
جمعہ کے دن کی فضیلت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن دنوں میں سورج طلوع کرتا ہے ان میں سب سے بہتر جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اسی دن آپ جنت میں داخل ہوئے اسی روز آپ جنت سے باہر تشریف لائے اور قیامت بھی جمعہ کے روز ہی قائم ہوگی ، اس باب میں حضرت ابو لبابہ ، سلمان،ابوذر،سعد بن عبادہ اور اوس بن اوس رضی اللہ عنہم سے بھی روایت منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں،حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب ۳۴۷؛فَضْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، حدیث نمبر ٤٨٨)
جمعہ کے دن ساعت قبولیت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مقبول گھڑی عصر کی نماز کے بعد سے غروب آفتاب کے درمیان ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں،یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دوسرے طریقوں سے بھی مروی ہے محمد بن ابی حمید ضعیف ہے ، بعض علماء نے اسے حفظ کے اعتبار سے ضعیف کہا ہے اسے حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے یہ ابراہیم انصاری ہے جو منکر حدیث ہے ، بعض صحابہ کرام اور تابعین فرماتے ہیں،مقبول ساعت، عصر سے لے کر غروب آفتاب تک ہے ، امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے ، امام احمد فرماتے ہیں مقبول ساعت جس میں دعا قبول ہوتی ہے ، اکثر احادیث کے مطابق نماز عصر کے بعد ہے، زوال آفتاب کے بعد بھی امید کی جاسکتی ہے ،، کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی بواسطہ والد اپنے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ہے کہ اس میں بندہ جو کچھ مانگتا ہے اللہ تعالی عطا فرماتا ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا،، یا رسول اللہ ! وہ کون سی ساعت ہے ؟ آپ نے فرمایا، نماز کے لیے کھڑا ہونے سے لے کر ختم ہونے تک ،، اس باب میں حضرت ابو موسیٰ ، ابوذر، سلمان، عبداللہ بن سلام، ابو لبابہ ، اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں، حدیث عمر بن عوف،حسن غریب ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن سلام سے ملاقات کے وقت یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے فرمایا ،، مجھے وہ ساعت اجابت معلوم ہے،، میں نے عرض کیا مجھے بھی بتائیں ، اور اس کے بتانے میں مجھ سے بخیلی نہ کریں ،، عبداللہ بن سلام نے فرمایا وہ (ساعت) عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک ہے، میں نے عرض کیا عصر کے بعد کیسے ہو سکتی ہے ، جب کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، کسی مسلمان کی حالت نماز میں وہ ساعت اس سے موافق ہوتی ہے الخ ،، اور اس وقت تو نماز نہیں پڑھی جاتی ،، اس پر عبداللہ بن سلام نے فرمایا، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ جو شخص انتظار نماز میں بیٹھے وہ نماز میں شمار ہوتا ہے ،، میں نے عرض کیا ہاں (فرمایا ہے) فرمانے لگے ،، پس وہ یہی ہے، اس حدیث میں طویل واقعہ ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے اور ان کا یہ کہنا کے ؛؛ لَاتَضْنُنْ بِہَا عَلَیَّ،،، یعنی بخل نہ کر ،،ضَنِیْنُ ، بخیل کو کہا جاتا ہے ( ظَنِیْنُ) اسے کہا جاتا ہے جسے تہمت لگائی گئی ہو ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۴۸؛فِی السَّاعَةِ الَّتِیْ تُرْجٰى فِیْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٤٨٩،و حدیث نمبر ٤٩٠،و حدیث نمبر ٤٩١)
جمعہ کے دن غسل کرنا حضرت سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ، جو جمعہ (کی نماز) کے لئے آئے اسے غسل کر لینا چاہئے، اس باب میں حضرت ابو سعید، عمر، جابر، براء، عائشہ، اور ابو ابو درداء رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے ہے، زہری نے بھی یہ حدیث بواسطہ عبداللہ ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے ،، لیث بن سعد نے بواسطہ ابن شہاب اور عبداللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی مثل حدیث روایت کی ، امام بخاری فرماتے ہیں حدیث زہری اور حدیث عبداللہ دونوں صحیح ہے ، امام زہری کے بعض شاگردوں نے بواسطہ امام زہری عبداللہ بن عمر کی اولاد کا بیان نقل کیا کہ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں، اس دوران کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے ایک صحابی تشریف لائے ، آپ نے فرمایا ،، یہ آنے کا کونسا وقت ہے ؟ آنے والے نے کہا میں نے اذان سنی ، اور صرف وضو کیا (اور آگیا) آپ نے فرمایا کیا صرف وضو کی حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کا حکم فرمایا ہے ،، یونس نے زہری سے اور امام مالک نے بھی بواسطہ زہری حضرت سالم سے یہ حدیث روایت کی، جس میں وہی مضمون ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا ، زہری کی روایت بواسطہ زہری حضرت عبداللہ بن عمر سے صحیح ہے ، مالک نے بھی بواسطہ زہری اور سالم حضرت ابن عمر سے یہ حدیث روایت کی ہے ،، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب ۳۴۹؛ مَا جَاءَ فِی الاِغْتِسالِ فِی يَوْمِ الجمعةِ؛حدیث نمبر ٤٩٢ و حدیث نمبر ٤٩٣ و حدیث نمبر ٤٩٤ و حدیث نمبر ٤٩٥)
جمعہ کے دن غسل کی فضیلت حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور کرایا،جلدی (مسجد میں) حاضر ہوا امام کے قریب ہو کر خاموشی کے ساتھ نہایت غور سے خطبہ سنا اس کے لیے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ہے، محمود اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں،حضرت وکیع نے فرمایا جس نے خود غسل کیا اور بیوی کو غسل کرایا،(یعنی جماع کے سبب ) ابن مبارک حدیث کے سلسلے میں فرماتے ہیں جس نے سر دھویا اور غسل کیا ، اس باب میں حضرت ابوبکر،عمران بن حصین،سلمان،ابوذر،ابو سعید،ابن عمر اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث اوس بن اوس،حسن ہے، ابو عشعث صنعانی کا نام شرجیل بن آدہ ہے ،، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۵۰؛فِی فَضْلِ الغُسلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٤٩٦)
جمعہ کے دن صرف وضو کرنا حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن وضو کیا اس نے اچھا کام کیا اور جس نے غسل کیا پس غسل افضل ہے،اس باب میں حضرت ابوہریرہ،انس، اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں،حدیث سمرہ حسن ہے،اور قتادہ کے بعض شاگردوں نے یہ حدیث بواسطہ حضرت قتادہ اور حسن حضرت سمرہ سے روایت کی ہے اور بعض نے اسے قتادہ اور حسن کے واسطہ سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے ، بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے،کہ ان کے نزدیک جمعہ کے دن غسل کرنا افضل ہے اگرچہ غسل کی جگہ وضو بھی کفایت کرسکتا ہے ،امام شافعی فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن غسل واجب نہیں بلکہ مختار ہے اور حضرت عمر کی حدیث جس میں آپ نے حضرت عثمان سے فرمایا،آپ نے وضو ہی کیا؟حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن غسل کا حکم فرمایا ہے،، اگر ان دونوں حضرات کے نزدیک یہ واجب ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کبھی بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نہ چھوڑتے یہاں تک کہ انھیں واپس بھیجتے اور فرماتے واپس لوٹ جاؤ اور غسل کرو، اور باوجود علم کے حضرت عثمان پر یہ مخفی نہ رہتا لیکن یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کے دن غسل افضل ہے واجب نہیں مسئلہ اسی طرح ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کر کے جمعہ کے لئے حاضر ہوا، امام کے قریب ہو کر بیٹھا خاموشی کے ساتھ غور سے خطبہ سنا تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک بلکہ دن زیادہ تک کے گناہ(صغیرہ) بخش دیئے جاتے ہیں اور جس نے کنکریوں کو چھوا اس نے فضول کام کیا،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب،فِی الْوَضُوءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٤٩٧ و حدیث نمبر ٤٩٨)
نماز جمعہ کے لیے جلدی جانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا پھر (نماز جمعہ) کیلئے چلا گیا گویا کہ اس نے اونٹ کی قربانی دی جو دوسری گھڑی میں آیا گویا کہ اس نے گائے کی قربانی دی جو تیسری ساعت میں آیا اس کے لئے سینگوں والے دنبے کی قربانی کا ثواب ہے ، جو چوتھی ساعت میں آیا اس کے لیے ایک مرغی کی قربانی (خیرات) کا ثواب ہے جو پانچویں گھڑی میں آئے اس کے لئے ایک انڈے کی قربانی کا ثواب ہے اور جب امام (خطبہ کے لئے) نکل آئے تو فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور سمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۵۲؛مَا جَاءَ فِی التَّبْكِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٤٩٩)
بلا عذر ترک جمعہ کا گناہ حضرت ابو جعد ضمری رضی اللہ عنہ (محمد بن عمرو کے خیال میں ان کو شرف صحابیت حاصل ہے )سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تین مرتبہ سستی سے جمعہ (کی نماز) کو چھوڑے؛اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اس باب میں حضرت ابن عمر،ابن عباس اور ثمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی جعد حسن ہے نیز آپ فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے ابو جعد ضمری کا نام پوچھا تو انہیں معلوم نہیں تھا ، نیز امام بخاری نے فرمایا ابو جعد سے اس حدیث کے علاوہ کوئی دوسری حدیث میرے علم میں نہیں امام ترمذی فرماتے ہیں،ہم اس حدیث کو صرف محمد بن عمرو کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۵۳؛مَا جَاءَ فِی تَركِ الْجُمُعَةِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ،حدیث نمبر ٥٠٠)
کتنے فاصلہ سے جمعہ کے لیے جائے اہل قباء میں سے ایک صحابی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قباء سے جمعہ میں حاضر ہونے کا حکم فرمایا ،امام ترمذی فرماتے ہیں،اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں اور اس باب میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو اپنے گھر لوٹ سکے (یعنی اتنی مسافت ہو) اس پر جمعہ فرض ہے اس حدیث کی سند ضعیف ہے یہ معارک بن عباد کے واسطہ سے عبداللہ بن سعید مقبری سے مروی ہے اور یحییٰ بن سعید قطان نے عبداللہ بن سعید مقبری کو اس حدیث میں ضعیف کہا ہے علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ جمعہ کس پر واجب ہے بعض کہتے ہیں اس پر واجب ہے جو رات کو گھر واپس آ سکے بعض علماء فرماتے ہیں جو اذان سنے اس پر واجب ہے امام شافعی،احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے،(امام ترمذی فرماتے ہیں) میں نے احمد بن حسن سے سنا وہ فرماتے ہیں ہم امام احمد بن حنبل کے پاس تھے تو یہ مسئلہ چھڑگیا کہ جمعہ کس پر واجب ہے،امام احمد نے اس سلسلے میں کوئی حدیث بیان نہ فرمائی احمد بن حسن کہتے ہیں میں نے عرض کیا حضرت ابوہریرہ کے واسطہ سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث منقول ہے امام احمد بن حنبل نے فرمایا ،کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے؟میں نے کہا ہاں "حضرت عبداللہ بن سعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص پر جمعہ واجب ہے جو رات کو گھر واپس آ سکے (عبداللہ فرماتے ہیں) یہ سن کر امام احمد بن حنبل مجھ پر غصے ہوئے اور دو مرتبہ فرمایا اپنے رب سے معافی مانگ ؛؛اور یہ بات حضرت امام احمد نے اس لیے فرمائی کے ان کے نزدیک یہ حدیث،سندھ کی کمزوری کی وجہ سے قابل اعتبار نہ تھی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۵۴؛مَا جَاءَ مِنْ كَمْ يُوتٰى إِلَى الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٥٠١،و حدیث نمبر ٥٠٢)
نماز جمعہ کا وقت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوال آفتاب کے بعد جمعہ کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ یحیی بن موسی نے بواسطہ ابو داود طیالسی،فلیح بن سلیمان ،عثمان بن عبدالرحمن تیمی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے اس باب میں حضرت سلمہ بن اکوع،جابر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس ،حسن صحیح ہے اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ وقت جمعہ زوال شمس کے بعد ظہر کے وقت کی طرح ہے امام شافعی،احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے،بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ زوال سے پہلے بھی جمعہ کی نماز جائز ہے امام احمد کے نزدیک زوال سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھنے والے کو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۴۵۵؛مَا جَاءَ فِی وَقَتِ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٥٠٣،و حدیث نمبر ٥٠٤)
منبر پر خطبہ دینا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک خشک تنے کے ساتھ کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے جب آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو اس تنے نے رونا شروع کر دیا چنانچہ آپ تشریف لائے اور اسے اپنے ساتھ چپٹایا تو وہ خاموش ہو گیا اس باب میں حضرت انس ،جابر،سہیل بن سعد،ابی بن کعب،ابن عباس اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر،حسن غریب صحیح ہے،معاذبن علاء بصری ہیں اور عمرو بن علاء کے بھائی ہیں ، ف: درخت بھی فرقت رسول کا صدمہ برداشت نہیں کر سکتے ان لوگوں کے لئے مقام غور ہے جو صرف عمل عمل کا وظیفہ پڑھتے ہیں اور عشق رسول کو کوئی اہمیت نہیں دیتے (مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۵۶؛مَا جَاءَ فِی الْخُطْبَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ،حدیث نمبر ٥٠٥)
دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے پھر تشریف فرما ہوتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ابن عمر فرماتے ہیں جس طرح کے تم آج کل کر رہے ہو،اس باب میں حضرت ابن عباس جابر بن عبداللہ اور جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی روایات منقول ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر،حسن صحیح ہے اور علماء کی یہی رائے ہے کہ دو خطبوں کے درمیان فصل کیا جائے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الجمعہ،باب۳۵۷؛مَا جَاءَ فِی الْجُلُوسِ بَيْنَ الْخُطْبَتَينِ،حدیث نمبر ٥٠٦)
خطبہ مختصر پڑھنا حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا آپ کی نماز بھی متوسط ہوتی تھی اور خطبہ بھی اس باب میں حضرت عمار بن یاسر اور ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر بن سمرہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۵۸؛مَا جَاءَ فِی قَصْرِ الْخُطْبَةِ،حدیث نمبر ٥٠٧)
منبر پر قرآن پڑھنا صفوان بن یعلی بن امیہ اپنے والد سے راوی ہیں،وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو منبر پر (خطبہ میں) آیت قرآن؛؛وَنَادَوْایامالک الخ،، پڑھتے سنا ہے اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث یعلٰی بن امیہ ، حسن غریب صحیح ہے ابن عینیہ کی بھی یہی روایت ہے،بعض علماء نے اسے پسند کیا ہے کہ امام خطبہ میں چند آیات قرآنیہ پڑھے ،امام شافعی فرماتے ہیں اگر امام خطبہ میں قرآن پاک سے کچھ نہ پڑھے تو دوبارہ خطبہ دے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۵۹؛مَا جَاءَ فِی الْقِرَاءۃ عَلَى الْمِنْبَرِ، حدیث نمبر ٥٠٨)
خطبہ کے وقت امام کی طرف متوجہ ہونا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوتے ہم آپ کی طرف متوجہ ہوجاتے،اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے حدیث منصور کو ہم صرف محمد بن فضل بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں ،محمد بن فضل ہمارے اصحاب کے نزدیک ضعیف ہے اور حافظ حدیث نہیں ہے،صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے کہ وہ خطبہ کے دوران امام کی طرف منہ کرنے کو مستحب جانتے ہیں،سفیان ثوری امام شافعی، امام احمد، اور امام اسحاق، رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ،امام ترمذی فرماتے ہیں،اس باب میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۶۰؛فِی اسْتِقْبَالِ الْإِمَامِ إِذَا خَطَبَ،حدیث نمبر ٥٠٩)
دوران خطبہ آنے والا شخص دو رکعتیں پڑھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک صحابی آئے آپ نے فرمایا،،کیا تم نے نماز پڑھی ہے ؟ عرض کیا،، نہیں،،فرمایا،، اٹھو اور پڑھو،، امام ترمذی فرماتے ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عیاض بن عبداللہ بن سرح فرماتے ہیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن تشریف لائے اس وقت مروان خطبہ دے رہا تھا آپ نے نماز شروع کر دی چوکیدار نے آکر آپ کو بٹھانا چاہا لیکن آپ نے نماز پڑھے بغیر بیٹھنے سے انکار فرمایا جب وہ واپس ہوا تو ہم نے آکر عرض کیا اللہ آپ پر رحم فرمائے یہ لوگ تو آپ پر حملہ کرنے کے قریب تھے آپ نے فرمایا میں ان دو رکعتوں کو اس کے بعد چھوڑنے والا نہیں جب سے میں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز دیکھی، پھر آپ نے ذکر فرمایا ایک آدمی جمعہ کے دن نہایت خستہ حالت میں آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے آپ نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کا حکم فرمایا حالانکہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ابن ابی عمر فرماتے ہیں حضرت عینیہ تشریف لاتے اور دورکعتیں پڑھتے حالانکہ امام اس وقت خطبہ دے رہا ہوتا اور اسی بات کا آپ حکم دیتے اور ابو عبد الرحمن مقری انہیں دیکھ رہے ہو تے ، امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے ابن ابی عمر کو کہتے سنا کہ ابن عینیہ نے فرمایا محمد بن عجلان حدیث میں ثقہ اور مامون تھا، اس باب میں حضرت جابر،ابو ہریرہ اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی سعید خدری حسن صحیح ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے،امام شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں، بعض علماء فرماتے ہیں جب کوئی آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ بیٹھ جائے اور نماز نہ پڑھے سفیان ثوری اور اہل کوفہ (امام ابوحنیفہ رح وغیرہ) کا یہی مسلک ہے (امام ترمذی فرماتے ہیں) پہلا قول اصح ہے۔ ف : احناف کے نزدیک دوران خطبہ نماز پڑھنا ناجائز ہے اس حدیث کی تاویل یوں کی گئی کہ یا تو یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب نماز میں کلام کی اجازت تھی یا یہ کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی خطبہ شروع نہیں فرمایا تھا دیگر روایات میں ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام خطبہ دینے بیٹھے تو نہ نماز پڑھو اور نہ ہی گفتگو کرو تفصیل کے لیے شرح معانی جلد اول ملاحظہ کیجئے (مترجم) علاء بن خالد قرشی کہتے ہیں میں نے حضرت حسن بصری رحمہ اللّٰہ کو دیکھا آپ مسجد میں داخل ہوئے اس وقت امام خطبہ دے رہا تھا آپنے دو رکعتیں ادا کیں اور پھر بیٹھ گئے (امام ترمذی فرماتے ہیں) حضرت حسن نے حدیث کی پیروی میں ایسا کیا اور وہ خود حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں،، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۶۱؛فی الركْعَتَيْنِ إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ وَ الإمام يَخْطَبُ،حدیث نمبر ٥١٠،و حدیث نمبر ٥١١)
خطبہ کے دوران کلام منع ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، جس نے جمعہ کے دن خطبہ امام کے دوران یہ الفاظ بھی کہے کہ ؛؛ چپ ہو جاؤ؛؛ اس نے لغو کام کیا ،، اس باب میں حضرت ابن ابی اوفیٰ اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے ،اس پر علماء کا عمل ہے کہ خطبہ کے دوران گفتگو کرنا مکروہ ہے فرماتے ہیں اگر کوئی دوسرا بات کر رہا ہو تو اسے بھی صرف اشارے سے روکا جائے ، سلام اور چھینک کا جواب دینے میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک اس کی اجازت ہے امام احمد اور اسحاق اسی کے قائل ہیں جبکہ بعض تابعین اور دوسرے علماء کے نزدیک یہ بھی مکروہ ہے امام شافعی کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۶۲؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْكَلَامِ وَالإمام يخْطُبُ،حدیث نمبر ٥١٢)
جمعہ کے دن گردنیں پھلانگنا مکروہ ہے حضرت سہل بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنے والد معاذ بن انس جہنی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنم کی طرف پل بنا لیا اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث سہیل بن معاذ غریب ہے ہم اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے پہچانتے ہیں علماء کا اس پر عمل ہے وہ جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگنا مکروہ جانتے ہیں اور اس معاملہ میں انہوں نے سختی برتی ہے بعض علماء نے رشدین بن بن سعد کے بارے میں کلام کیا اور اسے حفظ کے اعتبار سے ضعیف قرار دیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۶۳؛ فِي كَرَاهِيَةِ التَّخَطَّيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٥١٣)
خطبہ کے دوران احتباء منع ہے نوٹ:گھٹنوں کو پیٹ سے ملا کر ایک کپڑے کو پیٹھ پیچھے سے لاتے ہوئے باندھ دینے کو احتباء کہتے ہیں (مترجم) حضرت سہیل بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن خطبہ کے دوران احتباء سے منع فرمایا، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور ابو مرحوم کا نام عبدالرحیم بن میمون ہے ایک جماعت نے جمعہ کے دن خطبہ کے دوران احتباء کو مکروہ کہا ہے جبکہ بعض نے اجازت دی ہے ان میں عبداللہ بن عمر اور دیگر صحابہ کرام شامل ہیں امام احمد اور اسحاق بھی خطبہ کے دوران احتباء میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۶۴؛مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ الْاِحْتَبَاءِ وَ الامام يَخْطُبُ،حدیث نمبر ٥١٤)
منبر پر ہاتھ اٹھانا منع ہے حضرت حصین فرماتے ہیں میں نے عمارہ بن رویبہ سے سنا کہ بشر بن مروان نے خطبہ دیتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے تو عمارہ نے فرمایا،، اللہ تعالی ان دو چھوٹے ہاتھوں کو ذلیل کرے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ کرتے نہیں دیکھا ہشیم (راوی) نے انگشت شہادت سے اشارہ کیا، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۶۵؛مَا جَاءَ فِیْ كَرَاهِيَۃِ رَفْعِ الْاَيْدِىْ عَل٘ى الْمِنْبَرِ،حدیث نمبر ٥١٥)
جمعہ کی اذان حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں اذان، امام کے نکلنے اور نماز کھڑی ہونے کے وقت، ہوا کرتی تھی، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو بلند مقامات پر تیسری اذان کا اضافہ کیا گیا، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۶۶؛مَا جَاءَ فِی اَذَانِ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٥١٦)
امام کا منبر سے اترنے کے بعد کلام کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لانے کے بعد حسب ضرورت گفتگو فرماتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں اس کو ہم صرف جریر بن حازم کی روایت سے پہچانتے ہیں امام بخاری سے میں نے سنا انہوں نے فرمایا،، جریر بن حازم سے اس روایت میں خطاء واقع ہوئی بواسطہ ثابت حضرت انس کی وہ روایت صحیح ہے جس میں آپ نے فرمایا اقامت ہو چکی تھی کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ مبارک پکڑ اور دیر تک آپ سے گفتگو کرتا رہا یہاں تک کہ بعض حضرات اونگھنے لگے امام بخاری فرماتے ہیں،، حدیث (صحیح) یہ ہے اور جریر بن حازم کو بعض اوقات روایات میں وہم ہوتا ہے اور وہ صدوق ہے ،، امام بخاری فرماتے ہیں جریر بن حازم کو انس سے ثابت کی روایت میں وہم ہوا جس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جب اقامت ہو جائے تو جب تک مجھے نہ دیکھ لو مت کھڑے ہو،،امام بخاری فرماتے ہیں حماد بن زید سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم زید بن ثابت بنانی کے پاس تھے حجاج صواف نے بواسطہ یحییٰ بن کثیر، عبداللہ بن ابی قتادہ، ابو قتادہ ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کی آپ نے فرمایا نماز کھڑی ہو جائے تو جب تک مجھے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو،، جریر نے وہم کیا کہ یہ حدیث بواسطہ ثابت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی سے گفتگو فرماتے دیکھا حالانکہ جماعت کھڑی ہو چکی تھی وہ شخص آپ کے اور قبلہ کے درمیان کھڑا تھا وہ آپ سے گفتگو کرتا رہا یہاں تک کہ بعض لوگ اس کے لئے آپ کے زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے اونگھنے لگے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۶۷؛مَا جَاءَ فِی الْكَلَامِ بَعْدَ نُزُولِ الْإِمَامِ مِنَ الْمِنْبَرِ،حدیث نمبر ٥١٧،و حدیث نمبر ٥١٨)
نماز جمعہ کی قراءت حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت عبیداللہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ طیبہ کا والی مقرر کیا اور خود مکہ مکرمہ چلا گیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی (پہلی رکعت میں) سورہ جمعہ تلاوت فرمائی اور دوسری رکعت میں ،، اذاجاءک المنافقون ،، پڑھی، عبید اللہ فرماتے ہیں پھر میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کیا اور کہا آپ نے وہی دو سورتیں پڑھی ہیں جنہیں حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے آپ نے فرمایا میں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی دو سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے اس باب میں حضرت ابن عباس، نعمان بن بشیر، اور عنبسہ حولانی رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے یہ بھی مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں،، سبح اسم ربک الاعلیٰ ،، اور ہل ا تٰک حدیث الغاشیہ ،، پڑھا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۶۸؛مَاجَاءَ فِی الْقِراءة فِی صَلٰاةِ الْجمعة،حدیث نمبر ٥١٩)
جمعہ کے دن نماز فجر کی قرآت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز فجر کی نماز میں ،، تَبْزِیْلُالسَّجْدَۃِ ،، اور ہل اتٰی عَلَی الاِنْسَانِ ،، پڑھا کرتے تھے اس باب میں حضرت سعد ،ابن مسعود، اورابوہریرہ رضی اللہ عنھم سے بھی روایات مذکور ہیں ،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے ، سفیان ثوری، اور کئی دیگر راویوں نے یہ حدیث حضرت مخول سے بھی روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛ باب۳۶۹؛ مَا جَاءَ فِی مَا يُقَْرأَفِی صَلٰوةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٥٢٠)
جمعہ سے پہلے اور بعد کی نماز حضرت سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے راوی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اس باب میں حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے بھی روایت ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں،حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے حضرت نافع نے بھی اسے ابن عمر سے روایت کیا ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام شافعی اور احمد بھی اسی کے قائل ہیں۔ حضرت نافع کہتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہوئے تو دو رکعتیں گھر میں پڑھیں پھر فرمایا،، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، تم میں سے جو شخص جمعہ کے بعد نماز پڑھے اسے چاہیئے کہ چار رکعتیں ادا کرے،،یہ حدیث حسن صحیح ہے، سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں ہم سہیل بن ابی صالح کو حدیث میں قوی شمار کرتے ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور اس پر بعض علماء کا عمل ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے کہ آپ جمعہ سے پہلے اور بعد چار چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے، حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ نے جمعہ کے بعد پہلے دو اور پھر چار رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا،سفیان ثوری اور ابن مبارک کا ابن مسعود کے قول پر عمل ہے امام اسحاق فرماتے ہیں اگر مسجد میں پڑھے تو چار رکعتیں اور گھر میں پڑے تو دو رکعتیں ادا کرے انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد گھر میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم میں سے جو آدمی جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے اسے چاہیے کہ چار رکعتیں پڑھے، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد گھر میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بعد از وصال نبوی جمعہ کے بعد پہلے دو رکعتیں اور پھر چار رکعتیں مسجد میں پڑھی ہے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ نے جمعہ کے بعد پہلے دو رکعتیں اور پھر چار رکعتیں پڑھیں عمرو بن دینار فرماتے ہیں میں نے زہری سے زیادہ حدیث کو پہچاننے والا کوئی نہیں دیکھا،اور میں نے زہری سے زیادہ روپے کو بے قدر جاننے والا بھی کوئی نہیں دیکھا بے شک ان کے نزدیک روپے کی قیمت اونٹ کی مینگنی سے زیادہ نہ تھی، امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے ابو عمر سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے سفیان بن عینیہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عمرو بن دینار زہری سے بڑے تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۷۰؛فِی الصَّلوة قَبلَ الْجُمُعَةِ وَبَعْدَهَا،حدیث نمبر ٥٢١ و حدیث نمبر ٥٢٢،و حدیث نمبر ٥٢٣)
جمعہ کی ایک رکعت پانے والا کیا کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے تمام نماز کو پا لیا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے،اکثر صحابہ اور تابعین کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جو شخص جمعہ کی ایک رکعت پائے اس کے ساتھ دوسری ملالے اور جو بیٹھنے کی حالت میں شامل ہوا وہ چار پڑھے ، سفیان ثوری،ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۷۱؛فِيمَنْ يُّدْرِکُ مِنَ الْجُمُعَةِرَ كْعَۃً،حدیث نمبر ٥٢٤)
جمعہ کے دن قیلولہ کرنا حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،عہد رسالت میں، ہم جمعہ کی نماز کے بعد کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے، اس باب میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث سہیل بن سعد حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۷۲؛فِی الْقَائِلَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٥٢٥)
جسے جمعہ کے دن اونگھ آۓ وہ اپنی جگہ بدل لے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن م اونگھ آۓ، وہ اپنی جگہ بدل دے ، امام ترمذی فرماتے ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۷۳؛فِی مَنْ يَنْعَسُ يَوْمَ الْجُمُعَۃِ أَنَّهُ يَتَحوَّلُ مِنْ مَجْلِسِہٖ،حدیث نمبر ٥٢٦)
جمعہ کے دن سفر کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ کو ایک لشکر میں بھیجا اتفاقاً آج جمعہ کا دن تھا، دوسرے ساتھی صبح صبح چلے گئے لیکن انہوں نے فرمایا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھوں گا، پھر ان سے جا ملوں گا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں ان کو دیکھ لیا تو فرمایا،،تمہیں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بوقت صبح جانے سے کس نے روکا،، انہوں نے عرض کیا ، میں نے چاہا کہ آپ کے ساتھ نماز پڑھوں،پھر ان سے جا ملوں،، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ زمین میں ہے سب خرچ کرو تب بھی وہ ثواب نہیں پا سکتے جو صبح کے وقت روانگی میں ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں ہم اس حدیث کو صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں شعبہ فرماتے ہیں حکم نے مقسم سے صرف پانچ حدیثیں سنی ہے، کل پانچ کو شعبہ نے شمار کیا ان میں یہ حدیث نہیں ہے اور یہ حدیث حکم نے مقسم سے نہیں سنی جمعہ کے دن سفر کرنے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک کوئی حرج نہیں بشرطیکہ نماز کا وقت نہ ہو بعض علماء فرماتے ہیں صبح ہو جانے کے بعد نماز جمعہ سے قبل نہ نکلے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۷۴؛مَا جَاءَ فِی السَّفَرِ يَومَ الجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٥٢٧)
جمعہ کے دن مسواک کرنا اور خوشبو لگانا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں پر لازم ہے کہ جمعہ کے روز غسل کریں اور اپنے گھر کی خوشبو سے خوشبو لگائیں اگر خوشبو نہ مل سکے تو پانی ہی اس کے لیے خوشبو ہے اس باب میں حضرت ابو سعید اور ایک انصاری شیخ سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یزید بن زیاد سے بھی اس کے ہم معنی روایت منقول ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث براء حسن ہے، اسماعیل بن ابراہیم تیمی کی روایت سے ہشیم کی روایت احسن ہے ، اور اسماعیل بن ابراہیم کی تیمی کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجمعہ؛باب۳۷۵؛فِی السِّوَاكِ وَالطِّيْبِ يَومَ الجمعةِ،حدیث نمبر ٥٢٨،و حدیث نمبر ٥٢٩)
Tirmizi Shareef : Abwabul Juma
|
Tirmizi Shareef : أَبْوَابُ الْجُمُعَةِ
|
•