asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Eidain

From 530 to 542

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

عید کی نماز کے لیے پیدل چلنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نماز عید(الفطر)کے لیے پیدل چلنا اور نماز سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے وہ اسے پسند فرماتے ہیں، کہ آدمی عید کی نماز کے لیے پیادہ پا جائے اور بلا عذر سواری پر نہ بیٹھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۷۶؛فِی الْمَشْىِ يَوْمَ الْعِيدَينِ ،حدیث نمبر ٥٣٠)

أَبْوَابُ العِيدَيْنِ بَابٌ فِي المَشْيِ يَوْمَ العِيدِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى العِيدِ مَاشِيًا، وَأَنْ تَأْكُلَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ: يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَخْرُجَ الرَّجُلُ إِلَى العِيدِ مَاشِيًا،وَأَنْ لَا يَرْكَبَ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Eidain, Hadees No. 530

عید کی نماز خطبہ سے پہلے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہما پہلے نماز عید پڑھاتے پھر خطبہ ارشاد فرماتے، اس باب میں حضرت جابر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے، صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہے اور مروان بن حکم نے نماز عید سے پہلے خطبہ دینے کی ابتداء کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین، باب۳۷۷؛فِی صَلٰوةِ الْعِيدِ قَبلَ الْخُطَبَةِ،حدیث نمبر ٥٣١)

بَابٌ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ يُصَلُّونَ فِي العِيدَيْنِ قَبْلَ الخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُونَ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ: «حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: أَنَّ صَلَاةَ العِيدَيْنِ قَبْلَ الخُطْبَةِ، وَيُقَالُ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ خَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Eidain, Hadees No. 531

عیدین کی نماز کے لیے اذان اور اقامت نہیں ہے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بارہا عیدین کی نماز حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اذان اور اقامت کے بغیر پڑھی ہے اس باب میں حضرت جابر بن عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر بن سمرہ حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے کہ عیدین کی نماز اور نوافل کے لیے اذان نہ دی جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۷۸؛أَنَّ صَلٰوةَ الْعِيدَيْنِ بِغَيرِاَذَانٍ وَلَا إقَامَةٍ،حدیث نمبر ٥٣٢)

بَابُ أَنَّ صَلَاةَ الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ: «وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، " وَالعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُ: لَا يُؤَذَّنُ لِصَلَاةِ العِيدَيْنِ وَلَا لِشَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Eidain, Hadees No. 532

عیدین کی قراءت حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید اور جمعہ کی نماز میں ،،سبح اسم ربک الاعلیٰ ،، اور ،،ھل اتٰک حدیث الغاشیہ،، پڑھا کرتے تھے بعض اوقات دونوں (عید اور جمعہ) ایک دن جمع ہو جاتے تو پل دونوں میں یہی سورتیں پڑھتے ، اس باب میں حضرت ابوواقد، سمرہ بن جندب، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث بن نعمان بن بشیر، حسن صحیح ہے، سفیان ثوری اور مسعر نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ابو عوانہ کی مثل حدیث روایت کی ہے،لیکن ابن عینیہ کی روایات میں اختلاف ہے، ابن عینیہ سے بواسطہ ابراہیم بن محمد بن منتشر محمد بن منتشر ، حبیب بن سالم، نعمان بن بشیر سے روایت ہے اور حبیب بن سالم کی اپنے والد سے کوئی روایت معروف نہیں ، حبیب بن سالم، حضرت نعمان بن بشیر کے غلام تھے، اور انہوں نے حضرت نعمان سے کئ احادیث روایت کی ہیں ، ابن عینیہ سے بواسطہ ابراہیم بن محمد بن منتشر ان حضرات کی روایت کے مطابق بھی منقول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے کہ آپ عیدین کی نماز میں ،،سورہ قاف،،اور،،اقتربت الساعہ،، پڑھا کرتے تھے امام شافعی کا یہی مسلک ہے۔ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو واقدلیثی سے پوچھا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز میں کیا پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ،،ق والقرآن المجید،، اور ،، اقتربت الساعۃ وانشق القمر،، پڑھا کرتے تھے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ابن عینیہ نے ضمرہ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ابو واقدلیثی کا نام حارث بن عوف ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۷۹؛القراءة فِی العيدين،حدیث نمبر ٥٣٣،و حدیث نمبر ٥٣٤،و حدیث نمبر ٥٣٥)

بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْعِيدَيْنِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي العِيدَيْنِ وَفِي الجُمُعَةِ: بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الغَاشِيَةِ، وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَيَقْرَأُ بِهِمَا " وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ: «حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمِسْعَرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْتَشِرِ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، «وَأَمَّا ابْنُ عُيَيْنَةَ فَيُخْتَلَفُ عَلَيْهِ فِي الرِّوَايَةِ، يُرْوَى عَنْهُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ»، «وَلَا يُعْرَفُ لِحَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِيهِ»، «وَحَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ هُوَ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَرَوَى عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَحَادِيثَ» وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْتَشِرِ نَحْوُ رِوَايَةِ هَؤُلَاءِ، وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ العِيدَيْنِ بِقَافٍ وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ» وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ " حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ المَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِ فِي الفِطْرِ وَالأَضْحَى؟ قَالَ: «كَانَ يَقْرَأُ بِـ ق وَالقُرْآنِ المَجِيدِ، وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ القَمَرُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، «وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ الحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Eidain, Hadees No. 533/534/535

تکبیرات عیدین کثیر بن عبداللہ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں پہلی رکعت میں قرآت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قرآت کے بعد پانچ تکبیریں فرمائیں، اس باب میں حضرت عائشہ ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں کثیر کے دادا کی روایت حسن ہے، اور اس باب میں مروی احادیث رسول میں سے احسن ہے ان کا نام عمرو بن عوف مزنی ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس حدیث پر عمل ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ انہوں نے مدینہ طیبہ میں اسی طرح نماز پڑھائی، اہل مدینہ کا یہی قول ہے مالک بن انس، شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عیدین کی نوتکبیریں ہیں، پہلی رکعت میں پانچ تکبیریں قرآت سے پہلے اور دوسری رکعت میں پہلے قرآت ہے، پھر چار تکبیریں ہیں، رکوع کی تکبیر ان میں شامل ہیں اکثر صحابہ کرام سے اسی طرح مروی ہے ،اہل کوفہ اور سفیان ثوری اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۸۰؛فی التكبيرِ فِي الْعِيدَينِ،حدیث نمبر ٥٣٦)

بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ فِي العِيدَيْنِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو الحَذَّاءُ المَدِينِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي العِيدَيْنِ فِي الأُولَى سَبْعًا قَبْلَ القِرَاءَةِ، وَفِي الآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ القِرَاءَةِ» وَفِي البَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. حَدِيثُ جَدِّ كَثِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا البَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عَوْفٍ المُزَنِيُّ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ،- وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ صَلَّى بِالمَدِينَةِ نَحْوَ هَذِهِ الصَّلَاةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ المَدِينَةِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي التَّكْبِيرِ فِي العِيدَيْنِ: " تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى: خَمْسًا قَبْلَ القِرَاءَةِ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ يَبْدَأُ بِالقِرَاءَةِ ثُمَّ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا مَعَ تَكْبِيرَةِ الرُّكُوعِ " وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الكُوفَةِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Eidain, Hadees No. 536

عید کی نماز سے پہلے اور بعد نفل نہیں ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر نہ تو عید سے پہلے نماز پڑھی اور نہ ہی عید کے بعد اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور ابو سعید رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے امام شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، بعض صحابہ و تابعین عید سے پہلے اور بعد نماز جائز قرار دیتے ہیں، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، حضرت ابوبکر بن حفص جو عمر بن سعد بن ابی وقاص کے صاحبزادے ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن تشریف لائے تو آپ نے عید سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہیں پڑھی آپ نے فرمایا،، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے،، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۸۱؛لاَ صَلٰوةَ قَبلَ الْعِیدَينِ وَلَا بَعَدَ هُمَا،حدیث نمبر ٥٣٧،و حدیث نمبر ٥٣٨)

بَابٌ لَا صَلَاةَ قَبْلَ الْعِيدَيْنِ وَلَا بَعْدَهَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الفِطْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي سَعِيدٍ: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ " وَقَدْ رَأَى طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ: الصَّلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ العِيدَيْنِ وَقَبْلَهَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ وَالقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ " حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ «خَرَجَ يَوْمَ عِيدٍ فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا»،وَذَكَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Eidain, Hadees No. 537/538

نماز عید کے لیے عورتوں کا جانا حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کنواری،بالغہ،دوشیزہ اور حیض والی عورتیں عید کے دن (عید گاہ کی طرف) نکلتی تھی چنانچہ حائضہ عورتیں عید گاہ سے عٰلیحدہ رہتیں ، اور دعا میں شریک ہوتیں ،ایک صحابیہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو ؟ آپ نے فرمایا اس کی دوسری بہن اسے ایک چادر اور ہار دے دے ،، حفصہ بنت سیرین نے ام عطیہ سے اسی کے ہم مثل روایت نقل کی ہے اس باب میں حضرت ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ام عطیہ حسن صحیح ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے اور انہوں نے عورتوں کو عیدگاہ میں جانے کی اجازت دی ہے جبکہ بعض کے نزدیک مکروہ ہے،ابن مبارک فرماتے ہیں آج کے دور میں میرے نزدیک عورتوں کا نماز عید کے لیے جانا مکروہ ہے البتہ اگر کوئی عورت ضرور جانا چاہے تو اس کا خاوند اسے پرانے کپڑوں میں بغیر زینت کے جانے کی اجازت دے سکتا ہے اور اگر وہ اس طرح جانے سے انکار کرے تو خاوند کو روکنے کا حق ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اگر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی آج کی بدعات دیکھتے تو منع فرما دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا سفیان ثوری بھی اس دور میں عورتوں کا عیدگاہ میں جانا مکروہ جانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۸۲؛فی خُرُوْجِ النِّسَاءِ فِی الْعِيدَينِ،حدیث نمبر ٥٣٩ و حدیث نمبر ٥٤٠)

بَابٌ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي العِيدَيْنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخْرِجُ الأَبْكَارَ، وَالعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الخُدُورِ، وَالحُيَّضَ فِي العِيدَيْنِ»، فَأَمَّا الحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ المُصَلَّى، وَيَشْهَدْنَ دَعْوَةَ المُسْلِمِينَ، قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ: «فَلْتُعِرْهَا أُخْتُهَا - مِنْ جَلَابِيبِهَا»، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِنَحْوِهِ، وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ: «حَدِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِلَى هَذَا الحَدِيثِ، وَرَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي الخُرُوجِ إِلَى العِيدَيْنِ وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ "، وَرُوِي عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ قَالَ: «أَكْرَهُ اليَوْمَ الخُرُوجَ لِلنِّسَاءِ فِي العِيدَيْنِ، فَإِنْ أَبَتِ المَرْأَةُ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ فَلْيَأْذَنْ لَهَا زَوْجُهَا أَنْ تَخْرُجَ فِي أَطْمَارِهَا وَلَا تَتَزَيَّنْ، فَإِنْ أَبَتْ أَنْ تَخْرُجَ كَذَلِكَ فَلِلزَّوْجِ أَنْ يَمْنَعَهَا عَنِ الخُرُوجِ» وَيُرْوَى عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَوْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ المَسْجِدَ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بني إسرائيل » وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ: «أَنَّهُ كَرِهَ اليَوْمَ الخُرُوجَ لِلنِّسَاءِ إِلَى العِيدِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Eidain, Hadees No. 539/540

عید گاہ کی طرف آتے جاتے راستہ بدلنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لاتے،اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور ابو رافع رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ،حسن غریب ہے ابوتمیلہ اور یونس بن محمد نے یہ حدیث بواسطہ فلیح بن سلیمان اور سعید بن حارث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے بعض علماء نے آتے جاتے وقت راستہ بدلنے کو اس حدیث کی اتباع میں مستحب قرار دیا ہے،امام شافعی کا یہی قول ہے، گویا کہ حضرت جابر کی حدیث اصح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۸۳؛مَا جَاءَ فِی خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عليه وسلم إِلَى الْعِيدِ فِی طَرِيقٍ وَ رُجُوعِهٖ مِنْ طَرِيْقٍ اٰخَرْ،حدیث نمبر ٥٤١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى العِيدِ فِي طَرِيقٍ، وَرُجُوعِهِ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى الكُوفِيُّ، وَأَبُو زُرْعَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ العِيدِ فِي طَرِيقٍ رَجَعَ فِي غَيْرِهِ» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَبِي رَافِعٍ:- «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ» وَرَوَى أَبُو تُمَيْلَةَ، وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «وَقَدْ اسْتَحَبَّ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ لِلإِمَامِ إِذَا خَرَجَ فِي طَرِيقٍ أَنْ- يَرْجِعَ فِي غَيْرِهِ اتِّبَاعًا لِهَذَا الحَدِيثِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ كَأَنَّهُ أَصَحُّ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Eidain, Hadees No. 541

عید الفطر میں نماز عید سے پہلے کچھ کھا پی لینا حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کچھ کھاۓ بغیر عید گاہ کی طرف تشریف نہ لے جاتے اور عید الاضحی کی نماز سے پہلے کچھ تناول نہ فرماتے، اس باب میں حضرت علی اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث بردہ بن حصیب اسلمی، غریب ہے امام بخاری فرماتے ہیں ثواب بن عتبہ سے اس حدیث کے سوا کوئی دوسری روایت میرے علم میں نہیں،بعض علماء کے نزدیک یہ مستحب ہے کہ عید الفطر کے دن کچھ کھائے بغیر عید گاہ کی طرف نہ جائے اور کھجور کا کھانا مستحب ہے عید الاضحی کے روز نماز سے واپسی پر کھانا کھائے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر میں عید گاہ کی طرف جانے سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے،یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین،باب۳۸۴؛فِی الْأكْلِ يَوْمَ الْفِطِرِ قَبْلَ الْخُرُوجِ،حدیث نمبر ٥٤٢،و حدیث نمبر ٥٤٣)

بَابٌ فِي الأَكْلِ يَوْمَ الفِطْرِ قَبْلَ الخُرُوجِ حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ البَزَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الوَارِثِ، عَنْ ثَوَابِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ، وَلَا يَطْعَمُ يَوْمَ الأَضْحَى حَتَّى يُصَلِّيَ» وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَنَسٍ: «حَدِيثُ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ» وقَالَ مُحَمَّدٌ: «لَا أَعْرِفُ لِثَوَابِ بْنِ عُتْبَةَ غَيْرَ هَذَا الحَدِيثِ» وَقَدْ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ: أَنْ لَا يَخْرُجَ يَوْمَ الفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ شَيْئًا، وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى تَمْرٍ، وَلَا يَطْعَمَ يَوْمَ الأَضْحَى حَتَّى يَرْجِعَ " حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفْطِرُ عَلَى تَمَرَاتٍ يَوْمَ الفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى المُصَلَّى»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Eidain, Hadees No. 542/543

Tirmizi Shareef : Abwabul Eidain

|

Tirmizi Shareef : أَبْوَابُ العِيدَيْنِ

|

•