
کھانے کا بیان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو (عمدہ) دستر خوان پر کھانا کھایا اور نہ چھوٹی پیالیوں میں اور نہ ہی آپ نے چپاتی تناول فرمائی راوی کہتے ہیں میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا صحابہ کرام کھاناکس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے۔ فرمایا ان معمولی دستر خوانوں پر ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ محمد بن بشار کہتے ہیں۔ یہ یونس ، یونس اسکاف ۔ عبد الوارث نے بواسطہ سعید بن ابی عروبہ اور قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، أَبْوَابُ الْأَطْعِمَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔بَابُ مَا جَاءَ عَلَامَ كَانَ يَأْكُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٧٨٨)
خرگوش کھانا حضرت ہشام بن زید فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ ہم نے مرالظہران میں خرگوش کو بھگایا صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے میں نے اس کو پکڑ لیا پھر اسے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا۔ انہوں نے اسے ایک سخت پتھر سے ذبح کیا اور اس کی ران یا سرین دے کر مجھے بارگاہ نبوی میں بھیجا آپ نے اسے تناول فرمایا،۔ ہشام فرماتے ہیں، میں نے پوچھا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا تو حضرت انس نے فرمایا آپ نے قبول فرمایا۔ اس باب میں حضرت جابر، عمار، محمد بن صفوان (محمد بن صیفی بھی کہا جاتا ہے۔) رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ خرگوش کھانے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے۔ البتہ بعض علماء کے نزدیک خرگوش کا کھانا مکروہ ہے کیونکہ اسے حیض کا (خون) آتا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الأَرْنَبِمَ، حدیث نمبر ١٧٨٩)
گوہ کھانا کیسا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا۔ نہ میں کھاتا ہوں اور نہ حرام کرتا ہوں ۔ اس باب میں حضرت عمر، ابوسعید، ابن عباس، ثابت بن ودیعہ،جابر اور عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ گوہ کھانے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے جبکہ بعض کے نزدیک مکروہ ہے،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر گوہ لگائی گئی آپ نے اسے گندگی کی وجہ سے نہیں کھایا۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبِّ، حدیث نمبر ١٧٩٠)
بجو کا کھانا حضرت ابن ابو عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کیا بجو شکار کی چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے پوچھا کیا میں اسے کھا سکتا ہوں ؟ فرمایا ہاں۔ میں نے پوچھا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ؟ حضرت جابر نے فرمایا " ہاں" یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ بعض علماء کا اس پر عمل ہے وہ بجو کے کھانے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے۔ امام احمد اور اسحاق رحمہما اللہ اس بات کے قائل ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بجو کے مکروہ ہونے کے بارے میں بھی روایت مذکور ہے اس کی سند قوی نہیں ۔ بعض علماء کے نزدیک اس کا کھانا مکروہ ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ کا یہی قول ہے۔ یحییٰ بن قطان فرماتے ہیں۔ جریر بن حازم نے یہ حدیث بواسطہ عبداللہ بن عبید بن عمیر ابن ابی عمار اور جابر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے قول کے طور پر نقل کی۔ ابن جریج کی حدیث اصح ہے۔اور ابن ابی عمار کا نام عبد الرحمن بن عبد اللہ بن ابی عمار مکی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبُعِ، حدیث نمبر ١٧٩١)
حضرت خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بجو کے کھانے کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا کیا کوئی شخص بجو بھی کھاتا ہے؟میں نے بھیڑیے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کیا کوئی بھلا آدمی بھیڑیا بھی کھاتا ہے،اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے ۔ ہم اسے بواسطہ اسماعیل بن مسلم،عبدالکریم بن امیہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ بعض محدثین نے اسماعیل کے بارے میں کلام کیا ہے ۔ عبد الکریم بن امیہ سے عبد الکریم بن قیس مراد ہیں اور یہ قیس بن ابی المخارق ہیں۔ عبد الکریم بن مالک جزری ثقہ ہیں ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبُعِ، حدیث نمبر ١٧٩٢)
گھوڑے کا گوشت کھانا حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا(اجازت دی) اور گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ امام ترمذی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے متعدد افراد نے بواسطه عمرو بن دینار، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حماد بن زید نے بواسطہ عمرو بن دینار اور محمد بن علی ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ۔ ابن عینیہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ہیں امام ترمذی نے امام بخاری علیہ الرحمہ سے سنا فرماتے ہیں سفیان بن عیینہ ، حماد بن زید سے احفظ ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الخَيْلِ، حدیث نمبر ١٧٩٣)
گھریلو گدھوں کے گوشت کا حکم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے موقعہ پر عورتوں سے متعہ کرنے اور گھریلوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔ سعید بن عبد الرحمن بواسطہ سفیان اور زہری ، حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہما کے صاحبزادگان حضرت عبد اللہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ امام زہری فرماتے ہیں دونوں بھائیوں میں سے حضرت حسن بن محمد رضی اللہ عنہ زیادہ بہتر ہیں۔ سعید بن عبد الرحمن کے علاوہ دوسرے لوگوں نے ابن عیینہ سے نقل کیا کہ عبد اللہ بن محمد زیادہ پسندیدہ ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، حدیث نمبر ١٧٩٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فتح خیبر کے موقعہ پر ہر کچلی والے جانور، کھڑا کرکے نشان بنائے ہوئے جانور، اور گھریلو گدھوں کو حرام فرمایا ۔ اس باب میں حضرت علی ،جابر، براء، ابن ابی اوفیٰ،انس، عرباض بن ساریہ، ابو ثعلیہ، ابن عمر اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے عبد العزيز بن محمد وغیرہ نے محمد بن عمرو سے یہ حدیث روایت کی اور صرف ایک حصہ نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے جانور کو حرام قرار دیا۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، حدیث نمبر ١٧٩٥)
کفار کے برتنوں میں کھانا حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوسیوں کی ہانڈیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: انہیں دھو کر پاک کر لو اور ان میں کھانا پکاؤ اور آپ نے ہر کچلی والے درندے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث ابو ثعلبہ کی روایت سے مشہور ہے ان سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ ابو ثعلیہ کا نام جرثوم ہے۔ جرھم اور ناشب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حدیث بواسطہ ابو قلابہ اور ابو اسماء رحبی رضی اللہ عنہا بھی حضرت ابو ثعلیہ رضی اللہ عنہ سے مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ فِي آنِيَةِ الكُفَّارِ، حدیث نمبر ١٧٩٦)
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں ۔ پس ان کی ہانڈیوں میں پکاتے اور ان کے برتنوں میں پیتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں پانی سے صاف کر لیا کرو پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! باہم شکاری زمین میں ہوتے ہیں تو کیسے کیا کریں؟ آپ نے فرمایا جب تم نے اپنا سکھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کا نام پڑھ لیا پھر اس نے شکار کو مار ڈالا تو کھا لو اور اگر سکھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کیا گیا ہو تو بھی کھالو اور جب اللہ تعالیٰ کا نام لے کر تیر پھینکو اور جانور مرجائے تو بھی کھا لو! یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ فِي آنِيَةِ الكُفَّارِ، حدیث نمبر ١٧٩٧)
گھی میں چوہا مر جائے تو اس کا حکم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ۔ ایک چوہا گھی میں گر کر مر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ۔ چوہے اور اس کے گرد گھی کو نکال کر پھینک دو!اور باقی کو کھا لو۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث بواسطہ زہری اور عبید الله، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا۔حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں۔بروایت حضرت ابن عباس ، حضرت میمونہ رضی اللہ تنہا کی حدیث زیادہ صحیح ہے، معمر نے بواسطہ زہری اور سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے میں (امام ترمذی) نے امام بخاری رحمہ اللہ سے سنا فرماتے ہیں۔ بواسطہ معمر، زہری اور سعید بن مسیب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں خطاء ہے بواسطہ زہری، عبید اللہ اور ابن عباس حضرت میمونہ (رضی اللہ عنہم) کی روایت صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي السَّمْنِ، حدیث نمبر ١٧٩٨)
بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص نہ تو بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ ہی اس کے ساتھ پیے۔ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے ہی پیتا ہے،اس باب میں حضرت جابر، عمر بن ابی سلمہ، سلمہ بن اکوع ، انس بن مالک اور حفصہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ مالک اور ابن عینیہ نے بواسطہ زہری، اور ابو بکر بن عبید الله، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ معمر اور عقیل بواسطہ زہری اور سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ۔ مالک اور ابن عینیہ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الأَكْلِ وَالشُّرْبِ بِالشِّمَالِ، حدیث نمبر ١٧٩٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الأَكْلِ وَالشُّرْبِ بِالشِّمَالِ، حدیث نمبر ١٨٠٠)
انگلیاں چاٹنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے چاہیے کہ انگلیاں چاٹ لے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا ہے کہ کس انگلی میں برکت ہے۔ اس باب میں حضرت جابر کعب بن مالک اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکورہ ہیں ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق یعنی سہیل کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: عبدالعزیز کی یہ حدیث، مختلف کے قبیل سے ہے، اور صرف ان کی روایت سے ہی جانی جاتی ہے، (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي لَعْقِ الْأَصَابِعِ بَعْدَ الْأَكْلِ، حدیث نمبر ١٨٠١)
لقمہ گر پڑے تو کیا کیا جائے! حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھا رہا ہو اور اس کا لقمہ گر پڑے تو شک ڈالنے والی چیز کو اس سے جدا کر کے اسے کھائے اور شیطان کے لیے نہ چھوڑ ہے۔اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ، حدیث نمبر ١٨٠٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے۔نیز آپ نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر پڑے تو وہ اس سے گندگی دور کر کے اسے کھائے اور شیطان کے لیے نہ چھوڑے نیز آپ نے پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے کہ تمہارے کس کھانے میں برکت ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ، حدیث نمبر ١٨٠٣)
حضرت معلی بن راشد ابو الیمان اپنی دادی ام عاصم (سنان بن سلمیہ کی ام ولد)رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ نبیشۃ الخیر ہمارے پاس آئے تو ہم پیالے میں کھانا کھا رہے تھے،انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص پیالے میں کھائے پھر اسے چاٹ لے تو پیالہ اس کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف معلی بن راشد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ یزید بن ہارون اور کئی دوسرے ائمہ نے یہ حدیث معلی بن راشد سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ،حدیث نمبر ١٨٠٤)
کھانے کے درمیان سے کھانا مکروہ ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ برکت کھانے کے درمیان میں اترتی ہے لہذا کناروں سے کھاؤ اور بیچ میں سے نہ کھاؤ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عطا بن سائب سے معروف ہے ۔ شعبہ اور ثوری نے اسے عطاء بن سائب سے روایت کیا ہے ۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَكْلِ مِنْ وَسَطِ الطَّعَامِ،حدیث نمبر ١٨٠٥)
لہسن اور پیاز کا کھانا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس میں سے کھایا پہلی مرتبہ فرمایا "لہسن"پھر فرمایا" لہسن، پیاز اور گندنے میں سے ، وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت عمر، ابو ایوب، ابو ہریرہ ، ابو سعید ، جابر بن سمرہ ، قرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکورہ ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الثُّومِ وَالبَصَلِ،حدیث نمبر ١٨٠٦)
پکا ہوا لہسن کھانے کی ممانعت۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ہجرت کے موقعہ پر ) حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں آقامت گزیں ہوئے تو تو آپ کا طریقہ مبارکہ یہ تھا کہ کھانا تناول فرمانے کے بعد بچا ہوا حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر بھیج دیتے۔ایک دن حضرت ابو ایوب نے کھانا بھیجا تو آپ نے اس سے کچھ بھی نہ کھایا،حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ حاضر ہونے پر عرض کیا تو آپ نے فرمایا اس میں لہسن تھا۔ اس لیے نہیں کھایا، انہوں نے پوچھا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ حرام ہے فرمایا نہیں بلکہ میں اسے اس کی بو کی وجہ سے پسند نہیں کرتا۔یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ مَطْبُوخًا،حدیث نمبر ١٨٠٧،و حدیث نمبر ١٨٠٨)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کچے لہسن سے منع کیا گیا ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ مَطْبُوخًا،حدیث نمبر ١٨٠٧،و حدیث نمبر ١٨٠٨)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے منقول ہے کہ انہوں نے کچے لہسن کو کھانا ناپسند فرمایا۔ اس حدیث کی سند قوی نہیں ۔ بواسطہ شریک بن حنبل رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا بھی مروی ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: راوی جراح بن ملیح صدوق ہیں اور جراح بن ضحاک مقارب الحدیث ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ مَطْبُوخًا،حدیث نمبر ١٨٠٩)
حضرت ام ایوب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں قیام فرمایا انہوں نے آپ کے لیے کھانے کا انتظام فرمایا۔جس میں ان سبزیوں میں سے کچھ ڈالی تھی،آپ نے اس کا کھانا ناپسند فرمایا اور صحابہ کرام سے فرمایا تم کھاؤ میں تمہارے جیسا نہیں ہوں ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے ساتھی (فرشتوں) کو اس سے تکلیف نہ ہو۔یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ ام ایوب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ مَطْبُوخًا،حدیث نمبر ١٨١٠)
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ لہسن پاکیزہ رزق میں سے ہے۔ابو خلدہ کا نام خالد بن دینار ہے۔ یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے سماع کیا ۔ ابو العالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ ریاحی ہیں عبد الرحمن بن مہدی کہتے ہیں ابو خلده بهترین مسلمان تھے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ مَطْبُوخًا، حدیث نمبر ١٨١١)
سوتے وقت برتن ڈھانکنا نیز چراغ اور آگ کو بجھا دینا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( سوتے وقت) دروازے بند کر دو برتن اوندھے کر دو یا ڈھانپ دو اور چراغ گل کر دو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا ہے مشکیزے کی رسی نہیں کھولتا اور برتن کو ننگا نہیں کرتا ۔ نیز چھوٹا فاسق(چوہا) لوگوں کے گھروں کو جلا دیتا ہے۔اس باب میں حضرت ابن عمر، ابو ہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کئی طرق سے مردی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي تَخْمِيرِ الإِنَاءِ، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ، وَالنَّارِ عِنْدَ المَنَامِ، حدیث نمبر ١٨١٢)
حضرت سالم اپنے والد (رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوتے وقت گھروں میں جلتی ہوئی آگ نہ چھوڑو (بلکہ بجھا دو) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي تَخْمِيرِ الإِنَاءِ، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ، وَالنَّارِ عِنْدَ المَنَامِ، حدیث نمبر ١٨١٣)
دو کھجوروں کو ملا کر کھانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھی کی اجازت کے بغیر دو کھجوروں کو ملا کر کھانے سے منع فرمایا۔اس باب میں حضرت سعد مولی ابو بکر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ القِرَانِ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ، حدیث نمبر ١٨١٤)
کھجور کی فضیلت کا بیان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ گھر والے بھوکے ہیں۔اس باب میں حضرت سلمی زوجہ ابو رافع سے بھی روایت مذکور ہے۔یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے۔ ہم اسے ہشام بن عروہ کی روایت سے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یحییٰ بن حسان کے علاوہ میں نہیں جانتا ہوں کسی نے اسے روایت کیا ہے، (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ التَّمْرِ، حدیث نمبر ١٨١٥)
کھانا کھانے کے بعد شکر ادا کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو کسی چیز سے کھانے یا پینے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے ۔ اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر، ابو سعید، عائشہ، أبو ایوب اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ متعدد حضرات نے اسے زکریا بن ابو زائدہ سے اس کے ہم معنی روایت کیا ہم اسے صرف زکریا بن ابو زائدہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَمْدِ عَلَى الطَّعَامِ إِذَا فُرِغَ مِنْهُ، حدیث نمبر ١٨١٦)
مجذوم کے ساتھ کھانا کھانا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجذوم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالے میں شامل کر دیا، پھر فرمایا اللہ کے نام سے اس پر اعتماد اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ۔ یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم اسے بواسطہ یونس بن محمد، مفضل بن فضالہ کی روایت سے پہچانتے ہیں مفضل بن فضالہ بصری شیخ ہیں۔ ایک مفضل بن فضالہ مصری شیخ ہیں۔جو ان سے زیادہ ثقہ اور مشہور ہیں۔ شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ حبیب بن شهید ، ابن بریده سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مجذوم کا ہاتھ پکڑا الخ۔ میرے (امام ترمذی)کے نزدیک شعبہ کی روایت ثابت اور اصح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ المَجْذُومِ، حدیث نمبر ١٨١٧)
مومن ایک آنت میں کھاتا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے جب کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، ابو سعید، ابو نضرہ انصاری، ابو موسیٰ ،جہجاہ غفاری، میمونہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ المُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، حدیث نمبر ١٨١٨)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک کافر مہمان ہوا۔آپ نے اس کے لیے ایک بکری دوہنے کا حکم فرمایا وہ دوہی گئی تو وه تمام دودھ پی گیا پھر دوسری بکری کا حکم دیا وہ دوہی گئی تو اسے بھی پی گیا۔ پھر ایک اور دوہی گئی تو اسے بھی پی گیا۔ یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔ دوسری صبح وہ اسلام لے آیا نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری دوہنے کا حکم دیا۔وہ دوہی گئی تو اس نے تمام دودھ پی لیا پھر دوسری بکری کاحکم فرمایا وہ دوہی گئی تو سارا دودھ نہ پی سکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ایک آنت میں پیتا ہے۔ اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ المُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، حدیث نمبر ١٨١٩)
ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہے اور تین کا کھانا چار کو کفایت کرتا ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک کا کھانا دو کو دو کا چار کو اور چار کا آٹھ کو کافی ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطہ عبد الرحمن بن مہدی ، سفیان ، اعمش ابوسفیان اور حضرت جابر رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي طَعَامِ الوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، حدیث نمبر ١٨٢٠)
ٹڈی کھانا حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت سے ان سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چھ غزوات میں شرکت کی ہم ٹڈیاں کھاتے تھے،سفیان بن عیینہ نے ابو یعفور سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی اور کچھ غزوات کا ذکر کیا سفیان ثوری نے ابو یعفور سے روایت کرتے ہوئے سات غزوات کہا ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الجَرَادِ، حدیث نمبر ١٨٢١)
حضرت ابن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شعبہ نے بھی اسے ابویعفور کے واسطہ سے ابن ابی اوفی سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے۔ اس سند سے بھی ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابویعفور کا نام واقد ہے، انہیں وقدان بھی کہا جاتا ہے، ابویعفور دوسرے بھی ہیں، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الجَرَادِ، حدیث نمبر ١٨٢٢)
حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت انس بن مالک رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈیوں پر بد دعا کرتے تو کہتے «اللهم أهلك الجراد اقتل كباره وأهلك صغاره وأفسد بيضه واقطع دابره وخذ بأفواههم عن معاشنا وأرزاقنا إنك سميع الدعاء» ”اللہ! ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، بڑوں کو مار دے، چھوٹوں کو تباہ کر دے، ان کے انڈوں کو خراب کر دے، ان کا جڑ سے خاتمہ کر دے، اور ہمارے معاش اور رزق تباہ کرنے سے ان کے منہ روک لے، بیشک تو دعا کو سننے والا ہے“، ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر کو جڑ سے ختم کرنے کی بد دعا کیسے کر رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سمندر میں مچھلی کی چھینک ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی کے بارے میں محدثین نے کلام کیا ہے، ان سے غریب اور منکر روایتیں کثرت سے ہیں، ان کے باپ محمد بن ابراہیم ثقہ ہیں اور مدینہ کے رہنے والے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ ما جاء فی الدعا علی الجراد، حدیث نمبر ١٨٢٣،)
نجاست کھانے والے جانوروں کا گوشت اور دودھ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاست خور جانوروں کا گوشت کھانے اور دودھ پینے سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ثوری نے بواسطه ابن ابو نجیح اور مجاہد ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا، حدیث نمبر ١٨٢٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو باندھ کر نشانہ بنانے، نجاست خور جانور کے دودھ اور مشکیزہ کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا۔ محمد بن بشار فرماتے ہیں ہم سے ابن ابی عدی نے بواسطه سعید بن عروبہ، قتادہ، عکرمہ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا، حدیث نمبر ١٨٢٥)
مرغ کھانا حضرت زهدم جرمی فرماتے ہیں میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہ مرغ کھا رہے تھے، فرمایا قریب ہو جاؤ اور کھاؤ کیونکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے ۔ یہ حدیث حسن ہے اور زہدم سے کئی طرق سے مروی ہے ۔ ہم اسے زہدم کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ ابو العوام سے ہے عمران قطان مراد ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدَّجَاجِ، حدیث نمبر ١٨٢٦)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے ۔ اس حدیث میں اس کے علاوہ بھی واقعہ مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ایوب سختیانی نے یہ حدیث بواسطہ قاسم تمیمی اور ابو قلابہ، زہدم جرمی سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدَّجَاجِ، حدیث نمبر ١٨٢٧)
حضرت سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابراہیم بن عمر بن سفینہ سے ابن ابی فدیک نے بھی روایت کی ہے، انہیں برید بن عمر بن سفینہ بھی کہا گیا ہے۔ «حباری» (یعنی سرخاب) بطخ کی شکل کا ایک پرندہ ہے جس کی گردن لمبی اور رنگ خاکستری ہوتا ہے، اس کی چونچ بھی قدرے لمبی ہوتی ہے۔ اور یہ جنگلوں میں پایا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الشِّوَاءِ، حدیث نمبر ١٨٢٨)
بھنا ہوا گوشت کھانا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہلو کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا آپ نے اسے تناول فرمایا اور پھر وضوء کیے بغیر نمازہ کے لیے تشریف لے گئے ۔ اس باب میں حضرت عبد الله بن حارث، مغیرہ اور ابو رافع رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الشِّوَاءِ، حدیث نمبر ١٨٢٩)
ٹیک لگا کر کھانا حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا،اس باب میں حضرت علی، عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ہم اسے صرت علی بن اقمر کی روایت سے پہچانتے ہیں ،زکریا بن ابو زائدہ ، سفیان بن سعید اور کئی حضرات نے اسے علی بن اقمر سے روایت کیا ہے ۔شعبہ نے بواسطه سفیان ثوری، علی بن اقمر سے یہ حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَكْلِ مُتَّكِئًا، حدیث نمبر ١٨٣٠)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیز اور میٹھائی اور شهد پسند تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیز اور شہد پسند تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ علی بن مسہر نے اسے ہشام بن عروہ سے روایت کیا۔ اس حدیث میں اس سے زیادہ کلام ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي حُبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحَلْوَاءَ وَالعَسَلَ، حدیث نمبر ١٨٣١)
شوربہ زیادہ رکھنا حضرت علقمہ بن عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہا اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو(پکاتے وقت) شوربہ زیادہ رکھے، اگر اسے کھانے کو گوشت نہیں ملے گا تو شوربہ تو مل جائے گا یہ بھی تو ایک قسم کا گوشت ہی ہے۔اس باب میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث غریب ہے،ہم اسے صرف اسی طریق یعنی محمد بن فضاء کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ محمد بن فضا معبر ہیں(خواب کی تعبیر بیان کرنے والے)۔سلیمان بن حرب نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے ، علقمہ ، بکر بن عبد الله مزنی کے بھائی ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي إِكْثَارِ مَاءِ المَرَقَةِ، حدیث نمبر ١٨٣٢)
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھے اور کچھ نہ ہو سکے تو اپنے (مسلمان) بھائی سے خندہ روئی سے ہی پیش آئے ۔ جب گوشت خریدو یا ہنڈیا پکاؤ تو شوربہ زیادہ رکھو اور اس سے اپنے پڑوسی کو کم از کم چلو بھر شوربے دو۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ شعبہ نے اسے ابو عمران جونی سے روایت کیا یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي إِكْثَارِ مَاءِ المَرَقَةِ، حدیث نمبر ١٨٣٣)
ثرید کی فضیلت حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں میں سے بہت سے لوگ کامل ہوئے اور عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران، آسیه زوجہ فرعون کامل ہوئیں۔ دوسری عورتوں پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کو باقی کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔ اس باب میں حضرت عائشہ اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مروی ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الثَّرِيدِ، حدیث نمبر ١٨٣٤)
گوشت دانتوں سے نوچنا حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد نے میری شادی کی اور چند لوگوں کو بلایا ان میں صفوان بن امیہ بھی تھے انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:گوشت کو دانتوں سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ یہ زیادہ خوشگوار اور زود ہضم ہے۔اس باب میں حضرت عائشہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، ہم اس حدیث کو صرف عبد الکریم کی روایت سے پہچانتے ہیں بعض اہل علم نے عبد الکریم معلم کے حفظ میں کلام کیا ہے۔ ایوب سختیانی بھی ان میں سے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ أَنَّهُ قَالَ: انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا، حدیث نمبر ١٨٣٥)
چھری سے کاٹ کر گوشت کھانے کی اجازت حضرت جعفر بن امیہ ضمری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے بکری کا شانہ چھری سے کاٹا اور پھر اس سے کھایا پھر نیا وضوء کیے بغیر نماز کے لیے تشریف لے گئے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس باب میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي قَطْعِ اللَّحْمِ بِالسِّكِّينِ، حدیث نمبر ١٨٣٦)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ گوشت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور آپ کو اس کا بازو پیش کیا گیا،آپ کو وہ پسند تھا چناں چہ آپ نے اس سے دانتوں کے ساتھ نوچ کر کھایا۔ اس باب میں حضرت مسعود، عائشہ، عبد الله بن جعفر اور ابو عبیدہ رضی الله عنهم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو حیان کا نام یحیی بن سعید بن حیان تیمی ہے۔ ابو زرعہ بن عمرو بن جریر کا نام ھرم ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَيِّ اللَّحْمِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٣٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ بازو کا گوشت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند نہ تھا بلکہ بات یہ تھی کہ آپ کے ہاں کبھی کبھار گوشت پکتا تھا تو اس کی طرف جلدی فرماتے کیونکہ وہ جلدی پک جاتا ہے۔یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَيِّ اللَّحْمِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٣٨)
سرکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سرکہ بہترین سالن ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سرکہ بہترین سالن ہے۔ اس باب میں حضرت عائشہ اور ام ہانی رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔مبارک بن سعید کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخَلِّ، حدیث نمبر ١٨٣٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سرکہ بہترین سالنوں میں سے ہے۔ عبد الله بن عبد الرحمن نے بواسطہ یحیی بن حسان سلیمان بن بلال سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ البتہ (یہ فرق ہے کہ) انہوں نے کہا بہترین سالن یا سالنوں میں سے بہترین سرکہ ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے۔ ہشام بن عروہ سے صرف سلیمان بن بلال کی روایت سے معروف ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخَلِّ، حدیث نمبر ١٨٤٠)
حضرت ام ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں البتہ روٹی کا ایک خشک ٹکڑا اور سرکہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس لاؤ جس گھر میں سرکہ ہو وہ سالن سے خالی نہیں۔یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا کی روایت سے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ام ہانی رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے کچھ دن بعد انتقال فرمایا۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا:شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں، میں نے پھر پوچھا: آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخَلِّ، حدیث نمبر ١٨٤١)
حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث مبارک بن سعید کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف، حدیث نمبر ١٨٤٣)
تربوز کو کھجور کے ساتھ کھانا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تربوز کو کھجور کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے، یہ حدیث حسن غریب ہے بعض نے اسے بواسطہ ہشام بن عروہ اور عروہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا۔ یزید بن رومان نے یہ حدیث بواسطہ عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ البِطِّيخِ بِالرُّطَبِ، حدیث نمبر ١٨٤٣)
ککڑی کو کھجور کے ساتھ ملا کر کھانا حضرت عبد الله بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ککڑی کو کھجور کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ ہم اسے صرف ابراہیم بن سعد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ القِثَّاءِ بِالرُّطَبِ، حدیث نمبر ١٨٤٤)
اونٹوں کے پیشاب کا حکم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ مدینہ طیبہ آئے تو وہاں کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیج دیا۔اور فرمایا ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔یہ حدیث صحیح ہے، ثابت کی روایت سے غریب ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے ابو قلابہ نے بلا واسطہ اور سعید بن عروبہ نے بواسطہ قتادہ،حضرت انس رضی اللہ اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي شُرْبِ أَبْوَالِ الإِبِلِ، حدیث نمبر ١٨٤٥)
کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا اور کلی کرنا۔ حضرت سلمان فرماتے ہیں میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت بعد میں ہاتھ دھونے اور کلی کرنے میں ہے میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا:کھانے کی برکت پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے میں ہے۔ اس باب میں حضرت انس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ہم اس حدیث کو صرف قیس بن ربیع کی روایت سے پہچانتے ہیں۔اور قیس حدیث میں ضعیف ہیں۔ ابو ہاشم رمانی کا نام یحیی بن دینار ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الوُضُوءِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَهُ، حدیث نمبر ١٨٤٦)
کھانے سے پہلے وضوء نہ کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے تو آپکے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم وضوء کیلئے پانی نہ لائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۔ یہ حدیث حسن ہے عمرو بن دینار نے اسے بواسطہ سعید بن حویرث ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ علی بن مدینی، یحییٰ بن سعید کا قول نقل کرتے ہیں کہ سفیان ثوری کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا پسند نہیں فرماتے تھے نیز آپ روٹیوں کو پیالے کے نیچے رکھنا بھی پسند نہ فرماتے تھے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابٌ فِي تَرْكِ الوُضُوءِ قَبْلَ الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٤٧)
کھانے پر بسم اللہ پڑھنا حضرت عکراش بن ذویب کہتے ہیں بنو مرہ بن عبید نے اپنے مالوں کی زکوٰۃ دے کر مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا میں مدینہ طیبہ پہنچا تو آپ کو مہاجرین و انصار کے درمیان بیٹھا ہوا پایا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر لے گئے۔ پوچھا کچھ کھانے کو ہے ؟ اس پر ہمارے سامنے ایک پیالہ لایا گیا جس میں بہت سارا ثرید اور گوشت کے ٹکڑے تھے ہم نے آگے بڑھ کر کھانا شروع کیا میں نے اپنا ہاتھ بے ترتیبی سے ادھر ادھر پھرنا شروع کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے سے کھایا آپ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا عکراش!ایک جگہ سے کھاؤ کیونکہ کھانا ایک ہی ہے۔پھر ایک تھال لایا گیا جس میں مختلف قسم کی خشک یا تر کھجوریں تھیں (عبد اللہ کو شک ہے) میں نے اپنے سامنے سے کھانا شروع کر دیا۔ جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پورے تھال میں چکر کاٹ رہا تھا فرمایا عکراش جہاں سے جی چاہے کھاؤ کیونکہ یہ ایک رنگ کے نہیں ہیں پھر پانی لایا گیا تو رسول کرم صلی اللہ علیہ سلم نے دست اقدس دھوئے اور ہاتھوں کی تری کو چہرہ انور ، بازوؤں اور سر پر ملا اور فرمایا عکراش !یہ اس کھانے سے وضوء ہے جسے اگ بدل دے۔یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف علاء بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں ۔ علاء اس حدیث میں متفرد ہیں اس حدیث میں ایک واقعہ ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٤٨)
کدو کھانا حضرت ابو طالوت فرماتے ہیں میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو وہ کدو کھا رہے تھے اور فرما رہے تھے اے درخت ! تیری کیا شان ہے تو مجھے کس قدر محبوب ہے اور یہ محبت صرف اس لیے ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تجھے محبوب رکھتے تھے، اس باب میں حکیم بن جابر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ۔ یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ، حدیث نمبر ١٨٤٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔میں نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کو دیکھا کہ آپ پیالے میں کدو کے ٹکڑے تلاش کر رہے تھے پس میں اس وقت سے کدو کو پسند کرتا ہوں ۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ، حدیث نمبر ١٨٥٠)
زیتون کھانا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو کیونکہ یہ مبارک درخت سے ہے۔اس حدیث کو ہم صرف عبدالرزاق کی روایت سے پہچانتے ہیں جو معمر سے راوی ہیں۔عبد الرزاق کی اس حدیث میں اضطراب ہے کبھی وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔کبھی وہ شک کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ میرا خیال ہے یہ بواسطہ عمر رضی اللہ عنہ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔کبھی بواسطه ابن اسلم اور اسلم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں۔ ابو داؤد سلیمان نے بواسطہ عبدالرزاق،معمر، زید بن اسلم اور ان کے والد اسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واسطہ مذکور نہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الزَّيْتِ، حدیث نمبر ١٨٥١)
حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو یہ مبارک درخت ہے۔ یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے ہم اسے عبد اللہ بن عیسیٰ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الزَّيْتِ، حدیث نمبر ١٨٥٢)
غلام کے ساتھ کھانا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارا خادم تمہارے کھانے کے لیے گرمی اور دھواں برداشت کرتا ہے تو چاہیے کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لو اگر انکار کرے تو ایک لقمہ لے کر اسے کھلا دو، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو خالد ، اسماعیل کے والد ہیں ان کا نام سعد ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ المَمْلُوكِ وَالعِيَالِ، حدیث نمبر ١٨٥٣)
کھانا کھانے کی فضیلت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور کھوپڑیوں پر مارو (جہاد کرو) جنت کے وارث بن جاؤ گے، اس باب میں حضرت عبد الله بن عمر ، ابن عمر ، انس ، عبد الله بن سلام، عبد الرحمن بن عائش اور شریح بن ہانی (جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں) سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ إِطْعَامِ الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٥٤)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحمان کی عبادت کرو کھانا کھلاؤ۔ اور سلام کو رواج دو۔ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ إِطْعَامِ الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٥٥)
رات کے کھانے کی فضیلت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شام کا کھانا (ضرور) کھاؤ اگرچہ مٹھی بھر کھجوریں ہی ہوں کیونکہ رات کا کھانا ترک کرنا بوڑھا کر دیتا ہے۔یہ حدیث منکر ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ عنبسہ کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے۔عبد الملک بن علاق مجہول ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ العَشَاءِ، حدیث نمبر ١٨٥٦)
کھانے پر بسم اللہ پڑھنا حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ کے سامنے کھانا رکھا ہوا تھا۔ فرمایا بیٹا قریب ہو جائے اور بسم اللہ پڑھ کر دائیں ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھاؤ،ہشام بن عروہ ، ابو وجزہ سعدی اور قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی کے واسطہ سے بھی حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ھشام بن عروہ کے اصحاب نے اس حدیث کی روایت میں اختلاف کیا ہے۔ ابو وجزه سعدی کا نام یزید بن عبید ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٥٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو بسم اللہ پڑھے۔ اگر شروع میں بھول جائے تو کہے: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ، اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چھ صحابہ کرام کے ہمراہ کھانا تناول فرمارہے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آیا۔اس نے دو لقموں میں سارا کھانا کھا لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر وہ بسم اللہ پڑھتا تو ( یہ کھانا ) تمہیں کافی ہوتا۔ یہ حدیث حسن صحیح۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ، حدیث نمبر ١٨٥٨)
چکنے ہاتھ دھوئے بغیر سونا مکروہ ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان بہت حساس ہے۔ پس اس سے اپنی جانوں کی حفاظت کرو جو آدمی اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی چیز کاٹ ڈالے تو وہ صرف اپنے نفس کو ملامت کرے، یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے ۔بواسطہ سہیل بن ابی صالح ان کے والد، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ البَيْتُوتَةِ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ، حدیث نمبر ١٨٥٩)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہاتھوں میں چکنائی لگے ہوئے سو جائے پھر اسے کوئی چیز کاٹ ڈالے تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے حدیث اعمش سے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الأطعمة، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ البَيْتُوتَةِ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ، حدیث نمبر ١٨٦٠)
Tirmizi Shareef : Abwabul At'ima
|
Tirmizi Shareef : ابواب الاطعمۃ
|
•