
عید کی نماز کے لیے پیدل چلنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نماز عید(الفطر)کے لیے پیدل چلنا اور نماز سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے وہ اسے پسند فرماتے ہیں، کہ آدمی عید کی نماز کے لیے پیادہ پا جائے اور بلا عذر سواری پر نہ بیٹھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۷۶؛فِی الْمَشْىِ يَوْمَ الْعِيدَينِ ،حدیث نمبر ٥٣٠)
عید کی نماز خطبہ سے پہلے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہما پہلے نماز عید پڑھاتے پھر خطبہ ارشاد فرماتے، اس باب میں حضرت جابر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے، صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہے اور مروان بن حکم نے نماز عید سے پہلے خطبہ دینے کی ابتداء کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین، باب۳۷۷؛فِی صَلٰوةِ الْعِيدِ قَبلَ الْخُطَبَةِ،حدیث نمبر ٥٣١)
عیدین کی نماز کے لیے اذان اور اقامت نہیں ہے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بارہا عیدین کی نماز حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اذان اور اقامت کے بغیر پڑھی ہے اس باب میں حضرت جابر بن عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر بن سمرہ حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے کہ عیدین کی نماز اور نوافل کے لیے اذان نہ دی جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۷۸؛أَنَّ صَلٰوةَ الْعِيدَيْنِ بِغَيرِاَذَانٍ وَلَا إقَامَةٍ،حدیث نمبر ٥٣٢)
عیدین کی قراءت حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید اور جمعہ کی نماز میں ،،سبح اسم ربک الاعلیٰ ،، اور ،،ھل اتٰک حدیث الغاشیہ،، پڑھا کرتے تھے بعض اوقات دونوں (عید اور جمعہ) ایک دن جمع ہو جاتے تو پل دونوں میں یہی سورتیں پڑھتے ، اس باب میں حضرت ابوواقد، سمرہ بن جندب، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث بن نعمان بن بشیر، حسن صحیح ہے، سفیان ثوری اور مسعر نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ابو عوانہ کی مثل حدیث روایت کی ہے،لیکن ابن عینیہ کی روایات میں اختلاف ہے، ابن عینیہ سے بواسطہ ابراہیم بن محمد بن منتشر محمد بن منتشر ، حبیب بن سالم، نعمان بن بشیر سے روایت ہے اور حبیب بن سالم کی اپنے والد سے کوئی روایت معروف نہیں ، حبیب بن سالم، حضرت نعمان بن بشیر کے غلام تھے، اور انہوں نے حضرت نعمان سے کئ احادیث روایت کی ہیں ، ابن عینیہ سے بواسطہ ابراہیم بن محمد بن منتشر ان حضرات کی روایت کے مطابق بھی منقول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے کہ آپ عیدین کی نماز میں ،،سورہ قاف،،اور،،اقتربت الساعہ،، پڑھا کرتے تھے امام شافعی کا یہی مسلک ہے۔ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو واقدلیثی سے پوچھا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز میں کیا پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ،،ق والقرآن المجید،، اور ،، اقتربت الساعۃ وانشق القمر،، پڑھا کرتے تھے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ابن عینیہ نے ضمرہ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ابو واقدلیثی کا نام حارث بن عوف ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۷۹؛القراءة فِی العيدين،حدیث نمبر ٥٣٣،و حدیث نمبر ٥٣٤،و حدیث نمبر ٥٣٥)
تکبیرات عیدین کثیر بن عبداللہ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں پہلی رکعت میں قرآت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قرآت کے بعد پانچ تکبیریں فرمائیں، اس باب میں حضرت عائشہ ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں کثیر کے دادا کی روایت حسن ہے، اور اس باب میں مروی احادیث رسول میں سے احسن ہے ان کا نام عمرو بن عوف مزنی ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس حدیث پر عمل ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ انہوں نے مدینہ طیبہ میں اسی طرح نماز پڑھائی، اہل مدینہ کا یہی قول ہے مالک بن انس، شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عیدین کی نوتکبیریں ہیں، پہلی رکعت میں پانچ تکبیریں قرآت سے پہلے اور دوسری رکعت میں پہلے قرآت ہے، پھر چار تکبیریں ہیں، رکوع کی تکبیر ان میں شامل ہیں اکثر صحابہ کرام سے اسی طرح مروی ہے ،اہل کوفہ اور سفیان ثوری اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۸۰؛فی التكبيرِ فِي الْعِيدَينِ،حدیث نمبر ٥٣٦)
عید کی نماز سے پہلے اور بعد نفل نہیں ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر نہ تو عید سے پہلے نماز پڑھی اور نہ ہی عید کے بعد اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور ابو سعید رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے امام شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، بعض صحابہ و تابعین عید سے پہلے اور بعد نماز جائز قرار دیتے ہیں، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، حضرت ابوبکر بن حفص جو عمر بن سعد بن ابی وقاص کے صاحبزادے ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن تشریف لائے تو آپ نے عید سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہیں پڑھی آپ نے فرمایا،، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے،، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۸۱؛لاَ صَلٰوةَ قَبلَ الْعِیدَينِ وَلَا بَعَدَ هُمَا،حدیث نمبر ٥٣٧،و حدیث نمبر ٥٣٨)
نماز عید کے لیے عورتوں کا جانا حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کنواری،بالغہ،دوشیزہ اور حیض والی عورتیں عید کے دن (عید گاہ کی طرف) نکلتی تھی چنانچہ حائضہ عورتیں عید گاہ سے عٰلیحدہ رہتیں ، اور دعا میں شریک ہوتیں ،ایک صحابیہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو ؟ آپ نے فرمایا اس کی دوسری بہن اسے ایک چادر اور ہار دے دے ،، حفصہ بنت سیرین نے ام عطیہ سے اسی کے ہم مثل روایت نقل کی ہے اس باب میں حضرت ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ام عطیہ حسن صحیح ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے اور انہوں نے عورتوں کو عیدگاہ میں جانے کی اجازت دی ہے جبکہ بعض کے نزدیک مکروہ ہے،ابن مبارک فرماتے ہیں آج کے دور میں میرے نزدیک عورتوں کا نماز عید کے لیے جانا مکروہ ہے البتہ اگر کوئی عورت ضرور جانا چاہے تو اس کا خاوند اسے پرانے کپڑوں میں بغیر زینت کے جانے کی اجازت دے سکتا ہے اور اگر وہ اس طرح جانے سے انکار کرے تو خاوند کو روکنے کا حق ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اگر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی آج کی بدعات دیکھتے تو منع فرما دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا سفیان ثوری بھی اس دور میں عورتوں کا عیدگاہ میں جانا مکروہ جانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۸۲؛فی خُرُوْجِ النِّسَاءِ فِی الْعِيدَينِ،حدیث نمبر ٥٣٩ و حدیث نمبر ٥٤٠)
عید گاہ کی طرف آتے جاتے راستہ بدلنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لاتے،اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور ابو رافع رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ،حسن غریب ہے ابوتمیلہ اور یونس بن محمد نے یہ حدیث بواسطہ فلیح بن سلیمان اور سعید بن حارث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے بعض علماء نے آتے جاتے وقت راستہ بدلنے کو اس حدیث کی اتباع میں مستحب قرار دیا ہے،امام شافعی کا یہی قول ہے، گویا کہ حضرت جابر کی حدیث اصح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین؛باب۳۸۳؛مَا جَاءَ فِی خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عليه وسلم إِلَى الْعِيدِ فِی طَرِيقٍ وَ رُجُوعِهٖ مِنْ طَرِيْقٍ اٰخَرْ،حدیث نمبر ٥٤١)
عید الفطر میں نماز عید سے پہلے کچھ کھا پی لینا حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کچھ کھاۓ بغیر عید گاہ کی طرف تشریف نہ لے جاتے اور عید الاضحی کی نماز سے پہلے کچھ تناول نہ فرماتے، اس باب میں حضرت علی اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث بردہ بن حصیب اسلمی، غریب ہے امام بخاری فرماتے ہیں ثواب بن عتبہ سے اس حدیث کے سوا کوئی دوسری روایت میرے علم میں نہیں،بعض علماء کے نزدیک یہ مستحب ہے کہ عید الفطر کے دن کچھ کھائے بغیر عید گاہ کی طرف نہ جائے اور کھجور کا کھانا مستحب ہے عید الاضحی کے روز نماز سے واپسی پر کھانا کھائے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر میں عید گاہ کی طرف جانے سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے،یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب العیدین،باب۳۸۴؛فِی الْأكْلِ يَوْمَ الْفِطِرِ قَبْلَ الْخُرُوجِ،حدیث نمبر ٥٤٢،و حدیث نمبر ٥٤٣)
Tirmizi Shareef : Abwabul Eidain
|
Tirmizi Shareef : أَبْوَابُ العِيدَيْنِ
|
•