
گناہ میں نذر نہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گناہ میں نذر اور پورا کرنا جائز نہیں۔ اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، اس باب میں حضرت ابن عمر، جابر اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث صحیح نہیں کیونکہ زہری نے ابو سلمہ سے یہ حدیث نہیں سنی میں امام ترمذی نے امام بخاری سے سنا وہ فرماتے ہیں یہ حدیث متعدد لوگوں سے مروی ہے ان میں موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی عتیق شامل ہیں جو بواسطہ زہری سلیمان بن ارقم یحیٰی بن ابی کثیر ابو سلمہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں حدیث یہی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۲۹،مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم اَنْ لاَ نَذْرَ فِیْ مَعْصِيةٍ،جلد۱ص۷۵۸،حديث نمبر ١٥٢٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کی نافرمانی میں نذر پوری نہیں کی جائے گی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، یہ حدیث غریب ہے اور ابو صفوان بواسطہ یونس کی روایت سے اصح ہے ابو صفوان مکی ہے اور ان کا نام عبداللہ بن سعید ہے حمیدی اور کئی دوسرے اکابر محدثین نے ان سے روایت کیا ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ گناہ سے تعلق نذر پوری نہیں کی جائے گی اور اس کا کچھ کفارہ نہیں امام احمد و اسحاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالٰی کی اطاعت کی نذر مانے اسے اطاعت کرنی چاہیے اور جو آدمی اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی نذر مانے اسے نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ان دونوں نے زہری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے وہ ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ،حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں، ۵- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: معصیت میں کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں،امام مالک اور شافعی کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۲۹،مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم اَنْ لاَ نَذْرَ فِیْ مَعْصِيةٍ،جلد۱ص۷۵۸،حديث نمبر ١٥٢٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالٰی کی اطاعت کی نذر مانے اسے اطاعت کرنی چاہیے اور جو آدمی اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی نذر مانے اسے نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ عبید اللہ بن عمر، طلحہ بن عبدالملک ایلی،قاسم بن محمد اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے یحیٰی بن ابی کثیر نے اسے قاسم بن محمد سے روایت کیا بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم اسی کے قائل ہیں امام مالک اور شافعی کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی نافرمانی نہ کرے لیکن اس میں قسم والا کفارہ بھی نہیں یعنی جبکہ گناہ کی نذر مانی ہو۔ (امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک کفارہ دینا پڑے گا جس طرح اس سے پہلے حدیث گزر چکی۔ مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۲۹،مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم اَنْ لاَ نَذْرَ فِیْ مَعْصِيةٍ،جلد۱ص۷۵۸،حديث نمبر ٢٥٢٦)
جو چیز ملکیت میں نہ ہو اس کی نذر کا حکم حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان جس چیز کا مالک نہیں اس کی نذر پوری کرنا ضروری نہیں ،اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۰،لا نَذْرَ فِی مَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ،جلد۱ص۱۵۹،حديث نمبر ١٥٢٧)
نذر غیر معین کا کفارہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر غیر معین کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والا یمان،باب۱۰۳۱،فِی كَفَّارَةِ النَّذْرِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ،جلد۱ص۷۶۰،حديث نمبر ١٥٢٨)
قسم کے خلاف بہتر چیز دیکھنے پر کیا کرے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبدالرحمٰن حکومت مت مانگو اگر تمہیں مانگنے سے ملی تو تم اسی کو سونپ دے جاؤ گے اور اگر مانگے بغیر ملے گی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب کسی بات پر قسم کھاؤ پھر اس کے خلاف کرنے میں بہتری دیکھو تو جو بہتر ہے اسے کرو اور قسم کا کفارہ ادا کرو، اس باب میں حضرت عدی بن حاتم، ابو الدرداء ،انس، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ام سلمہ اور ابو موسٰی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں عبدالرحمٰن بن سمرہ کی روایت حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۲، فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَاخَيْرًا مِنْهَا،جلد۱ص۷۶۰،حديث نمبر ١٥٢٩)
قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے کسی بات پر قسم کھائی پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھی تو چاہیے کہ قسم کا کفارہ دے اور اس کے خلاف کرے، اس باب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے، اکثر صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینا جائز ہے، امام مالک، شافعی ،احمد اور اسحاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں بعض علماء فرماتے ہیں قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا نہ کرے سفیان ثوری فرماتے ہیں قسم توڑنے کے بعد ادا کرنا مجھے پسند ہے اور پہلے ادا کرنا کافی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۳،فِي الْكَفَّارَةِ قَبْلَ الْحِنْثِ،جلد۱ص۷۶۰،حديث نمبر ١٥٣٠)
قسم میں استثناء کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے قسم کھائی اور انشاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہا تو وہ حانث نہیں ہوگا یعنی توڑنے پر کفارہ نہ ہوگا) اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ابن عمر کی روایت حسن ہے عبید اللہ بن عمر وغیرہ نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفًا روایت کی ہے سالم نے بھی حضرت ابن عمر سے اسی طرح موقوف روایت کی ہم ایوب سختیانی کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں جانتے جس نے مرفوعاً روایت کی ہو اسماعیل بن ابراہیم کہتے ہیں ایوب کبھی مرفوع بیان کرتے ہیں اور کبھی غیر مرفوع اکثر صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ قسم کے ساتھ ملا کر انشاءاللہ کہنے پر حانث نہ ہوگا سفیان ثوری،اوزاعی، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی ،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،،باب۱۰۳۴،فِی الْإِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمْنِ -جلد۱ص۷۶۱،حديث نمبر ١٥٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے قسم کھاتے ہوئے۔ انشاء اللہ کہا وہ حانث نہ ہوگا،میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس حدیث میں خطاء ہے اور وہ خطاء عبدالرزاق سے سرزد ہوئی معمر کی روایت سے مختصر بیان کر دی پوری حدیث یوں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے فرمایا میں آج رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر عورت ایک بچہ جنے گی چنانچہ وہ ان عورتوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوا اس نے بھی نصف بچہ جنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ انشاءاللہ کہتے تو جیسے کہا تھا اسی طرح ہو جاتا، عبدالرزاق نے بواسطہ معمر اور ابن طاؤس سے اسی طرح طویل حدیث روایت کی اور ستر عورتوں والا قول نقل کیا یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دیگر طرق سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت داؤد بن سلیمان علیہم السلام نے فرمایا میں آج رات ایک سو عورتوں کے پاس جاؤں گا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،،باب۱۰۳۴،فِی الْإِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمْنِ -جلد۱ص۷۶۱،حديث نمبر ١٥٣٢)
غیر اللہ کی قسم کھانا حضرت سالم اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا خبردار اللہ تعالٰی نے تمہیں اپنے باپ کی قسم کھانے سے منع فرمایا ،حضرت عمر فرماتے ہیں اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے کبھی بھی یہ قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے نہ کسی اور کی طرف سے ،اس باب میں حضرت ثابت بن ضحاک،ابن عباس، ابو ہریرہ،قتیلہ، اور عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابو عبید فرماتے ہیں۔،، لااٰثِرًا،،، کا مطلب یہ ہے کہ غیر کی طرف سے حکایت کرتے ہوئے بھی یہ قسم نہیں کھائی یعنی غیر کی طرف سے ذکر نہیں کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۵،فِی كَرَاهِيَةِ الْحَلْفِ بِغَيْرِ اللهِ،جلد۱ص۷۶۲،حديث نمبر ١٥٣٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سواروں کی جماعت میں اس حال میں پایا کہ وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی تمہیں اپنے باپ کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے قسم کھانے والا یا تو اللہ تعالٰی کی قسم کھائے یا خاموش رہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۵،فِی كَرَاهِيَةِ الْحَلْفِ بِغَيْرِ اللهِ،جلد۱ص۷۶۲،حديث نمبر ١٥٣٤)
حضرت سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو کعبۃ اللہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا غیر اللہ کی قسم مت کھاؤ بے شک میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا، یہ حدیث حسن ہے اور بعض علماء کے نزدیک اس کی تفسیر یہ ہے کہ کفر و شرک سے محض سختی مراد ہے اور اس کی دلیل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا خبردار اللہ تعالٰی نے تمہیں باپ کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے آپ نے فرمایا جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھائے اسے لا الہ الا اللہ کہنا چاہیے اور یہ اسی طرح ہے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ریا شرک ہے بعض علماء نے اس آیت،، مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صالحًا،، کی تفسیر میں کہا ہے کہ کسی کو دکھانے کے لیے نہ کرے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۶،جلد۱ص۷۶۳،حديث نمبر ١٥٣٥)
پیادہ چلنے کی قسم کھانا اور اس کی طاقت نہ رکھنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ کی طرف پیدل جائے گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی اس کے پیدل چلنے سے بے پرواہ ہے اسے کہو کہ سوار ہو جائے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث انس حسن صحیح غریب ہے۔ بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب عورت (حج کو پیدل) چل کر جانے کی نذر مان لے تو وہ سوار ہو جائے اور ایک بکری دم میں دے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۷،فِی مَنْ يَحْلِفُ بِالمَشَّىِْ وَلَا يَسْتَطِيعُ،جلد۱ص۷۶۳،حديث نمبر ١٥٣٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بوڑھے کے پاس سے گزرے جو کمزوری کے سبب اپنے بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا آپ نے فرمایا اسے کیا ہوا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی اس کے اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلا کرنے سے بے نیاز ہے راوی فرماتے ہیں پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔ ایک اور سند سے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۷،فِی مَنْ يَحْلِفُ بِالمَشَّىِْ وَلَا يَسْتَطِيعُ،جلد۱ص۷۶۳،حديث نمبر ١٥٣٧)
نذر کی کراہیت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر نہ مانو کیونکہ نذر تقدیر سے کچھ فائدہ نہیں دیتی بس اس کے ذریعہ بخیل سے کچھ مان نکال لیا جاتا ہے، اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے،حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے، بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ نذر مکروہ ہے حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں فرمانبرداری اور نافرمانی دونوں طرح کی نذر مکروہ ہے اگر کوئی شخص اطاعت کی نذر مانے پھر اسے پورا کرے تو اسے ثواب حاصل ہوگا اگرچہ اس کے لیے نذر مکروہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۸،كَرَاهِيَةِ النُّذُور،جلد۱ص۷۶۴،حديث نمبر ١٥٣٨)
نذر کا پورا کرنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے دور جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف بیٹھوں گا آپ نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو، اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو، ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث عمر حسن صحیح ہے، بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص اسلام لائے اور اس کے ذمہ نیکی و عبادت کی نذر ہو تو اسے پورا کرے بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم فرماتے ہیں روزے کے بغیر اعتکاف صحیح نہیں جبکہ دوسرے علماء فرماتے ہیں معتکف کے ذمہ روزہ نہیں البتہ یہ کہ وہ خود اپنے ذمہ واجب کر لے انہوں نے حدیث عمر سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے دور جاہلیت میں مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پورا کرنے کا حکم دیا امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۹،في وَفَاء النَّذْرِ،جلد۱ص۶۷۵،حدیث نمبر ١٥٣٩)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے قسم کھاتے تھے۔ حضرت سالم اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ قسم کھایا کرتے تھے دلوں کو پھیرنے والے کی قسم، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۴۰،كَيْفَ كَانَ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،جلد۱ص۷۶۵،حديث نمبر ١٥٤٠)
Tirmizi Shareef : Abwabun Nuzoori Wal Aimani
|
Tirmizi Shareef : ابواب النذور والایمان
|
•