
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اے ابی (سنو) وہ (آواز سن کر) متوجہ ہوئے لیکن جواب نہ دیا، نماز جلدی جلدی پوری کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: السلام علیک یا رسول اللہ! (اللہ کے رسول آپ پر سلامتی ہو)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وعلیک السلام (تم پر بھی سلامتی ہو) ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو تم میرے پاس کیوں نہ حاضر ہوئے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”(اب تک) جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں تجھے کیا یہ آیت نہیں ملی.(ترجمہ)«" جب اللہ تعالی اور اس کا رسول تمہیں بلائے تو تم انہیں جواب دو“ (انفال ۲۴)، انہوں نے کہا: جی ہاں، اور آئندہ إن شاء اللہ ایسی بات نہ ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں ایسی سورت سکھاؤں جیسی سورت نہ تو رات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں اس کی مانند سورہ نازل ہوئی؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! (ضرور سکھائیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں تم (قرآن) کیسے پڑھتے ہو؟“ تو انہوں نے ام القرآن (سورۃ فاتحہ) پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تورات میں، انجیل میں، زبور میں (حتیٰ کہ) قرآن اس جیسی سورت نازل نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبع مثانی (سات آیتیں) ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس بن مالک اور ابوسعید بن معلی رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ منه؛سورۃ فاتحہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٥؛حدیث نمبر ٢٨٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانا کی جس میں کئی افراد تھے آپ نے ان سے دریافت کیا ان میں سے کس کو کتنا قرآن پاک آتا ہے، تو ان میں سے ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا تو آپ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ تم ان سب کے امیر ہو“۔ ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے سورۃ البقرہ صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے (نماز تہجد میں) برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر کر سیل بند کر دی گئی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو لیث بن سعد نے سعید مقبری سے، اور سعید نے ابواحمد کے آزاد کردہ غلام عطا سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس روایت میں حضرت ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا۔۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٦؛حدیث نمبر ٢٨٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ وہ گھر جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٧؛حدیث نمبر ٢٨٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک کوہان(ریڑھ کی ہڈی یا بلندی) ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورۃ البقرہ ہے، اس سورۃ میں ایک آیت ہے یہ قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے اور یہ آیت آیۃ الکرسی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حکیم بن جبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- حکیم بن جبیر کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے اور انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٧؛حدیث نمبر ٢٨٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورہ مومن کی (ابتدائی تین آیات) «حم» سے «إليه المصير» تک اور آیت الکرسی صبح ہی صبح (بیدار ہونے کے بعد ہی) پڑھی تو ان دونوں کے ذریعہ شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی، اور جس نے ان دونوں کو شام ہوتے ہی پڑھا تو ان کے ذریعہ اس کی صبح ہونے تک حفاظت کی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے حافظے کے سلسلے میں کلام کیا ہے، ۳- زرارہ بن مصعب کا پورا نام زرارہ بن مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوف ہے، اور وہ ابومصعب مدنی کے دادا ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٧؛حدیث نمبر ٢٨٧٩)
حضرت ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کا اپنا ایک احاطہ تھا اس میں کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ جن آتا تھا اور اس میں سے اٹھا لے جاتا تھا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ جب دیکھو کہ وہ آیا ہوا ہے تو کہو: بسم اللہ (اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دو“، حضرت ابوذر رضی الله عنہ نے اسے پکڑ لیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو، دوبارہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا، چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا، ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟!“ انہوں نے کہا: اس نے قسمیں کھائیں کہ اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ کہا: وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے“، راوی کہتے ہیں: انہوں نے اسے دوبارہ پکڑا، اس نے پھر قسمیں کھائیں کہ اسے چھوڑ دو، وہ دوبارہ نہ آئے گا تو انہوں نے اسے (دوبارہ) چھوڑ دیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا: ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ انہوں نے کہا: اس نے قسم کھائی کہ وہ پھر لوٹ کر نہ آئے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ کہا، وہ تو جھوٹ بولنے کا عادی ہے“۔ (پھر جب وہ آیا) تو انہوں نے اسے پکڑ لیا، اور کہا: اب تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایک چیز یعنی آیت الکرسی بتا رہا ہوں۔ تم اسے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرو۔ تمہارے قریب شیطان نہ آئے گا اور نہ ہی کوئی اور آئے گا“، پھر حضرت ابوذر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ تو انہوں نے آپ کو وہ سب کچھ بتایا جو اس نے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے بات تو صحیح کہی ہے، لیکن وہ ہے پکا جھوٹا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٩؛حدیث نمبر ٢٨٨٠)
حضرت ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رات میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہو گئیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ کی آخری آیات کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٩؛حدیث نمبر ٢٨٨١)
حضرت نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک تحریر لکھی، جس میں دو آیتیں نازل کیں اور انہیں دونوں آیتوں پر سورۃ البقرہ کو ختم کیا، جس گھر میں یہ دونوں آیتیں (مسلسل) تین راتیں پڑھی جائیں گی ممکن نہیں ہے کہ شیطان اس گھر کے قریب آ سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ کی آخری آیات کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٥٩؛حدیث نمبر ٢٨٨٢)
حضرت نواس بن سمعان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن)قرآن اور اسے پڑھنے والے لوگ جو دنیا میں اس پر عمل کرتے ہوں گے،دونوں آئیں گے ان کی پیشوائی سورۃ البقرہ اور آل عمران کریں گی“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں دیں، اس کے بعد پھر میں ان سورتوں کو نہ بھولا۔ آپ نے فرمایا: ”گویا کہ وہ دونوں چھتریاں ہیں،جن کے درمیان روشنی موجود ہے، یا گویا کہ وہ دونوں کالی بدلیاں ہیں، یا گویا کہ وہ صف بستہ چڑیوں کا سائبان ہیں، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کی شفاعت کریں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت بریدہ اور ابوامامہ سے بھی روایت ہے، ۳- اس حدیث کا بعض اہل علم کے نزدیک معنی و مفہوم یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا۔ اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث کی بعض اہل علم نے یہی تفسیر کی ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا، حضرت نواس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، مفسرین کی اس تفسیر کی دلیل اور اس کا ثبوت ملتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول «وأهله الذين يعملون به في الدنيا» میں اشارہ ہے کہ قرآن کے آنے سے مراد ان کے اعمال کا ثواب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٠؛حدیث نمبر ٢٨٨٣)
حضرت سفیان بن عیینہ سے روایت ہے، وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اس حدیث «ما خلق الله من سماء ولا أرض أعظم من آية الكرسي»( اللہ تعالی نے اسمان اور زمین میں ایت الکرسی سے بڑی کوئی چیز پیدا نہیں کی)کی تشریح میں کہتے ہیں: آیت الکرسی کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق یعنی آسمان و زمین سے بڑھ کر ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦١؛حدیث نمبر ٢٨٨٤)
حضرت براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سورۃ الکہف پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران اس نے اپنے چوپائے (سواری) کو دیکھا کہ وہ اچھل کود کرنے لگا۔ اس نے نظر (ادھر ادھر) دوڑائی تو اسے ایک بدلی سی نظر آئی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس (واقعہ) کا آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سکینت (طمانینت) تھی جو قرآن کی وجہ سے یا قرآن پڑھنے پر نازل ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت اسید بن حضیر سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ؛سورۃ الکہف کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦١؛حدیث نمبر ٢٨٨٥)
حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی تین آیات پڑھیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ؛سورۃ الکہف کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٢؛حدیث نمبر ٢٨٨٦)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا“۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ۳- اس باب میں حضرت ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ يس؛سورۃ یاسین کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٢؛حدیث نمبر ٢٨٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ حم الدُّخَانِ؛سورۃ الدخان کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٣؛حدیث نمبر ٢٨٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کی رات میں «حم الدخان» پڑھے گا اسے بخش دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ہشام ابوالمقدام ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، ۳- حسن بصری نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید نے ایسا ہی کہا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ حم الدُّخَانِ؛سورۃ الدخان کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٣؛حدیث نمبر ٢٨٨٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، (انہوں نے آواز سنی) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ آپ نے فرمایا: «هي المانعة» ”یہ سورۃ مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْمُلْكِ؛سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٤؛حدیث نمبر ٢٨٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کی تیس آیتوں کی ایک سورۃ نے ایک آدمی کی شفاعت کرے گی تو اسے بخش دیا جائے گا،یہ سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْمُلْكِ؛سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٤؛حدیث نمبر ٢٨٩١)
حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک آپ سورہ «الم تنزيل» اور «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو کئی ایک رواۃ نے لیث بن ابی سلیم سے اسی طرح روایت کیا ہے، ۲- مغیرہ بن مسلم نے ابوزبیر سے، اور ابوزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- زہیر روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں نے ابوزبیر سے کہا: آپ نے حضرت جابر سے سنا ہے، تو انہوں نے یہی حدیث بیان کی؟ ابوالزبیر نے کہا: مجھے صفوان یا ابن صفوان نے اس کی خبر دی ہے۔ تو زہیر نے ابوالزبیر سے حضرت جابر کے واسطہ سے اس حدیث کی روایت کا انکار کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم سے ہناد نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا اور ابوالاحوص نے لیث سے، لیث نے ابوزبیر سے اور ابوزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ بیان کیا ہم سے ہریم بن مسعر نے، وہ کہتے ہیں کہ بیان کیا ہم سے فضیل نے، اور فضیل نے لیث کے واسطہ سے طاؤس سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ دونوں سورتیں «الم تنزیل» اور «تبارک الذی بیدہ الملک» قرآن کی ہر سورت پر ستر نیکیوں کے بقدر فضیلت رکھتی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْمُلْكِ؛سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٥؛حدیث نمبر ٢٨٩٢)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ «إذا زلزلت الأرض» سورۃ پڑھی تو اسے آدھا قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورۃ «قل يا أيها الكافرون» پڑھی تو اسے چوتھائی قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورۃ «قل هو الله أحد» پڑھی تو اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف انہیں حسن بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِذَا زُلْزِلَتْ؛سورۃ اذا زلزلت کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٥؛حدیث نمبر ٢٨٩٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إذا زلزلت» (ثواب میں) آدھے قرآن کے برابر ہے، اور «قل هو الله أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قل يا أيها الكافرون» چوتھائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یمان بن مغیرہ کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِذَا زُلْزِلَتْ؛سورۃ اذا زلزلت کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٦؛حدیث نمبر ٢٨٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے شادی کر لی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! اللہ کے رسول! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کر سکوں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «قل هو الله أحد» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا: ”سورۃ «قل هو الله أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا جاء نصر الله والفتح» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، (ہے) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک چوتھائی قرآن ہے“، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «قل يا أيها الكافرون» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ (ہے) آپ نے فرمایا: ”(یہ) چوتھائی قرآن ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا زلزلت الأرض» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں (ہے) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک چوتھائی قرآن ہے“، آپ نے فرمایا: ”تم شادی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِذَا زُلْزِلَتْ؛سورۃ اذا زلزلت کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٦؛حدیث نمبر ٢٨٩٥)
حضرت ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ رات کے وقت ایک تہائی قرآن پاک کیوں نہیں پڑھتے؟ (آپ نے فرمایا) جس نے «الله الواحد الصمد» پڑھا (یعنی سورۃ الاخلاص پڑھی) اس نے تہائی قرآن پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے زائدہ کی روایت سے بہتر اسے روایت کیا ہو، اور ان کی روایت پر ان کی متابعت اسرائیل، فضیل بن عیاض نے کی ہے۔ شعبہ اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے یہ حدیث منصور سے روایت کی ہے اور ان سبھوں نے اس میں اضطراب کا سے کام لیا، ۳- اس باب میں حضرت ابوالدرداء، ابو سعید خدری، قتادہ بن نعمان، ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الإِخْلاَصِ؛سورۃ الاخلاص «قل هو الله أحد» کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٧؛حدیث نمبر ٢٨٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرہا تھا، آپ نے وہاں ایک آدمی کو «قل هو الله أحد الله الصمد» پڑھتے ہوئے سنا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“۔ میں نے کہا: کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ نے فرمایا: ”جنت (واجب ہو گئی)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف مالک بن انس کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الإِخْلاَصِ؛سورۃ الاخلاص «قل هو الله أحد» کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٧؛حدیث نمبر ٢٨٩٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر دن دو سو مرتبہ «قل هو الله أحد» پڑھے گا تو قرض کے سوا اس کے پچاس سال تک کے گناہ مٹا دیئے جائیں گے“۔ حضرت انس رضی الله عنہ سے اسی سند سے (یہ بھی) مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے اور دائیں کروٹ پر لیٹ جائے پھر سو مرتبہ «قل هو الله أحد» پڑھے تو جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے کہے گا تو اپنی داہنی جانب سے جنت میں داخل ہو جا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ثابت کی روایت سے جسے وہ حضرت انس سے روایت کرتے ہیں غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ بھی دوسری سند سے ثابت سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الإِخْلاَصِ؛سورۃ الاخلاص «قل هو الله أحد» کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٨؛حدیث نمبر ٢٨٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الإِخْلاَصِ؛سورۃ الاخلاص «قل هو الله أحد» کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٨؛حدیث نمبر ٢٨٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ میں تمہارے سامنے ایک تہائی قرآن پاک کی تلاوت کروں گا“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پکار پر جو بھی پہنچ سکا جمع ہو گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، سورۃ «قل هو الله أحد» پڑھی اور (حجرہ شریفہ میں) واپس چلے گئے۔ تو لوگوں نے اس بارے میں ایک دوسرے سے کچھ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عنقریب تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا، میرا خیال یہ ہے کہ ایسا اس وجہ سے ہوا ہے کہ آسمان سے کوئی خبر (کوئی اطلاع) آ گئی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کمرے سے باہر نکلے اور فرمایا: ”میں نے کہا تھا میں تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا تو سن لو یہ سورۃ «قل هو الله أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الإِخْلاَصِ؛سورۃ الاخلاص «قل هو الله أحد» کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٨؛حدیث نمبر ٢٩٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسجد قباء میں ایک انصاری صحابی لوگوں کی امامت کرتا تھا، اور اس کی عادت یہ تھی کہ جب بھی وہ ارادہ کرتا کہ کوئی سورت نماز میں پڑھے تو اسے پڑھتا لیکن اس سورت سے پہلے «قل هو الله أحد» پوری پڑھتا، پھر اس کے ساتھ دوسری سورت پڑھتا، اور وہ یہ عمل ہر رکعت میں کرتا تھا۔ تو اس کے ساتھیوں (نمازیوں) نے اس سے (اس موضوع پر) بات کی، انہوں نے کہا: آپ یہ سورت پڑھتے ہیں پھر آپ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو آپ کے لیے کافی نہیں ہے یہاں تک کہ دوسری سورت (بھی) پڑھتے ہیں، تو آپ یا تو صرف اسے پڑھیں، یا اسے چھوڑ دیں اور کوئی دوسری سورت پڑھیں، تو انہوں نے کہا: میں اسے چھوڑنے والا نہیں، اگر آپ لوگ پسند کریں کہ میں اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ امامت کروں تو امامت کروں گا اور اگر آپ لوگ اس کے ساتھ امامت کرنا پسند نہیں کرتے تو میں آپ لوگوں (کی امامت) کو چھوڑ دوں گا۔ اور لوگوں کا حال یہ تھا کہ انہیں اپنوں میں سب سے افضل سمجھتے تھے اور ناپسند کرتے تھے کہ ان کے سوا کوئی دوسرا ان کی امامت کرے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو ساری بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! تمہارے ساتھی جو بات کہہ رہے ہیں، اس پر عمل کرنے سے تمہیں کیا چیز روک رہی ہے اور تمہیں کیا چیز مجبور کر رہی ہے کہ ہر رکعت میں تم اس سورت کو پڑھو؟“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اسے پسند کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے اور یہ عبیداللہ بن عمر کی روایت سے ہے جسے وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں۔ مبارک بن فضالہ نے اسے ثابت کے حوالے سے حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس سورت کو پسند کرتا ہوں یعنی «قل هو الله أحد» کو آپ نے فرمایا: ”تمہاری اس سے محبت تمہیں جنت میں پہنچائے گی“۔ (ترمذی شریف؛ابواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قرآن کریم کے مناقب و فضائل؛باب مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الإِخْلاَصِ؛سورۃ الاخلاص «قل هو الله أحد» کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٦٩؛حدیث نمبر ٢٩٠١)
Tirmizi Shareef : Abawabu Fazayilil Quran
|
Tirmizi Shareef : ابواب فضائل القرآن
|
•