asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Birri Wassilati

From 1897 to 2035

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

نیکی اور صلہ رحمی کے ابواب ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا حضرت بهز بن حکیم بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں کس کے ساتھ اچھا سلوک کروں ؟ فرمایا اپنی ماں سے، پوچھا پھر کس سے؟ فرمایا اپنی ماں سے، پوچھا پھر کس سے؟ فرمایا اپنی ماں سے۔ پوچھا پھر کس سے؟ فرمایا اپنے باپ سے، پھر حسب مراتب قریبی رشتہ داروں سے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ، عبدالله بن عمرو، عائشہ اور ابو دردا رضی الله عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔بہز بن حکیم ، معاویہ بن حیدہ قشیری کے بیٹے ہیں ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ شعبہ نے بہز بن حکیم کے بارے میں کلام کیا ہے ۔ اور محدثین کے نزدیک یہ ثقہ ہیں۔ ان سے معمر، سفیان ثوری، حماد بن سلمہ اور کئی دوسرے ائمہ راوی ہیں۔ (ترمذی شریف،أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرِّ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٨٩٧)

باب مَا جَاءَ فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: " أُمَّكَ "، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " أُمَّكَ "، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " أُمَّكَ "، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ، فَالْأَقْرَبَ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَبَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ هُوَ أَبْنُ مُعَاوِيَةَ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَرَوَى عَنْهُ مَعْمَرٌ، وَالثَّوْرِيُّ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1897

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!افضل اعمال کونسے ہیں؟فرمایا وقت پر نمانہ ادا کرنا۔میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر کونسا ہے ؟ فرمایا ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بعد کونسے اعمال ہیں ؟ فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ بھی جواب دیتے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ شیبانی، شعبہ اور کئی دوسرے حضرات نے اسے ولید بن عیراز سے روایت کیا ہے۔ بواسطہ ابو عمرو ، شیبانی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ ابو عمرو شیبانی کا نام سعد بن ایاس ہے۔ (ترمذی شریف، أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرِّ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٨٩٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنِ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الصَّلَاةُ لِمِيقَاتِهَا "، قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ "، قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، رَوَاهُ الشَّيْبَانِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وأَبُو عَمْروٍ الشَّيْبَانِيَّ اسْمُهُ سَعْدُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1898

حضرت عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ کی رضا باپ کی رضا مندی میں ہے۔اور اللہ تعالے کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطہ محمد بن جعفر، شعبہ، یعلی بن عطاء اور عطاء حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس کے ہم معنی حدیث غیر مرفوع(موقوف) روایت کی۔ اصحاب شعبہ نے بھی اسی طرح بواسطہ شعبہ یعلی بن عطاء اور عطاء ، حضرت عبد اللہ عمرو رضی اللہ عنہما سے موقوفا روایت کیا، خالد بن حارث کے علاوہ شعبہ سے کسی اور نے مرفوع روایت نہیں کیا۔خالد بن حارث ثقہ ہیں ۔ قابل اعتماد ہیں۔ میں(امام ترمذی) نے محمد بن مثنیٰ سے سنا فرماتے ہیں میں نے بصرہ میں خالد بن حارث جیسا اور کوفہ میں عبداللہ بن ادریس جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ (ترمذی شریف، بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الفَضْلِ فِي رِضَا الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٨٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رِضَا الرَّبِّ فِي رِضَا الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ"، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو نَحْوَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَهَذَا أَصَحُّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا رَوَى أَصْحَابُ شُعْبَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ثقة مأمون، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ بِالْبَصْرَةِ مِثْلَ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، وَلَا بِالْكُوفَةِ مِثْلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1899

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور عرض کیا۔ میری ایک بیوی ہے اور میری ماں مجھے اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے اب تیری مرضی اسے ضائع کرے یا محفوظ رکھے۔ سفیان نے (راوی)، کبھی والد کا لفظ کہا اور کبھی والدہ کا یہ حدیث صحیح ہے۔ ابو عبد الرحمن سلمی کا نام عبدالله بن حبیب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الفَضْلِ فِي رِضَا الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٠٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنّ لِيَ امْرَأَةً، وَإِنَّ أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ "، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّ أُمِّي، وَرُبَّمَا قَالَ أَبِي، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1900

ماں باپ کی نافرمانی۔ حضرت عبد الرحمن بن ابو بکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں کبیرہ گناہوں سے بھی بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہاں کیوں نہیں یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! فرمایا اللہ تعالی کے ساتھ کس کو شریک ٹھہرانا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا راوی فرماتے ہیں آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ کر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا نیز جھوٹی گواہی( یا فرمایا) جھوٹی بات آپ مسلسل فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ سکوت فرماتے۔ اس باب میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو بکرہ کا نام نفیع ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي عُقُوقِ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٠١)

باب مَا جَاءَ فِي عُقُوقِ الْوَالِدَيْنِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ "، قَالَ: وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: " وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَوْ قَوْلُ الزُّورِ "، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو بَكْرَةَ اسْمُهُ نُفَيْعُ بْنُ الْحَارِثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1901

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں یہ کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي عُقُوقِ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٠٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتُمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَشْتُمُ أَبَاهُ وَيَشْتُمُ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1902

باپ کے دوستوں کی عزت کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ نے فرمایا۔ بہترین نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں سے اچھا سلوک کرے، اس باب میں حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي إِكْرَامِ صَدِيقِ الوَالِدِ،حدیث نمبر ١٩٠٣)

باب مَا جَاءَ فِي إِكْرَامِ صَدِيقِ الْوَالِدِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَسِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1903

خالہ کے ساتھ نیکی کرنا۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خالہ ماں کے قائم مقام ہے۔اس حدیث میں طویل واقعہ ہے یہ حدیث صحیح ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ایک شخص بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا کیا میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے۔ آپ نے فرمایا تمہاری ماں ہے؟ عرض کیا وہ نہیں، فرمایا تمہاری خالہ ہے؟ عرض کیا جی ہاں ، آپ نے فرمایا اس سے اچھا سلوک کرو، اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان بن عیینہ ، محمد بن سوقہ اور حفص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کا واسطہ مذکور نہیں۔ ابو معاویہ کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ ابو بکر بن حفص عمر بن سعد بن ابی وقاص کے صاحبزادے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرِّ الخَالَةِ،حدیث نمبر ١٩٠٤)

باب مَا جَاءَ فِي بِرِّ الْخَالَةِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ. ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ وَهُوَ ابْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ"، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِيمًا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٌ؟ قَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَبِرَّهَا"، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ. حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ هُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1904

ماں باپ کی دعا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دعائیں بلا شک و شبہ قبول ہوتی ہیں مظلوم کی دعا ،مسافر کی دعا اور بیٹے کے خلاف باپ کی بددعا،حجاج صواف نے یہ حدیث یحییٰ بن کثیر سے ھشام کے روایت کے ہم معنی بیان کی۔ ابو جعفر جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں۔ انہیں ابو جعفر موذن کہا جاتا ہے۔ ہمیں ان کا نام معلوم نہیں ۔ یحیی بن ابی کثیر نے ان سے اس کے علاوہ بھی حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٠٥)

باب مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ الْوَالِدَيْنِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ"، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ وَأَبُو جَعْفَرٍ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يُقَالُ لَهُ: أَبُو جَعْفَرٍ الْمُؤَذِّنُ، وَلَا نَعْرِفُ اسْمَهُ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ غَيْرَ حَدِيثٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1905

حقوق والدین حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیٹا اپنے والد کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ مگر یہ کہ اسے غلام پائے تو خرید کر آزاد کر دے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے صرف سھیل بن ابی صالح کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ سفیان اور کئی دوسرے حضرات نے یہ حدیث سھیل سے روایت کی۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٠٦)

باب مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْوَالِدَيْنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدًا إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ"، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1906

قطع رحمی حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کو آئے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے علم کے مطابق ابو محمد عبدالرحمن سب سے اچھے اور سب سے زیادہ صلہ رحم ہیں۔ حضرت عبد الرحمن نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے۔میں رحمن ہوں میں نے رحمت کو پیدا کیا اور اس کا نام اپنے نام سے مشق کیا۔ پس جو اسے ملائے گا میں اسے ملائے رکھوں گا اور جو اس کو قطع کرے گا اس سے قطع تعلق کروں گا۔اس باب میں حضرت ابو سعید، ابن ابی اوفی، عامر بن ربیعہ، ابوہریرہ اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں ۔حدیث سفیان زہری سے صحیح ہے۔ معمر نے بھی یہ حدیث بواسطہ زہری، ابو سلمہ اور رداد الیثی، عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے نقل کی ۔معمر اسی طرح کہتے ہیں۔ امام بخاری فرماتے ہیں حدیث معمر میں غلطی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ،حدیث نمبر ١٩٠٧)

باب مَا جَاءَ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: اشْتَكَى أَبُو الرَّدَّادِ اللَّيْثِيُّ، فَعَادَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ: خَيْرُهُمْ وَأَوْصَلُهُمْ مَا عَلِمْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ:" أَنَا اللَّهُ، وَأَنَا الرَّحْمَنُ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ، وَشَقَقْتُ لَهَا مِنَ اسْمِي، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ"، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ رَدَّادٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَمَعْمَرٍ كَذَا يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدٌ، وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ خَطَأٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1907

صلہ رحمی۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدلہ دینے والا صلہ رحم نہیں بلکہ صلہ رحم وہ ہے کہ جب قطع رحمی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت سلمان اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ،حدیث نمبر ١٩٠٨)

باب مَا جَاءَ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا بَشِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيل، وَفِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا"، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلْمَانَ، وَعَائِشَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1908

حضرت محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قاطع رحم جنت میں داخل نہیں ہوگا۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ،حدیث نمبر ١٩٠٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ"، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1909

اولاد کی محبت حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح باہر تشریف لے آئے کہ آپ اپنے نواسوں میں سے ایک کو گود میں لیے ہوئے تھے۔ اور فرمارہے تھے بے شک تمہارا کام بخیل، بزدل اور جاہل بنانا ہے۔ اور بلاشبہ تم اللہ تعالیٰ کے پھولوں میں سے ہو۔اس باب میں حضرت ابن عمر اور اشعت بن قیس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ ابراہیم بن میسرہ سے ابن عیینہ کی حدیث ہم صرف ان ہی سے پہچانتے ہیں۔خولہ سے عمر بن عبد العزیز کا سماع ہم نہیں جانتے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي حُبِّ الوَلَدِ،حدیث نمبر ١٩١٠)

باب مَا جَاءَ فِي حُبِّ الْوَلَدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي سُوَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: زَعَمَتِ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مُحْتَضِنٌ أَحَدَ ابْنَيِ ابْنَتِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" إِنَّكُمْ لَتُبَخِّلُونَ، وَتُجَبِّنُونَ، وَتُجَهِّلُونَ، وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ"، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَلَا نَعْرِفُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَمَاعًا مِنْ خَوْلَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1910

اولاد پر شفقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو چوم رہے تھے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں۔حضرت حسن یا حسین کا بوسہ لے رہے تھے۔ تو انہوں نے عرض کیا میرے دس بیٹے ہیں۔میں نے ان میں سے کسی کو بھی نہیں چوما رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ اس باب میں حضرت انس ، عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ ابوسلمہ بن عبد الرحمن کا نام عبدالله بن عبد الرحمن ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الوَلَدِ،حدیث نمبر ١٩١١)

باب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْوَلَدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَبْصَرَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: الْحُسَيْنَ أَوْ الْحَسَنَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي مِنَ الْوَلَدِ عَشَرَةً، مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ"، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1911

لڑکیوں پر خرچ کرنا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں وہ ان سے اچھا سلوک کرے اور ان کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، عقبہ بن عامر، انس ، جابر ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے سعد بن ابی وقاص، مالک بن وہیب ہیں۔لوگوں نے اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کیا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى البَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ،حدیث نمبر ١٩١٢)

باب مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى الْبَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَكُونُ لِأَحَدِكُمْ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ هُوَ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ وُهَيْبٍ، وَقَدْ زَادُوا فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1912

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی بیٹیوں کے ساتھ آزمایا گیا پھر اس نے ان پر صبر کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ ہوں گی یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى البَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ،حدیث نمبر ١٩١٣)

حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنَ الْبَنَاتِ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1913

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بچیوں کی پرورش کی میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح داخل ہوں گے آپ نے اپنی دوانگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ محمد بن عبید نے محمد بن عبد العزیز سے اس سند کے ساتھ اس کے علاوہ بھی حدیث روایت کی اور کہا ابو بکر بن عبید اللہ بن انس جب کہ صحیح عبید اللہ بن ابو بکر بن انس ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى البَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ،حدیث نمبر ١٩١٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ هُوَ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ دَخَلْتُ أَنَا وَهُوَ الْجَنَّةَ كَهَاتَيْنِ " وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَيْرَ حَدِيثٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، وَالصَّحِيحُ: هُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1914

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک عورت جس کے ساتھ اس کی دو بچیاں تھیں۔ میرے پاس آئی اور کچھ مانگا میرے پاس صرف ایک کھجور تھی میں نے وہ اسے دے دی اس نے وہ کھجور دونوں بچیوں میں تقسیم کردی اور خود کچھ نہ کھایا پھر اٹھ کر چلی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے واقعہ عرض کیا ۔ آپ نے فرمایا جو شخص ان لڑکیوں کے ساتھ آزمایا جائے قیامت کے دن اس کے لیے جہنم سے حجاب بن جائیں گی۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى البَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ،حدیث نمبر ١٩١٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ ".

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1915

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں، یا تین بہنیں، یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں،اور وہ ان کے ساتھ نیکی کرے اور ان کے بارے میں خدا سے ڈرے تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى البَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ،حدیث نمبر ١٩١٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْأَعْشَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ، أَوِ ابْنَتَانِ، أَوْ أُخْتَانِ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ، وَاتَّقَى اللَّهَ فِيهِنَّ فَلَهُ الْجَنَّةُ ".

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1916

یتیم پر رحم کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان یتیم کے کھانے پینے کی کفالت کرے اللہ تعالیٰ ضرور اسے جنت میں داخل کرے گا مگر یہ کہ وہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی بخشش نہ ہو۔ اس باب میں حضرت مرہ فہری، ابوہریرہ، ابو امامہ، اور سھل بن سعد رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ حنش سے حسین بن قیس مراد ہیں۔یہ ابو علی رحبی ہیں۔ سلیمان تیمی ،حنش کہتے ہیں اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ اليَتِيمِ وَكَفَالَتِهِ،حدیث نمبر ١٩١٧)

باب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْيَتِيمِ وَكَفَالَتِهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَبَضَ يَتِيمًا بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ الْبَتَّةَ إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ لَهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ مُرَّةَ الْفِهْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَنَشٌ هُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ، وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، يَقُولُ: حَنَشٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1917

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والے جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب ہوں گے۔ آپ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ اليَتِيمِ وَكَفَالَتِهِ،حدیث نمبر ١٩١٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو الْقَاسِمِ الْمَكِّيُّ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ، يَعْنِي: السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1918

بچوں پر رحم کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ایک بوڑھا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے آیا۔ لوگوں نے اسے جگہ دینے میں دیر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور بڑوں کی عزت نہ کی۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عمرو ، ابو ہریرہ، ابن عباس، اور ابو امامہ رضی رضی اللہ عنہم سے بھی سے بھی روایات ہیں۔یہ حدیث غریب ہے۔ زربی حضرت انس بن مالک وغیرہ سے سن کر احادیث نقل کرتا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصِّبْيَانِ،حدیث نمبر ١٩١٩)

باب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصِّبْيَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ زَرْبِيٍّ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: جَاءَ شَيْخٌ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبْطَأَ الْقَوْمُ عَنْهُ أَنْ يُوَسِّعُوا لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَزَرْبِيٌّ لَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1919

حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ پہنچانے. (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصِّبْيَانِ،حدیث نمبر ١٩٢٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيرِنَا ".

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1920

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے نہ روکے ۔ یہ حدیث غریب ہے۔ محمد بن اسحاق کی عمرو بن شعیب سے روایت حسن صحیح ہے۔ عبد اللہ بن عمرو سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کہ وہ ہم میں سے نہیں کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری سنت اور طریقے پر نہیں ۔ علی بن مدینی یحیی بن سعید سے نقل کرتے ہیں کہ سفیان ثوری اس تفسیر کا انکار کرتے تھے۔سو ہم میں سے نہیں یعنی ہماری ملت سے نہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصِّبْيَانِ،حدیث نمبر ١٩٢١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا، وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا، يَقُولُ: لَيْسَ مِنْ سُنَّتِنَا، لَيْسَ مِنْ أَدَبِنَا، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يُنْكِرُ هَذَا التَّفْسِيرَ: لَيْسَ مِنَّا، يَقُولُ: لَيْسَ مِلَّتِنَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1921

لوگوں پر رحم کرنا حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں فرماتا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔اس باب میں حضرت عبد الرحمن بن عوف، ابو سعید ،ابن عمر ،ابوہریرہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْمُسْلِمِينَ،حدیث نمبر ١٩٢٢)

باب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ النَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يَرْحَمُهُ اللَّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1922

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے ابو القاسم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کو فرماتے ہوئے سنا رحمت بد بخت ہی  کے دل سے نکالی جاتی ہے۔یہ حدیث حسن ہے۔ابو عثمان جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ہمیں ان کا نام معلوم نہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ یہ موسیٰ بن ابو عثمان کے والد ہیں، جن سے ابو الزناد راوی ہیں۔ ابو زناد نے بواسطہ موسیٰ بن ابو عثمان ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے علاوہ بھی حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْمُسْلِمِينَ،حدیث نمبر ١٩٢٣)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ مَنْصُورٌ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ "، قَالَ: وَأَبُو عُثْمَانَ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يُعْرَفُ اسْمُهُ، وَيُقَالُ: هُوَ وَالِدُ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ أَبُو الزِّنَادِ، وَقَدْ رَوَى أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ حَدِيثٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1923

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا اللہ تعالی تم پر رحمت فرمائے گار رحم، رحمن کی جڑ رگ سے ہے۔(رحمن سے مشتق ہے)جو اس کو ملائے گا اللہ تعالیٰ کا وصل پائے گا۔ اور جو اسے قطع کرے گا اللہ تعالیٰ سے اسکا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْمُسْلِمِينَ،حدیث نمبر ١٩٢٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي قَابُوسَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ، الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1924

خیر خواہی حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر نماز قائم کرنے زکوۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کی بیعت کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّصِيحَةِ،حدیث نمبر ١٩٢٥)

باب مَا جَاءَ فِي النَّصِيحَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ "، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1925

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دین، خیر خواہی ( کا نام) ہے۔ تین مرتبہ فرمایا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم!کس کی خیر خواہی ؟ آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب، ائمہ اسلام اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی۔ یہ حدیث حسن ہے،اس باب میں حضرت ابن عمر، تمیم داری،جریر،حکیم بن ابو یزید. بواسطہ والد ثوبان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّصِيحَةِ،حدیث نمبر ١٩٢٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدِّينُ النَّصِيحَةُ " ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَنْ؟ قَالَ: " لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَتَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَجَرِيرٍ، وَحَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، وَثَوْبَانَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1926

مسلمان کی مسلمان پر شفقت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس کی خیانت کرتا ہے نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے ہر مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے ( دل کی طرف اشارہ فرمایا) کسی انسان کے لیے اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي شَفَقَةِ المُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٢٧)

باب مَا جَاءَ فِي شَفَقَةِ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَخُونُهُ وَلَا يَكْذِبُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَدَمُهُ، التَّقْوَى هَا هُنَا، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْتَقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي أَيُّوبَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1927

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن دوسرے مومن کے لیے دیوار کی طرح ہے کہ ایک حصہ دوسرے کی تقویت کا باعث ہے۔یہ حدیث صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت علی اور ابوایوب رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي شَفَقَةِ المُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٢٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرَ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1928

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک اپنے دوسرے مسلمان بھائی کا آئینہ ہے۔اگر اس میں کوئی برائی دیکھے تو اسے مٹا دے، یحییٰ بن عبید اللہ کو شعبہ نے ضعیف کہا ہے۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي شَفَقَةِ المُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٢٩)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ أَخِيهِ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1929

مسلمان کی پردہ پوشی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی کسی مسلمان سے کوئی دنیوی سختی دور کرے اللہ تعالٰی اس سے قیامت کی سختیوں میں سے کوئی سختی دور فرمائے گا۔ اور جب آدمی دنیا میں کسی تنگدست کو آسانی پہنچائے ۔ اللہ تعالٰی اسے دنیا و آخرت میں خوش حال فرمائے گا اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کرے۔ اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے (مسلمان) بھائی کی مدد میں رہے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے ابو عوانہ اور کئی دوسرے حضرات نے اسے بواسطہ اعمش اور ابو صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت نقل کیا ۔ حدیث عن ابی صالح " ( مجہول الفاظ)کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّتْرِ عَلَى المُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٣٠)

باب مَا جَاءَ فِي السَّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حُدِّثْتُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ فِي الدُّنْيَا يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى أَبُو عَوَانَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1930

مسلمان سے مصیبت دور کرنا حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جو شخص اپنے بھائی کی عزت کو تنگی سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو آگ سے بچائے گا۔ اس باب میں حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الذَّبِّ عَنْ عِرْضِ المُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٣١)

باب مَا جَاءَ فِي الذَّبِّ عَنْ عِرْضِ الْمُسْلِمِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ مَرْزُوقٍ أَبِي بَكْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ، رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1931

ترک تعلقات کی ممانعت حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دے ( ناراض رہے) کہ دونوں کی ملاقات ہو تو یہ ادھر منہ پھیرے اور وہ ادھر منہ پھیر ہے۔ ان میں سے بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود، انس، ابوہریرہ ، ھشام بن عامر اور ابو ہند داری رضی اللہ عنہم سے بھی یہ روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الهَجْرِ لِلْمُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٣٢)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْهَجْرِ لِلْمُسْلِمِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ. ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1932

مسلمان بھائی کی غم خواری حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی الله عنہ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔حضرت سعد نے فرمایا آؤ میں اپنا مال تقسیم کر کے آدھا تمہیں دے دوں۔اور میری دو بیویاں ہیں میں ایک کو طلاق دیتا ہوں۔جب اس کی عدت پوری ہو جائے تو تم اس سے شادی کر لینا ۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد اور مال میں برکت فرمائے۔ مجھے بازار کا راستہ بتاؤ انہوں نے بازار کا راستہ بتا دیا وہ بازار سے اس دن اس حالت میں واپس آئے کہ ان کے پاس پنیر اور گھی تھا جسے وہ پہلے سے زیادہ لائے تھے اس کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا کہ ان پر زردی کے نشان ہیں فرمایا کیا بات ہے؟ عرض کیا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا مہر مقرر کیا ہے عرض کیا ایک گٹھلی بھر سونا، حمید کہتے ہیں یا عرض کیا گٹھلی کے ہم وزن سونا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری کے ساتھ ہی ہو۔یہ حدیث حسن صحیح ہے امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں گھٹلی بھر سونا سوا تین درہم کے برابر ہوتا ہے۔اسحاق فرماتے ہیں پانچ درہم ہوتا ہے۔ مجھے امام ترمذی کو احمد بن حنبل اور اسحاق رحمہما اللہ سے اسحاق بن منصور نے اس بات کی خبر دی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مُوَاسَاةِ الأَخَ،حدیث نمبر ١٩٣٣)

باب مَا جَاءَ فِي مُوَاسَاةِ الأَخِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ، آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ لَهُ: هَلُمَّ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ، وَلِيَ امْرَأَتَانِ، فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ عَلَى السُّوقِ فَمَا رَجَعَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَهُ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: " مَهْيَمْ "، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: " فَمَا أَصْدَقْتَهَا؟ " قَالَ: نَوَاةً، قَالَ حُمَيْدٌ: أَوْ قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ؟ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَثُلُثٍ، وَقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ، سَمِعْتُ إِسْحَاق بْنَ مَنْصُورٍ يَذْكُرُ عَنْهُمَا هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1933

غیبت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! غیبت کیا چیز ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کرے جس کو وہ ناپسند کرتا ہے۔ پوچھا بتائیے! اگر وہ بات اس میں پائی جاتی ہو تو پھر بھی غیبت ہے؟فرمایا اگر وہ بات اس میں ہے جو تو کہ رہا ہے تو یہ غیب ہے۔ اور اگر اس میں نہیں تو تو نے بہتان باندھنا۔اس باب میں حضرت ابو برزہ، ابن عمر اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الغِيبَةِ،حدیث نمبر ١٩٣٤)

باب مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْغِيبَةُ؟ قَالَ: " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ "، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ؟ قَالَ: " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1934

حسد حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا نہ قطع تعلق کرو نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھرو نہ ایک دوسرے سے بغض و عداوت رکھو اور نہ آپس میں حسد کرو۔ اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے رہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت ابوبکر صدیق ، زبیر بن عوام، ابن عمر، ابن مسعود رضی اللہ عنہم اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَسَدِ ،حدیث نمبر ١٩٣٥)

باب مَا جَاءَ فِي الْحَسَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ،وابن عمر.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1935

حضرت سالم اپنے والد (رضی اللہ عنہما)سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشک صرف دو آدمیوں پر جائز ہے۔ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا وہ رات اور دن اس میں سے راہ خدا وندی میں خرچ کرتا ہے۔ دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالی نے قرآن کا علم دیا وہ اس کے ساتھ رات اور دن نمازوں میں قیام کرتا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت عبد الله بن مسعود اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی اس کے ہم معنی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَسَدِ ،حدیث نمبر ١٩٣٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1936

باہمی دشمنی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے۔ کہ نمازی اس کی پوجا کریں لیکن وہ انہیں لڑنے پر اکساتا ہے۔ اس باب میں حضرت انس اور سلیمان بن عمرو بن احوص(بواسطہ والد ) رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ابوسفیان کا نام طلحہ بن نافع ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّبَاغُضِ ،حدیث نمبر ١٩٣٧)

باب مَا جَاءَ فِي التَّبَاغُضِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1937

حضرت حمید بن عبد الرحمن اپنی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں ۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا لوگوں کے درمیان صلح کرانے والا شخص جھوٹا نہیں۔وہ اچھی بات کہے یا دوسرے تک پہنچائے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ البَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٣٨)

باب مَا جَاءَ فِي إِصْلاَحِ ذَاتِ الْبَيْنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1938

باہم صلح کرانا حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ تین باتوں کے سوا جھوٹ بولنا جائز نہیں۔ خاوند اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے کوئی بات کہے ۔ لڑائی کے موقعہ پر جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا، محمود نے اپنی روایت میں" لَا يَحِلُّ الكَذِبِ" کی جگہ" «لَا يَصْلُحُ الكَذِبُ" کہا یہ حدیث حسن ہے ۔ اسماء کی حدیث سے ہم اسے صرف ابن خثیم کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ داؤد بن ابی ہند نے یہ حدیث شهر بن حوشب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ حضرت اسماء کا واسطہ مذکور نہیں ہمیں ابو کریب نے بواسطہ ابن ابی زائدہ ، داؤد بن ابی ہند سے اس کی خبر دی۔اس باب میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ البَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٣٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو أَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: يُحَدِّثُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا، وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ، وَالْكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ "، وَقَالَ مَحْمُودٌ فِي حَدِيثِهِ: لَا يَصْلُحُ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ خُثَيْمٍ، وَرَوَى دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ،حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1939

خیانت اور دھوکہ حضرت ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی کو ضرر پہنچائے اللہ تعالی اسے تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ اور جو کسی کو مشقت میں ڈالے اللہ تعالے اسکو مشقت میں مبتلا کرتا ہے۔ اس باب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الخِيَانَةِ وَالغِشِّ،حدیث نمبر ١٩٤٠)

باب مَا جَاءَ فِي الْخِيَانَةِ وَالْغِشِّ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1940

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مومن کو تکلیف پہنچائے یا دھوکہ دے وہ ملعون ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الخِيَانَةِ وَالغِشِّ،حدیث نمبر ١٩٤١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا فَرْقَدُ السَّبَخِيُّ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ الْهَمْدَانِيِّ وَهُوَ الطَّيِّبُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَلْعُونٌ مَنْ ضَارَّ مُؤْمِنًا أَوْ مَكَرَ بِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1941

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرئیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا وہ اسے وارث بنا کر چھوڑیں گے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ الجِوَارِ،حدیث نمبر ١٩٤٢)

باب مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْجِوَارِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1942

حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کے لیے ان کے گھر بکری ذبح کی گئی۔جب آپ تشریف لائے تو پوچھا کیا تم نے اپنے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا ہے(دو مرتبہ پوچھا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے متواتر پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ آپ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے، اس باب میں حضرت عائشہ، ابن عباس ، عقبہ بن عامر، ابو هريره ، انس، عبد الله بن عمرو،مقداد بن اسود ، ابو شریح اور ابو امامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے۔ بواسطہ مجاہد حضرت عائشہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنھما سے بھی سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ الجِوَارِ،حدیث نمبر ١٩٤٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، وَبَشِيرٍ أبي إسماعيل، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ذُبِحَتْ لَهُ شَاةٌ فِي أَهْلِهِ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: أَهْدَيْتُمْ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ؟ أَهْدَيْتُمْ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَالْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي شُرَيْحٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1943

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھیوں کے حق میں بہتر ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں اچھا ہے،یہ حدیث حسن غریب ہے،ابو عبد الرحمن حبلی کا نام عبدالله بن یزید ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ الجِوَارِ،حدیث نمبر ١٩٤٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1944

خادم سے اچھا سلوک کرنا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھائیوں کو جوانی کی حالت میں تمہارا ما تحت بنایا پس جس کا مسلمان بھائی اس کے ماتحت ہوتا ہے چاہیے کہ اس کو اپنے کھانے میں سے کھانا اور لباس میں سے لباس دے اور اسے ایسی تکلیف نہ ہو جو اس پر غالب ہو جائے اگر ایسی تکلیف دے تو اس کی مدد بھی کرے ۔ اس باب میں حضرت علی ، ام سلمہ، ابن عمر، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ إِلَى الخَدَمِ،حدیث نمبر ١٩٤٥)

باب مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ إِلَى الْخَدَمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ فِتْيَةً تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِهِ، وَلْيُلْبِسْهُ مِنْ لِبَاسِهِ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1945

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔یہ حدیث غریب ہے ایوب سختیانی اور کئی دوسرے حضرات نے فرقد سبخی کے بارے میں ان کے حفظ کی بنا پر کلام کیا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ إِلَى الخَدَمِ،حدیث نمبر ١٩٤٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ فِي فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1946

خادم کو مارنا اور گالی دینا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ حضرت ابو القاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی جبکہ وہ اس سے بری ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس قائل پر حد قائم کرے گا البتہ یہ کہ وہ غلام ایسا ہی ہو جیسا اس نے کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت سوید بن مقرن اور عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ ابن ابی نعم، عبدالہ الرحمن بن ابی نعم بجلی ہیں ان کی کنیت ابوالحکم ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الخَدَمِ وَشَتْمِهِمْ،حدیث نمبر ١٩٤٧)

باب النَّهْىِ عَنْ ضَرْبِ الْخَدَمِ، وَشَتْمِهِم حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيُّ التَّوْبَةِ: " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بَرِيئًا مِمَّا قَالَ لَهُ أَقَامَ عَلَيْهِ الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ، يُكْنَى أَبَا الْحَكَمِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1947

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا کہ پیچھے سے کسی کہنے والے کی آواز سنی وہ کہہ رہا تھا۔ اے ابو مسعود!جان لو ابو مسعود جان لو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رسول کرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔ آپ نے فرمایا البتہ اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے زیادہ قادر ہے،جتنا تو اس پر قادر ہے۔حضرت عبد الله بن مسعود فرماتے ہیں۔اس کے بعد میں نے کبھی بھی غلام کو نہیں مارا ۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابراہیم تیمی،ابراہیم بن یزید بن شریک ہیں ۔ (ترمذی شریف-بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الخَدَمِ وَشَتْمِهِمْ،حدیث نمبر ١٩٤٨)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ مَمْلُوكًا لِي، فَسَمِعْتُ قَائِلًا مِنْ خَلْفِي، يَقُولُ: اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، فَالْتَفَتُّ: فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَمَا ضَرَبْتُ مَمْلُوكًا لِي بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1948

خادم کو معاف کر دینا حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک شخص بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا۔ عرض کیا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم!میں خادم کو کتنی بار معاف کروں ؟ آپ خاموش رہے پھر عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! خادم کو کتنی بار معاف کروں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"ہر روز ستر مرتبہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ عبد الله بن وھب نے ابو ہانی خولانی سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے، اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اور بعض لوگوں نے یہ حدیث عبداللہ بن وہب سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن سند میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے بجائے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کا نام بیان کیا ہے. (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي العَفْوِ عَنِ الخَادِمِ،حدیث نمبر ١٩٤٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَبَّاسٍ الْحَجْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ أَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ أَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَقَالَ: " كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ نَحْوًا مِنْ هَذَا، وَالْعَبَّاسُ هُوَ ابْنُ جُلَيْدٍ الْحَجْرِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَمْرٍو.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1949

خادم کا ادب حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مار رہا ہو اور وہ اللہ کا واسطہ دے تو اس سے اپنے ہاتھ اٹھائے، ابو ہارون عبدی کا نام عمارہ بن جوین ہے یحیی بن سعید کہتے ہیں شعبہ نے ابو ہارون عبدی کو ضعیف قرار دیا ہے یحییٰ فرماتے ہیں ابن عون برابر ابو ہارون عبدی سے روایت کرتے رہے۔یہاں تک کہ ان انتقال ہو گیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ ماجا فی ادب الخادم،حدیث نمبر ١٩٥٠)

باب مَا جَاءَ فِي أَدَبِ الْخَادِمِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ اسْمُهُ عُمَارَةُ بْنُ جُوَيْنٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، قَالَ لعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: ضَعَّفَ شُعْبَةُ أَبَا هَارُونَ الْعَبْدِيَّ، قَالَ يَحْيَى: وَمَا زَالَ ابْنُ عَوْنٍ يَرْوِي عَنْ أَبِي هَارُونَ حَتَّى مَاتَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1950

اولاد کو ادب سکھانا حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کا اپنی اولاد کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ ناصح بن علاء کوفی، محدثین کے نزدیک قوی نہیں۔یہ حدیث اسی طریق سے پہچانی جاتی ہے۔ ایک دوسرے ناصح بصری شیخ ہیں۔ وہ عمارہ بن ابو عمارہ وغیرہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس ناصح سے اثبت ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي أَدَبِ الوَلَدِ،حدیث نمبر ١٩٥١)

باب مَا جَاءَ فِي أَدَبِ الْوَلَدِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ نَاصِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَنَاصِحٌ هُوَ ابْنُ الْعَلَاءِ كُوفِيٌّ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِالْقَوِيِّ، وَلَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَنَاصِحٌ شَيْخٌ آخَرُ بَصْرِيٌّ، يَرْوِي عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، وَغَيْرِهِ، هُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1951

حضرت ایوب بن موسیٰ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی والد اپنے بیٹے کو اچھے ادب سے بہتر عطیہ نہیں دیتا۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف عامر بن ابو عامر خزار کی روایت سے پہچانتے ہیں،ایوب بن موسیٰ، ابن عمرو بن سعید بن العاص ہیں۔میرے(امام ترمذی)کے نزدیک یہ حدیث مرسل ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي أَدَبِ الوَلَدِ،حدیث نمبر ١٩٥٢)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ وَهُوَ عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْخَزَّازُ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي، وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1952

ہدیہ قبول کرنا اور اسکا بدلہ دینا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے اور اس کا بدلہ دیا کرتے تھے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے۔ ہم اسے صرف عیسیٰ بن یونس کی روایت سے مرفوعاً جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي قَبُولِ الهَدِيَّةِ وَالمُكَافَأَةِ عَلَيْهَا،حدیث نمبر ١٩٥٣)

باب مَا جَاءَ فِي قَبُولِ الْهَدِيَّةِ وَالْمُكَافَأَةِ عَلَيْهَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَيُثِيبُ عَلَيْهَا "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ هِشَامٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1953

محسن کا شکریہ ادا کرنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا نہیں کرتا ۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّكْرِ لِمَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ،حدیث نمبر ١٩٥٤)

باب مَا جَاءَ فِي الشُّكْرِ لِمَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ لَا يَشْكُرُ اللَّهَ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1954

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جو آدمی لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔اس باب میں حضرت ابوہریرہ، اشعث بن قیس اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّكْرِ لِمَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ،حدیث نمبر ١٩٥٥)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى. ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ، لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1955

نیکی کے کام حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ بھٹکے ہوئے کو راستہ بتانا بھی صدقہ ہے۔کسی اندھے کو راستہ دکھانا بھی صدقہ ہے، راستے سے پتھر ہٹانا اور ہڈی (وغیرہ) ہٹانا بھی صدقہ ہے۔ اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں پانی ڈالنا بھی صدقہ ہے۔ اس باب میں حضرت عبد الله بن مسعود ، جابر، حذیفہ ، عائشہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ ابو زمیل سماک بن ولید حنفی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي صَنَائِعِ المَعْرُوفِ،حدیث نمبر ١٩٥٦)

باب مَا جَاءَ فِي صَنَائِعِ الْمَعْرُوفِ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَشِيُّ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَبَصَرُكَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيءِ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَةَ وَالْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَحُذَيْفَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1956

عاریت دینا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے دودھ یا ورق (رقم) کی عاریت دی یا سیدھا راستہ بتایا۔اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ، ابو اسحق کی روایت سے غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ منصور بن معتمر اور شعبہ نے اسے طلحہ بن مصرف سے روایت کیا۔اس باب میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ورق کی عاریت دینے سے مراد یہ ہے کہ روپے پیسے کا قرض دینا۔ هَدَى زُقَاقًا" کا مطلب راستہ دکھانا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِنْحَةِ،حدیث نمبر ١٩٥٧)

باب مَا جَاءَ فِي الْمِنْحَةِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ أَوْ وَرِقٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا كَانَ لَهُ مِثْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَى مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَشُعْبَةُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، هَذَا الْحَدِيثَ، وَفِي الْبَابِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ وَرِقٍ " إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ: قَرْضَ الدَّرَاهِمِ، قَوْلُهُ: " أَوْ هَدَى زُقَاقًا " يَعْنِي بِهِ: هِدَايَةَ الطَّرِيقِ وھو ارشاد السبیل.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1957

راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی راستے پر چل رہا تھا کہ اس نے کانٹے دار شاخ دیکھی اس نے اسے ہٹا دیا۔ اللہ تعالی نے اس کا یہ عمل قبول فرمایا اور اس کو بخش دیا ۔ اس باب میں حضرت ابو برزہ، ابن عباس اور ابو ذر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ روایت حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ،حدیث نمبر ١٩٥٨)

باب مَا جَاءَ فِي إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي طَرِيقٍ إِذْ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1958

مجالس امانت کے ساتھ ہیں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی آدمی بات کہہ کر چلا جائے تو وہ امانت ہے۔یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے ابن ابی ذہب کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ المَجَالِسَ أَمَانَةٌ،حدیث نمبر ١٩٥٩)

باب مَا جَاءَ أَنَّ الْمَجَالِسَ أَمَانَةٌ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1959

سخاوت حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس وہی کچھ ہے جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیا ہے۔کیا میں اس سے بھی دیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں( دینا) بند نہ کرو ورنہ تم پر بھی بندش کی جائے گی۔اس باب میں حضرت عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ ہے بواسطه ابن ابی ملیکہ اور عباد بن عبد الله بن زبیر،حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ،کئی لوگوں نے اسے ایوب سے روایت کیا لیکن حضرت عباد بن عبد اللہ بن زبیر کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّخَاءِ،حدیث نمبر ١٩٦٠)

باب مَا جَاءَ فِي السَّخَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ بَيْتِي إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، أَفَأُعْطِي؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَلَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ " يَقُولُ: " لَا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا، عَنْ أَيُّوبَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1960

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا سخی اللہ تعالیٰ سے قریب،جنت سے قریب ہے اور لوگوں سے قریب ہوتا ہے۔بخیل اللہ تعالیٰ سے دور ، جنت سے دور، لوگوں سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو جاہل سخی، بخیل عابد سے زیادہ محبوب ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ہم بواسطہ یحیی بن سعید اور اعرج، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو صرف سعید بن محمد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔اس حدیث کی روایت میں سعید بن محمد کی مخالفت کی گئی ہے بواسطه یحی بن سعید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل مروی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّخَاءِ،حدیث نمبر ١٩٦١)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ، قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ، وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ، بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ، وَلَجَاهِلٌ سَخِيٌّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ عَالِمٍ بَخِيلٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَقَدْ خُولِفَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَائِشَةَ شَيْءٌ مُرْسَلٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1961

بخل حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مومن میں یہ دو عادتیں نہیں ہو سکتیں۔بخل اور بداخلاقی۔اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف صدقہ بن موسیٰ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي البَخِيلِ،حدیث نمبر ١٩٦٢)

باب مَا جَاءَ فِي الْبُخْلِ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ: الْبُخْلُ، وَسُوءُ الْخُلُقِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَدَقَةَ بْنِ مُوسَى، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1962

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مکار، بخیل ، اور احسان جتانے والا جنت میں داخل نہیں ہوں گے، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي البَخِيلِ،حدیث نمبر ١٩٦٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ خِبٌّ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا بَخِيلٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1963

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن شریف بزرگ ہوتا ہے اور بدکار دھوکہ باز بخیل ہوتا ہے۔یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي البَخِيلِ،حدیث نمبر ١٩٦٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1964

اہل و عیال پر خرچ کرنا حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی کا اہل وعیال پر خرچ کرنا صدقہ ہے ۔ اس باب میں حضرت عبد الله بن عمرو ، عمرو بن امیہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى الْأَهْلِ،حدیث نمبر ١٩٦٥)

باب مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ فِي الأَهْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1965

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بہترین دینار وہ ہے جسے آدمی اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے اور وہ دینار جسے آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی سواری پر خرچ کرے اور وہ دینار جسے کوئی شخص اللہ تعالی کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرج کرے ابو قلابہ فرماتے ہیں آپ نے اہل و عیال سے شروع فرمایا پھر فرمایا اس شخص سے زیادہ باعظمت کون ہے جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر خرج کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سبب ان کو پاک دامن رکھتا ہے اور اس کے ذریعے انہیں غنی کرتا ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى الْأَهْلِ،حدیث نمبر ١٩٦٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَفْضَلُ الدِّينَارِ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: بَدَأَ بِالْعِيَالِ، ثُمَّ قَالَ: " فَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ لَهُ صِغَارٍ يُعِفُّهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمُ اللَّهُ بِهِ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1966

مهمان نوازی حضرت ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شحض کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے اسے اپنے مہمان کی اچھی طرح مہمان نوازی کرنا چاہیے صحابہ کرام نے پوچھا پر تکلفت مہمانی کب تک ہے آپ نے فرمایا ایک دن اور ایک رات ضیافت تین دن رات تک ہے۔ اس کے بعد صدقہ ہے اور جس کا اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ كَمْ هِيَ،حدیث نمبر ١٩٦٧)

باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ وَغَايَةِ الضِّيَافَةِ كَمْ هُوَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَتْهُ أُذُنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ "، قَالُوا: وَمَا جَائِزَتُهُ؟ قَالَ: " يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1967

حضرت ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن ہے۔ پر تکلف مہمان نوازی ایک دن رات ہے اور اس کے بعد جو کچھ اس پر خرچ کیا جائے صدقہ ہے۔ اور مہمان کے لیے اتنا ٹھہرنا جائز نہیں جس سے صاحب خانہ تنگ ہو جائے۔ اس باب میں حضرت عائشہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مروی ہیں ۔ ابوشریح خزاعی کی نسبت الکعبی اور العدوی ہے، اور ان کا نام خویلد بن عمرو ہے، «لا يثوي عنده» کا مطلب یہ ہے کہ مہمان گھر والے کے پاس ٹھہرا نہ رہے تاکہ اس پر گراں گزرے، «الحرج» کا معنی «الضيق» (تنگی ہے) اور «حتى يحرجه» کا مطلب ہے «يضيق عليه» یہاں تک کہ وہ اسے پریشانی و مشقت میں ڈال دے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ كَمْ هِيَ،حدیث نمبر ١٩٦٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَمَا أُنْفِقَ عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ هُوَ الْكَعْبِيُّ، وَهُوَ الْعَدَوِيُّ اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: " لَا يَثْوِي عِنْدَهُ " يَعْنِي: الضَّيْفَ، لَا يُقِيمُ عِنْدَهُ حَتَّى يَشْتَدَّ عَلَى صَاحِبِ الْمَنْزِلِ، وَالْحَرَجُ: هُوَ الضِّيقُ، إِنَّمَا قَوْلُهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ يَقُولُ حَتَّى يُضَيِّقَ عَلَيْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1968

بیوہ اور یتیم کی خبر گیری کرنا حضرت صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ اور محتاج کی خبر گیری کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ یا اس شخص کی طرح جو دن کو روزہ رکھتا ہے۔اور رات کو نماز میں کھڑا رہتا ہے ۔ انصاری نے بواسطہ معن، مالک، ثور بن زید اور ابوالغیث،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی مثل حدیث روایت کیا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ابو الغیث کا نام سالم مولی عبد الله بن مطیع ہے، ثور بن یزید شامی ہیں ۔ اور ثور بن زید مدنی ہے (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّعْيِ عَلَى الأَرْمَلَةِ وَاليَتِيمِ،حدیث نمبر ١٩٦٩)

باب مَا جَاءَ فِي السَّعْىِ عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْيَتِيمِ حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ كَالَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ ". حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْغَيْثِ اسْمُهُ سَالِمٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، وَثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَدَنِيٌّ، وَثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ شَامِيٌّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1969

خندہ پیشانی اور خوش روئی حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے یہ بھی ایک نیکی ہے کہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئے۔اور یہ کہ تو اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دے ۔ اس باب میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَاقَةِ الوَجْهِ وَحُسْنِ البِشْرِ،حدیث نمبر ١٩٧٠)

باب مَا جَاءَ فِي طَلاَقَةِ الْوَجْهِ وَحُسْنِ الْبِشْرِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1970

سچ اور جھوٹ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:سچ کو لازم پکڑو بے شک سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور اسکا قصد کرتا رہتا ہے۔حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے اجتناب کرو بے شک جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے اور اسکا ارادہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔اس باب میں حضرت ابوبکر، عمر، عبداللہ بن شخیر اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالكَذِبِ،حدیث نمبر ١٩٧١)

باب مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَعُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1971

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتے اس کی بو کی وجہ سے اس آدمی سے ایک میل دور چلے جاتے ہیں یحییٰ فرماتے ہیں۔ عبدالرحیم بن ہارون نے اس کا اقرار کیا اور کہا ہاں ، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ عبد الرحیم بن ہارون اس میں متفرد ہیں ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالكَذِبِ،حدیث نمبر ١٩٧٢،و حدیث نمبر ١٩٧٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ هَارُونَ الْغَسَّانِيِّ: حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ الْمَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ "، قَالَ يَحْيَى: فَأَقَرَّ بِهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1972

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جھوٹ سے بڑھ کر کوئی اور عادت نفرت کے قابل ناپسندیدہ نہیں تھی، اور جب کوئی آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھوٹ بولتا تو وہ ہمیشہ آپ کی نظر میں قابل نفرت رہتا یہاں تک کہ آپ جان لیتے کہ اس نے جھوٹ سے توبہ کر لی ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالكَذِبِ،حدیث نمبر ١٩٧٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُحَدِّثُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكِذْبَةِ فَمَا يَزَالُ فِي نَفْسِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1973

بے حیائی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے حیائی جس چیز میں آتی ہے اسے عیب دار بناتی ہے۔ اور حیاء جس چیز میں آتا ہے اسے مزین کر دیتا ہے۔اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الفُحْشِ وَالتَّفَحُّشِ،حدیث نمبر ١٩٧٤)

باب مَا جَاءَ فِي الْفُحْشِ وَالتَّفَحُّشِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ، وَمَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1974

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ فاحش تھے اور نہ بتکلف فحش اختیار کرنے والے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الفُحْشِ وَالتَّفَحُّشِ،حدیث نمبر ١٩٧٥)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا "، وَلَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1975

لعنت بھیجنا حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ، غضب اور دوزخ کی پھٹکارہ نہ بھیجو۔اس باب میں حضرت ابن عباس، ابو ہریرہ، ابن عمر اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّعْنَةِ،حدیث نمبر ١٩٧٦)

باب مَا جَاءَ فِي اللَّعْنَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ، وَلَا بِغَضَبِهِ، وَلَا بِالنَّارِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1976

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت طعن کرنے والا، بہت لعنت کرنے والا ، بے حیاء اور بیہودہ بکنے والا کامل مومن نہیں ہو سکتا، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اس طریق کے علاوہ بھی مروی ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّعْنَةِ،حدیث نمبر ١٩٧٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلَا اللَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيءِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1977

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے ہوا پر لعنت بھیجی آپ نے فرمایا ہوا کو گالی نہ دو یہ تو پابند حکم ہے اور جو شخص کسی ایسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے جو اس کی مستحق نہیں تو لعنت اس کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم بشر بن عمر کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے اس کو مسند بیان کیا ہو۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّعْنَةِ،حدیث نمبر ١٩٧٨)

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تَلْعَنِ الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1978

نسب کی تعلیم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا نسب کی اتنی تعلیم (ضرور)حاصل کرو جس کے ذریعے اپنے رشتہ داروں سے مل سکو کیونکہ صلہ رحمی اپنے لوگوں سے محبت ، دولت کی زیادتی اور عمر کی بڑھنے کا سبب ہے۔یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ النَّسَبِ ،حدیث نمبر ١٩٧٩)

باب مَا جَاءَ فِي تَعَلُّمِ النَّسَبِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عِيسَى الثَّقَفِيِّ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ يَعْنِي: زِيَادَةً فِي الْعُمُرِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1979

اپنے بھائی کے لیے پس پشت دعا کرنا حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی دعا اس سے زیادہ جلد مقبول نہیں ہوتی جس قدر غائب کی دعا غائب کے حق میں مقبول ہوتی ہے، یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ افریقی کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے ۔ اور یہ عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ الأَخِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الغَيْبِ،حدیث نمبر ١٩٨٠)

باب مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ الأَخِ لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا دَعْوَةٌ أَسْرَعَ إِجَابَةً مِنْ دَعْوَةِ غَائِبٍ لِغَائِبٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1980

گالی دینا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمی گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں وہ ان میں سے ابتداء کرنے والے پر ہے۔ جب تک کہ مظلوم حد سے نہ بڑھے۔ اس باب میں حضرت سعد، ابن مسعود اور عبد الله بن مغفل رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ ،حدیث نمبر ١٩٨١)

باب مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِي مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1981

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کو گالی نہ دو اس طرح زندوں کو ایذاء پہنچاؤ گے۔اصحاب سفیان کا اس حدیث میں اختلاف ہے بعض نے حفری کی روایت کی مثل روایت کی اور بعض نے بواسطہ سفیان، زیاد بن علاقہ سے روایت کی ۔ میں امام ترمذی نے مغیرہ بن شعبہ کے پاس ایک آدمی سے سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت کرتے تھے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ ،حدیث نمبر ١٩٨٢)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَال: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ سُفْيَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَرَوَى بَعْضُهُمْ مِثْلَ رِوَايَةِ الْحَفَرِيِّ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَال: سَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1982

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے۔ اور اسے قتل کرنا کفر ہے، زبید کہتے ہیں میں نے ابو وائل سے پوچھا تم نے عبداللہ سے سنا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں"۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ ،حدیث نمبر ١٩٨٣)

باب سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ "، قَالَ زُبَيْدٌ: قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1983

اچھی بات کہنا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں بالا خانے ہیں جن کے بیرونی حصے اندر سے اور اندر کے حصے باہر سے نظر آتے ہوں گے۔ ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ کس کے لیے ہوں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے ، ہمیشہ روزہ رکھے اور رات کو نماز ادا کرے جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں ۔یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرت عبد الرحمن بن اسحق کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الْمَعْرُوفِ ،حدیث نمبر ١٩٨٤)

باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الْمَعْرُوفِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا تُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا "، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق هَذَا مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَهُوَ كُوفِيٌّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق الْقُرَشِيُّ مَدَنِيُّ، وَهُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا، وَكِلَاهُمَا كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1984

نیک غلام کی فضیلت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ایک کے لیے کیا اچھی بات ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بھی کرے اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرے۔کعب فرماتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ اس باب میں حضرت ابو موسیٰ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المَمْلُوكِ الصَّالِحِ ،حدیث نمبر ١٩٨٥)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَمْلُوكِ الصَّالِحِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نِعِمَّا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يُطِيعَ رَبَّهُ وَيُؤَدِّيَ حَقَّ سَيِّدِهِ "، يَعْنِي: الْمَمْلُوكَ، وَقَالَ كَعْبٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1985

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جو مشک کے ٹیلے پر ہوں گے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایا قیامت کے دن وہ غلام جس نے اللہ تعالی کا حق ادا کیا اور اپنے مالک کا بھی حق ادا کیا۔ وہ شخص جس نے قوم کی امامت کی اور وہ قوم اس پر راضی ہو۔ اور وہ آدمی جو رات دن میں پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا ہے،یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف سفیان کی روایت سے پہچانتے ہیں، ابو الیقظان کا نام عثمان بن قیس ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المَمْلُوكِ الصَّالِحِ،حدیث نمبر ١٩٨٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ، أُرَاهُ قَالَ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ: عَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ، وَرَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ إِلا مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَأَبُو الْيَقْظَانِ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَشْهَرُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1986

لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو تم جہاں بھی ہو۔ گناہ کے بعد نیکی کرو وہ اسے مٹا دے گی اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ محمود بن غیلان نے بواسطہ ابو احمد و ابو نعیم اور سفیان حبیب سے اسی سند سے اس کے ہم معنی ذکر کیا ہے۔محمود کہتے ہیں ہم سے وکیع نے بواسطہ سفیان،حبیب بن ابی ثابت،میمون بن ابی شبیب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ محمود فرماتے ہیں حضرت ابوذر کی روایت صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاشَرَةِ النَّاسِ،حدیث نمبر ١٩٨٧)

باب مَا جَاءَ فِي مُعَاشَرَةِ النَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقِ اللَّهِ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.قَالَ مَحْمُودٌ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ مَحْمُودٌ: وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1987

بدگمانی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گمان سے بچو کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ میں(امام ترمذی) نے عبد بن حمید سے سنا وہ اصحاب سفیان سے نقل کرتے ہیں کہ سفیان نے فرمایا گمان دو قسم کے ہیں۔ ایک قسم کا گمان گناہ ہے جب کہ دوسری قسم گناہ نہیں،گمان کرے پھر اسے زبان سے ظاہر کرے تو یہ گناہ ہے اور دل میں گمان ہو۔ لیکن زبان پر نہ لائے تو یہ گناہ نہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي ظَنِّ السُّوءِ،حدیث نمبر ١٩٨٨)

باب مَا جَاءَ فِي ظَنِّ السُّوءِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: و سَمِعْت عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ يَذْكُرُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: الظَّنُّ ظَنَّانِ: فَظَنٌّ إِثْمٌ، وَظَنٌّ لَيْسَ بِإِثْمٍ، فَأَمَّا الظَّنُّ الَّذِي هُوَ إِثْمٌ فَالَّذِي يَظُنُّ ظَنًّا وَيَتَكَلَّمُ بِهِ، وَأَمَّا الظَّنُّ الَّذِي لَيْسَ بِإِثْمٍ فَالَّذِي يَظُنُّ وَلاَيَتَكَلَّمُ بِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1988

مزاح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ملے جلے رہتے یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے ابو عمیر!تمہارے تغیر کو کیا ہوا(تغیر ایک چھوٹا پرندہ)۔ ہناد نے بواسطہ وکیع،شعبہ اور ابو التیاح، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ابو التیاح کا نام یزید بن حمید ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِزَاحِ،حدیث نمبر ١٩٨٩)

باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَضَّاحِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَنْ كَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَقُولُ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: " يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ".حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ، وَأَبُو التَّيَّاحِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1989

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ ہم سے مزاح فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سچی بات ہی تو کہتا ہوں ۔ یہ حدیث حسن ہے۔(تدا عبنا)یعنی آپ ہم سے مزاح فرماتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِزَاحِ،حدیث نمبر ١٩٩٠)

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا، قَالَ: " إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَعْنَى قَوْلِهِ: إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا: إِنَّمَا يَعْنُونَ إِنَّكَ تُمَازِحُنَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1990

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے جانور مانگا آپ نے فرمایا میں تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوٹنیاں ہی تو اونٹ کو جنتی ہیں۔یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِزَاحِ،حدیث نمبر ١٩٩١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ النَّاقَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1991

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے دو! کانوں والے! محمود کہتے ہیں ابو اسامہ نے فرمایا کہ آپ نے اس طرح ان الفاظ کے ساتھ مزاح فرمایا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِزَاحِ،حدیث نمبر ١٩٩١)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ "، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي مَازَحَهُ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1992

جھگڑا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے باطل جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اس کے لیے بہشت کے کنارے پر مکان بنایا جائے گا۔اور جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کر دے اس کے لیے جنت کے در میان مکان بنایا جائیگا اور خوش اخلاق کے لیے جنت کے اوپر والے حصہ میں مکان بنایا جائیگا۔یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے پہچانتے ہیں جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِرَاءِ،حدیث نمبر ١٩٩٣)

باب مَا جَاءَ فِي الْمِرَاءِ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكَرِّمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهُ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا "، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1993

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے یہ گناہ کافی ہے کہ تم مسلسل جھگڑتے رہو۔ یہ حدیث غریب ہے۔اس طرح ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِرَاءِ،حدیث نمبر ١٩٩٤)

حَدَّثَنَا فَضَالَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَفَى بِكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُخَاصِمًا "، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1994

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے (مسلمان) بھائی سے جھگڑا نہ کرو، مزاح نہ کرو اور نہ اس سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کرو!یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِرَاءِ،حدیث نمبر ١٩٩٥)

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ اللَّيْثِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُمَارِ أَخَاكَ وَلَا تُمَازِحْهُ وَلَا تَعِدْهُ مَوْعِدَةً فَتُخْلِفَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ عِنْدِي هُوَ ابْنُ أَبِي بَشِيرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1995

خاطر مدارات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی میں آپ کی خدمت میں موجود تھی۔آپ نے فرمایا قبیلہ کا یہ بیٹا یا فرمایا، قبیلہ کا یہ بھائی کیا ہی برا ہے، پھر اسے اجازت مرحمت فرمائی، اور اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو کی جب وہ چلا گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اس کے بارے یہ بات فرمائی تھی پھر آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو فرمائی۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ! وہ شخص بدترین ہے جسے لوگ محض اس کی فخش کلامی سے بچتے ہوئے چھوڑ دےیا رخصت کردیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المُدَارَاةِ،حدیث نمبر ١٩٩٦)

باب مَا جَاءَ فِي الْمُدَارَاةِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ أَخُو الْعَشِيرَةِ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَأَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1996

دوستی اور دشمنی میں میانہ روی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے مرفوعا بیان فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے دوست سے کچھ ہلکی محبت رکھو ہو سکتا ہے کسی دن وہ تمہارا دشمن ہو جائے۔ اور دشمن سے دشمنی میں بھی میانہ روی اختیار کر ممکن ہے کسی دن وہ تمہارا دوست بن جائے۔یہ حدیث غریب ہے۔اس سند سے ہم اس کو صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ایوب سے یہ حدیث دوسری اسناد سے بھی مروی ہے۔حسن بن ابو جعفر نے اسے روایت کیا لیکن ضعیف ہے ۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ صحیح یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاقْتِصَادِ فِي الحُبِّ وَالبُغْضِ،حدیث نمبر ١٩٩٧)

باب مَا جَاءَ فِي الاِقْتِصَادِ فِي الْحُبِّ وَالْبُغْضِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أُرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ: " أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيث عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا، رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ أَيْضًا، بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفٌ قَوْلُهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1997

غرور و تکبر حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔ اور وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ، ابن عباس ، سلمہ بن اکوع اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكِبْرِ،حدیث نمبر ١٩٩٨)

باب مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1998

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ جہنم میں نہیں جائے گا، ایک آدمی نےعرض کیا مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے کپڑے اچھے ہوں اور جوتا اچھا ہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر یہ ہے کہ حق کا انکار کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔بعض اہل علم اس حدیث: «ولا يدخل النار يعني من كان في قلبه مثقال ذرة من إيمان» کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا وہ جہنم سے بالآخر ضرور نکلے گا“، کئی تابعین نے اس آیت «ربنا إنك من تدخل النار فقد أخزيته» (سورۃ آل عمران: ۱۹۲) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ہے: اے میرے رب! تو نے جس کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے ڈال دیا اس کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكِبْرِ،حدیث نمبر ١٩٩٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ يَعْنِي مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ "، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي حَسَنًا وَنَعْلِي حَسَنًا، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ بَطَرَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ: لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِنَّمَا مَعْنَاهُ: لَا يُخَلَّدُ فِي النَّارِ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ " وَقَدْ فَسَّرَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ هَذِهِ الْآيَةَ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192 فَقَالَ: مَنْ تُخَلِّدُ فِي النَّارِ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 1999

حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی اپنا درجہ بڑھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ تکبر کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے پھر اسے وہ مصیبت پہنچتی ہے جو متکبرین کو پہنچتی ہے،یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكِبْرِ،حدیث نمبر ٢٠٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَذْهَبُ بِنَفْسِهِ حَتَّى يُكْتَبَ فِي الْجَبَّارِينَ فَيُصِيبُهُ مَا أَصَابَهُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2000

حضرت نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ مجھ میں تکبر ہے۔ حالانکہ میں گدھے پر سوار ہوا میں نے چادر پہنی اور بکری کا دودھ دوہا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جو آدمی یہ امور سر انجام دے اس میں کسی قسم کا تکبر نہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكِبْرِ،حدیث نمبر ٢٠٠١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: یقولون لی :تَکونونَ فِيَّ التِّيهُ وَقَدْ رَكِبْتُ الْحِمَارَ وَلَبِسْتُ الشَّمْلَةَ وَقَدْ حَلَبْتُ الشَّاةَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَعَلَ هَذَا فَلَيْسَ فِيهِ مِنَ الْكِبْرِ شَيْءٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2001

خوش اخلاقی حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامےت کے دن مومن کی میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ بے شک اللہ تعالیٰ بے حیا بدگو سے نفرت فرماتا ہے۔اس باب میں حضرت عائشہ، ابو ہریرہ، انس اور اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الخُلُقِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٢)

باب مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2002

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو چیزیں میزان میں رکھی جائیں گی ان میں اچھے اخلاق سب سے زیادہ بھاری ہوں گے۔ بے شک خوش اخلاق آدمی اچھے اخلاق کے ذریعے روزہ دار اور نمازی کا درجہ پالیتا ہے ۔ یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الخُلُقِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ اللَّيْثِ الْكُوفِيُّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ وَإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ بِهِ دَرَجَةَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2003

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سے اعمال ہیں جو لوگوں کو بکثرت جنت میں لے جائیں گے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا خوف (تقوی)اور اچھے اخلاق اور ان چیزوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا جو زیادہ لوگوں کو جہنم میں لے جانے کا باعث ہیں تو فرمایا منہ(زبان) اور شرمگاہ یہ حدیث صحیح غریب ہے۔اور عبد اللہ بن ادریس، یزید بن عبد الرحمن اودی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الخُلُقِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ: " تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ "، وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، فَقَالَ: " الْفَمُ وَالْفَرْجُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَوْدِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2004

احمد بن عبدہ نے بواسطہ ابو وہب حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا۔انہوں نے خوش اخلاقی کی تعریف میں فرمایا کشادہ روئی۔خوب بھلائی کرنا اور تکلیف دور کرنا خوش اخلاقی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الخُلُقِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٥)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ وَصَفَ حُسْنَ الْخُلُقِ، فَقَالَ: " هُوَ بَسْطُ الْوَجْهِ، وَبَذْلُ الْمَعْرُوفِ، وَكَفُّ الْأَذَى ".

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2005

احسان کرنا اور معاف کرنا حضرت ابو الاحوص اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ایک آدمی کے پاس سے گزرتا ہوں تو وہ میری مہمان نوازی نہیں کرتا پھر وہ میرے ہاں سے گزرتا ہے کیا میں اسے اس کا بدلہ دوں! آپ نے فرمایا: نہیں! بلکہ اس کی مہمان نوازی کرو فرماتے ہیں آپنے مجھے میلے کچیلے کپڑوں میں دیکھ کر پوچھا کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ میں نے عرض کیا ہر قسم کا مال ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ اور بکریاں عطا فرمائی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر اس کا ان کا اثر ظاہر ہونا چاہیے۔اس باب میں حضرت عائشہ ، جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے۔اقرہ،کا مطلب یہ ہے کہ اس کی مہمان نوازی کرو! قرء،ضیافت کے معنی میں ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ وَالعَفْوِ،حدیث نمبر ٢٠٠٦)

باب مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ وَالْعَفْوِ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ أَمُرُّ بِهِ فَلَا يَقْرِينِي وَلَا يُضَيِّفُنِي، فَيَمُرُّ بِي أَفَأُجْزِيهِ، قَالَ: " لَا، اقْرِهِ "، قَالَ: وَرَآَّنِي رَثَّ الثِّيَابِ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟ " قُلْتُ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ أَعْطَانِيَ اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: " فَلْيُرَ عَلَيْكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ اسْمُهُ عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: اقْرِهِ: أَضِفْهُ، وَالْقِرَى هُوَ الضِّيَافَةُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2006

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہر ایک کی رائے پر نہ چلو یعنی یوں نہ کہو کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھی کریں گے اور اگر وہ ظلم کریں گے تو ہم بھی کریں گے بلکہ اپنے آپ پر اعتماد و اطمینان رکھو، اگر لوگ بھلائی کریں تو بھلائی کرو اور اگر برائی کریں تو ظلم نہ کرو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ وَالعَفْوِ،حدیث نمبر ٢٠٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2007

بھائیوں سے ملاقات حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مریض کی عیادت کرے یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کرے تو ایک منادی پکارتا ہے تو پاک ہو،تیرا چلنا بھی پاکیزہ ہو اور تو نے جنت میں اپنی جگہ بنالی۔ یہ حدیث غریب ہے ۔ ابو سفیان کا نام عیسی بن سنان ہے ۔ حماد بن سلمہ نے بواسطہ ثابت ، ابو رافع اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الإِخْوَانِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٨)

باب مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الإِخْوَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ هُوَ الشَّامِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا، أَوْ زَارَ أَخًا لَهُ فِي اللَّهِ، نَادَاهُ مُنَادٍ أَنْ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو سِنَانٍ اسْمُهُ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ، وَقَدْ رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2008

حیاء حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے،بے حیائی ظلم ہے اور ظلم جہنم میں لے جاتا ہے،اس باب میں حضرت ابن عمر ، ابوبکرہ ، ابو امامہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الإِخْوَانِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2009

توقف اور عجلت حضرت عبد اللہ بن سرجس المزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا طریقہ ، توقف اور میانہ روی ، نبوت کا چو بیسواں حصہ ہے۔اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنما سے بھی روایت مذکو رہے۔ قتیبہ نے بواسطہ نوح بن قیس ، عبد اللہ بن عمران اور عبد الله بن سرجس ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی عاصم کا واسطہ مذکور نہیں نصر بن علی کی روایت صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأَنِّي وَالعَجَلَةِ،حدیث نمبر ٢٠١٠)

باب مَا جَاءَ فِي التَّأَنِّي وَالْعَجَلَةِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ الْمُزَنِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السَّمْتُ الْحَسَنُ وَالتُّؤَدَةُ وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَاصِمٍ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2010

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبد القیس سے فرمایا تم میں دو ایسی خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔ بردباری اور توقف(جلد بازی نہ کرنا)اس باب میں حضرت اشج عصری رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأَنِّي وَالعَجَلَةِ،حدیث نمبر ٢٠١١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2011

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کام میں جلد بازی نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ بعض لوگوں نے عبدالمھیمن بن عباس کے بارے میں کلام کیا اور انہیں حفظ کے اعتبار سے ضعیف قرار دیا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأَنِّي وَالعَجَلَةِ،حدیث نمبر ٢٠١٢)

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَنَاةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَالْأَشَجُّ بْنُ عَبْدِ الْقَيْسِ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَائِذٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2012

نرمی حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو نرمی سے حصہ دیا گیا اسے بھلائی سے حصہ دیا گیا اور جسے نرمی کے حصہ سے محروم رکھا گیا اسے بھلائی کے حصہ سے محروم رکھا گیا۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، جریر بن عبد الله اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّفْقِ ،حدیث نمبر ٢٠١٣)

باب مَا جَاءَ فِي الرِّفْقِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2013

مظلوم کی دعا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا مظلوم کی دعا سے ڈرنا کیونکہ اس کے اور اللہ تعالٰی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو معبد کا نام نافذ ہے۔ اس باب میں حضرت انس ابو ہریرہ، عبد اللہ بن عمرو اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ المَظْلُومِ،حدیث نمبر ٢٠١٤)

باب مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: " اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مَعْبَدٍ اسْمُهُ نَافِذٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2014

اخلاق نبوی حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے دس سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی آپ نے مجھے کبھی اف تک بھی نہیں کہا۔کسی کام کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ کیوں کیا اور نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ کیوں نہیں کیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ خوش خلق تھے۔ میں نے اون اور ریشم سے مخلوط اور محض ریشمی کپڑے کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ نرم نہیں پایا ۔ میں نے مشک اور عطر کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ مبارکہ سے زیادہ خوشبودار نہیں پایا، اس باب میں حضرت عائشہ اور براء رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٢٠١٥)

باب مَا جَاءَ فِي خُلُقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ، وَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَهُ وَلَا لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ لِمَ تَرَكْتَهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْأَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا، وَلَا مَسَسْتُ خَزًّا قَطُّ وَلَا حَرِيرًا وَلَا شَيْئًا كَانَ أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمَمْتُ مِسْكًا قَطُّ وَلَا عِطْرًا كَانَ أَطْيَبَ مِنْ عَرَقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَالْبَرَاءِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2015

حضرت ابو عبد اللہ جدلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق مبارکہ کے بارے میں پوچھا تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ نہ تو طبعا فحش گو تھے نہ بتکلف فحش کہنے والے آپ بازاروں میں شور کرنے والے بھی نہ تھے۔اور آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معاف کر دیتے اور درگزر فرماتے ،یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابو عبد اللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے،عبد الرحمن بن عبد بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٢٠١٦)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2016

حسن وفا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ مجھے جس قدر رشک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر ہوا اتنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دوسری زوجہ پر نہیں ہوا ۔ حالانکہ میں نے ان کا زمانہ نہیں پایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا کثرت سے ذکر فرماتے اور اگر بکری ذبح کرتے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو تلاش کرتے اور ان کے ہاں ہدیہ بھیجتے۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ العَهْدِ،حدیث نمبر ٢٠١٧)

باب مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْعَهْدِ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَمَا بِي أَنْ أَكُونَ أَدْرَكْتُهَا، وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيَتَتَبَّعُ بِهَا صَدَائِقَ خَدِيجَةَ فَيُهْدِيهَا لَهُنَّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2017

بلند اخلاق حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ خوش اخلاق ہیں اور میرے نزدیک تم میں سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے زیادہ دور ہونے والے وہ لوگ ہیں جو بہت بولنے والے،لوگوں سے زبان درازی کرنے والے اور تکبر کرنے والے ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم!بہت باتوں اور زبان دراز کا تو ہمیں علم ہے" المُتَفَيْهِقُونَ،بلا احتیاط بولنے والے کون ہیں؟فرمایا تکبر کرنے والے۔اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے ۔الثَّرْثَارُ بہت کام کرنے والا المُتَشَدِّقُ گفتگو کے ذریعے لوگوں پر فخر کرنے والا۔بعض لوگوں نے یہ حدیث بواسطه مبارک بن فضاله محمد بن منکدر اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ عبدربہ بن سعید کا واسطہ مذکور نہیں یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مَعَالِي الأَخْلَاقِ ،حدیث نمبر ٢٠١٨)

باب مَا جَاءَ فِي مَعَالِي الأَخْلاَقِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالْمُتَشَدِّقُونَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُونَ، وَالْمُتَشَدِّقُونَ، فَمَا الْمُتَفَيْهِقُونَ؟ قَالَ: " الْمُتَكَبِّرُونَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الْمُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، وَهَذَا أَصَحُّ وَالثَّرْثَارُ، هُوَ الْكَثِيرُ الْكَلَامِ، وَالْمُتَشَدِّقُ الَّذِي يَتَطَاوَلُ عَلَى النَّاسِ فِي الْكَلَامِ وَيَبْذُو عَلَيْهِمْ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2018

لعن طعن کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔اس باب میں حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے بعض لوگوں نے یہ حدیث اس سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لعنت بھیجنے والا ہو ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّعْنِ وَالطَّعْنِ،حدیث نمبر ٢٠١٩)

باب مَا جَاءَ فِي اللَّعْنِ وَالطَّعْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا " وَهَذَا الْحَدِيثُ مُفَسِّرٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2019

زیادہ غصہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا مجھے کچھ سکھائیے لیکن زیاده نہ ہو تاکہ یاد رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کھانا۔آپ نے یہ بات چند مرتبہ دہرائی کہ غصہ نہ کھانا۔ اس باب میں حضرت ابوسعید اور سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے ۔ ابو حسین کا نام عثمان بن عاصم اسدی ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ الْغَضَبِ ،حدیث نمبر ٢٠٢٠)

باب مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ الْغَضَبِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلِّمْنِي شَيْئًا وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ لَعَلِّي أَعِيهِ، قَالَ: " لَا تَغْضَبْ " فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: " لَا تَغْضَبْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2020

حضرت سہل بن معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو شخص غصہ پی لے حالانکہ وہ اس کے نفاذ پر قادر ہو۔اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرے۔یہ حدیث حسن غریب۔ (ترمذی شریف-بَابٌ فِي كَظْمِ الغَيْظِ،حدیث نمبر ٢٠٢١)

باب فِي كَظْمِ الْغَيْظِ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ الدُّورِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنَفِّذَهُ دَعَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي أَيِّ الْحُورِ شَاءَ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2021

بڑوں کی تعظیم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا جو نوجوان کسی بوڑھے کے سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے اس کی عزت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس جوان کے لیے کسی کو مقر فرما دیتا ہے جو اسکے بڑھاپے کے دور میں اس کی عزت کرےگا۔یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی شیخ یزید بن بیان کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ابو الرجال انصاری دوسرے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجْلَالِ الكَبِيرِ،حدیث نمبر ٢٠٢٢)

باب مَا جَاءَ فِي إِجْلاَلِ الْكَبِيرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ بَيَانٍ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّحَّالِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ إِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ يَزِيدَ بْنِ بَيَانٍ، وَأَبُو الرِّجَالِ الْأَنْصَارِيُّ آخَرُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2022

دو باہم ناراض آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوموار اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر غیر مشرک کی بخشش ہوتی ہے۔البتہ! ایسے دو آدمی جو آپس میں ناراض ہو کر جدا ہو گئے ہوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان دونوں کو واپس کر دو یہاں تک کہ صلح کرلیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض احادیث میں یہ الفاظ ہیں ان دونوں کی صلح کرنے تک چھوڑ دو " مہاجرین" سے ایک دوسرے سے قطع تعلق کرنے والے مراد ہیں۔یہ اس کی مثل ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المُتَهَاجِرَيْنِ ،حدیث نمبر ٢٠٢٣)

باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَهَاجِرَيْنِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفَتَّحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ فِيهِمَا لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ، يُقَالُ: رُدُّوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: " ذَرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا "، قَالَ: وَمَعْنَى قَوْلِهِ الْمُهْتَجِرَيْنِ: يَعْنِي الْمُتَصَارِمَيْنِ، وَهَذَا مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ".

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2023

صبر حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انصار کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا آپ نے عطا فرمایا۔ پھر مانگا آپ نے دوبارہ عطا فرمایا،اس کے بعد فرمایا میرے پاس جو کچھ مال ہوگا میں اسے تم سے روک کر ہرگز جمع نہیں کروں گا۔جو بے نیازی اختیار کرے گا اللہ تعالٰی اسے بے نیاز کر دے گا۔جو مانگنے سے بچے گا اللہ تعالٰی اسے بچائے گا،جو صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق عطا فرمائیگا اور کسی کو صبر سے اچھی اور کشادہ چیز نہیں دی گئی،اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ مالک سے یہ حدیث «فَلَنْ أَدَخَرَهُ،دال اور ذال دونوں کے ساتھ مروی ہے۔یعنی ایک ہیں کہ میں تم سے روک کر نہیں رکھوں گا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المُتَهَاجِرَيْنِ ،حدیث نمبر ٢٠٢٤)

باب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ، فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ قَالَ: " مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ شَيْئًا هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ أَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ هَذَا الْحَدِيثُ، فَلَنْ أَذْخَرَهُ عَنْكُمْ وَالْمَعْنَى فِيهِ وَاحِدٌ، يَقُولُ: لَنْ أَحْبِسَهُ عَنْكُمْ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2024

دو منہ والا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالی کے نزدیک بدترین آدمی وہ ہے جس کے دو منھ ہو یعنی ایک کے ساتھ اور بات دوسرے کے ساتھ اور بات کرنے والا، اس باب میں حضرت عمار اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِي الوَجْهَيْنِ،حدیث نمبر ٢٠٢٥)

باب مَا جَاءَ فِي ذِي الْوَجْهَيْنِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَعَمَّارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2025

چغل خور حضرت همام بن حارث فرماتے ہیں۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک آدمی گزرا تو ان سے کہا گیا کہ یہ شخص لوگوں کی باتیں حاکموں تک پہنچاتا ہے ۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ سفیان کہتے ہیں"قتات"چغل خور کو کہتے ہیں،یہ حدیث حسن صحیح۔ (ترمذی شریف-بَابُ ماجاء فی النمام،حدیث نمبر ٢٠٢٦)

باب مَا جَاءَ فِي النَّمَّام حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ هَذَا يُبَلِّغُ الْأُمَرَاءَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّاسِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ "، قَالَ سُفْيَانُ: وَالْقَتَّاتُ: النَّمَّامُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2026

کم گوئی حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء اور کم گوئی ایمان کے دو شعبے ہیں۔فحش گوئی اور زیادہ باتیں کرنا نفاق کے شعبے ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے ابو غسان محمد بن مطرف کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ العی " قلت، کلام، البذاء فحش گوئی، البیان ، کثرت کلام، جس طرح ان خطباء کی عادت ہے۔ کہ خطبہ دیتے وقت بات کو بڑھا دیتے ہیں۔ اور لوگوں کی ایسی تعریف کرتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي العی ،حدیث نمبر ٢٠٢٧)

باب مَا جَاءَ فِي الْعِيِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، قَالَ: وَالْعِيُّ: قِلَّةُ الْكَلَامِ، وَالْبَذَاءُ: هُوَ الْفُحْشُ فِي الْكَلَامِ، وَالْبَيَانُ: هُوَ كَثْرَةُ الْكَلَامِ مِثْلُ هَؤُلَاءِ الْخُطَبَاءِ الَّذِينَ يَخْطُبُونَ فَيُوَسِّعُونَ فِي الْكَلَامِ وَيَتَفَصَّحُونَ فِيهِ مِنْ مَدْحِ النَّاسِ فِيمَا لَا يُرْضِي اللَّهَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2027

بعض بیان جادو ہوتا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ زمانہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں دو آدمی آئے اور انھوں نے تقریر کی لوگ ان کی گفتگو سے تعجب کرنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتا ہے ۔ اس باب میں حضرت عمار، ابن مسعود اور عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي إِنَّ مِنَ البَيَانِ سِحْرًا،حدیث نمبر ٢٠٢٨)

باب مَا جَاءَ فِي إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ قَدِمَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِهِمَا، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا "، أَوْ " إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ سِحْرٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمَّارٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2028

تواضع حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔عفو و درگزر سے آدمی کی عزت بڑھتی ہے۔اور جو تواضع کرے اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔ اس باب میں حضرت عبد الرحمن بن عوف، ابن عباس اور ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ابو کبشہ کا نام عمر بن سعد ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّوَاضُعِ،حدیث نمبر ٢٠٢٩)

باب مَا جَاءَ فِي التَّوَاضُعِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ رَجُلًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي كَبْشَةَ الْأَنَّمَارِيِّ وَاسْمُهُ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2029

ظلم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ظلم، قیامت کے اندھیروں سے ہے۔اس باب میں حضرت عبد الله بن عمرو، عائشہ، ابو موسیٰ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث ابن عمر کی روایت سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الظُّلْمِ،حدیث نمبر ٢٠٣٠)

باب مَا جَاءَ فِي الظُّلْمِ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2030

نعمت میں عیب جوئی نہ کرنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا خواہش ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ابو حازم اشجعی ہیں۔ ان کا نام سلمان مولی عزہ اشجعیہ ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ العَيْبِ لِلنِّعْمَةِ،حدیث نمبر ٢٠٣١)

باب مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الْعَيْبِ لِلنِّعْمَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِلَّا تَرَكَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الْأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2031

مومن کی تعظیم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہو ئے اور بلند آواز سے پکار کر فرمایا۔ اے وہ گروہ جو زبان سے اسلام لائے لیکن انکے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا مسلمانوں کو ایذا نہ دو ان کو عیب مت لگاؤ اور ان کے عیبوں کے پیچھے مت پڑو!جو آدمی اپنے مسلمان بھائی کے عیوب تلاش کرتا اللہ تعالٰی اس کے عیب کے پیچھے پڑتا ہے یعنی ظاہر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کے عیوب کے پیچھے پڑا اسے ذلیل کیا۔اگر چہ وہ اپنی منزل میں ہو،نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن کعبہ شریف کی طرف دیکھا اور فرمایا تو کسی قدر با عظمت ہے اور تیری عزت کتنی عظیم ہے۔ لیکن مومن کی عزت اللہ تعالی کے نزدیک تیری عزت سے بھی زیادہ ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔اسحق بن ابراہیم سمرقندی نے اسے حسین بن واقد سے اسکے ہم معنی روایت کیا۔بواسطہ ابو برزہ سلمی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہم معنی مروی ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ المُؤْمِنِ ،حدیث نمبر ٢٠٣٢)

باب مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْمُؤْمِنِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، وَالْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ، وَلَمْ يُفْضِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ، لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ "، قَالَ: وَنَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا إِلَى الْبَيْتِ أَوْ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً عِنْدَ اللَّهِ مِنْكِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، وَرَوَى إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، نَحْوَهُ، وَرُوِي عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2032

تجربات حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لغزش کھانے والا ہی برباد ہوتا ہے۔اور تجربہ کار ہی دانا ہوتا ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّجَارِبِ ،حدیث نمبر ٢٠٣٣)

باب مَا جَاءَ فِي التَّجَارِبِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عَثْرَةٍ، وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2033

جو چیز نہیں دی گئی اس کا ظاہر کرنے والا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا جو کچھ عطیہ دیا گیا پھر وہ غنی ہوگیا تو چاہیے کہ بدلہ دے اور جس کو کچھ نہ ملا وہ زبان سے تعریف کرے کیونکہ جس نے تعریف کی اس نے شکریہ ادا کر دیا۔اور جس نے چھپایا اس نے ناشکری کی،اور جس نے اپنے آپ کو ایسے لباس سے آراستہ کیا جو اسے نہیں دیا گیا وہ جھوٹے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے،اس باب میں حضرت اسما بنت ابو بکر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔من کتم فقد کفر،سے مراد ناشکری ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يُعْطَهُ،حدیث نمبر ٢٠٣٤)

باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يُعْطَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ، فَإِنَّ مَنْ أَثْنَى فَقَدْ شَكَرَ، وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَهُ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَعَائِشَةَ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: " وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ " يَقُولُ: قَدْ كَفَرَ تِلْكَ النِّعْمَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2034

نیکی کے ساتھ تعریف کرنا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کے ساتھ نیکی کا سلوک کیا گیا اور اس نے نیکی کرنے والے سے کہا اللہ تعالیٰ تجھے اچھا صلہ عطا فرمائے۔اس نے پوری تعریف کی۔یہ حدیث حسن جید غریب ہے،ہم اسے اسامہ بن زید کی روایت سے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔بواسطہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل مروی ہے۔میں(امام ترمذی)نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا، مکی بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن جریج مکی کے پاس تھے،ایک مانگنے والا آیا اور ان سے کچھ مانگا،ابن جریج نے اپنے خزانچی سے کہا: اسے ایک دینار دے دو، خازن نے کہا: میرے پاس صرف ایک دینار ہے اگر میں اسے دے دوں تو آپ اور آپ کے اہل و عیال بھوکے رہ جائیں گے، یہ سن کر ابن جریج غصہ ہوگئے اور فرمایا: اسے دینار دے دو، ہم ابن جریج کے پاس ہی تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس ایک خط اور تھیلی لے کر آیا جسے ان کے بعض دوستوں نے بھیجا تھا، خط میں لکھا تھا: میں نے پچاس دینار بھیجے ہیں، ابن جریج نے تھیلی کھولی اور شمار کیا تو اس میں اکاون دینار تھے، ابن جریج نے اپنے خازن سے کہا: تم نے ایک دینار دیا تو اللہ تعالیٰ نے تم کو اسے مزید پچاس دینار کے ساتھ لوٹا دیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يُعْطَهُ،حدیث نمبر ٢٠٣٥)

باب مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ بِالْمَعْرُوفِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَكَّةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا فَلَمْ يَعْرِفْهُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ حَازِمٍ الْبَلْخِيُّ، قَال: سَمِعْتُ الْمَكِّيَّ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ جُرَيْجٍ الْمَكِّيِّ، فَجَاءَ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ لِخَازِنِهِ: أَعْطِهِ دِينَارًا، فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا دِينَارٌ إِنْ أَعْطَيْتُهُ لَجُعْتَ وَعِيَالُكَ، قَالَ: فَغَضِبَ وَقَالَ: أَعْطِهِ، قَالَ الْمَكِّيُّ: فَنَحْنُ عِنْدَ ابْنِ جُرَيْجٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِكِتَابٍ وَصُرَّةٍ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْهِ بَعْضُ إِخْوَانِهِ، وَفِي الْكِتَابِ إِنِّي قَدْ بَعَثْتُ خَمْسِينَ دِينَارًا، قَالَ: فَحَلَّ ابْنُ جُرَيْجٍ الصُّرَّةَ: فَعَدَّهَا فَإِذَا هِيَ أَحَدٌ وَخَمْسُونَ دِينَارًا، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ لِخَازِنِهِ: قَدْ أَعْطَيْتَ وَاحِدًا فَرَدَّهُ اللَّهُ عَلَيْكَ وَزَادَكَ خَمْسِينَ دِينَارًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Birri Wassilati, Hadees No. 2035

Tirmizi Shareef : Abwabul Birri Wassilati

|

Tirmizi Shareef : ابواب البر والصلۃ

|

•