asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Isteezani Wal Adabi

From 2688 to 2735

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم (صحیح معنوں میں) مومن نہ بن جاؤ اور تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے (سچی) محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے (وہ یہ کہ) آپس میں سلام کو عام کرو (پھیلاؤ)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن سلام، شریح بن ہانی عن ابیہ، عبداللہ بن عمرو، براء، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛ باب مَا جَاءَ فِي إِفْشَاءِ السَّلاَمِ؛سلام کو عام کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١؛حدیث نمبر ٢٦٨٨)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا أَنْتُمْ فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالبَرَاءِ، وَأنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2688

حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السلام عليكم»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) دس نیکیاں ہیں“، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) بیس نیکیاں ہیں“، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) تیس نیکیاں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت علی، ابوسعید اور سہل بن حنیف سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛ باب مَا ذُكِرَ فِي فَضْلِ السَّلاَمِ؛سلام کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢؛حدیث نمبر ٢٦٨٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرِيرِيُّ الْبَلْخِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ [ص: ٥٣] الضُّبَعِيِّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَشْرٌ» ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عِشْرُونَ». ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثُونَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ» وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2689

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟حضرت عمر رضی الله عنہ نے (دل میں) کہا: ابھی تو ایک بار اجازت طلب کی ہے، تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟حضرت عمر رضی الله عنہ نے (دل میں) کہا: ابھی تو دو ہی بار اجازت طلب کی ہے۔ تھوڑی دیر (مزید) خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہا: «السلام عليكم» کیا مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت ہے؟حضرت عمر رضی الله عنہ نے (دل میں کہا) تین بار اجازت طلب کر چکے، پھر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ واپس ہو لیے، حضرت عمر رضی الله عنہ نے دربان سے کہا: ابوموسیٰ نے کیا کیا؟ اس نے کہا: لوٹ گئے۔ حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا انہیں بلا کر میرے پاس لاؤ، پھر جب وہ ان کے پاس آئے تو عمر رضی الله عنہ نے کہا: یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے سنت پر عمل کیا ہے، حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا سنت پر؟ قسم اللہ کی! تمہیں اس کے سنت ہونے پر دلیل و ثبوت پیش کرنا ہو گا ورنہ میں تمہارے ساتھ سخت برتاؤ کروں گا۔حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں: پھر وہ ہمارے پاس آئے، اس وقت ہم انصار کی ایک جماعت کے ساتھ تھے۔حضرت ابوموسیٰ اشعری نے کہا: اے انصار کی جماعت! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو دوسرے لوگوں سے زیادہ جاننے والے نہیں ہو، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: «الاستئذان ثلاث» (اجازت طلبی) تین بار ہے۔ اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو گھر میں جاؤ اور اگر اجازت نہ دی جائے تو لوٹ جاؤ؟ (یہ سن کر) لوگ ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے، حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں: میں نے اپنا سر حضرت ابوموسیٰ اشعری کی طرف اونچا کر کے کہا: اس سلسلے میں جو بھی سزا آپ کو ملے گی میں اس میں حصہ دار ہوں گا، راوی کہتے ہیں: پھر وہ (ابوسعید) عمر رضی الله عنہ کے پاس آئے، اور ان کو اس حدیث کی خبر دی، عمر نے کہا: مجھے اس حدیث کا علم نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور جریری کا نام سعید بن ایاس ہے اور ان کی کنیت ابومسعود ہے۔ یہ حدیث ان کے سوا اور لوگوں نے بھی ابونضرہ سے روایت کی ہے، اور ابونضرہ عبدی کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے، ۲- اس باب میں علی اور سعد کی آزاد کردہ لونڈی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثَةً؛کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢؛حدیث نمبر ٢٦٩٠)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ الجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ قَالَ عُمَرُ: وَاحِدَةٌ، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ قَالَ عُمَرُ: ثِنْتَانِ، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ عُمَرُ لِلْبَوَّابِ: مَا صَنَعَ؟ قَالَ: رَجَعَ، قَالَ: عَلَيَّ بِهِ، فَلَمَّا جَاءَهُ، قَالَ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: السُّنَّةُ، قَالَ: آلسُّنَّةُ؟ وَاللَّهِ لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبُرْهَانٍ أَوْ بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ، قَالَ: فَأَتَانَا وَنَحْنُ [ص: ٥٤] رُفْقَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ أَعْلَمَ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ، وَإِلَّا فَارْجِعْ» فَجَعَلَ القَوْمُ يُمَازِحُونَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ: فَمَا أَصَابَكَ فِي هَذَا مِنَ العُقُوبَةِ فَأَنَا شَرِيكُكَ. قَالَ: فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا كُنْتُ عَلِمْتُ بِهَذَا وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالجُرَيْرِيُّ اسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ يُكْنَى أَبَا مَسْعُودٍ، وَقَدْ رَوَى هَذَا غَيْرُهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، وَأَبُو نَضْرَةَ العَبْدِيُّ اسْمُهُ: المُنْذِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قُطْعَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2690

حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کی تین بار اجازت مانگی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزمیل کا نام سماک الحنفی ہے، ۳- میرے نزدیک عمر کو ابوموسیٰ کی اس بات پر اعتراض اور انکار اس وجہ سے تھا کہ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجازت تین بار طلب کی جائے، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ور نہ لوٹ جاؤ“۔ (رہ گیا حضرت عمر رضی الله عنہ کا اپنا معاملہ) تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اجازت طلب کی تھی تو انہیں اجازت مل گئی تھی، اس حدیث کی خبر انہیں نہیں تھی جسے ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”پھر اگر اندر جانے کی اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثَةً؛کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣؛حدیث نمبر ٢٦٩١)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، قَالَ: «اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لِي»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ: سِمَاكٌ الحَنَفِيُّ، وَإِنَّمَا أَنْكَرَ عُمَرُ عِنْدَنَا عَلَى أَبِي مُوسَى حَيْثُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِذَا أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ» [ص: ٥٥] وَقَدْ كَانَ عُمَرُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لَهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلِمَ هَذَا الَّذِي رَوَاهُ أَبُو مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2691

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں آیا (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ اس نے نماز پڑھی پھر آ کر آپ کو سلام عرض کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «وعليك» ”تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے اور عبیداللہ بن عمر نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے «عن أبيه عن أبي هريرة» کہا ہے، اس میں «فسلم عليه وقال وعليك» ”اس نے آپ کو سلام کیا اور آپ نے کہا تم پر بھی سلام ہو“ کا ذکر نہیں کیا، ۳- یحییٰ بن سعید کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ رَدُّ السَّلاَمِ؛سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤؛حدیث نمبر ٢٦٩٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ المَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ المَسْجِدِ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ» فَذَكَرَ الحَدِيثَ بِطُولِهِ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ، هَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَقَالَ: «وَعَلَيْكَ» وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَصَحُّ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2692

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بنی نمیر کے ایک شخص سے بھی روایت ہے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ۳- زہری نے بھی یہ حدیث ابوسلمہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ رَدُّ السَّلاَمِ؛سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥؛حدیث نمبر ٢٦٩٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ المُنْذِرِ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ»، قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ [ص: ٥٦] وَفِي البَابِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، أَيْضًا، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2693

حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے“۔ (وہ پہل کرے گا) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ؛سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦؛حدیث نمبر ٢٦٩٤)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلَانِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ؟ فَقَالَ: «أَوْلَاهُمَا بِاللَّهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» قَالَ مُحَمَّدٌ: «أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ مُقَارِبُ الحَدِيثِ إِلَّا أَنَّ ابْنَهُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2694

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے جو دوسروں کے ساتھ مشابہت اختیار کر لے، تم لوگ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو کیونکہ یہودیوں کا سلام انگلیوں کے اشارے کے ذریعے ہوتا ہے اور عیسائیوں کا سلام ہتھیلی کے اشارے کے ذریعے ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۲- ابن مبارک نے یہ حدیث ابن لھیعہ سے روایت کی ہے، اور اسے انہوں نے مرفوع نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ إِشَارَةِ الْيَدِ بِالسَّلاَمِ؛ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦؛حدیث نمبر ٢٦٩٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ [ص: ٥٧] تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا، لَا تَشَبَّهُوا بِاليَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَى، فَإِنَّ تَسْلِيمَ اليَهُودِ الإِشَارَةُ بِالأَصَابِعِ، وَتَسْلِيمَ النَّصَارَى الإِشَارَةُ بِالأَكُفِّ»: «هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» وَرَوَى ابْنُ المُبَارَكِ، هَذَا الحَدِيثَ عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ، «فَلَمْ يَرْفَعْهُ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2695

سیار سے مروی ہے کہ میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، ثابت نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں حضرت انس رضی الله عنہ کے ساتھ (جا رہا) تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا، پھر حضرت انس نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے ثابت سے روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث متعدد سندوں سے انس رضی الله عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛بچوں کو سلام کرنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧؛حدیث نمبر ٢٦٩٦)

حَدَّثَنَا أَبُو الخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ، فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ثَابِتٌ: كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ، فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ أَنَسٌ: «كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ثَابِتٍ، وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ» حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2696

حضرت اسماء بنت یزید رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، چنانچہ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالحمید (راوی) نے بھی ہاتھ سے اشارہ کیا (کہ اس طرح)، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: شہر بن حوشب کے واسطہ سے عبدالحمید بن بہرام کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: شہر حسن الحدیث ہیں اور ان کو روایت حدیث میں قوی بخاری کہتے ہیں: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: «إن شهرا نزكوه» کے واسطہ سے کہا: شہر کی شخصیت کو محدثین نے داغ دار بتایا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ نضر کہتے ہیں «نزكوه» کا مطلب یہ ہے کہ «طعنوا فيه» یعنی ان کی شخصیت کو داغ دار بتایا ہے، اور لوگوں نے ان پر جرح اس لیے کی ہے کہ وہ سلطان (حکومت) کے ملازم بن گئے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى النِّسَاءِ؛عورتوں کو سلام کرنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧؛حدیث نمبر ٢٦٩٧)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، أَنَّهُ سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ، تُحَدِّثُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي المَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ، فَأَلْوَى بِيَدِهِ بِالتَّسْلِيمِ» وَأَشَارَ عَبْدُ الحَمِيدِ بِيَدِهِ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: «لَا بَأْسَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ» وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: «شَهْرٌ حَسَنُ الحَدِيثِ وَقَوَّى أَمْرَهُ» وقَالَ: «إِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ عَوْنٍ» ثُمَّ رَوَى عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: «إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ النَّضْرُ: «نَزَكُوهُ أَيْ طَعَنُوا فِيهِ وَإِنَّمَا طَعَنُوا فِيهِ لِأَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَ السُّلْطَانِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2697

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کیا کرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے خیر و برکت کا باعث ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؛اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩؛حدیث نمبر ٢٦٩٨)

حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ البَصْرِيُّ الأَنْصَارِيُّ مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بُنَيَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُونُ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2698

حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کلام سے پہلے سلام کرو" ایک اور سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کسی کو کھانے پر نہ بلاؤ جب تک کہ وہ سلام نہ کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے ہم اس حدیث کو اس سند کے سوا کسی اور سند سے نہیں جانتے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عنبسہ بن عبدالرحمٰن حدیث بیان کرنے میں ضعیف اور بہکنے والے، اور محمد بن زاذان منکرالحدیث ہیں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي السَّلاَمِ قَبْلَ الْكَلاَمِ؛بات چیت سے پہلے سلام کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩؛حدیث نمبر ٢٦٩٩)

حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّلَامُ قَبْلَ الكَلَامِ» وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَدْعُوا أَحَدًا إِلَى الطَّعَامِ حَتَّى يُسَلِّمَ»: [ص: ٦٠] «هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ» سَمِعْتُ مُحَمَّدًا، يَقُولُ: «عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعِيفٌ فِي الحَدِيثِ ذَاهِبٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ مُنْكَرُ الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2699

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تمہاری ان کے کسی فرد سے راستے میں ملاقات ہو جائے تو اسے تنگ راستے سے ہی جانے پر مجبور کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ؛ذمیوں سے سلام کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠؛حدیث نمبر ٢٧٠٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبْدَأُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2700

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السّام عليك» ”تم پر موت و ہلاکت آئے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: «عليكم»، حضرت عائشہ نے (اس پر دو لفظ بڑھا کر) کہا «بل عليكم السام واللعنة» ”بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے“، حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟۔ آپ نے فرمایا: ”تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حضرت عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو بصرہ غفاری، ابن عمر، انس اور ابوعبدالرحمٰن جہنی سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ؛ذمیوں سے سلام کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠؛حدیث نمبر ٢٧٠١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ المَخْزُومِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَهْطًا مِنَ اليَهُودِ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ»، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ»، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: «قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الغِفَارِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الجُهَنِيِّ: «حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2701

حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور یہود دونوں تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي السَّلاَمِ عَلَى مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْلِمُونَ وَغَيْرُهُمْ؛ایسی مجلس پر سلام جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہوں؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١؛حدیث نمبر ٢٧٠٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَرَّ بِمَجْلِسٍ وَفِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ المُسْلِمِينَ وَاليَهُودِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2702

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو (یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے“۔ اور ابن مثنی نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ”چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے، ۲- ایوب سختیانی، یونس بن عبید اور علی بن یزید کہتے ہیں کہ حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۳- اس باب میں حضرت عبدالرحمٰن بن شبل، فضالہ بن عبید اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي؛سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١؛حدیث نمبر ٢٧٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ الحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى المَاشِي، وَالمَاشِي عَلَى القَاعِدِ، وَالقَلِيلُ عَلَى الكَثِيرِ - وَزَادَ ابْنُ المُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ - وَيُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الكَبِيرِ» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَجَابِرٍ: «هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» [ص: ٦٢] وقَالَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ: «إِنَّ الحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2703

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوٹا بڑے کو، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي؛سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢؛حدیث نمبر ٢٧٠٤)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الكَبِيرِ، وَالمَارُّ عَلَى القَاعِدِ، وَالقَلِيلُ عَلَى الكَثِيرِ» وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2704

حضرت فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور چلنے والا کھڑے ہوئے شخص کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي؛سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢؛حدیث نمبر ٢٧٠٥)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الجَنْبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُسَلِّمُ الفَارِسُ عَلَى المَاشِي، وَالمَاشِي عَلَى القَائِمِ، وَالقَلِيلُ عَلَى الكَثِيرِ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَلِيٍّ الجَنْبِيُّ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2705

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر اس کا دل بیٹھنے کو چاہے تو بیٹھ جائے۔ پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو سلام کرے۔ پہلا (سلام) دوسرے (سلام) سے زیادہ ضروری نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے، ابن عجلان نے بسند «سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عِنْدَ الْقِيَامِ وَعِنْدَ الْقُعُودِ؛مجلس میں بیٹھتے اور اس سے اٹھتے وقت سلام کرنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢؛حدیث نمبر ٢٧٠٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا انْتَهَى [ص: ٦٣] أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ، ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2706

حضرت ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص پردہ ہٹا کر گھر کے اندر نگاہ ڈالے، اس سے پہلے کہ اسے اجازت دی گئی ہو تو اس شخص نے پوشیدہ چیز کو دیکھ لیا اور اس نے اس جرم کا ارتکاب کیا جو اس کے لیے درست نہیں ہے، جس وقت اس نے اپنی نگاہ اندر ڈالی تھی کاش اس وقت اس کا سامنا کسی ایسے شخص سے ہو جاتا جو اس کی دونوں آنکھیں پھوڑ دیتا تو میں اس پر اسے خوں بہا نہ دیتا۔ اور اگر کوئی شخص ایسے دروازے کے سامنے سے گزرا جس پر کوئی پردہ پڑا ہوا نہیں ہے اور دروازہ بند بھی نہیں ہے پھر اس کی نظر اٹھ گئی تو اس کی کچھ خطا نہیں۔ غلطی و کوتاہی تو گھر والے کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس طرح کی حدیث صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِئْذَانِ قُبَالَةَ الْبَيْتِ؛گھر کے (دروازے) کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣؛حدیث نمبر ٢٧٠٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ فِي البَيْتِ قَبْلَ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَرَأَى عَوْرَةَ أَهْلِهِ فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، لَوْ أَنَّهُ حِينَ أَدْخَلَ بَصَرَهُ اسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فَفَقَأَ عَيْنَيْهِ مَا عَيَّرْتُ عَلَيْهِ، وَإِنْ مَرَّ الرَّجُلُ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ غَيْرِ مُغْلَقٍ فَنَظَرَ فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ، إِنَّمَا الخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ البَيْتِ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ: " هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ. وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحُبُلِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2707

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تھے (اسی دوران) ایک شخص نے آپ کے گھر میں جھانکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر اس کی طرف بڑھایا تو وہ پیچھے ہٹ گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَنِ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ؛کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤؛حدیث نمبر ٢٧٠٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ فِي بَيْتِهِ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2708

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں ایک سوراخ سے جھانکا (اس وقت) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے (پہلے سے) معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں اسے تیری آنکھ میں چبھو دیتا، اجازت لینے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے تاکہ(گھر والوں) پر نظر نہ پڑے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَنِ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ؛کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤؛حدیث نمبر ٢٧٠٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرَاةٌ يَحُكُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ البَصَرِ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2709

حضرت کلدہ بن حنبل رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ صفوان بن امیہ نے انہیں دودھ، بوہلی اور ککڑی کے ٹکڑے دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور آپ اس وقت مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس اجازت لیے اور سلام کئے بغیر چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس باہر جاؤ، پھر کہو «السلام علیکم»، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ یہ اس وقت کی بات ہے جب صفوان اسلام لا چکے تھے۔ عمرو بن عبداللہ کہتے ہیں: یہ حدیث امیہ بن صفوان نے مجھ سے بیان کی ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ حدیث میں نے کلدہ سے سنی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ابن جریج کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- ابوعاصم نے بھی ابن جریج سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ قَبْلَ الاِسْتِئْذَان؛گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤؛حدیث نمبر ٢٧١٠)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، [ص: ٦٥] أَخْبَرَهُ أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ حَنْبَلٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ بِلَبَنٍ وَلِبَأٍ وَضَغَابِيسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الوَادِي، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ فَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ "؟ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ قَالَ عَمْرٌو: وَأَخْبَرَنِي بِهَذَا الحَدِيثِ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ،: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ» وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، أَيْضًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، مِثْلَ هَذَا. وَضَغَابِيسُ: هُوَ حَشِيشٌ يُؤْكَلُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2710

حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قرض کے سلسلے میں جو میرے والد کے ذمہ تھا کچھ بات کرنے کے لیے آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو آپ نے کہا: ”کون ہے؟“۔ میں نے کہا: میں ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں میں (کیا ہے؟)“گویا آپ نے اس بات کو ناپسند کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ قَبْلَ الاِسْتِئْذَان؛گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥؛حدیث نمبر ٢٧١١)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ المُبَارَكِ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي فَقَالَ: «مَنْ هَذَا»؟ فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: «أَنَا أَنَا» كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2711

حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات سے منع کیا تھا کہ( وہ طویل سفر سے)واپسی پر رات کے وقت اپنے گھر جائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت جابر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۳- اس باب میں حضرت انس، ابن عمر، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴-حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رات میں بیویوں کے پاس سفر سے واپس لوٹ کر آنے سے روکا ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روکنے کے باوجود دو شخص رات میں لوٹ کر اپنی بیویوں کے پاس آئے (نتیجہ انہیں اس نافرمانی کا یہ ملا) کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی بیوی کے پاس ایک دوسرے مرد کو پایا۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛ باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ طُرُوقِ الرَّجُلِ أَهْلَهُ لَيْلاً؛بیوی کے پاس سفر سے رات میں واپس آنا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥؛حدیث نمبر ٢٧١٢)

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ العَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاهُمْ أَنْ يَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا» وَفِي البَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَاهُمْ أَنْ يَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا " قَالَ: «فَطَرَقَ رَجُلَانِ بَعْدَ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2712

حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈالنا چاہیئے، کیونکہ یہ ضرورت کو زیادہ بہتر طور پر پورا کرتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے ابوزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- حمزہ ہمارے نزدیک عمرو نصیبی کے بیٹے ہیں، اور وہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي تَتْرِيبِ الْكِتَابِ؛خط لکھ کر اس پر مٹی ڈالنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦؛حدیث نمبر ٢٧١٣)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَتَبَ أَحَدُكُمْ كِتَابًا فَلْيُتَرِّبْهُ فَإِنَّهُ أَنْجَحُ لِلْحَاجَةِ»: [ص: ٦٧] " هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ. وَحَمْزَةُ هُوَ عِنْدِي: ابْنُ عَمْرٍو النَّصِيبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الحَدِيثِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2713

حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔ آپ کے سامنے ایک کاتب بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے سنا آپ اس سے فرما رہے تھے: ”تم اپنا قلم اپنے کان پر رکھے رہا کرو کیونکہ اس سے مضمون زیادہ بہتر سمجھ میں اتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ سند ضعیف ہے، ۳- عنبسہ بن عبدالرحمٰن اور محم بن زاذان، دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧؛حدیث نمبر ٢٧١٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الحَارِثِ، عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ أُمِّ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَاتِبٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «ضَعِ القَلَمَ عَلَى أُذُنِكَ فَإِنَّهُ أَذْكَرُ لِلْمُمْلِي»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ وَهُوَ إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ، وَعَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ يُضَعَّفَانِ فِي الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2714

حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لیے یہود کی کچھ تحریر سیکھ لوں، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں یہود کی تحریر پر اعتماد و اطمینان نہیں کرتا“، چنانچہ ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے آپ کے لیے اسے سیکھ لیا۔ کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیکھ لیا اور آپ کو یہودیوں کے پاس کچھ لکھ کر بھیجنا ہوا تو میں نے لکھ کر ان کے پاس بھیج دیا، اور جب یہودیوں نے کوئی چیز لکھ کر آپ کے پاس بھیجی تو میں نے ان کی کتاب (تحریر) پڑھ کر آپ کو سنا دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ بھی دوسری سند سے حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ سے مروی ہے، اسے اعمش نے ثابت بن عبید انصاری کے واسطہ سے زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں سریانی زبان سیکھ لوں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ السُّرْيَانِيَّةِ؛سریانی زبان سیکھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧؛حدیث نمبر ٢٧١٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَعَلَّمَ لَهُ كَلِمَاتٍ مِنْ كِتَابِ يَهُودَ قَالَ: «إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابٍ» قَالَ: «فَمَا مَرَّ بِي نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى تَعَلَّمْتُهُ لَهُ» [ص: ٦٨] قَالَ: «فَلَمَّا تَعَلَّمْتُهُ كَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَى يَهُودَ كَتَبْتُ إِلَيْهِمْ، وَإِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ قَرَأْتُ لَهُ كِتَابَهُمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الوَجْهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ» رَوَاهُ الأَعْمَشُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَعَلَّمَ السُّرْيَانِيَّةَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2715

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے کسریٰ و قیصر، نجاشی اور سارے سرکش و متکبر بادشاہوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہوئے خطوط لکھ کر بھیجے۔ اس نجاشی سے وہ نجاشی (بادشاہ حبش اصحمہ) مراد نہیں ہے کہ جن کے انتقال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب فِي مُكَاتَبَةِ الْمُشْرِكِينَ:مشرکین سے خط و کتابت کرنے کا بیان۔؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨؛حدیث نمبر ٢٧١٦)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ قَبْلَ مَوْتِهِ إِلَى كِسْرَى وَإِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى النَّجَاشِيِّ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ» وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2716

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان بن حرب رضی الله عنہ نے ان سے بیان کیا کہ وہ قریش کے کچھ تاجروں کے ساتھ شام میں تھے کہ ہرقل (شہنشاہ شام) نے انہیں بلا بھیجا، تو وہ سب اس کے پاس آئے، پھر سفیان نے آگے بات بڑھائی۔ کہا: پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا۔ پھر خط پڑھا گیا، اس میں لکھا تھا «بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبدالله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم السلام على من اتبع الهدى أمابعد» ” اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو رحمان اور رحیم ہے۔ یہ خط محمد کی جانب سے ہے جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور ہرقل کے پاس بھیجا جا رہا ہے جو روم کے شہنشاہ ہیں۔ سلامتی ہے اس شخص کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ امابعد: حمد و نعت کے بعد … الخ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوسفیان کا نام حضرت صخر بن حرب رضی الله عنہ تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ يُكْتَبُ إِلَى أَهْلِ الشِّرْكِ؛کفار و مشرکین کو کس انداز سے خط لکھا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩؛حدیث نمبر ٢٧١٧)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَكَانُوا تُجَّارًا بِالشَّامِ فَأَتَوْهُ فَذَكَرَ الحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُرِئَ، فَإِذَا فِيهِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ السَّلَامُ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الهُدَى أَمَّا بَعْدُ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ: صَخْرُ بْنُ حَرْبٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2717

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجمی (بادشاہوں) کو خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کو بتایا گیا کہ عجمی بغیر مہر لگا ہوا خط قبول نہیں کرتے چنانچہ آپ نے (مہر کے لیے) ایک انگوٹھی بنوائی، تو ان میں آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي خَتْمِ الْكِتَابِ؛خط (مکتوب) پر مہر لگانے کا بیان۔؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩؛حدیث نمبر ٢٧١٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " لَمَّا أَرَادَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى العَجَمِ قِيلَ لَهُ: إِنَّ العَجَمَ لَا يَقْبَلُونَ إِلَّا [ص: ٧٠] كِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا "، قَالَ: «فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي كَفِّهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2718

حضرت مقداد بن اسود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دو دوست (مدینہ) آئے، فقر و فاقہ کی بنا پر ہماری سماعت متاثر ہو گئی تھی اور ہماری آنکھیں دھنس گئی تھیں، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے لگے لیکن ہمیں کسی نے قبول نہ کیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ ہمیں اپنے گھر لے آئے، اس وقت آپ کے پاس تین بکریاں تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کا دودھ ہم سب کے لیے دوہو“، تو ہم دوہتے اور ہر شخص اپنا حصہ پیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تشریف لاتے اور اس انداز سے سلام کرتے تھے کہ سونے والا جاگ نہ اٹھے اور جاگنے والا سن بھی لے، پھر آپ مسجد آتے نماز پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب كَيْفَ السَّلاَمُ؛سلام کس انداز سے کیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠؛حدیث نمبر ٢٧١٩)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ المُغِيرَةِ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ البُنَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ المِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي قَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الجَهْدِ، فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَيْسَ أَحَدٌ يَقْبَلُنَا، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بِنَا أَهْلَهُ، فَإِذَا ثَلَاثَةُ أَعْنُزٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا»، فَكُنَّا نَحْتَلِبُهُ، فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ، وَنَرْفَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ، فَيَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا، لَا يُوقِظُ النَّائِمَ وَيُسْمِعُ اليَقْظَانَ، ثُمَّ يَأْتِي المَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُهُ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2719

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت سلام کیا جب آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے اسی طرح روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت علقمہ بن فغواء، جابر، براء اور مہاجر بن قنفد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛ باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّسْلِيمِ عَلَى مَنْ يَبُولُ؛پیشاب کرتے ہوئے شخص کو سلام کرنے کی کراہت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠؛حدیث نمبر ٢٧٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي البَابِ عَنْ عَلْقَمَةَ ابْنِ الفَغْوَاءِ، وَجَابِرٍ، وَالبَرَاءِ، وَالمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2720

ابو تمیمہ اپنی قوم کے ایک فرد سے یہ بات نقل کرتے ہیں،وہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلاش میں نکلا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا تھا، مگر آپ تک پہنچ نہ سکا، میں بیٹھا رہا پھر کچھ لوگ سامنے آئے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے۔ میں آپ سے واقف نہ تھا، آپ ان لوگوں میں صلح صفائی کرا رہے تھے، جب آپ (اس کام سے) فارغ ہوئے تو آپ کے ساتھ کچھ دوسرے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! تو مجھے پتا چلا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جب میں نے (لوگوں کو) ایسا کہتے دیکھا تو میں نے کہا: ” «علیک السلام یا رسول اللہ» !“ (آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول) اور ایسا میں نے تین بار کہا، آپ نے فرمایا: ” «علیک السلام» مردے کے سلام کرنے کا طریقہ ہے“، آپ نے بھی ایسا تین بار کہا، پھر آپ میری طرف پوری طرح متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب آدمی اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ کہے «السلام علیکم ورحمة اللہ» پھر آپ نے میرے سلام کا جواب اس طرح لوٹایا، فرمایا: «وعلیک ورحمة اللہ وعلیک ورحمة اللہ وعلیک ورحمة اللہ» (تین بار)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوغفار نے یہ حدیث بسند «ابو تمیمہ الہجیمی عن ابی جری جابر بن سلیم الہجیمی» سے روایت کی ہے، ہجیمی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر آگے پوری حدیث بیان کر دی۔ ابو تمیمہ کا نام طریف بن مجالد ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ مُبْتَدِئًا؛بات چیت کی ابتداء «علیک السلام» سے کہہ کر مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١؛حدیث نمبر ٢٧٢١)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الهُجَيْمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ قَوْمِهِ قَالَ: طَلَبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ فَجَلَسْتُ، فَإِذَا نَفَرٌ هُوَ فِيهِمْ وَلَا أَعْرِفُهُ وَهُوَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ مَعَهُ بَعْضُهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَلَمَّا رَأَيْتُ [ص: ٧٢] ذَلِكَ قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ المَيِّتِ، إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ المَيِّتِ» ثَلَاثًا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: " إِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ أَخَاهُ المُسْلِمَ فَلْيَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ "، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ، اللَّهِ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ»: وَقَدْ رَوَى هَذَا الحَدِيثَ أَبُو غِفَارٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ الهُجَيْمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الحَدِيثَ " وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُهُ: طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2721

حضرت جابر بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پھر آپ سے عرض کیا: «علیک السلام» آپ پر سلامتی ہو تو آپ نے فرمایا: «علیک السلام» مت کہو بلکہ «السلام علیک» کہو اور آگے پورا لمبا قصہ بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ مُبْتَدِئًا؛بات چیت کی ابتداء «علیک السلام» سے کہہ کر مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢؛حدیث نمبر ٢٧٢٢)

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي غِفَارٍ المُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الهُجَيْمِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ فَقَالَ: " لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ قُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكَ «وَذَكَرَ قِصَّةً طَوِيلَةً وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2722

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب کوئی بات کہتے تو اسے تین بار دھراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ فائدہ: تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ مُبْتَدِئًا؛بات چیت کی ابتداء «علیک السلام» سے کہہ کر مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢؛حدیث نمبر ٢٧٢٣)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ ثَلَاثًا، وَإِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2723

ابوواقد لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، آپ کے ساتھ لوگ بھی بیٹھے تھے، اسی دوران اچانک تین آدمی آئے، ان میں سے دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ آئے، اور ایک واپس چلا گیا، جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر رکے تو انہوں نے سلام کیا، پھر ان دونوں میں سے ایک نے مجلس میں کچھ جگہ (گنجائش) دیکھی تو وہ اسی میں (گھس کر) بیٹھ گیا۔ اور دوسرا شخص ان لوگوں کے (یعنی صحابہ) کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا۔ اور تیسرا تو پیٹھ موڑے چلا ہی گیا تھا، پھر جب فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تینوں اشخاص کے متعلق نہ بتاؤں؟ (سنو) ان میں سے ایک نے اللہ کی پناہ حاصل کی تو اللہ نے اسے پناہ دی اور دوسرے نے شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور رہا تیسرا شخص تو اس نے اعراض کیا، چنانچہ اللہ نے بھی اس سے اعراض کیا، منہ پھیر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابو مرہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ان کا نام یزید ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ عقیل ابن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛. بَاب اجْلِسْ حَيْثُ انْتَهَى بِكَ الْمَجْلِسُ؛مجلس میں جہاں پہنچو وہیں بیٹھ جاؤ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣؛حدیث نمبر ٢٧٢٤)

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي المَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ، فَلَمَّا وَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَا، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا، وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، وَأَمَّا الآخَرُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَأَوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ: الحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ وَأَبُو مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ وَاسْمُهُ: يَزِيدُ وَيُقَالُ: مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2724

حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو جس کو جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث زہیر بن معاویہ نے سماک سے بھی روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛. بَاب اجْلِسْ حَيْثُ انْتَهَى بِكَ الْمَجْلِسُ؛مجلس میں جہاں پہنچو وہیں بیٹھ جاؤ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣؛حدیث نمبر ٢٧٢٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي»: [ص: ٧٤] «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ» وَقَدْ رَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، أَيْضًا

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2725

ابو اسحاق حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں،حالانکہ انہوں نے یہ حدیث ان سے نہیں سنی ہے: انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ”(یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھا نہیں ہے) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو، اور (بھولے بھٹکے ہوئے کو) راستہ بتا دیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ابوشریح خزاعی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْجَالِسِ عَلَى الطَّرِيقِ؛راستے میں بیٹھنے والے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٤؛حدیث نمبر ٢٧٢٦)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ البَرَاءِ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ: «إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَرُدُّوا السَّلَامَ، وَأَعِينُوا المَظْلُومَ، وَاهْدُوا السَّبِيلَ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي شُرَيْحٍ الخُزَاعِيِّ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2726

حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے ملتے اور (سلام) و مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ اور جدا ہونے سے پہلے انہیں بخش دیا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث حضرت براء سے متعدد سندوں سے بھی مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٤؛حدیث نمبر ٢٧٢٧)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ الأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا»: [ص: ٧٥] «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ البَرَاءِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ عَنِ البَرَاءِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَالْأَجْلَحُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ الكِنْدِيُّ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2727

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا آدمی اپنے بھائی سے یا اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے عرض : کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے کہا: پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے، آپ نے فرمایا: ”ہاں“ (بس اتنا ہی کافی ہے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٥؛حدیث نمبر ٢٧٢٨)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: «لَا»، قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ: «لَا»، قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2728

قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ کا رواج تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٥؛حدیث نمبر ٢٧٢٩)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: هَلْ كَانَتِ المُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَعَمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2729

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل سلام ( «السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ» کہنے کے ساتھ ساتھ) ہاتھ کو ہاتھ میں لینا یعنی (مصافحہ کرنا) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن سلیم کی روایت سے جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے محفوظ شمار نہیں کیا، اور کہا کہ میرے نزدیک یحییٰ بن سلیم نے سفیان کی وہ روایت مراد لی ہے جسے انہوں نے منصور سے روایت کی ہے، اور منصور نے خیثمہ سے اور خیثمہ نے اس سے جس نے حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ سے سنا ہے اور ابن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(بعد نماز عشاء) بات چیت اور قصہ گوئی نہیں کرنی چاہیئے، سوائے اس شخص کے جس کو ابھی کچھ دیر بعد نماز پڑھنی ہے یا سفر کرنا ہے، محمد کہتے ہیں: اور منصور سے مروی ہے انہوں نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن یزید سے یا ان کے سوا کسی اور سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: سلام کی تکمیل سے مراد ہاتھ پکڑنا (مصافحہ کرنا) ہے، ۳- اس باب میں حضرت براء اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٥؛حدیث نمبر ٢٧٣٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنْ تَمَامِ التَّحِيَّةِ الأَخْذُ بِاليَدِ». هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ. سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هَذَا الحَدِيثِ فَلَمْ يَعُدَّهُ مَحْفُوظًا، وقَالَ: إِنَّمَا أَرَادَ عِنْدِي حَدِيثَ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، [ص: ٧٦] عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ» قَالَ مُحَمَّدٌ وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ: «مِنْ تَمَامِ التَّحِيَّةِ الأَخْذُ بِاليَدِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2730

حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مریض کی مکمل عیادت یہ ہے کہ تم میں سے عیادت کرنے والا اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھے“، یا آپ نے یہ فرمایا: ”(راوی کو شبہ ہو گیا ہے) اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھے، پھر اس سے پوچھے کہ وہ کیسا ہے؟ اور تمہارے سلام کی تکمیل یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے مصافحہ کرو۔‌‌‌‏“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: عبیداللہ بن زحر ثقہ ہیں اور علی بن یزید ضعیف ہیں۔ ۳ - قاسم بن عبدالرحمٰن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے اور یہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ثقہ ہیں اور قاسم شامی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٦؛حدیث نمبر ٢٧٣١)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ القَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَمَامُ عِيَادَةِ المَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ - أَوْ قَالَ: عَلَى يَدِهِ - فَيَسْأَلُهُ كَيْفَ هُوَ، وَتَمَامُ تَحِيَّتِكُمْ بَيْنَكُمُ المُصَافَحَةُ ": «هَذَا إِسْنَادٌ لَيْسَ بِالقَوِيِّ» قَالَ مُحَمَّدٌ: «وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ثِقَةٌ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفٌ» وَالْقَاسِمُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَالقَاسِمُ شَامِيٌّ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2731

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ زید بن حارثہ مدینہ آئے (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، وہ آپ کے پاس آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، تو آپ ان کی طرف اوپری جسم پر کچھ اوڑھ کر ان کی طرف بڑھے،اپ اپنے تہبند کو کھینچ رہے تھے، اللہ کی قسم اس سے پہلے یا اس کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو(اوپر جسم پر)اوڑھے بغیر کسی سے ملتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ نے (بڑھ کر) انہیں گلے لگا لیا اور ان کا بوسہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُعَانَقَةِ وَالْقُبْلَةِ؛معانقہ (گلے ملنے) اور بوسہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٦؛حدیث نمبر ٢٧٣٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَدِينِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ المَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَأَتَاهُ فَقَرَعَ [ص: ٧٧] البَابَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ عُرْيَانًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ، فَاعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2732

حضرت صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے (موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا (۱) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ (۲) چوری نہ کرو (۳) زنا نہ کرو (۴) ناحق کسی کو قتل نہ کرو (۵) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے (۶) جادو نہ کرو (۷) سود مت کھاؤ (۸) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ (۹) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» (سنیچر) کے سلسلے میں حد سے آگے نہ بڑھو، (آپ کا جواب سن کر) انہوں نے آپ کے ہاتھ پیر چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تمہیں میری پیروی کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: حضرت داود علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نبی رہے۔ اس لیے ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کی اتباع (پیروی) کی تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت یزید بن اسود، ابن عمر اور کعب بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي قُبْلَةِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ؛ہاتھ پیر کا بوسہ لینا (کیسا ہے؟)؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٧؛حدیث نمبر ٢٧٣٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ فَقَالَ صَاحِبُهُ: لَا تَقُلْ نَبِيٌّ، إِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ. فَقَالَ لَهُمْ: «لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَقْذِفُوا مُحْصَنَةً، وَلَا تُوَلُّوا الفِرَارَ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً اليَهُودَ أَنْ لَا تَعْتَدُوا فِي السَّبْتِ»، قَالَ: فَقَبَّلُوا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ. فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ. قَالَ: «فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبِعُونِي»؟ قَالُوا: إِنَّ دَاوُدَ دَعَا رَبَّهُ أَنْ لَا يَزَالَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا اليَهُودُ [ص: ٧٨] وَفِي البَابِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ، وَابْنِ عُمَرَ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2733

حضرت ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ والے سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی۔ آپ اس وقت غسل فرما رہے تھے، اور حضرت فاطمہ رضی الله عنہا ایک کپڑے سے آپ کو آڑ کیے ہوئے تھیں۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا: ”کون ہیں یہ؟“ میں نے کہا: میں ام ہانی ہوں، آپ نے فرمایا: ”ام ہانی کا آنا مبارک ہو“۔ راوی کہتے ہیں پھر ابو مرہ نے حدیث کا پورا واقعہ بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي مَرْحَبًا؛مرحبا کہنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٨؛حدیث نمبر ٢٧٣٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئِ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ، تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ»؟ قُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ» قَالَ: «فَذَكَرَ فِي الحَدِيثِ قِصَّةً طَوِيلَةً هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2734

حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں(اسلام قبول کرنے کے لیے) آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر سوار کا آنا مبارک ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے۔ ہم اسے صرف موسیٰ بن مسعود کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں۔ موسیٰ بن مسعود حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے بھی یہ حدیث سفیان سے اور سفیان نے ابواسحاق سے مرسلاً روایت کی ہے۔ اور اس سند میں مصعب بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے اور یہی صحیح تر ہے، ۳- میں نے محمد بن بشار کو کہتے ہوئے سنا: موسیٰ بن مسعود حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۴- محمد بن بشار کہتے ہیں: میں نے موسیٰ بن مسعود سے بہت سی حدیثیں لیں، پھر میں نے ان سے حدیثیں لینی چھوڑ دی، ۵- اس باب میں حضرت بریدہ، ابن عباس اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي مَرْحَبًا؛مرحبا کہنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٨؛حدیث نمبر ٢٧٣٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جِئْتُهُ: «مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ المُهَاجِرِ» وَفِي البَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ: «هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ سُفْيَانَ وَمُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ضَعِيفٌ فِي الحَدِيثِ» [ص: ٧٩] وَرَوَى هَذَا الحَدِيثَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، «مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ وَهَذَا أَصَحُّ» سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ بَشَّارٍ، يَقُولُ: «مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ضَعِيفٌ فِي الحَدِيثِ» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: «وَكَتَبْتُ كَثِيرًا عَنْ مُوسَى بْنِ مَسْعُودٍ ثُمَّ تَرَكْتُهُ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2735

Tirmizi Shareef : Abwabul Isteezani Wal Adabi

|

Tirmizi Shareef : ابواب الاستئذان والادب

|

•