
لڑائی سے پہلے دعوت اسلام حضرت ابو البختری سے روایت ہے کہ ایک اسلامی لشکر نے جس کے امیر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ تھے ایران کے ایک محل کا محاصرہ کر لیا لوگوں نے کہا اے عبداللہ کیا ہم جنگ کے لیے نہ کھڑے ہو جائیں تو حضرت سلمان نے فرمایا مجھے ان کو اسلام کی دعوت دے لینے دو جس طرح میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت اسلام دیتے سنا ہے چنانچہ حضرت سلمان ان کے پاس آئے اور فرمایا میں تم ہی میں سے ایک فارسی آدمی ہوں تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں اگر تم اسلام قبول کر لو تو تمہارے لیے بھی وہی کچھ ہوگا جو ہمارے لیے ہے اور تم پر بھی وہی بات لازم ہوگی جو ہم پر لازم ہے اور اگر تم اپنے دین پر قائم رہو گے تو ہم تمہیں اسی پر چھوڑیں گے لیکن تمہیں ذلت قبول کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں جزیہ دینا ہوگا، راوی فرماتے ہیں آپ نے انہیں فارسی زبان میں فرمایا اور تم قابل تعریف نہ ہو گے اور اگر تم نے جزیہ کا بھی انکار کیا تو ہم تم سے برابری کے ساتھ لڑیں گے انہوں نے کہا ہم جزیہ دینے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ ہم تم سے لڑیں گے مسلمانوں نے کہا اے ابو عبداللہ کیا ہم ان سے لڑائی نہ لڑیں آپ نے فرمایا نہیں راوی فرماتے ہیں آپ نے انہیں تین دن اسی طرح دعوت دی پھر فرمایا جہاد کے لیے بڑھو پس ہم ان کی طرف بڑھے اور وہ فتح کر لیا، اس باب میں حضرت بریدہ، نعمان بن مقرن ،ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث سلمان حسن ہیں ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے پہچانتے ہیں میں نے امام بخاری کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابو البختری نے حضرت سلمان کو نہیں پایا کیونکہ انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کو نہیں پایا جبکہ حضرت سلمان ان سے پہلے انتقال فرما چکے تھے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم اسی طرف گئے ہیں لڑائی سے پہلے اسلام کی طرف بلایا جائے اسحٰاق بن ابراہیم بھی اسی کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں اگر انہیں پہلے دعوت دی جائے تو یہ اچھا ہے اور رعب کا باعث ہے بعض علماء فرماتے ہیں اس دور میں دعوت اسلام کی ضرورت نہیں امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ اب بھی کسی کو دعوت دی جائے امام شافعی فرماتے ہیں دشمن کو اسلام کی دعوت دینے سے پہلے جنگ نہ لڑی جائے جب تک کہ وہ جلدی نہ کریں اور اگر انہیں دعوت نہ دی گئی تو انہیں پہلے ہی دعوت اسلام پہنچ چکی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۴۷،مَا جَاءَ فِي الدَّعُوةِ قَبْلَ الْقِتَالِ،جلد۱ص۷۶۸،حديث نمبر ١٥٤٨)
جس بستی میں مسجد ہو وہاں کسی کو قتل نہ کیا جائے حضرت ابن عصام مزنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور انہیں شرف صحبت حاصل ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی بڑے یا چھوٹے لشکر کو بھیجتے تو ان سے فرماتے جب کہیں مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے اور یہ ابن عیینہ کی روایت ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۴۸،جلد۱ص۷۶۹،حديث نمبر ١٥٤٩)
شبخون مارنا اور لوٹ مار کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر کی طرف تشریف لے گئے تو وہاں رات کے وقت پہنچے اور آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کسی قوم پر رات کے وقت پہنچتے تو صبح ہونے سے پہلے اس پر حملہ نہ کرتے صبح ہوئی تو یہودی بیلچے اور ٹوکرے لے کر کام کاج کے لیے نکلے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پکارنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آئے اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت آئے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،،اللہ اکبر،، خیبر ویران ہوا ہم جب کسی میدان میں اترتے ہیں تو ڈرے ہوئے لوگوں کی صبح کیا ہی بری ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۴۹،فِی الْبَيَاتِ وَالْغَارَاتِ، جلد۱ص۷۷۰،حديث نمبر ١٥٥٠)
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم پر غالب آتے تو ان کے میدان میں تین دن تک ٹھہرتے، یہ حدیث حسن صحیح ہے ،حضرت انس سے حمید کی روایت بھی صحیح ہے اور علماء کی ایک جماعت نے رات کو جانے اور حملہ کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ بعض نے ناپسند کیا ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ فرماتے ہیں دشمن پر رات کو حملہ کرنے میں کوئی حرج نہیں،، وَاَفَقَ مُحَمَّدُ الْخَمِيسَ،، کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ساتھ لشکر بھی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۴۹،فِی الْبَيَاتِ وَالْغَارَاتِ، جلد۱ص۷۷۰،حديث نمبر ١٥٥١)
آگ لگانا اور توڑ پھوڑ کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کی کھجوروں کے درخت جلا دیے اور کاٹے اور یہی مقام بویرہ ہے اس پر اللہ تعالٰی نے آیت نازل فرمائی" تم نے کھجوروں کے جن درختوں کو کاٹا اور جن کو ان کی جڑوں پر چھوڑ دیا تو یہ اللہ کے حکم سے ہے اور اس لیے کہ وہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کرے(حشر،٥) اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ علماء کی ایک جماعت اسی طرف گئے ہیں اور انہوں نے درخت کاٹنے اور قلعوں کی توڑ پھوڑ میں کچھ حرج نہیں جانا بعض کے نزدیک یہ مکروہ ہے امام اوزاعی کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پھل دار درخت کاٹنے یا عمارت تباہ کرنے سے منع فرمایا اور آپ کے بعد مسلمان اسی پر عمل پیرا رہے امام شافعی فرماتے ہیں دشمن کی زمین میں آگ لگانے درخت کاٹنے اور پھل توڑنے میں کوئی حرج نہیں امام احمد فرماتے ہیں بعض مقامات پر یہ ضروری ہوتا ہے لیکن بے فائدہ نہ جلایا جائے امام اسحٰاق فرماتے ہیں جلا دینا سنت ہے جب دشمن کے لیے زیادہ مؤثر سزا ہو۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۰،فِی التَّحْرِيْقِ وَالتَّخْرِيْبِ،جلد۱ص۷۷۰،حديث نمبر١٥٥٢)
مال غنیمت حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے مجھے دوسرے انبیاء علیہم السلام پر فضیلت عطا فرمائی ہے یا فرمایا میری امت کو دیگر امتوں پر فضیلت بخشی اور ہمارے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا، اس باب میں حضرت علی، ابوذر، عبداللہ بن عمرو، ابو موسٰی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابو امامہ حسن صحیح ہیں یہ سیار، بنو معاویہ کے غلام سیار کہلاتے ہیں ان سے سلیمان تیمی عبداللہ بن بحیر اور کئی دوسرے حضرات نے روایت لی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے چھ باتوں میں دوسرے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے (۱) مجھے جامع کلام عطا کی گئی (۲) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی (۳) میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی(۴) تمام زمین میرے لیے مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنائی گئی(۵) مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا (۶) اور مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۱،مَا جَاءَ فِی الْغَنِيمَةِ،جلد۱ص۷۷۱،حديث نمبر ١٥٥٣)
گھڑ سوار کا حصہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ سوار کے لیے دو حصے اور پیدل کے لیے ایک حصے کے طور پر تقسیم فرمائی۔ محمد بن بشار نے بواستہ عبدالرحمٰن ابن مہدی، سلیم بن اخضر سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی، اس باب میں حضرت مجمع بن جاریہ ،ابن عباس اور ابن ابی عمرہ( والد سے) رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت حسن صحیح ہے اکثر صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری، اوزاعی، مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی ،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں اور فرماتے ہیں سوار کے لیے تین حصے ہیں ایک اس کا اپنا حصہ اور دو حصے گھوڑے کے لیے اور پیدل کے لیے ایک حصہ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۲،فِی سهمِ الخَيْلِ،جلد۱ص۷۷۲،حديث نمبر ١٥٥٤)
چھوٹے لشکر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین ساتھی چار ہیں بہترین چھوٹا لشکر وہ ہے جو چار سو افراد پر مشتمل ہو، بہترین لشکر وہ ہے جو چار ہزار افراد پر مشتمل ہو اور بارہ ہزار کا لشکر کمی کے باعث مغلوب نہیں ہوگا، یہ حدیث حسن غریب ہے، جریر بن حازم کے علاوہ کسی بڑے نے اسے مسند نہیں بیان کیا یہ حدیث بواسطہ زہری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بھی مروی ہے حبان بن علی عنزی نے بواسطہ عقیل، زہری ،عبید اللہ بن عبداللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے روایت کیا لیث بن سعد نے بواسطہ عقیل اور زہری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۵۳،مَا جَاءَ فِی السَّرايا،جلد۱ص۷۷۲،حديث نمبر ١٥٥٥)
مال غنیمت میں سے کس کس کو حصہ دیا جائے یزید بن ھرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر استفسار کیا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو شریک جنگ کرتے تھے اور کیا آپ ان کو مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا آپ عورتوں کو جنگ میں شریک کرتے تھے ہاں آپ انہیں شریک جنگ فرماتے تھے وہ بیماروں کا علاج معالجہ کرتیں اور انہیں مال غنیمت میں سے کچھ دے دیا جاتا لیکن ان کے لیے حصہ مقرر نہیں ہوتا تھا، اس باب میں حضرت انس اور ام عطیہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری اور شافعی رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں بعض علماء فرماتے ہیں عورت اور بچے کے لیے حصہ مقرر کیا جائے امام اوزاعی اسی کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں بچوں کے لیے حصہ مقرر فرمایا اور مسلمان حکمرانوں نے ہر اس بچے کا حصہ مقرر کیا جو دارالحرب میں پیدا ہوا امام اوزاعی فرماتے ہیں نبی اکرم نے خیبر میں عورتوں کا حصہ مقرر فرمایا اور بعد میں مسلمانوں نے اس کو اپنایا۔ ہمیں علی بن خشرم نے بواسطہ عیسیٰ بن یونس، امام اوزاعی کے اس کی خبر دی،،، یحذین من الغنیمۃِ،، کا مطلب یہ ہے کہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ دے دیا جاتا تھا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۴،مَنْ يُعْطَى الْفَئُ،جلد۱ص۷۷۳،حديث نمبر ١٥٥٦)
کیا غلام کو حصہ دیا جائے گا حضرت عمیر مولٰی ابو اللحمِ فرماتے ہیں میں اپنے آقا کے ہمراہ خیبر کی لڑائی میں شریک ہوا، تو لوگوں نے میرے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی کہ یہ غلام ہے فرماتے ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی میں شریک ہونے کا حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکا دی گئی میں اسے زمین پر گھسیٹنے لگا اور میرے لیے کچھ گھریلو سامان دینے کا حکم فرمایا میں نے آپ کے سامنے ایک تعویذ کا مضمون بیان کیا جس سے میں دیوانوں کا علاج کیا کرتا تھا تو آپ نے مجھے اس کا بعض حصہ چھوڑنے اور بعض باقی رکھنے کا حکم دیا، اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں:یہ حدیث حسن صحیح ہے، بعض علماء کا اس پر عمل ہے کہ غلام کا حصہ مقرر نہ کیا جائے لیکن اسے کچھ نہ کچھ دے دیا جائے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۵،هَلْ يُسْهَمُ الْعَبْدِ،جلد۱ص۷۷۳،حديث نمبر ١٥٥٧)
کیا ذمی کو حصہ دیا جائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف تشریف لے گئے یہاں تک کہ جب آپ وبر کی پتھریلی زمین پر پہنچے تو ایک مشرک آدمی آپ سے ملا جس کی بہادری اور شجاعت کا چرچہ تھا آپ نے اس سے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا واپس چلا جا میں مشرک سے مدد نہیں لیتا اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے یہ حدیث حسن غریب ہے بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں ذمی لوگوں کا حصہ مقرر نہ کیا جائے اگرچہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر دشمن سے لڑیں بعض علماء کے نزدیک اگر وہ مسلمانوں کی حمایت میں دشمن قوم سے لڑتے ہیں تو ان کا حصہ مقرر کیا جائے گا، زہری سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے ایک جماعت کا جو مسلمانوں کی حمایت میں لڑی تھی حصہ مقرر فرمایا اس کی خبر ہمیں قتیبہ بن سعید نے بواسطہ عبدالوارث بن سعید اور عزرہ بن ثابت زہری سے دی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۶،مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ يَغْزُونَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ هَلْ يُسْهَمُ لَهُمْ -جلد۱ص۷۷۴،حديث نمبر ١٥٥٨)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خیبر میں حاضر ہوا تو آپ نے خیبر کے فاتحین کے ساتھ ہمیں بھی حصہ عنایت فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے فرماتے ہیں سواروں کے لیے حصہ مقرر ہونے سے پہلے جو شخص مسلمانوں کے ساتھ ملے اس کے لیے حصہ مقرر کیا جائے گا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۶،مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ يَغْزُونَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ هَلْ يُسْهَمُ لَهُمْ -جلد۱ص۷۷۴،حديث نمبر ١٥٥٩)
مشرکین کے برتن استعمال کرنا حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوسیوں کے برتن استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا انہیں دھو کر پاک کرو اور ان میں کھانا پکاؤ اور آپ نے ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا یہ حدیث ابو ثعلبہ سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے ابو ادریس خولانی نے اسے ابو ثعلبہ سے روایت کیا ابو قلابہ کو ابو ثعلبہ سے سماع نہیں انہوں نے بواسطہ ابو اسماء ابو ثعلبہ سے روایت کیا ہے۔ حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ان کے برتنوں میں کھائے آپ نے فرمایا اگر دوسرے برتن میسر ہوں تو ان میں نہ کھاؤ ورنہ انہیں دھو کر ان میں کھا لو یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۷،مَا جَاءَ فِي الْاِنْتِفَاعِ بِاٰنِيَةِ الْمشركين،جلد۱ص۷۷۵،حديث نمبر ١٥٦٠)
فوجیوں کو انعام دینا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر شروع شروع میں حملہ کرنے والوں کو چوتھائی اور واپس لوٹتے وقت حملہ کرنے والوں کو ایک تہائی حصہ زائد دیتے تھے، اس باب میں حضرت ابن عباس، حبیب بن مسلمہ،، معن بن یزید ،ابن عمر اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث عبادہ حسن ہے بواسطہ ابو سلام ایک نامعلوم صحابی سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن ذوالفقار نامی تلوار اپنے حصے سے زیادہ لی اور اسی کے متعلق آپ نے احد کے دن خواب میں دیکھا تھا یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے اسی طریق یعنی ابن ابی الزناد کی روایت سے پہچانتے ہیں اہل علم کا خمس( پانچویں حصے) کے دینے میں اختلاف ہے مالک بن انس فرماتے ہیں مجھے یہ بات نہیں پہنچی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام جنگوں میں بطور زائد کچھ دیا ہو البتہ بعض غزوات کے بارے میں خبر پہنچی ہے اور یہ امام کے اجتہاد پر موقوف ہے چاہے لڑائی کے شروع میں دے یا آخر میں ابن منصور کہتے ہیں میں نے امام احمد سے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کے شروع میں خمس دینے کے بعد چوتھائی حصہ بطور انعام دیا اور واپسی پر تیسرا حصہ انعام میں دیا تو انہوں نے فرمایا خمس نکال لیتے تھے پھر بقیہ میں سے انعام دیتے لیکن اس سے تجاوز نہ فرماتے یہ حدیث ابن مسیب کے قول کی تائید کرتی ہے کہ خمس میں سے انعام دیا جاتا ہے امام اسحٰاق بھی یہی کہتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۵۸،فِی النَّفْلِ،جلد۱ص۷۷۶،حديث نمبر ١٥٦١)
مقتول کا سامان قاتل کے لیے ہے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر اس کے پاس گواہ بھی ہوں مقتول کا سامان اسی کے لیے ہے، اس حدیث میں ایک واقعہ ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان یحیٰی بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی، اس باب میں حضرت عوف بن مالک، خالد بن ولید، انس اور سمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ابو محمد سے نافع مولا ابو قتادہ مراد ہیں بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے امام اوزاعی، شافعی اور احمد رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں امام کو اختیار ہے کہ اسے چھینے ہوئے مال میں سے خمس نکال لے سفیان ثوری فرماتے ہیں نفل یہ ہے کہ امام کہے جسے جو چیز مل جائے وہ اس کی ہے اور جو کسی کو قتل کرے تو مقتول کا سامان قاتل کے لیے ہے تو یہ جائز ہے اس میں خمس نہ ہوگا اسحٰاق فرماتے ہیں سامان قاتل کا ہوگا لیکن جب زیادہ ہو تو امام کو اس سے پانچواں حصہ نکالنے کا حق ہے جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۹،مَا جَاءَ فِی مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُہُ،جلد۱ص۷۷۷،حديث نمبر ١٥٦٢)
تقسیم سے پہلے مال غنیمت فروخت کرنا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے مالی غنیمت خریدنے سے منع فرمایا،اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے یہ حدیث غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۰،فِی كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الْمَغَانِمَ حَتّٰى تُقْسَمَ،جلد۱ص۷۷۷،حديث نمبر ١٥٦٣)
حاملہ قیدی عورتوں سے صحبت ناجائز ہے حضرت ام حبیبہ بنت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتی ہیں انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدی عورتوں سے بچہ جننے سے پہلے جمع کرنے سے منع فرمایا، اس باب میں حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے حدیث عرباض غریب ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے امام اوزاعی فرماتے ہیں جب کوئی آدمی قیدی لونڈی خرید لے اور وہ حاملہ ہو تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بچہ جننے سے پہلے اس کے ساتھ جمع نہ کیا جائے اوزاعی فرماتے ہیں آزاد عورتوں کے بارے میں سنت یہ ہے کہ انہیں عدت گزارنے کا حکم دیا جائے پھر ہم بستر ہوں مجھے علی بن خشرم نے بواسطہ عیسیٰ بن یونس اوزاعی سے ان تمام باتوں کی خبر دی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السی،باب۱۰۶۱،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ وَطْیِ الْحَبَالٰى مِنَ السَّبَايَا،جلد۱ص۷۷۸،حديث نمبر ١٥٦٤)
مشرکین کے کھانے حضرت قبیصہ بن ھلب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسائیوں کے کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا تیرے دل میں نصرانیوں کے کھانے سے شکوک و شبہات پیدا نہ ہو یہ حدیث حسن ہے محمود کہتے ہیں عبید اللہ بن موسیٰ نے بواسطہ اسرائیل سماک، قبیصہ اور ان کے والد ھلب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی محمود نے بواسطہ وھب بن جریر شعبہ سماک مری بن قطری اور عدی بن حاتم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کی اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اہل کتاب کا کھانا جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۲،مَا جَاءَ فِی طَعَامِ الْمُشْرِكِينَ،جلد۱ص۷۷۸،حديث نمبر ١٥٦٥)
قیدیوں کو الگ الگ کرنا حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جو شخص ماں اور بچے کو الگ الگ کرے گا اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کے اور اس کے احباب کے درمیان جدائی ڈال دے گا، اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث غریب ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ وہ قیدی ماں اور بیٹے، باپ اور بیٹے نیز بھائیوں کے درمیان تفرقہ کو مکروہ جانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۳،فِی كَرَاهِيَةِ التَّفْرِيقِ بَينَ السَّبْيِ،جلد۱ص۷۷۹،حديث نمبر١٤٦٦)
قیدیوں کو قتل کرنا اور فدیہ لینا حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ان پر اترے اور فرمایا اپنے صحابہ کرام کو بدر کے قیدیوں کے بارے میں قتل یا فدیہ کا اختیار دیجئے مگر اس شرط پر کہ آئندہ سال اتنے ہی صحابہ کرام شہید ہوں گے صحابہ کرام نے کہا ہمیں فدیہ لینا اور اپنا قتل ہونا پسند ہے اس بات میں حضرت عبداللہ بن مسعود انس ابوبرزہ اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن ثوری کی روایت سے غریب ہے ہم اسے صرف ابن ابی زائدہ کی روایت سے پہچانتے ہیں ابو اسامہ نے بواسطہ ہشام ابن سیرین عبیدہ اور علی مرتضٰی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی ہم معنی حدیث روایت کی ابن عون نے بواسطہ ابن سیرین عبیدہ اور علی مرتضٰی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی ابو داؤد حفری کا نام عمر بن سعد ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۶۴،مَا جَاءَ فِی قَتْلِ الْاُسَارٰى وَالْفِدَاءِ،جلد۱ص۷۷۹،حديث نمبر ١٥٦٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مسلمان قیدیوں کو ایک مشرک قیدی کے بدلے چھڑایا یہ حدیث حسن صحیح ہے ابو قلابہ کے چچا ابو المھلب ہیں اور ان کا نام عبدالرحمٰن بن عمرو ہے معاویہ بن عمرو بھی کہا جاتا ہے ابوقلابہ کا نام عبداللہ بن زید جرمی ہے اکثر صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ امام کو اختیار ہے قیدیوں میں سے جس کو چاہے (فدیہ لئے بغیر )چھوڑ دے جس کو چاہے قتل کر دے اور جس سے چاہے فدیہ لے، بعض علماء نے فدیہ پر قتل کو ترجیح دی ہے اوزاعی فرماتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے،،، فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً الخ ،، فَاقْتُلُوھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ،، اس کی ناسخ ہے۔ ھناد نے بواسطہ ابن مبارک اوزاعی سے ہمیں اس کی خبر دی اسحٰاق بن منصور کہتے ہیں میں نے امام احمد سے پوچھا کفار قیدی بن کر آئیں تو آپ کے نزدیک ان کو قتل کرنا بہتر ہے یا فدیہ لینا فرمایا اگر وہ فدیہ دے سکتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر قتل کیے جائیں تو میں اس میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتا اسحٰاق فرماتے ہیں خون بہانہ مجھے زیادہ پسند ہے بشرط ہے کہ اس میں عام دستور کی مخالفت نہ ہو مجھے اس پر زیادہ ثواب کی امید ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۶۴،مَا جَاءَ فِی قَتْلِ الْاُسَارٰى وَالْفِدَاءِ،جلد۱ص۷۷،حديث نمبر ١٥٦٨)
عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض غزوات میں ایک مقتولہ عورت ملی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا اور عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا، اس باب میں حضرت بریدہ رباح (رباح بن ربیع بھی کہا گیا ہے ) اسود بن سریع ابن عباس اور سعد بن جثامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا مکروہ ہے سفیان ثوری اور امام شافعی رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں بعض علماء نے شبخون مارنے نیز عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی اجازت دی ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں یہ دونوں حضرات شبخون مارنے کی اجازت دیتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۵،مَا جَاءَ فِی النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النِّسَآءِ وَالصِّبْيَانِ،جلد۱ص۷۸۰،حديث نمبر ١٥٦٩)
حضرت سعد بن جثامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو روند ڈالا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اپنے بڑوں کے تابع ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۵،مَا جَاءَ فِی النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النِّسَآءِ وَالصِّبْيَانِ،جلد۱ص۷۸۰،حديث نمبر ١٥٧٠)
کفار کو نہ جلانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور دو قریشیوں کا نام لے کر فرمایا اگر فلاں فلاں کو پاؤ تو انہیں جلا دینا پھر جب ہم نے جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا میں نے تمہیں فلاں فلاں کو جلانے کا حکم دیا تھا لیکن آگ کے ساتھ صرف اللہ تعالٰی ہی عذاب دیتا ہے لہذا اگر انہیں پاؤ تو قتل کر دینا، اس باب میں حضرت ابن عباس اور حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے محمد بن اسحٰاق فرماتے ہیں اس حدیث میں سلیمان بن یسار اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک اور شخص کا واسطہ ہے دوسرے لوگوں نے بھی لیث کی روایت کی طرح روایت کیا ہے لیث بن سعد کی روایت اشبہ اور اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۶۶،جلد۱ص۷۸۱،حديث نمبر ١٥٧١)
مال غنیمت میں خیانت حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ تکبر خیانت اور قرض سے پاک ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب االسیر،باب۱۰۶۷،مَا جَاءَ فِی الْغُلُولِ،جلد۱ص۷۸۲،حديث نمبر ١٥٧٢)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی روح جسم سے اس حال میں جدا ہوئی کہ وہ تین چیزوں خزانہ خیانت اور قرض سے پاک ہو وہ جنت میں داخل ہوگا سعید نے اسی طرح کنز( خزانہ ) فرمایا اور ابو عوانہ نے اپنی روایت میں کبر (تکبر ) کا لفظ نقل کیا اور معدان کا واسطہ بھی ذکر نہیں کیا سعید کی روایت اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۷،مَا جَاءَ فِی الْغُلُولِ،جلد۱ص۷۸۲،حديث نمبر ١٥٧٣)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ فلاں شخص شہید ہوا آپ نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے مال غنیمت سے ایک چادر چرائی تھی پھر فرمایا اے عمر اٹھو اور تین مرتبہ اعلان کرو جنت میں صرف ایماندار لوگ داخل ہوں گے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۷،مَا جَاءَ فِی الْغُلُولِ،جلد۱ص۷۸۲،حديث نمبر ١٥٧٤)
عورتوں کی جنگ میں شرکت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم اور چند دوسری انصار خواتین کو لڑائی میں ساتھ لے جاتے وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی، اس باب میں حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۸،مَا جَاءَ فِی خُرُوجِ النِّسَآءِ فِی الْحَرْبِ،جلد۱ص۷۸۲،حديث نمبر ١٥٧٥)
مشرکین کے تحائف قبول کرنا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کسری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحائف بھیجے تو آپ نے قبول فرمائے دیگر بادشاہوں نے بھی آپ کے پاس تحائب بھیجے آپ نے انہیں بھی قبول فرمایا، اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن غریب ہے ثویر ابو فاختہ کے بیٹے ہیں ان کا نام سعید بن علاقہ ہے اور کنیت ابو جہم ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۹،مَا جَاءَ فِی قُبُولِ هَدَا يَا الْمُشْرِكِينَ،جلد۱ص۷۸۳،حديث نمبر ١٥٧٦)
حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور تحفہ بھیجی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسلام لائے ہو کہا نہیں فرمایا مجھے مشرکین کے تحائف قبول کرنے سے روکا گیا ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ زبدالمشرکین سے مشرکین کے تحائف مراد ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ مشرکین کی تحائف قبول فرمایا کرتے تھے اس حدیث میں کراھیت مذکور ہے ہو سکتا ہے یہ بعد کا واقعہ ہو پہلے آپ قبول فرماتے ہوں بعد میں منع کر دیا گیا ہو۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۶۹،مَا جَاءَ فِی کراھیۃ هَدَا يَا الْمُشْرِكِينَ،جلد۱ص۷۸۳،حديث نمبر ١٥٧٧)
سجدۂ شکر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خبر آئی جس سے آپ کو مسرت ہوئی تو آپ سجدے میں گر پڑے، یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق یعنی بکار بن عبدالعزیز کی روایت سے جانتے ہیں اکثر اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے کہ سجدۂ شکر جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۰،مَا جَاءَ فِی سَجْدَةِ الشُّكْرِ،جلد۱ص۷۸۳،حديث نمبر ١٥٧٨)
عورت اور غلام کا کسی کو امان دینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت بھی اپنی قوم کی طرف سے پناہ دے سکتی ہے اس باب میں حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے، ۳- کثیر بن زید نے ولید بن رباح سے سنا ہے اور ولید بن رباح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سنا ہے اور وہ مقارب الحدیث ہیں، حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں میں نے اپنے خاوند کے دو رشتہ دار مردوں کو پناہ دی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو تم نے پناہ دی ہم نے بھی پناہ دی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس پر اہل علم کا عمل ہے کہ انہوں نے عورت کی کسی کو پناہ دینے کو جائز قرار دیا ہے امام احمد اور اسحٰاق اسی کے قائل ہیں کہ عورت اور غلام کا پناہ دینا درست ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے غلام کا پناہ دینا جائز رکھا ہے ابو مرہ عقیل بن ابی طالب کے مولا ہیں انہیں ام ہانی کا مولا بھی کہا جاتا ہے ان کا نام یزید ہے حضرت علی بن ابی طالب اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے ان میں سے ادنی بھی پناہ دے سکتا ہے اہل علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے کسی ایک کا پناہ دینا سب کی طرف سے جائز ہے (امام اعظم ابو حنیفہ رحمت اللہ کے نزدیک شرط یہ ہے کہ پناہ دینے والا جنگ میں شریک ہو۔ مترجم) (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۱،مَا جَاءَ فِی اَمَانِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ،جلد۱ص۷۸۴،حديث نمبر ١٥٧٩)
عہد شکنی سلیم بن عامر فرماتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا حضرت امیر معاویہ ان کے شہروں کی طرف تشریف لے گئے تاکہ جب معاہدہ ختم ہو تو ان پر غارت گری کرے اچانک ایک آدمی کو چار پائے یا گھوڑے پر دیکھا وہ کہہ رہا تھا اللہ اکبر ! عھد پورا کرو عھد شکنی نہ کرو کیا دیکھتے ہیں کہ یہ شخص عمر بن عبسہ ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو وہ اس معاہدے کو نہ توڑے اور نہ باندھے جب تک کہ اس کے مدت ختم نہ ہو جائے یا وہ برابری کے بنیاد پر اس کی طرف پھینک نہ دے فرماتے ہیں یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر واپس لوٹ گئے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۲،مَا جَاءَ فِی الْغَدْرِ،جلد۱ص۷۸۴،حديث نمبر ١٥٨٠)
قیامت کے دن عہد شکن کا جھنڈا الگ ہوگا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیامت کے دن عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا نصف کیا جائے گا، اس باب میں حضرت علی، عبداللہ بن مسعود ،ابو سعید خدری اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ میں نے محمد سے سوید کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا جسے وہ ابواسحاق سبیعی سے، ابواسحاق نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے حضرت علی رضی الله عنہ سے اور علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ہر عہد توڑنے والے کے لیے ایک جھنڈا ہو گا“، محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: میرے علم میں یہ حدیث مرفوع نہیں ہے، (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۳،مَا جَاءَ أَنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ القِيٰمَةِ - جلد۱ص۷۸۵،حديث نمبر ١٥٨١)
ثالث کے حکم پر راضی ہونا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ احزاب کے دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے تیر لگا تو لوگوں نے بطور علاج بازو کے درمیان سے رگ کاٹی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس جگہ سے داغ دیا لیکن ان کا ہاتھ پھل گیا تو آپ نے چھوڑ دیا اور پھر خون جاری ہو گیا آپ نے دوبارہ داغا تو پھر پھول گیا یہ دیکھ کر حضرت سعد نے دعا مانگی یا اللہ جب تک بنو قریظہ سے میری آنکھیں ٹھنڈی نہ کرے میری جان نہ نکالنا اس پر رگ کا خون تھم گیا اور اس سے ایک قطرہ بھی نہ ٹپکا یہاں تک کہ وہ بنو قریظہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو گئے آپ نے ان کی طرف ایک آدمی بھیجا انہوں نے فیصلہ کیا کہ بنو قریظہ کے تمام مرد مارے جائیں اور عورتیں زندہ چھوڑ دی جائیں تاکہ مسلمان ان سے مدد حاصل کریں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے بارے میں تمہارا حکم اللہ کے فیصلے کے مطابق ہے وہ چار سو تھے جب ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے رگ پھر کھل گئی اور ان کا وصال ہو گیا اس باب میں حضرت ابو سعید اور عطیہ قرظی سے روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۴،مَا جَاءَ فِی النُّزُولِ عَلَى الْحُكْمِ،جلد۱ص۷۸۵،حديث نمبر ١٥٨٢)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے بوڑھوں کو قتل کر دو اور نابالغ بچوں کو زندہ رہنے دو بچے وہ ہیں جن کے زیر ناف بال نہ آئے ہوں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے حجاج بن ارطاۃ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۴،مَا جَاءَ فِی النُّزُولِ عَلَى الْحُكْمِ،جلد۱ص۷۸۵،حديث نمبر ١٥٨٣)
حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قریظہ کے دن ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے گئے تو جس کے زیر ناف بال اُگے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اُگے تھے اسے چھوڑ دیا میں ان میں سے تھا جن کے بال نہیں اُگے تھے چنانچہ مجھے بھی چھوڑ دیا گیا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے کہ احتلام اور عمر کا پتہ نہ چلے تو بالوں کا اگنا علامت بلوغ ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۴،مَا جَاءَ فِی النُّزُولِ عَلَى الْحُكْمِ،جلد۱ص۷۸۵،حديث نمبر ١٥٨٤)
قسم کا پورا کرنا حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا جاہلیت کے عہد پورے کرو کیونکہ اسلام اسے اور مضبوط کرتا ہے لیکن اسلام میں آنے کے بعد کوئی نیا معاہدہ نہ کرو، اس باب میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، ام سلمہ، جبیر بن مطعم، ابو ہریرہ، ابن عباس اور قیس بن عاصم رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۵،مَا جَاءَ فِی الْحِلْفِ،جلد۱ص۷۸۶،حديث نمبر ١٥٨٥)
مجوس سے جزیہ لینا حضرت بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں مقام مناذر میں جز بن معاویہ کا منشی تھا کہ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ دیکھو تمہارے پاس جو جو مجوسی ہیں ان سے جزیہ لو کیونکہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا ہے یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۶،فِی أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِي،جلد۱ص۷۸۷،حديث نمبر ١٥٨٦)
حضرت مجالہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجوس سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوس سے جزیہ لیا ہے اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۶،فِی أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِي،جلد۱ص۷۸۷،حديث نمبر ١٥٨٧)
حضرت سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے مجوسیوں سے، اور حضرت عمر اور عثمان رضی الله عنہما نے فارس کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مالک روایت کرتے ہیں زہری سے اور زہری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۶،فِی أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِي،جلد۱ص۷۸۷،حديث نمبر ١٥٨٨)
ذمیوں کے مال سے کس قدر لینا جائز ہے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم ایک قوم کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے اور نہ وہ ہمارا مالی حق ادا کرتے ہیں اور نہ ہی ہم ان سے لیتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ دینے سے انکار کریں تو زبردستی لے لو، یہ حدیث حسن ہے لیث بن سعد نے بھی اسے یزید بن حبیب سے روایت کیا ہے اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑائی کے لیے جاتے وقت ایسی قوم کے پاس سے گزرتے جن سے کھانے پینے کی چیزیں نہ خرید سکتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ زبردستی کیے بغیر بیچنے پر راضی نہ ہو تو زبردستی لے لو بعض احادیث میں اس کی تفسیر اسی طرح مروی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مذکور ہے کہ وہ بھی اسی طرح کا حکم دیتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۷،مَا جَاءَ مَا يَحِلُّ مِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّۃِ،جلد۱ص۷۸۷،حديث نمبر ١٥٨٩)
ہجرت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا فتح مکہ کے بعد مکہ سے ہجرت نہیں ہاں جہاد اور نیت باقی ہے جب تمہیں جہاد کی طرف بلایا جائے تو نکل پڑو، اس باب میں حضرت ابو سعید، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے، سفیان ثوری نے منصور بن معتمر سے جس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۸،مَا جَاءَ فِی الْہجْرَةِ،جلد۱ص۷۸۸،،حديث نمبر ١٥٩٠)
بیعت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالٰی کے اس قول لقد رضی اللہ(سورہ فتح ١٨)الخ کے متعلق مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ بھاگنے پر بیعت کی تھی موت پر بیعت نہیں کی تھی . اس باب میں حضرت سلمہ بن اکوع، ابن عمر ،عبادہ اور جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں بواسطہ عیسیٰ بن یونس اور اوزاعی یحییٰ بن ابی کثیر سے بھی یہ حدیث مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس میں ابو سلمہ کا واسطہ مذکور نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۹،مَا جَاءَ فِی بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -جلد۱ص۷۸۸،حديث نمبر ١٥٩١)
حضرت یزید بن ابو عبید کہتے ہیں میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم نے حدیبیہ کے دن کس بات پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی انہوں نے فرمایا موت پر، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۹،مَا جَاءَ فِی بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -جلد۱ص۷۸۸،حديث نمبر ١٥٩٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سننے اور ماننے پر آپ کی بیعت کیا کرتے تھے آپ ہم سے فرماتے جس قدر تم طاقت رکھتے ہو اطاعت کرو ،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۹،مَا جَاءَ فِی بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -جلد۱ص۷۸۸،حديث نمبر ١٥٩٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر موت کی بیعت نہیں کی تھی بلکہ نہ بھاگنے کی بیعت کی تھی، یہ حدیث حسن صحیح ہے دونوں حدیثوں کا مطلب صحیح ہے بعض صحابہ کرام نے موت پر بیعت کی اور انہوں نے عرض کیا ہم مرتے دم تک آپ کے سامنے رہیں گے اور دوسروں نے بیعت کرتے ہوئے عرض کیا ہم نہیں بھاگیں گے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۹،مَا جَاءَ فِی بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -جلد۱ص۷۸۸،حديث نمبر ١٥٩٤)
بیعت توڑنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی قیامت کے دن تین قسم کے آدمیوں سے کلام نہیں فرمائے گا اور نہ انہیں پاک فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ان میں سے ایک آدمی وہ ہے جس نے امام کے ہاتھ پر بیعت کی اگر اس نے کچھ دیا تو بیعت پوری کی ورنہ چھوڑ دی، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۰،فِی نَكْثِ البَيْعَةِ،جلد۱ص۷۸۹،حديث نمبر ١٥٩٥)
غلام کی بیعت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک غلام آیا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر ہجرت کی بیعت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا غلام ہونا معلوم نہ ہوا جب اس کا آقا آیا تو آپ نے فرمایا اسے مجھ پر بیچ دو چنانچہ آپ نے دو سیاہ فام غلاموں کے بدلے اسے خرید لیا اس کے بعد آپ اس وقت تک بیعت نہ فرماتے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ آیا وہ غلام تو نہیں اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے، حدیث جابر حسن غریب صحیح ہے ہم اسے صرف ابو الزبیر کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۱،مَا جَاءَ فِی بَيْعَةِ الْعَبْدِ،جلد۱ص۷۸۹،حديث نمبر ١٥٩٦)
عورتوں کی بیعت حضرت امیمہ بنت رقیقہ فرماتی ہیں میں نے چند عورتوں کے ہمراہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کا شرف حاصل کیا آپ نے فرمایا جتنے عمل کی تم طاقت اور قدرت رکھو میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہمارے نفسوں سے بھی زیادہ مہربان ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں بیعت کیجیے سفیان کہتے ہیں ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم سے مصافحہ کیجئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سو عورتوں سے بھی میری بات وہی ہے جو ایک عورت سے ہے، اس باب میں حضرت عائشہ،، عبداللہ بن عمرواور اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف محمد بن منکدر کی روایت سے پہچانتے ہیں، سفیان ثوری، مالک بن انس اور کئی دوسرے حضرات نے محمد بن منکدر سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۲،مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ النِّسَآءِ،جلد۱ص۷۹۰،حديث نمبر ١٥٩٧)
اصحاب بدر کی تعریف حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم آپس میں گفتگو کیا کرتے تھے کہ بدر کے دن اصحاب بدر اصحاب طالوت کی طرح تین سو تیرہ تھے، اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے سفیان ثوری وغیرہ نے اسے ابو اسحٰاق سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۳،مَا جَاءَ فِی عِدَّةِ اصْحَابِ بَدْرٍ،جلد۱ص۷۹۰،حديث نمبر ١٥٩٨)
خمس (پانچواں) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفد سے فرمایا میں تمہیں مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے کا حکم دیتا ہوں اس حدیث میں قصہ ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے قتیبہ نے بواسطہ حماد بن زید اور ابو جمرہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۴،مَا جَاءَ فِی الْخُمْسِ،جلد۱ص۷۹۰،حديث نمبر ١٥٩٩)
تقسیم سے پہلے مال غنیمت لینا حضرت رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھے اور انہوں نے مال غنیمت لینے میں جلدی کی اور گوشت پکایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے لوگوں میں تھے آپ ہنڈیوں کے پاس سے گزرے تو ان کے الٹا دینے کا حکم دیا چنانچہ وہ الٹا دی گئیں پھر ان کے درمیان تقسیم فرمایا اور ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا، سفیان ثوری نے بواسطہ والد اور عبایہ رافع بن خدیج سے روایت کیا لیکن درمیان میں عبایہ کے والد کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ محمود بن غیلان نے بواسطہ وکیع سفیان سے ہمیں اس کی خبر دی اور یہ اصح ہے عبایہ بن رفاعہ نے اپنے دادا رافع بن خدیج سے روایت کیا اس باب میں حضرت ثعلبہ بن حکم، انس، ابو ریحانہ، ابو درداء، عبدالرحمٰن بن سمرہ، زید بن خالد، جابر، ابو ہریرہ اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۵،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ النُّهْبَةِ،جلد۱ص۷۹۱،حديث نمبر ١٦٠٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تقسیم سے قبل مال غنیمت میں سے کچھ لیا وہ ہم میں سے نہیں، یہ حدیث حضرت انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۵،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ النُّهْبَةِ،جلد۱ص۷۹۱،حديث نمبر ١٦٠١)
اہل کتاب کو سلام کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصارٰی کو سلام کرنے میں ابتدا نہ کرو جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو تو اسے تنگ راستے میں چلنے پر مجبور کر دو۔ اس باب میں حضرت ابن عمر، انس، ابو بصرہ غفاری (صحابی رسول علیہ السلام) سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے. (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۶،مَا جَاءَ فِی التَّسْلِيمِ عَلٰى أَهْلِ الْكِتَبِ،جلد۱ص۷۹۱،حديث نمبر ١٦٠٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی یہودی تمہیں سلام کہتا ہے تو وہ (السام علیکم ) تم پر موت ہو ) کہتا ہے تم اس کے جواب میں صرف ،،علیک،، (تجھ پر ہو ) کہا کرو۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۶،مَا جَاءَ فِی التَّسْلِيمِ عَلٰى أَهْلِ الْكِتَبِ،جلد۱ص۷۹۱،حديث نمبر ١٦٠٣)
مشرکین کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم کی طرف ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تو لوگوں نے سجدوں کے ذریعے پناہ ڈھونڈی لیکن لشکر نے ان کے قتل میں جلدی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ نے انہیں نصف دیت دینے کا حکم فرمایا اور فرمایا میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان مقیم ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیوں بیزار ہیں فرمایا تاکہ وہ مشرکین کی مشابہت نہ اختیار کریں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۷،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمُقَامِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ،جلد۱ص۷۹۲،حديث نمبر ١٦٠٤)
ہناد نے بواسطہ عبدہ اور اسماعیل بن ابی خالد قیس بن ابی حازم سے ابو معاویہ کی حدیث کی طرح روایت کیا اس میں جریر کا ذکر نہیں یہ اصح ہے، اس باب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے، اکثر اصحاب اسماعیل نے اسماعیل اور قیس بن ابی حازم کا ذکر کیا لیکن جریر کا واسطہ ذکر نہیں کیا حماد بن سلمہ نے بواستہ حجاج بن ارطاۃ اسماعیل بن ابی خالد اور قیس، جریر سے ابو معاویہ کی روایت کی طرح نقل کی میں نے امام بخاری علیہ الرحمہ سے سنا فرماتے تھے صحیح یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیس کی روایت مرسل ہے سمرہ بن جندب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا مشرکین کے ساتھ رہائش نہ رکھو اور نہ ان کے ساتھ مجلس رکھو پس جو شخص ان کے ساتھ مقیم ہوا یا ان کی مجلس اختیار کی وہ ان کی مثل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۷،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمُقَامِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ،جلد۱ص۷۹۲،حديث نمبر ١٦٠٥)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انشاء اللہ اگر میں (ظاہر زندگی سے) زندہ رہا۔ ( ورنہ تو آپ آج بھی زندہ ہیں) تو یہود و نصارٰی کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۸مَا جَاءَ فِی اِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارٰى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ،جلد۱ص۷۹۳،حديث نمبر ١٦٠٧)
جزیرہ عرب سے یہود و نصارٰی کا اخراج حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں یہود و نصارٰی کو جزیرہ عرب سے ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمانوں کو رہنے دوں گا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۸مَا جَاءَ فِی اِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارٰى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ،جلد۱ص۷۹۳،حديث نمبر ١٦٠٧)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ترکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت خاتون جنت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تشریف لائی اور پوچھا آپ کا وارث کون ہوگا آپ نے فرمایا میری بیوی اور بچے خاتون جنت نے فرمایا تو پھر میں اپنے والد کی وارث کیوں نہیں ہوتی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ہماری (انبیاء کی) وراثت نہیں ہوتی پس میں ان کو نان و نفقہ دوں گا جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیا کرتے تھے اور ان پر خرچ کروں گا جن پر آپ خرچ کرتے تھے، اس باب میں حضرت عمر ،طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، حدیث ابو ہریرہ حسن اس طریق سے غریب ہے حماد بن سلمہ اور عبدالوہاب بن عطاء نے اسے بواسطہ محمد بن عمرو اور ابو سلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسند بیان کیا ہے یہ حدیث بواسطہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۹،مَاجَاءَ فِي تَرَكَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم،جلد۱ص۷۹۳،حديث نمبر ١٦٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے حضرت فاطمہ رضی الله عنہا حضرت ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے آئیں، ان دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میرا کوئی وارث نہیں ہو گا“، فاطمہ رضی الله عنہ بولیں: اللہ کی قسم! میں تم دونوں سے کبھی بات نہیں کروں گی، چنانچہ وہ انتقال کر گئیں، لیکن ان دونوں سے بات نہیں کی۔ راوی علی بن عیسیٰ کہتے ہیں: «لا أكلمكما» کا مفہوم یہ ہے کہ میں اس میراث کے سلسلے میں کبھی بھی آپ دونوں سے بات نہیں کروں گی، آپ دونوں سچے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں) یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۹،مَاجَاءَ فِي تَرَكَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم،جلد۱ص۷۹۳،حديث نمبر ١٦٠٩)
حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی تشریف لائے پھر حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما باہم جھگڑتے ہوئے تشریف لائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں تمہیں اس خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہے کیا تم جانتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے انہوں نے کہا ہم جانتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولی ہوں تم اور یہ حضرت عباس اور حضرت علی دونوں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تم اپنے بھتیجے کا ترکہ مانگنے لگے اور یہ اپنی زوجہ کے والد کا ترکہ مانگتے تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہیں اللہ جانتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سچے نیکوکار راہ ہدایت پر چلنے والے اور حق کے تابع تھے اس حدیث میں طویل قصہ ہیں یہ حدیث حسن صحیح حضرت مالک بن انس کی روایت سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۹،مَاجَاءَ فِي تَرَكَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم،جلد۱ص۷۹۳،حديث نمبر ١٦١٠)
فتح مکہ کے لیے اعلان مکہ حضرت حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا آج کے بعد قیامت تک مکہ مکرمہ پر جہاد نہیں ہوگا، اس باب میں حضرت ابن عباس، سلیمان بن صرد اور مطیع رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہے ،یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ زکریا بن ابی زائدہ کی روایت ہے اور شعبی سے روایت کرتے ہیں ہم اسے زکریا کی روایت سے ہی پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۹۰،مَا جَاءَ قَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ أَنَّ هَذِهِ لَا تُغْزَى بَعْدَ الْيَوْمِ،جلد۱ص۷۹۵،حديث نمبر ١٦١١)
لڑائی کے مستحب اوقات حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوا جب صبح طلوع ہوتی تو آپ سورج طلوع ہونے تک ٹھہر جاتے طلوع آفتاب کے بعد لڑائی لڑتے دوپہر کو رک جاتے سورج کے ڈھلنے پر عصر تک لڑتے پھر رک جاتے نماز عصر کے بعد پھر لڑتے اور کہا جاتا اس وقت مدد کی ہوائیں چلتی ہیں اور مسلمان نماز میں اپنے لشکروں کی کامیابی کی دعائیں مانگتے تھے نعمان بن مقرن سے یہ حدیث اس سند سے زیادہ متصل سند کے ساتھ بھی مروی ہے قتادہ نے نعمان بن مقرن کا زمانہ نہیں پایا نعمان کا خلافت عمر میں انتقال ہو چکا تھا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۹۱،مَا جَاءَ فِی السَّاعَةِ الَّتِی يُسْتَحَبُّ فِيهَاالْقِتَالُ،جلد۱ص۷۹۵،حديث نمبر ١٦١٢)
حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نعمان بن مقرن کو ہرمزان کی طرف بھیجا الخ طویل حدیث ذکر کی نعمان بن ہرمزان فرماتے ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوا جب آپ شروع دن میں لڑائی نہ لڑتے تو سورج کے ڈھلنے کا انتظار فرماتے ہوائیں چلتیں اور مدد اترتی، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔علقمہ بن عبداللہ بکر بن عبداللہ مزنی کے بھائی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۹۱،مَا جَاءَ فِی السَّاعَةِ الَّتِی يُسْتَحَبُّ فِيهَاالْقِتَالُ،جلد۱ص۷۹۵،حديث نمبر ١٦١٣)
بد فالی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدفالی شرک ہے اور ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن اللہ تعالی اسے توکل کے ذریعے دور کر دیتا ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے سنا فرماتے تھے سلیمان بن حرب اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ،،وَمَامِنَّا الخ ،، میرے نزدیک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اس باب میں حضرت سعد، ابو ہریرہ، حابس التمیمی، عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن کہیل کی روایت سے پہچانتے ہیں شعبہ نے بھی اسے سلمہ سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۹۲،مَا جَاءَ فِی الطِّيَرَةِ،جلد۱ص۷۹۶،حديث نمبر ١٦١٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے اور بد فالی کی کوئی حقیقت نہیں لیکن فال مجھے پسند ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ فال کیا ہے فرمایا اچھی بات،، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۹۲،مَا جَاءَ فِی الطِّيَرَةِ،جلد۱ص۷۹۶،حديث نمبر ١٦١٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ضرورت سے باہر نکلتے تو آپ کو یہ الفاظ سننا اچھا معلوم ہوتا،، یا راشد( اے ٹھیک راستہ پانے والے) یا نجیح( اے کامیاب )یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف، ابواب السیر،باب۱۰۹۲،مَا جَاءَ فِی الطِّيَرَةِ،جلد۱ص۷۹۶،حديث نمبر ١٦١٦)
جہاد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت۔ حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی آدمی کو لشکر کا امیر بنا کر بھیجتے وقت خاص اس کی ذات کے بارے میں تقوٰی اور مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کے نصیحت فرماتے اور فرماتے اللہ کے نام سے اس کے راستے میں لڑو اللہ کا انکار کرنے والوں سے لڑو مال غنیمت میں خیانت نہ کرو عہد شکنی نہ کرو مثلہ نہ بناؤ (اعضاء نہ کاٹو) اور بچوں کو قتل نہ کرو جب مشرک دشمن سے مقابلہ ہو تو انہیں تین باتوں میں سے ایک کی طرف بلاؤ ان میں سے جس بات کو مان جائیں قبول کر لو اور ان سے ہاتھ روک لو انہیں اسلام کی طرف بلاؤ اپنا وطن چھوڑ کر اس جگہ جا بسیں جہاں مہاجرین رہتے ہیں انہیں یہ بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کریں تو انہیں وہی کچھ ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور ان کے ذمہ وہی امور ہوں گے جو مہاجرین کے ذمہ ہیں اور اگر وہاں جانے سے انکار کر دیں تو انہیں بتا دو کہ تم لوگ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہو تم پر وہی حکم جاری ہوگا جو دیہاتی مسلمانوں پر ہے مال غنیمت اور فے میں سے کچھ حصہ نہیں ملے گا جب تک کہ جہاد نہ کرو اگر وہ ان باتوں سے انکار کرے تو ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگو اور ان سے لڑو اور جب کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ لوگ تم سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ چاہیں تو انہیں اللہ اور رسول کا ذمہ نہ دو بلکہ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دو اس لیے کہ ہمارے لیے اپنا اور ساتھیوں کا ذمہ توڑنا اللہ و رسول کی ذمہ کے توڑنے سے بہتر ہے اور جب کسی قلع کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ انہیں اللہ تعالٰی کے فیصلہ کے مطابق اتارو تو انہیں نہ اتارو بلکہ اپنے فیصلہ پر اتارو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں اللہ تعالٰی کے فیصلہ کو پہنچو گے یا نہیں اور اس کی مثل ذکر کیا اس باب میں حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہیں حدیث بریدہ حسن صحیح ہے۔ محمد بن بشارنے بواسطہ ابو احمد اور سفیان علقمہ بن مرثد سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر وہ انکار کرے تو ان سے جزیہ لو اگر اس سے بھی انکار کریں تو ان کے خلاف اللہ تعالی سے مدد مانگو وکیع اور کئی دوسرے حضرات نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے محمد بن بشار کے غیر نے بھی عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت کرتے ہوئے جزیہ کا ذکر کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۹۳،مَا جَاءَ فِي وَصِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِتَالِ،جلد۱ص۷۹۶،حديث نمبر ١٦١٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت حملہ آور ہوتے تھے اگر اذان سنتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے ایک دن آپ انتظار میں تھے کہ ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا،، اللہ اکبر اللہ اکبر ،، آپ نے فرمایا دین فطرت پر ہے اس نے کہا ،،اشھد ان لا الہ الا اللہ،، آپ نے فرمایا دوزخ سے نجات پائی حسن فرماتے ہیں ہم سے ولید نے اسی سند کے ساتھ اس کی مثل حماد بن سلمہ سے یہ حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۹۳،مَا جَاءَ فِي وَصِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِتَالِ،جلد۱ص۷۹۶،حديث نمبر ١٦١٨)
Tirmizi Shareef : Abwabus Siyari
|
Tirmizi Shareef : ابواب السیر
|
•