asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabut'tibbi

From 2036 to 2050

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے دنیا سے بچائے رکھتا ہے۔ جیسا کہ تم میں کوئی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے۔اس باب میں حضرت صہیب اور ام منذر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ یہ حدیث بواسطه محمود بن لبید،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا بھی مروی ہے۔ علی بن حجر نے بواسطہ اسماعیل بن جعفر، عمرو،عاصم بن عمرو بن قتادہ اور محمود بن لبید،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکے ہم معنی روایت نقل کی۔ حضرت قتادہ بن نعمان کا واسطہ مذکور نہیں۔ قتادہ بن نعمان ظفری حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ماں کی طرف سے بھائی ہیں۔محمود بن لبید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔اور آپ کی زیارت سے مشرف ہوئے اس وقت ان کا بچپن تھا۔ (ترمذی شریف- أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِمْيَةِ،حدیث نمبر ٢٠٣٦)

باب مَا جَاءَ فِي الْحِمْيَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ صُهَيْبٍ، وَأُمِّ الْمُنْذِرِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيُّ هُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لِأُمِّهِ، وَمَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَآهُ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2036

پرہیز کرنا ۔ حضرت ام المنذر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی آپ کے ہمراہ تھے ہمارے ہاں کھجوروں کے خوشے پکنے کے لیے لٹک رہے تھے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھانا شروع کیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی کھانے لگے۔آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا رک جاؤ رک جاؤ تم میں ابھی نقاہت ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے رہے۔ حضرت ام المنذر فرماتی ہیں میں نے ان کے لیے چقندر اور جو پکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی ! یہ لے لو یہ تمہارے زیادہ موافق ہے۔یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف فلیج بن سلیمان کی روایت سے پہچانتے ہیں،بواسطہ فلیج بن سلیمان ایوب بن عبد الرحمن سے یہ حدیث مروی ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطہ ابوعامر و ابو داؤد، فلیج بن سلیمان، ایوب بن عبد الرحمن اور یعقوب بن ابو یعقوب،ام المنذر انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے، اس کے بعد یونس بن محمد کی روایت کے ہم معنی حدیث روایت کی۔البتہ اس میں:انفع" زیادہ نفع بخش" کے الفاظ ہیں،محمد بن بشار نے اپنی روایت میں کہا کہ ایوب بن عبدالرحمن نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِمْيَةِ،حدیث نمبر ٢٠٣٧)

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ، وَعَلِيٌّ مَعَهُ يَأْكُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: " مَهْ مَهْ يَا عَلِيُّ، فَإِنَّكَ نَاقِهٌ "، قَالَ: فَجَلَسَ عَلِيٌّ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ، " مِنْ هَذَا فَأَصِبْ فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فُلَيْحٍ، وَيُرْوَى عَنْ فُلَيْحٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي حَدِيِثِهِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَنْفَعُ لَكَ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَحَدَّثَنِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2037

علاج کی ترغیب حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔دیہاتیوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم علاج و معالجہ نہ کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اللہ کے بندو دوا کیا کرو۔ اللہ تعالی نے ایک بیماری کے سوا تمام بیماریوں کے لیے شفا یا دوا رکھی ہے،صحابہ کرام نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کونسی بیماری ہے؟ فرمایا، بڑھاپا ۔اس باب میں حضرت عبد الله بن مسعود، ابوہریرہ، ابو خزامہ (والد سے راوی ہیں)اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الطب- بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالحَثِّ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٠٣٨)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَتْ الْأَعْرَابُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَتَدَاوَى؟ قَالَ: " نَعَمْ يَا عِبَادَ اللَّهِ، تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً، أَوْ قَالَ: دَوَاءً، إِلَّا دَاءً وَاحِدًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: الْهَرَمُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2038

مریض کو کیا کھلایا جائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت(میں سے کسی)کو جب بخار ہوتا تو آپ ہریرہ تیار کرنے کا حکم فرماتے تیار ہو جاتا تو اسے پینے کا حکم فرماتے اور فرماتے یہ غمگین دلوں کو تقویت پہنچاتا اور بیمار کے دل سے تکلیف دور کرتا ہے۔جس طرح تم میں سے کوئی عورت پانی کے ساتھ اپنے چہرے کا میل کچیل دور کرتی ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ زہری نے اس سلسلہ میں بواسطہ عروہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ روایت کیا ہے۔ حسین بن محمد نے بواسطہ ابو اسحق طالقانی، ابن مبارک یونسی،زہری ، عروہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی (ترمذی شریف-أبواب الطب، بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالحَثِّ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٠٣٩)

باب مَا جَاءَ مَا يُطْعَمُ الْمَرِيضُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعَكُ أَمَرَ بِالْحِسَاءِ فَصُنِعَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ، وَكَانَ يَقُولُ: " إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ، وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو إِسْحَاق الطَّالْقَانِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2039

بیمار کو کھانے پینے پر مجبور نہ کرو حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو۔اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الطب، بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالحَثِّ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٠)

باب مَا جَاءَ لاَ تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2040

کلونجی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس سیاہ دانے(کلونجی)کو لازماً استعمال کرو۔اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے، اس باب میں حضرت بریدہ، ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ "الحبۃ السودا "کلونجی کو کہتے ہیں. (ترمذی شریف-أبواب الطب،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَبَّةِ السَّوْدَاءِ،حدیث نمبر ٢٠٤١)

باب مَا جَاءَ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ " إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ: الْمَوْتُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ: هِيَ الشُّونِيزُ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2041

اونٹوں کا پیشاب پینا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ مدینہ طیبہ آئے تو انہیں وہاں کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیجا اور فرمایا ان کے دودھ اور پیشاب پیو۔اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي شُرْبِ أَبْوَالِ الإِبِلِ،حدیث نمبر ٢٠٤٢)

باب مَا جَاءَ فِي شُرْبِ أَبْوَالِ الإِبِلِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، وَثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا، فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: " اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، " قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2042

زہر یا کسی اور چیز سے خود کشی کرنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ابو صالح کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے آپ کو کسی لوہے سے قتل کیا وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ اسے اپنے پیٹ پر مارتا رہیگا۔اور جہنم میں ہمیشہ رہیگا اور جو آدمی زہر پی کر خود کشی کرے گا اس کا زہر اسکے ہاتھ میں ہوگا اور ہمیشہ جہنم میں اسے پیتا رہے گا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٣)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ، فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا أَبَدًا ".

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2043

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو آدمی کسی لوہے کے ساتھ خود کشی کرے گا۔ قیامت کے دن لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اسے پیٹ میں جھونکتا رہے گا، ہمیشہ جہنم میں رہے گا،اور جو شخص زہر پی کر خود کشی کرے گا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا۔اور جو شخص اپنے آپ کو کسی بلند جگہ سے گرا کر ہلاک کرے گا۔ وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں گرایا جاتا رہے گا۔ محمد بن علاء نے بواسطہ وکیع ، ابو معاویہ، اعمش، ابو صالح، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی روایت کی مثل روایت نقل کی۔یہ حدیث صحیح ہے۔اور پہلی حدیث سے اصح ہے۔یہ حدیث اسی طرح بواسطہ اعمش،ابو صالح اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، محمد بن عجلان بواسطہ سعید مقبری اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے زہر کے ذریعے خود کشی کی اسے جہنم کی آگ میں عذاب دیا جائیگا یہ ہمیشہ کا ذکر نہیں۔ابو زناد نے بواسطہ اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا۔یہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ اہل توحید کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔پھر نکال لیا جائے گا۔ یہ مذکور نہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٤)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ، فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا "حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ، عُذِّبَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ لِأَنَّ الرِّوَايَاتِ إِنَّمَا تَجِيءُ بِأَنَّ أَهْلَ التَّوْحِيدِ يُعَذَّبُونَ فِي النَّارِ، ثُمَّ يُخْرَجُونَ مِنْهَا، وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُمْ يُخَلَّدُونَ فِيهَا.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2044

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دواء یعنی زہر سے منع فرمایا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٥)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: يَعْنِي السُّمَّ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2045

نشہ آور چیزوں سے علاج کی ممانعت علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے،سوید بن طارق یا طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے متعلق دریافت کیا۔آپ نے منع فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا ہم اس کے ساتھ علاج کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔ محمود نے بواسطہ نضر اور شبابہ، شعبہ سے اس کی مثل روایت کیا،محمود کہتے ہیں نضر نے طارق بن سوید کہا اور شبابہ نے سوید بن طارق کہا۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَاوِي بِالمُسْكِرِ،حدیث نمبر ٢٠٤٦)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَاوِي بِالْمُسْكِرِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَأَلَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ أَوْ طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنِ الْخَمْرِ، فَنَهَاهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّا نَتَدَاوَى بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهَا دَاءٌ ".حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَشَبَابَةُ، عَنْ شُعْبَةَ بِمِثْلِهِ، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ النَّضْرُ: طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ، وَقَالَ شَبَابَةُ: سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2046

سقوط وغیره حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بہترین دواؤں میں سے سعوط(ناک میں ڈالنے والی دوا)لدود(منہ کے ایک کنارے سے ڈالی جانے والی دوا)پچھنہ لگوانا،اور دست آور دوا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے توصحابہ کرام نے دہن مبارک کے ایک طرف سے دوا پلائی لوگ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا ان سب کو اسی طرح دوائی پلاؤ راوی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سوا تمام کو منہ کی ایک جانب سے دوائی پلائی گئی۔ "سعوط"، ناک میں کوئی دوائی وغیرہ چڑھایا "لدود" منھ کی ایک جانب سے دوائی پلانا" (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّعُوطِ وَغَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٧)

باب مَا جَاءَ فِي السَّعُوطِ وَغَيْرِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: السَّعُوطُ، وَاللَّدُودُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ "، فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَدَّهُ أَصْحَابُهُ، فَلَمَّا فَرَغُوا، قَالَ: لُدُّوهُمْ، قَالَ: فَلُدُّوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْعَبَّاسِ ".

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2047

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری بہترین دوا لدود، سعوط، پچھنہ لگوانا اور دست آوردوا ہے۔اور بہترین سرمہ اثمد ہے۔یہ آنکھوں کی روشنی تیز کرتا اور بالوں کو اگاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ سوتے وقت ہر آنکھ میں تین تین سلائیاں سرمہ لگاتے۔یہ حدیث یعنی عباد بن منصور کی روایت حسن ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّعُوطِ وَغَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: اللَّدُودُ، وَالسَّعُوطُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ، وَخَيْرُ مَا اكْتَحَلْتُمْ بِهِ: الْإِثْمِدُ، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ "، قَالَ: وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2048

بدن داغ کر علاج کرنے کی ممانعت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغ لگانے سے منع فرمایا راوی فرماتے ہیں پھر جب ہم بیماری میں مبتلا ہوئے تو ہم نے داغ لگایا۔ لیکن ہمیں کوئی کامیابی نہ ہوئی ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس سند سے بھی حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم کو بدن داغنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں حضرت ابن مسعود، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَاوِي بِالكَيِّ،حدیث نمبر ٢٠٤٩)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَاوِي بِالْكَىِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْكَيِّ "، قَالَ: فَابْتُلِينَا فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَا وَلَا أَنْجَحْنَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: " نُهِينَا عَنِ الْكَيِّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2049

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابی اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِی الرخصۃ فی ذَلِكَ،حدیث نمبر ٢٠٥٠)

باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabut'tibbi, Hadees No. 2050

Tirmizi Shareef : Abwabut'tibbi

|

Tirmizi Shareef : ابواب الطب

|

•