
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عمر، ابوہریرہ، اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا فَقَّهَهُ فِي الدِّينِ؛جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨؛حدیث نمبر ٢٦٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو علم حاصل کرنے کے ارادہ سے کہیں جائے، تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان (و ہموار) کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨؛حدیث نمبر ٢٦٤٦)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے نکلے تو وہ لوٹنے تک اللہ کی راہ میں (شمار) ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩؛حدیث نمبر ٢٦٤٧)
حضرت سخبرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو علم حاصل کرے گا تو یہ اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۲- راوی ابوداود نفیع اعمی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۳- ہم عبداللہ بن سخبرہ سے مروی زیادہ حدیثیں نہیں جانتے اور نہ ان کے باپ کی، ابوداؤد نامی راوی کا نام نفیع الاعمیٰ ہے۔ ان کے بارے میں قتادہ اور دوسرے بہت سے اہل علم نے کلام کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩؛حدیث نمبر ٢٦٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے علم دین کی کوئی ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ جانتا ہے، پھر وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي كِتْمَانِ الْعِلْمِ؛علم چھپانے کی مذمت؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩؛حدیث نمبر ٢٦٤٩)
ابوہارون کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے پاس (علم دین حاصل کرنے کے لیے) آتے، تو وہ کہتے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ تمہارے پیرو کار ہوں گے کچھ لوگ تمہارے پاس زمین کے گوشہ گوشہ سے علم دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے تو جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی بن عبداللہ بن المدینی نے کہا: یحییٰ بن سعید کہتے تھے: شعبہ ابوہارون عبدی کو ضعیف قرار دیتے تھے، ۲- یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: ابن عون جب تک زندہ رہے ہمیشہ ابوہارون عبدی سے روایت کرتے رہے، ۳- ابوہارون کا نام عمارہ بن جوین ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِيصَاءِ بِمَنْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ؛علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠؛حدیث نمبر ٢٦٥٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس مشرق سے لوگ علم حاصل کرنے کے لیے آئیں گے پس جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے ساتھ بھلائی کرنا“۔ راوی حدیث کہتے ہیں:حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کا حال یہ تھا کہ جب وہ ہمیں (طالبان علم دین کو) دیکھتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق ہمیں خوش آمدید کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ ابوہارون کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِيصَاءِ بِمَنْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ؛علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠؛حدیث نمبر ٢٦٥١)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ علم اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں کے سینوں سے کھینچ لے، لیکن وہ علم کو علماء کی وفات کے ذریعہ سے اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں رکھے گا تو لوگ اپنا سردار جاہلوں کو بنا لیں گے، ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، وہ خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری نے عروہ سے اور عروہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ہے، اور زہری نے (ایک دوسری سند سے) عروہ سے اور عروہ نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں حضرت عائشہ اور زیاد بن لبید سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي ذَهَابِ الْعِلْمِ؛علم کے ختم ہو جانے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١؛حدیث نمبر ٢٦٥٢)
حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک آپ نے اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھائی، پھر فرمایا: ”ایسا وقت (آ گیا) ہے کہ جس میں لوگوں کے سینوں سے علم اچک لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے پاس کچھ بھی علم نہیں ہو گا، زیاد بن لبید انصاری نے کہا: (اللہ کے رسول!) علم ہم سے کس طرح چھین لیا جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہوں گے۔ قسم اللہ کی! ہم ضرور اسے پڑھیں گے اور ہم ضرور اپنی عورتوں کو اسے پڑھائیں گے اور اپنے بچوں کو سکھائیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اے زیاد تمہاری ماں تم پر روے! میں تو تمہیں اہل مدینہ کے فقہاء میں سے شمار کرتا تھا۔ یہ تورات اور انجیل بھی تو پاس ہے یہود و نصاریٰ کے لیکن اس کا انہیں کیا فائدہ ہوا؟“(کیا فائدہ پہنچایا تورات اور انجیل نے ان کو؟)۔ جبیر (راوی) کہتے ہیں: میری ملاقات حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ نہیں سنتے کہ آپ کے بھائی حضرت ابوالدرداء رضی الله عنہ کیا کہتے ہیں؟ پھر حضرت ابوالدرداء رضی الله عنہ نے جو کہا تھا وہ میں نے انہیں بتا دیا۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوالدرداء رضی الله عنہ نے سچ کہا۔ اور اگر تم (مزید) جاننا چاہو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ پہلے پہل لوگوں سے اٹھا لیا جانے والا علم، خشوع ہے۔ عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم جامع مسجد کے اندر جاؤ گے لیکن وہاں تمہیں کوئی (صحیح معنوں میں) خشوع خضوع اپنانے والا شخص دکھائی نہ دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- معاویہ بن صالح محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ اور یحییٰ بن سعید قطان کے سوا ہم کسی کو نہیں جانتے کہ اس نے ان کے متعلق کچھ کلام کیا ہو، ۳- معاویہ بن صالح سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے، ۴- بعضوں نے یہ حدیث عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر سے، عبدالرحمٰن نے اپنے والد جبیر سے، جبیر نے عوف بن مالک سے اور عوف بن مالک نے بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي ذَهَابِ الْعِلْمِ؛علم کے ختم ہو جانے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١؛حدیث نمبر ٢٦٥٣)
حضرت کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم اس واسطے سیکھے کہ اس کے ذریعہ علماء کی برابری کرے، کم علم اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرے یا اس علم کے ذریعہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل فرمائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ محدثین کے نزدیک کچھ بہت زیادہ قوی نہیں ہیں، ان کے حافظہ کے سلسلے میں کلام کیا گیا ہے۔ (معلوم ہوا کہ علم دین حاصل کرنے والے کی نیت صالح ہونی چاہیئے، وہ کسی دنیاوی حرص و طمع کے بغیر اس کے حصول کی کوشش کرے، کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ جنت کی خوشبو تک سے محروم رہے گا۔) (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَطْلُبُ بِعِلْمِهِ الدُّنْيَا؛علم (دین) سے دنیا حاصل کرنے والے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢؛حدیث نمبر ٢٦٥٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے علم کو اللہ کی (رضا)کے بجائے کسی اور مقصد کے لیے سیکھا یا وہ اس علم کے ذریعہ اللہ کی رضا کے بجائے کچھ اور حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایسا شخص اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے ایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں حضرت جابر سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَطْلُبُ بِعِلْمِهِ الدُّنْيَا؛علم (دین) سے دنیا حاصل کرنے والے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٣؛حدیث نمبر ٢٦٥٥)
ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے نکلے (لوٹے)، ہم نے کہا: مروان کو ان سے کوئی چیز پوچھنا ہو گی تبھی ان کو اس وقت بلا بھیجا ہو گا، پھر ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے ہم سے کئی چیزیں پوچھیں جسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو مجھ سے کوئی حدیث سنے پھر اسے یاد رکھ کر اسے دوسروں کو پہنچا دے، کیونکہ بہت سے احکام شرعیہ کا علم رکھنے والے اس علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو اس سے زیادہ ذی علم اور عقلمند ہوتے ہیں۔ اور بہت سے شریعت کا علم رکھنے والے علم تو رکھتے ہیں، لیکن فقیہہ نہیں ہوتے“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل، جبیر بن مطعم، ابو الدرداء اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي الْحَثِّ عَلَى تَبْلِيغِ السَّمَاعِ؛دوسرے تک دین کی بات پہنچانے پر ابھارنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤؛حدیث نمبر ٢٦٥٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ (اور خوش) رکھے جس نے مجھ سے کوئی بات سنی پھر اس نے اسے جیسا جو مجھ سے سنا تھا ہو بہو دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات (حدیث) پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو توجہ سے سننے اور محفوظ رکھنے والے ہوتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو عبدالملک بن عمیر نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ کے واسطہ سے بیان کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي الْحَثِّ عَلَى تَبْلِيغِ السَّمَاعِ؛دوسرے تک دین کی بات پہنچانے پر ابھارنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤؛حدیث نمبر ٢٦٥٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے، کیونکہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھا سکتا، (۱) عمل خالص اللہ کے لیے (۲) مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی (۳) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا،کیونکہ ان کی دعوت(دعا)دوسرے سب(غیر موجود)لوگوں تک محیط ہوتی ہے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي الْحَثِّ عَلَى تَبْلِيغِ السَّمَاعِ؛دوسرے تک دین کی بات پہنچانے پر ابھارنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤؛حدیث نمبر ٢٦٥٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥؛حدیث نمبر ٢٦٥٩)
حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری جانب جھوٹ منسوب نہ کرو کیونکہ مجھ پر جھوٹ باندھنے والا جہنم میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حضرت علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، زبیر، سعید بن زید، عبداللہ بن عمرو، انس، جابر، ابن عباس، ابوسعید، عمرو بن عبسہ، عقبہ بن عامر، معاویہ، بریدہ، ابوموسیٰ، ابوامامہ، عبداللہ بن عمر، مقنع اور اوس ثقفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥؛حدیث نمبر ٢٦٦٠)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میرے متعلق جھوٹی بات کہی“، (حضرت انس کہتے ہیں) میرا خیال ہے کہ آپ نے «من كذب علي» کے بعد «متعمدا» کا لفظ بھی کہا یعنی جس نے جان بوجھ کر میری جانب جھوٹ منسوب کیا، ”تو ایسے شخص کا ٹھکانا جہنم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ یعنی زہری کی اس روایت سے جسے وہ انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے انس رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥؛حدیث نمبر ٢٦٦١)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری طرف منسوب کر کے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی حدیث بیان کی تو وہ جھوٹ بولنے والوں میں ایک شمار ہوگا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے حکم سے، حکم نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے سمرہ سے، اور سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے، ۳- اعمش اور ابن ابی لیلیٰ نے حکم سے، حکم نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے علی رضی الله عنہ سے اور علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی حدیث جسے وہ سمرہ سے روایت کرتے ہیں، محدثین کے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ۴- اس باب میں حضرت علی ابن ابی طالب اور سمرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- میں نے ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «من حدث عني حديثا وهو يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين» کے متعلق پوچھا کہ اس سے مراد کیا ہے، میں نے ان سے کہا کیا یہ کہ جس نے کوئی حدیث بیان کی اور وہ جانتا ہے کہ اس کی اسناد میں کچھ خطا (غلطی اور کمی) ہے تو کیا یہ خوف و خطرہ محسوس کیا جائے کہ ایسا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی زد اور وعید میں آ گیا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں نے حدیث مرسل بیان کی تو انہیں میں سے کچھ لوگوں نے اس مرسل کو مرفوع کر دیا یا اس کی اسناد کو ہی الٹ پلٹ دیا تو یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی زد میں آئیں گے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔ اس کا معنی (و مطلب) یہ ہے کہ جب کوئی شخص حدیث روایت کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس حدیث کے مرفوع ہونے کی کوئی اصل (وجہ و سبب) نہ جانی جاتی ہو، اور وہ شخص اسے مرفوع کر کے بیان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا یا ایسا کیا ہے تو مجھے ڈر ہے کہ ایسا ہی شخص اس حدیث کا مصداق ہو گا۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ رَوَى حَدِيثًا، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ؛جان بوجھ کر جھوٹی موضوع حدیث بیان کرنے والے کی برائی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦؛حدیث نمبر ٢٦٦٢)
حضرت ابورافع رضی الله عنہ وغیرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگاے ہو، اس کے پاس کوئی ایسا حکم آیا ہو جو ہم نے دیا ہو، یا جس سے ہم نے منع کیا ہو، اور وہ یہ کہے مجھے نہیں معلوم ہمیں یہ اللہ تعالی کی کتاب میں نہیں ملا، ورنہ ہم اس کی پیروی کر لیتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض راویوں نے سفیان سے، سفیان نے ابن منکدر سے اور ابن منکدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور بعض نے یہ حدیث سالم ابوالنضر سے، سالم نے عبیداللہ بن ابورافع سے، عبیداللہ نے اپنے والد ابورافع سے اور ابورافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ۳- ابن عیینہ جب اس حدیث کو علیحدہ بیان کرتے تھے تو محمد بن منکدر کی حدیث کو سالم بن نضر کی حدیث سے جدا جدا بیان کرتے تھے اور جب دونوں حدیثوں کو جمع کر دیتے تو اسی طرح روایت کرتے (جیسا کہ اس حدیث میں ہے)۔ ۴- ابورافع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ان کا نام اسلم ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا نُهِيَ عَنْهُ أَنْ يُقَالَ عِنْدَ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث سن کر کیا کہنا منع ہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧؛حدیث نمبر ٢٦٦٣)
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور وہ کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلے کی چیز) بس اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں جو چیز ہم حلال پائیں گے پس اسی کو حلال سمجھیں گے، اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے بس اسی کو ہم حرام جانیں گے، یاد رکھو! بلا شک و شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز حرام قرار دے دی ہے وہ ویسے ہی حرام ہے جیسے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا نُهِيَ عَنْهُ أَنْ يُقَالَ عِنْدَ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث سن کر کیا کہنا منع ہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨؛حدیث نمبر ٢٦٦٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے (ابتداء اسلام میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم (حدیث) لکھ لینے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں لکھنے کی اجازت نہ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی زید بن اسلم کے واسطہ سے آئی ہے، اور اسے ہمام نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛(ابتدائے اسلام میں) احادیث لکھنے کی کراہت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨؛حدیث نمبر ٢٦٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہ آپ کی حدیثیں سنتا اور یہ حدیثیں اسے بہت پسند آتی تھیں، لیکن وہ انہیں یاد نہیں رکھ پاتا تھا تو اس نے اپنے یاد نہ رکھ پانے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کی حدیثیں سنتا ہوں اور وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں (مگر) میں انہیں یاد نہیں رکھ پاتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے داہنے ہاتھ کا سہارا لو (اور یہ کہتے ہوئے) آپ نے ہاتھ سے لکھ لینے کا اشارہ فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی و مستحکم نہیں ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل کو کہتے ہوئے سنا: خلیل بن مرہ منکر الحدیث ہے، ۳- اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِيهِ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩؛حدیث نمبر ٢٦٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور دوران خطبہ آپ نے کوئی قصہ (کوئی واقعہ) بیان کیا تو ابو شاہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے لیے لکھوا دیجئیے (یعنی کسی سے لکھا دیجئیے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ سے) کہا ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔ حدیث میں پورا واقعہ مذکور ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی جیسی روایت بیان کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِيهِ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩؛حدیث نمبر ٢٦٦٧)
ہمام بن منبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سوائے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے والا مجھ سے زیادہ کوئی نہیں ہے اور میرے اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کے درمیان یہ فرق تھا کہ وہ (احادیث) لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور روایت میں «وهب بن منبه، عن أخيه» جو آیا، تو «أخيه» سے مراد ہمام بن منبہ ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِيهِ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠؛حدیث نمبر ٢٦٦٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرف سے لوگوں کو (احکام الٰہی) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو، اور بنی اسرائیل کے حوالے سے روایت نقل کر لیا کرو،اس میں کوئی حرج نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹ کی نسبت کی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ایک اور سند سے بھی حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛اسرائیلی روایات کے بیان کرنے کی اجازت؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠؛حدیث نمبر ٢٦٦٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے جانور مانگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے دینے کے لیے کوئی جانور نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی رہنمائی کسی دوسرے شخص کی طرف کی تو دوسرے شخص نے اسے جانور دے دیا، تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا بھلائی کرنے والے کی مانند ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس بارے میں حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث منقول ہے۔ یہ حدیث اس سند کے حوالے سے غریب ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی گئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب ما جاء الدال علی الخیر کفاعلہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١؛حدیث نمبر ٢٦٧٠)
حضرت ابومسعود بدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آیا، اور کہا: میرا جانور مرگیا ہے۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”تم فلاں شخص کے پاس جاؤ“، چنانچہ وہ اس شخص کے پاس گیا اور اس نے اسے سواری دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھلائی کا راستہ دکھایا تو اسے اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کہ اس کے کرنے والے کو ملتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور ابومسعود بدری کا نام عقبہ بن عمرو ہے۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ابومسعود بدری رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اور اس حدیث میں کسی شک کے بغیر «مثل أجر فاعله» کہا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب ما جاء الدال علی الخیر کفاعلہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١؛حدیث نمبر ٢٦٧١)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفاعت (سفارش) کرو تاکہ اجر پاؤ، اللہ اپنے نبی کی زبانی جو چاہے فیصلہ سنا دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب ما جاء الدال علی الخیر کفاعلہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١؛حدیث نمبر ٢٦٧٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم سے جو بھی خون ہوتا ہے اس خون کے گناہ کا ایک حصہ آدم کے (پہلے) بیٹے پر جاتا ہے، کیونکہ اس نے ہی سب سے پہلے قتل کا آغاز کیا تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ایک اور سند سے بھی ابن مسعود سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب ما جاء الدال علی الخیر کفاعلہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢؛حدیث نمبر ٢٦٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا تو جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے اجر کے برابر ہدایت کی طرف بلانے والے کو بھی ثواب ملے گا، اور ان لوگوں کے نیکی میں کوئی کمی نہیں ہوگی، اور جس نے ضلالت (و گمراہی) کی طرف بلایا تو جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے گناہوں کے برابر گمراہی کی طرف بلانے والے کو بھی گناہ ملے گا اور ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ دَعَا إِلَى هُدًى فَاتُّبِعَ أَوْ إِلَى ضَلاَلَةٍ؛ہدایت اور گمراہی کی طرف بلانے والوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣؛حدیث نمبر ٢٦٧٤)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھلائی کے طریقے کا آغاز کرے اور اس بارے میں اس کی پیروی کی جائے تو اس شخص کو اس کا اجر ملے گا اور بھلائی کی طرف پیروی کرنے والوں کے اجر جتنا اجر ملے گا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جو شخص برے طریقے کا اغاز کرے اس کی پیروی کی جائے تو اس شخص کا اپنا گناہ ہوگا اور ان تمام لوگوں کے گناہ جتنا گناہ ہوگا جو اس کی پیروی کریں گے اور ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے جریر بن عبداللہ سے آئی ہے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث منذر بن جریر بن عبداللہ سے بھی آئی ہے، جسے وہ اپنے والد جریر بن عبداللہ سے اور جریر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۴- یہ حدیث عبیداللہ بن جریر سے بھی آئی ہے، اور عبیداللہ اپنے والد جریر سے اور جریر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۵- اس باب میں حضرت حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ دَعَا إِلَى هُدًى فَاتُّبِعَ أَوْ إِلَى ضَلاَلَةٍ؛ہدایت اور گمراہی کی طرف بلانے والوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣؛حدیث نمبر ٢٦٧٥)
حضرت عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز فجر کے بعد ایک موثر نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور دل لرز گئے، ایک شخص نے کہا: یہ نصیحت ایسی ہے جیسی نصیحت دنیا سے (آخری بار) رخصت ہو کر جانے والے کیا کرتے ہیں، تو اللہ کے رسول! آپ ہمیں کس بات کی وصیت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے، امیر کی بات سننے اور اسے ماننے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ تمہارا حاکم اور امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے آئندہ جو زندہ رہے گا وہ (امت کے اندر) بہت سارے اختلافات دیکھے گا تو تم (باقی رہنے والوں) کو میری وصیت ہے کہ تم نئے پیدا ہونے والے امور سے بچنا، کیونکہ یہ سب گمراہی ہیں۔ چنانچہ تم میں سے جو شخص ان حالات کو پالے تو اسے چاہیئے کہ وہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر قائم رہے اور میری اس نصیحت کو اپنے دانتوں کے ذریعے مضبوطی سے دبا لے“۔ (اور اس پر عمل پیرا رہے) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثور بن یزید نے بسند «خالد بن معدان عن عبدالرحمٰن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ ایک اور سند سے بھی عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عرباض بن ساریہ کی کنیت ابونجیح ہے۔ ۲- یہ حدیث بطریق: «حجر بن حجر عن عرباض بن سارية عن النبي صلى الله عليه وسلم» کے طریق سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الأَخْذِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدَعِ؛سنت کی پابندی کرنے اور بدعت سے بچنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤؛حدیث نمبر ٢٦٧٦)
حضرت عمرو بن عوف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال بن حارث رضی الله عنہ سے فرمایا:یہ بات جان لو!انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ!کیا بات جان لوں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”جس نے میری کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جس پر لوگوں نے میرے بعد عمل کرنا چھوڑ دیا ہے، تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس سنت پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، یہ ان کے اجروں میں سے کچھ بھی کمی نہیں کرے گا، اور جس نے گمراہی کی بدعت نکالی جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی و خوش نہیں، تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہو گا، اس کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہیں کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محم بن عیینہ مصیصی شامی ہیں، ۳- اور کثیر بن عبداللہ سے مراد کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الأَخْذِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدَعِ؛سنت کی پابندی کرنے اور بدعت سے بچنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥؛حدیث نمبر ٢٦٧٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بیٹے: اگر تم سے ہو سکے کہ صبح و شام تم اس طرح گزارے کہ تمہارے دل میں کسی کے لیے بھی کھوٹ (بغض، حسد، کینہ وغیرہ) نہ ہو تو ایسا کر لیا کرو“، پھر آپ نے فرمایا: ”میرے بیٹے! ایسا کرنا میری سنت (اور میرا طریقہ) ہے، اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک طویل قصہ بھی ہے، ۲- اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۳- محمد بن عبداللہ انصاری ثقہ ہیں، اور ان کے باپ بھی ثقہ ہیں، ۴- علی بن زید صدوق ہیں (ان کا شمار سچوں میں ہے) بس ان میں اتنی سی کمی و خرابی ہے کہ وہ بسا اوقات بعض روایات کو جسے دوسرے راوی موقوفاً روایت کرتے ہیں اسے یہ مرفوع روایت کر دیتے ہیں، ۵- میں نے محمد بن بشار کو کہتے ہوئے سنا کہ ابوالولید نے کہا: شعبہ کہتے ہیں کہ مجھ سے علی بن زید نے حدیث بیان کی اور علی بن زید رفاع تھے، ۶- ہم سعید بن مسیب کی انس کے واسطہ سے اس طویل حدیث کے سوا اور کوئی روایت نہیں جانتے، ۷- عباد بن میسرہ منقری نے یہ حدیث علی بن زید کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اس حدیث میں سعید بن مسیب کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، ۸- میں نے اس حدیث کا محمد بن اسماعیل بخاری سے ذکر کر کے اس کے متعلق جاننا چاہا تو انہوں نے اس کے متعلق اپنی لاعلمی کا اظہار کیا، ۹- انس بن مالک سے سعید بن مسیب کی روایت سے یہ یا اس کے علاوہ کوئی بھی حدیث معروف نہیں ہے۔حضرت انس بن مالک ۹۳ ہجری میں انتقال فرما گئے اور سعید بن مسیب ان کے دو سال بعد ۹۵ ہجری میں ہوا ۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الأَخْذِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدَعِ؛سنت کی پابندی کرنے اور بدعت سے بچنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦؛حدیث نمبر ٢٦٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو چیز میں تمہارے لیے ترک کر دوں(یعنی بیان نہ کروں)اس بارے میں مجھے چھوڑ دو اور جب میں تم سے کوئی بات بیان کر دوں تو اسے مجھ سے حاصل کر لو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ بہت زیادہ سوالات کرنے اور اپنے انبیاء سے کثرت سے اختلافات کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛فِي الاِنْتِهَاءِ عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦؛حدیث نمبر ٢٦٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ لوگ علم کی تلاش میں کثرت سے لمبے لمبے سفر طے کریں گے، لیکن (کہیں بھی) انہیں مدینہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عیینہ سے مروی یہ حدیث حسن ہے، ۲- سفیان بن عیینہ سے اس بارے میں جب پوچھا گیا کہ عالم مدینہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: مالک بن انس ہیں، ۳- اسحاق بن موسیٰ کہتے ہیں: میں نے ابن عیینہ کو کہتے سنا کہ وہ (یعنی عالم مدینہ) عمری عبدالعزیز بن عبداللہ زاہد ہیں، ۴- میں نے یحییٰ بن موسیٰ کو کہتے ہوئے سنا عبدالرزاق کہتے تھے کہ وہ (عالم مدینہ) مالک بن انس ہیں، ۵- عمری یہ عبدالعزیز بن عبداللہ ہیں، اور یہ عمر بن خطاب کی اولاد میں سے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي عَالِمِ الْمَدِينَةِ؛عالم مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧؛حدیث نمبر ٢٦٨٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عالم شیطان کے لیے ایک ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ شدید ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفِقْهِ عَلَى الْعِبَادَةِ؛عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨؛حدیث نمبر ٢٦٨١)
قیس بن کثیر مروی ہے کہ ایک شخص مدینہ سے حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ کے پاس دمشق آیا،حضرت ابوالدرداء رضی الله عنہ نے اس سے کہا: میرے بھائی! تمہیں یہاں کیا چیز لے کر آئی ہے، اس نے کہا: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں،حضرت ابو الدرداء نے کہا: کیا تم کسی اور ضرورت سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا تم تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں تو صرف اس حدیث کی طلب و تلاش میں آیا ہوں،حضرت ابو الدرداء نے کہا: (اچھا تو سنو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالب علم سے راضی ہوکر اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے ایک بہت بڑا حصہ حاصل کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم عاصم بن رجاء بن حیوہ کی روایت کے سوا کسی اور طریقہ سے اس حدیث کو نہیں جانتے، اور اس حدیث کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے۔ اسی طرح انہیں اسناد سے محمود بن خداش نے بھی ہم سے بیان کی ہے، ۲- یہ حدیث عاصم بن رجاء بن حیوہ نے بسند «داود بن جميل عن كثير بن قيس عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ اور یہ حدیث محمود بن خداش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور محمد بن اسماعیل بخاری کی رائے ہے کہ یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفِقْهِ عَلَى الْعِبَادَةِ؛عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨؛حدیث نمبر ٢٦٨٢)
یزید بن سلمہ رضی اللہ عنہ مکہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے بہت سی حدیثیں آپ سے سنی ہیں، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں بعد کی حدیثیں شروع کی حدیثوں کو بھلا نہ دیں، آپ مجھے کوئی ایسا کلمہ (کوئی ایسی بات) بتا دیجئیے جو دونوں (اول و آخر) کو ایک ساتھ باقی رکھنے کا ذریعہ بنے۔ آپ نے فرمایا: ”جو کچھ بھی تم جانتے ہو ان کے متعلق اللہ کا خوف و تقویٰ ملحوظ رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ایسی ہے جس کی سند متصل نہیں ہے، یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے۔ ۲- میرے نزدیک ابن اشوع نے یزید بن سلمی (کے دور) کو نہیں پایا ہے، ۳- ابن اشوع کا نام سعید بن اشوع ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفِقْهِ عَلَى الْعِبَادَةِ؛عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩؛حدیث نمبر ٢٦٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق میں دو خصلتیں (صفتیں) جمع نہیں ہو سکتی ہیں: حسن اخلاق اور دین کی سمجھ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم عوف کی اس حدیث کو صرف شیخ خلف بن ایوب عامری کی روایت سے جانتے ہیں، اور ابوکریب محمد بن علاء کے سوا کسی کو ہم نہیں جانتے جس نے خلف بن ایوب عامری سے روایت کی ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسے شخص ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفِقْهِ عَلَى الْعِبَادَةِ؛عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩؛حدیث نمبر ٢٦٨٤)
حضرت ابوامامہ باہلی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک ادنیٰ شخص پر ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- فضیل بن عیاض کہتے ہیں «ملكوت السموات» (عالم بالا) میں عمل کرنے والے عالم اور معلم کو بہت بڑی اہمیت و شخصیت کا مالک سمجھا اور پکارا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفِقْهِ عَلَى الْعِبَادَةِ؛عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠؛حدیث نمبر ٢٦٨٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بھلائی کی باتیں سن کر(یعنی علم حاصل کر کے) کبھی سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے آخری انجام جنت میں پہنچ جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفِقْهِ عَلَى الْعِبَادَةِ؛عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠؛حدیث نمبر ٢٦٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کر لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابراہیم بن فضل مدنی مخزومی حدیث بیان کرنے میں حفظ کے تعلق سے کمزور مانے جاتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛ باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفِقْهِ عَلَى الْعِبَادَةِ؛عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١؛حدیث نمبر ٢٦٨٧)
Tirmizi Shareef : Abwabul Ilm
|
Tirmizi Shareef : ابواب العلم
|
•