asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul At'ima

From 1788 to 1860

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

کھانے کا بیان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو (عمدہ) دستر خوان پر کھانا کھایا اور نہ چھوٹی پیالیوں میں اور نہ ہی آپ نے چپاتی تناول فرمائی راوی کہتے ہیں میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا صحابہ کرام کھاناکس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے۔ فرمایا ان معمولی دستر خوانوں پر ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ محمد بن بشار کہتے ہیں۔ یہ یونس ، یونس اسکاف ۔ عبد الوارث نے بواسطہ سعید بن ابی عروبہ اور قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، أَبْوَابُ الْأَطْعِمَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔بَابُ مَا جَاءَ عَلَامَ كَانَ يَأْكُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٧٨٨)

باب مَا جَاءَ عَلَى مَا كَانَ يَأْكُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " مَا أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِیْ خُوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ "، قَالَ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ؟، قَالَ: عَلَى هَذِهِ السُّفَرِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيُونُسُ: هَذَا هُوَ يُونُسُ الْإِسْكَافُ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1788

خرگوش کھانا حضرت ہشام بن زید فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ ہم نے مرالظہران میں خرگوش کو بھگایا صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے میں نے اس کو پکڑ لیا پھر اسے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا۔ انہوں نے اسے ایک سخت پتھر سے ذبح کیا اور اس کی ران یا سرین دے کر مجھے بارگاہ نبوی میں بھیجا آپ نے اسے تناول فرمایا،۔ ہشام فرماتے ہیں، میں نے پوچھا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا تو حضرت انس نے فرمایا آپ نے قبول فرمایا۔ اس باب میں حضرت جابر، عمار، محمد بن صفوان (محمد بن صیفی بھی کہا جاتا ہے۔) رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ خرگوش کھانے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے۔ البتہ بعض علماء کے نزدیک خرگوش کا کھانا مکروہ ہے کیونکہ اسے حیض کا (خون) آتا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الأَرْنَبِمَ، حدیث نمبر ١٧٨٩)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الأَرْنَبِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: " أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهَا فَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا بِمَرْوَةٍ فَبَعَثَ مَعِي بِفَخِذِهَا أَوْ بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهُ "، قَالَ: قُلْتُ: أَكَلَهُ، قَالَ: قَبِلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى، وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَمَّارٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ وَيُقَالُ مُحَمَّدُ بْنُ صَيْفِيٍّ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الْأَرْنَبِ بَأْسًا وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الْأَرْنَبِ، وَقَالُوا: إِنَّهَا تَدْمَى.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1789

گوہ کھانا کیسا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا۔ نہ میں کھاتا ہوں اور نہ حرام کرتا ہوں ۔ اس باب میں حضرت عمر، ابوسعید، ابن عباس، ثابت بن ودیعہ،جابر اور عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ گوہ کھانے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے جبکہ بعض کے نزدیک مکروہ ہے،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر گوہ لگائی گئی آپ نے اسے گندگی کی وجہ سے نہیں کھایا۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبِّ، حدیث نمبر ١٧٩٠)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبِّ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ: " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي أَكْلِ الضَّبِّ فَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ، وَيُرْوَى عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " أُكِلَ الضَّبُّ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّمَا تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَذُّرًا ".

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1790

بجو کا کھانا حضرت ابن ابو عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کیا بجو شکار کی چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے پوچھا کیا میں اسے کھا سکتا ہوں ؟ فرمایا ہاں۔ میں نے پوچھا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ؟ حضرت جابر نے فرمایا " ہاں" یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ بعض علماء کا اس پر عمل ہے وہ بجو کے کھانے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے۔ امام احمد اور اسحاق رحمہما اللہ اس بات کے قائل ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بجو کے مکروہ ہونے کے بارے میں بھی روایت مذکور ہے اس کی سند قوی نہیں ۔ بعض علماء کے نزدیک اس کا کھانا مکروہ ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ کا یہی قول ہے۔ یحییٰ بن قطان فرماتے ہیں۔ جریر بن حازم نے یہ حدیث بواسطہ عبداللہ بن عبید بن عمیر ابن ابی عمار اور جابر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے قول کے طور پر نقل کی۔ ابن جریج کی حدیث اصح ہے۔اور ابن ابی عمار کا نام عبد الرحمن بن عبد اللہ بن ابی عمار مکی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبُعِ، حدیث نمبر ١٧٩١)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبُعِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: " الضَّبُعُ صَيْدٌ هِيَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ، قُلْتُ: آكُلُهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَلَمْ يَرَوْا بِأَكْلِ الضَّبُعِ بَأْسًا وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الضَّبُعِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الضَّبُعِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ، وَابْنُ أَبِي عَمَّارٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ الْمَكِّيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1791

حضرت خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بجو کے کھانے کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا کیا کوئی شخص بجو بھی کھاتا ہے؟میں نے بھیڑیے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کیا کوئی بھلا آدمی بھیڑیا بھی کھاتا ہے،اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے ۔ ہم اسے بواسطہ اسماعیل بن مسلم،عبدالکریم بن امیہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ بعض محدثین نے اسماعیل کے بارے میں کلام کیا ہے ۔ عبد الکریم بن امیہ سے عبد الکریم بن قیس مراد ہیں اور یہ قیس بن ابی المخارق ہیں۔ عبد الکریم بن مالک جزری ثقہ ہیں ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبُعِ، حدیث نمبر ١٧٩٢)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ فَقَالَ: " أَوَ يَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ؟ "، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الذِّئْبِ فَقَالَ: " أَوَ يَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِسْمَاعِيل وَعَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَهُوَ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ قَيْسِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِيُّ ثِقَةٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1792

گھوڑے کا گوشت کھانا حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا(اجازت دی) اور گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ امام ترمذی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے متعدد افراد نے بواسطه عمرو بن دینار، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حماد بن زید نے بواسطہ عمرو بن دینار اور محمد بن علی ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ۔ ابن عینیہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ہیں امام ترمذی نے امام بخاری علیہ الرحمہ سے سنا فرماتے ہیں سفیان بن عیینہ ، حماد بن زید سے احفظ ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الخَيْلِ، حدیث نمبر ١٧٩٣)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الحُمُرِ» وَفِي البَاب عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ [ص: ٢٥٤] أَبِي بَكْرٍ.: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1793

گھریلو گدھوں کے گوشت کا حکم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے موقعہ پر عورتوں سے متعہ کرنے اور گھریلوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔ سعید بن عبد الرحمن بواسطہ سفیان اور زہری ، حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہما کے صاحبزادگان حضرت عبد اللہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ امام زہری فرماتے ہیں دونوں بھائیوں میں سے حضرت حسن بن محمد رضی اللہ عنہ زیادہ بہتر ہیں۔ سعید بن عبد الرحمن کے علاوہ دوسرے لوگوں نے ابن عیینہ سے نقل کیا کہ عبد اللہ بن محمد زیادہ پسندیدہ ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، حدیث نمبر ١٧٩٤)

باب مَا جَاءَ فِي لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ زَمَنَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ "، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , وَالْحَسَنِ هما ابنا محمد ابن الحنفية، وعبد الله بن محمد يكنى أبا هاشم، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وقَالَ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1794

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فتح خیبر کے موقعہ پر ہر کچلی والے جانور، کھڑا کرکے نشان بنائے ہوئے جانور، اور گھریلو گدھوں کو حرام فرمایا ۔ اس باب میں حضرت علی ،جابر، براء، ابن ابی اوفیٰ،انس، عرباض بن ساریہ، ابو ثعلیہ، ابن عمر اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے عبد العزيز بن محمد وغیرہ نے محمد بن عمرو سے یہ حدیث روایت کی اور صرف ایک حصہ نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے جانور کو حرام قرار دیا۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، حدیث نمبر ١٧٩٥)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَالْمُجَثَّمَةَ وَالْحِمَارَ الْإِنْسِيَّ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ، وَالْبَرَاءِ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَنَسٍ، وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَأَبِي ثَعْلَبَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هَذَا الْحَدِيثَ وَإِنَّمَا ذَكَرُوا حَرْفًا وَاحِدًا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ".

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1795

کفار کے برتنوں میں کھانا حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوسیوں کی ہانڈیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: انہیں دھو کر پاک کر لو اور ان میں کھانا پکاؤ اور آپ نے ہر کچلی والے درندے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث ابو ثعلبہ کی روایت سے مشہور ہے ان سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ ابو ثعلیہ کا نام جرثوم ہے۔ جرھم اور ناشب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حدیث بواسطہ ابو قلابہ اور ابو اسماء رحبی رضی اللہ عنہا بھی حضرت ابو ثعلیہ رضی اللہ عنہ سے مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ فِي آنِيَةِ الكُفَّارِ، حدیث نمبر ١٧٩٦)

باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ فِي آنِيَةِ الْكُفَّارِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قُدُورِ الْمَجُوسِ فَقَالَ: " أَنْقُوهَا غَسْلًا وَاطْبُخُوا فِيهَا وَنَهَى عَنْ كُلِّ سَبْعٍ ذِي نَابٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مَشْهُورٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَرُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو ثَعْلَبَةَ اسْمُهُ جُرْثُومٌ، وَيُقَالُ جُرْهُمٌ وَيُقَالُ: نَاشِبٌ وَقَدْ ذُكِرَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1796

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں ۔ پس ان کی ہانڈیوں میں پکاتے اور ان کے برتنوں میں پیتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں پانی سے صاف کر لیا کرو پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! باہم شکاری زمین میں ہوتے ہیں تو کیسے کیا کریں؟ آپ نے فرمایا جب تم نے اپنا سکھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کا نام پڑھ لیا پھر اس نے شکار کو مار ڈالا تو کھا لو اور اگر سکھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کیا گیا ہو تو بھی کھالو اور جب اللہ تعالیٰ کا نام لے کر تیر پھینکو اور جانور مرجائے تو بھی کھا لو! یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ فِي آنِيَةِ الكُفَّارِ، حدیث نمبر ١٧٩٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ "، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذُكِّيَ فَكُلْ وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1797

گھی میں چوہا مر جائے تو اس کا حکم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ۔ ایک چوہا گھی میں گر کر مر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ۔ چوہے اور اس کے گرد گھی کو نکال کر پھینک دو!اور باقی کو کھا لو۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث بواسطہ زہری اور عبید الله، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا۔حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں۔بروایت حضرت ابن عباس ، حضرت میمونہ رضی اللہ تنہا کی حدیث زیادہ صحیح ہے، معمر نے بواسطہ زہری اور سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے میں (امام ترمذی) نے امام بخاری رحمہ اللہ سے سنا فرماتے ہیں۔ بواسطہ معمر، زہری اور سعید بن مسیب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں خطاء ہے بواسطہ زہری، عبید اللہ اور ابن عباس حضرت میمونہ (رضی اللہ عنہم) کی روایت صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي السَّمْنِ، حدیث نمبر ١٧٩٨)

باب مَا جَاءَ فِي الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي السَّمْنِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ فَسُئِلَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ مَيْمُونَةَ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَصَحُّ وَرَوَى مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَهُوَ حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَقُولُ: وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ فِيهِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْهُ فَقَالَ: " إِذَا كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ " هَذَا خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ مَعْمَرٌ، قَالَ: وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1798

بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص نہ تو بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ ہی اس کے ساتھ پیے۔ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے ہی پیتا ہے،اس باب میں حضرت جابر، عمر بن ابی سلمہ، سلمہ بن اکوع ، انس بن مالک اور حفصہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ مالک اور ابن عینیہ نے بواسطہ زہری، اور ابو بکر بن عبید الله، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ معمر اور عقیل بواسطہ زہری اور سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ۔ مالک اور ابن عینیہ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الأَكْلِ وَالشُّرْبِ بِالشِّمَالِ، حدیث نمبر ١٧٩٩)

باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الأَكْلِ، وَالشُّرْبِ، بِالشِّمَالِ حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَحَفْصَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَى مَعْمَرٌ، وَعُقَيْلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَرِوَايَةُ مَالِكٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1799

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الأَكْلِ وَالشُّرْبِ بِالشِّمَالِ، حدیث نمبر ١٨٠٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ ".

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1800

انگلیاں چاٹنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے چاہیے کہ انگلیاں چاٹ لے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا ہے کہ کس انگلی میں برکت ہے۔ اس باب میں حضرت جابر کعب بن مالک اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکورہ ہیں ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق یعنی سہیل کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: عبدالعزیز کی یہ حدیث، مختلف کے قبیل سے ہے، اور صرف ان کی روایت سے ہی جانی جاتی ہے، (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي لَعْقِ الْأَصَابِعِ بَعْدَ الْأَكْلِ، حدیث نمبر ١٨٠١)

باب مَا جَاءَ فِي لَعْقِ الأَصَابِعِ بَعْدَ الأَكْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدِيثُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنَ الْمُخْتَلِفِ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1801

لقمہ گر پڑے تو کیا کیا جائے! حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھا رہا ہو اور اس کا لقمہ گر پڑے تو شک ڈالنے والی چیز کو اس سے جدا کر کے اسے کھائے اور شیطان کے لیے نہ چھوڑ ہے۔اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ، حدیث نمبر ١٨٠٢)

باب مَا جَاءَ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَسَقَطَتْ لُقْمَةٌ فَلْيُمِطْ مَا رَابَهُ مِنْهَا ثُمَّ لِيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1802

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے۔نیز آپ نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر پڑے تو وہ اس سے گندگی دور کر کے اسے کھائے اور شیطان کے لیے نہ چھوڑے نیز آپ نے پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے کہ تمہارے کس کھانے میں برکت ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ، حدیث نمبر ١٨٠٣)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ "، وَقَالَ: " إِذَا مَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ "، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلِتَ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1803

حضرت معلی بن راشد ابو الیمان اپنی دادی ام عاصم (سنان بن سلمیہ کی ام ولد)رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ نبیشۃ الخیر ہمارے پاس آئے تو ہم پیالے میں کھانا کھا رہے تھے،انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص پیالے میں کھائے پھر اسے چاٹ لے تو پیالہ اس کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف معلی بن راشد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ یزید بن ہارون اور کئی دوسرے ائمہ نے یہ حدیث معلی بن راشد سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ،حدیث نمبر ١٨٠٤)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ وَكَانَتْ أُمَّ وَلَدٍ لِسِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْمُعَلَّى بْنِ رَاشِدٍ وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ رَاشِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1804

کھانے کے درمیان سے کھانا مکروہ ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ برکت کھانے کے درمیان میں اترتی ہے لہذا کناروں سے کھاؤ اور بیچ میں سے نہ کھاؤ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عطا بن سائب سے معروف ہے ۔ شعبہ اور ثوری نے اسے عطاء بن سائب سے روایت کیا ہے ۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَكْلِ مِنْ وَسَطِ الطَّعَامِ،حدیث نمبر ١٨٠٥)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَكْلِ مِنْ وَسَطِ الطَّعَامِ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَرَكَةُ تَنْزِلُ وَسَطَ الطَّعَامِ فَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ إِنَّمَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1805

لہسن اور پیاز کا کھانا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس میں سے کھایا پہلی مرتبہ فرمایا "لہسن"پھر فرمایا" لہسن، پیاز اور گندنے میں سے ، وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت عمر، ابو ایوب، ابو ہریرہ ، ابو سعید ، جابر بن سمرہ ، قرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکورہ ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الثُّومِ وَالبَصَلِ،حدیث نمبر ١٨٠٦)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ الثُّومِ ثُمَّ قَالَ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1806

پکا ہوا لہسن کھانے کی ممانعت۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ہجرت کے موقعہ پر ) حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں آقامت گزیں ہوئے تو تو آپ کا طریقہ مبارکہ یہ تھا کہ کھانا تناول فرمانے کے بعد بچا ہوا حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر بھیج دیتے۔ایک دن حضرت ابو ایوب نے کھانا بھیجا تو آپ نے اس سے کچھ بھی نہ کھایا،حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ حاضر ہونے پر عرض کیا تو آپ نے فرمایا اس میں لہسن تھا۔ اس لیے نہیں کھایا، انہوں نے پوچھا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ حرام ہے فرمایا نہیں بلکہ میں اسے اس کی بو کی وجہ سے پسند نہیں کرتا۔یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ مَطْبُوخًا،حدیث نمبر ١٨٠٧،و حدیث نمبر ١٨٠٨)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَيُّوبَ وَكَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ إِلَيْهِ بِفَضْلِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ يَوْمًا بِطَعَامٍ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَى أَبُو أَيُّوبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِيهِ ثُومٌ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1807

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کچے لہسن سے منع کیا گیا ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ مَطْبُوخًا،حدیث نمبر ١٨٠٧،و حدیث نمبر ١٨٠٨)

باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الثُّومِ مَطْبُوخًا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ وَالِدُ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: " نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا ".

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1808

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے منقول ہے کہ انہوں نے کچے لہسن کو کھانا ناپسند فرمایا۔ اس حدیث کی سند قوی نہیں ۔ بواسطہ شریک بن حنبل رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا بھی مروی ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: راوی جراح بن ملیح صدوق ہیں اور جراح بن ضحاک مقارب الحدیث ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ مَطْبُوخًا،حدیث نمبر ١٨٠٩)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " لَا يَصْلُحُ أَكْلُ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ قَوْلُهُ، وَرُوِي عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، قَالَ مُحَمَّدٌ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ صَدُوقٌ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ الضَّحَّاكِ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1809

حضرت ام ایوب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں قیام فرمایا انہوں نے آپ کے لیے کھانے کا انتظام فرمایا۔جس میں ان سبزیوں میں سے کچھ ڈالی تھی،آپ نے اس کا کھانا ناپسند فرمایا اور صحابہ کرام سے فرمایا تم کھاؤ میں تمہارے جیسا نہیں ہوں ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے ساتھی (فرشتوں) کو اس سے تکلیف نہ ہو۔یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ ام ایوب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ مَطْبُوخًا،حدیث نمبر ١٨١٠)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ عَلَيْهِمْ فَتَكَلَّفُوا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَ أَكْلَهُ "، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " كُلُوهُ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأُمُّ أَيُّوبَ هِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1810

حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ لہسن پاکیزہ رزق میں سے ہے۔ابو خلدہ کا نام خالد بن دینار ہے۔ یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے سماع کیا ۔ ابو العالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ ریاحی ہیں عبد الرحمن بن مہدی کہتے ہیں ابو خلده بهترین مسلمان تھے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ مَطْبُوخًا، حدیث نمبر ١٨١١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: " الثُّومُ مِنْ طَيِّبَاتِ الرِّزْقِ "، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَسَمِعَ مِنْهُ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ هُوَ الرِّيَاحِيُّ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ أَبُو خَلْدَةَ خِيَارًا مُسْلِمًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1811

سوتے وقت برتن ڈھانکنا نیز چراغ اور آگ کو بجھا دینا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( سوتے وقت) دروازے بند کر دو برتن اوندھے کر دو یا ڈھانپ دو اور چراغ گل کر دو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا ہے مشکیزے کی رسی نہیں کھولتا اور برتن کو ننگا نہیں کرتا ۔ نیز چھوٹا فاسق(چوہا) لوگوں کے گھروں کو جلا دیتا ہے۔اس باب میں حضرت ابن عمر، ابو ہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کئی طرق سے مردی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي تَخْمِيرِ الإِنَاءِ، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ، وَالنَّارِ عِنْدَ المَنَامِ، حدیث نمبر ١٨١٢)

باب مَا جَاءَ فِي تَخْمِيرِ الإِنَاءِ وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ الْمَنَامِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ وَأَكْفِئُوا الْإِنَاءَ أَوْ خَمِّرُوا الْإِنَاءَ وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا وَلَا يَحِلُّ وِكَاءً وَلَا يَكْشِفُ آنِيَةً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1812

حضرت سالم اپنے والد (رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوتے وقت گھروں میں جلتی ہوئی آگ نہ چھوڑو (بلکہ بجھا دو) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي تَخْمِيرِ الإِنَاءِ، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ، وَالنَّارِ عِنْدَ المَنَامِ، حدیث نمبر ١٨١٣)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1813

دو کھجوروں کو ملا کر کھانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھی کی اجازت کے بغیر دو کھجوروں کو ملا کر کھانے سے منع فرمایا۔اس باب میں حضرت سعد مولی ابو بکر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ القِرَانِ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ، حدیث نمبر ١٨١٤)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْقِرَانِ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ صَاحِبَهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1814

کھجور کی فضیلت کا بیان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ گھر والے بھوکے ہیں۔اس باب میں حضرت سلمی زوجہ ابو رافع سے بھی روایت مذکور ہے۔یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے۔ ہم اسے ہشام بن عروہ کی روایت سے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یحییٰ بن حسان کے علاوہ میں نہیں جانتا ہوں کسی نے اسے روایت کیا ہے، (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ التَّمْرِ، حدیث نمبر ١٨١٥)

باب مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ التَّمْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَلْمَى امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ قَالَ: وَسَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1815

کھانا کھانے کے بعد شکر ادا کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو کسی چیز سے کھانے یا پینے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے ۔ اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر، ابو سعید، عائشہ، أبو ایوب اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ متعدد حضرات نے اسے زکریا بن ابو زائدہ سے اس کے ہم معنی روایت کیا ہم اسے صرف زکریا بن ابو زائدہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَمْدِ عَلَى الطَّعَامِ إِذَا فُرِغَ مِنْهُ، حدیث نمبر ١٨١٦)

باب مَا جَاءَ فِي الْحَمْدِ عَلَى الطَّعَامِ إِذَا فُرِغَ مِنْهُ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ نَحْوَهُ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1816

مجذوم کے ساتھ کھانا کھانا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجذوم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالے میں شامل کر دیا، پھر فرمایا اللہ کے نام سے اس پر اعتماد اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ۔ یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم اسے بواسطہ یونس بن محمد، مفضل بن فضالہ کی روایت سے پہچانتے ہیں مفضل بن فضالہ بصری شیخ ہیں۔ ایک مفضل بن فضالہ مصری شیخ ہیں۔جو ان سے زیادہ ثقہ اور مشہور ہیں۔ شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ حبیب بن شهید ، ابن بریده سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مجذوم کا ہاتھ پکڑا الخ۔ میرے (امام ترمذی)کے نزدیک شعبہ کی روایت ثابت اور اصح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ المَجْذُومِ، حدیث نمبر ١٨١٧)

باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ الْمَجْذُومِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشْقَرُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَأَدْخَلَهُ مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ "، ثُمَّ قَالَ: " كُلْ بِسْمِ اللَّهِ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ شَيْخٌ آخَرُ بَصْرِيٌّ أَوْثَقُ مِنْ هَذَا وَأَشْهَرُ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ وَحَدِيثُ شُعْبَةَ أَثْبَتُ عِنْدِي وَأَصَحُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1817

مومن ایک آنت میں کھاتا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے جب کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، ابو سعید، ابو نضرہ انصاری، ابو موسیٰ ،جہجاہ غفاری، میمونہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ المُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، حدیث نمبر ١٨١٨)

باب مَا جَاءَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، وَأَبِي مُوسَى، وَجَهْجَاهٍ الْغِفَارِيِّ، وَمَيْمُونَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1818

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک کافر مہمان ہوا۔آپ نے اس کے لیے ایک بکری دوہنے کا حکم فرمایا وہ دوہی گئی تو وه تمام دودھ پی گیا پھر دوسری بکری کا حکم دیا وہ دوہی گئی تو اسے بھی پی گیا۔ پھر ایک اور دوہی گئی تو اسے بھی پی گیا۔ یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔ دوسری صبح وہ اسلام لے آیا نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری دوہنے کا حکم دیا۔وہ دوہی گئی تو اس نے تمام دودھ پی لیا پھر دوسری بکری کاحکم فرمایا وہ دوہی گئی تو سارا دودھ نہ پی سکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ایک آنت میں پیتا ہے۔ اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ المُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، حدیث نمبر ١٨١٩)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَافَهُ ضَيْفٌ كَافِرٌ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ، ثُمَّ أَصْبَحَ مِنَ الْغَدِ فَأَسْلَمَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مَعْيٍ وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1819

ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہے اور تین کا کھانا چار کو کفایت کرتا ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک کا کھانا دو کو دو کا چار کو اور چار کا آٹھ کو کافی ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطہ عبد الرحمن بن مہدی ، سفیان ، اعمش ابوسفیان اور حضرت جابر رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي طَعَامِ الوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، حدیث نمبر ١٨٢٠)

باب مَا جَاءَ فِي طَعَامِ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةَ، وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةَ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. (حديث مرفوع) وَرَوَى جَابِرٌ، وَابْنُ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ ".

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1820

ٹڈی کھانا حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت سے ان سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چھ غزوات میں شرکت کی ہم ٹڈیاں کھاتے تھے،سفیان بن عیینہ نے ابو یعفور سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی اور کچھ غزوات کا ذکر کیا سفیان ثوری نے ابو یعفور سے روایت کرتے ہوئے سات غزوات کہا ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الجَرَادِ، حدیث نمبر ١٨٢١)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الْجَرَادِ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالَ سِتَّ غَزَوَاتٍ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، فَقَالَ: سَبْعَ غَزَوَاتٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1821

حضرت ابن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شعبہ نے بھی اسے ابویعفور کے واسطہ سے ابن ابی اوفی سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے۔ اس سند سے بھی ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابویعفور کا نام واقد ہے، انہیں وقدان بھی کہا جاتا ہے، ابویعفور دوسرے بھی ہیں، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الجَرَادِ، حدیث نمبر ١٨٢٢)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، وَالْمُؤَمَّلُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ ". حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا، قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو يَعْفُورٍ اسْمُهُ وَاقِدٌ وَيُقَالُ: وَقْدَانُ أَيْضًا وَأَبُو يَعْفُورٍ الْآخَرُ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1822

حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت انس بن مالک رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈیوں پر بد دعا کرتے تو کہتے «اللهم أهلك الجراد اقتل كباره وأهلك صغاره وأفسد بيضه واقطع دابره وخذ بأفواههم عن معاشنا وأرزاقنا إنك سميع الدعاء» ”اللہ! ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، بڑوں کو مار دے، چھوٹوں کو تباہ کر دے، ان کے انڈوں کو خراب کر دے، ان کا جڑ سے خاتمہ کر دے، اور ہمارے معاش اور رزق تباہ کرنے سے ان کے منہ روک لے، بیشک تو دعا کو سننے والا ہے“، ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر کو جڑ سے ختم کرنے کی بد دعا کیسے کر رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سمندر میں مچھلی کی چھینک ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی کے بارے میں محدثین نے کلام کیا ہے، ان سے غریب اور منکر روایتیں کثرت سے ہیں، ان کے باپ محمد بن ابراہیم ثقہ ہیں اور مدینہ کے رہنے والے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ ما جاء فی الدعا علی الجراد، حدیث نمبر ١٨٢٣،)

باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ عَلَى الْجَرَادِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا عَلَى الْجَرَادِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَهْلِكِ الْجَرَادَ اقْتُلْ كِبَارَهُ وَأَهْلِكْ صِغَارَهُ وَأَفْسِدْ بَيْضَهُ وَاقْطَعْ دَابِرَهُ وَخُذْ بِأَفْوَاهِهِمْ عَنْ مَعَاشِنَا وَأَرْزَاقِنَا إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ "، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَدْعُو عَلَى جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ اللَّهِ بِقَطْعِ دَابِرِهِ؟، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا نَثْرَةُ حُوتٍ فِي الْبَحْرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ قَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ وَهُوَ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ وَالْمَنَاكِيرِ، وَأَبُوهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثِقَةٌ وَهُوَ مَدَنِيٌّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1823

نجاست کھانے والے جانوروں کا گوشت اور دودھ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاست خور جانوروں کا گوشت کھانے اور دودھ پینے سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ثوری نے بواسطه ابن ابو نجیح اور مجاہد ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا، حدیث نمبر ١٨٢٤)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْجَلاَّلَةِ وَأَلْبَانِهَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَى الثَّوْرِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1824

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو باندھ کر نشانہ بنانے، نجاست خور جانور کے دودھ اور مشکیزہ کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا۔ محمد بن بشار فرماتے ہیں ہم سے ابن ابی عدی نے بواسطه سعید بن عروبہ، قتادہ، عکرمہ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا، حدیث نمبر ١٨٢٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُجَثَّمَةِ وَلَبَنِ الْجَلَّالَةِ وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ "، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1825

مرغ کھانا حضرت زهدم جرمی فرماتے ہیں میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہ مرغ کھا رہے تھے، فرمایا قریب ہو جاؤ اور کھاؤ کیونکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے ۔ یہ حدیث حسن ہے اور زہدم سے کئی طرق سے مروی ہے ۔ ہم اسے زہدم کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ ابو العوام سے ہے عمران قطان مراد ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدَّجَاجِ، حدیث نمبر ١٨٢٦)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدَّجَاجِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَأْكُلُ دَجَاجَةً، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ زَهْدَمٍ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَهْدَمٍ، وَأَبُو الْعَوَّامِ هُوَ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1826

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے ۔ اس حدیث میں اس کے علاوہ بھی واقعہ مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ایوب سختیانی نے یہ حدیث بواسطہ قاسم تمیمی اور ابو قلابہ، زہدم جرمی سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدَّجَاجِ، حدیث نمبر ١٨٢٧)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ "، قَالَ: وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1827

حضرت سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابراہیم بن عمر بن سفینہ سے ابن ابی فدیک نے بھی روایت کی ہے، انہیں برید بن عمر بن سفینہ بھی کہا گیا ہے۔ «حباری» (یعنی سرخاب) بطخ کی شکل کا ایک پرندہ ہے جس کی گردن لمبی اور رنگ خاکستری ہوتا ہے، اس کی چونچ بھی قدرے لمبی ہوتی ہے۔ اور یہ جنگلوں میں پایا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الشِّوَاءِ، حدیث نمبر ١٨٢٨)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الْحُبَارَى حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، وَيُقَالُ: بُرَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1828

بھنا ہوا گوشت کھانا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہلو کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا آپ نے اسے تناول فرمایا اور پھر وضوء کیے بغیر نمازہ کے لیے تشریف لے گئے ۔ اس باب میں حضرت عبد الله بن حارث، مغیرہ اور ابو رافع رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الشِّوَاءِ، حدیث نمبر ١٨٢٩)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الشِّوَاءِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، " أَنَّهَا قَرَّبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَالْمُغِيرَةِ، وَأَبِي رَافِعٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1829

ٹیک لگا کر کھانا حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا،اس باب میں حضرت علی، عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ہم اسے صرت علی بن اقمر کی روایت سے پہچانتے ہیں ،زکریا بن ابو زائدہ ، سفیان بن سعید اور کئی حضرات نے اسے علی بن اقمر سے روایت کیا ہے ۔شعبہ نے بواسطه سفیان ثوری، علی بن اقمر سے یہ حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَكْلِ مُتَّكِئًا، حدیث نمبر ١٨٣٠)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَكْلِ مُتَّكِئًا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَلَا آكُلُ مُتَّكِئًا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1830

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیز اور میٹھائی اور شهد پسند تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیز اور شہد پسند تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ علی بن مسہر نے اسے ہشام بن عروہ سے روایت کیا۔ اس حدیث میں اس سے زیادہ کلام ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي حُبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحَلْوَاءَ وَالعَسَلَ، حدیث نمبر ١٨٣١)

باب مَا جَاءَ فِي حُبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَل حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَفِي الْحَدِيثِ كلام أكثر من هذا.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1831

شوربہ زیادہ رکھنا حضرت علقمہ بن عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہا اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو(پکاتے وقت) شوربہ زیادہ رکھے، اگر اسے کھانے کو گوشت نہیں ملے گا تو شوربہ تو مل جائے گا یہ بھی تو ایک قسم کا گوشت ہی ہے۔اس باب میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث غریب ہے،ہم اسے صرف اسی طریق یعنی محمد بن فضاء کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ محمد بن فضا معبر ہیں(خواب کی تعبیر بیان کرنے والے)۔سلیمان بن حرب نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے ، علقمہ ، بکر بن عبد الله مزنی کے بھائی ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي إِكْثَارِ مَاءِ المَرَقَةِ، حدیث نمبر ١٨٣٢)

باب مَا جَاءَ فِي إِكْثَارِ مَاءِ الْمَرَقَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ لَحْمًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَتَهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَحْمًا أَصَابَ مَرَقَةً وَهُوَ أَحَدُ اللَّحْمَيْنِ "، وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ هُوَ الْمُعَبِّرُ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1832

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھے اور کچھ نہ ہو سکے تو اپنے (مسلمان) بھائی سے خندہ روئی سے ہی پیش آئے ۔ جب گوشت خریدو یا ہنڈیا پکاؤ تو شوربہ زیادہ رکھو اور اس سے اپنے پڑوسی کو کم از کم چلو بھر شوربے دو۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ شعبہ نے اسے ابو عمران جونی سے روایت کیا یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي إِكْثَارِ مَاءِ المَرَقَةِ، حدیث نمبر ١٨٣٣)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَلْقَ أَخَاهُ بِوَجْهٍ طَلِيقٍ، وَإِنِ اشْتَرَيْتَ لَحْمًا أَوْ طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهُ وَاغْرِفْ لِجَارِكَ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1833

ثرید کی فضیلت حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں میں سے بہت سے لوگ کامل ہوئے اور عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران، آسیه زوجہ فرعون کامل ہوئیں۔ دوسری عورتوں پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کو باقی کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔ اس باب میں حضرت عائشہ اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مروی ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الثَّرِيدِ، حدیث نمبر ١٨٣٤)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الثَّرِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1834

گوشت دانتوں سے نوچنا حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد نے میری شادی کی اور چند لوگوں کو بلایا ان میں صفوان بن امیہ بھی تھے انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:گوشت کو دانتوں سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ یہ زیادہ خوشگوار اور زود ہضم ہے۔اس باب میں حضرت عائشہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، ہم اس حدیث کو صرف عبد الکریم کی روایت سے پہچانتے ہیں بعض اہل علم نے عبد الکریم معلم کے حفظ میں کلام کیا ہے۔ ایوب سختیانی بھی ان میں سے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ أَنَّهُ قَالَ: انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا، حدیث نمبر ١٨٣٥)

باب مَا جَاءَ أَنَّهُ قَالَ انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: زَوَّجَنِي أَبِي فَدَعَا أُنَاسًا فِيهِمْ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَبْدِ الْكَرِيمِ الْمُعَلِّمِ مِنْهُمْ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1835

چھری سے کاٹ کر گوشت کھانے کی اجازت حضرت جعفر بن امیہ ضمری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے بکری کا شانہ چھری سے کاٹا اور پھر اس سے کھایا پھر نیا وضوء کیے بغیر نماز کے لیے تشریف لے گئے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس باب میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي قَطْعِ اللَّحْمِ بِالسِّكِّينِ، حدیث نمبر ١٨٣٦)

باب مَا جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي قَطْعِ اللَّحْمِ بِالسِّكِّينِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَزَّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب: عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1836

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ گوشت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور آپ کو اس کا بازو پیش کیا گیا،آپ کو وہ پسند تھا چناں چہ آپ نے اس سے دانتوں کے ساتھ نوچ کر کھایا۔ اس باب میں حضرت مسعود، عائشہ، عبد الله بن جعفر اور ابو عبیدہ رضی الله عنهم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو حیان کا نام یحیی بن سعید بن حیان تیمی ہے۔ ابو زرعہ بن عمرو بن جریر کا نام ھرم ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَيِّ اللَّحْمِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٣٧)

باب مَا جَاءَ فِي أَىِّ اللَّحْمِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَيَّانَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، وَأَبُو زَرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ اسْمُهُ هَرِمٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1837

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ بازو کا گوشت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند نہ تھا بلکہ بات یہ تھی کہ آپ کے ہاں کبھی کبھار گوشت پکتا تھا تو اس کی طرف جلدی فرماتے کیونکہ وہ جلدی پک جاتا ہے۔یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَيِّ اللَّحْمِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٣٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ أَبُو عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ يَحْيَى مِنْ وَلَدِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " مَا كَانَ الذِّرَاعُ أَحَبَّ اللَّحْمِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ كَانَ لَا يَجِدُ اللَّحْمَ إِلَّا غِبًّا فَكَانَ يَعْجَلُ إِلَيْهِ لِأَنَّهُ أَعْجَلُهَا نُضْجًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1838

سرکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سرکہ بہترین سالن ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سرکہ بہترین سالن ہے۔ اس باب میں حضرت عائشہ اور ام ہانی رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔مبارک بن سعید کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخَلِّ، حدیث نمبر ١٨٣٩)

باب مَا جَاءَ فِي الْخَلِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ" حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُبَارَكِ بْنِ سَعِيدٍ.وفی الباب عن عائشۃ ،وام ھانی

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1839

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سرکہ بہترین سالنوں میں سے ہے۔ عبد الله بن عبد الرحمن نے بواسطہ یحیی بن حسان سلیمان بن بلال سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ البتہ (یہ فرق ہے کہ) انہوں نے کہا بہترین سالن یا سالنوں میں سے بہترین سرکہ ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے۔ ہشام بن عروہ سے صرف سلیمان بن بلال کی روایت سے معروف ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخَلِّ، حدیث نمبر ١٨٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ "، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ أَوِ الْأُدْمُ الْخَلُّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1840

حضرت ام ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں البتہ روٹی کا ایک خشک ٹکڑا اور سرکہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس لاؤ جس گھر میں سرکہ ہو وہ سالن سے خالی نہیں۔یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا کی روایت سے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ام ہانی رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے کچھ دن بعد انتقال فرمایا۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا:شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں، میں نے پھر پوچھا: آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخَلِّ، حدیث نمبر ١٨٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ "، فَقُلْتُ: لَا إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ وَخَلٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرِّبِيهِ فَمَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُمِّ هَانِئٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ اسْمُهُ ثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ، وَأُمُّ هَانِئٍ مَاتَتْ بَعْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِزَمَانٍ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: لَا أَعْرِفُ لِلشَّعْبِيِّ سَمَاعًا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ فَقُلْتُ: أَبُو حَمْزَةَ كَيْفَ هُوَ عِنْدَكَ فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: تَكَلَّمَ فِيهِ وَهُوَ عِنْدِي مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1841

حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث مبارک بن سعید کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف، حدیث نمبر ١٨٤٣)

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُبَارَكِ بْنِ سَعِيدٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1842

تربوز کو کھجور کے ساتھ کھانا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تربوز کو کھجور کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے، یہ حدیث حسن غریب ہے بعض نے اسے بواسطہ ہشام بن عروہ اور عروہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا۔ یزید بن رومان نے یہ حدیث بواسطہ عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ البِطِّيخِ بِالرُّطَبِ، حدیث نمبر ١٨٤٣)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الْبِطِّيخِ بِالرُّطَبِ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ هَذَا الْحَدِيثَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1843

ککڑی کو کھجور کے ساتھ ملا کر کھانا حضرت عبد الله بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ککڑی کو کھجور کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ ہم اسے صرف ابراہیم بن سعد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ القِثَّاءِ بِالرُّطَبِ، حدیث نمبر ١٨٤٤)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الْقِثَّاءِ بِالرُّطَبِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِدٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1844

اونٹوں کے پیشاب کا حکم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ مدینہ طیبہ آئے تو وہاں کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیج دیا۔اور فرمایا ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔یہ حدیث صحیح ہے، ثابت کی روایت سے غریب ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے ابو قلابہ نے بلا واسطہ اور سعید بن عروبہ نے بواسطہ قتادہ،حضرت انس رضی اللہ اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي شُرْبِ أَبْوَالِ الإِبِلِ، حدیث نمبر ١٨٤٥)

باب مَا جَاءَ فِي شُرْبِ أَبْوَالِ الإِبِلِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، وَثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: " اشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَنَسٍ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1845

کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا اور کلی کرنا۔ حضرت سلمان فرماتے ہیں میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت بعد میں ہاتھ دھونے اور کلی کرنے میں ہے میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا:کھانے کی برکت پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے میں ہے۔ اس باب میں حضرت انس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ہم اس حدیث کو صرف قیس بن ربیع کی روایت سے پہچانتے ہیں۔اور قیس حدیث میں ضعیف ہیں۔ ابو ہاشم رمانی کا نام یحیی بن دینار ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الوُضُوءِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَهُ، حدیث نمبر ١٨٤٦)

باب مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجُرْجَانِيُّ، قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ الْمَعْنَى واحد، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ يَعْنِي الرُّمَّانِيَّ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: " قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ "، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَأَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ دِينَارٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1846

کھانے سے پہلے وضوء نہ کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے تو آپکے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم وضوء کیلئے پانی نہ لائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۔ یہ حدیث حسن ہے عمرو بن دینار نے اسے بواسطہ سعید بن حویرث ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ علی بن مدینی، یحییٰ بن سعید کا قول نقل کرتے ہیں کہ سفیان ثوری کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا پسند نہیں فرماتے تھے نیز آپ روٹیوں کو پیالے کے نیچے رکھنا بھی پسند نہ فرماتے تھے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابٌ فِي تَرْكِ الوُضُوءِ قَبْلَ الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٤٧)

باب فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ قَبْلَ الطَّعَامِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ، قَالَ: " إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يَكْرَهُ غَسْلَ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوضَعَ الرَّغِيفُ تَحْتَ الْقَصْعَةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1847

کھانے پر بسم اللہ پڑھنا حضرت عکراش بن ذویب کہتے ہیں بنو مرہ بن عبید نے اپنے مالوں کی زکوٰۃ دے کر مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا میں مدینہ طیبہ پہنچا تو آپ کو مہاجرین و انصار کے درمیان بیٹھا ہوا پایا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر لے گئے۔ پوچھا کچھ کھانے کو ہے ؟ اس پر ہمارے سامنے ایک پیالہ لایا گیا جس میں بہت سارا ثرید اور گوشت کے ٹکڑے تھے ہم نے آگے بڑھ کر کھانا شروع کیا میں نے اپنا ہاتھ بے ترتیبی سے ادھر ادھر پھرنا شروع کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے سے کھایا آپ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا عکراش!ایک جگہ سے کھاؤ کیونکہ کھانا ایک ہی ہے۔پھر ایک تھال لایا گیا جس میں مختلف قسم کی خشک یا تر کھجوریں تھیں (عبد اللہ کو شک ہے) میں نے اپنے سامنے سے کھانا شروع کر دیا۔ جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پورے تھال میں چکر کاٹ رہا تھا فرمایا عکراش جہاں سے جی چاہے کھاؤ کیونکہ یہ ایک رنگ کے نہیں ہیں پھر پانی لایا گیا تو رسول کرم صلی اللہ علیہ سلم نے دست اقدس دھوئے اور ہاتھوں کی تری کو چہرہ انور ، بازوؤں اور سر پر ملا اور فرمایا عکراش !یہ اس کھانے سے وضوء ہے جسے اگ بدل دے۔یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف علاء بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں ۔ علاء اس حدیث میں متفرد ہیں اس حدیث میں ایک واقعہ ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٤٨)

باب مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الطَّعَامِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ أَبُو الْهُذَيْلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ، عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: بَعَثَنِي بَنُو مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِصَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ: " هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟ 0 " فَأُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ وَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا فَخَبَطْتُ بِيَدِي مِنْ نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى يَدِي الْيُمْنَى، ثُمَّ قَالَ: " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ "، ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ الرُّطَبِ أَوْ مِنْ أَلْوَانِ الرُّطَبِ عُبَيْدُ اللَّهِ شَكَّ قَالَ: فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ، وَقَالَ: " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ "، ثُمَّ أُتِينَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِبَلَلِ كَفَّيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ، وَقَالَ: " يَا عِكْرَاشُ هَذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْعَلَاءِ بْنِ الْفَضْلِ وَقَدْ تَفَرَّدَ الْعَلَاءُ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَا نَعْرِفُ لِعِكْرَاشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1848

کدو کھانا حضرت ابو طالوت فرماتے ہیں میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو وہ کدو کھا رہے تھے اور فرما رہے تھے اے درخت ! تیری کیا شان ہے تو مجھے کس قدر محبوب ہے اور یہ محبت صرف اس لیے ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تجھے محبوب رکھتے تھے، اس باب میں حکیم بن جابر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ۔ یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ، حدیث نمبر ١٨٤٩)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَأْكُلُ الْقَرْعَ وَهُوَ يَقُولُ يَا لَكِ شَجَرَةً مَا أَحَبَّكِ إِلَيَّ لِحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1849

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔میں نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کو دیکھا کہ آپ پیالے میں کدو کے ٹکڑے تلاش کر رہے تھے پس میں اس وقت سے کدو کو پسند کرتا ہوں ۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ، حدیث نمبر ١٨٥٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ فِي الصَّحْفَةِ يَعْنِي الدُّبَّاءَ فَلَا أَزَالُ أُحِبُّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ وَرُوِيَ أَنَّهُ رَأَى الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: " هَذَا الدُّبَّاءُ نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَا ".

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1850

زیتون کھانا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو کیونکہ یہ مبارک درخت سے ہے۔اس حدیث کو ہم صرف عبدالرزاق کی روایت سے پہچانتے ہیں جو معمر سے راوی ہیں۔عبد الرزاق کی اس حدیث میں اضطراب ہے کبھی وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔کبھی وہ شک کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ میرا خیال ہے یہ بواسطہ عمر رضی اللہ عنہ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔کبھی بواسطه ابن اسلم اور اسلم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں۔ ابو داؤد سلیمان نے بواسطہ عبدالرزاق،معمر، زید بن اسلم اور ان کے والد اسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واسطہ مذکور نہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الزَّيْتِ، حدیث نمبر ١٨٥١)

باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الزَّيْتِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ وَكَانَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَضْطَرِبُ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ فَرُبَّمَا ذَكَرَ فِيهِ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُبَّمَا رَوَاهُ عَلَى الشَّكِّ، فَقَالَ: أَحْسَبُهُ عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُبَّمَا قَالَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعَمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عُمَرَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1851

حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو یہ مبارک درخت ہے۔ یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے ہم اسے عبد اللہ بن عیسیٰ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الزَّيْتِ، حدیث نمبر ١٨٥٢)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: عَطَاءٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1852

غلام کے ساتھ کھانا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارا خادم تمہارے کھانے کے لیے گرمی اور دھواں برداشت کرتا ہے تو چاہیے کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لو اگر انکار کرے تو ایک لقمہ لے کر اسے کھلا دو، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو خالد ، اسماعیل کے والد ہیں ان کا نام سعد ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ المَمْلُوكِ وَالعِيَالِ، حدیث نمبر ١٨٥٣)

باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ الْمَمْلُوكِ وَالْعِيَالِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يُخْبِرُهُمْ ذَاكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَلْيَأْخُذْ بِيَدِهِ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى، فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيُطْعِمْهَا إِيَّاهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو خَالِدٍ وَالِدُ إِسْمَاعِيل اسْمُهُ سَعْدٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1853

کھانا کھانے کی فضیلت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور کھوپڑیوں پر مارو (جہاد کرو) جنت کے وارث بن جاؤ گے، اس باب میں حضرت عبد الله بن عمر ، ابن عمر ، انس ، عبد الله بن سلام، عبد الرحمن بن عائش اور شریح بن ہانی (جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں) سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ إِطْعَامِ الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٥٤)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ إِطْعَامِ الطَّعَامِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَاضْرِبُوا الْهَامَ تُورَثُوا الْجِنَانَ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشَ، وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1854

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحمان کی عبادت کرو کھانا کھلاؤ۔ اور سلام کو رواج دو۔ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ إِطْعَامِ الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٥٥)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ " قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1855

رات کے کھانے کی فضیلت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شام کا کھانا (ضرور) کھاؤ اگرچہ مٹھی بھر کھجوریں ہی ہوں کیونکہ رات کا کھانا ترک کرنا بوڑھا کر دیتا ہے۔یہ حدیث منکر ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ عنبسہ کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے۔عبد الملک بن علاق مجہول ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ العَشَاءِ، حدیث نمبر ١٨٥٦)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْعَشَاءِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَلَّاقٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَشَّوْا وَلَوْ بِكَفٍّ مِنْ حَشَفٍ فَإِنَّ تَرْكَ الْعَشَاءِ مَهْرَمَةٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَعَنْبَسَةُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَلَّاقٍ مَجْهُولٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1856

کھانے پر بسم اللہ پڑھنا حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ کے سامنے کھانا رکھا ہوا تھا۔ فرمایا بیٹا قریب ہو جائے اور بسم اللہ پڑھ کر دائیں ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھاؤ،ہشام بن عروہ ، ابو وجزہ سعدی اور قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی کے واسطہ سے بھی حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ھشام بن عروہ کے اصحاب نے اس حدیث کی روایت میں اختلاف کیا ہے۔ ابو وجزه سعدی کا نام یزید بن عبید ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٥٧)

باب مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ طَعَامٌ قَالَ: " ادْنُ يَا بُنَيَّ وَسَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ وَأَبُو وَجْزَةَ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1857

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو بسم اللہ پڑھے۔ اگر شروع میں بھول جائے تو کہے: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ، اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چھ صحابہ کرام کے ہمراہ کھانا تناول فرمارہے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آیا۔اس نے دو لقموں میں سارا کھانا کھا لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر وہ بسم اللہ پڑھتا تو ( یہ کھانا ) تمہیں کافی ہوتا۔ یہ حدیث حسن صحیح۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٥٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ ". وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَمَّى لَكَفَاكُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1858

چکنے ہاتھ دھوئے بغیر سونا مکروہ ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان بہت حساس ہے۔ پس اس سے اپنی جانوں کی حفاظت کرو جو آدمی اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی چیز کاٹ ڈالے تو وہ صرف اپنے نفس کو ملامت کرے، یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے ۔بواسطہ سہیل بن ابی صالح ان کے والد، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ البَيْتُوتَةِ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ، حدیث نمبر ١٨٥٩)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْبَيْتُوتَةِ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ حَسَّاسٌ لَحَّاسٌ فَاحْذَرُوهُ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1859

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہاتھوں میں چکنائی لگے ہوئے سو جائے پھر اسے کوئی چیز کاٹ ڈالے تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے حدیث اعمش سے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ البَيْتُوتَةِ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ، حدیث نمبر ١٨٦٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْبَغْدَادِيُّ الصَّاغَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul At'ima, Hadees No. 1860

Tirmizi Shareef : Abwabul At'ima

|

Tirmizi Shareef : ابواب الاطعمۃ

|

•