
ابواب لباس مردوں کیلیے سونا اور ریشم حرام ہے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میری امت کے مردوں پر ریشمی لباس اور سونا حرام ہے عورتوں کے لیے حلال ہے۔ اس باب میں حضرت عمر، علی،عقبہ بن عامر ، ام ہانی، انس، حذیفہ ، عبد الله بن عمرو، عمران بن حصین،عبد الله بن زبیر، جابر، أبو ریحانہ ، ابن عمر اور براء رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس أَبْوَابُ اللِّبَاسِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَرِيرِ وَالذَّهَبِ،حدیث نمبر ١٧٢٠)
حضرت سوید بن غفلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں۔آپ نے مقام جابیہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مردوں) کو ریشم سے منع فرمایا۔ البتہ! دو یا تین یا چار انگلیوں کی مقدار جائز ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس أَبْوَابُ اللِّبَاسِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَرِيرِ وَالذَّهَبِ،حدیث نمبر ١٧٢١)
جنگ کے موقعہ پر ریشمی لباس کی اجازت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جوئیں پڑنے کی شکایت کی تو آپ نے ان دونوں کو ریشمی قمیص پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی حضرت انس فرماتے ہیں۔ میں نے ان دونوں کو یہ کرتے پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي لُبْسِ الحَرِيرِ فِي الحَرْبِ،حدیث نمبر ١٧٢٢)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ مبارک۔ حضرت واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا میں واقد بن عمرو ہوں راوی فرماتے ہیں یہ سن کر حضرت انس رو پڑے اور فرمایا تم حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ہم شکل ہو،اور حضرت سعد بڑے دراز قد اور لمبے تھے (ایک مرتبہ) انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیباج کا ایک جبہ بھیجا جس میں سونے کا کام کیا گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن کر منبر پر تشریف لائے، بیٹھے یا کھڑے ہوئے لوگ اسے چھونے لگے اور کہنے لگے ہم نے آج جیسا کپڑا کبھی نہیں دیکھا آپ نے فرمایا تم اس پر تعجب کرتے ہو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے جنتی رومال اس سے اچھے ہیں جو تم دیکھ رہے ہیں ہو، اس باب میں حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي لُبْسِ الحَرِيرِ فِي الحَرْبِ،حدیث نمبر ١٧٢٣)
مرد کو سرخ کپڑا پہننے کی اجازت حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سرخ کپڑے پہنے ہوئے کسی گیسو والے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا آپ کے بال مبارک کندھوں تک تھے ۔کندھوں کے درمیان کافی فاصلہ تھا (سینہ مبارک کشادہ تھا)آپ نہ تو زیادہ پست قد تھے اور نہ زیادہ طویل قد کے تھے۔اس باب میں حضرت جابر بن سمرہ، ابو رمشہ اور ابن جحیفہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الثَّوْبِ الأَحْمَرِ لِلرِّجَالِ،حدیث نمبر ١٧٢٤)
مردوں کیلیے کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہننے کی ممانعت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قسی اور کسم سے رنگے ہوئے کپڑے پہنے سے منع فرمایا، اس باب میں ہے حضرت انس اور عبداللہ عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔حدیث علی حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ المُعَصْفَرِ لِلرِّجَالِ،حدیث نمبر ١٧٢٥)
پوستین پہننا حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی، پنیر اور پوستین کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا حلال وہ ہے جسے اللہ تعالے نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام کیا اور جس کے بارے میں سکوت ہے وہ معاف شدہ چیزوں میں سے ہے، اس باب میں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے مرفوعاً صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ،سفیان ثوری نے اسے بواسطہ سلیمان تیمی اور ابو عثمان حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے ان کے قول کے طور پر نقل کیا۔ گویا کہ موقوف حدیث زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الفِرَاءِ،حدیث نمبر ١٧٢٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بکری مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری والے سے کہا: تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے. (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي جُلُودِ المَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ،حدیث نمبر ١٧٢٧)
دباغت شدہ چمڑے کا حکم حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چمڑے کو دباغت دی گئی، وہ پاک ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بواسطہ حضرت ابن عباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی اسی طرح مروی ہے، ۳- یہ حدیث حضرت ابن عباس سے کبھی حضرت میمونہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کبھی حضرت سودہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ابن عباس کی حدیث اور میمونہ کے واسطہ سے مروی ابن عباس کی حدیث کو صحیح کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: احتمال ہے کہ ابن عباس نے بواسطہ میمونہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہو، اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست بھی روایت کیا، اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۵- نضر بن شمیل نے بھی اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «إهاب» اس جانور کے چمڑے کو کہا جاتا ہے، جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ۶- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں: مردار کا چمڑا دباغت دینے کے بعد پاک ہو جاتا ہے“، ۷- شافعی کہتے ہیں: کتے اور سور کے علاوہ جس مردار جانور کا چمڑا دباغت دیا جائے وہ پاک ہو جائے گا، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے، ۸- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں نے درندوں کے چمڑوں کو مکروہ سمجھا ہے، اگرچہ اس کو دباغت دی گئی ہو، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے اسے پہننے اور اس میں نماز ادا کرنے کو برا سمجھا ہے، ۹- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «أيما إهاب دبغ فقد طهر» کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کا چمڑا دباغت سے پاک ہو جائے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ۱۰- اس باب میں حضرت سلمہ بن محبق، میمونہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي جُلُودِ المَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ،حدیث نمبر ١٧٢٨)
حضرت عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی پہنچا کہ مردار کے چمڑے اور پٹھوں سے نفع حامل نہ کرو! یہ حدیث حسن ہے۔بواسطہ عبد اللہ بن حکیم ان کے شیوخ سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔اکثر اہل علم کا اس پر عمل نہیں، حضرت عبد اللہ بن حکیم سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے دوماہ پہلے ہمارے پاس مکتوب آیا۔ میں (امام ترمذی)نے امام احمد بن حسن رحمہ اللہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس حدیث کے قائل تھے کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے دوماہ پہلے کا ذکر ہے وہ فرماتے تھے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم تھا پھر امام احمد نے اس کی سند میں اضطراب کی وجہ سے اسے ترک کر دیا۔کیونکہ بعض نے اس کو عبدالله بن حکیم اور ان کے شیوخ کے واسطہ سے جہنیہ سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي جُلُودِ المَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ،حدیث نمبر ١٧٢٩)
تہبند کو گھسیٹنا حضرت عبداللہ بن عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا جو تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا چلے،اس باب میں حضرت حذیفہ ، ابو سعید، أبو ہریرہ ، سمرہ ، ابوذر،عائشہ اور وھیب بن مغفل رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ جَرِّ الإِزَارِ،حدیث نمبر ١٧٣٠)
عورتوں کو دامن لٹکانے کی اجازت۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے فرمایا جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا عورتیں اپنے دامنوں کا کیا کریں؟ آپ نے فرمایا۔ ایک بالشت لٹکالیں عرض کیا اس صورت میں ان کے قدم کھل جائیں گے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہاتھ لٹکائیں(لیکن) اس سے زیادہ نہ لٹکائیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس حدیث میں عورتوں کو تہبند وغیرہ لٹکانے کی اجازت ہے کیونکہ یہ ان کیلئے زیادہ پردے کا باعث ہے (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي جَرِّ ذُيُولِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر ١٧٣١)
حضرت ام الحسن سے روایت ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خاتون جنت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے لیے ان کے نطاق میں سے ایک بالشت کی مقدار نیچے لٹکانے کو جائز رکھا۔بعض نے اس حدیت کہ بواسطه حماد بن سلمه علی بن زید، حسن، ام حسن حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي جَرِّ ذُيُولِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر ١٧٣٢)
اونی کپڑا پہننا حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی اونی چادر اور موٹا تہبند نکال کر دکھایا اور فرمایا ان دو کپڑوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔اس باب میں حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مروی ہیں۔ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الصُّوفِ،حدیث نمبر ١٧٣٣)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نےاللہ تعالیٰ سے شرف ہمکلامی حاصل کیا اس دن آپ پر اونی چادر، اونی جبہ، اونی ٹوپی اور اونی سلوار تھی اور آپ کی جوتیاں مرےہوئے گدھے کی کھال سے تھیں ۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید اعرج کی روایت سے پہچانتے ہیں اور یہ ابن علی اعرج منکر الحدیث ہے۔اور حمید بن قیس اعرج مکی صاحب مجاہد ثقہ ہیں۔در الکمۃ ، چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الصُّوفِ،حدیث نمبر ١٧٣٤)
سیاه عمامه حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر انور پر سیاہ عمامہ تھا۔ اس باب میں حضرت عمرو بن حریث، ابن عباس اور رکانہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي العِمَامَةِ السَّوْدَاءِ،حدیث نمبر ١٧٣٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمامہ باندھتے تو اس کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان چھوڑتے، حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں۔ میں نے قاسم اور سالم کو دیکھا وہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ یہ حدیث غریب ہے ۔اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ لیکن سند کے اعتبار سے صحیح نہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابٌ فِي سَدْلِ العِمَامَةِ بَيْنَ الكَتِفَيْنِ،حدیث نمبر ١٧٣٦)
سونے کی انگوٹھی پہننا منع ہے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی اور ریشمی کپڑے پہنتے، رکوع و سجود میں قرآن پڑھتے اور کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ خَاتَمِ الذَّهَبِ،حدیث نمبر ١٧٣٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت علی، ابن عمر، ابو ہریرہ اور معاویہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ حدیث عمران حسن صحیح ہے۔ ابو التیاح کا نام یزید بن حمید ہے (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ خَاتَمِ الذَّهَبِ،حدیث نمبر ١٧٣٨)
چاندی کی انگوٹھی پہننا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک چاندی کی تھی اور اسکا نگینہ حبشی (یعنی جزع یا عقیق)سے تھا۔ اس باب میں حضرت ابن عمر اور بریده رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث صحیح اس طریق سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الفِضَّةِ،حدیث نمبر ١٧٣٩)
انگوٹھی کا مستحب نگینہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک چاندی کی تھی۔ اور اس کا نگینہ بھی اسی سے تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ مَا يُسْتَحَبُّ فِي فَصِّ الخَاتَمِ،حدیث نمبر ١٧٤٠)
دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اسے دائیں ہاتھ میں پہنا پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا میں یہ انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہنا کرتا تھا۔پھر آپ نے اسے پھینک دیا اور صحابہ کرام نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ اس باب میں حضرت علی ، جابر، عبد الله بن جعفر، ابن عباس، عائشه،اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے ۔ یہ حدیث بواسطہ ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔ لیکن اس میں یہ مذکور نہیں کہ آپ نے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الخَاتَمِ فِي اليَمِينِ،حدیث نمبر ١٧٤١)
حضرت صلت بن عبد اللہ بن نوفل رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا ہے، امام بخاری فرماتے ہیں ۔ محمد بن اسحاق کی صلت بن عبد الله بن نوفل سے روایت حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الخَاتَمِ فِي اليَمِينِ،حدیث نمبر ١٧٤٢)
حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الخَاتَمِ فِي اليَمِينِ،حدیث نمبر ١٧٤٣)
حضرت حماد بن سلمہ فرماتے ہیں میں نے ابن ابی رافع کو دیکھا کہ آپ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا میں نے حضرت عبداللہ بن جعفر کو دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا اور فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔ امام بخاری فرماتے ہیں اس باب میں یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الخَاتَمِ فِي اليَمِينِ،حدیث نمبر ١٧٤٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا، پھر فرمایا: تم لوگ اپنی انگوٹھی پر یہ نقش مت کرانا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ «لا تنقشوا عليه» کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے منع فرمایا کوئی دوسرا اپنی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش کرائے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الخَاتَمِ فِي اليَمِينِ،حدیث نمبر ١٧٤٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الخَاتَمِ فِي اليَمِينِ،حدیث نمبر ١٧٤٦)
انگوٹھی کا نقش حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا ایک سطر میں لفظ" محمد" دوسری سطر میں لفظ "رسول" اور تیسری سطر میں لفظ "اللہ" تحریر تھا۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي نَقْشِ الخَاتَمِ،حدیث نمبر ١٧٤٧)
انگوٹھی کا نقش حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا ایک سطر میں لفظ" محمد" دوسری سطر میں لفظ "رسول" اور تیسری سطر میں لفظ "اللہ" تحریر تھا۔ محمد بن یحیی نے اپنی روایت میں تین سطروں کا ذکر نہیں کیا ۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور رہے۔ حدیث انس صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي نَقْشِ الخَاتَمِ،حدیث نمبر ١٧٤٨)
تصویر کی ممانعت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویر رکھنے اور اس کے بنانے سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت علی، ابو طلحہ، عائشہ، ابوہریرہ ، اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الصُّورَةِ،حدیث نمبر ١٧٤٩)
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ وہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کیلئے ان کے پاس گئے تو انہوں نے ان کے پاس حضرت سہل بن حنیف کو پایا۔فرماتے ہیں حضرت ابو طلحہ نے ایک آدمی کو بلایا تاکہ وہ آپ کے نیچے پڑے ہوئے نمدہ کو نکال دے حضرت سہل نے پوچھا آپ کیوں نکالتے ہیں ؟ فرمایا اس لیے کہ اس میں تصاویر ہیں اور اس سلسلہ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ تم جانتے ہی ہو ۔ حضرت سہل نے فرمایا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے میں نقش کی استثنا نہیں فرمائی ؟ حضرت ابو طلحہ نے فرمایا ہاں! ٹھیک ہے، لیکن یہ میرے لیے زیادہ فرحت بخش ہے۔ یعنی یہ تقویٰ ہے) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الصُّورَةِ،حدیث نمبر ١٧٥٠)
تصویر بنانے والوں کی سزا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں مبتلا کرے گا یہاں تک کہ وہ اس میں روح پھونک دے۔حالانکہ وہ اس میں روح نہ پھونک سکے گا۔ اور جو آدمی ان لوگوں کی بات سننے کیلیے کان لگا رکھے جو اس سے بھاگتے ہوں قیامت کے دن اس شحض کے کانوں میں پگھلایا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ابو بریرہ، ابو جحیفہ، عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں اور حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي المُصَوِّرِينَ،حدیث نمبر ١٧٥١)
خضاب لگانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑھاپے کو بدلو اور یہودیوں سے مشابہت نہ رکھو۔اس باب میں حضرت زبیر، ابن عباس، جابر، ابوذر، انس، أبو رمشہ، جہدمہ، ابو الطفيل ، جابر بن سمرہ، ابو جحیفہ اور ابن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخِضَابِ،حدیث نمبر ١٧٥٢)
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین چیز جس کے ساتھ بڑھاپے کی سفیدی بدلی جائے مہندی اور وسمہ ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو الاسود دیلی کا نام ظالم بن عمرو بن سفیان ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخِضَابِ،حدیث نمبر ١٧٥٣)
بال رکھنا اور گیسو بڑھانا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے تھے نہ تو آپ زیادہ طویل تھے اور نہ ہی پست قد۔جسم خوبصورت اور رنگ گندمی تھا۔آپ کے بال مبارک نہ تو زیادہ گھنگریالے تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے ۔ آپ چلتے تو آگے کی طرف جھکاؤ ہوتا،اس باب میں حضرت عائشہ، براء، ابوہریرہ ، ابن عباس ابوسعید، وائل بن حجر، جابر، اور ام ہانی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث انس حسن غریب اور اس طریق یعنی حمید کی روایت سے صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الجُمَّةِ وَاتِّخَاذِ الشَّعَرِ،حدیث نمبر ١٧٥٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے آپ کے بال مبارک کندھوں سے اوپر اور کانوں کی لو سے نیچے تھے۔یہ حدیث حسن غریب اس طریق سے صحیح ہے۔ یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ آپ فرماتی ہیں۔ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے۔" بالوں کا ذکر نہیں"صرف عبدالرحمن بن ابو الزناد کی روایت میں مذکور ہے اور وہ ثقہ حافظ ہیں۔ مالک بن انس ان کی توثیق کرتے تھے اور ان کی روایت لکھنے کا حکم دیتے تھے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الجُمَّةِ وَاتِّخَاذِ الشَّعَرِ،حدیث نمبر ١٧٥٥)
روزانہ کنگھی کرنے کی ممانعت حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا۔ محمد بن بشار نے بواسطہ یحیی بن سعید ھشام سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّرَجُّلِ، إِلَّا غِبًّا،حدیث نمبر ١٧٥٦)
سرمہ لگانا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اثمد کا سرمہ لگاؤ یہ آنکھوں کی روشنی کو بڑھاتا اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس میں سے آپ ہر رات تین مرتبہ ایک آنکھ اور تین مرتبہ دوسری آنکھ میں سرمہ لگاتے تھے۔ علی بن حجر اور محمد بن يحيى بواسطه یزید بن ہارون عباد بن منصور سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کرتے ہیں۔ اس باب میں حضرت جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ حدیث ابن عباس حسن ہے۔ ہم اسے ان الفاظ کے ساتھ صرف منصور بن عباد کی روایت سے پہچانتے ہیں، بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد طرق سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا اثمد سرمہ اپناؤ یہ آنکھوں کو روشن کرتا اور پلکوں کے بالوں کو اگاتا ہے (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاكْتِحَالِ،حدیث نمبر ١٧٥٧)
کپڑا کس طرح لپیٹنا منع ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کپڑا پہننے سے منع فرمایا تمام بدن کو ایک کپڑے میں لپیٹ دینا کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں اور دونوں زانووں کو پیٹ سے ملا کر ایک کپڑا پیٹھ کی طرف سے لاتے ہوئے باندھنا کہ شرم گاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔اس باب میں حضرت علی، ابن عمر ، عائشہ، ابوسعید،جابر اور ابو امامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي الثَّوْبِ الوَاحِدِ،حدیث نمبر ١٧٥٨)
مصنوعی بال لگوانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال لگانے اور لگوانے والی عورت نیز گودنے اور گدوانے والی عورت پر لعنت فرمائی،نافع فرماتے ہیں گودنا مسوڑوں میں ہوتا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے،اس باب میں حضرت ابن مسعود، حضرت عائشہ ، اسماء بنت ابو بکر، معقل بن یسار،ابن عباس اور معاویہ رضی اللہ مہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي مُوَاصَلَةِ الشَّعْرِ،حدیث نمبر ١٧٥٩)
ریشمی زین پوش کی ممانعت حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی زین پوش پر سوار ہونے سے منع فرمایا ۔ اس باب میں حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، حدیث براء حسن صحیح ہے۔ شعبہ نے اشعث بن ابو الشعثاء سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے۔ اس حدیث میں ایک واقعہ ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي رُكُوبِ المَيَاثِرِ،حدیث نمبر ١٧٦٠)
نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کا بستر مبارک۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس بستر مبارک پر آرام فرماتے وہ چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت حفصہ اور جابر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٧٦١)
قمیص کا بیان حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ ترین لباس کرتہ تھا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے عبد المؤمن بن خالد کی روایت سے پہچانتے ہیں، وہ اس میں متفرد ہیں۔یہ مروزی ہیں،بعض نے اسی حدیث کو ابو نملہ،عبد المومن بن خالد، عبد الله بن بریدہ اور ان کی والدہ کے واسطہ سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔میں (امام ترمذی) نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے حضرت ابن بریدہ کی روایت (بواسطه والده) زیادہ صحیح ہے۔اس میں ابو تمیلہ اپنی والدہ کا ذکر کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي القُمُصِ،حدیث نمبر ١٧٦٢)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لباس میں کرتہ زیادہ پسند تھا۔ محمد بن اسماعیل کو کہتے سنا: عبداللہ بن بریدہ کی حدیث جو ان کی ماں کے واسطہ سے ام سلمہ سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے، ابوتمیلہ اس حدیث میں «عن امہ» کا واسطہ ضرور بیان کرتے تھے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي القُمُصِ،حدیث نمبر ١٧٦٣)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ تر لباس کرتہ تھا۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي القُمُصِ،حدیث نمبر ١٧٦٤)
حضرت اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کرتہ کی آستین کلائی تک تھی۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي القُمُصِ،حدیث نمبر ١٧٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتہ پہنتے وقت دائیں جانب سے ابتداء فرماتے متعدد افراد نے اس حدیث کو شعبہ سے اسی سند کے ساتھ غیر مرفوع روایت کیا ہے ۔ عبدالصمد نے مرفوع روایت کیا۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي القُمُصِ،حدیث نمبر ١٧٦٦)
نیا کپڑا پہنتے وقت کیا کہے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اسکا خاص نام لیتے مثلاً عمامہ،کرتہ، یا چادر، پھر فرماتے "اللهم لك الحمد"الخ یا اللہ!تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے ہے تو نے مجھے یہ کپڑا پہنایا میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس مقصد کیلئے یہ بنایا گیا اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں،نیز اس کی شر اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اس باب میں حضرت عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،ہشام بن یونس کوفی نے بواسطہ قاسم بن مالک مزنی جریری سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا،حدیث نمبر ١٧٦٧)
جبہ پہننا حضرت عروہ بن مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما اپنے والد(حضرت مغیرہ) سے روایت کرتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الجُبَّةِ وَالخُفَّيْنِحدیث نمبر ١٧٦٨)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں دو موزے بطور ہدیہ پیش کیے تو آپ نے انہیں پہن لیا اسرائیل نے بواسطہ جابر، عامر سے روایت کیا کہ ایک جبہ بھی بھیجا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں کو پہنا یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات نہ تھی کہ آیا وہ ذبح کیے ہوئے جانور سے تھے یا نہیں۔یہ حدیث حسن غریب ہے،ابو اسحق جنہوں نے یہ حدیث شعبی سے روایت کی،ابو اسحق شیبانی ہیں۔ان کا نام سلیمان ہے سلیمان بن عیاش،ابو بکر بن عیاش کے بھائی ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الجُبَّةِ وَالخُفَّيْنِحدیث نمبر ١٧٦٩)
دانتوں پر سونا جڑوانا حضرت عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔دور جاہلیت میں کلاب کی لڑائی میں میری ناک کٹ گئی تو میں نے چاندی کی ناک بنوائی،اس سے بو آنے لگی،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی ناک بنانے کا حکم فرمایا۔ علی بن حجر نے بواسطہ ربیع بن بدر اور محمد بن یزید واسطی ابو الاشہب سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ،یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے عبد الرحمن بن طرفہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔سلم بن زریر نے عبد الرحمن بن طرفہ سے ابوالاشہب کی روایت جیسی روایت نقل کی، ابن مہدی نے سلمہ بن وزیر نام بتایا، لیکن یہ غلط ہے۔ زریر زیادہ صحیح ہے۔متعدد اہل علم سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے دانت سونے سے جڑوائے اس حدیث میں ان کے لیے دلیل ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي شَدِّ الأَسْنَانِ بِالذَّهَبِ،حدیث نمبر ١٧٧٠)
حضرت اسامہ بن عمیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال بچھانے سے منع فرمایا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال بچھانے سے منع فرمایا۔ اس سند سے بھی ابوالملیح نے اسامہ بن عمیر رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کے چمڑا (کے استعمال) سے منع کیا ہے۔ اس سند سے ابوالملیح سے روایت ہے کہ وہ درندوں کی کھالیں مکروہ سمجھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم نہیں جانتے کہ سعید بن ابی عروبہ کے سوا کسی نے سند میں «عن أبي المليح، عن أبيه أسامه بن عمير» کہا ہو۔ ابوالملیح سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال (استعمال کرنے) سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ،حدیث نمبر ١٧٧١)
نعلین مبارک حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک کیسے تھے ۔ انہوں نے فرمایا ان میں دو دو تسمے لگے ہوئے تھے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي نَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٧٧٢.و حدیث نمبر ١٧٧٢)
نعلین مبارک حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کے دو تسمے تھے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي نَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٧٧٢.و حدیث نمبر ١٧٧٣)
ایک جوتا پہن کر چلنا مکروہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص صرف ایک جوتا پہن کر نہ چلے دونوں پہن لے یا دونوں اتار دے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ المَشْيِ فِي النَّعْلِ الوَاحِدَةِ،حدیث نمبر ١٧٧٢.و حدیث نمبر ١٧٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہونے کی حالت میں جوتا پہننے سے منع فرمایا۔یہ حدیث غریب ہے۔ عبید اللہ بن عمرو الراقی نے یہ حدیث بواسطہ معمر اور قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ محمدثین کے نزدیک دونوں حدیثیں غیر صحیح ہیں۔حارث بن نبہان ان کے نزدیک حافظ نہیں، ہم بواسطہ قتادہ انس کی روایت کے لیے کوئی اصل نہیں پاتے ۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ، حدیث نمبر ١٧٧٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے جوتا پہننے سے منع فرمایا ۔ یہ حدیث غریب ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ اور معمر کی روایت بواسطہ ابو عمار، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی صحیح نہیں ۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ، حدیث نمبر ١٧٧٦)
ایک جوتا پہن کر چلنے کی اجازت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ فرماتی ہیں بسا اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی جوتا پہن کر چلتے تھے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي المَشْيِ فِي النَّعْلِ الوَاحِدَةِ، حدیث نمبر ١٧٧٧)
ایک جوتا پہن کر چلنے کی اجازت حضرت عبد الرحمن بن قاسم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک جوتا پہن کر چلیں۔یہ زیادہ صحیح ہے۔ سفیان ثوری وغیرہ نے عبدالرحمن بن قاسم سے اسی طرح موقوف روایت نقل کی۔ یہ اصح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي المَشْيِ فِي النَّعْلِ الوَاحِدَةِ،و حدیث نمبر ١٧٧٨)
پہلے کس پاؤں میں جوتا پہنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں طرف سے ابتداء کرے ۔ اور جب اتارے تو پہلے بایاں اتارے پس چاہیے کہ پہنتے ہوئے دایاں اور اتارتے ہوئے بایاں پہلے ہوں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ بِأَيِّ رِجْلٍ يَبْدَأُ إِذَا انْتَعَلَ، حدیث نمبر ١٧٧٩)
کپڑے میں پیوند لگانا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اگر تم مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو تمہارا دنیا سے صرف اتنا تعلق ہونا چاہیے جتنا سوار کا توشہ ہوتا ہے۔مالداروں کی مجلس سے اجتناب کرو اور پیوند لگائے بغیر کپڑے کو پرانا نہ کرو۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف صالح بن حسان کی روایت سے پہچانتے ہیں۔میں (امام ترمذی ) نے امام بخاری رحمہ اللہ سے سنا فرماتے تھے صالح بن حسان منکر الحدیث ہے۔ صالح بن ابو حسان جن سے ابن ابو ذہب روایت کرتے ہیں۔ثقہ ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد پاک کہ اغنیاء کی مجلس سے اجتناب کرو ایسے ہی ہے جیسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایسے آدمی کو دیکھے جسے صورت اور رزق میں اس پر فضیلت دی گئی ہے تو وہ اپنے سے کم درجہ کے ان لوگوں کو دیکھے جن پر اسے تفضیل دی گئی ہے۔یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں عیب نہ نکالے، عون بن عبد اللہ بن عتبہ فرماتے ہیں میں نے مالدار لوگوں کی مجلس اختیار کی تو میں نے کسی کو بھی اپنے سے زیادہ مغموم نہ پایا اپنے جانور سے بہتر جانور دیکھتا اور اپنے کپڑوں سے اچھے کپڑے دیکھتا (لیکن)جب فقراء کی مجلس اختیار کی تو مجھے راحت نصیب ہوئی۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْقِيعِ الثَّوْبِ، حدیث نمبر ١٧٨٠)
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ کے چار گیسوئے مبارک (گندھے ہوئے) تھے، یہ حدیث غریب ہے۔ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ فرماتی ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ کے چار گندھے ہوئے گیسو مبارک تھے۔یہ حدیث حسن ہے عبد الله بن ابو نجیح مکی ہیں ۔ ابو نجیح کا نام یسار ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ ام ہانی سے مجاہد کے سماع کا مجھے علم نہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ دُخُولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، حدیث نمبر ١٧٨١)
صحابہ کرام کی ٹوپیاں حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ صحابہ کرام کی ٹوپیاں سروں سے ملی ہوئی تھیں(اونچی نہیں تھیں)یہ حدیث منکر ہے۔ عبد الله بن بسر بصری محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ يحيى بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے۔ بطح کے معنی کشادہ کے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ كَيْفَ كَانَ كِمَامُ الصَّحَابَةِ؟، حدیث نمبر ١٧٨٢)
تہبند کہاں تک لٹکایا جائے! حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی یا اپنی پنڈلی کا سخت حصہ پکڑ کر فرمایا۔تہبند کی یہ جگہ ہے اگر نہ مانے تو تھوڑا سا نیچے یہ بھی نہ ہو تو تہبند کا گھٹنوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ شعبہ اور ثوری نے اسے ابو اسحق سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابٌ فِي مَبْلَغِ الإِزَارِ، حدیث نمبر ١٧٨٣)
ٹوپی پر عمامہ باندھنا حضرت ابو جعفر بن محمد بن رکانہ رضی اللہ عنہم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رکانہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی لڑی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بچھاڑ دیا۔حضرت رکانہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارے اور کفار کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنا ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ اس کی سند قائم نہیں ہم نہ تو ابوالحسن عسقلانی کو پہچانتے ہیں اور نہ ہی ابن رکانہ کو۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ العَمَائِمُ عَلَى القَلَانِسِ، حدیث نمبر ١٧٨٤)
لوہے اور پیتل کی انگوٹھی حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا۔ آپ نے فرمایا کیا بات ہے کہ میں تمہیں اہل جہنم کا لباس پہنے ہوئے دیکھتا ہوں پھر دوبارہ آیا تو اس نے پیتل کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ آپ نے فرمایا کیا بات ہے مجھے تم سے بتوں کی بو آتی ہے پھر تیسری مرتبہ حاضر ہوا تو سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا آپ نے فرمایا کیا بات ہے میں تم پر جنتیوں کا زیور دیکھ رہا ہوں اس شخص نے عرض کیا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایا چاندی کی اور اسے بھی مثقال بھر سے کم رکھو۔ یہ حدیث غریب ہے۔ عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور یہ مروزی ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخَاتَمِ الحَدِيدِ، حدیث نمبر ١٧٨٥)
ریشمی کپڑا پہننے کی ممانعت حضرت ابن ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی کپڑے کے پہننے اور کجاوے پر ریشمی سرخ کپڑا ڈالنے نیز اس اور اُس انگلی میں انگوٹھی پہنے سے منع فرمایا ۔ آپ نے درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابن ابو موسیٰ سے ابو بردہ بن ابو موسیٰ مراد ہیں ۔ ان کا نام عامر بن عبد اللہ بن قیس ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ كَرَاهِيَةِ التَّخَتُّمِ فِي أُصْبُعَيْنِ، حدیث نمبر ١٧٨٦)
یمنی چادر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ترین کپڑا جسے آپ پہنتے تھے ، یمنی، دھاری دار چادر تھی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب اللباس، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَحَبِّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٧٨٧)
Tirmizi Shareef : Abwabul Libasi
|
Tirmizi Shareef : ابواب اللباس
|
•