
جہاد کی فضیلت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ کون سی چیز جہاد کے برابر ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی طاقت نہیں رکھتے انہوں نے دو یا تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے ہر مرتبہ یہی فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تیسری مرتبہ فرمایا مجاہد جب تک کہ وہ جہاد سے نہ لوٹے،کی مثال اس روزہ دار اور رات کو نماز کے لیے کھڑے رہنے والے کی سی ہے جو نماز اور روزے میں سستی نہیں کرتا اس باب میں حضرت شفاء عبداللہ بن حبشی ابو موسٰی ابو سعید ام مالک بہزیہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۴،عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلِ الْجِهَادِ،جلد۱ص۷۹۸،حديث نمبر ١٦١٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے جو شخص میرے راستے میں جہاد کرتا ہے میں اس کا ضامن ہوں اگر میں اس کی روح قبض کرتا ہوں تو اسے جنت کا وارث بناتا ہوں اور اگر اسے واپس گھر لوٹاتا ہوں تو ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ لوٹاتا ہوں یہ حدیث اس طریق سے غریب صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۴،عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلِ الْجِهَادِ،جلد۱ص۷۹۸،حديث نمبر ١٦٢٠)
مجاہد کی موت حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مرنے والے کے عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے لیکن اللہ تعالٰی کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے مرنے والے کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ قبر کے فتنہ سے محفوظ رہتا ہے،راوی فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بڑا مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرتا ہے، اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر اور جابر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں عبید کی روایت حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۵،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ مَنْ مَاتَ مُرَابطًا،جلد۱ص۷۹۹،حديث نمبر ١٦٢١)
جہاد میں روزہ رکھنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالٰی کے راستے جہاد میں ایک دن روزہ رکھے اللہ تعالٰی اسے ستر سال جہنم سے دور رکھے گا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راویوں میں سے ایک راوی نے ستر اور دوسرے نے چالیس سال کا قول کیا ہے یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے ابو اسود کا نام محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل اسدی مدینی ہے اس باب میں حضرت ابو سعید، انس، عقبہ بن عامر اور ابو امامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۶،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّوْمِ فِی سَبِيلِ اللَّهِ،جلد۱ص۷۹۹،حديث نمبر ١٦٢٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اللہ تعالٰی کے راستے جہاد میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو وہ دن اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت دور رکھے گا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۶،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّوْمِ فِی سَبِيلِ اللَّهِ،جلد۱ص۷۹۹،حديث نمبر ١٦٢٣)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جہاد میں ایک دن روزہ رکھے تو اللہ تعالٰی اس کی اور جہنم کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنی خندق بنا دے گا ،یہ حدیث ابو امامہ کی روایت سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۶،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّوْمِ فِی سَبِيلِ اللَّهِ،جلد۱ص۷۹۹،حديث نمبر ١٦٢٤)
جہاد میں مال خرچ کرنا حضرت خریم بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جہاد میں کچھ خرچ کرتا ہے اس کے لیے سات سو گنا ثواب لکھا جاتا ہے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن ہے ہم اسے رکین بن ربیع کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۷،مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النَّفَقَةِ فِی سَبِیْلِ اللَّهِ،جلد۱ص۸۰۰،حديث نمبر ١٦٢٥)
جہاد میں خدمت گاری کی فضیلت حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا صدقہ افضل ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی کے راستے ایک غلام خدمت کے لیے دے دینا یا سائے کے لیے خیمہ دینا یا جوان اونٹنی دے دینا معاویہ بن صالح سے یہ حدیث مرسل بھی مروی ہے بعض اسناد میں زید کی مخالفت کی گئی ہے ولید بن جمیل نے یہ حدیث بواسطہ قاسم ابو عبدالرحمٰن اور ابو امامہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۹،جلد۱ص۸۰۱،حديث نمبر ١٦٢٦)
حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں (مجاہدین کے لیے) خیمہ کا سایہ کرنا، خادم کا عطیہ دینا اور جوان اونٹنی دینا سب سے افضل و بہتر صدقہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- میرے نزدیک یہ معاویہ بن صالح کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
مجاہد کو سامان جنگ دینا حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ تعالٰی کے راستے میں جہاد کرنے والے کو سامان جنگ مہیا کیا وہ بھی مجاہد ہے اور جس نے کسی غازی کے گھر کی بطور نائب حفاظت کی گویا کہ وہ بھی شریک کے جہاد ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے اور متعدد طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۹،مَا جَاءَ فی فضل من جَهَّزَ غَازِياً،جلد۱ص۸۰۱،حديث نمبر ١٦٢٨)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے کسی مجاہد کو سامان جہاد مہیا کیا یا اس کے گھر کی نگرانی کی گویا کہ وہ بھی شریک جہاد ہے یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۹،مَا جَاءَ فی فضل جَهَّزَ غَازِياً،جلد۱ص۸۰۱،حديث نمبر ١٦٢٩)
محمد بن بشار نے بواسطہ یحییٰ بن سعید، عبدالملک بن ابو سلیمان ،عطاء اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۰۹۹،مَا جَاءَ فی فضل جَهَّزَ غَازِياً،جلد۱ص۸۰۱،حديث نمبر ١٦٣٠)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے کسی مجاہد کو سامان جہاد مہیا کیا یا اس کے گھر کی نگرانی کی گویا کہ وہ بھی شریک جہاد ہے، یہ حدیث حسن ہے۔
اللہ کی راہ میں قدموں کا غبار آلود ہونا حضرت یزید بن ابو مریم فرماتے ہیں میں نماز جمعہ کے لیے پیدل جا رہا تھا کہ عبایہ بن رفاعہ بن رافع سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو تمہارا یہ قدم اللہ کی راہ میں ہے میں نے ابو عبس کو فرماتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو جائیں ان پر دوزخ حرام ہے، یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ابو عبس کا نام عبدالرحمٰن بن جبر ہے ،اس باب میں حضرت ابوبکر اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، یزید بن ابو مریم شامی ہیں ان سے ولید بن مسلم یحیٰی بن حمزہ اور متعدد اہل شام نے روایت کیا ہے برید بن ابو مریم کوفی کے والد صحابی تھے اور ان کا نام مالک بن ربیعہ تھا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۱۰۰،مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللهِ،جلد۱ص۸۰۲)
جہاد میں پہنچنے والی گرد و غبار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی کے خوف سے رونے والا انسان دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ چلا جائے اور اللہ کی راہ میں پہنچنے والی گرد و غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے یہ حدیث حسن صحیح ہے محمد بن عبدالرحمٰن مولٰی آل طلحہ مدینی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الفضائل الجہاد،باب۱۱۰۱،مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الْغُبَارِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،جلد۱ص۸۰۲،حديث نمبر ١٦٣٣)
اللہ کے راستے میں بڑھاپا آنا سالم بن ابو جعدان کہتے ہیں کہ شرجیل بن سمط نے حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں اور اس میں ترمیم و اضافہ سے احتیاط کریں۔ انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ نے فرمایا۔ جو شخص حالت اسلام میں بڑھاپے کو پہنچے تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے روشنی کا باعث ہو گیا۔ اس باب میں حضرت فضالہ بن عبید اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ کعب بن مرہ کی روایت حسن ہے۔ اعمش نے عمرو بن مرہ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ بواسطہ منصور، سالم بن ابو الجعد سے بھی یہ حدیث مردی ہے۔ لیکن ان کے اور کعب کے درمیان ایک اور شخص کا واسطہ ہے۔ کعب بن مرہ کو مرہ بن کعب بہزی بھی کہا جاتا ہے مرہ بن کعب بہزی مشہور صحابی ہیں۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ (ترمذی شریف،- أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٤،حديث نمبر ١٦٣٤)
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مردی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص راہ خداوندی میں بڑھاپے کو پہنچ جائے تو یہ بڑھایا قیامت کے دن اس کے لیے نور (کا باعث) ہوگا۔یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔حیوه بن شریح سے ابن یزید حمصی مراد ہیں۔ (ترمذی شریف،- أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٥)
جہاد کے لیے گھوڑا رکھنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے بھلائی کی گرہ ہے۔گھوڑے کی تین حیثیتیں ہیں۔ ایک شخص کے لیے باعث اجر و ثواب، ایک کے لیے باعث پردہ اور ایک کے لیے وبال جان،جس کے لیے ثواب کا باعث ہے یہ وہ شخص ہے جو اسے جہاد کے لیے رکھتا ہے اور اسی کے لیے اسے تیار کرتا ہے تو یہ اس کیلئے ثواب کا باعث ہے اور جب بھی وہ اسکے پیٹ میں کوئی چیز ڈالا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسکا ثواب لکھ دیتا ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔مالک بن زید بن اسلم نے بواسطہ صالح اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی الہ علیہ وسلم سے اسکے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف،- أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٦)
اللہ کے راستے میں تیر اندازی حضرت عبد الله بن عبد الرحمن بن ابو حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا کاریگر جو اس کے بنانے میں بھلائی کی امید رکھے، پھینکنے والا اور اس کا معاون ، آپ نے فرمایا۔ تیر اندازی کرو اور شہسواری کرو ۔ لیکن مجھے شہسواری کی بنسبت تیر اندازی زیادہ پسند ہے،مسلمان کے لیے ان تین کھیلوں ، تیراندازی، گھوڑوں کو سدھارنے اور گھر والوں سے کھیلنے کے علاوہ تمام کھیل بیکار ہیں یہ تین صحیح ہیں۔ احمد بن منیع نے بواسطہ یزید بن ہارون ، ہشام دستوائی یحییٰ بن ابو كثير، ابو سلام، عبد اللہ بن ازرق اور عقبہ بن عامر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کیا ہے۔ اس باب میں حضرت کعب بن مرہ ، عمر بن عبسہ اورعبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف،- أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرَّمْيِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٧)
حضرت ابو نجیح سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو شخص اللہ تعالٰی کے راستے میں تیر اندازی کرتا ہے اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو نجیح سے عمروبن عبسہ سلمی مراد ہیں۔اور عبد الله بن ازرق سے مراد عبداللہ بن زید ہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرَّمْيِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٨)
اسلامی سرحدوں کی حفاظت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں آگ نہیں چھوئے گی۔اللہ کے خوف سے رونے والی آنکھ اور اللہ کے راستے میں پہرہ دینے والی آنکھ۔اس باب میں حضرت عثمان اور ابوریحانہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ حدیث ابن عباس حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف شعیب بن زریق کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الحَرَسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٣٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہادت ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کیا قرض کے سوا ؟ آپ نے فرمایا ہاں قرض کے سوا،اس باب میں حضرت کعب بن عجرہ، جابر، ابوہریرہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث انس غریب ہے ہم اسے ابو بکر (راوی) سے صرف اسی شیخ( یحی بن طلحہ کوفی) کی روایت سے پہچانتے ہیں ۔میں (امام ترمذی) نے امام بخاری علیہ الرحمہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے نہ پہچانا۔امام ترمذی فرماتے ہیں ہو سکتا ہے امام بخاری نے اس سے حضرت انس کی روایت حمیدہ سے مراد لی ہوکہ آپ نے فرمایا کہ شہید کے علاوہ کوئی جنتی دنیا میں واپس آنے پر خوش نہ ہو گا۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الشُّهَدَاءِ،حدیث نمبر ١٦٤٠)
شہید کا ثواب حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹ میں رہتی ہیں۔ اور جنت کے پھلوں یا ( فرمایا) جنت کے درختوں سے کھاتی ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الشُّهَدَاءِ،حدیث نمبر ١٦٤١)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میرے سامنے جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین اشخاص پیش کیے گئے ایک شهید، دوسرا پاک دامن اور حرام و شبہات سے بچنے والا اور تیسرا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اچھی طرح کرتا اور مالکوں کی خیر خواہی کرتا ہے ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الشُّهَدَاءِ،حدیث نمبر ١٦٤٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ حکم نے فرمایا شہید کے علاوہ کوئی دوسرا شخص جس کے لیے اللہ تعالی کے ہاں بہتری ہو دنیا کی طرف لوٹنا اور دنیا ومافیہا کا حاصل کرنا پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ شہید شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہے۔ پس وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف دوبارہ بھیجا جائے اور دوبارہ جام شہادت نوش کرے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الشُّهَدَاءِ،حدیث نمبر ١٦٤٣)
اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہداء کی فضیلت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا شہید چار قسم کے لوگ ہیں۔ ایک کامل مؤمن جو دشمن سے لڑا اور اللہ تعالیٰ سے کیے گئے وعدہ کو سچ کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہو گیا یہ وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن لوگ اس کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر رکھیں گے۔ اور فرمایا " اس طرح ، اسکے ساتھ سر اٹھایا۔ ہاں تک کہ آپکی ٹوپی مبارک گر گئی۔راوی کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ٹوپی مراد ہے۔یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹوپی، پھر فرمایا ایک کامل مومن جو دشمن سے لڑا لیکن بزدلی کی وجہ سے اسکا یہ حال ہے گویا کہ اس کے بدن میں کسی نے خار دار نوکیلے درخت کے کانٹے چبھو دیے ہوں ایک تیر اسے آ کر لگے لیکن اسے پتہ تک نہ چلے اور وہ جام شہادت نوش کر جائے یہ دوسرے درجہ میں ہے۔اور ایک مؤمن جسکے پاس نیک اور برے اعمال ملے جلے ہیں اس نے دشمن سے مقابلہ کیا اور اللہ تعالی نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہوگیا یہ تیسرے درجہ میں ہے،اور وہ مؤمن جس نے گناہوں کے سبب اپنے نفس پر زیادتی کی اس نے دشمن سے مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے وعدہ میں سچا رہا یہاں تک کہ جام شہادت نوش کیا یہ چوتھے درجہ میں ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے عطاء بن دینار کی روایت سے معروف ہے۔ میں امام ترمذی نے امام بخاری کو فرماتے ہوئے سنا کہ سعید بن ابو ایوب نے یہ حدیث بواسطہ عطار بن دینار اور خولانی شیوخ سے روات کی، ابو یزید کا واسطہ مذکور نہیں، عطاء بن دینار فرماتے ہیں اس حدیث میں کوئی ڈر نہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٤٤)
سمندر کے راستے جہاد کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے پاس تشریف لائے تو وہ آپ کو کھانا کھلاتیں اور یہ ام حرام حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور روک کر آپ علیہ السلام کے سر مبارک سے جوئیں ٹٹولنے لگیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہو گئے پھر بیدار ہوئے تو تبسم فرما تھے ام حرام فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مسکراہٹ کا سبب کیا ہے؟آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے وہ اس سمندر کے درمیان سوار ہو کر سفر کریں گے اور تخت نشین بادشاہ ہوں گے یا تخت نشین بادشاہوں کی طرح ہوں گے،ام حرام فرماتی ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! دعا کیجیے اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سر انور رکھ کر آرام فرما ہو گئے پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیوں مسکرا رہے ہیں؟فرمایا:اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے اس کے بعد وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا۔عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! دعا کیجیے اللہ تعالی مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ نے فرمایا:تو پہلے لوگوں میں سے ہے۔چناں چہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا،حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سمندر کے سفر پر گئیں لیکن سمندر سے باہر جانور سے گر پڑیں اور انتقال کر گئیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ام حرام بنت ملحان،ام سلیم کی بہن اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ ہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزْوِ البَحْرِ،حدیث نمبر ١٦٤٥)
ریا کاری اور طالب دنیا کی خاطر لڑنا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بہادری دکھانے کیلیے لڑتا ہے اور جو آدمی غیرت کی خاطر لڑتا ہے اور جو شخص دکھاوے کیلے لڑتا ہے ان میں سے کون اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا ہے؟ آپ نے فرمایا:جو اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند رہے وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ اس باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُقَاتِلُ رِيَاءً وَلِلدُّنْيَا،حدیث نمبر ١٦٤٦)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال کے ثواب کا دار و مدار نیت پر ہے آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی (رضا) کے لیے ہو، اس کی ہجرت (واقعی) اللہ ورسول ہی کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت حصول دنیا یا کسی عورت سے نکاح کی نیت سے ہو،تو اس کی ہجرت اس کی طرف ہو گی جس کی اس نے نیت کی۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ مالک بن انس ، سفیان ثوری اور کئی دیگر ائمہ نے اسے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا۔ہم اسے صرف یحییٰ بن سعید کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُقَاتِلُ رِيَاءً وَلِلدُّنْيَا،حدیث نمبر ١٦٤٧)
صبح و شام جہاد میں جانے کی فضیلت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح یا شام راہ خدا وندی میں جہاد کے لیے جانا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سے بہتر ہے۔اور جنت میں کمان بھر یا ایک بالشت جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانکے تو زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو منور کر دے اور دونوں کے درمیان فضا کو معطر کر دے اور اس کی اوڑھنی دنیا و فیہا سے بہتر ہے یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کی ایک صبح یا ایک شام دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- جس ابوحازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے وہ ابوحازم زاہد ہیں، مدینہ کے رہنے والے ہیں اور ان کا نام سلمہ بن دینار ہے، اور یہ ابوحازم جنہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے یہ ابوحازم اشجعی ہیں، کوفہ کے رہنے والے ان کا نام سلمان ہے اور یہ عزۃ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا ایک ایسی کھاٹی سے گزر ہوا جس میں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا۔انہیں وہ چشمہ اپنی عمدگی کے سبب پسند آیا۔ کہنے لگا کیا اچھا ہوتا کہ میں لوگوں سے الگ ہو کر اس وادی میں ٹھہرتا لیکن میں جب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں ایسا نہیں کرسکتا، چناں چہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ایسانہ کرو کیونکہ تمہارا میدان جہاد میں کھڑا رہنا گھر میں ستر سال نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالی تمہیں بخش دے اور جنت میں داخل کرے۔ اللہ کے راستے میں لڑو جس نے اونٹنی کے دو دفعہ دودھ دوھنے کے درمیان جتنا وقت بھی اللہ کے راستے ہیں لڑائی کی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٥٠)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد کی ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کی کمان یا ہاتھ کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے, اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف نکل آئے تو زمین و آسمان کے درمیان کی ساری چیزیں روشن ہو جائیں اور خوشبو سے بھر جائیں اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،حدیث نمبر ١٦٥١)
کون لوگ بہتر ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا میں تمہیں اچھے لوگ نہ بتاؤں؟ فرمایا۔وہ لوگ جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے رکھتے ہیں،کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اس کے بعد کونسا آدمی افضل ہے؟وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ساتھ لوگوں سے علیحدہ رہتا ہے اور ان میں اللہ کا حق ادا کرتا ہے،پھر فرمایا کیا میں تمہیں برا آدمی نہ بتاؤں ؟ فرمایا:وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا جائے اور وہ نہ دے،یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ،حدیث نمبر ١٦٥٢)
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ تعالٰی سے قلب صادق کے ساتھ شہادت مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے درجے تک پہنچا دے گا اگرچہ اپنے بستر پر مرے۔یہ حدیث حسن ، سہل بن حنیف کی روایت سے غریب ہے۔ ہم اسے صرف عبدالرحمن بن شریح کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ عبداللہ بن صالح نے اسے عبدالرحمن بن شریح سے روایت کیا ہے۔ عبدالرحمن بن شریح کی کنیت ابو شریح ہے اور وہ اسکندرانی ہے اس باب میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہے ۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ سَأَلَ الشَّهَادَةَ،حدیث نمبر ١٦٥٣)
شہادت کی دعا مانگنا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالٰی سے سچے دل کے ساتھ شہادت کا سوال کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے شہید کا ثواب عطا فرماتا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ سَأَلَ الشَّهَادَةَ،حدیث نمبر ١٦٥٤)
مجاہد، مکاتب اور نکاح کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ۔ کے ذمہ کرم پر ،ان کی مدد لازم ہے۔اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا، مکاتب جو بدلہ کتابت ادا کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ شخص جو پاکدامنی کی نیت سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي المُجَاهِدِ وَالنَّاكِحِ وَالمُكَاتَبِ وَعَوْنِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ،حدیث نمبر ١٦٥٥)
اللہ کی راہ میں زخمی ہونا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ زخم کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور خوشبو مشک جیسی ہوگی۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٥٦)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا جو مسلمان آدمی اونٹنی کے دو مرتبہ دودھ دوھنے کے درمیان جتنا وقت جہاد کرے اس کے لیے جنت واجب ہے اور جسے اللہ کے راستے میں زخم پہنچا یا کوئی مصیبت پہنچی وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رنگین خون کے ساتھ آئے گا اس کا رنگ زعفرانی اور خوشبو مشک کی طرح ہوگی۔ یہ حدیث صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ١٦٥٧)
کون سا عمل افضل ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسا عمل افضل ہے۔ یا کونسا عمل بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔پوچھا گیا پھر کون سا عمل ہے؟ فرمایا:جہاد عمل کی کوہان ہے۔پوچھا گیا پھر کونسا عمل افضل ہے؟ فرمایا "حج مقبول، یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ،حدیث نمبر ١٦٥٨)
حضرت ابو بکر بن ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے دشمن کے مقابل سنا فرماتے تھے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے تلواروں کے سائے میں ہیں۔حاضرین میں سے ایک پراگندہ حال شخص نے پوچھا کہ آپ نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے؟فرمایا:ہاں! راوی فرماتے ہیں وہ شخص اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور کہا میں تمہیں(الوداعی)سلام کہتا ہوں پھر اس نے تلوار کی میان کو توڑ ڈالا اور لڑنے لگا۔ یہاں تک کہ شہید ہو گیا،یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے پہچانتے ہیں ۔ ابو عمر جونی کا نام عبدالملک بن حبیب ہے ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کا نام ابو بکر بن ابو موسیٰ ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا ذُكِرَ أَنَّ أَبْوَابَ الجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ،حدیث نمبر ١٦٥٩)
بهترین انسان حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسا انسان افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ پوچھا پھر کون؟ فرمایا:وہ مومن جو کسی گھاٹی میں سکونت پذیر ہو اپنے رب سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ،حدیث نمبر ١٦٦٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی بھی جنتی دنیا کی طرف لوٹنا پسند نہیں کرے گا ۔ البتہ! شہید چاہے گا کہ دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے وہ کہے گا یہاں تک کہ دس مرتبہ اللہ کے راستے میں شہید کیا جاؤں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عزت کو دیکھ چکا ہوگا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابٌ فِي ثَوَابِ الشَّهِيدِ،حدیث نمبر ١٦٦١،و حدیث نمبر ١٦٦١)
محمد بن بشار نے بواسطہ محمد بن جعفر، شعبہ ، قتادہ اور انس رضی اللہ عنہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی ہے ۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابٌ فِي ثَوَابِ الشَّهِيدِ،حدیث نمبر ١٦٦١،و حدیث نمبر ١٦٦٢)
شہید کا اعزاز حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کی چھ خصلتیں ہیں۔خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی بخشش ہو جاتی ہے۔جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے، عذاب قبر سے محفوظ ہوتا ہے۔ بڑی گھبراہٹ سے مامون ہوگا۔ اس کے سر پر عزت و وقارکا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوگا۔بڑی آنکھوں والی بہتر ٧٢ حوریں اس کے نکاح میں دی جائیں گی اور اس کے ستر رشتہ داروں کے معاملہ میں اس کی سفارش قبول ہوگی ۔ یہ حدیث میں غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابٌ فِي ثَوَابِ الشَّهِيدِ،حدیث نمبر ١٦٦٣)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن ( اسلامی سرحدات کی)نگرانی کرنا دنیا اور اس کی تمام آرائشوں سے بہتر ہے نیز ایک شام یا ایک صبح جہاد کے لیے نکلنا، دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔اور جنت میں تمہارے ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٤)
محمد بن منکدر فرماتے ہیں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت شرجیل بن سمط رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے وہ چوکی پر پہرہ دے رہے تھے اور یہ بات ان پر اور ان کے ساتھیوں پر شاق گزر رہی تھی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابن سمط کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جسے میں نےحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے انہوں نے فرمایا:ہاں! کیوں نہیں سنائیے! فرمایا :میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن پہرہ دینا ایک مہینے کے روزے رکھنے اور قیام کرنے سے افضل یا فرمایا، بہتر ہے اور جو آدمی اس دوران فوت ہو جائے وہ عذاب قبر سے محفوظ ہوتا ہے اور اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہے گا۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جہاد کی کسی نشانی کے بغیر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو گویا وہ اس طرح ملاقات کریگا کہ اس کے دین میں نقصان ہو گا۔اسماعیل بن رافع کی روایت سے یہ حدیث غریب ہے۔اسماعیل بن رافع کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔میں (امام ترمذی) نے امام بخاری علیہ الرحمہ سے سنا فرماتے تھے وہ ثقہ ہے اور مقارب الحدیث ہے یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مردی ہے،حدیث سلمان کی سند متصل نہیں کیونکہ محمد بن منکدر نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔بواسطہ ایوب بن موسیٰ مکحول،شرجيل بن سمط اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٦)
حضرت ابو صالح مولیٰ عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث تم سے مخفی رکھی تاکہ تم مجھ سے جدا نہ ہو جاؤ،پھر میں نے اس کا بیان کرنا مناسب سمجھا تاکہ ہر آدمی اپنے لیے جو مناسب سمجھے اس پر عمل کرے۔میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرنا دوسرے ہزار دنوں کی منازل سے بہتر ہے۔یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے ۔ امام بخاری فرماتے ہیں۔ ابو صالح مولیٰ عثمان کا نام برکان ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٧)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شهید کو بوقت شہادت اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے۔جتنی تمہیں مچھر وغیرہ کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٨)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کو دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں خشیت الٰہی میں گرنے والے آنسو کا قطرہ اور اللہ کی راہ میں بہنے والے خون کا قطرہ دو نشان یہ ہیں۔ اللہ کی راہ (جہاد) میں پہنچنے والے زخم کا نشان اور کسی فریضہ خدا وندی کو ادا کرنے کا نشان۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المُرَابِطِ، حدیث نمبر ١٦٦٩)
Tirmizi Shareef : Abwabu Fazayilil Jihad
|
Tirmizi Shareef : ابواب فضائل الجھاد
|
•