asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Farayiz

From 2090 to 2110

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

جس نے مال چھوڑا وہ وارثوں کے لیے ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کے لیے ہے اور جو کوئی عیال چھوڑے تو وہ میرے ذمہ ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ زہری نے بواسطہ ابوسلمہ اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے طویل اور زیادہ مکمل حدیث روایت کی ۔ اس باب میں حضرت جابر اور انس رضی اللہ عنہا سے بھی روایات مذکور ہیں"من ترک ضیاعا" کا مطلب یہ ہے کہ جو ایسی اولاد چھوڑے جن کے پاس کچھ نہ ہو وہ میرے ذمہ ہے۔ یعنی میں اس کی نگرانی کروں گا اور اس پر خرچ کروں گا۔ (ترمذی شریف،أَبْوَابُ الْفَرَائِضِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ،حدیث نمبر ٢٠٩٠)

باب مَا جَاءَ مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَنَسٍ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا وَأَتَمَّ مَعْنَى ضَيَاعًا ضَائِعًا لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ، فَأَنَا أَعُولُهُ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2090

علم فرائض کا حصول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرائض اور قرآن کی تعلیم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو کیونکہ میں ظاہری حیات سے وصال پانے والا ہوں، اس حدیث میں اضطراب ہے ۔ ابو اسامہ نے اسے عوف سے بواسطہ ایک (نامعلوم) شخص اور سلیمان بن جابر، حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہم سے حسین بن حریث نے اسامہ سے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔ محمد بن قاسم اسدی کو احمد بن حنبل وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الفرائض،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الفَرَائِضِ،حدیث نمبر ٢٠٩١)

باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَالْفَرَائِضَ، وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ.وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَوْفٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ بِهَذَا بِمَعْنَاهُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ قَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2091

بیٹیوں کی وراثت حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت سعد بن ربیع کی بیوی حضرت سعد کی دو لڑکیوں کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ دونوں سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں ان کے والد احد کے دن آپ کے ہمراہ لڑائی میں شہید ہو گئے اور ان کے چچانے ان کا مال لے لیا۔ ان دونوں کے لیے کچھ نہ چھوڑا اور جب تک ان کے پاس مال نہ ہوگا ان کا نکاح نہیں ہو سکتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا اس پر آیت میراث نازل ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لڑکیوں کے چچا کو بلا بھیجا اور فرمایا سعد کی بیٹیوں کو دو تہائی حصہ اور ان کی ماں کو آٹھواں حصّہ دو اور جو بچ جائے وہ تمہارے لیے ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ہم اسے صرف عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ شریک نے بھی اسے عبداللہ بن محمد بن عقیل سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ البَنَاتِ،حدیث نمبر ٢٠٩٢)

باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْبَنَاتِ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا، فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، قَالَ: " يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ "، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا، فَقَالَ: " أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَقَدْ رَوَاهُ شَرِيكٌ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2092

حقیقی بیٹی کے ساتھ پوتی کی وراثت حضرت ہزیل بن شرجیل سے روایت ہے کہ ایک آدمی، ابو موسیٰ اور سلیمان بن ربیع کے پاس آیا اور ان دونوں سے ایک بیٹی ، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن کی وراثت کے متعلق پوچھا۔ دونوں نے فرمایا بیٹی کے لیے نصف ہے۔ اور جو باقی بچ جائے وہ اس کی بہن کے لیے ہے۔نیز فرمایا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو ۔وہ بھی ہماری طرح بتائیں گے چنانچہ اس آدمی نے حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے واقعہ بیان کیا اور ان دونوں حضرات کی بات بھی بتائی حضرت ابن مسعود نے فرمایا اگر میں ان کی موافقت کروں تو میں بھٹک جاؤں اور صحیح راستہ نہ پاسکوں گا لیکن اس طرح فیصلہ کروں گا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا بیٹی کے لیے نصف ہے اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ اس طرح دو تہائی کی تکمیل ہوگی اور جو کچھ بچ جائے بہن کے لیے ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ابو قیس ادوی کا نام عبدالرحمن بن ثروان کوفی ہے۔شعبہ نے بھی اسے ابو قیس سے روایت کیا ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ ابْنَةِ الِابْنِ مَعَ ابْنَةِ الصُّلْبِ،حدیث نمبر ٢٠٩٣)

باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ ابْنَةِ الاِبْنِ مَعَ ابْنَةِ الصُّلْبِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَسَأَلَهُمَا عَنِ الِابْنَةِ، وَأُخْتٍ لأب، وأم، فقال: للابنة النصف، وللأخت من الأب والأم ما بقي، وقالا له: انطلق إلى عبد الله، فاسأله فإنه سيتابعنا، فأتى عبد الله فذكر ذلك له وأخبره بما وَابْنَةِ الِابْنِ قَالَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ، وَلَكِنْ أَقْضِي فِيهِمَا كَمَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَلِلْأُخْتِ مَا بَقِيَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ الْكُوفِيُّ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2093

حقیقی بھائیوں کی وراثت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا تم یہ آیت پڑھتے ہو{مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12]، جو کچھ تم وصیت کرو یا قرض ہو اس کے بعد الخ" حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کے نفاذ سے پہلے ادائیگی قرض کا فیصلہ فرمایا۔اور حقیقی بھائی وارث ہوں گے علاتی بھائی وارث نہیں ہوں گے آدمی اپنے اس بھائی کا وارث ہوتا ہے جو ماں باپ دونوں کی طرف سے ہو،(سگا بھائی)اور صرف باپ کی طرف سے بھائی کا وارث نہ ہوگا۔ بندار نے بواسطہ یزید بن ہارون،زکریا بن ابی زائده، ابو اسحق، حارث اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ،حدیث نمبر ٢٠٩٤)

باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ: مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 12 وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ، وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ، الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ ".حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2094

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سگے بھائی ایک دوسرے کے وارث ہونگے سوتیلے نہیں،اس حدیث کو ہم ابو اسحق کی روایت سے پہچانتے ہیں جو بواسطہ حارث، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں۔بعض علماء نے حارث کے بارے میں گفتگو کی ہے۔اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ،حدیث نمبر ٢٠٩٥)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْحَارِثِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2095

بیٹیوں کی بیٹوں کے ساتھ وراثت حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں اس وقت بیمار تھا اور بنو سلمہ میں مقیم تھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنا مال اولاد میں کیسے تقسیم کروں؟آپ نے کچھ جواب نہ دیا پھر آیت کریمہ نازل ہوئی: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ}اللہ تعالی تم لوگوں کو تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ مرد کا دو عورتوں کے برابر حصہ ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے،ابن عیینہ وغیرہ نے اسے بواسطہ محمد بن منکدر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مِيرَاثِ البَنِينَ مَعَ البَنَاتِ،حدیث نمبر ٢٠٩٦)

باب مِيرَاثِ الْبَنِينَ مَعَ الْبَنَاتِ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْسِمُ مَالِي بَيْنَ وَلَدِي، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، فَنَزَلَتْ: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11 الْآيَةَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وغيره عَنْ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2096

بہنوں کی میراث حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بیمار ہوا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں بیہوشی کی حالت میں تھا۔ آپ کے ہمراہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے،دونوں پیدل چل کر آئے تھے۔آپ نے وضو فرمایا اور بقیہ پانی مجھ پر ڈال دیا تو مجھے افاقہ ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنے مال کی تقسیم کیسے کروں؟آپ نے کوئی جواب نہ دیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی تو بہنیں تھیں یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہوئی: {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الكَلَالَةِ} [النساء: 176] آپ سے فتوی پوچھتے ہیں فرما دیجئے اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ فرماتے ہیں یہ آیت میرے حق میں نازل ہوئی،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ ،حدیث نمبر ٢٠٩٧)

باب مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَأَتَى وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَهُمَا مَاشِيَانِ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ، فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي، أَوْ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي، فَلَمْ يُجِبْنِي شَيْئًا، وَكَانَ لَهُ تِسْعُ أَخَوَاتٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176الْآيَةَ "، قَالَ جَابِرٌ: فِيَّ نَزَلَتْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2097

عصبہ کی میراث حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مقرر حصہ وراثت، متعلقہ افراد کو دو جو بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد رشتہ دار کے لیے ہے ،، عبد بن حمید نے بواسطہ عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس اور طاؤس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے یہ حدیث حسن ہے بعض نے اسے بواسطہ ابن طاؤس اور طاؤس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا (ترمذی شریف-أبواب الفرائض، بَابٌ فِي مِيرَاثِ العَصَبَةِ ،حدیث نمبر ٢٠٩٨)

باب فِي مِيرَاثِ الْعَصَبَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ ".حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنِ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2098

دادا کی میراث حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میرا پوتا مر گیا ہے، اس کے ترکہ میں میرا کتنا حصہ ہے؟ آپ نے فرمایا تیرے لیے چھٹا حصہ ہے جب وہ واپس جانے لگا تو آپ نے بلا لیا اور فرمایا تیرے لیے ایک چھٹا حصہ اور ہے جب وہ لوٹ گیا تو پھر بلایا اور فرمایا - دوسرا چھٹا حصہ اصل حق سے زائد ہے- اس باب میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الجَدِّ،حدیث نمبر (٢٠٩٩)

باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي فِي مِيرَاثِهِ، قَالَ: " لَكَ السُّدُسُ " فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: " لَكَ سُدُسٌ آخَرُ " فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، قَالَ: " إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2099

دادی کی میراث حضرت قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک ( عورت) دادی ،یا نانی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرا پوتا یا (کہا) میرا نواسہ مر گیا اور مجھے بتایا گیا ہے کہ بحکم قرآن (اس کی میراث میں) میرا حق موجود ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ نے فرمایا میں قرآن پاک میں تیرا حصہ نہیں پاتا اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمہارے متعلق کچھ فیصلہ فرماتے ہوئے نہیں سنا، لیکن میں صحابہ کرام سے پوچھتا ہوں راوی فرماتے ہیں اپ نے صحابہ کرام سے پوچھا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (دادی کو) چھٹا حصہ دیا ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تمہارے سوا کسی اور نے بھی سنا، عرض کیا حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے سنا ہے،چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے چھٹا حصہ دیا، پھر دوسری (دادی یا نانی) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی سفیان نے فرمایا کہ معمر نے زہری سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے یہ الفاظ زائد بیان کیے مجھے زہری سے یاد نہیں بلکہ معمر سے یاد ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عن نے فرمایا اگر تم دونوں ہوگی تو وہ چھٹا حصہ تم دونوں کا ہوگا اور اگر تم میں سے کوئی ایک اکیلی ہو گئی تو اس کے لیے چھٹا حصہ ہوگا۔ (بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الجَدَّةِ(ترمذی شریف-أبواب الفرائض،حدیث نمبر٢١٠٠)

باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدَّةِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ مَرَّةً: قَالَ قَبِيصَةُ، وقَالَ مَرَّةً: رَجُلٌ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ أُمُّ الْأُمِّ وَأُمُّ الْأَبِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَ ابْنِي أَوِ ابْنَ بِنْتِي مَاتَ، وَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنّ لِي فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقًّا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَجِدُ لَكِ فِي الْكِتَابِ مِنْ حَقٍّ، وَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى لَكِ بِشَيْءٍ وَسَأَسْأَلُ النَّاسَ، قَالَ: فَسَأَلَ النَّاسَ، فَشَهِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهَا السُّدُسَ " قَالَ: وَمَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعَكَ، قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: " فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ "، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى الَّتِي تُخَالِفُهَا إِلَى عُمَرَ، قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَنِي فِيهِ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ أَحْفَظْهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَكِنْ حَفِظْتُهُ مِنْ مَعْمَرٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: إِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَهُوَ لَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا انْفَرَدَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2100

دادی کی میراث حضرت قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دادی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اس نے اپنے حصہ میراث کا مطالبہ کیا آپ نے فرمایا اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے کچھ حصہ نہیں سنت رسول کے مطابق بھی تمہارا کچھ نہیں بنتا تم واپس چلی جاؤ میں صحابہ کرام سے پوچھوں گا چنانچہ آپ نے صحابہ کرام سے پوچھا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے دادی کو چھٹا حصہ دلایا آپ نے فرمایا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ اس پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وہی بات فرمائی جو حضرت مغیرہ فرما چکے تھے، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ حکم جاری فرما دیا پھر ایک دوسری دادی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنا حصہ میراث طلب کیا، آپ نے فرمایا، تمہارے لیے قرآن میں کوئی حصہ مقرر نہیں بس یہی چھٹہ حصہ ہے، اگر تم دونوں وارث ہو تو یہ دونوں کے لیے مشترکہ ہوگا اور اگر کوئی ایک اکیلی ہوگی تو یہ اسی کا ہوگا،یہ حدیث صحیح ہے، ابن عیینہ کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے، اس باب میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ (بابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الجَدَّةِ(ترمذی شریف-أبواب الفرائض، ،حدیث نمبر ٢١٠١)

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: " جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، وَمَا لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، وَلَكِنْ هُوَ ذَاكَ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا، وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَهَذَا أَحْسَنُ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2101

دادی کی میراث بیٹے کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دادی کے حق میں فرمایا یہ پہلی دادی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹے کی موجودگی میں چھٹا حصہ دیا، اور اس کا بیٹا زندہ تھا اس حدیث کو ہم مرفوعا اسی طریق سے پہچانتے ہیں، صحابہ کرام نے بیٹے کی موجودگی میں دادی کو وارث قرار دیا ہے، جب کہ بعض نے وارث نہیں ٹھہرایا ( بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا(ترمذی شریف-أبواب الفرائض، حدیث نمب ٢١٠٢)

باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا: " إِنَّهَا أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا وَابْنُهَا حَيٌّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ وَرَّثَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّةَ مَعَ ابْنِهَا وَلَمْ يُوَرِّثْهَا بَعْضُهُمْ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2102

ماموں کی میراث حضرت ابو امامہ ابن سہل بن حنیف فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری وساطت سے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا کوئی مولیٰ نہ ہو اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مولیٰ ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا ماموں بہن کا ترکہ پائے گا، اس باب میں حضرت عائشہ اور مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے (ترمذی شریف-أبواب الفرائض،بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الخَالِ ،حدیث نمبر٢١٠٣)

باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْخَالِ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكَرِبَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2103

ماموں کی میراث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا ماموں وارث بنے گا، یہ حدیث غریب ہے بعض نے اسے بلاواسطہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، مرسل بیان کیا، اس مسئلہ میں صحابہ کرام کا اختلاف ہے، بعض نے ماموں ، خالہ اور پھوپھی کو وارث قرار دیا ہے، اکثر اہل علم نے ذوی الارحام کی وراثت کے ضمن میں اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے،زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان کو وارث قرار نہیں دیتے بلکہ ترکہ بیت المال کا مال قرار دیتے ہیں (ترمذی شریف-أبواب الفرائض،بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الخَالِ حديث نمبر٢١٠٤ )

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ "، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ أَرْسَلَهُ بَعْضُهُمْ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، وَاخْتَلَفَ فِيهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَرَّثَ بَعْضُهُمُ الْخَالَ وَالْخَالَةَ وَالْعَمَّةَ، وَإِلَى هَذَا الْحَدِيثِ ذَهَبَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَوْرِيثِ ذَوِي الْأَرْحَامِ، وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَلَمْ يُوَرِّثْهُمْ، وَجَعَلَ الْمِيرَاثَ فِي بَيْتِ الْمَالِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2104

لاوارث کا ترکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام کھجور کی ٹہنی سے گر کر مر گیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اس کا کوئی وارث ہے،صحابہ کرام نے عرض کیا اس کا کوئی وارث نہیں،آپ نے فرمایا اس کا مال اس کے گاؤں کے بعض لوگوں کو دے دو،اس باب میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مروی ہے،یہ حدیث حسن ہے، (ترمذی شریف-أبواب الفرائض، بَابُ مَا جَاءَ فِي الَّذِي يَمُوتُ وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ،حدیث نمبر٢١٠٥)

باب مَا جَاءَ فِي الَّذِي يَمُوتُ وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبِهَانِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ابْنُ وَرْدَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ عِذْقِ نَخْلَةٍ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ وَارِثٍ "، قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَادْفَعُوهُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِ الْقَرْيَةِ "، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2105

آزاد کردہ غلام کو میراث دینا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے عہد رسالت میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا، اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا البتہ اس کا ایک ازاد کردہ غلام تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی میراث اس غلام کو دے دی، یہ حدیث حسن ہے،اس باب میں اہل علم کا یہ عمل ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا عصبہ وارث چھوڑے بغیر مر جائے تو اس کا مال مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کیا جائے گا (ترمذی شریف-أبواب الفرائض، بَابٌ فِي مِيرَاثِ المَوْلَى الأَسْفَلِ،حدیث نمبر ٢١٠٦)

باب فِي مِيرَاثِ الْمَوْلَى الأَسْفَلِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَابِ، إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ، وَلَمْ يَتْرُكْ عَصَبَةً أَنَّ مِيرَاثَهُ يُجْعَلُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2106

مسلمانوں اور کافر کے درمیان میراث نہیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے ہم سے ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان ، زہری سے اس کے ہم معنی روایت بیان کی ،اس باب میں حضرت جابر اور عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث حسن ہے، معمر اور کئی دوسرے حضرات نے زہری سے اس کے ہم معنی نقل کیا،مالک نے بواسطہ زہری، علی ابن حسین، عمرو بن عثمان اور اسامہ بن زید (رضی اللہ عنہما) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی، مالک کی روایت میں ان سے غلطی ہوئی، بعض نے بواسطہ مالک عمربن عثمان سے روایت کیا،اکثر اصحاب مالک نے عمر بن عثمان (بغیر واؤ کے) سے روایت کیا، عمر بن عثمان بن عفان، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں اور مشہور ہیں ہم عمر بن عثمان کو نہیں جانتے،اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے علماء کا مرتد کی وراثت میں اختلاف ہیں ، بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم نے اسے اس کے مسلمان ورثاء کا حق قرار دیا،اور بعض نے فرمایا مسلمان اس کے مال کے وارث نہیں ہوں گے انہوں نے حدیث پاک کو دلیل بنایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان،کافر کا وارث نہیں ہو سکتا، امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی قول ہے (ترمذی شریف-أبواب الفرائض، بَابُ مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ المِيرَاثِ بَيْنَ المُسْلِمِ وَالكَافِرِ, حدیث نمبر ٢١٠٧)

باب مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ الْمِيرَاثِ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْكَافِرِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ ".حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَ هَذَا، وَرَوَى مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَحَدِيثُ مَالِكٍ وَهْمٌ، وَهِمَ فِيهِ مَالِكٌ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مَالِكٍ، فَقَالَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ مَالِكٍ، قَالُوا: عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، وَلَدِ عُثْمَانَ، وَلَا يُعْرَفُ عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَاخْتَلَفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ فَجَعَلَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمُ الْمَالَ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَرِثُهُ وَرَثَتُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2107

دو مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دینوں (مذہب)والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے ،یہ حدیث غریب ہے ہم اسے حدیث جابر سے صرف ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے پہچانتے ہیں (ترمذی شریف-أبواب الفرائض بَابُ لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ حدیث نمبر ٢١٠٨)

باب لاَ يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2108

قاتل کی میراث باطل ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاتل وارث نہیں ہوتا،یہ حدیث صحیح نہیں ،یہ صرف اسی طریق سے معروف ہے ، اسحاق ابن عبداللہ ابو فروہ کو بعض اہل علم نے ترک کیا ہے،امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی ان میں سے ہیں ، اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ قاتل وارث نہیں ہوتا ،قتل غلطی سے ہو یا جان بوجھ کر ،بعض علماء فرماتے ہیں غلطی سے قتل ہو تو قاتل وارث بنے گا امام مالک رحمہ اللہ کا یہی قول ہے (ترمذی شریف-أبواب الفرائض،بَابُ مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ مِيرَاثِ القَاتِلِ حدیث نمبر ٢١٠٩)

باب مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ مِيرَاثِ الْقَاتِلِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ قَدْ تَرَكَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، مِنْهُمْ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْقَاتِلَ لَا يَرِثُ كَانَ الْقَتْلُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا كَانَ الْقَتْلُ خَطَأً فَإِنَّهُ يَرِثُ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2109

شوہر کی دیت سے بیوی کی میراث حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا دیت وارثوں پر ہے اور عورت خاوند کی دیت میں سے کسی چیز کی وارث نہیں ہو سکتی ضحاک بن سفیان کلابی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھا کہ اشیم ضبابی کو اس کے خاوند کی دیت سے وراثت دیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے (ترمذی شریف-أبواب الفرائض،بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ المَرْأَةِ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حدیث نمبر ٢١١٠)

باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ، وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا، فَأَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ: " أَنْ وَرِّثِ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Farayiz, Hadees No. 2110

Tirmizi Shareef : Abwabul Farayiz

|

Tirmizi Shareef : ابواب الفرائض

|

•