
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے دنیا سے بچائے رکھتا ہے۔ جیسا کہ تم میں کوئی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے۔اس باب میں حضرت صہیب اور ام منذر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ یہ حدیث بواسطه محمود بن لبید،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا بھی مروی ہے۔ علی بن حجر نے بواسطہ اسماعیل بن جعفر، عمرو،عاصم بن عمرو بن قتادہ اور محمود بن لبید،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکے ہم معنی روایت نقل کی۔ حضرت قتادہ بن نعمان کا واسطہ مذکور نہیں۔ قتادہ بن نعمان ظفری حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ماں کی طرف سے بھائی ہیں۔محمود بن لبید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔اور آپ کی زیارت سے مشرف ہوئے اس وقت ان کا بچپن تھا۔ (ترمذی شریف- أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِمْيَةِ،حدیث نمبر ٢٠٣٦)
پرہیز کرنا ۔ حضرت ام المنذر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی آپ کے ہمراہ تھے ہمارے ہاں کھجوروں کے خوشے پکنے کے لیے لٹک رہے تھے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھانا شروع کیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی کھانے لگے۔آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا رک جاؤ رک جاؤ تم میں ابھی نقاہت ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے رہے۔ حضرت ام المنذر فرماتی ہیں میں نے ان کے لیے چقندر اور جو پکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی ! یہ لے لو یہ تمہارے زیادہ موافق ہے۔یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف فلیج بن سلیمان کی روایت سے پہچانتے ہیں،بواسطہ فلیج بن سلیمان ایوب بن عبد الرحمن سے یہ حدیث مروی ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطہ ابوعامر و ابو داؤد، فلیج بن سلیمان، ایوب بن عبد الرحمن اور یعقوب بن ابو یعقوب،ام المنذر انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے، اس کے بعد یونس بن محمد کی روایت کے ہم معنی حدیث روایت کی۔البتہ اس میں:انفع" زیادہ نفع بخش" کے الفاظ ہیں،محمد بن بشار نے اپنی روایت میں کہا کہ ایوب بن عبدالرحمن نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِمْيَةِ،حدیث نمبر ٢٠٣٧)
علاج کی ترغیب حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔دیہاتیوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم علاج و معالجہ نہ کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اللہ کے بندو دوا کیا کرو۔ اللہ تعالی نے ایک بیماری کے سوا تمام بیماریوں کے لیے شفا یا دوا رکھی ہے،صحابہ کرام نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کونسی بیماری ہے؟ فرمایا، بڑھاپا ۔اس باب میں حضرت عبد الله بن مسعود، ابوہریرہ، ابو خزامہ (والد سے راوی ہیں)اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الطب- بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالحَثِّ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٠٣٨)
مریض کو کیا کھلایا جائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت(میں سے کسی)کو جب بخار ہوتا تو آپ ہریرہ تیار کرنے کا حکم فرماتے تیار ہو جاتا تو اسے پینے کا حکم فرماتے اور فرماتے یہ غمگین دلوں کو تقویت پہنچاتا اور بیمار کے دل سے تکلیف دور کرتا ہے۔جس طرح تم میں سے کوئی عورت پانی کے ساتھ اپنے چہرے کا میل کچیل دور کرتی ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ زہری نے اس سلسلہ میں بواسطہ عروہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ روایت کیا ہے۔ حسین بن محمد نے بواسطہ ابو اسحق طالقانی، ابن مبارک یونسی،زہری ، عروہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی (ترمذی شریف-أبواب الطب، بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالحَثِّ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٠٣٩)
بیمار کو کھانے پینے پر مجبور نہ کرو حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو۔اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الطب، بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالحَثِّ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٠)
کلونجی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس سیاہ دانے(کلونجی)کو لازماً استعمال کرو۔اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے، اس باب میں حضرت بریدہ، ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ "الحبۃ السودا "کلونجی کو کہتے ہیں. (ترمذی شریف-أبواب الطب،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَبَّةِ السَّوْدَاءِ،حدیث نمبر ٢٠٤١)
اونٹوں کا پیشاب پینا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ مدینہ طیبہ آئے تو انہیں وہاں کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیجا اور فرمایا ان کے دودھ اور پیشاب پیو۔اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي شُرْبِ أَبْوَالِ الإِبِلِ،حدیث نمبر ٢٠٤٢)
زہر یا کسی اور چیز سے خود کشی کرنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ابو صالح کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے آپ کو کسی لوہے سے قتل کیا وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ اسے اپنے پیٹ پر مارتا رہیگا۔اور جہنم میں ہمیشہ رہیگا اور جو آدمی زہر پی کر خود کشی کرے گا اس کا زہر اسکے ہاتھ میں ہوگا اور ہمیشہ جہنم میں اسے پیتا رہے گا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٣)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو آدمی کسی لوہے کے ساتھ خود کشی کرے گا۔ قیامت کے دن لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اسے پیٹ میں جھونکتا رہے گا، ہمیشہ جہنم میں رہے گا،اور جو شخص زہر پی کر خود کشی کرے گا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا۔اور جو شخص اپنے آپ کو کسی بلند جگہ سے گرا کر ہلاک کرے گا۔ وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں گرایا جاتا رہے گا۔ محمد بن علاء نے بواسطہ وکیع ، ابو معاویہ، اعمش، ابو صالح، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی روایت کی مثل روایت نقل کی۔یہ حدیث صحیح ہے۔اور پہلی حدیث سے اصح ہے۔یہ حدیث اسی طرح بواسطہ اعمش،ابو صالح اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، محمد بن عجلان بواسطہ سعید مقبری اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے زہر کے ذریعے خود کشی کی اسے جہنم کی آگ میں عذاب دیا جائیگا یہ ہمیشہ کا ذکر نہیں۔ابو زناد نے بواسطہ اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا۔یہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ اہل توحید کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔پھر نکال لیا جائے گا۔ یہ مذکور نہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دواء یعنی زہر سے منع فرمایا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٥)
نشہ آور چیزوں سے علاج کی ممانعت علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے،سوید بن طارق یا طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے متعلق دریافت کیا۔آپ نے منع فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا ہم اس کے ساتھ علاج کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔ محمود نے بواسطہ نضر اور شبابہ، شعبہ سے اس کی مثل روایت کیا،محمود کہتے ہیں نضر نے طارق بن سوید کہا اور شبابہ نے سوید بن طارق کہا۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَاوِي بِالمُسْكِرِ،حدیث نمبر ٢٠٤٦)
سقوط وغیره حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بہترین دواؤں میں سے سعوط(ناک میں ڈالنے والی دوا)لدود(منہ کے ایک کنارے سے ڈالی جانے والی دوا)پچھنہ لگوانا،اور دست آور دوا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے توصحابہ کرام نے دہن مبارک کے ایک طرف سے دوا پلائی لوگ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا ان سب کو اسی طرح دوائی پلاؤ راوی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سوا تمام کو منہ کی ایک جانب سے دوائی پلائی گئی۔ "سعوط"، ناک میں کوئی دوائی وغیرہ چڑھایا "لدود" منھ کی ایک جانب سے دوائی پلانا" (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّعُوطِ وَغَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری بہترین دوا لدود، سعوط، پچھنہ لگوانا اور دست آوردوا ہے۔اور بہترین سرمہ اثمد ہے۔یہ آنکھوں کی روشنی تیز کرتا اور بالوں کو اگاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ سوتے وقت ہر آنکھ میں تین تین سلائیاں سرمہ لگاتے۔یہ حدیث یعنی عباد بن منصور کی روایت حسن ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّعُوطِ وَغَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٨)
بدن داغ کر علاج کرنے کی ممانعت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغ لگانے سے منع فرمایا راوی فرماتے ہیں پھر جب ہم بیماری میں مبتلا ہوئے تو ہم نے داغ لگایا۔ لیکن ہمیں کوئی کامیابی نہ ہوئی ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس سند سے بھی حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم کو بدن داغنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں حضرت ابن مسعود، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَاوِي بِالكَيِّ،حدیث نمبر ٢٠٤٩)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابی اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِی الرخصۃ فی ذَلِكَ،حدیث نمبر ٢٠٥٠)
Tirmizi Shareef : Abwabut'tibbi
|
Tirmizi Shareef : ابواب الطب
|
•