asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabu Sifati Jahannama

From 2573 to 2605

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّارِ؛جہنم کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠١؛حدیث نمبر ٢٥٧٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ العَلَاءِ بْنِ خَالِدٍ الكَاهِلِيِّ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ، مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: «وَالثَّوْرِيُّ لَا يَرْفَعُهُ» حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ المَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ العَقَدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ العَلَاءِ بْنِ خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ «وَلَمْ يَرْفَعْهُ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2573

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی، دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہو گی جو بولے گی، وہ کہے گی: مجھے تین لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے: ہر سرکش ظالم پر، ہر اس آدمی پر جو اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتا ہو، اور تصویر بنانے والوں پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- بعض لوگوں نے یہ حدیث «عن الأعمش عن عطية عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے، ۴- اشعث بن سوار نے بھی «عن عطية عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّارِ؛جہنم کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠١؛حدیث نمبر ٢٥٧٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الجُمَحِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ القِيَامَةِ لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ وَلِسَانٌ يَنْطِقُ، يَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ، بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، وَبِكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَبِالمُصَوِّرِينَ " [ص: ٧٠٢] وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ» وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا. وَرَوَى أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2574

حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان رضی الله عنہ نے ہمارے اس بصرہ کے منبر پر بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایک بڑا بھاری پتھر جہنم کے کنارہ سے ڈالا جائے تو وہ ستر برس تک اس میں گرتا جائے گا پھر بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچے گا۔ عتبہ کہتے ہیں:حضرت عمر رضی الله عنہ کہا کرتے تھے: جہنم کو کثرت سے یاد کرو، اس لیے کہ اس کی گرمی بہت سخت ہے۔ اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور اس کے آنکس (آنکڑے) لوہے کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم عتبہ بن غزوان سے حسن بصری کا سماع نہیں جانتے ہیں، حضرت عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت میں عتبہ بن غزوان رضی الله عنہ بصرہ آئے تھے، اور حسن بصری کی ولادت اس وقت ہوئی جب عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت کے دو سال باقی تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ قَعْرِ جَهَنَّمَ؛جہنم کی گہرائی کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٢؛حدیث نمبر ٢٥٧٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الجُعْفِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ الحَسَنِ، قَالَ: قَالَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ - عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا مِنْبَرِ البَصْرَةِ -، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الصَّخْرَةَ العَظِيمَةَ لَتُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَتَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا وَمَا تُفْضِي إِلَى قَرَارِهَا» قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ، يَقُولُ: «أَكْثِرُوا ذِكْرَ النَّارِ فَإِنَّ حَرَّهَا شَدِيدٌ، وَإِنَّ قَعْرَهَا بَعِيدٌ، وَإِنَّ مَقَامِعَهَا حَدِيدٌ»: «لَا نَعْرِفُ لِلْحَسَنِ سَمَاعًا مِنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ وَإِنَّمَا قَدِمَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ البَصْرَةَ فِي زَمَنِ عُمَرَ، وَوُلِدَ الحَسَنُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2575

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے، اس پر کافر ستر سال میں چڑھے گا اور اتنے ہی سال میں نیچے گرے گا اور یہ عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ قَعْرِ جَهَنَّمَ؛جہنم کی گہرائی کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٣؛حدیث نمبر ٢٥٧٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يَتَصَعَّدُ فِيهِ الكَافِرُ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَيَهْوِي فِيهِ كَذَلِكَ مِنْهِ أَبَدًا»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2576

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کے چمڑے کی موٹائی بیالیس گز ہو گی، اس کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي عِظَمِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے موٹاپے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٣؛حدیث نمبر ٢٥٧٧)

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ: أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الكَافِرِ اثْنَتَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا، وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ، وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالمَدِينَةِ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الأَعْمَشِ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2577

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی، اس کی ران بیضاء (پہاڑ) جیسی ہو گی اور جہنم کے اندر اس کے بیٹھنے کی جگہ تین میل کی مسافت کے برابر ہو گی جس طرح ربذہ کی دوری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- «مثل الربذة» کا مطلب ہے کہ جس طرح ربذہ پہاڑ مدینہ سے دور ہے، ربذہ اور بیضاء احد کی طرح دو پہاڑ ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي عِظَمِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے موٹاپے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٣؛حدیث نمبر ٢٥٧٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، وَصَالِحٌ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضِرْسُ الكَافِرِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ البَيْضَاءِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ مِثْلُ الرَّبَذَةِ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ [ص: ٧٠٤] وَمِثْلُ الرَّبَذَةِ كَمَا بَيْنَ المَدِينَةِ وَالرَّبَذَةِ وَالبَيْضَاءُ: جَبَلٌ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2578

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي عِظَمِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے موٹاپے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٤؛حدیث نمبر ٢٥٧٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ المِقْدَامِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ: «ضِرْسُ الكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ: سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الأَشْجَعِيَّةِ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2579

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر اپنی زبان کو ایک یا دو فرسخ تک گھسیٹے گا اور لوگ اسے روندیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- فضل بن یزید کوفی ہیں، ان سے کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ۳- ابوالمخارق غیر معروف راوی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي عِظَمِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے موٹاپے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٤؛حدیث نمبر ٢٥٨٠)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي المُخَارِقِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الكَافِرَ لَيُسْحَبُ لِسَانُهُ الفَرْسَخَ وَالفَرْسَخَيْنِ يَتَوَطَّؤُهُ النَّاسُ». هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الوَجْهِ وَالفَضْلُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ كُوفِيٌّ قَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ، وَأَبُو المُخَارِقِ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2580

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے قول «كالمهل»(کہف٢٩) کے بارے میں فرمایا: ”وہ پانی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب کوئی جہنمی اسے اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، اور رشدین کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے مشروب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٤؛حدیث نمبر ٢٥٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: {كَالمُهْلِ} [الكهف: ٢٩] قَالَ: «كَعَكَرِ الزَّيْتِ، فَإِذَا قَرَّبَهُ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ»: [ص: ٧٠٥] «هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، وَرِشْدِينُ قَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2581

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کے سر پر «ماء حمیم» (گرم پانی) انڈیلا جائے گا تو وہ (بدن میں) سرایت کر جائے گا یہاں تک کہ اس کے پیٹ تک جا پہنچے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے وہ باہر نکل آئے گا اور ان کے ٹخنوں میں پہنچ جاے گا ۔ یہی وہ «صہر» ہے (جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے) پھر اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے مشروب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٥؛حدیث نمبر ٢٥٨٢)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَيَنْفُذُ الحَمِيمُ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ فَيَسْلِتُ مَا فِي جَوْفِهِ، حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ وَهُوَ الصَّهْرُ ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ» وَسَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ يُكْنَى أَبَا شُجَاعٍ وَهُوَ مِصْرِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ "،: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَابْنُ حُجَيْرَةَ هُوَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُجَيْرَةَ المِصْرِيُّ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2582

حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول:(تمرجمہ)"انہیں پیپ کا مشروب پلایا جائے گا جسے وہ گھونٹ، گھونٹ کر کے پئیں گے"(ابراہیم: ۱۶) کے بارے میں فرمایا: ” «صديد» (پیپ) اس کے منہ کے قریب کی جائے گی تو اسے ناپسند کرے گا جب اسے اور قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھن جائے گا اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی اور جب اسے پیئے گا تو اس کی آنت کٹ جائے گی یہاں تک کہ اس کے سرین سے نکل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وسقوا ماء حميما فقطع أمعاءهم» ”وہ «ماء حمیم» (گرم پانی) پلائے جائیں گے تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا“ (سورۃ محمد: ۱۵) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وإن يستغيثوا يغاثوا بماء كالمهل يشوي الوجوه بئس الشراب» ”اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تلچھٹ کی طرح ہو گا چہرے کو بھون دے گا اور وہ نہایت برا مشروب ہے“ (الکہف: ۲۹) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی سند میں «عن عبيد الله بن بسر» کہا ہے اور ہم عبیداللہ بن بسر کو صرف اسی حدیث میں جانتے ہیں، ۳- صفوان بن عمر نے عبداللہ بن بسر سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، عبداللہ بن بسر کے ایک بھائی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور ان کی ایک بہن نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے۔ جس عبیداللہ بن بسر سے صفوان بن عمرو نے یہ حدیث روایت کی ہے، یہ صحابی نہیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے مشروب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٥؛حدیث نمبر ٢٥٨٣)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: {وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ} [إبراهيم: ١٧] قَالَ: «يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ، فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ، فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ»، يَقُولُ اللَّهُ: {وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ} [محمد: ١٥] وَيَقُولُ: {وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالمُهْلِ يَشْوِي الوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ} [الكهف: ٢٩]: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. [ص: ٧٠٦] وَهَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ. وَلَا نَعْرِفُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ إِلَّا فِي هَذَا الحَدِيثِ. وَقَدْ رَوَى صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الحَدِيثِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ لَهُ أَخٌ قَدْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُخْتُهُ قَدْ سَمِعَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدِيثَ أَبِي أُمَامَةَ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ أَخَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2583

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «كالمهل» یعنی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب اسے (جہنمی) اپنے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی“۔ اور اسی سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کا احاطہٰ چار دیواریں ہیں اور ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی مسافت کے مانند ہے۔ اور اسی سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر «غساق» (جہنمیوں کے مواد) کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو دنیا والے سڑ جائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں اور رشدین کے بارے میں لوگوں نے کلام کیا ہے، ان کے حافظے کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ۲- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «كثف كل جدار» کا مطلب ہے ہر دیوار کی موٹائی۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے مشروب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٦؛حدیث نمبر ٢٥٨٤)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: {كَالمُهْلِ} [الكهف: ٢٩] «كَعَكَرِ الزَّيْتِ، فَإِذَا قُرِّبَ إِلَيْهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ» وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِسُرَادِقِ النَّارِ أَرْبَعَةُ جُدُرٍ كِثَفُ كُلِّ جِدَارٍ مِثْلُ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً» وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهْرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا»: " هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، وَفِي رِشْدِينَ مَقَالٌ، وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ كِثَفُ كُلِّ جِدَارٍ: يَعْنِي غِلَظَهُ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2584

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ”تم اللہ سے ڈرنے کی طرح ڈرو اور مسلمان ہی رہتے ہوئے مرو“ (آل عمران: ۱۰۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر «زقوم» کا ایک قطرہ بھی دنیا کی زمین میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کی زندگی برباد کر جائے، بھلا اس آدمی کا کیا ہو گا جس کی غذا ہی «زقوم» ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے مشروب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٦؛حدیث نمبر ٢٥٨٥)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص: ٧٠٧] قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ: {اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ١٠٢] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي دَارِ الدُّنْيَا لَأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعَايِشَهُمْ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامَهُ؟»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2585

حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں پر بھوک مسلط کر دی جائے گی اور یہ عذاب کے برابر ہو جائے گی جس سے وہ دوچار ہوں گے، لہٰذا وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی «ضريع» (خاردار پودا) کے کھانے سے کی جائے گی جو نہ انہیں موٹا کرے گا اور نہ ان کی بھوک ختم کرے گا، پھر وہ دوبارہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی گلے میں اٹکنے والے کھانے سے کی جائے گی، پھر وہ یاد کریں گے کہ دنیا میں اٹکے ہوئے نوالے کو پانی کے ذریعہ نگلتے تھے، چنانچہ وہ پانی کی فریاد کریں گے اور ان کی فریاد رسی «حميم» (جہنمیوں کے مواد) سے کی جائے گی جو لوہے کے برتنوں میں دیا جائے گا جب مواد ان کے چہروں سے قریب ہو گا تو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور جب ان کے پیٹ میں جائے گا تو ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا، وہ کہیں گے: جہنم کے داروغہ کو بلاؤ، داروغہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس رسول روشن دلائل کے ساتھ نہیں گئے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، داروغہ کہیں گے: پکارتے رہو، کافروں کی پکار بیکار ہی جائے گی“۔ آپ نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: مالک کو بلاؤ اور کہیں گے: اے مالک! چاہیئے کہ تیرا رب ہمارا فیصلہ کر دے (ہمیں موت دیدے)“، آپ نے فرمایا: ”ان کو مالک جواب دے گا: تم لوگ (ہمیشہ کے لیے) اسی میں رہنے والے ہو“۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا کہ ان کی پکار اور مالک کے جواب میں ایک ہزار سال کا وقفہ ہو گا، آپ نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: اپنے رب کو پکارو اس لیے کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ہے، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے اوپر شقاوت غالب آ گئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے، اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال دے اگر ہم پھر ویسا ہی کریں گے تو ظالم ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انہیں جواب دے گا: پھٹکار ہو تم پر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو“، آپ نے فرمایا: ”اس وقت وہ ہر خیر سے محروم ہو جائیں گے اور اس وقت گدھے کی طرح رینکنے لگیں گے اور حسرت و ہلاکت میں گرفتار ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) کہتے ہیں: لوگ اس حدیث کو مرفوعاً نہیں روایت کرتے ہیں، ۲- ہم اس حدیث کو صرف «عن الأعمش عن شمر بن عطية عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء» کی سند سے جانتے ہیں جو ابودرداء کا اپنا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ طَعَامِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کی غذا کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٧؛حدیث نمبر ٢٥٨٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الجُوعُ فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ العَذَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ، فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ، فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الغَصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الحَدِيدِ، فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ، فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قَطَّعَتْ مَا فِي بُطُونِهِمْ، فَيَقُولُونَ: ادْعُوا خَزَنَةَ جَهَنَّمَ، فَيَقُولُونَ: أَلَمْ {تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالبَيِّنَاتِ قَالُوا بَلَى قَالُوا فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الكَافِرِينَ [ص: ٧٠٨] إِلَّا فِي ضَلَالٍ} [غافر: ٥٠] " قَالَ: " فَيَقُولُونَ: ادْعُوا مَالِكًا، فَيَقُولُونَ: {يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ} [الزخرف: ٧٧] " قَالَ: " فَيُجِيبُهُمْ {إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ} [الزخرف: ٧٧]- قَالَ الْأَعْمَشُ: نُبِّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَبَيْنَ إِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ قَالَ - فَيَقُولُونَ: ادْعُوا رَبَّكُمْ فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ، فَيَقُولُونَ: {رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ} [المؤمنون: ١٠٧] " قَالَ: «فَيُجِيبُهُمْ {اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ}» قَالَ: «فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالحَسْرَةِ وَالوَيْلِ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: «وَالنَّاسُ لَا يَرْفَعُونَ هَذَا الحَدِيثَ»: إِنَّمَا نَعْرِفُ هَذَا الحَدِيثَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَوْلَهُ، وَلَيْسَ بِمَرْفُوعٍ، وَقُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ هُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الحَدِيثِ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2586

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ «وهم فيها كالحون» ”کافر جہنم کے اندر بد شکل ہوں گے“ (المؤمنون: ۱۰۴) کے بارے میں فرمایا: ”ان کے چہروں کو آگ جھلسا دے گی تو ان کے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر بیچ سر تک پہنچ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ لٹک کر ناف سے جا لگے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ طَعَامِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کی غذا کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٨؛حدیث نمبر ٢٥٨٧)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: {وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ} [المؤمنون: ١٠٤] قَالَ: «تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ العُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الهَيْثَمِ اسْمُهُ: سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ العُتْوَارِيُّ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2587

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کے برابر ایک ٹکڑا (اور آپ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا) آسمان سے زمین کی طرف جو پانچ سو سال کی مسافت ہے، تو وہ رات ہونے سے پہلے زمین تک پہنچ جائے گا اور اگر اسے زنجیر کے سرے سے لٹکا کر جہنم میں ڈالا جائے تو وہ 40 سال میں اس کی تہ تک پہنچے گا اس عرصے میں دن اور رات سب شامل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند حسن صحیح ہے، ۲- سعید بن یزید مصری ہیں۔ ان سے لیث بن سعد اور کئی ائمہ نے حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ طَعَامِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کی غذا کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٨؛حدیث نمبر ٢٥٨٨)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ رَصَاصَةً مِثْلَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى مِثْلِ الجُمْجُمَةِ، أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَهِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتِ الأَرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ، وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَسَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ أَصْلَهَا أَوْ قَعْرَهَا»: «هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَسَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ مِصْرِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2588

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری (دنیا کی) آگ جسے تم جلاتے ہو جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک ٹکڑا (حصہ) ہے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر یہی آگ رہتی تو کافی ہوتی، آپ نے فرمایا: ”وہ اس سے انہتر حصہ بڑھی ہوئی ہے، ہر حصے کی گرمی اسی آگ کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٩؛حدیث نمبر ٢٥٨٩)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَارُكُمْ هَذِهِ الَّتِي يُوقِدُ بَنُو آدَمَ جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ»، قَالُوا: وَاللَّهِ [ص: ٧١٠] إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَمَّامُ بْنُ مُنَبِّهٍ هُوَ: أَخُو وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ وَهْبٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2589

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اس کے ہر حصے کی گرمی اسی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوسعید کی روایت سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٠؛حدیث نمبر ٢٥٩٠)

حَدَّثَنَا العَبَّاسُ الدُّورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نَارُكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ لِكُلِّ جُزْءٍ مِنْهَا حَرُّهَا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2590

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کی آگ ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی، اب وہ سیاہ ہے اور تاریک ہے“۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، مگر یہ مرفوع نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث موقوف ہی زیادہ صحیح ہے۔ میں کسی کو نہیں جانتا ہوں جس نے اسے مرفوع کیا ہو سوائے یحییٰ بن ابی بکیر کے جس نے شریک سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٠؛حدیث نمبر ٢٥٩١)

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ البَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ هُوَ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ» حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَوْ رَجُلٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ،: [ص: ٧١١] «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا مَوْقُوفٌ أَصَحُّ وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ عَنْ شَرِيكٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2591

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھائے جا رہا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دو مرتبہ سانسیں لینے کی اجازت دی: ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس جاڑے میں، جہنم کے جاڑے کی سانس سے سخت سردی پڑتی ہے۔ اور اس کی گرمی کی سانس سے لو چلتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۳- مفضل بن صالح محدثین کے نزدیک کوئی قوی حافظے والے نہیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب مَا جَاءَ أَنَّ لِلنَّارِ نَفَسَيْنِ وَمَا ذُكِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ؛جہنم کے لیے دو سانس ہیں اور جہنم سے موحدین باہر نکالے جائیں گے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٠؛حدیث نمبر ٢٥٩٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الوَلِيدِ الكِنْدِيُّ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا المُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا وَقَالَتْ: أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ، نَفَسًا فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسًا فِي الصَّيْفِ، فَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الشِّتَاءِ فَزَمْهَرِيرٌ، وَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الصَّيْفِ فَسَمُومٌ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَالمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الحَدِيثِ بِذَلِكَ الحَافِظِ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2592

حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے نکلے گا (شعبہ نے اپنی روایت میں کہا ہے: (اللہ تعالیٰ کہے گا، اسے جہنم سے نکال لو) جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھلائی تھی۔ (شعبہ نے کہا ہے: جوار کے برابر بھلائی تھی)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت جابر، ابو سعید خدری اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب مَا جَاءَ أَنَّ لِلنَّارِ نَفَسَيْنِ وَمَا ذُكِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ؛جہنم کے لیے دو سانس ہیں اور جہنم سے موحدین باہر نکالے جائیں گے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١١؛حدیث نمبر ٢٥٩٣)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ - وَقَالَ شُعْبَةُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ [ص: ٧١٢] إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً " وقَالَ شُعْبَةُ: «مَا يَزِنُ ذُرَةً مُخَفَّفَةً» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2593

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کہے گا: اسے جہنم سے نکال لو جس نے ایک دن بھی مجھے یاد کیا یا ایک مقام پر بھی مجھ سے ڈرا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب مَا جَاءَ أَنَّ لِلنَّارِ نَفَسَيْنِ وَمَا ذُكِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ؛جہنم کے لیے دو سانس ہیں اور جہنم سے موحدین باہر نکالے جائیں گے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٢؛حدیث نمبر ٢٥٩٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَكَرَنِي يَوْمًا أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2594

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، وہ ایسا آدمی ہو گا جو سرین کے بل چلتے ہوئے نکلے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ جنت کی تمام جگہ لے چکے ہوں گے“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: چلو جنت میں داخل ہو جاؤ“، آپ نے فرمایا: ”وہ داخل ہونے کے لیے جائے گا (جنت کو اس حال میں) پائے گا کہ لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں، وہ واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں؟!“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: کیا وہ دن یاد ہیں جن میں (دنیا کے اندر) تھے؟“ وہ کہے گا: ہاں، اس سے کہا جائے گا: ”آرزو کرو“، آپ نے فرمایا: ”وہ آرزو کرے گا، اس سے کہا جائے گا: تمہارے لیے وہ تمام چیزیں جس کی تم نے آرزو کی ہے اور دنیا کے دس گنا ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”وہ کہے گا: (اے باری تعالیٰ!) یہ کیا تو میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے حالانکہ آپ مالک ہیں“، ابن مسعود کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی کے دانت نظر آنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٢؛حدیث نمبر ٢٥٩٥)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ المَنَازِلَ " قَالَ: " فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ فَادْخُلِ الجَنَّةَ "، قَالَ: " فَيَذْهَبُ لِيَدْخُلَ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا المَنَازِلَ، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ المَنَازِلَ " قَالَ: " فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ "، قَالَ: " فَيَتَمَنَّى، فَيُقَالُ [ص: ٧١٣] لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَعَشْرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا " قَالَ: " فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ المَلِكُ "، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2595

حضرت ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) کہے گا: اس سے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کے بارے میں پوچھو اور اس کے بڑے گناہوں کو چھپا دو، اس سے کہا جائے گا: تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کئے تھے، تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کیے تھے؟“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: تمہارے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے کچھ ایسے بھی گناہ کیے تھے جسے یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں“۔ حضرت ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے ہوئے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی دانت نظر آنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٣؛حدیث نمبر ٢٥٩٦)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ المَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ وَآخِرَ أَهْلِ الجَنَّةِ دُخُولًا الجَنَّةَ، يُؤْتَى بِرَجُلٍ فَيَقُولُ: سَلُوا عَنْ صِغَارِ ذُنُوبِهِ وَاخْبَئُوا كِبَارَهَا، فَيُقَالُ لَهُ: عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا "، قَالَ: " فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً "، قَالَ: " فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَقَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ مَا أَرَاهَا هَاهُنَا " قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2596

حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موحدین میں سے کچھ لوگ جہنم میں عذاب دئیے جائیں گے، یہاں تک کہ کوئلہ ہو جائیں گے، پھر ان پر رحمت الٰہی سایہ فگن ہو گی تو وہ نکالے جائیں گے اور جنت کے دروازے پر ڈال دئیے جائیں گے“۔ آپ نے فرمایا: ”جنتی ان پر پانی چھڑکیں گے تو وہ ویسے ہی اگیں گے جیسے سیلاب کی مٹیوں میں دانہ اگتا ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ دوسری سند سے بھی جابر سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٣؛حدیث نمبر ٢٥٩٧)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعَذَّبُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ فِي النَّارِ حَتَّى يَكُونُوا فِيهَا حُمَمًا ثُمَّ تُدْرِكُهُمُ الرَّحْمَةُ فَيُخْرَجُونَ وَيُطْرَحُونَ عَلَى أَبْوَابِ الجَنَّةِ» قَالَ: «فَيَرُشُّ عَلَيْهِمْ أَهْلُ الجَنَّةِ المَاءَ فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الغُثَاءُ فِي حِمَالَةِ السَّيْلِ ثُمَّ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2597

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں سے ہر ایسا شخص نکل جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو گا، حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا: جس کو شک ہو وہ یہ آیت پڑھے «إن الله لا يظلم مثقال ذرة» ”اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ہے“ (النساء: ۴۰)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٤؛حدیث نمبر ٢٥٩٨)

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ الإِيمَانِ» قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: " فَمَنْ شَكَّ فَلْيَقْرَأْ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ} [النساء: ٤٠] «.» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2598

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں داخل ہونے والوں میں سے دو آدمیوں کی چیخ بلند ہو گی“۔ رب عزوجل کہے گا: ان دونوں کو نکالو، جب انہیں نکالا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تمہاری چیخ کیوں بلند ہو رہی ہے؟ وہ دونوں عرض کریں گے: ہم نے ایسا اس وجہ سے کیا تاکہ تو ہم پر رحم کر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم دونوں کے لیے ہماری رحمت یہی ہے کہ تم جاؤ اور اپنے آپ کو اسی جگہ جہنم میں ڈال دو جہاں پہلے تھے۔ وہ دونوں چلیں گے ان میں سے ایک اپنے آپ کو جہنم میں ڈال دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم کو ٹھنڈا اور سلامتی والی بنا دے گا اور دوسرا کھڑا رہے گا اور اپنے آپ کو نہیں ڈالے گا۔ اس سے رب عزوجل پوچھے گا: تمہیں جہنم میں اپنے آپ کو ڈالنے سے کس چیز نے روکا؟ جیسے تمہارے ساتھی نے اپنے آپ کو ڈالا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے امید ہے کہ تو جہنم سے نکالنے کے بعد اس میں دوبارہ نہیں داخل کرے گا، اس سے رب تعالیٰ کہے گا: تمہارے لیے تیری تمنا پوری کی جا رہی ہے، پھر وہ دونوں اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اس لیے کہ یہ رشدین بن سعد کے واسطہ سے مروی ہے، اور رشدین بن سعد محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور رشدین عبدالرحمٰن بن انعم سے روایت کرتے ہیں، یہ ابن انعم افریقی ہیں اور افریقی بھی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٤؛حدیث نمبر ٢٥٩٩)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَنْعُمَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ رَجُلَيْنِ مِمَّنْ دَخَلَ النَّارَ اشْتَدَّ صِيَاحُهُمَا، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: أَخْرِجُوهُمَا، فَلَمَّا أُخْرِجَا قَالَ لَهُمَا: لِأَيِّ شَيْءٍ اشْتَدَّ صِيَاحُكُمَا؟ قَالَا: فَعَلْنَا ذَلِكَ لِتَرْحَمَنَا، قَالَ: إِنَّ رَحْمَتِي لَكُمَا أَنْ تَنْطَلِقَا فَتُلْقِيَا أَنْفُسَكُمَا حَيْثُ كُنْتُمَا مِنَ النَّارِ، فَيَنْطَلِقَانِ فَيُلْقِي أَحَدُهُمَا نَفْسَهُ فَيَجْعَلُهَا عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، وَيَقُومُ الآخَرُ فَلَا يُلْقِي نَفْسَهُ، فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُلْقِيَ نَفْسَكَ كَمَا أَلْقَى صَاحِبُكَ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا بَعْدَ مَا أَخْرَجْتَنِي، فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ: لَكَ رَجَاؤُكَ، فَيَدْخُلَانِ جَمِيعًا الجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ ": «إِسْنَادُ هَذَا الحَدِيثِ ضَعِيفٌ لِأَنَّهُ عَنْ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الحَدِيثِ عَنْ ابْنِ أَنْعُمَ وَهُوَ الأَفْرِيقِيُّ، وَالأَفْرِيقِيُّ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2599

حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت میری شفاعت کے سبب جہنم سے نکلے گی ان کا نام جہنمی( یعنی جہنم سے نکل کر آئے ہوئے)رکھا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٥؛حدیث نمبر ٢٦٠٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ العُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي يُسَمَّوْنَ جَهَنَّمِيُّونَ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو رَجَاءٍ العُطَارِدِيُّ اسْمُهُ: عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ مِلْحَانَ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2600

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جہنم کی مانند ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والے سو جاے اور جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس کے طلب کرنے والے سو جاے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس کو ہم صرف یحییٰ بن عبیداللہ کی سند سے جانتے ہیں اور یحییٰ بن عبیداللہ اکثر محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ان کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے۔ یحییٰ بن عبیداللہ کے دادا کا نام موہب ہے اور وہ مدنی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٥؛حدیث نمبر ٢٦٠١)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا، وَلَا مِثْلَ الجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا»: " هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الحَدِيثِ؛ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ، وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ: ابْنُ مَوْهَبٍ وَهُوَ مَدَنِيٌّ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2601

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی غریب ہیں اور جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب مَا جَاءَ أَنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ؛جہنم میں اکثریت عورتوں کی ہو گی؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٥؛حدیث نمبر ٢٦٠٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ العُطَارِدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اطَّلَعْتُ فِي الجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2602

حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں اور جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عوف نے سند بیان کرتے ہوئے اس طرح کہا ہے: «عن أبي رجاء عن عمران بن حصين» اور ایوب نے کہا: «عن أبي رجاء عن ابن عباس»، دونوں سندوں میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اس بات کا احتمال ہے کہ ابورجاء نے عمران بن حصین اور ابن عباس دونوں سے سنا ہو، عوف کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث ابورجاء کے واسطہ سے حضرت عمران بن حصین سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب مَا جَاءَ أَنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ؛جہنم میں اکثریت عورتوں کی ہو گی؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٦؛حدیث نمبر ٢٦٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ هُوَ ابْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ العُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي الجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الفُقَرَاءَ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا يَقُولُ عَوْفٌ: عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ «وَيَقُولُ أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،» وَكِلَا الإِسْنَادَيْنِ لَيْسَ فِيهِمَا مَقَالٌ. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو رَجَاءٍ سَمِعَ مِنْهُمَا جَمِيعًا. وَقَدْ رَوَى غَيْرُ عَوْفٍ أَيْضًا هَذَا الحَدِيثَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2603

حضرت نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے کمتر عذاب اس شخص کو ہوگا جس کے تلوؤں کے نیچے آگ کے دو انگارے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عباس بن عبدالمطلب، ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٦؛حدیث نمبر ٢٦٠٤)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ رَجُلٌ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَفِي البَابِ عَنْ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، وَأَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2604

حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کیا میں تمہیں جنتیوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟ ہر کمزور حال آدمی جسے لوگ حقیر سمجھیں اگر وہ اللہ کی قسم کھائے تو اللہ اسے پوری کر دے(وہ جنتی ہوگا)۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟ ہر سرکش، بخیل اور متکبر“، (جہنم میں جائے گا۔) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکر؛باب؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٦؛حدیث نمبر ٢٦٠٥)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الخُزَاعِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الجَنَّةِ، كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ، كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُتَكَبِّرٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabu Sifati Jahannama, Hadees No. 2605

Tirmizi Shareef : Abwabu Sifati Jahannama

|

Tirmizi Shareef : ابواب صفۃ جھنم

|

•