
ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے آقاؤں نے ولاء کی شرط لگائی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء اس کے لیے ہے جو قیمت ادا کرے یا جو نعمت کا والی ہو، اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اہل علم کا اس پر عمل ہے. ( ترمذی شریف ٢٩ - أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ حدیث نمبر ٢١٢٥)
ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے کی ممانعت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ، یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے بواسطہ عبداللہ بن دینار حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے جانتے ہیں ،شعبہ، سفیان ثوری اور مالک بن انس نے اسے عبداللہ بن دینار سے روایت کیا شعبہ سے منقول ہے انہوں نے فرمایا جب حضرت عبداللہ بن دینار یہ حدیث بیان کر رہے تھے تو میرا دل چاہتا تھا کہ وہ مجھے اجازت دیں تو میں اٹھ کر ان کی پیشانی چوم لوں یحیٰی بن سلیم نے یہ حدیث بواسطہ عبداللہ ابن عمر اور نافع حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی یحیٰی بن سلیم سے اس میں غلطی واقع ہوئی، صحیح ہے بواسطہ عبداللہ ابن عمر عبداللہ بن دینار اور عبداللہ ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اسی طرح متعدد لوگوں نے عبید اللہ بن عمر سے نقل کیا عبداللہ بن دینار اس حدیث میں متفرد ہیں. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ حدیث نمبر ٢١٢٦)
کسی غیر کو اپنا باپ یا ولی بنانا حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا جو شخص یہ گمان کرے کہ ہمارے پاس اللہ تعالی کی کتاب اور اس صحیفہ کے سوا کوئی اور کتاب ہے اس نے جھوٹ بولا،اس صحیفہ میں اونٹوں کے دانتوں کے دیت اور زخموں کے احکامات مذکور ہیں، اسی خطبہ میں آپ نے فرمایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، مدینہ طیبہ ، حیر (پہاڑ) سے ثور (پہاڑ) تک حرم ہے پس جو کوئی اس میں کوئی بدعت نکالے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ تعالی کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے کوئی فرض و نفل قبول نہیں کرے گا اور جو شخص کسی غیر کو باپ یا ولی مانے اس پر بھی اللہ تعالی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اس سے کوئی فرض و نفل قبول نہیں کیا جائے گا تمام مسلمانوں کی پناہ ایک جیسی ہے ایک ادنی مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے ، یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض نے اسے بواسطہ ابراہیم تیمی اور حارث بن سوید حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے اس کے ہم معنی روایت کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے علاوہ بھی مروی ہے. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ أَوْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ حدیث نمبر ٢١٢٧)
باپ کا اولاد سے انکار کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قبیلہ بنو فزارہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ! میری بیوی نے سیاہ لڑکا جنا ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے عرض کیا ،، جی ہاں ،، فرمایا ان کا رنگ کیسا؟ عرض کیا سرخ،، فرمایا ان میں سیاہ بھی ہیں ،عرض کیا جی ہاں سیا رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا ان میں یہ رنگ کہاں سے آگیا ، اس نے کہا، شاید کسی رنگ نے اسے کھینچا ہوگا ،آپ نے فرمایا شاید اسے بھی کسی رنگ نے کھینچا ہو یہ حدیث حسن صحیح ہے. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْوَلَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَنْتَفِي مِنْ وَلَدِهِ حدیث نمبر ٢١٢٨
قافہ جانے والے لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ( ایک دن ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوش خوش ان کے پاس تشریف لائے کہ اے چہرہ انور کے خطوط چمک رہے تھے فرمایا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ابھی ابھی مجزر(قیافہ شناس) نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا اور کہا یہ قدم ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے ابن عینیہ نے اسے بواسطہ زہری اور عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا اس میں اضافہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز حضرت زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کے پاس سے گزرا انہوں نے سر ڈھانک رکھے تھے جبکہ پاؤں کھلے تھے تو مجززنے کہا ان قدموں کا ایک دوسرے سے تعلق ہے اسی طرح سعید بن عبدالرحمن اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ سفیان بن عینیہ ، زہری سے روایت کیا بعض علماء نے اس حدیث کے مطابق قیافہ لگانے کو درست کہنا. (ترمذی شریف. أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي القَافَةِ حدیث نمبر ٢١٢٩)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ دینے پر رغبت دلانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے کو تحائف دیا کرو کیونکہ یہ دل کی کھوٹ کو دور کرتا ہے کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو (ہدیہ دینے میں ) حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کے کھر کا ایک ٹکرا ہی ہو، یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے ابو معشر کا نام نجیح مولیٰ بنو ہاشم ہے بعض اہل علم نے اس کے حفظ کے بارے میں کلام کیا ہے. ( ترمذی شریف, أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابٌ فِي حَثِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّهَادِي حدیث نمبر ٢١٣٠)
ہبہ واپس لینے کی برائی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہدیہ دے کر واپس لینے والے کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتے کھاتے جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کرتا ہے پھر اسے چاٹ لیتا ہے، اس باب میں حضرت ابن عباس اور عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّجُوعِ فِي الهِبَةِ حدیث نمبر ٢١٣١)
ہبہ واپس لینے کی برائی حضرت ابن عمر اورابن عباس (رضی اللہ عنہم) دونوں مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ کسی کے لیے عطیہ دے کر واپس لینا جائز نہیں ، البتہ باپ اپنے بیٹے کو دے (تو واپس لے سکتا ہے) اور عطیہ دے کر واپس لینے والے کی مثال اس کتے جیسی ہے جس نے کھایا جب سیر ہوا تو قے کر دی اور پھر اسے چاٹ لیا، یہ حدیث حسن صحیح ہے ، امام شافعی فرماتے ہیں کسی کے لیے دیا ہوا عطیہ واپس لینا جائز نہیں باپ بیٹے کو دیا ہوا عطیہ واپس لے سکتا ہے امام شافعی نے اسی حدیث کو دلیل بنایا فائدہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اولاد سے عطیہ واپس لینے کا مطلب یہ ہے کہ باپ اس سے لے کر بوقت ضرورت اس کی ضروریات پر خرچ کریں جس طرح دیگر اموال اس کے مفاد میں خرچ کرتا ہے کیونکہ باپ بوقت ضرورت اولاد کے مال میں تصرف کر سکتا ہے. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّجُوعِ فِي الهِبَةِ حدیث نمبر ٢١٣٢)
Tirmizi Shareef : Abwabul Walayi Wal Hibati
|
Tirmizi Shareef : ابواب الولاء والھبۃ
|
•