
تقدیر میں مباحثہ کی ممانعت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم تقدیر کے بارے میں با ہم گفتگو کر رہے تھے (یہ دیکھ کر) آپ غضب ناک ہو گئے یہاں تک کہ چہرہ اقدس سرخ ہو گیا گویا کہ آپ کے مبارک رخساروں پر انار نچوڑ دیا گیا ہو آپ نے فرمایا کیا تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے یا اسی بات کے لیے میں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں تم سے پہلے لوگوں نے جب اس بارے ( تقدیر کے بارے) میں اختلاف کیا تو ہلاک ہوئے میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ اس بارے میں مت جھگڑو ، اس باب میں حضرت عمر، عائشہ اور انس رضی اللہ عنہ عنہم سے بھی روایات ہیں، یہ حدیث غریب ہیں اور ہم اسے صرف اسی طریق یعنی صالح مری کی روایت سے پہچانتے ہیں صالح مری سے کئی غریب روایت مروی ہیں جن میں وہ متفرد ہے. (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِي الخَوْضِ فِي القَدَرِ حدیث نمبر ٢١٣٣)
حضرت آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے حجاج کے بارے میں بیان کیا گیا، ان دونوں پر سلامتی ہوں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں (عالم ارواح میں) حضرت آدم اور حضرت موسی علیہما السلام کا مباحثہ ہوا ، حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا،، اے آدم تجھے اللہ تعالی نے اپنے دست مبارک سے پیدا کیا اور تم میں اپنی خاص روح پھونکی پھر تیری لغزش کے باعث لوگوں کو جنت سے نکالا گیا ،، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، حضرت آدم علیہ السلام نے جواباً کہا اے موسیٰ! تو وہ ہے جسے اللہ تعالی نے شرف ہم کلامی کے ذریعے برگزیدہ کیا ، کیا تو مجھے ایسے عمل پر ملامت کرتا ہے جسے اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے قبل میرے لیے لکھ دیا تھا؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس طرح حضرت آدم علیہ السلام (گفتگو میں) حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے، اس باب میں حضرت عمر اور جندب رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے یہ حدیث اس طریق سے یعنی سلیمان تیمی کے واسطہ سے اعمش سے حسن غریب ہے، بعض راویوں نے اس روایت کو اعمش سے ابو صالح اور انہوں نے ابو ہریرہ کے واسطہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے اور بعض نے اعمش سے اس طرح روایت کیا کہ انہوں نے ابو صالح اور انہوں نے ابو سعید کے واسطے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کئی طریقوں سے مروی ہے. ( ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ حدیث نمبر ٢١٣٤)
بدبختی اور خوش بختی حضرت سالم اپنے والد حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں عرض کیا ،، یا رسول اللہ! ہم جو عمل کرتے ہیں کیا نیا پیدا ہوتا ہے یا نئے سرے سے اس کا اغاز ہوتا ہے یا ان باتوں سے ہے جن سے فراغت ہو چکی ہے ، آپ نے فرمایا ،، اے خطاب کے بیٹے ! یہ ان باتوں سے ہے جن سے فراغت ہو چکی اور ہر شخص کے لیے وہ کام آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا جو شخص ، خوش بخت لوگوں سے ہے وہ اعمال سعادت کرتا ہے اور جو بدبختوں سے ہے وہ اعمال شقاوت کا مرتکب ہوتا ہے ، اس باب میں حضرت علی ، حذیفہ بن اسید ، انس اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے. (ترمذی شریف- أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّقَاءِ وَالسَّعَادَةِ حدیث نمبر ٢١٣٥)
بدبختی اور خوش بختی حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اس دوران کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور زمین کرید رہے تھے اچانک آپ نے سر اقدس آسمانوں کی طرف اٹھایا پھر فرمایا ،، تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ جہنم یا جنت میں معلوم ہو چکا یا ( وکیع کے الفاظ میں) لکھ دیا گیا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم توکل نہ کر لیں (یعنی عمل سے بے نیاز ہو جائیں) آپ نے فرمایا نہیں! بلکہ عمل کرو ہر شخص کے لیے وہ عمل آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا، یہ حدیث حسن صحیح ہے. (ترمذی شریف - أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّقَاءِ وَالسَّعَادَةِ حدیث نمبر ٢١٣٦)
اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا دراں حا لیکہ آپ صادق ومصدوق ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع کی جاتی ہے چالیس دن بعد گاڑھا خون بن جاتا ہے اور پھر چالیس دن میں گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے پھر اللہ تعالی اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اس سے چار باتوں یعنی اس (بچے) کے رزق ،، عمر ،، عمل اور سعادت و شقاوت کے لکھنے کا حکم ہوتا ہے پس اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تم میں سے کوئی اہل جنت کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر تقدیر الہی اس کی طرف سبقت کرتی ہے تو اس کا خاتمہ اہل جہنم کے اعمال پر ہوتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور ایک آدمی (عمر بھر) جہنمیوں کے اعمال کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر تقدیر الہی اس کی طرف دوڑتی ہے اور اس کا خاتمہ جہنمیوں کے اعمال پر ہوتا ہے پھر وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے ،، حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی اور اسی کی مثل ذکر کیا اس، باب میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی روایات مروی ہیں احمد بن حسن کہتے ہیں میں نے حضرت امام احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا کہ میری آنکھوں نے یحییٰ بن سعید قطان کی مثل (کوئی دوسرا ) نہیں دیکھا یہ حدیث حسن صحیح ہے شعبہ اور ثوری نے اعمش سے اس کی مثل روایت کی محمد بن علاء نے وکیع کے واسطے سے انہوں نے بواسطہ اعمش حضرت زید سے اس کی مثل حدیث روایت کی. ( ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الأَعْمَالَ بِالخَوَاتِيمِ حدیث نمبر ٢١٣٧)
ہر بچہ اسلامی فطرت پر پیدا ہوتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ ملت (اسلامیہ ) پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی ، عیسائی اور مشرک بنا دیتے ہیں عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! جو بچے جوان ہونے سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں ان کا کیا حال ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالی خوب جانتا ہے کہ انہوں نے کیا کرنا تھا ،، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی روایت کرتے ہیں لیکن وہاں یولد علی الملة ،، کی جگہ ،، يولد على الفطرة ،، کے الفاظ ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے شعبہ وغیرہ نے اعمش سے یہ روایت بیان کی انہوں نے ابو صالح کے واسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک نقل کیا اور اس میں يولد على الفطرة کے الفاظ ہیں (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ حدیث نمبر ٢١٣٨)
صرف دعا ہی تقدیر کو بدلتی ہے حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تقدیر کو دعا ہی بدل سکتی ہے اور نیکی سے عمر بڑھتی ہے، اس باب میں ابو اسید سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اس کو صرف یحیٰی بن ضریس کے حوالے سے جانتے ہیں ابو مودود ، دو ہیں ایک کا نام فضہ ہے اور دوسرے عبدالعزیز بن ابی سلمان ہیں اول الذکر بصری ہیں جبکہ دوسرے مدینہ کے رہنے والے ہیں دونوں ہم عصر ہیں اور اس حدیث کے راوی ابو مودود فضہ بصری ہیں، (ترمذی شریف، أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ لَا يَرُدُّ القَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ حدیث نمبر ٢١٣٩)
لوگوں کے دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لائے کیا آپ کو ہمارا دین سے پھر جانے کا ڈر ہے آپ نے فرمایا ہاں انسانوں کے دل اللہ تعالی کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جس طرح چاہے پھیر دے یعنی اس کے قبضے میں ہے، اس باب میں نواس بن سمعان ، ام سلمہ ، عائشہ اور ابوذر رضی اللہ عنہم سے حدیث پاک مروی ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اسی طرح متعدد راویوں نے اعمش سے بواسطہ سفیان حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور بعض نے اعمش سے بواسطہ ابو سفیان و جابر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کی ہے اور ابو سفیان کے بواسطہ سے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے روایت زیادہ صحیح ہے. (ترمذی شریف - أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ القُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيِ الرَّحْمَنِ حدیث نمبر ٢١٤٠)
جنتیوں اور جہنمیوں کی فہرست حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں (ایک دن) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے دست مبارک میں دو کتابیں تھیں آپ نے فرمایا کیا تم ان دو کتابوں کے بارے میں جانتے ہو؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ کے بتائے بغیر نہیں جانتے آپ نے داہنے ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا یہ تمام جہانوں کے پالنے والے کی طرف سے ایک کتاب ہے اس میں جنتیوں ان کے آبا ؤاجداد اور قبائل کے نام ہیں آخر میں ان کی میزان ہے اب ان میں کبھی بھی کمی یا زیادتی نہ ہوگی پھر بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا اس میں اہل جہنم ان کے آبا ؤاجداد اور قبائل کے نام ہیں آخر میں ٹوٹل ہیں اور اب کبھی بھی ان میں کمی یا زیادتی نہ ہوگی صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر انجام کار (کے لکھنے) سے فراغت ہو چکی ہے تو اب عمل کی کیا ضرورت ہے آپ نے فرمایا سیدھی راہ چلو اور میانہ روی اختیار کرو کیونکہ جنتی کا خاتمہ اعمال جنت پر ہوگا اگرچہ وہ (زندگی بھر) کیسا ہی عمل کرتا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں سے اشارہ فرمایا اور ان کتابوں کو فیک دیا اور فرمایا تمہارا رب اپنے بندوں سے فارغ ہو گیا ایک جماعت جنتی ہے اور ایک دوزخ میں جائے گی ، قتیبہ نے بکر بن مضر سے اور انہوں نے ابو قبیل سے اسی کی مثل روایت کی ہے اور اس باب میں حضرت ابن عمر سے بھی روایت مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور ابو قبیل کا نام حی بن ہانی ہے،، ف،، حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنتیوں اور جہنمیوں کے ناموں ان کی ولدیت ان کے قبائل حتی کہ ان کی تعداد سے بھی باخبر ہیں، ( ترمذی - أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا لِأَهْلِ الجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ حدیث نمبر ٢١٤١)
جنتیوں اور جہنمیوں کی فہرست حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالی کسی بندہ کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو عمل پر لگا دیتا ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ! کس طرح اس سے عمل کراتا ہے ؟آپ نے فرمایا اسے موت سے پہلے اعمال صالحہ کی توفیق بخشتا ہے یہ حدیث صحیح ہے ،، (ترمذی شریف-أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا لِأَهْلِ الجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ حدیث نمبر ٢١٤٢)
بیماری متعدی نہیں ہوتی اور ہامہ و صفرکی کوئی حقیقت نہیں ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا ایک کی بیماری دوسری کی طرف متعدی نہیں ہوتی ایک اعرابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! خارشی حشفہ والا اونٹ ، دوسرے اونٹوں کے قریب ہوتا ہے پھر وہ تمام اونٹوں کو خارشی بنا دیتا ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی نہ تو ایک بیمار سے دوسرے کو بیماری لگتی ہے اور نہ ہی صفر کی کوئی حقیقت ہے اللہ تعالی نے ہر نفس کو پیدا فرمایا پھر اس کی زندگی رزق اور مصائب لکھ دیے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ ابن عباس اور انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی روایات مذکور ہیں میں (امام ترمذی) نے محمد بن عمرو صفوان کو کہتے ہوئے سنا کہ علی ابن مدینی کہتے ہیں اگر مجھے مقام ابراہیم اور رکن کے درمیان کھڑا کر کے قسم دلائی جائے تو میں قسم اٹھا کر کہوں گا کہ میں نے عبدالرحمن بن مہدی سے زیادہ علم والا کوئی نہیں دیکھا، ف ،، ہامہ رات کو ایک اڑنے والا ایک پرندے ہیں بعض نے کہا الو ہے اس سے بعض لوگ بد فالی لیتے تھے (صفر) عربوں کا عقیدہ تھا کہ انسان کے پیٹ میں ایک جانور ہے جو بھوک کے وقت تڑپتا ہے اور بعض اوقات انسان کی جان لے لیتا ہے، علاوہ ازیں عرب صفر کے مہینے میں بعض اوقات جنگ حرام سمجھتے اور بعض اوقات حلال حضور علیہ السلام نے فرمایا یہ بات صحیح نہیں (مترجم) (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ حدیث نمبر ٢١٤٣)
خیر و شر کے مقدر ہونے پر ایمان حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک بندہ تقدیر کے خیر و شر پر ایمان نہ لائے مومن نہیں ہو سکتا ، اسی طرح جب تک وہ یہ نہ جان لے کہ جو مصیبت پہنچتی ہے وہ اس سے خطا کرنے والی نہیں اور جو مصیبت اس سے خطا کر گئی( نہیں پہنچی) وہ اسے بچنے والی نہیں تھی، اس باب میں حضرت عبادہ ،جابر اور عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی روایات مروی ہیں، یہ حدیث جابر کی حدیث سے غریب ہے ہم اسے صرف عبداللہ ابن میمون کی حدیث سے پہچانتے ہیں اور عبداللہ ابن میمون منکر حدیث تھا، (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِيمَانِ بِالقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حدیث نمبر ٢١٤٤)
خیر و شر کے مقدر ہونے پر ایمان حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب تک چار باتوں پر ایمان نہ لائے مومن نہیں ہو سکتا اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک میں اللہ تعالی کا رسول ہوں مجھے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ،، محمد بن غیلان نے نضر بن شمیل کے واسطہ سے شعبہ سے اسی کے ہم معنی روایت بیان کی البتہ اس نے ربع سے ایک نامعلوم مرد کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے شعبہ سے ابو داؤد کی روایت میرے (امام ترمذی کے) نزدیک نضر کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے اس طرح کئی دوسرے راویوں نے منصور اور ربع کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے اور اس میں ،، عن رجل ،، نہیں ہے، جارود کہتے ہیں میں نے وکیع کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ربع بن حراش نے اسلام میں کبھی جھوٹ نہیں بولا،، (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِيمَانِ بِالقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حدیث نمبر ٢١٤٥)
موت اپنے مقررہ مقام پر آتی ہے حضرت مطربن عکامس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالی کسی شخص کے لیے کسی مقام پر موت لکھ دیتا ہے تو وہاں اس کے لیے کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے، اس باب میں ابو عزہ سے بھی روایت ہے یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہمارے نزدیک رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مطر بن عکامس کی اس حدیث کے سوا کوئی دوسری روایت معروف نہیں ،، ہم سے محمود بن غیلان نے اور ان سے مومل اور ابو داؤد حفری وہ سفیان کی روایت اسی کے ہم معنی بیان کی،، (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ النَّفْسَ تَمُوتُ حَيْثُ مَا كُتِبَ لَهَا حدیث نمبر ٢١٤٦)
موت اپنے مقررہ مقام پر آتی ہے حضرت ابوعزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالی کسی بندے کے لیے کسی مقام کو جائے موت قرار دیتا ہے تو اس طرف اس کے یہ کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے( راوی کو شک ہے )کہ،، اليها حاجه ،، کے الفاظ ہیں یا ،، بها حاجه ،، کے الفاظ یہ حدیث صحیح ہے اور ابو عزہ کی صحابیت ثابت ہے ان کا نام یسار بن عبد ہے اور ابو الملیح بن اسامہ کا نام عامر بن اسامہ بن عمیر ھذلی ہے ،، (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ النَّفْسَ تَمُوتُ حَيْثُ مَا كُتِبَ لَهَا حدیث نمبر ٢١٤٧)
تقدیر الہی کو دم جھاڑ اور دوا نہیں ٹال سکتے ابو خزامہ کے بیٹے اپنے والد ابو خزامہ سے روایت کرتے ہیں ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! بتائیے ہم جو ، دم جھاڑ دوا یا کوئی حفاظتی تدبیر اختیار کرتے ہیں کیا یہ چیزیں اللہ تعالی کی تقدیر کو ٹال سکتی ہے اپ نے فرمایا یہ علاج وغیرہ بھی تقدیر الہی میں سے ہے یہ حدیث ہم صرف زہری کے حوالے سے جانتے ہیں کئی راویوں نے اس کو سفیان سے وہ زہری اور ابو خزامہ کے حوالے سے روایت کیا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے اور اسی طرح کئی راویوں نے اس کو زہری ابو خزامہ کے واسطے سے ان کے باپ سے روایت کیا ہے نوٹ: جھاڑ پھونک یا دوائی وغیرہ کو بطور اسباب استعمال کرنا جائز ہے موثر حقیقی ذات باری تعالی ہے. (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ لَا تَرُدُّ الرُّقَى وَلَا الدَّوَاءُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا حدیث نمبر ٢١٤٨)
فرقہ قدریہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا میری امت کے دو فرقے ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ایک فرقہ مرجیہ اور دوسرا فرقہ قدریہ، اس باب میں حضرت عمر اور ابن عمر اور رافع بن خدیج سے بھی روایات مروی ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ،، محمد بن رافع نے دو مختلف طرق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے واسطہ سے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے،، عقائد ،،(١) فرقہ مرجیہ کا عقیدہ ہے کہ انسان مجبور محض ہے سب کچھ تقدیر الہی سے ہوتاہے (٢) فرقہ قدریہ کا نظریہ یہ ہے کہ بندوں کے افعال خود ان کی اپنی قدرت سے ہے اللہ تعالی کی قدرت اور ارادے کا اس میں کوئی دخل نہیں (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي القَدَرِيَّةِ حدیث نمبر ٢١٤٩)
حضرت عبداللہ ابن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی صورت اس حالت میں بنائی گئی کہ اس کے پہلو میں ننانوے خواہشات ہیں اگر وہ( زندگی بھر ) ان تمام تمناؤں سے محفوظ بھی رہے تو بڑھاپے میں گر پڑتا ہے یہاں تک کہ اسے موت آجائے یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اس طریق سے جانتے ہیں اور ابو العوام سے مراد عمران اور یہ ابن داور قطان ہیں. (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابٌ حدیث نمبر ٢١٥٠)
قضائے الہی پر راضی ہونا حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کے فیصلے پر رضا مندی انسان کی خوش بختی ہے ، اور اللہ تعالی سے طلب خیر کو نہ کرنا انسان کی بدبختی ہے ، نیز قضائے الہی پر ناراض ہونا بھی بدبختی ہے ، یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے محمد بن ابی حمید کے طریق سے پہچانتے ہیں انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے اور یہ ابراہیم مدینی ہے جو کہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے، (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّضَا بِالقَضَاءِ حدیث نمبر ٢١٥١)
بدعت مذمومہ نافع کہتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے آپ نے فرمایا مجھے خبر پہنچی ہے کہ اس نے دین میں (ایسی ) نیٔ بات پیدا کی ہے جس کی کوئی اصل نہیں اگر ایسا ہے تو اسے میری طرف سے سلام نہ کہنا کیونکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اس امت میں یا (فرمایا )میری امت میں( راوی کو شک ہے ) زمین میں دھنسا دینا یا چہروں کا مسخ کر دینا اہل قدر میں ہے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہیں اور ابو ضخر کا نام حمید بن زیادہے، ف ، ہر وہ نئی بات بدعت مذمومہ ہے جس کی اصل کوئی نہ ہو اور اس سے ترک سنت لازم آئے اور اگر اس کی اصل شریعت میں ہے اور وہ اچھا کام ہے تو وہ بدعت حسنہ ہے علماء فرماتے ہیں بدعت کی پانچ قسم ہے ( ١) ایک بدعت واجبہ (٢) بدعت مندوبہ ( ٣) بدعت حرام ( ٤) بدعت مکروہ ( ٥) بدعت مباحہ ، اس لیے ہر نئی بات کو بدعت مذمومہ نہیں کہا جائے گا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کو باجماعت تراویح پڑھتے دیکھ کر فرمایا یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے، (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابٌ حدیث نمبر ٢١٥٢)
قضائے الہی پر راضی ہونا حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں(خسف) اور (مسخ )کا عذاب ہوگا اور یہ عذاب تقدیر کے جھٹلانے والوں پر آے گا، (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّضَا بِالقَضَاءِ حدیث نمبر ٢١٥٣)
قضائے الہی پر راضی ہونا ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر میں نے، اللہ تعالیٰ نے اور تمام انبیاء نے لعنت بھیجی ہے: (١) اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا (٢) اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا (٣) طاقت کے ذریعہ غلبہ حاصل کرنے والا تاکہ اس کے ذریعہ اسے عزت دے جسے اللہ نے ذلیل کیا ہے، اور اسے ذلیل کرے جسے اللہ نے عزت بخشی ہے (٤) اللہ کی محرمات کو حلال سمجھنے والا (٥) میرے کنبہ میں سے اللہ کی محرمات کو حلال سمجھنے والا (٦) اور میری سنت ترک کرنے والا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن ابوموالی نے یہ حدیث اسی طرح «عن عبيد الله ابن عبدالرحمٰن بن موهب عن عمرة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے۔ سفیان ثوری، حفص بن غیاث اور کئی لوگوں نے اسے «عن عبيد الله بن عبدالرحمٰن بن موهب عن علي بن حسين عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حدیث نمبر ٢١٥٤)
قضا الہی پر راضی ہونا عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں میں مکہ مکرمہ آیا تو میری ملاقات عطاءبن ابی رباح سے ہوئی ، میں نے کہا اے ابو محمد ! اہل بصرہ تقدیر کے بارے میں مباحثہ کرتے ہیں انہوں نے کہا اے بیٹے کیا تو قرآن پڑھ سکتا ہے ؟ میں نے کہا ،، ہاں ،، (میں نے پڑھا ہے ) انہوں نے کہا( سورہ زخرف پڑھو) کہتے ہیں میں نے پڑھا (حم وَالكِتَابِ المُبِينِ إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ) ،، روشن کتاب کی قسم ہم نے اسے عربی قران بنایا تاکہ تم سمجھو اور یہ ہمارے پاس ام الکتاب ( یعنی لوح محفوظ) میں ہے جو بلند اور حکمت بھری ہے ،، عطاء بن ابی رباح نے کہا کیا تم جانتے ہو ؟انہوں نے فرمایا وہ ایک کتاب ہے جسے اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے سے پہلے لکھ دیا ہے اس کتاب میں ہے کہ فرعون جہنمی ہے ، اور اسی میں ہے ( تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ) (ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹیں ) عطاء کہتے ہیں پھر میں صحابی رسول ولید بن عبادہ بن صامت سے ملا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے والد نے وصال کے وقت کیا وصیت فرمائی ؟ انہوں نے فرمایا ( میرے والد نے )مجھے بلا کر فرمایا اے بیٹے اللہ تعالی سے ڈر اور یہ بات جان لے کہ اگر تو اللہ تعالی سے ڈرے تو اللہ تعالی پر اور ہر خیر و شر کے جانب الہی سے مقدر ہونے پر ایمان لائے گا اگر تو اس کے خلاف پر مر جائے تو جہنم میں داخل ہوگا میں نے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور فرمایا ،،لکھ ،، قلم نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر کو لکھ جو ہو چکا اور جو ابد تک ہوگا، یہ حدیث غریب ہے، (ترمذی شریف-أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّضَا بِالقَضَاءِ حدیث نمبر ٢١٥٥)
قضائے الہی پر راضی ہونا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے میں نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیر کو پیدا فرمایا, یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے, (ترمذی شریف -أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّضَا بِالقَضَاءِ حدیث نمبر ٢١٥٦)
قضا الہی پر راضی ہونا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش ، رسول کریم علیہ التحيۃ والتسليم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر تقدیر کے بارے میں جھگڑنے لگے تو یہ آیت نازل ہوئی ،،" يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ،، جس دن دوزخ میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے ( اور کہا جائے گا) دوزخ کی آگ کا مزہ چکھو بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک انداز ے سے پیدا کیا، یہ حدیث حسن صحیح ہے (ترمذی شریف, أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّضَا بِالقَضَاءِ حدیث نمبر ٢١٥٧)
Tirmizi Shareef : Abwabul Qadri
|
Tirmizi Shareef : ابواب القدر
|
•