیمم کے بارے میں دیا ، آپ نے فرمایا ، چہرہ اور ہاتھ ،، اس میں اس بات پر دلیل موجود ہے کہ آپ نے وہاں تک بتایا جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی ،، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تیمم کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا اللہ تعالی نے قرآن پاک میں وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ،، اپنے چہروں اور ہاتھوں کو (کہنیوں سمیت ) دھوو اور تیمم کے بارے میں فرمایا ،، چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو ،، اور فرمایا چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹو ہاتھوں کے کاٹنے میں کلائیوں تک کاٹنا سنت ہے ، لہذا تیمم میں اسی طرح حکم ہے ، کہ ہتھیلیوں کا مسح کیا جائے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر ١٤٤؟و حدیث نمبر ١٤٥)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حالت جنب کے سوا ہر حالت میں قرآن پاک پڑھاتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، متعدد صحابہ کرام اور تابعین یہی کہتے ہیں کہ آدمی بے وضو بھی (زبانی) قرآن پاک پڑھ سکتا ہے ، لیکن قرآن پاک میں (دیکھ کر) وضو کے بغیر نہیں پڑھ سکتا ، سفیان ثوری ، امام شافعی ، امام احمد ، امام اسحٰق (اور امام اعظم ابو حنیفہ) رحیم اللہ کا یہی قول ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَقْرَأُ القُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا،حدیث نمبر ١٤٦)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ایک اعرابی مسجد نبوی میں داخل ہوا نبی کریم رؤف الرحیم علیہ التحیۃ والتسلیم تشریف فرما تھے اعرابی نے نماز پڑھی اور فراغت کے بعد اس طرح دعا مانگی،اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی دوسرے پر رحم نہ کر ،، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا تو نے اللہ تعالی کی وسیع رحمت کو تنگ خیال کیا ، تھوڑی ہی دیر میں اس نے مسجد میں پیشاب کردیا صحابہ کرام اس کی طرف دوڑے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس پر ایک ڈول پانی ڈالو ،، پھر فرمایا ،، تمہیں آسانی کے لئے بھیجا گیا تنگی اور سختی کے لئے نہیں ،، حضرت سعید بن عبدالرحمن فرماتے ہیں سفیان نے بواسطہ یحییٰ بن سعید ، انس بن مالک سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ، ابن عباس اور واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰق کا بھی یہی قول ہے اور یونس نے اس حدیث کو بواسطہ زہری ، عبیداللہ بن عبداللہ ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي البَوْلِ يُصِيبُ الأَرْضَ،حدیث نمبر ١٤٧ و حدیث نمبر ١٤٨)
Tirmizi Shareef : Abwabut Taharat
|
Tirmizi Shareef : أبواب الطهارة
|
•