asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabuz Zuhdi

From 2304 to 2310

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں“۔ (یعنی ان کی قدر نہیں کرتے ہیں ایک تندرستی اور دوسری فراغت ہیں بلکہ یوں ہی انہیں ضائع کر دیتے ہیں جب کہ تندرستی کو بیماری سے پہلے اور فرصت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت سمجھنا چاہیئے۔) ایک اور سند سے بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس کو کئی اور لوگوں نے عبداللہ بن سعید بن ابی ہند سے مرفوعاً ہی روایت کیا ہے، جب کہ کچھ لوگوں نے عبداللہ بن سعید ہی کے واسطے سے (ابن عباس سے) موقوفاً روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب مَا جَاءَ فِي أَنَّ الصِّحَّةَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ؛تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٠؛حدیث نمبر ٢٣٠٤)

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَسُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ صَالِحٌ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ سُوَيْدٌ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَفِي البَاب عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، فَرَفَعُوهُ، وَأَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabuz Zuhdi, Hadees No. 2304

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے“،حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا: ”تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بے نیاز رہو گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو کامل مومن رہو گے۔ اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو کامل مسلمان ہو جاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- حسن بصری کا سماع حضرت ابوہریرہ سے ثابت نہیں، ۳- اسی طرح ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے ان سب کا کہنا ہے کہ حسن بصری نے حضرت ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ۴- ابوعبیدہ ناجی نے اسے حسن بصری سے روایت کرتے ہوئے اس کو حسن بصری کا قول کہا ہے اور یہ نہیں ذکر کیا کہ یہ حدیث حسن بصری حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، اور حضرت ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ باب مَنِ اتَّقَى الْمَحَارِمَ فَهُوَ أَعْبَدُ النَّاسِ؛حرام چیزوں سے بچنے والا سب سے بڑا عابد ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥١؛حدیث نمبر ٢٣٠٥)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي طَارِقٍ، عَنْ الحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْخُذُ عَنِّي هَؤُلَاءِ الكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ»؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّ خَمْسًا وَقَالَ: «اتَّقِ المَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ، فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ القَلْبَ»: " هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَالحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَيْئًا. هَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَرَوَى أَبُوعُبَيْدَةَ النَّاجِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، هَذَا الْحَدِيثَ قَوْلَهُ: وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

Tirmizi Shareef, Abwabuz Zuhdi, Hadees No. 2305

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والا ہے؟ یا ایسی مالداری کا جو طغیانی پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے (یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کو کھو دینے والا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اعرج حضرت ابوہریرہ سے مروی حدیث ہم صرف محرز بن ہارون کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بشر بن عمر اور ان کے علاوہ لوگوں نے بھی اسے محرز بن ہارون سے روایت کیا ہے، ۴- معمر نے ایک ایسے شخص سے سنا ہے جس نے بسند «سعيدا المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں «هل تنتظرون» کی بجائے «تنتظرون» ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُبَادَرَةِ بِالْعَمَلِ؛اچھے کام میں سبقت کرنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٢؛حدیث نمبر ٢٣٠٦)

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سَبْعًا هَلْ تُنْظَرُونَ إِلَّا إِلَى فَقْرٍ مُنْسٍ، أَوْ غِنًى مُطْغٍ، أَوْ مَرَضٍ مُفْسِدٍ، أَوْ هَرَمٍ مُفَنِّدٍ، أَوْ مَوْتٍ مُجْهِزٍ، أَوِ الدَّجَّالِ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَةِ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَرَّرِ بْنِ هَارُونَ وَقَدْ رَوَى بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، وَغَيْرُهُ عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ هَارُونَ، هَذَا وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ، هَذَا الحَدِيثَ عَمَّنْ، سَمِعَ سَعِيدًا المَقْبُرِيَّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَقَالَ: «تَنْتَظِرُونَ»

Tirmizi Shareef, Abwabuz Zuhdi, Hadees No. 2306

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ الْمَوْتِ؛موت کی یاد؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٣؛حدیث نمبر ٢٣٠٧)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ» يَعْنِي الْمَوْتَ وَفِي البَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabuz Zuhdi, Hadees No. 2307

ہانی مولی عثمان کہتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ جب کسی قبرستان پر ٹھہرتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہو جاتی، ان سے کسی نے کہا کہ جب آپ کے سامنے جنت و جہنم کا ذکر کیا جاتا ہے تو نہیں روتے ہیں اور قبر کو دیکھ کر اس قدر رو رہے ہیں؟ تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، سو اگر کسی نے قبر کے عذاب سے نجات پائی تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے“،حضرت عثمان رضی الله عنہ نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اور منظر کو نہیں دیکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف ہشام بن یوسف کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٣؛حدیث نمبر ٢٣٠٨)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ هَانِئًا، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ، إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تُذْكَرُ الجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ القَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ»قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ [ص: ٥٥٤] صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ "

Tirmizi Shareef, Abwabuz Zuhdi, Hadees No. 2308

حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا ناپسند کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ام المؤمنین عائشہ، انس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب مَا جَاءَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ؛جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٤؛حدیث نمبر ٢٣٠٩)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ» وَفِي البَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي مُوسَى «حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabuz Zuhdi, Hadees No. 2309

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين»(اور اپنے قریب والے رشتے دار کو ڈرائیں)(الشعراء ٢١٤)نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ!، اے فاطمہ بنت محمد ! اے عبدالمطلب کی اولاد! مجھے تمہارے لیے اللہ تعالی کی طرف سے کوئی اختیار نہیں میرے مال سے جو تم چاہو مانگو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-حضرت عائشہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- ان میں سے بعض نے اسی طرح ہشام بن عروہ سے روایت کی ہے، اور بعض نے «عن هشام عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کی ہے اور «عن عائشة» کا ذکر نہیں کیا، ۳- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب مَا جَاءَ فِي إِنْذَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا اپنی قوم کو ڈرانا؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٤؛حدیث نمبر ٢٣١٠)

حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ المِقْدَامِ العِجْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ [ص: ٥٥٥] صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ المُطَّلِبِ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا بَنِي عَبْدِ المُطَّلِبِ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ» وَفِي البَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ «حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ هَكَذَا رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، نَحْوَ هَذَا» وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مُرْسَلًا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ»

Tirmizi Shareef, Abwabuz Zuhdi, Hadees No. 2310

Tirmizi Shareef : Abwabuz Zuhdi

|

Tirmizi Shareef : ابواب الزھد

|

•