asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabun Nuzoori Wal Aimani

From 1524 to 1547

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

گناہ میں نذر نہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گناہ میں نذر اور پورا کرنا جائز نہیں۔ اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، اس باب میں حضرت ابن عمر، جابر اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث صحیح نہیں کیونکہ زہری نے ابو سلمہ سے یہ حدیث نہیں سنی میں امام ترمذی نے امام بخاری سے سنا وہ فرماتے ہیں یہ حدیث متعدد لوگوں سے مروی ہے ان میں موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی عتیق شامل ہیں جو بواسطہ زہری سلیمان بن ارقم یحیٰی بن ابی کثیر ابو سلمہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں حدیث یہی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۲۹،مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم اَنْ لاَ نَذْرَ فِیْ مَعْصِيةٍ،جلد۱ص۷۵۸،حديث نمبر ١٥٢٤)

باب مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَجَابِرٍ , وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ لِأَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ مُحَمَّدٌ , وَالْحَدِيثُ هُوَ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1524

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کی نافرمانی میں نذر پوری نہیں کی جائے گی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، یہ حدیث غریب ہے اور ابو صفوان بواسطہ یونس کی روایت سے اصح ہے ابو صفوان مکی ہے اور ان کا نام عبداللہ بن سعید ہے حمیدی اور کئی دوسرے اکابر محدثین نے ان سے روایت کیا ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ گناہ سے تعلق نذر پوری نہیں کی جائے گی اور اس کا کچھ کفارہ نہیں امام احمد و اسحاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالٰی کی اطاعت کی نذر مانے اسے اطاعت کرنی چاہیے اور جو آدمی اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی نذر مانے اسے نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ان دونوں نے زہری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے وہ ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ،حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں، ۵- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: معصیت میں کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں،امام مالک اور شافعی کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۲۹،مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم اَنْ لاَ نَذْرَ فِیْ مَعْصِيةٍ،جلد۱ص۷۵۸،حديث نمبر ١٥٢٥)

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل التِّرْمِذِيُّ وَاسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَفْوَانَ , عَنْ يُونُسَ , وَأَبُو صَفْوَانَ هُوَ: مَكِّيٌّ , وَاسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ الْحُمَيْدِيُّ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ جُلَّةِ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وقَالَ: قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ , وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَلَا كَفَّارَةَ فِي ذَلِكَ , وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ , وَالشَّافِعِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1525

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالٰی کی اطاعت کی نذر مانے اسے اطاعت کرنی چاہیے اور جو آدمی اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی نذر مانے اسے نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ عبید اللہ بن عمر، طلحہ بن عبدالملک ایلی،قاسم بن محمد اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے یحیٰی بن ابی کثیر نے اسے قاسم بن محمد سے روایت کیا بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم اسی کے قائل ہیں امام مالک اور شافعی کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی نافرمانی نہ کرے لیکن اس میں قسم والا کفارہ بھی نہیں یعنی جبکہ گناہ کی نذر مانی ہو۔ (امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک کفارہ دینا پڑے گا جس طرح اس سے پہلے حدیث گزر چکی۔ مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۲۹،مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم اَنْ لاَ نَذْرَ فِیْ مَعْصِيةٍ،جلد۱ص۷۵۸،حديث نمبر ٢٥٢٦)

باب مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ , وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ " , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ , وَالشَّافِعِيُّ , قَالُوا: لَا يَعْصِي اللَّهَ وَلَيْسَ فِيهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ إِذَا كَانَ النَّذْرُ فِي مَعْصِيَةٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1526

جو چیز ملکیت میں نہ ہو اس کی نذر کا حکم حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان جس چیز کا مالک نہیں اس کی نذر پوری کرنا ضروری نہیں ،اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۰،لا نَذْرَ فِی مَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ،جلد۱ص۱۵۹،حديث نمبر ١٥٢٧)

باب مَا جَاءَ لاَ نَذْرَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ , عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1527

نذر غیر معین کا کفارہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر غیر معین کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والا یمان،باب۱۰۳۱،فِی كَفَّارَةِ النَّذْرِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ،جلد۱ص۷۶۰،حديث نمبر ١٥٢٨)

باب مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ النَّذْرِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَفَّارَةُ النَّذْرِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1528

قسم کے خلاف بہتر چیز دیکھنے پر کیا کرے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبدالرحمٰن حکومت مت مانگو اگر تمہیں مانگنے سے ملی تو تم اسی کو سونپ دے جاؤ گے اور اگر مانگے بغیر ملے گی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب کسی بات پر قسم کھاؤ پھر اس کے خلاف کرنے میں بہتری دیکھو تو جو بہتر ہے اسے کرو اور قسم کا کفارہ ادا کرو، اس باب میں حضرت عدی بن حاتم، ابو الدرداء ،انس، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ام سلمہ اور ابو موسٰی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں عبدالرحمٰن بن سمرہ کی روایت حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۲، فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَاخَيْرًا مِنْهَا،جلد۱ص۷۶۰،حديث نمبر ١٥٢٩)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ يُونُسَ هُوَ: ابْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ , لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أَتَتْكَ عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا , وَإِنْ أَتَتْكَ عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا , وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا , فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " , وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَجَابِرٍ , وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَأَنَسٍ , وَعَائِشَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأُمِّ سَلَمَةَ , وَأَبِي مُوسَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1529

قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے کسی بات پر قسم کھائی پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھی تو چاہیے کہ قسم کا کفارہ دے اور اس کے خلاف کرے، اس باب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے، اکثر صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینا جائز ہے، امام مالک، شافعی ،احمد اور اسحاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں بعض علماء فرماتے ہیں قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا نہ کرے سفیان ثوری فرماتے ہیں قسم توڑنے کے بعد ادا کرنا مجھے پسند ہے اور پہلے ادا کرنا کافی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۳،فِي الْكَفَّارَةِ قَبْلَ الْحِنْثِ،جلد۱ص۷۶۰،حديث نمبر ١٥٣٠)

باب مَا جَاءَ فِي الْكَفَّارَةِ قَبْلَ الْحِنْثِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ , فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا , فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلْ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنَّ الْكَفَّارَةَ قَبْلَ الْحِنْثِ تُجْزِئُ , وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يُكَفِّرُ إِلَّا بَعْدَ الْحِنْثِ , قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: إِنْ كَفَّرَ بَعْدَ الْحِنْثِ أَحَبُّ إِلَيَّ , وَإِنْ كَفَّرَ قَبْلَ الْحِنْثِ أَجْزَأَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1530

قسم میں استثناء کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے قسم کھائی اور انشاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہا تو وہ حانث نہیں ہوگا یعنی توڑنے پر کفارہ نہ ہوگا) اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ابن عمر کی روایت حسن ہے عبید اللہ بن عمر وغیرہ نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفًا روایت کی ہے سالم نے بھی حضرت ابن عمر سے اسی طرح موقوف روایت کی ہم ایوب سختیانی کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں جانتے جس نے مرفوعاً روایت کی ہو اسماعیل بن ابراہیم کہتے ہیں ایوب کبھی مرفوع بیان کرتے ہیں اور کبھی غیر مرفوع اکثر صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ قسم کے ساتھ ملا کر انشاءاللہ کہنے پر حانث نہ ہوگا سفیان ثوری،اوزاعی، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی ،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،،باب۱۰۳۴،فِی الْإِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمْنِ -جلد۱ص۷۶۱،حديث نمبر ١٥٣١)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , حَدَّثَنِي أَبِي , وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَقَدِ اسْتَثْنَى , فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَدْ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَغَيْرُهُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , مَوْقُوفًا , وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , مَوْقُوفًا وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ , وقَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَكَانَ أَيُّوبُ أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ , وَأَحْيَانًا لَا يَرْفَعُهُ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ إِذَا كَانَ مَوْصُولًا بِالْيَمِينِ , فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَالْأَوْزَاعِيِّ , وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1531

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے قسم کھاتے ہوئے۔ انشاء اللہ کہا وہ حانث نہ ہوگا،میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس حدیث میں خطاء ہے اور وہ خطاء عبدالرزاق سے سرزد ہوئی معمر کی روایت سے مختصر بیان کر دی پوری حدیث یوں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے فرمایا میں آج رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر عورت ایک بچہ جنے گی چنانچہ وہ ان عورتوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوا اس نے بھی نصف بچہ جنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ انشاءاللہ کہتے تو جیسے کہا تھا اسی طرح ہو جاتا، عبدالرزاق نے بواسطہ معمر اور ابن طاؤس سے اسی طرح طویل حدیث روایت کی اور ستر عورتوں والا قول نقل کیا یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دیگر طرق سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت داؤد بن سلیمان علیہم السلام نے فرمایا میں آج رات ایک سو عورتوں کے پاس جاؤں گا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،،باب۱۰۳۴،فِی الْإِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمْنِ -جلد۱ص۷۶۱،حديث نمبر ١٥٣٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ , لَمْ يَحْنَثْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل , عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ , فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ , أَخْطَأَ فِيهِ عَبْدُ الرَّزَّاقِ , اخْتَصَرَهُ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ , قَالَ , لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً , تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ غُلَامًا , فَطَافَ عَلَيْهِنَّ , فَلَمْ تَلِدِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ , إِلَّا امْرَأَةٌ نِصْفَ غُلَامٍ " , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ , لَكَانَ كَمَا قَالَ " , هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , هَذَا الْحَدِيثُ بِطُولِهِ , وَقَالَ: سَبْعِينَ امْرَأَةً , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1532

غیر اللہ کی قسم کھانا حضرت سالم اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا خبردار اللہ تعالٰی نے تمہیں اپنے باپ کی قسم کھانے سے منع فرمایا ،حضرت عمر فرماتے ہیں اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے کبھی بھی یہ قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے نہ کسی اور کی طرف سے ،اس باب میں حضرت ثابت بن ضحاک،ابن عباس، ابو ہریرہ،قتیلہ، اور عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابو عبید فرماتے ہیں۔،، لااٰثِرًا،،، کا مطلب یہ ہے کہ غیر کی طرف سے حکایت کرتے ہوئے بھی یہ قسم نہیں کھائی یعنی غیر کی طرف سے ذکر نہیں کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۵،فِی كَرَاهِيَةِ الْحَلْفِ بِغَيْرِ اللهِ،جلد۱ص۷۶۲،حديث نمبر ١٥٣٣)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللَّهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي , فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " , فَقَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ , مَا حَلَفْتُ بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَقُتَيْلَةَ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , قَالَ أَبُو عِيسَى , قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ , مَعْنَى قَوْلِهِ: وَلَا آثِرًا , أَيْ: لَمْ آثُرْهُ عَنْ غَيْرِي , يَقُولُ: لَمْ أَذْكُرْهُ عَنْ غَيْرِي.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1533

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سواروں کی جماعت میں اس حال میں پایا کہ وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی تمہیں اپنے باپ کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے قسم کھانے والا یا تو اللہ تعالٰی کی قسم کھائے یا خاموش رہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۵،فِی كَرَاهِيَةِ الْحَلْفِ بِغَيْرِ اللهِ،جلد۱ص۷۶۲،حديث نمبر ١٥٣٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ وَهُوَ فِي رَكْبٍ , وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ , لِيَحْلِفْ حَالِفٌ بِاللَّهِ , أَوْ لِيَسْكُتْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1534

حضرت سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو کعبۃ اللہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا غیر اللہ کی قسم مت کھاؤ بے شک میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا، یہ حدیث حسن ہے اور بعض علماء کے نزدیک اس کی تفسیر یہ ہے کہ کفر و شرک سے محض سختی مراد ہے اور اس کی دلیل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا خبردار اللہ تعالٰی نے تمہیں باپ کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے آپ نے فرمایا جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھائے اسے لا الہ الا اللہ کہنا چاہیے اور یہ اسی طرح ہے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ریا شرک ہے بعض علماء نے اس آیت،، مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صالحًا،، کی تفسیر میں کہا ہے کہ کسی کو دکھانے کے لیے نہ کرے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۶،جلد۱ص۷۶۳،حديث نمبر ١٥٣٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَا , وَالْكَعْبَةِ , فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا يُحْلَفُ بِغَيْرِ اللَّهِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَفُسِّرَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , أَنَّ قَوْلَهُ: " فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ " , عَلَى التَّغْلِيظِ وَالْحُجَّةُ , فِي ذَلِكَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعَ عُمَرَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي , فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ "، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى , فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الرِّيَاءَ شِرْكٌ , وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذِهِ الْآيَةَ: فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا سورة الكهف آية 110 قَالَ: لَا يُرَائِي.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1535

پیادہ چلنے کی قسم کھانا اور اس کی طاقت نہ رکھنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ کی طرف پیدل جائے گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی اس کے پیدل چلنے سے بے پرواہ ہے اسے کہو کہ سوار ہو جائے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث انس حسن صحیح غریب ہے۔ بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب عورت (حج کو پیدل) چل کر جانے کی نذر مان لے تو وہ سوار ہو جائے اور ایک بکری دم میں دے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۷،فِی مَنْ يَحْلِفُ بِالمَشَّىِْ وَلَا يَسْتَطِيعُ،جلد۱ص۷۶۳،حديث نمبر ١٥٣٦)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَحْلِفُ بِالْمَشْىِ وَلاَ يَسْتَطِيعُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: نَذَرَتِ امْرَأَةٌ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ , فَسُئِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِهَا مُرُوهَا فَلْتَرْكَبْ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَقَالُوا: إِذَا نَذَرَتِ امْرَأَةٌ أَنْ تَمْشِيَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ شَاةً.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1536

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بوڑھے کے پاس سے گزرے جو کمزوری کے سبب اپنے بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا آپ نے فرمایا اسے کیا ہوا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی اس کے اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلا کرنے سے بے نیاز ہے راوی فرماتے ہیں پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔ ایک اور سند سے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۷،فِی مَنْ يَحْلِفُ بِالمَشَّىِْ وَلَا يَسْتَطِيعُ،جلد۱ص۷۶۳،حديث نمبر ١٥٣٧)

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْخٍ كَبِيرٍ يَتَهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ , فَقَالَ: " مَا بَالُ هَذَا " , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ " , قَالَ: " فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ " , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1537

نذر کی کراہیت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر نہ مانو کیونکہ نذر تقدیر سے کچھ فائدہ نہیں دیتی بس اس کے ذریعہ بخیل سے کچھ مان نکال لیا جاتا ہے، اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے،حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے، بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ نذر مکروہ ہے حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں فرمانبرداری اور نافرمانی دونوں طرح کی نذر مکروہ ہے اگر کوئی شخص اطاعت کی نذر مانے پھر اسے پورا کرے تو اسے ثواب حاصل ہوگا اگرچہ اس کے لیے نذر مکروہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۸،كَرَاهِيَةِ النُّذُور،جلد۱ص۷۶۴،حديث نمبر ١٥٣٨)

باب فِي كَرَاهِيَةِ النَّذْرِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنْذِرُوا , فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا , وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , كَرِهُوا النَّذْرَ , وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: مَعْنَى الْكَرَاهِيَةِ فِي النَّذْرِ: فِي الطَّاعَةِ وَالْمَعْصِيَةِ , وَإِنْ نَذَرَ الرَّجُلُ بِالطَّاعَةِ فَوَفَّى بِهِ , فَلَهُ فِيهِ أَجْرٌ , وَيُكْرَهُ لَهُ النَّذْرُ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1538

نذر کا پورا کرنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے دور جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف بیٹھوں گا آپ نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو، اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو، ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث عمر حسن صحیح ہے، بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص اسلام لائے اور اس کے ذمہ نیکی و عبادت کی نذر ہو تو اسے پورا کرے بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم فرماتے ہیں روزے کے بغیر اعتکاف صحیح نہیں جبکہ دوسرے علماء فرماتے ہیں معتکف کے ذمہ روزہ نہیں البتہ یہ کہ وہ خود اپنے ذمہ واجب کر لے انہوں نے حدیث عمر سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے دور جاہلیت میں مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پورا کرنے کا حکم دیا امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۳۹،في وَفَاء النَّذْرِ،جلد۱ص۶۷۵،حدیث نمبر ١٥٣٩)

باب مَا جَاءَ فِي وَفَاءِ النَّذْرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عُمَرَ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , قَالَ: " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ , قَالُوا: إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ , وَعَلَيْهِ نَذْرُ طَاعَةٍ , فَلْيَفِ بِهِ , وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: لَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ , وقَالَ آخَرُونَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ عَلَى الْمُعْتَكِفِ صَوْمٌ , إِلَّا أَنْ يُوجِبَ عَلَى نَفْسِهِ صَوْمًا , وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ عُمَرَ أَنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَفَاءِ , وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1539

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے قسم کھاتے تھے۔ حضرت سالم اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ قسم کھایا کرتے تھے دلوں کو پھیرنے والے کی قسم، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۴۰،كَيْفَ كَانَ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،جلد۱ص۷۶۵،حديث نمبر ١٥٤٠)

باب مَا جَاءَ كَيْفَ كَانَ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " كَثِيرًا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ بِهَذِهِ الْيَمِينِ , لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1540

غلام آزاد کرنے کا ثواب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے مومن غلام آزاد کیا اللہ تعالی اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ایک ایک عضو کو دوزخ سے آزاد فرمائے گا یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ کو بھی آزاد کرے گا، اس باب میں حضرت عائشہ، عمرو بن عبسہ،ابن عباس، واثلہ بن اسقع،ابو امامہ، کعب بن مرہ اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے، اس طریق سے غریب ہے، ابن الھاد کا نام یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد ہے وہ مدینی ہیں اور ثقہ ہیں حضرت مالک بن انس اور دیگر اہل علم نے اس سے روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۴۱،فِي ثَوَابِ مَنْ اَعْتَقَ رَقَبَۃً،جلد۱ص۷۶۵،حديث نمبر ١٥٤١)

باب مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، أَعْتَقَ اللَّهُ مِنْهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ، حَتَّى يَعْتِقَ فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَابْنُ الْهَادِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ وَهُوَ مَدَنِيٌّ ثِقَةٌ، قَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1541

خادم کو طمانچہ مارنے کا کفارہ حضرت سوید بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ ہم سات بھائیوں کی ایک ہی خادمہ تھی ہم میں سے ایک نے اسے طمانچہ مارا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ اسے آزاد کر دے، اس باب میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے متعدد افراد نے اسے حضرت حصین بن عبدالرحمٰن سے روایت کیا ہے بعض نے اس حدیث میں یہ بیان کیا کہ اس نے منہ پر طمانچہ مارا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۴۲،فِی الرَّجُلِ يَلْطُمُ خَادِمَہٗ،جلد۱ص۷۶۶،حديث نمبر ١٥٤٢)

باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَلْطِمُ خَادِمَهُ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَبْعَةَ إِخْوَةٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا " قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: " لَطَمَهَا عَلَى وَجْهِهَا ".

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1542

حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اسی طرح ہے جیسا اس نے کہا ،یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ جب کوئی شخص کسی غیر اسلامی ملت کی قسم کھائی اور کہے اگر میں فلاں کام کروں تو یہودی ہوں یا عیسائی پھر اس نے وہ کام کیا تو بعض فرماتے ہیں اس نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا لیکن اس پر کفارہ نہیں یہ قول اہل مدینہ کا ہے اور مالک بن انس بھی اسی کے قائل ہیں ابو عبیدہ بھی اسی کی طرف گئے ہیں بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء فرماتے ہیں اس پر کفارہ ہوگا سفیان ثوری، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۴۳،جلد۱ص۷۶۶،حديث نمبر ١٥٤٣)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ مِلَّةِ الإِسْلاَمِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: هُوَ يَهُودِيٌّ، أَوْ نَصْرَانِيٌّ، إِنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَفَعَلَ ذَلِكَ الشَّيْءَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَدْ أَتَى عَظِيمًا وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَإِلَى هَذَا الْقَوْلِ ذَهَبَ أَبُو عُبَيْدٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ: عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ الْكَفَّارَةُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1543

مشقت میں ڈالنے والی نذر کا حکم حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میری بہن نے نذر مانی ہے کہ وہ ننگے پاؤں اور ننگے سر پیدل بیت اللہ شریف کی طرف جائے گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کو تیری بہن کے مشقت اٹھانے سے کوئی سروکار نہیں اسے چاہیے کہ سوار ہو سر پر دوپٹہ ڈالے اور تین دن کے روزے رکھے، اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن ہے اور بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۴۴،جلد۱ص۷۶۷،حديث نمبر ١٥٤٤)

باب حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْيَحْصُبِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، فَلْتَرْكَبْ وَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1544

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جس نے قسم کھاتے ہوئے لات و عزیٰ کی قسم کھائی ہو اسے ،، لا الہ الا اللہ،، پڑھنا چاہیے اور جس نے کہا آؤ جوأکھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، یہ حدیث حسن صحیح ہے ابو مغیرہ خولانی حمصی کا نام عبدالقدوس بن حجاج ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۴۴،جلد۱ص۷۶۷،حديث نمبر ١٥٤٥)

باب حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ هُوَ الْخَوْلَانِيُّ الْحِمْصِيُّ وَاسْمُهُ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1545

میت کی طرف سے نذر پوری کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اس نذر کے بارے میں فتویٰ پوچھا جو ان کی ماں کی ذمہ تھی اور وہ پورا کرنے سے پہلے انتقال کر گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کی طرف سے نذر پوری کرو، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۴۵،قَضَاءِ النَّدْرِ عَنِ الْمَيِّتِ،جلد۱ص۷۶۷،حديث نمبر ١٥٤٦)

باب مَا جَاءَ فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ "، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْضِ عَنْهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1546

غلام آزاد کرنے کی فضیلت حضرت ابو امامہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو آزاد کرے تو وہ یہ اس کے لیے دوزخ سے رہائی کا باعث ہوگا اس کا ہر عضو آزاد کرنے والے کی ہر عضو کے بدلے کا فی ہوگا اور جو مسلمان مرد و عورتوں کو آزاد کرے تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رہائی کا باعث ہوں گی اور ان کا ہر عضو اس کے اعضاء کے بدلے کفایت کرے گا اور جو عورت کسی مسلمان کو آزاد کرے تو یہ اس کے جہنم سے آزاد ہونے کا سبب ہوگا اس کا ہر عضو اس کے ہر عضو کے بدلے کافی ہوگا، یہ حدیث حسن صحیح ہے اسی طریق سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النذور والایمان،باب۱۰۴۶،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ مَنْ اَعْتَقَ،جلد۱ص۷۶۸،حديث نمبر ١٥٤٧)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ أَعْتَقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ هُوَ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، كَانَتَا فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُمَا عُضْوًا مِنْهُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً، كَانَتْ فَكَاكَهَا مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عِتْقَ الذُّكُورِ لِلرِّجَالِ أَفْضَلُ مِنْ عِتْقِ الْإِنَاثِ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nuzoori Wal Aimani , Hadees No. 1547

Tirmizi Shareef : Abwabun Nuzoori Wal Aimani

|

Tirmizi Shareef : ابواب النذور والایمان

|

•