asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abawabud Da'waati

From 3370 to 3604

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں، عمران القطان یہ ابن داور ہیں اور ان کی کنیت ابوالعوام ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الدُّعَاءِ؛دعا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٥؛حدیث نمبر ٣٣٧٠)

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الدُّعَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ هُوَ ابْنُ دَاوَرَ وَيُكْنَى أَبَا الْعَوَّامِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3370

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا عبادت کا مغز ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٦؛حدیث نمبر ٣٣٧١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3371

حضرت نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» ”تمہارا رب فرماتا ہے،مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بے شک جو تکبر کرتے ہوئے میری بندگی چھوڑتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں رسوا ہو کر داخل ہوں گے“ (المومن: ۶) پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- منصور نے یہ حدیث اعمش سے اور اعمش نے ذر سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف ذر کی روایت سے جانتے ہیں، یہ ذر بن عبداللہ ہمدانی ہیں ثقہ ہیں، عمر بن ذر کے والد ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٦؛حدیث نمبر ٣٣٧٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ "، ثُمَّ قَرَأَ: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ سورة غافر آية 60 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ مَنْصُورٌ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ ذَرٍّ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ذَرٍّ هُوَ ذَرُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ ثِقَةٌ وَالِدُ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3372

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے مانگتا نہیں اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: وکیع اور کئی راویوں نے یہ حدیث ابوالملیح سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ابوالملیح کا نام صبیح ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ایسا ہی کہتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے کہا کہ انہیں فارسی بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٦؛حدیث نمبر ٣٣٧٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى وَكِيعٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو الْمَلِيحِ اسْمُهُ صَبِيحٌ، سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُهُ: وَقَالَ: يُقَالُ لَهُ الْفَارِسِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3373

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے جب ہم لوٹے اور ہمیں مدینہ دکھائی دینے لگا تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے تکبیر کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب بہرہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب و غیر حاضر ہے، وہ تمہارے درمیان موجود ہے، وہ تمہارے کجاؤں اور سواریوں کے درمیان (یعنی بہت قریب) ہے پھر آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ «لا حول ولا قوة إلا بالله» (جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے اور ابونعامہ سعدی کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٦؛حدیث نمبر ٣٣٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرَ النَّاسُ تَكْبِيرَةً وَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَصَمَّ وَلَا غَائِبٍ، هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ ". ثُمَّ قَالَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ، وَأَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3374

حضرت عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اسلام کے احکام و قوانین تو میرے لیے بہت ہیں، کچھ ایسی چیزیں مجھے بتا دیجئیے جن پر میں (مضبوطی) سے جما رہوں، آپ نے فرمایا: ”تمہاری زبان ہر وقت اللہ کی یاد اور ذکر سے تر رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الذِّكْرِ؛ذکر الٰہی کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٧؛حدیث نمبر ٣٣٧٥)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ، قَالَ: " لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3375

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک درجہ کے لحاظ سے کون سے بندے سب سے افضل اور سب سے اونچے مرتبہ والے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں لڑائی لڑنے والے (غازی) سے بھی بڑھ کر؟ آپ نے فرمایا: ”(ہاں) اگرچہ اس نے اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کو مارا ہو، اور اتنی شدید جنگ لڑی ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو، اور وہ خود خون سے رنگ گیا ہو، تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والے اس سے درجے میں بڑھے ہوئے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف دراج کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٨؛حدیث نمبر ٣٣٧٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: " الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنَ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: " لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَنْكَسِرَ وَيَخْتَضِبَ دَمًا لَكَانَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا أَفْضَلَ مِنْهُ دَرَجَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ دَرَّاجٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3376

حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں؟ وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم (میدان جنگ میں) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی (یعنی تمہارے جہاد کرنے سے بھی افضل)“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے“، حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی اور چیز نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض نے یہ حدیث عبداللہ بن سعید اسی طرح اسی سند سے روایت کی ہے، اور بعضوں نے اسے ان سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٩؛حدیث نمبر ٣٣٧٧)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى " قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا شَيْءٌ أَنْجَى مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ مِثْلَ هَذَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْهُ فَأَرْسَلَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3377

حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے روایت ہے: انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قوم اللہ کو یاد کرتی ہے (ذکر الٰہی میں رہتی ہے) اسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی اسے ڈھانپ لیتی ہے، اس پر سکینت (طمانیت) نازل ہوتی ہے اور اللہ اس کا ذکر اپنے ہاں فرشتوں میں کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ایک اور سند سے شعبہ نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اغر (یعنی ابو مسلم) سے سنا، انہوں نے کہا: میں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہما کے متعلق گواہی دیتا ہوں، ان دونوں (بزرگوں) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی، اور پھر اوپر والی حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الْقَوْمِ يَجْلِسُونَ فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَهُمْ مِنَ الْفَضْلِ؛ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٥٩؛حدیث نمبر ٣٣٧٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ الْأَغَرَّ أَبَا مُسْلِمٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3378

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی الله عنہ مسجد گئے (وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے) پوچھا: تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں،حضرت معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا! قسم اللہ کی! تم کو اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہم اسی مقصد سے یہاں بیٹھے ہیں،حضرت معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی۔ ایسا کوئی شخص نہیں ہوگا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنا قریب ہو جتنا میں قریب تھا اور وہ مجھ سے کم روایت نقل کرتا ہوں(لیکن میں تمہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس گئے وہ سب دائرہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان سے کہا: کس لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی طرف جو ہدایت دی ہے، اور مسلمان بنا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے ہم اس پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور اس کی حمد بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی؟! قسم ہے تمہیں اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟“ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہمیں اسی مقصد نے یہاں بٹھایا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قسم اس لیے نہیں دلائی ہے، میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے، بات یہ ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا اور خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الْقَوْمِ يَجْلِسُونَ فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَهُمْ مِنَ الْفَضْلِ؛ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٠؛حدیث نمبر ٣٣٧٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَا يُجْلِسُكُمْ؟ " قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ لِمَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ، فَقَالَ: " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟ " قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ لِتُهْمَةٍ لَكُمْ، إِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3379

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کچھ لوگ کسی مجلس میں اللہ تعالی کا ذکر نہیں کرتے اور نبی علیہ السلام پر درود نہیں بھیجتے تو یہ بات (قیامت کے دن)ان کے لیے نقصان کا باعث ہوگی اگر اللہ تعالی چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو ان کی مغفرت کر دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، ۳- اور آپ کے قول «ترة» کے معنی ہیں حسرت و ندامت کے، بعض عربی داں حضرات کہتے ہیں: «ترة» کے معنی بدلہ کے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الْقَوْمِ يَجْلِسُونَ وَلاَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ؛لوگوں کی مجلس اللہ کے ذکر سے غافل ہو اس کی برائی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦١؛حدیث نمبر ٣٣٨٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: تِرَةً يَعْنِي حَسْرَةً وَنَدَامَةً، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْعَرَبِيَّةِ: التِّرَةُ هُوَ الثَّأْرُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3380

حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی بندہ اللہ سے دعا کر کے مانگتا ہے اللہ اسے یا تو اس کی مانگی ہوئی چیز دے دیتا ہے، یا اس دعا کے نتیجہ میں اس دعا کے مثل اس پر آئی ہوئی مصیبت دور کر دیتا ہے، جب تک اس نے کسی گناہ یا قطع رحمی (رشتہ ناتا توڑنے) کی دعا نہ کی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں حضرت ابو سعید خدری اور عبادہ بن صامت سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ؛مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٢؛حدیث نمبر ٣٣٨١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْعُو بِدُعَاءٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ، أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهُ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ ". وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3381

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اچھا لگے (اور پسند آئے) کہ مصائب و مشکلات (اور تکلیف دہ حالات) میں اللہ اس کی دعائیں قبول کرے، تو اسے کشادگی و فراخی کی حالت میں کثرت سے دعائیں مانگتے رہنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ؛مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٢؛حدیث نمبر ٣٣٨٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَطِيَّةَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْكَرْبِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3382

حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہتر ذکر «لا إلہ إلا اللہ» ہے، اور بہترین دعا «الحمد للہ» ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- علی بن مدینی اور کئی نے یہ حدیث موسیٰ بن ابراہیم سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ؛مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٢؛حدیث نمبر ٣٣٨٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَال: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، قَال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَقَدْ رَوَى عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ هَذَا الْحَدِيثَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3383

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ؛مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٢؛حدیث نمبر ٣٣٨٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَالْبَهِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3384

حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں:کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو یاد کر کے اس کے لیے دعا کرتے، تو پہلے اپنے لیے دعا کرتے پھر اس کے لیے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ؛مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٣؛حدیث نمبر ٣٣٨٥)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا فَدَعَا لَهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو قَطَنٍ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3385

حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں ہاتھ اٹھاتے تھے تو جب تک اپنے دونوں ہاتھ منہ مبارک پر پھیر نہ لیتے انہیں نیچے نہ گراتے تھے، محمد بن مثنیٰ اپنی روایت میں کہتے ہیں: آپ دونوں ہاتھ جب دعا کے لیے اٹھاتے تو انہیں اس وقت تک واپس نہ لاتے جب تک کہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے مبارک پر پھیر نہ لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن عیسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- حماد بن عیسیٰ نے اسے تنہا روایت کیا ہے، اور یہ بہت کم حدیثیں بیان کرتے ہیں، ان سے کئی لوگوں نے روایت لی ہے، ۳- حنظلہ ابن ابی سفیان جمحی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید قطان نے ثقہ کہا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي رَفْعِ الأَيْدِي عِنْدَ الدُّعَاءِ؛دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٣؛حدیث نمبر ٣٣٨٦)

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عِيسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ لَمْ يَحُطَّهُمَا حَتَّى يَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ "، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ: لَمْ يَرُدَّهُمَا حَتَّى يَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهِ وَهُوَ قَلِيلُ الْحَدِيثِ، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ النَّاسُ، وَحَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيُّ ثِقَةٌ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3386

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر کسی کی دعا قبول کی جاتی ہے، جب تک کہ وہ جلدی نہ مچائے (جلدی یہ ہے کہ) وہ کہنے لگتا ہے: میں نے دعا کی مگر وہ قبول نہ ہوئی“۔ (اس سے معلوم ہوا کہ دعا کرتے ہوئے انسان یہ کبھی نہ سوچے کہ دعا مانگتے ہوئے اتنا عرصہ گزر گیا اور دعا قبول نہیں ہوئی، بلکہ اسے مسلسل دعا مانگتے رہنا چاہیئے، کیونکہ اس تاخیر میں بھی کوئی مصلحت ہے جو صرف اللہ کو معلوم ہے۔) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَسْتَعْجِلُ فِي دُعَائِهِ؛دعا کی قبولیت میں جلد بازی نہ کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٤؛حدیث نمبر ٣٣٨٧)

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، يَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عُبَيْدٍ اسْمُهُ سَعْدٌ وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ وَيُقَالُ: مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ هُوَ ابْنُ عَمِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَنَسٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3387

ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہوئے سنا فرماتے ہیں:کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو ہر روز صبح و شام کو «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» “ ”میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے“، تین بار پڑھے اور اسے کوئی چیز نقصان پہنچا دے۔ ابان کو ایک جانب فالج کا اثر تھا، (حدیث سن کر) حدیث سننے والا شخص ان کی طرف دیکھنے لگا، ابان نے ان سے کہا: کیا دیکھ رہے ہو؟ حدیث بالکل ویسی ہی ہے جیسی میں نے تم سے بیان کی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ جس دن مجھ پر فالج کا اثر ہوا اس دن میں نے یہ دعا نہیں پڑھی تھی، اور نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے مجھ پر اپنی تقدیر کا فیصلہ جاری کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى؛صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٥؛حدیث نمبر ٣٣٨٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ "، وَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفُ فَالِجٍ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: مَا تَنْظُرُ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا حَدَّثْتُكَ وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3388

حضرت ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص شام کے وقت کہا کرے «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» ”میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی (و خوش) ہوں“، تو اللہ پر یہ لازم ہوگا کہ وہ اس شخص کو راضی کرے( یعنی اسے بخش دے) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى؛صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٥؛حدیث نمبر ٣٣٨٩)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3389

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بك من الكسل وسوء الكبر وأعوذ بك من عذاب النار وعذاب القبر» ”ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس رات میں جو خیر ہے، اس کا میں طالب ہوں، اور رات کے بعد کی بھی جو بھلائی ہے اس کا بھی میں خواہاں ہوں، اور اس رات کی برائی اور رات کے بعد کی بھی برائی سے میں پناہ مانگتا ہوں، اور پناہ مانگتا ہوں میں سستی اور کاہلی سے، اور پناہ مانگتا ہوں بوڑھا پے کی تکلیف سے، اور پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے“، اور جب صبح ہوتی تو اس وقت بھی یہی دعا پڑھتے، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ «أمسينا» کی جگہ «أصبحنا» اور «أمسى» کی جگہ «أصبح» کہتے «وأصبح الملك لله والحمد لله» ”صبح کی ہم نے، اور صبح کی ساری بادشاہی نے، اور ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، شعبہ نے یہ حدیث اسی سند سے ابن مسعود سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى؛صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٥؛حدیث نمبر ٣٣٩٠)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ: أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، أُرَاهُ قَالَ فِيهَا: لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ: ذَلِكَ أَيْضًا أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَرْفَعْهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3390

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو سکھاتے ہوئے کہتے تھے کہ جب تمہاری صبح ہو تو کہو «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك المصير» ”اے اللہ! تیرے حکم سے ہم نے صبح کی اور تیرے ہی حکم سے ہم نے شام کی، تیرے حکم سے ہم زندہ ہیں اور تیرے ہی حکم سے ہم مریں گے“، اور آپ نے اپنے صحابہ کو سکھایا جب تم میں سے کسی کی شام ہو تو اسے چاہیئے کہ کہے «اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» ”ہم نے تیرے ہی حکم سے شام کی اور تیرے ہی حکم سے صبح کی تھی، تیرے ہی حکم سے ہم زندہ ہیں اور تیرا جب حکم ہو گا، ہم مر جائیں گے اور تیری ہی طرف ہمیں اٹھ کر جانا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى؛صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٦؛حدیث نمبر ٣٣٩١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ يَقُولُ: إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، وَإِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3391

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئیے جسے میں صبح و شام میں پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: ”کہہ لیا کرو: «اللهم عالم الغيب والشهادة فاطر السموات والأرض رب كل شيء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه» ”اے اللہ! غائب و حاضر، موجود اور غیر موجود کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں شیطان کے شر اور اس کی دعوت شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، آپ نے فرمایا: ”یہ دعا صبح و شام اور جب اپنی خواب گاہ میں سونے چلو پڑھ لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٧؛حدیث نمبر ٣٣٩٢)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، قَال: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ الثَّقَفِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ، قَالَ:قُلْ: اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، قَالَ: قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3392

حضرت شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں «سيد الاستغفار» (مغفرت کی دعاؤں میں سب سے اہم دعا) نہ بتاؤں؟ (وہ یہ ہے): «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت وأبوء لك بنعمتك علي وأعترف بذنوبي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ”اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں، میں اپنی استطاعت بھر تجھ سے کیے ہوئے وعدہ و اقرار پر قائم ہوں، اور میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے کئے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں تو نے مجھے جو نعمتیں دی ہیں، ان کا اقرار اور اعتراف کرتا ہوں، میں اپنے گناہوں کو تسلیم کرتا ہوں تو میرے گناہوں کو معاف کر دے، کیونکہ گناہ تو بس تو ہی معاف کر سکتا ہے“، شداد کہتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”یہ دعا تم میں سے کوئی بھی شام کو پڑھتا ہے اور صبح ہونے سے پہلے ہی اس پر «قدر» (موت) آ جاتی ہے تو جنت اس کے لیے واجب ہو جاتی ہے، اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو اس دعا کو صبح کے وقت پڑھے اور شام ہونے سے پہلے اسے «قدر» (موت) آ جائے مگر یہ کہ جنت اس پر واجب ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے حضرت شداد بن اوس رضی الله عنہ کے واسطہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ابن عمر، ابن مسعود، ابن ابزی اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٨؛حدیث نمبر ٣٣٩٣)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى سَيِّدِ الِاسْتِغْفَارِ؟ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ وَأَبُوءُ إِلَيْكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَعْتَرِفُ بِذُنُوبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، لَا يَقُولُهَا أَحَدُكُمْ حِينَ يُمْسِي فَيَأْتِي عَلَيْهِ قَدَرٌ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَلَا يَقُولُهَا حِينَ يُصْبِحُ فَيَأْتِي عَلَيْهِ قَدَرٌ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ أَبْزَى، وَبُرَيْدَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ الزَّاهِدُ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3393

حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ایسے کچھ کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جانے لگو تو کہہ لیا کرو، اگر تم اسی رات میں مر جاؤ تو فطرت پر (یعنی اسلام پر) مرو گے اور اگر تم نے صبح کی تو صبح کی، خیر (اجر و ثواب) حاصل کر کے، تم کہو: «اللهم إني أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك وألجأت ظهري إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے حوالے کر دی، میں اپنا رخ تیری طرف کر کے پوری طرح متوجہ ہو گیا، میں نے اپنا معاملہ تیری سپردگی میں دے دیا، تجھ سے امیدیں وابستہ کر کے اور تیرا خوف دل میں بسا کر، میری پیٹھ تیرے حوالے، تیرے سوا نہ میرے لیے کوئی جائے پناہ ہے اور نہ ہی تجھ سے بچ کر تیرے سوا کوئی ٹھکانا میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے، میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے“۔ حضرت براء کہتے ہیں: میں نے «نبيك الذي أرسلت» کی جگہ «برسولك الذي أرسلت» کہہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنے ہاتھ سے کونچا، پھر فرمایا: «ونبيك الذي أرسلت»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث حضرت براء رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اس حدیث کو منصور بن معتمر نے سعد بن عبیدہ سے اور سعد نے براء کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، البتہ ان کی روایت میں اتنا فرق ہے کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ اور تم وضو سے ہو تو یہ دعا پڑھا کرو، ۴- اس باب میں حضرت رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ؛آدمی جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کیا دعا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٨؛حدیث نمبر ٣٣٩٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ لَهُ: " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهَا إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ، فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا، تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ "، قَالَ الْبَرَاءُ: فَقُلْتُ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: فَطَعَنَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْبَرَاءِ، وَرَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ عَلَى وُضُوءٍ، وَفِي الْبَابِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3394

حضرت رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی داہنی کروٹ لیٹے پھر پڑھے: «اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك أومن بكتابك وبرسولك» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی، میں نے اپنا منہ (اوروں کی طرف سے پھیر کر) تیری طرف کر دیا، میں نے اپنی پیٹھ تیری طرف ٹیک دی، میں نے اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، تجھ سے بچ کر تیرے سوا اور کوئی جائے پناہ و جائے نجات نہیں ہے، میں تیری کتاب اور تیرے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں“، پھر اسی رات میں مر جائے، تو وہ جنت میں جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حضرت رافع بن خدیج رضی الله عنہ کی روایت سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ؛آدمی جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کیا دعا پڑھے؟جلد٥؛صفحہ نمبر٤٦٩؛حدیث نمبر ٣٣٩٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاق ابْنِ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اضْطَجَعَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ أُومِنُ بِكِتَابِكَ وَبِرَسُولِكَ فَإِنْ مَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3395

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو (مخلوق کے شر سے) اور ہم کو (رہنے سہنے کے لیے) ٹھکانا دیا، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی کفایت کرنے اور نہ ہی کوئی انہیں پناہ دینے والا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ؛آدمی جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کیا دعا پڑھے؟جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٠؛حدیث نمبر ٣٣٩٦)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3396

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے ہوئے تین بار کہے: «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» ”میں اس عظیم ترین اللہ سے استغفار کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ ہمیشہ زندہ اور تا ابد قائم و دائم رہنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں“، اللہ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ وہ گناہ سمندر کی جھاگ کی طرح (بےشمار) ہوں، اگرچہ وہ گناہ درخت کے پتوں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ گناہ اکٹھا ریت کے ذروں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ دنیا کے دنوں کے برابر ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اس سند سے عبیداللہ بن ولید وصافی کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٠؛حدیث نمبر ٣٣٩٧)

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ، وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ، وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ أَيَّامِ الدُّنْيَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْوَصَّافِيِّ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3397

حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھتے، پھر پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تجمع أو تبعث عبادك» ”اے اللہ! مجھے تو اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا یا اٹھائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧١؛حدیث نمبر ٣٣٩٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ أَوْ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3398

حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناتے تھے، پھر پڑھتے تھے: «رب قني عذابك يوم تبعث عبادك» ”اے میرے رب! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن کہ تو مردوں کو اٹھا کر زندہ کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث (امام) ثوری نے ابواسحاق سے روایت کی، اور ابواسحاق نے حضرت براء سے، اور امام ثوری نے ان دونوں یعنی ابواسحاق و براء کے بیچ میں کسی اور راوی کا ذکر نہیں کیا، ۳- روایت کی شعبہ نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ سے، اور ایک دوسرے شخص نے براء سے، ۴- اسرائیل نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ اور ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧١؛حدیث نمبر ٣٣٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ هُوَ السَّلُولِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَسَّدُ يَمِينَهُ عِنْدَ الْمَنَامِ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ لَمْ يَذْكُرْ بَيْنَهُمَا أَحَدًا، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَرَجُلٌ آخَرَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَرَوَى إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3399

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کہے: «اللهم رب السموات ورب الأرضين وربنا ورب كل شيء وفالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء والظاهر فليس فوقك شيء والباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہر چیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے، توراۃ، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر والی چیز کے شر سے، تو ہی ہر شر و فساد کی پیشانی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو ہی سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے ظاہر (اوپر) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو باطن (نیچے و پوشیدہ) ہے تیرے سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے، مجھ پر جو قرض ہے اسے تو ادا کر دے اور تو مجھے محتاجی سے نکال کر غنی کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٢؛حدیث نمبر ٣٤٠٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذَ أَحَدُنَا مَضْجَعَهُ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الْأَرَضِينَ، وَرَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، وَفَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَالظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَالْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3400

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے اپنے بستر پر سے اٹھ جائے پھر لوٹ کر اس پر (لیٹنے، بیٹھنے) آئے تو اسے چاہیئے کہ اپنے ازار (تہبند، لنگی) کے (پلو) کونے اور کنارے سے تین بار بستر کو جھاڑ دے، اس لیے کہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد وہاں کون سی چیز آ کر بیٹھی یا چھپی ہے، پھر جب لیٹے تو کہے: «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! میں تیرا نام لے کر (اپنے بستر پر) اپنے پہلو کو ڈال رہا ہوں یعنی سونے جا رہا ہوں، اور تیرا ہی نام لے کر میں اسے اٹھاؤں گا بھی، پھر اگر تو میری جان کو (سونے ہی کی حالت میں) روک لیتا ہے (یعنی مجھے موت دے دیتا ہے) تو میری جان پر رحم فرما، اور اگر تو سونے دیتا ہے تو اس کی ویسی ہی حفاظت فرما جیسی کہ تو اپنے نیک و صالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے“، پھر نیند سے بیدار ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ کہے: «الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد علي روحي وأذن لي بذكره» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے بدن کو صحت مند رکھا، اور میری روح مجھ پر لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت (اور توفیق) دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حدیث حسن ہے، ۲- بعض دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «فلينفضه بداخلة إزاره» کا لفظ استعمال کیا ہے «بداخلة إزاره» سے مراد تہبند کا اندر والا حصہ ہے، ۳- اس باب میں حضرت جعفر اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٢؛حدیث نمبر ٣٤٠١)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكَّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ عَنْ فِرَاشِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ إِزَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ، فَإِذَا اضْطَجَعَ فَلْيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي، وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي، وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ: فَلْيَنْفُضْهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3401

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کرتے، پھر ان دونوں پر یہ سورتیں: «قل هو الله أحد»، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھ کر پھونک مارتے، پھر ان دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک وہ پہنچتیں پھیرتے، اور شروع کرتے اپنے سر، چہرے اور بدن کے اگلے حصے سے، اور ایسا آپ تین بار کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ ۳- اس باب میں حضرت جعفر اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ عِنْدَ الْمَنَامِ؛سوتے وقت قرآن پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٣؛حدیث نمبر ٣٤٠٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، فَقَرَأَ فِيهِمَا: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3402

حضرت فروہ بن نوفل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں جب اپنے بستر پر جانے لگوں تو پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھ لیا کرو، کیونکہ اس سورۃ میں شرک سے برأۃ (نجات) ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: (ہمارے استاذ) ابواسحاق کبھی کہتے ہیں کہ سورۃ «قل يا أيها الكافرون» ایک بار پڑھ لیا کرو، اور کبھی ایک بار کا ذکر نہیں کرتے۔ اسرائیل نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے فروہ بن نوفل سے، فروہ نے اپنے والد نوفل سے روایت کی ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر آگے انہوں نے اس سے پہلی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ روایت زیادہ صحیح ہے، ۲- نیز زہیر نے یہ حدیث ابواسحاق سے، ابواسحاق نے فروہ بن نوفل سے، فروہ نے اپنے والد نوفل سے، اور نوفل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، اور یہ روایت شعبہ کی روایت سے زیادہ مشابہ اور زیادہ صحیح ہے۔ اور ابواسحاق کے اصحاب (شاگرد) اس حدیث میں مضطرب ہیں، ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن نوفل نے بھی اپنے باپ (نوفل) سے اور نوفل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور عبدالرحمٰن یہ عروہ بن نوفل کے بھائی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٤؛حدیث نمبر ٣٤٠٣)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي، قَالَ: " اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ "، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْيَانًا يَقُولُ مَرَّةً وَأَحْيَانًا لَا يَقُولُهَا، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، بِمَعْنَاهُ وَهَذَا أَصَحُّ أَبُو عِيسَى وَرَوَى زُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَهَذَا أَشْبَهُ وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَدِ اضْطَرَبَ أَصْحَابُ أَبِي إِسْحَاق فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ أَخُو فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3403

حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک سوتے نہ تھے جب تک کہ سونے سے پہلے آپ سورۃ «سجدہ» اور سورۃ «تبارک الذی» (یعنی سورۃ الملک) پڑھ نہ لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان (ثوری) اور کچھ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث لیث سے، لیث نے ابوالزبیر سے، ابوالزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۲- زہیر نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے یہ حدیث جابر سے (خود) سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث جابر سے نہیں سنی ہے، میں نے یہ حدیث صفوان یا ابن صفوان سے سنی ہے، ۳- شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے، مغیرہ نے ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر سے لیث کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٠٤)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ: بِتَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، وَبِتَبَارَكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَقَدْ رَوَى زُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ؟ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ جَابِرٍ، إِنَّمَا سَمِعْتُهُ مِنْ صَفْوَانَ أَوْ ابْنِ صَفْوَانَ، وَقَدْ رَوَى شَبَابَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ نَحْوَ حَدِيثِ لَيْثٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3404

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الزمر اور سورۃ بنی اسرائیل جب تک پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی ہے کہ ابولبابہ کا نام مروان ہے، اور یہ عبدالرحمٰن بن زیاد کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے سنا ہے اور ان (ابولبابہ) سے حماد بن زید نے سنا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٠٥)

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الزُّمَرَ، وَبَنِي إِسْرَائِيلَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل قَالَ: أَبُو لُبَابَةَ هَذَا اسْمُهُ مَرْوَانُ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، وَسَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ سَمِعَ مِنْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3405

حضرت عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «مسبحات»(وہ سورتیں جن کے شروع میں «سبح» ، «یسبح» یا «سبحان اللہ» ہے۔)پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے، آپ فرماتے تھے: ”ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٠٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الْمُسَبِّحَاتِ، وَيَقُولُ فِيهَا آيَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3406

بنی حنظلہ کے ایک شخص نے کہا کہ میں حضرت شداد بن اوس رضی الله عنہ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جسے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سکھاتے تھے، آپ نے ہمیں سکھایا کہ ہم کہیں: «اللهم إني أسألك الثبات في الأمر وأسألك عزيمة الرشد وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك لسانا صادقا وقلبا سليما وأعوذ بك من شر ما تعلم وأسألك من خير ما تعلم وأستغفرك مما تعلم إنك أنت علام الغيوب» ”اے اللہ! میں تجھ سے کام(یعنی معاملات)کی مضبوطی کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے نیکی و بھلائی کی پختگی چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ تو مجھے اپنی نعمت کے شکریہ کی توفیق دے، اپنی اچھی عبادت کرنے کی توفیق دے، میں تجھ سے لسان صادق اور قلب سلیم کا طالب ہوں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جو تیرے علم میں ہے اور اس خیر کا بھی میں تجھ سے طلب گار ہوں جو تیرے علم میں ہے اور تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں ان گناہوں کی جنہیں تو جانتا ہے تو بیشک ساری پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔ شداد بن اوس رضی الله عنہ نے کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو مسلمان بھی اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتا ہے، اور کتاب اللہ (قرآن پاک) میں سے کوئی سورت پڑھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لیے فرشتہ مقرر کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے تکلیف دینے والی کوئی چیز اس کے قریب نہیں پھٹکتی، یہاں تک کہ وہ سو کر اٹھے جب بھی اٹھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- جریری: یہ سعید بن ایاس ابومسعود جریری ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٦؛حدیث نمبر ٣٤٠٧)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ بَنِي حَنْظَلَةَ، قَالَ: صَحِبْتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ نَقُولَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا وَقَلْبًا سَلِيمًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ". قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَأْخُذُ مَضْجَعَهُ يَقْرَأُ سُورَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكًا فَلَا يَقْرَبُهُ شَيْءٌ يُؤْذِيهِ حَتَّى يَهُبَّ مَتَى هَبَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْجُرَيْرِيُّ هُوَ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ، وَأَبُو الْعَلَاءِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3407

حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی الله عنہا نے مجھ سے آٹا پیسنے کے سبب ہاتھوں میں چھالے پڑ جانے کی شکایت کی، میں نے ان سے کہا: کاش آپ اپنے ابو جان کے پاس جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لیے ایک خادم مانگ لیتیں، (وہ گئیں تو) آپ نے (جواب میں) فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتا دوں جو تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر اور آرام دہ ہو، جب تم دونوں اپنے بستروں پر سونے کے لیے جاؤ تو ۳۳ بار الحمدللہ اور سبحان اللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عون کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے حضرت علی رضی الله عنہ سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ عِنْدَ الْمَنَامِ؛سوتے وقت سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٧؛حدیث نمبر ٣٤٠٨)

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَكَتْ إِلَيَّ فَاطِمَةُ مَجَلَ يَدَيْهَا مِنَ الطَّحِينِ: فَقُلْتُ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِهِ خَادِمًا، فَقَالَ: " أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الْخَادِمِ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا تَقُولَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ مِنْ تَحْمِيدٍ وَتَسْبِيحٍ وَتَكْبِيرٍ "، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3408

حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (آپ کی بیٹی)حضرت فاطمہ رضی الله عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ہاتھوں میں چھالے پڑ جانے کی شکایت کرنے آئیں تو آپ نے انہیں تسبیح (سبحان اللہ) تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمدللہ) پڑھنے کا حکم دیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ عِنْدَ الْمَنَامِ؛سوتے وقت سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٧؛حدیث نمبر ٣٤٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو مَجَلًا بِيَدَيْهَا فَأَمَرَهَا بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ ".

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3409

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو عادتیں ایسی ہیں جنہیں جو بھی مسلمان پابندی اور پختگی سے اپنائے رہے گا وہ جنت میں جائے گا، دھیان سے سن لو، دونوں آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں، ہر نماز کے بعد دس بار اللہ کی تسبیح کرے (سبحان اللہ کہے) دس بار حمد بیان کرے (الحمدللہ کہے) اور دس بار اللہ کی بڑائی بیان کرے (اللہ اکبر کہے)۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنی انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ تو زبان سے گننے میں ڈیڑھ سو ہوئے لیکن یہ (دس گنا بڑھ کر) میزان میں ڈیڑھ ہزار ہو جائیں گے۔ (یہ ایک خصلت و عادت ہوئی) اور (دوسری خصلت و عادت یہ ہے کہ) جب تم بستر پر سونے جاؤ تو سو بار سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کہو، یہ زبان سے کہنے میں تو سو ہیں لیکن میزان میں ہزار ہیں، (اب بتاؤ) کون ہے تم میں جو دن و رات ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو؟(لیکن وہ اس عمل کے ذریعے روزانہ دوہزار پانچ سو نیکیاں حاصل کر لے گا) لوگوں نے کہا: ہم اسے ہمیشہ اور پابندی کے ساتھ کیوں نہیں کر سکیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”(اس وجہ سے) کہ تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: فلاں بات کو یاد کرو، فلاں چیز کو سوچ لو، یہاں تک کہ وہ اس کی توجہ اصل کام سے ہٹا دیتا ہے، تاکہ وہ اسے نہ کر سکے، ایسے ہی آدمی اپنے بستر پر ہوتا ہے اور شیطان آ کر اسے (تھپکیاں دیدے کر) سلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ (بغیر تسبیحات پڑھے) سو جاتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ اور ثوری نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے۔ اور اعمش نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے، ۳- اس باب میں حضرت زید بن ثابت، انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٨؛حدیث نمبر ٣٤١٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا "، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، قَالَ: " فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ تُسَبِّحُهُ وَتُكَبِّرُهُ وَتَحْمَدُهُ مِائَةً، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ "، قَالُوا: فَكَيْفَ لَا يُحْصِيهَا؟ قَالَ: " يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَنْفَتِلَ، فَلَعَلَّهُ لَا أَنْ يَفْعَلُ، وَيَأْتِيهِ وَهُوَ فِي مَضْجَعِهِ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى الْأَعْمَشُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ مُخْتَصَرًا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3410

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح (سبحان اللہ) انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٨؛حدیث نمبر ٣٤١١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3411

حضرت کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ چیزیں نماز کے پیچھے (بعد میں) پڑھنے کی ایسی ہیں کہ ان کا کہنے والا محروم و نامراد نہیں رہتا، ہر نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ کہے، ۳۳ بار الحمدللہ کہے، اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث حکم سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور منصور بن معتمر نے حکم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٩؛حدیث نمبر ٣٤١٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ ثِقَةٌ حَافِظٌ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَكَمِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَرَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الْحَكَمِ فَرَفَعَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3412

حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہر نماز کے بعد ہم (سلام پھیر کر) ۳۳ بار سبحان اللہ، ۳۳ بار الحمدللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہیں، راوی (زید) کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے خواب دیکھا، خواب میں نظر آنے والے شخص (فرشتہ) نے پوچھا: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ ۳۳ بار الحمدللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو؟ اس نے کہا: ہاں، (تو سائل (فرشتے) نے کہا: (۳۳، ۳۳ اور ۳۴ کے بجائے) ۲۵ کر لو، اور «لا إلہ إلا اللہ» کو بھی انہیں کے ساتھ شامل کر لو، (اس طرح کل سو ہو جائیں گے) صبح جب ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”ایسا ہی کر لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٧٩؛حدیث نمبر ٣٤١٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنُكَبِّرَهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، قَالَ: فَرَأَى رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: " أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُوا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْعَلُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وَاجْعَلُوا التَّهْلِيلَ مَعَهُنَّ، فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ، فَقَالَ: " افْعَلُوا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3413

حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله»(ترجمہ" اللہ واحد کے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت اسی کی ہے اور اسی کے لیے سب تعریفیں ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہ سے بچنے کی قوت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے مگر اللہ کی توفیق سے۔")، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا انْتَبَهَ مِنَ اللَّيْلِ؛رات میں نیند سے جاگے تو کیا دعا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨٠؛حدیث نمبر ٣٤١٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي أَوْ قَالَ ثُمَّ دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِنْ عَزَمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3414

مسلمہ بن عمرو کہتے ہیں کہ عمیر بن ہانی ہر دن ہزار رکعتیں نمازیں پڑھتے تھے، اور سو ہزار (یعنی ایک لاکھ) تسبیحات پڑھتے تھے، یعنی سبحان اللہ کہتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا انْتَبَهَ مِنَ اللَّيْلِ؛رات میں نیند سے جاگے تو کیا دعا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨٠؛حدیث نمبر ٣٤١٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ سَجْدَةٍ، وَيُسَبِّحُ مِائَةَ أَلْفِ تَسْبِيحَة.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3415

حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس سوتا تھا، اور آپ کو وضو کا پانی دیا کرتا تھا، میں آپ کو «سمع الله لمن حمده» کہتے ہوئے سنتا تھا، نیز میں آپ کو «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے ہوئے سنتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨٠؛حدیث نمبر ٣٤١٦)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُعْطِيهِ وَضُوءَهُ، فَأَسْمَعُهُ الْهَوِيَّ مِنَ اللَّيْلِ، يَقُولُ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " وَأَسْمَعُهُ الْهَوِيَّ مِنَ اللَّيْلِ، يَقُولُ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3416

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو کہتے: «اللهم باسمك أموت وأحيا»، اور جب آپ سو کر اٹھتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أحيا نفسي بعد ما أماتها وإليه النشور»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨١؛حدیث نمبر ٣٤١٧)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَالَ: " اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا "، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَا نَفْسِي بَعْدَ مَا أَمَاتَهَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3417

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ولك الحمد أنت رب السموات والأرض ومن فيهن أنت الحق ووعدك الحق ولقاؤك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے سب تعریف ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، (اور آسمان و زمین کے درمیان روشنی پیدا کرنے والا) تیرے ہی لیے سب تعریف ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم کرنے والا ہے، تیرے لیے ہی سب تعریف ہے تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا رب ہے، تو حق ہے تیرا وعدہ حق (سچا) ہے تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے جہنم حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے اپنے کو تیرے سپرد کر دیا، اور تجھ ہی پر ایمان لایا، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیرے ہی خاطر میں لڑا اور تیرے ہی پاس فیصلہ کے لیے گیا۔ اے اللہ! میں پہلے جو کچھ کر چکا ہوں اور جو کچھ بعد میں کروں گا اور جو پوشیدہ کروں اور جو کھلے عام کروں میرے سارے گناہ اور لغزشیں معاف کر دے، تو ہی میرا معبود ہے، اور تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى الصَّلاَةِ؛رات میں نماز تہجد پڑھنے کے لیے اٹھے تو کیا کہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨١؛حدیث نمبر ٣٤١٨)

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3418

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات نماز (تہجد) سے فارغ ہو کر پڑھتے ہوئے سنا (آپ پڑھ رہے تھے): «اللهم إني أسألك رحمة من عندك تهدي بها قلبي وتجمع بها أمري وتلم بها شعثي وتصلح بها غائبي وترفع بها شاهدي وتزكي بها عملي وتلهمني بها رشدي وترد بها ألفتي وتعصمني بها من كل سوء اللهم أعطني إيمانا ويقينا ليس بعده كفر ورحمة أنال بها شرف كرامتك في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك الفوز في العطاء ونزل الشهداء وعيش السعداء والنصر على الأعداء اللهم إني أنزل بك حاجتي وإن قصر رأيي وضعف عملي افتقرت إلى رحمتك فأسألك يا قاضي الأمور ويا شافي الصدور كما تجير بين البحور أن تجيرني من عذاب السعير ومن دعوة الثبور ومن فتنة القبور اللهم ما قصر عنه رأيي ولم تبلغه نيتي ولم تبلغه مسألتي من خير وعدته أحدا من خلقك أو خير أنت معطيه أحدا من عبادك فإني أرغب إليك فيه وأسألكه برحمتك رب العالمين اللهم ذا الحبل الشديد والأمر الرشيد أسألك الأمن يوم الوعيد والجنة يوم الخلود مع المقربين الشهود الركع السجو د الموفين بالعهود إنك رحيم ودود وأنت تفعل ما تريد اللهم اجعلنا هادين مهتدين غير ضالين ولا مضلين سلما لأوليائك وعدوا لأعدائك نحب بحبك من أحبك ونعادي بعداوتك من خالفك اللهم هذا الدعا وعليك الإجابة وهذا الجهد وعليك التكلان اللهم اجعل لي نورا في قلبي ونورا في قبري ونورا من بين يدي ونورا من خلفي ونورا عن يميني ونورا عن شمالي ونورا من فوقي ونورا من تحتي ونورا في سمعي ونورا في بصري ونورا في شعري ونورا في بشري ونورا في لحمي ونورا في دمي ونورا في عظامي اللهم أعظم لي نورا وأعطني نورا واجعل لي نورا سبحان الذي تعطف العز وقال به سبحان الذي لبس المجد وتكرم به سبحان الذي لا ينبغي التسبيح إلا له سبحان ذي الفضل والنعم سبحان ذي المجد والكرم سبحان ذي الجلال والإكرام» ترجمہ:اے اللہ! میں تجھ سے تیری وہ رحمت مانگتا ہوں جس کے ذریعے تو میرے دل کو ہدایت پر ثابت قدم رکھ اور میرے معاملات کو سمیٹ دے، میری مشکلات کو آسان کر دے، اس کے ذریعے میرے غائب کی اصلاح کر دے، اس کے ذریعے میرے ظاہر کو بلند کر دے، اس کے ذریعے میرے عمل کا تزکیہ کر دے، اس کے ذریعے مجھے ہدایت الہام کر دے، اس کے ذریعے میری الفت لوٹا دے، اس کے ذریعے مجھے ہر برائی سے بچا، اے اللہ! مجھے ایسا ایمان اور یقین عطا کر دے جس کے بعد کفر نہ ہو اور ایسی رحمت عطا کر دے جس کے ذریعے میں دنیا اور آخرت میں تیری طرف سے عطا کردہ بزرگی کے شرف تک پہنچ جاؤں، یا اللہ!میں تجھ سے عطا میں کامیابی کا سوال کرتا ہوں، شہداء کے مرتبے کا، سعادت مند لوگوں کی طرح زندہ رہنے کا ،دشمن کے خلاف مدد کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں اپنی حاجت تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں اگرچہ میری عقل کمزور ہے اور عمل ضعیف ہے لیکن میں تیری رحمت کا محتاج ہوں اے تمام کاموں کو پورا کرنے والے اے سینوں کو شفا دینے والے میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جس طرح تو سمندروں کے درمیان نجات نصیب کرتا ہے اسی طرح مجھے جہنم کے عذاب سے، بربادی کی دعا سے، قبر کی آزمائش سے نجات نصیب کر اے اللہ! جس بھی بھلائی کے بارے میں میری سوچ کمزور ہے میری نیت اس تک نہیں پہنچتی میرا سوال اس کے بارے میں نہیں ہو سکا اور تو نے اس بھلائی کا اپنی مخلوق میں سے کسی کے ساتھ بھی وعدہ کیا وہ بھلائی جو تو اپنے بندوں میں سے کسی کو بھی عطا کرے گا میں تیری بارگاہ میں اس کا طلبگار ہوں اور میں وہ بھلائی تیری رحمت کے وسیلے سے مانگتا ہوں، اے رب العالمین! سارے جہاں کے پالنہار، تیری رحمت کے سہارے تجھ سے اس چیز کا سوالی ہوں، اے اللہ بڑی قوت والے اور اچھے کاموں والے، میں تجھ سے وعید کے دن یعنی قیامت کے دن امن و چین چاہتا ہوں، میں تجھ سے ہمیشہ کے لیے تیرے مقرب بندوں، تیرے کلمہ گو بندوں، تیرے آگے جھکنے والے بندوں، تیرے سامنے سجدہ ریز ہونے والے بندوں، تیرے وعدہ و اقرار کے پابند بندوں کے ساتھ جنت میں جانے کی دعا مانگتا ہوں، (اے رب!) تو رحیم ہے (بندوں پر رحم کرنے والا) تو ودود ہے (اپنے بندوں سے محبت فرمانے والا) تو (بااختیار ہے) جو چاہتا ہے کرتا ہے، اے اللہ! تو ہمیں ہدایت دینے والا بنا مگر ایسا جو خود بھی ہدایت یافتہ ہو جو نہ خود گمراہ ہو، نہ دوسروں کو گمراہ بنانے والا ہو، تیرے دوستوں کے لیے صلح جو ہو، اور تیرے دشمنوں کے لیے دشمن، جو شخص تجھ سے محبت رکھتا ہو ہم اس شخص سے تجھ سے محبت رکھنے کے سبب محبت رکھیں، اور جو شخص تیرے خلاف کرے ہم اس شخص سے تجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب دشمنی رکھیں، اے اللہ یہ ہماری دعا و درخواست ہے، اور اس دعا کو قبول کرنا بس تیرے ہی ہاتھ میں ہے، یہ ہماری کوشش ہے اور بھروسہ بس تیری ہی ذات پر ہے، اے اللہ! تو میری قبر میں نور (روشنی) کر دے، اے اللہ! تو میرے قلب میں نور بھر دے، اے اللہ! تو میرے آگے اور سامنے نور پھیلا دے، اے اللہ تو میرے پیچھے نور کر دے، میرے آگے اور سامنے نور پھیلا دے، اے اللہ تو میرے پیچھے نور کر دے، نور میرے داہنے بھی نور میرے بائیں بھی، نور میرے اوپر بھی اور نور میرے نیچے بھی، نور میرے کانوں میں بھی نور میری آنکھوں میں بھی، نور میرے بالوں میں بھی نور میری کھال میں بھی نور، میرے گوشت میں بھی، نور میرے خون میں بھی اور نور میں اضافہ فرما دے، میرے لیے نور بنا دے، پاک ہے وہ ذات جس نے عزت کو اپنا اوڑھنا بنایا، اور عزت ہی کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا، پاک ہے وہ ذات جس نے مجد و شرف کو اپنا لباس بنایا اور جس کے سبب سے وہ مکرم و مشرف ہوا، پاک ہے وہ ذات جس کے سوا کسی اور کے لیے تسبیح سزاوار نہیں، پاک ہے فضل اور نعمتوں والا، پاک ہے مجد و کرم والا، پاک ہے عظمت و بزرگی والا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- شعبہ اور سفیان ثوری نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے کریب سے، اور کریب نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے بعض حصوں کی روایت کی ہے، انہوں نے یہ پوری لمبی حدیث ذکر نہیں کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨٢؛حدیث نمبر ٣٤١٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْلَةً حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ تَهْدِي بِهَا قَلْبِي وَتَجْمَعُ بِهَا أَمْرِي وَتَلُمُّ بِهَا شَعَثِي وَتُصْلِحُ بِهَا غَائِبِي وَتَرْفَعُ بِهَا شَاهِدِي وَتُزَكِّي بِهَا عَمَلِي وَتُلْهِمُنِي بِهَا رُشْدِي وَتَرُدُّ بِهَا أُلْفَتِي وَتَعْصِمُنِي بِهَا مِنْ كُلِّ سُوءٍ، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي إِيمَانًا وَيَقِينًا لَيْسَ بَعْدَهُ كُفْرٌ، وَرَحْمَةً أَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْفَوْزَ فِي الْعَطَاءِ وَيُرْوَى فِي الْقَضَاءِ، وَنُزُلَ الشُّهَدَاءِ، وَعَيْشَ السُّعَدَاءِ، وَالنَّصْرَ عَلَى الْأَعْدَاءِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُنْزِلُ بِكَ حَاجَتِي وَإِنْ قَصُرَ رَأْيِي وَضَعُفَ عَمَلِي افْتَقَرْتُ إِلَى رَحْمَتِكَ، فَأَسْأَلُكَ يَا قَاضِيَ الْأُمُورِ وَيَا شَافِيَ الصُّدُورِ كَمَا تُجِيرُ بَيْنَ الْبُحُورِ أَنْ تُجِيرَنِي مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُورِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقُبُورِ، اللَّهُمَّ مَا قَصَّرَ عَنْهُ رَأْيِي وَلَمْ تَبْلُغْهُ نِيَّتِي وَلَمْ تَبْلُغْهُ مَسْأَلَتِي مِنْ خَيْرٍ وَعَدْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ خَيْرٍ أَنْتَ مُعْطِيهِ أَحَدًا مِنْ عِبَادِكَ، فَإِنِّي أَرْغَبُ إِلَيْكَ فِيهِ وَأَسْأَلُكَهُ بِرَحْمَتِكَ رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ ذَا الْحَبْلِ الشَّدِيدِ، وَالْأَمْرِ الرَّشِيدِ أَسْأَلُكَ الْأَمْنَ يَوْمَ الْوَعِيدِ، وَالْجَنَّةَ يَوْمَ الْخُلُودِ مَعَ الْمُقَرَّبِينَ الشُّهُودِ، الرُّكَّعِ السُّجُودِ، الْمُوفِينَ بِالْعُهُودِ، إِنَّكَ رَحِيمٌ وَدُودٌ وَأَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا هَادِينَ مُهْتَدِينَ غَيْرَ ضَالِّينَ وَلَا مُضِلِّينَ، سِلْمًا لِأَوْلِيَائِكَ وَعَدُوًّا لِأَعْدَائِكَ، نُحِبُّ بِحُبِّكَ مَنْ أَحَبَّكَ وَنُعَادِي بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ، اللَّهُمَّ هَذَا الدُّعَاءُ وَعَلَيْكَ الْاسْتِجَابَةُ، وَهَذَا الْجُهْدُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَبْرِي وَنُورًا فِي قَلْبِي وَنُورًا مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَنُورًا مِنْ خَلْفِي وَنُورًا عَنْ يَمِينِي وَنُورًا عَنْ شِمَالِي وَنُورًا مِنْ فَوْقِي وَنُورًا مِنْ تَحْتِي وَنُورًا فِي سَمْعِي وَنُورًا فِي بَصَرِي وَنُورًا فِي شَعْرِي وَنُورًا فِي بَشَرِي وَنُورًا فِي لَحْمِي وَنُورًا فِي دَمِي وَنُورًا فِي عِظَامِي، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا وَأَعْطِنِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا، سُبْحَانَ الَّذِي تَعَطَّفَ الْعِزَّ وَقَالَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَبِسَ الْمَجْدَ وَتَكَرَّمَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَا يَنْبَغِي التَّسْبِيحُ إِلَّا لَهُ، سُبْحَانَ ذِي الْفَضْلِ وَالنِّعَمِ، سُبْحَانَ ذِي الْمَجْدِ وَالْكَرَمِ، سُبْحَانَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ , وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْهُ بِطُولِهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3419

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رات میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنی نماز کے شروع میں کیا پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رات کو کھڑے ہوتے، نماز شروع کرتے وقت یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم»”اے اللہ!جبرائیل، میکائیل و اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے اور کھلے کے جاننے والے، اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے، اے اللہ! تو مجھے اس حق کے بارے میں ہدایت پر ثابت قدم رکھ جس کے بارے میں تیرے اذن کے ساتھ اختلاف کیا جاتا ہے، کیونکہ تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ بِاللَّيْلِ؛نماز تہجد شروع کرتے وقت کی دعا کا بیان:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨٤؛حدیث نمبر ٣٤٢٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: " كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3420

حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں کھڑے ہوتے تو پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها إنه لا يصرف عني سيئها إلا أنت آمنت بك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك»، پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي» پھر آپ جب سر اٹھاتے تو کہتے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والأرضين وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد»، پھر جب آپ سجدہ فرماتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارك الله أحسن الخالقين» پھر آپ سب سے آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان جو دعا پڑھتے تھے، وہ دعا یہ تھی: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ بِاللَّيْلِ؛نماز تہجد شروع کرتے وقت کی دعا کا بیان:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨٥؛حدیث نمبر ٣٤٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا إِنَّهُ لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، آمَنْتُ بِكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ "، فَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي "، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرَضِينَ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ "، فَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، ثُمَّ يَكُونُ آخِرَ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالسَّلَامِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3421

حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو (تکبیر تحریمہ کے بعد) کہتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك»، پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري وعظامي وعصبي»، پھر جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو آپ کہتے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء»، پھر جب سجدہ میں جاتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارك الله أحسن الخالقين»، پھر آپ سب سے آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ بِاللَّيْلِ؛نماز تہجد شروع کرتے وقت کی دعا کا بیان:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨٦؛حدیث نمبر ٣٤٢٢)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَيُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: حَدَّثَنِي عَمِّي، وَقَالَ يُوسُفُ أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَعْرَجُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ "، فَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي وَعَصَبِي "، فَإِذَا رَفَعَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ "، فَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ "، ثُمَّ يَقُولُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3422

حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں تک اٹھاتے، اور ایسا اس وقت بھی کرتے تھے جب اپنی قرأت پوری کر لیتے تھے اور رکوع کا ارادہ کرتے تھے، اور ایسا ہی کرتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے، البتہ نماز کے دوران بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کرتے تھے، پھر جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اسی طرح، پھر تکبیر (اللہ اکبر) کہتے اور نماز شروع کرتے وقت تکبیر (تحریمہ) کے بعد پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك أنا بك وإليك ولا منجا ولا ملجأ إلا إليك أستغفرك وأتوب إليك» (یہ دعا پڑھنے کے بعد) پھر قرأت کرتے، رکوع میں جاتے، رکوع میں آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي خشع سمعي وبصري ومخي وعظمي لله رب العالمين» پھر جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو کہتے: «سمع الله لمن حمده»، «سمع الله لمن حمده» کہنے کے فوراً بعد آپ پڑھتے: «اللهم ربنا ولك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما شئت من شيء» اس کے بعد جب سجدہ کرتے تو سجدوں میں پڑھتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين» ۔ اور جب نماز سے سلام پھیرنے چلتے تو (سلام پھیرنے سے پہلے) پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی پر عمل ہے امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب کا، ۳- امام احمد بن حنبل اس بات کے قائل نہیں ہے، ۴- اہل کوفہ اور ان کے علاوہ کے بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نفلی نمازوں میں پڑھتے تھے نہ کہ فرض نمازوں میں۔ ۳- میں نے ابواسماعیل ترمذی محمد بن اسماعیل بن یوسف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے سلیمان بن داود ہاشمی کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے ذکر کیا اسی حدیث کا پھر کہا: یہ حدیث میرے نزدیک ایسے ہی مستند اور قوی ہے، جیسے زہری کی وہ حدیث قوی و مستند ہوتی ہے جسے وہ سالم بن عبداللہ سے اور سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ بِاللَّيْلِ؛نماز تہجد شروع کرتے وقت کی دعا کا بیان:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨٧؛حدیث نمبر ٣٤٢٣)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ ذَلِكَ أَيْضًا إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهَا إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنْ سَجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ فَكَبَّرَ، وَيَقُولُ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، وَلَا مَنْجَا وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ "، ثُمَّ يَقْرَأُ، فَإِذَا رَكَعَ كَانَ كَلَامُهُ فِي رُكُوعِهِ أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَأَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ "، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يُتْبِعُهَا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ "، فَإِذَا سَجَدَ قَالَ فِي سُجُودِهِ: " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَأَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ "، وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَحْمَدُ لَا يَرَاهُ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ يَقُولُ: هَذَا فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَلَا يَقُولُهُ فِي الْمَكْتُوبَةِ، سَمِعْت أَبَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي التِّرْمِذِيَّ، مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل بْنِ يُوسُفَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ الْهَاشِمِيَّ، يَقُولُ: وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَذَا عِنْدَنَا مِثْلُ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3423

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سویا ہوا تھا، رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا تو ان میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدے کی متابعت کرتے ہوئے سجدہ کیا، میں نے سنا وہ پڑھ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ لے، اور اس کے عوض مجھ پر سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس (میرے لیے آخرت کا) ذخیرہ بنا دے، اور اسے میرے لیے ایسے ہی قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے حضرت داود علیہ السلام کے لیے قبول کیا تھا“۔ ابن جریج کہتے ہیں: مجھ سے تمہارے (یعنی حسن بن عبیداللہ کے) دادا (عبیداللہ) نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) سجدہ کی ایک آیت پڑھی، پھر سجدہ کیا،حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے آپ کو (سجدہ میں) پڑھتے ہوئے سنا آپ وہی دعا پڑھ رہے تھے، جو (خواب والے) آدمی نے آپ کو درخت کی دعا سنائی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ؛سجدہ تلاوت میں آدمی کیا پڑھے؟:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨٩؛حدیث نمبر ٣٤٢٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ وَأَنَا نَائِمٌ كَأَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ، فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي وَسَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ لِي جَدُّكَ،: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةً ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ مِثْلَ مَا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3424

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت سجدہ تلاوت میں پڑھتے تھے: «سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته» ”میرا چہرہ اس ذات کے آگے سجدہ ریز ہوا جس نے اسے اپنی قدرت و قوت سے پیدا کیا، جس نے اسے سننے کے لیے کان اور دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ؛سجدہ تلاوت میں آدمی کیا پڑھے؟:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٨٩؛حدیث نمبر ٣٤٢٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ: سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3425

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص گھر سے نکلتے وقت: «بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله» ”میں نے اللہ کے نام سے شروع کیا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔"تو اس شخص سے یہ کہا جاتا ہے: تمہاری کفایت کر دی گئی، اور تم (دشمن کے شر سے) بچا لیے گئے، اور شیطان تم سے دور ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ؛گھر سے نکلتے وقت کیا پڑھے؟:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٠؛حدیث نمبر ٣٤٢٦)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ يَعْنِي إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ: بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، يُقَالُ لَهُ كُفِيتَ وَوُقِيتَ وَتَنَحَّى عَنْهُ الشَّيْطَانُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3426

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «بسم الله توكلت على الله اللهم إنا نعوذ بك من أن نزل أو نضل أو نظلم أو نظلم أو نجهل أو يجهل علينا» ” اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے، بھروسہ کرتا ہوں اللہ پر، اے اللہ ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم پھسل جائیں یا ہم گمراہ ہو جائیں یا ہم زیادتی کریں یا ہم پر زیادتی کی جائے یا ہم جہالت کا مظاہرہ کریں یا ہمارے خلاف جہالت کا مظاہرہ کیا جائے “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٠؛حدیث نمبر ٣٤٢٧)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3427

حضرت عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير» ”نہیں کوئی معبود برحق ہے مگر اللہ اکیلا، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لیے ملک (بادشاہت) ہے اور اسی کے لیے حمد و ثناء ہے وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے، وہ زندہ ہے کبھی مرے گا نہیں، اسی کے ہاتھ میں ساری بھلائیاں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے“، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند فرماتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عمرو بن دینار حضرت زبیر رضی الله عنہ کے گھر والوں کے آمد و خرچ کے منتظم تھے، انہوں نے یہ حدیث سالم بن عبداللہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ؛بازار میں داخل ہو تو کیا پڑھے؟:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩١؛حدیث نمبر ٣٤٢٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَلَقِيَنِي أَخِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ دَخَلَ السُّوقَ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَرَفَعَ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا الْحَدِيثَ نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3428

عمرو بن دینار حضرت زبیر رضی الله عنہ کے گھر کے منتظم کار، سالم بن عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے، اور وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا حضرت عمر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بازار جاتے ہوئے یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير» تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دے گا اور دس لاکھ اس کے گناہ مٹا دے گا اور جنت میں اس کے لیے ایک گھر بنائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ عمرو بن دینار بصریٰ شیخ ہیں، اور بعض اصحاب حدیث نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے۔ ۲- یحییٰ بن سلیم طائفی نے یہ حدیث عمران بن مسلم سے، عمران نے عبداللہ بن دینار سے، اور عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور اس میں انہوں نے عمر رضی الله عنہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ؛بازار میں داخل ہو تو کیا پڑھے؟:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩١؛حدیث نمبر ٣٤٢٩)

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ فِي السُّوقِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ هَذَا هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرً أَحَادِيثَ لا يُتَابَعُ عَلَيْهَا، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ. وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3429

ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہما نے گواہی دی کہ ان دونوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو «لا إله إلا الله والله أكبر» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے: (ہاں) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب: «لا إله إلا الله وحده» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے“، کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کہتا ہے (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں“، تو اللہ کہتا ہے، (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک نہیں ہے، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا الله له الملك» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے“، تو اللہ کہتا ہے: کوئی معبود برحق نہیں مگر میں، میرے لیے ہی بادشاہت ہے اور میرے لیے ہی حمد ہے، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہو سکتا“، تو اللہ کہتا ہے: (ہاں) میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میری مدد کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوسکتا، اور آپ فرماتے تھے: جو ان کلمات کو اپنی بیماری میں کہے، اور مر جائے تو آگ اسے نہ کھائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اس سند سے شعبہ نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اغر ابو مسلم سے، اور ابو مسلم نے ابوہریرہ اور ابو سعید خدری سے اس حدیث کے مانند ہم معنی حدیث روایت کی، اور شعبہ نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ الْعَبْدُ إِذَا مَرِضَ؛آدمی جب بیمار ہو تو کیا دعا پڑھے؟:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٢؛حدیث نمبر ٣٤٣٠)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَأَنَا أَكْبَرُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِي، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، قَالَ اللَّهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِي لَا شَرِيكَ لِي، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ اللَّهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ اللهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِي، وَكَانَ يَقُولُ: مَنْ قَالَهَا فِي مَرَضِهِ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3430

حضرت عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مصیبت میں گرفتار کسی شخص کو دیکھے اور کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا و مصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے فضیلت دی، اپنی بہت سی مخلوقات پر“، تو وہ زندگی بھر ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ وہ کیسی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور عمرو بن دینار آل زبیر کے خزانچی ہیں اور بصریٰ شیخ ہیں اور حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں، اور یہ سالم بن عبداللہ بن عمر سے کئی احادیث کی روایت میں منفرد ہیں، ۳- ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب آدمی کسی کو مصیبت میں گرفتار دیکھے تو اس بلا سے آہستہ سے پناہ مانگے مصیبت زدہ شخص کو نہ سنائے، ۴- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا رَأَى مُبْتَلًى؛جب کوئی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو کیا کہے؟:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٣؛حدیث نمبر ٣٤٣١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ رَأَى صَاحِبَ بَلَاءٍ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، إِلَّا عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ مَا عَاشَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانِ آلِ الزُّبَيْرِ هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِأَحَادِيثَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا رَأَى صَاحِبَ بَلَاءٍ فَتَعَوَّذَ مِنْهُ يَقُولُ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ وَلَا يُسْمِعُ صَاحِبَ الْبَلَاءِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3431

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی شخص کو مصیبت میں مبتلا دیکھے پھر کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» تو اسے یہ بلا نہ پہنچے گی۔‌‌‌‏“ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا رَأَى مُبْتَلًى؛جب کوئی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو کیا کہے؟:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٣؛حدیث نمبر ٣٤٣٢)

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَأَى مُبْتَلًى فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، لَمْ يُصِبْهُ ذَلِكَ الْبَلَاءُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3432

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں بہت سی لغو باتیں ہوئی ہوں تو وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں۔‌‌‌‏“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں حضرت ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ الْمَجْلِسِ؛مجلس سے اٹھتے وقت کیا پڑھے؟:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٤؛حدیث نمبر ٣٤٣٣)

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ". وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3433

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محفل سے اٹھنے سے پہلے سو مرتبہ یہ کلمات پڑھا کرتے تھے: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» ”اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا ہے“،۔ سفیان نے محمد بن سوقہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ الْمَجْلِسِ؛مجلس سے اٹھتے وقت کیا پڑھے؟:جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٤؛حدیث نمبر ٣٤٣٤)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ يُعَدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةُ مَرَّةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَقُومَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3434

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «لا إله إلا الله الحليم الحكيم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السموات والأرض ورب العرش الكريم» ”کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ بلند و بردبار کے، اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اس اللہ کے جو عرش عظیم کا رب (مالک) ہے اور کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اس اللہ کے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور قابل عزت عرش کا رب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا ابن ابوعدی نے، اور انہوں نے ہشام سے، ہشام نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالعالیہ سے، اور ابوالعالیہ نے فرمایا حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ روایت کے مثل روایت کی، ۳- اس باب میں حضرت علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ؛تکلیف و مصیبت کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٥؛حدیث نمبر ٣٤٣٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْحَكِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمُ ". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3435

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پریشان ہوتے تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے پھر کہتے: «سبحان الله العظيم» ”اللہ پاک و برتر ہے“ اور جب دعا میں زیادہ کوشش کرتے تو کہتے : «يا حي يا قيوم» ”اے زندہ ذات! اے کائنات کا نظام چلانے والے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ؛تکلیف و مصیبت کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٥؛حدیث نمبر ٣٤٣٦)

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا أَهَمَّهُ الْأَمْرُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فِي الدُّعَاءِ، قَالَ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3436

حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ”میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے“، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- مالک بن انس نے یہ حدیث اس طرح روایت کی کہ انہیں یہ حدیث یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے پہنچی ہے، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ (یعنی: مالک نے یہ حدیث بلاغاً روایت کی ہے) ۳- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے اور انہوں نے یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے روایت کی ہے، البتہ ان کی روایت میں «عن سعيد بن المسيب عن خولة» ہے، ۴- لیث کی حدیث ابن عجلان کی روایت کے مقابل میں زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ مَا يَقُولُ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلاً؛آدمی جب کسی منزل پر اترے تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٦؛حدیث نمبر ٣٤٣٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، وَيَقُولُ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ خَوْلَةَ، قَالَ: وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَجْلَانَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3437

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر نکلتے اور اپنی سواری پر سوار ہوتے تو اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا بنصحك واقلبنا بذمة اللهم ازو لنا الأرض وهون علينا السفر اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب» ”اے اللہ! تو ہی رفیق ہے سفر میں،اور ، میری عدم موجودگی میں میرے گھر کا دیکھ بھال کرنے والا نگہبان ہے،اپنی ساری خیر خواہیوں کے ساتھ ہمارے ساتھ میں رہ، اور ہمیں اپنے ٹھکانے پر اپنی پناہ و حفاظت میں لوٹا (واپس پہنچا)، اے اللہ! تو زمین کو ہمارے لیے سمیٹ دے اور سفر کو آسان کر دے، اے اللہ! میں سفر کی مشقتوں اور تکلیف سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور پناہ مانگتا ہوں ناکام و نامراد لوٹنے کے رنج و غم سے (یا لوٹنے پر گھر کے بدلے ہوئے برے حال سے)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں اسے نہیں جانتا تھا مگر ابن ابی عدی کی روایت سے یہاں تک کہ سوید نے مجھ سے یہ حدیث (مندرجہ ذیل سند سے) سوید بن نصر کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا عبداللہ بن مبارک نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی، ۲- یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شعبہ کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مُسَافِرًا؛جب آدمی سفر کے لیے نکلے تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٧؛حدیث نمبر ٣٤٣٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ قَالَ بِأُصْبُعِهِ وَمَدَّ شُعْبَةُ بِأُصْبُعهِ، قَالَ:اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا بِنُصْحِكَ وَاقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ، اللَّهُمَّ ازْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: كُنْتُ لَا أَعْرِفُ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، حَتَّى حَدَّثَنِي بِهِ سُوَيْدٌ. حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3438

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو کہتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أهلنا اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب ومن الحور بعد الكون ومن دعوة المظلوم ومن سوء المنظر في الأهل والمال» ”اے اللہ! تو ہمارے سفر کا ساتھی ہے، تو ہمارے پیچھے ہمارے اہل و عیال کا نگہبان ہے، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ رہ ہمارے اس سفر میں تو ہمارا نگہبان بن جا ہمارے گھر والوں میں، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی تکلیف و تھکان سے اور ناکام نامراد لوٹنے کے غم سے، اور مظلوم کی بد دعا سے اور مال اور اہل خانہ میں واقع شدہ کسی برے منظر سے (بری صورت حال سے)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «الحور بعد الكون» کی جگہ «الحور بعد الكور» بھی مروی ہے، اور «الحور بعد الكور» یا «الحور بعد الكون» دونوں کے معنی ایک ہی ہیں، کہتے ہیں: اس کا معنی یہ ہے کہ پناہ مانگتا ہوں ایمان سے کفر کی طرف لوٹنے سے یا طاعت سے معصیت کی طرف لوٹنے سے، مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد خیر سے شر کی طرف لوٹنا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مُسَافِرًا؛جب آدمی سفر کے لیے نکلے تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٧؛حدیث نمبر ص٣٤٣٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرَ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَمِنَ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ وَمِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَمِنْ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ أَيْضًا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ أَوِ الْكَوْرِ وَكِلَاهُمَا لَهُ وَجْهٌ يُقَالُ: إِنَّمَا هُوَ الرُّجُوعُ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَى الْكُفْرِ، أَوْ مِنَ الطَّاعَةِ إِلَى الْمَعْصِيَةِ، إِنَّمَا يَعْنِي مِنَ الرُّجُوعِ مِنْ شَيْءٍ إِلَى شَيْءٍ مِنَ الشَّرِّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3439

حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو یہ دعا پڑھتے: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ”(ہم سلامتی کے ساتھ سفر سے) واپس آنے والے ہیں، ہم (اپنے رب کے حضور) توبہ کرنے والے ہیں، ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثوری نے یہ حدیث ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے براء سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس حدیث کی سند میں ربیع ابن براء کا ذکر نہیں کیا ہے، اور شعبہ کی روایت زیادہ صحیح و درست ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابن عمر، انس اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا قَدِمَ مِنَ السَّفَرِ؛سفر سے لوٹے تو کیا دعا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٨؛حدیث نمبر ص٣٤٤٠)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ: آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ، وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ أَصَحُّ، وَفِي الْبَابِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3440

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس لوٹتے اور مدینہ کی دیواریں دکھائی دینے لگتیں تو آپ اپنی اونٹنی (سواری) کو تیز کردیتے اور اگر اپنی اونٹنی کے علاوہ کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے بھی تیز بھگاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا قَدِمَ مِنَ السَّفَرِ؛سفر سے لوٹے تو کیا دعا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٩؛حدیث نمبر ص٣٤٤١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلَى جُدْرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3441

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ تھام لیتے تھے اور اس کا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا اور آپ کہتے: «استودع الله دينك وأمانتك وآخر عملك» ”میں تیرا دین، تیری امانت، ایمان اور تیری زندگی کا آخری عمل (سب) اللہ کی سپردگی و حوالگی میں دیتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا وَدَّعَ إِنْسَانًا؛کسی انسان کو الوداع (رخصت کرتے) وقت کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٩؛حدیث نمبر ص٣٤٤٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ السُّلَيْمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَلَا يَدَعُهَا حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: اسْتَوْدِعِ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3442

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ کرتا تو حضرت ابن عمر رضی الله عنہما اس سے کہتے: ”میرے قریب آؤ میں تمہیں اسی طرح سے الوداع کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں الوداع کرتے اور رخصت کرتے تھے، آپ ہمیں رخصت کرتے وقت کہتے تھے: «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جو سالم بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آئی ہے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا وَدَّعَ إِنْسَانًا؛کسی انسان کو الوداع (رخصت کرتے) وقت کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٩؛حدیث نمبر ص٣٤٤٣)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لِلرَّجُلِ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا: ادْنُ مِنِّي أُوَدِّعْكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُنَا، فَيَقُولُ: " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3443

حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے“، اس نے کہا: مزید اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے“، اس نے کہا: مزید کچھ اضافہ فرما دیجئیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تم رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر (بھلائی کے کام) آسان کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٤٩٩؛حدیث نمبر ص٣٤٤٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي، قَالَ: " زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى "، قَالَ: زِدْنِي، قَالَ: " وَغَفَرَ ذَنْبَكَ "، قَالَ: زِدْنِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: " وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3444

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں تو آپ مجھے کچھ وصیت فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں کہیں بھی اونچائی و بلندی پر چڑھو اللہ کی تکبیر پڑھو، (اللہ اکبر کہتے رہو) پھر جب آدمی پلٹ کر سفر پر نکلا تو آپ نے فرمایا: «اللهم اطو له الأرض وهون عليه السفر» ”اے اللہ! اس کے لیے مسافت کی دوری کو لپیٹ کر مختصر کر دے اور اس کے لیے سفر کو آسان بنا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب منہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٠؛حدیث نمبر ص٣٤٤٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ فَأَوْصِنِي، قَالَ: " عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ "، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ: اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3445

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی الله عنہ کے پاس موجود تھا، انہیں سواری کے لیے ایک چوپایہ دیا گیا، جب انہوں نے اپنا پیر رکاب میں ڈالا تو کہا: «بسم اللہ» ”میں اللہ کا نام لے کر سوار ہو رہا ہوں“ اور پھر جب پیٹھ پر جم کر بیٹھ گئے تو کہا: «الحمد للہ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، پھر آپ نے یہ آیت: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے جو اسے ناتھ پہنا سکتے، لگام دے سکتے، ہم اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانے والے ہیں“، پڑھی، پھر تین بار «الحمد للہ» کہا، اور تین بار «اللہ اکبر» کہا، پھر یہ دعا پڑھی: «سبحانك إني قد ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ” پاکی ہے اُسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے بُوتے کی نہ تھی۔ اور بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔“، پھر علی رضی الله عنہ ہنسے، میں نے کہا: امیر المؤمنین کس بات پر آپ ہنسے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ویسا ہی کیا جیسا میں نے کیا ہے، پھر آپ ہنسے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا رب اپنے بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور ذات نہیں ہے جو گناہوں کو معاف کرسکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ النَّاقَةَ؛اونٹنی پر سوار ہو تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠١؛حدیث نمبر ص٣٤٤٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ {13} وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ {14} سورة الزخرف آية 13, -14 ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ "، ثُمَّ ضَحِكَ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3446

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر فرماتے تو اپنی سواری پر چڑھتے اور تین بار «اللہ اکبر» کہتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» اس کے بعد آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك في سفري هذا من البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا المسير واطو عنا بعد الأرض اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أهلنا» ”اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا طالب ہوں اور ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جس سے تو راضی ہو، اے اللہ تو اس سفر کو آسان کر دے، زمین کی دوری کو لپیٹ کر ہمارے لیے کم کر دے، اے اللہ تو سفر کا ساتھی ہے، اور گھر میں نگہبان ہے، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ ہمارے سفر میں رہ، اور گھر والوں میں ہماری نگہبانی فرما“، اور آپ جب گھر کی طرف پلٹتے تو کہتے تھے: «آيبون إن شاء الله تائبون عابدون لربنا حامدون» ”ہم لوٹنے والے ہیں اپنے گھر والوں میں ان شاءاللہ، توبہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، حمد بیان کرنے والے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ النَّاقَةَ؛اونٹنی پر سوار ہو تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠١؛حدیث نمبر ص٣٤٤٧)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ كَبَّرَ ثَلَاثًا، وَيَقُولُ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ {13} وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ {14} سورة الزخرف آية 13-14، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِي هَذَا مِنَ الْبِرِّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا الْمَسِيرَ وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَ الْأَرْضِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا "، وَكَانَ يَقُولُ: إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ: " آيِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3447

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور باپ کی بد دعا اپنے بیٹے کے حق میں“۔ ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ، اسی جیسی حدیث روایت کی، انہوں نے اس حدیث میں «ثلاث دعوات مستجابات» کے الفاظ بڑھائے ہیں، (یعنی بلاشبہہ ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے۔ ۲- اور ابو جعفر رازی کا نام میں نہیں جانتا، (لیکن) ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٢؛حدیث نمبر ص٣٤٤٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ "، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ: مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ هَذَا الَّذِي رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ يُقَالُ لَهُ: أَبُو جَعْفَرٍ الْمُؤَذِّنُ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ غَيْرَ حَدِيثٍ، وَلَا نَعْرِفُ اسْمَه.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3448

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہوا چلتی ہوئی دیکھتے تو کہتے: «‌‌‌‏اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں، اور جو خیر اس میں ہے وہ چاہتا ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر اس میں چھپا ہوا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں حضرت ابی بن کعب سے بھی روایت ہے اور یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا هَاجَتِ الرِّيحُ؛جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٢؛حدیث نمبر ص٣٤٤٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الرِّيحَ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وفي الباب، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3449

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بجلی کی گرج اور کڑک سنتے تو فرماتے: «اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعافنا قبل ذلك» ”اے اللہ! تو ہمیں اپنے غضب کے ذریعے ہلاک نہ کرنا، تو ہمیں اپنے عذاب کے ذریعے ہلاک نہ کرنا اس سے پہلے ہمیں عافیت عطا کر دینا “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ؛بجلی کی گرج سنے تو کیا کہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٣؛حدیث نمبر ص٣٤٥٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3450

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تھے تو کہتے تھے: «اللهم أهلله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله» ”اے اللہ! اسے بھلائی، سلامتی اور اسلام کے ہمراہ ہم پر طلوع کرنا(پھر چاند کو مخاطب کر کے یہ فرماتے)، (اے چاند!) میرا اور تمہارا رب اللہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ؛نیا چاند (ہلال) دیکھے تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٤؛حدیث نمبر ص٣٤٥١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنِي بِلَالُ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3451

حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپس میں لڑ پڑے ان میں سے ایک کے چہرے سے غصہ عیاں ہو رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اس کلمے کو کہہ لے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے، وہ کلمہ یہ ہے: «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں سلیمان بن سرد سے بھی روایت ہے، اور یہ حدیث مرسل ہے۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی، ۳- عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حضرت معاذ بن جبل سے نہیں سنا ہے،حضرت معاذ بن جبل کا انتقال حضرت عمر بن خطاب کی خلافت میں ہوا ہے، اور حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ جب شہید ہوئے ہیں اس وقت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ چھ برس کے تھے ۴- اسی طرح شعبہ نے بھی حکم کے واسطہ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت کی ہے، ۵- عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، اور ان کو دیکھا ہے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی کنیت ابوعیسیٰ ہے اور ابی لیلیٰ کا نام یسار ہے، اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سو بیس صحابہ کو پایا ہے اور دیکھا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ عِنْدَ الْغَضَبِ؛غصہ آنے پر کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٤؛حدیث نمبر ص٣٤٥٢)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِ أَحَدِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ غَضَبُهُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ "، وفي الباب، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ. قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، مَاتَ مُعَاذٌ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَقُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى غُلَامٌ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ، هَكَذَا رَوَى شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَرَآهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى يكنى أبا عيسى، وأبو ليلى اسمه يسار، وروي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: أَدْرَكْتُ عِشْرِينَ وَمِائَةً مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3452

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: تم میں سے جب کوئی اچھا اور پسندیدہ خواب دیکھے تو سمجھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور جو دیکھا ہو اسے لوگوں سے بیان کرے، اور جب خراب اور ناپسندیدہ چیزوں میں سے کوئی چیز دیکھے تو سمجھے کہ یہ شیطان کی جانب سے ہے پھر اللہ سے اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے، تو یہ چیز اسے کچھ نقصان نہ پہنچائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے، ۲- ابن الہاد کا نام یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد مدینی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ان سے امام مالک اور دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابوقتادہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا رَأَى رُؤْيَا يَكْرَهُهَا؛برے اور ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کیا کہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٥؛حدیث نمبر ص٣٤٥٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ، فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِمَا رَأَى، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُهُ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ ". وفي الباب، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَابْنُ الْهَادِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ الْمَدِينِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ وَالنَّاسُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3453

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ جب کھجور کا پہلا پھل دیکھتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (توڑ کر) لاتے، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیتے تو فرماتے «اللهم بارك لنا في ثمارنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا ومدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة وأنا أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك به لمكة ومثله» ”اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے، اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے، ہمارے صاع میں برکت دے، ہمارے مد میں برکت دے، اے اللہ! حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے ہیں، تیرے دوست ہیں تیرے نبی ہیں، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، انہوں نے دعا کی تھی مکہ کے لیے میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مدینہ کے لیے، اسی طرح کی دعا جس طرح کی دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے کی تھی، بلکہ اس کے دوگنا (برکت دے)“،حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر آپ کو جو کوئی چھوٹا بچہ نظر آتا آپ اسے بلاتے اور یہ (پہلا) پھل اسے دے دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا رَأَى الْبَاكُورَةَ مِنَ الثَّمَرِ؛جب موسم کا پہلا پھل دیکھے تو کیا کہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٦؛حدیث نمبر ص٣٤٥٤)

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثِمَارِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَأَنَا أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ بِهِ لِمَكَّةَ، وَمِثْلِهِ مَعَهُ، قَالَ: ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ يَرَاهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3454

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ (دونوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی الله عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، وہ ایک برتن لے کر ہم لوگوں کے پاس آئیں، اس برتن میں دودھ تھا میں آپ کے دائیں جانب بیٹھا ہوا تھا اور خالد آپ کے بائیں طرف تھے، آپ نے دودھ پیا پھر مجھ سے فرمایا: ”پینے کی باری تو تمہاری ہے، لیکن تم چاہو تو اپنا حق (اپنی باری) خالد بن ولید کو دے دو“، میں نے کہا: آپ کا جوٹھا پینے میں اپنے آپ پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ کھانا کھلائے، اسے کھا کر یہ دعا پڑھنی چاہیئے: «اللهم بارك لنا فيه وأطعمنا خيرا منه» ”اے اللہ! ہمیں اس میں برکت اور مزید اس سے اچھا کھلا“، اور جس کو اللہ دودھ پلائے اسے کہنا چاہیئے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» ”اے اللہ! ہمیں اس میں برکت اور مزید اس سے اچھا کھلا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کھانے اور پینے (دونوں) کی جگہ کھانے و پینے کی ضرورت پوری کر سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض محدثین نے یہ حدیث علی بن زید سے روایت کی ہے، اور انہوں نے عمر بن حرملہ کہا ہے۔ جب کہ بعض نے عمر بن حرملہ کہا ہے اور عمرو بن حرملہ کہنا صحیح نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا؛کھانا کھا کر کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٦؛حدیث نمبر ص٣٤٥٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَلَى مَيْمُونَةَ فَجَاءَتْنَا بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا عَلَى يَمِينِهِ وَخَالِدٌ عَلَى شِمَالِهِ، فَقَالَ لِي: " الشَّرْبَةُ لَكَ، فَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا "، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ أُوثِرُ عَلَى سُؤْرِكَ أَحَدًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ الطَّعَامَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ، وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرُ اللَّبَنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَمْرُو بْنُ حَرْمَلَةَ، وَلَا يَصِحُّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3455

حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ کہتے: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغنى عنه ربنا» ”اللہ ہی کے لیے ہیں ساری تعریفیں، بہت زیادہ تعریفیں، پاکیزہ روزی ہے، بابرکت روزی ہے، ہمارا پروردگار اس سے بے نیازی اور استغناء اختیار نہ کرے “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّعَامِ؛جب کھانا کھا چکے تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٧؛حدیث نمبر ص٣٤٥٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رُفِعَتِ الْمَائِدَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3456

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا فرماتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ”سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّعَامِ؛جب کھانا کھا چکے تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٨؛حدیث نمبر ص٣٤٥٧)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ عَبِيدَةَ، قَالَ حَفْصٌ: عَنْ ابْنِ أَخِي أَبِي سَعِيدٍ، وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ ".

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3457

حضرت معاذ بن انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھانا کھایا پھر کھانے سے فارغ ہو کر کہا: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ”تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا، میری طرف سے محنت مشقت اور جدوجہد اور قوت و طاقت کے استعمال کے بغیر، تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور ابو مرحوم کا نام عبدالرحیم بن میمون ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّعَامِ؛جب کھانا کھا چکے تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٨؛حدیث نمبر ص٣٤٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو مَرْحُومٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3458

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب اسے کوئی فرشتہ نظر آتا ہے، اور جب گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ اس وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ نَهِيقَ الْحِمَارِ؛جب گدھے کی آواز سنے تو کیا پڑھے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٨؛حدیث نمبر ص٣٤٥٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3459

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر جو کوئی بھی بندہ: «لا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہے گا ”اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی کام کے کرنے کی کسی میں نہ کوئی طاقت ہے اور نہ ہی قوت“، اس کے (چھوٹے چھوٹے) گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ سمندر کی جھاگ کی طرح (بہت زیادہ) ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی طرح ابوبلج سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا، اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن ابی سلیم ہے اور انہیں یحییٰ بن سلیم بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّحْمِيدِ؛تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٩؛حدیث نمبر ص٣٤٦٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " مَا عَلَى الْأَرْضِ أَحَدٌ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِلَّا كُفِّرَتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَيُقَالُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. وَحَاتِمٌ وَ يُكَنَّى أبَا يُونُسْ القُشَيرِي.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3460

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، جب ہم واپس لوٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے کہی، آپ نے فرمایا: ”تمہارا رب بہرا نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب ہے، وہ تمہارے درمیان اور تمہاری سواریوں کے درمیان موجود ہے، پھر آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتا دوں؟ وہ: «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعثمان النہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، ۳- اور ابونعامہ کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے، ۴- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «بينكم وبين رءوس رحالكم» سے مراد یہ ہے کہ اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّحْمِيدِ؛تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٠٩؛حدیث نمبر ص٣٤٦١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرَ النَّاسُ تَكْبِيرَةً وَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَصَمَّ وَلَا غَائِبٍ هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ، وَأَبُو نَعَامَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ إِنَّمَا يَعْنِي عِلْمَهُ وَقُدْرَتَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3461

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ”اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے،جنت ایک ہموار میدان ہے اور اس میں درخت لگانے کا طریقہ یہ ہے،یہ کلمہ پڑھا جاے: «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت ہے اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٠؛حدیث نمبر ص٣٤٦٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ، وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ". قَالَ: وفي الباب، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3462

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم نشینوں سے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز و ناکام رہے گا کہ ایک دن میں ہزار نیکیاں کما لے؟“ آپ کے ہم نشینوں میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا: ہم میں سے کوئی کس طرح ہزار نیکیاں کمائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی سو مرتبہ تسبیح پڑھے گا (یعنی سبحان اللہ) تو اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور اس کی ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٠؛حدیث نمبر ص٣٤٦٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجُلَسَائِهِ: " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ " فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ: " يُسَبِّحُ أَحَدُكُمْ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ تُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ وَتُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ سَيِّئَةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3463

حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے: «سبحان الله العظيم وبحمده» کہا، اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اور ہم اسے صرف ابوالزبیر کی روایت سے جسے وہ جابر کے واسطے سے روایت کرتے ہیں جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١١؛حدیث نمبر ص٣٤٦٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3464

حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص: «سبحان الله العظيم وبحمده» کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١١؛حدیث نمبر ص٣٤٦٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3465

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو بار: «سبحان الله وبحمده» کہے گا اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١١؛حدیث نمبر ص٣٤٦٦)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3466

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں (آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں) مگر میزان میں بھاری ہیں (تول میں وزنی ہیں) رحمن کو پیارے ہیں (وہ یہ ہیں) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٢؛حدیث نمبر ص٣٤٦٧)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3467

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں سو بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير»، تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہو گا، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور یہ چیز اس کے لیے شام تک شیطان کے شر سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی، اور قیامت کے دن کوئی اس سے اچھا عمل لے کر نہ آئے گا سوائے اس شخص کے جس نے یہی عمل اس شخص سے زیادہ کیا ہو۔ اسی سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: ”جس نے سو مرتبہ: «سبحان الله وبحمده» کہا اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٢؛حدیث نمبر ص٣٤٦٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عِدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ". وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3468

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح و شام میں سو (سو) مرتبہ: «سبحان الله وبحمده» کہے، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ پڑھی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٢؛حدیث نمبر ص٣٤٦٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ، إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3469

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: «سبحان الله وبحمده» کہا کرو،جس نے یہ کلمہ ایک بار کہا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے دس بار کہا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے سو بار کہا اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جو زیادہ کہے گا اللہ اس کی نیکیوں میں بھی اضافہ فرما دے گا، اور جو اللہ سے بخشش چاہے گا اللہ اس کو بخش دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٣؛حدیث نمبر ص٣٤٧٠)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ: " قُولُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، مَنْ قَالَهَا مَرَّةً كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا، وَمَنْ قَالَهَا عَشْرًا كُتِبَتْ لَهُ مِائَةً، وَمَنْ قَالَهَا مِائَةً كُتِبَتْ لَهُ أَلْفًا، وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ، وَمَنِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ غَفَرَ لَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3470

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سو بار صبح اور سو بار شام تسبیح پڑھی (یعنی «سبحان الله» کہا) تو وہ سو حج کیے ہوئے شخص کی طرح ہو جاتا ہے۔ اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام میں اللہ کی حمد بیان کی (یعنی «الحمدللہ» کہا) اس نے تو ان فی سبیل اللہ غازیوں کی سواریوں کے لیے سو گھوڑے فراہم کئے (راوی کو شک ہو گیا یہ کہا یا یہ کہا) تو اس نے سو جہاد کئے، اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام کو اللہ کی تہلیل بیان کی (یعنی «لا إلہ الا اللہ») کہا تو وہ ایسا ہو جائے گا جیسا اس نے اولاد حضرت اسماعیل علیہ السلام میں سے سو غلام آزاد کئے اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام کو «اللہ اکبر» کہا تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے زیادہ نیک عمل لے کر حاضر نہ ہو گا، سوائے اس کے جس نے اس سے زیادہ کہا ہو گا یا اس کے برابر کہا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٣؛حدیث نمبر ص٣٤٧١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ حُمْرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَجَّ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَمَنْ حَمِدَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَمَلَ عَلَى مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ قَالَ: غَزَا مِائَةَ غَزْوَةٍ وَمَنْ هَلَّلَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، وَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ لَمْ يَأْتِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بِأَكْثَرَ مِمَّا أَتَى بِهِ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَى مَا قَالَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3471

زہری کہتے ہیں کہ رمضان میں ایک بار سبحان اللہ کہنا غیر رمضان میں ہزار بار سبحان اللہ کہنے سے زیادہ بہتر ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٤؛حدیث نمبر ص٣٤٧٢)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الأَسْوَدِ الْعِجْلِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: تَسْبِيحَةٌ فِي رَمَضَانَ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ تَسْبِيحَةٍ فِي غَيْرِهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3472

حضرت تمیم الداری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دس مرتبہ (یہ پڑھے) «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له إلها واحدا أحدا صمدا لم يتخذ صاحبة ولا ولدا ولم يكن له كفوا أحد» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، وہ تنہا اکیلا معبود ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ اپنا کوئی شریک حیات بنایا اور نہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کے برابر ہے“، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے چالیس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- خلیل بن مرہ محدثین کے یہاں قوی نہیں ہیں اور محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٤؛حدیث نمبر ص٣٤٧٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ الأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ إِلَهًا وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: هُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3473

حضرت ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز فجر کے بعد جب کہ وہ دو زانوں بیٹھا ہوا ہو اور کوئی بات بھی نہ کی ہو: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء» دس مرتبہ پڑھے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے لیے دس درجے بلند کئے جائیں گے اور وہ اس دن پورے دن بھر ہر طرح کی مکروہ و ناپسندیدہ چیز سے محفوظ رہے گا، اور شیطان کے زیر اثر نہ آ پانے کے لیے اس کی نگہبانی کی جائے گی، اور کوئی گناہ اسے اس دن سوائے شرک باللہ کے ہلاکت سے دوچار نہ کر سکے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٥؛حدیث نمبر ص٣٤٧٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ، كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكَانَ يَوْمَهُ ذَلِكَ كُلَّهُ فِي حِرْزٍ مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ، وَحُرِسَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَلَمْ يَنْبَغِ لِذَنْبٍ أَنْ يُدْرِكَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ إِلَّا الشِّرْكَ بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3474

حضرت بریدہ اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ان کلمات کے ساتھ: «اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں بایں طور کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اس بات پر کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا (معبود) ہے تو بے نیاز ہے، (تو کسی کا محتاج نہیں تیرے سب محتاج ہیں)، (تو ایسا بے نیاز ہے) جس نے نہ کسی کو جنا ہے اور نہ ہی کسی نے اسے جنا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہوا ہے“، دعا کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی گئی ہے اس نے وہ دعا قبول کی ہے، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی گئی ہے اس نے دی ہے“۔ زید (راوی) کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث کئی برسوں بعد زہیر بن معاویہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے یہ حدیث ابواسحاق نے مالک بن مغول کے واسطہ سے بیان کی ہے۔ زید کہتے ہیں: پھر میں نے یہ حدیث سفیان ثوری سے ذکر کی تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث مالک کے واسطے سے بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شریک نے یہ حدیث ابواسحاق سے، ابواسحاق نے ابن بریدہ سے، ابن بریدہ نے اپنے والد (بریدہ رضی الله عنہ) سے روایت کی ہے، حالانکہ ابواسحاق ہمدانی نے یہ حدیث مالک بن مغول سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب جَامِعِ الدَّعَوَاتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے منقول جامع دعاؤں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٥؛حدیث نمبر ص٣٤٧٥)

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، قَالَ: فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى "، قَالَ زَيْدٌ: فَذَكَرْتُهُ لِزُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ ذَلِكَ بِسِنِينَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، قَالَ زَيْدٌ: ثُمَّ ذَكَرْتُهُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، فَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَإِنَّمَا أَخَذَهُ أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3475

حضرت فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ (مسجد میں) تشریف فرما تھے، اس وقت ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی، اور یہ دعا کی: اے اللہ! میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! تو نے جلدی کی، جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو اللہ کے شایان شان اس کی حمد بیان کر اور پھر مجھ پر صلاۃ (درود) بھیج، پھر اللہ سے دعا کر“، کہتے ہیں: اس کے بعد پھر ایک اور شخص نے نماز پڑھی، اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! دعا کر، تیری دعا قبول کی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو حیوہ بن شریح نے ابوہانی خولانی سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٦؛حدیث نمبر ص٣٤٧٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي، إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، وَصَلِّ عَلَيَّ ثُمَّ ادْعُهُ "، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى رَجُلٌ آخَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا الْمُصَلِّي ادْعُ تُجَبْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبُو هَانِئٍ اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْجَنْبِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3476

حضرت فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز کے دوران دعا کرتے ہوئے سنا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) نہ بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے جلدی کی“، پھر آپ نے اسے بلایا، اور اس سے اور اس کے علاوہ دوسروں کو خطاب کر کے فرمایا، ”جب تم میں سے کوئی دعا مانگے تو اسے چاہیئے کہ وہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجے، پھر اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٧؛حدیث نمبر ص٣٤٧٧)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِلَ هَذَا "، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ اللَّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لَيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3477

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے (ایک آیت) «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ”تم سب کا معبود ایک ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ رحمن، رحیم ہے“ (البقرہ: ۱۶۳)، اور (دوسری آیت) آل عمران کی شروع کی آیت «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ہے ” «الم»، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو «حی» زندہ اور «قیوم» سب کا نگہبان ہے“ (آل عمران: ۱-۲)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٧؛حدیث نمبر ص٣٤٧٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163 وَفَاتِحَةِ آلِ عِمْرَانَ: الم {1} اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ {2} سورة آل عمران آية 1-2 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3478

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی، اور (اچھی طرح) جان لو کہ اللہ تعالیٰ کسی غافل اور لاپرواہ کی دعا کسی غافل اور لاپرواہ کی دعا قبول نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے عباس عنبری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ بن معاویہ جمحی کی بیان کردہ روایتیں لکھ لو کیونکہ وہ ثقہ راوی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٧؛حدیث نمبر ص٣٤٧٩)

حَدَّثَنَا وَهُوَ رَجُلٌ صَالِحٌ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، سَمِعْتُ عَبَّاسًا الْعَنْبَرِيَّ، يَقُولُ: اكْتُبُوا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيِّ فَإِنَّهُ ثِقَةٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3479

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم عافني في جسدي وعافني في بصري واجعله الوارث مني لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم والحمد لله رب العالمين» ”اے اللہ! تو مجھے جسمانی طور پر عافیت نصیب کر، میری بصارت میں عافیت نصیب کر اور اسے میرا وارث بنا۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے جو حلیم اور کریم ہے، پاک ہے اللہ عرش عظیم والا اور تمام تعریفیں اس اللہ کے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ حبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے کچھ بھی نہیں سنا ہے، اللہ بہتر جانتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٨؛حدیث نمبر ص٣٤٨٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي جَسَدِي وَعَافِنِي فِي بَصَرِي وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنِّي، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ شَيْئًا، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ هُوَ حَبِيبُ بْنِ قَيْسٍ بْنِ دِينَارٍ وَقَدْ أَدْرَكَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3480

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ (بنت رسول) رضی الله عنہا آپ کے پاس ایک خادم مانگنے آئیں، آپ نے ان سے کہا: تم یہ دعا پڑھتی رہو: «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوى أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب، عرش عظیم کا رب، اے ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب، توراۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے،اے دانے اور گٹھلی کو چیرنے والے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر چیز کے شر سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تو پہلا ہے (شروع سے ہے) تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر (یعنی اوپر ہے)، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو پوشیدہ ہے سب کی نظروں سے، لیکن تجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، اے اللہ! تو میرے اوپر سے قرض اتار دے، اور مجھے محتاجی سے نکال کر مالدار کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اور اعمش کے بعض شاگردوں نے اعمش سے ایسے ہی روایت کی ہے، ۲- ایسے ہی بعض راویوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اپنی روایت میں حضرت ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٨؛حدیث نمبر ص٣٤٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ لَهَا: " قُولِي: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهَكَذَا رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، نَحْوَ هَذَا، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3481

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو (یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو)، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے (یعنی) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٩؛حدیث نمبر ص٣٤٨٢)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ ". قَالَ: وفي الباب، عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3482

حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے پوچھا: ”اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟“ میرے باپ نے جواب دیا سات کو چھ زمین میں (رہتے ہیں) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: ”ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: ”اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے“، پھر جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: ”کہو «اللهم ألهمني رشدي وأعذني من شر نفسي» ”اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث حضرت عمران بن حصین سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١٩؛حدیث نمبر ص٣٤٨٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي: " يَا حُصَيْنُ، كَمْ تَعْبُدُ الْيَوْمَ إِلَهًا؟ " قَالَ أَبِي: سَبْعَةً سِتَّةً فِي الْأَرْضِ وَوَاحِدًا فِي السَّمَاءِ، قَالَ: " فَأَيُّهُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِكَ وَرَهْبَتِكَ؟ " قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ، قَالَ: " يَا حُصَيْنُ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَتَيْنِ تَنْفَعَانِكَ "، قَالَ: فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَيْنٌ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِيَ الْكَلِمَتَيْنِ اللَّتَيْنِ وَعَدْتَنِي، فَقَالَ: " قُلِ اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3483

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر ان الفاظ سے دعا مانگتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکرو غم سے، عاجزی سے اور کاہلی سے اور بخیلی سے اور قرض کے غلبہ سے اور لوگوں کے غلبے سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٠؛حدیث نمبر ص٣٤٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3484

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والجبن والبخل وفتنة المسيح وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی و کاہلی سے، اور بڑھاپے سے، بزدلی و بخالت سے اور مسیح (دجال) کے فتنہ سے اور عذاب قبر سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٠؛حدیث نمبر ص٣٤٨٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3485

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح کا شمار اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، یعنی اعمش کی روایت سے جسے وہ عطاء بن سائب سے روایت کرتے ہیں، ۲- شعبہ اور ثوری نے یہ پوری حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے، ۲- اس باب میں حضرت یسیرہ بنت یاسر رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي عَقْدِ التَّسْبِيحِ بِالْيَدِ؛انگلیوں پر تسبیح گننے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢١؛حدیث نمبر ص٣٤٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى بَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ بِيَدِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، وَرَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ بِطُولِهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ يُسَيْرَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، اعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ ".

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3486

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سوکھ کر کانٹا ہو چکا تھا، عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ”اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی و بھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچا لے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے“ (البقرہ: ۲۰۱)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس بن مالک کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر کئی اور سندوں سے بھی آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي عَقْدِ التَّسْبِيحِ بِالْيَدِ؛انگلیوں پر تسبیح گننے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢١؛حدیث نمبر ص٣٤٨٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا قَدْ جُهِدَ حَتَّى صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ، فَقَالَ لَهُ: " أَمَا كُنْتَ تَدْعُو؟ أَمَا كُنْتَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ؟ " قَالَ: كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّكَ لَا تُطِيقُهُ أَوْ لَا تَسْتَطِيعُهُ، أَفَلَا كُنْتَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3487

‌‌‌‏ اللہ تعالیٰ کی اس آیت: «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة» کے بارے میں حضرت حسن بصری سے مروی ہے، دنیا میں «حسنہ» سے مراد علم اور عبادت ہے، اور آخرت میں «حسنہ» سے مراد جنت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي عَقْدِ التَّسْبِيحِ بِالْيَدِ؛انگلیوں پر تسبیح گننے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢١؛حدیث نمبر ص٣٤٨٨)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ الْحَسَنِ فِي قَوْلِهِ: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً سورة البقرة آية 201، قَالَ: فِي الدُّنْيَا الْعِلْمُ وَالْعِبَادَةُ، وَفِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثْ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3488

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٢؛حدیث نمبر ص٣٤٨٩)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَدْعُو: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3489

حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت داؤد علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی: «اللهم إني أسألك حبك وحب من يحبك والعمل الذي يبلغني حبك اللهم اجعل حبك أحب إلي من نفسي وأهلي ومن الماء البارد» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور میں اس شخص کی بھی تجھ سے محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسا عمل چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے، اے اللہ! تو اپنی محبت کو مجھے میری جان اور میرے گھر والوں سے زیادہ محبوب بنا دے، اے اللہ! اپنی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی زیادہ کر دے“، (راوی) کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت داود علیہ السلام کا ذکر کرتے تو ان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے: وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٢؛حدیث نمبر ص٣٤٩٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ الدِّمَشْقِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَائِذُ اللَّهِ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ "، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ يُحَدِّثُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3490

حضرت عبداللہ بن یزید اخطمی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں کہتے تھے: «اللهم ارزقني حبك وحب من ينفعني حبه عندك اللهم ما رزقتني مما أحب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم وما زويت عني مما أحب فاجعله فراغا لي فيما تحب» ”اے اللہ! تو مجھے اپنی محبت عطا کر، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیری بارگاہ میں فائدہ دے، اے اللہ! جو بھی تو مجھے میری پسندیدہ و پاکیزہ رزق عطا کرے اس رزق کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٣؛حدیث نمبر ص٣٤٩١)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: " اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهُ عِنْدَكَ، اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ، اللَّهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ لِي فَرَاغًا فِيمَا تُحِبُّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ اسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُمَاشَةَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3491

حضرت شکل بن حمید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا تعویذ (کا کلمہ) سکھا دیجئیے جسے پڑھ کر میں اللہ کی پناہ حاصل کر لیا کروں، تو آپ نے میرا کندھا پکڑا اور کہا: کہو (پڑھو): «اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي يعني فرجه» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شرمگاہ کے شر سے“ (منی سے مراد شرمگاہ ہے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند یعنی «سعد بن أوس عن بلال بن يحيى» کے طریق سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٣؛حدیث نمبر ص٣٤٩٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَثَنِي سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِكَتِفِي، فَقَالَ: " قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي يَعْنِي فَرْجَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3492

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی، رات میں نے آپ کو اپنی جگہ نہ پا کر آپ کو ادھر ادھر تلاش کیا، ٹٹولا، میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، اس وقت آپ سجدے میں تھے، اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے عفو درگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف اس طرح نہیں کر سکتا جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف کی ہے “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے آئی ہے۔ لیث نے بیان کیا اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ کیا ہے: «وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك» ”میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیری ناراضگی سے اور تیری تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتا“، (جیسی کہ تیری تعریف ہونی چاہیئے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٤؛حدیث نمبر ص٣٤٩٣)

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ نَائِمَةً إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَسْتُهُ، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ: " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ: " وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ ".

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3493

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں (صحابہ کو) یہ دعا سکھایا کرتے تھے جیسا کہ انہیں قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں حیات و موت کے فتنے سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٤؛حدیث نمبر ص٣٤٩٤)

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3494

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار وفتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد وأنق قلبي من الخطايا كما أنقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنے سے، جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ سے، مالداری کے فتنے کے شر سے (تکبر اور کسب حرام سے) اور محتاجی کے فتنے کے شر سے، (حسد اور طمع سے) اور مسیح دجال کے شر سے، اے اللہ! ہمارے لغزش کو دھل دے برف اور اولوں کے پانی سے، اور میرے دل کو خطاؤں سے صاف کر دے جس طرح کہ تو سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کرتا ہے، اور میرے اور میرے خطاؤں کے درمیان اتنی دوری پیدا کر دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان پیدا کر دی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کاہلی سے، بڑھاپے سے، گناہ سے اور تاوان و قرض کے بوجھ سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٥؛حدیث نمبر ص٣٤٩٥)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَأَنْقِ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا أَنْقَيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3495

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وصال کے وقت (یہ دعا) پڑھتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى» ”اے اللہ! بخش دے مجھ کو اور رحم فرما مجھ پر اور مجھ کو رفیق اعلیٰ سے ملا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٥؛حدیث نمبر ص٣٤٩٦)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عِنْدَ وَفَاتِهِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3496

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کوئی شخص دعا مانگے تو) اس طرح نہ کہے: ”اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما“ بلکہ پورے یقین سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٦؛حدیث نمبر ص٣٤٩٧)

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3497

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر آخری تہائی رات میں اترتا ہے اور کہتا ہے: ”کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی دعا قبول کر لوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کر دوں؟ اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے کہ میں اسے بخش دوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اور ابوعبداللہ الاغر کا نام سلمان ہے، ۳- اس باب میں حضرت علی، عبداللہ بن مسعود، ابوسعید، جبیر بن مطعم، رفاعہ جہنی، ابودرداء اور عثمان بن ابوالعاص رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٦؛حدیث نمبر ص٣٤٩٨)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَنْزِلُ رَبُّنَا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، وَمَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَرِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3498

حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”آدھی رات کے آخر کی دعا (یعنی تہائی رات میں مانگی ہوئی دعا) اور فرض نمازوں کے اخیر میں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- حضرت ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”رات کے آخری حصہ میں دعا سب سے بہتر ہے، یا اس کے قبول ہونے کی امیدیں زیادہ ہیں یا اسی جیسی کوئی اور بات آپ نے فرمائی“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٦؛حدیث نمبر ص٣٤٩٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الثَّقَفِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: " جَوْفَ اللَّيْلِ الْآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ الدُّعَاءُ فِيهِ أَفْضَلُ أَوْ أَرْجَى أَوْ نَحْوَ هَذَا ".

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3499

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ”اے اللہ! میرے ذنب کی مغفرت کر دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے“، آپ نے فرمایا: ”کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا؟ (یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٧؛حدیث نمبر ص٣٥٠٠)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عُمَرَ الْهِلَالِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ دُعَاءَكَ اللَّيْلَةَ فَكَانَ الَّذِي وَصَلَ إِلَيَّ مِنْهُ أَنَّكَ تَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَسِّعْ لِي فِي رِزْقِي، وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي، قَالَ: فَهَلْ تَرَاهُنَّ تَرَكْنَ شَيْئًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو السَّلِيلِ اسْمُهُ ضُرَيْبُ بْنُ نُفَيْرٍ وَيُقَالُ: ابْنُ نُقَيْرِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3500

حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح میں یہ کلمات کہے گا: «اللهم أصبحنا نشهدك ونشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك بأنك الله لا إله إلا أنت الله وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! ہم نے صبح کی اور ہم تجھے گواہ بناتے ہیں اور تیرا عرش اٹھائے رہنے والوں، تیرے فرشتوں کو تیری ساری مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا اللہ ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں“، تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ ہوں گے انہیں اللہ بخش دے گا اور اگر وہ یہ دعا شام کے وقت پڑھے گا تو اس رات اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوں گے اللہ انہیں بخش دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٧؛حدیث نمبر ص٣٥٠١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْحِمْصِيُّ، عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ زِيَادٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ: أَصْبَحْنَا نُشْهِدُكَ وَنُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ بِأَنَّكَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ اللَّهُ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ، وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِنْ ذَنْبٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3501

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جب کسی محفل سے اٹھتے تھے تو اپنے ساتھیوں کے لیے دعا کرتے تھے : «اللهم اقسم لنا من خشيتك ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا» ”اے اللہ! ہمارے لیے اپنی وہ خشیت نصیب کر دے جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کو (ہماری موت تک) باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما، اور دنیا کو ہماری سب سے بڑی خواہش نہ بنا دینا اور اسے ہمارا مبلغ علم نہ بنا دینا اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض محدثین نے یہ حدیث خالد بن ابوعمران سے اور خالد نے نافع کے واسطہ سے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٨؛حدیث نمبر ص٣٥٠٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: " قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتَّى يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ لِأَصْحَابِهِ: اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3502

مسلم بن ابوبکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والكسل وعذاب القبر» ”اے اللہ میں غم و فکر اور سستی و کاہلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: اے بیٹے تو نے یہ دعا کس سے سنی؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنی ہے، انہوں نے کہا: انہیں پابندی سے پڑھتے رہا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٨؛حدیث نمبر ص٣٥٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا أَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْكَسَلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ "، قَالَ: يَا بُنَيَّ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُهُنَّ، قَالَ: الْزَمْهُنَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُنَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3503

حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ ان کلمات کو جب تم کہو گے تو تمہارے گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا، اگرچہ تم ان لوگوں میں سے ہو جن کے گناہ پہلے ہی معاف کئے جا چکے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”کہو: «لا إله إلا الله العلي العظيم لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله سبحان الله رب العرش العظيم» ”اللہ جو بلند و بالا ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، حلیم و کریم (بردبار مہربان) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے“۔ اسی سند سے حسین بن واقد کے واسطہ سے ایسی ہی حدیث روایت ہے، البتہ ان کی حدیث کے آخر میں: «الحمد لله رب العالمين» کا اضافہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، یعنی ابی اسحاق کی روایت سے جسے وہ حارث (اعور) کے واسطہ سے علی سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٩؛حدیث نمبر ص٣٥٠٤)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَإِنْ كُنْتَ مَغْفُورًا لَكَ؟ قَالَ: قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ: وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِمِثْلِ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهَا: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3504

حضرت سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالنون (حضرت یونس علیہ السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی: «لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين» ”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، میں ظالم ہوں“، کیونکہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محمد بن یحییٰ نے کہا: محمد بن یوسف کبھی ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کرتے ہیں اور اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے، ۲- دوسرے راویوں نے یہ حدیث یونس بن ابواسحاق سے، اور یونس نے ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- بعض نے یونس بن ابواسحاق سے روایت کی ہے، اور ان لوگوں نے ابن یوسف کی روایت کی طرح ابراہیم بن محمد بن سعد سے روایت کرتے ہوئے «عن أبيه عن سعد» کہا ہے اور یونس بن ابواسحاق کی عادت تھی کہ کبھی تو وہ اس حدیث میں «عن أبيه» کہہ کر روایت کرتے اور کبھی «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢٩؛حدیث نمبر ص٣٥٠٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ مَرَّةً: عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، فَقَالُوا: عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ نَحْوَ رِوَايَةِ ابْنِ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، وَكَانَ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق رُبَّمَا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِيهِ وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3505

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، سو میں ایک کم، جو انہیں یاد رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا“ امام ترمذی کہتے ہیں کہ یوسف نے کہا: ہم سے بیان کیا عبدالاعلی نے اور عبدالاعلی نے ہشام بن حسان سے، ہشام نے محمد بن سیرین سے، محمد بن سیرین نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٠؛حدیث نمبر ص٣٥٠٦)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قَالَ يُوسُفُ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3506

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے (۹۹) نام ہیں جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں جائے گا، اور اللہ کے ننانوے (۹۹) نام یہ ہیں: وہ اللہ تعالی جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں صرف وہی معبود ہے ، «الرحمن» ”بہت رحم کرنے والا“، «الرحيم» ”مہربان“، «الملك» ”بادشاہ“، «القدوس» ”برائیوں سے پاک“، «السلام» ”سلامتی دینے والا“، «المؤمن» ”یقین والا“، «المهيمن» ”نگہبان“، «العزيز» ”غالب“، «الجبار» ”تسلط والا“، «المتكبر» ”بڑائی والا“، «الخالق» ”پیدا کرنے والا“، «البارئ» ”پیدا کرنے والا“، «المصور» ”صورت بنانے والا“، «الغفار» ”بہت بخشنے والا ‘، «القهار» ”قہر والا“، «الوهاب» ”بہت دینے والا“، «الرزاق» ”روزی دینے والا“، «الفتاح» ”فیصلہ کرنے والا“، «العليم» ”جاننے والا“، «القابض» ”روکنے والا“، «الباسط» ”چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا“، «الخافض» ”پست کرنے والا“، «الرافع» ”بلند کرنے والا“، «المعز» ”عزت دینے والا“، «المذل» ”ذلت دینے والا“، «السميع» ”سننے والا“، «البصير» ”دیکھنے والا“، «الحكم» ”فیصلہ کرنے والا“، «العدل» ”انصاف والا“، «اللطيف» ”بندوں پر شفقت کرنے والا“، «الخبير» ”خبر رکھنے والا“، «الحليم» ”بردبار“، «العظيم» ”بزرگی والا“، «الغفور» ”بہت بخشنے والا“، «الشكور» ”قدر کرنے والا“، «العلي» ”اونچا“، «الكبير» ”بڑا“، «الحفيظ» ”نگہبان“، «المقيت» ”طاقت و قوت والا“، «الحسيب» ”حساب لینے والا“، «الجليل» ”بزرگ“، «الكريم» ”کرم والا“، «الرقيب» ”مطلع رہنے والا“، «المجيب» ”قبول کرنے والا“، «الواسع» ”کشادگی اور وسعت والا“، «الحكيم» ”حکمت والا“، «الودود» ”بہت چاہنے والا“، «المجيد» ”بزرگی والا“، «الباعث» ”زندہ کر کے اٹھانے والا“، «الشهيد» ”حاضر“، «الحق» ”سچا“، «الوكيل» ”کار ساز“، «القوي» ”طاقتور“، «المتين» ”مضبوط“، «الولي» ”مددگار و محافظ“، «الحميد»، «المحصي»، «المبدئ» ”پہلے پہل پیدا کرنے والا“، «المعيد» ”دوبارہ پیدا کرنے والا“، «المحيي» ”زندہ کرنے والا“، «المميت» ”مارنے والا“، «الحي» ”زندہ“، «القيوم» ”قائم رہنے و قائم رکھنے والا“، «الواجد» ”پانے والا“، «الماجد» ”بزرگی والا“، «الواحد» ”اکیلا“، «الصمد» ”بے نیاز“، «القادر» ”قدرت والا“، «المقتدر» ”طاقتور پکڑنے والا“، «المقدم» ”پہلا“، «المؤخر» ”پچھلا“، «الأول» ”پہلا“، «الآخر» ”پچھلا“، «الظاهر» ”ظاہر“، «الباطن» ”پوشیدہ، مخفی“، «الوالي» ”مالک مختار، حکومت کرنے والا“، «المتعالي» ”برتر“، «البر» ”بھلائی والا“، «التواب» ”توبہ قبول کرنے والا“، «المنتقم» ”انتقام لینے والا“، «العفو» ”درگذر کرنے والا“، «الرءوف» ”شفقت والا، مہربان“، «مالك الملك» ”تمام جہاں کا مالک“، «ذو الجلال والإكرام» ”عزت و جلال والا“، «المقسط» ”انصاف کرنے والا“، «الجامع» ”جمع کرنے والا“، «الغني» ”تونگر و بے نیاز“، «المغني» ”بے نیاز“، «المانع» ”روکنے والا“، «الضار» ”نقصان پہنچانے والا“، «النافع» ”نفع پہنچانے والا“، «النور» ”روشن، ظاہر“، «الهادي» ”ہدایت بخشنے والا“، «البديع» ”از سر نو پیدا کرنے والا“، «الباقي» ”قائم رہنے والا“، «الوارث» ”وارث“، «الرشيد» ”خیر و بھلائی والا“، «الصبور» ”بردبار“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم سے کئی راویوں نے یہ حدیث صفوان بن ابوصالح کے واسطے سے بیان کی ہے، اور یہ حدیث ہم صرف صفوان بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں اور صفوان بن صالح محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، ۳- یہ حدیث کئی اور سندوں سے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، اور ہم اکثر و بیشتر روایات کو جن میں اسماء الٰہی کا ذکر ہے، اس حدیث کے سوا کسی حدیث کو سند کے اعتبار سے صحیح نہیں پاتے، ۴- آدم ابن ابی ایاس نے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دو سری سند سے ابوہریرہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اس میں اسماء (الٰہی) کا ذکر کیا ہے، لیکن اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٠؛حدیث نمبر ص٣٥٠٧)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً غَيْرَ وَاحِدَةٍ مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَهَّارُ الْوَهَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْحَكَمُ الْعَدْلُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ الْغَفُورُ الشَّكُورُ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ الْحَفِيظُ الْمُقِيتُ الْحَسِيبُ الْجَلِيلُ الْكَرِيمُ الرَّقِيبُ الْمُجِيبُ الْوَاسِعُ الْحَكِيمُ الْوَدُودُ الْمَجِيدُ الْبَاعِثُ الشَّهِيدُ الْحَقُّ الْوَكِيلُ الْقَوِيُّ الْمَتِينُ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ الْمُحْصِي الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْمُحْيِي الْمُمِيتُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ الْوَاجِدُ الْمَاجِدُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الْأَوَّلُ الْآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِيَ الْمُتَعَالِي الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ الْعَفُوُّ الرَّءُوفُ مَالِكُ الْمُلْكِ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِيُّ الْمُغْنِي الْمَانِعُ الضَّارُّ النَّافِعُ النُّورُ الْهَادِي الْبَدِيعُ الْبَاقِي الْوَارِثُ الرَّشِيدُ الصَّبُورُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، حَدَّثَنَا بِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نَعْلَمُ فِي كَبِيرِ شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ذِكْرَ الْأَسْمَاءِ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ فِيهِ الْأَسْمَاءَ وَلَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3507

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے (۹۹) نام ہیں جس نے انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں اسماء (الٰہی) کا ذکر نہیں ہے، ۳- اسے ابوالیمان نے شعیب بن ابی حمزہ کے واسطہ سے ابوالزناد سے روایت کیا ہے اور اس میں اسمائے حسنیٰ کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٢؛حدیث نمبر ص٣٥٠٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ذِكْرُ الْأَسْمَاءِ، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، رَوَاهُ أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْأَسْمَاءَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3508

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرو تو کچھ چر لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «رياض الجنة» مساجد ہیں“، میں نے کہا اور «الرتع» کیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنا «الرتع» ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٢؛حدیث نمبر ص٣٥٠٩)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَنَّ حُمَيْدًا الْمَكِّيَّ مَوْلَى ابْنِ عَلْقَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: " الْمَسَاجِدُ "، قُلْتُ: وَمَا الرَّتْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3509

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم (کچھ) چر لیا کرو لوگوں نے عرض کیا «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے ثابت نے انس سے روایت کی ہے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٢؛حدیث نمبر ص٣٥١٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا "، قَالُوا: وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: " حِلَقُ الذِّكْرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3510

حضرت ابوسلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو اسے: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وأبدلني منها خيرا» ”بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں اپنی مصیبتوں کا اجر تجھ سے چاہتا ہوں مجھے تو ان پر (صبر کرنے کا) اچھا اجر دے، اور ان مصیبتوں کے بدلے مجھے بہتری عطا کر دے“، پڑھنا چاہیئے، پھر جب حضرت ابوسلمہ رضی الله عنہ کا انتقال ہونے لگا تو انہوں نے دعا کی: «اللهم اخلف في أهلي خيرا مني» ”اے اللہ! میرے بعد میری بیوی کو مجھ سے بہتر شخص عطا کرنا“، اور جب ان کی موت واقع ہو گئی تو حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا نے کہا: «إنا لله وإنا إليه راجعون عند الله احتسبت مصيبتي فأجرني فيها» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ام سلمہ رضی الله عنہا کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ۳- اور حضرت ابوسلمہ رضی الله عنہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٣؛حدیث نمبر ص٣٥١١)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سورة البقرة آية 156 اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي مِنْهَا خَيْرًا "، فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اخْلُفْ فِي أَهْلِي خَيْرًا مِنِّي، فَلَمَّا قُبِضَ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سورة البقرة آية 156 عِنْدَ اللَّهِ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3511

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل (سب سے اچھی) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عافیت اور معافی کا سوال کرو“، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر دریافت کیا: ”کون سی دعا افضل ہے؟“ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا: ”جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٣؛حدیث نمبر ص٣٥١٢)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ، وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ "، ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ لَهُ: " مِثْلَ ذَلِكَ "، ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ: فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: " فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَأُعْطِيتَهَا فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3512

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ”پڑھو «اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني» ”اے اللہ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٤؛حدیث نمبر ص٣٥١٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: قُولِي: " اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3513

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز کی تعلیم دے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے عافیت مانگو“، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن حارث بن نوفل نے عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے سنا ہے (یعنی ان کا ان سے سماع ثابت ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٤؛حدیث نمبر ص٣٥١٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: " سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ "، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا، ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ، فَقَالَ لِي: " يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَدْ سَمِعَ مِنَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3514

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے جو بھی چیزیں مانگی گئی ہیں ان میں اللہ کو سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ اس سے عافیت (دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات) مانگی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوبکر ملیکی کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٤؛حدیث نمبر ص٣٥١٥)

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ الْمُلَيْكِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3515

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یہ دعا فرماتے: «اللهم خر لي واختر لي» ”اے اللہ! میرے لیے خیر فرما اور میرے لیے بہتر پسند فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ۲- اور ہم اسے زنفل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے نہیں جانتے، اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور انہیں زنفل بن عبداللہ عرفی بھی کہتے ہیں، وہ عرفات میں رہتے تھے، وہ اس حدیث میں منفرد ہیں، یعنی یہ روایت صرف انہوں نے ہی بیان کی ہے (کسی اور نے نہیں) اور کسی نے بھی ان کی متابعت نہیں کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٥؛حدیث نمبر ص٣٥١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا زَنْفَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَمْرًا قَالَ: اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَنْفَلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَيُقَالُ لَهُ زَنْفَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَرَفِيُّ وَكَانَ يَسْكُنُ عَرَفَاتٍ، وَتَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3516

حضرت ابو مالک اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو آدھا ایمان ہے، اور «الحمد لله» (اللہ کی حمد) میزان کو ثواب سے بھر دے گا اور «سبحان الله» اور «الحمد لله» یہ دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی جگہ کو یا ان میں سے ہر ایک بھر دے گا آسمانوں اور زمین کے درمیان کی ساری خلا کو (اجر و ثواب سے) «صلاة» نور ہے، اور «صدقة» برہان ہے (ایمان کی) اور «صبر» روشنی ہے اور «قرآن» تمہارے حق میں حجت و دلیل ہے یا اور تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان جب نکلتا ہے تو اپنا سودا کرتا ہے یا وہ خود کو ازاد کروا لیتا ہے یا خود کو غلام بنا لیتا ہے “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٥؛حدیث نمبر ص٣٥١٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوُضُوءُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3517

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «تسبيح» (سبحان اللہ کہنے سے) نصف میزان (آدھا پلڑا) بھر جائے گا، اور «الحمد لله» میزان (پلڑے کے باقی خالی حصے) کو پورا بھر دے گا، اور «لا إله إلا الله» اللہ تعالی کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا، یہاں تک کہ یہ کلمہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٦؛حدیث نمبر ص٣٥١٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَيْسَ لَهَا دُونَ اللَّهِ حِجَابٌ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الإِفْرِيقِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3518

بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ کی انگلیوں یا اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر گن کر بتایا کہ «سبحان الله» پڑھنا نصف میزان ہے اور «الحمد لله» اس پورے پلڑے کو بھر دے گا اور «الله أكبر» آسمان و زمین کے درمیان کی ساری جگہوں کو بھر دے گا، روزہ آدھا صبر ہے، اور پاکی نصف ایمان ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور اس حدیث کو شعبہ اور سفیان ثوری نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٦؛حدیث نمبر ص٣٥١٩)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ، التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3519

حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقوف عرفہ کے دوران عرفہ کی شام اکثر یہی دعا کی: «اللهم لك الحمد كالذي نقول وخيرا مما نقول اللهم لك صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي وإليك مآبي ولك رب تراثي اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر ووسوسة الصدر وشتات الأمر اللهم إني أعوذ بك من شر ما تجيء به الريح» ”اے اللہ! حمد تیرے لیے ہے جیسے حمد بیان کرے اور وہ حمد جو ہمارے بیان کرنے سے بھی بہتر ہو، اے اللہ!میری نماز، میری قربانی، میری زندگی، میری موت تیرے لیے ہے، میں نے تیری طرف لوٹنا ہے، میری میراث تیرے لیے ہے، اے اللہ! میں قبر کے عذاب، ذہن کے وسوسے، معاملات کے بکھرنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ!ہوا جو شر لے کر آتی ہے میں اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٧؛حدیث نمبر ص٣٥٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَكَانَ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: أَكْثَرُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فِي الْمَوْقِفِ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِي نَقُولُ وَخَيْرًا مِمَّا نَقُولُ، اللَّهُمَّ لَكَ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي وَإِلَيْكَ مَآبِي وَلَكَ رَبِّ تُرَاثِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَةِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْأَمْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3520

حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ بتا دوں جو ان سب چیزوں (دعاؤں) کی جامع ہو، کہو: «اللهم إنا نسألك من خير ما سألك منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم ونعوذ بك من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم وأنت المستعان وعليك البلاغ ولا حول ولا قوة إلا بالله» ”اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی (خیر) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر (برائی) سے جس سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے، تو ہی مددگار ہے، اور تیرے ہی اختیار میں ہے (خیر و شر کا) پہچانا، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٧؛حدیث نمبر ص٣٥٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعَوْتَ بِدُعَاءٍ كَثِيرِ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَجْمَعُ ذَلِكَ كُلَّهُ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3521

شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھنا“، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! ہر شخص کا ذہن اللہ تعالی کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے وہ جسے چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے، پھر (راوی حدیث) معاذ نے آیت: «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا“ (آل عمران: ۸)، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٨؛حدیث نمبر ص٣٥٢٢)

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ صَاحِبِ الْحَرِيرِ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَكِ، قَالَتْ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ: " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لأَكْثَرِ دُعَاءَكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ؟ قَالَ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ: " إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ "، فَتَلَا مُعَاذٌ: رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا سورة آل عمران آية 8، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَنُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3522

حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید مخزومی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! میں رات بھر نیند نہ آنے کی وجہ سے سو نہیں پاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بسترے پر سونے کے لیے جاؤ تو پڑھو: «اللهم رب السموات السبع وما أظلت ورب الأرضين وما أقلت ورب الشياطين وما أضلت كن لي جارا من شر خلقك كلهم جميعا أن يفرط علي أحد منهم أو أن يبغي عز جارك وجل ثناؤك ولا إله غيرك لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں، اور جن پر وہ آسمان سایہ کیا ہے ان سب کے رب! ساری زمینوں اور ان ساری چیزوں کے رب جن کا وہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اے شیاطین اور جنہیں ان شیاطین نے گمراہ کیا ہے ان سب کے رب! اپنی ساری مخلوق کے شر سے بچنے پناہ بن جا، تاکہ ان میں سے کوئی مجھ پر نہ ظلم و زیادتی کر سکے، اور نہ ہی بغاوت و سرکشی کا مرتکب ہو، تیری پناہ زبردست ہے، اور تیری ثنا (و تعریف) بڑھ چڑھ کر ہو، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں معبود صرف تو ہی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- حکم بن ظہیر جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں، بعض محدثین ان کی بیان کردہ حدیث نہیں لیتے، ۳- یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دوسری سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٨؛حدیث نمبر ص٣٥٢٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَكَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنَامُ اللَّيْلَ مِنَ الْأَرَقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ، عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ وَلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَالْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ قَدْ تَرَكَ حَدِيثَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3523

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی مشکل درپیش ہوتی تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» ”اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔ اسی سند کے ساتھ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «يا ذا الجلال والإكرام» (اے بڑائی و بزرگی والے) کو لازم پکڑو“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٩؛حدیث نمبر ص٣٥٢٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ الرُّحَيْلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَخِي زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَرَبَهُ أَمْرٌ قَالَ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ". وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3524

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يا ذا الجلال والإكرام» کو لازم پکڑو (یعنی: اپنی دعاؤں کو برابر پڑھتے رہا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، محفوظ نہیں ہے، ۲- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسلاً) روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے، چنانچہ انہوں نے «عن حميد عن أنس» کہ دیا، جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣٩؛حدیث نمبر ص٣٥٢٥)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا أَصَحُّ وَمُؤَمَّلٌ غَلِطَ فِيهِ، فَقَالَ: عَنْ حَمَادٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ وَلَا يُتَابَعُ فِيهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3525

حضرت ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنے بستر پر پاک و صاف ہو کر سونے کے لیے جائے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے نیند آ جائے تو رات کے جس کسی لمحے میں بھی بیدار ہو کر وہ دنیا و آخرت کی جو کوئی بھی بھلائی، اللہ سے مانگے گا اللہ اسے وہ چیز ضروری عطا کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- یہ حدیث شہر بن حوشب سے بطریق: «أبي ظبية عن عمرو بن عبسة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٠؛حدیث نمبر ص٣٥٢٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ طَاهِرًا يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى يُدْرِكَهُ النُّعَاسُ، لَمْ يَنْقَلِبْ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3526

حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا: «اللهم إني أسألك تمام النعمة» ”اے اللہ! میں تجھ سے نعمت تامہ مانگ رہا ہوں“، آپ نے اس شخص سے پوچھا: ”نعمت تامہ کیا چیز ہے؟“ اس شخص نے کہا: میں نے ایک دعا مانگی ہے اور مجھے امید ہے کہ مجھے اس سے خیر حاصل ہو گی، آپ نے فرمایا: ”بیشک نعمت تامہ میں جنت کا دخول اور جہنم سے نجات دونوں آتے ہیں“۔ آپ نے ایک اور آدمی کو (بھی) دعا مانگتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا: ” «يا ذا الجلال والإكرام» “، آپ نے فرمایا: ”تیری دعا قبول ہوئی تو مانگ لے (جو تجھے مانگنا ہو)“، آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا، «اللهم إني أسألك الصبر» ”اے اللہ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں“، آپ نے فرمایا: ”تو نے اللہ سے آزمائش مانگی ہے اس لیے تو عافیت بھی مانگ لے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٠؛حدیث نمبر ص٣٥٢٧)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ، فَقَالَ: " أَيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ؟ " قَالَ: دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ، قَالَ: " فَإِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ "، وَسَمِعَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ: " قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ "، وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، فَقَالَ: " سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ ". حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3527

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو (یہ دعا) پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» ” میں اللہ تعالی کے غضب سے، اس کے عذاب سے، اس کے بندوں کے شر سے، شیطان کے وسوسوں اور اس کے میرے پاس آنے سے اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں “۔ (یہ دعا پڑھنے سے) یہ پریشان کن خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما اپنے بالغ بچوں کو یہ دعا سکھا دیتے تھے، اور جو بچے نابالغ ہوتے تھے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر(تعویذ کے طور پر)لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤١؛حدیث نمبر ص٣٥٢٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا فَزِعَ أَحَدُكُمْ فِي النَّوْمِ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ "، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْروٍ يُلَقِّنُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ كَتَبَهَا فِي صَكٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3528

ابوراشد حبرانی کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں ان میں سے کوئی حدیث ہمیں سنائیے، تو انہوں نے ایک لکھا ہوا صحیفہ ہمارے آگے بڑھا دیا، اور کہا: یہ وہ صحیفہ ہے جسے رسول اللہ نے ہمیں لکھ کر دیا ہے، جب میں نے اسے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں صبح اور شام میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! (یہ دعا) پڑھا کرو: «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة لا إله إلا أنت رب كل شيء ومليكه أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه وأن أقترف على نفسي سوءا أو أجره إلى مسلم» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، کھلی ہوئی اور پوشیدہ چیزوں کے جاننے والے، کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے تیرے، تو ہر چیز کا رب (پالنے والا) اور اس کا بادشاہ ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر اس کے شریک ہونے سے اپنی ذات کے ساتھ کوئی برائی کرنے سے یا کسی مسلمان کے ساتھ کوئی برائی کرنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٢؛حدیث نمبر ص٣٥٢٩)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنَا مِمَّا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى إِلَيَّ صَحِيفَةً، فَقَالَ: هَذَا مَا كَتَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ، فَقَالَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرَكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3529

عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں میں نے ابوبائل کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں؛ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا(عمرو بن مرہ)کہتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ آپ نے خود حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی ہے تو انہوں نے جواب دیا جی ہاں انہوں نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: ”اللہ سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بےحیائی کی چیزیں حرام کر دی ہیں چاہے وہ کھلے طور پر ہوں یا پوشیدہ طور پر، اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے اللہ سے زیادہ مدح (تعریف) پسند ہو، اسی لیے اللہ نے اپنی ذات کی تعریف خود آپ کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٢؛حدیث نمبر ص٣٥٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: قُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ، وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3530

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا کی تعلیم دیجئیے جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں، آپ نے فرمایا: ”تم یہ پڑھا کرو: «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے، جب کہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی اور بخش نہیں سکتا، اس لیے تو مجھے اپنی عنایت خاص سے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، تو ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہ لیث بن سعد کی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٣؛حدیث نمبر ص٣٥٣١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولَ اللَّهِ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، قَالَ: " قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَبُو الْخَيْرِ اسْمُهُ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3531

عبدالمطلب بن ابی وداعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عباس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ان انہوں نے کوئی بات سنی (جس کی انہوں نے آپ کو خبر دی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوے، اور پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول! آپ پر اللہ کی سلامتی نازل ہو، آپ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں پیدا کیا، پھر اس گروہ میں بھی دو گروہ بنا دیئے اور مجھے ان دونوں گروہوں میں سے بہتر گروہ میں رکھا، پھر ان میں مختلف قبیلے بنا دیئے، تو مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا، پھر انہیں گھروں میں بانٹ دیا تو مجھے اچھے نسب والے بہترین خاندان اور گھر میں پیدا کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٣؛حدیث نمبر ص٣٥٣٢)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: " مَنْ أَنَا؟ " فَقَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْكَ السَّلَامُ، قَالَ: " أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا، وَخَيْرِهِمْ نَسَبًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3532

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کی پتیاں خشک ہو گئی تھیں، آپ نے اس پر اپنی عصا ماری تو پتیاں جھڑ پڑیں، آپ نے فرمایا: ” «الحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنے سے بندے کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں جیسے اس درخت کی پتیاں جھڑ گئیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اعمش کا انس سے سماع ہم نہیں جانتے، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ انہوں نے انس کو دیکھا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٤؛حدیث نمبر ص٣٥٣٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَجَرَةٍ يَابِسَةِ الْوَرَقِ فَضَرَبَهَا بِعَصَاهُ فَتَنَاثَرَ الْوَرَقُ، فَقَالَ: " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَتُسَاقِطُ مِنْ ذُنُوبِ الْعَبْدِ كَمَا تَسَاقَطَ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِلْأَعْمَشِ سَمَاعًا مِنْ أَنَسٍ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ رَآهُ وَنَظَرَ إِلَيْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3533

حضرت عمارہ بن شبیب سبائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد دس بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» اللہ اس کی صبح تک حفاظت کے لیے فرشتے کو مقرر کردیتا ہے جو اس کی شیطان سے حفاظت کریں گے اور اس کے لیے ان کے عوض دس نیکیاں لکھی جائیں گی جو اسے اجر و ثواب کا مستحق بنائیں گی اور اس کی مہلک برائیاں اور گناہ مٹا دیں گی اور اسے دس مسلمان غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور ہم عمارہ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع نہیں جانتے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٤؛حدیث نمبر ص٣٥٣٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ شَبِيبٍ السَّبَائِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ عَلَى إِثْرِ الْمَغْرِبِ، بَعَثَ اللَّهُ مَسْلَحَةً يَحْفَظُونَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ مُوجِبَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ مُوبِقَاتٍ، وَكَانَتْ لَهُ بِعَدْلِ عَشْرِ رِقَابٍ مُؤْمِنَاتٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَلَا نَعْرِفُ لِعُمَارَةَ بْنِ شَبِيِبٍ سَمَاعًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3534

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں حضرت صفوان بن عسال مرادی رضی الله عنہ کے پاس موزوں پر مسح کا مسئلہ پوچھنے آیا، انہوں نے (مجھ سے) پوچھا اے زر کون سا جذبہ تمہیں لے کر یہاں آیا ہے، میں نے کہا: علم کی تلاش و طلب مجھے یہاں لے کر آئی ہے، انہوں نے کہا: فرشتے علم کی طلب و تلاش سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں، میں نے ان سے کہا: پیشاب پاخانے سے فراغت کے بعد موزوں پر مسح کی بات میرے دل میں کھٹکی (کہ مسح کریں یا نہ کریں) میں خود بھی صحابی رسول ہوں، میں آپ سے یہ پوچھنے آیا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سلسلے میں کوئی بات بیان کرتے ہوئے سنی ہے؟ کہا: جی ہاں (سنی ہے) جب ہم سفر پر ہوتے یا سفر کرنے والے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ”ہم سفر کے دوران تین دن و رات اپنے موزے نہ نکالیں، مگر غسل جنابت کے لیے، پاخانہ پیشاب کر کے اور سو کر اٹھنے پر موزے نہ نکالیں“، (پہنے رہیں، مسح کا وقت آئے ان پر مسح کر لیں) میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انسان کی خواہش و تمنا کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ایک اعرابی نے آپ کو یا محمد! کہہ کر بلند آواز سے پکارا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کی آواز میں جواب دیا، ”آ جاؤ (میں یہاں ہوں)“ ہم نے اس سے کہا: تمہارا ستیا ناس ہو، اپنی آواز دھیمی کر لو، کیونکہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہو، اور تمہیں اس سے منع کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلند آواز سے بولا جائے، اعرابی نے کہا: قسم اللہ کی میں اپنی آواز پست نہیں کروں گا، اس نے «المرء يحب القوم ولما يلحق بهم»(آدمی بعض اوقات کچھ لوگوں کو پسند کرتا ہے،لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہو پاتا)کہہ کر آپ سے اپنی انتہائی محبت و تعلق کا اظہار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «المرء مع من أحب يوم القيامة» ”جو شخص جس شخص سے زیادہ محبت کرتا ہے قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ رہے گا“۔ وہ ہم سے (یعنی زر کہتے ہیں ہم سے صفوان بن عسال) حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے پچھمی سمت (مغرب کی طرف) میں ایک ایسے دروازے کا ذکر کیا جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے (راوی کو شک ہو گیا ہے یہ کہا یا یہ کہا) کہ دروازے کی چوڑائی اتنی ہو گی ؛ سوار اس میں چلے گا تو چالیس سال یا ستر سال میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچے گا، سفیان (راوی) کہتے ہیں: یہ دروازہ شام کی جانب پڑے گا، جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے تبھی اللہ نے یہ دروازہ بھی بنایا ہے اور یہ دروازہ توبہ کرنے والوں کے لیے کھلا ہوا ہے اور (توبہ کا یہ دروازہ) اس وقت تک بند نہ ہو گا جب تک کہ سورج اس دروازہ کی طرف سے (یعنی پچھم سے) طلوع نہ ہونے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ التَّوْبَةِ وَالاِسْتِغْفَارِ وَمَا ذُكِرَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ لِعِبَادِهِ؛توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٥؛حدیث نمبر ص٣٥٣٥)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا زِرُّ؟ فَقُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَكَّ فِي صَدْرِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَكُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَسْأَلُكَ هَلْ سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، " كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ ". فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ فِي الْهَوَى شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ فِي الْهَوَى شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ صَوْتِهِ هَاؤُمُ، فَقُلْنَا لَهُ: وَيْحَكَ، اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ فَإِنَّكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نُهِيتَ عَنْ هَذَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَغْضُضُ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: الْمَرْءُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَمَا زَالَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى ذَكَرَ بَابًا مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا عَرْضُهُ، أَوْ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي عَرْضِهِ أَرْبَعِينَ أَوْ سَبْعِينَ عَامًا، قَالَ سُفْيَانُ: قِبَلَ الشَّامِ، خَلَقَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ مَفْتُوحًا يَعْنِي لِلتَّوْبَةِ، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3535

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں حضرت صفوان بن عسال مرادی رضی الله عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ ”فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے جی میں یہ خیال گزرا یا میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ بات کھٹکی، تو کیا اس بارے میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم جب سفر میں ہوں (یا سفر کرنے والے ہوں) تو ہمیں حکم دیا گیا کہ ”ہم تین دن تک اپنے موزے پیروں سے نہ نکالیں، سوائے جنابت کی صورت میں، پاخانہ کر کے آئے ہوں یا پیشاب کر کے، یا سو کر اٹھے ہوں تو موزے نہ نکالیں“۔ پھر میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو محبت و چاہت کے سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یا دہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو آپ کو ایک آدمی نے جو لوگوں میں سب سے پیچھے چل رہا تھا اور گنوار، بیوقوف اور سخت مزاج تھا، بلند آواز سے پکارا، کہا: یا محمد! یا محمد! لوگوں نے اس سے کہا: ٹھہر، ٹھہر، اس طرح پکارنے سے تمہیں روکا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی اسے اتنی ہی آواز میں جواب دیا: ”ادھر آجاؤ“ (وہ جب قریب آ گیا) تو بولا: آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہو پاتا،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا“۔ زر کہتے ہیں: وہ مجھ سے حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ”اللہ نے مغرب میں توبہ کا ایک دروازہ بنایا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ بند نہ کیا جائے گا یہاں تک کہ سورج ادھر سے نکلنے لگے (یعنی قیامت تک) اور اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: «يوم يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها» ”جس دن کہ تیرے رب کی ایک نشانی کا ظہور ہو گا اس وقت کسی شخص کو اس کا ایمان کام نہ دے گا“ (الأنعام: ۱۵۸)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ التَّوْبَةِ وَالاِسْتِغْفَارِ وَمَا ذُكِرَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ لِعِبَادِهِ؛توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٦؛حدیث نمبر ص٣٥٣٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ، قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، قَالَ: " بَلَغَنِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَفْعَلُ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ حَاكَ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ حَاكَ أَوْ قَالَ: حَكَّ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا إِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مُسَافِرِينَ أُمِرْنَا أَنْ لَا نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ ".) قَالَ: فَقُلْتُ: فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهَوَى شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهَوَى شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَادَاهُ رَجُلٌ كَانَ فِي آخِرِ الْقَوْمِ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ أَعْرَابِيٌّ جِلْفٌ جَافٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: مَهْ إِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ هَذَا، فَأَجَابَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ صَوْتِهِ هَاؤُمُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ". قَالَ قَالَ زِرٌّ: فَمَا بَرِحَ يُحَدِّثُنِي حَتَّى حَدَّثَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا عَرْضُهُ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعِ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا سورة الأنعام آية 158 الْآيَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3536

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک اس پر نزع کا وقت طاری نہیں ہوجاتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ابوعامر عقدی نے عبدالرحمٰن سے اسی سند کے ساتھ، اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٧؛حدیث نمبر ص٣٥٣٨)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرٍ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3537

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک اس پر نزع کا وقت طاری نہیں ہوجاتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ابوعامر عقدی نے عبدالرحمٰن سے اسی سند کے ساتھ، اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٧؛حدیث نمبر ص٣٥٣٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا ". قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَكْحُولٍ، بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3538

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی شخص کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی گم شدہ سواری کو پا لیتا ہے “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، یعنی ابوالزناد کی روایت سے، ۲- یہ حدیث مکحول سے بھی ان کی اپنی سند سے آئی ہے، انہوں نے ابوذر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابن مسعود، نعمان بن بشیر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٨؛حدیث نمبر ص٣٥٣٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَاصِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ: قَدْ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ وَيَغْفِرُ لَهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3539

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے (مغفرت طلب کرنے کے لیے) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا (اور تجھے بخش دوں گا)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٨؛حدیث نمبر ص٣٥٤٠)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ فَائِدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَال: سَمِعْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3540

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں اور ایک رحمت اپنی مخلوق کے درمیان دنیا میں رکھی، جس کی بدولت وہ دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آتے ہیں، جب کہ اللہ کے پاس ننانوے (۹۹) رحمتیں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت سلمان اور جندب بن عبداللہ بن سفیان بجلی رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٩؛حدیث نمبر ص٣٥٤١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَوَضَعَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا، وَعِنْدَ اللَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ، وَجُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3541

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مومن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں موجود عذاب کا پتہ چل جائےتو جنت کی کوئی امید نہ رکھے، اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع و عظیم ہے تو جنت میں پہنچنے سے کوئی بھی ناامید و مایوس نہ ہو“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف ابو العلاء کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ اپنے والد اور ان کے والد ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٩؛حدیث نمبر ص٣٥٤٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3542

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنے دست قدرت کے ذریعے اپنے اوپر لازم کی کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤٩؛حدیث نمبر ص٣٥٤٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حِينَ خَلَقَ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3543

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے ، ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور دعا مانگتے ہوئے وہ اپنی دعا میں کہہ رہا تھا: «اللهم لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے (میری دعا قبول فرما)“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اس نے کس چیز سے دعا کی ہے؟ اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے گی اللہ اسے قبول کر لے گا، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی جائے گی اسے عطا فرما دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی انس سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٠؛حدیث نمبر ص٣٥٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَغْدَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَرَجُلٌ قَدْ صَلَّى وَهُوَ يَدْعُو وَيَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَدْرُونَ بِمَ دَعَا اللَّهَ؟ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ أَنَسٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3544

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ شخص مجھ پر درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا ہو اور وہ دونوں اسے ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے کی وجہ سے جنت کا مستحق نہ بنا سکے ہوں“، عبدالرحمٰن (راوی) کہتے ہیں: میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے دونوں ماں باپ کہا۔ یا یہ کہا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی بڑھاپے میں پایا (اور ان کی خدمت کر کے اپنی مغفرت نہ کر الی ہو)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ربعی بن ابراہیم اسماعیل بن ابراہیم کے بھائی ہیں اور یہ ثقہ ہیں اور یہ ابن علیہ ہیں، ۳- اس باب میں حضرت جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مجلس میں آدمی ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو درود بھیج دے تو اس مجلس میں چاہے جتنی بار آپ کا نام آئے ایک بار درود بھیج دینا ہر بار کے لیے کافی ہو گا (یعنی ہر بار درود بھیجنا ضروری نہ ہو گا)۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٠؛حدیث نمبر ص٣٥٤٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ "، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَأَظُنُّهُ قَالَ: " أَوْ أَحَدُهُمَا ". قًالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ جَابِرٍ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ أَخُو إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، وَيُرْوَى عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ: إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فِي الْمَجْلِسِ أَجْزَأَ عَنْهُ مَا كَانَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3545

عبد اللہ بن علی اپنے والد(امام زین العابدین رضی اللہ عنہ)کے حوالے سے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ (درود) نہ بھیجے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥١؛حدیث نمبر ص٣٥٤٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَخِيلُ الَّذِي مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3546

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم برد قلبي بالثلج والبرد والماء البارد اللهم نق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» ”اے اللہ! تو میرے دل کو ٹھنڈا کر دے برف اور اولے سے اور ٹھنڈے پانی سے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک و صاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥١؛حدیث نمبر ص٣٥٤٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ بَرِّدْ قَلْبِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3547

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس کسی کے لیے دعا کا دروازہ کھولا گیا تو اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے، اور اللہ اللہ تعالی کے نزدیک ان میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ اس سے عافیت مانگی جائے“ ‌‌‌‏ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا نازل شدہ مصیبت، اور جو ابھی نہیں نازل ہوئی ہے اس سے بچنے کا فائدہ دیتی ہے، تو اے اللہ کے بندو! تم دعا کو لازم پکڑ لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوبکر قرشی کی روایت سے جانتے ہیں، یہ ملیکی ہیں اور یہ حدیث میں ضعیف مانتے جاتے ہیں، انہیں بعض اہل علم نے حافظہ کے اعتبار سے ضعیف ٹھہرایا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٢؛حدیث نمبر ص٣٥٤٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيِّ الْمُلَيْكِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَمَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا يَعْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالدُّعَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيِّ وَهُوَ الْمَكِّيُّ الْمُلَيْكِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ،

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3548

یہ حدیث اسرائیل نے بھی عبدالرحمٰن بن ابوبکر سے روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے جو چیزیں بھی مانگی جاتی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ چیز عافیت ہے۔ حضرت بلال رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیام اللیل یعنی تہجد کا اہتمام کیا کرو، کیونکہ تم سے پہلے کے صالحین کا یہی طریقہ ہے، اور رات کا قیام یعنی تہجد اللہ سے قریب و نزدیک ہونے کا، گناہوں سے دور ہونے کا اور برائیوں کے مٹنے اور بیماریوں کو جسم سے دور بھگانے کا ایک ذریعہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ہم اسے حضرت بلال رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ اپنی سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا: محمد قرشی یہ محمد بن سعید شامی ہیں اور یہ ابوقیس کے بیٹے ہیں اور یہ (ابوقیس) محمد بن حسان ہیں، ان (محمد القرشی) کی روایت کی ہوئی حدیث نہیں لی جاتی ہے۔ یہ حدیث معاویہ بن صالح نے بھی ربیعہ بن یزید سے، ربیعہ نے ابوادریس خولانی سے، اور ابوادریس خولانی نے حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”قیام اللیل (تہجد کی نماز) کو اپنے لیے لازم کر لو، کیونکہ تم سے پہلے کے نیکوں کاروں کا یہی طریقہ ہے اور یہ تمہارے لیے اللہ سے نزدیک ہونے کا ذریعہ ہے یہ تمہارے گناہوں کا کفارہ اور برائیوں سے بچ رہنے کا ایک آلہ ہے، ۴- یہ حدیث زیادہ صحیح ہے ابوادریس کی اس حدیث سے جسے انہوں نے بلال رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےمنقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٢؛حدیث نمبر ٣٥٤٩)

وَقَدْ رَوَى إِسْرَائِيلُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَافِيَةِ ". حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، بِهَذَا. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بِنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ بِلَالٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأَبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّ قِيَامَ اللَّيْلِ قُرْبَةٌ إِلَى اللَّهِ وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ، وَتَكْفِيرٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمَطْرَدَةٌ لِلدَّاءِ عَنِ الْجَسَدِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ بِلَالٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَا يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: مُحَمَّدٌ الْقُرَشِيُّ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الشَّامِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ وَقَدْ تُرِكَ حَدِيثُهُ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأَبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ، وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمَنْهَاةٌ لِلْإِثْمِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ بِلَالٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3549

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر (سال) کے درمیان ہیں اور تھوڑے ہی لوگ ایسے ہوں گے جو اس حد کو پار کریں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے یعنی محمد بن عمرو کی روایت سے جسے وہ ابی سلمہ سے اور حضرت ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۲- ہم (ابوسلمہ کی) اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٣؛حدیث نمبر ص٣٥٥٠)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ، وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3550

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتےتھے: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطواعا لك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري» ”اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، اور میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف کسی کے لیے تدبیر نہ فرما، اور اے اللہ! تو مجھے ہدایت نصیب فرما اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما، اور اے اللہ! میری مدد فرما اس شخص کے مقابل میں جو میرے خلاف بغاوت و سرکشی کرے، اے میرے رب! تو مجھے اپنا بہت زیادہ شکر گزار بندہ بنا لے، اپنا بہت زیادہ یاد و ذکر کرنے والا بنا لے، اپنے سے بہت ڈرنے والا بنا دے، اپنی بہت زیادہ اطاعت کرنے والا بنا دے، اور اپنے سامنے عاجزی و انکساری کرنے والا بنا دے، اور اپنے سامنے آہ وزاری کرنے اور اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا دے۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما اور میری برائیوں کو دھو دے، اور میری دعا قبول فرما، اور میری حجت کو ثابت و ٹھوس بنا دے، اور میری زبان کو روک دے، میرے دل کو ہدایت نصیب کر ، اور میرے سینے سے حسد نکال دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٤؛حدیث نمبر ص٣٥٥١)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طُلَيْقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو، يَقُولُ: " رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مِطْوَاعًا، لَكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاهْدِ قَلْبِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , بِهَذَا الإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3551

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے اوپر ظلم کرنے والے کے خلاف بد دعا کی تو اس نے اس سے بدلہ لے لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے حمزہ کی روایت سے جانتے ہیں اور حمزہ کے بارے میں بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے، اور یہ میمون الاعور ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٤؛حدیث نمبر ص٣٥٥٢)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَهُ فَقَدِ انْتَصَرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَمْزَةَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَبِي حَمْزَةَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَهُوَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3552

حضرت ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دس بار: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں اسی کے لیے ہے ملک (بادشاہت) اسی کے لیے ہے ساری تعریفیں، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“، کہا تو یہ (اس کا اجر) اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا“۔ یہ حدیث حضرت ابوایوب رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی روایت ہوئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٥؛حدیث نمبر ص٣٥٥٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَانَتْ لَهُ عِدْلَ أَرْبَعِ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل ". قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ مَوْقُوفًا.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3553

کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت صفیہ رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت میرے سامنے کھجور کی چار ہزار گٹھلیوں کی ڈھیر تھی، میں ان گٹھلیوں کے ذریعہ تسبیح پڑھا کرتی تھی، میں نے کہا: میں نے ان کے ذریعہ تسبیح پڑھی ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تسبیح کا طریقہ بتا دوں جتنی تو نے پڑھی ہیں؟“ میں نے کہا: (ضرور) مجھے بتائیے، تو آپ نے فرمایا: «سبحان الله عدد خلقه» ”میں تیری مخلوقات کی تعداد کے برابر تیری تسبیح بیان کرتی ہوں“، پڑھ لیا کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صفیہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ہاشم بن سعید کوفی کی روایت سے اور اس کی سند معروف نہیں ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٥؛حدیث نمبر ص٣٥٥٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنِي كِنَانَةُ مَوْلَى صَفِيَّةَ، قَال: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ، تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيَّ أَرْبَعَةُ آلَافِ نَوَاةٍ أُسَبِّحُ بِهَا، فَقُلْتُ: لَقَدْ سَبَّحْتُ بِهَذِهِ، فَقَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكِ بِأَكْثَرَ مِمَّا سَبَّحْتِ بِهِ؟ " فَقُلْتُ: بَلَى عَلِّمْنِي، فَقَالَ: قُولِي سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ هَاشِمِ بْنِ سَعِيدٍ الْكُوفِيِّ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمَعْرُوفٍ، وَفِي الْبَابِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3554

ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ (اس وقت) اپنی جاے نماز پر تھیں دوپہر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے پھر گزر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تب سے تم اسی حال میں ہو؟ (یعنی اسی وقت سے اس وقت تک تم ذکرو تسبیح ہی میں بیٹھی ہو) انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں چند کلمے ایسے نہ سکھا دوں جنہیں تم کہہ لیا کرو۔ (اور پھر پورا ثواب پاؤ) وہ کلمے یہ ہیں: «سبحان الله عدد خلقه، سبحان الله عدد خلقه، سبحان الله عدد خلقه، سبحان الله رضا نفسه، سبحان الله رضا نفسه، سبحان الله رضا نفسه، سبحان الله زنة عرشه، سبحان الله زنة عرشه، سبحان الله زنة عرشه، سبحان الله مداد كلماته، سبحان الله مداد كلماته، سبحان الله مداد كلماته»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن عبدالرحمٰن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، وہ مدینہ کے رہنے والے شیخ ہیں اور ثقہ ہیں، یہ حدیث مسعودی اور ثوری نے بھی ان سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٦؛حدیث نمبر ص٣٥٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَال: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهَا وَهِيَ فِي مَسْجِدٍ، ثُمَّ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ، فَقَالَ لَهَا: " مَا زِلْتِ عَلَى حَالِكِ؟ " فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهَا، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، وَهُوَ شَيْخٌ مَدَنِيٌّ ثِقَةٌ. وَقَدْ رَوَى عَنْهُ الْمَسْعُودِيُّ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3555

حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ «حيي كريم» ہے یعنی زندہ و کرم فرمانے والا ہے اور وہ اس بات سے حیا کرتا ہے کہ جب کوئی آدمی اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دے تو وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو خالی اور ناکام و نامراد واپس کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض دوسروں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٦؛حدیث نمبر ص٣٥٥٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ صَاحِبُ الْأَنْمَاطِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا خَائِبَتَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3556

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اپنی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے دعا مانگ رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ایک کے ذریعے ایک کے ذریعے( اشارہ کرو) امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، حدیث کا مفہوم یہ ہے جس وقت کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے دعا کے دوران آدمی اپنی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتا ہے اس وقت صرف ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کرے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٧؛حدیث نمبر ص٣٥٥٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُو بِإِصْبَعَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحِّدْ أَحِّدْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: إِذَا أَشَارَ الرَّجُلُ بِإِصْبَعَيْهِ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الشَّهَادَةِ لَا يُشِيرُ إِلَّا بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3557

حضرت رفاعہ بن رافع انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ منبر پر چڑھے، اور روئے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزشتہ سال منبر پر کھڑے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے تھے، پھر فرمایا: اللہ سے معافی مانگو اور عافیت مانگو،کسی بھی شخص کو یقین کے بعد عافیت سے بہتر اور کوئی چیز نہیں دی گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کی سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٧؛حدیث نمبر ص٣٥٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ رِفَاعَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ بَكَى , فَقَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ بَكَى، فَقَالَ: " اسْأَلُوا اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فَإِنَّ أَحَدًا لَمْ يُعْطَ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْعَافِيَةِ ". قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3558

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مغفرت طلب کرے اس نے گویا گناہ پر اصرار نہیں کیا اگرچہ وہ ایک دن میں 70 مرتبہ ایسا کرے “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابونصیرہ کی روایت سے جانتے ہیں ۳- اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٨؛حدیث نمبر ص٣٥٥٩)

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ وَلَوْ فَعَلَهُ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي نُصَيْرَةَ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3559

حضرت ابوامامہ الباہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں“، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» پھر اس نے اپنا پرانا (اتارا ہوا) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٩؛حدیث نمبر ص٣٥٦٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْأَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَوْبًا جَدِيدًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا , فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ، كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سَتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ. وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3560

حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک فوج بھیجی تو اس نے بہت ساری غنیمت حاصل کیا اور جلد ہی لوٹ آئی، (جنگ میں) نہ جانے والوں میں سے ایک نے کہا: میں نے اس فوج سے بہتر کوئی فوج نہیں دیکھی جو اس فوج سے زیادہ جلد لوٹ آنے والی اور زیادہ مال غنیمت لے کر آنے والی ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسے لوگوں کی ایک جماعت نہ بتاؤں جو زیادہ غنیمت والی اور جلد واپس آ جانے والی ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز فجر میں حاضر ہوتے ہیں پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے یہ لوگ (ان سے) جلد لوٹ آنے والے اور (ان سے) زیادہ مال غنیمت لانے والے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حماد بن ابی حمید یہ محمد بن ابی حمید ہیں، اور یہ ابوابراہیم انصاری مدنی ہیں۔ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٩؛حدیث نمبر ص٣٥٦١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ، فَقَالَ رَجَلٌ مِمَّنْ لَمْ يَخْرُجْ: مَا رَأَيْنَا بَعْثًا أَسْرَعَ رَجْعَةً وَلَا أَفْضَلَ غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى قَوْمٍ أَفْضَلُ غَنِيمَةً وَأَسْرَعُ رَجْعَةً، قَوْمٌ شَهِدُوا صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ جَلَسُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ حَتَّى طَلَعَتْ عَلَيْهِمُ الشَّمْسُ فَأُولَئِكَ أَسْرَعُ رَجْعَةً وَأَفْضَلُ غَنِيمَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَحَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ , وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ الْمُزَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3561

حضرت عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ نے (اجازت دیتے ہوئے) کہا: ”اے میرے بھائی! اپنی دعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا، بھولنا نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥٩؛حدیث نمبر ص٣٥٦٢)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ , فَقَالَ: " أَيْ أُخَيَّ أَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3562

حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب غلام نےان کے پاس آ کر کہا کہ میں اپنی مکاتبت کی رقم ادا نہیں کر پا رہا ہوں، آپ ہماری کچھ مدد فرما دیجئیے تو انہوں نے کہا: کیا میں تم کو کچھ ایسے کلمے نہ سکھا دوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائے تھے؟ اگر تیرے پاس «صیر» پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو اللہ اسے ادا فرما دے گا، انہوں نے کہا: کہو: «اللهم اكفني بحلالك عن حرامك وأغنني بفضلك عمن سواك» ”اے اللہ! مجھے حلال رزق عطا کر دے میری ضروریات پوری کر دے اور مجھے حرام سے بچا اور اپنے فضل کے ذریعے مجھے اپنے علاوہ ہر ایک شے سے بے نیاز کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٠؛حدیث نمبر ص٣٥٦٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ مُكَاتَبًا جَاءَهُ , فَقَالَ: إِنِّي قَدْ عَجَزْتُ عَنْ كِتَابَتِي فَأَعِنِّي، قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَيْنًا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ؟ قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3563

حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں دعا کر رہا تھا: «اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفغني وإن كان بلاء فصبرني» ”اے میرے رب! اگر میری موت کا وقت آ پہنچا ہے تو مجھے (موت دے کر) راحت دے اور اور اگر میری موت بعد میں ہو تو مجھے اٹھا کر کھڑا کر دے (یعنی صحت دیدے) اور اگر یہ آزمائش ہے تو مجھے صبر دے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیسے کہا“ تو انہوں نے جو کہا تھا اسے دہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاؤں مبارک سے مارا پھر آپ نے فرمایا: «اللهم عافه أو اشفه» ”اے اللہ! انہیں عافیت دے، یا شفاء دے“، اس کے بعد مجھے اپنی تکلیف کی پھر کبھی شکایت نہیں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فی دعاء المریض؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٠؛حدیث نمبر ص٣٥٦٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَغنِي وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوِ اشْفِهِ " شُعْبَةُ الشَّاكُّ فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي بَعْدُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3564

حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کی عیادت کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أذهب البأس رب الناس واشف فأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! اے تمام لوگوں کے رب! عذاب و تکلیف کو دور کر دے اور شفاء دیدے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری دی ہوئی شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں ہے، ایسی شفاء دے کہ بیماری کچھ بھی باقی نہ رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فی دعا المریض؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦١؛حدیث نمبر ص٣٥٦٥)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا قَالَ: " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ فَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3565

حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی (نماز) وتر میں یہ دعا مانگتے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك»۔ "اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے بچ کر تیری رضا و خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں تیرے عذاب و سزا سے بچ کر تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے، میں تیری ثناء (تعریف) کا احاطہ و شمار نہیں کر سکتا تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنے آپ کی ثناء و تعریف کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث علی کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، یعنی حماد ابن سلمہ کی روایت سے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فی دعا الوتر؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦١؛حدیث نمبر ص٣٥٦٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي وِتْرِهِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ عَلِيٍّ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3566

مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمے ایسے ہی سکھاتے تھے جیسا کہ چھوٹے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے والا معلم سکھاتا ہے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ ہر نماز کے اخیر میں اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ (وہ کلمے یہ تھے): «اللهم إني أعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من البخل وأعوذ بك من أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بزدلی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کنجوسی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں سٹھیا جانے والی عمر سے اور پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ابواسحاق ہمدانی اس حدیث میں اضطرب کا شکار تھے، کبھی کہتے تھے: روایت ہے عمرو بن میمون سے اور وہ روایت کرتے ہیں عمر سے، اور کبھی کسی اور سے کہتے اور اس روایت میں اضطراب کرتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَعَوُّذِهِ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ؛نماز کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا مانگنا اور کلمات تعوذ پڑھنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٢؛حدیث نمبر ص٣٥٦٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , قَالَا: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكَتِّبُ الْغِلْمَانَ وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ مُضْطَرِبٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَيَقُولُ: عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ، وَيَقُولُ: عَنْ غَيْرِهِ وَيَضْطَرِبُ فِيهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3567

عائشہ بنت سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں، کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے،اس کے آگے کھجور کی گٹھلیاں تھیں یا کنکریاں، ان کے ذریعہ وہ تسبیح پڑھا کرتی تھی، آپ نے اس سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے آسان طریقہ نہ بتا دوں؟ یا اس سے افضل و بہتر طریقہ نہ بتا دوں؟وہ یہ ہے: «سبحان الله عدد ما خلق في السماء، وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض، وسبحان الله عدد ما بين ذلك، وسبحان الله عدد ما هو خالق، والله أكبر مثل ذلك، والحمد لله مثل ذلك، ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك» ”پاکی ہے اللہ کی اتنی جتنی اس نے آسمان میں چیزیں پیدا کی ہیں، اور پاکی ہے اللہ کی اتنی جتنی اس نے زمین میں چیزیں پیدا کی ہیں، اور پاکی ہے اس کی اتنی جتنی کہ ان دونوں کے درمیان چیزیں ہیں، اور پاکی ہے اس کی اتنی جتنی کہ وہ (آئندہ) پیدا کرنے والا ہے، اور ایسے ہی اللہ کی بڑائی ہے اور ایسے ہی اللہ کے لیے حمد ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث سعد کی روایت سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَعَوُّذِهِ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ؛نماز کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا مانگنا اور کلمات تعوذ پڑھنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٢؛حدیث نمبر ص٣٥٦٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى، أَوْ قَالَ حَصًى تُسَبِّحُ بِهِ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا أَوْ أَفْضَلُ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ سَعْدٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3568

حضرت زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی صبح ایسی نہیں ہے کہ اللہ کے بندے صبح کرتے ہوں اور اس صبح میں کوئی پکار کر کہنے والا یہ نہ کہتا ہو کہ «سبحان الملك القدوس» کی تسبیح پڑھا کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَعَوُّذِهِ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ؛نماز کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا مانگنا اور کلمات تعوذ پڑھنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٣؛حدیث نمبر٣٥٦٩)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَكِيمٍ خَطْمِيٌ مَوْلَى الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَبَاحٍ يُصْبِحُ الْعَبْدُ فِيهِ إِلَّا وَمُنَادٍ يُنَادِي: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3569

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ اسی دوران حضرت علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، قرآن میرے سینے سے نکل جاتا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے پہر کا وقت ایسا وقت ہوتا ہے جس میں فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں، اور دعا اس وقت مقبول ہوتی ہے، میرے بھائی حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں سے کہا تھا:(جس کا ذکر قرآن نے ان الفاظ میں کیا)«سوف أستغفر لكم ربي» یعنی میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا، آنے والی جمعہ کی رات میں، اگر نہ اٹھ سکو تو درمیان پہر میں اٹھ جاؤ، اور اگر درمیانی حصے (پہر) میں نہ اٹھ سکو تو پہلے پہر ہی میں اٹھ جاؤ اور چار رکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ یٰسین پڑھو، دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور حم دخان اور تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور الم تنزیل السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور تبارک (مفصل) پڑھو، پھر جب تشہد سے فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی حمد بیان کرو اور اچھے سے اللہ کی ثناء بیان کرو، اور مجھ پر صلاۃ (درود) بھیجو، اور اچھے سے بھیجو اور سارے نبیوں پر صلاۃ (درود) بھیجو اور مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرو، اور ان مومن بھائیوں کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرو، جو تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں، پھر یہ سب کر چکنے کے بعد یہ دعا پڑھو:(ترجمہ) ”اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ جب تک تو مجھے زندہ رکھ میں گناہوں کو چھوڑ دوں ، اے اللہ! تو مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ میں لا یعنی چیزوں میں نہ پڑوں، جو چیزیں تیری رضا و خوشنودی کی ہیں انہیں پہچاننے کے لیے مجھے حسن نظر (اچھی نظر) دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، ذالجلال ولاکرام (عزت و بزرگی والے) ایسی عزت و مرتبت والے کہ جس عزت کو حاصل کرنے و پانے کا کوئی قصد و ارادہ ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے بڑی رحمت والے میں تیرے جلال اور تیرے تابناک و منور ذات کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو میرے دل کو اپنی کتاب (قرآن پاک) کے حفظ کے ساتھ جوڑ دے، جیسے تو نے مجھے قرآن سکھایا ہے ویسے ہی میں اسے یاد و محفوظ رکھ سکوں، اور تو مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں اس کتاب کو اسی طریقے اور اسی ڈھنگ سے پڑھوں جو تجھے مجھ سے راضی و خوش کر دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، (جاہ) و جلال اور بزرگی والے اور ایسی عزت والے جس عزت کا کوئی ارادہ (تمنا اور خواہش) ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے رحمن تیرے جلال اور تیرے ذات کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو اپنی کتاب کے ذریعہ میری نگاہ کو منور کر دے (مجھے کتاب الٰہی کی معرفت حاصل ہو جائے، اور میری زبان بھی اسی کے مطابق چلے، اور اسی کے ذریعہ میرے دل کا غم دور کر دے، اور اس کے ذریعہ میرا سینہ کھول دے (میں ہر اچھی و بھلی بات کو سمجھنے لگوں) اور اس کے ذریعہ میرے بدن کو دھو دے (میں پاک و صاف رہنے لگوں) کیونکہ میرے حق پر چلنے کے لیے تیرے سوا کوئی اور میری مدد نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کوئی تیرے سوا مجھے حق دے سکتا ہے اور اللہ جو برتر اور عظیم ہے اس کے سوا برائیوں سے پلٹنے اور نیکیوں کو انجام دینے کی توفیق کسی اور سے نہیں مل سکتی“۔ اے ابوالحسن! ایسا ہی کرو، تین جمعہ، پانچ جمعہ یا سات جمعہ تک، اللہ کے حکم سے دعا قبول کر لی جائے گی، اور قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کو پڑھ کر کوئی مومن کبھی محروم نہ رہے گا،حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! حضرت علی رضی الله عنہ پانچ یا سات جمعہ ٹھہرے ہوں گے کہ وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ایسی ہی مجلس میں حاضر ہوئے اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے پہلے چار آیتیں یا ان جیسی دو ایک آیتیں کم و بیش یاد کر پاتا تھا، اور جب انہیں دل میں آپ ہی آپ دہراتا تھا تو وہ بھول جاتی تھیں، اور اب یہ حال ہے کہ میں چالیس آیتیں سیکھتا ہوں یا چالیس سے دو چار کم و بیش، پھر جب میں انہیں اپنے آپ دہراتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے تو ان کتاب اللہ میری آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی رکھی ہے (اور میں روانی سے پڑھتا چلا جاتا ہوں) اور ایسے ہی میں اس سے پہلے حدیث سنا کرتا تھا، پھر جب میں اسے دہراتا تو وہ دماغ سے نکل جاتی تھی، لیکن آج میرا حال یہ ہے کہ میں حدیثیں سنتا ہوں پھر جب میں انہیں بیان کرتا ہوں تو ان میں سے ایک حرف بھی کم نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا: ”قسم ہے رب کعبہ کی! اے ابوالحسن تم مومن ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ولید بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ الْحِفْظِ؛(قرآن) حفظ کرنے کی دعا کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٣؛حدیث نمبر٣٥٧٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي تَفَلَّتَ هَذَا الْقُرْآنُ مِنْ صَدْرِي فَمَا أَجِدُنِي أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا الْحَسَنِ أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ وَيَنْفَعُ بِهِنَّ مَنْ عَلَّمْتَهُ وَيُثَبِّتُ مَا تَعَلَّمْتَ فِي صَدْرِكَ؟ " , قَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَلِّمْنِي، قَالَ: " إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَقُومَ فِي ثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ , فَإِنَّهَا سَاعَةٌ مَشْهُودَةٌ وَالدُّعَاءُ فِيهَا مُسْتَجَابٌ، وَقَدْ قَالَ أَخِي يَعْقُوبُ لِبَنِيهِ: سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي يَقُولُ: حَتَّى تَأْتِيَ لَيْلَةُ الْجُمْعَةِ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ , فَقُمْ فِي وَسَطِهَا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ , فَقُمْ فِي أَوَّلِهَا فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَسُورَةِ يس، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وحم الدُّخَانِ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَفِي الرَّكْعَةِ الرَّابِعَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَ تَبَارَكَ الْمُفَصَّلَ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ التَّشَهُّدِ , فَاحْمَدِ اللَّهَ , وَأَحْسِنِ الثَّنَاءَ عَلَى اللَّهِ , وَصَلِّ عَلَيَّ , وَأَحْسِنْ , وَعَلَى سَائِرِ النَّبِيِّينَ، وَاسْتَغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ , وَالْمُؤْمِنَاتِ , وَلِإِخْوَانِكَ الَّذِينَ سَبَقُوكَ بِالْإِيمَانِ، ثُمَّ قُلْ فِي آخِرِ ذَلِكَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي بِتَرْكِ الْمَعَاصِي أَبَدًا مَا أَبْقَيْتَنِي، وَارْحَمْنِي أَنْ أَتَكَلَّفَ مَا لَا يَعْنِينِي، وَارْزُقْنِي حُسْنَ النَّظَرِ فِيمَا يُرْضِيكَ عَنِّي، اللَّهُمَّ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ، أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ يَا رَحْمَنُ بِجَلَالِكَ , وَنُورِ وَجْهِكَ أَنْ تُلْزِمَ قَلْبِي حِفْظَ كِتَابِكَ كَمَا عَلَّمْتَنِي، وَارْزُقْنِي أَنْ أَتْلُوَهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي يُرْضِيكَ عَنِّيَ، اللَّهُمَّ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ، أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ يَا رَحْمَنُ بِجَلَالِكَ وَنُورِ وَجْهِكَ أَنْ تُنَوِّرَ بِكِتَابِكَ بَصَرِي، وَأَنْ تُطْلِقَ بِهِ لِسَانِي، وَأَنْ تُفَرِّجَ بِهِ عَنْ قَلْبِي، وَأَنْ تَشْرَحَ بِهِ صَدْرِي، وَأَنْ تَغْسِلَ بِهِ بَدَنِي، لَأنَّهُ لَا يُعِينُنِي عَلَى الْحَقِّ غَيْرُكَ، وَلَا يُؤْتِيهِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، يَا أَبَا الْحَسَنِ تَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ، أَوْ خَمْسَ، أَوْ سَبْعَ تُجَابُ بِإِذْنِ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا أَخْطَأَ مُؤْمِنًا قَطُّ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَوَاللَّهِ مَا لَبِثَ عَلِيٌّ إِلَّا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ الْمَجْلِسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ فِيمَا خَلَا لَا آخُذُ إِلَّا أَرْبَعَ آيَاتٍ أَوْ نَحْوَهُنَّ، وَإِذَا قَرَأْتُهُنَّ عَلَى نَفْسِي تَفَلَّتْنَ، وَأَنَا أَتَعَلَّمُ الْيَوْمَ أَرْبَعِينَ آيَةً أَوْ نَحْوَهَا وَإِذَا قَرَأْتُهَا عَلَى نَفْسِي فَكَأَنَّمَا كِتَابُ اللَّهِ بَيْنَ عَيْنَيَّ، وَلَقَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ الْحَدِيثَ فَإِذَا رَدَّدْتُهُ تَفَلَّتَ وَأَنَا الْيَوْمَ أَسْمَعُ الْأَحَادِيثَ فَإِذَا تَحَدَّثْتُ بِهَا لَمْ أَخْرِمْ مِنْهَا حَرْفًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: " مُؤْمِنٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَا أَبَا الْحَسَنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3570

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے، اور افضل عبادت یہ ہے کہ فراخی کا انتظار کیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حماد بن واقد نے ایسی ہی روایت کی ہے، اور ان کی روایت میں اختلاف کیا گیا ہے، ۲- حماد بن واقد یہ صفار ہیں، حافظ نہیں ہیں، اور یہ ہمارے نزدیک ایک بصریٰ شیخ ہیں، ۳- ابونعیم نے یہ حدیث اسرائیل سے، اسرائیل نے حکیم بن جبیر سے اور حکیم بن جبیر نے ایک شخص کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، اور ابونعیم کی حدیث صحت سے قریب تر ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي انْتِظَارِ الْفَرَجِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛کشادگی اور خوشحالی وغیرہ کے انتظار کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٥؛حدیث نمبر٣٥٧١)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ، وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَدْ خُولِفَ فِي رِوَايَتِهِ، وَحَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ هَذَا هُوَ الصَّفَّارُ لَيْسَ بِالْحَافِظِ، وَهُوَ عِنْدَنَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ، وَرَوَى أَبُو نُعَيْمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَحَدِيثُ أَبِي نُعَيْمٍ أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ أَصَحَّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3571

حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والعجز والبخل» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سستی و کاہلی اور عاجزی سے“، اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی آئی ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے بڑھاپے اور عذاب قبر سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي انْتِظَارِ الْفَرَجِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛کشادگی اور خوشحالی وغیرہ کے انتظار کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٦؛حدیث نمبر٣٥٧٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْعَجْزِ وَالْبُخْلِ ". وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يَتَعَوَّذُ مِنَ الْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3572

حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روئے زمین پر موجود جو بھی مسلمان اللہ تعالی سے جو بھی دعا مانگتا ہے اللہ تعالی وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے یا پھر اس شخص سے اس سوال کی مانند کسی برائی کو دور کر دیتا ہے جب تک بندہ کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ مانگے “، اس پر ایک شخص نے کہا: تب تو ہم خوب (بہت) دعائیں مانگا کریں گے، آپ نے فرمایا: ”اللہ اس سے بھی زیادہ دینے والا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي انْتِظَارِ الْفَرَجِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛کشادگی اور خوشحالی وغیرہ کے انتظار کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٦؛حدیث نمبر٣٥٧٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ يَدْعُو اللَّهَ بِدَعْوَةٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا أَوْ صَرَفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِذًا نُكْثِرَ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْثَرُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَابْنُ ثَوْبَانَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ الْعَابِدُ الشَّامِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3573

حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہو ویسا ہی وضو کر کے جاؤ، پھر داہنے کروٹ لیٹو، پھر (یہ) دعا پڑھو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں اپنے آپ کو تیری بارگاہ میں جھکا دیا، اپنا سب کچھ تجھے سونپ دیا، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے میں نے تیرا سہارا لیا، نہ تو میری کوئی امید گاہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے“،اگر تو مجھے اس رات میں موت دیدے تو مجھے دین اسلام پر موت دینا،حضرت براء رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے دعا کے ان الفاظ کو دہرایا تاکہ یاد ہو جائیں تو دہراتے وقت میں نے کہا: «آمنت برسولك الذي أرسلت» کہہ لیا تو آپ نے فرمایا: ”(رسول نہ کہو بلکہ) «آمنت بنبيك الذي أرسلت» کہو، میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث براء بن عازب سے کئی سندوں سے آئی ہے مگر اس رات کے سوا کسی بھی روایت میں ہم یہ نہیں پاتے کہ وضو کا ذکر کیا گیا ہو۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٧؛حدیث نمبر٣٥٧٤)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ , فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ , ثُمَّ قُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ , وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ , لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مُتَّ فِي لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ "، قَالَ: فَرَدَدْتُهُنَّ لِأَسْتَذْكِرَهُ، فَقُلْتُ: آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَقَالَ: قُلْ آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ. قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْبَرَاءِ، وَلَا نَعْلَمُ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ ذِكْرَ الْوُضُوءُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3574

معاذ بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم ایک بارش والی سخت تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلے تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھا دیں، چنانچہ میں آپ کو پا لیا ، آپ نے فرمایا: ”کہو (پڑھو)“، تو میں نے کچھ نہ کہا: ”کہو“ آپ نے پھر فرمایا، مگر میں نے کچھ نہ کہا، (کیونکہ معلوم نہیں تھا کیا کہوں؟) آپ نے پھر فرمایا: ”کہو“، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور «المعوذتين» ( «قل أعوذ برب الفلق»، «قل أعوذ برب الناس») صبح و شام تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، یہ (سورتیں) تمہیں ہر شر سے بچائیں گی اور محفوظ رکھیں گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوسعید براد: یہ اسید بن ابی اسید مدنی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٧؛حدیث نمبر٣٥٧٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ، وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ، نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَنَا، قَالَ: فَأَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ: قُلْ: فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: قُلْ: فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، قَالَ: قُلْ، فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلْ: " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَتُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو سَعِيدٍ الْبَرَّادُ هُوَ أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ مَدَنِيٌّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3575

حضرت عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے والد کے پاس پڑاؤ کیا ، ہم نے آپ کے کھانے کے لیے کچھ پیش کیا تو آپ نے اس میں سے کھایا، پھر آپ کے لیے کچھ کھجوریں لائی گئیں، تو آپ کھجوریں کھانے اور گھٹلی اپنی دونوں انگلیوں سبابہ اور وسطی (شہادت اور بیچ کی انگلی سے (دونوں کو ملا کر) پھینکتے جاتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: جو میں کہہ رہا ہوں وہ میرا گمان و خیال ہے، اللہ نے چاہا تو صحیح ہو گا، آپ دونوں انگلیوں کے بیچ میں گٹھلی رکھ کر پھینک دیتے تھے، پھر آپ کے سامنے پینے کی کوئی چیز لائی گئی تو آپ نے پی اور اپنے دائیں جانب ہاتھ والے کو تھما دیا (جب آپ چلنے لگے تو) آپ کی سواری کی لگام تھامے تھامے میرے والد نے آپ سے عرض کیا، آپ ہمارے لیے دعا فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» ”اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطا فرما اور انہیں بخش دے اور ان پر رحمت نازل فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی یہ حدیث عبداللہ بن بسر سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ الضَّيْفِ؛مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٨؛حدیث نمبر٣٥٧٦)

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ الشَّامِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُ وَيُلْقِي النَّوَى بِإِصْبَعَيْهِ جَمَعَ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى، قَالَ شُعْبَةُ: وَهُوَ ظَنِّي فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَأَلْقَى النَّوَى بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبِي وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ: ادْعُ لَنَا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ , وَاغْفِرْ لَهُمْ , وَارْحَمْهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3576

حضرت زید رضی الله عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص کہے: «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» ”میں مغفرت مانگتا ہوں اس بزرگ و برتر اللہ سے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، جو زندہ ہے اور ہر چیز کا نگہبان ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ ہی کیوں نہ آیا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ الضَّيْفِ؛مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٨؛حدیث نمبر٣٥٧٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الشَّنِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ مُرَّةَ، قَال: سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ , وَأَتُوبُ إِلَيْهِ غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3577

حضرت عثمان بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے عافیت دے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اگر چاہو تو صبر کیے رہو، کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے“۔ اس نے کہا: دعا ہی کر دیجئیے، تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ”وہ وضو کرے، اور اچھی طرح سے وضو کرے اور یہ دعا پڑھ کر دعا کرے: «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى لي اللهم فشفعه» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں اے اللہ میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ابو جعفر کی روایت سے، ۲- اور ابوجعفر خطمی ہیں ۳- اور عثمان بن حنیف یہ سہل بن حنیف کے بھائی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ الضَّيْفِ؛مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦٩؛حدیث نمبر٣٥٧٨)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي، قَالَ: " إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ وَإِنْ شِئْتَ صَبَرْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ "، قَالَ: فَادْعُهْ، قَالَ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ، مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى لِيَ، اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ الْخَطْمِيٍّ , وَعُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ هُوَ أَخُو سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3578

حضرت عمرو بن عنبسہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” رات کے آخری حصے میں بندہ اپنے پروردگار کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے اگر تم اس وقت میں اللہ تعالی کا ذکر کر سکتے ہو تو ایسا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ الضَّيْفِ؛مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٠؛حدیث نمبر٣٥٧٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْنٌ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3579

حضرت عمارہ بن زعکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میرا بندہ کامل بندہ وہ ہے جو مجھے اس وقت یاد کرتا ہے جب وہ جنگ کے وقت اپنے مدمقابل (دشمن) کے سامنے کھڑا ہو رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اس کی سند قوی نہیں ہے، اس ایک حدیث کے سوا ہم عمارہ بن زعکرہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اور روایت نہیں جانتے، ۲- اللہ کے قول «وهو ملاق قرنه» کا معنی و مطلب یہ ہے کہ لڑائی و جنگ کے وقت، یعنی ایسے وقت اور ایسی گھڑی میں بھی وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ الضَّيْفِ؛مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٠؛حدیث نمبر٣٥٨٠)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَكَّارٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا دَوْسٍ الْيَحْصُبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَائِذٍ الْيَحْصُبِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ زَعْكَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: " إِنَّ عَبْدِي كُلَّ عَبْدِيَ الَّذِي يَذْكُرُنِي وَهُوَ مُلَاقٍ قِرْنَهُ يَعْنِي عِنْدَ الْقِتَالِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَلَا نَعْرِفُ لِعُمَارَةَ بْنِ زَعْكَرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَهُوَ مُلَاقٍ قِرْنَهُ إِنَّمَا يَعْنِي عِنْدَ الْقِتَالِ، يَعْنِي أَنْ يَذْكُرَ اللَّهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3580

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے سپرد کر دیا، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، آپ نے اپنے پیر سے (مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے) ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتا دوں“، میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا: ”وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ؛«لا حول ولا قوة إلا بالله» کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٠؛حدیث نمبر٣٥٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ زَاذَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ دَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْدُمُهُ , قَالَ: فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّيْتُ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟ "، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3581

صفوان بن سلیم کہتے ہیں کہ زمین سے جو بھی فرشتہ اوپر جاتا ہے وہ یہ پڑھتا ہے «لا حول ولا قوة إلا بالله»( اللہ تعالی کی مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا) (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ؛«لا حول ولا قوة إلا بالله» کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٠؛حدیث نمبر٣٥٨٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: " مَا نَهَضَ مَلَكٌ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ".

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3582

حمیضہ بنت یاسر اپنی دادی حضرت یسیرہ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں، یسیرہ ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تمہارے لیے لازم اور ضروری ہے کہ تسبیح پڑھا کرو تہلیل اور تقدیس کیا کرو اور انگلیوں پر (تسبیحات وغیرہ کو) گنا کرو، کیونکہ ان سے (قیامت میں ان تسبیحات سے) پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کر دی جائے گی، اور تم لوگ غفلت نہ برتنا کہ (اللہ کی) رحمت کو بھول بیٹھو“۔ امام ترمذی کہتے: ہم اس حدیث کو صرف ہانی بن عثمان کی روایت سے جانتے ہیں اور محمد بن ربیعہ نے بھی ہانی بن عثمان سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧١؛حدیث نمبر٣٥٨٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، وغير واحد، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , فَقَالَ: سَمِعْتُ هَانِئَ بْنَ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ جَدَّتِهَا يُسَيْرَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ، وَاعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ، وَلَا تَغْفُلْنَ فَتَنْسَيْنَ الرَّحْمَةَ ". قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3583

حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت عضدي وأنت نصيري وبك أقاتل» ”اے اللہ! تو میرا ہی میرا سہارا ہے، تو ہی میرا مددگار ہے اور تیرے ہی سہارے میں لڑتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- اور «عضدی» کے معنی ہیں تو میرا مددگار ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الدُّعَاءِ إِذَا غَزَا؛لڑائی کے وقت کی دعا کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٢؛حدیث نمبر٣٥٨٤)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي , وَأَنْتَ نَصِيرِي , وَبِكَ أُقَاتِلُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: عَضُدِي يَعْنِي عَوْنِي.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3584

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دعا عرفہ والے دن کی دعا ہے،اور سب سے بہترین جملہ وہ ہے جو میں نے بھی پڑھا اور مجھ سے پہلے انبیاء نے بھی پڑھا : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے (ساری کائنات کی) بادشاہت ہے، اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‌‌‌‏“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- حماد بن ابی حمیدیہ محمد بن ابی حمید ہیں اور ان کی کنیت ابوابراہیم انصاری مدنی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ يَوْمِ عَرَفَةَ؛عرفہ کے دن کی دعا کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٢؛حدیث نمبر٣٥٨٥)

حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدِينِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ , وَلَهُ الْحَمْدُ , وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَحَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ , وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ الْمَدَنِيُّ، وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3585

حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا، آپ نے فرمایا: ”کہو «اللهم اجعل سريرتي خيرا من علانيتي واجعل علانيتي صالحة اللهم إني أسألك من صالح ما تؤتي الناس من المال والأهل والولد غير الضال ولا المضل» ”اے اللہ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو نیک کر دے۔ اور لوگوں کو جو مال تو اہل و عیال کی شکل میں عطاء کی ہے ان میں سے اچھا مال دے جو نہ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کو گمراہ کریں۔‌‌‌‏“ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ يَوْمِ عَرَفَةَ؛عرفہ کے دن کی دعا کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٣؛حدیث نمبر٣٥٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَتِي خَيْرًا مِنْ عَلَانِيَتِي، وَاجْعَلْ عَلَانِيَتِي صَالِحَةً، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِي النَّاسَ مِنَ الْمَالِ وَالْأَهْلِ وَالْوَلَدِ غَيْرِ الضَّالِّ وَلَا الْمُضِلِّ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3586

عاصم بن کلیب جرمی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں زانو پر رکھا تھا، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں زانو پر رکھا، انگلیاں بند کی تھیں اور «سبابہ» (شہادت کی انگلی) کھول رکھی تھی اور آپ یہ دعا کر رہے تھے: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي دُعَاءِ يَوْمِ عَرَفَةَ؛عرفہ کے دن کی دعا کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٣؛حدیث نمبر٣٥٨٧)

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْدَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ وَبَسَطَ السَّبَّابَةَ وَهُوَ يَقُولُ: " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3587

محمد بن سالم بیان کرتے ہیں :ثابت بنانی نے مجھ سے کہا اے محمد!جب تم بیمار ہو جاؤ تو اپنا ہاتھ اس جگہ پر رکھو جہاں تکلیف ہو اور پھر یہ پڑھو: «بسم الله أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد من وجعي هذا» ”اللہ کے نام سے اللہ کی عزت و قدرت کے سہارے میں اپنی اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کر رہا ہوں پناہ چاہتا ہوں“۔، پھر (درد کی جگہ سے) ہاتھ ہٹا لو پھر ایسے ہی طاق (تین یا پانچ یا سات) بار کرو، کیونکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایسا ہی بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور محمد بن سالم یہ بصریٰ شیخ ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الرُّقْيَةِ إِذَا اشْتَكَى؛بیماری و تکلیف میں جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٤؛حدیث نمبر٣٥٨٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي: يَا مُحَمَّدُ إِذَا اشْتَكَيْتَ فَضَعْ يَدَكَ حَيْثُ تَشْتَكِي، وَقُلْ: " بِسْمِ اللَّهِ، أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِي هَذَا، ثُمَّ ارْفَعْ يَدَكَ ثُمَّ أَعِدْ ذَلِكَ وِتْرًا "، فَإِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ بِذَلِكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3588

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا تعلیم دی:" اے اللہ! یہ تیری رات آگئی ہے اور تیرا دن رخصت ہو گیا ہے یہ تجھے پکارنے والوں کی آواز سننے کا وقت ہے اور تیری نماز میں حاضر ہونے کا وقت ہے میں تجھ سے یہ سوال کرتی ہوں کہ تو میری مغفرت کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حفصہ بنت ابی کثیر کو ہم نہیں جانتے اور نہ ہی ہم ان کے باپ کو جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الرُّقْيَةِ إِذَا اشْتَكَى؛بیماری و تکلیف میں جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٤؛حدیث نمبر٣٥٨٩)

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهَا أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُولِي: " اللَّهُمَّ هَذَا اسْتِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ وَحُضُورُ صَلَوَاتِكَ، أَسْأَلُكَ أَنْ تَغْفِرَ لِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَحَفْصَةُ بِنْتُ أَبِي كَثِيرٍ لَا نَعْرِفُهَا وَلَا نَعْرِفُ أَبَاهَا.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3589

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی کوئی بندہ خلوص دل سے «لا إله إلا الله» کہے گا اور کبائر سے بچتا رہے گا تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے، اور یہ کلمہ «لا إله إلا الله» عرش تک جا پہنچے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الرُّقْيَةِ إِذَا اشْتَكَى؛بیماری و تکلیف میں جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٥؛حدیث نمبر٣٥٩٠)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ الصُّدَائِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قَالَ عَبْدٌ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَطُّ مُخْلِصًا إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ حَتَّى تُفْضِيَ إِلَى الْعَرْشِ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3590

زیاد بن علاقہ اپنے چچا کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من منكرات الأخلاق والأعمال والأهواء» ”اے اللہ! میں ناپسندیدہ اخلاق ،اعمال اور خواہشوں سے پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- اور زیاد بن علاقہ کے چچا کا نام قطبہ بن مالک ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الرُّقْيَةِ إِذَا اشْتَكَى؛بیماری و تکلیف میں جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٥؛حدیث نمبر٣٥٩١)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ , وَأَبُو أُسَامَةَ , عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ , وَالْأَعْمَالِ , وَالْأَهْوَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَعَمُّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ هُوَ قُطْبَةُ بْنُ مَالِكٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3591

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے، اسی دوران ایک شخص نے کہا: «الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ”اللہ بہت بڑائی والا ہے، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سنا تو) پوچھا: ”ایسا ایسا کس نے کہا ہے؟“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے کہا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ(دعا)پسند آئی، اس کلمے کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے“۔حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے میں نے ان کا پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- حجاج بن ابی عثمان یہ حجاج بن میسرہ صواف ہیں، ان کی کنیت ابوصلت ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الرُّقْيَةِ إِذَا اشْتَكَى؛بیماری و تکلیف میں جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٥؛حدیث نمبر٣٥٩٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " عَجِبْتُ لَهَا فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ ". قَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ هُوَ حَجَّاجُ بْنُ مَيْسَرَةَ الصَّوَّافُ , وَيُكْنَى: أَبَا الصَّلْتِ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3592

حضرت ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت کی (یہاں راوی کو شبہ ہو گیا) یا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کی، تو انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اے اللہ کے رسول! کون سا کلام اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کلام جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایا ہے (اور وہ یہ ہے) «سبحان ربي وبحمده سبحان ربي وبحمده» ”میرا رب پاک ہے اور تعریف ہے اسی کے لیے، میرا رب پاک ہے اور ہر طرح کی حمد اسی کے لیے زیبا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب أَىُّ الْكَلاَمِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؛اللہ کے نزدیک سب سے محبوب اور پسندیدہ کلام کون سا ہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٦؛حدیث نمبر٣٥٩٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَهُ أَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ عَادَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَلَامِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: " مَا اصْطَفَى اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3593

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا لوٹائی نہیں جاتی“، (یعنی قبول ہو جاتی ہے) لوگوں نے عرض کیا: اس دوران ہم کون سی دعا مانگیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”دنیا اور آخرت (دونوں) میں عافیت مانگو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، یحییٰ بن ابان نے اس حدیث میں اس عبارت کا اضافہ کیا ہے کہ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: ”دنیا و آخرت میں عافیت (یعنی امن و سکون) مانگو“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ؛دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٦؛حدیث نمبر٣٥٩٤)

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ "، قَالُوا: فَمَاذَا نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَقَدْ زَادَ يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ هَذَا الْحَرْفَ قَالُوا: فَمَاذَا نَقُولُ؟ قَالَ: " سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ".

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3594

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے“، (یعنی ضرور قبول ہوتی ہے۔) امام ترمذی کہتے ہیں: ابواسحاق ہمدانی نے برید بن ابی مریم کوفی سے اور برید کوفی نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ؛دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٧؛حدیث نمبر٣٥٩٥)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَأَبُو أَحْمَدَ , وَأَبُو نُعَيْمٍ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا رَوَى أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْكُوفِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا وَهَذَا أَصَحُّ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3595

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مفرد لوگ سبقت لے گئے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ مفرد لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی یاد و ذکر میں ڈوبے رہنے والے لوگ،یہ ذکر ان کا بوجھ ان کے اوپر سے اتار کر رکھ دے گا اور قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ؛دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٧؛حدیث نمبر٣٥٩٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبَقَ الْمُفْرِدُونَ "، قَالُوا: وَمَا الْمُفْرِدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْمُسْتَهْتَرُونَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ، يَضَعُ الذِّكْرُ عَنْهُمْ أَثْقَالَهُمْ فَيَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِفَافًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3596

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ پڑھنا میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے: «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» ”اللہ پاک ہے، تعریف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے“،۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ؛دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٧؛حدیث نمبر٣٥٩٧)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ أَقُولَ: سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3597

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی: ایک روزہ دار، جب تک کہ روزہ نہ کھول لے، (دوسرے) امام عادل، (تیسرے) مظلوم۔اللہ تعالیٰ اسے بادلوں سے بھی اوپر لے جاتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور رب کہتا ہے: میری عزت (قدرت) کی قسم! میں تیری مدد کروں گا، خواہ کچھ وقت کے بعد کروں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- سعدان قمی یہ سعدان بن بشر ہیں، ان سے عیسیٰ بن یونس، ابوعاصم اور کئی بڑے محدثین نے روایت کی ہے ۳- اور ابومجاہد سے مراد سعد طائی ہیں ۴- اور ابومدلہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں ہم انہیں صرف اسی حدیث کے ذریعہ سے جانتے ہیں اور یہی حدیث ان سے اس حدیث سے زیادہ مکمل اور لمبی روایت کی گئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ؛دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٨؛حدیث نمبر٣٥٩٨)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدَانَ الْقُبِّيِّ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ، وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَسَعْدَانُ الْقبِّيُّ هُوَ سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو عَاصِمٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَأَبُو مُجَاهِدٍ هُوَ سَعْدٌ الطَّائِيُّ، وَأَبُو مُدِلَّةَ هُوَ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَيُرْوَى عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثُ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3598

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی: «اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما الحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من حال أهل النار» ”اے اللہ! تو نے مجھے جو تعلیم دی ہے اس کے ذریعے مجھے نفع عطا کر اور مجھے اس چیز کا علم عطا کر جو مجھے نفع دے اور میرے علم میں اضافہ کر،ہر حال میں ہر طرح کی حمد اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہیں اور میں اہل جہنم کی حالت سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي الْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ؛دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٨؛حدیث نمبر٣٥٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3599

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ یا حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں، جب وہ کسی قوم کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں: اپنی منزل کی طرف آؤ ، تو وہ لوگ آ جاتے ہیں، اور آسمان دنیا تک ان کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں،( پھر وہ فرشتے جب اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں)اللہ ان سے پوچھتا ہے: ”میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑ آئے ہو؟“ وہ کہتے ہیں: ہم انہیں تیری تعریف کرتے ہوئے تیری بزرگی بیان کرتے ہوئے اور تیرا ذکر کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہیں، وہ کہتا ہے: ”کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے (یا بن دیکھے ہوئے ہی میری عبادت و ذکر کئے جا رہے ہیں)“ وہ جواب دیتے ہیں: نہیں، اللہ کہتا ہے: ”اگر وہ لوگ مجھے دیکھ لیں تو کیا صورت و کیفیت ہو گی؟“ وہ جواب دیتے ہیں، وہ لوگ اگر تجھے دیکھ لیں تو وہ لوگ اور بھی تیری تعریف کرنے لگیں، تیری بزرگی بیان کریں گے اور تیرا ذکر بڑھا دیں گے، وہ پوچھتا ہے: ”وہ لوگ کیا چاہتے اور کیا مانگتے ہیں؟“ فرشتے کہتے ہیں: وہ لوگ جنت مانگتے ہیں، اللہ پوچھتا ہے ”کیا ان لوگوں نے جنت دیکھی ہے؟“ وہ جواب دیتے ہیں: نہیں، وہ پوچھتا ہے: ”اگر یہ دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہو گی؟“ وہ کہتے ہیں: ان کی طلب اور ان کی حرص اور بھی زیادہ بڑھ جائے گی، وہ پھر پوچھتا ہے: ”وہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: جہنم سے، وہ پوچھتا ہے: ”کیا ان لوگوں نے جہنم دیکھ رکھی ہے؟“ وہ کہتے ہیں: نہیں، وہ پوچھتا ہے: ”اگر یہ لوگ جہنم کو دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہو گی؟“ وہ کہتے ہیں: اگر یہ جہنم دیکھ لیں تو اس سے بہت زیادہ دور بھاگیں گے، زیادہ خوف کھائیں گے اور بہت زیادہ اس سے پناہ مانگیں گے، پھر اللہ کہے گا ”میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کی مغفرت کر دی ہے“، وہ کہتے ہیں: ان میں فلاں خطاکار شخص بھی ہے، ان کے پاس مجلس میں بیٹھنے نہیں بلکہ کسی ضرورت سے آیا تھا، (اور بیٹھ گیا تھا) اللہ فرماتا ہے، ”یہ ایسے (معزز و مکرم) لوگ ہیں کہ ان کا ہم نشیں بھی محروم نہیں رہ سکتا (ہم نے اسے بھی بخش دیا)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ لِلَّهِ مَلاَئِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الأَرْضِ؛زمین میں اللہ کے گھومنے پھرنے والے فرشتے ہیں؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧٩؛حدیث نمبر٣٦٠٠)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ، فَإِذَا وَجَدُوا أَقْوَامًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ، فَيَجِيئُونَ فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ اللَّهُ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ , وَيُمَجِّدُونَكَ , وَيَذْكُرُونَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: فَهَلْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا , وَأَشَدَّ تَمْجِيدًا , وَأَشَدَّ لَكَ ذِكْرًا، قَالَ: فَيَقُولُ: وَأَيُّ شَيْءٍ يَطْلُبُونَ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: يَطْلُبُونَ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا لَهَا أَشَدَّ طَلَبًا، وَأَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا، قَالَ: فَيَقُولُ: فَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ؟ قَالُوا: يَتَعَوَّذُونَ مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا مِنْهَا أَشَدَّ هَرَبًا , وَأَشَدَّ مِنْهَا خَوْفًا , وَأَشَدَّ مِنْهَا تَعَوُّذًا، قَالَ: فَيَقُولُ: فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، فَيَقُولُونَ: إِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَهُمْ لِحَاجَةٍ، فَيَقُولُ: هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى لَهُمْ جَلِيسٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3600

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے“۔ مکحول کہتے ہیں: جس نے کہا: «لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من الله إلا إليه» تو اللہ تعالیٰ اس سے ستر طرح کے ضرر و نقصان کو دور کر دیتا ہے، جن میں کمتر درجے کا ضرر فقر (و محتاجی) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس کی سند متصل نہیں ہے، مکحول نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٠؛حدیث نمبر٣٦٠١)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ مَكْحُولٌ: فَمَنْ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَنْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ كَشَفَ عَنْهُ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ أَدْنَاهُنَّ الْفَقْرُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَة.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3601

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک مخصوص مستجاب دعا ہوتی ہے اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھی ہے، اس دعا کا فائدہ ان شاءاللہ امت کے ہر اس شخص کو حاصل ہو گا جس نے مرنے سے پہلے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کیا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٠؛حدیث نمبر٣٦٠٢)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3602

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میں اپنے بندے کے میرے ساتھ گمان کے مطابق ہوتا ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت (لوگوں) میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں (یعنی فرشتوں میں) اگر کوئی مجھ سے قریب ہونے کے لیے ایک بالشت آگے بڑھتا ہے تو اس سے قریب ہونے کے لیے میں ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہوں، اور اگر کوئی میری طرف ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہوں، اگر کوئی میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کی تفسیر میں اعمش سے مروی ہے کہ اللہ نے یہ جو فرمایا ہے کہ ”جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں“، اس سے مراد یہ ہے کہ میں اپنی رحمت و مغفرت کا معاملہ اس کے ساتھ کرتا ہوں، ۳- اور اسی طرح بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس سے مراد جب بندہ میری اطاعت اور میرے مامورات پر عمل کر کے میری قربت حاصل کرنا چاہتا ہے تو میں اپنی رحمت و مغفرت لے کر اس کی طرف تیزی سے لپکتا ہوں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٠؛حدیث نمبر٣٦٠٣)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى عَنِ الْأَعْمَشِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ: مَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا يَعْنِي بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَهَكَذَا فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالُوا: إِنَّمَا مَعْنَاهُ يَقُولُ: إِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ الْعَبْدُ بِطَاعَتِي وَمَا أَمَرْتُ أُسْرِعُ إِلَيْهِ بِمَغْفِرَتِي وَرَحْمَتِي. وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ سورة البقرة آية 152 قَالَ: اذْكُرُونِي بِطَاعَتِي أَذْكُرْكُمْ بِمَغْفِرَتِي. حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، وَعَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الرَّمْلِيُّ , عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِهَذَا.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3603

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «استعيذوا بالله من عذاب جهنم واستعيذوا بالله من عذاب القبر استعيذوا بالله من فتنة المسيح الدجال واستعيذوا بالله من فتنة المحيا والممات» ”اللہ سے پناہ مانگو جہنم کے عذاب سے، اللہ سے پناہ مانگو قبر کے عذاب سے، اللہ سے پناہ مانگو مسیح دجال کے فتنے سے اور اللہ سے پناہ مانگو زندگی اور موت کے فتنے سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شام کے وقت تین مرتبہ «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» پڑھا، اسے اس رات کوئی بھی ڈنک مارنے والا جانور تکلیف نہیں پہنچا سکتا“۔ سہیل کہتے ہیں: میرے گھر والوں نے اسے سیکھا اور ہر رات اسے پڑھتے، پھر میرے گھر والوں میں سے ایک لونڈی کو کسی جانور نے ڈنک مارا تو اس ڈنک سے اسے کچھ بھی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- مالک بن انس نے یہ سہیل بن ابی صالح سے، سہیل نے اپنے والد ابوصالح سے اور ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- عبیداللہ بن عمر اور دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث سہیل سے روایت کی ہے، لیکن اس میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دعا جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سن کر) یاد کی ہے اسے میں برابر پڑھتا ہوں (وہ یہ ہے): «اللهم اجعلني أعظم شكرك وأكثر ذكرك وأتبع نصيحتك وأحفظ وصيتك» ”اے اللہ مجھے ایسا بنا دے کہ میں کثرت سے تیرا شکر ادا کروں، زیادہ سے زیادہ تیرا ذکر کروں، تیری نصیحت کی اتباع کروں اور تیری نصیحت ہمیشہ یاد رکھوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا مانگتا ہے اللہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، یہ دعا یا تو دنیا ہی میں قبول ہو جاتی ہے یا یہ دعا اس کے نیک اعمال میں شامل ہو کر آخرت کے لیے ذخیرہ بن جاتی ہے، یا مانگی ہوئی دعا کے مطابق اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ مانگی گئی دعا کا تعلق کسی گناہ کے کام سے نہ ہو، نہ ہی قطع رحمی کے سلسلہ میں ہو اور نہ ہی جلد بازی سے کام لیا گیا ہو“، صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! جلد بازی سے کام لینے کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ یہ کہنے لگے کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی لیکن اللہ نے میری دعا قبول نہیں کی امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طرح اٹھاتا ہے کہ اس کے بغل کا حصہ ظاہر ہو جاتا ہے پھر اللہ رب العالمین سے اپنی ضرورت مانگتا ہے تو اللہ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، شرط یہ ہے کہ اس نے جلد بازی سے کام نہ لیا ہو“، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! جلد بازی سے کام لینے کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ یہ کہنے لگے کہ میں نے مانگا اور باربار مانگا لیکن مجھے کچھ نہ دیا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: زہری نے یہ حدیث ابن ازہر کے آزاد غلام ابو عبید سے اور ابو عبید نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، (اس کے الفاظ یوں ہیں) آپ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ جلد بازی سے کام نہ لے۔ یعنی یہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی پھر بھی میری دعا قبول نہ ہوئی۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن اللہ تعالیٰ کی بہترین عبادت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔ حضرت ابوسلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص یہ غور وفکر کر لے کہ وہ کس چیز کی تمنا کر رہا ہے، کیونکہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کی آرزؤں میں سے کون سی آرزو و تمنا لکھ لی جائے گی (یا مقدر کر دی جائے گی)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں یہ کہتے تھے: «اللهم متعني بسمعي وبصري واجعلهما الوارث مني وانصرني على من يظلمني وخذ منه بثأري» ”اے اللہ! مجھے اپنے دونوں کانوں اور دونوں آنکھوں سے فائدہ پہنچا، اور ان دونوں کو میرے لیے باقی رکھ اور مجھ پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف میری مدد فرما، اور ظالم سے تو میرا بدلہ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک اپنی ساری حاجتیں اور ضرورتیں اپنے رب سے مانگے، یہاں تک کہ جوتے کا تسمہ اگر ٹوٹ جائے تو اسے بھی اللہ ہی سے مانگے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- کئی اور راویوں نے یہ حدیث جعفر بن سلیمان سے اور جعفر نے ثابت بنانی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، لیکن اس روایت میں حضرت انس رضی الله عنہ کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے (یعنی مرسلاً روایت کی ہے جو آگے آ رہی ہے)۔ ثابت بنانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک اپنی ضرورت اپنے رب سے مانگے، یہاں تک کہ نمک اور اپنے جوتے کا ٹوٹا ہوا تسمہ بھی اسی سے طلب کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ روایت قطن کی مذکورہ روایت سے جسے وہ جعفر بن سلیمان سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے (یعنی: اس کا مرسل ہونا زیادہ صحیح ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛دعاؤں کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٢؛حدیث نمبر٣٦٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ حُمَةٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ". قَالَ سُهَيْلٌ: فَكَانَ أَهْلُنَا تَعَلَّمُوهَا فَكَانُوا يَقُولُونَهَا كُلَّ لَيْلَةٍ، فَلُدِغَتْ جَارِيَةٌ مِنْهُمْ , فَلَمْ تَجِدْ لَهَا وَجَعًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُهَيْلٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو فَضَالَةَ الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: دُعَاءٌ حَفِظْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهُ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعَظِّمُ شُكْرَكَ وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ وَأَتَّبِعُ نَصِيحَتَكَ وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو اللَّهَ بِدُعَاءٍ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِمَّا أَنْ يُعَجَّلَ لَهُ فِي الدُّنْيَا، وَإِمَّا أَنْ يُدَّخَرَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يُكَفَّرَ عَنْهُ مِنْ ذُنُوبِهِ بِقَدْرِ مَا دَعَا، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ , أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ , أَوْ يَسْتَعْجِلُ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْتَعْجِلُ؟ قَالَ: " يَقُولُ: دَعَوْتُ رَبِّي فَمَا اسْتَجَابَ لِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ. حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ إِبِطُهُ يَسْأَلُ اللَّهَ مَسْأَلَةً إِلَّا آتَاهَا إِيَّاهُ مَا لَمْ يَعْجَلْ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ عَجَلَتُهُ؟ قَالَ: " يَقُولُ: قَدْ سَأَلْتُ وَسَأَلْتُ وَلَمْ أُعْطَ شَيْئًا ". وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، يَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ". حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ سُمَيْرِ بْنِ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللَّهِ مِنْ حُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَنْظُرَنَّ أَحَدُكُمْ مَا الَّذِي يَتَمَنَّى فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ نُوحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي , وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي , وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ يَظْلِمُنِي , وَخُذْ مِنْهُ بِثَأْرِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ. حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجْزِيُّ، حَدَّثَنَا قَطَنٌ الْبَصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى يَسْأَلَ شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَنَسٍ. حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ حَتَّى يَسْأَلَهُ الْمِلْحَ، وَحَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ" وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ قَطَنٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.

Tirmizi Shareef, Abawabud Da'waati, Hadees No. 3604

Tirmizi Shareef : Abawabud Da'waati

|

Tirmizi Shareef : ابواب الدعوات

|

•