
حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال اس طرح دی ہے، اس صراط مستقیم کے دونوں جانب دیواریں ہیں، ان گھروں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، دروازوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں، ایک پکارنے والا اس راستے کے سرے پر کھڑا پکار رہا ہے، اور دوسرا پکارنے والا اوپر سے پکار رہا ہے، (پھر آپ نے یہ آیت پڑھی) «والله يدعوا إلى دار السلام ويهدي من يشاء إلى صراط مستقيم» ”اللہ تعالیٰ دارالسلام (جنت کی طرف) بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ”صراط مستقیم“ کی ہدایت دیتا ہے“،(یونس٢٥) تو وہ دروازے جو صراط مستقیم کے دونوں جانب ہیں وہ حدود اللہ ہیں تو کوئی شخص جب تک پردہ کھول نہ دیا جائے، حدود اللہ میں داخل نہیں ہو سکتا اور اوپر سے پکارنے والا اس کے رب کی طرف سے وعظ و نصیحت کرنے والا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن کو سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے زکریا بن عدی کو سنا وہ کہتے تھے کہ ابواسحاق فزاری نے کہا: بقیہ (راوی) تم سے جو ثقہ راویوں کے ذریعہ روایت کریں اسے لے لو اور اسماعیل بن عیاش کی روایت نہ لو خواہ وہ ثقہ سے روایت کریں یا غیر ثقہ سے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ اللَّهِ لِعِبَادِهِ؛اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٤؛حدیث نمبر ٢٨٥٩)
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے پاس تشریف فرما ہوےاور فرمایا: ”میں نے خواب دیکھا ہے کہ جبرائیل میرے سر کے پاس ہیں اور میکائیل میرے پیروں کے پاس، ان دونوں میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کہہ رہا تھا: ان کی کوئی مثال پیش کرو، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ سنیں، آپ کے کان ہمیشہ سنتے رہیں، آپ سمجھیں، آپ کا دل عقل (سمجھ، علم و حکمت) سے بھرا رہے۔ آپ کی مثال اور آپ کی امت کی مثال ایک ایسے بادشاہ کی ہے جس نے ایک شہر آباد کیا، اس شہر میں ایک گھر بنایا پھر ایک دستر خوان بچھایا، پھر قاصد کو بھیج کر لوگوں کو کھانے پر بلایا، تو کچھ لوگوں نے اس کی دعوت قبول کر لی اور کچھ لوگوں نے بلانے والے کی دعوت ٹھکرا دی (کچھ پرواہ ہی نہ کی) اس مثال میں یہ سمجھو کہ اللہ بادشاہ ہے، اور ”دار“ سے مراد اسلام ہے اور ”بیت“ سے مراد جنت ہے اور آپ اے محمد! رسول و قاصد ہیں۔ جس نے آپ کی دعوت قبول کر لی وہ اسلام میں داخل ہو گیا اور جو اسلام میں داخل ہو گیا وہ جنت میں داخل ہو گیا تو اس نے وہ سب کچھ کھایا جو جنت میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور وہ سندیں اس حدیث کی سند سے زیادہ صحیح ہیں، ۲- یہ مرسل حدیث ہے (یعنی منقطع ہے) ۳- سعید بن ابی ہلال نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم کو نہیں پایا ہے، ۴- اس باب میں حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے (جو آگے آ رہی ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ اللَّهِ لِعِبَادِهِ؛اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٤؛حدیث نمبر ٢٨٦٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز ادا کی۔نماز پڑھ کے فارغ ہوے تو حضرت عبداللہ بن مسعود کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور انہیں ساتھ لیے ہوئے مکہ کی پتھریلی زمین کی طرف نکل گئے (وہاں) انہیں (ایک جگہ) بٹھا دیا۔ پھر ان کے چاروں طرف لکیریں کھینچ دیں، اور ان سے کہا: ”ان لکیروں سے باہر نکل کر ہرگز نہ جانا۔ تمہارے قریب بہت سے لوگ آ کر رکیں گے لیکن تم ان سے بات نہ کرنا، اور وہ خود بھی تم سے بات نہ کریں گے“۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جانا چاہتے تھے وہاں چلے گئے، اسی دوران کہ میں اپنے دائرہ کے اندر بیٹھا ہوا تھا کچھ لوگ میرے پاس آئے بھاری بھرکم لگ رہے تھے، ان کے بال اور جسم نہ مجھے ننگے دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہی (ان کے جسموں پر مجھے) لباس نظر آ رہا تھا، وہ میرے پاس آ کر رک جاتے اور لکیر کو پار نہ کرتے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نکل جاتے، یہاں تک کہ جب رات ختم ہونے کو آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”رات ہی سے اپنے آپ کو دیکھتا ہوں (یعنی میں سو نہ سکا) پھر آپ دائرے کے اندر داخل ہو کر میرے پاس آئے۔ اور میری ران کا تکیہ بنا کر سو گئے، آپ سونے میں خراٹے لینے لگتے تھے، تو اسی دوران کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور آپ میری ران کا تکیہ بنائے ہوئے سو رہے تھے۔ یکایک میں نے اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے درمیان پایا جن کے کپڑے سفید تھے، اللہ خوب جانتا ہے کہ انہیں کس قدر خوبصورتی حاصل تھی۔ وہ لوگ میرے پاس آ کر رک گئے، ان میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے بیٹھ گئے اور کچھ لوگ آپ کے پائتانے، پھر ان لوگوں نے آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہا: ہم نے کسی بندے کو کبھی نہیں دیکھا جسے اتنا ملا ہو جتنا اس نبی کو عطاء ہوا ہے۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور ان کا دل بیدار رہتا ہے۔ ان کے لیے کوئی مثال پیش کرو (پھر انہوں نے کہا ان کی مثال) ایک سردار کی مثال ہے جس نے ایک محل بنایا، پھر ایک دستر خوان بچھایا اور لوگوں کو اپنے دستر خوان پر کھانے پینے کے لیے بلایا، تو جس نے ان کی دعوت قبول کر لی وہ ان کے کھانے پینے سے فیض یاب ہوا۔ اور جس نے ان کی دعوت قبول نہ کی وہ (سردار) اسے سزا دے گا پھر وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ اور ان کے جاتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”سنا، کیا کہا انہوں نے؟ اور یہ کون لوگ تھے؟ میں نے کہا: اللہ اور اللہ کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے۔ تم سمجھتے ہو انہوں نے کیا مثال دی ہے؟“ میں نے (پھر) کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”انہوں نے جو مثال دی ہے وہ ہے رحمن (اللہ) تبارک و تعالیٰ کی، رحمن نے جنت بنائی، اور اپنے بندوں کو جنت کی دعوت دی۔ تو جس نے دعوت قبول کر لی وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جو اس کی دعوت نہ قبول کرے گا وہ اسے عذاب و عقاب سے دوچار کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابو تمیمہ: ہجیمی ہیں اور ان کا نام طریف بن مجالد ہے، ۳- ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، ۴- سلیمان تیمی جن سے یہ حدیث معتمر نے روایت کی ہے وہ سلیمان بن طرخان ہیں، وہ اصلاً تیمی نہ تھے، لیکن وہ بنی تیم میں آیا جایا کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ تیمی مشہور ہو گئے۔ علی ابن المدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کہتے تھے: میں نے سلیمان تیمی سے زیادہ کسی کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں دیکھا۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ اللَّهِ لِعِبَادِهِ؛اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٥؛حدیث نمبر ٢٨٦١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال، اس شخص کی طرح ہے جس نے گھر بنایا، گھر کو مکمل کیا اور اسے خوبصورت بنایا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے۔ لوگ اس گھر میں آنے لگے اور اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے، اور کہنے لگے: کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ (بھی) خالی نہ ہوتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابی بن کعب اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَنْبِيَاءِ قَبْلَهُ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور آپ سے پہلے کے انبیاء کی مثال؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٧؛حدیث نمبر ٢٨٦٢)
حضرت حارث اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں۔انہوں نے اس حکم کی تعمیل میں تاخیر کی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ تم خود ان پر عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی حکم دو کہ وہ بھی اس پر عمل کریں، یا تو تم ان کو حکم دو یا پھر میں ان کو حکم دیتا ہوں۔ یحییٰ نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ اگر آپ نے ان امور پر مجھ سے سبقت کی تو میں زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں یا عذاب میں مبتلا نہ کر دیا جاؤں، پھر انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا، مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ لوگ کنگوروں پر بھی جا بیٹھے، پھر انہوں نے کہا: اللہ نے ہمیں پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں خود بھی ان پر عمل کروں اور تمہیں حکم دوں کہ تم بھی ان پر عمل کرو۔ پہلی چیز یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور اس شخص کی مثال جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس آدمی کی ہے جس نے ایک غلام خالص اپنے مال سے سونا یا چاندی دے کر خریدا، اور (اس سے) کہا: یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا پیشہ (روز گار) ہے تو تم کام کرو اور منافع مجھے دو، سو وہ کام کرتا ہے اور نفع اپنے مالک کے سوا کسی اور کو دیتا ہے، تو بھلا کون شخص یہ پسند کر سکتا ہے کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، ۲- اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز کا حکم دیا ہے تو جب تم نماز پڑھو تو ادھر ادھر نہ دیکھو۔ کیونکہ اللہ اپنا چہرہ نماز پڑھتے ہوئے بندے کے چہرے کی طرف رکھتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے، ۳- اور تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اور اس کی مثال اس آدمی کی ہے جو ایک جماعت کے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ ایک تھیلی ہے جس میں مشک ہے اور ہر ایک کو اس کی خوشبو بھاتی ہے۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے، ۴- اور تمہیں صدقہ و زکاۃ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی ہے جسے دشمن نے قیدی بنا لیا ہے اور اس کے ہاتھ اس کے گردن سے ملا کر باندھ دیئے ہیں، اور اسے لے کر چلے تاکہ اس کی گردن اڑا دیں تو اس (قیدی) نے کہا کہ میرے پاس تھوڑا زیادہ جو کچھ مال ہے میں تمہیں فدیہ دے کر اپنے کو چھڑا لینا چاہتا ہوں، پھر انہیں فدیہ دے کر اپنے کو آزاد کرا لیا۔ ۵- اور اس نے حکم دیا ہے کہ تم اللہ کا ذکر کرو۔ اس کی مثال اس آدمی کی مثال ہے جس کا پیچھا دشمن تیزی سے کرے اور وہ ایک مضبوط قلعہ میں پہنچ کر اپنی جان کو ان (دشمنوں) سے بچا لے۔ ایسے ہی بندہ (انسان) اپنے کو شیطان (کے شر) سے اللہ کے ذکر کے بغیر نہیں بچا سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے (۱) بات سننا (۲) (سننے کے بعد) اطاعت کرنا (۳) جہاد کرنا (۴) ہجرت کرنا (۵) جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا (علیحدہ ہوا) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا۔ مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آ جائے۔ اور جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا تو وہ جہنم کے ایندھنوں میں سے ایک ایندھن ہے۔ (یہ سن کر) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔ تو تم اللہ کے بندو! اس اللہ کے پکار کی دعوت دو جس نے تمہارا نام مسلم و مومن رکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: حارث اشعری صحابی ہیں اور اس حدیث کے علاوہ بھی ان سے حدیثیں مروی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ الصَّلاَةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ؛صوم و صلاۃ اور صدقہ (زکاۃ) کی مثال کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٨؛حدیث نمبر ٢٨٦٣)
ایک اور سند سے بھی حضرت حارث اشعری رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح اسی کی ہم معنی حدیث روایت مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۲- ابوسلام حبشی کا نام ممطور ہے، ۳- اس حدیث کو علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ الصَّلاَةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ؛صوم و صلاۃ اور صدقہ (زکاۃ) کی مثال کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٨؛حدیث نمبر ٢٨٦٤)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ناشپاتی کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ و مزہ بھی اچھا ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی سی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہے اور مزہ میٹھا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبودار پودے کی ہے جس کی بو، مہک تو اچھی ہے مزہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے اندرائن (حنظل) (ایک کڑوا پھل) کی طرح ہے جس کی بو بھی اچھی نہیں اور مزہ بھی اچھا نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ نے قتادہ سے بھی روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ الْمُؤْمِنِ الْقَارِئِ لِلْقُرْآنِ وَغَيْرِ الْقَارِئِ؛قرآن پڑھنے والے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٠؛حدیث نمبر ٢٨٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں (ادھر ادھر) ہلاتی رہتی ہیں۔ (ایسا ہی مومن ہے) مومن پر بلائیں برابر آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی ہے، وہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں جب تک کہ کاٹ نہ دیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ الْمُؤْمِنِ الْقَارِئِ لِلْقُرْآنِ وَغَيْرِ الْقَارِئِ؛قرآن پڑھنے والے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٠؛حدیث نمبر ٢٨٦٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتا نہیں جھڑتا، یہ مومن کی مثال ہے تو مجھے بتاؤ یہ کون سا درخت ہے؟حضرت عبداللہ کہتے ہیں: لوگ اسے جنگلوں کے درختوں میں ڈھونڈنے لگے، اور میرے دل میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھجور ہے“، مجھے شرم آ گئی کہ میں (چھوٹا ہو کر بڑوں کے سامنے) بولوں (جب کہ لوگ خاموش ہیں) پھر میں نے (اپنے والد) حضرت عمر رضی الله عنہ کو وہ بات بتائی جو میرے دل میں آئی تھی، تو انہوں نے کہا (میرے بیٹے) اگر تم نے یہ بات بتا دی ہوتی تو یہ چیز مجھے اس سے زیادہ عزیز و محبوب ہوتی کہ میرے پاس اس اس طرح کا مال اور یہ یہ چیزیں ہوتیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ الْمُؤْمِنِ الْقَارِئِ لِلْقُرْآنِ وَغَيْرِ الْقَارِئِ؛قرآن پڑھنے والے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥١؛حدیث نمبر ٢٨٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتاؤ تو صحیح، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس نہر میں ہر دن پانچ بار نہائے تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل رہے گا؟ صحابہ نے کہا: اس کے جسم پر تھوڑا بھی میل نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: ”یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی، ان نمازوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتیبہ کہتے ہیں: ہم سے بکر بن مضر قرشی نے ابن الہاد کے واسطہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ۳- اس باب میں حضرت جابر سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛پانچوں نمازوں کی مثال؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥١؛حدیث نمبر ٢٨٦٨)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی مثال بارش کی ہے، جس میں یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ اس کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر تھا یا آخری حصہ زیادہ بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت عمار، عبداللہ بن عمرو اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت ہے کہ وہ حماد بن یحییٰ الابح کی تائید و تصدیق کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارے اساتذہ میں سے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٢؛حدیث نمبر ٢٨٦٩)
حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کنکریاں پھینکتے ہوئے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ امید (زندگی) ہے اور یہ اجل (موت) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ ابْنِ آدَمَ وَأَجَلِهِ وَأَمَلِهِ؛آدمی کی موت اور آرزو کی مثال؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٢؛حدیث نمبر ٢٨٧٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے مقابلے میں تمہاری عمر کی مثال اس طرح ہے جیسے عصر سے لے کر سورج غروب ہونے کا وقت ہے، تمہاری مثال اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کئی مزدور رکھے۔ اس نے کہا: میرے یہاں کون فی کس ایک قیراط پر دوپہر تک کام کرتا ہے؟ تو یہود نے ایک ایک قیراط پر کام کیا، پھر اس نے کہا: میرے یہاں کون مزدوری کرتا ہے دوپہر سے عصر تک فی کس ایک ایک قیراط پر؟ تو نصاریٰ نے ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم (مسلمان) کام کرتے ہو عصر سے سورج ڈوبنے تک فی کس دو دو قیراط پر۔ (یہ دیکھ کر) یہود و نصاریٰ غصہ ہو گئے، انہوں نے کہا: ہمارا کام زیادہ ہے اور مزدوری تھوڑی ہے؟، اللہ نے فرمایا: کیا تمہارا حق کچھ کم کر کے میں نے تم پر ظلم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو اس نے کہا: یہ میرا فضل و انعام ہے میں جسے چاہوں دوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ ابْنِ آدَمَ وَأَجَلِهِ وَأَمَلِهِ؛آدمی کی موت اور آرزو کی مثال؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٣؛حدیث نمبر ٢٨٧١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی طرح ہے، جن میں آدمی کو ایک بھی سواری کے قابل نہیں پاتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ ابْنِ آدَمَ وَأَجَلِهِ وَأَمَلِهِ؛آدمی کی موت اور آرزو کی مثال؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٣؛حدیث نمبر ٢٨٧٢)
سفیان بن عیینہ، زہری سے اسی سند سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور انہوں نے کہا: تم ان میں ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ گے، یا یہ کہا: تم ان میں سے صرف ایک سواری کے قابل پا سکو گے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ ابْنِ آدَمَ وَأَجَلِهِ وَأَمَلِهِ؛آدمی کی موت اور آرزو کی مثال؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٣؛حدیث نمبر ٢٨٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اور میری امت کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے آگ جلائی تو مکھیاں اور پتنگے اس میں پڑنے لگے (یہی حال تمہارا اور ہمارا ہے) میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں بچا رہا ہوں اور تم اس پر گرنے کی کوشش کر رہے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛أمثال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ ابْنِ آدَمَ وَأَجَلِهِ وَأَمَلِهِ؛آدمی کی موت اور آرزو کی مثال؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٤؛حدیث نمبر ٢٨٧٤)
Tirmizi Shareef : Abawabul Amsaal
|
Tirmizi Shareef : ابواب الامثال
|
•