asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabus Shahadaati

From 2295 to 2303

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے اچھے گواہ کے بارے میں نہ بتا دوں؟ سب سے اچھا گواہ وہ آدمی ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الشُّهَدَاءِ أَيُّهُمْ خَيْرٌ؛سب سے اچھے گواہوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٤؛حدیث نمبر ٢٢٩٥)

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِي يَأْتِي بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا»

Tirmizi Shareef, Abwabus Shahadaati, Hadees No. 2295

ایک اور سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اکثر لوگوں نے اپنی روایت میں عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کہا ہے۔ ۳- اس حدیث کی روایت کرنے میں مالک کے شاگردوں کا اختلاف ہے، بعض راویوں نے اسے ابی عمرہ سے روایت کیا ہے، اور بعض نے ابن ابی عمرہ سے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری ہے، ابن ابی عمرہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مالک کے سوا دوسرے راویوں نے «عن عبدالرحمٰن بن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کہا ہے «عن ابن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کی سند سے اس کے علاوہ دوسری حدیث بھی مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے، ابو عمرہ زید بن خالد جہنی کے آزاد کردہ غلام تھے، اور ابو عمرہ کے واسطہ سے خالد سے حدیث غلول مروی ہے، اکثر لوگ عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ ہی کہتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الشُّهَدَاءِ أَيُّهُمْ خَيْرٌ؛سب سے اچھے گواہوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٤؛حدیث نمبر ٢٢٩٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، نَحْوَهُ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَأَكْثَرُ النَّاسِ يَقُولُونَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ " وَاخْتَلَفُوا عَلَى مَالِكٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الحَدِيثِ، فَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ، وَهَذَا أَصَحُّ لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ [ص: ٥٤٥] أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ غَيْرُ هَذَا الحَدِيثِ وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَيْضًا وَأَبُو عَمْرَةَ هُوَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الجُهَنِيِّ وَلَهُ حَدِيثُ الغُلُولِ لِأَبِي عَمْرَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabus Shahadaati, Hadees No. 2296

حضرت زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سب سے بہتر گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی کا فریضہ ادا کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الشُّهَدَاءِ أَيُّهُمْ خَيْرٌ؛سب سے اچھے گواہوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٥؛حدیث نمبر ٢٢٩٧)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الجُهَنِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَيْرُ الشُّهَدَاءِ مَنْ أَدَّى شَهَادَتَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا». «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabus Shahadaati, Hadees No. 2297

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے مرد اور عورت کی گواہی درست اور مقبول نہیں ہے، اور نہ ان مردوں اور عورتوں کی گواہی مقبول ہے جن پر حد نافذ ہو چکی ہے، نہ اپنے بھائی سے دشمنی رکھنے والے کی گواہی مقبول ہے، نہ اس آدمی کی جس کی ایک بار جھوٹی گواہی آزمائی جا چکی ہو، نہ اس شخص کی گواہی جو کسی کے زیر کفالت ہو اس کفیل خاندان کے حق میں (جیسے مزدور وغیرہ) اور نہ اس شخص کی جو ولاء یا رشتہ داری کی نسبت میں متہم ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یزید بن زیاد دمشقی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یزید ضعیف الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث زہری کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے، ۳- اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے بھی حدیث مروی ہے، ۴- فزازی کہتے ہیں: «قانع» سے مراد «تابع» ہے، ۵- اس حدیث کا مطلب ہم نہیں سمجھتے اور نہ ہی سند کے اعتبار سے یہ میرے نزدیک صحیح ہے، ۶- اس بارے میں اہل علم کا عمل ہے کہ رشتہ دار کے لیے رشتہ کی گواہی درست ہے، البتہ بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی یا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی یا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی کو درست نہیں سمجھتے، ۷- بعض اہل علم کہتے ہیں: جب گواہی دینے والا عادل ہو تو باپ کی گواہی بیٹے کے حق میں اسی طرح باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی درست ہے، ۸- بھائی کی گواہی کے جواز کے بارے میں اختلاف نہیں ہے، ۹- اسی طرح رشتہ دار کے لیے رشتہ دار کی گواہی میں بھی اختلاف نہیں ہے، ۱۰- امام شافعی کہتے ہیں: جب دو آدمیوں میں دشمنی ہو تو ایک کے خلاف دوسرے کی گواہی درست نہ ہو گی، گرچہ گواہی دینے والا عادل ہو، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج کی حدیث سے استدلال کیا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے کہ دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست نہیں ہے، اسی طرح اس (مذکورہ) حدیث کا بھی مفہوم یہی ہے، (جس میں) آپ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست نہیں ہے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ لاَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ؛ ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی درست نہیں؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٥؛حدیث نمبر ٢٢٩٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الفَزَارِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا مَجْلُودٍ حَدًّا وَلَا مَجْلُودَةٍ، وَلَا ذِي غِمْرٍ لِأَخِيهِ، وَلَا مُجَرَّبِ شَهَادَةٍ، وَلَا القَانِعِ [ص: ٥٤٦] أَهْلَ البَيْتِ لَهُمْ وَلَا ظَنِينٍ فِي وَلَاءٍ وَلَا قَرَابَةٍ» قَالَ الفَزَارِيُّ: " القَانِعُ: التَّابِعُ «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ وَيَزِيدُ يُضَعَّفُ فِي الحَدِيثِ وَلَا يُعْرَفُ هَذَا الحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ وَفِي البَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو» وَلَا نَعْرِفُ مَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ وَلَا يَصِحُّ عِنْدِي مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، وَالعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ فِي هَذَا أَنَّ شَهَادَةَ القَرِيبِ جَائِزَةٌ لِقَرَابَتِهِ. وَاخْتَلَفَ أَهْلُ العِلْمِ فِي شَهَادَةِ الوَالِدِ لِلْوَلَدِ وَالوَلَدِ لِوَالِدِهِ، وَلَمْ يُجِزْ أَكْثَرُ أَهْلِ العِلْمِ شَهَادَةَ الوَالِدِ لِلْوَلَدِ، وَلَا الوَلَدِ لِلْوَالِدِ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: إِذَا كَانَ عَدْلًا فَشَهَادَةُ الوَالِدِ لِلْوَلَدِ جَائِزَةٌ، وَكَذَلِكَ شَهَادَةُ الوَلَدِ لِلْوَالِدِ وَلَمْ يَخْتَلِفُوا فِي شَهَادَةِ الأَخِ لِأَخِيهِ أَنَّهَا جَائِزَةٌ، وَكَذَلِكَ شَهَادَةُ كُلِّ قَرِيبٍ لِقَرِيبِهِ " وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةٌ لِرَجُلٍ عَلَى الآخَرِ وَإِنْ كَانَ عَدْلًا إِذَا كَانَتْ بَيْنَهُمَا عَدَاوَةٌ، وَذَهَبَ إِلَى حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا: «لَا يَجُوزُ شَهَادَةُ صَاحِبِ إِحْنَةٍ»، يَعْنِي صَاحِبَ عَدَاوَةٍ، وَكَذَلِكَ مَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ حَيْثُ قَالَ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ صَاحِبِ غِمْرٍ»، يَعْنِي صَاحِبَ عَدَاوَةٍ

Tirmizi Shareef, Abwabus Shahadaati, Hadees No. 2298

حضرت ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی:(ترجمہ)"تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے۔“ (الحج: ۳۰)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور لوگوں نے سفیان بن زیاد سے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے، ۳- نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ؛جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٧؛حدیث نمبر ٢٢٩٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ الأَسَدِيِّ، عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ» ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ} [الحج: ٣٠]. وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ. وَاخْتَلَفُوا فِي رِوَايَةِ هَذَا الحَدِيثِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ سَمَاعًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Tirmizi Shareef, Abwabus Shahadaati, Hadees No. 2299

حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» ”اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ۲- خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، اور مشہور صحابی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ؛جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٧؛حدیث نمبر ٢٣٠٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ الْعُصْفُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالشِّرْكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا عِنْدِي أَصَحُّ وَخُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لَهُ صُحْبَةٌ وَقَدْ رَوَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَهُوَ مَشْهُورٌ

Tirmizi Shareef, Abwabus Shahadaati, Hadees No. 2300

حضرت ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں بڑے بڑے (کبیرہ) گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا“، حضرت ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا: کاش! آپ خاموش ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ؛جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٨؛حدیث نمبر ٢٣٠١)

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ، عَنْ الجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الكَبَائِرِ»؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ» قَالَ: «فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَفِي البَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو

Tirmizi Shareef, Abwabus Shahadaati, Hadees No. 2301

حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سب سے اچھے لوگ میرے زمانہ کے ہیں (یعنی صحابہ)، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی تابعین)، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی تبع تابعین)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا ہونا چاہیں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اعمش کے واسطہ سے علی بن مدرک کی روایت سے غریب ہے، ۲- اعمش کے دیگر شاگردوں نے «عن الأعمش عن هلال بن يساف عن عمران بن حصين» کی سند سے روایت کی ہے۔ ایک اور سند سے بھی حضرت عمران بن حصین سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اور یہ محمد بن فضیل کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ «يعطون الشهادة قبل أن يسألوها» سے جھوٹی گواہی مراد ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ان کا کہنا ہے کہ گواہی طلب کیے بغیر وہ گواہی دیں گے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛ باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٨؛حدیث نمبر ٢٣٠٢)

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ مِنْ بَعْدِهِمْ يَتَسَمَّنُونَ وَيُحِبُّونَ السِّمَنَ يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا»: «وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ» وَأَصْحَابُ الأَعْمَشِ إِنَّمَا رَوَوْا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، [ص: ٥٤٩] حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ يَسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، " وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ. وَمَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا إِنَّمَا يَعْنِي شَهَادَةَ الزُّورِ يَقُولُ: يَشْهَدُ أَحَدُهُمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسْتَشْهَدَ، وَبَيَانُ هَذَا فِي "

Tirmizi Shareef, Abwabus Shahadaati, Hadees No. 2302

حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے اچھے اور بہتر لوگ ہمارے زمانے والے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ آدمی گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا، اور قسم کھلائے بغیر قسم کھائے گا“۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کہ سب سے بہتر گواہ وہ ہے، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے تو اس کا مفہوم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب کسی سے کسی چیز کی گواہی (حق بات کی خاطر) دلوائی جائے تو وہ گواہی دے، گواہی دینے سے باز نہ رہے، بعض اہل علم کے نزدیک دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛ باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٩؛حدیث نمبر ٢٣٠٣)

حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَلَا يُسْتَشْهَدُ، وَيَحْلِفَ الرَّجُلُ وَلَا يُسْتَحْلَفُ» وَمَعْنَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا، هُوَ عِنْدَنَا إِذَا أُشْهِدَ الرَّجُلُ عَلَى الشَّيْءِ أَنْ يُؤَدِّيَ شَهَادَتَهُ وَلَا يَمْتَنِعَ مِنَ الشَّهَادَةِ، هَكَذَا وَجْهُ الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ "

Tirmizi Shareef, Abwabus Shahadaati, Hadees No. 2303

Tirmizi Shareef : Abwabus Shahadaati

|

Tirmizi Shareef : ابواب الشھادات

|

•