asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Isteezani Wal Adabi

From 2688 to 2700

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم (صحیح معنوں میں) مومن نہ بن جاؤ اور تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے (سچی) محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے (وہ یہ کہ) آپس میں سلام کو عام کرو (پھیلاؤ)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن سلام، شریح بن ہانی عن ابیہ، عبداللہ بن عمرو، براء، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛ باب مَا جَاءَ فِي إِفْشَاءِ السَّلاَمِ؛سلام کو عام کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١؛حدیث نمبر ٢٦٨٨)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا أَنْتُمْ فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالبَرَاءِ، وَأنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2688

حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السلام عليكم»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) دس نیکیاں ہیں“، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) بیس نیکیاں ہیں“، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) تیس نیکیاں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت علی، ابوسعید اور سہل بن حنیف سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛ باب مَا ذُكِرَ فِي فَضْلِ السَّلاَمِ؛سلام کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢؛حدیث نمبر ٢٦٨٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرِيرِيُّ الْبَلْخِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ [ص: ٥٣] الضُّبَعِيِّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَشْرٌ» ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عِشْرُونَ». ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثُونَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ» وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2689

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟حضرت عمر رضی الله عنہ نے (دل میں) کہا: ابھی تو ایک بار اجازت طلب کی ہے، تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟حضرت عمر رضی الله عنہ نے (دل میں) کہا: ابھی تو دو ہی بار اجازت طلب کی ہے۔ تھوڑی دیر (مزید) خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہا: «السلام عليكم» کیا مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت ہے؟حضرت عمر رضی الله عنہ نے (دل میں کہا) تین بار اجازت طلب کر چکے، پھر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ واپس ہو لیے، حضرت عمر رضی الله عنہ نے دربان سے کہا: ابوموسیٰ نے کیا کیا؟ اس نے کہا: لوٹ گئے۔ حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا انہیں بلا کر میرے پاس لاؤ، پھر جب وہ ان کے پاس آئے تو عمر رضی الله عنہ نے کہا: یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے سنت پر عمل کیا ہے، حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا سنت پر؟ قسم اللہ کی! تمہیں اس کے سنت ہونے پر دلیل و ثبوت پیش کرنا ہو گا ورنہ میں تمہارے ساتھ سخت برتاؤ کروں گا۔حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں: پھر وہ ہمارے پاس آئے، اس وقت ہم انصار کی ایک جماعت کے ساتھ تھے۔حضرت ابوموسیٰ اشعری نے کہا: اے انصار کی جماعت! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو دوسرے لوگوں سے زیادہ جاننے والے نہیں ہو، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: «الاستئذان ثلاث» (اجازت طلبی) تین بار ہے۔ اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو گھر میں جاؤ اور اگر اجازت نہ دی جائے تو لوٹ جاؤ؟ (یہ سن کر) لوگ ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے، حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں: میں نے اپنا سر حضرت ابوموسیٰ اشعری کی طرف اونچا کر کے کہا: اس سلسلے میں جو بھی سزا آپ کو ملے گی میں اس میں حصہ دار ہوں گا، راوی کہتے ہیں: پھر وہ (ابوسعید) عمر رضی الله عنہ کے پاس آئے، اور ان کو اس حدیث کی خبر دی، عمر نے کہا: مجھے اس حدیث کا علم نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور جریری کا نام سعید بن ایاس ہے اور ان کی کنیت ابومسعود ہے۔ یہ حدیث ان کے سوا اور لوگوں نے بھی ابونضرہ سے روایت کی ہے، اور ابونضرہ عبدی کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے، ۲- اس باب میں علی اور سعد کی آزاد کردہ لونڈی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثَةً؛کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢؛حدیث نمبر ٢٦٩٠)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ الجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ قَالَ عُمَرُ: وَاحِدَةٌ، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ قَالَ عُمَرُ: ثِنْتَانِ، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ عُمَرُ لِلْبَوَّابِ: مَا صَنَعَ؟ قَالَ: رَجَعَ، قَالَ: عَلَيَّ بِهِ، فَلَمَّا جَاءَهُ، قَالَ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: السُّنَّةُ، قَالَ: آلسُّنَّةُ؟ وَاللَّهِ لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبُرْهَانٍ أَوْ بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ، قَالَ: فَأَتَانَا وَنَحْنُ [ص: ٥٤] رُفْقَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ أَعْلَمَ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ، وَإِلَّا فَارْجِعْ» فَجَعَلَ القَوْمُ يُمَازِحُونَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ: فَمَا أَصَابَكَ فِي هَذَا مِنَ العُقُوبَةِ فَأَنَا شَرِيكُكَ. قَالَ: فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا كُنْتُ عَلِمْتُ بِهَذَا وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالجُرَيْرِيُّ اسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ يُكْنَى أَبَا مَسْعُودٍ، وَقَدْ رَوَى هَذَا غَيْرُهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، وَأَبُو نَضْرَةَ العَبْدِيُّ اسْمُهُ: المُنْذِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قُطْعَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2690

حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کی تین بار اجازت مانگی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزمیل کا نام سماک الحنفی ہے، ۳- میرے نزدیک عمر کو ابوموسیٰ کی اس بات پر اعتراض اور انکار اس وجہ سے تھا کہ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجازت تین بار طلب کی جائے، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ور نہ لوٹ جاؤ“۔ (رہ گیا حضرت عمر رضی الله عنہ کا اپنا معاملہ) تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اجازت طلب کی تھی تو انہیں اجازت مل گئی تھی، اس حدیث کی خبر انہیں نہیں تھی جسے ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”پھر اگر اندر جانے کی اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثَةً؛کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣؛حدیث نمبر ٢٦٩١)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، قَالَ: «اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لِي»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ: سِمَاكٌ الحَنَفِيُّ، وَإِنَّمَا أَنْكَرَ عُمَرُ عِنْدَنَا عَلَى أَبِي مُوسَى حَيْثُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِذَا أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ» [ص: ٥٥] وَقَدْ كَانَ عُمَرُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لَهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلِمَ هَذَا الَّذِي رَوَاهُ أَبُو مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2691

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں آیا (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ اس نے نماز پڑھی پھر آ کر آپ کو سلام عرض کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «وعليك» ”تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے اور عبیداللہ بن عمر نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے «عن أبيه عن أبي هريرة» کہا ہے، اس میں «فسلم عليه وقال وعليك» ”اس نے آپ کو سلام کیا اور آپ نے کہا تم پر بھی سلام ہو“ کا ذکر نہیں کیا، ۳- یحییٰ بن سعید کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ رَدُّ السَّلاَمِ؛سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤؛حدیث نمبر ٢٦٩٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ المَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ المَسْجِدِ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ» فَذَكَرَ الحَدِيثَ بِطُولِهِ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ، هَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَقَالَ: «وَعَلَيْكَ» وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَصَحُّ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2692

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بنی نمیر کے ایک شخص سے بھی روایت ہے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ۳- زہری نے بھی یہ حدیث ابوسلمہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ رَدُّ السَّلاَمِ؛سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥؛حدیث نمبر ٢٦٩٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ المُنْذِرِ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ»، قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ [ص: ٥٦] وَفِي البَابِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، أَيْضًا، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2693

حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے“۔ (وہ پہل کرے گا) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ؛سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦؛حدیث نمبر ٢٦٩٤)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلَانِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ؟ فَقَالَ: «أَوْلَاهُمَا بِاللَّهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» قَالَ مُحَمَّدٌ: «أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ مُقَارِبُ الحَدِيثِ إِلَّا أَنَّ ابْنَهُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2694

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے جو دوسروں کے ساتھ مشابہت اختیار کر لے، تم لوگ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو کیونکہ یہودیوں کا سلام انگلیوں کے اشارے کے ذریعے ہوتا ہے اور عیسائیوں کا سلام ہتھیلی کے اشارے کے ذریعے ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۲- ابن مبارک نے یہ حدیث ابن لھیعہ سے روایت کی ہے، اور اسے انہوں نے مرفوع نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ إِشَارَةِ الْيَدِ بِالسَّلاَمِ؛ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦؛حدیث نمبر ٢٦٩٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ [ص: ٥٧] تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا، لَا تَشَبَّهُوا بِاليَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَى، فَإِنَّ تَسْلِيمَ اليَهُودِ الإِشَارَةُ بِالأَصَابِعِ، وَتَسْلِيمَ النَّصَارَى الإِشَارَةُ بِالأَكُفِّ»: «هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» وَرَوَى ابْنُ المُبَارَكِ، هَذَا الحَدِيثَ عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ، «فَلَمْ يَرْفَعْهُ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2695

سیار سے مروی ہے کہ میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، ثابت نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں حضرت انس رضی الله عنہ کے ساتھ (جا رہا) تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا، پھر حضرت انس نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے ثابت سے روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث متعدد سندوں سے انس رضی الله عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛بچوں کو سلام کرنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧؛حدیث نمبر ٢٦٩٦)

حَدَّثَنَا أَبُو الخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ، فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ثَابِتٌ: كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ، فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ أَنَسٌ: «كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ثَابِتٍ، وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ» حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2696

حضرت اسماء بنت یزید رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، چنانچہ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالحمید (راوی) نے بھی ہاتھ سے اشارہ کیا (کہ اس طرح)، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: شہر بن حوشب کے واسطہ سے عبدالحمید بن بہرام کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: شہر حسن الحدیث ہیں اور ان کو روایت حدیث میں قوی بخاری کہتے ہیں: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: «إن شهرا نزكوه» کے واسطہ سے کہا: شہر کی شخصیت کو محدثین نے داغ دار بتایا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ نضر کہتے ہیں «نزكوه» کا مطلب یہ ہے کہ «طعنوا فيه» یعنی ان کی شخصیت کو داغ دار بتایا ہے، اور لوگوں نے ان پر جرح اس لیے کی ہے کہ وہ سلطان (حکومت) کے ملازم بن گئے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى النِّسَاءِ؛عورتوں کو سلام کرنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧؛حدیث نمبر ٢٦٩٧)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، أَنَّهُ سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ، تُحَدِّثُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي المَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ، فَأَلْوَى بِيَدِهِ بِالتَّسْلِيمِ» وَأَشَارَ عَبْدُ الحَمِيدِ بِيَدِهِ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: «لَا بَأْسَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ» وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: «شَهْرٌ حَسَنُ الحَدِيثِ وَقَوَّى أَمْرَهُ» وقَالَ: «إِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ عَوْنٍ» ثُمَّ رَوَى عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: «إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ النَّضْرُ: «نَزَكُوهُ أَيْ طَعَنُوا فِيهِ وَإِنَّمَا طَعَنُوا فِيهِ لِأَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَ السُّلْطَانِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2697

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کیا کرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے خیر و برکت کا باعث ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؛اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩؛حدیث نمبر ٢٦٩٨)

حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ البَصْرِيُّ الأَنْصَارِيُّ مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بُنَيَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُونُ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2698

حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کلام سے پہلے سلام کرو" ایک اور سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کسی کو کھانے پر نہ بلاؤ جب تک کہ وہ سلام نہ کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے ہم اس حدیث کو اس سند کے سوا کسی اور سند سے نہیں جانتے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عنبسہ بن عبدالرحمٰن حدیث بیان کرنے میں ضعیف اور بہکنے والے، اور محمد بن زاذان منکرالحدیث ہیں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي السَّلاَمِ قَبْلَ الْكَلاَمِ؛بات چیت سے پہلے سلام کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩؛حدیث نمبر ٢٦٩٩)

حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّلَامُ قَبْلَ الكَلَامِ» وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَدْعُوا أَحَدًا إِلَى الطَّعَامِ حَتَّى يُسَلِّمَ»: [ص: ٦٠] «هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ» سَمِعْتُ مُحَمَّدًا، يَقُولُ: «عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعِيفٌ فِي الحَدِيثِ ذَاهِبٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ مُنْكَرُ الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2699

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تمہاری ان کے کسی فرد سے راستے میں ملاقات ہو جائے تو اسے تنگ راستے سے ہی جانے پر مجبور کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ؛ذمیوں سے سلام کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠؛حدیث نمبر ٢٧٠٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبْدَأُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Isteezani Wal Adabi , Hadees No. 2700

Tirmizi Shareef : Abwabul Isteezani Wal Adabi

|

Tirmizi Shareef : ابواب الاستئذان والادب

|

•