
جس نے مال چھوڑا وہ وارثوں کے لیے ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کے لیے ہے اور جو کوئی عیال چھوڑے تو وہ میرے ذمہ ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ زہری نے بواسطہ ابوسلمہ اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے طویل اور زیادہ مکمل حدیث روایت کی ۔ اس باب میں حضرت جابر اور انس رضی اللہ عنہا سے بھی روایات مذکور ہیں"من ترک ضیاعا" کا مطلب یہ ہے کہ جو ایسی اولاد چھوڑے جن کے پاس کچھ نہ ہو وہ میرے ذمہ ہے۔ یعنی میں اس کی نگرانی کروں گا اور اس پر خرچ کروں گا۔ (ترمذی شریف،أَبْوَابُ الْفَرَائِضِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ،حدیث نمبر ٢٠٩٠)
علم فرائض کا حصول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرائض اور قرآن کی تعلیم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو کیونکہ میں ظاہری حیات سے وصال پانے والا ہوں، اس حدیث میں اضطراب ہے ۔ ابو اسامہ نے اسے عوف سے بواسطہ ایک (نامعلوم) شخص اور سلیمان بن جابر، حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہم سے حسین بن حریث نے اسامہ سے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔ محمد بن قاسم اسدی کو احمد بن حنبل وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الفرائض،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الفَرَائِضِ،حدیث نمبر ٢٠٩١)
بیٹیوں کی وراثت حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت سعد بن ربیع کی بیوی حضرت سعد کی دو لڑکیوں کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ دونوں سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں ان کے والد احد کے دن آپ کے ہمراہ لڑائی میں شہید ہو گئے اور ان کے چچانے ان کا مال لے لیا۔ ان دونوں کے لیے کچھ نہ چھوڑا اور جب تک ان کے پاس مال نہ ہوگا ان کا نکاح نہیں ہو سکتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا اس پر آیت میراث نازل ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لڑکیوں کے چچا کو بلا بھیجا اور فرمایا سعد کی بیٹیوں کو دو تہائی حصہ اور ان کی ماں کو آٹھواں حصّہ دو اور جو بچ جائے وہ تمہارے لیے ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ہم اسے صرف عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ شریک نے بھی اسے عبداللہ بن محمد بن عقیل سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ البَنَاتِ،حدیث نمبر ٢٠٩٢)
حقیقی بیٹی کے ساتھ پوتی کی وراثت حضرت ہزیل بن شرجیل سے روایت ہے کہ ایک آدمی، ابو موسیٰ اور سلیمان بن ربیع کے پاس آیا اور ان دونوں سے ایک بیٹی ، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن کی وراثت کے متعلق پوچھا۔ دونوں نے فرمایا بیٹی کے لیے نصف ہے۔ اور جو باقی بچ جائے وہ اس کی بہن کے لیے ہے۔نیز فرمایا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو ۔وہ بھی ہماری طرح بتائیں گے چنانچہ اس آدمی نے حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے واقعہ بیان کیا اور ان دونوں حضرات کی بات بھی بتائی حضرت ابن مسعود نے فرمایا اگر میں ان کی موافقت کروں تو میں بھٹک جاؤں اور صحیح راستہ نہ پاسکوں گا لیکن اس طرح فیصلہ کروں گا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا بیٹی کے لیے نصف ہے اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ اس طرح دو تہائی کی تکمیل ہوگی اور جو کچھ بچ جائے بہن کے لیے ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ابو قیس ادوی کا نام عبدالرحمن بن ثروان کوفی ہے۔شعبہ نے بھی اسے ابو قیس سے روایت کیا ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ ابْنَةِ الِابْنِ مَعَ ابْنَةِ الصُّلْبِ،حدیث نمبر ٢٠٩٣)
حقیقی بھائیوں کی وراثت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا تم یہ آیت پڑھتے ہو{مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12]، جو کچھ تم وصیت کرو یا قرض ہو اس کے بعد الخ" حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کے نفاذ سے پہلے ادائیگی قرض کا فیصلہ فرمایا۔اور حقیقی بھائی وارث ہوں گے علاتی بھائی وارث نہیں ہوں گے آدمی اپنے اس بھائی کا وارث ہوتا ہے جو ماں باپ دونوں کی طرف سے ہو،(سگا بھائی)اور صرف باپ کی طرف سے بھائی کا وارث نہ ہوگا۔ بندار نے بواسطہ یزید بن ہارون،زکریا بن ابی زائده، ابو اسحق، حارث اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ،حدیث نمبر ٢٠٩٤)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سگے بھائی ایک دوسرے کے وارث ہونگے سوتیلے نہیں،اس حدیث کو ہم ابو اسحق کی روایت سے پہچانتے ہیں جو بواسطہ حارث، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں۔بعض علماء نے حارث کے بارے میں گفتگو کی ہے۔اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ،حدیث نمبر ٢٠٩٥)
بیٹیوں کی بیٹوں کے ساتھ وراثت حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں اس وقت بیمار تھا اور بنو سلمہ میں مقیم تھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنا مال اولاد میں کیسے تقسیم کروں؟آپ نے کچھ جواب نہ دیا پھر آیت کریمہ نازل ہوئی: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ}اللہ تعالی تم لوگوں کو تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ مرد کا دو عورتوں کے برابر حصہ ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے،ابن عیینہ وغیرہ نے اسے بواسطہ محمد بن منکدر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مِيرَاثِ البَنِينَ مَعَ البَنَاتِ،حدیث نمبر ٢٠٩٦)
بہنوں کی میراث حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بیمار ہوا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں بیہوشی کی حالت میں تھا۔ آپ کے ہمراہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے،دونوں پیدل چل کر آئے تھے۔آپ نے وضو فرمایا اور بقیہ پانی مجھ پر ڈال دیا تو مجھے افاقہ ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنے مال کی تقسیم کیسے کروں؟آپ نے کوئی جواب نہ دیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی تو بہنیں تھیں یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہوئی: {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الكَلَالَةِ} [النساء: 176] آپ سے فتوی پوچھتے ہیں فرما دیجئے اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ فرماتے ہیں یہ آیت میرے حق میں نازل ہوئی،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ ،حدیث نمبر ٢٠٩٧)
عصبہ کی میراث حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مقرر حصہ وراثت، متعلقہ افراد کو دو جو بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد رشتہ دار کے لیے ہے ،، عبد بن حمید نے بواسطہ عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس اور طاؤس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے یہ حدیث حسن ہے بعض نے اسے بواسطہ ابن طاؤس اور طاؤس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا (ترمذی شریف-أبواب الفرائض، بَابٌ فِي مِيرَاثِ العَصَبَةِ ،حدیث نمبر ٢٠٩٨)
دادا کی میراث حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میرا پوتا مر گیا ہے، اس کے ترکہ میں میرا کتنا حصہ ہے؟ آپ نے فرمایا تیرے لیے چھٹا حصہ ہے جب وہ واپس جانے لگا تو آپ نے بلا لیا اور فرمایا تیرے لیے ایک چھٹا حصہ اور ہے جب وہ لوٹ گیا تو پھر بلایا اور فرمایا - دوسرا چھٹا حصہ اصل حق سے زائد ہے- اس باب میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الجَدِّ،حدیث نمبر (٢٠٩٩)
دادی کی میراث حضرت قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک ( عورت) دادی ،یا نانی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرا پوتا یا (کہا) میرا نواسہ مر گیا اور مجھے بتایا گیا ہے کہ بحکم قرآن (اس کی میراث میں) میرا حق موجود ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ نے فرمایا میں قرآن پاک میں تیرا حصہ نہیں پاتا اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمہارے متعلق کچھ فیصلہ فرماتے ہوئے نہیں سنا، لیکن میں صحابہ کرام سے پوچھتا ہوں راوی فرماتے ہیں اپ نے صحابہ کرام سے پوچھا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (دادی کو) چھٹا حصہ دیا ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تمہارے سوا کسی اور نے بھی سنا، عرض کیا حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے سنا ہے،چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے چھٹا حصہ دیا، پھر دوسری (دادی یا نانی) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی سفیان نے فرمایا کہ معمر نے زہری سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے یہ الفاظ زائد بیان کیے مجھے زہری سے یاد نہیں بلکہ معمر سے یاد ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عن نے فرمایا اگر تم دونوں ہوگی تو وہ چھٹا حصہ تم دونوں کا ہوگا اور اگر تم میں سے کوئی ایک اکیلی ہو گئی تو اس کے لیے چھٹا حصہ ہوگا۔ (بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الجَدَّةِ(ترمذی شریف-أبواب الفرائض،حدیث نمبر٢١٠٠)
دادی کی میراث حضرت قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دادی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اس نے اپنے حصہ میراث کا مطالبہ کیا آپ نے فرمایا اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے کچھ حصہ نہیں سنت رسول کے مطابق بھی تمہارا کچھ نہیں بنتا تم واپس چلی جاؤ میں صحابہ کرام سے پوچھوں گا چنانچہ آپ نے صحابہ کرام سے پوچھا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے دادی کو چھٹا حصہ دلایا آپ نے فرمایا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ اس پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وہی بات فرمائی جو حضرت مغیرہ فرما چکے تھے، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ حکم جاری فرما دیا پھر ایک دوسری دادی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنا حصہ میراث طلب کیا، آپ نے فرمایا، تمہارے لیے قرآن میں کوئی حصہ مقرر نہیں بس یہی چھٹہ حصہ ہے، اگر تم دونوں وارث ہو تو یہ دونوں کے لیے مشترکہ ہوگا اور اگر کوئی ایک اکیلی ہوگی تو یہ اسی کا ہوگا،یہ حدیث صحیح ہے، ابن عیینہ کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے، اس باب میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ (بابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الجَدَّةِ(ترمذی شریف-أبواب الفرائض، ،حدیث نمبر ٢١٠١)
دادی کی میراث بیٹے کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دادی کے حق میں فرمایا یہ پہلی دادی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹے کی موجودگی میں چھٹا حصہ دیا، اور اس کا بیٹا زندہ تھا اس حدیث کو ہم مرفوعا اسی طریق سے پہچانتے ہیں، صحابہ کرام نے بیٹے کی موجودگی میں دادی کو وارث قرار دیا ہے، جب کہ بعض نے وارث نہیں ٹھہرایا ( بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا(ترمذی شریف-أبواب الفرائض، حدیث نمب ٢١٠٢)
ماموں کی میراث حضرت ابو امامہ ابن سہل بن حنیف فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری وساطت سے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا کوئی مولیٰ نہ ہو اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مولیٰ ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا ماموں بہن کا ترکہ پائے گا، اس باب میں حضرت عائشہ اور مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے (ترمذی شریف-أبواب الفرائض،بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الخَالِ ،حدیث نمبر٢١٠٣)
ماموں کی میراث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا ماموں وارث بنے گا، یہ حدیث غریب ہے بعض نے اسے بلاواسطہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، مرسل بیان کیا، اس مسئلہ میں صحابہ کرام کا اختلاف ہے، بعض نے ماموں ، خالہ اور پھوپھی کو وارث قرار دیا ہے، اکثر اہل علم نے ذوی الارحام کی وراثت کے ضمن میں اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے،زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان کو وارث قرار نہیں دیتے بلکہ ترکہ بیت المال کا مال قرار دیتے ہیں (ترمذی شریف-أبواب الفرائض،بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الخَالِ حديث نمبر٢١٠٤ )
لاوارث کا ترکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام کھجور کی ٹہنی سے گر کر مر گیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اس کا کوئی وارث ہے،صحابہ کرام نے عرض کیا اس کا کوئی وارث نہیں،آپ نے فرمایا اس کا مال اس کے گاؤں کے بعض لوگوں کو دے دو،اس باب میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مروی ہے،یہ حدیث حسن ہے، (ترمذی شریف-أبواب الفرائض، بَابُ مَا جَاءَ فِي الَّذِي يَمُوتُ وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ،حدیث نمبر٢١٠٥)
آزاد کردہ غلام کو میراث دینا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے عہد رسالت میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا، اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا البتہ اس کا ایک ازاد کردہ غلام تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی میراث اس غلام کو دے دی، یہ حدیث حسن ہے،اس باب میں اہل علم کا یہ عمل ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا عصبہ وارث چھوڑے بغیر مر جائے تو اس کا مال مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کیا جائے گا (ترمذی شریف-أبواب الفرائض، بَابٌ فِي مِيرَاثِ المَوْلَى الأَسْفَلِ،حدیث نمبر ٢١٠٦)
مسلمانوں اور کافر کے درمیان میراث نہیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے ہم سے ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان ، زہری سے اس کے ہم معنی روایت بیان کی ،اس باب میں حضرت جابر اور عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث حسن ہے، معمر اور کئی دوسرے حضرات نے زہری سے اس کے ہم معنی نقل کیا،مالک نے بواسطہ زہری، علی ابن حسین، عمرو بن عثمان اور اسامہ بن زید (رضی اللہ عنہما) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی، مالک کی روایت میں ان سے غلطی ہوئی، بعض نے بواسطہ مالک عمربن عثمان سے روایت کیا،اکثر اصحاب مالک نے عمر بن عثمان (بغیر واؤ کے) سے روایت کیا، عمر بن عثمان بن عفان، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں اور مشہور ہیں ہم عمر بن عثمان کو نہیں جانتے،اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے علماء کا مرتد کی وراثت میں اختلاف ہیں ، بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم نے اسے اس کے مسلمان ورثاء کا حق قرار دیا،اور بعض نے فرمایا مسلمان اس کے مال کے وارث نہیں ہوں گے انہوں نے حدیث پاک کو دلیل بنایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان،کافر کا وارث نہیں ہو سکتا، امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی قول ہے (ترمذی شریف-أبواب الفرائض، بَابُ مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ المِيرَاثِ بَيْنَ المُسْلِمِ وَالكَافِرِ, حدیث نمبر ٢١٠٧)
دو مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دینوں (مذہب)والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے ،یہ حدیث غریب ہے ہم اسے حدیث جابر سے صرف ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے پہچانتے ہیں (ترمذی شریف-أبواب الفرائض بَابُ لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ حدیث نمبر ٢١٠٨)
قاتل کی میراث باطل ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاتل وارث نہیں ہوتا،یہ حدیث صحیح نہیں ،یہ صرف اسی طریق سے معروف ہے ، اسحاق ابن عبداللہ ابو فروہ کو بعض اہل علم نے ترک کیا ہے،امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی ان میں سے ہیں ، اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ قاتل وارث نہیں ہوتا ،قتل غلطی سے ہو یا جان بوجھ کر ،بعض علماء فرماتے ہیں غلطی سے قتل ہو تو قاتل وارث بنے گا امام مالک رحمہ اللہ کا یہی قول ہے (ترمذی شریف-أبواب الفرائض،بَابُ مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ مِيرَاثِ القَاتِلِ حدیث نمبر ٢١٠٩)
شوہر کی دیت سے بیوی کی میراث حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا دیت وارثوں پر ہے اور عورت خاوند کی دیت میں سے کسی چیز کی وارث نہیں ہو سکتی ضحاک بن سفیان کلابی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھا کہ اشیم ضبابی کو اس کے خاوند کی دیت سے وراثت دیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے (ترمذی شریف-أبواب الفرائض،بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ المَرْأَةِ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حدیث نمبر ٢١١٠)
Tirmizi Shareef : Abwabul Farayiz
|
Tirmizi Shareef : ابواب الفرائض
|
•