
شرابی کا حکم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ والی چیز شراب ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے۔جو شخص دنیا میں شراب پیے اور اس عادت میں مر جائے تو آخرت میں نہیں پئے گا۔اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، ابوسعید، عبد الله بن عمرو، عباده، ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ مالک بن انس نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسے موقوف روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،أَبْوَابُ الْأَشْرِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٦١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب پیے اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں۔اگر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے۔دوبارہ پیے تو پھر چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں پھر اگر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے اور اگر پھر پیے تو اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں اور اگر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے۔اور اگر چوتھی مرتبہ یہی حرکت کرے تو اللہ تعالٰی اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں فرماتا اور اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں فرماتا اور اس کو نہر خبال سے پلائے گا۔پوچھا گیا اے ابو عبدالرحمن نہر خبال کیا ہے تو حضرت ابن عمر رضی الله عنها نے فرمایا۔دوزخیوں کی پیپ کی ایک نہر ہے۔یہ حدیث حسن ہے حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی اس کے ہم معنی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،أَبْوَابُ الْأَشْرِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٦٢)
ہر نشہ آور چیز حرام ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کے نبیذ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا۔ پینے کی ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، حدیث نمبر ١٨٦٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت عمر، علی، ابن مسعود، ابوسعید ابو موسیٰ، اشج عصری ، دیلم، میمونہ، عائشه، ابن عباس، قیس بن سعد، نعمان بن بشیر، معاویہ ، عبد الله بن مغفل ، ام سلمہ، بریده ، ابو ہریرہ ،وائل بن حجر اور قرہ مزنی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ بواسطہ ابو سلمہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی مذکورہے۔ دونوں روایتیں صحیح ہیں متعدد افراد نے بواسطہ محمد بن عمرو ، ابو سلمہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ بواسطہ ابو سلمہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، حدیث نمبر ١٨٦٤)
جس کا زیادہ پینا نشہ لائے اسکا تھوڑا پینا بھی حرام ہے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز کا زیادہ پینا نشہ لائے اس کا تھوڑا پینا بھی حرام ہے۔ اس باب میں حضرت سعد، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابن عمر، اور خوات بن جبیر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے غریب ہے (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ، حدیث نمبر ١٨٦٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔جس سے ایک فرق (تین صاع کا پیمانہ)نشہ لائے اس سے ایک چلو بھر بھی حرام ہے۔ ایک راوی نے "الحَسْوَةُ" کا لفظ کہا۔ (مطلب ایک ہے) یہ حدیث حسن ہے۔لیث بن ابی سلیم اور ربیع بن صبیح نے ابو عثمان انصاری سے مہدی بن میمون کی روایت کی مثل نقل کی۔ ابو عثمان انصاری کا نام عمرو بن سالم ہے۔ عمر بن سالم بھی کہا گیا ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ، حدیث نمبر ١٨٦٦)
سبز گھڑے کی نبیذ حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے کی نبیذ سے منع فرمایا آپ نے فرمایا ہاں، طاؤس نے کہا اللہ کی قسم میں نے ابن عمر سے یہ سنا ہے۔ اس باب میں ابن ابی اوفی ، ابوسعید، سوید، عائشہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي نَبِيذِ الجَرِّ، حدیث نمبر ١٨٦٧)
کدو کے خول چوبی برتن اور سبز روغنی گھڑے میں نبیذ بنانے کی ممانعت۔ حضرت زاذان فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسے برتن استعمال کرنے سے منع فرمایا۔اپنی زبان میں بتائیے اور ہماری زبان میں اس کی وضاحت کیجیے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے حنتم سے منع فرمایا اور یہ سبز روغنی گھڑا ہوتا ہے۔کدو سے یعنی کدو کے خول سے منع فرمایا اور نقیر سے منع فرمایا اور یہ کھجور کی جڑ ہوتی ہے جس کو اندر سے کھودا جاتا ہے یا کھجور کی چھال سے بنایا جاتا ہے۔مزفت سے منع فرمایا اور یہ رال کا روغنی برتن ہے اور مشکیزوں میں نبیذ بنانے کا حکم فرمایا،اس باب میں حضرت عمر ، علی، ابن عباس، ابو سعید، ابوہریرہ، عبد الرحمن بن یعمر، سمره، انس،عائشہ، عمران بن حصین ، عائذ بن عمرو، حکم غفاری اور میمونہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، حدیث نمبر ١٨٦٨)
برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت حضرت سلیمان بن بریدہ (رضی اللہ عنہما) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شراب کے برتنوں سے روکا کرتا تھا۔بیشک برتن نہ تو کسی چیز کو حلال کرتا ہے اور نہ حرام اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔یہ حدیث حسن صحیح (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ أَنْ يُنْبَذَ فِي الظُّرُوفِ، حدیث نمبر ١٨٦٩)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے برتنوں سے منع فرمایا تو انصار نے شکایت کی کہ ہمارے پاس اور برتن نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اب کوئی حرج نہیں۔اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود، ابو ہریرہ، ابو سعید اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ أَنْ يُنْبَذَ فِي الظُّرُوفِ، حدیث نمبر ١٨٧٠)
مشکیزے میں نبیذ بنانا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ بنایا کرتے تھے۔اس کا وہ حصہ دھاگے سے باندھ دیا جاتا جہاں سے پانی لینے کے لیے سوراخ ہوتا ہے۔ہم صبح کے وقت نبیذ بناتے اور آپ شام کو نوش فرماتے،شام کو نبیذ بناتے اور آپ بوقت صبح نوش فرماتے۔ اس باب میں حضرت جابر، ابوسعید اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔یونس بن عبید کی روایت سے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث دوسرے طرق سے بھی مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الِانْتِبَاذِ فِي السِّقَاءِ، حدیث نمبر ١٨٧١)
جن غلوں سے شراب بنائی جاتی ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بے شک گندم سے شراب ہے۔جو سے شراب ہے، کھجور سے شراب ہے۔انگور سے شراب ہے۔ اور شہد سے شراب ہے۔اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الخَمْرُ، حدیث نمبر ١٨٧٢)
حضرت ابن حضرت عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں گندم سے شراب ہے۔آگے یہی حدیث مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الخَمْرُ، حدیث نمبر ١٨٧٣)
احمد بن منبع نے بواسطہ عبداللہ بن ادریس ابو حیان تیمی،شعبی اور ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ گندم سے شراب ہے۔یہ ابراہیم بن مہاجر کی روایت سے اصح ہے۔علی بن مدینی کہتے ہیں۔یحیی بن سعید نے کہا کہ ابراہیم بن مہاجر قوی نہیں تھے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الخَمْرُ،حدیث نمبر ١٨٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے ہے۔یعنی کھجور اور انگور سے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو کثیر سحیمی،وہ غبری ہیں۔ان کا نام یزید بن عبد الرحمن بن غفیلہ ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الخَمْرُ، حدیث نمبر ١٨٧٥)
کچی پکی کھجور ملانا حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلِيطِ البُسْرِ وَالتَّمْرِ، حدیث نمبر ١٨٧٦)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں ملانے نیز کچی انگور اور کھجور ملانے سے منع فرمایا نیز سبز روغنی گھڑے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔اس باب میں حضرت انس ، جابر، ابو قتاده، ابن عباس، ام سلمہ اور معبد بن کعب ( بواسطہ والدہ ) رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلِيطِ البُسْرِ وَالتَّمْرِ، حدیث نمبر ١٨٧٧)
سونے اور چاندی کے برتنوں میں پانی پینا حضرت ابن ابی لیلی سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ نے پانی مانگا تو ایک آدمی چاندی کے برتن میں پانی لایا آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا میں نے اس کو منع کیا تھا لیکن اس نے نہ مانا (حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتن میں پینے اور حریر و دیباج( ریشمی کپڑے) پہننے سے منع فرمایا اور فرمایا یہ ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں،اس باب میں حضرت ام سلمہ ، براء اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، حدیث نمبر ١٨٧٨)
کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ پوچھا گیا کھانے کا کیا حکم ہے؟ تو فرمایا یہ تو اس سے زیادہ سخت ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا، حدیث نمبر ١٨٧٩)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چلتے ہوئے کھاتے تھے اور کھڑے ہو کر پیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث «عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر» کی سند سے صحیح غریب ہے، ۲- عمران بن حدیر نے اس حدیث کو ابوالبزری کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، ۳- ابوالبزری کا نام یزید بن عطارد ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا، حدیث نمبر ١٨٨٠)
حضرت جارود بن معلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔اس باب میں حضرت ابوسعید، ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے اسی طرح کئی حضرات نے یہ حدیث بواسطہ سعید، قتادہ، ابو مسلم اور جارود،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔بواسطہ قتاده، یزید بن عبد الله بن شخیرہ، ابو مسلم اور جاردو ، نبی کریم صلی الله سے روایت کی ۔ بواسطه قتاده، یزید بن عبد الله بن شخیرہ ، ابو مسلم اور جاردور ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے۔ جارود بن معلی کو ابن العلاد کہا جاتا ہے۔ ابن معلی صحیح نام ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا حدیث نمبر ١٨٨١)
کھڑے ہو کر پینے کی اجازت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آب زمزم کھڑے ہو کر نوش فرمایا۔ اس باب میں حضرت علی ، سعد، عبد الله بن عمرو اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الشُّرْبِ قَائِمًا، حدیث نمبر ١٨٨٢)
حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد، دادا سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر (دونوں طرح) پیتے دیکھا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الشُّرْبِ قَائِمًا، حدیث نمبر ١٨٨٣)
برتن میں سانس لینا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانی نوش فرماتے وقت تین سانس لیتے اور فرماتے کہ یہ زیادہ خوشگوار اور سیراب کرنے والا ہے۔ یہ حدیث حسن ہے۔ھشام، دستوائی بواسطہ ابو عصام، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ عزرہ بن ثابت بواسطه ثمامہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے پانی پینے میں تین سانس لیا کرتے تھے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ، حدیث نمبر ١٨٨٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ اونٹ کی طرح ایک ہی سائنس سے نہ پیو۔ بلکہ دو یا تین مرتبہ سانس لے کر پیو،پانی پیتے وقت بسم اللہ پڑھو اور فراغت پر . الحمد للہ کہو۔یہ حدیث غریب ہے۔ یزید بن سنان جزری، ابو فروہ رہاوی ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ، حدیث نمبر ١٨٨٥)
دو بار سانس لیکر پینا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانی پیتے وقت دو مرتبہ سانس لیا کرتے تھے یہ حدیث غریب ہے۔ہم اسے صرف رشدین بن کریب کی روایت سے پہچانتے ہیں۔امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے عبد الله بن عبدالرحمن سے پوچھا کہ رشدین بن کریب زیادہ قوی ہیں یا محمد بن کریب؟ انہوں نے فرمایا کس بات نے انہیں قریب کیا۔میرے نزدیک رشید بن کریب ارجح ہیں میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا۔محمد بن کریب رشیدین بن کریب کی بنسبت ارجح ہیں۔ میری امام ترمذی کی رائے ابو محمد عبدالله بن عبد الرحمن کی رائے کے مطابق ہے کہ رشدین بن کریب ارجح اور اکبر ہیں۔انہوں نے حضرت ابن عباس رضی للہ عنہما کو پایا اور انکی زیارت کی۔یہ دونوں بھائی ہیں اور دونوں کے پاس منکر روایات ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا ذُكِرَ مِنَ الشُّرْبِ بِنَفَسَيْنِ، حدیث نمبر ١٨٨٦)
پانی میں پھونکنا منع ہے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں پھونکنے سے منع فرمایا ایک آدمی نے عرض کیا اگر برتن میں تنکا وغیرہ دیکھوں فرمایا اسے گرا دو۔ اس نے کہا میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا فرمایا پیالہ اپنے منہ سے دور کر دو اور سانس لے کر پھر پیو، یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ، حدیث نمبر ١٨٨٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ، حدیث نمبر ١٨٨٨)
برتن میں سانس لینا مکروہ ہے حضرت عبد الله بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص پانی پیتے وقت برتن میں سانس نہ لے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ، حدیث نمبر ١٨٨٩)
مشکیزہ (وغیرہ) اوندھا کر کے پانی پینا منع ہے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مشکیزہ (وغیرہ) ٹیڑھا کر کے منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا گیا ہے، اس باب میں حضرت جابر، ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ، حدیث نمبر ١٨٩٠)
مندرجہ بالا مسئلہ میں اجازت حضرت عیسی بن عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس کھڑے ہوئے اور اسے ٹیڑھا کر کے منہ لگا کر پانی نوش فرمایا۔اس باب میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے۔ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ عبد اللہ بن عمر (راوی) کو حفظ کے اعتبار سے ضعیف کہا گیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ انہیں عیسیٰ سے سماع حاصل ہے یا نہیں ؟ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ، حدیث نمبر ١٨٩١)
حضرت عبد الرحمن بن ابو عمرہ اپنی دادی کبشہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو آپ نے ایک لٹکے ہوئے مشکیزہ سے منہ لگا کر کھڑے کھڑے پانی نوش فرمایا ۔ (اس کے بعد) میں نے اٹھ کر مشکیزہ کا وہ حصہ (تبرکا رکھنے کے لیے) کاٹ لیا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ یزید بن یزید عبد الرحمن بن یزید بن جابر کے بھائی ہیں اور ان سے پہلے فوت ہوئے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ، حدیث نمبر ١٨٩٢)
پینے میں دائیں طرف والے زیادہ حقدار ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ لایا گیا۔ جس میں پانی ملایا گیا تھا آپ کی داہنی جانب ایک اعرابی تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے نوش فرما کر (پہلے) اعرابی کو دیا اور فرمایا دایاں پھر دایاں ( زیادہ مستحق ہیں) اس باب میں حضرت ابن عباس ، سہل بن سعد، ابن عمر، اور عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الْأَيْمَنِينَ أَحَقُّ بِالشُّرْبِ، حدیث نمبر ١٨٩٣)
پلانے والا آخر میں پئے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیے۔ اس باب میں حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ سَاقِيَ القَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا، حدیث نمبر ١٨٩٤)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب پانی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام پانیوں میں میٹھا اور ٹھنڈا پانی زیادہ پسند تھا۔کئی افراد نے ابن عیینہ سے اسی طرح یعنی بواسطہ معمر، زہری اور عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا لیکن صحیح وہ ہے جو زہری نے مرسلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) سے روایت کیا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واسطہ مذکور نہیں) (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَيُّ الشَّرَابِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٩٥)
حضرت زہری سے روایت ہے۔بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسا پانی بہتر ہے؟ فرمایا میٹھا اور ٹھنڈا۔عبد الرزاق نے بواسطہ معمر اور زہری ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مرسل روایت کیا ہے ابن عیینہ کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَيُّ الشَّرَابِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٩٦)
Tirmizi Shareef : Abwabul Ashribati
|
Tirmizi Shareef : ابواب الاشربۃ
|
•