
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمانہ قریب ہو جائے گا تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، ان میں سب سے زیادہ سچے خواب والا وہ ہو گا جس کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، بہتر اور اچھے خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو کھڑا ہو کر تھوکے اور اسے لوگوں سے نہ بیان کرے“، آپ نے فرمایا: ”میں خواب میں قید (پیر میں بیڑی پہننا) پسند کرتا ہوں اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں، قید سے مراد دین پر ثابت قدمی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب أَنَّ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ؛مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٢؛حدیث نمبر ٢٢٧٠)
حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ابورزین عقیلی، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو، عوف بن مالک، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب أَنَّ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ؛مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٢؛حدیث نمبر ٢٢٧١)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، لہٰذا میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہ ہو گا“، انس کہتے ہیں: یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو آپ نے فرمایا: ”البتہ بشارتیں باقی ہیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بشارتیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کا ایک حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی مختار بن فلفل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، حذیفہ بن اسید، ابن عباس، ام کرز اور ابواسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ؛نبوت کے ختم ہونے اور بشارتوں کے باقی رہنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٣؛حدیث نمبر ٢٢٧٢)
عطاء بن یسار مصر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ (یونس: ۶۴) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ہے، تمہارے سوا صرف ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارے سوا کسی نے نہیں پوچھا، اس سے مراد نیک اور اچھے خواب ہیں جسے مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب قَوْله (لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا)؛ آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٤؛حدیث نمبر ٢٢٧٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچے خواب وہ ہیں جو سحری (صبح) کے وقت آتے ہیں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب قَوْله (لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا)؛ آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٤؛حدیث نمبر ٢٢٧٤)
حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی اس آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد اچھے اور نیک خواب ہیں جسے مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- حرب نے اپنی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے «عنعنہ» کے بجائے صیغہ تحدیث «حدثني» کے صیغے کے ساتھ روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب قَوْله (لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا)؛ آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٤؛حدیث نمبر ٢٢٧٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا، اس لیے کہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ابوقتادہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، جابر، انس، ابو مالک اشجعی کے والد، ابوبکرہ اور ابوحجیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان: «من رآني في المنام فقد رآني» کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٥؛حدیث نمبر ٢٢٧٦)
حضرت ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں، اور برے خواب شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین بار اپنے بائیں طرف تھوکے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، ایسا کرنے پر وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو، ابوسعید، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب إِذَا رَأَى فِي الْمَنَامِ مَا يَكْرَهُ مَا يَصْنَعُ؛خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھنے پر کیا کرنا چاہئے؟؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٥؛حدیث نمبر ٢٢٧٧)
حضرت ابورزین عقیلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے، پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے“، ابورزین کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا: ”خواب صرف اس سے بیان کرو جو عقلمند ہو یا جس سے تمہاری دوستی ہو“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ باب مَا جَاءَ فِي تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا؛ خواب کی تعبیر کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٦؛حدیث نمبر ٢٢٧٨)
حضرت ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابورزین عقیلی کا نام لقیط بن عامر ہے، ۳- حماد بن سلمہ نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ”وكيع بن حدس“ کہا ہے جب کہ شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ”وكيع بن عدس“ کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ باب مَا جَاءَ فِي تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا؛ خواب کی تعبیر کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٦؛حدیث نمبر ٢٢٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک خواب وہ ہے جو سچا ہوتا ہے، ایک خواب وہ ہے کہ آدمی جو کچھ سوچتا رہتا ہے، اسی کو خواب میں دیکھتا ہے، اور ایک خواب ایسا ہے جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور غم و صدمہ کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اٹھ کر نماز پڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: ”مجھے خواب میں بیڑی کا دیکھنا اچھا لگتا ہے اور طوق دیکھنے کو میں ناپسند کرتا ہوں، بیڑی کی تعبیر دین پر ثابت قدمی (جمے رہنا) ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو وہ میں ہی ہوں، اس لیے کہ شیطان میری شکل نہیں بنا سکتا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”خواب کسی عالم یا خیرخواہ سے ہی بیان کیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس، ابوبکرہ، ام العلاء، ابن عمر، عائشہ، ابوموسیٰ، جابر، ابو سعید خدری، ابن عباس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب فِي تَأْوِيلِ الرُّؤْيَا وَمَا يُسْتَحَبُّ مِنْهَا وَمَا يُكْرَهُ؛خوابوں کی تعبیر اور اچھے برے خواب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٧؛حدیث نمبر ٢٢٨٠)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، قیامت کے دن اسے جو کے درمیان گرہ لگانے کے لئے کہاجائے گا“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب فِي الَّذِي يَكْذِبُ فِي حُلْمِهِ؛خواب کے بارے میں جھوٹ بولنے والے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٨؛حدیث نمبر ٢٢٨١)
ایک اور سند سے بھی حضرت علی رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے اسی جیسی مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابن عباس، ابوہریرہ، ابوشریح اور واثلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب فِي الَّذِي يَكْذِبُ فِي حُلْمِهِ؛خواب کے بارے میں جھوٹ بولنے والے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٨؛حدیث نمبر ٢٢٨٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے تو قیامت کے دن دو جو کے درمیان گرہ لگانے کے لئے کہا جائے گا اور وہ ان دونوں کے درمیان گرہ ہرگز نہیں لگا سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب فِي الَّذِي يَكْذِبُ فِي حُلْمِهِ؛خواب کے بارے میں جھوٹ بولنے والے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٨؛حدیث نمبر ٢٢٨٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں سویا ہوا تھا کہ اس دوران میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اس سے پیا پھر اپنا جوٹھا عمر بن خطاب کو دے دیا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟“ فرمایا: ”علم سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ابوبکرہ، ابن عباس، عبداللہ بن سلام، خزیمہ، طفیل بن سخبرہ، ابوامامہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ باب فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ وَالْقُمُصَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٩؛حدیث نمبر ٢٢٨٤)
حضرت ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا دیکھا: لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، بعض کی قمیص چھاتی تک پہنچ رہی تھی اور بعض کی اس سے نیچے تک پہنچ رہی تھی، پھر میرے سامنے عمر کو پیش کیا گیا ان کے جسم پر جو قمیص تھی وہ اسے گھسیٹ رہے تھے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”دین سے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ باب فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ وَالْقُمُصَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٩؛حدیث نمبر ٢٢٨٥)
ایک اور سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی اور اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ باب فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ وَالْقُمُصَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٩؛حدیث نمبر ٢٢٨٦)
حضرت ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا، آپ اور حضرت ابوبکر تولے گئے تو آپ حضرت ابوبکر سے بھاری نکلے، ابوبکر اور حضرت عمر تولے گئے، تو حضرت ابوبکر بھاری نکلے، حضرت عمر اور حضرت عثمان تولے گئے تو حضرت عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا،حضرت ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٠؛حدیث نمبر ٢٢٨٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ (ورقہ بن نوفل) کے بارے میں پوچھا گیا تو حضرت خدیجہ نے کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی مگر وہ آپ کی نبوت کے ظہور سے پہلے وفات پا گئے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خواب میں انہیں دکھایا گیا ہے، اس وقت ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے، اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے جسم پر کوئی دوسرا لباس ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محدثین کے نزدیک عثمان بن عبدالرحمٰن قوی نہیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٠؛حدیث نمبر ٢٢٨٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے حضرت ابوبکر اور عمر کو دیکھا، آپ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لوگ (ایک کنویں پر) جمع ہو گئے ہیں، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر حضرت عمر رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی“ (یعنی سب آسودہ ہو گئے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤١؛حدیث نمبر ٢٢٨٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے بارے میں روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے پراگندہ بالوں والی ایک کالی عورت کو دیکھا جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں ٹھہر گئی (مهيعه، جحفه کا دوسرا نام ہے)، میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ وہ مدینہ کی وبا ہے جو جحفہ چلی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤١؛حدیث نمبر ٢٢٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر وقت میں مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، اور خواب ان لوگوں کا سچا ہو گا جن کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، خواب تین قسم کے ہوتے ہیں: اچھے خواب جو اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، وہ خواب جسے انسان دل میں سوچتا رہتا ہے، اور وہ خواب جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور غم کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اسے کسی سے بیان نہ کرے، اسے چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھے“،حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں خواب میں قید دیکھنا اچھا سمجھتا ہوں اور بیڑی دیکھنا برا سمجھتا ہوں، قید کی تعبیر ثابت قدمی ہے، حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے یہ حدیث مرفوعاً روایت کی ہے اور حماد بن زید نے ایوب سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤١؛حدیث نمبر ٢٢٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں، ان کے حال نے مجھے غم میں ڈال دیا، پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں، لہٰذا میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے، میں نے ان دونوں کنگنوں کی تعبیر (نبوت کا دعویٰ کرنے والے) دو جھوٹوں سے کی جو میرے بعد نکلیں گے: ایک کا نام مسیلمہ ہو گا جو یمامہ کا رہنے والا ہو گا اور دوسرے کا نام عنسی ہو گا، جو صنعاء کا رہنے والا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٢؛حدیث نمبر ٢٢٩٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے تھے: ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے رات کو خواب میں بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، اور لوگوں کو میں نے دیکھا وہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے پی رہے ہیں، کسی نے زیادہ پیا اور کسی نے کم، اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان سے زمین تک لٹک رہی تھی، اللہ کے رسول! اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ وہ رسی پکڑ کر اوپر چلے گئے، پھر آپ کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑ کر اوپر چلا گیا، پھر اس کے بعد ایک اور شخص نے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور آدمی نے پکڑا تو رسی ٹوٹ گئی، پھر وہ جوڑ دی گئی تو وہ بھی اوپر چلا گیا، حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! - میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں - اللہ کی قسم! مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”بیان کرو“، ابوبکر نے کہا: ابر کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے اور اس سے جو گھی اور شہد ٹپک رہا تھا وہ قرآن ہے اور اس کی شیرینی اور نرمی مراد ہے، زیادہ اور کم پینے والوں سے مراد قرآن حاصل کرنے والے ہیں، اور آسمان سے زمین تک لٹکنے والی اس رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ قائم ہیں، آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں پھر اللہ تعالیٰ آپ کو اوپر اٹھا لے گا، پھر اس کے بعد ایک اور آدمی پکڑے گا اور وہ بھی پکڑ کر اوپر چڑھ جائے گا، اس کے بعد ایک اور آدمی پکڑے گا، تو وہ بھی پکڑ کر اوپر چڑھ جائے گا، پھر اس کے بعد ایک تیسرا آدمی پکڑے گا تو رسی ٹوٹ جائے گی، پھر اس کے لیے جوڑ دی جائے گی اور وہ بھی چڑھ جائے گا، اللہ کے رسول! بتائیے میں نے صحیح بیان کیا یا غلط؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ صحیح بیان کیا اور کچھ غلط، حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میرے باپ ماں آپ پر قربان! میں قسم دیتا ہوں آپ بتائیے میں نے کیا غلطی کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم نہ دلاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٢؛حدیث نمبر ٢٢٩٣)
حضرت سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں فجر پڑھا کر فارغ ہوتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے: ”کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ایک طویل قصے کے ضمن میں عوف اور جریر بن حازم سے مروی ہے، جسے یہ دونوں رجاء سے، رجاء، سمرہ سے اور سمرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۳- محمد بن بشار نے اسی طرح یہ حدیث وہب بن جریر سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٣؛حدیث نمبر ٢٢٩٤)
Tirmizi Shareef : Abwabur Rooya
|
Tirmizi Shareef : ابواب الرؤیا
|
•