asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabu Fazayilil Jihad

From 1619 to 1669

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

جہاد کی فضیلت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ کون سی چیز جہاد کے برابر ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی طاقت نہیں رکھتے انہوں نے دو یا تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے ہر مرتبہ یہی فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تیسری مرتبہ فرمایا مجاہد جب تک کہ وہ جہاد سے نہ لوٹے،کی مثال اس روزہ دار اور رات کو نماز کے لیے کھڑے رہنے والے کی سی ہے جو نماز اور روزے میں سستی نہیں کرتا اس باب میں حضرت شفاء عبداللہ بن حبشی ابو موسٰی ابو سعید ام مالک بہزیہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۴،عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلِ الْجِهَادِ،جلد۱ص۷۹۸،حديث نمبر ١٦١٩)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ؟ قَالَ: " إِنَّكُمْ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ "، فَرَدُّوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: " لَا تَسْتَطِيعُونَهُ "، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ: " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَثَلُ الْقَائِمِ الصَّائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ مِنْ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ الشِّفَاءِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، وَأَبِي مُوسَى، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1619

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے جو شخص میرے راستے میں جہاد کرتا ہے میں اس کا ضامن ہوں اگر میں اس کی روح قبض کرتا ہوں تو اسے جنت کا وارث بناتا ہوں اور اگر اسے واپس گھر لوٹاتا ہوں تو ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ لوٹاتا ہوں یہ حدیث اس طریق سے غریب صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۴،عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلِ الْجِهَادِ،جلد۱ص۷۹۸،حديث نمبر ١٦٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مَرْزُوقٌ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ هُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ، إِنْ قَبَضْتُهُ، أَوْرَثْتُهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ رَجَعْتُهُ، رَجَعْتُهُ بِأَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ "، قَالَ: هُوَ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1620

مجاہد کی موت حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مرنے والے کے عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے لیکن اللہ تعالٰی کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے مرنے والے کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ قبر کے فتنہ سے محفوظ رہتا ہے،راوی فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بڑا مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرتا ہے، اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر اور جابر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں عبید کی روایت حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۵،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ مَنْ مَاتَ مُرَابطًا،جلد۱ص۷۹۹،حديث نمبر ١٦٢١)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يُنْمَى لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيَأْمَنُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ "، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَجَابِرٍ، وَحَدِيثُ فَضَالَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1621

جہاد میں روزہ رکھنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالٰی کے راستے جہاد میں ایک دن روزہ رکھے اللہ تعالٰی اسے ستر سال جہنم سے دور رکھے گا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راویوں میں سے ایک راوی نے ستر اور دوسرے نے چالیس سال کا قول کیا ہے یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے ابو اسود کا نام محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل اسدی مدینی ہے اس باب میں حضرت ابو سعید، انس، عقبہ بن عامر اور ابو امامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۶،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّوْمِ فِی سَبِيلِ اللَّهِ،جلد۱ص۷۹۹،حديث نمبر ١٦٢٢)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّوْمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أنهما حدثاه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، زَحْزَحَهُ اللَّهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا "، أَحَدُهُمَا يَقُولُ: " سَبْعِينَ "، وَالْآخَرُ يَقُولُ: " أَرْبَعِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَسَدِيُّ الْمَدَنِيُّ، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1622

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اللہ تعالٰی کے راستے جہاد میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو وہ دن اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت دور رکھے گا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۶،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّوْمِ فِی سَبِيلِ اللَّهِ،جلد۱ص۷۹۹،حديث نمبر ١٦٢٣)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، قَالَ: وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا بَاعَدَ ذَلِكَ الْيَوْمُ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1623

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جہاد میں ایک دن روزہ رکھے تو اللہ تعالٰی اس کی اور جہنم کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنی خندق بنا دے گا ،یہ حدیث ابو امامہ کی روایت سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۶،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّوْمِ فِی سَبِيلِ اللَّهِ،جلد۱ص۷۹۹،حديث نمبر ١٦٢٤)

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ خَنْدَقًا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ "، هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1624

جہاد میں مال خرچ کرنا حضرت خریم بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جہاد میں کچھ خرچ کرتا ہے اس کے لیے سات سو گنا ثواب لکھا جاتا ہے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن ہے ہم اسے رکین بن ربیع کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۷،مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النَّفَقَةِ فِی سَبِیْلِ اللَّهِ،جلد۱ص۸۰۰،حديث نمبر ١٦٢٥)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُتِبَتْ لَهُ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1625

جہاد میں خدمت گاری کی فضیلت حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا صدقہ افضل ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی کے راستے ایک غلام خدمت کے لیے دے دینا یا سائے کے لیے خیمہ دینا یا جوان اونٹنی دے دینا معاویہ بن صالح سے یہ حدیث مرسل بھی مروی ہے بعض اسناد میں زید کی مخالفت کی گئی ہے ولید بن جمیل نے یہ حدیث بواسطہ قاسم ابو عبدالرحمٰن اور ابو امامہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۹،جلد۱ص۸۰۱،حديث نمبر ١٦٢٦)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْخِدْمَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " خِدْمَةُ عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ ظِلُّ فُسْطَاطٍ، أَوْ طَرُوقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلًا، وَخُولِفَ زَيْدٌ فِي بَعْضِ إِسْنَادِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1626

حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں (مجاہدین کے لیے) خیمہ کا سایہ کرنا، خادم کا عطیہ دینا اور جوان اونٹنی دینا سب سے افضل و بہتر صدقہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- میرے نزدیک یہ معاویہ بن صالح کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَاتِ: ظِلُّ فُسْطَاطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنِيحَةُ خَادِمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ طَرُوقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ أَصَحُّ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1627

مجاہد کو سامان جنگ دینا حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ تعالٰی کے راستے میں جہاد کرنے والے کو سامان جنگ مہیا کیا وہ بھی مجاہد ہے اور جس نے کسی غازی کے گھر کی بطور نائب حفاظت کی گویا کہ وہ بھی شریک کے جہاد ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے اور متعدد طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۹،مَا جَاءَ فی فضل من جَهَّزَ غَازِياً،جلد۱ص۸۰۱،حديث نمبر ١٦٢٨)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1628

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے کسی مجاہد کو سامان جہاد مہیا کیا یا اس کے گھر کی نگرانی کی گویا کہ وہ بھی شریک جہاد ہے یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۹،مَا جَاءَ فی فضل جَهَّزَ غَازِياً،جلد۱ص۸۰۱،حديث نمبر ١٦٢٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، فَقَدْ غَزَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1629

محمد بن بشار نے بواسطہ یحییٰ بن سعید، عبدالملک بن ابو سلیمان ،عطاء اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۹،مَا جَاءَ فی فضل جَهَّزَ غَازِياً،جلد۱ص۸۰۱،حديث نمبر ١٦٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1630

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے کسی مجاہد کو سامان جہاد مہیا کیا یا اس کے گھر کی نگرانی کی گویا کہ وہ بھی شریک جہاد ہے، یہ حدیث حسن ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1631

اللہ کی راہ میں قدموں کا غبار آلود ہونا حضرت یزید بن ابو مریم فرماتے ہیں میں نماز جمعہ کے لیے پیدل جا رہا تھا کہ عبایہ بن رفاعہ بن رافع سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو تمہارا یہ قدم اللہ کی راہ میں ہے میں نے ابو عبس کو فرماتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو جائیں ان پر دوزخ حرام ہے، یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ابو عبس کا نام عبدالرحمٰن بن جبر ہے ،اس باب میں حضرت ابوبکر اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، یزید بن ابو مریم شامی ہیں ان سے ولید بن مسلم یحیٰی بن حمزہ اور متعدد اہل شام نے روایت کیا ہے برید بن ابو مریم کوفی کے والد صحابی تھے اور ان کا نام مالک بن ربیعہ تھا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۱۰۰،مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللهِ،جلد۱ص۸۰۲)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَأَنَا مَاشٍ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَبْشِرْ، فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَبْسٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبْرٍ، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ رَجُلٌ شَامِيٌّ، رَوَى عَنْهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، وَبُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ كُوفِيٌّ أَبُوهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهُ: مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَبُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَرَوَى عَنْ يَزِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَيُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، وَشُعْبَةُ، أَحَادِيثَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1632

جہاد میں پہنچنے والی گرد و غبار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی کے خوف سے رونے والا انسان دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ چلا جائے اور اللہ کی راہ میں پہنچنے والی گرد و غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے یہ حدیث حسن صحیح ہے محمد بن عبدالرحمٰن مولٰی آل طلحہ مدینی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۱۰۱،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الْغُبَارِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،جلد۱ص۸۰۲،حديث نمبر ١٦٣٣)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْغُبَارِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ مَدَنِيٌّ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1633

اللہ کے راستے میں بڑھاپا آنا سالم بن ابو جعدان کہتے ہیں کہ شرجیل بن سمط نے حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں اور اس میں ترمیم و اضافہ سے احتیاط کریں۔ انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ نے فرمایا۔ جو شخص حالت اسلام میں بڑھاپے کو پہنچے تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے روشنی کا باعث ہو گیا۔ اس باب میں حضرت فضالہ بن عبید اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ کعب بن مرہ کی روایت حسن ہے۔ اعمش نے عمرو بن مرہ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ بواسطہ منصور، سالم بن ابو الجعد سے بھی یہ حدیث مردی ہے۔ لیکن ان کے اور کعب کے درمیان ایک اور شخص کا واسطہ ہے۔ کعب بن مرہ کو مرہ بن کعب بہزی بھی کہا جاتا ہے مرہ بن کعب بہزی مشہور صحابی ہیں۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ (ترمذی شریف،- أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٤،حديث نمبر ١٦٣٤)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ قَالَ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَحَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، هَكَذَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، وَأَدْخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ فِي الْإِسْنَادِ رَجُلًا، وَيُقَالُ: كَعْبُ بْنُ مُرَّةَ، وَيُقَالُ: مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ الْبَهْزِيُّ، وَالْمَعْرُوفُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ الْبَهْزِيُّ، وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1634

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مردی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص راہ خداوندی میں بڑھاپے کو پہنچ جائے تو یہ بڑھایا قیامت کے دن اس کے لیے نور (کا باعث) ہوگا۔یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔حیوه بن شریح سے ابن یزید حمصی مراد ہیں۔ (ترمذی شریف،- أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، عَنْ بَقِيَّةَ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ابْنُ يَزِيدَ الْحِمْصِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1635

جہاد کے لیے گھوڑا رکھنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے بھلائی کی گرہ ہے۔گھوڑے کی تین حیثیتیں ہیں۔ ایک شخص کے لیے باعث اجر و ثواب، ایک کے لیے باعث پردہ اور ایک کے لیے وبال جان،جس کے لیے ثواب کا باعث ہے یہ وہ شخص ہے جو اسے جہاد کے لیے رکھتا ہے اور اسی کے لیے اسے تیار کرتا ہے تو یہ اس کیلئے ثواب کا باعث ہے اور جب بھی وہ اسکے پیٹ میں کوئی چیز ڈالا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسکا ثواب لکھ دیتا ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔مالک بن زید بن اسلم نے بواسطہ صالح اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی الہ علیہ وسلم سے اسکے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف،- أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٦)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنِ ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ: هِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَهِيَ عَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ، فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُعِدُّهَا لَهُ هِيَ لَهُ أَجْرٌ، لَا يَغِيبُ فِي بُطُونِهَا شَيْءٌ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرًا "، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1636

اللہ کے راستے میں تیر اندازی حضرت عبد الله بن عبد الرحمن بن ابو حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا کاریگر جو اس کے بنانے میں بھلائی کی امید رکھے، پھینکنے والا اور اس کا معاون ، آپ نے فرمایا۔ تیر اندازی کرو اور شہسواری کرو ۔ لیکن مجھے شہسواری کی بنسبت تیر اندازی زیادہ پسند ہے،مسلمان کے لیے ان تین کھیلوں ، تیراندازی، گھوڑوں کو سدھارنے اور گھر والوں سے کھیلنے کے علاوہ تمام کھیل بیکار ہیں یہ تین صحیح ہیں۔ احمد بن منیع نے بواسطہ یزید بن ہارون ، ہشام دستوائی یحییٰ بن ابو كثير، ابو سلام، عبد اللہ بن ازرق اور عقبہ بن عامر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کیا ہے۔ اس باب میں حضرت کعب بن مرہ ، عمر بن عبسہ اورعبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف،- أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرَّمْيِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٧)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرَّمْىِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ، صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَالْمُمِدَّ بِهِ، وَقَالَ: ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، كُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ ". حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَزْرَقِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ، وَعَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1637

حضرت ابو نجیح سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو شخص اللہ تعالٰی کے راستے میں تیر اندازی کرتا ہے اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو نجیح سے عمروبن عبسہ سلمی مراد ہیں۔اور عبد الله بن ازرق سے مراد عبداللہ بن زید ہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرَّمْيِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ لَهُ عَدْلُ مُحَرَّرٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو نَجِيحٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبْسَةَ السُّلَمِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَزْرَقِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1638

اسلامی سرحدوں کی حفاظت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں آگ نہیں چھوئے گی۔اللہ کے خوف سے رونے والی آنکھ اور اللہ کے راستے میں پہرہ دینے والی آنکھ۔اس باب میں حضرت عثمان اور ابوریحانہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ حدیث ابن عباس حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف شعیب بن زریق کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الحَرَسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٩)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْحَرْسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ أَبُو شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُثْمَانَ، وَأَبِي رَيْحَانَةَ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ رُزَيْقٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1639

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہادت ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کیا قرض کے سوا ؟ آپ نے فرمایا ہاں قرض کے سوا،اس باب میں حضرت کعب بن عجرہ، جابر، ابوہریرہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث انس غریب ہے ہم اسے ابو بکر (راوی) سے صرف اسی شیخ( یحی بن طلحہ کوفی) کی روایت سے پہچانتے ہیں ۔میں (امام ترمذی) نے امام بخاری علیہ الرحمہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے نہ پہچانا۔امام ترمذی فرماتے ہیں ہو سکتا ہے امام بخاری نے اس سے حضرت انس کی روایت حمیدہ سے مراد لی ہوکہ آپ نے فرمایا کہ شہید کے علاوہ کوئی جنتی دنیا میں واپس آنے پر خوش نہ ہو گا۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الشُّهَدَاءِ،حدیث نمبر ١٦٤٠)

باب مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الشُّهَدَاءِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ كُلَّ خَطِيئَةٍ "، فَقَالَ جِبْرِيلُ: إِلَّا الدَّيْنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الدَّيْنَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي قَتَادَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، وقَالَ: أَرَى أَنَّهُ أَرَادَ حَدِيثَ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا إِلَّا الشَّهِيدُ ".

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1640

شہید کا ثواب حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹ میں رہتی ہیں۔ اور جنت کے پھلوں یا ( فرمایا) جنت کے درختوں سے کھاتی ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الشُّهَدَاءِ،حدیث نمبر ١٦٤١)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ أَوْ شَجَرِ الْجَنَّةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1641

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میرے سامنے جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین اشخاص پیش کیے گئے ایک شهید، دوسرا پاک دامن اور حرام و شبہات سے بچنے والا اور تیسرا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اچھی طرح کرتا اور مالکوں کی خیر خواہی کرتا ہے ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الشُّهَدَاءِ،حدیث نمبر ١٦٤٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: شَهِيدٌ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ، وَعَبْدٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ وَنَصَحَ لِمَوَالِيهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1642

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ حکم نے فرمایا شہید کے علاوہ کوئی دوسرا شخص جس کے لیے اللہ تعالی کے ہاں بہتری ہو دنیا کی طرف لوٹنا اور دنیا ومافیہا کا حاصل کرنا پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ شہید شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہے۔ پس وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف دوبارہ بھیجا جائے اور دوبارہ جام شہادت نوش کرے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الشُّهَدَاءِ،حدیث نمبر ١٦٤٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدُ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَسَنَّ مِنْ الزُّهْرِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1643

اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہداء کی فضیلت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا شہید چار قسم کے لوگ ہیں۔ ایک کامل مؤمن جو دشمن سے لڑا اور اللہ تعالیٰ سے کیے گئے وعدہ کو سچ کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہو گیا یہ وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن لوگ اس کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر رکھیں گے۔ اور فرمایا " اس طرح ، اسکے ساتھ سر اٹھایا۔ ہاں تک کہ آپکی ٹوپی مبارک گر گئی۔راوی کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ٹوپی مراد ہے۔یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹوپی، پھر فرمایا ایک کامل مومن جو دشمن سے لڑا لیکن بزدلی کی وجہ سے اسکا یہ حال ہے گویا کہ اس کے بدن میں کسی نے خار دار نوکیلے درخت کے کانٹے چبھو دیے ہوں ایک تیر اسے آ کر لگے لیکن اسے پتہ تک نہ چلے اور وہ جام شہادت نوش کر جائے یہ دوسرے درجہ میں ہے۔اور ایک مؤمن جسکے پاس نیک اور برے اعمال ملے جلے ہیں اس نے دشمن سے مقابلہ کیا اور اللہ تعالی نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہوگیا یہ تیسرے درجہ میں ہے،اور وہ مؤمن جس نے گناہوں کے سبب اپنے نفس پر زیادتی کی اس نے دشمن سے مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے وعدہ میں سچا رہا یہاں تک کہ جام شہادت نوش کیا یہ چوتھے درجہ میں ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے عطاء بن دینار کی روایت سے معروف ہے۔ میں امام ترمذی نے امام بخاری کو فرماتے ہوئے سنا کہ سعید بن ابو ایوب نے یہ حدیث بواسطہ عطار بن دینار اور خولانی شیوخ سے روات کی، ابو یزید کا واسطہ مذکور نہیں، عطاء بن دینار فرماتے ہیں اس حدیث میں کوئی ڈر نہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٤٤)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَعْيُنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَكَذَا "، وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُهُ، قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَقَلَنْسُوَةَ عُمَرَ أَرَادَ أَمْ قَلَنْسُوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَكَأَنَّمَا ضُرِبَ جِلْدُهُ بِشَوْكِ طَلْحٍ مِنَ الْجُبْنِ أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ، فَهُوَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: قَدْ رَوَى سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، وَقَالَ: عَنْ أَشْيَاخٍ مِنْ خَوْلَانَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي يَزِيدَ، وقَالَ عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1644

سمندر کے راستے جہاد کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے پاس تشریف لائے تو وہ آپ کو کھانا کھلاتیں اور یہ ام حرام حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور روک کر آپ علیہ السلام کے سر مبارک سے جوئیں ٹٹولنے لگیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہو گئے پھر بیدار ہوئے تو تبسم فرما تھے ام حرام فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مسکراہٹ کا سبب کیا ہے؟آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے وہ اس سمندر کے درمیان سوار ہو کر سفر کریں گے اور تخت نشین بادشاہ ہوں گے یا تخت نشین بادشاہوں کی طرح ہوں گے،ام حرام فرماتی ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! دعا کیجیے اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سر انور رکھ کر آرام فرما ہو گئے پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیوں مسکرا رہے ہیں؟فرمایا:اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے اس کے بعد وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا۔عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! دعا کیجیے اللہ تعالی مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ نے فرمایا:تو پہلے لوگوں میں سے ہے۔چناں چہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا،حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سمندر کے سفر پر گئیں لیکن سمندر سے باہر جانور سے گر پڑیں اور انتقال کر گئیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ام حرام بنت ملحان،ام سلیم کی بہن اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ ہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزْوِ البَحْرِ،حدیث نمبر ١٦٤٥)

باب مَا جَاءَ فِي غَزْوِ الْبَحْرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، وَجَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكٌ عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، نَحْوَ مَا قَالَ فِي الْأَوَّلِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: " أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ "، قَالَ: فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ هِيَ أُخْتُ أُمِّ سُلَيْمٍ وَهِيَ خَالَةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1645

ریا کاری اور طالب دنیا کی خاطر لڑنا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بہادری دکھانے کیلیے لڑتا ہے اور جو آدمی غیرت کی خاطر لڑتا ہے اور جو شخص دکھاوے کیلے لڑتا ہے ان میں سے کون اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا ہے؟ آپ نے فرمایا:جو اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند رہے وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ اس باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُقَاتِلُ رِيَاءً وَلِلدُّنْيَا،حدیث نمبر ١٦٤٦)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يُقَاتِلُ رِيَاءً وَلِلدُّنْيَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1646

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال کے ثواب کا دار و مدار نیت پر ہے آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی (رضا) کے لیے ہو، اس کی ہجرت (واقعی) اللہ ورسول ہی کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت حصول دنیا یا کسی عورت سے نکاح کی نیت سے ہو،تو اس کی ہجرت اس کی طرف ہو گی جس کی اس نے نیت کی۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ مالک بن انس ، سفیان ثوری اور کئی دیگر ائمہ نے اسے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا۔ہم اسے صرف یحییٰ بن سعید کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُقَاتِلُ رِيَاءً وَلِلدُّنْيَا،حدیث نمبر ١٦٤٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ هَذَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: يَنْبَغِي أَنْ نَضَعَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كُلِّ بَابٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1647

صبح و شام جہاد میں جانے کی فضیلت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح یا شام راہ خدا وندی میں جہاد کے لیے جانا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سے بہتر ہے۔اور جنت میں کمان بھر یا ایک بالشت جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانکے تو زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو منور کر دے اور دونوں کے درمیان فضا کو معطر کر دے اور اس کی اوڑھنی دنیا و فیہا سے بہتر ہے یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٤٨)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1648

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کی ایک صبح یا ایک شام دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- جس ابوحازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے وہ ابوحازم زاہد ہیں، مدینہ کے رہنے والے ہیں اور ان کا نام سلمہ بن دینار ہے، اور یہ ابوحازم جنہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے یہ ابوحازم اشجعی ہیں، کوفہ کے رہنے والے ان کا نام سلمان ہے اور یہ عزۃ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٤٩)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْحَجَّاجُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ هُوَ أَبُو حَازِمٍ الزَّاهِدُ وَهُوَ مَدَنِيٌّ وَاسْمُهُ: سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو حَازِمٍ هَذَا الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ هُوَ أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ: سَلْمَانُ وَهُوَ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1649

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا ایک ایسی کھاٹی سے گزر ہوا جس میں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا۔انہیں وہ چشمہ اپنی عمدگی کے سبب پسند آیا۔ کہنے لگا کیا اچھا ہوتا کہ میں لوگوں سے الگ ہو کر اس وادی میں ٹھہرتا لیکن میں جب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں ایسا نہیں کرسکتا، چناں چہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ایسانہ کرو کیونکہ تمہارا میدان جہاد میں کھڑا رہنا گھر میں ستر سال نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالی تمہیں بخش دے اور جنت میں داخل کرے۔ اللہ کے راستے میں لڑو جس نے اونٹنی کے دو دفعہ دودھ دوھنے کے درمیان جتنا وقت بھی اللہ کے راستے ہیں لڑائی کی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٥٠)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِعْبٍ فِيهِ عُيَيْنَةٌ مِنْ مَاءٍ عَذْبَةٌ، فَأَعْجَبَتْهُ لِطِيبِهَا، فَقَالَ: لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَأَقَمْتُ فِي هَذَا الشِّعْبِ، وَلَنْ أَفْعَلَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ مُقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ سَبْعِينَ عَامًا، أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمُ الْجَنَّةَ؟ اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَاقَ نَاقَةٍ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1650

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد کی ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کی کمان یا ہاتھ کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے, اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف نکل آئے تو زمین و آسمان کے درمیان کی ساری چیزیں روشن ہو جائیں اور خوشبو سے بھر جائیں اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،حدیث نمبر ١٦٥١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ يَدِهِ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ، لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1651

کون لوگ بہتر ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا میں تمہیں اچھے لوگ نہ بتاؤں؟ فرمایا۔وہ لوگ جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے رکھتے ہیں،کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اس کے بعد کونسا آدمی افضل ہے؟وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ساتھ لوگوں سے علیحدہ رہتا ہے اور ان میں اللہ کا حق ادا کرتا ہے،پھر فرمایا کیا میں تمہیں برا آدمی نہ بتاؤں ؟ فرمایا:وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا جائے اور وہ نہ دے،یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ،حدیث نمبر ١٦٥٢)

باب مَا جَاءَ أَىُّ النَّاسِ خَيْرٌ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ؟ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَتْلُوهُ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِيهَا، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ؟ رَجُلٌ يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1652

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ تعالٰی سے قلب صادق کے ساتھ شہادت مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے درجے تک پہنچا دے گا اگرچہ اپنے بستر پر مرے۔یہ حدیث حسن ، سہل بن حنیف کی روایت سے غریب ہے۔ ہم اسے صرف عبدالرحمن بن شریح کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ عبداللہ بن صالح نے اسے عبدالرحمن بن شریح سے روایت کیا ہے۔ عبدالرحمن بن شریح کی کنیت ابو شریح ہے اور وہ اسکندرانی ہے اس باب میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہے ۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ سَأَلَ الشَّهَادَةَ،حدیث نمبر ١٦٥٣)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ سَأَلَ الشَّهَادَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ مِنْ قَلْبِهِ صَادِقًا، بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ يكنى أبا شريح وهو إسكندراني، وفي الباب، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1653

شہادت کی دعا مانگنا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالٰی سے سچے دل کے ساتھ شہادت کا سوال کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے شہید کا ثواب عطا فرماتا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ سَأَلَ الشَّهَادَةَ،حدیث نمبر ١٦٥٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِهِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ، أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ الشَّهِيدِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1654

مجاہد، مکاتب اور نکاح کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ۔ کے ذمہ کرم پر ،ان کی مدد لازم ہے۔اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا، مکاتب جو بدلہ کتابت ادا کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ شخص جو پاکدامنی کی نیت سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي المُجَاهِدِ وَالنَّاكِحِ وَالمُكَاتَبِ وَعَوْنِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ،حدیث نمبر ١٦٥٥)

باب مَا جَاءَ فِي الْمُجَاهِدِ وَالنَّاكِحِ وَالْمُكَاتَبِ وَعَوْنِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1655

اللہ کی راہ میں زخمی ہونا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ زخم کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور خوشبو مشک جیسی ہوگی۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٥٦)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1656

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا جو مسلمان آدمی اونٹنی کے دو مرتبہ دودھ دوھنے کے درمیان جتنا وقت جہاد کرے اس کے لیے جنت واجب ہے اور جسے اللہ کے راستے میں زخم پہنچا یا کوئی مصیبت پہنچی وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رنگین خون کے ساتھ آئے گا اس کا رنگ زعفرانی اور خوشبو مشک کی طرح ہوگی۔ یہ حدیث صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٥٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً، فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ، لَوْنُهَا الزَّعْفَرَانُ، وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ ".

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1657

کون سا عمل افضل ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسا عمل افضل ہے۔ یا کونسا عمل بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔پوچھا گیا پھر کون سا عمل ہے؟ فرمایا:جہاد عمل کی کوہان ہے۔پوچھا گیا پھر کونسا عمل افضل ہے؟ فرمایا "حج مقبول، یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ،حدیث نمبر ١٦٥٨)

باب مَا جَاءَ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ، أَوْ أَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ "، قِيلَ: ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ سَنَامُ الْعَمَلِ "، قِيلَ: ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1658

حضرت ابو بکر بن ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے دشمن کے مقابل سنا فرماتے تھے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے تلواروں کے سائے میں ہیں۔حاضرین میں سے ایک پراگندہ حال شخص نے پوچھا کہ آپ نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے؟فرمایا:ہاں! راوی فرماتے ہیں وہ شخص اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور کہا میں تمہیں(الوداعی)سلام کہتا ہوں پھر اس نے تلوار کی میان کو توڑ ڈالا اور لڑنے لگا۔ یہاں تک کہ شہید ہو گیا،یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے پہچانتے ہیں ۔ ابو عمر جونی کا نام عبدالملک بن حبیب ہے ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کا نام ابو بکر بن ابو موسیٰ ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا ذُكِرَ أَنَّ أَبْوَابَ الجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ،حدیث نمبر ١٦٥٩)

باب مَا ذُكِرَ أَنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْهَيْئَةِ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ، وَكَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيِّ، وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: هُوَ اسْمُهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1659

بهترین انسان حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسا انسان افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ پوچھا پھر کون؟ فرمایا:وہ مومن جو کسی گھاٹی میں سکونت پذیر ہو اپنے رب سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ،حدیث نمبر ١٦٦٠)

باب مَا جَاءَ أَىُّ النَّاسِ أَفْضَلُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1660

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی بھی جنتی دنیا کی طرف لوٹنا پسند نہیں کرے گا ۔ البتہ! شہید چاہے گا کہ دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے وہ کہے گا یہاں تک کہ دس مرتبہ اللہ کے راستے میں شہید کیا جاؤں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عزت کو دیکھ چکا ہوگا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابٌ فِي ثَوَابِ الشَّهِيدِ،حدیث نمبر ١٦٦١،و حدیث نمبر ١٦٦١)

باب فِي ثَوَابِ الشَّهِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا غَيْرُ الشَّهِيدِ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، يَقُولُ: حَتَّى أُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مِمَّا يَرَى مِمَّا أَعْطَاهُ مِنَ الْكَرَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1661

محمد بن بشار نے بواسطہ محمد بن جعفر، شعبہ ، قتادہ اور انس رضی اللہ عنہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی ہے ۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابٌ فِي ثَوَابِ الشَّهِيدِ،حدیث نمبر ١٦٦١،و حدیث نمبر ١٦٦٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1662

شہید کا اعزاز حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کی چھ خصلتیں ہیں۔خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی بخشش ہو جاتی ہے۔جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے، عذاب قبر سے محفوظ ہوتا ہے۔ بڑی گھبراہٹ سے مامون ہوگا۔ اس کے سر پر عزت و وقارکا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوگا۔بڑی آنکھوں والی بہتر ٧٢ حوریں اس کے نکاح میں دی جائیں گی اور اس کے ستر رشتہ داروں کے معاملہ میں اس کی سفارش قبول ہوگی ۔ یہ حدیث میں غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابٌ فِي ثَوَابِ الشَّهِيدِ،حدیث نمبر ١٦٦٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1663

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن ( اسلامی سرحدات کی)نگرانی کرنا دنیا اور اس کی تمام آرائشوں سے بہتر ہے نیز ایک شام یا ایک صبح جہاد کے لیے نکلنا، دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔اور جنت میں تمہارے ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٤)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمُرَابِطِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَرَوْحَةٌ يَرُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لَغَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1664

محمد بن منکدر فرماتے ہیں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت شرجیل بن سمط رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے وہ چوکی پر پہرہ دے رہے تھے اور یہ بات ان پر اور ان کے ساتھیوں پر شاق گزر رہی تھی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابن سمط کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جسے میں نےحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے انہوں نے فرمایا:ہاں! کیوں نہیں سنائیے! فرمایا :میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن پہرہ دینا ایک مہینے کے روزے رکھنے اور قیام کرنے سے افضل یا فرمایا، بہتر ہے اور جو آدمی اس دوران فوت ہو جائے وہ عذاب قبر سے محفوظ ہوتا ہے اور اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہے گا۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٥)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: مَرَّ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ بِشُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ وَهُوَ فِي مُرَابَطٍ لَهُ، وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِ وَعَلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ يَا ابْنَ السِّمْطِ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ، وَرُبَّمَا قَالَ: خَيْرٌ، مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ فِيهِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَنُمِّيَ لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1665

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جہاد کی کسی نشانی کے بغیر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو گویا وہ اس طرح ملاقات کریگا کہ اس کے دین میں نقصان ہو گا۔اسماعیل بن رافع کی روایت سے یہ حدیث غریب ہے۔اسماعیل بن رافع کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔میں (امام ترمذی) نے امام بخاری علیہ الرحمہ سے سنا فرماتے تھے وہ ثقہ ہے اور مقارب الحدیث ہے یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مردی ہے،حدیث سلمان کی سند متصل نہیں کیونکہ محمد بن منکدر نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔بواسطہ ایوب بن موسیٰ مکحول،شرجيل بن سمط اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ بِغَيْرِ أَثَرٍ مِنْ جِهَادٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَافِعٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، قَالَ " وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: هُوَ ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ سَلْمَانَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1666

حضرت ابو صالح مولیٰ عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث تم سے مخفی رکھی تاکہ تم مجھ سے جدا نہ ہو جاؤ،پھر میں نے اس کا بیان کرنا مناسب سمجھا تاکہ ہر آدمی اپنے لیے جو مناسب سمجھے اس پر عمل کرے۔میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرنا دوسرے ہزار دنوں کی منازل سے بہتر ہے۔یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے ۔ امام بخاری فرماتے ہیں۔ ابو صالح مولیٰ عثمان کا نام برکان ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٧)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: أَبُو صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ اسْمُهُ: بُرْكَانُ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1667

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شهید کو بوقت شہادت اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے۔جتنی تمہیں مچھر وغیرہ کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , وغير واحد، قَالُوا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ، إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنْ مَسِّ الْقَرْصَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1668

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کو دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں خشیت الٰہی میں گرنے والے آنسو کا قطرہ اور اللہ کی راہ میں بہنے والے خون کا قطرہ دو نشان یہ ہیں۔ اللہ کی راہ (جہاد) میں پہنچنے والے زخم کا نشان اور کسی فریضہ خدا وندی کو ادا کرنے کا نشان۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٩)

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ الْفِلَسْطِينِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ، وَأَثَرَيْنِ: قَطْرَةٌ مِنْ دُمُوعٍ فِي خَشْيَةِ اللهِ، وَقَطْرَةُ دَمٍ تُهَرَاقُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَأَمَّا الْأَثَرَانِ: فَأَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَأَثَرٌ فِي فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللهِ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Fazayilil Jihad , Hadees No. 1669

Tirmizi Shareef : Abwabu Fazayilil Jihad

|

Tirmizi Shareef : ابواب فضائل الجھاد

|

•