asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabu Sifatiljannati

From 2523 to 2572

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے درخت ہیں کہ ایک سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے(پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو گا“)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَجَرِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درختوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧١؛حدیث نمبر ٢٥٢٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ " , وفي الباب عن أَنَسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2523

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے درخت ہیں کہ ایک سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے پھر بھی ان کا سایہ ختم نہ ہو گا“، نیز آپ نے فرمایا: ”یہی «ظل الممدود» ہے (یعنی جس کا ذکر قرآن میں ہے)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَجَرِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درختوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧١؛حدیث نمبر ٢٥٢٤)

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا، وَقَالَ: ذَلِكَ الظِّلُّ الْمَمْدُودُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مَنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2524

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں کوئی درخت ایسا نہیں ہے جس کا تنا سونے کا نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَجَرِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درختوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧١؛حدیث نمبر ٢٥٢٥)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْفُرَاتِ الْقَزَّازُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ إِلَّا وَسَاقُهَا مِنْ ذَهَبٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2525

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آخر کیا وجہ ہے کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری رہتی ہے اور ہم دنیا سے بیزار ہوتے ہیں اور آخرت والوں میں سے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم آپ سے جدا ہو کر اپنے بال بچوں میں چلے جاتے ہیں اور ان میں گھل مل جاتے ہیں تو ہم اپنے دلوں کو بدلا ہوا پاتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسی حالت و کیفیت میں رہو جس حالت و کیفیت میں میرے پاس سے نکلتے ہو تو تم سے فرشتے تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کرے ، اور اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ دوسری مخلوق کو پیدا کرے گا جو گناہ کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرمائے گا“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا؟ آپ نے فرمایا: ”پانی سے“، ہم نے عرض کیا: جنت کس چیز سے بنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک اینٹ چاندی کی ہے اور ایک سونے کی اور اس کا گارا مشک اذفر کا ہے اور اس کے کنکر موتی اور یاقوت کے ہیں، اور زعفران اس کی مٹی ہے، جو اس میں داخل ہو گا وہ عیش و آرام کرے گا، کبھی تکلیف نہیں پائے گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہیں آئے گی، ان کے کپڑے پرانے نہیں ہوں گے اور ان کی جوانی کبھی فنا نہیں ہو گی“، پھر آپ نے فرمایا: ”تین لوگوں کی دعائیں رد نہیں کی جاتیں: پہلا امام عادل ہے، دوسرا روزہ دار جب وہ افطار کرے، اور تیسرا مظلوم جب کہ وہ بد دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ (اس کی بد دعا کو) بادل کے اوپر اٹھا لیتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: قسم ہے میری عزت کی میں ضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر بعد کروں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے اور نہ ہی میرے نزدیک یہ متصل ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سند سے ابومدلہ کے واسطہ سے بھی آئی ہے جسے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور حضرت ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ وَنَعِيمِهَا؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٢؛حدیث نمبر ٢٥٢٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ زِيَادٍ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا لَنَا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ رَقَّتْ قُلُوبُنَا وَزَهِدْنَا فِي الدُّنْيَا وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ , فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ فَآنَسْنَا أَهَالِينَا وَشَمَمْنَا أَوْلَادَنَا أَنْكَرْنَا أَنْفُسَنَا! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّكُمْ تَكُونُونَ إِذَا خَرَجْتُمْ مِنْ عِنْدِي كُنْتُمْ عَلَى حَالِكُمْ ذَلِكَ لَزَارَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ كَيْ يُذْنِبُوا فَيَغْفِرَ لَهُمْ ".قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: " مِنَ الْمَاءِ "، قُلْنَا: الْجَنَّةُ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: " لَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ وَتُرْبَتُهَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ دَخَلَهَا يَنْعَمْ وَلَا يَبْأَسْ، وَيَخْلُدْ وَلَا يَمُوتْ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُمْ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ ". ثُمَّ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ، الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا فَوْقَ الْغَمَامِ، وَتُفَتَّحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ الْقَوِيِّ وَلَيْسَ هُوَ عِنْدِي بِمُتَّصِلٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2526

حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا“۔ ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، پابندی سے روزے رکھے اور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن اسحاق کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے، یہ کوفی ہیں اور عبدالرحمٰن بن اسحاق جو قریشی ہیں وہ مدینہ کے رہنے والے ہیں اور یہ عبدالرحمٰن کوفی سے اثبت ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ غُرَفِ الْجَنَّةِ؛جنت کے کمروں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٣؛حدیث نمبر ٢٥٢٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا، فَقَامَ إِلَيْهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " هِيَ لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق هَذَا مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَهُوَ كُوفِيٌّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق الْقُرَشِيُّ مَدَنِيٌّ وَهُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2527

حضرت ابوموسیٰ اشعری عبداللہ بن قیس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں دو ایسے باغ ہیں کہ جن کے برتن اور اس کی تمام چیزیں چاندی کی ہیں اور دو ایسے باغ ہیں جس کے برتن اور جس کی تمام چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف وہ کبریائی چادر حائل ہو گی جو اس کی ذات پر ہے“ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں موتی کا ایک لمبا چوڑا خیمہ ہے جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہے۔ اس کے ہر گوشے میں مومن کے گھر والے ہوں گے، مومن ان پر گھومے گا تو (اندرونی) ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ غُرَفِ الْجَنَّةِ؛جنت کے کمروں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٣؛حدیث نمبر ٢٥٢٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ جَنَّتَيْنِ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا مِنْ فِضَّةٍ، وَجَنَّتَيْنِ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا مِنْ ذَهَبٍ، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ ". وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: لَا يُعْرَفُ اسْمُهُ، وَأَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، وَأَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ اسْمُهُ: سَعْدُ بْنُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2528

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں، ہر ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درجات و مراتب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٤؛حدیث نمبر ٢٥٢٩)

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ العَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الجَنَّةِ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2529

حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے، نمازیں پڑھیں اور حج کیا (- عطاء بن یسار کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ معاذ نے زکاۃ کا ذکر کیا یا نہیں -) تو اللہ تعالیٰ کے ذمے میں یہ لازم ہے کہ اس کو بخش دے اگرچہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اپنی پیدائشی سر زمین میں ٹھہرا رہے“۔ معاذ نے کہا: کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو چھوڑ دو، وہ عمل کرتے رہیں، اس لیے کہ جنت میں سو درجے ہیں اور ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ زمین و آسمان کے درمیان کا، فردوس جنت کا اعلیٰ اور سب سے اچھا درجہ ہے، اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں بہتی ہیں، لہٰذا جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسی طرح یہ حدیث «عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن معاذ بن جبل» کی سند سے مروی ہے، اور یہ میرے نزدیک ہمام کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے، جسے انہوں نے «عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن عبادة بن الصامت» کی سند سے روایت کی ہے (جو آگے آ رہی ہے)، عطاء نے معاذ بن جبل کو نہیں پایا ہے (یعنی ان کی ملاقات ثابت نہیں ہے) اور معاذ بن جبل کی وفات (عبادہ بن صامت سے پہلے) عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی ہے۔ ایک اور سند سے بھی حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درجات و مراتب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٥؛حدیث نمبر ٢٥٣٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ البَصْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ وَحَجَّ البَيْتَ - لَا أَدْرِي أَذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا - إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، إِنْ هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ مَكَثَ بِأَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ بِهَا» قَالَ مُعَاذٌ: أَلَا أُخْبِرُ بِهَذَا النَّاسَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَرِ النَّاسَ يَعْمَلُونَ فَإِنَّ فِي الجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَالفِرْدَوْسُ أَعْلَى الجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا، وَفَوْقَ ذَلِكَ عَرْشُ الرَّحْمَنِ، وَمِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الجَنَّةِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الفِرْدَوْسَ»: «هَكَذَا رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ» وَعَطَاءٌ، لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَمُعَاذٌ قَدِيمُ المَوْتِ، مَاتَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2530

حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، درجہ کے اعتبار سے فردوس اعلیٰ جنت ہے، اسی سے جنت کی چاروں نہریں بہتی ہیں اور اسی کے اوپر عرش ہے، لہٰذا جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس مانگو“۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درجات و مراتب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٥؛حدیث نمبر ٢٥٣١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِي الجَنَّةِ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً وَمِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الجَنَّةِ الأَرْبَعَةُ، وَمِنْ فَوْقِهَا يَكُونُ العَرْشُ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الفِرْدَوْسَ» حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2531

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں، اگر سارے جہاں کے لوگ ایک ہی درجہ میں اکٹھے ہو جائیں تو یہ ان سب کے لیے کافی ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درجات و مراتب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٤؛حدیث نمبر ٢٥٣٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ: «إِنَّ فِي الجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ، لَوْ أَنَّ العَالَمِينَ اجْتَمَعُوا فِي إِحْدَاهُنَّ لَوَسِعَتْهُمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2532

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتیوں کی عورتوں میں سے ہر عورت کے پنڈلی کی سفیدی ستر جوڑے کپڑوں کے باہر سے نظر آئے گی، حتیٰ کہ اس کی ہڈی کا گودا بھی نظر آئے گا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «كأنهن الياقوت والمرجان» ”گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں“، یاقوت ایک ایسا پتھر ہے کہ اگر تم اس میں دھاگا ڈال دو پھر اسے صاف کرو تو وہ دھاگا تمہیں باہر سے نظر آ جائے گا“۔ یہی روایت ایک اور سند سے بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درجات و مراتب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٦؛حدیث نمبر ٢٥٣٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي المَغْرَاءِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ المَرْأَةَ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الجَنَّةِ لَيُرَى بَيَاضُ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ سَبْعِينَ حُلَّةً حَتَّى يُرَى مُخُّهَا، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {كَأَنَّهُنَّ اليَاقُوتُ وَالمَرْجَانُ} [الرحمن: ٥٨] فَأَمَّا اليَاقُوتُ فَإِنَّهُ حَجَرٌ لَوْ أَدْخَلْتَ فِيهِ سِلْكًا ثُمَّ اسْتَصْفَيْتَهُ لَأُرِيتَهُ مِنْ وَرَائِهِ " حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2533

یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اور اسے (ابوالاحوص نے) مرفوع نہیں کیا، یہ عبیدہ بن حمید کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح جریر اور کئی لوگوں نے عطاء بن سائب سے اسے غیر مرفوع روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درجات و مراتب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٦؛حدیث نمبر ٢٥٣٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، «نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبِيدَةَ بْنِ حُمَيْدٍ» وَهَكَذَا رَوَى جَرِيرٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ [ص: ٦٧٧] " حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي الأَحْوَصِ «وَلَمْ يَرْفَعْهُ أَصْحَابُ عَطَاءٍ، وَهَذَا أَصَحُّ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2534

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کے چہرے کی روشنی چودہویں کے چاند کی روشنی کی طرح ہو گی اور دوسرا گروہ آسمان کے روشن اور سب سے خوبصورت ستارے کی طرح ہو گا، ان میں سے ہر آدمی کے لیے دو دو بیویاں ہوں گی اور ہر بیوی کے جسم پر ستر جوڑے کپڑے ہوں گے اور ان کے پنڈلی کا گودا ان کے کپڑوں کے باہر سے نظر آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درجات و مراتب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٧؛حدیث نمبر ٢٥٣٥)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ يَوْمَ القِيَامَةِ ضَوْءُ وُجُوهِهِمْ عَلَى مِثْلِ ضَوْءِ القَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ، وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى مِثْلِ أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَائِهَا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2535

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں مومن کو جماع کی اتنی اتنی طاقت دی جائے گی“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اسے سو آدمی کی طاقت دی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے، ۲- قتادہ کی یہ حدیث جسے وہ انس سے روایت کرتے ہیں اسے ہم صرف عمران القطان کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ جِمَاعِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جنتیوں کے جماع کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٧؛حدیث نمبر ٢٥٣٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ القَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُعْطَى المُؤْمِنُ فِي الجَنَّةِ قُوَّةَ كَذَا وَكَذَا مِنَ الجِمَاعِ»، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «يُعْطَى قُوَّةَ مِائَةٍ» وَفِي البَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ القَطَّانِ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2536

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کی شکل چودہویں رات کے چاند کی طرح ہو گی، نہ وہ اس میں تھوکیں گے نہ ناک صاف کریں گے اور نہ پاخانہ کریں گے، جنت میں ان کے برتن سونے کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک کا ہو گا۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے (کم از کم) دو دو بیویاں ہوں گی، خوبصورتی کے سبب ان کی پنڈلی کا گودا گوشت کے اندر سے نظر آئے گا۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہو گا، اور نہ ان کے درمیان کوئی عداوت و دشمنی ہو گی۔ ان کے دل ایک آدمی کے دل کے مانند ہوں گے، وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کریں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- «الألوة» عود کو کہتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جنتیوں کے اوصاف کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٨؛حدیث نمبر ٢٥٣٧)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الجَنَّةَ صُورَتُهُمْ عَلَى صُورَةِ القَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ لَا يَبْصُقُونَ فِيهَا وَلَا يَمْخُطُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، آنِيَتُهُمْ فِيهَا الذَّهَبُ، وَأَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، وَمَجَامِرُهُمْ مِنَ الأُلُوَّةِ، وَرَشْحُهُمُ المِسْكُ، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنَ الحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ، قُلُوبُهُمْ قَلْبُ رَجُلٍ وَاحِدٍ، يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا»: " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَالأُلُوَّةُ: هُوَ العُودُ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2537

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ اپنے دادا کے حوالےسے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ناخن کے برابر جنت کی کوئی چیز ظاہر ہو جائے تو وہ آسمان و زمین کے کناروں کو چمکا دے، اور اگر جنت کا کوئی آدمی جھانکے اور اس کے کنگن ظاہر ہو جائیں تو وہ سورج کی روشنی کو ایسے ہی مٹا دیں، جیسے سورج ستاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- یحییٰ بن ایوب نے یہ حدیث یزید بن ابی حبیب سے روایت کی ہے اور سند یوں بیان کی ہے: «عن عمر بن سعد بن أبي وقاص عن النبي صلى الله عليه وسلم» (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جنتیوں کے اوصاف کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٨؛حدیث نمبر ٢٥٣٨)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ ظُفُرٌ مِمَّا فِي الجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ مَا بَيْنَ خَوَافِقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَوْ [ص: ٦٧٩] أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَا أَسَاوِرُهُ لَطَمَسَ ضَوْءَ الشَّمْسِ كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ» وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، هَذَا الحَدِيثَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَقَالَ: عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2538

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت کے جسم پر اور چہروں پر بال نہیں ہوں گے اور سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے، نہ ان کی جوانی ختم ہو گی اور نہ ان کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جنتیوں کے لباس کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٩؛حدیث نمبر ٢٥٣٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلُ الجَنَّةِ جُرْدٌ مُرْدٌ كُحْلٌ لَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2539

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة»(ترجمہ)"اور بلند بچھونے میں"(الواقعۃ: ۳۴) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے: اس کا مفہوم یہ ہے کہ فرش جنت کے درجات میں ہوں گے، اور ان درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جنتیوں کے لباس کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٩؛حدیث نمبر ٢٥٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: {وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ} [الواقعة: ٣٤] قَالَ: «ارْتِفَاعُهَا لَكَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ مَسِيرَةَ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ» [ص: ٦٨٠] وقَالَ: «بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الحَدِيثِ إِنَّ مَعْنَاهُ الفُرُشَ فِي الدَّرَجَاتِ، وَبَيْنَ الدَّرَجَاتِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2540

حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اس وقت آپ کے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر آیا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اس کی شاخوں کے سائے میں ایک سوار سو سال تک چلے گا، یا اس کے سائے میں سو سوار رہیں گے، (یہ شک حدیث کے راوی یحییٰ کی طرف سے ہے۔) اس پر سونے کے بسترے ہیں اور اس کے پھل مٹکے جیسے (بڑے) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛مَا جَاءَ فِي صِفَةِ ثِمَارِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جنت کے پھلوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٠؛حدیث نمبر ٢٥٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى، قَالَ: «يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّ الفَنَنِ مِنْهَا مِائَةَ سَنَةٍ، أَوْ يَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا مِائَةُ رَاكِبٍ - شَكَّ يَحْيَى - فِيهَا فِرَاشُ الذَّهَبِ كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلَالُ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2541

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کوثر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ ایک نہر ہے جو اللہ نے مجھے جنت کے اندر دی ہے، یہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے، جنت میں ایسے پرندے ہیں جن کی گردنیں اونٹ کی گردنوں کی طرح ہیں“، حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا: وہ تو واقعی نعمت میں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کھانے والے ان سے زیادہ نعمت میں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- محمد بن عبداللہ بن مسلم، یہ ابن شہاب زہری کے بھتیجے ہیں، ۳- عبداللہ بن مسلم نے حضرت ابن عمر اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ طَيْرِ الْجَنَّةِ؛جنت کی پرندوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٠؛حدیث نمبر ٢٥٤٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سُئِلَ [ص: ٦٨١] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا الكَوْثَرُ؟ قَالَ: «ذَاكَ نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ - يَعْنِي فِي الجَنَّةِ - أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ العَسَلِ، فِيهَا طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا كَأَعْنَاقِ الجُزُرِ» قَالَ عُمَرُ: إِنَّ هَذِهِ لَنَاعِمَةٌ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ هُوَ: ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ «وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ، قَدْ رَوَى عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2542

حضرت بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا جنت میں گھوڑے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تم کو جنت میں داخل کیا تو تمہاری خواہش کے مطابق تمہیں سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار کیا جائے گا، تم جہاں چاہو گے وہ تمہیں جنت میں لے کر اڑے گا“، آپ سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جنت میں اونٹ ہیں؟ بریدہ کہتے ہیں: آپ نے اس کو پہلے آدمی کی طرح جواب نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہیں جنت میں داخل کیا تو اس میں تمہارے لیے ہر وہ چیز موجود ہو گی جس کی تم چاہت کرو گے اور جس سے تمہاری آنکھیں لطف اٹھائیں گی“۔ ایک اور سند سے عبدالرحمٰن بن سابط کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی اسی معنی کی حدیث مروی ہے، اور یہ مسعودی کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، (کیونکہ اس کا مرفوع متصل ہونا صحیح نہیں ہے) (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ خَيْلِ الْجَنَّةِ؛جنت کے گھوڑوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨١؛حدیث نمبر ٢٥٤٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا المَسْعُودِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ فِي الجَنَّةِ مِنْ خَيْلٍ؟ قَالَ: «إِنِ اللَّهُ أَدْخَلَكَ الجَنَّةَ، فَلَا تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فِيهَا عَلَى فَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ يَطِيرُ بِكَ فِي الجَنَّةِ حَيْثُ شِئْتَ إِلَّا فَعَلَتْ» قَالَ: وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ فِي الجَنَّةِ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: فَلَمْ يَقُلْ لَهُ مَا قَالَ لِصَاحِبِهِ قَالَ: «إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الجَنَّةَ يَكُنْ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ» [ص: ٦٨٢] حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، «وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ المَسْعُودِيِّ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2543

حضرت ابوایوب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے گھوڑا پسند ہے، کیا جنت میں گھوڑے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم جنت میں داخل کئے گئے تو تمہیں یاقوت کا گھوڑا دیا جائے گا، اس کے دو پر ہوں گے تم اس پر سوار کئے جاؤ گے پھر جہاں چاہو گے وہ تمہیں لے کر اڑے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ ہم اسے ابوایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ابوسورۃ، ابوایوب کے بھتیجے ہیں۔ یہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔ انہیں یحییٰ بن معین نے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا: ابوسورۃ منکر حدیث ہیں، یہ حضرت ابوایوب رضی الله عنہ سے ایسی کئی منکر احادیث روایت کرتے ہیں، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ خَيْلِ الْجَنَّةِ؛جنت کے گھوڑوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٢؛حدیث نمبر ٢٥٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ الأَحْمَسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ وَاصِلٍ هُوَ ابْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الخَيْلَ، أَفِي الجَنَّةِ خَيْلٌ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ أُدْخِلْتَ الجَنَّةَ أُتِيتَ بِفَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ لَهُ جَنَاحَانِ فَحُمِلْتَ عَلَيْهِ، ثُمَّ طَارَ بِكَ حَيْثُ شِئْتَ»: «هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالقَوِيِّ، وَلَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ» وَأَبُو سَوْرَةَ هُوَ: ابْنُ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ يُضَعَّفُ فِي الحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ جِدًّا " وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، يَقُولُ: «أَبُو سَوْرَةَ هَذَا مُنْكَرُ الحَدِيثِ يَرْوِي مَنَاكِيرَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2544

حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے چہرے اور جسم پر بال نہیں ہوں گے، سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے اور تیس یا تینتیس سال کے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- قتادہ کے بعض شاگردوں نے اسے قتادہ سے مرسلا روایت کیا ہے۔ اور اسے مسند نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي سِنِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جنتیوں کی عمر کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٢؛حدیث نمبر ٢٥٤٥)

حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو العَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ [ص: ٦٨٣] عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ أَهْلُ الجَنَّةِ الجَنَّةَ جُرْدًا مُرْدًا مُكَحَّلِينَ أَبْنَاءَ ثَلَاثِينَ أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِ قَتَادَةَ رَوَوْا هَذَا عَنْ قَتَادَةَ، مُرْسَلًا وَلَمْ يُسْنِدُوهُ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2545

حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جس میں سے اسّی صفیں اس امت کی اور چالیس دوسری امتوں کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث «عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے، ۳- بعض لوگوں نے سند یوں بیان کی ہے: «عن سليمان بن بريدة عن أبيه»، ۴- ابوسنان کی حدیث جو محارب بن دثار کے واسطہ سے مروی ہے، حسن ہے، ۵- ابوسنان کا نام ضرار بن مرۃ ہے اور ابوسنان شیبانی کا نام سعید بن سنان ہے، یہ بصریٰ ہیں،اور ابوسنان شامی کا نام عیسیٰ بن سنان ہے، اور ان کا اسم منسوب قسملی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صَفِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جنتیوں کی صف کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٣؛حدیث نمبر ٢٥٤٦)

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الطَّحَّانُ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلُ الجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ثَمَانُونَ مِنْهَا مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُرْسَلًا، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَحَدِيثُ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ حَسَنٌ " وَأَبُو سِنَانٍ اسْمُهُ: ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، وَأَبُو سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ اسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ بَصْرِيٌّ، وَأَبُو سِنَانٍ الشَّامِيُّ اسْمُهُ: عِيسَى بْنُ سِنَانٍ هُوَ القَسْمَلِيُّ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2546

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک خیمہ میں ہم تقریباً چالیس آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے ہم سے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کی چوتھائی رہو؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کی تہائی رہو؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کے آدھا رہو؟ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کے چمڑے پر سفید بال یا سرخ بیل کے چمڑے پر کالا بال“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عمران بن حصین اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صَفِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جنتیوں کی صف کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٤؛حدیث نمبر ٢٥٤٧)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الجَنَّةِ»، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الجَنَّةِ»، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الجَنَّةِ، إِنَّ الجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، مَا أَنْتُمْ فِي الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ البَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَحْمَرِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَفِي البَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2547

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دروازہ جس سے میری امت جنت میں داخل ہو گی اس کی چوڑائی تیز رفتار گھوڑ سوار کے تین دن کی مسافت کے برابر ہو گی، اس کے باوجود ان لوگوں کا اس میں اتنا ہجوم ہوگا کہ یوں محسوس ہوگا کہ ان کے بازو اتر جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے نہیں جان سکے اور کہا: سالم بن عبداللہ کے واسطہ سے خالد بن ابی بکر کی کئی منکر احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؛جنت کے دروازوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٤؛حدیث نمبر ٢٥٤٨)

حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ البَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى القَزَّازُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَابُ أُمَّتِي الَّذِي يَدْخُلُونَ مِنْهُ الجَنَّةَ عَرْضُهُ مَسِيرَةُ الرَّاكِبِ المُجَوِّدِ ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّهُمْ لَيُضْغَطُونَ عَلَيْهِ حَتَّى تَكَادَ مَنَاكِبُهُمْ تَزُولُ»: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. سَأَلْتُ مُحَمَّدًا، عَنْ هَذَا [ص: ٦٨٥] الحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، وقَالَ: لِخَالِدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مَنَاكِيرُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2548

سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملے تو حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تم کو جنت کے بازار میں اکٹھا کرے۔ سعید بن مسیب نے کہا: کیا اس میں بازار بھی ہے؟حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: ہاں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو وہ اس میں اپنے اعمال کے مطابق اتریں گے، پھر دنیا کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کے برابر انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت کریں گے، ان کے لیے عرش ظاہر ہو گا اور جنت کے ایک باغ میں نظر آئے گا، پھر ان کے لیے نور کے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زمرد کے منبر، سونے کے منبر، اور چاندی کے منبر رکھے جائیں گے، ان کے ادنیٰ درجہ والے حالانکہ ان میں کوئی بھی ادنیٰ نہیں ہو گا مشک اور کافور کے ٹیلے پر بیٹھیں گے اور دوسرے منبر والوں کے بارے میں یہ نہیں خیال کریں گے کہ وہ ان سے اچھی جگہ بیٹھے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، کیا تم سورج اور چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں تمہیں دقت ہوتی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تم اپنے رب کا دیدار کرنے میں تمہیں دقت نہیں ہوگی، اور اس مجلس میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہو گا جس کے روبرو اللہ تعالیٰ گفتگو نہ کرے، حتیٰ کہ ان میں سے ایک آدمی سے کہے گا: اے فلاں بن فلاں! کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب تم نے ایسا ایسا کیا تھا؟ پھر اسے اس کے بعض گناہ یاد دلائے گا جو دنیا میں اس نے کیے تھے تو وہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے معاف نہیں کر دیا؟ اللہ تعالیٰ کہے گا: کیوں نہیں؟ میری مغفرت کے سبب ہی تم اس مقام پر ہو۔ وہ سب اسی حال میں ہوں گے کہ اوپر سے انہیں ایک بدلی ڈھانپ لے گی اور ان پر ایسی خوشبو برسائے گی کہ اس طرح کی خوشبو انہیں کبھی نہیں ملی ہو گی اور ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کہے گا: اس کرامت اور انعام کی طرف جاؤ جو ہم نے تمہارے لیے تیار کر رکھی ہے، اور اس میں سے جو چاہو لو، چنانچہ ہم ایک ایسے بازار میں آئیں گے جسے فرشتے گھیرے ہوں گے اس میں ایسی چیزیں ہوں گی کہ اس طرح نہ کبھی آنکھوں نے دیکھی ہو گی نہ کانوں نے سنا ہو گا اور نہ کبھی دلوں میں اس کا خیال آیا ہو گا، ہم جو چاہیں گے ہمارے پاس لایا جائے گا، اس میں خرید و فروخت نہیں ہو گی اور اسی بازار میں جنتی ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے“، آپ نے فرمایا: ”ایک بلند مرتبہ والا آدمی اپنے سے کم رتبہ والے کی طرف متوجہ ہو گا اور اس سے ملاقات کرے گا (حالانکہ حقیقت میں اس میں سے کوئی بھی کم مرتبے والا نہیں ہو گا) تو اسے (ادنیٰ مرتبے والے کو) اس کا لباس دیکھ کر عجیب سا لگے گا پھر اس کی آخری گفتگو ختم بھی نہیں ہو گی کہ اسے محسوس ہو گا کہ اس کا لباس اس سے بھی اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ جنت میں کسی کا مغموم ہونا مناسب نہیں ہے۔ پھر ہم (جنتی) اپنے گھروں کی طرف واپس جائیں گے اور اپنی بیویوں سے ملیں گے تو وہ کہیں گی: خوش آمدید! آپ ایسا حسن و جمال لے کر آئے ہیں جو اس سے کہیں بہتر ہے جب آپ ہم سے جدا ہوئے تھے، تو وہ آدمی کہے گا: آج ہم اپنے رب جبار کے ساتھ بیٹھے تھے اور ہمارا حق ہے کہ ہم اسی طرح لوٹیں جس طرح لوٹے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ـ سوید بن عمرو نے بھی اوزاعی سے اس حدیث کا بعض حصہ روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ؛جنت کے بازار کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٥؛حدیث نمبر ٢٥٤٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي العِشْرِينَ قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الجَنَّةِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَفِيهَا سُوقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ أَهْلَ الجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ، ثُمَّ يُؤْذَنُ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا فَيَزُورُونَ رَبَّهُمْ، وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ وَيَتَبَدَّى لَهُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الجَنَّةِ، فَتُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ، وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُمْ وَمَا فِيهِمْ مِنْ دَنِيٍّ عَلَى كُثْبَانِ المِسْكِ وَالكَافُورِ، مَا يَرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الكَرَاسِيِّ بِأَفْضَلَ مِنْهُمْ مَجْلِسًا». قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: «هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالقَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ»؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: " كَذَلِكَ لَا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ وَلَا يَبْقَى فِي ذَلِكَ المَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا حَاضَرَهُ اللَّهُ مُحَاضَرَةً حَتَّى يَقُولَ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانٍ أَتَذْكُرُ يَوْمَ قُلْتَ: كَذَا وَكَذَا؟ فَيُذَكِّرُهُ [ص: ٦٨٦] بِبَعْضِ غَدْرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَبِسَعَةُ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ غَشِيَتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ، وَيَقُولُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الكَرَامَةِ فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ، فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حَفَّتْ بِهِ المَلَائِكَةُ، فِيهِ مَا لَمْ تَنْظُرِ العُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ، وَلَمْ تَسْمَعِ الآذَانُ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى القُلُوبِ فَيُحْمَلُ إِلَيْنَا مَا اشْتَهَيْنَا، لَيْسَ يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى، وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا "، قَالَ: " فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو المَنْزِلَةِ المُرْتَفِعَةِ فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ، فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَخَيَّلَ عَلَيْهِ مَا هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا، ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا، فَيَتَلَقَّانَا أَزْوَاجُنَا فَيَقُلْنَ مَرْحَبًا وَأَهْلًا، لَقَدْ جِئْتَ وَإِنَّ بِكَ مِنَ الجَمَالِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: إِنَّا جَالَسْنَا اليَوْمَ رَبَّنَا الجَبَّارَ، وَيَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا ": «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ» وَقَدْ رَوَى سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، شَيْئًا مِنْ هَذَا الحَدِيثِ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2549

حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک ایسا بازار ہے جس میں خرید و فروخت نہیں ہو گی، البتہ اس میں مرد اور عورتوں کی صورتیں ہیں، جب آدمی کسی صورت کو پسند کرے گا تو وہ اسی کی طرح ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؛جنت کے دروازوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٦؛حدیث نمبر ٢٥٥٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الجَنَّةِ لَسُوقًا مَا فِيهَا شِرَاءٌ وَلَا بَيْعٌ إِلَّا الصُّوَرَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَ فِيهَا»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2550

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”تم لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔ اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے کے بعد کی نماز (فجر اور مغرب) میں مغلوب نہ ہو(یعنی اسے قضا نہ کرنا)تو ایسا کرو، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «سبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ”سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَةِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؛جنت میں رب تبارک و تعالیٰ کے دیدار کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٧؛حدیث نمبر ٢٥٥١)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلِيِّ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى القَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا القَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٍ قَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا»، ثُمَّ قَرَأَ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} [ق: ٣٩]: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2551

حضرت صہیب رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» (یونس: ۲۶) کے بارے میں فرمایا: ”جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا: اللہ سے تمہیں ایک اور چیز ملنے والی ہے، وہ کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا، ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی، اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، پھر حجاب اٹھ جائے گا“، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے انہیں کوئی ایسی چیز نہیں دی جو ان کے نزدیک اللہ کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو صرف حماد بن سلمہ نے مسند اور مرفوع کیا ہے، ۲- سلیمان بن مغیرہ اور حماد بن زید نے اس حدیث کو ثابت بنانی کے واسطہ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَةِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؛جنت میں رب تبارک و تعالیٰ کے دیدار کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٧؛حدیث نمبر ٢٥٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: ٢٦] قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نَادَى مُنَادٍ: إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا، قَالُوا: أَلَمْ يُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَيُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ؟ قَالُوا: بَلَى، فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ ": هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا أَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَرَفَعَهُ. [ص: ٦٨٨] وَرَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ المُغِيرَةِ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، هَذَا الحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَوْلَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2552

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے کم تر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو اپنے باغات، بیویوں، نعمتوں، خادموں اور تختوں کی طرف دیکھے گا جو ایک ہزار سال کی مسافت پر مشتمل ہوں گے، اور اللہ کے پاس سب سے مکرم وہ ہو گا جو صبح و شام اس کی زیارت کرے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» ”اس دن بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے“ (القیامۃ: ۲۲، ۲۳)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث کئی سندوں سے اسرائیل کے واسطہ سے جسے وہ ثویر سے، اور ثویر حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں مرفوعاً آئی ہے۔ جب کہ اسے عبدالملک بن جبر نے ثویر کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور عبیداللہ بن اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے ثویر سے، ثویر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر سے ان کے اپنے قول کی حیثیت سے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے۔ ایک اور سند سے حضرت عبداللہ بن عمر سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، مگر اسے (راوی نے) مرفوع نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٨؛حدیث نمبر ٢٥٥٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ، وَأَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غَدْوَةً وَعَشِيَّةً»، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: ٢٣]: «وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، مَرْفُوعًا» وَرَوَاهُ عَبْدُ المَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «مَوْقُوفًا» وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَوْلَهُ «وَلَمْ يَرْفَعْهُ» حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ العَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ «وَلَمْ يَرْفَعْهُ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2553

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو؟ کیا تم سورج کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یحییٰ بن عیسیٰ رملی اور کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، عبداللہ بن ادریس نے اسے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- ابن ادریس کی حدیث جو اعمش کے واسطہ سے مروی ہے غیر محفوظ ہے، اور ابوصالح کی حدیث جو ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے، ۴- سہیل بن ابی صالح نے اسے اسی طرح اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ یہ حدیث ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سند سے اسی کے مثل مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٨؛حدیث نمبر ٢٥٥٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ نُوحٍ الحِمَّانِيُّ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ [ص: ٦٨٩] صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُضَامُونَ فِي رُؤْيَةِ القَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ، وَتُضَامُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ»؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ القَمَرَ لَيْلَةَ البَدْرِ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ» وَهَكَذَا رَوَى يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَحَدِيثُ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَحَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ» وَهَكَذَا رَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الوَجْهِ مِثْلُ هَذَا الحَدِيثِ وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَيْضًا

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2554

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جنت والوں سے کہے گا: اے جنت والو! وہ کہیں گے: لبیک اور سعدیک اے ہمارے رب! اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا تم راضی ہو گئے؟ وہ کہیں گے: ہم کیوں نہیں راضی ہوں گے جب کہ تو نے ہمیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو تو نے اپنی کسی مخلوق کو نہیں دی ہیں، اللہ تعالیٰ کہے گا: میں تمہیں اس سے بھی زیادہ بہتر چیز دوں گا۔ وہ پوچھیں گے: اس سے بہتر کون سی چیز ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے اوپر اپنی رضا مندی نازل کروں گا اور تم سے کبھی نہیں ناراض ہوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٨٩؛حدیث نمبر ٢٥٥٥)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ [ص: ٦٩٠] الجَنَّةِ: يَا أَهْلَ الجَنَّةِ، فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا لَنَا لَا نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، فَيَقُولُ: أَنَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالُوا: أَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا ": «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2555

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت ایک دوسرے کو اسی طرح نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی ستارہ نظر آتا ہے، جو افق میں نکلنے اور ڈوبنے والا ہے،ایسا ان کے درجات میں باہمی فرق کی وجہ سے ہوگا“۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ انبیاء ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي تَرَائِي أَهْلِ الْجَنَّةِ فِي الْغُرَفِ؛ اہل جنت کا اپنے کمروں میں سے ایک دوسرے کو دیکھنا؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٠؛حدیث نمبر ٢٥٥٦)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ فِي الغُرْفَةِ كَمَا يَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الشَّرْقِيَّ أَوِ الْكَوْكَبَ الْغَرْبِيَّ الْغَارِبَ فِي الْأُفُقِ أَوِ الطَّالِعَ، فِي تَفَاضُلِ الدَّرَجَاتِ»، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُولَئِكَ النَّبِيُّونَ؟ قَالَ: «بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَأَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَصَدَّقُوا المُرْسَلِينَ»: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2556

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک وسیع اور ہموار زمین میں جمع کرے گا، پھر اللہ رب العالمین ان کے سامنے اچانک آئے گا اور کہے گا: کیوں نہیں ہر آدمی اس چیز کے پیچھے چلا جاتا ہے جس کی وہ عبادت کرتا تھا؟ چنانچہ صلیب کے ماننے والوں کے لیے صلیب ایک وجوہ کی شکل میں آے گا، تصویروں کی عبادت کرنے والوں کے لیے ان کی تصویریں وجود میں آے گی اور آگ پوجنے والوں کے سامنے آگ کی صورت بن جائے گی، پھر وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے لگ جائیں گے اور مسلمان ٹھہرے رہیں گے، پھر رب العالمین ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے، ہم یہیں رہیں گے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا اور ان کو ثابت قدم رکھے گا پھر وہ حجاب کے پیچھے چلا جاے گا، پھر آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارا رب اللہ ہے اور ہماری جگہ یہی ہے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں، اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا اور انہیں ثابت قدم رکھے گا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت ہوتی ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کے دیکھنے میں اس وقت کوئی دقت محسوس نہیں کرو گے۔ پھر وہ حجاب کے پیچھے چلا جائے گا پھر وہ نمودار ہوگا اور ان سے اپنی شناخت کرائے گا، پھر کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، میرے پیچھے آؤ، چنانچہ مسلمان کھڑے ہوں گے اور پل صراط قائم کیا جائے گا، اس پر سے مسلمان تیز رفتار گھوڑے اور سوار کی طرح گزریں گے اور گزرتے ہوئے ان سے یہ کلمات ادا ہوں گے «سلم سلم» ”سلامت رکھ، سلامت رکھ“، صرف جہنمی باقی رہ جائیں گے تو ان میں سے ایک گروہ کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ جہنم کہے گی: «هل من مزيد» اور زیادہ، پھر اس میں دوسرا گروہ پھینکا جائے گا اور پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی: «هل من مزيد» اور زیادہ، یہاں تک کہ جب تمام لوگ پھینک دیے جائیں گے تو رحمن اس میں اپنا پیر ڈالے گا اور جہنم کا ایک حصہ دوسرے میں سمٹ جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: بس۔ جہنم کہے گی: «قط قط» بس، بس۔ جب اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کر دے گا، تو موت کو کھینچتے ہوئے اس دیوار تک لایا جائے گا جو جنت اور جہنم کے درمیان ہے، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! تو وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے، پھر کہا جائے گا: اے جہنمیو! تو وہ شفاعت کی امید میں خوش ہو کر جھانکیں گے، پھر جنتیوں اور جہنمیوں سے کہا جائے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ تو یہ بھی کہیں گے اور وہ بھی کہیں گے: ہم نے اسے پہچان لیا، یہ وہی موت ہے جو ہمارے اوپر مسلط کی گئی تھی، پھر وہ جنت اور جہنم کی بیچ والی دیوار پر لٹا کر یکبارگی ذبح کر دی جائے گی، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! ہمیشہ (جنت میں) رہنا ہے موت نہیں آئے گی۔ اے جہنمیو! ہمیشہ (جہنم میں) رہنا ہے موت نہیں آئے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی بہت سی احادیث مروی ہیں جس میں دیدار الٰہی کا ذکر ہے کہ لوگ اپنے رب کو دیکھیں گے، قدم اور اسی طرح کی چیزوں کا بھی ذکر ہے، ۳- اس سلسلے میں ائمہ اہل علم جیسے سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک، ابن عیینہ اور وکیع وغیرہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کی روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ حدیثیں آئی ہیں اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں، لیکن صفات باری تعالیٰ کی کیفیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جائے گا، محدثین کا مسلک یہ یہی کہ یہ چیزیں ویسی ہی روایت کی جائیں گی جیسی وارد ہوئی ہیں، ان کی نہ (باطل) تفسیر کی جائے گی نہ اس میں کوئی وہم پیدا کیا جائے گا، اور نہ ان کی کیفیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، اہل علم نے اسی مسلک کو اختیار کیا ہے اور لوگ اسی کی طرف گئے ہیں، ۴- حدیث کے اندر «فيعرفهم نفسه» کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے تجلی فرمائے گا۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي خُلُودِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ؛جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩١؛حدیث نمبر ٢٥٥٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ العَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ القِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ العَالَمِينَ، فَيَقُولُ: أَلَا يَتْبَعُ كُلُّ إِنْسَانٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، فَيُمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِيبِ صَلِيبُهُ، وَلِصَاحِبِ التَّصَاوِيرِ تَصَاوِيرُهُ، وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُهُ، فَيَتْبَعُونَ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَيَبْقَى المُسْلِمُونَ فَيَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ العَالَمِينَ، فَيَقُولُ: أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، اللَّهُ رَبُّنَا، وَهَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ، ثُمَّ يَتَوَارَى ثُمَّ يَطَّلِعُ فَيَقُولُ: أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ اللَّهُ رَبُّنَا، وَهَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ " قَالُوا: وَهَلْ نَرَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ القَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ»؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ تِلْكَ السَّاعَةَ، ثُمَّ يَتَوَارَى ثُمَّ يَطَّلِعُ فَيُعَرِّفُهُمْ نَفْسَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّبِعُونِي، فَيَقُومُ المُسْلِمُونَ وَيُوضَعُ الصِّرَاطُ، فَيَمُرُّونَ عَلَيْهِ مِثْلَ جِيَادِ الخَيْلِ وَالرِّكَابِ، وَقَوْلُهُمْ عَلَيْهِ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَيَبْقَى أَهْلُ النَّارِ فَيُطْرَحُ مِنْهُمْ فِيهَا فَوْجٌ، ثُمَّ يُقَالُ: هَلْ امْتَلَأْتِ؟ فَتَقُولُ: {هَلْ مِنْ مَزِيدٍ} [ق: ٣٠] ثُمَّ يُطْرَحُ فِيهَا فَوْجٌ، فَيُقَالُ: [ص: ٦٩٢] هَلْ امْتَلَأْتِ؟ فَتَقُولُ: {هَلْ مِنْ مَزِيدٍ} [ق: ٣٠]، حَتَّى إِذَا أُوعِبُوا فِيهَا وَضَعَ الرَّحْمَنُ قَدَمَهُ فِيهَا وَأَزْوَى بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ قَالَ: قَطْ، قَالَتْ: قَطْ قَطْ، فَإِذَا أَدْخَلَ اللَّهُ أَهْلَ الجَنَّةِ الجَنَّةَ وَأَهْلَ النَّارِ النَّارَ، قَالَ: أُتِيَ بِالمَوْتِ مُلَبَّبًا، فَيُوقَفُ عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الجَنَّةِ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ يَرْجُونَ الشَّفَاعَةَ، فَيُقَالُ لِأَهْلِ الجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ: قَدْ عَرَفْنَاهُ، هُوَ المَوْتُ الَّذِي وُكِّلَ بِنَا، فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ ذَبْحًا عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الجَنَّةِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِوَايَاتٌ كَثِيرَةٌ مِثْلُ هَذَا مَا يُذْكَرُ فِيهِ أَمْرُ الرُّؤْيَةِ أَنَّ النَّاسَ يَرَوْنَ رَبَّهُمْ وَذِكْرُ القَدَمِ وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ» وَالمَذْهَبُ فِي هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنَ الأَئِمَّةِ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنِ المُبَارَكِ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ، وَوَكِيعٍ وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ رَوَوْا هَذِهِ الأَشْيَاءَ، ثُمَّ قَالُوا: تُرْوَى هَذِهِ الأَحَادِيثُ وَنُؤْمِنُ بِهَا، وَلَا يُقَالُ: كَيْفَ؟ وَهَذَا الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الحَدِيثِ أَنْ يَرْوُوا هَذِهِ الأَشْيَاءُ كَمَا جَاءَتْ وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا تُفَسَّرُ وَلَا تُتَوَهَّمُ وَلَا يُقَالُ: كَيْفَ، وَهَذَا أَمْرُ أَهْلِ العِلْمِ الَّذِي اخْتَارُوهُ وَذَهَبُوا إِلَيْهِ. وَمَعْنَى قَوْلِهِ فِي الحَدِيثِ: فَيُعَرِّفُهُمْ نَفْسَهُ يَعْنِي يَتَجَلَّى لَهُمْ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2557

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: ”قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی طرح لایا جائے گا اور جنت و جہنم کے درمیان کھڑی کی جائے گی پھر وہ ذبح کی جائے گی، اور جنتی و جہنمی دیکھ رہے ہوں گے، سو اگر کوئی خوشی سے مرنے والا ہوتا تو جنتی مر جاتے اور اگر کوئی غم سے مرنے والا ہوتا تو جہنمی مر جاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي خُلُودِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ؛جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٣؛حدیث نمبر ٢٥٥٨)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ القِيَامَةِ أُتِيَ بِالمَوْتِ كَالكَبْشِ الأَمْلَحِ، فَيُوقَفُ بَيْنَ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُذْبَحُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، فَلَوْ أَنَّ أَحَدًا مَاتَ فَرَحًا لَمَاتَ أَهْلُ الجَنَّةِ، وَلَوْ أَنَّ أَحَدًا مَاتَ حُزْنًا لَمَاتَ أَهْلُ النَّارِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2558

حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنت کو(دنیا میں)تکالیف کے سائے میں رکھا گیا ہے اور جہنم کو(دنیا میں) نفسانی خواہشات کے سائے میں رکھا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ؛جنت کو(دنیاوی)تکالیف کے سائے میں رکھا گیا ہے اور جہنم کو (دنیاوی)نفسانی خواہشات کے سائے میں رکھا گیا ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٣؛حدیث نمبر ٢٥٥٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حُفَّتِ الجَنَّةُ بِالمَكَارِهِ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2559

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو پیدا کر لیا تو حضرت جبرائیل کو جنت کی طرف بھیجا اور کہا: جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے جو کچھ ہم نے تیار کر رکھا ہے، اسے جا کر دیکھو“، آپ نے فرمایا: ”وہ آئے اور جنت کو اور جنتیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو تیار کر رکھا ہے اسے دیکھا:“ آپ نے فرمایا: ”پھر اللہ کے پاس واپس گئے اور عرض کیا: تیری عزت کی قسم! جو بھی اس کے بارے میں سن لے اس میں ضرور داخل ہو گا، پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھیر دی گئی، اور اللہ نے کہا: اس کی طرف دوبارہ جاؤ اور اس میں جنتیوں کے لیے ہم نے جو تیار کیا ہے اسے دیکھو“۔ آپ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام جنت کی طرف دوبارہ گئے تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی تھی چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر آئے اور عرض کیا: مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہو گا، اللہ نے کہا: جہنم کی طرف جاؤ اور جہنم کو اور جو کچھ جہنمیوں کے لیے میں نے تیار کیا ہے اسے جا کر دیکھو، (انہوں نے دیکھا کہ) اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھ رہا ہے، وہ اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا: تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں جو بھی سن لے اس میں داخل نہیں ہو گا۔ پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ شہوات سے گھیر دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: اس کی طرف دوبارہ جاؤ، وہ اس کی طرف دوبارہ گئے اور (واپس آ کر) عرض کیا: تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی نجات نہیں پائے گا بلکہ اس میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ؛جنت کو(دنیاوی)تکالیف کے سائے میں رکھا گیا ہے اور جہنم کو (دنیاوی)نفسانی خواہشات کے سائے میں رکھا گیا ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٣؛حدیث نمبر ٢٥٦٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ إِلَى الجَنَّةِ فَقَالَ: انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا "، قَالَ: «فَجَاءَهَا وَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا»، قَالَ: " فَرَجَعَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَوَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ [ص: ٦٩٤] بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالمَكَارِهِ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا "، قَالَ: " فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالمَكَارِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خِفْتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ، قَالَ: اذْهَبْ إِلَى النَّارِ فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا، فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلَهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2560

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت اور جہنم کے درمیان مکالمہ ہوا، جنت نے کہا: میرے اندر کمزور اور مسکین داخل ہوں گے، جہنم نے کہا: میرے اندر ظالم اور متکبر داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے (فیصلہ کرتے ہوئے) جہنم سے کہا: تو میرا عذاب ہے اور میں تیرے ذریعہ جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا اور جنت سے کہا: تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ جس پر چاہوں گا رحم کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي احْتِجَاجِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور جہنم کے درمیان مکالمہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٤؛حدیث نمبر ٢٥٦١)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّتِ الجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ الجَنَّةُ: يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالمَسَاكِينُ، وَقَالَتِ النَّارُ: يَدْخُلُنِي الجَبَّارُونَ وَالمُتَكَبِّرُونَ، فَقَالَ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أَنْتَقِمُ بِكِ مِمَّنْ شِئْتُ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ شِئْتُ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2561

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم درجے کا جنتی وہ ہے جس کے لیے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لیے موتی، زمرد اور یاقوت کا خیمہ نصب کیا جائے گا جو مقام جابیہ سے صنعاء (یمن) تک کے برابر ہو گا“۔ حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے اسی سند سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتیوں کے اوپر تاج ہوں گے، جس کا کم تر موتی بھی پورب پچھم کو روشن کر دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ مَا لأَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْكَرَامَةِ باب: ادنیٰ درجہ کے جنتی کے اعزاز و اکرام کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٥؛حدیث نمبر ٢٥٦٢)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدْنَى أَهْلِ الجَنَّةِ الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً، وَتُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ وَيَاقُوتٍ كَمَا بَيْنَ الجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ» وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ مِنْ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ يُرَدُّونَ بَنِي ثَلَاثِينَ فِي الجَنَّةِ لَا يَزِيدُونَ عَلَيْهَا أَبَدًا، وَكَذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ» وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ عَلَيْهِمُ التِّيجَانَ، إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2562

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مومن جنت میں لڑکے کی خواہش کرے گا تو حمل ٹھہرنا، ولادت ہونا اور اس کی عمر بڑھنا یہ سب کچھ اس کی خواہش کے مطابق ایک ساعت میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: جنت میں جماع تو ہو گا مگر بچہ نہیں پیدا ہو گا۔ طاؤس، مجاہد اور ابراہیم نخعی سے اسی طرح مروی ہے، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں: جب جنت میں مومن بچے کی خواہش کرے گا تو یہ ایک ساعت میں ہو جائے گا، جیسے ہی وہ خواہش کرے گا لیکن وہ ایسی خواہش نہیں کرے گا، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابورزین عقیلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی کے لیے جنت میں کوئی بچہ نہیں ہو گا، ۵- ابوصدیق ناجی کا نام بکر بن عمرو ہے، انہیں بکر بن قیس بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ مَا لأَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْكَرَامَةِ باب: ادنیٰ درجہ کے جنتی کے اعزاز و اکرام کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٥؛حدیث نمبر ٢٥٦٣)

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «المُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الوَلَدَ فِي الجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ العِلْمِ فِي هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فِي الجَنَّةِ جِمَاعٌ [ص: ٦٩٦] وَلَا يَكُونُ وَلَدٌ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ طَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ " وقَالَ مُحَمَّدٌ، قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اشْتَهَى المُؤْمِنُ الوَلَدَ فِي الجَنَّةِ كَانَ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي وَلَكِنْ لَا يَشْتَهِي» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي رَزِينٍ العُقَيْلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الجَنَّةِ لَا يَكُونُ لَهُمْ فِيهَا وَلَدٌ»، " وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ اسْمُهُ: بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ: بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ أَيْضًا "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2563

حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں حورعین اکھٹی ہوتی ہیں۔وہ بلند آواز میں گفتگو کرتی ہیں کہ مخلوق نے کبھی اس جیسی آواز نہیں سنی ہو گی“، آپ نے فرمایا: ”وہ کہیں گی: ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی فنا نہیں ہوں گی، ہم ناز و نعمت والی ہیں کبھی محتاج نہیں ہوں گی، ہم خوش رہنے والی ہیں کبھی ناراض نہیں ہوں گی، اس کے لیے خوشخبری اور مبارک ہو اس کے لیے جو ہمارے لیے ہے اور ہم اس کے لیے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حضرت علی رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ابو سعید خدری اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَلاَمِ الْحُورِ الْعِينِ باب: حورعین کی گفتگو کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٦؛حدیث نمبر ٢٥٦٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الجَنَّةِ لَمُجْتَمَعًا لِلْحُورِ العِينِ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتٍ لَمْ يَسْمَعِ الخَلَائِقُ مِثْلَهَا»، قَالَ: " يَقُلْنَ: نَحْنُ الخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ، وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ، وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ، طُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ " وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ: «حَدِيثِ عَلِيٍّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2564

یحییٰ بن ابی کثیر آیت کریمہ: «فهم في روضة يحبرون» ”وہ جنت کے باغات میں خوش و خرم ہوں گی“(الروم ١٥)کے بارے میں کہتے ہیں: یعنی وہ(باتیں سن کر)خوش و خرم ہوں گے(خوش کرنے والی باتیں سننے)کی مثال وہ ہے جو ایک حدیث میں مذکور ہے۔ "حور عین بلند آواز میں یہ بات کہتی ہے۔" (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَلاَمِ الْحُورِ العِينِ, حورعین کی گفتگو کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٦؛حدیث نمبر ٢٥٦٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ [ص: ٦٩٧] يُحْبَرُونَ} [الروم: ١٥] قَالَ: «السَّمَّاعُ» وَمَعْنَى السَّمَّاعِ مِثْلَ مَا وَرَدَ فِي الحَدِيثِ أَنَّ الحُورَ العِينَ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتِهِنَّ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2565

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے“، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے: ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ لوگ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٧؛حدیث نمبر ٢٥٦٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي اليَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ المِسْكِ - أُرَاهُ قَالَ - يَوْمَ القِيَامَةِ، يَغْبِطُهُمُ الأَوَّلُونَ وَالآخِرُونَ: رَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَرَجُلٌ يَؤُمُّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ ": " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَبُو اليَقْظَانِ اسْمُهُ: عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ قَيْسٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2566

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے: ایک وہ آدمی جو رات میں اٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے، دوسرا وہ آدمی جو اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے اور اسے چھپائے(راوی بیان کرتے ہیں:میرا خیال ہے اس میں یہ الفاظ بھی ہیں)کہ بائیں ہاتھ سے اسے مخفی رکھتا ہے)اور تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور ہار جانے کے بعد پھر بھی دشمنوں کا مقابلہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ صحیح وہ روایت ہے جسے شعبہ وغیرہ نے «عن منصور عن ربعي بن حراش عن زيد بن ظبيان عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ابوبکر بن عیاش بہت غلطیاں کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٧؛حدیث نمبر ٢٥٦٧)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: «ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ صَدَقَةً بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا - أُرَاهُ قَالَ - مِنْ شِمَالِهِ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ فَاسْتَقْبَلَ العَدُوَّ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ» وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعْبَةُ، وَغَيْرُهُ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ كَثِيرُ الغَلَطِ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2567

حضرت ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے، اور تین قسم کے لوگوں سے نفرت، جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے وہ یہ ہیں: ایک وہ آدمی جو کسی قوم کے پاس جائے اور ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگے وہ اپنے اور اس قوم کے درمیان پائے جانے والے کسی رشتے کا واسطہ دے کر نہ مانگے اور وہ لوگ اسے کچھ نہ دیں، پھر ان میں سے ایک آدمی پیچھے پھرے اور اسے چپکے سے لا کر کچھ دے، اس کے عطیہ کو اللہ تعالیٰ اور جس کو دیا ہے اس کے سوا کوئی نہ جانے۔ دوسرے وہ لوگ جو رات کو چلیں یہاں تک کہ جب ان کو نیند ان چیزوں سے پیاری ہو جائے جو نیند برابر ہیں تو سواری سے اتریں اور سر رکھ کر سو جائیں اور ان میں کا ایک آدمی کھڑا ہو کر میری بارگاہ میں گڑگڑاے اور میری آیتوں کی تلاوت کرنے لگے، تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور دشمن سے مقابلہ ہو تو اس کے ساتھی ہار جائیں پھر بھی وہ سینہ سپر ہو کر آگے بڑھے یہاں تک کہ مارا جائے یا فتح حاصل ہو جائے۔ جن تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے وہ یہ ہیں: وہ بوڑھا جو زنا کار ہو، وہ فقیر جو تکبر کرنے والا ہو اور مالدار جو دوسروں پر ظلم ڈھائے“۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ابوذر رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسی طرح شیبان نے منصور کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، یہ ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٨؛حدیث نمبر ٢٥٦٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ المُعْتَمِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ، فَأَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْيَانِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ، وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَامَ أَحَدُهُمْ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِيَ العَدُوَّ فَهُزِمُوا وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ، وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ، الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالفَقِيرُ المُخْتَالُ، وَالغَنِيُّ الظَّلُومُ» حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَهُ،: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ» وَهَكَذَا رَوَى شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، نَحْوَ هَذَا «وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2568

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٨؛حدیث نمبر ٢٥٦٩)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ الفُرَاتُ [ص: ٦٩٩] يَحْسِرُ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2569

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں یہ فرق ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سونے کا پہاڑ اگلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٩؛حدیث نمبر ٢٥٧٠)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2570

حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں پانی کا سمندر ہے، شہد کا سمندر ہے، دودھ کا سمندر ہے اور شراب کا سمندر ہے، پھر اس کے بعد چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ؛جنت کی نہروں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٩؛حدیث نمبر ٢٥٧١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا الجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ فِي الجَنَّةِ بَحْرَ المَاءِ وَبَحْرَ العَسَلِ وَبَحْرَ اللَّبَنِ وَبَحْرَ الخَمْرِ، ثُمَّ تُشَقَّقُ الأَنْهَارُ بَعْدُ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَكِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هُوَ وَالِدُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، وَالجُرَيْرِيُّ يُكْنَى أَبَا مَسْعُودٍ وَاسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2571

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت مانگتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے، اور جو تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ اس کو جہنم سے نجات دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اسی طرح «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے، ۲- یہ حدیث «عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس بن مالك» کی سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ؛جنت کی نہروں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٩٩؛حدیث نمبر ٢٥٧٢)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ [ص: ٧٠٠] وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ الجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الجَنَّةَ، وَمَنْ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ «هَكَذَا رَوَى يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، هَذَا الحَدِيثَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،» مَوْقُوفًا أَيْضًا "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifatiljannati, Hadees No. 2572

Tirmizi Shareef : Abwabu Sifatiljannati

|

Tirmizi Shareef : ابواب صفۃ الجنۃ

|

•