
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے دنیا سے بچائے رکھتا ہے۔ جیسا کہ تم میں کوئی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے۔اس باب میں حضرت صہیب اور ام منذر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ یہ حدیث بواسطه محمود بن لبید،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا بھی مروی ہے۔ علی بن حجر نے بواسطہ اسماعیل بن جعفر، عمرو،عاصم بن عمرو بن قتادہ اور محمود بن لبید،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکے ہم معنی روایت نقل کی۔ حضرت قتادہ بن نعمان کا واسطہ مذکور نہیں۔ قتادہ بن نعمان ظفری حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ماں کی طرف سے بھائی ہیں۔محمود بن لبید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔اور آپ کی زیارت سے مشرف ہوئے اس وقت ان کا بچپن تھا۔ (ترمذی شریف- أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِمْيَةِ،حدیث نمبر ٢٠٣٦)
پرہیز کرنا ۔ حضرت ام المنذر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی آپ کے ہمراہ تھے ہمارے ہاں کھجوروں کے خوشے پکنے کے لیے لٹک رہے تھے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھانا شروع کیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی کھانے لگے۔آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا رک جاؤ رک جاؤ تم میں ابھی نقاہت ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے رہے۔ حضرت ام المنذر فرماتی ہیں میں نے ان کے لیے چقندر اور جو پکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی ! یہ لے لو یہ تمہارے زیادہ موافق ہے۔یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف فلیج بن سلیمان کی روایت سے پہچانتے ہیں،بواسطہ فلیج بن سلیمان ایوب بن عبد الرحمن سے یہ حدیث مروی ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطہ ابوعامر و ابو داؤد، فلیج بن سلیمان، ایوب بن عبد الرحمن اور یعقوب بن ابو یعقوب،ام المنذر انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے، اس کے بعد یونس بن محمد کی روایت کے ہم معنی حدیث روایت کی۔البتہ اس میں:انفع" زیادہ نفع بخش" کے الفاظ ہیں،محمد بن بشار نے اپنی روایت میں کہا کہ ایوب بن عبدالرحمن نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِمْيَةِ،حدیث نمبر ٢٠٣٧)
علاج کی ترغیب حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔دیہاتیوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم علاج و معالجہ نہ کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اللہ کے بندو دوا کیا کرو۔ اللہ تعالی نے ایک بیماری کے سوا تمام بیماریوں کے لیے شفا یا دوا رکھی ہے،صحابہ کرام نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کونسی بیماری ہے؟ فرمایا، بڑھاپا ۔اس باب میں حضرت عبد الله بن مسعود، ابوہریرہ، ابو خزامہ (والد سے راوی ہیں)اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الطب- بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالحَثِّ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٠٣٨)
مریض کو کیا کھلایا جائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت(میں سے کسی)کو جب بخار ہوتا تو آپ ہریرہ تیار کرنے کا حکم فرماتے تیار ہو جاتا تو اسے پینے کا حکم فرماتے اور فرماتے یہ غمگین دلوں کو تقویت پہنچاتا اور بیمار کے دل سے تکلیف دور کرتا ہے۔جس طرح تم میں سے کوئی عورت پانی کے ساتھ اپنے چہرے کا میل کچیل دور کرتی ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ زہری نے اس سلسلہ میں بواسطہ عروہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ روایت کیا ہے۔ حسین بن محمد نے بواسطہ ابو اسحق طالقانی، ابن مبارک یونسی،زہری ، عروہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی (ترمذی شریف-أبواب الطب، بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالحَثِّ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٠٣٩)
بیمار کو کھانے پینے پر مجبور نہ کرو حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو۔اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الطب، بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالحَثِّ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٠)
کلونجی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس سیاہ دانے(کلونجی)کو لازماً استعمال کرو۔اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے، اس باب میں حضرت بریدہ، ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ "الحبۃ السودا "کلونجی کو کہتے ہیں. (ترمذی شریف-أبواب الطب،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَبَّةِ السَّوْدَاءِ،حدیث نمبر ٢٠٤١)
اونٹوں کا پیشاب پینا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ مدینہ طیبہ آئے تو انہیں وہاں کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیجا اور فرمایا ان کے دودھ اور پیشاب پیو۔اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي شُرْبِ أَبْوَالِ الإِبِلِ،حدیث نمبر ٢٠٤٢)
زہر یا کسی اور چیز سے خود کشی کرنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ابو صالح کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے آپ کو کسی لوہے سے قتل کیا وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ اسے اپنے پیٹ پر مارتا رہیگا۔اور جہنم میں ہمیشہ رہیگا اور جو آدمی زہر پی کر خود کشی کرے گا اس کا زہر اسکے ہاتھ میں ہوگا اور ہمیشہ جہنم میں اسے پیتا رہے گا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٣)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو آدمی کسی لوہے کے ساتھ خود کشی کرے گا۔ قیامت کے دن لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اسے پیٹ میں جھونکتا رہے گا، ہمیشہ جہنم میں رہے گا،اور جو شخص زہر پی کر خود کشی کرے گا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا۔اور جو شخص اپنے آپ کو کسی بلند جگہ سے گرا کر ہلاک کرے گا۔ وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں گرایا جاتا رہے گا۔ محمد بن علاء نے بواسطہ وکیع ، ابو معاویہ، اعمش، ابو صالح، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی روایت کی مثل روایت نقل کی۔یہ حدیث صحیح ہے۔اور پہلی حدیث سے اصح ہے۔یہ حدیث اسی طرح بواسطہ اعمش،ابو صالح اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، محمد بن عجلان بواسطہ سعید مقبری اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے زہر کے ذریعے خود کشی کی اسے جہنم کی آگ میں عذاب دیا جائیگا یہ ہمیشہ کا ذکر نہیں۔ابو زناد نے بواسطہ اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا۔یہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ اہل توحید کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔پھر نکال لیا جائے گا۔ یہ مذکور نہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دواء یعنی زہر سے منع فرمایا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٥)
نشہ آور چیزوں سے علاج کی ممانعت علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے،سوید بن طارق یا طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے متعلق دریافت کیا۔آپ نے منع فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا ہم اس کے ساتھ علاج کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔ محمود نے بواسطہ نضر اور شبابہ، شعبہ سے اس کی مثل روایت کیا،محمود کہتے ہیں نضر نے طارق بن سوید کہا اور شبابہ نے سوید بن طارق کہا۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَاوِي بِالمُسْكِرِ،حدیث نمبر ٢٠٤٦)
سقوط وغیره حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بہترین دواؤں میں سے سعوط(ناک میں ڈالنے والی دوا)لدود(منہ کے ایک کنارے سے ڈالی جانے والی دوا)پچھنہ لگوانا،اور دست آور دوا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے توصحابہ کرام نے دہن مبارک کے ایک طرف سے دوا پلائی لوگ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا ان سب کو اسی طرح دوائی پلاؤ راوی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سوا تمام کو منہ کی ایک جانب سے دوائی پلائی گئی۔ "سعوط"، ناک میں کوئی دوائی وغیرہ چڑھایا "لدود" منھ کی ایک جانب سے دوائی پلانا" (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّعُوطِ وَغَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری بہترین دوا لدود، سعوط، پچھنہ لگوانا اور دست آوردوا ہے۔اور بہترین سرمہ اثمد ہے۔یہ آنکھوں کی روشنی تیز کرتا اور بالوں کو اگاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ سوتے وقت ہر آنکھ میں تین تین سلائیاں سرمہ لگاتے۔یہ حدیث یعنی عباد بن منصور کی روایت حسن ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّعُوطِ وَغَيْرِهِ،حدیث نمبر ٢٠٤٨)
بدن داغ کر علاج کرنے کی ممانعت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغ لگانے سے منع فرمایا راوی فرماتے ہیں پھر جب ہم بیماری میں مبتلا ہوئے تو ہم نے داغ لگایا۔ لیکن ہمیں کوئی کامیابی نہ ہوئی ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس سند سے بھی حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم کو بدن داغنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں حضرت ابن مسعود، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَاوِي بِالكَيِّ،حدیث نمبر ٢٠٤٩)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابی اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِی الرخصۃ فی ذَلِكَ،حدیث نمبر ٢٠٥٠)
سینگی لگوانا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گردن کے ارد گرد دو رگوں نیز کاندھوں کے درمیان سینگی لگوایا کرتے تھے آپ سترھویں،انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو سینگی لگوایا کرتے تھے ،اس باب میں حضرت ابن عباس اور معقل بن یسار رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ،حدیث نمبر ٢٠٥١)
حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ معراج کے ضمن میں بیان فرمایا کہ وہ فرشتوں کی جس جماعت سے گزرے انہوں نے آپ سے تاکیداً عرض کیا کہ آپ اپنی امت کو سینگی لگوانے کا حکم فرمائیں۔ یہ حدیث حسن ہے اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ،حدیث نمبر ٢٠٥٢)
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تین سینگی کھینچنے والے غلام تھے دو اجرت پر سینگی کھینچتے اور ایک حضرت ابن عباس اور ان کے گھر والوں کو سینگی لگایا کرتے تھے حضرت عکرمہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے،سینگی کھیچنے والا آدمی کتنا اچھا بندہ ہے (فاسد) خون کو دور کرتا ہے پیٹھ کو ہلکی کرتا ہے اور آنکھوں کی روشنی تیز کرتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے عرض کیا آپ سینگی لگوانا لازم پکڑے نیز فرمایا سترویں انیسوں اور اکیسویں بہترین تاریخیں ہیں نیز فرمایا بہترین دوا جو تم کرتے ہو سعوط اور سینگی لگانا اور مسہل دوا ہے،حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض وصال میں دہن مبارک کے ایک طرف سے دوائی ڈالی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا مجھے کس نے دوائی پلائی ہے؟تمام صحابہ کرام خاموش رہے،اس پر آپ نے فرمایا میرے چاچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے علاوہ گھر میں جتنے افراد ہیں سب کو منہ کی ایک جانب سے دوائی پلائی جائے،نضر کہتے ہیں "لددو" وجور" کو کہتے ہیں یعنی منہ کی جانب سے دوائی پلانا۔اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایات مذکور ہے یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف عبادبن منصور کی روایت جانتے ہیں. (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ،حدیث نمبر ٢٠٥٣)
مہندی کے ساتھ علاج کرنا حضرت علی بن عبید اللہ اپنی دادی(رضی اللہ عنہا)سے روایت کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتی تھیں۔ فرماتی ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جب بھی کوئی زخم وغیرہ ہوتا تو آپ مجھے اس پر مہندی لگانے کا حکم فرماتے،یہ حدیث غریب ہے ہم اسے فائد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔بعض نے اسے فائد سے روایت کیا اور علی بن عبید اللہ کے بجائے عبید اللہ بن علی کہا جو اپنی دادی سلمیٰ سے روایت کرتے ہیں۔ عبید اللہ بن علی زیادہ صحیح ہے۔ محمد بن علاء نے زید بن حباب فائد مولی عبید اللہ بن علی ، عبید اللہ بن علی اور ان کی دادی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی، (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّدَاوِي بِالحِنَّاءِ،حدیث نمبر ٢٠٥٤)
تعویذ اور جھاڑ پھونک کی ممانعت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے داغ لگوایا یا دم کروایا وہ توکل سے بری ہے۔اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود، ابن عباس اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّقْيَةِ،حدیث نمبر ٢٠٥٥)
تعویذ اور دم وغیرہ کی اجازت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھو کے کاٹنے، نظر بد اور پہلو کے زخم میں(پھنسیوں وغیرہ) میں چھاڑ پھونک کی اجازت دیا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھو کے کاٹنے اور پہلو کی پھنسیوں میں جھاڑ پھونک کی اجازت مرحمت فرمائی۔ میرے(امام ترمذی)کے نزدیک بواسطہ معاویہ بن ہشام سفیان کی روایت کے مقابلہ میں اصح ہے۔اس باب میں حضرت بریدہ،عمران بن حصین، جابر، عائشہ ، طلق بن علی، عمرو بن حزم اور ابو خزامہ (والد سے راوی ہیں ) رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر ٢٠٥٦)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رقیہ(جھاڑ پھونک)تو صرف نظر بد یا بچھو وغیرہ کے کاٹنے سے ہے۔شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ حصین اور شعبی، بریدہ سے روایت کی۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر ٢٠٥٧)
معوذتین کے ساتھ جھاڑ پھونک کرنا حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن اور نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ یہاں تک معوذتین (سورہ فلق اور سورہ والناس) نازل ہوئیں ۔ ان کے نزول پر آپ نے ان دونوں کو اختیار فرمایا اور دیگر دعاؤں کو چھوڑ دیا ۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقْيَةِ بِالمُعَوِّذَتَيْنِ،حدیث نمبر ٢٠٥٨)
نظر بد سے جھاڑ پھونک حضرت عبید بن رفاعہ زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت اسماء بنت عمیس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی اولاد کو جلد نظر لگ جاتی ہے کیا میں انہیں دم کرا سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو وہ نظر بد ہوتی۔ اس باب میں حضرت عمران بن حصین اور بریدہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔بواسطہ ایوب، عمرو بن دینار،عروہ بن عامر اور عبید بن رفاعہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ ہمیں اس کی خبر حسن بن علی خلال نے بواسطہ معمر، ایوب سے دی۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ العَيْنِ،حدیث نمبر ٢٠٥٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو دم کیا کرتے اور یہ الفاظ فرماتے ہیں تم دونوں کو اللہ تعالٰی کے پورے کلمات کے ساتھ ہر شیطان ، ضرر رساں چیز اور برائی پہچانے والی آنکھ سے اسکی پناہ میں دیتا ہوں اور فرماتے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل علیها السلام کو بھی اسی طرح دم کیا کرتے تھے۔ حسن بن علی خلال کے بواسطہ یزید بن ہارون و عبد الزراق اور سفیان منصور سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ العَيْنِ،حدیث نمبر ٢٠٦٠)
نظر حق ہے حیہ بن حابس تمیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم کو فرماتے سنا ہام ( ایک پرندہ جس سے عرب بد فالی لیتے تھے )کوئی چیز نہیں لیکن نظر حق ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ العَيْنَ حَقٌّ وَالغَسْلُ لَهَا،حدیث نمبر ٢٠٦١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی اور جب تم سے غسل کے لیے کہا جائے تو غسل کر لیا کرو۔(یعنی جس کی نظر لگی ہو وہ ہاتھ منہ دھو کر اس کے لیے پانی دے جس کو نظرلگی ہو۔ مترجم)اس باب میں حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت مذکور ہے۔یہ حدیث صحیح ہے۔ حیہ بن حابس کی روایت غریب ہے۔شیبان نے بواسطہ یحیی بن ابی کثیر حیہ بن حابس اور حابس حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔علی بن مبارک اور حرب بن شداد اس روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کرتے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ العَيْنَ حَقٌّ وَالغَسْلُ لَهَا،حدیث نمبر ٢٠٦٢)
تعویذ پر اجرت لینا حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا ہم ایک قوم کے پاس اترے اور ان سے درخواست کی کہ ہمیں مہمان رکھیں،انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی پھر انکے سردار کو کس چیز نے کاٹا وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے تم میں کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے(ابو سعید فرماتے ہیں) میں نے کہا میں ہوں لیکن جب تک تم مجھے چند بکریاں نہیں دوگے دم نہیں کروں گا، انہوں نے کہا ہم تمہیں تیس بکریاں دیتے ہیں ہم نے قبول کر لیا پھر میں نے اس پے سات مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھی وہ ٹھیک ہوگیا اور ہم نے بکریوں پر قبضہ کرلیا فرماتے ہیں ہمارے دلوں میں ان بکریوں کے بارے میں کھٹکا پیدا ہوا تو ہم نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم کی خدمت میں پہنچنے سے پہلے جلدی نہ کرو!جب ہم بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے تو تمام قصہ عرض کیاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے علم ہوا کہ یہ فاتحہ دم جھاڑ ہے بکریاں قبضہ میں رکھو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو! یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ابو نضرہ کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے۔امام شافعی نے معلم کو تعلیم قرآن پر اجرت کی اجازت دی ہے اور شرط رکھنا بھی جائزہ رکھا ہے انھوں نے اس حدیث کو دلیل بنایا۔ شعبہ ابو عوانہ اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ ابو المتوکل، ابو سعید، رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الأَجْرِ عَلَى التَّعْوِيذِ،حدیث نمبر ٢٠٦٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ صحابہ کرام (جن میں میں بھی شامل تھا) عرب کے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے، انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہیں کی، اسی دوران ان کا سردار بیمار ہوگیا، چناں چہ ان لوگوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: آپ لوگوں کے پاس کوئی علاج ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، لیکن تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی ہے اس لیے ہم اس وقت تک علاج نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اجرت نہ متعین کر دو، انہوں نے اس کی اجرت میں بکری کا ایک گلہ مقرر کیا، ہم میں سے ایک آدمی (یعنی میں خود) اس کے اوپر سورة فاتحہ پڑھ کر دم کرنے لگا تو وہ صحت یاب ہوگیا، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ جھاڑ پھونک (کی دعا) ہے؟حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس پر کوئی نکیر ذکر نہیں کی، آپ نے فرمایا: کھاؤ اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔ امام ترمذی کہتے ہی یہ حدیث صحیح ہے، یہ حدیث اعمش کی اس روایت سے جو جعفر بن ایاس کے واسطہ سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية عن أبي المتوکل عن أبي سعيد کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الأَجْرِ عَلَى التَّعْوِيذِ،حدیث نمبر ٢٠٦٤)
حضرت ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جس دم سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، جس دوا سے علاج کرتے ہیں اور جن بچاؤ کی چیزوں سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں (ان کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟) کیا یہ اللہ کی تقدیر میں کچھ تبدیلی کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ سب بھی اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی کا حصہ ہیں. اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، دونوں روایتیں سفیان ابن عیینہ سے مروی ہیں، ان کے بعض شاگردوں نے سند میں «عن أبي خزامة، عن أبيه» کہا ہے اور بعض نے «عن ابن أبي خزامة، عن أبيه» کہا ہے، ابن عیینہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اسے «عن الزهري، عن أبي خزامة، عن أبيه» روایت کی ہے، یہ زیادہ صحیح ہے، ہم اس روایت کے علاوہ ابوخزامہ سے ان کی دوسری کوئی روایت نہیں جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقَى وَالأَدْوِيَةِ،حدیث نمبر ٢٠٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:عجوہ (کھجور) جنت کا پھل ہے، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ»ایک طرح کا «من»(سلوی والا «من» ) ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، یہ محمد بن عمرو کی روایت سے ہے، ہم اسے صرف محمد بن عمر ہی سعید بن عامر کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ محمد بن عمرو سے روایت کرتے ہیں، اس باب میں سعید بن زید، ابوسعید اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكَمْأَةِ وَالعَجْوَةِ،حدیث نمبر ٢٠٦٦)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ صحرائے عرب کا فقرہ ایک قسم کا من سلویٰ والا من ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكَمْأَةِ وَالعَجْوَةِ،حدیث نمبر ٢٠٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بعض صحابہ کرام نے عرض کیا کھنبی زمین کی چیچک ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی من سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔ عجوہ (کھجور) جنت سے ہے اور زہر سے شفاء ہے ۔یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكَمْأَةِ وَالعَجْوَةِ،حدیث نمبر ٢٠٦٨)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تین یا پانچ یا سات کھمبیاں لیں انہیں نچوڑا اور ان کا پانی ایک شیشی میں رکھ لیا۔ اسے اپنی ایک لونڈی کی آنکھوں میں بطور سرمہ استعمال کیا تو وہ تندرست ہو گئی۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكَمْأَةِ وَالعَجْوَةِ،حدیث نمبر ٢٠٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کلونجی موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔ قتادہ ہر روز کلونجی کے اکیس دانے لیتے، ان کو ایک پوٹلی میں رکھ کر پانی میں بھگوتے پھر ہر روز داہنے نتھنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے، دوسرے دن بائیں میں دو بوندیں اور داہنی میں ایک بوند ڈالتے اور تیسرے روز داہنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكَمْأَةِ وَالعَجْوَةِ،حدیث نمبر ٢٠٧٠)
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے لینے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي أَجْرِ الكَاهِنِ ،حدیث نمبر ٢٠٧١)
عیسیٰ اپنے بھائی سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں عبد اللہ عکیم ابو معبد جھنی کی تیمار داری کے لیے ان کے پاس گئے ان پر سرخ لباس تھا فرماتے ہیں میں نے کہا آپ کوئی چیز (تعویذ)وغیرہ کیوں نہیں لٹکاتے؟کہنے لگے موت اس سے زیادہ قریب ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو آدمی کوئی چیز گلے میں لٹکائے گا وہ اس کے سپرد کر دیا جائیگا۔عبداللہ بن عکیم کی روایت کو ہم ابن ابی لیلی کی روایت سے پہچانتے ہیں۔محمد بن بشار نے بواسطہ یحی بن سعید ابن ابی لیلی سے اسکے ہم معنی حدیث روایت کی اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّعْلِيقِ،حدیث نمبر ٢٠٧٢)
بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرنا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار، آگ کا جوش ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو، اس باب میں حضرت اسماء بنت ابی بکر، ابن عمر ، ابن عباس ،زوجہ زبیر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي تَبْرِيدِ الحُمَّى بِالمَاءِ،حدیث نمبر ٢٠٧٣)
حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۔ اس سند سے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسماء کی حدیث میں اس حدیث سے کچھ زیادہ باتیں ہیں، دونوں حدیثیں صحیح ہیں (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي تَبْرِيدِ الحُمَّى بِالمَاءِ،حدیث نمبر ٢٠٧٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو بخار اور ہر قسم کے درد میں یہ دعا پڑھنا سکھاتے تھے،«بِسْمِ اللَّهِ الكَبِيرِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ العَظِيمِ مِنْ شَرِّ كُلِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ، وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ»اللہ کے نام سے شروع جو عظمت والا ہے اللہ کے واسطے سے ہر بھڑکتی رگ اور آگ کی گرمی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث غریب ہے،ہم اسے صرف ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ کی روایت سے جانتے ہیں اور ابراہیم بن اسماعیل ضعیف الحدیث سمجھے جاتے ہیں، بعض احادیث میں «عرق نعار» کے بجائے «عرق يعار» بھی مروی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي تَبْرِيدِ الحُمَّى بِالمَاءِ،حدیث نمبر ٢٠٧٥)
حضرت جدامہ بنت وہب رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:میں نے ارادہ کیا کہ ایام رضاعت میں صحبت کرنے سے لوگوں کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کرتے ہیں، اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث حسن صحیح ہے،مالک نے یہ حدیث «عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة عن جدامة بنت وهب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اس باب میں اسماء بنت یزید سے بھی روایت مروی ہے- مالک کہتے ہیں: «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الغِيلَةِ،حدیث نمبر ٢٠٧٦)
حضرت جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:میں نے ارادہ کیا تھا کہ ایام رضاعت میں جماع کرنے سے لوگوں کو منع کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے ۔ مالک کہتے ہیں:«غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے۔ عیسیٰ بن احمد کہتے ہیں: ہم سے اسحاق بن عیسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے مالک نے ابوالاسود کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الغِيلَةِ،حدیث نمبر ٢٠٧٧)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس تشخیص کرتے تھے، قتادہ کہتے ہیں: اس کو منہ میں ڈالا جائے گا، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث حسن صحیح ہے،ابوعبداللہ کا نام میمون ہے، وہ ایک بصریٰ شیخ ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي دَوَاءِ ذَاتِ الجَنْبِ،حدیث نمبر ٢٠٧٨)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ذات الجنب کا علاج قسط بحری (عود ہندی)اور زیتون کے تیل سے کریں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے،ہم اسے صرف میمون کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں، میمون سے کئی لوگوں نے یہ حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي دَوَاءِ ذَاتِ الجَنْبِ،حدیث نمبر ٢٠٧٩)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے، اس وقت مجھے ایسا درد تھا کہ لگتا تھا وہ مار ڈالے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اپنے داہنے ہاتھ سے سات مرتبہ درد کی جگہ چھوؤ اور یہ دعا پڑھو «أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ" میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت اور طاقت کے وسیلے سے اس تکلیف کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے لاحق ہے ۔ میں نے ویسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف دور کردی، چنانچہ میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو یہ دعا پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-باب،حدیث نمبر ٢٠٨٠)
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اسہال کے لیے تم کیا لیتی ہو؟ میں نے کہا:«شبرم»(یعنی گرم اور سخت قسم کا چنے کے برابر ایک طرح کا دانہ ہوتا ہے) آپ نے فرمایا: وہ گرم اور بہانے والا ہے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں نے «سنا»(یعنی ایک دست لانے والی دوا کا نام ہے) کا مسہل لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی تو «سنا» میں ہوتی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے،اس سے (یعنی «سنا» سے) مراد دست آور دواء ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّنَا،حدیث نمبر ٢٠٨١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے بھائی کو دست آ رہا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے شہد پلاؤ، چناں چہ اس نے اسے پلایا، پھر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہوگیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ، اس نے اسے شہد پلایا، پھر آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہوگیا ہے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ (اپنے قول میں)سچا ہے، اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ، چناں چہ اس نے شہد پلایا تو (اس بار) اچھا ہوگیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّدَاوِي بِالعَسَلِ،حدیث نمبر ٢٠٨٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا ابھی وقت نہ ہوا ہو اور سات بار یہ دعا پڑھے «أَسْأَلُ اللَّهَ العَظِيمَ رَبَّ العَرْشِ العَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ»میں عظمت والے اللہ تعالیٰ اور عظیم عرش کے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اچھا کر دے تو ضرور اس کی شفاء ہوجاتی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث حسن غریب ہے،ہم اسے صرف منہال بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّدَاوِي بِالعَسَلِ،حدیث نمبر ٢٠٨٣)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تم میں سے کسی کو بخار آئے اور بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے تو وہ اسے پانی سے بجھا دے، ایک بہتی نہر میں اترے اور پانی کے بہاؤ کی طرف اپنا رخ کرے پھر یہ دعا پڑھے: «بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ» اللہ کے نام سے شروع اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو سچا بنا۔ وہ اس عمل کو فجر کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے کرے، وہ اس نہر میں تین دن تک تین غوطے لگائے، اگر تین دن میں اچھا نہ ہو تو پانچ دن تک، اگر پانچ دن میں اچھا نہ ہو تو سات دن تک اور اگر سات دن میں اچھا نہ ہو تو نو دن تک، اللہ کے حکم سے اس کا مرض نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّدَاوِي بِالعَسَلِ،حدیث نمبر ٢٠٨٤)
حضرت ابو حازم سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا کس چیز سے علاج کیا گیا؟ انہوں نے کہا:اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا اب کوئی باقی نہیں ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لا رہے تھے، جب کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم سے خون دھو رہی تھیں اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ٹاٹ جلا رہا تھا، پھر اسی کی راکھ سے آپ کا زخم بھرا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ التَّدَاوِي بِالرَّمَادِ ،حدیث نمبر ٢٠٨٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب مریض صحت یاب اور تندرست ہوجائے تو شفافیت اور رنگ میں اس کی مثال اس اولے کی طرح ہے جو آسمان سے گرتا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ التَّدَاوِي بِالرَّمَادِ ،حدیث نمبر ٢٠٨٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تم مریض کے پاس جاؤ تو موت کے سلسلے میں اس کا غم دور کرو یہ تقدیر تو نہیں بدلتا ہے لیکن مریض کا دل خوش کردیتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ التَّدَاوِي بِالرَّمَادِ ،حدیث نمبر ٢٠٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی عیادت کی جسے تپ دق کا مرض تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:خوش ہوجاؤ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ میری آگ ہے جسے میں اپنے گنہگار بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ یہ جہنم کی آگ میں سے اس کا حصہ بن جائے۔ (ترمذی شریف-بَابُ التَّدَاوِي بِالرَّمَادِ ،حدیث نمبر ٢٠٨٨)
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک رات صحابہ کرام علیہم الرضوان یہ امید ظاہر کر رہے تھے کہ بخار چھوٹے گناہوں کے لیے کفارہ ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ التَّدَاوِي بِالرَّمَادِ ،حدیث نمبر ٢٠٨٩)
Tirmizi Shareef : Abwabut'tibbi
|
Tirmizi Shareef : ابواب الطب
|
•