asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Walayi Wal Hibati

From 2125 to 2132

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے آقاؤں نے ولاء کی شرط لگائی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء اس کے لیے ہے جو قیمت ادا کرے یا جو نعمت کا والی ہو، اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اہل علم کا اس پر عمل ہے. ( ترمذی شریف ٢٩ - أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ حدیث نمبر ٢١٢٥)

باب مَا جَاءَ أَنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، أَوْ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Walayi Wal Hibati , Hadees No. 2125

ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے کی ممانعت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ، یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے بواسطہ عبداللہ بن دینار حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے جانتے ہیں ،شعبہ، سفیان ثوری اور مالک بن انس نے اسے عبداللہ بن دینار سے روایت کیا شعبہ سے منقول ہے انہوں نے فرمایا جب حضرت عبداللہ بن دینار یہ حدیث بیان کر رہے تھے تو میرا دل چاہتا تھا کہ وہ مجھے اجازت دیں تو میں اٹھ کر ان کی پیشانی چوم لوں یحیٰی بن سلیم نے یہ حدیث بواسطہ عبداللہ ابن عمر اور نافع حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی یحیٰی بن سلیم سے اس میں غلطی واقع ہوئی، صحیح ہے بواسطہ عبداللہ ابن عمر عبداللہ بن دینار اور عبداللہ ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اسی طرح متعدد لوگوں نے عبید اللہ بن عمر سے نقل کیا عبداللہ بن دینار اس حدیث میں متفرد ہیں. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ حدیث نمبر ٢١٢٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ "، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ومالك بن أنس، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَيُرْوَى عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، أَذِنَ لِي حَتَّى كُنْتُ أَقُومُ إِلَيْهِ فَأُقَبِّلُ رَأْسَهُ، وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَهْمٌ، وَهِمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَتَفَرَّدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Walayi Wal Hibati , Hadees No. 2126

کسی غیر کو اپنا باپ یا ولی بنانا حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا جو شخص یہ گمان کرے کہ ہمارے پاس اللہ تعالی کی کتاب اور اس صحیفہ کے سوا کوئی اور کتاب ہے اس نے جھوٹ بولا،اس صحیفہ میں اونٹوں کے دانتوں کے دیت اور زخموں کے احکامات مذکور ہیں، اسی خطبہ میں آپ نے فرمایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، مدینہ طیبہ ، حیر (پہاڑ) سے ثور (پہاڑ) تک حرم ہے پس جو کوئی اس میں کوئی بدعت نکالے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ تعالی کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے کوئی فرض و نفل قبول نہیں کرے گا اور جو شخص کسی غیر کو باپ یا ولی مانے اس پر بھی اللہ تعالی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اس سے کوئی فرض و نفل قبول نہیں کیا جائے گا تمام مسلمانوں کی پناہ ایک جیسی ہے ایک ادنی مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے ، یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض نے اسے بواسطہ ابراہیم تیمی اور حارث بن سوید حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے اس کے ہم معنی روایت کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے علاوہ بھی مروی ہے. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ أَوْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ حدیث نمبر ٢١٢٧)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ أَوِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ، فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، صَحِيفَةٌ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءٌ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، فَقَدْ كَذَبَ، وَقَالَ فِيهَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Walayi Wal Hibati , Hadees No. 2127

باپ کا اولاد سے انکار کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قبیلہ بنو فزارہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ! میری بیوی نے سیاہ لڑکا جنا ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے عرض کیا ،، جی ہاں ،، فرمایا ان کا رنگ کیسا؟ عرض کیا سرخ،، فرمایا ان میں سیاہ بھی ہیں ،عرض کیا جی ہاں سیا رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا ان میں یہ رنگ کہاں سے آگیا ، اس نے کہا، شاید کسی رنگ نے اسے کھینچا ہوگا ،آپ نے فرمایا شاید اسے بھی کسی رنگ نے کھینچا ہو یہ حدیث حسن صحیح ہے. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْوَلَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَنْتَفِي مِنْ وَلَدِهِ حدیث نمبر ٢١٢٨

باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَنْتَفِي مِنْ وَلَدِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا أَلْوَانُهَا؟ "، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: " فَهَلْ فِيهَا أَوْرَقُ "، قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: " أَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ "، قَالَ: لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهَا، قَالَ: " فَهَذَا لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Walayi Wal Hibati , Hadees No. 2128

قافہ جانے والے لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ( ایک دن ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوش خوش ان کے پاس تشریف لائے کہ اے چہرہ انور کے خطوط چمک رہے تھے فرمایا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ابھی ابھی مجزر(قیافہ شناس) نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا اور کہا یہ قدم ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے ابن عینیہ نے اسے بواسطہ زہری اور عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا اس میں اضافہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز حضرت زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کے پاس سے گزرا انہوں نے سر ڈھانک رکھے تھے جبکہ پاؤں کھلے تھے تو مجززنے کہا ان قدموں کا ایک دوسرے سے تعلق ہے اسی طرح سعید بن عبدالرحمن اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ سفیان بن عینیہ ، زہری سے روایت کیا بعض علماء نے اس حدیث کے مطابق قیافہ لگانے کو درست کہنا. (ترمذی شریف. أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي القَافَةِ حدیث نمبر ٢١٢٩)

باب مَا جَاءَ فِي الْقَافَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: هَذِهِ الْأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَزَادَ فِيهِ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا مَرَّ عَلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ "، وَهَكَذَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي إِقَامَةِ أَمْرِ الْقَافَةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Walayi Wal Hibati , Hadees No. 2129

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ دینے پر رغبت دلانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے کو تحائف دیا کرو کیونکہ یہ دل کی کھوٹ کو دور کرتا ہے کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو (ہدیہ دینے میں ) حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کے کھر کا ایک ٹکرا ہی ہو، یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے ابو معشر کا نام نجیح مولیٰ بنو ہاشم ہے بعض اہل علم نے اس کے حفظ کے بارے میں کلام کیا ہے. ( ترمذی شریف, أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابٌ فِي حَثِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّهَادِي حدیث نمبر ٢١٣٠)

باب فِي حَثِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّهَادِي حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ، وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا، وَلَوْ شِقَّ فِرْسِنِ شَاةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو مَعْشَرٍ اسْمُهُ نَجِيحٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Walayi Wal Hibati , Hadees No. 2130

ہبہ واپس لینے کی برائی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہدیہ دے کر واپس لینے والے کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتے کھاتے جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کرتا ہے پھر اسے چاٹ لیتا ہے، اس باب میں حضرت ابن عباس اور عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّجُوعِ فِي الهِبَةِ حدیث نمبر ٢١٣١)

بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ​ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُكَتِبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا، كَالْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ، ثُمَّ عَادَ فَرَجَعَ فِي قَيْئِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.

Tirmizi Shareef, Abwabul Walayi Wal Hibati , Hadees No. 2131

ہبہ واپس لینے کی برائی حضرت ابن عمر اورابن عباس (رضی اللہ عنہم) دونوں مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ کسی کے لیے عطیہ دے کر واپس لینا جائز نہیں ، البتہ باپ اپنے بیٹے کو دے (تو واپس لے سکتا ہے) اور عطیہ دے کر واپس لینے والے کی مثال اس کتے جیسی ہے جس نے کھایا جب سیر ہوا تو قے کر دی اور پھر اسے چاٹ لیا، یہ حدیث حسن صحیح ہے ، امام شافعی فرماتے ہیں کسی کے لیے دیا ہوا عطیہ واپس لینا جائز نہیں باپ بیٹے کو دیا ہوا عطیہ واپس لے سکتا ہے امام شافعی نے اسی حدیث کو دلیل بنایا فائدہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اولاد سے عطیہ واپس لینے کا مطلب یہ ہے کہ باپ اس سے لے کر بوقت ضرورت اس کی ضروریات پر خرچ کریں جس طرح دیگر اموال اس کے مفاد میں خرچ کرتا ہے کیونکہ باپ بوقت ضرورت اولاد کے مال میں تصرف کر سکتا ہے. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْوَلَاءِ وَالْهِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّجُوعِ فِي الهِبَةِ حدیث نمبر ٢١٣٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفًعَانِ الْحَدِيثَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ للِرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلا الْوِالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا، كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حِدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ الشَّافِعيُّ: لَا يَحِلُّ لِمَنْ وَهَبَ هِبَةً أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيمَا أَعْطَى وَلَدَهُ، وَاحتجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Walayi Wal Hibati , Hadees No. 2132

Tirmizi Shareef : Abwabul Walayi Wal Hibati

|

Tirmizi Shareef : ابواب الولاء والھبۃ

|

•