
حضرت واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٣؛حدیث نمبر٣٦٠٥)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا اور قریش میں سے ہاشم کا اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٣؛حدیث نمبر٣٦٠٦)
حضرت عباس رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے عرض کی:یا رسول اللہ قریش بیٹھے۔انہوں نے اپنے نسب کا تذکرہ کیا، تو آپ کی مثال کھجور کے ایک ایسے درخت سے دی جو کسی ٹیلے پر ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس نے اس میں سے دو گروہوں کو پسند کیا، اور مجھے ان میں سب سے اچھے گروہ میں پیدا کیا، پھر اس نے قبیلوں کو چنا اور مجھے بہتر قبیلے میں سے کیا، پھر گھروں کو چنا اور مجھے ان گھروں میں سب سے بہتر گھر میں کیا، تو میں ذاتی طور پر بھی ان میں سب سے بہتر ہوں اور گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٤؛حدیث نمبر٣٦٠٧)
مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، گویا وہ کوئی بات سن کر آے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں سلامتی ہو آپ پر، آپ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے ان کے سب سے بہتر مخلوق میں کیا، پھر ان کے دو گروہ کئے تو مجھے ان کے بہتر گروہ میں کیا، پھر انہیں قبیلوں میں بانٹا تو مجھے ان کے سب سے بہتر قبیلہ میں کیا، پھر ان کے کئی گھر کیے تو مجھے ان کے سب سے بہتر گھر میں کیا اور شخصی طور پر بھی مجھے ان میں سب سے بہتر بنایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- جس طرح اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے اور یزید بن ابی زیاد نے عبداللہ بن حارث کے واسطہ سے عباس بن عبدالمطلب سے روایت کی ہے اسی طرح سفیان ثوری نے بھی یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے (وہ یہی روایت ہے) (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٤؛حدیث نمبر٣٦٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! نبوت آپ کو کب ملی؟ تو آپ نے فرمایا: ”جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں میسرہ الفجر سے بھی روایت آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٥؛حدیث نمبر٣٦٠٩)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں سب سے پہلے( قیامت)کے دن زمین سے نکلوں گا جب لوگوں کو مبعوث کیا جائے گا، میں ان کا خطیب ہوں گا جب وہ وفد کی شکل میں آئیں گے، میں ان کو خوشخبری دوں گا جب وہ مایوس ہو چکے ہوں گے اور اس دن لواء حمد میرے ہاتھ میں ہوگا میں اپنے رب کی بارگاہ میں آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٥؛حدیث نمبر٣٦١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٥؛حدیث نمبر٣٦١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی سے میرے لیے وسیلے کی دعا مانگو، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ!وسیلے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جنت میں موجود ایک درجہ ہے جس تک کوئی ایک ہی شخص پہنچے گا مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ۲- کعب غیر معروف شخص ہیں، ہم لیث بن سلیم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے ہیں جس نے ان سے روایت کی ہو۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٦؛حدیث نمبر٣٦١٢)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیگر انبیاء میں میری مثال اس طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے بہت اچھا بنایا، مکمل اور نہایت خوبصورت بنایا، لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس میں پھرتے تھے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے، کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہو جاتی،(تو مناسب ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا)انبیاء کے درمیان میں اس اینٹ کی جگہ کی مانند ہوں “۔ اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب ہوں گا اور ان کی شفاعت کرنے والا ہوں گا اور (اور اس پر مجھے) کوئی گھمنڈ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٦؛حدیث نمبر٣٦١٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر میرے اوپر صلاۃ (درود) بھیجو کیونکہ جس نے میرے اوپر ایک بار درود بھیجا تو اللہ اس پر دس بار اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک (ایسا بلند) درجہ ہے جس تک اللہ تعالی کا صرف ایک ہی بندہ پہنچ سکے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا اور جس نے میرے لیے (اللہ سے) وسیلہ کی دعا مانگے گا تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اس سند میں مذکور عبدالرحمٰن بن جبیر قرشی، مصری اور مدنی ہیں اور نفیر کے پوتے عبدالرحمٰن بن جبیر شامی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٦؛حدیث نمبر٣٦١٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میرے ہاتھ میں لواء حمد ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، اور حضرت آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہوں گے سب میرے پرچم کے نیچے ہوں گے، اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہو گی، اور سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے، ۲- اسے اسی سند سے ابونضرہ سے روایت ہے، وہ اسے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٧؛حدیث نمبر٣٦١٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بیٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، کہتے ہیں: پھر آپ نکلے یہاں تک کہ جب آپ ان کے قریب آئے تو انہیں آپس میں بحث کرتے سنا، آپ نے ان کی باتیں سنیں، کوئی کہہ رہا تھا، تعجب ہے اللہ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا، دوسرے نے کہا: حضرت موسیٰ سے اس کا کلام کرنا کتنا حیران کرنے والی بات ہے، اور ایک نے کہا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اور ایک دوسرے نے کہا: آدم کو اللہ نے تو صفی بنایا ہے، تو آپ نکل کر ان کے سامنے آئے اور انہیں سلام کیا اور فرمایا: ”میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلیل اللہ ہونے پر تعجب میں پڑنے کو بھی، واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نجی اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور آدم کے اللہ کا برگزیدہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں، سن لو! میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، قیامت کے دن حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور قیامت کے دن میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو شفاعت (سفارش) کرے گا اور جس کی شفاعت (سفارش) سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں پہلا شخص ہوں گا جو جنت کی کنڈی ہلائے گا تو اللہ میرے لیے جنت کو کھول دے گا، پھر وہ مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں اگلوں اور پچھلوں میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٧؛حدیث نمبر٣٦١٦)
حضرت محمد بن یوسف اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں کہ تورات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم انہیں کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ابوقتیبہ کہتے ہیں کہ ابومودود نے کہا: حجرہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، سند میں راوی نے عثمان بن ضحاک کہا اور مشہور ضحاک بن عثمان مدنی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٨؛حدیث نمبر٣٦١٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ دن تھا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تو اس دن ہر ایک چیز روشن ہو گئی تھی اور جب وہ دن آیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اس دن ہر چیز تاریک ہو گئی تھی ہم نے آپ کو دفن کرنے کے بعد ابھی اپنے ہاتھوں کی مٹی نہیں جھاڑی تھی لیکن ہمیں اپنے دلوں کی کیفیت بدلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٨؛حدیث نمبر٣٦١٨)
Tirmizi Shareef : Abawabul Manaqibi
|
Tirmizi Shareef : ابواب المناقب
|
•