
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر علم کے قرآن کے بارے میں کوئی بات بیان کرے، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الَّذِي يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ؛اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٩؛حدیث نمبر ٢٩٥٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرف سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے احتیاط کرو، صرف وہی چیز بیان کرو جس کے بارے میں تمہیں علم ہو(میں نے یہ فرمایا ہے) کیونکہ جس نے جان بوجھ کر جھوٹی بات میری طرف منسوب کی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور جس نے قرآن میں اپنی عقل و رائے سے کچھ کہا وہ بھی اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الَّذِي يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ؛اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٩؛حدیث نمبر ٢٩٥١)
حضرت جندب بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کی، اور بات صحیح و درست نکل بھی گئی تو بھی اس نے غلطی کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے سہیل بن ابی حزم کے بارے کلام کیا ہے، ۳- اسی طرح بعض اہل علم صحابہ اور دوسروں سے مروی ہے کہ انہوں نے سختی سے اس بات سے منع کیا ہے کہ قرآن کی تفسیر بغیر علم کے کی جائے، لیکن مجاہد، قتادہ اور ان دونوں کے علاوہ بعض اہل علم کے بارے میں جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے قرآن کی تفسیر (بغیر علم کے) کی ہے تو یہ کہنا درست نہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کی جا سکتی کہ انہوں نے قرآن کے بارے میں جو کچھ کہا ہے یا انہوں نے قرآن کی جو تفسیر کی ہے یہ بغیر علم کے یا اپنے من سے کی ہے، ۴- ان ائمہ سے ایسی باتیں مروی ہیں جو ہمارے اس قول کو تقویت دیتی ہیں کہ انہوں نے کوئی بات بغیر علم کے اپنی جانب سے نہیں کہی ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کی تفسیر میں میں نے کوئی بات (یعنی کوئی روایت) نہ سنی ہو۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اگر میں نے حضرت ابن مسعود کی قرأت پڑھی ہوتی تو مجھے قرآن سے متعلق حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے وہ بہت سی باتیں پوچھنے کی ضرورت پیش نہ آئی ہوتی جو میں نے ان سے پوچھیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الَّذِي يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ؛اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٠؛حدیث نمبر ٢٩٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ نماز ناقص ہے، نامکمل ہے،عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے کہا:حضرت ابوہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ انہوں نے کہا: فارسی لڑکے! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز اپنے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دی ہے۔ آدھی نماز میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے۔ میرا بندہ پڑھتا ہے: «الحمد لله رب العالمين» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری حمد یعنی تعریف کی۔ بندہ کہتا ہے: «الرحمن الرحيم» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا کی، بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی اور عظمت اور بزرگی صرف میرے لیے ہے، اور میرے اور میرے بندے کے درمیان «إياك نعبد وإياك نستعين» سے لے کر سورۃ کی آخری آیات تک ہیں، اور بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ مانگے۔ بندہ کہتا ہے «اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» ”ہمیں سیدھی راہ چلا ، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- شعبہ، اسماعیل بن جعفر اور کئی دوسرے رواۃ نے ایسی ہی حدیث علاء بن عبدالرحمٰن سے، علاء نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ابن جریج اور مالک بن انس علاء بن عبدالرحمٰن سے علاء نے ہشام بن زہر کے آزاد کردہ غلام ابوسائب سے اور ابوسائب نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ ابن ابی اویس نے اپنے باپ ابواویس سے اور ابواویس نے علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں اس نے ام القرآن (سورۃ فاتحہ) نہ پڑھی تو یہ نماز ناقص ہے ناتمام (و نامکمل) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسماعیل بن ابی اویس کی حدیث میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں ہے، میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: انہوں نے کہا: دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اور انہوں نے دلیل دی ابن ابی اویس کی حدیث سے جسے وہ اپنے باپ سے اور ان کے باپ علاء سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، لوگوں نے کہا: یہ عدی بن حاتم ہیں، میں آپ کے پاس بغیر کسی امان اور بغیر کسی تحریر کے آیا تھا، جب مجھے آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ آپ اس سے پہلے فرما چکے تھے کہ ”مجھے امید ہے کہ اللہ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گا“۔ عدی کہتے ہیں: آپ مجھے لے کر کھڑے ہوئے، اسی اثناء میں ایک عورت ایک بچے کے ساتھ آپ سے ملنے آ گئی، ان دونوں نے عرض کیا: ہمیں آپ سے ایک ضرورت ہے۔ آپ ان دونوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کی ضرورت پوری فرما دی۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے لیے اپنے گھر آ گئے۔ ایک بچی نے آپ کے لیے ایک گدا بچھا دیا، جس پر آپ بیٹھ گئے اور میں بھی آپ کے سامنے بیٹھ گیا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”(بتاؤ) تمہیں «لا إلہ إلا اللہ» کہنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو معبود سمجھتے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے کچھ دیر باتیں کیں، پھر فرمایا: ”اللہ اکبر کہنے سے بھاگ رہے ہو؟“ کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ سے بھی بڑی کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”یہود پر اللہ کا غضب نازل ہو چکا ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں“، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں تو مسلمان ہونے کا ارادہ کر کے آیا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، پھر آپ نے میرے لیے حکم فرمایا: تو میں ایک انصاری صحابی کے یہاں (بطور مہمان) ٹھہرا دیا گیا، پھر میں دن کے دونوں کناروں پر یعنی صبح و شام آپ کے پاس حاضر ہونے لگا۔ ایک شام میں آپ کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ لوگ چیتے کی سی دھاری دار گرم کپڑے پہنے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے (ان کے آنے کے بعد) آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی اور لوگوں کو ان پر خرچ کرنے کے لیے ابھارا۔ آپ نے فرمایا: ”(صدقہ) دو اگرچہ ایک صاع ہو، اگرچہ آدھا صاع ہو، اگرچہ ایک مٹھی ہو، اگرچہ ایک مٹھی سے بھی کم ہو جس کے ذریعہ سے تم میں کا کوئی بھی اپنے آپ کو جہنم کی گرمی یا جہنم سے بچا سکتا ہے۔ (تم صدقہ دو) چاہے ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ چاہے آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ تم میں سے ہر کوئی اللہ کے پاس پہنچنے والا ہے، اللہ بندے سے فرماے گا وہ میں تمہیں بیان کر رہا ہوں(اللہ تعالیٰ فرماے گا)کیا ہم نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں نہیں بنائیں؟ وہ کہے گا: ہاں، کیوں نہیں! اللہ پھر کہے گا: کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہ دی؟، وہ کہے گا: کیوں نہیں تو نے ہمیں مال و اولاد سے نوازا۔ وہ پھر کہے گا وہ سب کچھ کہاں ہے جو تم نے اپنی ذات کی حفاظت کے لیے آگے بھیجا ہے؟ (یہ سن کر) وہ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں بائیں (چاروں طرف) دیکھے گا، لیکن ایسی کوئی چیز نہ پائے گا جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچا سکے۔ اس لیے تم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچانے کی کوشش و تدبیر کرنی چاہیئے ایک کھجور ہی صدقہ کر کے کیوں نہ کرے۔ اور اگر یہ بھی نہ میسر ہو تو اچھی و بھلی بات کہہ کر ہی اپنے کو جہنم کی گرمی سے بچائے۔ مجھے اس کا خوف نہیں ہے کہ تم فقر و فاقہ کا شکار ہو جاؤ گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے، اور تمہیں دینے والا ہے (اتنا دینے والا ہے) کہ ایک ہودج سوار عورت (تنہا) یثرب (مدینہ) سے حیرہ تک یا اس سے بھی لمبا سفر کرے گی اور اسے اپنی سواری کے چوری ہو جانے تک کا ڈر نہ ہو گا“ حضرت عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں: (اس وقت) میں سوچنے لگا کہ قبیلہ بنی طی کے چور کہاں ہوں گے؟ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سماک بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے، عباد بن حبیش سے، اور عباد بن حبیش نے حضرت عدی بن حاتم رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٢)
حضرت عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی وہ ہیں جو اللہ کے غضب کا شکار ہوئے وہ «مغضوب عليهم» ہیں اور نصاریٰ گمراہ لوگ ہیں“، پھر (انہوں نے) پوری حدیث بیان کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٢؛حدیث نمبر ٢٩٥٤)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کے ہر حصے سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، چنانچہ ان کی اولاد میں مٹی کی مناسبت سے کوئی لال، کوئی سفید، کالا اور ان کے درمیان مختلف رنگوں کے اور نرم مزاج و گرم مزاج، کوئی خبیث طبیعت کا مالک ہے،کوئی پاکیزہ طبیعت کا مالک ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٤؛حدیث نمبر ٢٩٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ادخلوا الباب سجدا» ”تم لوگ سجدہ کرتے ہوے دروازہ میں داخل ہونا“ (البقرہ: ۵۸) کے بارے میں فرمایا: ”بنی اسرائیل سرین کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے“۔ حسن صحيح. اور اسی سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (آیت) «فبدل الذين ظلموا قولا غير الذي قيل لهم» ”پھر ان ظالموں نے اس بات کو جوان سے کہی گئی تھی بدل ڈالی“۔ (البقرہ: ۵۹) کے بارے میں یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل نے «حبة في شعرة» کہا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٥؛حدیث نمبر ٢٩٥٦)
حضرت عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک انتہائی اندھیری رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، کوئی نہ جان سکا کہ قبلہ کدھر ہے۔ چنانچہ جو جس رخ پر تھا اس نے اسی رخ پر نماز پڑھ لی، جب صبح ہوئی تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو (اس وقت) یہ آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”تم جدھر بھی منہ کرو ادھر اللہ کی ذات ہے“ (البقرہ: ۱۱۵) نازل ہوئی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٥؛حدیث نمبر ٢٩٥٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہی نفل ادا کر لیا کرتے تھے، خواہ اس سواری کا رخ کس بھی سمت ہو،اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لا رہے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پھر یہ آیت «ولله المشرق والمغرب» ”اللہ ہی کے لیے مغرب و مشرق ہیں“ (البقرہ: ۱۱۵) پڑھی۔ حضرت ابن عمر کہتے ہیں: یہ آیت اسی تعلق سے نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتادہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: آیت: «ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فثم وجه الله» (البقرة: ۱۱۵) منسوخ ہے، اور اسے منسوخ کرنے والی آیت «فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں“ (البقرہ: ۱۴۴) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بیان کیا اسے مجھ سے محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا یزید بن زریع نے اور یزید بن زریع نے سعید کے واسطہ سے قتادہ سے روایت کی۔ مجاہد سے اس آیت: «فأينما تولوا فثم وجه الله» سے متعلق مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جدھر منہ کرو ادھر قبلہ ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٥؛حدیث نمبر ٢٩٥٨)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول!اگر ہم ہم مقام (مقام ابراہیم) کے پاس نفل ادا کریں(تو مناسب ہوگا)، تو آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو“ (البقرہ: ۱۲۵) نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٦؛حدیث نمبر ٢٩٥٩)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اگر آپ مقام ابراہیم کو مصلی (نماز پڑھنے کی جگہ) بنا لیتے (تو کیا ہی اچھی بات ہوتی) تو آیت «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٦؛حدیث نمبر ٢٩٦٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا» ”ہم نے اسی طرح تمہیں وسط امت بنایا ہے“ (البقرہ: ۱۴۳) کے سلسلے میں فرمایا: ” «وسط» سے مراد عدل ہے“ (یعنی انصاف پسند)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی الله عنہ سے اس سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) نوح علیہ السلام طلب کئے جائیں گے، پھر ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے (اپنی امت کو) پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ”جی ہاں“، پھر ان کی قوم بلائی جائے گی، اور اس سے پوچھا جائے گا: کیا انہوں نے تم لوگوں تک (میرا پیغام) پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا آیا ہی نہیں تھا، اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی اور آیا، (نوح علیہ السلام سے) کہا جائے گا: تمہارے گواہ کون ہیں؟ وہ کہیں گے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت، آپ نے فرمایا: ”تو تم گواہی کے لیے پیش کئے جاؤ گے، تم گواہی دو گے کہ ہاں، انہوں نے پہنچایا ہے۔ یہی مفہوم ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قول: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» ”ہم نے اسی طرح تمہیں وسط امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہو جائیں“ (البقرہ: ۱۴۳) کا، «وسط» کا معنی بیچ اور درمیانی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٧؛حدیث نمبر ٢٩٦١)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو سولہ یا سترہ مہینے تک آپ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، حالانکہ آپ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے، تو اللہ نے آپ کی اس خواہش کے مطابق «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں“ (البقرہ: ۱۴۴)، پھر آپ کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، اور آپ یہی چاہتے ہی تھے۔ ایک آدمی نے آپ کے ساتھ نماز عصر پڑھی، پھر وہ کچھ انصاری لوگوں کے پاس سے گزرا وہ لوگ بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ اور رکوع کی حالت میں تھے، اس شخص نے (اعلان کرتے ہوئے) کہا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ یہ سن کر لوگ حالت رکوع ہی میں (کعبہ کی طرف) پھر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے سفیان ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٧؛حدیث نمبر ٢٩٦٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ لوگ فجر کی نماز میں حالت رکوع میں تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عمرو بن عوف مزنی، ابن عمر، عمارہ بن اوس اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٨؛حدیث نمبر ٢٩٦٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو (اسی موقع پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان(اعمال)ضائع نہ کرے گا“ (البقرہ: ۱۴۳)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٨؛حدیث نمبر ٢٩٦٤)
حضرت عروہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے کہا: میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرے، اور میں خود اپنے لیے ان کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں پاتا۔ تو حضرت عائشہ نے کہا: اے میرے بھانجے! تم نے غلط بات کہہ دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی کیا ہے۔ ہاں ایسا زمانہ جاہلیت میں تھا کہ جو لوگ مناۃ (بت) کے نام پر جو مشلل میں تھا احرام باندھتے تھے وہ صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت: «فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهماجو شخص بیت اللہ کا حج کرے اور عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان دونوں کا بھی چکر لگائے" نازل فرمائی۔ اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو آیت اس طرح ہوتی «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» (یعنی اس پر صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے)۔ زہری کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے کیا تو انہیں یہ بات بڑی پسند آئی۔ کہا: یہ ہے علم و دانائی کی بات۔ اور میں نے تو کئی اہل علم کو کہتے سنا ہے کہ جو عرب صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ہمارا طواف ان دونوں پتھروں کے درمیان جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔ اور کچھ دوسرے انصاری لوگوں نے کہا: ہمیں تو خانہ کعبہ کے طواف کا حکم ملا ہے نہ کہ صفا و مروہ کے درمیان طواف کا۔ (اسی موقع پر) اللہ تعالیٰ نے آیت: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» نازل فرمائی۔ ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت انہیں لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٨؛حدیث نمبر ٢٩٦٥)
عاصم الأحول کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ دونوں جاہلیت کے شعائر میں سے تھے، پھر جب اسلام آیا تو ہم ان دونوں کے درمیان طواف کرنے سے رک گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الصفا والمروة من شعائر الله» (صفا و مروہ شعائر الٰہی میں سے ہیں) نازل فرمائی۔ تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس کے لیے ان دونوں کے درمیان طواف (سعی) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے درمیان طواف (سعی) نفل ہے اور جو کوئی بھلائی کام ثواب کی خاطر کرے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے اور علم رکھنے والا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٩؛حدیث نمبر ٢٩٦٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے اور آپ بیت اللہ کا سات طواف کیا تو میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے سنا: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو“۔ آپ نے مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آ کر اسے چوما، پھر فرمایا: ”ہم (سعی) وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ نے (اس کا ذکر) شروع کیا ہے۔ اور آپ نے پڑھا «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٠٩؛حدیث نمبر ٢٩٦٧)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ شروع میں صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی آدمی روزہ رکھتا اور افطار کا وقت ہوتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا، تو پھر وہ ساری رات اور سارا دن نہ کھاتا یہاں تک کہ شام ہو جاتی۔ قیس بن صرمہ انصاری کا واقعہ ہے کہ وہ روزے سے تھے جب افطار کا وقت آیا تو وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور آپ کے لیے کہیں سے ڈھونڈھ لاتی ہوں، وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے تھے اس لیے ان کی آنکھ لگ گئی۔ وہ لوٹ کر آئیں تو انہیں سوتا ہوا پایا، کہا: ہائے افسوس۔ پھر جب دوپہر ہو گئی تو قیس پر غشی طاری ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی گئی تو اس وقت یہ آیت: «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» ”روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا“ (البقرہ: ۱۸۷)، نازل ہوئی، لوگ اس آیت سے بہت خوش ہوئے۔ (اس کے بعد یہ حکم نازل ہو گیا) «وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ظاہر ہو جائے“ (البقرہ: ۱۸۷)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٠؛حدیث نمبر ٢٩٦٨)
حضرت نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» ”اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا“ (غافر: ٦٠)، کی تفسیر میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ پھر آپ نے سورۃ مومن کی آیت «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» سے «داخرين» تک پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے منصور نے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١١؛حدیث نمبر ٢٩٦٩)
حضرت عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر»(البقرہ١٨٧)نازل ہوئی تو اس سے مراد صبح صادق ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا اس سے مراد دن کی سفیدی کا رات کی سیاہی سے ممتاز ہونا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١١؛حدیث نمبر ٢٩٧٠)
حضرت عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ”یہاں تک کہ سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے“ تو میں نے دو ڈوریاں لیں۔ ایک سفید تھی دوسری کالی، میں انہیں کو دیکھ کر (سحری کے وقت ہونے یا نہ ہونے کا) فیصلہ کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کچھ باتیں کہیں (ابن ابی عمر کہتے ہیں: میرے استاد) سفیان انہیں یاد نہ رکھ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد رات اور دن ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١١؛حدیث نمبر ٢٩٧١)
اسلم ابوعمران تجیبی کہتے ہیں کہ ہم روم شہر میں تھے، رومیوں کی ایک بڑی جماعت ہم پر حملہ آور ہونے کے لیے نکلی تو مسلمان بھی انہی جیسی بلکہ ان سے بھی زیادہ تعداد میں ان کے مقابلے میں نکلے،حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ اہل مصر کے گورنر تھے اور حضرت فضالہ بن عبید رضی الله عنہ فوج کے سپہ سالار تھے۔ ایک مسلمان رومی صف پر حملہ آور ہو گیا اور اتنا زبردست حملہ کیا کہ ان کے اندر گھس گیا۔ لوگ چیخ پڑے، کہنے لگے: سبحان اللہ! اس نے تو خود ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک دیا ہے۔ (یہ سن کر)حضرت ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو، یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں اتری ہے، جب اللہ نے اسلام کو طاقت بخشی اور اس کے مددگار بڑھ گئے تو ہم میں سے بعض لوگ ایک دوسرے سے یہ کہنے لگے کہ ہمارے مال برباد ہو گئے ہیں (یعنی ہماری کھیتی باڑیاں تباہ ہو گئی ہیں) اللہ نے اسلام کو قوت و طاقت بخش دی۔ اس کے (حمایتی) و مددگار بڑھ گئے، اب اگر ہم اپنے کاروبار اور کھیتی باڑی کی طرف متوجہ ہو جاتے تو جو نقصان ہو گیا ہے اس کمی کو پورا کر لیتے، چنانچہ ہم میں سے جن لوگوں نے یہ بات کہی تھی اس کے رد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی۔ اللہ نے فرمایا: «وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو“ (البقرہ: ۱۹۵)، تو ہلاکت یہ تھی کہ مالی حالت کو سدھار نے کی جدوجہد میں لگا جائے، اور جہاد کو چھوڑ دیا جائے (یہی وجہ تھی کہ) حضرت ابوایوب انصاری رضی الله عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک علامت و ہدف کی حیثیت اختیار کر گئے تھے یہاں تک کہ سر زمین روم میں مدفون ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٢؛حدیث نمبر ٢٩٧٢)
مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی الله عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! یہ آیت: «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ” تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈا لے) تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے، خواہ قربانی کرے“ (البقرہ: ۱۹۶)، میرے بارے میں اتری ہم حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے، مشرکوں نے ہمیں روک رکھا تھا، میرے بال کانوں کے لو کے برابر تھے، سر کے جوئیں چہرے پر گرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہمارے پاس سے ہوا (ہمیں دیکھ کر) آپ نے فرمایا: ”لگتا ہے تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”سر مونڈ ڈالو“، پھر یہ آیت (مذکورہ) اتری۔ مجاہد کہتے ہیں: روزے سے مراد تین روزے ہیں، کھانا کھلانے سے مراد چھ مسکینوں کو کھلانا ہے۔ اور قربانی (کم از کم) ایک بکری، اور اس سے زیادہ بھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کعب بن عجرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سند سے بھی اسی طرح روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ کعب بن عجرہ سے اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے بھی عبداللہ بن معقل سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٢؛حدیث نمبر ٢٩٧٣)
حضرت کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ اس وقت میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میری پیشانی یا بھوؤں پر بکھر رہی تھیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”اپنا سر مونڈ ڈالو اور بدلہ میں قربانی کر دو، یا تین دن روزہ رکھ لو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو“۔ ایوب (راوی) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں رہا کہ (میرے استاذ نے) کون سی چیز پہلے بتائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٣؛حدیث نمبر ٢٩٧٤)
حضرت عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے، منیٰ (میں قیام) کے دن تین ہیں۔ مگر جو جلدی کر کے دو دنوں ہی میں واپس ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو تین دن پورے کر کے گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا، اس نے حج کو پا لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ نے کہا: یہ ثوری کی سب سے عمدہ حدیث ہے، جسے انہوں نے روایت کی ہے، ۳- اسے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے روایت کیا ہے، ۴- اس حدیث کو ہم صرف بکیر بن عطاء کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٤؛حدیث نمبر ٢٩٧٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٤؛حدیث نمبر ٢٩٧٦)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کے یہاں جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تھی تو وہ اسے اپنے ساتھ نہ کھلاتے تھے نہ پلاتے تھے۔ اور نہ ہی اسے اپنے ساتھ گھر میں رہنے دیتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى»(ترجمہ)"لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں،تو تم فرمادو!یہ ناپاکی ہے"نازل فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ کھلائیں پلائیں اور ان کے ساتھ گھروں میں رہیں۔ اور ان کے ساتھ جماع کے سوا (بوس و کنار وغیرہ) سب کچھ کریں، یہودیوں نے کہا: یہ صاحب ہمارا کوئی کام نہیں چھوڑتا جس میں ہماری مخالفت نہ کرتا ہو، عباد بن بشیر اور اسید بن حضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو یہودیوں کی یہ بات بتائی اور کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے حالت حیض میں جماع (بھی) نہ کریں؟ یہ سن کر آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھ لیا کہ آپ ان دونوں سے سخت ناراض ہو گئے ہیں۔ وہ اٹھ کر (اپنے گھر چلے) ان کے نکلتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں بلانے کے لیے) ان کے پیچھے آدمی بھیجا (وہ آ گئے) تو آپ نے ان دونوں کو دودھ پلایا، جس سے انہوں نے جانا کہ آپ ان دونوں سے غصہ نہیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٤؛حدیث نمبر ٢٩٧٧)
حضرت انس رضی الله عنہ سے ایک اور سند سے اسی کے ہم معنی روایت ہے۔ حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جو اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف سے آگے کی شرمگاہ میں (جماع کرے) تو بھینگا لڑکا پیدا ہو گا، اس پر آیت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم»(ترجمہ"تمہاری بیویاں تمہارے کھیت میں تم جس طرف سے چاہو داخل ہو جاؤ۔"(البقرہ ٢٢٣)نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٥؛حدیث نمبر ٢٩٧٨)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» کی تفسیر میں فرمایا: اس سے مراد یہ ہے(صحبت کا مقام)ایک ہونا چاہیے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٥؛حدیث نمبر ٢٩٧٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا؟“ کہا: رات میں نے سواری تبدیل کر دی (یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کر لی)حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل ہوئی،(اس سے مراد)بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٦؛حدیث نمبر ٢٩٨٠)
حضرت معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم کے زمانے میں اپنی بہن کی شادی ایک مسلمان شخص سے کر دی۔ وہ خاتون اس کے یہاں کچھ عرصے تک رہیں، پھر اس نے انہیں ایسی طلاق دی کہ اس کے بعد ان سے رجوع نہ کیا یہاں تک کہ عدت کی مدت ختم ہو گئی۔ پھر دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی خواہش و چاہت پیدا ہوئی اور (دوسرے) پیغام نکاح دینے والوں کے ساتھ اس نے بھی پیغام نکاح دیا۔حضرت معقل رضی الله عنہ نے اس سے کہا: بیوقوف! میں نے تمہاری شادی اس سے کر کے تیری عزت افزائی کی تھی پھر بھی تو اسے طلاق دے بیٹھا، قسم اللہ کی! اب وہ تمہاری طرف زندگی بھر کبھی بھی لوٹ نہیں سکتی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ تعالی یہ بات جانتا تھا کہ اس شخص کو اس عورت کی حاجت و خواہش ہے اور اس عورت کو اس شخص کی حاجت و چاہت ہے۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت: «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن» سے «وأنتم لا تعلمون» تک نازل فرمائی(البقرہ ٢٣١)۔ جب حضرت معقل رضی الله عنہ نے یہ آیت سنی تو کہا: اب اپنے رب کی بات سنتا ہوں اور اطاعت کرتا ہوں (یہ کہہ کر) بلایا اور کہا: میں تمہاری شادی (دوبارہ) کیے دیتا ہوں اور تجھے عزت بخشتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ کئی سندوں سے حسن بصری سے مروی ہے۔ حسن بصری کے واسطہ سے یہ غریب ہے، ۳- اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ بغیر ولی کے نکاح جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ معقل بن یسار کی بہن ثیبہ تھیں۔ اگر ولی کی بجائے معاملہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ اپنی شادی آپ کر سکتی تھیں اور وہ اپنے ولی معقل بن یسار کی محتاج نہ ہوتیں۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اپنے (سابق) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ تو اس آیت میں اس بات کا ثبوت ہے کہ نکاح کا معاملہ عورتوں کی رضا مندی کے ساتھ اولیاء کے ہاتھ میں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٦؛حدیث نمبر ٢٩٨١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھ کر تیار کر دوں۔ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تم آیت: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى»(البقرہ ٢٣٨)پر پہنچو تو مجھے خبر دو، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا اور میں نے انہیں خبر دی، تو انہوں نے مجھے بول کر لکھایا «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» ”نمازوں پر مداومت کرو اور درمیانی نماز کا خاص خیال کرو، اور نماز عصر کا بھی خاص دھیان رکھو اور اللہ کے آگے خضوع و خشوع سے کھڑے ہوا کرو“۔ اور انہوں نے کہا کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت حفصہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٧؛حدیث نمبر ٢٩٨٢)
حضرت سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة الوسطى» (بیچ کی نماز) نماز عصر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٧؛حدیث نمبر ٢٩٨٣)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے دن فرمایا: ”اے اللہ! ان کفار و مشرکین کی قبریں اور ان کے گھر آگ سے بھر دے جیسے کہ انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (نماز عصر) پڑھنے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث حضرت علی رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٧؛حدیث نمبر ٢٩٨٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة الوسطى» سے مراد عصر کی نماز ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت زید بن ثابت، ابوہاشم بن عتبہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٨؛حدیث نمبر ٢٩٨٥)
حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز کے اندر باتیں کیا کرتے تھے، تو جب آیت «وقوموا لله قانتين» (البقرہ: ۲۳۸)،(ترجمہ)"تم تم اللہ کی بارگاہ میں ادب کے ساتھ کھڑے رہو" نازل ہوئی تو ہمیں چپ رہنے کا حکم ملا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ایک اور سند سے بھی کہتے ہیں کہ اسماعیل بن ابی خالد نے اسی طرح بیان کیا اور انہوں نے اس میں «نهينا عن الكلام» کا اضافہ کیا (ہم بات چیت سے روک دیئے گئے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٨؛حدیث نمبر ٢٩٨٦)
حضرت براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آیت «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ہم گروہ انصار کے بارے میں اتری ہے۔ ہم کھجور والے لوگ تھے، ہم میں سے کوئی آدمی اپنی کھجوروں کی کم و بیش پیداوار و مقدار کے اعتبار سے زیادہ یا تھوڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا۔ بعض لوگ کھجور کے ایک دو گچھے لے کر آتے، اور انہیں مسجد میں لٹکا دیتے، اہل صفہ کے کھانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا تو ان میں سے جب کسی کو بھوک لگتی تو وہ گچھے کے پاس آتا اور اسے چھڑی سے جھاڑتا کچی اور پکی کھجوریں گرتیں پھر وہ انہیں کھا لیتا۔ اس طرح کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو خیرات دینے میں رغبت نہیں رکھتے تھے، وہ ایسے گچھے لاتے جس میں خراب، ردی اور گلی سڑی کھجوریں ہوتیں اور بعض گچھے ٹوٹے بھی ہوتے، وہ انہیں لٹکا دیتے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اے ایمان والو تم جو کماتے ہو اس میں سے پاکیزہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اس چیز میں سے بھی جو ہم نے زمین میں سے تمہارے لیے نکالا ہے اور خراب چیزیں خرچ کرنے کی نیت نہ کرو حالانکہ تم خود اسے قبول کرنا گوارا نہ کرو گے ما سوائے اس صورت کے کہ تم اس بارے میں چشم پوشی کرو"(٢٦٧)نازل فرمائی۔ راوی بیان کرتے ہیں:یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان کی ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو ویسا ہی ہدیہ دیا جائے تو وہ اسے چشم پوشی کے ساتھ قبول کرے گا یا شرم کی وجہ سے قبول کرے گا، اس کے بعد ہم میں سے ہر شخص اپنے پاس موجود عمدہ چیز میں سے لانے لگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے سدی سے اس روایت میں سے کچھ روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٨؛حدیث نمبر ٢٩٨٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی پر شیطان کا اثر (وسوسہ) ہوتا ہے اور فرشتے کا بھی اثر ہوتا ہے۔ شیطان کا اثر یہ ہے کہ انسان سے برائی کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کو جھٹلاتا ہے۔ اور فرشتے کا اثر یہ ہے کہ وہ خیر کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کی تصدیق کرتا ہے۔ تو جو شخص یہ پائے اس پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جو پہلا اثر پائے یعنی شیطان کا تو شیطان سے اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ پھر آپ نے آیت «الشيطان يعدكم الفقر ويأمركم بالفحشاء» پڑھی۔(شیطان تمہیں غربت سے ڈراتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم ہوتا ہے")(البقرہ ٢٦٨) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوالاحوص کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابوالاحوص کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢١٩؛حدیث نمبر٢٩٨٨ )
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”لوگو! اللہ پاک ہے اور حلال و پاک چیز کو ہی پسند کرتا ہے اور اللہ نے مومنین کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: «يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم» اے رسولو!پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو تم لوگ جو عمل کرتے ہو میں اس کے بارے میں علم رکھتا ہوں"(المؤمنون ٥١) اور اللہ تعالی نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے:" اے ایمان والو!ہم نے جو تمہیں رزق عطا کیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔"(البقرہ ١٧٢) (پھر) آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پریشان حال اور غبار آلود ہے۔ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہے (میرے رب! اے میرے رب!) اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام ہے، اس کا پہننا حرام کا ہے اور اس کی پرورش ہی حرام سے ہوئی ہے۔ پھر اس کی دعا کیوں کر قبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٠؛حدیث نمبر ٢٩٨٩)
سدی بیان کرتے ہیں: جس شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی اس نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے، وہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء»(ترجمہ"تمہارے دل میں جو کچھ ہے اسے تم چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ تعالی اس کے بارے میں تم سے حساب لے گا اور پھر وہ جسے چاہے گا اس کی مغفرت کر دے اور جسے چاہے اسے عذاب دے گا")(البقرہ ٢٨٤)نازل ہوئی۔ تو اس نے ہم سب کو فکرو غم میں مبتلا کر دیا۔ ہم نے کہا: ہم میں سے کوئی اپنے دل میں باتیں کرے پھر اس کا حساب لیا جائے۔ ہمیں معلوم نہیں اس میں سے کیا بخشا جائے گا اور کیا نہیں بخشا جائے؟، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت»( اللہ تعالی کسی بھی شخص کو اس کی طاقت کے مطابق پابند کرتا ہے آدمی جو نیکی کرے گا اس کا اجر اسے ملے گا اور جو گناہ کرے گا اس کا بدلہ اسے ملے گا)(البقرہ ٢٨٦)اور اس آیت نے اس سے پہلی والی آیت کو منسوخ کر دیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٠؛حدیث نمبر ٢٩٩٠)
امیہ(نامی خاتون)کہتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قول «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله»( تمہارے دل میں جو بھی ہے تم اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تعالی اس کے بارے میں تم سے حساب لے گا(البقرہ ٢٨٤)اور (دوسرے) قول «من يعمل سوءا يجز به»( جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ ملے گا(النساء ١٢٣)کا مطلب پوچھا، تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا مطلب پوچھا ہے تب سے (تمہارے سوا) کسی نے مجھ سے ان کا مطلب نہیں پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ اللہ کی جانب سے بخار اور مصیبت (وغیرہ) میں مبتلا کر کے بندے کی سرزنش ہے۔ یہاں تک کہ وہ سامان جو وہ اپنی قمیص کی آستین میں رکھ لیتا ہے پھر گم کر دیتا ہے پھر وہ گھبراتا اور اس کے لیے پریشان ہوتا ہے، یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ویسے ہی پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسا کہ سرخ سونا بھٹی سے (صاف ستھرا) نکلتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢١؛حدیث نمبر ٢٩٩١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله» نازل ہوئی تو لوگوں کے دلوں میں ایسا خوف و خطر پیدا ہوا جو اور کسی چیز سے پیدا نہ ہوا تھا۔ لوگوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تو آپ نے فرمایا: ”(پہلے تو) تم «سمعنا وأطعنا» کہو یعنی ہم نے سنا اور ہم نے بے چون و چرا بات مان لی، (چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کہا) تو اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔ اور اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں «آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه والمؤمنون» سے لے کر آخری آیت «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا»، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے ایسا کر دیا (تمہاری دعا قبول کر لی)“ «ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا» ”ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا“، اللہ نے فرمایا: ”میں نے تمہارا کہا کر دیا“، «ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا» ”اے اللہ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کی طاقت ہم میں نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما“، اللہ نے فرمایا: ”میں نے ایسا کر دیا (یعنی تمہاری دعا قبول کر لی)“۔(البقرہ ٢٨٦) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢١؛حدیث نمبر ٢٩٩٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله»(ترجمہ"جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی آیت کے پیچھے پڑتے ہیں تاکہ وہ فتنہ پیدا کرے اور ان کی تاویل کرے")(آل عمران ٧)کی تفسیر پوچھی۔ تو آپ نے فرمایا: ”جب تم انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو (کہ یہی لوگ اصحاب زیغ ہیں)۔ یزید کی روایت میں ہے ”جب تم لوگ انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو“ یہ بات حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے دو یا تین بار کہی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٢؛حدیث نمبر ٢٩٩٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات» یہ وہ ذات ہے، جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس میں بعض محکم آیات ہیں"( آل عمران ٧)کی تفسیر پوچھی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو آیات متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے اور ایسے لوگوں سے بچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ایوب سے بھی مروی ہے، اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے، ۳- ایسے ہی یہ حدیث متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی اپنی روایات میں ”قاسم بن محمد“ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ان کا ذکر صرف ”یزید بن ابراہیم تستری“ نے اس حدیث میں «عن القاسم» کہہ کر کیا ہے، ۴- ابن ابی ملیکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہیں، انہوں نے بھی عائشہ سے سنا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٣؛حدیث نمبر ٢٩٩٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا نبیوں میں سے کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے، اور میرے دوست میرے جد امجد اور میرے رب کے خلیل ہیں۔ پھر آپ نے آیت «إن أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين» پڑھی“۔(ترجمہ" بے شک ابراہیم کی سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ یہ نبی ہیں اور ایمان لانے والے لوگ ہیں اور اللہ تعالی انہیں ایمان کا دوست ہے")(آل عمران ٦٨) ایک اور سند سے ابوالضحیٰ نے عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ اور اس سند میں مسروق کا ذکر نہیں ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوالضحیٰ کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ مسروق سے روایت کرتے ہیں۔ اور ابوالضحیٰ کا نام مسلم بن صبیح ہے۔ ابوالضحیٰ نے اس سند سے بھی حضرت عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ابونعیم کی روایت کی طرح روایت کی۔ اور اس میں بھی مسروق کا ذکر نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٣؛حدیث نمبر ٢٩٩٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ (قیامت میں) اللہ سے ملے گا، اس وقت اللہ اس سے سخت غضبناک ہو گا“۔ حضرت اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے بارے میں ہے۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک (مشترک) زمین تھی، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کر دیا، تو میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی دلیل و ثبوت ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، پھر آپ نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کی قسموں کے ذریعے تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں"(آل عمران ٧٧)نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٤؛حدیث نمبر ٢٩٩٦)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون»(ترجمہ:”جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے“ (آل عمران: ۹۲)یا «من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا»کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے“ (البقرہ: ۲۴۵)۔ نازل ہوئی۔ اس وقت حضرت ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس ایک باغ تھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باغ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے، اگر میں اس بات کو پوشیدہ رکھ سکتا ہوتا تو اس کا اعلان نہ کرتا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کے واسطہ سے حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٤؛حدیث نمبر ٢٩٩٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! (واقعی) حاجی کون ہے؟۔ آپ نے فرمایا: ”وہ حاجی جس کا سر گردوغبار والا ہو جس نے زیب و زینت اور خوشبو چھوڑ دی ہو، جس کے بدن سے بو آنے لگی ہو“ پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: کون سا حج سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ حج جس میں لبیک بآواز بلند پکارا جائے، اور ہدی اور قربانی کے جانوروں کا (خوب خوب) خون بہایا جائے“۔ ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( «من استطاع سبیلاً» میں) «سبیل» سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”زاد راہ (توشہ) اور سواری“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کی اس حدیث کو ہم نہیں جانتے سوائے ابراہیم بن یزید خوزی مکی کی روایت سے، اور بعض محدثین نے ابراہیم بن یزید کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٥؛حدیث نمبر ٢٩٩٨)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم» تم لوگوں آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں کو بلاتے ہیں") (آل عمران ٦١)نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ لوگ میرے اہل(بیت)ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٥؛حدیث نمبر ٢٩٩٩)
ابوغالب کہتے ہیں کہ حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ نے دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر (حروراء کے مقتول خوارج کے) سر لٹکتے ہوئے دیکھے، تو کہا: یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے سایہ تلے بدترین مقتول ہیں جب کہ بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت «يوم تبيض وجوه وتسود وجوه»("اس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے"(آل عمران ١٠٦)پڑھی میں نے حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ سے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: میں نے اسے اگر ایک بار یا دو بار یا تین بار یا چار بار یہاں تک انہوں نے سات بار گنا، نہ سنا ہوتا تو تم لوگوں سے میں اسے نہ بیان کرتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوغالب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام حزور ہے۔ ۳- اور حضرت ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کا نام صدی بن عجلان ہے، وہ قبیلہ باہلہ کے سردار تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٦؛حدیث نمبر ٣٠٠٠)
حضرت معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے قول «كنتم خير أمة أخرجت للناس»(تم سب سے بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے بھیجا گیا ہے"(آل عمران١١٠)کی تفسیر کرتے ہوئے سنا: ” تم لوگوں نے 70 امتوں کی تعداد کو پورا کر دیا ہے ، تم اللہ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باعزت ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- متعدد لوگوں نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے، لیکن ان راویوں نے اس میں آیت «كنتم خير أمة أخرجت للناس» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٦؛حدیث نمبر ٣٠٠١)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے، اور پیشانی پر بھی زخم آیا، یہاں تک کہ خون آپ کے مبارک چہرے پر بہ پڑا۔ آپ نے فرمایا: ”بھلا وہ قوم کیوں کر کامیاب ہو گی جو اپنے نبی کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرے، جب کہ حال یہ ہو کہ وہ نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو۔ تو یہ آیت «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» تمہارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے(کہ اللہ تعالی)انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے")(آل عمران ١٢٨)نازل ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٦؛حدیث نمبر ٣٠٠٢)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک چہرہ زخمی ہو گیا، آپ کے دندان مبارک شہید ہوگئے، آپ کے کندھے پر بھی ایک پتھر لگا، جس سے آپ کے چہرے پر خون بہنے لگا، آپ اسے پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے: ”وہ امت کیسے فلاح یاب ہو گی جس کا نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ اس کے ساتھ ایسا (برا) سلوک کر رہے ہوں“۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ یزید بن ہارون اس معاملے میں غلطی کر گئے ہیں۔ (یعنی انہوں نے اس حدیث کی روایت کرنے میں «ورمى رمية على كتفه» کی بابت غلطی کی ہے) (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٧؛حدیث نمبر ٣٠٠٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا: ”اے اللہ! لعنت نازل فرما ابوسفیان پر، اے اللہ! لعنت نازل فرما حارث بن ہشام پر، اے اللہ! لعنت نازل فرما صفوان بن امیہ پر“، تو آپ پر یہ آیت «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم»(آل عمران ١٢٨)نازل ہوئی۔ تو اللہ نے انہیں توبہ کی توفیق دی، انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلام بہترین اسلام ثابت ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ روایت «عمر بن حمزة عن سالم عن أبيه» کے طریق سے غریب ہے، ۳- زہری نے بھی اسے سالم سے اور انہوں نے بھی اپنے باپ سے روایت کیا ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو عمر بن حمزہ کی روایت سے نہیں جانا بلکہ زہری کی روایت سے جانا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٧؛حدیث نمبر ٣٠٠٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار افراد کے لیے دعاء ضرر کی، تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون»(ال عمران ١٢٨)نازل فرمائی۔ پھر اللہ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی ہدایت و توفیق بخش دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ یعنی: اس سند سے بطریق «نافع عن ابن عمر» ۲- اس حدیث کو یحییٰ بن ایوب نے بھی ابن عجلان سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٨؛حدیث نمبر ٣٠٠٥)
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنی تو اللہ نے مجھے جتنا فائدہ پہنچانا چاہا پہنچایا، اور جب مجھ سے آپ کا کوئی صحابی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا پھر جب وہ میرے کہنے سے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا۔ اور بیشک مجھ سے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے حدیث بیان کی اور بالکل سچ بیان کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ”جو کوئی بھی شخص کوئی گناہ کرتا ہے پھر وہ کھڑا ہوتا ہے پھر پاکی حاصل کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله»(ترجمہ" وہ لوگ جب کسی گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں یا اپنے اوپر زیادتی کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کر لیتے ہیں"یہ آیت اخر تک ہے۔(آل عمران ١٣٥) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو شعبہ اور دیگر کئی لوگوں نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت کیا ہے جب کہ مسعر اور سفیان نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا۔ اور بعض لوگوں نے اسے مسعر سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ اور بعض لوگوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور سفیان ثوری نے عثمان بن مغیرہ سے موقوفاً روایت کیا ہے، ۲- اسماء بن حکم سے اس روایت کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٨؛حدیث نمبر ٣٠٠٦)
حضرت ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میں اپنا سر بلند کر کے دیکھا تو یہ نظر آیا ہر ایک شخص اونگھ کی وجہ سے زمین کی طرف جھکا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ کے قول «ثم أنزل عليكم من بعد الغم أمنة نعاسا»( پھر اس نے غم کے بعد امن والی اونگھ تم پر نازل کی)(آل عمران ١٥٣)کا مفہوم و مراد یہی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ایک اور سند کے ساتھ بھی عبد بن حمید نے حضرت زبیر رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٩؛حدیث نمبر ٣٠٠٧)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احد میں اپنی صف (پوزیشن) میں تھے اور ہم پر غنودگی طاری ہو گئی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اس دن غنودگی (نیند) نے آ گھیرا تھا، حالت یہ ہو گئی تھی کہ تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹی جا رہی تھی، میں اسے پکڑ رہا تھا اور میرے ہاتھ سے گری جا رہی تھی، میں اسے سنبھال رہا تھا۔ دوسرا گروہ منافقوں کا تھا جنہیں صرف اپنی جانوں کی حفاظت کی فکر تھی، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ بزدل، سب سے زیادہ مرعوب ہو جانے والے (ڈرپوک) اور حق کا سب سے زیادہ ساتھ چھوڑنے والے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٢٩؛حدیث نمبر ٣٠٠٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «ما كان لنبي أن يغل»(نبی کا یہ کام نہیں ہے وہ خیانت کرے"۔(آل عمران ١٦١) یہ آیت جنگ بدر کے دن (مال غنیمت میں آئی ہوئی) ایک سرخ رنگ کی چادر کھو گئی، بعض لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو تو آیت: «ما كان لنبي أن يغل» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبدالسلام بن حرب نے خصیف سے اسی جیسی روایت کی ہے، ۳- اور بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «خصيف عن مقسم» روایت کی ہے، لیکن ان لوگوں نے اس روایت میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٠؛حدیث نمبر ٣٠٠٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات مجھ سے ہوئی اور فرمایا: ”جابر! کیا بات ہے میں تجھے شکستہ دل دیکھ رہا ہوں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد شہید کر دیئے گئے، جنگ احد میں ان کے قتل کا سانحہ پیش آیا، اور وہ بال بچے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جس کے ہمراہ تمہارے والد کے ساتھ اللہ تعالی نے ملاقات کی؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے ساتھ حجاب کے پیچھے سے کلام کیا (لیکن) اس نے تمہارے باپ کو زندہ کیا، پھر ان سے (بغیر پردہ کے) آمنے سامنے بات کی، کہا: اے میرے بندے! مجھ سے کسی چیز کے حاصل کرنے کی تمنا و آرزو کر، میں تجھے دوں گا، انہوں نے کہا: رب! مجھے دوبارہ زندہ فرما، تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا: میری طرف سے یہ فیصلہ پہلے ہو چکا ہے «أنهم إليها لا يرجعون» کہ لوگ دنیا میں دوبارہ نہ بھیجے جائیں گے“، راوی کہتے ہیں: آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» جن لوگوں کو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا ہے تم انہیں مردہ ہرگز گمان نہ کرو)(آل عمران ١٦٩)اسی سلسلہ میں نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل نے اس حدیث کا کچھ حصہ جابر سے روایت کیا ہے، ۳- اور اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں، ۴- اسے علی بن عبداللہ بن مدینی اور کئی بڑے محدثین نے موسیٰ بن ابراہیم کے واسطہ سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٠؛حدیث نمبر ٣٠١٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون»"جن لوگوں کو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تم انہیں ہرگز مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں")(آل عمران ١٦٩)کی تفسیر پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: لوگو! سن لو، ہم نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) اس کی تفسیر پوچھی تھی تو ہمیں بتایا گیا کہ شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں ہیں، جنت میں جہاں چاہتی گھومتی پھرتی ہیں اور شام میں عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا : ”تمہیں کوئی چیز مزید چاہیئے تو میں عطا کروں؟“ انہوں نے کہا: رب! ہمیں مزید کچھ نہیں چاہیئے۔ ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں گھومتی ہیں۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دوبارہ مخاطب کر کے فرمایا: ”کیا تمہیں مزید کچھ چاہیئے تو میں عطا کر دوں؟" ان (شہدا) نے جب یہ دیکھا انہیں ایسے ترک نہیں کیا جائے گا(یعنی انہیں فرمائش کرنی ہوگی) تو انہوں نے کہا: ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں دوبارہ لوٹا دے، تاکہ ہم دنیا میں واپس چلے جائیں۔ پھر تیری راہ میں دوبارہ قتل کئے جائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ایک اور سند سے ابن ابی عمر نے حضرت ابن مسعود سے اسی طرح روایت کی، مگر اس میں اتنا اضافہ کیا کہ ”ہمارا سلام ہمارے نبی سے کہہ دیں اور یہ بھی بتا دیں کہ ہم (اپنے رب سے) راضی و خوش ہیں اور وہ ہم سے راضی و خوش ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (یعنی: اوپر والی سند سے، کیونکہ دوسری سند میں انقطاع ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣١؛حدیث نمبر ٣٠١١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں ایک سانپ ڈال دے گا“، پھر اس کے مصداق کے طور پر انہوں نے ہمارے سامنے اللہ اس کتاب کی یہ ایت تلاوت کی «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله»(" اللہ تعالی نے جن لوگوں کو اپنے فضل کے تحت عطا کیا ہے جو لوگ اس حوالے سے بخل سے کام لیتے ہیں وہ ہرگز یہ گمان نہ کرے")آل عمران ١٨٠)پڑھی راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اس کی مناسبت سے یہ آیت «سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة»(" ان لوگوں نے جو چیز بخل کے طور پر خرچ نہیں کی قیامت کے دن وہ طوق کے طور پر ان کی گردن میں ڈال دی جائے گی")تلاوت فرمائی، اور فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا مال جھوٹی قسم کھا کر لے لے وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے برہم (اور سخت غصے میں) ہو گا“، پھر آپ نے یہ آیت: «إن الذين يشترون بعهد الله»( بے شک جو لوگ اللہ تعالی کے عہد کے عوض میں خریدتے ہیں)(آل عمران ٧٧) پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٢؛حدیث نمبر ٣٠١٢)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک کوڑے برابر جگہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، اس کو سمجھنے کے لیے چاہو تو یہ تلاوت کر سکتے ہو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور»پس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا بیشک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے“ (آل عمران: ۱۸۵)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٢؛حدیث نمبر ٣٠١٣)
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے انہیں بتایا کہ مروان بن حکم نے اپنے دربان ابورافع سے کہا:حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے کہو، اگر اپنے کیے پر خوش ہونے والا اور بن کیے پر تعریف چاہنے والا ہر شخص سزا کا مستحق ہو جائے، تب تو ہم سب ہی مستحق سزا بن جائیں گے،حضرت ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: تمہیں اس آیت سے کیا مطلب؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، پھر ابن عباس رضی الله عنہما نے یہ آیت «وإذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه»اور اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے جب عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں“ (آل عمران: ۱۸۷) پڑھی اور «لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا»وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا، اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں“ (آل عمران: ۱۸۸)۔ کی تلاوت کی۔ اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (یہود) سے کسی چیز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے وہ چیز چھپا لی، اور اس سے ہٹ کر کوئی اور چیز بتا دی اور چلے گئے، پھر آپ پر یہ ظاہر کیا کہ آپ نے ان سے جو کچھ پوچھا تھا اس کے متعلق انہوں نے بتا دیا ہے، اور آپ سے اس کی تعریف سننی چاہی، اور انہوں نے اپنی کتاب سے چھپا کر آپ کو جو جواب دیا اور آپ نے انہیں جو مخاطب کر لیا اس پر خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ؛سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٣؛حدیث نمبر ٣٠١٤)
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو تشریف لائے اس وقت مجھ پر بے ہوشی طاری تھی، پھر جب مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: میں اپنے مال میں کس طرح تقسیم کروں؟ آپ یہ سن کر خاموش رہے، مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیات «يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين»"اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے“ (النساء: ۱۱)۔ نازل ہوئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے کئی اور لوگوں نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کیا ہے۔ ایک اور سند سے ابن منکدر نے حضرت جابر کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ فضل بن صباح کی حدیث میں اس روایت سے کچھ زیادہ ہی باتیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٤؛حدیث نمبر ٣٠١٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ اوطاس کے موقع پر غنیمت میں ہمیں کچھ ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے مشرک شوہر موجود تھے کچھ مسلمانوں نے عورتوں سے صحبت کرنے کو مکروہ جانا تو اللہ تعالیٰ نے آیت «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم»اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں“ (النساء: ۲۴) نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٤؛حدیث نمبر ٣٠١٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جنگ اوطاس میں ہمیں کچھ ایسی قیدی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے شوہر ان کی قوم میں موجود تھے، تو لوگوں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اس پر آیت «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ثوری نے عثمان بتی سے اور عثمان بتی نے ابوالخلیل سے اور ابوالخلیل نے حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی، امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں علقمہ سے روایت کا ذکر نہیں ہے۔ (جب کہ پچھلی سند میں ہے) اور میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس حدیث میں ابوعلقمہ کا ذکر کیا ہو سوائے ہمام کے، ۴- ابوالخلیل کا نام صالح بن ابی مریم ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٥؛حدیث نمبر ٣٠١٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبیرہ گناہ: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، (ناحق) کسی کو قتل کرنا، اور جھوٹ بولنا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس کو روح بن عبادہ نے بھی شعبہ یہ روایت کیا ہے، لیکن (عبیداللہ کی جگہ عبداللہ بن ابی بکر کہا ہے، (عبیداللہ ہی صحیح ہے) لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٥؛حدیث نمبر ٣٠١٨)
حضرت ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی دینا، یا جھوٹی بات کہنا“، آپ یہ بات باربار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کاش آپ خاموش ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٥؛حدیث نمبر ٣٠١٩)
حضرت عبداللہ بن انیس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ہے، جھوٹی قسم کھانا۔ تو جو شخص اللہ تعالی کے نام کی جھوٹی قسم اٹھائے گا اور (اسی پر فیصلہ کا انحصار ہے) پھر اس نے اس میں مچھر کے پر کے برابر جھوٹ شامل کر دیا تو اس کے دل میں ایک (کالا) نکتہ ڈال دیا جائے گا جو قیامت تک قائم اور باقی رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوامامہ انصاری ثعلبہ کے بیٹے ہیں اور ان کا نام ہمیں نہیں معلوم ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٦؛حدیث نمبر ٣٠٢٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبیرہ گناہوں میں یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، یا کہا: جھوٹی قسم کھانا“۔ اس میں شعبہ کو شک ہو گیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٦؛حدیث نمبر ٣٠٢١)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مرد جہاد میں شریک ہوتے ہیں، عورتیں جہاد میں شریک نہیں ہوتے، ہم عورتوں کو آدھی میراث ملتی ہے (یعنی مرد کے حصے کا آدھا) تو اللہ تعالیٰ نے آیت «ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم على بعض»”اور اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض کے اوپر جو برتری دی ہے اس کی تمنا نہ کرو“ (النساء: ۳۲)، نازل فرمائی۔ مجاہد کہتے ہیں: انہیں کے بارے میں آیت «إن المسلمين والمسلمات»بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں …“ (الاحزاب: ۳۵)۔ بھی نازل ہوئی ہے، حضرت ام سلمہ پہلی مسافرہ ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ آئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ مرسل حدیث ہے، ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے ابن ابی نجیح کے واسطہ سے مجاہد سے مرسلاً روایت کیا ہے، کہ حضرت ام سلمہ نے اس اس طرح کہا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٧؛حدیث نمبر ٣٠٢٢)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول! میں عورتوں کی ہجرت کا ذکر کلام پاک میں نہیں سنی ، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أني لا أضيع عمل عامل منكم من ذكر أو أنثى بعضكم من بعض»”تم میں سے کسی عمل صالح کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کروں گا، تم آپس میں ایک دوسرے کا حصہ ہو“ (آل عمران: ۱۹۵) نازل فرمائی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٧؛حدیث نمبر ٣٠٢٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء میں سے تلاوت کی، جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا»" اس وقت کیا عالم ہوگا جب ہم ہر امت میں سے شہید لائیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ کے طور پر لائیں گے")(النساء ٤١)پر پہنچا تو رسول اللہ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا (کہ بس کرو، آگے نہ پڑھو) میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابولأحوص نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے اور ابراہیم نے علقمہ کے واسطہ سے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے، اور حقیقت میں وہ سند یوں ہے «إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله» ( «عن علقمة» نہیں)۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٧؛حدیث نمبر ٣٠٢٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کے سامنے قرآن پڑھوں قرآن تو آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟، آپ نے فرمایا: ” میں اسے دوسرے کی زبانی سنوں مجھے یہ بات پسند ہے“، تو میں نے سورۃ نساء پڑھی، جب میں آیت: «وجئنا بك على هؤلاء شهيدا»"ہم تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے"(النساء ٤١)پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوالا ٔحوص کی روایت سے صحیح تر ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٨؛حدیث نمبر ٣٠٢٥)
ایک اور سند سے ابن مبارک نے اور ابن مبارک نے سفیان کے واسطہ سے اعمش سے معاویہ بن ہشام کی حدیث جیسی حدیث روایت کی۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کر دیں، اور اسی دوران نماز کا وقت آ گیا، تو لوگوں نے مجھے (امامت کے لیے) آگے بڑھا دیا، میں نے پڑھا «قل يا أيها الكافرون لا أعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» ”اے نبی! کہہ دیجئیے: کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہم اسی کو پوجتے ہیں جنہیں تم پوجتے ہو“، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ”اے ایمان والو! جب تم نشے میں ہو، تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو“ (النساء: ۴۳)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٨؛حدیث نمبر ٣٠٢٦)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے (ان کے والد) حضرت زبیر بن العوام رضی الله عنہ سے، حرہ کی نالی کے معاملہ میں، جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، جھگڑا کیا، انصاری نے حضرت زبیر رضی الله عنہ سے کہا کہ پانی کو بہنے دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے، حضرت زبیر نے انکار کیا، پھر وہ لوگ اس جھگڑے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر سے کہا: زبیر! تم (اپنا کھیت) سینچ کر پانی پڑوسی کے کھیت میں جانے دو، (یہ سن کر) انصاری غصہ ہو گیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ وہ (زبیر) آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ (یہ سن کر) آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا آپ نے کہا: زبیر! اپنا کھیت سینچ لو، اور پانی اتنا بھر لو کہ منڈیروں تک پہنچ جائے“۔ زبیر کہتے ہیں: قسم اللہ کی میں گمان کرتا ہوں کہ آیت: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» ”سو قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں“ (النساء: ۶۵)۔ اسی مقدمہ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابن وہب نے بطریق: «الليث بن سعد ويونس عن الزهري عن عروة عن عبد الله بن الزبير» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۲- اور شعیب بن ابی حمزہ نے بطریق: «الزهري عن عروة عن الزبير» روایت کی ہے اور انہوں نے اپنی روایت میں عبداللہ بن زبیر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ایک اور سند سے ابن مبارک نے اور ابن مبارک نے سفیان کے واسطہ سے اعمش سے معاویہ بن ہشام کی حدیث جیسی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٨؛حدیث نمبر ٣٠٢٧)
حضرت عبداللہ بن یزید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ آیت: «فما لكم في المنافقين فئتين»"تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو“ (النساء: ۸۸)۔کی تفسیر کے سلسلے میں کہتے ہیں احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ (ساتھی یعنی منافق میدان جنگ سے) لوٹ آئے تو لوگ ان کے سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا: انہیں قتل کر دو، اور دوسرے فریق نے کہا: نہیں، قتل نہ کرو تو یہ آیت «فما لكم في المنافقين فئتين» نازل ہوئی، اور آپ نے فرمایا: ”مدینہ پاکیزہ شہر ہے، یہ ناپاکی و گندگی کو ایسے دور کر دیتا ہے جیسے آگ لوہے کی ناپاکی (میل و زنگ) کو دور کر دیتی ہے۔ (یہ منافق یہاں رہ نہ سکیں گے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حضرت عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ خطمی ہیں اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٣٩؛حدیث نمبر ٣٠٢٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، (یہ کہتا ہوا) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم»"اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا“ (النساء: ۹۳) تلاوت کی، اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہوئی ہے اور نہ ہی تبدیل، تو پھر اس کی توبہ کیوں کر قبول ہو گی؟۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے عمر بن دینار کے واسطہ سے ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٠؛حدیث نمبر ٣٠٢٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بنو سلیم کا ایک آدمی صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا، اس کے ساتھ اس کی بکریاں بھی تھیں، اس نے ان لوگوں کو سلام کیا، ان لوگوں نے کہا: اس نے تم لوگوں کی پناہ لینے کے لیے تمہیں سلام کیا ہے، پھر ان لوگوں نے بڑھ کر اسے قتل کر دیا، اس کی بکریاں اپنے قبضہ میں لے لیں۔ اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «يا أيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا» ”اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو(معاملات کی)چھان بین کر لیا کرو اور جو تم سے سلام کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں“ (النساء: ۹۴) نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٠؛حدیث نمبر ٣٠٣٠)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھے رہ جانے والے مومن برابر نہیں“ (النساء: ۹۵) نازل ہوئی تو حضرت عمرو بن ام مکتوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ نابینا تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں، میں تو اندھا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «غير أولي الضرر» نازل فرمائی، یعنی مریض اور معذور لوگوں کو چھوڑ کر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس شانہ کی ہڈی اور دوات لے آؤ (یا یہ کہا) تختی اور دوات لے آؤ کہ میں لکھا کر دے دوں کہ تم معذور لوگوں میں سے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس روایت میں حضرت عمرو بن ام مکتوم رضی الله عنہ کہا گیا ہے، انہیں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم بھی کہا جاتا ہے، وہ عبداللہ بن زائدہ ہیں، اور ام مکتوم ان کی ماں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٠؛حدیث نمبر ٣٠٣١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر»" اہل ایمان میں سے بیٹھے ہوئے لوگ جنہیں کوئی ضرر نہ ہو وہ برابر نہیں ہے"(النساء ٩٥)کی تفسیر میں کہتے ہیں: جب جنگ بدر کا موقع آیا تو اس موقع پر یہ آیت جنگ بدر میں شریک ہونے والے اور نہ شریک ہونے والے مسلمانوں کے متعلق نازل ہوئی۔ تو حضرت عبداللہ بن جحش اور ابن ام مکتوم رضی الله عنہما دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم دونوں اندھے ہیں کیا ہمارے لیے رخصت ہے کہ ہم جہاد میں نہ جائیں؟ تو آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر»" نازل ہوئی، اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے۔ ان بیٹھے رہنے والوں سے مراد اس آیت میں غیر معذور لوگ ہیں، باقی رہے معذور لوگ تو وہ مجاہدین کے برابر ہیں۔ اللہ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر اجر عظیم کے ذریعہ فضیلت دی ہے۔ اور بیٹھے رہنے والے مومنین پر اپنی جانب سے ان کے درجے بڑھا کر فضیلت دی ہے۔ اور یہ بیٹھے رہنے والے مومنین وہ ہیں جو بیمار و معذور نہیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- مقسم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عبداللہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں اور مقسم کی کنیت ابوالقاسم ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤١؛حدیث نمبر ٣٠٣٢)
حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو مسجد میں بیٹھا ہوا دیکھا تو میں بھی آگے بڑھ کر ان کے پہلو میں جا بیٹھا انہوں نے ہمیں بتایا کہ حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں املا کرایا «(لا يستوي القاعدون من المؤمنين» «والمجاهدون في سبيل الله» ”گھروں میں بیٹھے رہنے والے مسلمان، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے“(النساء ٩٥)اسی دوران حضرت ابن ام مکتوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ پہنچے اور آپ اس آیت کا ہمیں املا کرا رہے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی، اگر میں جہاد کی طاقت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا، وہ نابینا شخص تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر آیت «غير أولي الضرر» نازل فرمائی اور جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت آپ کی ران (قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے) میری ران پر تھی، وہ (نزول وحی کے دباؤ سے) بوجھل ہو گئی، لگتا تھا کہ میری ران ٹوٹ جائے گی۔ پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو اللہ تعالی نے آپ پر یہ الفاظ نازل کیے تھے: " جنہیں کوئی ضرر نہ ہو" ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی راویوں نے زہری سے اور زہری نے سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- معمر نے زہری سے یہ حدیث قبیصہ بن ذویب کے واسطہ سے، قبیصہ نے زید بن ثابت سے روایت کی ہے، اور اس حدیث میں ایک روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کی ایک تابعی سے ہے، روایت کیا ہے سہل بن سعد انصاری (صحابی) نے مروان بن حکم (تابعی) سے۔ اور مروان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے، وہ تابعی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٢؛حدیث نمبر ٣٠٣٣)
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم» ” اگر تمہیں خوف ہو تو نماز کو مختصر کر لیا کرو“ (النساء: ۱۰۱)، اور اب تو لوگ امن و امان میں ہیں (پھر مختصر کیوں کر جائز ہو گی؟)حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا: جس بات پر تمہیں حیرت ہوئی وہ مجھے بھی حیرت میں ڈال چکی ہے، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”یہ اللہ کی جانب سے تمہارے لیے ایک صدقہ ہے جو اللہ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، پس تم اس کے صدقے کو قبول کر لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٢؛حدیث نمبر ٣٠٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضجنان اور عسفان (نامی مقامات) کے درمیان قیام فرما ہوئے، مشرکین نے کہا: ان کے یہاں ایک نماز ہوتی ہے جو انہیں اپنے باپ بیٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے، اور وہ نماز عصر ہے، تو تم پوری طرح تیاری کر لو پھر ان پر یک بارگی ٹوٹ پڑو۔ (اس پر) حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو حکم دیا کہ اپنے صحابہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں (ان میں سے) ایک گروہ کے ساتھ آپ نماز پڑھیں اور دوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لے کر کھڑا رہے۔ پھر دوسرے گروہ کے لوگ آئیں اور آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں پھر یہ (پہلے گروہ والے لوگ) اپنی ڈھالیں اور ہتھیار لے کر ان کے پیچھے کھڑے رہیں اس طرح ان سب کی ایک ایک رکعت ہو گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوں گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے عبداللہ بن شقیق کی روایت سے جسے وہ ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، ابن عباس، جابر، ابوعیاش زرقی، ابن عمر، حذیفہ، ابوبکرہ اور سہل بن ابوحشمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ابوعیاش کا نام زید بن صامت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٣؛حدیث نمبر ٣٠٣٥)
حضرت قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (انصار) میں سے ایک خاندان ایسا تھا، جنہیں بنو ابیرق کہا جاتا تھا۔ اور وہ تین بھائی تھے، بشر، بشیر اور مبشر، بشیر منافق تھا، شعر کہتا تھا اور صحابہ کی ہجو کرتا تھا، پھر ان کو بعض عرب کی طرف منسوب کر کے کہتا تھا: فلان نے ایسا ایسا کہا، اور فلاں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ صحابہ نے یہ شعر سنا تو کہا: اللہ کی قسم! یہ کسی اور کے نہیں بلکہ اسی خبیث کے کہے ہوئے ہیں - یا جیسا کہ راوی نے «خبیث» کی جگہ «الرجل» کہا - انہوں (یعنی صحابہ) نے کہا: یہ اشعار ابن ابیرق کے کہے ہوئے ہیں، وہ لوگ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں ہی میں محتاج اور فاقہ زدہ لوگ تھے، مدینہ میں لوگوں کا کھانا کھجور اور جو ہی تھا، جب کسی شخص کے یہاں مالداری و کشادگی ہو جاتی اور کوئی غلوں کا تاجر شام سے سفید آٹا (میدہ) لے کر آتا تو وہ مالدار شخص اس میں سے کچھ خرید لیتا اور اسے اپنے کھانے کے لیے مخصوص کر لیتا، اور بال بچے کھجور اور جو ہی کھاتے رہتے۔ (ایک بار ایسا ہوا) ایک مال بردار شتربان شام سے آیا تو میرے چچا رفاعہ بن زید نے میدے کی ایک بوری خرید لی اور اسے اپنے اسٹاک روم میں رکھ دی، اور اس اسٹور روم میں ہتھیار، زرہ اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی۔ ان پر ظلم و زیادتی یہ ہوئی کہ گھر کے نیچے سے اس اسٹاک روم میں نقب لگائی گئی اور راشن اور ہتھیار سب کا سب چرا لیا گیا، صبح کے وقت میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہا: میرے بھتیجے آج کی رات تو مجھ پر بڑی زیادتی کی گئی۔ میرے اسٹور روم میں نقب لگائی گئی ہے اور ہمارا راشن اور ہمارا ہتھیار سب کچھ چرا لیا گیا ہے۔ ہم نے محلے میں پتہ لگانے کی کوشش کی اور لوگوں سے پوچھ تاچھ کی تو ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنی ابیرق کو آج رات دیکھا ہے، انہوں نے آگ جلا رکھی تھی، اور ہمارا خیال ہے کہ تمہارے ہی کھانے پر (جشن) منا رہے ہوں گے۔ (یعنی چوری کا مال پکا رہے ہوں گے) جب ہم محلے میں پوچھ تاچھ کر رہے تھے تو ابوابیرق نے کہا: قسم اللہ کی! ہمیں تو تمہارا چور لبید بن سہل ہی لگتا ہے، لبید ہم میں ایک صالح مرد اور مسلمان شخص تھے، جب لبید نے سنا کہ بنو ابیرق اس پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی، اور کہا میں چور ہوں؟ قسم اللہ کی! میری یہ تلوار تمہارے بیچ رہے گی یا پھر تم اس چوری کا پتہ لگا کر دو۔ لوگوں نے کہا: جناب! آپ اپنی تلوار ہم سے دور ہی رکھیں، آپ چور نہیں ہو سکتے، ہم نے محلے میں مزید پوچھ تاچھ کی، تو ہمیں اس میں شک نہیں رہ گیا کہ بنو ابیرق ہی چور ہیں۔ میرے چچا نے کہا: بھتیجے! اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے اور آپ سے اس (حادثے) کا ذکر کرتے (تو ہو سکتا ہے میرا مال مجھے مل جاتا) قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: ہمارے ہی لوگوں میں سے ایک گھر والے نے ظلم و زیادتی کی ہے۔ انہوں نے ہمارے چچا رفاعہ بن زید (کے گھر) کا رخ کیا ہے اور ان کے اسٹور روم میں نقب لگا کر ان کا ہتھیار اور ان کا راشن (کھانا) چرا لے گئے ہیں، تو ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ہتھیار ہمیں واپس دے دیں۔ راشن (غلے) کی واپسی کا ہم مطالبہ نہیں کرتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بارے میں مشورہ (اور پوچھ تاچھ) کے بعد ہی کوئی فیصلہ دوں گا“۔ جب یہ بات بنو ابیرق نے سنی تو وہ اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس آئے، اس شخص کو اسیر بن عروہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس معاملے میں بات چیت کی اور محلے کے کچھ لوگ بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ ایک رائے ہو گئے۔ اور ان سب نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر) کہا: اللہ کے رسول! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا دونوں ہم ہی لوگوں میں سے ایک گھر والوں پر جو مسلمان ہیں اور بھلے لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی ثبوت کے چوری کا الزام لگاتے ہیں۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ سے بات چیت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم نے ایک ایسے گھرانے پر الزام لگایا ہے جن کے مسلمان اور نیک ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے، تم نے کسی ثبوت کے بغیر چوری کا الزام لگا دیا ہے، قتادہ کہتے ہیں میں واپس آگیا۔ اور میری یہ خواہش ہوئی کہ کاش میرا بھی کچھ مال چوری ہو جاتا ہے لیکن میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کرتا پھر میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا، بھتیجے کیا ہوا میں نے انہیں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مجھ سے فرمایا تھا تو انہوں نے کہا اب اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے تو تھوڑے ہی عرصے بعد قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی:(ترجمہ)"بے شک ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان انصاف کرو اس کے مطابق جو اللہ تعالی نے تمہارے سامنے ظاہر کیا ہے اور تم خیانت کرنے والوں کی طرف سے پیروکار نہ بنو"(النساء ١٠٥) یہاں خیانت کرنے والوں سے مراد بنو ابیرق ہیں۔ "تم نے جو کہا اس کے بارے میں اللہ تعالی سے مغفرت کرو"(النساء ١٠٦)یعنی تم نے قتادہ سے جو کہا ہے۔ " بے شک اللہ تعالی مغفرت کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے"(النساء ٢٣)، اور تم ان لوگوں کی طرف سے فریق نہ بنو جو اپنی ذات کے ساتھ خیانت کرتے ہیں بے شک اللہ تعالی خیانت کرنے والوں کو اور گناہ گار شخص کو پسند نہیں کرتا، وہ لوگ انسانوں سے چھپ سکتے ہیں لیکن اللہ تعالی سے نہیں چھپ سکتے"(النساء ١٠٨)یہ ایت یہاں تک ہے غفورا رحیما۔(النساء ٢٣) " یعنی اگر وہ اللہ تعالی سے مغفرت کا لبید کرتے تو اللہ تعالی ان کی مغفرت کر دے گا جو شخص گناہ کرے گا تو وہ اپنے خلاف کمائے گا"(النساء ١٠١)یہ آیت یہاں تک ہے،" کھلا گناہ"(النساء ٢٠)اس سے مراد ان لوگوں کا لبید پر الزام لگانا تھا۔ " اور اگر اللہ تعالی کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی"(النساء ١١٣)یہ آیت یہاں تک ہے۔ " تو ہم عنقریب انہیں عظیم اجر عطا کریں گے"۔(النساء ٧٤) جب یہ آیات نازل ہوئیں تو وہ (بنی ابیرق) ہتھیار رسول اللہ کے پاس لے آئے۔ اور آپ نے رفاعہ کو لوٹا دیئے، قتادہ کہتے ہیں: میرے چچا بوڑھے تھے اور اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت ہی میں ان کی نگاہیں کمزور ہو چکی تھیں، اور میں سمجھتا تھا کہ ان کے ایمان میں کچھ خلل ہے لیکن جب میں ہتھیار لے کر اپنے چچا کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ میں دیتا ہوں، اس وقت میں نے جان لیا (اور یقین کر لیا) کہ چچا کا اسلام پختہ اور درست تھا (اور ہے) جب قرآن کی آیتیں نازل ہوئی تو بشیر مشرکوں میں جا شامل ہوا۔ اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے پاس جا ٹھہرا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت ترجمہ"اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا۔(النساء ١١٥،١١٦) جب وہ سلافہ کے پاس جا کر ٹھہرا تو حسان بن ثابت رضی الله عنہ نے اپنے چند اشعار کے ذریعہ اس کی ہجو کی، (یہ سن کر) اس نے سدافہ بنت سعد کا سامان اپنے سر پر رکھ کر گھر سے نکلی اور میدان میں پھینک آئی۔ پھر (اس سے) کہا: تم نے ہمیں حسان کے شعر کا تحفہ دیا ہے؟ تم سے مجھے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم محمد بن سلمہ حرانی کے سوا کسی کو نہیں جانتی جس نے اسے مرفوع کیا ہو، ۲- یونس بن بکیر اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو محمد بن اسحاق سے اور محمد بن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے، ۳- قتادہ بن نعمان، ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے اخیافی بھائی ہیں، ۴- ابو سعید خدری سعد بن مالک بن سنان ہیں۔ ۳- اور ابوعیاش کا نام زید بن صامت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر ٢٤٣ تا ٢٤٧؛حدیث نمبر ٣٠٣٦)
حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت: «إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء» ” بے شک اللہ تعالی اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے اس کے علاوہ جس کی چاہے مغفرت فرمائے گا“ (النساء: ۱۱۶)، سے زیادہ محبوب و پسندیدہ نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے، ۳- ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں تابعی ہیں اور ابن عمر اور ابن زبیر سے ان کا سماع ہے، ابن مہدی ان پر کچھ تنقید کرتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٧؛حدیث نمبر ٣٠٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «من يعمل سوءا يجز به» ”جو کوئی برائی کرے گا ضرور اس کا بدلہ پائے گا“ (النساء: ۱۲۳)، نازل ہوئی تو یہ بات مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، اس کی شکایت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو آپ نے فرمایا: ”حق کے قریب ہو جاؤ، اور سیدھے رہو، مومن کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اس میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کو کوئی کانٹا چبھ جائے یا اسے کوئی مصیبت پہنچ جائے (تو اس کے سبب سے بھی اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٧؛حدیث نمبر ٣٠٣٨)
حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اس وقت آپ پر یہ آیت: «من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا نصيرا»(ترجمہ" جو شخص برائی کرے گا اس کو اس کا بدلہ مل جائے گا اور وہ شخص اپنے لیے اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی ولی یا مددگار نہیں پائے گا)(سورہ نساء ١٢٣)نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوبکر! کیا میں تمہیں ایک آیت جو (ابھی) مجھ پر اتری ہے نہ پڑھا دوں؟“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں: تو آپ نے مجھے (مذکورہ آیت) پڑھائی۔ میں نہیں جانتا کیا بات تھی، مگر میں نے اتنا پایا کہ کمر ٹوٹ رہی ہے تو میں نے اس کی وجہ سے انگڑائی لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کیا حال ہے!“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، بھلا ہم میں کون ہے ایسا جس سے کوئی برائی سرزد نہ ہوتی ہو؟ اور حال یہ ہے کہ ہم سے جو بھی عمل صادر ہو گا ہمیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(گھبراؤ نہیں) ابوبکر تم اور سارے مومن لوگ یہ سزائیں تمہیں اسی دنیا ہی میں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ جب تم اللہ سے ملو گے تو تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہ ہو گا، البتہ دوسروں کا حال یہ ہو گا کہ ان کی برائیاں جمع اور اکٹھی ہوتی رہیں گی جن کا بدلہ انہیں قیامت کے دن دیا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند میں کلام ہے، ۲- موسیٰ بن عبیدہ حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور احمد بن حنبل نے ضعیف کہا ہے۔ اور مولی بن سباع مجہول ہیں، ۳- اور یہ حدیث اس سند کے علاوہ سند سے ابوبکر سے مروی ہے، لیکن اس کی کوئی سند بھی صحیح نہیں ہے، ۴- اس باب میں حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے بھی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٨؛حدیث نمبر ٣٠٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت سودہ رضی الله عنہا کو اندیشہ ہوا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق دے دیں گے، تو انہوں نے عرض کیا: آپ ہمیں طلاق نہ دیں، اور مجھے اپنی بیویوں میں شامل رہنے دیں اور میری باری کا دن حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو دے دیں، تو آپ نے ایسا ہی کیا، اس پر آیت «فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير» ”کوئی حرج نہیں کہ دونوں (میاں بیوی) صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے“ (النساء: ۱۲۸)، تو جس بات پر بھی انہوں نے صلح کر لی، وہ جائز ہے۔ لگتا ہے کہ یہ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کا قول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٩؛حدیث نمبر ٣٠٤٠)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سب سے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة»(ترجمہ" لوگ تم سے حکم دریافت کرتے ہیں تم یہ فرما دو! کلالہ کے بارے میں اللہ تعالی حکم دیتا ہے"(النساء ٢٧٦) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٩؛حدیث نمبر ٣٠٤١)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» کی تفسیر کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ تمہارے لیے گرمیوں میں نازل ہونے والی آیت کافی ہے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ؛سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٤٩؛حدیث نمبر ٣٠٤٢)
حضرت طارق بن شہاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے کہا: امیر المؤمنین! اگر یہ آیت «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا“ (المائدہ: ۳)، ہمارے اوپر (ہماری توریت میں) نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے جس دن وہ نازل ہوئی تھی، حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے کہا: مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی۔ یہ آیت یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٠؛حدیث نمبر ٣٠٤٣)
عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما نے آیت «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» پڑھی، ان کے پاس ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا: اگر یہ آیت ہم (یہودیوں) پر نازل ہوئی ہوتی تو جس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے اس دن کو ہم عید (تہوار) کا دن بنا لیتے یہ سن کر حضرت ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ آیت عید ہی کے دن نازل ہوئی ہے۔ اس دن جمعہ اور عرفہ کا دن تھا۔ (اور یہ دونوں دن مسلمانوں کی عید کے دن ہیں)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٠؛حدیث نمبر ٣٠٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحمان کا داہنا ہاتھ خزانہ سے بھرا ہوا ہے، (کبھی خالی نہیں ہوتا) بخشش و عطا کرتا رہتا ہے، رات و دن لٹانے اور اس کے دیتے رہنے سے بھی کمی نہیں ہوتی، آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے دیکھا (سوچا؟) جب سے اللہ نے آسمان پیدا کیے ہیں کتنا خرچ کر رہا ہے؟ پھر بھی اس کے دست عنایت میں کوئی کمی نہیں آئی، اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے جسے وہ جھکاتا اور بلند کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث اس آیت «وقالت اليهود يد الله مغلولة غلت أيديهم ولعنوا بما قالوا بل يداه مبسوطتان ينفق كيف يشاء»(ترجمہ یہودیوں نے یہ کہا اللہ تعالی کہا بندہ ہوا ہے حالانکہ ان یہودیوں کے اپنے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں"(المائدہ ٦٣)کی تفسیر ہے، اس حدیث کے بارے میں ائمہ دین کی روایت یہ ہے کہ ان پر ویسے ہی ایمان لائیں گے جیسے کہ ان کا ذکر آیا ہے، ان کی نہ کوئی تفسیر کی جائے گی اور نہ ہی اپنے ذہن سے کوئی بات بیان کی جائے گی۔ ایسا ہی بہت سے ائمہ کرام: سفیان ثوری، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، ابن مبارک وغیرہم نے کہا ہے۔ یہ چیزیں ایسی ہی بیان کی جائیں گی جیسی بیان کی گئی ہیں اور ان پر ایمان رکھا جائے گا لیکن ان کی کیفیت کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٠؛حدیث نمبر ٣٠٤٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آیت «والله يعصمك من الناس» ”اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے محفوظ رکھے گا“ (المائدہ: ۶۷)، نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور پہرہ داروں سے کہا: تم (اپنے گھروں کو) لوٹ جاؤ کیونکہ میری حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی ہے۔ ایک اورسند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ بعض نے یہ حدیث جریری کے واسطہ سے، عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و نگہبانی کی جاتی تھی، اور انہوں نے اس روایت میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥١؛حدیث نمبر ٣٠٤٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہو گئے تو انہیں ان کے علماء نے روکا مگر وہ لوگ باز نہ آئے، اس کے باوجود وہ (علماء) ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھ بیٹھے، ان کے ساتھ مل کر کھائے پئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل ایک جیسے کر دئے اور ان پر حضرت داؤد علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبان سے لعنت بھیجی، اور ایسا اس وجہ سے ہوا کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور مقررہ حدود سے آگے بڑھ جاتے تھے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ حالانکہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ”نہیں، قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! تم اس وقت تک نجات نہ پاؤ گے جب تک کہ ”تم ان ظالم کو ظلم سے روک نہ دو۔“ ان کو بھلائی کی طرف موڑ نہ دو۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: یزید نے کہا کہ سفیان ثوری اس روایت میں عبداللہ بن مسعود کا نام نہیں لیتے ہیں، ۳- یہ حدیث محمد بن مسلم بن ابی الوضاح سے بھی روایت کی گئی ہے، وہ علی بن بذیمہ سے، علی بن بذیمہ ابوعبیدہ سے اور ابوعبیدہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں، ۴- بعض راوی اسے ابوعبیدہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٢؛حدیث نمبر ٣٠٤٧)
حضرت ابوعبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں جب کوتاہیاں و برائیاں پیدا ہوئیں تو اس وقت حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا تو اسے اس گناہ کے کرنے سے روکتا، لیکن جب دوسرا دن آتا تو اسے گناہ کرتے دیکھ کر اسے روکتا نہیں تھا کیونکہ اس نے دوسرے شخص کے ساتھ کھانا ہوتا تھا، پینا ہوتا تھا، میل جول رکھنا ہوتا تھا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیئے اور انہی لوگوں کے متعلق قرآن کی یہ آیت نازل ہوا،اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون» سے لے کر «ولو كانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولكن كثيرا منهم فاسقون»(ترجمہ"بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داؤد اور عیسی بن مریم کی زبانی لعنت کی گئی یہ اس وجہ سے ہے جو انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے تجاوز کیا۔" راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایت کو تلاوت کیا اور یہاں تک تلاوت کیا: " اگر وہ لوگ اللہ تعالی اس کے نبی اور اس کی طرف سے جو نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لاتے تو کفار کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں"(المائدہ ٨١)پڑھا۔ یہ باتیں کرتے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لیکن جب گفتگو اس مقام پر پہنچی تو آپ سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”نہیں، تم نجات نہ پاؤ گے، تم عذاب الٰہی سے بچ نہ سکو گے جب تک کہ تم ظالم کا ہاتھ پکڑ نہ لو، اور اسے پوری طرح حق کی طرف موڑ نہ دو“۔ ایک اور سند سند سے محمد بن مسلم نے علی بن بذیمہ سے علی بن بذیمہ نے ابوعبیدہ سے، اور ابوعبیدہ نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٢؛حدیث نمبر ٣٠٤٨)
حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے کہا اے اللہ شراب کے بارے میں ہم پر واضح حکم بیان فرما، تو سورۃ البقرہ کی پوری آیت «يسألونك عن الخمر والميسر»"لوگ تم سے شراب اور جوے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں"(البقرہ ٢١٩)نازل ہوئی۔ (جب یہ آیت نازل ہو چکی) تو حضرت عمر رضی الله عنہ بلائے گئے اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ (یہ آیت سن کر)حضرت عمر رضی الله عنہ نے پھر کہا: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کا واضح حکم بیان فرمایا: تو سورۃ نساء کی آیت نمبر ٤٣)«يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى»" اے ایمان والو نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو" نازل ہوئی، حضرت عمر رضی الله عنہ پھر بلائے گئے اور انہیں یہ آیت بھی پڑھ کر سنائی گئی، انہوں نے پھر کہا: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کا حکم صاف صاف بیان فرما دے۔ تو سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ٩١)«إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضاء في الخمر والميسر»" "شیطان یہ چاہتا ہے کہ وہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے" یہ ایت یہاں تک ہے" تو کیا تم باز آ جاؤ گے سے" «فهل أنتم منتهون» تک نازل ہوئی، حضرت عمر رضی الله عنہ پھر بلائے گئے اور آیت پڑھ کر انہیں سنائی گئی، تو انہوں نے کہا: ہم باز رہے ہم باز رہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسرائیل سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔ مولف نے اسرائیل کے مرسل طریق سے بسند «أبي إسحق عن أبي ميسرة عمرو بن شرحبيل أن عمر بن الخطاب» روایت کی کہ آپ نے کہا: ”اے اللہ! ہمارے لیے شراب کا حکم صاف صاف بیان فرما“۔ پھر گزری ہوئی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اور یہ روایت محمد بن یوسف کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٣؛حدیث نمبر ٣٠٤٩)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ انتقال فرما گئے۔ پھر جب شراب حرام ہو گئی تو کچھ لوگوں نے کہا: ہمارے ان ساتھیوں کا کیا ہو گا جو شراب پیتے تھے اور انتقال کر گئے، تو آیت نازل ہوئی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات»"جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں“ (المائدہ: ۹۳)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے بھی ابواسحاق کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٤؛حدیث نمبر ٣٠٥٠)
ایک اور سند سے ابواسحاق نے حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ انتقال کر گئے، وہ لوگ شراب پیتے تھے، پھر شراب کی حرمت آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے کہا: ہمارے ان ساتھیوں کا کیا حال ہو گا؟ جو شراب پیتے تھے اور وہ انتقال فرما گئے ہیں؟ تو (اس وقت) آیت «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات»(المائدہ ٩٣)نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٥؛حدیث نمبر ٣٠٥١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو لوگ شراب پیتے تھے اور مر گئے ان کا کیا ہو گا؟ اس وقت آیت «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» ”جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں" (المائدہ: ۹۳)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٥؛حدیث نمبر ٣٠٥٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات»"جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں "المائدہ ٩٣)نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم انہی میں سے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٥؛حدیث نمبر ٣٠٥٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں گوشت کھا لیتا ہوں تو خواتین کی طلب زیادہ ہوجاتی ہے، مجھ پر شہوت چھا جاتی ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے آپ پر گوشت کھانا حرام کر لیا ہے۔ (اس پر) اللہ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين وكلوا مما رزقكم الله حلالا طيبا» ”اے ایمان والو! اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام مت کرو اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور جو کچھ اللہ عزوجل نے تمہیں عطا کر رکھا ہے اس میں پاکیزہ حلال کھاؤ“ (المائدہ: ۸٨)، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے اسے عثمان بن سعد سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں ہے، ۳- خالد حذاء نے بھی اس حدیث کو عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٥؛حدیث نمبر ٣٠٥٤)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا» ”جو لوگ خانہ کعبہ تک پہنچ سکتے ہوں ان پر اللہ کے حکم سے حج کرنا فرض ہے“ (آل عمران: ۹۷)، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے، لوگوں نے پھر کہا: اللہ کے رسول! کیا ہر سال فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال کے لیے فرض ہو جاتا“، پھر اللہ نے یہ آیت اتاری: «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ”اے ایمان والو! بہت سی ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار معلوم ہو“ (المائدہ: ۱۰۱)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حضرت علی رضی الله عنہ کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اور اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٦؛حدیث نمبر ٣٠٥٥)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے آپ نے فرمایا: ”تمہارا باپ فلاں ہے، راوی کہتے ہیں: پھر یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ”اے ایمان والو! ایسی چیزیں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ بیان کر دی جائیں تو تم کو برا لگے“۔(المائدہ ١٠١) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٦؛حدیث نمبر ٣٠٥٦)
حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے لوگو! تم یہ آیت تلاوت کرتے رہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو! تم پر لازم ہے کہ اپنی فکر کرو جب تم ہدایت حاصل کر چکے ہو تو گمراہ شخص تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا"(المائدہ ١٠٥)اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا بھی ہے کہ جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں پھر بھی اس کے ہاتھ پکڑ نہ لیں (اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں) تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آ جائے (اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی ایک نے یہ حدیث اسماعیل بن خالد سے مرفوعاً اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- بعض لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے بلکہ ابوبکر رضی الله عنہ کے قول کے طور پر اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے اور قیس نے حضرت ابوبکر سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٧؛حدیث نمبر ٣٠٥٧)
ابوامیہ شعبانی بیان کرتے ہیں ہیں کہ میں نے حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کے پاس آ کر پوچھا: اس آیت کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: آیت یہ ہے: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم»(المائدہ ١٠٥)انہوں نے کہا: آگاہ رہو! قسم اللہ کی تم نے اس کے متعلق ایک واقف کار سے پوچھا ہے، میں نے خود اس آیت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، آپ نے فرمایا: ”بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ لوگ بخالت کے راستے پر چل پڑے ہیں، خواہشات نفس کے پیروکار ہو گئے ہیں، دنیا کو آخرت پر ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر عقل و رائے والا بس اپنی ہی عقل و رائے پر مست اور مگن ہے تو تم خود اپنی فکر میں لگ جاؤ، اپنے آپ کو سنبھالو، بچاؤ اور عوام کو چھوڑ دو، کیونکہ تمہارے پیچھے ایسے دن آنے والے ہیں کہ اس وقت صبر کرنا (کسی بات پر جمے رہنا) ایسا مشکل کام ہو گا جتنا کہ انگارے کو مٹھی میں پکڑے رہنا، اس زمانہ میں کتاب و سنت پر عمل کرنے والے کو تم جیسے پچاس کام کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا۔ (اس حدیث کے راوی) عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: عتبہ کے سوا اور کئی راویوں نے مجھ سے اور زیادہ بیان کیا ہے۔ کہا گیا: اللہ کے رسول! (ابھی آپ نے جو بتایا ہے کہ پچاس عمل صالح کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا تو) یہ پچاس عمل صالح کرنے والے ہم میں سے مراد ہیں یا اس زمانہ کے لوگوں میں سے مراد ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس زمانہ کے، تم میں سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٧؛حدیث نمبر ٣٠٥٨)
حضرت تمیم داری رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ اس آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» اے ایمان والو!جب تم میں سے کسی کو موت آجائے تو تمہارے درمیان گواہی کا حکم ہے"(المائدہ ١٠٦)کے سلسلے میں کہتے ہیں: میرے اور عدی بن بداء کے سواء سبھی لوگ اس آیت کی زد میں آنے سے محفوظ ہیں، ہم دونوں نصرانی تھے، اسلام سے پہلے شام آتے جاتے تھے تو ہم دونوں اپنی تجارت کی غرض سے شام گئے، ہمارے پاس بنی ہاشم کا ایک غلام بھی پہنچا، اسے بدیل بن ابی مریم کہا جاتا تھا، وہ بھی تجارت کی غرض سے آیا تھا، اس کے پاس چاندی کا ایک پیالہ تھا جسے وہ بادشاہ کے ہاتھ بیچ کر اچھے پیسے حاصل کرنا چاہتا تھا، یہی اس کی تجارت کے سامان میں سب سے بڑی چیز تھی۔ (اتفاق ایسا ہوا کہ) وہ بیمار پڑ گیا، تو اس نے ہم دونوں کو وصیت کی اور ہم سے عرض کیا کہ وہ جو کچھ چھوڑ کر مرے وہ اسے اس کے گھر والوں کو پہنچا دیں۔ جب وہ مر گیا تو ہم نے یہ پیالہ لے لیا اور ہزار درہم میں اسے بیچ دیا، پھر ہم نے اور عدی بن بداء نے اسے آپس میں تقسیم کر لیا، پھر ہم اس کے بیوی بچوں کے پاس آئے اور جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ ہم نے انہیں واپس دے دیا، جب انہیں چاندی کا پیالہ نہ ملا تو انہوں نے ہم سے اس کے متعلق پوچھا، ہم نے کہا کہ جو ہم نے آپ کو لا کر دیا اس کے سوا اس نے ہمارے پاس کچھ نہ چھوڑا تھا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کے بعد میں نے اسلام قبول کر لیا، تو میں اس گناہ سے ڈر گیا، چنانچہ میں اس کے گھر والوں کے پاس آیا اور پیالہ کی صحیح خبر انہیں دے دی، اور اپنے حصہ کے پانچ سو درہم انہیں ادا کر دئیے، اور انہیں یہ بھی بتایا کہ میری طرح (عدی بن بداء) کے پاس بھی پیالہ کی قیمت کے پانچ سو درہم ہیں پھر وہ لوگ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پکڑ کر لائے، آپ نے ان سے ثبوت مانگا تو وہ لوگ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ پھر آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے اس چیز کی قسم لیں جسے اس کے دین کے اہم اور عظیم تر سمجھتے ہوں تو اس نے قسم کھا لی۔ اس پر آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» سے لے کر «أو يخافوا أن ترد أيمان بعد أيمانهم»(المائدہ ١٠٦،سے ١٠٨)تک نازل ہوئی۔ تو وہ حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ اور (بدیل کے وارثوں میں سے) ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ عدی جھوٹا ہے، پھر اس سے پانچ سو درہم چھین لیے گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند صحیح نہیں ہے، ۲- ابوالنضر جن سے محمد بن اسحاق نے یہ حدیث روایت کی ہے، وہ میرے نزدیک محمد بن سائب کلبی ہیں، ابوالنضر ان کی کنیت ہے، محدثین نے ان سے روایت کرنی چھوڑ دی ہے، وہ صاحب تفسیر ہیں (یعنی مفسرین میں جو کلبی مشہور ہیں وہ یہی شخص ہیں) میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا: محمد بن سائب کلبی کی کنیت ابوالنضر ہے، ۳- اور ہم سالم ابوالنضر مدینی کی کوئی روایت ام ہانی کے آزاد کردہ غلام صالح سے نہیں جانتے۔ اس حدیث کا کچھ حصہ مختصراً کسی اور سند سے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے (جو آگے آ رہا ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٨؛حدیث نمبر ٣٠٥٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بنی سہم کا ایک شخص، تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ (سفر پر) نکلا اور یہ سہمی (جو تمیم داری اور عدی کا ہم سفر تھا) ایک ایسی سر زمین میں انتقال کر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب اس کے دونوں ساتھی اس کا ترکہ لے کر آئے تو اس کے گھر والے (ورثاء) کو اس کے متروکہ سامان میں چاندی کا وہ پیالہ نہ ملا جس پر سونے کا جڑاؤ تھا، چنانچہ (جب مقدمہ پیش ہوا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قسم کھلائی۔ (اور انہوں نے قسم کھا لی کہ ہمیں پیالہ نہیں ملا تھا) لیکن وہ پیالہ سہمی کے گھر والوں کو مکہ میں کسی اور کے پاس مل گیا، انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے۔ تب سہمی کے وارثین میں سے دو شخص کھڑے ہوئے۔ اور انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ ہماری شہادت ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے۔ اور پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: انہیں لوگوں کے بارے میں «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم»(المائدہ ١٠٦)والی آیت نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، یہ ابن ابی زائدہ کی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٥٩؛حدیث نمبر ٣٠٦٠)
حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم پر) آسمان سے روٹی اور گوشت کا دستر خوان اتارا گیا اور حکم دیا گیا کہ خیانت نہ کریں نہ اگلے دن کے لیے ذخیرہ کریں، مگر انہوں نے خیانت بھی کی اور جمع بھی کیا اور اگلے دن کے لیے اٹھا بھی رکھا تو ان کے چہرے مسخ کر کے بندر اور سور جیسے بنا دئیے گئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ابوعاصم اور کئی دوسرے لوگوں بطریق: «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن خلاس عن عمار ابن ياسر» موقوفاً روایت کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اور ہم اسے صرف حسن بن قزعہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔ سفیان نے اس سند سے سعید بن ابی عروبہ سے اسی طرح روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ اور یہ حسن قزعہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اور ہمیں مرفوع حدیث کی کوئی اصل معلوم نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٠؛حدیث نمبر ٣٠٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی قیامت کے دن حضرت عیسی علیہ السلام کو دلیل سکھائے گا اللہ تعالی کے اس فرمان میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے«وإذ قال الله يا عيسى ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذوني وأمي إلهين من دون الله» ”جب اللہ تعالیٰ (قیامت میں) کہے گا اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو اللہ کو چھوڑ کر؟“ (المائدہ: ۱۱ے)،حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کا جواب یہ القاء کرے گا «سبحانك ما يكون لي أن أقول ما ليس لي بحق» ”پاک ہے تیری ذات: میں بھلا وہ بات کیسے کہہ سکتا ہوں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے“ (المائدہ: ۱۱٦)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٠؛حدیث نمبر ٣٠٦٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورۃ المائدہ (اور سورۃ الفتح) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: آخری سورۃ جو نازل ہوئی ہے وہ «إذا جاء نصر الله والفتح» ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛ باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ؛سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦١؛حدیث نمبر ٣٠٦٣)
حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابوجہل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے ہیں، بلکہ آپ جو (دین قرآن) لے کر آئے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فإنهم لا يكذبونك ولكن الظالمين بآيات الله يجحدون» ”وہ لوگ تجھ کو نہیں جھٹلاتے ہیں بلکہ ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں“ (الانعام: ۳۳)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے اور سفیان سے، سفیان نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے ناجیہ سے روایت کی ہے کہ ابوجہل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور اس حدیث میں حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اور یہ (مرسل) روایت زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ؛سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦١؛حدیث نمبر ٣٠٦٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ جب آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم» ”کہہ دیجئیے، وہ (اللہ) قادر ہے اس بات پر کہ وہ تم پر عذاب بھیج دے اوپر سے یا نیچے سے“ (الانعام: ٦٥)، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیری ذات کی پناہ لیتا ہوں“ پھر جب آگے «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض» ”یا وہ تمہیں گروہوں میں تقسیم کر دے یا ایک دوسرے سے لڑا دے“ (الانعام:٦٥) نازل ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں ہی باتیں (اللہ کے لیے) آسان ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ؛سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦١؛حدیث نمبر ٣٠٦٥)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم» ”تم یہ فرما دو وہ (اللہ) قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے“ (الانعام: ٦٥)، کے متعلق فرمایا: ”آگاہ رہو یہ تو ہو کر رہنے والی بات ہے اور ابھی تک اس کا وقوع و ظہور نہیں ہوا ہے“ (یعنی یہ عذاب نہیں آیا ہے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ؛سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٢؛حدیث نمبر ٣٠٦٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی آمیزش نہ کی“ (الأنعام ۸۲)، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(تم غلط سمجھے) ایسی بات نہیں ہے، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی؟ انہوں نے کہا تھا: «يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اے میرے بیٹے! شرک نہ کر، شرک بہت بڑا گناہ ہے“ (لقمان: ۱۳)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ؛سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٢؛حدیث نمبر ٣٠٦٧)
مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: اے ابوعائشہ! تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کسی نے ایک بھی کیا تو وہ اللہ پر بہت بڑی جھوٹی بات کی نسبت کی: (۱) جس نے خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے (معراج کی رات میں) اللہ کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ کی طرف غلط بات کی نسبت کی۔ کیونکہ اللہ اپنی ذات کے بارے میں کہتا ہے"بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی وہ بصارت کا ادراک کر سکتا ہے وہ لطف رکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے" (الانعام ١٠٣)دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: "کسی انسان کے بس میں یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالی اس کے ساتھ کلام کرے البتہ وحی کے ذریعے یا حجاب کے پیچھے سے اللہ اس سے کلام کر سکتا ہے“،(الشوری ٥١)(وہ کہتے ہیں) میں ٹیک لگائے ہوئے تھا اور اٹھ بیٹھا، میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے بولنے کا موقع دیجئیے اور میرے بارے میں حکم لگانے میں جلدی نہ کیجئے گا، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: «ولقد رآه نزلة أخرى» ”تو اس نے اسے دوسری مرتبہ اترتے ہوئے دیکھا“ (النجم: ۱۳) «ولقد رآه بالأفق المبين» ”بیشک انہوں نے اسے آسمان کے روشن کنارے پر دیکھا“ (التکویر: ۲۳) تب حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: قسم اللہ کی! میں وہ پہلی ذات ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ تو جبرائیل علیہ السلام تھے انہیں جس طرح پیدا کیا گیا ہے میں نے انہیں اس شکل میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے میں نے دیکھا انہوں نے اسمان اور زمین کے درمیان پوری جگہ کو گھیر لیا تھا"، (۲): اور دوسرا وہ شخص کہ جو اللہ پر جھوٹا الزام لگانے کا بڑا مجرم ہے جس نے یہ خیال کیا کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو چیزیں اتاری ہیں ان میں سے کچھ چیزیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپا لی ہیں۔ جب کہ اللہ کہتا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» ”جو چیز اللہ کی جانب سے تم پر اتاری گئی ہے اسے لوگوں تک پہنچا دو“ (النساء: ۶۷)، (۳): اور جو شخص یہ کہے وہ (یعنی نبی اکرم یا وہ شخص خود)جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا تو اس نے اللہ تعالی کی طرف بہت بڑے جھوٹ کی نسبت کی کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: "آسمانوں اور زمینوں میں موجود کوئی شخص غیب نہیں جانتا صرف اللہ جانتا ہے۔" امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ؛سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٢؛حدیث نمبر ٣٠٦٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم وہ جانور کھائیں جنہیں ہم قتل (یعنی ذبح) کرتے ہیں، اور ان جانوروں کو نہ کھائیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مارا ہے، تو اللہ نے «فكلوا مما ذكر اسم الله عليه إن كنتم بآياته مؤمنين» سے «وإن أطعتموهم إنكم لمشركون» جس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو اس میں سے کھا لو اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو"یہ آیت یہاں تک ہے" اگر تم ان کی پیروی کرو تو تم مشرک ہو جاؤ گے"(الانعام ١١٨)نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، ۳- بعض نے اسے عطا بن سائب سے اور عطاء نے سعید بن جبیر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ؛سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٣؛حدیث نمبر ٣٠٦٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ کسی ایسے صحیفے کو دیکھے جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگی ہوئی ہو،تو وہ ان آیات کو پڑھ لے: (ترجمہ)"تم فرما دو تم لوگ آگے آؤ میں تمہارے سامنے اس چیز کی تلاوت کروں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام قرار دیا ہے(الانعام ١٥١)"یہ آیت یہاں تک ہے" تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ"۔(الأعراف١٧١)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ؛سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٤؛حدیث نمبر ٣٠٧٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «أو يأتي بعض آيات ربك» ”یا تیرے رب کی کوئی نشانی آ جائیں“ (الانعام: ۱۵۸)، کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد سورج کا پچھم سے نکلنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو روایت کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ؛سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٤؛حدیث نمبر ٣٠٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوں گی، اس وقت کسی شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا، وہ شخص جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا، (۱) دجال کا ظاہر ہونا (۲)دابۃ الأرض کا نکلنا (۳) سورج کا پچھم سے نکلنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- ابوحازم سے حازم اشجعی کوفی مراد ہیں۔ ان کا نام سلمان ہے اور وہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ؛سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٤؛حدیث نمبر ٣٠٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا فرمان برحق (و درست) ہے: جب میرا بندہ کسی نیکی کا قصد و ارادہ کرے، تو (میرے فرشتو!) اس کے لیے نیکی لکھ لو، اور اگر وہ اس بھلے کام کو کر گزرے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ لو، اور جب وہ کسی برے کام کا ارادہ کرے تو کچھ نہ لکھو، اور اگر وہ برے کام کو کر ڈالے تو صرف ایک گناہ لکھو، پھر اگر وہ اسے چھوڑ دے (کبھی راوی نے یہ کہا) اور کبھی یہ کہا (دوبارہ) اس گناہ کا ارتکاب نہ کرے) تو اس کے لیے اس پر بھی ایک نیکی لکھ لو، پھر آپ نے آیت «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» پڑھی(ترجمہ" جو شخص نیکی کرے گا اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا"(الانعام ١٦٠)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ؛سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٥؛حدیث نمبر ٣٠٧٣)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: «فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا» ”جب اس کے پروردگار نے پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا“ (الأعراف: ۱۴۳)، حماد (راوی) نے کہا: اس طرح، پھر سلیمان (راوی) نے اپنی داہنی انگلی کے پور پر اپنے انگوٹھے کا کنارا رکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بس اتنی سی دیر میں) پہاڑ زمین میں دھنس گیا، «وخر موسى صعقا» اور موسیٰ علیہ السلام بیہوشی ہو کر گر پڑے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ایک اور سند سے معاذ حماد بن سلمہ سے، حماد بن سلمہ نے ثابت سے اور ثابت نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَعْرَافِ؛سورۃ اعراف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٥؛حدیث نمبر ٣٠٧٤)
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے آیت «وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم وأشهدهم على أنفسهم ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين»"اور جب تمہارے پروردگار نے آدم کی اولاد کو ان کی پشتوں میں سے لیا"(الاعراف ١٧٢)کا مطلب پوچھا گیا، تو حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے اسی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ نے آدم کو پیدا کیا پھر اپنا داہنا دست قدرت ان کی پیٹھ پر پھیرا اور ان کی ایک ذریت (نسل) کو نکالا، اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ جنت ہی کا کام کریں گے، پھر (دوبارہ) ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور وہاں سے ایک ذریت (ایک نسل) نکالی اور کہا کہ میں نے انہیں جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور جہنمیوں کا کام کریں گے“۔ ایک شخص نے کہا: پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ کے رسول! راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ جنتی شخص کو پیدا کرتا ہے تو اسے جنتیوں کے کام میں لگا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جنتیوں کا کام کرتا ہوا مر جاتا ہے تو اللہ اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔ اور جب اللہ جہنمی شخص کو پیدا کرتا ہے تو اسے جہنمیوں کے کام میں لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کا کام کرتا ہوا مرتا ہے تو اللہ اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- مسلم بن یسار نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے سنا نہیں ہے، ۳- بعض راویوں نے اس اسناد میں مسلم بن یسار اور عمر رضی الله عنہ کے درمیان کسی غیر معروف راوی کا ذکر کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَعْرَافِ؛سورۃ اعراف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٦؛حدیث نمبر ٣٠٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر دست قدرت پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔ پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا: میرے رب! کون ہیں یہ لوگ؟ اللہ نے کہا: یہ تمہاری ذریت (اولاد) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ نے فرمایا: تمہاری اولاد میں بعد کے زمانے میں ایک شخص پیدا ہوگا۔ اسے داود کہتے ہیں: انہوں نے کہا: میرے رب! اس کی عمر کتنی رکھی ہے؟ اللہ نے کہا: ساٹھ سال، انہوں نے کہا: میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر اس کی عمر میں اضافہ فرما دے، پھر جب آدم کی عمر پوری ہو گئی، ملک الموت ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی نہیں ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو نے اپنے بیٹے داود کو دے نہیں دیئے تھے؟ آپ نے فرمایا: تو آدم علیہ السلام نے انکار کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد بھی انکار کر دیتی ہے۔حضرت آدم کو یہ بات بھلا دی گئی،تو ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے،حضرت ادم علیہ السلام سے خطا ہوئی تو ان کی اولاد سے بھی خطا ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَعْرَافِ؛سورۃ اعراف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٧؛حدیث نمبر ٣٠٧٦)
حضرت سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حواء حاملہ ہوئیں تو شیطان نے ان کے گرد چکر لگایا، جس کے نتیجے میں ان کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا، تو اس نے کہا: (اب جب تیرا بچہ پیدا ہو) تو اس کا نام عبدالحارث رکھ، چنانچہ حواء نے اس کا نام عبدالحارث ہی رکھا تو وہ جیتا رہا۔ یہ چیز شیطان کی طرف سے اشارے اور اس کی ہدایت کی وجہ سے تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے مرفوع صرف عمر بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- بعض راویوں نے یہ حدیث عبدالصمد سے روایت کی ہے، لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- عمر بن ابراہیم بصریٰ شیخ ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَعْرَافِ؛سورۃ اعراف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٧؛حدیث نمبر ٣٠٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدم پیدا کئے گئے …“ (آگے) پوری حدیث بیان کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَعْرَافِ؛سورۃ اعراف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٨؛حدیث نمبر ٣٠٧٨)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوا ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے میرا سینہ مشرکین سے ٹھنڈا کر دیا (یعنی انہیں خوب مارا) یہ کہا یا ایسا ہی کوئی اور جملہ کہا (راوی کو شک ہو گیا) آپ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ مجھے ملے گی اور نہ تمہیں، میں نے (جی میں) کہا ہو سکتا ہے یہ ایسے شخص کو مل جائے جس نے میرے جیسا کارنامہ جنگ میں نہ انجام دیا ہو، (میں حسرت و یاس میں ڈوبا ہوا آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا آیا) تو (میرے پیچھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آیا اور اس نے (آپ کی طرف سے) کہا: تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی، تب وہ میری نہ تھی اور اب وہ (بحکم الٰہی) میرے اختیار میں آ گئی ہے، تو اب وہ تمہاری ہے (میں اسے تمہیں دیتا ہوں) راوی کہتے ہیں، اسی موقع پر «يسألونك عن الأنفال» لوگ تم سے مال غنیمت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں" (الانفال١)والی آیت نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو سماک بن حرب نے بھی مصعب سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں حضرت عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنفال؛سورۃ انفال سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٨؛حدیث نمبر ٣٠٧٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر سے فارغ ہوے تو آپ سے کہا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قافلے کا بھی تعاقب کرے کیونکہ اس قافلے کے ساتھ حفاظتی دستے کے طور پر کوئی نہیں تھا۔ تو عباس نے آپ کو پکارا، اس وقت وہ (قیدی تھے) زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، اور کہا: آپ کا یہ اقدام (اگر آپ نے ایسا کیا) تو درست نہ ہو گا، اور درست اس لیے نہ ہو گا کہ اللہ نے آپ سے دونوں گروہوں (قافلہ یا لشکر) میں سے کسی ایک پر فتح و غلبہ کا وعدہ کیا تھا اور اللہ نے آپ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم سچ کہتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنفال؛سورۃ انفال سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٨؛حدیث نمبر ٣٠٨٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (جنگ بدر کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مشرکین مکہ پر) ایک نظر ڈالی، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے صحابہ تین سو دس اور کچھ (کل ۳۱۳) تھے۔ پھر آپ قبلہ رخ ہو گئے اور اپنے دونوں ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا دیئے اور اپنے رب سے التجا کرنے لگے: ”اے میرے رب! مجھ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا فرما دے، جو کچھ تو نے مجھے دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اسے عطا فرما دے، اے میرے رب! اگر اہل اسلام کی اس مختصر جماعت کو تو نے ہلاک کر دیا تو پھر زمین پر تیری عبادت نہیں کی جاے گی“۔ آپ قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے اپنے رب کے سامنے دعائیں کر رہے تھے یہاں تک کہ آپ کی چادر آپ کے دونوں کندھوں پر سے گر پڑی۔ پھر حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے آ کر آپ کی چادر اٹھائی اور آپ کے کندھوں پر ڈال کر پیچھے ہی سے آپ سے لپٹ کر کہنے لگے۔ اللہ کے نبی! اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے بڑی التجا کر لی ہے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا، تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: ترجمہ"اور جب تم اپنے پروردگار سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا کو قبول کیا(اور یہ فرمایا)میں تمہاری طرف ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں جو آگے پیچھے ہوں گے"۔(الأنفال ٩) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- حضرت عمر رضی الله عنہ کی اس حدیث کو صرف عکرمہ بن عمار کی روایت سے جانتے ہیں۔ جسے وہ ابوزمیل سے روایت کرتے ہیں۔ ابوزمیل کا نام سماک حنفی ہے۔ ایسا بدر کے دن ہوا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنفال؛سورۃ انفال سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٦٩؛حدیث نمبر ٣٠٨١)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لیے اللہ نے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں (ایک) «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم» ”تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا“ (الأنفال: ۳۳)، (دوسرا) «وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون» ”دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے تو بھی ان پر اللہ عذاب نازل نہ کرے گا“ (الأنفال: ۳۳)، اور جب میں رخصت ہو جاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا امان استغفار قیامت تک چھوڑ جاؤں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اسماعیل بن مہاجر حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنفال؛سورۃ انفال سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٠؛حدیث نمبر ٣٠٨٢)
حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر یہ آیت: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ” اور جہاں تک تم سے ہو سکے ان کے مقابلے کے لیے قوت تیار کرو“ (الانفال: ٦٠) پڑھی، اور فرمایا: «قوة» سے مراد تیر اندازی ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار کہی، سنو عنقریب اللہ تمہیں زمین پر فتح دیدے گا۔ اور تمہیں مستغنی اور بے نیاز کر دے گا۔ تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میں سے کوئی بھی (نیزہ بازی اور) تیر اندازی سے عاجز و غافل ہو جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بعض نے یہ حدیث اسامہ بن زید سے روایت کی ہے اور اسامہ نے صالح بن کیسان سے روایت کی ہے، ۲- ابواسامہ نے اور کئی لوگوں نے اسے عقبہ بن عامر سے روایت کیا ہے، ۳- وکیع کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۴- صالح بن کیسان کی ملاقات عقبہ بن عامر سے نہیں ہے، ہاں ان کی ملاقات ابن عمر سے ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنفال؛سورۃ انفال سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٠؛حدیث نمبر ٣٠٨٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب غزوہ بدر کی لڑائی ہوئی اور قیدی پکڑ کر لائے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیدیوں کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو؟ پھر راوی نے حدیث میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشوروں کا طویل قصہ بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغیر فدیہ کے کسی کو نہ چھوڑا جائے، یا اس کی گردن اڑا دی جائے“۔حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! سہیل بن بیضاء کو چھوڑ کر، اس لیے کہ میں نے انہیں اسلام کی باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، (مجھے توقع ہے کہ وہ ایمان لے آئیں گے) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تو میں نے اس دن اتنا خوف محسوس کیا کہ کہیں مجھ پر پتھر نہ برس پڑیں، اس سے زیادہ کسی دن بھی میں نے اپنے کو خوف زدہ نہ پایا، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سہیل بن بیضاء کو چھوڑ کر“، اور حضرت عمر رضی الله عنہ کی تائید میں «ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض» ” نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں تھی کہ وہ قیدیوں کو اپنے ہاں رکھے جب تک خونریزی نہ کر لے“ (الأنفال: ٦٧)، والی آیت آخر تک نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود سے سنا نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنفال؛سورۃ انفال سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧١؛حدیث نمبر ٣٠٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم سے پہلے کسی بھی امت کے لیے اموال غنیمت حلال نہ تھے، آسمان سے ایک آگ آتی اور غنائم کو کھا جاتی سلیمان اعمش کہتے ہیں: یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کون کہ سکتا ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر لوگوں نے مال غنیمت اکٹھا کرنا شروع کر دیا تھا حالانکہ وہ ابھی ان کے لیے حلال قرار نہیں دیا گیا تھا، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ"اگر اللہ تعالی کی طرف سے تمہارے بارے میں پہلے سے طے شدہ فیصلہ نہ ہوتا تو تمہیں اسے لینے کی وجہ سے عظیم عذاب لاحق ہوتا"(الأنفال ٦٨)نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنفال؛سورۃ انفال سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧١؛حدیث نمبر ٣٠٨٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے کہا کہ کس چیز نے آپ کو آمادہ کیا کہ سورۃ الانفال کو جو «مثانی» میں سے ہے سورہ توبہ کے ساتھ ملا دے جو دو سو آیات والی سورت ہے، اور ان دونوں سورتوں کے بیچ میں «بسم الله الرحمن الرحيم» کی سطر بھی نہ لکھی۔ اور ان دونوں کو «سبع طوال» (سات لمبی سورتوں) میں شامل کر دیا۔ کس سبب سے آپ نے ایسا کیا؟ حضرت عثمان رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جس طرح مختلف زمانہ آتا رہا آپ پر متعدد سورتیں نازل ہو رہی تھیں، تو جب آپ پر کوئی آیت نازل ہوتی تو وحی لکھنے والوں میں سے آپ کسی کو بلاتے اور کہتے کہ ان آیات کو اس سورۃ میں شامل کر دو جس میں ایسا ایسا مذکور ہے۔ اور پھر جب آپ پر کوئی آیت اترتی تو آپ فرماتے اس آیت کو اس سورۃ میں رکھ دو جس میں اس اس طرح کا ذکر ہے۔ سورۃ الانفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ میں آنے کے بعد شروع شروع میں نازل ہوئی ہیں۔ اور سورۃ برأت قرآن کے آخر میں نازل ہوئی ہے۔ اور دونوں کے قصوں میں ایک دوسرے سے مشابہت تھی تو ہمیں خیال ہوا کہ یہ اس کا ایک حصہ ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں واضح کئے بغیر یہ سورۃ اسی سورۃ کا جزو حصہ ہے اس دنیا سے رخصت فرما گئے۔ اس سبب سے ہم نے ان دونوں سورتوں کو ایک ساتھ ملا دیا اور ان دونوں سورتوں کے درمیان ہم نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھا اور ہم نے اسے «سبع طوال» میں رکھ دیا (شامل کر دیا)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ہم صرف عوف کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ یزید فارسی کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کرتے ہیں، اور یزید فارسی تابعین میں سے ہیں، انہوں نے ابن عباس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ وہ یزید بن ہرمز ہیں۔ اور یزید رقاشی یہ یزید بن ابان رقاشی ہیں، یہ تابعین میں سے ہیں اور ان کی ملاقات ابن عباس سے نہیں ہے۔ انہوں نے صرف انس بن مالک سے روایت کی ہے، اور یہ دونوں ہی بصرہ والوں میں سے ہیں۔ اور یزید فارسی، یزید رقاشی سے متقدم ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٢؛حدیث نمبر ٣٠٨٦)
سلیمان بن عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف اور ثنا کی، اور وعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر فرمایا: ”کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! حج اکبر کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا: ” تمہاری جانیں تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح یہ دن، اس شہر میں، اس مہینے میں قابل احترام ہے، سن لو! کوئی انسان کوئی جرم نہیں کرے گا مگر اس کا وبال اسی پر آئے گا، کوئی باپ قصور نہیں کرے گا کہ جس کی سزا اس کے بیٹے کو ملے۔ اور نہ ہی کوئی بیٹا کوئی قصور کرے گا کہ اس کی سزا اس کے باپ کو ملے۔ آگاہ رہو! مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی کی صرف وہی چیز جائز ہوگی جسے وہ اپنی ذات کے حوالے سے بھی جائز سمجھتا ہو۔ سن لو! جاہلیت کا ہر سود معاف ہے تم صرف اپنا اصل مال (اصل پونجی) لے سکتے ہو، نہ تم کسی پر ظلم و زیادتی کرو گے اور نہ تمہارے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے گی۔ سوائے عباس بن عبدالمطلب کے سود کے کہ اس کا سارا کا سارا معاف ہے۔خبردار! جاہلیت کا ہر خون ختم کر دیا گیا ہے اور جاہلیت میں ہوئے خونوں میں سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے، وہ قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیتے تھے، تو انہیں قبیلہ ہذیل نے قتل کر دیا تھا، سنو! خواتین کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو کیونکہ وہ تمہارے زیر ملکیت ہیں تم انہیں مارنے پٹنے کی کوئی اجازت نہیں رکھتے ما سوائے اس سورت کے کہ وہ واضح طور پر بے حیائی کا ارتکاب کرے اگر وہ ایسا کرے تو تم ان کے بستر الگ کر دو اور انہیں مارو لیکن اس میں زیادتی نہ کرو اگر وہ تمہاری بات مان جائے تو تم ان کے خلاف بہانے تلاش نہ کرو، خبردار ہو جاؤ! تمہارے لیے تمہاری بیویوں پر حقوق ہیں، اور تمہاری بیویوں کے تم پر حقوق ہیں، تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ جنہیں تم ناپسند کرتے ہو انہیں وہ تمہارے بستروں پر نہ آنے دیں، اور نہ ہی ان لوگوں کو گھروں میں آنے کی اجازت دیں جنہیں تم برا جانتے ہو، اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور انہیں اچھا پہناؤ اور اچھا کھلاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ابوالا ٔحوص نے شبیب بن غرقدہ سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٣؛حدیث نمبر ٣٠٨٧)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نحر (قربانی) کا دن ہے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٤؛حدیث نمبر ٣٠٨٨)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حج اکبر کا دن یوم النحر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ روایت محمد بن اسحاق کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ حدیث کئی سندوں سے ابواسحاق سے مروی ہے، اور ابواسحاق حارث کے واسطہ سے حضرت علی رضی الله عنہ سے موقوفاً روایت کرتے ہیں۔ اور ہم کسی کو محمد بن اسحاق کے سوا نہیں جانتے کہ انہوں نے اسے مرفوع کیا ہو، ۲- شعبہ نے اس حدیث کو ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عبداللہ بن مرہ سے، اور عبداللہ نے حارث کے واسطہ سے حضرت علی رضی الله عنہ سے موقوفا ہی روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٤؛حدیث نمبر ٣٠٨٩)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ برأۃ(سورہ توبہ)حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ بھیجی پھر آپ نے انہیں بلا لیا، فرمایا: ” اس کی تبلیغ کرنے کے لیے یہ مناسب ہے کہ میرے خاندان کا کوئی فرد ایسا کرے پھر آپ نے حضرت علی رضی الله عنہ کو بلایا اور انہیں سورۃ برأۃ دے کر (مکہ) بھیجا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث انس بن مالک کی روایت سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٥؛حدیث نمبر ٣٠٩٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کو (حج کے موقع پر امیر بنا کر) بھیجا کہ وہاں پہنچ کر لوگوں میں ان کلمات (سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات) کی منادی کر دیں۔ پھر (ان کے بھیجنے کے فوراً بعد ہی) ان کے پیچھے آپ نے حضرت علی رضی الله عنہ کو بھیجا۔حضرت ابوبکر رضی الله عنہ بھی کسی جگہ راستہ ہی میں تھے کہ انہوں نے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ کی مخصوص آواز سنی، گھبرا کر (خیمہ) سے باہر آئے، انہیں خیال ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، لیکن وہ آپ کے بجائے حضرت علی رضی الله عنہ تھے۔ حضرت علی رضی الله عنہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خط انہیں پکڑا دیا، اور (آپ نے)حضرت علی رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کلمات کا (بزبان خود) اعلان کر دیں۔ پھر یہ دونوں حضرات ساتھ چلے، (دونوں نے حج کیا، اور حضرت علی رضی الله عنہ نے ایام تشریق میں کھڑے ہو کر اعلان کیا: اللہ اور اس کے رسول ہر مشرک و کافر سے بری الذمہ ہیں، صرف چار مہینے (سر زمین مکہ میں) گھوم پھر سکتے ہو، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، کوئی شخص بیت اللہ کا ننگا ہو کر طواف نہ کرے، جنت میں صرف مومن ہی جائے گا،حضرت علی رضی الله عنہ اعلان کرتے رہے جب وہ تھک گئے تو انہیں کلمات کا حضرت ابوبکر رضی الله عنہ اعلان کرنے لگتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٥؛حدیث نمبر ٣٠٩١)
زید بن یثیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ حج میں کیا پیغام لے کر بھیجے گئے تھے؟ کہا: میں چار چیزوں کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا (ایک یہ کہ) کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف (آئندہ) نہیں کرے گا۔ (دوسرے) یہ کہ جس کافر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی معاہدہ ہے وہ معاہدہ مدت ختم ہونے تک قائم رہے گا اور جن کا کوئی معاہدہ نہیں ان کے لیے چار ماہ کی مدت ہو گی (تیسرے) یہ کہ جنت میں صرف ایمان والا (مسلمان) ہی داخل ہو سکے گا۔ (چوتھے یہ کہ) اس سال کے بعد مسلم و مشرک دونوں حج نہ کر سکیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سفیان بن عیینہ کی روایت سے جسے وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح ہے، ۲- اسے سفیان ثوری نے ابواسحاق کے بعض اصحاب سے روایت کی ہے اور انہوں نے علی رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٦؛حدیث نمبر ٣٠٩٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ مسجد کا عادی ہے (یعنی برابر مسجد میں نمازیں پڑھنے جاتا ہے) تو اس کے مومن ہونے کی گواہی دو“، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر» ”اللہ کی مسجدیں وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں“ (التوبہ: ۱۸)۔ ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، اور عبداللہ نے عمرو بن حارث سے، عمرو نے دراج سے، دراج نے ابوالہیثم سے اور ابوالہیثم نے ابوسعید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے مگر انہوں نے «يعمر مساجد الله» کی جگہ «يتعاهد المسجد» کہا کہ وہ مسجد کی حفاظت اور دیکھ بھال کرتا ہے، ۲- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ابوالھیثم کا نام سلیمان بن عمرو بن عبدالعتواری ہے وہ یتیم تھے اور ان کی پرورش ابو سعید خدری کی گود یعنی سرپرستی میں ہوئی تھی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٧؛حدیث نمبر ٣٠٩٣)
حضرت ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «والذين يكنزون الذهب والفضة» ”اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں“ (التوبہ: ۳۴)، نازل ہوئی، اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے بعض صحابہ نے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں تو آیت نازل ہوگئی ہے اگر ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو اسی کو اپناتے۔ آپ نے فرمایا: ”بہترین مال یہ ہے کہ آدمی کے پاس اللہ کو یاد کرنے والی زبان ہو، شکر گزار دل ہو، اور اس کی بیوی ایسی مومنہ عورت ہو جو اس کے ایمان کو پختہ تر بنانے میں مددگار ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا کہ کیا سالم بن ابی الجعد نے ثوبان سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے ان سے کہا: پھر انہوں نے کسی صحابی سے سنا ہے؟ کہا: انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت انس بن مالک رضی الله عنہما سے سنا ہے اور انہوں نے ان کے علاوہ کئی اور صحابہ کا ذکر کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٧؛حدیث نمبر ٣٠٩٤)
حضرت عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر آیا، میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، آپ نے فرمایا: ”عدی! اس بت کو نکال کر پھینک دو، میں نے آپ کو سورۃ برأۃ کی آیت: «اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله» ”انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو معبود بنا لیا ہے“ (التوبہ: ۳۱)، پڑھتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے، لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے، اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالسلام بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- غطیف بن اعین علم حدیث میں معروف نہیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٨؛حدیث نمبر ٣٠٩٥)
حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جب غار میں تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ان (کافروں) میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں اپنے قدموں کے نیچے (غار میں) دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہمام کی حدیث مشہور ہے اور ہمام اس روایت میں منفرد ہیں، ۳- اس حدیث کو حبان بن ہلال اور کئی لوگوں نے اسی کے مانند ہمام سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٨؛حدیث نمبر ٣٠٩٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب عبداللہ بن ابی (منافقوں کا سردار) مرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے دعوت دی گئی، آپ کھڑے ہو کر اس کی طرف بڑھے اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ میں مڑا اور آپ کے سامنے جا کھڑا ہوا، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! کیا آپ اللہ کے دشمن عبداللہ بن ابی کی نماز پڑھنے جا رہے ہیں جس نے فلاں فلاں دن ایسا اور ایسا کہا تھا؟ میں نے وہ ساری باتیں گنوا دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئے۔ جب میں نے اپنی بات پر بہت زیادہ اصرار کیا، تو آپ نے فرمایا: ” اے عمر!میرے سامنے سے ہٹ جاؤ، مجھے اختیار دیا گیا، تو میں نے اختیار قبول کر لیا۔ مجھ سے کہا گیا ہے: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم» ”ان (منافقوں) کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اگر تم ان کے لیے ستر بار بھی مغفرت طلب کرو گے تو بھی وہ انہیں معاف نہ کرے گا“ (التوبہ: ۸۰)، اگر میں جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت طلب کرنے سے وہ معاف کر دیا جائے گا تو ستر بار سے بھی زیادہ میں اس کے لیے مغفرت مانگتا۔ پھر آپ نے عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھی اور جنازہ کے ساتھ چلے اور اس کی قبر پر کھڑے رہے، یہاں تک کہ اس کے کفن دفن سے فارغ ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اپنی جرات و جسارت پر مجھے حیرت ہوئی۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، قسم اللہ کی! بس تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ” ان میں سے جو بھی شخص مر جائے تم نے کبھی بھی اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرنی اور اس کی قبر پر کھڑے نہیں ہونا“ (التوبہ: ۸۴)، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وفات تک کبھی بھی کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہو کر دعا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٩؛حدیث نمبر ٣٠٩٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی کے والد کا جب انتقال ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ اپنی قمیص ہمیں عنایت فرما دیں، میں انہیں (عبداللہ بن ابی) اس میں کفن دوں گا۔ اور ان کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے اور ان کے لیے استغفار فرما دیجئیے۔ تو آپ نے عبداللہ کو اپنی قمیص دے دی۔ اور فرمایا: ”جب تم (غسل و غیرہ سے) فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دو۔ پھر جب آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو حضرت عمر رضی الله عنہ نے آپ کا دامن کھینچا، اور عرض کیا: کیا اللہ نے آپ کو منافقین کی نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے دو چیزوں «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ”ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو“ کا اختیار دیا گیا۔ چنانچہ آپ نے اس کی نماز پڑھی۔ جس پر اللہ نے آیت «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» نازل فرمائی۔ تو آپ نے ان (منافقوں) پر نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٧٩؛حدیث نمبر ٣٠٩٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس مسجد کے بارے میں اختلاف کر بیٹھے جس کی تاسیس و تعمیر پہلے دن سے تقویٰ پر ہوئی ہے (کہ وہ کون سی ہے؟) ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے اور دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ تب آپ نے فرمایا: ”وہ میری یہی مسجد (مسجد نبوی) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران بن ابی انس کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۳- اسے انیس بن ابی یحییٰ نے اپنے والد سے اور ان کے والد حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٠؛حدیث نمبر ٣٠٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آیت «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» ”اس میں (قباء میں) وہ لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو محبوب رکھتا ہے“ (التوبہ: ۱۰۸)، اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کی عادت تھی کہ وہ استنجاء پانی سے کرتے تھے، تو ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوایوب، انس بن مالک اور محمد بن عبداللہ بن سلام سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٠؛حدیث نمبر ٣١٠٠)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے مشرک ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا تو میں نے اس سے کہا: کیا اپنے مشرک ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہو؟ اس نے کہا: کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشرک باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی؟ پھر میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين» ”نبی اور مومنین کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں“ (التوبہ: ۱۱۳)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت سعید بن مسیب سے بھی روایت ہے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨١؛حدیث نمبر ٣١٠١)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی غزوے کیے ان میں سے غزوہ تبوک کو چھوڑ کر کوئی بھی غزوہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں آپ کے ساتھ میں نہ رہا ہوں۔ رہا بدر کا معاملہ سو بدر میں جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے کسی کے لیے بھی آپ نے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ کیونکہ آپ کا ارادہ (شام سے آ رہے) قافلے کو گھیرنے کا تھا، اور قریش اپنے قافلے کو بچانے کے لیے نکلے تھے، تو باقاعدہ کسی منصوبے کے بغیر ان کا سامنا ہو گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی یہ بات ارشاد فرمائی ہے، اور قسم اللہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سب سے بڑھ کر غزوہ بدر ہے۔ اور میں اس میں شرکت کو عقبہ کی رات میں اپنی بیعت کے مقابل میں قابل ترجیح نہیں سمجھتا۔ جب ہم نے اسلام پر عہد و میثاق لیا تھا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر میں کبھی پیچھے نہیں ہوا یہاں تک کہ غزوہ تبوک کا واقعہ پیش آ گیا۔ اور یہ آخری غزوہ تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کوچ کا اعلان کر دیا۔ پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی، کہا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ تبوک سے لوٹنے کے بعد) میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے اور مسلمان آپ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ اور چاند کی روشنی بکھرنے کی طرح آپ نور بکھیر رہے تھے۔ آپ جب کسی معاملے میں خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ انور دمکنے لگتا تھا، میں پہنچ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا: ”کعب بن مالک! اس بہترین دن کی بدولت خوش ہو جاؤ جو تمہیں جب سے تمہاری ماں نے جنا ہے اس دن سے آج تک میں اب حاصل ہوا ہے۔“ میں نے کہا: اللہ کے نبی! یہ دن مجھے اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے یا آپ کی طرف سے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے۔“ پھر آپ نے یہ آیات پڑھیں،ترجمہ"اللہ تعالی نے نبی پر مہاجرین پر اور انصار پر بڑا کرم کیا جنہوں نے تنگی کے موقع پر نبی کی پیروی کی" "بے شک اللہ تعالی بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے" حضرت کعب بیان کرتے ہیں یہ آیت بھی ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی: "اللہ تعالی سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو(التوبہ ١١٩) میں نے کہا: اللہ کے نبی! میری توبہ کی قبولیت کا تقاضہ ہے کہ میں جب بھی بولوں سچی بات ہی بولوں، اور میری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کر کے خود خالی ہاتھ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“ میں نے کہا: تو پھر میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، اسلام قبول کرنے کے بعد اللہ نے میری نظر میں اس سے بڑھ کر کوئی اور نعمت مجھے نہیں عطا کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ بولا اور جھوٹ نہ بولے کہ ہم ہلاک ہو جاتے جیسا کہ (جھوٹ بول کر) دوسرے ہلاک و برباد ہو گئے۔ اور میرا گمان غالب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچائی کے معاملے میں جتنا مجھے آزمایا ہے کسی اور کو نہ آزمایا ہو گا، اس کے بعد تو میں نے کبھی جھوٹ بولنے کا قصد و ارادہ ہی نہیں کیا۔ اور میں اللہ کی ذات سے امید رکھتا ہوں کہ وہ باقی ماندہ زندگی میں بھی مجھے جھوٹ بولنے سے محفوظ رکھے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث زہری سے اس اسناد سے مختلف دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۲- یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حدیث روایت کی گئی ہے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے اور وہ روایت کرتے ہیں اپنے چچا عبیداللہ سے اور وہ کعب سے، اور اس کے سوا اور بھی کچھ کہا گیا ہے، ۳- یونس بن یزید نے یہ حدیث زہری سے روایت کی ہے، اور زہری نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے کہ ان کے باپ نے کعب بن مالک سے سن کر بیان کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨١؛حدیث نمبر ٣١٠٢)
حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے انہیں بلا بھیجا، اتفاق کی بات کہ حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ بھی وہاں موجود تھے، حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: حضرت عمر بن خطاب میرے پاس آئے ہیں کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے قراء (حافظوں) کی ہلاکت ہوئی ہے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر ان تمام جگہوں میں جہاں جنگیں چل رہی ہیں قراء قرآن کا قتل بڑھتا رہا تو بہت سارا قرآن ضائع ہو سکتا ہے، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ مکمل قرآن اکٹھا کرنے کا حکم فرمائیں۔حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے کہا: میں کوئی ایسی چیز کیسے کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر کام ہے۔ وہ مجھ سے یہ بات باربار کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مجھے بھی اس کام کے لیے شرح صدر عطا کر دیا جس کام کے لیے اللہ نے عمر کو شرح صدر عطا فرمایا تھا۔ اور میں نے بھی اس سلسلہ میں وہی بات مناسب سمجھی جو انہوں نے سمجھی۔ زید کہتے ہیں:حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے (مجھ سے) کہا: تم جوان ہو، عقلمند ہو، ہم تمہیں (کسی معاملے میں بھی) متہم نہیں کرتے۔ اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی لکھتے بھی تھے، تو ایسا کرو کہ پورا قرآن تلاش کر کے لکھ ڈالو، (یکجا کر دو) زید کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر مجھ سے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کہتے تو یہ کام مجھے اس کام سے زیادہ بھاری نہ لگتا، میں نے کہا: آپ لوگ کوئی ایسا کام جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے کیسے (کرنے کی جرات) کرتے ہیں؟حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما دونوں مجھ سے باربار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو بھی اس حق کے لیے کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سینے کو اس نے کھولا تھا، تو میں نے پورے قرآن کی تلاش و جستجو شروع کر دی، میں پرزوں، کھجور کے پتوں، نرم پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے لے کر نقل کر کر کے یکجا کرنے لگا، تو سورۃ برأۃ کی آخری آیات «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رءوف رحيم فإن تولوا فقل حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» ”تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے، اس پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کا حریص ہے اور ایمان داروں کے حال پر نہایت درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ پھر بھی اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ مجھ کو کافی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے“ (التوبہ: ۱۲۸)۔ مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ کے پاس ملیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٣؛حدیث نمبر ٣١٠٣)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن الایمان حضرت عثمان رضی الله عنہما کے پاس آئے، ان دنوں آپ شام والوں کے ساتھ آرمینیہ کی فتح میں اور عراق والوں کے ساتھ آذر بائیجان کی فتح میں مشغول تھے، حضرت حذیفہ رضی الله عنہ نے قرآن کی قرأت میں لوگوں کا اختلاف دیکھ کر حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے کہا: امیر المؤمنین! اس امت کو سنبھالئے اس سے پہلے کہ یہ کتاب (قرآن مجید) کے معاملے میں اختلاف کا شکار ہو جائے (اور آپس میں لڑنے لگے) جیسا کہ یہود و نصاریٰ اپنی کتابوں (تورات و انجیل اور زبور) کے بارے میں مختلف ہو گئے۔ تو حضرت عثمان رضی الله عنہ نے حضرت حفصہ رضی الله عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ (ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے تیار کرائے ہوئے) صحیفے ہمارے پاس بھیج دیں ہم انہیں مصاحف میں لکھا کر آپ کے پاس واپس بھیج دیں گے، چنانچہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے پاس یہ صحیفے بھیج دیے۔ پھر عثمان نے زید بن ثابت اور سعید بن العاص اور عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم کے پاس ان صحیفوں کو اس حکم کے ساتھ بھیجا کہ یہ لوگ ان کو مصاحف میں نقل کر دیں۔ اور تینوں قریشی صحابہ سے کہا کہ جب تم میں اور زید بن ثابت رضی الله عنہ میں اختلاف ہو جائے تو قریش کی زبان (و لہجہ) میں لکھو کیونکہ قرآن انہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے صحیفے مصحف میں نقل کر لیے تو عثمان نے ان تیار مصاحف کو (مملکت اسلامیہ کے حدود اربعہ میں) ہر جانب ایک ایک مصحف بھیج دیا۔ زہری کہتے ہیں مجھ سے خارجہ بن زید نے بیان کیا کہ زید بن ثابت نے کہا کہ میں سورۃ الاحزاب کی ایک آیت جسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنتا تھا اور مجھے یاد نہیں رہ گئی تھی اور وہ آیت یہ ہے «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» اہل ایمان میں سے بعض لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالی کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کیا ان میں سے بعض نے اپنی نذر کو پورا کر لیا اور بعض انتظار کر رہے ہیں"(الاحزاب ٢٣) میں نے اسے ڈھونڈا، بہت تلاش کے بعد میں اسے خزیمہ بن ثابت کے پاس پایا حضرت خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ کہا یا ابوخزیمہ کہا۔ (راوی کو شک ہو گیا) تو میں نے اسے اس کی سورۃ میں شامل کر دیا۔ زہری کہتے ہیں: لوگ اس وقت (لفظ) «تابوهاور» تابوت میں مختلف ہو گئے، قریشیوں نے کہا «التابوت» اور زید نے «التابوه» کہا۔ ان کا اختلاف عثمان رضی الله عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: «التابوت» لکھو کیونکہ یہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ زہری کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے زید بن ثابت رضی الله عنہما کے مصاحف لکھنے کو ناپسند کیا اور کہا: اے گروہ مسلمانان! میں مصاحف کے لکھنے سے روک دیا گیا، اور اس کام کا والی و کارگزار وہ شخص ہو گیا جو قسم اللہ کی جس وقت میں ایمان لایا وہ شخص ایک کافر شخص کی پیٹھ میں تھا (یعنی پیدا نہ ہوا تھا) یہ کہہ کر انہوں نے زید بن ثابت کو مراد لیا اور اسی وجہ سے عبداللہ بن مسعود نے کہا: عراق والو! جو مصاحف تمہارے پاس ہیں انہیں چھپا لو، اور سنبھال کر رکھو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو کوئی چیز چھپا رکھے گا قیامت کے دن اسے لے کر حاضر ہو گا تو تم قیامت میں اپنے مصاحف ساتھ میں لے کر اللہ سے ملاقات کرنا زہری کہتے ہیں: مجھے یہ اطلاع و خبر بھی ملی کہ کبار صحابہ نے ابن مسعود رضی الله عنہ کی یہ بات ناپسند فرمائی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور یہ زہری کی حدیث ہے، اور ہم اسے صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التوبہ؛سورۃ توبہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٤؛حدیث نمبر ٣١٠٤)
حضرت صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» ”جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے اچھائی اور مزید اضافہ بھی ہوگا“ (یونس: ۲۶)، کی تفسیر اس طرح فرمائی: ”جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا: اللہ کے پاس تمہارے لیے اس کی طرف سے کیا ہوا ایک وعدہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دے۔ تو وہ جنتی کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیئے ہیں اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی ہے اور ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ہے؟ (اب کون سی نعمت باقی رہ گئی ہے؟)“، آپ نے فرمایا: ”پھر پردہ اٹھا دیا جائے گا“، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! اللہ نے انہیں کوئی ایسی چیز دی ہی نہیں جو انہیں اس کے دیدار سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہو۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حماد بن سلمہ کی حدیث ایسی ہی ہے، ۲- کئی ایک نے اسے حماد بن سلمہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ سلیمان بن مغیرہ نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ یہ روایت صہیب سے ہے اور حضرت صہیب رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ یونس ؛سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٦؛حدیث نمبر ٣١٠٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے فرعون کو ڈبونے لگا تو اس نے (اس موقع پر) کہا «آمنت أنه لا إله إلا الذي آمنت به بنو إسرائيل» کہ ”میں اس بات پر ایمان لایا کہ اس معبود کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں“ (یونس: ۹۰)، پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! کاش اس وقت میری حالت دیکھی ہوتی۔ میں اس ڈر سے کہ کہیں اس کو اللہ کی رحمت حاصل نہ ہو جائے، میں سمندر سے کیچڑ نکال نکال کر اس کے منہ میں ٹھونسنے لگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ یونس ؛سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٧؛حدیث نمبر ٣١٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ فرعون کو ڈبونے لگا تو اس نے (اس موقع پر) کہا «آمنت أنه لا إله إلا الذي آمنت به بنو إسرائيل» کہ ”میں اس بات پر ایمان لایا کہ اس معبود کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں“ (یونس: ۹۰)، پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! کاش اس وقت میری حالت دیکھی ہوتی۔ میں اس ڈر سے کہ کہیں اس کو اللہ کی رحمت حاصل نہ ہو جائے، میں سمندر سے کیچڑ نکال نکال کر اس کے منہ میں ٹھونسنے لگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ یونس ؛سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٧؛حدیث نمبر ٣١٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا کہ (جب فرعون ڈوبنے لگا)حضرت جبرائیل علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونسنے لگے، اس اندیشے کے تحت کہ وہ کہیں «لا إلٰہ إلا اللہ» نہ کہہ دے تو اللہ کو اس پر رحم آ جائے۔ راوی کو شک ہو گیا ہے کہ آپ نے «خشية أن يقول لا إله إلا الله» کہا یا «خشية أن يرحمه الله» کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ یونس ؛سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٧؛حدیث نمبر ٣١٠٨)
حضرت ابورزین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ : اللہ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ نے فرمایا: ” «عماء»(ایک بادل)میں تھا، جس کے نیچے ہوا تھی اور اس کے اوپر بھی۔ اس نے اپنا عرش پانی پر بنایا“، احمد بن منیع کہتے ہیں: (ہمارے استاد) یزید نے بتایا: «عماء» کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسی طرح حماد بن سلمہ نے اپنی روایت میں ”وكيع بن حدس“ کہا ہے اور شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے ”وكيع بن عدس“ کہا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ۳- ابورزین کا نام لقیط بن عامر ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ھود ؛سورۃ ھود سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٨؛حدیث نمبر ٣١٠٩)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے مگر جب اسے گرفت میں لے لیتا ہے پھر تو اسے چھوڑتا بھی نہیں“، پھر آپ نے آیت «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ”ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، درد ناک ہوتی ہے“ (ہود: ۱۰۲)، تلاوت فرمائی۔ (راوی ابومعاویہ نے کبھی «یملی» کہا اور کبھی «یمہل» دونوں کا معنی ایک ہے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابواسامہ نے بھی اسے برید سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور «یُملی» کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ابوموسیٰ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی اور اس میں «یُملی» کا لفظ کسی شک کے بغیر کہا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ھود ؛سورۃ ھود سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٨؛حدیث نمبر ٣١١٠)
حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «فمنهم شقي وسعيد» ”سو ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی نیک بخت“ (ہود: ۱۰۵)، نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے نبی! پھر ہم کس چیز کے موافق عمل کریں؟ کیا اس چیز کے موافق عمل کریں جس سے فراغت ہو چکی ہے (یعنی جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے)؟ یا ہم ایسی چیز پر عمل کریں جس سے ابھی فراغت نہیں ہوئی ہے۔ (یعنی اس کا فیصلہ ہمارا عمل دیکھ کر کیا جائے گا) آپ نے فرمایا: ” تم ایک ایسی چیز کے بارے میں سوچ کر کرو جو طے ہو چکی ہے، قلم جاری ہو چکے ہیں، لیکن ہر شخص کے لیے وہی آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالملک بن عمرو کی حدیث سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ھود ؛سورۃ ھود سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٩؛حدیث نمبر ٣١١١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کیا: شہر کے بیرونی علاقے میں ایک عورت سے میں ملا اور سوائے جماع کے اس کے ساتھ میں نے سب کچھ کیا، اور اب بذات خود میں یہاں موجود ہوں، تو آپ اب میرے بارے میں جو فیصلہ چاہیں صادر فرمائیں (میں وہ سزا جھیلنے کے لیے تیار ہوں)حضرت عمر رضی الله عنہ نے اس سے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی ہے کاش تو نے بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کی ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اور وہ آدمی چلا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اسے آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ”نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے حصوں میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے“ (ہود: ۱۱۴)، تک پڑھ کر سنائی۔ ایک صحابی نے کہا: کیا یہ (بشارت) اس شخص کے لیے خاص ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سب کے لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اسی جیسی روایت کی ہے اسرائیل نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ اور اسود سے، اور ان دونوں نے حضرت عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ۳- اور اسی سفیان ثوری نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان لوگوں کی روایت سفیان ثوری کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ۴- شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے اور اسود نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ ایک اور سند سے، سفیان نے اعمش سے، (اور اعمش) اور سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ ایک اور سند سے سفیان سے، سفیان نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی ہم معنی حدیث روایت کی۔ اور اس سند میں اعمش کا ذکر نہیں کیا، اور سلیمان تیمی نے یہ حدیث ابوعثمان نہدی سے روایت کی، اور ابوعثمان نے ابن مسعود کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ھود ؛سورۃ ھود سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨٩؛حدیث نمبر ٣١١٢)
حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسے شخص کے بارے میں مجھے بتائیے جو ایک ایسی عورت سے ملا جن دونوں کا آپس میں جان پہچان، رشتہ و ناطہٰ (نکاح) نہیں ہے اور اس نے اس عورت کے ساتھ سوائے جماع کے وہ سب کچھ (بوس و کنار وغیرہ) کیا جو ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے؟، (اس پر) اللہ تعالیٰ نے آیت: «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» دن کے دونوں کناروں میں رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، یہ نصیحت ان لوگوں کے لیے ہے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں"(ھود ١١٤)نازل فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا، میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! کیا یہ حکم اس شخص کے لیے خاص ہے یا سبھی مومنین کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سبھی مسلمانوں کے لیے عام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، (اس لیے کہ) عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے معاذ سے نہیں سنا ہے، اور معاذ بن جبل رضی الله عنہ کی وفات حضرت عمر رضی الله عنہ کے دور خلافت میں ہوا تھا، اور حضرت عمر رضی الله عنہ جب شہید کیے گئے تو اس وقت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ چھ برس کے چھوٹے بچے تھے۔ حالانکہ انہوں نے عمر سے (مرسلاً) روایت کی ہے (جبکہ صرف) انہیں دیکھا ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ھود ؛سورۃ ھود سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩١؛حدیث نمبر ٣١١٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک (غیر محرم) عورت کا ناجائز بوسہ لے لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟ اس پر آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات» نازل ہوئی، اس شخص نے پوچھا کیا یہ (کفارہ) صرف میرے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ تمہارے لیے ہے اور میری امت کے ہر اس شخص کے لیے جو یہ غلطی کر بیٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ھود ؛سورۃ ھود سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩١؛حدیث نمبر ٣١١٤)
حضرت ابوالیسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس کھجور خریدنے آئی، میں نے اس سے کہا: (یہ کھجور جو یہاں موجود ہے جسے تم دیکھ رہی ہو) اس سے اچھی اور عمدہ کھجور گھر میں رکھی ہے۔ چنانچہ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ گھر میں آ گئی، میں اس کی طرف مائل ہو گیا اور اس کو چوم لیا، تب حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس آ کر ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: اپنے نفس (کی اس غلطی) پر پردہ ڈال دو، توبہ کرو دوسرے کسی اور سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرو، لیکن مجھ سے صبر نہ ہو سکا چنانچہ میں حضرت عمر رضی الله عنہ کے پاس آیا اور ان سے بھی اس (واقعہ) کا ذکر کیا، انہوں نے بھی کہا: اپنے نفس کی پردہ پوشی کرو، توبہ کرو اور کسی دوسرے کو یہ واقعہ نہ بتاؤ۔ (مگر میرا جی نہ مانا) میں اس بات پر قائم نہ رہا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بھی یہ بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے ایک غازی کی بیوی کے ساتھ جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا ہے اس کی غیر موجودگی میں ایسی حرکت کی ہے؟“ آپ کی اتنی بات کہنے سے مجھے اتنی غیرت آئی کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوتا بلکہ اب لاتا اسے خیال ہوا کہ وہ تو جہنم والوں میں سے ہو گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک سر جھکائے رکھا یہاں تک کہ آپ پر بذریعہ وحی آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل» سے «ذكرى للذاكرين»(ھود ١١٤)تک نازل ہوئی۔حضرت ابوالیسر رضی الله عنہ کہتے ہیں: (جب) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ (بشارت) ان کے لیے خاص ہے یا سبھی لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سبھی لوگوں کے لیے عام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قیس بن ربیع کو وکیع وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی الله عنہ ہیں، ۳- شریک نے عثمان بن عبداللہ سے یہ حدیث قیس بن ربیع کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ۴- اس باب میں حضرتِ ابوامامہ اور واثلہ بن اسقع اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ھود ؛سورۃ ھود سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩١؛حدیث نمبر ٣١١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ معزز شخص جو ایک انتہائی معزز شخص کے صاحبزادے ہیں، جو انتہائی معزز شخص کے صاحبزادے تھے، جو انتہائی معزز شخص کے صاحبزادے تھے وہ یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کی عظمت اور نجابت و شرافت کا یہ حال تھا کہ جتنے دنوں حضرت یوسف علیہ السلام جیل خانے میں رہے اگر میں قید خانے میں رہتا، پھر (بادشاہ کا) قاصد مجھے بلانے آتا تو میں اس کی پکار پر فوراً چلا جاتا ۔ پھر آپ نے آیت: «فلما جاءه الرسول قال ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن»"جب اس کے پاس قاصد ایا تو اس نے کہا تم اپنے اقا کے پاس جاؤ اور دریافت کرو ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے"(سورہ یوسف٥٠) تلاوت فرمائی۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ رحم فرمائے حضرت لوط علیہ السلام پر انہوں نے ایک زبردست ستون کی پناہ حاصل کرنا چاہی تھی، اللہ تعالی نے ان کے بعد جس بھی نبی کو مبعوث کیا اسے اس کی اپنی قوم کی طرف بھیجا۔: «لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد»(ھود ٨٠)“۔ فضل بن موسیٰ کی حدیث کی طرح ہی حدیث روایت ہے، مگر (ان کی حدیث میں ذرا سا فرق یہ ہے کہ) انہوں نے کہا: «ما بعث الله بعده نبيا إلا في ثروة من قومه» (اس حدیث میں «ذر وہ» کی جگہ «ثروه» ہے، اور «ثروة» کے معنی ہیں: زیادہ تعداد)۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: «ثروه» کے معنی کثرت اور شان و شوکت کے ہیں۔ یہ فضل بن موسیٰ کی روایت سے زیادہ اصح ہے اور یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ یوسف ؛سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٣؛حدیث نمبر ٣١١٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا: اے ابوالقاسم! ہمیں «رعد» کے بارے میں بتائیے وہ کیا چیز ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ایک فرشتہ ہے جسے بادلوں پر مقرر کیا گیا ہے، اس کے پاس آگ کے کوڑے ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ بادلوں کو اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق لے کر جاتا ہے، انہوں نے عرض کی وہ آواز کیا ہوتی ہے؟جسے آپ سنتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس فرشتے کی بادلوں کو ڈانٹنے کی آواز ہوتی ہے جب وہ انہیں ڈانٹ کر کہتا ہے کہ وہ وہاں تک جائے جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے درست فرمایا: ”اچھا اب ہمیں یہ بتائیے اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اپنے آپ پر کیا چیز حرام کر لی تھی؟“ آپ نے فرمایا: ”اسرائیل کو عرق النسا کی تکلیف ہو گئی تھی تو انہیں اس کے لیے مناسب چیز صرف اونٹ کا گوشت اور اونٹ کا دودھ ملی تھی، تو اسی وجہ سے انہوں نے اسے حرام قرار دے دیا تھا“۔ انہوں نے کہا: آپ صحیح فرما رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ـ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ رعد ؛سورۃ رعد سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٤؛حدیث نمبر ٣١١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ونفضل بعضها على بعض في الأكل» ” اور ہم نے کھانے میں انہیں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے“ (الرعد: ۴)کے بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد ردی اور سوکھی کھجوریں ہیں، فارسی کھجوریں ہیں، میٹھی اور کڑوی کسیلی کھجوریں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- زید بن ابی انیسہ نے اعمش سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- اور سیف بن محمد (جو اس روایت کے راویوں میں سے ہیں) وہ عمار بن محمد کے بھائی ہیں اور عمار ان سے زیادہ ثقہ ہیں اور یہ سفیان ثوری کے بھانجے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ رعد ؛سورۃ رعد سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٤؛حدیث نمبر ٣١١٨)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں، آپ نے یہ تلاوت کی: «كلمة طيبة كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها»ترجمہ" پاک کلمے کی مثال اس پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخ بلندی پر ہوتی ہے اور وہ اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم کے تحت دیتا ہے"(سوری ابراہیم ٢٥)آپ نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے، اور آیت «ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار»ترجمہ" اور خبیث کلمے کی مثال اس خبیث درخت کی طرح ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جاتا ہے اور اسے قرار حاصل نہیں ہوتا"(ابراہیم ٢٦)میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے۔ شعیب بن حبحاب (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے ابوبکر بن شعیب بن حبحاب نے بیان کیا، اور ابوبکر نے اپنے باپ شعیب سے اور شعیب نے انس بن مالک سے اسی طرح اسی حدیث کی ہم معنی حدیث روایت کی، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا، نہ ہی انہوں نے ابوالعالیہ کا قول نقل کیا ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- کئی ایک نے ایسی ہی حدیث موقوفاً روایت کی ہے، اور ہم حماد بن سلمہ کے سوا کسی کو بھی نہیں جانتے جنہوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہو، اس حدیث کو معمر اور حماد بن زید اور کئی اور لوگوں نے بھی روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم سے احمد بن عبدۃ ضبی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا اور حماد نے شعیب بن حبحاب کے واسطہ سے انس سے قتیبہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ابراھیم علیہ السلام؛سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٥؛حدیث نمبر ٣١١٩)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ” اللہ تعالی ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا ان کی دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی“ (ابراہیم: ۲۷)، کی تفسیر میں فرمایا: ”ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا: «من ربك؟» تمہارا رب کون ہے؟ «وما دينك؟» تمہارا دین کیا ہے؟ «ومن نبيك؟» تمہارا نبی کون ہے؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ابراھیم علیہ السلام؛سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٥؛حدیث نمبر ٣١٢٠)
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» ”جس دن اس زمین کو دوسری زمین میں تبدیل کر دیا جائے گا“ (ابراہیم: ۴۸)، پڑھ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” «على الصراط» پل صراط پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ابراھیم علیہ السلام؛سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٦؛حدیث نمبر ٣١٢١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں (عورتوں کی صفوں میں) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے (عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھنے کی کوشش کرتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں“ (الحجر: ۲۴)، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جعفر بن سلیمان نے یہ حدیث عمرو بن مالک سے اور عمروبن مالک نے ابوالجوزاء سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس میں «عن ابن عباس» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور اس میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ نوح کی حدیث سے زیادہ صحیح و درست ہو۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجر؛سورۃ حجر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٦؛حدیث نمبر ٣١٢٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجر؛سورۃ حجر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٧؛حدیث نمبر ٣١٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الحمدللہ (فاتحہ)، ام القرآن ہے، ام الکتاب (قرآن کی اصل اساس ہے) اور «السبع المثانی» ہے (باربار دہرائی جانے والی آیتیں)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجر؛سورۃ حجر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٧؛حدیث نمبر ٣١٢٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے توریت میں اور نہ ہی انجیل میں ام القرآن (فاتحہ) جیسی کوئی سورۃ نازل فرمائی ہے، اور یہ سات آیتیں ہیں جو (ہر رکعت میں پڑھی جانے کی وجہ سے) باربار دہرائی جانے والی ہیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ مانگے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالعزیز بن محمد نے علاء بن عبدالرحمٰن اور علاء نے اپنے باپ عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابی کے پاس گئے، اس وقت وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (آگے) انہوں نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالعزیز بن محمد کی حدیث لمبی اور مکمل ہے اور یہ عبدالحمید بن جعفر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اور اسی طرح کئی ایک نے علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجر؛سورۃ حجر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٧؛حدیث نمبر ٣١٢٥)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون» ”ہم ان سب سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے“ (الحجر: ۹۲)، کے متعلق فرمایا: ”اس سے مراد «لا إله إلا الله» پڑھنا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجر؛سورۃ حجر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٨؛حدیث نمبر ٣١٢٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“، پھر آپ نے آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» ”بیشک اس میں نشانیاں ہیں سمجھ داروں کے لیے ہے“ (الحجر: ۷۵)، تلاوت فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، بعض اہل علم نے اس آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں اصحاب فراست کے لیے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجر؛سورۃ حجر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٨؛حدیث نمبر ٣١٢٧)
حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زوال کے بعد ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں (تہجد) کی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر کا درجہ رکھتی ہیں“، آپ نے فرمایا: ”کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اس گھڑی اللہ کی تسبیح نہ بیان کرتی ہو“۔ پھر آپ نے آیت «يتفيأ ظلاله عن اليمين والشمائل سجدا لله وهم داخرون» ” ان کے سائے دائیں اور بائیں اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے جھکتے ہیں“ (النحل: ۴۸)، پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف علی بن عاصم کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النحل؛سورۃ نحل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٩؛حدیث نمبر ٣١٢٨)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب غزوہ احد ہوئی تو انصار کے چونسٹھ (۶۴) اور مہاجرین کے چھ افراد شہید ہوئے ۔ ان میں حضرت حمزہ رضی الله عنہ بھی تھے۔ کفار نے ان کا مثلہ کر دیا تھا، انصار نے کہا: اگر کسی دن ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوا تو ہم ان کے مقتولین کا مثلہ اس سے کہیں زیادہ کر دیں گے۔ پھر جب مکہ کے فتح کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت «وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصابرين»" اگر تم نے بدلہ لینا ہے تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تمہارے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور اگر تم صبر سے کام لو تو یہ (صبر کرنا) صبر کرنے والوں کے لیے زیادہ بہتر ہے"(النحل ١٢٦)نازل فرما دی۔ ایک صحابی نے کہا: «لا قريش بعد اليوم» (آج کے بعد قریش نہیں رہیں گے) آپ نے فرمایا: ”(نہیں) چار اشخاص کے سوا کسی کو قتل نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابی بن کعب کی روایت سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النحل؛سورۃ نحل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩٩؛حدیث نمبر ٣١٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی تو میری ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی، آپ نے ان کا حلیہ بتایا“ اور میرا گمان یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: ”موسیٰ لمبے قد والے تھے:ان کے سر کے بال گھنگھریالے تھے یوں جیسے شنوءۃ قوم کے لوگوں میں سے لگتے تھے“، آپ نے فرمایا: ”میری ملاقات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی ہوئی“، آپ نے ان کا بھی وصف بیان کیا، فرمایا: ”حضرت عیسیٰ درمیانے قد کے سرخ (سفید) رنگ کے تھے، ایسا لگتا تھا گویا ابھی دیماس (غسل خانہ) سے نہا دھو کر نکل کر آ رہے ہوں، میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی دیکھا، میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہہ ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک دودھ کا پیالہ تھا اور دوسرے میں شراب تھی، مجھ سے کہا گیا: جسے چاہو لے لو، تو میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا اور دودھ پی گیا، مجھ سے کہا گیا: آپ کو فطرت کی طرف رہنمائی مل گئی، یا آپ نے فرمایا آپ فطرت تک پہنچ گئے ، اگر آپ نے شراب کا برتن لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی“ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٠؛حدیث نمبر ٣١٣٠)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے لیے لے جایا گیا، آپ کی سواری کے لیے براق لایا گیا۔ براق لگام لگایا ہوا تھا اور اس پر زین کسی ہوئی تھی،اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شوخی کی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسے یہ کہہ کر جھڑکا: تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کر رہا ہے، تجھ پر اب تک ان سے زیادہ اللہ کے نزدیک کوئی معزز شخص سوار نہیں ہوا ہے، یہ سن کر براق پسینے پسینے ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٠؛حدیث نمبر ٣١٣١)
حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(معراج کی رات) جب ہم بیت المقدس پہنچے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی کے اشارے سے پتھر میں شگاف کر دیا اور براق کو اس سے باندھ دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠١؛حدیث نمبر ٣١٣٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قریش نے مجھے (معراج کے سفر کے بارے میں) جھٹلایا تو میں حجر (حطیم) میں کھڑا ہوا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے ظاہر کر دیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی نشانیاں (پہچان) بتانے لگا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت مالک بن صعصعہ ابوسعید، ابن عباس، ابوذر اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠١؛حدیث نمبر ٣١٣٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» ” اور ہم نے تمہیں جو خواب دکھائے وہ لوگوں کے لیے آزمائش تھے“ (بنی اسرائیل: ۶۰)، کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری آنکھ کے ساتھ خواب دیکھنا ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس تک لے جایا گیا، انہوں نے یہ بھی کہا «والشجرة الملعونة في القرآن»"اور وہ درخت قرآن میں جس پر لعنت کی گئی ہے"شجرہ «ملعونہ» سے مراد زقوم کا درخت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٢؛حدیث نمبر ٣١٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ” اور فجر کے وقت کی تلاوت بے شک فجر کی تلاوت میں حاضری ہوتی ہے“ (بنی اسرائیل: ۷۸)، کے متعلق فرمایا: ”اس وقت رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے سب حاضر (و موجود) ہوتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ایک اور سند سے اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ اور ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٢؛حدیث نمبر ٣١٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «يوم ندعو كل أناس بإمامهم» ”جس دن ہم ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے“ (بنی اسرائیل: ۷۱)، کے بارے میں فرمایا: ”ان میں سے جو کوئی (جنتی شخص) بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم بڑھا کر ساٹھ گز کا کر دیا جائے گا، اس کا چہرہ چمکتا ہوا ہو گا اس کے سر پر موتیوں کا جھلملاتا ہوا تاج رکھا جائے گا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس جائے گا، اسے لوگ دور سے دیکھ کر کہیں گے: اے اللہ! ایسی ہی نعمتوں سے ہمیں بھی نواز، اور ہمیں بھی ان میں برکت عطا کر، وہ ان کے پاس پہنچ کر کہے گا: تم سب خوش ہو جاؤ۔ ہر شخص کو ایسا ہی ملے گا، لیکن کافر کا معاملہ کیا ہو گا؟ کافر کا چہرہ کالا کر دیا جائے گا، اور اس کا جسم ساٹھ گز کا کر دیا جائے گا جیسا کہ آدم علیہ السلام کا تھا، اسے تاج پہنایا جائے گا۔ اس کے ساتھی اسے دیکھیں گے تو کہیں گے اس کے شر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ایسا تاج نہ دے، کہتے ہیں: پھر وہ ان لوگوں کے پاس آئے گا وہ لوگ کہیں گے: اے اللہ! اسے ذلیل کر، وہ کہے گا: اللہ تمہیں ہم سے دور ہی رکھے، کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے لیے ایسا ہی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٢؛حدیث نمبر ٣١٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ”عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کرے گا“ (بنی اسرائیل: ۷۹)، کے بارے میں پوچھے جانے پر فرمایا: ”اس سے مراد شفاعت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور داود زغافری: داود اود بن یزید بن عبداللہ اودی ہیں، اور یہ عبداللہ بن ادریس کے چچا ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٣؛حدیث نمبر ٣١٣٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں توڑنا شروع کیا (حضرت عبداللہ نے کبھی ایسا کہا) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیے ہوئے تھے، اور انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے جاتے تھے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا» ”حق آ گیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اور ختم ہونا ہی تھا“ (بنی اسرائیل: ۸۱)، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» ” حق اگیا اور باطل نہ تو اغاز میں کچھ کر سکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ سے کر سکتا ہے“ (سبا: ۴۹)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس باب میں حضرت ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٣؛حدیث نمبر ٣١٣٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں قیام پزیر تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ملا، اسی موقع پر آیت: «وقل رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا» ”اور یوں عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر لے جا اور مجھے اپنی طرف سے مددگار غلبہ دے۔“ (بنی اسرائیل: ۸۰)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٤؛حدیث نمبر ٣١٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا سوال دو جسے ہم اس شخص (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے پوچھیں، انہوں نے کہا: اس شخص سے روح کے بارے میں دریافت کرو، تو انہوں نے آپ سے روح کے بارے میں دریافت کیا اس پر اللہ نے آیت «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ”تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو! روح میرے پروردگار کے امر کا نتیجہ ہے، تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے“ (بنی اسرائیل: ۸۵)، انہوں نے کہا: ہمیں تو بہت زیادہ علم حاصل ہے، ہمیں توراۃ ملی ہے، اور جسے توراۃ دی گئی ہو اسے بہت بڑی خیر مل گئی، اس پر آیت «قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربي لنفد البحر» ” تم یہ فرما دو اگر سمندر میرے پروردگار کے کلمات کے لیے سیاہی بن جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا“ (الکہف: ۱۰۹)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٤؛حدیث نمبر ٣١٤٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت سے گزر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لاٹھی کے ذریعے ٹیک لگا کر چل رہے تھے، پھر آپ کچھ یہودیوں کے پاس سے گزرے تو ان میں سے بعض نے (چہ میگوئی کی) کہا: کاش ان سے کچھ پوچھتے، بعض نے کہا: ان سے کچھ نہ پوچھو، کیونکہ وہ تمہیں ایسا جواب دیں گے جو تمہیں پسند نہ آئے گا (مگر وہ نہ مانے) کہا: ابوالقاسم! ہمیں روح کے بارے میں بتائیے، (یہ سوال سن کر) آپ کچھ دیر (خاموش) کھڑے رہے، پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی آنے والی ہے، چنانچہ وحی گئی، پھر آپ نے فرمایا: «الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ”روح میرے رب کے حکم سے ہے، تمہیں بہت تھوڑا علم حاصل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٤؛حدیث نمبر ٣١٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو تین قسموں میں اٹھایا جائے گا، کچھ لوگ چل کر آئے گا، اور کچھ لوگ سوار ہو کر آئے گا اور کچھ لوگ اپنے منہ کے بل آئے گا“۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! وہ لوگ اپنے منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے انہیں قدموں سے چلایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں ان کے منہ کے بل چلا دے، سنو (یہی نہیں ہو گا کہ وہ چلیں گے بلکہ) وہ منہ ہی سے ہر بلندی (نشیب و فراز) اور کانٹے سے بچ کر چلیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- وہیب نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور طاؤس نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٥؛حدیث نمبر ٣١٤٢)
بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے:تمہیں قیامت کے دن پیدل، سوار چہروں کے بل چلنے کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٥؛حدیث نمبر ٣١٤٣)
حضرت صفوان بن عسال رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہود میں سے ایک یہودی نے دوسرے یہودی سے کہا: اس نبی کے پاس مجھے لے چلو، ہم چل کر ان سے (کچھ) پوچھتے ہیں، دوسرے نے کہا: انہیں نبی نہ کہو، اگر انہوں نے سن لیا کہ تم انہیں نبی کہتے ہو تو خوشی سے وہ پھیل جائیں گے۔ پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ولقد آتينا موسى تسع آيات بينات» ”ہم نے موسیٰ کو نو نشانیاں دیں“ (اسرائیل: ۱۰۱)، کے بارے میں پوچھا کہ وہ نو نشانیاں کیا تھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، زنا نہ کرو، ناحق کسی شخص کا قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، کسی بری (بےگناہ) شخص کو (مجرم بنا کر) بادشاہ کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے، سود نہ کھاؤ، کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ، دشمن کی طرف بڑھتے ہوئے بڑے لشکر سے نکل کر نہ بھاگو“۔ شعبہ کو شک ہو گیا ہے (کہ آپ نے نویں چیز یہ فرمائی ہے) اور تم خاص یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ ہفتے کے دن میں زیادتی (الٹ پھیر) نہ کرو، (یہ جواب سن کر) ان دونوں نے آپ کے ہاتھ پیر چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تمہیں اسلام قبول کر لینے سے کیا چیز روک رہی ہے؟“ دونوں نے جواب دیا حضرت داود (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نبی ہو گا (اور آپ ان کی ذریت میں سے نہیں ہیں) اب ہمیں ڈر ہے کہ ہم اگر آپ پر ایمان لے آتے ہیں تو ہمیں یہود قتل نہ کر دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٥؛حدیث نمبر ٣١٤٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك» ” اور تم اپنی نماز میں اپنی آواز زیادہ بلند نہ کرو“ (بنی اسرائیل: ۱۱۰)، کے بارے میں کہتے ہیں: یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بلند آواز کے ساتھ قرآن پڑھتے تھے تو مشرکین اسے اور جس نے قرآن نازل کیا ہے اور جو قرآن لے کر آیا ہے سب کو برا کہتے تھے، تو اللہ نے «ولا تجهر بصلاتك» نازل کر کے نماز میں قرآن بلند آواز سے پڑھنے سے منع فرما دیا تاکہ وہ قرآن، اللہ تعالیٰ اور جبرائیل علیہ السلام کو برا نہ کہے اور آگے «ولا تخافت بها» نازل فرمایا، یعنی اتنے دھیرے بھی نہ پڑھو کہ آپ کے ساتھی سن نہ سکیں بلکہ یہ ہے کہ وہ آپ سے قرآن سیکھیں (بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٦؛حدیث نمبر ٣١٤٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» ”نماز میں آواز بہت بلند نہ کیجئے اور نہ ہی بہت پست بلکہ دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کیجئے“ (الاسراء: ۱۱۰)، کے بارے میں کہتے ہیں: یہ آیت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ میں روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے، جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، مشرکین جب سن لیتے تو قرآن، قرآن نازل کرنے والے اور قرآن لانے والے سب کو برا کہتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «ولا تجهر بصلاتك» بلند آواز سے نماز نہ پڑھو (یعنی بلند آواز سے قرأت نہ کرو) کہ جسے سن کر مشرکین قرآن کو برا کہے اور نہ دھیمی آواز سے پڑھو (کہ تمہارے صحابہ سن نہ سکیں) بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٧؛حدیث نمبر ٣١٤٦)
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: بیشک پڑھی تھی، انہوں نے کہا: اے گنجے سر والے، تم ایسا کہتے ہو؟ کس بنا پر تم ایسا کہتے ہو؟ میں نے کہا: میں قرآن کی دلیل سے کہتا ہوں، میرے اور آپ کے درمیان قرآن فیصل ہے۔حضرت حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: جس نے قرآن سے دلیل قائم کی وہ کامیاب رہا، جس نے قرآن سے دلیل پکڑی وہ حجت میں غالب رہا، زر بن حبیش نے کہا: میں نے «سبحان الذي أسرى بعبده ليلا من المسجدالحرام إلى المسجد الأقصى» آیت پیش کی،حضرت حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا تم اس آیت میں کہیں یہ دیکھتے ہو کہ آپ نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: اگر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے وہاں نماز پڑھی ہوتی تو تم پر وہاں نماز پڑھنی ویسے ہی لازم ہو جاتی جیسا کہ مسجد الحرام میں پڑھنی لازم ہے،حضرت حذیفہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لمبی چوڑی پیٹھ والا جانور (براق) لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا جہاں اس کی نظر پہنچتی اور وہ دونوں اس وقت تک براق پر سوار رہے جب تک کہ جنت جہنم اور آخرت کے وعدہ کی ساری چیزیں دیکھ نہ لیں، پھر یہ دونوں واپس تشریف لے ائے تو ان کی واپسی بھی اسی طرح تھی جیسے وہ دونوں گئے تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا :لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسے (یعنی براق کو بیت المقدس میں) باندھ دیا تھا، کیوں باندھ دیا تھا؟ کیا اس لیے کہ کہیں بھاگ نہ جائے؟ (غلط بات ہے) جس جانور کو عالم الغیب والشھادۃ غائب و موجود ہر چیز کے جاننے والے نے آپ کے لیے مسخر کر دیا ہو وہ کہیں بھاگ سکتا ہے؟ نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٧؛حدیث نمبر ٣١٤٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میں سارے اولاد آدم کا سردار ہوں گا، اور میں یہ بات غرور کے طور پر نہیں کہ رہا ہوں، میرے ہاتھ میں حمد (و شکر) کا پرچم ہو گا اور مجھے (اس اعزاز پر) کوئی گھمنڈ نہیں ہے۔ اس دن آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہیں سب کے سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، میں پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے زمین پھٹے گی اور مجھے اس پر بھی کوئی گھمنڈ نہیں ہے“، آپ نے فرمایا: ”(قیامت میں) لوگوں پر تین مرتبہ سخت گھبراہٹ طاری ہو گی، لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ ہمارے باپ ہیں، آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت (سفارش) کر دیجئیے، وہ کہیں گے: مجھ سے ایک ذنب سرزد ہو چکا ہے جس کی وجہ سے میں زمین پر بھیج دیا گیا تھا، تم لوگ نوح کے پاس جاؤ، وہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، مگر نوح علیہ السلام کہیں گے: میں زمین والوں کے لیے دعا ضرر کر چکا ہوں جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک کیے جا چکے ہیں، لیکن ایسا کرو، تم لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: میں تین مرتبہ خلاف واقعہ بات کی تھی“، آپ نے فرمایا: ” حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو خلاف واقعہ بات کی تھی اس کے ذریعے انہوں نے اللہ تعالی کے دین کی تائید کی تھی(حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ کہیں گے) تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، تو وہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے،حضرت موسیٰ علیہ السلام کہیں گے: میں ایک قتل کر چکا ہوں، لیکن تم حضرت عیسیی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: اللہ کے سوا مجھے معبود بنا لیا گیا تھا، تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ“، آپ نے فرمایا: ”لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں انہیں ساتھ لے کر چل پڑوں گا“۔ ابن جدعان (راوی حدیث) کہتے ہیں: حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جنت کے دروازے کی کنڈی پکڑ کر اسے کھٹکھٹاؤں گا، تو دریافت کیا جائے گا، کون صاحب ہے؟ تو جواب دیا جائے گا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، تو وہ لوگ میرے لیے دروازہ کھول دیں گے، اور مجھے خوش آمدید کہیں گے وہ لوگ کہیں گے آپ کو خوش آمدید ہے، تو اس وقت میں سجدے میں چلا جاؤں گا اس وقت اللہ تعالی حمد و ثنا کے الفاظ مجھے الہام کرے گا اور مجھ سے یہ کہا جائے گا تم اپنا سر اٹھاؤ مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو قبول کی جائے گی، اور تمہاری بات کو سنا جائے گا یہ وہی مقام محمود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی نے یہ ارشاد فرمایا ہے "عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کرے گا“ (بنی اسرائیل: ۷۹)۔ سفیان ثوری کہتے ہیں: انس کی روایت میں اس کلمے «فآخذ بحلقة باب الجنة فأقعقعها» کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض محدثین نے یہ پوری حدیث ابونضرہ کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠٨؛حدیث نمبر ٣١٤٨)
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ بنی اسرائیل والے حضرت موسیٰ خضر والے حضرت موسیٰ علیہما السلام نہیں ہیں،حضرت ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا، میں نے حضرت ابی بن کعب کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں ایک دن تقریر کی، ان سے پوچھا گیا (اس وقت) لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ کہا: میں سب سے زیادہ علم والا ہوں، یہ بات اللہ کو ناگوار ہوئی کہ انہوں نے «اللہ اعلم» (اللہ بہتر جانتا ہے) نہیں کہا، اللہ نے ان پر عتاب کیا اور ان کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ «مجمع البحرین» (دو سمندروں کے سنگم) کے مقام پر ہے، وہ تم سے بڑا عالم ہے،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میری ان سے ملاقات کی صورت کیا ہو سکتی ہے؟ اللہ نے کہا: «زنبیل» (تھیلے) میں ایک مچھلی رکھ لو پھر جہاں مچھلی غائب ہو جائے وہیں میرا وہ بندہ تمہیں ملے گا،حضرت موسیٰ چل پڑے ان کے ساتھ ان کے خادم یوشع بن نون بھی تھے، حضرت موسیٰ نے ایک مچھلی ٹوکری میں رکھ لی، دونوں چلتے چلتے صخرہ (چٹان) کے پاس پہنچے، اور وہاں سو گئے، (سونے کے دوران) مچھلی تڑپی، تھیلے سے نکل کر سمندر میں جا گری،حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مچھلی کے گرتے ہی اللہ تعالیٰ نے پانی کے بہاؤ کو روک دیا، یہاں تک کہ ایک محراب کی صورت بن گئی اور مچھلی کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کا راستہ بن گیا،حضرت موسیٰ اور ان کے خادم کے لیے یہ حیرت انگیز چیز تھی، وہ نیند سے بیدار ہو کر باقی دن و رات چلتے رہے، حضرت موسیٰ کا رفیق سفر انہیں یہ بتانا بھول گیا کہ فلاں مقام پر مچھلی تھیلے سے نکل کر سمندر میں جا چکی ہے، صبح ہوئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا:ہمارا ناشتہ لاؤ، ہم تو اس سفر میں بہت تھک چکے ہیں، حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں:حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تھکان اس جگہ سے آگے بڑھ جانے کے بعد ہی لاحق ہوئی جس جگہ اللہ نے انہیں پہنچنے کا حکم دیا تھا، غلام نے کہا: بھلا دیکھئیے تو سہی (کیسی عجیب بات ہوئی) جب ہم چٹان پر فروکش ہوئے تھے (کچھ دیر آرام کے لیے) تو میں آپ سے مچھلی کا ذکر کرنا بھول ہی گیا، اور شیطان کے سوا مجھے کسی نے بھی اس کے یاد دلانے سے غافل نہیں کیا ہے، وہ تو حیرت انگیز طریقے سے سمندر میں چلی گئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہی تو وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم نکلے تھے، پھر وہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے پلٹے، وہ اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر چل رہے تھے (تاکہ صحیح جگہ پر پہنچ جائیں) (سفیان (راوی) کہتے ہیں: کچھ لوگ سمجھتے ہیں اس چٹان کے قریب چشمہ حیات ہے، جس کسی مردے کو اس کا پانی چھو جائے وہ زندہ ہو جاتا ہے)، مچھلی کچھ کھائی جا چکی تھی۔ مگر جب پانی کے قطرے اس پر پڑے تو وہ زندہ ہو گئی، دونوں اپنے نشانات قدم دیکھ کر چلے یہاں تک کہ چٹان کے پاس پہنچ گئے وہاں سر ڈھانپے ہوئے ایک شخص کو دیکھا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام عرض کیا، انہوں نے کہا: تمہارے اس ملک میں سلام کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: میں حضرت موسیٰ ہوں، (اور میری شریعت میں سلام ہے) انہوں نے پوچھا: بنی اسرائیل والے موسیٰ؟ کہا: ہاں، انہوں نے کہا: اے موسیٰ اللہ کے (بےشمار اور بے انتہائی) علوم میں سے تمہارے پاس ایک علم ہے، اللہ نے تمہیں سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا، اور مجھے بھی اللہ کے علوم میں سے ایک علم حاصل ہے، اللہ نے مجھے وہ علم سکھایا ہے، جسے تم نہیں جانتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں آپ کے ساتھ ساتھ رہوں تو کیا آپ مجھے اللہ نے آپ کو جو باتیں سکھائیں ہیں انہیں سکھا دیں گے؟ انہوں نے کہا: آپ میرے پاس رہ نہیں سکتے، اور جس بات کا آپ کو علم نہیں آپ (اسے بظاہر خلاف شرع دیکھ کر) کیسے خاموش رہ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں ان شاءاللہ رہ لوں گا اور کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی (اور مخالفت) نہیں کروں گا۔ ان سے خضر (علیہ السلام) نے کہا: اگر آپ میرے ساتھ رہنا ہی چاہتے ہیں تو (دھیان رہے) کسی چیز کے بارے میں بھی مجھ سے مت پوچھیں اور حجت بازی نہ کریں جب تک کہ میں خود ہی آپ کو اس کے بارے میں بتا نہ دوں،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہاں ہاں، (بالکل ایسا ہی ہو گا) پھر خضر و موسیٰ علیہما السلام چلے، دونوں سمندر کے ساحل سے لگ کر چلے جا رہے تھے کہ ان کے قریب سے ایک کشتی گزری، ان دونوں نے کشتی والوں سے بات کی کہ ہمیں بھی کشتی پر سوار کر لو، (باتوں ہی باتوں میں) انہوں نے خضر کو پہچان لیا، ان دونوں کو کشتی پر چڑھا لیا، اور ان سے کرایہ نہ لیا، مگر خضر علیہ السلام کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کی طرف بڑھے اور اسے اکھاڑ دیا، (یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہوا) بول پڑے، ایک تو یہ (کشتی والے شریف) لوگ ہیں کہ انہوں نےبغیر کرایہ بھاڑا لیے ہمیں کشتی پر چڑھا لیا اور ایک آپ ہیں کہ آپ نے ان کی کشتی کی طرف بڑھ کر اسے توڑ دیا تاکہ انہیں ڈبو دیں، یہ تو آپ نے غلط کیا، انہوں نے کہا: کیا میں آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ چکا ہوں کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکتے؟ (خاموش نہیں رہ سکتے) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ اس پر میری گرفت نہ کریں میں بھول گیا تھا (کہ میں نے آپ سے خاموش رہنے کا وعدہ کر رکھا ہے) اور آپ میرے کام و معاملے میں دشواریاں کھڑی نہ کریں، پھر وہ دونوں کشتی سے اتر کر ساحل کے کنارے کنارے چلے جا رہے تھے کہ اچانک ایک لڑکا انہیں اور لڑکوں کے ساتھ کھیلتا ہوا ملا، حضرت خضر نے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اس کی کھوپڑی سر سے اتار کر اسے مار ڈالا، (حضرت موسیٰ سے پھر رہا نہ گیا)حضرت موسیٰ نے کہا: آپ نے بغیر کسی قصاص کے ایک اچھی شخص کی جان لے لی، یہ تو آپ نے بڑی غلطی کی ہے۔ انہوں نے کہا: میں تو آپ سے پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کر سکیں گے۔ (کچھ نہ کچھ ضرور بول بیٹھیں گے راوی) کہتے ہیں اور یہ تو پہلے سے بھی زیادہ سخت معاملہ تھا، (اس میں وہ کیسے خاموش رہتے)حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: (یہ بھول بھی ہو ہی گئی) اب اگر میں اس کے بعد کسی چیز کے بارے میں کچھ پوچھ بیٹھوں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئیے، میرے سلسلے میں آپ عذر کو پہنچے ہوئے ہوں گے، پھر وہ دونوں آگے بڑھے، ایک گاؤں میں پہنچ کر گاؤں والوں سے کہا: آپ لوگ ہماری ضیافت کریں مگر گاؤں والوں نے انہیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کر دیا، وہاں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو گری پڑتی تھی، راوی کہتے ہیں: جھکی ہوئی تھی تو خضر علیہ السلام نے ہاتھ (بڑھا کر) دیوار سیدھی کھڑی کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: یہ تو (ایسی گئی گزری) قوم ہے کہ ہم ان کے پاس آئے، مگر انہوں نے ہماری ضیافت تک نہ کی، ہمیں کھلایا پلایا تک نہیں، آپ چاہتے تو ان سے دیوار سیدھی کھڑی کر دینے کی اجرت لے لیتے۔ خضر علیہ السلام نے کہا: اب آ گئی ہے ہماری تمہاری جدائی کی گھڑی، جن باتوں پر تم صبر نہ سکے میں تمہیں ان کی حقیقت بتا دیتا ہوں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے، ہمارے لیے تو یہ پسند ہوتا کہ وہ صبر کرتے تو ہم ان دونوں کی (عجیب و غریب) خبریں سنتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی بار تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھول ہوئی تھی“، آپ نے فرمایا: ”(اسی موقع پر) ایک گوریا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ گئی پھر سمندر سے اپنی چونچ مار کر پانی نکالا،حضرت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو متوجہ کر کے کہا: اس چڑیا کے سمندر میں چونچ مارنے سے جو کمی ہوئی ہے وہی حیثیت اللہ کے علم کے آگے ہمارے اور تمہارے علم کی ہے۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ابن عباس «وكان أمامهم ملك يأخذ كل سفينة صالحة غصبا وكان يقرأ وأما الغلام فكان كافرا»" اور اس کے پار ایک ایسا حکمران ہے جو ہر ٹھیک کشتی کو غصب کر لیتا ہے" اور اس آیت کو اس طرح پڑھا کرتے تھے: "جہاں تک لڑکے کا تعلق ہے تو وہ کافر تھا"۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو زہری نے عبیداللہ بن عتبہ سے عبیداللہ نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے ابی بن کعب رضی الله عنہم کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اس حدیث کو ابواسحاق ہمدانی نے بھی سعید بن جبیر سے، سعید نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے ابی بن کعب رضی الله عنہم کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- میں نے ابومزاحم سمرقندی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے علی ابن مدینی کو سنا وہ کہتے تھے: میں نے حج کیا، اور میرا حج سے مقصد صرف یہ تھا کہ میں سفیان سے خود سن لوں کہ وہ اس حدیث میں خبر یعنی لفظ «اخبرنا» استعمال کرتے ہیں (یا نہیں) چنانچہ میں نے سنا، انہوں نے «حدثنا عمرو بن دینار …» کا لفظ استعمال کیا۔ اور میں اس سے پہلے بھی سفیان سے یہ سن چکا تھا اور اس میں خبر (یعنی «اخبرنا») کا ذکر نہیں تھا۔ (سارا واقعہ سورہ کہف آیت نمبر ٦٢ سے ٧٧ تک میں موجود وہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں) (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الکہف؛سورۃ کہف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٢؛حدیث نمبر ٣١٤٩)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لڑکا جسے خضر علیہ السلام نے مار ڈالا تھا پیدائشی کافر تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ کہف؛سورۃ کہف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٢؛حدیث نمبر ٣١٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خضر نام اس لیے پڑا کہ وہ سوکھی ہوئی گھاس پر بیٹھے، تو وہ ہری گھاس میں تبدیل ہو گئی“ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ کہف؛سورۃ کہف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٣؛حدیث نمبر ٣١٥١)
حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «وكان تحته كنز لهما» ”ان دونوں یتیم بچوں کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن تھا“ (الکہف: ۸۲)، کے بارے میں فرمایا: ”کنز سے مراد سونا چاندی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ایک اور سند سے یزید بن یزید بن جابر کے واسطہ سے مکحول سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ کہف؛سورۃ کہف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٣؛حدیث نمبر ٣١٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو یاجوج ماجوج کی دیوار کے بارے میں ہے: ”(یاجوج و ماجوج اور ان کی ذریت) اسے ہر دن کھودتے ہیں، جب وہ اس میں شگاف ڈال دینے کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو ان کا نگراں (جو ان سے کام کرا رہا ہوتا ہے) ان سے کہتا ہے: واپس چلو کل ہم اس میں سوراخ کر دیں گے، ادھر اللہ اسے پہلے سے زیادہ مضبوط و ٹھوس بنا دیتا ہے، پھر جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ ان کو لوگوں تک لے جانے کا ارادہ کرے گا، اس وقت دیوار کھودنے والوں کا نگراں کہے گا: لوٹ جاؤ کل ہم اسے ان شاءاللہ توڑ دیں گے“، آپ نے فرمایا: ”پھر جب وہ (اگلے روز) لوٹ کر آئیں گے تو وہ اسے اسی حالت میں پائیں گے جس حالت میں وہ اسے چھوڑ کر گئے تھے، پھر وہ اسے توڑ دیں گے، اور لوگوں پر نکل پڑیں گے (ٹوٹ پڑیں گے) سارا پانی پی جائیں گے، لوگ ان سے بچنے کے لیے بھاگیں گے، وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھیکیں گے، تیر خون میں ڈوبے ہوئے واپس آئیں گے، وہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر غالب آ گئے اور آسمان والے سے بھی ہم قوت و بلندی میں بڑھ گئے پھر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا جس سے وہ مر جائیں گے“، آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، زمین کے جانور ان کا گوشت کھا کھا کر موٹے ہو جائیں گے اور شکر گزار ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے ایسے ہی جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ کہف؛سورۃ کہف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٣؛حدیث نمبر ٣١٥٣)
حضرت ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا: جس شخص نے اللہ تعالی کے لیے عمل کرتے ہوئے اس میں کسی کو اللہ کا شریک کیا تو وہ اپنے ثواب کو اللہ کے بجائے اس دوسرے شخص سے طلب کرے، کیونکہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن بکر کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ کہف؛سورۃ کہف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٤؛حدیث نمبر ٣١٥٤)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نجران بھیجا (وہاں نصاریٰ آباد تھے) انہوں نے مجھ سے کہا: کیا آپ لوگ اس آیت کو «يا أختَ هارونَ»(اے ہارون کی بہن)اس طرح نہیں پڑھتے؟ جب کہ حضرت موسیٰ و عیسیٰ کے درمیان بہت زمانے کا فاصلہ تھا میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ میں لوٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا، تو آپ نے فرمایا: ”تم نے انہیں کیوں نہیں بتا دیا کہ لوگ اپنے سے پہلے کے انبیاء و صالحین کے ناموں پر نام رکھا کرتے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے، اور ہم اسے صرف ابن ادریس ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ مریم ؛سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٥؛حدیث نمبر ٣١٥٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وأنذرهم يوم الحسرة» ”اے نبی! ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ“ (مریم: ۳۹)،تلاوت کی (پھر) فرمایا: ”موت کو سیاہ سفید مینڈھے کی صورت میں لائی جائے گی اور جنت و جہنم کے درمیان دیوار پر کھڑی کر دی جائے گی، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! جنتی گردن اٹھا کر دیکھیں گے، پھر کہا جائے گا: اے جہنمیو! جہنمی گردن اٹھا کر دیکھنے لگیں گے، پوچھا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ سب کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے، پھر اسے پہلو کے بل پچھاڑ کر ذبح کر دیا جائے گا، اگر اہل جنت کے لیے زندگی و بقاء کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو وہ خوشی سے مر جاتے، اور اگر اہل جہنم کے لیے جہنم کی زندگی اور جہنم میں ہمیشگی کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو وہ غم سے مر جاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ مریم ؛سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٥؛حدیث نمبر ٣١٥٦)
قتادہ اللہ کے اس فرمان کے بارے میں بتاتے ہیں«ورفعناه مكانا عليا»(اور ہم نے اسے بلند مقام پر اٹھا لیا)(مریم ٥٧)ہم سے حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں نے حضرت ادریس علیہ السلام کو چوتھے آسمان پر دیکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور سعید بن ابی عروہ، ہمام اور کئی دیگر راویوں نے قتادہ سے، قتادہ نے انس سے اور انس نے مالک بن صعصعہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث معراج پوری کی پوری روایت کی، اور یہ ہمارے نزدیک اس سے مختصر ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری خدری رضی الله عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ مریم ؛سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٦؛حدیث نمبر ٣١٥٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: ”جتنا آپ ہمارے پاس آتے ہیں، اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟ اس پر آیت «وما نتنزل إلا بأمر ربك» ”ہم صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار کے حکم کے مطابق نازل ہوتے ہیں ہمارے آگے اور ہمارے پیچھے اور جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت ہے“ (مریم: ۶۴)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم سے حسین بن حریث نے بیان کیا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا اور وکیع نے عمر بن ذر سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ مریم ؛سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٦؛حدیث نمبر ٣١٥٨)
سدی کہتے ہیں کہ میں نے مرہ ہمدانی سے آیت «وإن منكم إلا واردها» ”یہ امر یقینی ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہوگا“ (مریم: ۷۱)، کا مطلب پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے ان لوگوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ جہنم میں جائیں گے، پھر اس سے اپنے اعمال کے سہارے نکلیں گے، پہلا گروہ (جن کے اعمال بہت اچھے ہوں گے) بجلی چمکنے کی سی تیزی سے نکل آئے گا۔ پھر ہوا کی رفتار سے، پھر گھوڑے کے تیز دوڑنے کی رفتار سے، پھر سواری لیے ہوئے اونٹ کی رفتار سے، پھر دوڑتے شخص کی، پھر پیدل چلنے کی رفتار سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو شعبہ نے سدی سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ مریم ؛سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٧؛حدیث نمبر ٣١٥٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے «وإن منكم إلا واردها»(مریم ٧١)کے تعلق سے فرمایا: ”لوگ جہنم میں جائیں گے پھر اپنے اعمال (صالحہ) کے ذریعہ نکل آئیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: سدی نے مرہ سے اور مرہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے اسے سدی سے مرفوعاً ہی سنا ہے، لیکن میں جان بوجھ کر چھوڑ دیتا ہوں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ مریم ؛سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٧؛حدیث نمبر ٣١٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے: میں نے فلاں کو اپنا حبیب بنا لیا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر حضرت جبرائیل آسمان میں اعلان کر دیتے ہیں، اور پھر زمین والوں کے دلوں میں محبت پیدا ہو جاتی ہے، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات سيجعل لهم الرحمن ودا» ”بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے عنقریب رحمان ان کے لیے محبت قائم کر دے گا“ (مریم: ۹۶)، کا مطلب و مفہوم۔ اور اللہ جب کسی بندے کو نہیں چاہتا تو حضرت جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے، میں فلاں کو پسند نہیں کرتا پھر وہ آسمان میں پکار کر سب کو اس سے باخبر کر دیتے ہیں۔ تو زمین میں اس کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) ناپسندیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی جیسی حدیث عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ مریم ؛سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٧؛حدیث نمبر ٣١٦١)
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خباب بن ارت رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں عاص بن وائل سہمی (کافر) کے پاس اس سے اپنا ایک حق لینے کے لیے گیا، اس نے کہا: جب تک تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت) کا انکار نہیں کر دیتے میں تمہیں دے نہیں سکتا۔ میں نے کہا: نہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا انکار نہیں کر سکتا۔ چاہے تم یہ کہتے کہتے مر جاؤ۔ پھر زندہ ہو پھر یہی کہو۔ اس نے پوچھا کیا: میں مروں گا؟ پھر زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا؟ میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: وہاں بھی میرے پاس مال ہو گا، اولاد ہو گی، اس وقت میں تمہارا حق تمہیں لوٹا دوں گا۔ اس موقع پر آیت «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا» ”کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا مجھے مال اور اولاد ضرور دیے جائیں گے“ (مریم: ۷۷)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ مریم ؛سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٨؛حدیث نمبر ٣١٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لارہے تھے، تو رات کے وقت سفر کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آرام کی ضرورت محسوس ہوئی، آپ نے اپنی اونٹ بٹھایا اور قیام کیا،حضرت بلال رضی الله عنہ سے فرمایا: ”بلال! آج رات ہمارے لیے تم نے پہرہ دینا ہے(یعنی فجر کے وقت اٹھا دینا ہے)“، حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نوافل ادا کرنے شروع کی پھر وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے، اسی دوران ان کی آنکھ لگ گئی، اور وہ سو گئے، پھر تو کوئی اٹھ نہ سکا، ان سب میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، آپ نے فرمایا: ”بلال! (یہ کیا ہوا؟)“ بلال نے عرض کیا: میرے باپ آپ پر قربان، مجھے بھی اسی چیز نے اپنی گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، آپ نے فرمایا: ”یہاں سے اونٹوں کو آگے کھینچ کر لے چلو، پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اونٹ بٹھائے، وضو کیا، نماز کھڑی کی اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی آپ اطمینان سے اپنے وقت پر پڑھی جانے والی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپ نے آیت «أقم الصلاة لذكري» "میری یاد کے لیے نماز قائم کرو“ (طہٰ: ۱۴)، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، اسے کئی حافظان حدیث نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے اور سعید بن مسیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- صالح بن ابی الاخضر حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں۔ انہیں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے حفظ کے تعلق سے ضعیف کہا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ طہ ؛سورۃ طہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣١٩؛حدیث نمبر ٣١٦٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ويل» جہنم کی ایک وادی ہے کافر شخص اس میں 40 برس تک گرتا رہے گا، تو اس کی گہرائی میں پہنچے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم ابن لہیعہ کے سوا کسی اور کو نہیں جانتے کہ وہ اسے مرفوعاً روایت کرتا ہو۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأنبياء؛سورہ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٠؛حدیث نمبر ٣١٦٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے دو غلام ہیں، جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے مال میں خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں، میں انہیں گالیاں دیتا ہوں مارتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیں(آخرت میں)میرا اور ان کا انجام اس حوالے سے کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ”انہوں نے، تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، اور تمہاری نافرمانی کی ہے تم سے جو جھوٹ بولے ہیں ان سب کا شمار و حساب ہو گا تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا، اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں تو تم اور وہ برابر چھوٹ جاؤ گے، نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر، اور اگر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی تو تمہارا فضل و احسان ہو گا، اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو تجھ سے ان کے ساتھ زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا، راوی بیان کرتے ہیں: وہ شخص اٹھ کر ایک طرف ہوتے ہوئے واپس جانے لگاتو آپ نے فرمایا: ”کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے (اللہ نے فرمایا ہے) «ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال» الآية ” قیامت کے دن ہم انصاف کا ترازو قائم کریں گے اور کسی بھی شخص پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا خواہ وہ رائی کے دانے کے وزن جتنا ہو“ (الانبیاء: ۴۷)، اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں پاتا کہ ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن غزوان کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- احمد بن حنبل نے بھی یہ حدیث عبدالرحمٰن بن غزوان سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأنبياء؛سورہ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٠؛حدیث نمبر ٣١٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین معاملات کے سوا کسی بھی معاملے میں کبھی بھی خلاف ظاہر بات نہ کی ، ایک تو یہ ہے کہ آپ نے کہا: میں بیمار ہوں، حالانکہ آپ بیمار نہیں تھے، (دوسرا) آپ نے سارہ کو اپنی بہن کہا: (جب کہ وہ آپ کی بیوی تھیں) (تیسرا، آپ نے بت توڑا) اور پوچھنے والوں سے آپ نے کہا: بڑے (بت) ان کے اس بڑے نے توڑے ہیں، (ان سے پوچھ لیں)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، اور ابوالزناد کے واسطہ سے ابن اسحاق کی روایت غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأنبياء؛سورہ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢١؛حدیث نمبر ٣١٦٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کہنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو!تمہیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں برہنہ جسم اور ختنے کے بغیر حالت میں اٹھایا جائے گا پھر آپ نے یہ ایت تلاوت کی«كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا» ”ہم نے جیسے پہلے آدمی کو پیدا کیا ہے ویسا ہی دوبارہ لوٹا دیں گے (پیدا فرما دیں گے)“ (الانبیاء: ۱۰۴)، آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن جنہیں سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، (قیامت کے دن) میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے جنہیں پکڑ کر بائیں جانب (جہنم کی رخ) کر دیا جائے گا، میں کہوں گا پروردگار! یہ تو میرے اصحاب (امتی) ہیں، کہا جائے گا: کیا آپ کو نہیں معلوم ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا نئی چیزیں ایجاد کی تھی۔ (یہ سن کر) میں بھی وہی بات کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہی ہے(جس کاذکر قرآن میں ہے)«وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم وأنت على كل شيء شهيد إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم» ” جب تک میں ان میں موجود تھا میں ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے موت دے دی تو اب تو ان کا نگہبان ہے اور تو ہر چیز پر گواہ ہے تو انہیں عذاب دیتا ہے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کی مغفرت کر دے" یہ آیت اخر تک ہے“ (المائدہ: ۱۱۸)، کہا جائے گا: یہ لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوئے تھے تو یہ لوگ ایڑیوں کے بل گھوم کر مرتد ہو گئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے. امام ترمذی کہتے ہیں: ایک اور سند سے بھی شعبہ نے اسی طرح مغیرہ بن نعمان سے روایت کی ہے، اس حدیث کو سفیان ثوری نے مغیرہ بن نعمان سے اسی طرح روایت کی ہے، ۴- اس سے ان کی مراد اہل ردہ یعنی مرتدین کا گروہ ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأنبياء؛سورہ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢١؛حدیث نمبر ٣١٦٧)
حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» "اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے" سے قول «ولكن عذاب الله شديد»" اللہ تعالی کا عذاب شدید ہوگا"(سور حج ١،٢)تک نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم (علیہ السلام) سے کہے گا «ابعث بعث النار» ”جہنم میں جانے والے کو وہاں بھیج دو“حضرت آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب «بعث النار» ”کیا ہے (یعنی کتنے)؟“ اللہ فرمائے گا: نو سو ننانوے (۹۹۹) افراد جہنم میں اور (ان کے مقابل میں) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان (صحابہ) رونے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نزدیکی حاصل کرو اور ہر کام صحیح اور درست ڈھنگ سے کرتے رہو، (اہل جنت میں سے ہو جاؤ گے)، کیونکہ ہر نبوت سے پہلے جاہلیت موجود رہی ہے“، آپ نے فرمایا: ”یہ (۹۹۹ کی تعداد) عدد انہیں (ادوار) جاہلیت کے افراد سے پوری کی جائے گی۔ یہ تعداد اگر جاہلیت سے پوری نہ ہوئی تو ان کے ساتھ منافقین کو ملا کر پوری کی جائے گی، تمہارے اور دوسری امتوں کی مثال اسی طرح ہے جیسے کسی جانور کے ہاتھ کے اندرونی حصے میں گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے یا جس طرح کسی اونٹ کے پہلو میں کوئی تل ہوتا ہے“ پھر آپ نے فرمایا: ”مگر مجھے امید ہے کہ جنت میں جانے والوں میں ایک چوتھائی تعداد تم لوگوں کی ہو گی“، یہ سن کر (لوگوں نے خوش ہو کر) نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے توقع ہے جنتیوں کی ایک تہائی تعداد تم ہو گے“، لوگوں نے پھر تکبیر بلند کی، آپ نے پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھا آدھا تم لوگ ہو گے“، لوگوں نے پھر صدائے تکبیر بلند کی (اس سے آگے) مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ نے دو تہائی بھی فرمایا یا نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی راویوں سے حضرت عمران بن حصین کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأنبياء؛سورہ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٢؛حدیث نمبر ٣١٦٨)
حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے،اور سفر میں لوگ آگے پیچھےتھے، آپ نے بآواز بلند یہ دونوں آیتیں: «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے لے کر «عذاب الله شديد» تک تلاوت فرمائی، جب صحابہ نے یہ سنا تو اپنی سواریوں کی رفتار بڑھا دی، اور یہ جان لیا کہ کوئی بات ہے جسے آپ فرمانے والے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“، صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکارے گا اور وہ اپنے رب کو جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: «ابعث بعث النار» ”بھیجو جہنم میں جانے کو“، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے ہمارے رب! «بعث النار» ”کیا ہے (یعنی کتنے)؟“ اللہ کہے گا: ایک ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا، یہ سن کر لوگ مایوس ہو گئے، ایسا لگا کہ اب یہ زندگی بھر کبھی ہنسیں گے نہیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی یہ (مایوسانہ) کیفیت و گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا: ”نیک کام کرو اور خوش ہو جاؤ (اچھے اعمال کے صلے میں جنت پاؤ گے) قسم ہے اس ذات کی جس کے قدرت میں محمد کی جان ہے! تمہارے ساتھ دو طرح کی مخلوق ایسی ہے کہ وہ دونوں جس کے ساتھ ہوں اس کی تعداد کو زیادہ کر دیں گے ایک یاجوج و ماجوج اور دوسرا اولاد آدم علیہ السلام کے وہ لوگ جو ابلیس کے ماننے والے تھے اور مر چکے ہیں(یعنی اس دنیا سے گزر چکے)، آپ کی اس بات سے لوگوں کے رنج و فکر کی اس کیفیت میں کچھ کمی آئی جسے لوگ شدت سے محسوس کر رہے تھے اور اپنے دلوں میں موجود پا رہے تھے۔“ آپ نے فرمایا: ”نیکی کا عمل جاری رکھو، اور ایک دوسرے کو خوشخبری دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے دست اقدس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! لوگوں کے درمیان تمہاری مثال اسی طرح ہے جیسے کسی اونٹ کے پہلو میں تل ہوتا ہے یا جیسے کسی جانور کے ہاتھ کے اندر کی طرف گوشت ہوتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأنبياء؛سورہ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٣؛حدیث نمبر ٣١٦٩)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خانہ کعبہ کا نام «بيت العتيق» (آزاد گھر) اس لیے رکھا گیا کہ اس پر کسی جابر و ظالم کا غلبہ و قبضہ نہیں کرسکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ایک اور سند سے زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأنبياء؛سورہ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٤؛حدیث نمبر ٣١٧٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکالا گیا تو حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے نبی کو (اپنے وطن سے) نکال دیا ہے، یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير» ” جن لوگوں کے ساتھ جنگ کی جاتی ہےانہیں اجازت دی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے بے شک اللہ تعالی ان کی مدد کرنے پر قادر ہے “ (الحج: ۳۹)، نازل فرمائی حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: (جب یہ آیت نازل ہوئی تو) میں نے یہ سمجھ لیا کہ اب (مسلمانوں اور کافروں میں) جنگ ہو گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس کو عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ نے سفیان سے، سفیان نے اعمش سے، اعمش نے مسلم بطین سے مسلم نے حضرت سعید بن جبیر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس روایت میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کا ذکر نہیں ہے، اسی طرح اور کئی راویوں نے سفیان سے، سفیان نے اعمش سے، اور اعمش نے مسلم بطین کے واسطہ سے، سعید بن جبیر سے مرسلاً روایت کی ہے، اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأنبياء؛سورہ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٥؛حدیث نمبر ٣١٧١)
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکالا گیا ، ایک آدمی نے کہا: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا تو اس پر آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير الذين أخرجوا من ديارهم بغير حق» ” جن لوگوں کے ساتھ جنگ کی جائے ان کو اجازت دی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے بے شک اللہ تعالی ان کی مدد کرنے پر قدرت رکھتا ہے وہ لوگ جنہیں ناحق طور پر ان کی آبادی (یعنی بستی) سے نکالا گیا“ (الحج: ۳۹)، نازل ہوئی، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو ناحق نکال دیا گیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الأنبياء؛سورہ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٥؛حدیث نمبر ٣١٧٢)
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کے پاس سے شہد کی مکھی کے اڑنے کی طرح آواز (بھنبھناہٹ) سنائی پڑتی تھی۔ (ایک دن کا واقعہ ہے) آپ پر وحی نازل ہوئی ہم کچھ دیر (خاموش) ٹھہرے رہے، جب آپ سے نزول وحی کے وقت کی کیفیت دور ہوئی تو آپ قبلہ رخ ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا فرمائی: «اللهم زدنا ولا تنقصنا وأكرمنا ولا تهنا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علينا وارضنا وارض عنا» ”اے اللہ! ہم کو زیادہ دے، ہمیں دینے میں کمی نہ کر، ہم کو عزت دے، ہمیں ذلیل و رسوا نہ کر، ہمیں اپنی نعمتوں سے نواز، اپنی نوازشات سے ہمیں محروم نہ رکھ، ہمیں (اوروں) پر فضیلت دے، اور دوسروں کو ہم پر فضیلت و تفوّق نہ دے، اور ہمیں راضی کر دے اور ہم سے راضی و خوش ہو جا“ پھر آپ نے فرمایا: مجھ پر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل کرتا رہے گا، وہ جنت میں جائے گا، پھر آپ نے «قد أفلح المؤمنون»"اہل ایمان کامیاب ہوگئے"(سورۃ المومنون: ۱- ۱۰) سے شروع کر کے دس آیتیں مکمل تلاوت فرمائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ایک اور سند کے ساتھ اسی کی ہم معنی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے، میں نے اسحاق بن منصور کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور اسحاق بن ابراہیم۔ یہ حدیث عبدالرزاق سے، عبدالرزاق نے یونس بن سلیم سے، یونس بن سلیم نے یونس بن یزید کے واسطہ سے زہری سے روایت کی، ۲- جن لوگوں نے عبدالرزاق سے یہ حدیث سنی ہے ان میں سے کچھ لوگ (یونس بن سلیم کے بعد) یونس بن یزید کا ذکر کرتے ہیں۔ اور بعض لوگ اس روایت میں یونس بن یزید کا ذکر نہیں کرتے ہیں، اور جس نے اس روایت میں یونس بن یزید کا ذکر کیا ہے، وہ زیادہ صحیح ہے۔ عبدالرزاق اس حدیث میں کبھی یونس بن یزید کا ذکر کرتے تھے اور کبھی نہیں کرتے تھے، اور جس حدیث میں یونس کا ذکر نہیں کیا ہے وہ حدیث مرسل (منقطع) ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المؤمنین؛سورہ مومنون سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٦؛حدیث نمبر ٣١٧٣)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ربیع بنت نضر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، ان کے بیٹے حارث بن سراقہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے تھے، انہیں ایک نامعلوم تیر لگا تھا جس کے بارے میں پتا نہ لگ سکا تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے (میرے بیٹے) حارثہ کے بارے میں بتائیے، اگر وہ بھلائی تک پہنچ گیا ہے تو میں ثواب کی امید رکھتی اور صبر کرتی ہوں، اور اگر وہ خیر (بھلائی) کو نہیں پہونچا ہے تو میں (اس کے لیے) اور زیادہ دعائیں کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حارثہ کی ماں! جنت میں بہت ساری جنتیں ہیں، تمہارا بیٹا جنت الفردوس میں پہنچ چکا ہے اور فردوس جنت کا ایک ٹیلہ ہے، جنت کے بیچ میں ہے اور جنت کی سب سے اچھی جگہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المؤمنین؛سورہ مومنون سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٧؛حدیث نمبر ٣١٧٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ”جو لوگ اللہ کے راہ میں(جتنا ہو سکے)اتنا دیتے ہیں، اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں (کہ قبول ہو گا یا نہیں)“ (المؤمنون: ۶۰)، کا مطلب پوچھا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، اور چوری کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، صدیق کی صاحبزادی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں قبول نہ ہوں، یہی ہیں وہ لوگ جو خیرات (بھلے کاموں) میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی لوگ بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن سعید نے بھی اس حدیث کو ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ سے اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المؤمنین؛سورہ مومنون سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٧؛حدیث نمبر ٣١٧٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وهم فيها كالحون» ”اور وہ اس میں ڈراونی شکل والے ہو رہے ہوں گے“ (المومنون: ۱۰۴)، کے سلسلے سے فرمایا: ”جہنم ان کے منہ کو جھلسا دے گی، جس سے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر تک پہنچ جائے گا اور نچلا ہونٹ لٹک کر ناف سے ٹکرانے لگے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المؤمنین؛سورہ مومنون سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٨؛حدیث نمبر ٣١٧٦)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ مرثد بن مرثد نامی صحابی وہ ایسے (جی دار و بہادر) شخص تھے جو (مسلمان) قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے آیا کرتے تھے، اور مکہ میں عناق نامی ایک زانیہ، بدکار عورت تھی، وہ عورت اس صحابی کی (ان کے اسلام لانے سے پہلے کی) دوست تھی، انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک قیدی شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے قید سے نکال کر لے جائیں گے، کہتے ہیں کہ میں (اسے قید سے نکال کر مدینہ لے جانے کے لیے) آ گیا، میں ایک چاندنی رات میں مکہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے سایہ میں جا کر کھڑا ہوا ہی تھا کہ عناق آ گئی۔ دیوار میں میری سیاہ پرچھائیں اس نے دیکھ لی، جب میرے قریب پہنچی تو مجھے پہچان کر پوچھا: مرثد ہونا؟ میں نے کہا: ہاں، مرثد ہوں، اس نے خوش آمدید کہا، (اور کہا:) آؤ، رات ہمارے پاس گزارو، میں نے کہا: عناق! اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے، اس نے شور مچا دیا، اے خیمہ والو (دوڑو) یہ شخص تمہارے قیدیوں کو اٹھائے لیے جا رہا ہے، پھر میرے پیچھے آٹھ آدمی دوڑ پڑے، میں خندمہ (نامی پہاڑ) کی طرف بھاگا اور ایک غار یا کھوہ کے پاس پہنچ کر اس میں گھس کر چھپ گیا، وہ لوگ بھی اوپر چڑھ آئے اور میرے سر کے قریب ہی کھڑے ہو کر۔ انہوں نے پیشاب کیا تو ان کے پیشاب کی بوندیں ہمارے سر پر ٹپکیں، لیکن اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا، وہ ہمیں نہ دیکھ سکے، وہ لوٹے تو میں بھی لوٹ کر اپنے ساتھی کے پاس (جسے اٹھا کر مجھے لے جانا تھا) آ گیا، وہ بھاری بھر کم آدمی تھے، میں نے انہیں اٹھا کر (پیٹھ پر) لاد لیا، اذخر (کی جھاڑیوں میں) پہنچ کر میں نے ان کی بیڑیاں توڑ ڈالیں اور پھر اٹھا کر چل پڑا، کبھی کبھی اس نے بھی میری مدد کی (وہ بھی بیڑیاں لے کر چلتا) اس طرح میں مدینہ آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیت «الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين» ”زانی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے اور زانیہ سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے، مسلمانوں پر یہ نکاح حرام ہے“ (النور: ۳)، نازل ہوئی آپ نے (اس آیت کے نزول کے بعد مرثد بن ابی مرثد سے) فرمایا: ”اس سے نکاح نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النور ؛سورہ نور سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٢٨؛حدیث نمبر ٣١٧٧)
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت مصعب بن زبیر رضی الله عنہ کے حکومت کے زمانے میں مجھ سے پوچھا گیا: کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آ گیا، ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، مجھ سے کہا گیا کہ وہ قیلولہ فرما رہے ہیں، مگر انہوں نے میری بات چیت سن لی۔ اور مجھے (پکار کر) کہا: ابن جبیر! اندر آ جاؤ، تم کسی (دینی) ضرورت ہی سے آئے ہو گے، میں اندر داخل ہوا، دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کجاوے کے نیچے ڈالنے والا کمبل بچھائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! پاک اور برتر ذات ہے اللہ کی، ہاں، (سنو) سب سے پہلا شخص جس نے اس بارے میں مسئلہ پوچھا وہ فلاں بن فلاں تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری میں مبتلا یعنی زناکاری کرتے ہوئے دیکھے تو کیا کرے؟ اگر بولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے اور اگر چپ رہتا ہے تو بڑی بات پر چپ رہتا ہے، آپ یہ سن کر چپ رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش ہی آ گیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے آپ سے جو بات پوچھی تھی، اس سے میں خود دوچار ہو گیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی آیات «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ۱؎ سے ختم آیات تک «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» "وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس گواہ کے طور پر صرف ان کی اپنی ذات ہوتی ہے"(نور٦) نازل فرمائیں، حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں اور اسے نصیحت کیا، اسے سمجھایا بجھایا، اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے، اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس عورت پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے، پھر آپ عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اسے بھی وعظ و نصیحت کی، سمجھایا، اسے بھی بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا اور آسان ہے، اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! اس نے سچ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے لعان کی شروعات مرد سے کی، مرد نے چار بار گواہیاں دی کہ اللہ گواہ ہے کہ وہ سچا ہے، پانچویں بار میں کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر آپ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس نے بھی اللہ کی چار گواہیاں دیں، اللہ گواہ ہے کہ اس کا شوہر جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں بار کہا: اللہ کا غضب ہو اس پر اگر اس کا شوہر سچوں میں سے ہو، اس کے بعد آپ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النور ؛سورہ نور سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٣١؛حدیث نمبر ٣١٧٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ہلال بن امیہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ لاؤ ورنہ تم پر حد جاری ہو گی، ہلال نے کہا: جب ہم میں سے کوئی کسی شخص کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوا دیکھے گا تو کیا وہ گواہ ڈھونڈے چل پڑے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے کہ تم گواہ پیش کرو ورنہ تم پر حد جاری ہو گی۔ ہلال نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں سچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی ایسی چیز ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بچا دے گی، پھر (اسی موقع پر) آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» سے «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» تک نازل ہوئی آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب آپ پڑھ کر فارغ ہوئے تو ان دونوں کو بلا بھیجا، وہ دونوں آئے، پھر ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سمجھانے لگے: اللہ کو معلوم ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ہے جو توبہ کر لے؟ پھر عورت کھڑی ہوئی، اور اس نے بھی گواہی دی، پھر جب پانچویں گواہی ”اللہ کی اس پر لعنت ہو اگر وہ سچا ہو“ دینے کی باری آئی، تو لوگوں نے اس سے کہا: یہ گواہی اللہ کے غضب کو واجب کر دے گی حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: (لوگوں کی بات سن کر) وہ ہچکچائی اور ذلت و شرمندگی سے سر جھکا لیا، ہم سب نے گمان کیا کہ شاید وہ (اپنی پانچویں گواہی) سے پھر جائے گی، مگر اس نے کہا: میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا نہ کروں گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو دیکھتے رہو اگر وہ کالی آنکھوں والا موٹے سرین والا اور بھری رانوں والا بچہ جنے تو سمجھ لو کہ دہ شریک بن سحماء کا ہے، تو اس نے ایسا ہی بچہ جنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کتاب اللہ (قرآن) سے اس کا فیصلہ (لعان کا) نہ آ چکا ہوتا تو ہمارا اس کے ساتھ سلوک مختلف ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ہشام بن حسان کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو عباد بن منصور نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- ایوب نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کی ہے اور اس روایت میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النور ؛سورہ نور سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٣١؛حدیث نمبر ٣١٧٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میرا واقعہ لوگوں میں مشہور ہوا تو میں ان سے بےخبر تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میرے تعلق سے ایک خطبہ دیا، آپ نے کلمہ شہادتین پڑھیں، اللہ کے شایان شان تعریف و ثنا کی، اور حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا: ”لوگو! ہمیں ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری گھر والی پر تہمت لگائی ہے، قسم اللہ کی! میں نے اپنی بیوی میں کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی، انہوں نے میری بیوی کو اس شخص کے ساتھ متہم کیا ہے جس کے بارے میں اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی برائی نہیں جانی، وہ میرے گھر میں کبھی بھی میری غیر موجودگی میں داخل نہیں ہوا، وہ جب بھی میرے گھر میں آیا ہے میں موجود رہا ہوں، اور جب بھی میں گھر سے غائب ہوا، سفر میں رہا وہ بھی میرے ساتھ گھر سے دور سفر میں رہا ہے“، (یہ سن کر) حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ نے کھڑے ہو کر، عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں ان کی گردنیں اڑا دوں، (یہ سن کر) خزرج قبیلے کا ایک اور شخص جس کے قبیلے سے حسان بن ثابت کی ماں تھیں کھڑا ہوا اس نے (سعد بن معاذ سے مخاطب ہو کر) کہا: آپ جھوٹ اور غلط بات کہہ رہے ہیں، سنئیے، اللہ کی قسم! اگر یہ (تہمت لگانے والے آپ کے قبیلے) اوس کے ہوتے تو یہ پسند نہ کرتے کہ آپ ان کی گردنیں اڑا دیں، یہ بحث و تکرار اتنی بڑھی کہ اوس و خزرج کے درمیان مسجد ہی میں لڑائی شروع ہوجائے، (حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں) مجھے اس کی بھی خبر نہ ہوئی، جب اس دن کی شام ہوئی تو میں اپنی (قضائے حاجت کی) ضرورت سے گھر سے باہر نکلی، میرے ساتھ مسطح کی ماں بھی تھیں، وہ (راستہ میں) ٹھوکر کھائی تو کہہ اٹھیں: مسطح تباہ برباد ہو! میں نے ان سے کہا: آپ کیسی ماں ہیں بیٹے کو برا بھلا کہتی ہیں؟ تو وہ چپ رہیں، پھر دوبارہ ٹھوکر کھائی تو پھر وہی لفظ دہرایا، مسطح ہلاک ہو، میں نے پھر (ٹوکا) میں نے کہا: آپ کیسی ماں ہیں؟ اپنے بیٹے کو برا بھلا کہتی ہیں؟ وہ پھر خاموش رہیں، پھر جب تیسری بار ٹھوکر کھائی تو پھر یہی لفظ دہرایا تو میں نے ڈانٹا (اور جھڑک دیا) کیسی ماں ہیں آپ؟ اپنے ہی بیٹے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں، وہ بولیں: (بیٹی) قسم اللہ کی میں اسے صرف تیرے معاملے میں برا بھلا کہہ رہی ہوں، میں نے پوچھا: میرے کس معاملے میں؟ تب انہوں نے مجھے ساری باتیں کھول کھول کر بتائیں، میں نے ان سے پوچھا: کیا ایسا ہوا؟ (یہ ساری باتیں پھیل گئیں؟) انہوں نے کہا: ہاں، قسم اللہ کی! یہ سن کر میں گھر لوٹ آئی، تو ان میں جس کام کے لیے نکلی تھی، نکلی ہی نہیں، مجھے اس قضائے حاجت کی تھوڑی یا زیادہ کچھ بھی ضرورت محسوس نہ ہوئی، (بلکہ) مجھے تیز بخار چڑھ آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مجھے میرے ابا کے گھر بھیج دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایک لڑکا کر دیا، (اور میں اپنے ابا کے گھر آ گئی) میں گھر میں داخل ہوئی تو (اپنی ماں) ام رومان کو نیچے پایا اور (اپنے ابا) ابوبکر کو گھر کے اوپر پڑھتے ہوئے پایا، میری ماں نے کہا: بیٹی! کیسے آئیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے انہیں بتا دیا اور انہیں ساری باتیں (اور سارا قصہ) سنا دیا، مگر انہیں یہ باتیں سن کر وہ اذیت نہ پہنچی جو مجھے پہنچی، انہوں نے کہا: بیٹی! اپنے آپ کو سنبھالو، کیونکہ اللہ کی قسم! بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی مرد کی کوئی حسین و جمیل عورت ہو جس سے وہ مرد (بے انتہا) محبت کرتا ہو، اس سے اس کی سوکنیں حسد نہ کرتی (اور جلن نہ رکھتی) ہوں اور اس کے بارے میں لگائی بجھائی نہ کرتی ہوں، غرضیکہ انہیں اتنا صدمہ نہ پہنچا جتنا مجھے پہنچا، میں نے پوچھا: کیا میرے ابو جان کو بھی یہ بات معلوم ہو چکی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے (پھر) پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان باتوں سے واقف ہو چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، (یہ سن کر) میں غم سے نڈھال ہو گئی اور رو پڑی،حضرت ابوبکر رضی الله عنہ چھت پر قرآن پڑھ رہے تھے، میرے رونے کی آواز سن کر نیچے اتر آئے، میری ماں سے پوچھا، اسے کیا ہوا؟ (یہ کیوں رو رہی ہے؟) انہوں نے کہا: اس کے متعلق جو باتیں کہی گئیں (اور افواہیں پھیلائی گئی ہیں) وہ اسے بھی معلوم ہو گئی ہیں، (یہ سن کر) ان کی بھی آنکھیں بہہ پڑیں، (مگر) انہوں نے کہا: اے میری بیٹی! میں تمہیں قسم دلا کر کہتا ہوں تو اپنے گھر لوٹ جا، میں اپنے گھر واپس ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میری لونڈی (بریرہ) سے میرے متعلق پوچھ تاچھ کی، اس نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں ان میں کوئی عیب نہیں جانتی، ہاں، بس یہ بات ہے کہ (کام کرتے کرتے تھک کر) سو جاتی ہیں اور بکری آ کر گندھا ہوا آٹا کھا جاتی ہے، بعض صحابہ نے اسے ڈانٹا، (باتیں نہ بنا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ بتا (اس سے اس پوچھ تاچھ میں) وہ (اپنے مقام و مرتبہ سے) نیچے اتر آئے، اس نے کہا: سبحان اللہ! پاک و برتر ہے اللہ کی ذات،قسم اللہ کی! میں انہیں بس ایسی ہی جانتی ہوں جیسے سنار سرخ سونے کے ڈلے کو جانتا پہچانتا ہے، پھر اس معاملے کی خبر اس شخص کو بھی ہو گئی جس پر تہمت لگائی گئی تھی۔ اس نے کہا: سبحان اللہ! قسم اللہ کی، میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی عورت کا ستر بے پردہ نہیں کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو کر مرے، میرے ماں باپ صبح ہی میرے پاس آ گئے اور ہمارے ہی پاس رہے۔ عصر پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لے آئے، اور ہمارے پاس پہنچے، میرے ماں باپ ہمارے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتین پڑھی، اللہ کی شایان شان حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”حمد و صلاۃ کے بعد: ”عائشہ! اگر تو برائی کی مرتکب ہو گئی یا اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھی ہے تو اللہ سے توبہ کر، اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے“، اسی دوران انصار کی ایک عورت آ کر دروازے میں بیٹھ گئی تھی، میں نے عرض کیا: اس عورت کے سامنے (اس طرح کی) کوئی بات کرتے ہوئے کیا آپ کو شرم محسوس نہیں ہوئی؟ باپ کی طرف متوجہ ہوئی، ان سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دیں، انہوں نے کہا: میں کیا جواب دوں؟ میں اپنی ماں کی طرف پلٹی، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کہی ہے اس بارے میں (میری طرف سے) صفائی دیجئیے، انہوں نے کہا: کیا کہوں میں؟ جب میرے ماں باپ نے کچھ جواب نہ دیا، تو میں نے کلمہ شہادت ادا کیا، اللہ کے شایان شان اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر میں نے کہا: سنئیے، قسم اللہ کی! اگر میں آپ لوگوں سے کہتی ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور اللہ گواہ ہے کہ میں سچی (بےگناہ) ہوں تب بھی مجھے آپ کے سامنے اس سے فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ ہی یہ بات کہنے والے ہیں اور آپ کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں نے ایسا کیا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں نے نہیں کیا، تو آپ ضرور کہیں گے کہ اس نے تو اعتراف جرم کر لیا ہے، اور میں قسم اللہ کی! اپنے اور آپ کے لیے اس سے زیادہ مناسب حال کوئی مثال نہیں پاتی (میں نے مثال دینے کے لیے) یعقوب علیہ السلام کا نام ڈھونڈا اور یاد کیا، مگر میں اس پر قادر نہ ہو سکی، (مجھے ان کا نام یاد نہ آ سکا تو میں نے ابویوسف کہہ دیا) مگر یوسف علیہ السلام کے باپ کی مثال(جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے) جب کہ انہوں نے «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون»(تو ہی بہتر ہے، اور تم لوگ جو کہ رہو ہو اس بارے میں اللہ تعالی ہی سے مدد لی جا سکتی ہے) کہا۔ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی تو ہم سب خاموش ہو گئے، پھر آپ پر سے وحی کے آثار ختم ہوئے تو میں نے آپ کے چہرے سے خوشی ظاہر ہوتے ہوئے دیکھی، آپ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے فرمانے لگے: ”اے عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے تمہاری براۃ میں آیت نازل فرما دی ہے“، مجھے اس وقت سخت غصہ آیا جب میرے ماں باپ نے مجھ سے کہا: کھڑی ہو کر آپ کا شکریہ ادا کر، میں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑی نہ ہوں گی، نہ میں ان کی تعریف کروں گی اور نہ آپ دونوں کی، نہ میں ان کی احسان مند ہوں گی اور نہ آپ دونوں کا بلکہ میں اس اللہ کا احسان مند اور شکر گزار ہوں گی جس نے میری براۃ میں آیت نازل فرمائی، آپ لوگوں نے تو میری غیبت و تہمت سنی، لیکن اس پر تردید و انکار نہ کیا، اور نہ اسے روک دینے اور بدل دینے کی کوشش کی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: رہی زینب بن جحش تو اللہ نے انہیں ان کی نیکی و دینداری کی وجہ سے بچا لیا، انہوں نے اس قضیہ میں جب بھی کہا، اچھی و بھلی بات ہی کہی، البتہ ان کی بہن حمنہ (شریک بہتان ہو کر) ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئی، اور جو لوگ اس بہتان بازی اور پروپیگنڈے میں لگے ہوئے تھے وہ مسطح، حسان بن ثابت اور منافق عبداللہ بن ابی بن سلول تھے، اور یہی منافق (فتنہ پردازوں کا سردار و سرغنہ) ہی اس معاملہ میں اپنی سیاست چلاتا اور اپنے ہم خیال لوگوں کو یکجا رکھتا تھا، یہی وہ شخص تھا اور اس کے ساتھ حمنہ بھی تھی، جو اس فتنہ انگیزی میں پیش پیش تھی،حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے قسم کھا لی کہ اب وہ (اس احسان فراموش و بدگو) مسطح کو کبھی کوئی فائدہ نہ پہنچائیں گے، اس پر آیت «ولا يأتل أولوا الفضل منكم والسعة» (تم میں سے جو لوگ فضیلت اور گنجائش رکھتے ہیں وہ یہ ہرگز قسم نہ اٹھائے) نازل ہوئی، اس سے یہاں مراد ابوبکر ہیں، «أن يؤتوا أولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله»( اس بات کی کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے) اس سے اشارہ مسطح کی طرف ہے۔ «ألا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم»( کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالی تمہاری مغفرت کر دے اور اللہ تعالی مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے)(نور ٢٢)یہ آیت سن کر) ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم اللہ کی! ہمارے رب! ہم پسند کرتے ہیں کہ تو ہمیں بخش دے، پھر مسطح کو دینے لگے جو پہلے دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ ۲- اس حدیث کو یونس بن یزید، معمر اور کئی دوسرے لوگوں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص لیثی اور عبیداللہ بن عبداللہ سے اور ان سبھوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث ہشام بن عروہ کی حدیث سے لمبی بھی ہے اور مکمل بھی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النور ؛سورہ نور سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٣٢؛حدیث نمبر ٣١٨٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میری صفائی و پاکدامنی کی آیت نازل ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا ذکر کیا، قرآن کی تلاوت کی، اور منبر سے اترنے کے بعد دو مردوں اور ایک عورت پر حد (قذف) جاری کرنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ ان سب پر حد جاری کر دی گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے محمد بن اسحاق کی روایت کے سوا اور کسی طریقے سے نہیں جانتے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النور ؛سورہ نور سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٣٦؛حدیث نمبر ٣١٨١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ جب اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا ہے(اس کا کوئی شریک نہیں ہے)“۔ میں نے کہا: پھر کون سا گناہ بہت بڑا ہے؟ فرمایا: ”یہ ہے کہ تم اپنے بیٹے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا“، میں نے کہا: پھر کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ایک اور سند سے بھی ابووائل نے عمرو بن شرحبیل سے اور عمرو بن شرحبیل نے حضرت عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الفرقان؛سورہ فرقان سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٣٦؛حدیث نمبر ٣١٨٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ: کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”بڑا گناہ یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ، جب کہ اسی نے تم کو پیدا کیا ہے، اور تم اپنے بیٹے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ رہے گا تو تمہارے ساتھ کھائے پیئے گا، یا تمہارے کھانے میں سے کھائے گا، اور تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو، اور آپ نے یہ آیت تلاوت کی«والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما يضاعف له العذاب يوم القيامة ويخلد فيه مهانا» ” اور وہ لوگ جو اللہ تعالی کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے اور کسی ایسی جان کو قتل نہیں کرتے جس کے قتل کو اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے اور وہ زنا نہیں کرتے،جو شخص ایسا کرے گا وہ گناہ تک پہنچے گا اور اس کو قیامت کے دن دگنا عذاب دیا جائے گا اور وہ رسوائی کے ساتھ اس میں ہمیشہ رہے گا“ (الفرقان: ۶۸-۶۹)،۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان کی وہ روایت جسے انہوں نے منصور اور اعمش سے روایت کی ہے، واصل کی روایت کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ انہوں نے اس حدیث کی سند میں ایک راوی (عمرو بن شرحبیل) کا اضافہ کیا ہے۔ ایک اور سند سے شعبہ نے واصل سے، واصل نے ابووائل سے اور ابووائل عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اسی طرح شعبہ نے واصل سے واصل نے ابووائل سے اور ابووائل نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس میں عمرو بن شرحبیل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الفرقان؛سورہ فرقان سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٣٧؛حدیث نمبر ٣١٨٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے نبی! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ“ (الشعراء: ۲۱۴)، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے فاطمہ بنت محمد، اے بنی عبدالمطلب: میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں تمہارے حوالے سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ میرے مال میں سے جو چاہو مانگ سکتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح روایت کی ہے وکیع اور کئی راویوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے اور عروہ نے عائشہ سے محمد بن عبدالرحمٰن طفاوی کی حدیث کی مانند، ۳- اور بعض راویوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے اور اس سند میں عائشہ رضی الله عنہا کا ذکر نہیں کیا، ۴- اس باب میں حضرت علی اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الشعراء؛سورہ شعراء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٣٨؛حدیث نمبر ٣١٨٤)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «وأنذر عشيرتك الأقربين»نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو اکٹھا کیا اور ان کے ہر خاص و عام فرد کو بلایا اور ارشاد فرمایا: " ایک قریش کے گروہ!تم اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ کیونکہ میں اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر تمہارے بارے میں کسی نفع یا نقصان کا مالک نہیں، اے عبد مناف کی اولاد کے افراد!اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ کیونکہ میں اللہ تعالی کی مرضی کے مقابلے میں تمہارے لیے کسی نفع یا نقصان کا مالک نہیں ہو، ایک قصی کی اولاد کے افراد!اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ کیونکہ میں تمہارے بارے میں کسی نفع یا نقصان کا مالک نہیں، اے عبدالمطلب کی اولاد کے افراد!اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ کیونکہ میں تمہارے حوالے سے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ!اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ کیونکہ میں تمہارے لیے کسی نفع یا نقصان کا مالک نہیں ہوں، میری تمہارے ساتھ رشتہ داری ہے جس کا فائدہ میں تمہیں پہنچاؤں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: موسیٰ بن طلحہ کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ ایک اور سے موسیٰ بن طلحہ سے اور موسیٰ بن طلحہ نے حضرت ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی ہم معنی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الشعراء؛سورہ شعراء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٣٨؛حدیث نمبر ٣١٨٥)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں کانوں میں (اذان کی طرح) ڈال کر بلند آواز سے پکار کہا:اے عبد مناف کی اولاد خطرہ ہے" امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو عوف سے، اور عوف نے قسامہ بن زہیر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں ابوموسیٰ (اشعری) سے روایت کا ذکر نہیں کیا اور یہی زیادہ صحیح ہے، ۳- میں نے اس کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے تذکرہ کیا تو انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کے واسطہ سے اس حدیث کی معرفت سے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الشعراء؛سورہ شعراء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٣٩؛حدیث نمبر ٣١٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے قریب زمین سے) ایک جانور نکلے گا جس کے پاس حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی (مہر) اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہو گا، وہ اس عصا سے (لکیر کھینچ کر) مومن کے چہرے کو روشن و نمایاں کر دے گا، اور انگوٹھی کے ذریعہ کافر کی ناک پر مہر لگا دے گا یہاں تک کہ دستر خوان والے جب دستر خوان پر اکٹھے ہوں گے، تو کوئی شخص اس واضح نشانی کی وجہ سے کہے گا اے مومن اور کہا جائے گا اے کافر، مومن یہ کہے گا اے کافر اور کافر یہ کہے گا اے مومن۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- «دابة الأرض» کے سلسلے میں اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۳- اس باب میں حضرت ابوامامہ اور حذیفہ بن اسید سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النمل؛سورہ نمل سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٠؛حدیث نمبر ٣١٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) سے کہا: ”آپ «لا إله إلا الله» ”کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے“ کہہ دیجئیے میں آپ کے ایمان کی قیامت کے روز گواہی دوں گا، انہوں نے کہا: اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے طعنہ دیں گے کہ موت کی گھبراہٹ سے اس نے ایمان قبول کر لیا ہے تو میں تمہارے سامنے ہی اس کلمے کا اقرار کر لیتا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت یہ نازل فرمائی: «إنك لا تهدي من أحببت ولكن الله يهدي من يشاء» ”آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دیتے ، بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے“ (القصص: ۵۶)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یزید بن کیسان کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ القصص؛سورہ قصص سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤١؛حدیث نمبر ٣١٨٨)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا(جس میں یہ مذکور ہے) ، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا: کیا اللہ نے(ماں باپ کے ساتھ)احسان کا حکم نہیں دیا ہے؟ قسم اللہ کی! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم (اپنے ایمان سے) پھر جاؤ۔ (سعد) کہتے ہیں: جب لوگ اسے کھلانے کا ارادہ کرتے تو زبردستی اس کا منہ کھولتے، اسی موقع پر آیت «ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي» ”ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان (و حسن سلوک) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو“ (العنکبوت: ۸)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ العنكبوت؛سورہ عنکبوت سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٢؛حدیث نمبر ٣١٨٩)
حضرت ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وتأتون في ناديكم المنكر»(تم اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو"(العنکبوت ٢٩)کے بارے میں فرمایا: ”وہ (اپنی محفلوں میں) لوگوں پر کنکریاں پھینکتے تھے (بدتمیزی کرتے) اور ان کا مذاق اڑاتے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اور ہم اسے صرف حاتم بن ابی صغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سماک سے روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے سلیم بن اخضر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ العنكبوت؛سورہ عنکبوت سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٢؛حدیث نمبر ٣١٩٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ روم کے نزول کے موقع پر حضرت ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے (قریش سے) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں زیادہ وقت کیوں نہیں رکھا، کیونکہ لفظ ( «بضع») تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الروم؛سورہ روم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٢؛حدیث نمبر ٣١٩١)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم»(الروم ٢)سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله»(الرم ٤)تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ) پڑھا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الروم؛سورہ روم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٣؛حدیث نمبر ٣١٩٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر حضرت ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ (رومی) (مغلوب ہو جانے کے بعد پھر) غالب آ جائیں گے،حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: (ایسی بات ہے تو) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے (جیت گئے) تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ تو انہوں نے پانچ سال کی مدت رکھ دی، لیکن وہ (رومی) اس مدت میں غالب نہ آ سکے، حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے یہ بات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے اس کی مدت اس سے کچھ آگے کیوں نہ بڑھا دی؟“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ کی مراد اس سے دس (سال) تھی، ابوسعید نے کہا کہ «بضع» دس سے کم کو کہتے ہیں، اس کے بعد رومی غالب آ گئے۔ (ابن عباس رضی الله عنہما) کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے قول «الم غلبت الروم» سے «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء» تک کا یہی مفہوم ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ وہ (رومی) لوگ ان پر اس دن غالب آئے جس دن بدر کی جنگ لڑی گئی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف سفیان ثوری کی اس روایت سے جسے وہ حبیب بن ابو عمرہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الروم؛سورہ روم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٣؛حدیث نمبر ٣١٩٣)
حضرت نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين»(الروم ٢)نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ (الروم: ۴-۵)، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان کرنے نکل کھڑے ہوئے، انہوں نے چیخ چیخ کر (بآواز بلند) اعلان کیا، «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» ”رومی مغلوب ہو گئے زمین میں، وہ مغلوب ہو جانے کے بعد چند سالوں میں پھر غالب آ جائیں گے“ تو قریش کے کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: آؤ ہمارے اور تمہارے درمیان اس بات پر شرط ہو جائے، تمہارے ساتھی (نبی) کا خیال ہے کہ رومی فارسیوں پر چند سالوں کے اندر اندر غالب آ جائیں گے، کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم سے اس بات پر شرط لگا لیں، انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ ہم تیار ہیں، حضرت ابوبکر رضی الله عنہ اور مشرکین دونوں نے شرط لگا لی، اور شرط کا مال کہیں رکھوا دیا، مشرکین نے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: تم «بضع» کو تین سے نو سال کے اندر کتنے سال پر متعین و مشروط کرتے ہو؟ ہمارے اور اپنے درمیان بیچ کی ایک مدت متعین کر لو، جس پر فیصلہ ہو جائے، راوی کہتے ہیں: انہوں نے چھ سال کی مدت متعین اور مقرر کر دی۔ راوی کہتے ہیں کہ روم کے مشرکین پر غالب آنے سے پہلے چھ سال گزر گئے تو مشرکین نے ابوبکر رضی الله عنہ کے بطور شرط جمع کرائے ہوئے مال کو لے لیا، مگر جب ساتواں سال شروع ہوا اور رومی فارسیوں پر غالب آ گئے، تو کچھ مسلمانوں نے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا تم نے چھ سال کا عرصہ کیوں مقرر کیا تھا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے «بضع سنین» کہا تھا، (اور «بضع» تین سال سے نو سال تک کے لیے مستعمل ہوتا ہے)۔ راوی کہتے ہیں: اس پیشین گوئی کے برحق ثابت ہونے پر بہت سارے لوگ ایمان لے آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث نیار بن مکرم کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوالزناد کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الروم؛سورہ روم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٤؛حدیث نمبر ٣١٩٤)
حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی کنیزیں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ (لقمان: ۶)، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ لقمان؛سورہ لقمان سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٥؛حدیث نمبر ٣١٩٥)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ”ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں“ (السجدۃ: ۱۶)،یہ آیت اس نماز کے بارے میں نازل ہوئی جسے شام کی نماز کہا جاتا ہے، یعنی نماز عشاء۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ السجدہ؛سورہ سجدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٦؛حدیث نمبر ٣١٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے اپنے نیک صالح بندوں کے لیے ایسی چیز تیار کی ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے، اس کی تصدیق کتاب اللہ (قرآن) کی اس آیت «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”کوئی شخص نہیں جانتا جو ہم نے ان کے (صالح) اعمال کے بدلے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک (کے لیے) پوشیدہ رکھی ہے“ (السجدۃ: ۱۶)، سے ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ السجدہ؛سورہ سجدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٦؛حدیث نمبر ٣١٩٧)
شعبی کہتے ہیں: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کو منبر پر کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے سوال کیا: اے میرے رب! کون سا جنتی سب سے کمتر درجے کا ہو گا؟ اللہ فرمائے گا: جنتیوں کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد ایک شخص آئے گا، اس سے کہا جائے گا: تو بھی جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا: میں کیسے داخل ہو جاؤں جب کہ لوگ (پہلے پہنچ کر) اپنے اپنے گھروں میں آباد ہو چکے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس جتنا کچھ ہوتا ہے اتنا تمہیں دے دیا جائے، تو کیا تم اس سے راضی و خوش ہو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اس سے کہا جائے گا: تو جا تیرے لیے یہ ہے اور اتنا اور اتنا اور اتنا اور، وہ کہے گا: میرے رب! میں راضی ہوں، اس سے پھر کہا جائے گا جاؤ تمہارے لیے یہ سب کچھ اور اس سے دس گنا اور بھی وہ کہے گا، میرے رب! بس میں راضی ہو گیا، تو اس سے کہا جائے گا: اس (ساری بخشش و عطایا) کے باوجود تمہارا جی اور نفس جو کچھ چاہے اور جس چیز سے بھی تمہیں لذت ملے وہ سب تمہارے لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ان میں سے بعض (محدثین) نے اس حدیث کو شعبی سے اور انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) مرفوع روایت زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ السجدہ؛سورہ سجدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٧؛حدیث نمبر ٣١٩٨)
ابوظبیان کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا: ذرا بتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» ”اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں“ (الاحزاب: ۴)، کا کیا معنی و مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز پڑھا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خیال آیا اس کی طرف توجہ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز بھول گئے، آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے منافقین نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں ان کے دو دل ہیں ایک تم لوگوں کے ساتھ اور ایک اوروں کے ساتھ ہے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» نازل فرمائی۔ ایک اور سند سے اسی طرح روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٨؛حدیث نمبر ٣١٩٩)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا حضرت انس بن نضر رضی الله عنہ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا تھا جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے، یہ بات انہیں بڑی شاق اور گراں گزر رہی تھی، کہتے تھے: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس حاضر و موجود تھے میں اس سے غیر حاضر رہا، (اس کا مجھے بےحد افسوس ہے) مگر سنو! قسم اللہ کی! اب اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا موقع ملا تو یقیناً اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں، راوی کہتے ہیں: وہ اس کے سوا اور کچھ کہنے سے ڈرتے (اور بچتے) رہے، پھر اگلے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک ہوئے، حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا ان سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا: ابوعمرو! کہاں کا ارادہ ہے انہوں نے کہا: اے واہ! میں تو احد پہاڑ کے پرے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں پھر وہ لڑے اور اس شان سے لڑے کہ شہید کر دیئے گئے، ان کے جسم میں اسی (۸۰) سے کچھ زائد چوٹ تیر و نیزہ کے زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر رضی الله عنہا نے کہا: میں اپنے بھائی کی نعش صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچان پائی، اسی موقع پر آیت «رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» ”ایمان والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کے ساتھ جو انہوں نے وعدے کیے تھے ان میں وہ پورے اترے، ان میں سے کچھ تو انتقال کر گئے اور کچھ لوگ مرنے کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے اس میں یعنی (اللہ سے کیے ہوئے اپنے معاہدہ میں کسی قسم) کی تبدیلی نہیں کی“ (الاحزاب: ۲۳)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٨؛حدیث نمبر ٣٢٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا (انس بن نضر) غزوہ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے، میرے لیے یہ بات بڑی قابل افسوس تھی یہ وہ پہلی جنگ تھی جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے اور میں اس میں شریک نہیں ہوا اللہ کی قسم اب اگر اس کے بعد اللہ تعالی نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت کا موقع دیا تو اللہ تعالی اس چیز کو ظاہر کر دے گا جو میں کروں گا انہوں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا، پھر جب جنگ احد کی لڑائی کا موقع آیا، اور مسلمان (میدان سے) چھٹ گئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جسے یہ لوگ یعنی مشرکین لے کر آئے ہیں اور ان لوگوں نے جو کیا یعنی آپ کے صحابہ نے جو کیا ، اس کے لیے تجھ سے معذرت خواہ ہوں، پھر وہ آگے بڑھے، ان سے سعد بن معاذ رضی الله عنہ کی ملاقات ہوئی، سعد نے ان سے کہا: میرے بھائی! آپ جو بھی کریں میں آپ کے ساتھ ساتھ ہوں، (سعد کہتے ہیں) لیکن انہوں نے جو کچھ کیا وہ میں نہ کر سکا، ان کی لاش پر تلوار کی مار کے، نیزے گھوپنے کے اور تیر لگنے کے اسّی (۸۰) سے کچھ زیادہ ہی زخم تھے، ہم کہتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آیت «فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر»" ان میں سے بعض لوگوں نے اپنی نظر کو پورا کر لیا اور کچھ لوگ منتظر رہیں"احزاب ٢٣)اتری ہے۔ یزید (راوی) کہتے ہیں: اس سے مراد یہ (پوری) آیت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- انس بن مالک کے چچا کا نام انس بن نضر رضی الله عنہما ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٤٩؛حدیث نمبر ٣٢٠١)
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں حضرت معاویہ رضی الله عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے کہا: ضرور، سنائیے، کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”حضرت طلحہ رضی الله عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «ممن قضى نحبه» فرمایا ہے“، یعنی جنہوں نے اپنے نذر کو پورا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- جبکہ یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ صرف طلحہ کی حدیث سے روایت کی جاتی ہے، (جو آگے آ رہی ہے) (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٠؛حدیث نمبر ٣٢٠٢)
حضرت طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک ناواقف دیہاتی سے کہا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «ممن قضى نحبه» سے متعلق دریافت کرے کہ اس سے مراد کیا ہے؟ وہ لوگ خود آپ سے یہ دریافت کرنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے، وہ آپ کا ادب و احترام کرتے تھے اور(احترام کے طور پر) آپ سے ڈرتے بھی تھے، اعرابی نے آپ سے پوچھا، مگر آپ نے جواب نہیں دیا، اس نے پھر پوچھا، آپ نے پھر اس کی طرف توجہ نہ دی، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر بےرخی برتی، پھر میں مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور (اندر آیا) میں (نمایاں) سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا: ” «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے“؟ اعرابی، (ناواقف دیہاتی) نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص (طلحہ) انہی لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے اپنے کام اور ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن بکیر کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٠؛حدیث نمبر ٣٢٠٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں تو آپ نے اپنی اس کاروائی کی ابتداء مجھ سے کی: آپ نے کہا: عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھتا ہوں، تم اپنے ماں باپ سے مشورہ لیے بغیر جواب دہی میں جلد بازی نہ کرنا، حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ خوب سمجھتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی و علیحدگی اختیار کر لینے کا حکم نہیں دے سکتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين» سے لے کر یہاں تک «للمحسنات منكن أجرا عظيما»" اے نبی تم اپنی ازواج سے یہ کہہ دو اگر تم لوگ دنیاوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آگے آؤ" اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت یہاں تک پڑھی " تم میں سے جن نیکی کرنے والی ہے ان کے لیے عظیم اجر ہے"(احزاب ٢٨،٢٩) ۔میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں ماں باپ سے مشورہ لوں؟ (نہیں مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں) میں اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، آپ کی دیگر بیویوں نے بھی ویسا ہی کچھ کہا جیسا میں نے کہا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٠؛حدیث نمبر ٣٢٠٤)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتیلے بیٹےحضرت عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ (ہر قسم کی) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ (الاحزاب: ۳۳)، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے حضرت فاطمہ و حسن حسین (رضی الله عنہم) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا،حضرت علی رضی الله عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں اچھی طرح سے پاک و صاف کر دے“، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ” تمہارا اپنا مقام ہے،تم بھلائی کی جگہ پر ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے عطاء عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥١؛حدیث نمبر ٣٢٠٥)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کے دروازے کے پاس سے چھ ماہ تک یہ معمول رہا ، جب فجر کے لیے نکلتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ آواز دیتے «الصلاة يا أهل البيت» ”اے میرے گھر والو! نماز فجر کے لیے اٹھو“ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری نجاست تم سے دور کر دے اور تمہیں پورے طور پر پاک کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۲- اس باب میں حضرت ابوالحمراء، معقل بن یسار اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٢؛حدیث نمبر ٣٢٠٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں سے کوئی چیز چھپانا ہوتی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ایت کو چھپاتے۔ " اور جب تم نے اس شخص سے یہ کہا جس پر اللہ تعالی نے احسان کیا تھا اور تم نے بھی احسان کیا تھا" ۔(احزاب ٣٧) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا تھا۔ "تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ تعالی سے ڈرو اور تم اپنے دل میں اس چیز کو پوشیدہ رکھتے تھے، جسے اللہ تعالی نے ظاہر کر دینا تھا اور تم لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ تعالی اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔"(احزاب ٣٧) یہ آیت یہاں تک ہے: " اللہ تعالی کا حکم پورا ہوتا ہے"(احزاب ٣٧) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس خاتون کے ساتھ شادی کی تو لوگوں نے کہا انہوں نے اپنے بیٹے کی بیوی کے ساتھ شادی کر لی تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: " محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تمہارے مردوں میں سے کسی شخص کے والد نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالی کے رسول ہیں اور انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں" ۔(احزاب ٤٠) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا جب وہ چھوٹے تھے اس کے بعد یہی صورتحال رہی یہاں تک کہ وہ بڑے ہو گئے اور انہیں زید بن محمد کہا جانے لگا تو اللہ تعالی نے اس مسئلے کے بارے میں یہ حکم نازل کیا: " تم ایسے لوگوں کو ان کے حقیقی باپ کے حوالے سے بلاؤ اللہ تعالی کی بارگاہ میں یہ انصاف کے زیادہ قریب ہے اگر تمہیں ان لوگوں کے حقیقی باپ کے بارے میں علم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے آزاد کردہ غلام ہے یہ کہنا فلاں فلاں کا ازاد کردہ غلام ہے" (یہ کہنا) فلاں فلاں کا آزاد کردہ غلام ہے فلاں فلاں کا دینی بھائی ہے یہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں انصاف کے زیادہ قریب ہے۔"(احزاب ٥) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ اس سند سے مسروق نے عائشہ سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو آپ یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» چھپاتے، (اس روایت میں) یہ حدیث کی پوری روایت نہیں کی گئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٢؛حدیث نمبر ٣٢٠٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه»" اور جب تم نے اس شخص سے یہ کہا تھا جس پر اللہ تعالی نے انعام کیا تھا اور تم نے بھی اس پر انعام کیا تھا"(احزاب ٣٧)کو چھپاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٣؛حدیث نمبر ٣٢٠٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہہ کر ہی پکارتے تھے یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ”ایسے لوگوں کو ان کے اصلی باپوں کے ناموں کے ساتھ پکارو یہی اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے“ (الاحزاب: ۵)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٣؛حدیث نمبر ٣٢٠٩)
عامر شعبی اللہ کے اس قول «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم» ”(محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہیں“ (الاحزاب: ۴۰)، کے بارے میں کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے ان کا کوئی بھی بیٹا تمہارے درمیان زندہ نہیں رہا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٣؛حدیث نمبر ٣٢١٠)
سیدہ ام عمارہ انصاریہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: کیا بات ہے میں ہر چیز مردوں ہی کے لیے دیکھتی ہوں اور عورتوں کا (قرآن میں) کہیں ذکر نہیں ملتا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن المسلمين والمسلمات والمؤمنين والمؤمنات»" بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں"(احزاب ٣٥)آخر آیت تک۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٤؛حدیث نمبر ٣٢١١)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آیت «وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس» ”اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنے کا اندیشہ تھا اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو “ (الاحزاب: ۳۷)،حضرت زینب بنت جحش رضی الله عنہا کی شان میں نازل ہوئی ہے (ان کے شوہر) زید شکایت لے کر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آئے اور انہوں نے زینب کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا، اس پر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا: «أمسك عليك زوجك واتق الله» ”اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو (طلاق نہ دو) اور اللہ سے ڈرو (الاحزاب: ۳۷)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٤؛حدیث نمبر ٣٢١٢)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» ”زید نے جب ان سے اپنی حاجت پوری کر لی (انہیں طلاق دے دی) تو ہم نے تمہاری شادی اس سے کر دی“ (الاحزاب: ۳۷)،حضرت زینب بنت جحش رضی الله عنہا کے بارے میں اتری ہے۔ حضرت انس کہتے ہیں: چنانچہ اسی بناء پر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر یہ کہہ کر فخر کرتی تھیں کہ تمہاری شادیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے گھر والوں (رشتہ داروں) نے کی ہیں، اور میری شادی تو اللہ نے آپ سے ساتویں آسمان پر کر دی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٤؛حدیث نمبر ٣٢١٣)
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا، تو میں نے آپ سے معذرت کر لی تو آپ نے میری معذرت قبول کر لی، پھر اللہ نے یہ آیت(ترجمہ)"اے غیب بتانے والے (نبی) ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے ۔“ (الاحزاب: ۵۰)، نازل فرمائی ام ہانی کہتی ہیں کہ اس آیت کی رو سے میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوئی کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی میں (فتح مکہ کے موقع پر) «الطلقاء» آزاد کردہ لوگوں میں سے تھی، (اور اسی موقع پر ایمان لائی تھی)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ہم اس کو سُدّی کی روایت صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٥؛حدیث نمبر ٣٢١٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مومن اور مہاجر عورتوں کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے، (جیسا کہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” «لا يحل لك النساء من بعد ولا أن تبدل بهن من أزواج ولو أعجبك حسنهن إلا ما ملكت يمينك» ” اس کے بعد تمہارے لیے خواتین( کے ساتھ شادی کرنا) حلال نہیں ہے اور نہ ہی یہ کہ اپنے ازواج کی جگہ دوسری ازواج لے آؤ خواہ ان (دوسری عورتوں) کی خوبصورتی تمہیں پسند آئے البتہ تمہاری ملکیت میں جو خواتین آتی ہے ان کا حکم مختلف ہے“ (الاحزاب: ۵۲)، اللہ نے (نبی کے لیے) مومن مسلمان عورتیں حلال کر دی ہیں(ارشاد فرمایا)۔ «وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اور وہ ایمان والی عورت بھی اللہ نے حلال کر دی ہیں جو اپنے آپ کو نبی کو پیش کر دے“، اور اسلام کے سوا ہر دین والی عورت کو حرام کر دیا ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا: ” «ومن يكفر بالإيمان فقد حبط عمله وهو في الآخرة من الخاسرين» ”جو ایمان کا منکر ہوا اس کا عمل ضائع گیا، اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو گا“ (المائدہ: ۵)، اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها النبي إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك» سے لے کر «خالصة لك من دون المؤمن» ”اے نبی! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں اور وہ باندیاں تمہارے لیے حلال کر دی ہیں جو اللہ نے تمہیں بطور مال فیٔ (غنیمت) میں عطا فرمائی ہیں“ (الاحزاب: ۵۰)، تک، یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے اور دوسرے مومنین کے لیے نہیں (ان کا نکاح بغیر مہر کے نہیں ہو سکتا) ان کے علاوہ عورتوں کی اور قسمیں حرام کر دی گئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے عبدالحمید بن بہرام کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: عبدالحمید بن بہرام کی شہر بن حوشب سے روایات کے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٥؛حدیث نمبر ٣٢١٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت تک وصال نہیں ہوا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تمام خواتین کو حلال قرار نہیں دے دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٦؛حدیث نمبر ٣٢١٦)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ اپنی ایک بیوی کے کمرے کے دروازہ پر تشریف لائے جن کے ساتھ آپ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، وہاں کچھ لوگوں کو موجود پایا تو آپ وہاں سے چلے گئے، اور اپنا کچھ کام کاج کیا اور کچھ دیر رکے رہے، پھر آپ دوبارہ لوٹ کر آئے تو لوگ وہاں سے جا چکے تھے، حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر آپ اندر چلے گئے اور ہمارے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا (لٹکا دیا) میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابوطلحہ سے کیا: تو انہوں نے کہا اگر بات ایسی ہی ہے جیسا تم کہتے ہو تو اس بارے میں کوئی نہ کوئی حکم ضرور نازل ہو گا، پھر آیت حجاب نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٦؛حدیث نمبر ٣٢١٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی (حضرت زینب بنت جحش رضی الله عنہا) کے پاس تشریف لے گئے، اس موقع پر میری ماں ام سلیم رضی الله عنہا نے حیس(ایک قسم کا کھانا)تیار کیا، اسے ایک چھوٹے برتن میں رکھا، پھر (مجھ سے) کہا: (بیٹے) انس! اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: اسے میری امی جان نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور انہوں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تھوڑا سا ہدیہ میری طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہے، اللہ کے رسول! میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: میری امی جان آپ کو سلام کہتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ میری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا ہدیہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو“، پھر فرمایا: ”جاؤ فلاں فلاں، اور فلاں کچھ لوگوں کے نام لیے اور جو بھی تمہیں ملے سب کو میرے پاس بلا کر لے آؤ“،حضرت انس کہتے ہیں: جن کے نام آپ نے لیے تھے انہیں اور جو بھی مجھے آتے جاتے ملا اسے بلا لیا، راوی جعد بن عثمان کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: کتنے لوگ رہے ہوں گے؟ انہوں نے کہا: تقریباً تین سو، حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انس «تَور» پیالہ لے آؤ“۔ انس کہتے ہیں: لوگ اندر آئے یہاں تک کہ صفہ (چبوترہ) اور کمرہ سب بھر گیا، آپ نے فرمایا: ”دس دس افراد کی ٹولی بنا لو اور ہر شخص اپنے قریب سے کھائے“، لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا، ایک ٹولی (کھا کر) باہر جاتی اور دوسری ٹولی (کھانے کے لیے) اندر آ جاتی اس طرح سبھی نے کھا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ”انس: اب (برتن) اٹھا لو“۔ میں نے (پیالہ) اٹھا لیا، مگر (صحیح صحیح) بتا نہ پاؤں گا کہ جب میں نے پیالہ لا کر رکھا تھا تب اس میں حیس زیادہ تھا یا جب اٹھایا تھا تب؟ کچھ لوگ کھانے سے فارغ ہو کر آپ کے گھر میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگ گئے۔ (انہوں نے کچھ بھی خیال نہ کیا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ کی اہلیہ محترمہ دیوار کی طرف بیٹھی ہیں، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بن گئے، آپ وہاں سے اٹھ کر اپنی دوسری بیویوں کی طرف چلے گئے اور انہیں سلام کیا (مزاج پرسی کی) اور پھر لوٹ آئے، جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ لوٹ آئے ہیں تو انہیں احساس و گمان ہوا کہ وہ لوگ آپ کے لیے باعث اذیت بن گئے ہیں، تو وہ لوگ تیزی سے دروازہ کی طرف بڑھے اور سب کے سب باہر نکل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے دروازہ کا پردہ گرا دیا اور خود اندر چلے گئے، میں کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ پر یہ آیتیں اتریں پھر آپ نے باہر آ کر لوگوں کو یہ آیتیں «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه ولكن إذا دعيتم فادخلوا فإذا طعمتم فانتشروا ولا مستأنسين لحديث إن ذلكم كان يؤذي النبي» ”اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی“ (الاحزاب: ۵۳)، آخر تک پڑھ کر سنائیں۔ میں ان آیات سے سب سے پہلا واقف ہونے والا ہوں، اور اسی وقت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں پردہ کرنے لگیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- جعد: عثمان کے بیٹے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دینار کے بیٹے ہیں اور ان کی کنیت ابوعثمان بصریٰ ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ (قوی) ہیں، ان سے یونس بن عبید، شعبہ اور حماد بن زید نے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٧؛حدیث نمبر ٣٢١٨)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون کے ساتھ شادی کی وہ رخصت ہو کر آگئیں ، پھر آپ نے مجھے کچھ لوگوں کو کھانے پر بلانے کے لیے بھیجا۔ جب لوگ کھا پی کر چلے گئے، تو آپ اٹھے،حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے گھر کا رخ کیا پھر آپ کی نظر دو بیٹھے ہوئے آدمیوں پر پڑی۔ تو آپ (فوراً) پلٹ پڑے (انہیں اس کا احساس ہو گیا) وہ دونوں اٹھے اور وہاں سے نکل گئے۔ اسی موقع پر اللہ عزوجل نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه»(احزاب ٥٣)نازل فرمائی، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بیان کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ثابت نے انس کے واسطہ سے یہ حدیث پوری کی پوری بیان کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٧؛حدیث نمبر ٣٢١٩)
حضرت ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ سے بشیر بن سعد نے کہا: اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ تو ہم کیسے آپ پر صلاۃ (درود) بھیجیں، راوی کہتے ہیں: آپ (یہ سن کر) خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم سوچنے لگے کہ انہوں نے نہ پوچھا ہوتا تو ہی ٹھیک تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اور سلام تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تم (التحیات میں) جانتے ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت علی، ابوحمید، کعب بن عجرہ اور طلحہ بن عبیداللہ اور ابو سعید خدری اور زید بن خارجہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور زید کو ابن جاریہ اور ابن بریدہ بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٩؛حدیث نمبر ٣٢٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام باحیاء، پردہ پوش انسان تھے، ان کے اس شرمیلے پن کی وجہ سے ان کے جسم کا کوئی حصہ ظاہر نہیں ہوتا تھا، تو بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے اس حوالے سے انہیں اذیت پہنچائی ، ان لوگوں نے کہا: یہ شخص (اتنی زبردست) ستر پوشی محض اس وجہ سے کر رہا ہے کہ اسے کوئی جلدی بیماری ہے: یا تو اسے برص ہے، یا اس کے خصیے بڑھ گئے ہیں، یا اسے کوئی اور بیماری لاحق ہے۔ اللہ نے چاہا کہ ان پر جو تہمت اور جو الزامات لگائے جا رہے ہیں ان سے انہیں بری کر دے۔ (تو ہوا یوں کہ) حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن تنہا تھے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ کر نہانے لگے، جب نہا چکے اور اپنے کپڑے لینے کے لیے آگے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی اٹھائی، پتھر کو بلانے اور کہنے لگے «ثوبي حجر ثوبي حجر» ”پتھر: میرا کپڑا دے، پتھر! میرا کپڑا دے“ اور یہ کہتے ہوئے پیچھے پیچھے دوڑتے رہے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت (ایک گروہ) کے پاس جا پہنچا، انہوں نے انہیں برہانہ دیکھا تو انہوں نے دیکھا کہ وہ سب سے خوبصورت جسم کے مالک ہیں ۔ اللہ نے انہیں ان تمام عیبوں اور خرابیوں سے پاک و صاف دکھا دیا جو عیب وہ ان میں بتا رہے تھے“۔ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ پتھر رک گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، پھر اپنی لاٹھی سے پتھر کو پیٹنے لگے۔ تو قسم اللہ کی پتھر پر لاٹھی کی مار سے تین، چار یا پانچ چوٹ کے نشان تھے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها» ”اے ایمان لانے والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے جھوٹے الزامات سے تکلیف پہنچائی، تو اللہ نے انہیں اس تہمت سے بری قرار دیا، وہ اللہ کے نزدیک بڑی عزت و مرتبت والا تھا“ (الاحزاب: ۶۹)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اور اس میں ایک حدیث انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحزاب ؛سورہ احزاب سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٥٩؛حدیث نمبر ٣٢٢١)
حضرت فروہ بن مسیک مرادی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو ایمان لے آئے ہیں ان لوگوں سے نہ لڑوں جو ایمان نہیں لائے ہیں، تو آپ نے مجھے ان سے لڑنے کی اجازت دے دی، اور مجھے میری قوم کا امیر بنا دیا، جب میں آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تو آپ نے میرے متعلق پوچھا کہ غطیفی نے کیا کیا؟ آپ کو بتایا گیا کہ میں تو جا چکا ہوں، مجھے لوٹا لانے کے لیے میرے پیچھے آپ نے آدمی دوڑائے، تو میں آپ کے پاس آ گیا، آپ اس وقت اپنے کچھ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے، آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو تم دعوت دو، تو ان میں سے جو اسلام لے آئے اس کے اسلام و ایمان کو قبول کر لو، اور جو اسلام نہ لائے تو اس کے معاملے میں جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ میں تمہیں نیا (و تازہ) حکم نہ بھیجوں“۔ راوی کہتے ہیں: سبا کے متعلق (کلام پاک میں) جو نازل ہوا سو ہوا (اسی مجلس کے) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! سبا کیا ہے، سبا کوئی سر زمین ہے، یا کسی عورت کا نام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ نہ کوئی ملک ہے اور نہ ہی وہ کسی عورت کا نام بلکہ سبا نام کا ایک عربی شخص تھا جس کے دس بچے تھے، جن میں سے چھ کو اس نے باعث خیر و برکت جانا اور چار سے بدشگونی لی (انہیں منحوس جانا) تو جنہیں اس نے منحوس سمجھا وہ: لخم، جذام، غسان اور عاملہ ہیں، اور جنہیں مبارک سمجھا وہ ازد، اشعری، حمیر، مذحج، انمار اور کندہ ہیں“، ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! انمار کون سا قبیلہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسی قبیلہ کی شاخیں خشعم اور بجیلہ ہیں“۔ یہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ سبأ؛سورہ سباء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦١؛حدیث نمبر ٣٢٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ آسمان پر کسی معاملے کا حکم و فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے عجز و انکساری کے ساتھ (حکم برداری کے جذبہ سے) اپنے پر ہلاتے ہیں۔ ان کے پر ہلانے سے پھڑپھڑانے کی ایسی آواز پیدا ہوتی ہے یوں جیسے کوئی زنجیر پتھر پر گھسٹ رہی ہے، پھر جب ان کے دلوں کی گھبراہٹ جاتی رہتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: حق بات کہی ہے۔ وہی بلند و بالا ہے“، آپ نے فرمایا: ”شیاطین اوپر نیچے اکٹھا ہوتے ہیں( تاکہ فرشتوں سے اس بات کو سن سکیں) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ سبأ؛سورہ سباء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٢؛حدیث نمبر ٣٢٢٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ یکایک ایک تارہ ٹوٹا جس سے روشنی پھیل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ”زمانہ جاہلیت میں جب تم لوگ ایسی کوئی چیز دیکھتے تو کیا کہتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی شخصیت جنم لے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اللہ بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح و تہلیل کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی آسمان کے فرشتے تسبیح کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی، اس طرح تسبیح کا یہ سلسلہ ہمارے اس آسمان تک آ پہنچتا ہے، چھٹے آسمان والے فرشتے ساتویں آسمان والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ (کیا حکم صادر فرمایا ہے؟) تو وہ انہیں بتاتے ہیں، پھر اسی طرح ہر نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے ہیں، اس طرح بات دنیا سے قریبی آسمان والوں تک آ پہنچتی ہے۔ پھر شیاطین چوری چھپے اسے سننے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں یہ ستارہ مارا جاتا ہے، پھر وہ ایسے ساتھیوں( یعنی کاہنوں) تک وہ بات پہنچاتے ہیں تو ان کی جو بات پوری ہوتی ہے وہ دراصل حق ہوتی ہے، لیکن یہ لوگ درمیان میں کچھ تبدیلی کر دیتے ہیں۔ اس میں کچھ اضافہ کر دیتے ہیں اس لیے ان کی بعض باتیں ثابت نہیں بھی ہوتی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث زہری سے بطریق: «علي بن الحسين عن ابن عباس عن رجال من الأنصار» مروی ہے کہتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آگے انہوں نے اسی کی ہم معنی حدیث بیان کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ سبأ؛سورہ سباء سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٢؛حدیث نمبر ٣٢٢٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات» ”پھر ہم نے اللہ کے حکم سے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنا دیا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا، تو ان میں سے بعض تو خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں، اور بعض میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں اور ان میں سے بعض نیکی و بھلائی کے کاموں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“ (فاطر: ۳۲)، کے سلسلے میں فرمایا: ”یہ سب ایک ہی درجے میں ہوں گے اور یہ سب کے سب جنت میں جانے والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الملائکۃ؛؛سورہ ملائکہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٣؛حدیث نمبر ٣٢٢٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ (قبیلہ کے لوگ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد (نبوی) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ”ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور (مسجد کی طرف آنے و جانے والے) آثار قدم بھی ہم (گن کر) لکھ لیتے ہیں“ (یس: ۱۲) نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ یس؛؛سورہ یس سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٣؛حدیث نمبر ٣٢٢٦)
حضرت ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سورج ڈوبنے کے وقت داخل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا: ”ابوذر! کیا تم جانتے ہو یہ (سورج) کہاں جاتا ہے؟“، ابوذر کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم، آپ نے فرمایا: ”وہ جا کر سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے تو اس سے کہا جاتا ہے وہیں سے نکلو جہاں سے آئے ہو۔ پھر وہ (قیامت کے قریب) اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکلے گا“۔ ابوذر کہتے ہیں: پھر آپ نے «وذلك مستقر لها» ”یہی اس کے ٹھہرنے کی جگہ ہے“تلاوت کی۔ راوی کہتے ہیں: یہی عبداللہ بن مسعود کی قرأت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ یس؛؛سورہ یس سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٤؛حدیث نمبر ٣٢٢٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی نے بھی کسی چیز کی طرف دعوت دی قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ چمٹا اور ٹھہرا رہے گا، وہ اسے چھوڑ کر آگے نہیں جا سکتا اگرچہ ایک آدمی نے ایک آدمی ہی کو بلایا ہو“ پھر آپ نے آیت «وقفوهم إنهم مسئولون ما لكم لا تناصرون» ”اور انہیں ٹھہراؤ ان سے پوچھنا ہے۔ تمہیں کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے۔“ (الصافات: ۲۴-۲۵)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الصافات؛سورہ صافات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٤؛حدیث نمبر ٣٢٢٨)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون» ”ہم نے انہیں (یعنی یونس کو) ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا“ (الصافات: ۷۷)، کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”ایک لاکھ بیس ہزار تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الصافات؛سورہ صافات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٥؛حدیث نمبر ٣٢٢٩)
حضرت سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «وجعلنا ذريته هم الباقين» ”ہم نے نوح کی اولاد کو باقی رکھا“ (الصافات: ۷۷)، کی تفسیر میں فرمایا: ”(نوح کے تین بیٹے) حام، سام اور یافث تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سعید بن بشیر کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۲- یافت «ت» سے اور یافث «ث» سے دونوں طرح سے کہا جاتا ہے «یفث» بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الصافات؛سورہ صافات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٥؛حدیث نمبر ٣٢٣٠)
حضرت سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سام» «ابوالعرب» (عربوں کے باپ) ہیں اور «حام» «ابوالحبش» (اہل حبشہ کے باپ) ہیں اور «یافث» «ابوالروم» (رومیوں کے باپ) ہیں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الصافات؛سورہ صافات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٥؛حدیث نمبر ٣٢٣١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جناب ابوطالب بیمار پڑے، تو قریش ان کے پاس آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آئے، ابوطالب کے پاس صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا کہ وہ آپ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے، اور ان سب نے ابوطالب سے آپ کی شکایت کی، ابوطالب نے آپ سے کہا: بھتیجے! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ نے فرمایا: ”میں ان سے صرف ایک ایسا کلمہ تسلیم کرانا چاہتا ہوں جسے یہ قبول کر لیں تو اس کلمہ کے ذریعہ پورا عرب مطیع و فرماں بردار ہو جائے گا اور عجم کے لوگ انہیں جزیہ ادا کریں گے، انہوں نے کہا: ایک ہی کلمہ؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک ہی کلمہ“، آپ نے فرمایا: ”چچا جان! آپ لوگ «لا إلہ الا اللہ» کہہ دیجئیے، انہوں نے کہا: ایک معبود کو تسلیم کر لیں؟ یہ بات تو ہم نے کسی دوسرے مذہب میں نہیں سنی ہے، یہ ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے، (ہم یہ بات تسلیم نہیں کر سکتے) ابن عباس کہتے ہیں: اسی پر ان ہی لوگوں سے متعلق سورۃ ”ص“ کی آیات «ص والقرآن ذي الذكر بل الذين كفروا في عزة وشقاق) إلى قوله (ما سمعنا بهذا في الملة الآخرة إن هذا إلا اختلاق» ”“ (ص: ۱-۷)، "ص اس قرآن کی قسم!جو نصیحت سے لبریز ہے، کفر کرنے والے لوگ صرف تکبر اور مخالفت کا شکار ہے" یہ آیت یہاں تک ہے " ہم نے یہ بات کسی دوسرے مذہب میں نہیں سنی یہ اپنی طرف سے بنائی ہوئی بات ہے"( تک نازل ہوئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید نے بھی سفیان سے، سفیان نے اعمش سے اسی حدیث کے مثل حدیث بیان کی، اور یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عباد کے بجائے ”یحییٰ بن عمارہ“ کہا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ص؛سورہ ص سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٥؛حدیث نمبر ٣٢٣٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گزشتہ رات (خواب میں) میرا بزرگ و برتر رب بہترین صورت میں میرے پاس آیا“، مجھے خیال پڑتا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”- خواب میں - رب کریم نے کہا: اے محمد! کیا تمہیں معلوم ہے کہ «ملا ٔ اعلی» (اونچے مرتبے والے فرشتے) کس بات پر آپس میں بحث کر رہے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تو اللہ نے اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کے بیچ میں رکھ دیا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی سینے کے درمیان محسوس کی، یا اپنے سینے میں یا «نحری» کہا، (دست قدرت کندھے پر رکھنے کے بعد) آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ میں جان گیا، رب کریم نے فرمایا: اے محمد! کیا تم جانتے ہو «ملا ٔ اعلی» میں کس بات پر بحث ہو رہا ہے،؟ میں نے کہا: ہاں، کفارات گناہوں کو مٹا دینے والی چیزوں کے بارے میں (کہ وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟) (فرمایا) ”کفارات یہ ہیں: (۱) نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا، (۲) پیروں سے چل کر نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا، (۳) ناگواری کے باوجود باقاعدگی سے وضو کرنا، جو ایسا کرے گا بھلائی کی زندگی گزارے گا، اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس طرح وہ اس دن پاک و صاف تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا، پھر رب کریم نے یہ ارشاد فرمایا: اے محمد! جب تم نماز پڑھ چکو تو یہ دعا مانگو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وإذا أردت بعبادك فتنة فاقبضني إليك غير مفتون» ”اے اللہ میں تجھ سے بھلے کام کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور ناپسندیدہ و منکر کاموں سے بچنا چاہتا ہوں اور مسکینوں سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں ڈالنا چاہے تو فتنے میں ڈالے جانے سے پہلے مجھے اپنے پاس بلا لے“، آپ نے فرمایا: ”درجات بلند کرنے والی چیزیں (۱) سلام کو پھیلانا عام کرنا ہے، (۲) (محتاج و مسکین) کو کھانا کھلانا ہے، (۳) رات کو تہجد پڑھنا ہے کہ جب لوگ سو رہے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- کچھ محدثین نے ابوقلابہ اور ابن عباس رضی الله عنہما کے درمیان اس حدیث میں ایک شخص کا ذکر کیا ہے۔ (اور وہ خالد بن لجلاج ہیں ان روایت کے آگے آ رہی ہے) ۲- اس حدیث کو قتادہ نے ابوقلابہ سے روایت کی ہے اور ابوقلابہ نے خالد بن لجلاج سے، اور خالد بن لجلاج نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ص؛سورہ ص سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٥؛حدیث نمبر ٣٢٣٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے میرا رب (خواب میں) بہترین شکل میں آیا، اور اس نے مجھ سے کہا: محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں تیری خدمت میں حاضر و موجود ہوں، کہا: اونچے مرتبے والے فرشتوں کی جماعت کس بات پر بحث کر رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: (میرے) رب! میں نہیں جانتا، (اس پر) میرے رب نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان (سینے میں) محسوس کی، اور مجھے مشرق و مغرب کے درمیان کی چیزوں کا علم حاصل ہو گیا، (پھر) کہا: محمد! میں نے عرض کیا: (میرے) رب! میں حاضر ہوں، اور تیری فرمانبرداری کے لیے تیار ہوں، فرمایا: فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت کس بات پر بحث کر رہے ہے؟ میں نے کہا: انسان کا درجہ و مرتبہ بڑھانے والی اور گناہوں کو مٹانے والی چیزوں کے بارے میں (کہ وہ کیا کیا ہیں) تکرار کر رہے ہیں، جماعتوں کی طرف جانے کے لیے اٹھنے والے قدموں کے بارے میں اور طبیعت کے نہ چاہتے ہوئے بھی مکمل وضو کرنے کے بارے میں۔ اور ایک نماز پڑھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنے کے بارے میں، جو شخص ان کی پابندی کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا، اور خیر (بھلائی) ہی کے ساتھ مرے گا، اور اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس دن کہ ان کی ماں نے جنا تھا، اور وہ گناہوں سے پاک و صاف تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل اور عبدالرحمٰن بن عائش رضی الله عنہما ۱؎ کی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، اور اس پوری لمبی حدیث کو معاذ بن جبل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، (اس میں ہے) ”میں نے ذرا سی اونگھ لی، تو مجھے گہری نیند آ گئی، پھر میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا، میرے رب نے کہا: «فيم يختصم الملأ الأعلى» فرشتوں کی (سب سے اونچے مرتبے کی جماعت) کس بات پر بحث کر رہے ہے؟ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ص؛سورہ ص سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٧؛حدیث نمبر ٣٢٣٤)
حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھانے کے لیے تشریف نہیں لائے ، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے (حجرہ سے) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو (اپنے قریب) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، (تہجد کی) نماز پڑھی جتنا مقدر میں تھا، پھر میں نماز کے دوران ہی سو گیا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے بزرگ و برتر رب کے ساتھ ہوں وہ بہتر صورت و شکل میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» (فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت) کس بات پر بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا: رب کریم میں نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار پوچھی، آپ نے فرمایا: میں نے اللہ ذوالجلال کو دیکھا کہ اس نے اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی، ہر چیز میرے سامنے روشن ہو کر آ گئی، اور میں جان گیا (اور پہچان گیا) پھر اللہ عزوجل نے فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» کے فرشتے کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: «کفارات» کے بارے میں، اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ میں نے کہا: نماز باجماعت کے لیے پیروں سے چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر (دوسری نماز کے انتظار میں) رہنا، ناگواری کے وقت بھی مکمل وضو کرنا، اس نے پوچھا: پھر کس چیز کے بارے میں (بحث کر رہے ہیں)؟ میں نے کہا: (محتاجوں اور ضرورت مندوں کو) کھانا کھلانے کے بارے میں، نرم بات چیت میں، جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت اٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں، رب کریم نے فرمایا:تم یہ دعا مانگو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وأن تغفر لي وترحمني وإذا أردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون أسألك حبك وحب من يحبك وحب عمل يقرب إلى حبك» ”اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور مساکین سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو مجھے تو فتنہ میں ڈالنے سے پہلے موت دیدے، میں تجھ سے اور اس شخص سے جو تجھ سے محبت کرتا ہو، محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے ایسے کام کرنے کی توفیق چاہتا ہوں جو کام تیری محبت کے حصول کا سبب بنے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حق ہے، اسے پڑھو یاد کرو اور دوسروں کو پڑھاؤ سکھاؤ۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ بھی کہا کہ یہ حدیث ولید بن مسلم کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا خالد بن لجلاج نے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن عائش حضرمی نے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آگے یہی حدیث بیان کی، اور یہ غیر محفوظ ہے، ولید نے اسی طرح اپنی حدیث میں جسے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عائش سے روایت کیا ہے ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جبکہ بشر بن بکر نے، روایت کیا عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے، یہ حدیث اسی سند کے ساتھ، انہوں نے روایت کیا، عبدالرحمٰن بن عائش سے اور عبدالرحمٰن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (بلفظ «عن» اور یہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ عبدالرحمٰن بن عائش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ص؛سورہ ص سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٦٨؛حدیث نمبر ٣٢٣٥)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما اپنے والد حضرت (زبیر) سے روایت کرتے ہیں کہ جب آیت «ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون» ”پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس آپس میں بحث کرو گے“ [الزمر: 31] ، نازل ہوئی تو حضرت زبیر بن عوام رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس دنیا میں ہمارا آپس میں جو بحث ہے اس کے بعد بھی دوبارہ ہمارے درمیان (آخرت میں) بحث ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: پھر تو معاملہ بڑا سخت ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٠؛حدیث نمبر ٣٢٣٦)
حضرت اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت «يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا» ”اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے (یعنی گناہ کیے ہیں) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اللہ سبھی گناہ معاف کر دیتا ہے“ (الزمر: ۵۳)، پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (حدیث کے یہ الفاظ بھی ہیں:)اور وہ اس کی پرواہ نہیں کرے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ثابت کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ شہر بن حوشب سے روایت کرتے ہیں، ۳- شہر بن حوشب ام سلمہ انصاریہ سے روایت کرتے ہیں، اور ام سلمہ انصاریہ اسماء بنت یزید ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٠؛حدیث نمبر ٣٢٣٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: محمد!بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام آسمانوں کو ایک انگلی اور تمام زمینوں کو ایک انگلی اور تمام پہاڑوں کو ایک انگلی اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی کے ذریعے تھامنا ہے اور پھر یہ فرمانا ہے میں بادشاہ ہوں ۔ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے،پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: ”پھر بھی لوگوں نے اللہ کی قدر و عزت نہ کی جیسی کہ کرنی چاہیئے تھی“۔(الانعام ٩١) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧١؛حدیث نمبر ٣٢٣٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تعجب سے اور (اس کی باتوں کی) تصدیق میں ہنس پڑے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧١؛حدیث نمبر ٣٢٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک یہودی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (یہودی) سے کہا: ”ہمیں کوئی بات بتاؤ“، اس نے کہا: ابوالقاسم! آپ یہ کیسے کہ سکتے ہیں: جب اللہ آسمانوں کو اس پر اٹھائے گا اور زمینوں کو اس پر اور پانی کو اس پر اور پہاڑوں کو اس پر اور ساری مخلوق کو اس پر رکھے گا، ابوجعفر محمد بن صلت نے (یہ بات بیان کرتے ہوئے) چھوٹی انگلی کی طرف اشارہ کیا، اور یکے بعد دیگرے اشارہ کرتے , ہوئے انگوٹھے تک پہنچے، (اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی«وما قدروا الله حق قدره» ”انہوں نے اللہ کی (ان ساری قدرتوں کے باوجود) صحیح قدر و منزلت نہ جانی، نہ پہچانی“ (الزمر: ۶۷)، نازل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- ہم اسے (ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے) صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابوکدینہ کا نام یحییٰ بن مہلب ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو دیکھا ہے، انہوں نے یہ حدیث حسن بن شجاع سے اور حسن نے محمد بن صلت سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧١؛حدیث نمبر ٣٢٤٠)
مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے جہنم کتنی بڑی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: بیشک، قسم اللہ کی! مجھے بھی معلوم نہ تھا، (مگر)حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» " دن روئے زمین اللہ تعالی کے قبضے میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے “ (الزمر: ۶۷)، کے تعلق سے پوچھا: رسول اللہ! پھر اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”جہنم کے پل پر، (اس سے مجھے معلوم ہو گیا کہ جہنم بہت لمبی چوڑی ہو گی) اس حدیث کے سلسلے میں پوری ایک قصہ منقول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٢؛حدیث نمبر ٣٢٤١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں:انہوں نے عرض کی اللہ کے رسول!(ارشاد باری تعالیٰ) «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» ”زمین ساری کی ساری قیامت کے دن اس کے قبضے لمیں ہو گی، اور آسمان سارے کے سارے اس کے ہاتھ لپٹے ہوئے ہوں گے“(الزمر ٦٧)پھر اس دن مومن لوگ کہاں پر ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ! وہ لوگ (پل) صراط پر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٢؛حدیث نمبر ٣٢٤٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے آرام سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اپنا رخ اسی کی طرف کئے ہوئے ہے، اسی کی طرف کان لگائے ہوئے ہے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے، مسلمانوں نے کہا: ہم (ایسے موقعوں پر) کیا پڑھیں؟اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا وربما» ”ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے“ راوی کہتے ہیں: کبھی کبھی سفیان نے «توكلنا على الله ربنا» کے بجائے «على الله توكلنا» روایت کیا ہے۔ (اس کے معنی بھی وہی ہیں) ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اعمش نے بھی اسے عطیہ سے اور عطیہ نے ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٢؛حدیث نمبر ٣٢٤٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے کہا: اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور ہم اسے صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٣؛حدیث نمبر ٣٢٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں میں فضیلت عطاء کی، (یہ سنا) تو ایک انصاری شخص نے ہاتھ اٹھا کر ایک طمانچہ اس کے منہ پر مار دیا، کہا: تو ایسا کہتا ہے جب کہ (تمام انسانوں اور جنوں کے سردار) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں۔ (دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون» ”اور صُور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔“ (الزمر: ۶۹)، تلاوت کی اور فرمایا : سب سے پہلا سر اٹھانے والا میں ہوں گا تو موسیٰ مجھے عرش کا ایک پایہ پکڑے ہوئے دکھائی دیں گے، میں نہیں کہہ سکتا کہ موسیٰ نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا ہو گا یا وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «إلا من شاء الله» کہہ کر مستثنیٰ کر دیا ہے اور جس نے کہا: میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اس نے غلط کہا ( حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل نبی ہیں، اور سیدالأنبیاء و الرسل ہیں، لیکن انبیاء کا آپس میں تقابل عام حالات میں صحیح نہیں ہے، بلکہ خلاف ادب ہے، اس کا تواضح و انکساری اور انبیاء و رسل کی غرض و احترام میں آپ نے ادب سکھایا اور اس طرح کے موازنہ پر تنقید فرمائی۔)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٣؛حدیث نمبر ٣٢٤٥)
حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکارنے والا پکار کر کہے گا: (جنت میں) تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں، تم صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہ ہو گے، کبھی محتاج و حاجت مند نہ ہو گے، اللہ تعالیٰ کے قول: «وتلك الجنة التي أورثتموها بما كنتم تعملون» ”یہی وہ جنت ہے جس کے تم اپنے نیک اعمال کے بدلے وارث بنائے جاؤ گے“ (الزخرف: ۷۲)، کا یہی مطلب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن مبارک وغیرہ نے یہ حدیث ثوری سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزمر؛سورہ زمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٤؛حدیث نمبر ٣٢٤٦)
حضرت نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دعا عبادت ہے، پھر آپ نے یہ آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين»"اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بے شک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر۔"(غافر:٦٠)۔تلاوت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المومن؛سورہ مومن سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٤؛حدیث نمبر ٣٢٤٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین آدمیوں کے درمیان خانہ کعبہ کے قریب بحث ہوگئی ، دو قریشی تھے اور ایک ثقفی، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی، ان کے پیٹوں پر چربی زیادہ تھی، ان میں سے ایک نے کہا: کیا سمجھتے ہو کہ ہم جو کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے، دوسرے نے کہا: ہم جب زور سے بولتے ہیں تو وہ سنتا ہے اور جب ہم دھیرے بولتے ہیں تو وہ نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا: اگر وہ ہمارے زور سے بولنے کو سنتا ہے تو وہ ہمارے دھیرے بولنے کو بھی سنتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم»"اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں" (فصلت:٢٢)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ السجدۃ؛سورہ سجدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٥؛حدیث نمبر ٣٢٤٨)
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: میں کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا کھڑا تھا، تین ناسمجھ جن کے پیٹوں کی چربی زیادہ تھی) آئے، ایک قریشی تھا اور دو اس کے سالے ثقفی تھے، یا ایک ثقفی تھا اور دو اس کے قریشی سالے تھے، انہوں نے ایک ایسی زبان میں بات کی جسے میں سمجھ نہ سکا، ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے: کیا اللہ ہماری یہ بات چیت سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا: جب ہم بآواز بلند بات چیت کرتے ہیں تو سنتا ہے، اور جب ہم اپنی آواز بلند نہیں کرتے ہیں تو نہیں سنتا ہے، تیسرے نے کہا: اگر وہ ہماری بات چیت کا کچھ حصہ سن سکتا ہے تو وہ سبھی کچھ سن سکتا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر آیت «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم» (فصلت: 22) سے لے کر «فأصبحتم من الخاسرين» (فصلت: 23) تک نازل فرمائی۔ ترجمہ "اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا۔اور یہ ہے تمہارا وہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اور اس نے تمہیں ہلاک کردیا تو اب رہ گئے ہارے ہوؤں میں" امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ السجدۃ؛سورہ سجدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٥؛حدیث نمبر ٣٢٤٩)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «إن الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا» (فصلت: ٣٠)" وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اس پر استقامت اختیار کرتے ہیں" پڑھی، آپ نے فرمایا: ”بہتوں نے تو «ربنا الله» کہنے کے باوجود بھی کفر کیا، سنو جو اپنے ایمان پر آخر وقت تک قائم رہ کر مرا وہ استقامت کا راستہ اختیار کرنے والوں میں سے ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے ابوزرعہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عفان نے عمرو بن علی سے ایک حدیث روایت کی ہے، ۴- اس آیت کے سلسلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما سے «استقاموا» کا معنی مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ السجدۃ؛سورہ سجدہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٦؛حدیث نمبر ٣٢٥٠)
طاؤس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اس آیت «قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى» ”اے نبی! تم تم فرما دو!میں اس (تبلیغ) کا تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا البتہ قرابت کے حوالے سے جو محبت(کا تقاضا ہوتا ہے اس کی تم سے توقع رکھتا ہو)“ (الشوریٰ: ۲۳)، کے بارے میں پوچھا گیا، اس پر سعید بن جبیر نے کہا: «قربیٰ» سے مراد آل محمد ہیں، ابن عباس نے کہا: (تم نے رشتہ داری کی تشریح میں جلد بازی کی ہے) قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں آپ کی رشتہ داری نہ ہو، (آیت کا مفہوم ہے) اللہ نے کہا: میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا (بس میں تو یہ چاہتا ہوں کہ) ہمارے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے اس کا پاس و لحاظ رکھو اور ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِحم عسق؛سورہ حم عسق سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٧؛حدیث نمبر ٣٢٥١)
عبد اللہ بیان کرتے ہیں،بنی مرہ کے ایک شیخ کہتے ہیں کہ میں کوفہ آیا مجھے بلال بن ابوبردہ کے حالات کا علم ہوا تو میں نے (جی میں) کہا کہ ان کے انجام میں تو عبرت پائی جاتی ہے، میں ان کے پاس آیا، وہ اپنے اس گھر میں محبوس و مقید تھے جسے انہوں نے خود (اپنے عیش و آرام کے لیے) بنوایا تھا، عذاب اور مار پیٹ کے سبب ان کی ہر چیز کی صورت و شکل بدل چکی تھی، وہ چیتھڑا پہنے ہوئے تھے، میں نے کہا: اے بلال! تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، میں نے آپ کو اس وقت بھی دیکھا ہے جب آپ بغیر دھول اور گردوغبار کے (نزاکت و نفاست سے) ناک پکڑ کر ہمارے پاس سے گزر جاتے تھے، اور آج آپ اس حالت میں ہیں؟ انہوں نے کہا: تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟ میں نے کہا: بنی مرہ بن عباد سے، انہوں نے کہا: کیا میں تم سے ایک ایسی حدیث نہ بتاؤں جس سے امید ہے کہ اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے گا، میں نے کہا: پیش فرمائیے، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد حضرت ابوبردہ نے بیان کیا اور وہ اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی بندے کو چھوٹی یا بڑی جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اس کے گناہ کے سبب ہی پہنچتی ہے، اور اللہ اس کے جن گناہوں سے درگزر فرما دیتا ہے وہ تو بہت ہوتے ہیں“۔ پھر انہوں نے آیت پڑھی «وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم ويعفو عن كثير» اور تمہیں جو مصیبت لاحق ہوتی ہے تو یہ تمہارے اپنے اعمال کے نتیجے میں ہوتی ہے"(الشورى: 30) پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِحم عسق؛سورہ حم عسق سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٧؛حدیث نمبر ٣٢٥٢)
حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی بھی قوم ہدایت حاصل کر لینے کے بعد اس وقت تک گمراہی کا شکار نہیں ہوتی جب تک ان کے درمیان جھگڑا نہیں ہو جاتا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی «ما ضربوه لك إلا جدلا بل هم قوم خصمون» ”یہ لوگ تیرے سامنے صرف بحث کے طور پر کہتے ہیں بلکہ یہ لوگ بحث کرنے والے ہیں“ (الزخرف: ۵۸)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف حجاج بن دینار کی روایت سے جانتے ہیں، حجاج ثقہ، مقارب الحدیث ہیں اور ابوغالب کا نام حزور ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الزخرف؛سورہ زخرف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٨؛حدیث نمبر ٣٢٥٣)
مسروق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا: ایک واعظ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا (قیامت کے قریب) زمین سے دھواں نکلے گا، جس سے کافروں کے کان بند ہو جائیں گے، اور مسلمانوں کو زکام ہو جائے گا۔ مسروق کہتے ہیں: یہ سن کر حضرت عبداللہ غصہ ہو گئے (پہلے) ٹیک لگائے ہوئے تھے، (سنبھل کر) بیٹھ گئے۔ پھر کہا: تم میں سے جب کسی سے کوئی چیز پوچھی جائے اور وہ اس کے بارے میں جانتا ہو تو اسے بتانی چاہیئے اور جب کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو اسے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر جانتا ہے“ کہنا چاہیئے، کیونکہ یہ آدمی کے علم و جانکاری ہی کی بات ہے کہ جب اس سے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو وہ کہہ دے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر جانتا ہے“، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا: «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين» ” تم یہ فرما دو میں اس بات پر تم سے اجر طلب نہیں کرتا اور میں اپنی طرف سے بات نہیں بناتا “ (ص: ۸۶)، (بات اس دخان کی یہ ہے کہ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو دیکھا کہ وہ نافرمانی ہی کیے جا رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! حضرت یوسف علیہ السلام کے سات سالہ قحط کی طرح ان پر سات سالہ قحط بھیج کر ہماری مدد کر“ (آپ کی دعا قبول ہو گئی)، ان پر قحط پڑ گیا، ہر چیز اس سے متاثر ہو گئی، لوگ چمڑے اور مردار کھانے لگے (اس حدیث کے دونوں راویوں اعمش و منصور میں سے ایک نے کہا ہڈیاں بھی کھانے لگے)، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: دھواں جیسی چیز زمین سے نکلنے لگی، تو ابوسفیان نے آپ کے پاس آ کر کہا: آپ کی قوم ہلاک و برباد ہو گئی، آپ ان کی خاطر اللہ سے دعا فرما دیجئیے حضرت عبداللہ نے کہا: یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «يوم تأتي السماء بدخان مبين يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”جس دن آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا یہ (دھواں) لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ بڑا تکلیف دہ عذاب ہے“ (الدخان: ۱۰)، کا، منصور کہتے ہیں: یہی مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «ربنا اكشف عنا العذاب إنا مؤمنون» ”اے ہمارے رب! ہم سے عذاب کو ٹال دے ہم ایمان لانے والے ہیں“ (الدخان: ۱۲)، کا، تو کیا آخرت کا عذاب ٹالا جا سکے گا؟۔ عبداللہ کہتے ہیں: «بطشہ»، «لزام» (بدر) اور دخان کا ذکرو زمانہ گزر گیا اعمش اور منصور دونوں راویوں میں سے، ایک نے کہا: «قمر» (چاند) کا شق ہونا گزر گیا، اور دوسرے نے کہا: روم کے مغلوب ہونے کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «لزام» سے مراد یوم بدر ہے (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الدخان ؛سورہ دخان سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٧٩؛حدیث نمبر ٣٢٥٤)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ”(کفار و مشرکین) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ (الدخان: ۲۹)، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الدخان ؛سورہ دخان سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٠؛حدیث نمبر ٣٢٥٥)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ کو شہید کئے جانے کا موقع آیا تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ ان کے پاس آئے، حضرت عثمان رضی الله عنہ نے ان سے کہا: تم کس مقصد سے یہاں آئے ہو؟ انہوں نے کہا: میں آپ کی مدد میں (آپ کو بچانے کے لیے) آیا ہوں، انہوں نے کہا: تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں مجھ سے دور ہٹا دو، تمہارا میرے پاس رہنے سے باہر رہنا زیادہ بہتر ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن سلام لوگوں کے پاس آئے اور انہیں مخاطب کر کے کہا: لوگو! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا (یعنی حصین) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھا، میرے بارے میں کتاب اللہ کی کئی آیات نازل ہوئیں، میرے بارے میں آیت: «وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين» ”بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس بات کی گواہی دی جو اس کی مانند ہے اور وہ تو ایمان لے آیا مگر تم نے تکبر اختیار کیا بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نصیب نہیں کرتا “ (الاحقاف: ۱۰)، اور میرے ہی حق میں «قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب» ”اے نبی کہہ دو! اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور وہ بھی گواہ ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے“ (الرعد: ۴۳)، آیت اتری ہے، بیشک اللہ کے پاس ایسی تلوار ہے جو تمہیں نظر نہیں آتی، بیشک تمہارے اس شہر میں جس میں تمہارے نبی بھیجے گئے، فرشتے تمہارے پڑوسی ہیں، تو ڈرو اللہ سے، ڈرو اللہ سے اس شخص (عثمان) کے شہید کر دینے سے، قسم ہے اللہ کی اگر تم لوگوں نے انہیں شہید کر ڈالا تو تم اپنے پڑوسی فرشتوں کو اپنے سے دور کر دو گے (بھگا دو گے) اور اللہ کی وہ تلوار جو تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہے تمہارے خلاف سونت دی جائے گی، پھر وہ قیامت تک میان میں ڈالی نہ جا سکے گی، راوی کہتے ہیں: لوگوں نے (عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کی بات سن کر) کہا: اس یہودی کو قتل کر دو، اور عثمان رضی الله عنہ کو بھی مار ڈالو قتل کر دو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو شعیب بن صفوان نے عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ابن محمد بن عبداللہ بن سلام سے اور ابن محمد نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحقاف ؛سورہ احقاف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨١؛حدیث نمبر ٣٢٥٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بادل دیکھتے تو(بےچینی کے عالم میں) کبھی اندر آتے تھے کبھی باہر تشریف لایا کرتے تھے مگر جب بارش ہونے لگتی تو اسے دیکھ خوش ہو جاتے، میں نے عرض کیا: ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم(ہو سکتا ہے)شاید وہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا» ” جب انہوں نے بادل کو اپنی وادی کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو بولے یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا “ (الاحقاف: ۲۴)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحقاف ؛سورہ احقاف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٢؛حدیث نمبر ٣٢٥٧)
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ سے کہا: کیا جنات کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کی رات میں آپ لوگوں میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، آپ مکہ میں تھے اس وقت کی بات ہے، ایک رات ہم نے آپ کو غیر موجود پایا، ہم نے کہا: آپ کو پکڑ لیا گیا ہے یا (جن) اڑا لے گئے ہیں، آپ کے ساتھ کیا کیا گیا ہے؟ بری سے بری رات جو کوئی قوم گزار سکتی ہے ہم نے ویسی ہی اضطراب وبے چینی کی رات گزاری، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، یا صبح تڑکے کا وقت تھا اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ حرا کی جانب سے تشریف لا رہے ہیں، لوگوں نے آپ سے اپنی اس فکرو تشویش کا ذکر کیا جس سے وہ رات کے وقت دوچار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنوں کا قاصد (مجھے بلانے) آیا، تو میں ان کے پاس گیا، اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا“، ابن مسعود کہتے ہیں: ـ پھر آپ اٹھ کر چلے اور ہمیں ان کے آثار (نشانات و ثبوت) دکھائے، اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں: جنوں نے آپ سے توشہ مانگا، اور وہ جزیرہ کے رہنے والے جن تھے، آپ نے فرمایا: ”ہر ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا جائے گا تمہارے ہاتھ میں پہنچ کر پہلے سے زیادہ گوشت والی بن جائے گی، ہر مینگنی اور لید (گوبر) تمہارے جانوروں کا چارہ ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا: ”(اسی وجہ سے) ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الاحقاف ؛سورہ احقاف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٢؛حدیث نمبر ٣٢٥٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات» ”اور اے محبوب اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو“ (محمد: ۱۹)، کی تفسیر میں فرمایا: ”میں اللہ سے ہر دن ستر بار مغفرت طلب کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دن میں اللہ سے سو بار مغفرت طلب کرتا ہوں“، ۳- نیز متعدد دیگر سندوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ میں اللہ سے ہر دن سو مرتبہ استغفار طلب کرتا ہوں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم؛سورہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٣؛حدیث نمبر ٣٢٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن یہ آیت «وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يكونوا أمثالكم» " اور اگر تم منہ پھیر لو تو اللہ تعالی تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے “ (محمد: ۳۸)، تلاوت فرمائی، صحابہ نے کہا: ہمارے بدلے کون لوگ لائے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان کے کندھے پر ہاتھ مارا (رکھا) پھر فرمایا: ”یہ اور اس کی قوم، یہ اور اس کی قوم“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند میں کلام ہے، ۳- عبداللہ بن جعفر نے بھی یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہے (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم؛سورہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٣؛حدیث نمبر ٣٢٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول!وہ کون لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے کہ اگر ہم منہ پھیر لیں تو اللہ تعالیٰ ہماری جگہ انہیں لے آئے گا، اور وہ ہم جیسے نہ ہوں گے،حضرت سلمان رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان رضی الله عنہ کی ران پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”یہ اور ان کے اصحاب، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر ایمان اوج ثریا پر بھی ہو، تو فارس کے کچھ لوگ اس تک پہنچ جائیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ عبداللہ بن جعفر بن نجیح: علی بن المدینی کے والد ہیں، ۲- علی بن حجر نے عبداللہ بن جعفر سے بہت سے احادیث روایت کی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم؛سورہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٤؛حدیث نمبر ٣٢٦١)
زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ، میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، میں نے آپ سے کچھ عرض کیا، آپ خاموش رہے، میں نے پھر آپ سے بات کی آپ پھر خاموش رہے، میں نے پھر بات کی آپ (اس بار بھی) خاموش رہے، میں نے اپنی سواری کو جھٹکا دیا اور ایک جانب (کنارے) ہو گیا، اور (اپنے آپ سے) کہا: ابن خطاب! تیری ماں تجھ پر روئے، تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اصرار کیا، اور آپ نے تجھ سے ایک بار بھی بات نہیں کی، تو اس کا مستحق اور سزاوار ہے کہ تیرے بارے میں کوئی آیت نازل ہو (اور تجھے سرزنش کی جائے) حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں: ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا، وہ مجھے پکار رہا تھا، حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے فرمایا: ”ابن خطاب! آج رات مجھ پر ایک ایسی سورۃ نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے اور وہ سورۃ یہ ہے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» ”بیشک اے نبی! ہم نے آپ کو واضح فتح دی ہے“ (الفتح: ۱)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو مالک سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الفتح؛سورہ فتح سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٥؛حدیث نمبر ٣٢٦٢)
حضرت انس رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلح حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر» ”تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے۔“ (الفتح: ۲)، نازل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے (سن کر) «هنيأ مريئًا» (مبارک ہو) کہا، اے اللہ کے نبی! اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟ اس پر آیت «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار» سے لے کر «فوزا عظيما» ”تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہ دور کر دے اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے“ (الفتح: ۵)، تک نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مجمع بن جاریہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الفتح؛سورہ فتح سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٥؛حدیث نمبر ٣٢٦٣)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر حملہ آور ہونے کے لیے اسی (۸۰) کی تعداد میں کافر تنعیم پہاڑ سے نماز فجر کے وقت اترے، وہ چاہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیں، مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم» ”وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے“ (الفتح: ۲۴)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الفتح؛سورہ فتح سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٦؛حدیث نمبر ٣٢٦٤)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «وألزمهم كلمة التقوى» ”اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر قائم رکھا“ (الفتح: ۲۶)، کے متعلق فرمایا: ”اس سے مراد «لا إله إلا الله» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم حسن بن قزعہ کے سوا کسی اور کو مرفوع روایت کرتے ہوئے نہیں جانتے، ۳- میں نے ابوزرعہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سند کے سوا کسی اور سند سے اسے مرفوع نہیں جانا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الفتح؛سورہ فتح سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٦؛حدیث نمبر ٣٢٦٥)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے،حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں عامل نہ بنائیے، ان دونوں حضرات نے آپ کی موجودگی میں آپس میں بحث شروع کر دی، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں،حضرت ابوبکر نے حضرت عمر رضی الله عنہما سے کہا: آپ کو تو بس ہماری مخالفت ہی کرنی ہے،حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي» ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو“ (الحجرات: ۲)، اس واقعہ کے بعد حضرت عمر رضی الله عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے تو اتنے دھیرے بولتے کہ بات سنائی نہیں پڑتی، سامع کو ان سے پوچھنا پڑ جاتا، راوی کہتے ہیں: ابن زبیر نے اپنے نانا یعنی حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو ابن ابی ملیکہ سے مرسل طریقہ سے روایت کیا ہے اور اس میں عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجرات؛سورہ حجرات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٧؛حدیث نمبر ٣٢٦٦)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «إن الذين ينادونك من وراء الحجرات أكثرهم لا يعقلون» ”اے نبی! جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دے کر پکارتے ہیں، ان کی اکثریت بے عقلوں کی ہے“ (الحجرات: ۴)، کی تفسیر میں کہتے ہیں: ایک شخص نے (آپ کے دروازے پر) کھڑے ہو کر (پکار کر) کہا: اللہ کے رسول! میری تعریف میری عزت ہے اور میری مذمت ذلت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صفت تو اللہ کی ہے (یہ اللہ ہی کی شان ہے)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجرات؛سورہ حجرات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٧؛حدیث نمبر ٣٢٦٧)
حضرت ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے دو دو تین تین نام ہوا کرتے تھے، ان میں سے بعض کو بعض نام سے پکارا جاتا تھا، اور بعض نام سے پکارنا اسے برا لگتا تھا، اس پر یہ آیت «ولا تنابزوا بالألقاب» ”لوگوں کو برے القاب (برے ناموں) سے نہ پکارو“ (الحجرات: ۱۱)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوجبیرہ، یہ ثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری کے بھائی ہیں، اور ابوزید سعید بن الربیع صاحب الہروی بصرہ کے رہنے والے ثقہ (معتبر) شخص ہیں۔ ایک اور سند سے داود نے شعبی سے اور شعبی نے ابوجبیرہ بن ضحاک سے اسی طرح روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجرات؛سورہ حجرات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٨؛حدیث نمبر ٣٢٦٨)
ابونضرہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ” تم لوگ یہ بات جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول ہے اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشکل کا شکار ہو جاؤ گے “ (الحجرات: ۷)، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی ہیں جن کی طرف وحی کی گئی ہے۔ تمہارے بہترین پیشوا(یعنی صحابہ کرام) اگر وہ نبی علیہ السلام بہت سے معاملات میں ان کی بات ماننے لگ جائے تو وہ لوگ مشکل کا شکار ہو جائے تو تمہارا عالم کیا ہوگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجرات؛سورہ حجرات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٨؛حدیث نمبر ٣٢٦٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر و غرور اور اپنے آباء و اجداد کی وجہ سے تکبر ختم کر دیا ہے، اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں (۱) اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور (۲) دوسرا فاجر بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمزور، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں۔ اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير» ”اے لوگو! ہم نے تمہیں نر اور مادہ (کے ملاپ) سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، (کہ کون کس قبیلے اور کس خاندان کا ہے) بیشک اللہ کی نظر میں تم میں سب سے زیادہ معزز و محترم وہ شخص ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے ولا ہے“ (الحجرات: ۱۳)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند کے سوا جسے عبداللہ بن دینار ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کسی اور سند سے مروی نہیں جانتے، ۳- عبداللہ بن جعفر ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف کہا ہے، اور عبداللہ بن جعفر - یہ علی ابن مدینی - کے والد ہیں، ۴- اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجرات؛سورہ حجرات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٨٩؛حدیث نمبر ٣٢٧٠)
حضرت سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حسب» مال کو کہتے ہیں اور «کرم» سے مراد تقویٰ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سلام بن ابی مطیع کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحجرات؛سورہ حجرات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٠؛حدیث نمبر ٣٢٧١)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم مسلسل یہی کہتی رہے گی «هل من مزيد» ”کوئی اور (جہنمی) ہو تو لاؤ، (ڈال دو اسے میرے پیٹ میں)“ (قٓ: ۳۰)، یہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، اس وقت جہنم «قط قط» ”بس، بس“ کہے گی اور قسم ہے تیری عزت کی (اتنا ہی کافی ہے)پھر اس کا ایک حصہ دوسرے کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ق؛سورہ ق سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٠؛حدیث نمبر ٣٢٧٢)
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس (دوران گفتگو) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: (اچھا ہوا) آپ نے واقف کار سے پوچھا (میں آپ کو بتاتا ہوں) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل (نامی شخص) کو (امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ) بھیجا، وہ (آ کر) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو کنیزوں کا گانا سنایا، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا رخ کیا (مہرہ ایک قبیلہ کے دادا کا نام ہے) اس نے (دعا مانگی) کہا: اے اللہ! میں تیرے پاس کوئی مریض لے کر نہیں آیا کہ اس کا علاج کراؤں، اور نہ کسی قیدی کے لیے آیا اسے آزاد کرا لوں، تو اپنے بندے کو پلا (یعنی مجھے) جو تجھے پلانا ہے اور اس کے ساتھ بکر بن معاویہ کو بھی پلا (اس نے یہ دعا کر کے) اس شراب کا شکریہ ادا کیا، جو بکر بن معاویہ نے اسے پلائی تھی، (انجام کار) اس کے لیے (آسمان پر) کئی بدلیاں چھائیں اور اس سے کہا گیا کہ تم ان میں سے کسی ایک کو اپنے لیے چن لو، اس نے ان میں سے کالی رنگ کی بدلی کو پسند کر لیا، کہا گیا: اسے لے لو اپنی ہلاکت و بربادی کی صورت میں، عاد قوم کے کسی فرد کو بھی نہ باقی چھوڑے گی، اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عاد پر ہوا (آندھی) اس حلقہ یعنی انگوٹھی کے حلقہ کے برابر ہی چھوڑی گئی۔ پھر آپ نے آیت «إذ أرسلنا عليهم الريح العقيم ما تذر من شيء أتت عليه إلا جعلته كالرميم» ”یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے ان پر تیز چلنے والی ہوا بھیجی جس چیز کو بھی وہ ہوا چھو جاتی اسے چورا چورا کر دیتی“ (الذاریات: ۴۲)، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو کئی لوگوں نے سلام ابومنذر سے، سلام نے عاصم بن ابی النجود سے، عاصم نے ابووائل سے اور ابووائل نے ( «عن رجل من ربیعة» کی جگہ) حارث بن حسان سے روایت کیا ہے۔ (یہ روایت آگے آ رہی ہے) ۲- حارث بن حسان کو حارث بن یزید بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الذاريات؛سورہ ذاریات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩١؛حدیث نمبر ٣٢٧٣)
حارث بن یزید البکری کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، مسجد نبوی میں گیا، وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، کالے جھنڈ ہوا میں اڑ رہے تھے اور حضرت بلال رضی الله عنہ آپ کے سامنے تلوار لٹکائے ہوئے کھڑے تھے، میں نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا: آپ کا ارادہ حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ کو (فوجی دستہ کے ساتھ) کسی طرف بھیجنے کا ہے، پھر پوری لمبی حدیث سفیان بن عیینہ کی حدیث کی طرح اسی کے ہم معنی بیان کی۔ حارث بن یزید کو حارث بن حسان بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الذاريات؛سورہ ذاریات سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩١؛حدیث نمبر ٣٢٧٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(سورہ طور میں استعمال ہونے والے الفاظ)” «إدبار النجوم» (ستاروں کے بعد) سے مراد نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں یعنی سنتیں ہیں اور «إدبار السجود» (سجدوں کے بعد) سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعتیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو مرفوعاً صرف محمد بن فضیل کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ رشدین بن کریب سے روایت کرتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے محمد (محمد بن فضیل) اور رشدین بن کریب کے بارے میں پوچھا کہ ان دونوں میں کون زیادہ ثقہ ہے؟ انہوں نے کہا: دونوں ایک سے ہیں، لیکن محمد بن فضیل میرے نزدیک زیادہ راجح ہیں (یعنی انہیں فوقیت حاصل ہے) ۴- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) سے اس بارے میں پوچھا (آپ کیا کہتے ہیں؟) کہا: کیا خوب دونوں میں یکسانیت ہے، لیکن رشدین بن کریب میرے نزدیک ان دونوں میں قابل ترجیح ہیں، کہتے ہیں: میرے نزدیک بات وہی درست ہے جو ابو محمد یعنی دارمی نے کہی ہے، رشدین محمد بن فضیل سے راجح ہیں اور پہلے کے بھی ہیں، رشدین نے ابن عباس کا زمانہ پایا ہے اور انہیں دیکھا بھی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الطور ؛سورہ طور سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٢؛حدیث نمبر ٣٢٧٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (معراج کی رات) سدرۃ المنتہیٰ پہنچے تو کہا: یہی وہ جگہ ہے جہاں زمین سے چیزیں اٹھ کر پہنچتی ہیں اور یہی وہ بلندی کی آخری حد ہے جہاں سے چیزیں نیچے آتی اور اترتی ہیں، یہیں اللہ نے آپ کو وہ تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں فرمائی تھیں، (۱) آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، (۲) سورۃ البقرہ کی «خواتیم» (آخری آیات) عطا کی گئیں، (۳) اور آپ کی امتیوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، ان کے مہلک و بھیانک گناہ بھی بخش دیئے گئے، (پھر) ابن مسعود رضی الله عنہ نے آیت «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ”جب سدرہ کو اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا“ (النجم: ۱۶)، پڑھ کر کہا «السدرہ» (بیری کا درخت) چھٹے آسمان پر ہے، سفیان کہتے ہیں: سونے کے پروانے ڈھانپ رہے تھے اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے انہیں چونکا دیا (یعنی تصور میں چونک کر ان پروانوں کے اڑنے کی کیفیت دکھائی) مالک بن مغول کے سوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہیں تک مخلوق کے علم کی پہنچ ہے اس سے اوپر کیا کچھ ہے کیا کچھ ہوتا ہے انہیں اس کا کچھ بھی علم اور کچھ بھی خبر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النجم؛سورہ نجم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٣؛حدیث نمبر ٣٢٧٦)
شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش سے آیت: «فكان قاب قوسين أو أدنى» ”کمان کے دو کناروں کی طرح یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا“ (النجم: ۹)، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت حضرت جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النجم؛سورہ نجم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٤؛حدیث نمبر ٣٢٧٧)
شعبی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کی ملاقات کعب الاحبار سے عرفہ میں ہوئی، انہوں نے کعب سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیرات پڑھیں جن کی صدائے بازگشت پہاڑوں میں گونجنے لگی،حضرت ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: ہم بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں، کعب نے کہا: اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدار عطا کیا، اس نے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ دو مرتبہ کلام کیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دو مرتبہ دیدار کیا۔ مسروق کہتے ہیں: میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس پہنچا، میں نے ان سے پوچھا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے تو ایسی بات کہی ہے جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، میں نے کہا: ٹھہریئے، جلدی نہ کیجئے (پوری بات سن لیجئے) پھر میں نے آیت «لقد رأى من آيات ربه الكبرى» ”پھر آپ نے اللہ کی بڑی آیات و نشانیاں دیکھیں“ (النجم: ۱۸)، تلاوت کی ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا: ”تمہاری عقل کہاں چلی گئی ہے،(اس سے مراد( حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے)، تمہیں جو یہ خبر دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ یا جن باتوں کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ان میں سے آپ نے کچھ چھپا لیا ہے، یا وہ پانچ چیزیں جانتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث» ”اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اللہ ہی جانتا ہے کہ بارش کب اور کہاں نازل ہو گی“ (سورۃ لقمان: ۳۴)، اس نے بڑا جھوٹ بولا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا،حضرت جبرائیل علیہ السلام کو آپ نے ان کی اپنی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، (ایک بار) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک بار جیاد میں (جیاد نشیبی مکہ کا ایک محلہ ہے)حضرت جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو بازو تھے، انہوں نے سارے افق کو اپنے پروں سے ڈھانپ رکھا تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: داود بن ابی ہند نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے اور مسروق نے عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی حدیث روایت کی، داود کی حدیث مجالد کی حدیث سے چھوٹی ہے (لیکن وہی صحیح ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النجم؛سورہ نجم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٤؛حدیث نمبر ٣٢٧٨)
عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار» ” بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی لیکن وہ بصارت کا ادراک کر سکتا ہے “ (الانعام: ۱۰۳)، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے (تم سمجھ نہیں سکے) یہ تو اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنے ذاتی نور کے ساتھ تجلی فرمائے، انہوں نے کہا: آپ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النجم؛سورہ نجم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٥؛حدیث نمبر ٣٢٧٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: " اور جب اس نے اسے دوسری مرتبہ اترتے دیکھا تھا سدرۃ المنتہی کے قریب"(النجم ١٤) اور اس نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو بھی اس نے وحی کرنی تھی"(نجم ١٠) اور وہ کمان کے دو کناروں کی طرح ہو گئے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہو گئے"(نجم ٩) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کا دیدار کیا۔ امام ترمذی کہتے: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النجم؛سورہ نجم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٥؛حدیث نمبر ٣٢٨٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت «ما كذب الفؤاد ما رأى» ”جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے دل نے جھٹلایا نہیں (بلکہ اس کی تصدیق کی)“ (النجم: ۱۱)، پڑھی، کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دل کی آنکھ سے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النجم؛سورہ نجم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٦؛حدیث نمبر ٣٢٨١)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی الله عنہ سے کہا: اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہوتا تو آپ سے ایک سوال کرتا، انہوں نے کہا: تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا پوچھتے؟ میں نے کہا: میں یہ پوچھتا کہ کیا آپ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ حضرت ابوذر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے آپ سے یہ بات پوچھی تھی، آپ نے فرمایا: ”وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النجم؛سورہ نجم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٦؛حدیث نمبر ٣٢٨٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اس آیت: «ما كذب الفؤاد ما رأى»("اس نے جو دیکھا اس کے دل نے اسے جھٹلایا نہیں")کی تفسیر میں کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو باریک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ آسمان و زمین کی ساری جگہیں ان کے وجود سے بھر گئی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النجم؛سورہ نجم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٦؛حدیث نمبر ٣٢٨٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الذين يجتنبون كبائر الإثم والفواحش إلا اللمم» ”جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر چھوٹے گناہ (جو کبھی ان سے سرزد ہو جائیں تو وہ بھی معاف ہو جائیں گے)“ (النجم: ۳۲)، کی تفسیر میں کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے رب اگر بخشتا ہے تو سب ہی گناہ بخش دے، اور تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جس سے کوئی چھوٹا گناہ بھی سرزد نہ ہوا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف زکریا بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النجم؛سورہ نجم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٦؛حدیث نمبر ٣٢٨٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا (اس جانب) پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا ٹکڑا اس جانب (پہاڑ کے آگے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”گواہ رہو، یعنی اس بات کے گواہ رہو۔ راوی کہتے ہیں اسی کا ذکر (اس آیت میں ہے۔«اقتربت الساعة وانشق القمر» یعنی: قیامت قریب ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں۔(القمر ١) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ القمر؛سورہ قمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٧؛حدیث نمبر ٣٢٨٥)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نشانی (معجزہ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی، راوی کہتے ہیں: «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» (یعنی جانے والا) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ القمر؛سورہ قمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٧؛حدیث نمبر ٣٢٨٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم سب گواہ رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ القمر؛سورہ قمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٨؛حدیث نمبر ٣٢٨٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب گواہ رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ القمر؛سورہ قمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٨؛حدیث نمبر ٣٢٨٨)
حضرت جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر، ان لوگوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے (اس کی تردید کی) کہا: اگر انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ہے تو (باہر کے) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لا سکتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ان میں سے بعض نے یہ حدیث حصین سے حصین نے جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے، جبیر نے اپنے والد محمد سے، محمد نے ان (جبیر پوتا) کے دادا جبیر بن مطعم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ القمر؛سورہ قمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٨؛حدیث نمبر ٣٢٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے مسئلہ میں بحث کرنے لگے اس پر آیت کریمہ: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» ”یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے (کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے“ (القمر: ۴۸)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ القمر؛سورہ قمر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٨؛حدیث نمبر ٣٢٩٠)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور ان کے سامنے سورۃ الرحمن شروع سے آخر تک پڑھی، لوگ (سن کر) چپ رہے، آپ نے کہا: میں نے یہ سورۃ اپنی جنوں سے ملاقات والی رات میں جنوں کو پڑھ کر سنائی تو انہوں نے مجھے تمہارے بالمقابل اچھا جواب دیا، جب بھی میں پڑھتا ہوا آیت «فبأي آلاء ربكما تكذبان»"تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے" پر پہنچتا تو وہ کہتے «لا بشيء من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد» ”اے ہمارے رب! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کا بھی انکار نہیں کرتے، تیرے ہی لیے ہیں ساری تعریفیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت کے سوا جسے وہ زہیر بن محمد سے روایت کرتے ہیں، اور کسی سے نہیں جانتے، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: زہیر بن محمد جو شام میں ہیں، وہ زہیر نہیں جن سے اہل عراق روایت کرتے ہیں تو ان وہ دوسرے آدمی ہیں، لوگوں نے ان کا نام اس وجہ سے تبدیل کر دیا ہے (تاکہ لوگ ان کا نام نہ جان سکیں) کیونکہ لوگ ان سے منکر احادیث بیان کرتے تھے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل شام زہیر بن محمد سے مناکیر (منکر احادیث) روایت کرتے ہیں، اور اہل عراق ان سے صحیح احادیث روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الرحمن؛سورہ رحمن سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٩٩؛حدیث نمبر ٣٢٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا“ (السجدۃ: ۱۷)، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی (گھنی) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» ”پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ“ (الواقعہ: ۳۰)، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، چاہو تو دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ”جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے“ (آل عمران: ۱۸۵)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الواقعۃ؛سورہ واقعہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٠؛حدیث نمبر ٣٢٩٢)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلے گا پھر بھی اس درخت کے سایہ کو عبور نہ کر سکے گا، اگر چاہو تو پڑھو «وظل ممدود وماء مسكوب» ”ان کے لیے دراز سایہ ہے اور (فراواں) بہتا ہوا پانی“ (الواقعہ: ۳۰)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الواقعۃ؛سورہ واقعہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٠؛حدیث نمبر ٣٢٩٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ”جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے“ (الواقعہ: ۳۴)، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہو گی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الواقعۃ؛سورہ واقعہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠١؛حدیث نمبر ٣٢٩٤)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون» ” اور تم نے اپنا حصہ یہ مقرر کیا ہے کہ تم جھٹلاتے ہو “ (الواقعہ: ۸۲)، کے متعلق فرمایا: ”تمہارا «شكر» یہ ہوتا ہے: تم کہتے ہو کہ یہ بارش فلاں فلاں ستارے کے باعث اور فلاں فلاں ستاروں کی گردش کی بدولت ہوئی ہے۔ اس طرح تم جھوٹ بول کر حقیقت کو جھٹلاتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ہم اسے اسرائیل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے مرفوع نہیں جانتے، ۲- اس حدیث کو سفیان ثوری نے عبدالاعلی سے، عبدالاعلیٰ نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے، اور عبدالرحمٰن نے علی سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الواقعۃ؛سورہ واقعہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠١؛حدیث نمبر ٣٢٩٥)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «إنا أنشأناهن إنشاء» ”ہم نے ان کی بہترین نشو نما کی ہے“ (الواقعہ: ۸۲)، کے سلسلے میں فرمایا: ” ان کی نشونما بہترین اس حوالے سے ہے کہ وہ دنیا میں بوڑھی تھی، ان کی انکھیں کمزور تھی، ان کی انکھوں سے پانی بہتا تھا “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الواقعۃ؛سورہ واقعہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٢؛حدیث نمبر ٣٢٩٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ کی بالوں میں سفیدی آگئی ہے، آپ نے فرمایا: ”مجھے «هود»، «الواقعة»، «المرسلات»، «عم يتساءلون» اور سورۃ «إذا الشمس کوّرت» نے میرے بالوں کو سفید کر دیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی بن صالح نے یہ حدیث اسی طرح ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوحجیفہ رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- اس حدیث کی کچھ باتیں ابواسحاق ابومیسرہ سے مرسلاً روایت کی گئی ہیں۔ ابوبکر بن عیاش نے ابواسحاق کے واسطہ سے، ابواسحاق نے عکرمہ سے، اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شیبان کی اس حدیث جیسی روایت کی ہے جسے انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس روایت میں ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الواقعۃ؛سورہ واقعہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٢؛حدیث نمبر ٣٢٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں ،ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اصحاب کے پس تشریف فرماتھے، اسی دوران بادل آگئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ بادل ہے اور یہ زمین کے گوشے و کنارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بادل کو ایک ایسی قوم کے پاس ہانک کر لے جا رہا ہے جو اس کی شکر گزار نہیں ہے اور نہ ہی اس کو پکارتے ہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ آسمان «رقیع» ہے، ایسی چھت ہے جو (جنوں سے) محفوظ کر دی گئی ہے، ایک ایسی (لہر) ہے جو (بغیر ستون کے) روکی ہوئی ہے“، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کتنا فاصلہ ہے تمہارے اور اس کے درمیان؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتا ہیں، آپ نے فرمایا: ”تمہارے اور اس کے درمیان پانچ سو سال مسافت کی دوری ہے“، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تمہیں معلوم ہے اور اس سے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، آپ نے فرمایا: ”اس کے اوپر دو آسمان ہیں جن کے بیچ میں پانچ سو سال کی مسافت ہے“۔ ایسے ہی آپ نے سات آسمان گنائے، اور ہر دو آسمان کے درمیان وہی فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے، پھر آپ نے پوچھا: ”اور اس کے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کے اوپر عرش ہے، عرش اور آسمان کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری دو آسمانوں کے درمیان ہے“، آپ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”یہ زمین ہے“، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اس کے نیچے کیا ہے؟“، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا: ”اس کے نیچے دوسری زمین ہے، ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری ہے“، اس طرح آپ نے سات زمینیں شمار کیں، اور ہر زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری بتائی، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے! اگر تم کوئی رسی زمین کی نچلی سطح تک لٹکاؤ تو وہ اللہ ہی تک پہنچے گی، پھر آپ نے آیت «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم» ”وہی اول و آخر ہے وہی ظاہر و باطن ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے“ (الحدید: ۳)، پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے، ان لوگوں نے کہا ہے کہ حسن بصری نے حضرت ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ۳- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: مراد یہ ہے کہ وہ رسی اللہ تعالیٰ کا علم اور قدرت ہے، اور اللہ اور اس کی قدرت و حکومت ہر جگہ ہے اور جیسا کہ اس نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں اپنے متعلق بتایا ہے وہ عرش پر مستوی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحدید ؛سورہ حدید سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٣؛حدیث نمبر ٣٢٩٨)
حضرت سلمہ بن صخر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے عورت سے صحبت کی جتنی شہوت و قوت ملی تھی (میں سمجھتا ہوں) اتنی کسی کو بھی نہ ملی ہو گی، جب رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے اس ڈر سے کہ کہیں میں رمضان کی رات میں بیوی سے ملوں (صحبت کر بیٹھوں) اور پے در پے جماع کئے ہی جاؤں کہ اتنے میں صبح ہو جائے اور میں اسے چھوڑ کر علیحدہ نہ ہو پاؤں، میں نے رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے بیوی سے ظہار کر لیا، پھر ایسا ہوا کہ ایک رات میری بیوی میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک مجھے اس کی ایک چیز دکھائی پڑ گئی تو میں (اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا) اس سے صحبت شروع کر دی، جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں اپنے حال سے باخبر کیا، میں نے ان سے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو تاکہ میں آپ کو اپنے معاملے سے باخبر کر دوں، ان لوگوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم نہ جائیں گے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے متعلق قرآن (کوئی آیت) نازل نہ ہو جائے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات نہ کہہ دیں جو ہمارے لیے ندامت کا باعث بنے، البتہ تم خود ہی جاؤ اور جو مناسب ہو کرو، تو میں گھر سے نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ کو اپنی بات بتائی، آپ نے فرمایا: ”تم نے یہ کام کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے ایسا کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے ایسا کیا ہے آپ نے (تیسری بار بھی یہی) پوچھا: ”تو نے یہ بات کی ہے“، میں نے کہا: جی ہاں، مجھ سے ہی ایسی بات ہوئی ہے، مجھ پر اللہ کا حکم جاری و نافذ فرمائیے، میں اپنی اس بات پر ثابت و قائم رہنے والا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو“، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اپنی اس گردن کے سوا کسی اور گردن کا مالک نہیں ہوں (غلام کیسے آزاد کروں) آپ نے فرمایا: ”پھر دو مہینے کے روزے رکھو“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جو پریشانی و مصیبت لاحق ہوئی ہے وہ اسی روزے ہی کی وجہ سے تو لاحق ہوئی ہے، آپ نے فرمایا: ”تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو“، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! ہم نے یہ رات بھوکے رہ کر گزاری ہے، ہمارے پاس رات کا بھی کھانا نہ تھا، آپ نے فرمایا: ”بنو زریق کے صدقہ دینے والوں کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں صدقہ کا مال دے دیں اور اس میں سے تم ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو اپنے کفارہ کے طور پر کھلا دو اور باقی جو کچھ بچے وہ اپنے اوپر اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو، وہ کہتے ہیں: پھر میں لوٹ کر اپنی قوم کے پاس آیا، میں نے کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی اور غلط تجویز پائی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کشادگی اور برکت پائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارا صدقہ لینے کا حکم دیا ہے تو تم لوگ اسے مجھے دے دو، چنانچہ ان لوگوں نے مجھے دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: سلیمان بن یسار نے میرے نزدیک سلمہ بن صخر سے نہیں سنا ہے، سلمہ بن صخر کو سلمان بن صخر بھی کہتے ہیں، ۳- اس باب میں خولہ بنت ثعلبہ سے بھی روایت ہے، اور یہ اوس بن صامت کی بیوی ہیں (رضی الله عنہما)۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المجادلہ ؛سورہ مجادلہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٥؛حدیث نمبر ٣٢٩٩)
حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ: «يا أيها الذين آمنوا إذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدي نجواكم صدقة» ”اے ایمان والو! جب رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو“ (المجادلہ: ۱۲)، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کیا رائے ہے، ایک دینار صدقہ مقرر کر دوں؟“ میں نے کہا: لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، آپ نے فرمایا: ”تو کیا آدھا دینار مقرر کر دوں؟ میں نے کہا: اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے“، آپ نے فرمایا: ”پھر کتنا کر دوں؟“ میں نے کہا: کچھ جو کر دیں، آپ نے فرمایا: ”تم نے تو بہت کم کردیا“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أأشفقتم أن تقدموا بين يدي نجواكم صدقات» ”کیا تم اس حکم سے ڈر گئے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقے دے دیا کرو“ (المجادلہ: ۱۳)، حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ نے میری وجہ سے فضل فرما کر اس امت کے معاملے میں تخفیف فرما دی (یعنی اس حکم کو منسوخ کر دیا)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی رضی الله عنہ کے قول «شعيرة» سے مراد ایک جو کے برابر ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المجادلہ؛سورہ مجادلہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٦؛حدیث نمبر ٣٣٠٠)
حضرت انس ابن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آ کر کہا: «السام عليكم» (تم پر موت آئے) لوگوں نے اسے اس کے «سام» کا جواب دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو اس نے کیا کہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، اے اللہ کے نبی! اس نے تو سلام کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس نے تو ایسا ایسا کہا ہے، تم لوگ اس (یہودی) کو لوٹا کر میرے پاس لاؤ“، لوگ اس کو لوٹا کر لائے، آپ نے اس یہودی سے پوچھا: تو نے «السام عليكم» کہا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت سے یہ حکم صادر فرمایا دیا کہ جب اہل کتاب میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس کے جواب میں «عليك ما قلت» (جو تم نے کہی وہی تمہارے لیے بھی ہے) کہہ دیا کرو، اور آپ نے یہ آیت پڑھی «وإذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله» ”یہ یہودی جب تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ تمہیں اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا ہے“ (المجادلہ: ۸)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المجادلہ؛سورہ مجادلہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٧؛حدیث نمبر ٣٣٠١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے باغات جلوا دئیے اور کٹوا ڈالے، اس جگہ کا نام بویرہ تھا، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين» ”جو ان کے درخت تم نے کاٹے یا ان کو اپنی جڑوں پر قائم (و سالم) چھوڑ دیا یہ سب کچھ اذن الٰہی سے تھا، اور اس لیے بھی تھا کہ اللہ ایسے فاسقوں کو رسوا کرے“ (الحشر: ۵)، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحشر؛سورہ حشر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٨؛حدیث نمبر ٣٣٠٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» (تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور (مسلمانوں کو یہود کے) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» ”تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر باقی رہنے دیا، یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمان سے تھا اور اس لیے بھی تھا کہ اللہ فاسقوں کو رسوا کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ بعض اور لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «حفص بن غياث عن حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير» مرسلاً روایت کی ہے، اور اس کی سند میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحشر؛سورہ حشر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٨؛حدیث نمبر ٣٣٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کے پاس رات میں ایک مہمان آیا، اس انصاری کے پاس (اس وقت) صرف اس کے اور اس کے بچوں بھر کا ہی کھانا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا (ایسا کرو) بچوں کو (کسی طرح) سلا دو اور (کھانا کھلانے چلو تو) چراغ بجھا دو، اور جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ مہمان کے قریب رکھ دو، اس پر آیت «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة» ”یہ خود محتاج و ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں“ (الحشر: ۹)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحشر؛سورہ حشر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٩؛حدیث نمبر ٣٣٠٤)
عبیداللہ بن ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا، فرمایا: جاؤ، روضہ خاخ پر پہنچو وہاں ایک ھودج سوار عورت ہے، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ خط جا کر اس سے لے لو، اور میرے پاس لے آؤ، چنانچہ ہم نکل پڑے، ہمارے گھوڑے ہمیں لیے لیے دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کر رہے تھے، ہم روضہ پہنچے، ہمیں ایک عورت مل گئی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال، اس نے کہا: ہمارے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکالتی ہے یا پھر اپنے کپڑے اتارتی ہے؟ (یعنی جامہ تلاشی دوگی) تو اس نے اپنی چوٹی (جوڑے) سے اس نے خط نکالا، ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، وہ خط حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کی جانب سے تھا، مکہ کے کچھ مشرکین کے پاس بھیجا گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقدامات کی انہیں خبر دی گئی تھی، آپ نے فرمایا: ”حاطب! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے خلاف حکم فرمانے میں جلدی نہ کریں، میں ایک ایسا شخص تھا جو قریش کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا، لیکن (خاندانی طور پر) قریشی نہ تھا، باقی جو مہاجرین آپ کے ساتھ تھے ان کی وہاں رشتہ داریاں تھیں جس کی وجہ سے وہ رشتہ دار مکہ میں ان کے گھر والوں اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کرتے تھے، میں نے مناسب سمجھا کہ جب ہمارا ان سے کوئی خاندانی و نسبی تعلق نہیں ہے تو میں ان پر احسان کر کے کسی کا ہاتھ پکڑ لوں جس کی وجہ سے یہ اہل مکہ ہمارے گھر اور رشتہ داروں کی حفاظت و حمایت کریں، میں نے ایسا کفر کی وجہ سے یا اپنے دین سے مرتد ہو جانے یا کفر کو پسند کر لینے کی وجہ سے نہیں کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حاطب نے سچ اور (صحیح) بات کہی ہے“، حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جنگ بدر میں موجود رہے ہیں، تمہیں معلوم نہیں، یقیناً اللہ نے بدر والوں کی حالت (یعنی ان کے جذبہ جاں فروشی) کو دیکھ کر کہہ دیا ہے: جو چاہو کرو ہم نے تمہارے گناہ بخش دیئے ہیں“، اسی سلسلے میں یہ پوری سورۃ «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء» ” اے ایمان والو!تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ “ (الممتحنۃ: ۱)، آخر تک نازل ہوئی۔ عمرو (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے عبیداللہ بن ابی رافع کو دیکھا ہے، وہ علی رضی الله عنہ کے کاتب (محرر) تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی ایک نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے روایت کی ہے، اور ان سبھوں نے بھی یہی لفظ ذکر کیا ہے کہ حضرت علی اور زبیر رضی الله عنہما وغیرہ نے کہا: تمہیں خط نکال کر دینا ہو گا، ورنہ پھر تمہیں کپڑے اتارنے پڑیں گے، ۳- ابوعبدالرحمٰن السلمی سے بھی یہ حدیث مروی ہوئی ہے، انہوں نے علی رضی الله عنہ سے اسی حدیث کے مانند روایت کیا ہے، ۴- اس باب میں حضرت حضرت عمر اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور بعضوں نے ذکر کیا کہ انہوں نے کہا کہ تو خط نکال دے ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الممتحنہ؛سورہ ممتحنہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٠٩؛حدیث نمبر ٣٣٠٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس آیت کی وجہ سے امتحان لیا کرتے تھے «إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» ”جب مؤمن عورتیں تمہارے پاس بیعت کرنے کے لیے آئیں“ (الممتحنۃ: ۱۰) معمر کہتے ہیں: ابن طاؤس نے مجھے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ ان کے باپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے اس عورت کے سوا جس کے آپ مالک ہوتے کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الممتحنہ؛سورہ ممتحنہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١١؛حدیث نمبر ٣٣٠٦)
حضرت ام سلمہ انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ عورتوں میں سے ایک عورت نے عرض کیا: اس معروف سے مراد کیا ہے جس کے حوالے سے ہمارے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کریں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ یہی ہے کہ تم (کسی کے مرنے پر) نوحہ مت کرو“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! فلاں قبیلے کی عورتوں نے نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی جب میں نے اپنے چچا پر نوحہ کیا تھا، اس لیے میرے لیے ضروری ہے کہ جب ان کے نوحہ کرنے کا وقت آئے تو میں ان کے ساتھ نوحہ میں شریک ہو کر اس کا بدلہ چکاؤں، آپ نے انکار کیا، (مجھے اجازت نہ دی) میں نے کئی بار آپ سے اپنی عرض دہرائی تو آپ نے مجھے ان کا بدلہ چکا دینے کی اجازت دے دی۔ سیدہ ام سلمہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں اس کے بعد میں نے کبھی کسی کے انتقال پر خواہ وہ بھائی ہو یا کوئی اور ہو اس پر نوحہ نہیں کیا، جبکہ ان بیعت کرنے والی خواتین واحد عورت کسی نے کسی کی وفات پر نوح ضرور کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت ام عطیہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- عبد بن حمید کہتے ہیں، ام سلمہ انصاریہ ہی اسماء بنت یزید بن السکن ہیں رضی الله عنہا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الممتحنہ؛سورہ ممتحنہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١١؛حدیث نمبر ٣٣٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اس آیت «إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن» کی تفسیر میں کہتے ہیں: جب کوئی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایمان لانے کے لیے آتی تو آپ اسے اللہ تعالیٰ کی قسم دلا کر کہلاتے کہ میں اپنے شوہر سے ناراضگی کے باعث کفر سے نہیں نکلی ہوں بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت لے کر اسلام قبول کرنے آئی ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الممتحنہ؛سورہ ممتحنہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١١؛حدیث نمبر ٣٣٠٨)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم چند صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، آپس میں باتیں کرنے لگے، ہم نے کہا: اگر ہم جان پاتے کہ کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے تو ہم اسی پر عمل کرتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «سبح لله ما في السموات وما في الأرض وهو العزيز الحكيم يا أيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون» ”زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے، اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو“ (الصف: ۱-۳)حضرت عبداللہ بن سلام کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی، ابوسلمہ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمارے سامنے ابن سلام نے پڑھی، اور یحییٰ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمارے سامنے ابوسلمہ نے پڑھ کر سنائی، اور محمد بن کثیر کہتے ہیں: ہمارے سامنے اسے اوزاعی نے پڑھ کر سنایا، اور عبداللہ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمیں ابن کثیر نے پڑھ کر سنائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی اوزاعی سے روایت کرنے میں محمد بن کثیر کی مخالفت کی گئی ہے۔ (اس کی تفصیل یہ ہے) ۲- ابن مبارک نے اوزاعی سے روایت کی، اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، یحییٰ نے ہلال بن ابومیمونہ سے، ہلال نے عطاء بن یسار سے، اور عطاء نے عبداللہ بن سلام سے، یا ابوسلمہ کے واسطہ سے عبداللہ بن سلام سے، ۳- ولید بن مسلم نے اوزاعی سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے جس طرح محمد بن کثیر نے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الصف؛سورہ صف سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١٢؛حدیث نمبر ٣٣٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت سورۃ الجمعہ نازل ہوئی اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے اس کی تلاوت کی، جب آپ «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» ” اور ان میں سے بعد میں آنے والے لوگ جو ابھی ان سے ملے بھی نہیں ہیں “ (الجمعۃ: ۳)، پر پہنچے تو ایک شخص نے آپ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں جو اب تک ہم سے نہیں ملے ہیں؟ (آپ خاموش رہے) اس سے کوئی بات نہ کی،حضرت سلمان (فارسی) رضی الله عنہ ہمارے درمیان موجود تھے، آپ نے اپنا ہاتھ سلمان پر رکھ کر فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو بھی (اتنی بلندی اور دوری پر پہنچ کر) ان کی قوم کے لوگ اسے حاصل کر کے ہی رہتے“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور عبداللہ بن جعفر، علی بن المدینی کے والد ہیں، یحییٰ بن معین نے انہیں ضعیف کہا ہے، ۲- ثور بن زید مدنی ہیں، اور ثور بن یزید شامی ہیں، اور ابوالغیث کا نام سالم ہے، یہ عبداللہ بن مطیع کے آزاد کردہ غلام ہیں، مدنی اور ثقہ ہیں، ۳- یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے (اور اسی بنیاد پر صحیح ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الجمعہ؛سورہ جمعہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١٣؛حدیث نمبر ٣٣١٠)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے، مدینہ کا (تجارتی) قافلہ آ گیا، (یہ سن کر) صحابہ بھی (خطبہ چھوڑ کر) ادھر ہی چلے گئے ، صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے جن میں حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی تھے، اسی موقع پر آیت «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ” اور جب انہوں نے تجارت اور دلچسپی کی چیز دیکھی تو اس کی طرف چلے گئے اور تمہیں کھڑا ہوا چھوڑ گئے “ (الجمعۃ: ۱۱)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ایک اور سند سے حضرت جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الجمعہ؛سورہ جمعہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١٣؛حدیث نمبر ٣٣١١)
حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو اپنے ساتھیوں سے کہتے ہوئے سنا(جس کے الفاظ قرآن نے نقل کئے ہیں) "رسول کے ساتھ جو لوگ ہیں تم ان پر خرچ نہ کرو تاکہ وہ لوگ اپ کو چھوڑ جائیں"(المنافقون ٧) (اس نے یہ بھی کہا)جس کا ذکر قران میں ہے "جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو عزت دار لوگ ذلیل لوگوں کو اس میں سے نکال دیں گے"(المنافقون ٨) میں نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی تو میرے چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر دیا، آپ نے مجھے بلا کر پوچھا تو میں نے آپ کو (بھی) بتا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا کر پوچھا، تو انہوں نے قسم کھا لی کہ ہم نے نہیں کہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا اور اسے سچا تسلیم کر لیا، اس کا مجھے اتنا رنج و ملال ہوا کہ اس جیسا صدمہ، اور رنج و ملال مجھے کبھی نہ ہوا تھا، میں (مارے شرم و ندامت اور صدمہ کے) اپنے گھر میں ہی بیٹھ رہا، میرے چچا نے کہا: تو نے یہی چاہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں جھٹلا دیں اور تجھ پر خفا ہوں؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے «إذا جاءك المنافقون» والی سورت نازل فرمائی، تو آپ نے مجھے بلا بھیجا (جب میں آیا تو) آپ نے یہ سورۃ پڑھ کر سنائی، پھر فرمایا: ”اللہ نے تجھے سچا قرار دے دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المنافقون؛سورہ منافقون سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١٥؛حدیث نمبر ٣٣١٢)
حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوہ بنی مصطلق میں) جہاد کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ کچھ اعرابی بھی تھے (جب کہیں پانی نظر آتا) تو ہم ایک دوسرے سے پہلے پہنچ کر حاصل کر لینے کی کوشش کرتے، اعرابی پانی تک پہنچنے میں ہم سے آگے بڑھ جاتے (اس وقت ایسا ہوا) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، جب آگے نکلتا تو حوض کو بھرتا اور اس کے اردگرد پتھر رکھتا، اس پر چمڑے کی چٹائی ڈال دیتا، پھر اس کے ساتھی آتے، اسی موقع پر انصاریوں میں سے ایک اعرابی کے پاس آیا، اور اپنی اونٹنی کی مہار ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی لے، مگر اس اعرابی شخص نے پانی پینے نہ دیا، انصاری نے باندھ توڑ دیا اعرابی نے لٹھ اٹھائی اور انصاری کے سر پر مار کر اس کا سر توڑ دیا، وہ انصاری منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی کے پاس آیا، وہ اس کے (ہم خیال) ساتھیوں میں سے تھا، اس نے اسے واقعہ کی اطلاع دی، عبداللہ بن ابی یہ خبر سن کر بھڑک اٹھا، غصہ میں آ گیا، کہا: ان لوگوں پر تم لوگ خرچ نہ کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جب تک کہ وہ (یعنی اعرابی) ہٹ نہ جائیں جب کہ ان کا معمول یہ تھا کہ کھانے کے وقت وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا اور موجود ہوتے تھے، عبداللہ بن ابی نے کہا: جب وہ لوگ محمد کے پاس سے چلے جائیں تو محمد کے پاس کھانا لے کر آؤ تاکہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھ (خاص) موجود لوگ کھا لیں، پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اگر ہم مدینہ (بسلامت) پہنچ گئے تو تم میں جو عزت والے ہیں انہیں ذلت والوں (اعرابیوں) کو مدینہ سے ضرور نکال بھگا دینا چاہیئے، زید کہتے ہیں: میں سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے عبداللہ بن ابی کی بات سن لی، تو اپنے چچا کو بتا دی، چچا گئے، انہوں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیدی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھیج کر اسے بلوایا، اس نے آ کر قسمیں کھائیں اور انکار کیا (کہ میں نے ایسی باتیں نہیں کہی ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا مان لیا اور مجھے غلط، پھر میرے چچا میرے پاس آئے، بولے (بیٹے) تو نے کیا سوچا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر غصہ ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے تجھے جھوٹا ٹھہرا دیا، (یہ سن کر) مجھے اتنا غم اور صدمہ ہوا کہ شاید اتنا غم اور صدمہ کسی اور کو نہ ہوا ہو گا، میں غم سے اپنا سر جھکائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں چلا ہی جا رہا تھا کہ یکایک آپ میرے قریب آئے میرے کان کو جھٹکا دیا اور میرے سامنے مسکرا دیئے مجھے اس سے اتنی خوشی ہوئی کہ اس کے بدلے میں اگر مجھے دنیا میں جنت مل جاتی تو بھی اتنی خوشی نہ ہوتی، پھر مجھے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ ملے، مجھ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ میں نے کہا: مجھ سے آپ نے کچھ نہیں کہا: البتہ میرے کان پکڑ کر آپ نے ہلائے اور مجھے دیکھ کر ہنسے،حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: خوش ہو جاؤ، پھر مجھے حضرت عمر رضی الله عنہ ملے، میں نے انہیں بھی وہی بات بتائی، جو میں نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہی تھی، پھر صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز فجر میں) سورۃ منافقین پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المنافقون؛سورہ منافقون سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١٥؛حدیث نمبر ٣٣١٣)
حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کو یہ بات بتا دی (جب اس سے بازپرس ہوئی) تو وہ قسم کھا گیا کہ اس نے تو ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے، میری قوم نے مجھے ملامت کی، لوگوں نے کہا: تجھے اس طرح کی (جھوٹ) بات کہنے سے کیا ملا؟ میں گھر آ گیا، رنج و غم میں ڈوبا ہوا لیٹ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے یا میں آپ کے پاس پہنچا (راوی کو شک ہو گیا ہے کہ زید بن ارقم رضی الله عنہ نے یہ کہا یا وہ کہا) آپ نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے سچا ٹھہرایا ہے یہ آیت نازل ہوئی ہے: «هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا» ”وہی لوگ تھے جو کہتے تھے ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں“ (المنافقون: ۷)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المنافقون؛سورہ منافقون سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١٧؛حدیث نمبر ٣٣١٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، (سفیان کہتے ہیں: لوگوں کا خیال یہ تھا کہ وہ غزوہ بنی مصطلق تھا)، مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری شخص کو دھکا دیا، مہاجر نے پکارا: اے مہاجرین، انصاری نے کہا: اے انصاریو! یہ (آواز) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی، فرمایا: ”جاہلیت کی کیسی پکار ہو رہی ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو دھکا دیا ہے ، آپ نے فرمایا: ”یہ (پکار) چھوڑ دو، یہ قبیح و ناپسندیدہ پکار ہے“، یہ بات عبداللہ بن ابی بن سلول نے سنی تو اس نے کہا: واقعی انہوں نے ایسا کیا ہے؟ قسم اللہ کی مدینہ پہنچ کر ہم میں سے عزت دار لوگ ذلیل و بےوقعت لوگوں کو نکال دیں گے،حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانے دو (گردن نہ مارو) لوگ یہ باتیں کرنے لگیں کہ محمد تو اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتا ہے“، عمرو بن دینار کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سے اس کے بیٹے عبداللہ ابن عبداللہ نے (تو یہاں تک) کہہ دیا کہ تم پلٹ نہیں سکتے جب تک یہ اقرار نہ کر لو کہ تم ہی ذلیل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی باعزت ہیں تو اس نے اقرار کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المنافقون؛سورہ منافقون سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١٧؛حدیث نمبر ٣٣١٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے (نہ کہ مسلمین) حضرت ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے ایمان والو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں، اور جس نے ایسا کیا وہی لوگ ہیں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے، اور جو روزی ہم نے تمہیں دی ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے اور وہ کہنے لگے کہ اے میرے رب! کیوں نہ تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دے لیتا، اور نیک لوگوں میں سے ہو جاتا اور جب کسی کا مقررہ وقت آ جاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو سب معلوم ہے“ (المنافقین: ۹-۱۱)، تک۔ اس نے پوچھا: کتنے مال میں زکاۃ واجب ہو جاتی ہے؟ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: جب مال دو سو درہم ہو جائے یا زیادہ، پھر پوچھا: حج کب واجب ہوتا ہے؟ کہا: جب توشہ اور سواری کا انتظام ہو جائے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المنافقون؛سورہ منافقون سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١٨؛حدیث نمبر ٣٣١٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویاں اور تمہارے بچے تمہارے دشمن ہیں،تم ان سے بچو۔“ (التغابن: ۱۴)، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ (کافی دنوں کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا کہ لوگوں نے دین کی فقہ، (دین کی سوجھ بوجھ) کافی حاصل کر لی ہے، تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کو (ان کے رکاوٹ ڈالنے کے باعث) سزا دیں، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التغابن ؛سورہ تغابن سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤١٩؛حدیث نمبر ٣٣١٧)
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں حضرت عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ” اگر تم اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرو تو یہ مناسب ہے تم دونوں کے ذہن(ایک ہی بات کی طرف)مائل ہو گئے تھے “ (التحریم: ۴)، (مگر مجھے موقع اس وقت ملا) جب حضرت عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، (اسی دوران) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما وإن تظاهرا عليه فإن الله هو مولاه» حضرت عمر رضی الله عنہ نے مجھ سے حیرت سے کہا: ہائے تعجب! اے ابن عباس (تمہیں اتنی سی بات معلوم نہیں) (زہری کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ناپسندیدگی کا اظہار اس لیے کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں ان سے پہلے دریافت کیوں نہیں کیا تھا کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بات چھپانی نہیں تھی ) انہوں نے مجھے بتایا: وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی الله عنہما ہیں، پھر وہ مجھے پوری بات بتانے لگے کہا: ہم قریش والے عورتوں پر حاوی رہتے اور انہیں دبا کر رکھتے تھے، مگر جب مدینہ آئے تو یہاں ایسے لوگ ملے جن پر ان کی بیویاں غالب اور حاوی ہوتی تھیں، تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ان کے رنگ ڈھنگ سیکھنے لگیں، ایک دن ایسا ہوا کہ میں اپنی بیوی پر غصہ ہو گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بھی مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے (سخت) ناگوار ہوا کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے، اس نے کہا: آپ کو یہ بات کیوں ناگوار لگ رہی ہے؟ قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور ان میں سے ایک ایسی ہے جو سارا ان سے بات نہیں کرتی ہیں، میں نے اپنے جی میں کہا: آپ کی بیویوں میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور گھاٹے میں رہی، میرا گھر مدینہ کے بنی امیہ نامی محلہ میں عوالی کے علاقہ میں تھا، اور میرا ایک انصاری پڑوسی تھا، ہم باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے، ایک دن وہ آتا اور جو کچھ ہوا ہوتا وہ واپس جا کر مجھے بتاتا، اور ایسے ہی ایک دن میں آپ کے پاس آتا اور وحی وغیرہ کی جو بھی خبر ہوتی میں جا کر اسے بتاتا، ہم (اس وقت) باتیں کیا کرتے تھے کہ اہل غسان ہم سے لڑائی کرنے کے لیے اپنے گھوڑوں کے پیروں میں نعلیں ٹھونک رہے ہیں، ایک دن عشاء کے وقت ہمارے پڑوسی انصاری نے آ کر، دروازہ کھٹکھٹایا، میں دروازہ کھول کر اس کے پاس گیا، اس نے کہا: ایک بڑی بات ہو گئی ہے، میں نے پوچھا: کیا اہل غسان ہم پر چڑھائی کر آئے ہیں؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، میں نے اپنے جی میں کہا: حفصہ ناکام رہی گھاٹے میں پڑی، میں سوچا کرتا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے، جب میں نے فجر پڑھی تو اپنے کپڑے پہنے اور چل پڑا، حفصہ کے پاس پہنچا تو وہ (بیٹھی) رو رہی تھی، میں نے پوچھا: کیا تم سب بیویوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ہے، البتہ آپ اس بالاخانے پر الگ تھلگ بیٹھے ہیں،حضرت عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں (اٹھ کر آپ سے ملنے) چلا، میں ایک کالے رنگ کے (دربان) لڑکے کے پاس آیا اور اس سے کہا: جاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر کے آنے کی اجازت مانگو، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: وہ لڑکا آپ کے پاس گیا پھر نکل کر میرے پاس آیا اور کہا: میں نے آپ کے آنے کی خبر کی مگر آپ نے کچھ نہ کہا، میں مسجد چلا گیا (دیکھا) منبر کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے رو رہے تھے، میں بھی انہیں لوگوں کے پاس بیٹھ گیا، (مجھے سکون نہ ملا) میری فکرو تشویش بڑھتی گئی، میں اٹھ کر دوبارہ لڑکے کے پاس چلا آیا، میں نے کہا: جاؤ آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، تو وہ اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، اس نے کہا: میں نے آپ کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں دوبارہ مسجد میں آ کر بیٹھ گیا، مگر مجھ پر پھر وہی فکر سوار ہو گئی، میں (سہ بارہ) لڑکے کے پاس آ گیا اور اس سے کہا: جاؤ اور آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، وہ لڑکا اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، کہا: میں نے آپ سے آپ کے آنے کا ذکر کیا مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا، (یہ سن کر) میں پلٹ پڑا، یکایک لڑکا مجھے پکارنے لگا، (آ جائیے آ جائیے) اندر تشریف لے جائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے، میں اندر چلا گیا، میں نے دیکھا آپ بوریئے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں اور اس کا اثر و نشان آپ کے پہلوؤں میں دیکھا، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: اللہ اکبر، آپ نے دیکھا ہو گا اللہ کے رسول! ہم قریشی لوگ اپنی بیویوں پر کنٹرول رکھتے تھے، لیکن جب ہم مدینہ آ گئے تو ہمارا سابقہ ایک ایسی قوم سے پڑ گیا ہے جن پر ان کی بیویاں حاوی اور غالب رہتی ہیں، ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے (ان کے طور طریقے) سیکھنے لگیں، ایک دن اپنی بیوی پر غصہ ہوا تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے یہ سخت برا لگا، کہنے لگی آپ کو کیوں اتنا برا لگ رہا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور ان میں سے ایک تو شام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لاتعلق رہتی ہے، میں نے حفصہ سے کہا: کیا تم پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں، ہم میں کوئی بھی آپ سے (خفا ہو کر) دن سے رات تک آپ سے علیحدہ رہتی ہے، میں نے کہا: تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ گھاٹے میں رہی اور ناکام ہوئی، کیا تم میں سے ہر کوئی اس بات سے مطمئن ہے کہ اللہ اپنے رسول کی ناراضگی کے سبب اس سے ناراض و ناخوش ہو جائے اور وہ ہلاک و برباد ہو جائے؟ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے حفصہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب نہ دو اور نہ آپ سے کسی چیز کا مطالبہ کرو، جس چیز کی تمہیں حاجت ہو وہ مجھ سے مانگ لیا کرو، اور تم بھروسے میں نہ رہو تمہاری سوکن تو تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی ہے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مسکرا دیئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں بیٹھا رہوں ؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، عمر کہتے ہیں: میں نے سر اٹھایا تو گھر میں تین کچی کھالوں کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہ دی، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمایئے کہ وہ آپ کی امت کو وہ کشادگی و فراوانی دے جو اس نے روم و فارس کو دی ہے، جب کہ وہ اس کی عبادت و بندگی بھی نہیں کرتے ہیں، (یہ سن کر) آپ جم کر بیٹھ گئے، فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! کیا تم ابھی تک اسلام کی حقانیت کے بارے میں شک و شبہہ میں پڑے ہوئے ہو؟ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ان کے حصہ کی اچھی چیزیں پہلے ہی دنیا میں دے دی گئی ہیں“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک مہینہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ پر عتاب کیا اور آپ کو کفارہ یمین (قسم کا کفارہ) ادا کرنے کا حکم دیا۔ زہری کہتے ہیں: عروہ نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے بتایا کہ جب مہینے کے ۲۹ دن گزر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کا ذکر کرنے والا ہوں، اپنے والدین سے مشورہ کئے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا“، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي قل لأزواجك» (آخر آیت تک) ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی خوش رنگینیاں چاہیئے، تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دوں، اور خوش اسلوبی سے تم کو رخصت کر دوں، اور اگر تمہیں اللہ اور اس کا رسول چاہیں اور آخرت کی بھلائی چاہیں تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے“ (الاحزاب: ۲۸، ۲۹)، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ جانتے تھے، قسم اللہ کی میرے والدین مجھے آپ سے علیحدگی اختیار کر لینے کا ہرگز حکم نہ دیں گے، میں نے کہا: کیا میں اس معاملے میں والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی اور پسند کرتی ہوں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التحریم ؛سورہ تحریم سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢٠؛حدیث نمبر ٣٣١٨)
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ آیا، عطاء بن ابی رباح سے میری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے کہا: ابو محمد! ہمارے یہاں کچھ لوگ تقدیر کا انکار کرتے ہیں، عطا نے کہا: میں ولید بن عبادہ بن صامت سے ملا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے: سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا (بنایا) پھر اس سے کہا: لکھ، تو وہ چل پڑا، اور ہمیشہ ہمیش تک جو کچھ ہونے والا تھا سب اس نے لکھ ڈالا۔ اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور اس باب میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ ن ؛سورہ ن سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢٤؛حدیث نمبر ٣٣١٩)
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں لوگوں میں تشریف فرما تھے، اچانک لوگوں کے اوپر سے ایک بادل گزری، لوگ اسے دیکھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو اس کا نام کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہم جانتے ہیں، یہ «سحاب» ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا یہ «مزن» ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں یہ «مزن» بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اسے «عنان» بھی کہتے ہیں“، لوگوں نے کہا: جی ہاں یہ «عنان» بھی ہے، پھر آپ نے لوگوں سے کہا: کیا تم جانتے ہو آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی ہم نہیں جانتے، آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں اکہتر (۷۱) بہتر (۷۲) یا تہتر (۷۳) سال کا فرق ہے اور جو آسمان اس کے اوپر ہے وہ بھی اتنا ہی دور ہے“، اور اسی فرق کے ساتھ آپ نے سات آسمان گن ڈالے، پھر آپ نے فرمایا: ”ساتویں آسمان پر ایک دریا ہے جس کی اوپری سطح اور نچلی سطح میں اتنی دوری ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی دوری ہے (یعنی وہ اتنا زیادہ گہرا ہے) اور ان کے اوپر آٹھ فرشتے ہیں جن کی کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی دوری اور لمبائی ہے جتنی دوری اور لمبائی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر ان کی پیٹھوں پر عرش ہے، عرش کی نچلی سطح اور اوپری سطح میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی سی دوری ہے (یعنی عرش اتنا موٹا ہے) اور اللہ اس سے بھی اوپر ہے۔ عبد بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے ہوئے سنا ہے، عبدالرحمٰن بن سعد حج کرنے کیوں نہیں جاتے کہ وہاں ان سے یہ حدیث ہم سنتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ولید بن ابوثور نے سماک سے اسی طرح یہ حدیث روایت کی ہے اور اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، ۳- شریک نے سماک سے اس حدیث کے بعض حصوں کی روایت کی ہے اور اسے موقوفا روایت کیا ہے، مرفوعاً نہیں کیا، ۴- عبدالرحمٰن، یہ ابن عبداللہ بن سعد رازی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحاقۃ ؛سورہ حاقہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢٤؛حدیث نمبر ٣٣٢٠)
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد رازی سے روایت ہے کہ ان کے والد عبداللہ نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو بخارا میں خچر پر سوار سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے دیکھا وہ کہتا تھا: یہ وہ عمامہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہنایا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الحاقۃ ؛سورہ حاقہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢٥؛حدیث نمبر ٣٣٢١)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يوم تكون السماء كالمهل» ”جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا“ (المعارج: ۸)، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ سَأَلَ سَائِلٌ؛سورۃ المعارج سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢٦؛حدیث نمبر ٣٣٢٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے (ہوا یہ ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے،شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے (دنیا میں) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ کھڑی ہوئی ہے، تم زمین کے مشرق و مغرب میں چاروں طرف پھیل جاؤ اور دیکھو کہ وہ کون سی چیز ہے جو ہمارے اور ہمارے آسمان سے خبریں حاصل کرنے کے درمیان حائل ہوئی (اور رکاوٹ بنی) ہے چنانچہ وہ زمین کے چاروں کونے مغربین و مشرقین میں تلاش کرنے نکل کھڑے ہوئے، شیاطین کا جو گروہ تہامہ کی طرف نکلا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا (اس وقت) آپ سوق عکاظ جاتے ہوئے مقام نخلہ میں تھے، اور اپنے صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے قرآن سنا تو پوری توجہ سے کان لگا کر سننے لگے، (سن چکے تو) انہوں نے کہا: یہ ہے قسم اللہ کی! وہ چیز جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے،حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: یہیں سے وہ لوگ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے،(وہاں جا کر) کہا: اے میری قوم!(اس کے بعد کے الفاظ قرآن کے ہیں)«إنا سمعنا قرآنا عجبا يهدي إلى الرشد فآمنا به ولن نشرك بربنا أحدا» ”ہم نے عجیب و غریب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے (اب) ہم کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے“ (الجن: ۱-۲)، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت «قل أوحي إلي أنه استمع نفر من الجن» نازل فرمائی، اور آپ پر جن کا قول وحی کیا گیا۔ ایک اور سند سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ بھی جنوں کا ہی قول ہے، انہوں نے اپنی قوم سے کہا:(جسے قرآن نے نقل کیا)«لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا» ”اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو تو وہ جنات اکھٹے ہو کر (اس کے ارد گرد جمع ہوگئے)“ (الجن: ۱۹)۔ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: جب انہوں نے آپ کو نماز پڑھتے دیکھا اور دیکھا کہ آپ کے صحابہ آپ کی اقتداء کرتے ہوئے آپ کی طرح نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کے سجدہ کی طرح سجدہ کر رہے ہیں تو وہ آپ کے اصحاب کی آپ کی اطاعت دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے، انہوں نے اپنی قوم سے کہا: «لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الجن؛سورۃ جن سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢٦؛حدیث نمبر ٣٣٢٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جن آسمان کی طرف چڑھ کر وحی سننے جایا کرتے تھے، اور جب وہ ایک بات سن لیتے تو اس میں اور بڑھا لیتے، تو جو بات وہ سنتے وہ تو حق ہوتی لیکن جو بات وہ اس کے ساتھ بڑھا دیتے وہ باطل ہوتی، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعثت ہوئی تو انہیں (جنوں کو) ان کی نشست گاہوں سے روک دیا گیا تو انہوں نے اس بات کا ذکر ابلیس سے کیا: اس سے پہلے انہیں تارے پھینک پھینک کر نہ مارا جاتا تھا، ابلیس نے کہا: زمین میں کوئی نئی صورت حال رونما ہوئی ہے نیا جبھی ایسا ہوا ہے، اس نے پتا لگانے کے لیے اپنے لشکر کو بھیجا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو پہاڑوں کے درمیان کھڑے نماز پڑھتے ہوئے ملے۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ واقعہ مکہ میں پیش آیا، وہ لوگ آپ سے ملے اور جا کر اسے بتایا، پھر اس نے کہا یہی وہ صورت حال ہے جو زمین پر ظہور پذیر ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الجن؛سورۃ جن سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢٧؛حدیث نمبر ٣٣٢٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی موقوف ہو جانے کے واقعہ کا ذکر کر رہے تھے، آپ نے دوران گفتگو بتایا: ”میں چلا جا رہا تھا کہ یکایک میں نے آسمان سے آتی ہوئی ایک آواز سنی، میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ فرشتہ جو (غار) حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، رعب کی وجہ سے مجھ پر دہشت طاری ہو گئی، میں لوٹ پڑا (گھر آ کر) کہا: مجھے اوڑھنے کے لیے کچھ دو، تو انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا، اسی موقع پر آیت «يا أيها المدثر قم فأنذر» سے «والرجز فاهجر» ”اے چادر اوڑھنے والے اٹھو اور اپنی(قوم کو ڈراؤ) یہ آیات یہاں تک ہے"اور گندگی سے دور رہو“ (المدثر: ۱-۵)، تک نازل ہوئی، یہ واقعہ نماز فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث یحییٰ بن کثیر نے بھی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطہ سے جابر سے بھی روایت کی ہے، ۳- اور ابوسلمہ کا نام عبداللہ ہے۔ (یہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے بیٹے تھے اور ان کا شمار فقہائے مدینہ میں ہوتا تھا)۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المدثر؛سورۃ مدثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٢٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے، اس پر کافر ستر سال تک چڑھتا رہے گا پھر وہاں سے لڑھک جائے گا، یہی عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے مرفوع صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس حدیث کا کچھ حصہ عطیہ سے مروی ہے جسے وہ ابوسعید سے موقوفاً روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المدثر؛سورۃ مدثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢٩؛حدیث نمبر ٣٣٢٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کچھ یہودیوں نے بعض صحابہ سے پوچھا: کیا تمہارا نبی جانتا ہے کہ جہنم کے نگراں کتنے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم نہیں جانتے مگر پوچھ کر جان لیں گے، اسی دوران ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہا: اے محمد! آج تو تمہارے ساتھی ہار گئے، آپ نے پوچھا: ”کیسے ہار گئے؟“ اس نے کہا: یہود نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہارا نبی جانتا ہے کہ جہنم کے نگراں کتنے ہیں؟ آپ نے پوچھا: ”انہوں نے کیا جواب دیا؟“ اس نے کہا: انہوں نے کہا: ہمیں نہیں معلوم، ہم اپنے نبی سے پوچھ کر بتا سکتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا وہ قوم ہاری ہوئی مانی جاتی ہے جس سے ایسی چیز پوچھی گئی ہو جسے وہ نہ جانتی ہو اور انہوں نے کہا ہو کہ ہم نہیں جانتے جب تک کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ نہ لیں؟ (اس میں ہارنے کی کوئی بات نہیں ہے) البتہ ان لوگوں نے تو اس سے بڑھ کر بےادبی و گستاخی کی بات کی، جنہوں نے اپنے نبی سے یہ سوال کیا کہ ہمیں اللہ کو ظاہری طور پر دکھا دو“، آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ان دشمنوں کو ہمارے سامنے لاؤ میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھتا ہوں، وہ نرم مٹی ہے“، جب وہ سب یہودی آ گئے تو انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! جہنم کے نگراں لوگوں کی کتنی تعداد ہے؟ آپ نے اس طرح ہاتھ سے اشارہ فرمایا: ”ایک مرتبہ دس (انگلیاں دکھائیں) اور ایک مرتبہ نو (کل ۱۹)“ انہوں نے کہا: ہاں، (آپ نے درست فرمایا) اب آپ نے پلٹ کر ان سے پوچھا: ”جنت کی مٹی کس چیز کی ہے؟“ راوی کہتے ہیں: وہ لوگ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر کہنے لگے: ابوالقاسم! کیا وہ روٹی کی ہے؟، آپ نے فرمایا: ”روٹی میدے سے بنتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے مجالد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المدثر؛سورۃ مدثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٢٩؛حدیث نمبر ٣٣٢٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» ”وہی (اللہ) ہے جس سے ڈرنا چاہیئے، اور وہی مغفرت کرنے والا ہے“ (المدثر: ۵۶)، کے بارے میں فرمایا: اللہ عزوجل کہتا ہے کہ میں اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، تو جو مجھ سے ڈرا اور میرے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرایا تو میں اس بات کا اہل ہوں کہ اس شخص کی مغفرت کردوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- سہل حدیث میں قوی نہیں مانے جاتے ہیں اور وہ یہ حدیث ثابت سے روایت کرنے میں تنہا (بھی) ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المدثر؛سورۃ مدثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٢٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب آپ پر قرآن نازل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زبان کو حرکت دے کر اس کو پڑھتے تھے، اور اسے یاد کرتے تھے، اس پر اللہ نے آیت «لا تحرك به لسانك لتعجل به» ”اے نبی!) آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں“ (القیامۃ: ۱۶)، نازل ہوئی۔ (راوی) اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، (ان کے شاگرد) سفیان نے بھی اپنے ہونٹ ہلا کر دکھائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ سفیان ثوری موسیٰ بن ابی عائشہ کو اچھا سمجھتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ القیامۃ؛سورۃ قیامہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٢٩)
ثویر سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتیوں میں کمتر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو جنت میں اپنے باغوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنے خدمت گزاروں کو، اور اپنے (سجے سجائے) تختوں کو ایک ہزار سال کی مسافت کی دوری سے دیکھے گا، اور ان میں اللہ عزوجل کے یہاں بڑے عزت و کرامت والا شخص وہ ہو گا جو صبح و شام اللہ کا دیدار کرے گا، پھر آپ نے آیت «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» ”اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے“ (القیامۃ: ۲۳)، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور کئی راویوں نے یہ حدیث اسی طرح اسرائیل سے مرفوعاً (ہی) روایت کی ہے، ۲- عبدالملک بن ابجر نے ثویر سے، ثویر نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، اور اسے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کے قول سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ القیامۃ؛سورۃ قیامہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣١؛حدیث نمبر ٣٣٣٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ «عبس وتولى» والی سورۃ (عبداللہ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا صحابی کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آ کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! مجھے وعظ و نصیحت فرمائیے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین کے اکابرین میں سے کوئی بڑا شخص موجود تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اعراض کرنے لگے اور دوسرے (مشرک) کی طرف توجہ فرماتے رہے اور اس سے کہتے رہے میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں اس میں تم کچھ حرج اور نقصان پا رہے ہو؟ وہ کہتا نہیں، اسی سلسلے میں یہ آیتیں نازل کی گئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ عروہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں «عبس وتولى» ابن ام مکتوم کے حق میں اتری ہے اور اس کی سند میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ عبس؛سورۃ عبس سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٣١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ (قیامت کے دن) جمع کیے جاؤ گے ننگے پیر، ننگے جسم، بیختنہ کے، ایک عورت (ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا) نے کہا: کیا ہم میں سے بعض بعض کی شرمگاہ دیکھے گا؟ آپ نے فرمایا: «لكل امرئ منهم يومئذ شأن يغنيه» ”اے فلاں عورت ! اس دن ہر ایک کی ایک کی ایسی حالت ہو گی جو اسے دوسرے کی فکر سے غافل و بے نیاز کر دے گی“ (سورۃ عبس: ۴۲)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ مختلف سندوں سے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے اور اسے سعید بن جبیر نے بھی روایت کیا ہے، ۲- اس باب میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ عبس؛سورۃ عبس سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٣٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ قیامت کے بارے میں یوں جان لے جیسے آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو اسے سورہ تکویر، سورہ انفطار اور سورہ انشقاق کی تلاوت کرنی چاہیے " امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہشام بن یوسف وغیرہ نے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی ہے (اس میں ہے) آپ نے فرمایا: ”جسے خوشی ہو کہ وہ قیامت کا دن دیکھے، آنکھ سے دیکھنے کی طرح اسے چاہیئے کہ سورۃ «إذا الشمس كورت» پڑھے، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ؛سورۃ «إذا الشمس کورت» سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے (سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”ہر گز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے“ (المطففین: ۱۴)، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ؛سورۃ المطففین سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٣٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے، وہ آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ (المطففین: ۶)، کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ لوگ آدھے کانوں تک پسینے میں شرابور ہوں گے۔ حماد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک مرفوع ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ؛سورۃ المطففین سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٣٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ اس دن ہر ایک آدھے کانوں تک پسینے میں کھڑا ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ؛سورۃ المطففین سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٣٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص سے حساب کے دوران پوچھ گچھ کی جائے گی وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تو فرماتا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه» سے «يسيرا» ”جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملی اس کا حساب آسانی سے ہو گا“ (الانشقاق: ۷-۸)، تک آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد پیش ہونا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا سوید بن نصر نے وہ کہتے ہیں: ہمیں خبر دی عبداللہ بن مبارک نے، اور وہ روایت کرتے ہیں عثمان بن اسود سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح، ۳- ہم سے بیان کیا محمد بن ابان اور کچھ دیگر لوگوں نے انہوں نے کہا کہ ہم سے بیان کیا عبدالوہاب ثقفی نے اور انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابن ابوملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے عائشہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ؛سورۃ «إذا السماء انشقت» سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٣٧)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا حساب سختی سے ہوا (یوں سمجھو کہ) وہ عذاب میں پڑا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے قتادہ کی روایت سے جسے وہ انس سے، اور حضرت انس رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ؛سورۃ «إذا السماء انشقت» سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد») سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سورج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی (ایک ایسا وقت) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قُرَّان نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی کی کنیت ابوعبدالعزیز ہے، ان کے بارے میں ان کے حافظہ کے سلسلے میں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے کلام کیا ہے، شعبہ، ثوری اور کئی اور ائمہ نے ان سے روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۴- ہم اسے صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ موسیٰ بن عبیدہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف ٹھہرایا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبُرُوجِ؛سورۃ البروج سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٦؛حدیث نمبر ٣٣٣٩)
حضرت صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے اس کے بعد آہستہ آواز میں کچھ پڑھا کرتے تھے،(راوی بیان کرتے ہیں کہ)یہاں حدیث میں استعمال ہونے والے الفاظ «همس»سے مراد ہونٹوں کو حرکت دینا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی،، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں (کیا پڑھتے ہیں؟) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» (سزا و بدلہ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ نے ان پر موت مسلط کر دی، چنانچہ ایک دن میں ستر ہزار لوگ مر گئے۔ صہیب (راوی) کہتے ہیں کہ جب آپ نے یہ حدیث بیان کی تو اس کے ساتھ آپ نے ایک اور حدیث بھی بیان فرمائی، آپ نے فرمایا: ”ایک بادشاہ تھا اس بادشاہ کا ایک کاہن تھا، وہ اپنے بادشاہ کو خبریں بتاتا تھا، اس کاہن نے بادشاہ سے کہا: میرے لیے ایک ہوشیار لڑکا ڈھونڈھ دو، راوی کو یہاں شبہہ ہو گیا کہ «غلاما فهما» کہا یا «فطنا لقنا» کہا (معنی تقریباً دونوں الفاظ کا ایک ہی ہے) میں اسے اپنا یہ علم سکھا دوں، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں مر گیا تو تمہارے پاس سے یہ علم ختم ہو جائے گا اور تم میں کوئی نہ رہ جائے گا جو اس علم سے واقف ہو، آپ فرماتے ہیں: اس نے جن صفات و خصوصیات کا حامل لڑکا بتایا تھا لوگوں نے اس کے لیے ویسا ہی لڑکا ڈھونڈ دیا، لوگوں نے اس لڑکے سے کہا کہ وہ اس کاہن کے پاس حاضر ہوا کر اور اس کے پاس باربار آتا جاتا ہے وہ لڑکا اس کاہن کے پاس آنے جانے لگا، اس لڑکے کے راستے میں ایک عبادت خانہ کے اندر ایک راہب رہا کرتا تھا (اس حدیث کے ایک راوی) معمر کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں عبادت خانہ کے لوگ اس وقت کے مسلمان تھے، وہ لڑکا جب بھی اس راہب کے پاس سے گزرتا دین کی کچھ نہ کچھ باتیں اس سے پوچھا کرتا، یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ اس لڑکے نے راہب کو اپنے متعلق خبر دی، کہا: میں اللہ کی عبادت کرنے لگا ہوں وہ لڑکا راہب کے پاس زیادہ سے زیادہ دیر تک بیٹھنے اور رکنے لگا اور کاہن کے پاس آنا جانا کم کر دیا، کاہن نے لڑکے والوں کے یہاں کہلا بھیجا کہ لگتا ہے لڑکا اب میرے پاس نہ آیا جایا کرے گا، لڑکے نے راہب کو بھی یہ بات بتا دی، راہب نے لڑکے سے کہا کہ جب کاہن تم سے پوچھے کہاں تھے؟ تو کہہ دیا کرو گھر والوں کے پاس تھا، اور جب تیرے گھر والے کہیں کہ تو کہاں تھا؟ تو ان کو بتایا کہ تم کاہن کے پاس تھے، راوی کہتے ہیں: غلام کے دن ایسے ہی کٹ رہے تھے کہ ایک دن لڑکے کا گزر لوگوں کی ایک ایسی بڑی جماعت پر ہوا جنہیں ایک جانور نے روک رکھا تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ وہ چوپایہ شیر تھا، لڑکے نے یہ کیا کہ ایک پتھر اٹھایا اور کہا: اے اللہ! راہب جو کہتا ہے اگر وہ سچ ہے تو میں تجھ سے اسے قتل کر دینے کی توفیق چاہتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے اسے پتھر مارا اور جانور کو ہلاک کر دیا، لوگوں نے پوچھا: اسے کس نے مارا؟ جنہوں نے دیکھا تھا، انہوں نے کہا: فلاں لڑکے نے، یہ سن کر لوگ تعجب میں پڑ گئے، لوگوں نے کہا: اس لڑکے نے ایسا علم سیکھا ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جانتا، یہ بات ایک اندھے نے سنی تو اس نے لڑکے سے کہا: اگر تو میری بینائی واپس لا دے تو میں تجھے یہ دوں گا، لڑکے نے کہا: میں تجھ سے یہ سب چیزیں نہیں مانگتا تو یہ بتا اگر تیری بینائی تجھے واپس مل گئی تو کیا تو اپنی بینائی عطا کرنے والے پر ایمان لے آئے گا؟ اس نے کہا: ہاں۔ (بالکل ایمان لے آؤں گا)۔ راوی کہتے ہیں: لڑکے نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی، یہ دیکھ کر اندھا ایمان لے آیا، ان کا معاملہ بادشاہ تک پہنچ گیا، اس نے انہیں بلا بھیجا تو انہیں لا کر حاضر کیا گیا، اس نے ان سے کہا: میں تم سب کو الگ الگ طریقوں سے قتل کر ڈالوں گا، پھر اس نے راہب کو اور اس شخص کو جو پہلے اندھا تھا قتل کر ڈالنے کا حکم دیا، ان میں سے ایک کے سر کے بیچوں بیچ (مانگ) پر آرا رکھ کر چیر دیا گیا اور دوسرے کو دوسرے طریقے سے قتل کر دیا گیا، پھر لڑکے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے ایسے پہاڑ پر لے جاؤ جو ایسا ایسا ہو اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر سے نیچے پھینک دو چنانچہ لوگ اسے اس خاص پہاڑ پر لے گئے اور جب اس آخری جگہ پر پہنچ گئے جہاں سے وہ لوگ اسے پھینک دینا چاہتے تھے، تو وہ خود ہی اس پہاڑ سے لڑھک لڑھک کر گرنے لگے، یہاں تک کہ صرف لڑکا باقی بچا، پھر جب وہ واپس آیا تو بادشاہ نے اس کے متعلق پھر حکم دیا کہ اسے سمندر میں لے جاؤ، اور اسے اس میں ڈبو کر آ جاؤ، اسے سمندر پر لے جایا گیا تو اللہ نے ان سب کو جو اس لڑکے کے ساتھ گئے ہوئے تھے ڈبو دیا، اور خود لڑکے کو بچا لیا، (لڑکا بچ کر پھر بادشاہ کے پاس آیا) اور اس سے کہا: تم مجھے اس طرح سے مار نہ سکو گے إلا یہ کہ تم مجھے سولی پر لٹکا دو اور مجھے تیر مارو، اور تیر مارتے وقت کہو اس اللہ کے نام سے میں تیر چلا رہا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے، بادشاہ نے اس لڑکے کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم دیا، لڑکا سولی پر لٹکا دیا گیا پھر بادشاہ نے اس پر تیر مارا، اور تیر مارتے ہوئے کہا: «بسم الله رب هذا الغلام» بادشاہ نے تیر چلایا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھ لیا پھر مر گیا (شہید) ہو گیا، لوگ بول اٹھے اس لڑکے کو ایسا علم حاصل تھا جو کسی اور کو معلوم نہیں، ہم تو اس لڑکے کے رب پر ایمان لاتے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”بادشاہ سے کہا گیا کہ آپ تو تین ہی آدمیوں سے گھبرا گئے جنہوں نے آپ کی مخالفت کی، اب تو یہ سارے کے سارے لوگ ہی آپ کے خلاف ہو گئے ہیں (اب کیا کریں گے؟)“ آپ نے فرمایا: ”اس نے کئی ایک کھائیاں (گڈھے) کھودوائے اور اس میں لکڑیاں ڈلوا دیں اور آگ بھڑکا دی، لوگوں کو اکٹھا کر کے کہا: جو اپنے (نئے) دین سے پھر جائے گا اسے ہم چھوڑ دیں گے اور جو اپنے دین سے نہ پلٹے گا ہم اسے اس آگ میں جھونک دیں گے، پھر وہ انہیں ان گڈھوں میں ڈالنے لگا“، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کے متعلق فرماتا ہے (پھر آپ نے آیت «قتل أصحاب الأخدود النار ذات الوقود» سے لے کر «العزيز الحميد»( خندق والے لوگ ہلاک ہو گئے جس میں ایندھن والی اگ تھی" یہ آیت یہاں تک ہے" جو غالب اور حمد والا ہے) تک پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: لڑکا (سولی پر لٹکا کر قتل کر دئیے جانے کے بعد) دفن کر دیا گیا تھا، کہا جاتا ہے کہ وہ لڑکا عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے زمانہ میں زمین سے نکالا گیا، اس کی انگلیاں اس کی کنپٹی پر اسی طرح رکھی ہوئی تھیں جس طرح اس نے اپنے قتل ہوتے وقت رکھا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْبُرُوجِ؛سورۃ البروج سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٧؛حدیث نمبر ٣٣٤٠)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں (جنگ جاری رکھو) جب تک کہ لوگ «لا إلہ إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں، جب لوگ اس کلمے کو کہنے لگ جائیں تو وہ اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، سوائے اس صورت کے جب کہ جان و مال دینا حق بن جائے تو پھر دینا ہی پڑے گا، اور ان کا (حقیقی) حساب تو اللہ ہی لے گا، پھر آپ نے آیت «إنما أنت مذكر لست عليهم بمصيطر» ”بیشک آپ نصیحت کرنے والے ہیں تم ان پر زبردستی کرنے والے کے طور پر مسلط نہیں ہوں “ (الغاشیہ: ۲۲)، پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْغَاشِيَةِ؛سورۃ الغاشیہ سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٤١)
حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ «شفع» (جفت) اور «الوتر» (طاق) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» (جفت) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» (طاق) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الفجر؛سورہ فجر سے بعض آیت کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٠؛حدیث نمبر ٣٣٤٢)
حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اس اونٹنی کا (مراد حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی پاؤں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها»جب انہوں نے اپنے سب سے بدبخت شخص کو بھیجا۔"تلاوت کی،، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں (یعنی رات میں) اس کے پہلو میں سوئے بھی“، انہوں نے کہا: پھر آپ نے کسی کے ہوا خارج ہو جانے پر ان کے ہنسنے پر انہیں نصیحت کی، آپ نے فرمایا: ”آخر تم میں کا کوئی کیوں ہنستا (و مذاق اڑاتا) ہے جب کہ وہ خود بھی وہی کام کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا؛سورۃ «والشمس وضحاھا» سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٠؛حدیث نمبر ٣٣٤٣)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم جنت البقیع میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے، آپ بیٹھ گئے، ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کریدنے لگے، پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: ”ہر شخص کا(آخرت میں)ٹھکانہ (جنت یا جہنم) پہلے سے لکھ دیا گیا ہے“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہ ہم اپنے نوشتہ (تقدیر) پر اعتماد و بھروسہ کر کے بیٹھ رہیں؟ جو نیک بختوں میں سے ہو گا وہ نیک بختی ہی کے کام کرے گا، اور جو بدبختوں میں سے ہو گا وہ بدبختی ہی کے کام کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ عمل کرو، کیونکہ ہر ایک کو توفیق ملے گی، جو نیک بختوں میں سے ہو گا، اس کے لیے نیک بختی کے کام آسان ہوں گے اور جو بدبختوں میں سے ہو گا اس کے لیے بدبختی کے کام آسان ہوں گے“، پھر آپ نے (سورۃ واللیل کی) آیت «فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى فسنيسره لليسرى وأما من بخل واستغنى وكذب بالحسنى فسنيسره للعسرى» ”جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور ڈرا (اپنے رب سے) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی اور بےپرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی تو ہم بھی اس کی تنگی اور مشکل کے سامان میسر کر دیں گے“ (اللیل: ۵-۱۰)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى؛سورۃ «واللیل إذا یغشی» سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤١؛حدیث نمبر ٣٣٤٤)
حضرت جندب بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھا، آپ کی انگلی سے (کسی سبب سے) خون نکل آیا، اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو صرف ایک انگلی ہے جس سے خون نکل آیا ہے اور یہ سب کچھ جو تجھے پیش آیا ہے اللہ کی راہ میں پیش آیا ہے“، راوی کہتے ہیں: آپ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام کچھ عرصے کے لیے حاضر نہیں ہوئے تو مشرکین نے یہ کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا گیا ہے، تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ والضحیٰ کی) آیت «ما ودعك ربك وما قلى» ”نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے“ (الضحیٰ: ۳)، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ اور ثوری نے بھی اسود بن قیس سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ وَالضُّحَى؛سورۃ والضحی سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٢؛حدیث نمبر ٣٣٤٥)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص حضرت مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک تھا ، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے حضرت انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا اس حدیث میں ایک لمبا قصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اسے ہشام دستوائی اور ہمام نے قتادہ سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابوذر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ أَلَمْ نَشْرَحْ؛سورۃ الم نشرح سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٢؛حدیث نمبر ٣٣٤٦)
اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک بدوی اعرابی کو کہتے ہوئے سنا، میں نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کو اسے روایت کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے تھے جو شخص (سورۃ) «والتين والزيتون» پڑھے اور پڑھتے ہوئے «أليس الله بأحكم الحاكمين» تک پہنچے تو کہے: «بلى وأنا على ذلك من الشاهدين» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی اعرابی سے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے مروی ہے اور اس اعرابی کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التین؛سورۃ تین سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٤٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «سندع الزبانية» ”ہم بھی اپنے مددگاروں(یعنی فرشتوں)کو بلا لیں گے“ (العلق: ۱۸)، کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: ابوجہل نے کہا: اگر میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نماز پڑھتے دیکھ لیا تو اس کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا، یہ بات آپ نے سنی تو فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے دیکھتے ہی دبوچ لیتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ؛سورۃ «اقرأ باسم ربک» سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٤٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا، اس نے کہا: میں نے تمہیں اس (نماز) سے منع نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تجھے اس (نماز) سے منع نہیں کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا اور اسے ڈانٹا، ابوجہل نے کہا: تجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ کسی کے ہم نشیں نہیں ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «فليدع ناديه سندع الزبانية» ”اپنے ہم نشینوں کو بلا کر دیکھ لے، ہم جہنم کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں“ (العلق: ۱۷-۱۸)،حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو عذاب پر متعین اللہ کے فرشتے اسے دھر دبوچتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ؛سورۃ «اقرأ باسم ربک» سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٤؛حدیث نمبر ٣٣٤٩)
یوسف بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس ان کے حضرت معاویہ رضی الله عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لینے کے بعد گیا اور کہا: آپ نے تو مسلمانوں کے چہرے سیاہ کر دئے، (راوی کو شک ہے «سودت» کہا یا «يا مسود وجوه المؤمنين» (اہل ایمان کے چہرے کو سیاہ کرنے والے شخص) کہا، انہوں نے کہا تو مجھ پر الزام نہ رکھ، اللہ تم پر رحم فرمائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں بنی امیہ کے لوگ منبر پر دکھائے گئے تو آپ کو یہ چیز بری لگی، اس پر آیت «إنا أعطيناك الكوثر» ”اے محمد! ہم نے آپ کو کوثر عطاء کیا “، نازل ہوئی۔ کوثر جنت کی ایک نہر ہے اور سورۃ القدر کی آیات «إنا أنزلناه في ليلة القدر وما أدراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من ألف شهر» ”ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے“، نازل ہوئیں، اے محمد تیرے بعد بنو امیہ اس کے مالک ہوں گے قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں: ہم نے بنی امیہ کے ایام حکومت کو گنا تو وہ ہزار مہینے ہی نکلے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس سند سے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- یہ بھی کہا گیا ہے کہ قاسم بن فضل سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے یوسف بن مازن سے روایت کی ہے، قاسم بن فضل حدانی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ثقہ کہا ہے، اور یوسف بن سعد ایک مجہول شخص ہیں اور ہم اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ لیلۃ القدر؛سورۃ قدر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٤؛حدیث نمبر ٣٣٥٠)
زر بن حبیش (جن کی کنیت ابومریم ہے) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ سے کہا آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: جو سال بھر (رات کو) کھڑے ہو کر نمازیں پڑھتا رہے وہ لیلۃ القدر پا لے گا، حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت فرمائے (ابوعبدالرحمٰن، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی کنیت ہے) انہیں معلوم ہے کہ شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان کی ستائیسویں (۲۷) رات ہے، لیکن وہ چاہتے تھے کی لوگ اسی ایک ستائیسویں (۲۷) رات پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ رہیں کہ دوسری راتوں میں عبادت کرنے اور جاگنے سے باز آ جائیں، بغیر کسی استثناء کے حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ نے قسم کھا کر کہا: (شب قدر) یہ (۲۷) رات ہی ہے، زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: ابوالمنذر! آپ ایسا کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس آیت اور نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے (یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ انہوں نے «بالآية» کا لفظ استعمال کیا یا «بالعلامة» کا آپ نے علامت یہ بتائی (کہ ستائیسویں شب کی صبح) سورج طلوع تو ہو گا لیکن اس میں شعاع نہ ہو گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ لیلۃ القدر؛سورۃ قدر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٥؛حدیث نمبر ٣٣٥١)
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : «يا خير البرية» ! اے تمام مخلوق میں بہتر! آپ نے فرمایا: ”یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ لَمْ يَكُنْ؛سورۃ «لم یکن» سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٦؛حدیث نمبر ٣٣٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ الزلزال کی) آیت «يومئذ تحدث أخبارها» ”اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی“ (الزلزال: ۴)، پڑھی، پھر آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ اس کی پیٹھ پر یعنی زمین پر ہر بندے نے خواہ مرد ہو یا عورت جو کچھ کیا ہو گا اس کی وہ گواہی دے گی، وہ کہے گی: اس بندے نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا، یہی اس کی خبریں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ؛سورۃ «إذا زلزلت» سے بعض آیات کی تفسیر ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٦؛حدیث نمبر ٣٣٥٣)
حضرت شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ آیت «ألهاكم التكاثر» ”زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا“ (التکاثر: ۱)، تلاوت فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”ابن آدم میرا مال، میرا مال کہے جاتا ہے (اسی ہوس و فکر میں مرا جاتا ہے) تمہارا مال تو وہ ہے جسے تم صدقہ کر کے اگے بھیج دو یا کھا کر ختم کر دو یا پہن کر پرانا کردو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التَّكَاثُرِ؛سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٧؛حدیث نمبر ٣٣٥٤)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عذاب قبر کے بارے میں برابر شک میں رہے، یہاں تک کہ سورۃ «ألهاكم التكاثر» نازل ہوئی، تو ہمیں اس پر یقین حاصل ہوا۔ ابوکریب کبھی عمرو بن ابی قیس کہتے ہیں، تو یہ عمروبن قیس رازی ہیں - اور عمرو بن قیس ملائی کوفی ہیں اور یہ ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں: اور وہ (ابن ابی لیلیٰ) روایت کرتے ہیں منہال بن عمرو سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التَّكَاثُرِ؛سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٧؛حدیث نمبر ٣٣٥٥)
حضرت زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» ”اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا“ (التکاثر: ۸)، نازل ہوئی تو حضرت زبیر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ ہمیں تو صرف دو ہی (کالی) نعمتیں حاصل ہیں، ایک کھجور اور دوسرے پانی آپ نے فرمایا: ”عنقریب نعمتیں آجائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التَّكَاثُرِ؛سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٨؛حدیث نمبر ٣٣٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ وہ تو صرف یہی دو سیاہ چیزیں ہیں (ایک کھجور دوسرا پانی) (ہمارا) دشمن (سامنے) حاضر و موجود ہے اور ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”(تمہیں ابھی معلوم نہیں) عنقریب ایسا ہو گا (کہ تمہارے پاس نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث سے زیادہ صحیح میرے نزدیک ابن عیینہ کی وہ حدیث ہے جسے وہ محمد بن عمر سے روایت کرتے ہیں، (یعنی پچھلی روایت) سفیان بن عیینہ ابوبکر بن عیاش کے مقابلے میں حدیث کو زیادہ یاد رکھنے اور زیادہ صحت کے ساتھ بیان کرنے والے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التَّكَاثُرِ؛سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٨؛حدیث نمبر ٣٣٥٧)
ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزم اشعری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، (وہ یہ ہیں) اس سے کہا جائے گا: کیا میں نے تمہارے لیے تمہارے جسم کو تندرست اور ٹھیک ٹھاک نہ رکھا اور تمہیں ٹھنڈا پانی نہ پلاتا رہا؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ضحاک، یہ بیٹے ہیں عبدالرحمٰن بن عرزب کے، اور انہیں ابن عرزم بھی کہا جاتا ہے اور ابن عرزم کہنا زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ التَّكَاثُرِ؛سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٨؛حدیث نمبر ٣٣٥٨)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ «إنا أعطيناك الكوثر» کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک نہر ہے جنت میں جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے ہیں، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَوْثَرِ؛سورۃ الکوثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٩؛حدیث نمبر ٣٣٥٩)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک نہر پیش کی گئی جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے تھے، میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ مٹی تک ڈال دیا، نکالا تو وہ مشک کی طرح مہک رہی تھی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ لا کر پیش کی گئی، میں نے وہاں بہت زیادہ نور (نور عظیم) دیکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے بھی انس رضی الله عنہ سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَوْثَرِ؛سورۃ الکوثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٩؛حدیث نمبر ٣٣٦٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الكوثر» جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کے پانی کا گزر موتیوں اور یاقوت پر ہوتا ہے، اس کی مٹی مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے اور اس کا پانی شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے اور برف سے بھی زیادہ سفید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَوْثَرِ؛سورۃ الکوثر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٤٩؛حدیث نمبر ٣٣٦١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں حضرت عمر رضی الله عنہ مجھ سے بھی (مسئلہ) پوچھتے تھے (ایک بار) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں (کیا بات ہے؟) حضرت عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، (ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کی خبر دینا ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، حضرت عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا اور جانا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا محمد بن جعفر نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا شعبہ نے اور انہوں نے روایت کی اسے اسی سند کے ساتھ اسی طرح ابوبشر سے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: «أتسأله ولنا أبناء مثله» (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ النَّصْرِ؛سورۃ النصر سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٠؛حدیث نمبر ٣٣٦٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا (پہاڑ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه»(خطرہ ہے)آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا (بنا کر بھیجا گیا) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ (پہاڑ کے پیچھے سے) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہاتھ ٹوٹ جائے، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ (تبت: ۱)، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ تبت؛سورۃ تبت سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥١؛حدیث نمبر ٣٣٦٣)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے «قل هو الله أحد الله الصمد» ”کہہ دیجئیے اللہ اکیلا ہے، اللہ بے نیاز ہے“ (الاخلاص: ۱-۲)، نازل فرمائی، اور «صمد» وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو، اس لیے (اصول یہ ہے کہ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا، «ولم يكن له كفوا أحد» ”اور نہ اس کا کوئی «کفو» (ہمسر) ہے“، راوی کہتے ہیں: «کفو» یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الإِخْلاَصِ؛سورہ اخلاص سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥١؛حدیث نمبر ٣٣٦٤)
ابوالعالیہ (رفیع بن مہران) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے (یعنی مشرکین کے) معبودوں کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ ہم سے اپنے رب کا نسب بیان کیجئے، آپ نے بتایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس یہ سورۃ «قل هو الله أحد» لے کر آئے، پھر انہوں نے اسی طرح حدیث بیان کی، اور اس کی سند میں حضرت ابی بن کعب سے روایت کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ ابوسعد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ابوسعد کا نام محمد بن میسر ہے، اور ابو جعفر رازی کا نام عیسیٰ ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے یہ ایک غلام تھے جنہیں ایک قیدی عورت نے آزاد کیا تھا۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الإِخْلاَصِ؛سورہ اخلاص سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥١؛حدیث نمبر ٣٣٦٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”عائشہ! اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہ «غاسق» ہے جب یہ ڈوب جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المعوذتین؛سورہ معوذتین سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٢؛حدیث نمبر ٣٣٦٦)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھ پر ایسی آیتیں نازل کی ہیں کہ جن کی مثال کبھی نظر نہ آئی(وہ یہ ہیں) «قل أعوذ برب الناس» آخر سورۃ تک اور «قل أعوذ برب الفلق» آخر سورۃ تک۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ المعوذتین؛سورہ معوذتین سے بعض آیات کی تفسیر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٣؛حدیث نمبر ٣٣٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی ، تو ان کو چھینک آئی، انہوں نے «الحمد لله» کہنا چاہا چنانچہ اللہ کی اجازت سے «الحمد لله» کہا، (تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں) پھر ان سے ان کے رب نے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے، اے آدم! ان فرشتوں کی بیٹھی ہوئی جماعت و گروہ کے پاس جاؤ اور ان سے السلام علیکم کہو، انہوں نے جا کر السلام علیکم کیا، فرشتوں نے جواب دیا، وعلیک السلام ورحمۃ اللہ، پھر وہ اپنے رب کے پاس لوٹ آئے، اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں طریقہ سلام و دعا ہے، پھر اللہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر کے آدم سے کہا: ان میں سے جسے چاہو پسند کر لو، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے دایاں ہاتھ کو پسند کیا، اور حقیقت یہ ہے کہ میرے رب کے دونوں ہی ہاتھ داہنے ہاتھ ہیں اور برکت والے ہیں، پھر اس نے مٹھی کھولی تو اس میں آدم اور آدم کی ذریت تھی، حضرت آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب یہ کون لوگ ہیں؟ کہا یہ سب تیری اولاد ہیں اور ہر ایک کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں لکھی ہوئی ہے، ان میں ایک سب سے زیادہ روشن چہرہ والا تھا،حضرت آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب یہ کون ہے؟ کہا یہ تمہارا بیٹا داود ہے، میں نے اس کی عمر چالیس سال لکھ دی ہے، آدم علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! اس کی عمر بڑھا دیجئیے، اللہ نے کہا: یہ عمر تو اس کی لکھی جا چکی ہے، آدم علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! میں اپنی عمر میں سے ساٹھ سال اسے دیئے دیتا ہوں، اللہ نے کہا:تمہاری یہ خواہش پوری ہوئی، پھر حضرت آدم علیہ السلام جنت میں رہے جب تک کہ اللہ کو منظور ہوا، پھر آدم علیہ السلام جنت سے نیچے اتار دیا گیا، حضرت آدم علیہ السلام اپنی زندگی کے دن گنا کرتے تھے، ملک الموت ان کے پاس آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ تو جلدی آ گئے میری عمر تو ہزار برس لکھی گئی ہے، ملک الموت نے کہا: ہاں (بات تو صحیح ہے) لیکن آپ نے تو اپنی زندگی کے ساٹھ سال اپنے بیٹے داود کو دے دیے تھے، تو انہوں نے انکار کر دیا حضرت آدم علیہ السلام کے اسی انکار کا نتیجہ اور اثر ہے کہ ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگ گئی، حضرت آدم علیہ السلام یہ بات بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولنے لگ گئی، اسی دن سے حکم دے دیا گیا ساری باتیں لکھ لی جایا کریں اور گواہ بنا لیے جایا کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور ابوہریرہ کی اس حدیث کو زید بن اسلم نے بطریق: «أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٣؛حدیث نمبر ٣٣٦٨)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے زمین بنائی تو وہ ہلنے لگی چنانچہ اللہ نے پہاڑ بنائے اور ان سے کہا: اسے تھامے رہو، تو زمین ٹھہر گئی، (اس کا ہلنا و جھکنا بند ہو گیا) فرشتوں کو پہاڑوں کی سختی و مضبوطی دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! کیا آپ کی مخلوق میں پہاڑ سے بھی زیادہ ٹھوس کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، لوہا ہے“، انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں لوہے سے بھی طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، آگ ہے“، انہوں نے کہا: اے میرے رب! کیا آپ کی مخلوق میں آگ سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، پانی ہے“، انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں پانی سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، ہوا ہے“، انہوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں ہوا سے بھی زیادہ طاقتور کوئی مخلوق ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، ابن آدم ہے جب وہ اپنے داہنے سے اس طرح صدقہ دے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛قرآن کی تفسیر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٩)
Tirmizi Shareef : Abawabu Tafseeril Quran
|
Tirmizi Shareef : ابواب تفسیر القرآن
|
•