
سفر میں قصر نماز حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر،عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ہمراہ سفر کئے ہیں آپ ظہر اور عصر کی نماز دو دو رکعتیں پڑھتے تھے،نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد،اگر میں اس سے پہلے یا بعد نماز پڑھتا تو ان کو (فرائض کو) پورا کرتا؛اس باب میں حضرت عمر؛علی؛ابن عباس؛عمران بن حصین اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں؛امام ترمذی فرماتے ہیں؛حدیث ابن عمر؛حسن غریب ہے؛اس طرح ہم اسے صرف یحییٰ بن سلیم کی روایت سے جانتے ہیں،امام بخاری فرماتے ہیں،یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے بواسطہ اہل سراقہ کے ایک شخص اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے،امام ترمذی فرماتے ہیں عطیہ عوفی نے بواسطہ ابن عمر روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں (فرض) نماز سے پہلے اور بعد نفل پڑھا کرتے تھے،صحیح روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر،عمر اور عثمان (آغاز خلافت میں) سفر کی نماز میں قصر کیا کرتے تھے اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا یہی مسلک ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے بارے میں ہے کہ آپ سفر میں پوری نماز پڑھا کرتی تھیں جب کہ عمل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے مروی روایات پر ہے ،امام شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے،البتہ امام شافعی فرماتے ہیں،سفر میں قصر کی اجازت ہے اگر پوری نماز پڑھے تو بھی جائز ہے ، حضرت ابو نضرہ بیان کرتے ہیں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سفری نماز کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا میں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا آپ نے دو رکعتیں پڑھیں،حضرت ابوبکر صدیق،حضرت عمر فاروق کے ہمراہ حج کیا ان دونوں نے دو رکعتیں پڑھیں پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آپ کے دور خلافت میں سات یا آٹھ سال حج کیا آپ نے بھی دو ہی رکعتیں ادا فرمائیں ،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح، محمد بن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت انس بن مالک سے سنا آپ نے فرمایا ہم نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ طیبہ میں ظہر کی نماز چار رکعات پڑھیں، اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعتیں ادا کیں ، یہ حدیث صحیح ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے آپ صرف اللہ رب العالمین سے ڈرتے تھے اس دوران آپ نے دو رکعت نماز ادا فرمائی، امام ترمذی فرماتے ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر،باب۳۸۵؛التَّقْصِيرِ فِي السَّفَرِ،حدیث نمبر ٥٤٤،و حدیث نمبر ٥٤٥،و حدیث نمبر ٥٤٦،و حدیث نمبر ٥٤٧)
کتنے دن کے سفر پر قصر کا حکم ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،ہم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ گئے تو آپ نے دو رکعتیں نماز پڑھی ابو اسحاق حضرمی کہتے میں نے حضرت انس سے پوچھا،،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کتنی مدت ٹھہرے ؟ انہوں نے فرمایا " دس دن " اس باب میں حضرت ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس حسن صحیح ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات سفر میں انیس دن ٹھرتے اور دو رکعتیں پڑھتے ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر ہم انیس دن تک ٹھہرتے تو دو رکعتیں پڑھتے اگر زیادہ ٹھرتے نماز پوری کرتے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپنے فرمایا جو دس دن ٹھہرے پوری نماز پڑھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا جو آدمی پندرہ دن سفر میں رہے وہ پوری نماز پڑھے آپ سے بارہ دن بھی مروی ہیں حضرت سعید بن مسیب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں چار دن ٹھرے تو چار رکعتیں ادا کرے قتادہ اور عطاء خراسانی نے آپ سے یہ روایت نقل کی ہے داؤد بن ابی ہند نے آپ سے اسکے خلاف روایت بیان کی ہے بعد کے علماء کا بھی اسمیں اختلاف ہے سفیان ثوری اور اہل کوفہ کے نزدیک پندرہ دن کا تعین ہے وہ فرماتے ہیں جب پندرہ دن ٹھر نے کا ارادہ ہو نماز پوری پڑھے امام اوزاعی فرماتے ہیں بارہ دن قیام کے ارادے پر پوری نماز پڑھی جائے امام مالک ، شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ فرماتے ہیں چار دن قیام کا ارادہ ہو تو پوری نماز ہے امام اسحٰق نے اس بارے میں حدیث ابن عباس کو اقویٰ مذہب قرار دیا ہے فرماتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اسی پر عمل بھی کیا کہ جب انیس دن ٹھرنے کا ارادہ ہو تو نماز پوری پڑھے علماء کا اس پر اجماع ہے کہ مسافر قصر سے نماز پڑ ھتارہے جب تک اقامت کی نیت نہ کر لے اگرچہ کئی سال گزر جائیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر تشریف لے گئے تو آپ نے انیس دن دو دو رکعتیں نماز پڑھی، ابن عباس فرماتے ہیں ہم بھی انیس دن کے دوران قیام دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، جب اس سے زیادہ دن ٹھہرتے چار رکعتیں پڑھتے ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۳۸۶،مَا جَاءَ فِي كَمْ تُقْصَرُ الصَّلاةُ،حدیث نمبر ٥٤٨ و حدیث نمبر ٥٤٩)
سفر میں نفل نماز حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ اٹھارہ سفر کئے، میں نے آپ کو کبھی بھی زوال آفتاب کے بعد ظہر سے پہلے دو رکعت چھوڑتے نہیں دیکھا۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث براء غریب ہے نیز آپ فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے اس کے بارے میں پو چھا تو انہوں نے بھی اسکو صرف لیث بن سعد کی روایت سے پہچانا اور ابو بسرہ کے نام سے وہ بھی ناواقف تھے البتہ اس حدیث کو انہوں نے حسن سمجھا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز سے پہلے اور بعد نفل نہیں پڑھتے تھے اور آپ ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سفرمیں نفل پڑھا کرتے تھے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام کا اس میں اختلاف ہو گیا بعض کے نزدیک سفر میں نفل پڑھنا جائز ہے امام احمد اور اسحٰق کا بھی یہی قول ہے علماء کی ایک جماعت نماز سے پہلے اور بعد نوافل پڑھنا جائز نہیں سمجھتی اور سفر میں نفل نہ پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ جس نے نہ پڑھے اس نے رخصت پر عمل کیا اور جس نے پڑھے اس کے لئے زیادہ فضیلت ہے ۔ اکثر علماء کا مختار مذہب یہی ہے کہ سفر میں نفل پڑھے جائیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ظہر کے دو فرض اور پھر دو نفل ادا کئے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اسے ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے اور نافع نے ابن عمر سے روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر وحضر میں نماز پڑھی ہے حضر میں ظہر کی نماز چار رکعتیں پڑھیں اور پھر دو سفر میں دو رکعتیں پڑھیں اور پھر دو عصر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد کچھ نہ پڑھا، مغرب کی نماز سفر و حضر میں تین رکعات پڑھیں، سفر و حضر میں دن میں کوئی کمی نہ کی یہ دن کے وتر ہیں ، اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے میں نے امام بخاری سے سنا وہ فرماتے ہیں میرے نزدیک ابن ابی لیلیٰ کو کوئی روایت اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۳۸۷؛مَا جَاءَ فِي التَّطوعِ فِي السَّفَرِ،حدیث نمبر ٥٥٠ و حدیث نمبر ٥٥١،و حدیث نمبر ٥٥٢)
دو نمازیں اکٹھی پڑھنا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں تھے۔ جب آپ زوال شمس سے پہلے کوچ کرتے ظہر کی نماز موخر کر کے عصر کے ساتھ جمع فرماتے اور دونوں نمازیں اکٹھی ادا فرماتے۔ اور اگر زوال آفتاب کے بعد کوچ فرماتے تو عصر کی نماز میں جلدی کرتے ہوئے ظہر کے ساتھ ملا کو پڑھتے پھر روانگی ہوتی ۔ اگر مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو موخر کرتے ہوئے عشاء کے ساتھ ملاکر پڑھتے اگر مغرب کے بعد روانہ ہوتے تو عشاء میں جلدی کرتے ہوئے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے اس باب میں حضرت علی ، ابن عمر، انس عبد اللہ بن عمرو ، عائشہ، ابن عباس ، اسامہ بن زید اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں علی بن مدینی نے یہ حدیث بواسطه احمد بن حنبل، قتیبہ سے روایت کی ہے حدیث معاذ حسن غریب ہے اس میں قتیبہ منفرد ہیں لیث سے قتیبہ کے سوا کسی دوسرے کی روایت ہمیں معلوم نہیں لیث کی روایت بواسطه یزید بن ابی حبیب، ابوطفیل، حضرت معاذ سے غریب ہے ، علماء کے نزدیک حدیث معاذ، بواسطہ ابو زبیر و ابو طفیل، معروف ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع فرمایا قرہ بن خالد، سفیان ثوری، امام مالک اور کئی دوسرے حضرات نے ابو زبیر مکی سے یہ روایت نقل کی ہے، امام شافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں کہ سفر میں دو نمازوں کو ایک وقت جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ کو کسی رشتہ دار کی مدد کے لیے طلب کیا گیا تو آپ تیزی سے چل پڑے،مغرب کو موخر کیا اور جب شفق غائب ہوگئی تو آکر دو نمازیں اکٹھی پڑھیں ، پھر لوگوں کو بتایا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے جب آپ نے جلدی جانا ہوتا، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، ف : حدیث مذکورہ بالا میں جمع صوری تھی یعنی پہلی نماز کو آخری وقت اور دوسری نماز کو پہلے وقت میں پڑھا گیا جمع حقیقی صرف حج کرنے والوں کے لیے میدان عرفات اور مزدلفہ میں ہے (مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۳۸۸؛مَا جَاءَ فِی الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلٰوتَينِ،حدیث نمبر ٥٥٣،و حدیث نمبر ٥٥٤،و حدیث نمبر ٥٥٥)
نماز استسقاء حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا(عبداللہ بن زید رضی اللّٰہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لے کر بارش کے لئے باہر تشریف لائے دو رکعت نماز جہری قرآت سے پڑھائی اور چادر کو الٹایا، ہاتھوں کو اٹھا کر بارش کے لئے دعا مانگی درآں حالیکہ آپ قبلہ کی طرف متوجہ تھے اس باب میں حضرت ابن عباس، ابوبرہ ،انس اور لحم رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں، حدیث عبد اللہ بن زید حسن صحیح ہے علماء کا اس پر عمل ہے امام شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی مسلک ہے عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید عاصم مازنی ہیں۔ حضرت ابو لحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احجارالزیت کے پاس بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا آپ ہاتھوں کو اٹھائے دعا مانگ رہے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں قتیبہ نے اس حدیث میں ابولحم کے واسطہ سے اسی طرح بیان کیا ہے،ان سے صرف یہی ایک مرفوع حدیث معروف ہے، عمیر، ابولحم ، کے غلام ہیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں، انہیں شرف صحابیت حاصل ہے۔ حضرت عبداللہ بن کنانہ فرماتے ہیں، امیر مدینہ ولید بن عقبہ نے مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام کپڑوں میں تواضع کے ساتھ گڑ گڑاتے ہوئے تشریف لے گئے جائے نماز پر پہنچے اور تمہارے خطبہ کی طرح کا خطبہ ارشاد نہیں فرمایا لیکن مسلسل دعا،عاجزی اور تکبیر میں ہے اور عید کی طرف دو رکعتیں ادا فرمائی امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ محمود بن غیلان نے بواسطہ وکیع،سفیان،ہشام بن اسحاق حضرت عبداللہ بن کنانہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی نے روایت نقل کی البتہ اس میں،، متخشعا،،(خشوع کرتے ہوئے) کا لفظ زائد ہے،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے امام شافعی کا یہی قول ہے فرماتے ہیں،نماز استسقاء،عید کی نماز کی طرح پڑھی جائے پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہی جائیں ، امام شافعی نے ابن عباس کی حدیث سے استدلال کیا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں انس بن مالک سے روایت ہے کہ عیدین میں تکبیرات ہیں لیکن استسقاء میں تکبیریں نہ کہی جائیں۔ ف : احناف کے نزدیک نماز استسقاء محض دعا ہے اگر نماز پڑھنا چاہیں تو اکیلے اکیلے پڑھیں اس میں نہ جماعت ہے اور نہ ہی خطبہ اور چادر الٹنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ یہ دیگر دعاؤں کی طرح دعا ہے (ہدایہ) مترجم، (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛ باب۳۸۹؛ مَا جَاءَ فِی صَلٰوةِ الْاِسْتِسْقَاءِ، حدیث نمبر ٥٥٦،و حدیث نمبر ٥٥٧،و حدیث نمبر ٥٥٨،و حدیث نمبر ٥٥٩)
سورج گہن کی نماز حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن کی نماز پڑھی قرآت فرمائی اورپھر رکوع کیا تین مرتبہ اسی طرح کرنے کے بعد دو سجدے کۓ دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھی۔ اس باب میں حضرت علی، عائشہ، عبد الله بن عمرو، نعمان بن بشیر، مغیرہ بن شعبه ابومسعو، ابوبكره ، سمرہ، ابن مسعود ، اسماء بنت ابی بکر، ابن عمر قبیصہ ہلائی جابر بن عبد اللہ ، ابو موسےٰ ، عبد الرحمن بن سمرہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے حضرت ابن عباس سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف چار رکوع اور چار سجدوں میں پڑھی ہے امام شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ یہی فرماتے ہیں۔ سورج گہن کی نماز میں قرات کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک دن کو پست آواز سے قرات کی جائے ۔ بعض علماء فرماتے ہیں نماز عید اور جمعہ کی طرح یہاں بھی بلند آواز سے قرآت کی جائے ۔ امام مالک، احمد اور اسحق جہری قراءت کے ہی قائل ہیں ۔ امام شافعی فرماتے ہیں جہر نہ کی جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں روایتیں صحیح ثابت ہیں یہ بھی صحیح ہے کہ آپ نے چار رکوع چار سجدوں کے ساتھ کیے اور یہ بھی صحیح ہے کہ آپ نے سات رکوع چار سجدوں کے ساتھ کیے ۔ علماء کے نزدیک گہن کے مطابق جائز ہے اگر کسوف لمبا ہو جائے تو نو رکوع چھ رکعتیں چار سجدوں میں ادا کرے یہ جائز ہے اگر چار رکوع چار سجدوں کے ساتھ کرے اور قرأت لمبی کرے تو یہ بھی جائز ہے ہمارے اصحاب کے نزدیک سورج گہن اور چاند گہن کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گہن لگ گیا آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور نہایت طویل قرآت فرمائی پھر رکوع فرمایا اسے بھی طویل کیا پھر رکوع سے سر اٹھا کر طویل قرآت فرمائی جو پہلی قراءت کے مقابلے میں کم تھی۔ پھر لمبا رکوع فرمایا پھر رکوع سے سر اٹھا کرسجدہ میں تشریف لے گئے اور پھر اسی طرح دوسری رکعت بھی ادا فرمائی امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے امام شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی مذہب ہے وہ سورج گہن کی نماز (دو رکعتیں) چار سجدوں کیساتھ رکعات کا قول کرتے ہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ اور اسکے ساتھ ،،سورہ بقرہ " جیسی سوره پست آواز سے پڑھی جائے اگر دن ہو پھر قرآت کے مطابق طویل رکوع کیا جائے پھر تکبیر کہتے ہوئے رکوع سے سراٹھائے اور اطمینان سے کھڑے ہوکر سورہ فاتحہ اور سورہ آل عمران جیسی کوئی سورت پڑھے پھر قرآت کے مطابق طویل رکوع کرے پھر سر اٹھاتے ہوئے ،،سمع اللہ لمن حمدہ ،،کہے پھر دو مکمل سجدے کرے اور رکوع کی طرح وہاں بھی ٹھہرا رہے پھر دوسری رکعت کے لئے اٹھ کھڑا ہو،، سورہ فاتحہ اور سورہ نساء،، جیسی سورت پڑھ کر طویل رکوع کرے پھر تکبیر کہتے ہوئے سیدھا کھڑا ہو جائے سورہ فاتحہ اور اسکے ساتھ سورہ مائدہ جیسی سورہ پڑھ کر قرآت کیمطابق طویل رکوع کرے پھر سر اٹھاتے ہوئے سمع اللہ لمن حمدہ " کہے اور پھر دو سجدے کر کے تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔ ف : احناف کے نزدیک نماز کسوف دو رکعتیں باجماعت ہیں ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے اور اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ترجیح ہے کہ عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی صفیں امام کے قریب ہوتی ہیں لہذا ان پر عمل زیادہ واضح ہوتا ہے ،(ہدایہ) مترجم ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۳۹۰؛فِي صَلٰوةِ الكُسُوفِ،حدیث نمبر ٥٦٠،و حدیث نمبر ٥٦١)
نماز کسوف کی قرآت حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف پڑھائی جس کی آواز ہم نہیں سن رہے تھے ، اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث سمرہ بن جندب حسن صحیح غریب ہے بعض علماء کا یہی مذہب ہے اور امام شافعی بھی یہی فرماتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز کسوف جہری قراءت سے پڑھی امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے،ابو اسحاق فزاری نے سفیان بن حسین سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے ، امام مالک ، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۳۹۱؛كيفَ الْقَِرَاءَۃُ فِی الكُسُوفِ،حدیث نمبر ٥٦٢،و حدیث نمبر ٥٦٣)
نماز خوف حضرت سالم اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتوں میں سے ایک رکعت پڑھائی جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں تھا پھر یہ لوگ واپس جاکر ان کی جگہ کھڑے ہوئے اور وہ گروہ آیا آپ نے ان کو دوسری رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا انہوں نے اٹھ کر اپنی نماز مکمل کی اور دوسری جماعت نے بھی اپنی باقی ماندہ رکعت پڑھ کر نماز مکمل کی۔ اس باب میں حضرت جابر، حذیفہ ، زید بن ثابت ابن عباس - ابوهریره ، ابن مسعود ، سہل بن ابی حثمه ابو عیاش زرقی (ان کا نام زید بن ثابت ہے) اور ابو بکرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں مالک بن انس نے نماز خوف کے بارے میں سہل بن ابی حثمه کی حدیث کو اپنایا ہے امام شافعی بھی اسی کے قائل ہیں۔امام احمد فرماتے ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز خوف کے بارے میں کئی طریقے مروی ہیں اور مجھے کوئی صحیح حدیث معلوم نہیں۔نیز آپ کے نزدیک نماز خوف کا ہر مروی طریقہ جائز ہے اور یہ مقدار کیفیت خوف پر ہے،امام اسحاق فرماتے ہیں ہم حدیث سہل کو دیگر روایات پر ترجیح نہیں دیتے۔حدیث ابن عمر، حسن صحیح ہے ، موسیٰ بن عقبہ نے حضرت نافع کے واسطہ سے حضرت ابن عمر سے اس کے ہم معنی مرفوعاً روایت کیا ہے، حضرت سہل بن ابی حثمه رضی اللّٰہ عنہ نماز خوف کے بارے میں فرماتے ہیں امام قبلہ رو ہوکر کھڑا ہو، ایک جماعت اس کے پیچھے اور ایک گروہ دشمن کے مقابلہ میں کھڑا ہو۔ امام ان کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کرے اور یہ بھی اسی طرح کریں۔پھر پہ دوسروں کی جگہ چلے جائیں اور وہ دوسرے آجائیں امام انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ(ایک رکعت)پڑھائے امام کی دو رکعتیں ہو جائیں گی اور ان کی ایک رکعت پھر یہ اٹھ کر ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ نماز مکمل کر لیں۔ محمد بن بشار فرماتے ہیں میں نے یحییٰ بن سعید سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے اسی طرح بواسطه شعبہ ، عبد الرحمن بن قاسم ، قاسم، اور صالح بن خوات ، حضرت سہل بن ابی حثمه سے مرفوعاً حدیث بیان کی اور فرمایا اسے بھی یحییٰ بن سعید انصاری والی روایت کے پاس لکھ لو ۔ مجھے حدیث یاد تو نہیں لیکن وہ یحییٰ بن سعید انصاری کی حدیث کی طرح تھی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، یحیی بن سعید انصاری نے اسے قاسم بن محمد سے مرفوعاً نہیں نقل کیا ۔ یحییٰ بن سعید انصاری کے شاگردوں نے اسے اسی طرح موقوفًا روایت کیا ہے، شعبہ نے بواسط عبد الرحمن بن قاسم بن محمد، مرفوع روایت نقل کی ہے ، مالک بن انس نے بواسطہ یزید بن رومان اور صالح بن خوات ایک ایسے آدمی سے روایت کی ہے جس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی ہے۔ وہ حدیث بھی اس کی مثل ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث حسن صحیح ہے امام مالک،شافعی،احمد اور اسحٰق اسی کے قائل ہیں کئی راویوں سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک ایک جماعت کو ایک ایک رکعت پڑھائی پس آپکی دو رکعتیں ہوئیں اور ان کی ایک ایک رکعت ہوئی (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۳۹۲؛مَا جَاءَ فِی صَلٰوةِ الْخَوْفِ، حدیث نمبر ٥٦٤،و حدیث نمبر ٥٦٥،و حدیث نمبر ٥٦٦،و حدیث نمبر ٥٦٧)
سجدہ تلاوت حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گیارہ سجدے کیئے ان میں سے ،،سورہ نجم،، کا سجدہ بھی تھا اس باب میں حضرت علی، ابن عباس ، ابو ہریرہ ، ابن مسعود ، زید بن ثابت اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی درداء غریب ہے ، ہم اسے صرف سعید بن ہلال بواسطه عمر دمشقی کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گیارہ سجدے کئے ان میں ایک سورہ نجم کا سجدہ ہے ۔ یہ روایت پہلی روایت کی بہ نسبت زیادہ صحیح ہے۔ ف : احناف کے نزدیک قرآن پاک میں چودہ سجدے ہیں ۔ (مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۳۹۳؛مَا جَاءَ فِی سُجُودِ الْقُرْآنِ،حدیث نمبر ٥٦٨،و حدیث نمبر ٥٦٩)
عورتوں کا مسجدوں میں جانا حضرت مجاہد فرماتے ہیں ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے آپنے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، عورتوں کو رات کے وقت مساجد میں آنے کی اجازت دو،، حضرت ابن عمر کے صاحبزادے نے فرمایا اللہ کی قسم ہم انہیں اجازت نہیں دینگے وہ اسے فساد کا ذریعہ بنائیں گی ، آپنے فرمایا اللہ تیرا برا کرے اور اس کیا میں فرمان رسول پیش کر رہا ہوں اور تو کہہ رہا ہے ہم اجازت نہیں دینگے اس باب میں حضرت ابوہریرہ، زینب زوجہ عبداللہ بن مسعود اور زید بن خالد رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۳۹۴؛فِی خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر ٥٧٠)
مسجد میں تھوکنا منع ہے حضرت طارق بن عبد الله محاربی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو نماز میں ہو تو اپنی دائیں طرف نہ تھوک بلکہ اپنے پچھے یا بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوک۔ اس باب میں حضرت ابوسعید ابن عمر، انس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث طارق حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے میں نے جارود سے سُنا وہ فرماتے ہیں میں نے وکیع کو فرماتے ہوئے سنا که ربعی بن خراش نے اسلام میں کبھی چھوٹ نہیں بولا۔ عبد الرحمن بن مہدی فرماتے ہیں اہل کوفہ میں سے منصور بن معتمر اثبت ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اس کو چھپا دینا ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۳۹۵؛فِی كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِی الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر ٥٧١،و حدیث نمبر ٥٧٢)
؛؛سورۃ انشقاق٫٫اور سورۃ العلق ؛؛میں سجدہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ؛؛ سوره انشقاق ، اور سورہ العلق " کا سجدہ کیا٫ سفیان نے متعدد واسطوں سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی مثل حدیث روایت کی اور اس میں چار تابعین ایک دوسرے سے روایت کرتے ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے،اکثر علماء کا اس پر عمل ہے اور وہ ان دونوں سورتوں میں سجدہ کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۳۹۶؛فِی السَّجْدَةِ فِي إِذَا السَّمَاءُ الشَقَتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الذِي خَلَقَ،حدیث نمبر ٥٧٣،و حدیث نمبر ٥٧٤)
سورہ نجم میں سجدہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم کا سجدہ فرمایا ، مسلمانوں ، مشرکوں ، جنوں اور انسانوں سب نے سجدہ کیا ۔ اس باب میں حضرت ابن مسعود اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے ۔ بعض علماء کا اس پر عمل ہے ۔ وہ سورہ نجم میں سجدہ کے قائل ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں مفصل میں سجدہ نہیں ہے مالک بن انس کا یہی قول ہے، پہلا قول اصح ہے سفیان ثوری، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السجود،باب۳۹۷؛مَا جَاءَ فِی السَّجْدَةِ فِی النْجْمِ،حدیث نمبر ٥٧٥)
سورہ نجم کا سجدہ نہ کرنا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورہ نجم کی تلاوت کی لیکن آپ نے سجدہ نہ فرمایا، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث زید بن ثابت حسن صحیح ہے، بعض علماء نے اس کی تاویل کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت زید نے تلاوت فرمائی تو سجدہ نہیں کیا اس لئے حضور نے بھی سجدہ نہیں فرمایا اور فرماتے ہیں سننے والے پر سجدہ واجب ہے اس کے ترک کی اجازت نہیں ہے نیز فرماتے ہیں اگر بے وضو( آیت سجدہ )سنے تو وضو کرکے سجدہ کریگا ۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے امام اسحٰق بھی یہی فرماتے ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں سجدہ اس پر واجب ہے جو کرنا چاہے اور اس کی فضیلت کا طالب ہو۔ اگر نہ کرنا چاہے تو چھوڑنے کی بھی اجازت ہے انہوں نے حضرت زید بن ثابت کی مرفوع حدیث سے استدلال کیا ہے وہ یہ کہ حضرت زید فرماتے ہیں میں نے حضر صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورہ والنجم پڑھی اور آپنے سجدہ نہیں کیا ۔ وہ فرماتے ہیں اگر سجدہ واجب ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید کو اسوقت تک نہ چھوڑتے جبتک وہ سجدہ نہ کر لیتے اور خود حضور بھی سجدہ فرماتے نیز ان علماء نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی استدلال کیا ہے کہ آپنے منبر یہ آیت سجدہ تلاوت کی پھر اتر کر سجدہ کیا پھر دوسرے جمعہ پر اسے پڑھا لوگ سجدہ کرنیکے لئے تیار ہوئے تو آپنے فرمایاہم پر فرض نہیں ہم چاہیں تو کریں چنانچہ نہ تو آپنے سجدہ کیا اور نہ ہی لوگوں نے ۔ بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام شافعی اور احمد رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السجود، باب۳۹۸؛مَا جَاءَ مَنْ لَمْ يَسْجُدْ فِيهِ،حدیث نمبر ٥٧٦)
سورہ ص میں سجده حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ص کا سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ موکدہ سجدوں میں سے نہیں ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور تابعین کا اس میں اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک اس میں سجدہ ہے ۔ سفیان ثوری، ابن مبارک ، شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں یہ ایک نبی کی تو بہ ہے اس میں سجدہ نہیں ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السجود؛باب۳۹۹؛مَا جَاءَ فِی السَّجْدَةِ فِىْ صٓ،حدیث نمبر ٥٧٧)
سورہ حج کا سجدہ حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! سورۂ حج کی اس لئے فضیلت ہے کہ اسمیں دو سجدے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ،،ہاں،، اور جو شخص یہ سجدے نہ کرے اسے چاہئےکےوہ انہیں نہ پڑھے امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند قوی نہیں اور اس میں علماء کا اختلاف ہے حضرت عمر اور انکے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اس سورت کی فضیلت اس لئے ہے کہ اسمیں دو سجدے ہیں ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کابھی یہی قول ہے. بعض علماء کے نزدیک اس میں ایک ہی سجدہ سے سفیان ثوری امام مالک اور اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السجود؛باب۴۰۰؛فِی السَّجْدَةِ فِی الحَجِّ،حدیث نمبر ٥٧٨)
سجدہ تلاوت میں کیا پڑھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا ،،یارسول اللہ ! میں نے رات کو خواب میں ایک درخت کے پیچھے کھڑا نماز پڑھ رہاہوں میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی سجدہ کیا میں نے اسے کہتے ہوئے سنا،، اے اللہ! میرے لئے اس کے بدلے میں اپنے ہاں ثواب لکھ دے اور اس کے بدلے مجھ سے بو جھ اتار دے اسے میرے لئے خزانہ بنادے اور اسے مجھ سے اس طرح قبول فرما جس طرح تو نے اپنے بندہ ، داؤد علیہ السلام سے قبول فرمایا ۔ امام حسن فرماتے ہیں مجھ سے ابن جریج نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں مجھ سے تمہارے دادا عبیداللہ بن ابی یزید)نے بیان کیا ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کیا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں میں نے آپ کو وہی کلمات پڑھتے ہوئے سنا جو درخت کا واقعہ بیان کرنے والے شخص نے کہے تھے اس باب میں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حضرت ابن عباس کی روایت سے غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رات کے سجدۂ تلاوت میں پڑھتے میرے چہرہ نے اس کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اپنی قدرت و طاقت سے اس میں کان اور آنکھیں بنائیں، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السجود، باب۴۰۱؛مَا جَاءَ مَا يَقُولُ فِي سُجُودِ القُرْآنِ،حدیث نمبر ٥٧٩،و حدیث نمبر ٥٨٠)
رات کا وظیفہ رہ جائے تو دن کو پڑھنا عبد الرحمن بن عبد القاری فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص رات کو وظیفہ سے سو جائے تو صبح اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھے اس کے لئے رات کا ثواب ہی لکھا جائے گا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ابو صفوان کا نام عبد اللہ بن سعید مکی ہے ، حمیدی اور کئی اکابر نے ان سے (احادیث) روایت کی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۴۰۲؛مَا ذُكِرَ فِي مَنْ فَاتَہُ حِزْبُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَضَاهُ بِالنَّهَارِ،حدیث نمبر ٥٨١)
امام سے پہلے سر اٹھانے پر تنبیہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،کیا امام سے پہلے سراٹھانے والا اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کے سر کی طرح بنا دے۔ قتیبہ فرماتے ہیں ۔ حماد نے محمد بن زیاد سے یہی الفاظ نقل کئے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ محمد بن زیاد بصری ثقہ ہیں اور انکی کنیت ابوالحارث ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۴۰۳؛مَا جَاءَ مِنَ التَّشْدِيدِ فِی الَّذِی يَرْفَعُ رَاسَهٗ قَبْلَ الْاِمَامِ،حدیث نمبر ٥٨٢)
امام کا فرض پڑھنے کے بعد امامت کرانا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مغرب کی نماز پڑھ کر اپنی قوم کے پاس آتے اور انکی امامت فرماتے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ہمارے اصحاب امام شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا اس پرعمل ہے وہ فرماتے ہیں اس شخص کے پیچھے فرض نماز جائز ہے جو خود پہلے فرض پڑھ چکا ہو۔ انہوں نے واقعہ معاذ کے متعلق حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا اور وہ صحیح حدیث ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کئی طرق سے مروی ہے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو مسجد میں اس وقت داخل ہوا جب لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے اس نے اسے ظہر کی نماز سجھتے ہوئے شمولیت کی؟ آپ نے فرمایا اس کی نماز جائزہ ہے اہل کوفہ کی ایک جماعت نے کہا جب کوئی قوم امام کی اقتداء کرے اور وہ عصر کی نماز پڑھ رہا ہو انہوں نے ظہر کی نماز کا خیال کرتے ہوئے اقتداء کی تو ان کی نماز فاسد ہو جائیگی کیونکہ امام و مقتدی کی نیت علیحدہ علیحدہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب السفر،باب۴۰۴؛مَا جَاءَ فِي الَّذِي يُصَلِّى الفَرِيضَةثُمَّ يَؤُمُ النَّاسَ بَعْدَ ذلِك،حدیث نمبر ٥٨٣)
گرمی اور سردی میں کپڑے پر سجدہ کرنے کی اجازت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب ہم سخت گرمی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لئے کپڑوں پر سجدہ کرتے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں حضرت جابر بن عبد اللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حضرت وکیع نے اسے خالد بن عبد الرحمن سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛ باب۴۰۵؛ مَا ذُكِرَ مِنَ الرُّحْصَةِ فِي السُّجُودِ عَلَى الثَوْبِ فِي الْحَرِّ وَ الْبَرْدِ،حدیث نمبر ٥٨٤)
صبح کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک مسجد میں بیٹھنے کی فضیلت حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اپنے مصلیٰ پر بیٹھے رہتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو صبح کی نماز باجماعت پڑھ کر طلوع آفتاب تک بیٹھا اللہ کا ذکر کرتا رہا پھر دو رکعت نماز ادا کی اس کے لئے پورے حج اور عمرہ کا ثواب ہے حضرت انس فرماتے ہیں حضور نے تین مرتبہ لفظ "تَامّ٘تۃٍ (پورا) فرمایا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے اور میں نے امام بخاری سے ابو ظلال کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے فرمایا وہ مقارب حدیث ہیں، امام بخاری فرماتے ہیں ان کا نام ہلال ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر،باب۴۰۶؛مَا ذُكِرَ مِمَّا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْجُلُوسِ في المَسْجِدِ بَعْدَ صَلٰوةِ الصُّبْحِ حَتَّٰى تَطلُعَ الشَمْسِ،حدیث نمبر ٥٨٥،و حدیث نمبر ٥٨٦)
نماز میں اِدھر اُدھر توجہ کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دائیں بائیں دیکھتے لیکن گردن مبارک کو پیچھے کی طرف نہیں موڑتے تھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے،وکیع نے فضل بن موسیٰ کی روایت میں ان کی مخالفت کی ہے۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کے کسی شاگرد سے روایت ہے اس میں حدیث سابق کی طرح کے الفاظ ہیں۔ اس باب میں حضرت انس اور حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا بھی روایات منقول ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، اے بیٹے ! نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے بچو کیونکہ نماز میں ادھر ادھر توجہ ( باعث ) ہلاکت ہے اگر ضروری ہو تو نفلوں میں کرو ۔ فرض میں نہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر توجہ کے بارے میں سوال کیا " آپ نے فرمایا " یہ شیطانی لغزش ہے شیطان انسان کو نماز سے پھسلانا چاہتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر، باب۴۰۷؛مَا ذُكِرَ فِی الْاِلْتِفَاتِ فِی الصَّلٰوةِ،حدیث نمبر ٥٨٧،و حدیث نمبر ٥٨٨،و حدیث نمبر ٥٨٩،و حدیث نمبر ٥٩٠)
امام سجدے میں ہو تو آنے والا کیا کرے حضرت علی اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز کے لئے آئے اور امام کسی حال میں ہو تو چاہیے کہ جس طرح امام کرے اسی طرح وہ بھی کرے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس کو مسند بیان کیا ہو مگر اسی طریق سے جو بیان کیا گیا ہے علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص آئے اور امام سجدہ میں ہو تو اسے بھی سجدہ کرنا چاہئیے اور اس کی یہ رکعت نہ ہوگی۔ اگر امام کے ساتھ رکوع نہ پایا عبداللہ بن مبارک نے پسند کیا ہے کہ امام کے ساتھ سجدہ کرے اور بعض علماء سے نقل کیا کہ شاید اس سجدہ سے سر اٹھانے سے پہلے ہی اس کی مغفرت ہو جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب السجود،باب۴۰۸؛مَا ذَكَرَ فِی الرَّجُلِ يُدْرِكُ الْإِمَامِ سَاجِدً ا كَيْفَ يَصْنَعُ،حدیث نمبر ٥٩١)
نماز شروع کرتے وقت کھڑے ہو کر امام کا انتظار کرنا مکروہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اقامت ہو جائے تو جب تک مجھے نکلتا ہوا نہ دیکھو مت کھڑے ہو۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے اور حدیث انس غیر محفوظ ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی قتادہ حسن صحیح ہے ۔ صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت نے کھڑے ہو کر امام کی انتظار کو مکروہ کہا ہے بعض علماء فرماتے ہیں ، جب امام مسجد میں ہی ہو اور تکبیر کہی جائے تو لوگ " قد قامت الصلوۃ " پر کھڑے ہوں۔ یہ ابن مبارک کا قول ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۴۰۹؛كَرَاهِيَة أن يَنْت٘ظِرَ النَّاسُ الْاِمَامِ وَهُم قِيَا مُ عِندَ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ،حدیث نمبر ٥٩٢)
دعا سے پہلے حمد و ثناء اور درود شریف حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نماز پڑھ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما بھی وہاں موجود تھے جب میں بیٹھا تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر بارگاہ رسالت میں ہدیہ درود بھیجا اور اسکے بعد اپنے لئے دعا مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ،، مانگو تمہیں دیا جائے گا دو مرتبہ فرمایا ۔ اس باب میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عبد اللہ حسن صحیح ہے امام احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے یہ حدیث مختصر روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر،باب۴۱۰؛مَا ُذَُكِرَ فِی الثَنَاءِ عَلَى اللهِ وَالصَّلٰوةُ عَلَى النَّبِيِّ صلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر ٥٩٣)
مسجدوں کو پاک صاف رکھنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں پاک صاف رکھنے کا حکم دیا۔ حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے اسی کے مثل حدیث روایت کی ہے اور یہ پہلی حدیث سے اصح ہے۔ ہشام بن عروہ نے بواسطہ والد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے سفیان فرماتے ہیں گھروں میں مسجدیں بنانے سے مراد محلوں اور قبیلوں میں مسجدیں بنانا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۴۱۱؛مَا ذُكِرَ فِی تَطِيبِ الْمَسَاجِدِ، حدیث نمبر ٥٩٤ ،و حدیث نمبر ٥٩٥،و حدیث نمبر ٥٩٦)
رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں شاگردان شعبہ کا حدیث ابن عمرمیں اختلاف ہے بعض نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً نقل کی اور بعض نے موقوفًا بیان کی ۔ عبداللہ عمری نے بوسط نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے مثل مرفوعاً حدیث بیان کی صحیح روایت وہ ہے جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے کئی ثقہ راویوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے مرفوعاً حدیث روایت کی جس میں دن کی نماز کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت عبید اللہ نے بواسطہ نافع بیان کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما کو دو دو رکعت اور دن کو چار چار رکعت پڑھا کرتے تھے علماء کا اس میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک دن اور رات( دونوں ) کی نماز دو دو رکعت ہے امام شافعی اور احمد کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں رات کی نماز دو دو اور دن کے نوافل چار چار رکعت ہیں جس طرح ظہر سے پہلے چار سنتیں اور دیگر نوافل ہیں، سفیان ثوری،ابن مبارک،اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۴۱۲؛مَا جَاءَ أَنَّ صَلٰوةَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنٰی مَثْنٰی،حدیث نمبر ٥٩٧)
دن کے نوافل پڑھنے کا طریقہ حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں ہم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دن کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ۔ ہم نے پوچھا ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سورج مشرق سے ایسا ہوتا جیسا کہ جانب مغرب میں عصر کے وقت ہوتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے اور جب سورج مشرق میں ایسے ہوتا جیسے مغرب میں ظہر کے وقت ہوتا ہے تو چار رکعت پڑھتے ظہر سے پہلے چار اور بعد میں دو رکعتیں ادا فرماتے عصر سے پہلے چار پڑھتے دو رکعتوں کے درمیان ملائکہ مقربین، انبیا و رسل اور ان کے پیرو کار مومنین مسلمین پر سلام کے ذریعے فصل کرتے، ایک دوسری سند سے بواسطہ عاصم بن ضمرہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اس کے ہم مثل روایت مرفوعاً بیان کی امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ، اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کے دن کے نوافل کے بارے میں یہ سب سے بہتر روایت ہے ابن مبارک اس حدیث کو ضعیف کہتے تھے ہمارے نزدیک اس کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی طریق یعنی عاصم بن ضمرہ سے مذکور ہے ، عاصم بن ضمرہ مرہ بعض محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، علی بن مدینی بواسطہ یحییٰ بن سعید قطان،سفیان کا قول نقل کرتے ہیں کہ ہم حدیث حارث پر حدیث عاصم کی فضیلت پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السجود؛باب۴۱۳؛كيفَ كَانَ يَتَطَوعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلِيمٍ وَسَلَّمَ بِالنَّهَاءِ،حدیث نمبر ٥٩٨،و حدیث نمبر ٥٩٩)
عورتوں کے کپڑوں میں نماز پڑھنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، عورتوں کے کپڑوں میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس مسئلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت بھی مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر،باب۴۱۴؛فِی كَرَاهِيَةِ الصَّلٰوةِ فِی لُحُفِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر ٦٠٠)
نفل نماز میں کس قدر حرکت جائز ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں گھر آئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے دروازہ پیچھے سے بند تھا آپ آگے آئے یہاں تک کہ دروازہ کھولا پھر اپنی جگہ واپس تشریف لے گئے دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر،باب۴۱۵؛مَا يَجُوزُ مِنَ الْمَشِي وَالعَمَلِ فِي صَلٰوةِ التَّطَوُّعِ ،حدیث نمبر ٦٠١)
ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنا حضرت ابووائل فرماتے ہیں ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس حرف کے بارے میں پوچھا " غَیْرَ اٰسِنْ یَا غَیْرَ یٰا سِنْ“ ہے آپ نے فرمایا تو نے اس کے علاوہ سارا قرآن پڑھ لیا ہے ؟ اس نے کہا،،ہاں،، آپ نے فرمایا بعض لوگ اس طرح قرآن پڑھتے ہیں کہ انہیں کجھوروں کی طرح گراتے ہیں (لاپرواہی مراد ہے) وہ انکے حلق سے نیچے نہیں اترتا میں ان مشابہ سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم آپس میں ملا کر پڑھتے تھے ابووائل فرماتے ہیں ہم نے حضرت علقمہ سے کہا انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے پوچھا تو آپ نے فرمایا مفصل کی بیس سورتیں ہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر،باب۴۱۶؛مَا ذُكِرَ فِي قِرَاءَةِ سُورَتَيْنِ فِی رَكْعَةٍ،حدیث نمبر ٦٠٢)
مسجد میں جانے کی فضیلت اور قدموں کا ثواب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کر کے نماز کے لئے جاتا ہے اور اس کو صرف نماز نے نکالایا (فرمایاصرف نماز نے ) کھڑا کیا اللہ تعالیٰ ایک قدم کے بدلے اسکا ایک درجہ بلند فرماتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتابالسفر،باب۴۱۷؛ما ذُكِرَ فِي فَضْلِ الْمَشِي إِلَى الْمَسْجِدِ وَمَا يُكتَبُ لَهُ مِنَ الأَجْرِ فِي خُطَاهُ، حدیث نمبر ٦٠٣)
مغرب کے بعد کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے حضرت سعد بن اسحاق بواسطہ والد اپنے دادا حضرت کعب بن حجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے "مسجد بنی عبد الاشہل" میں مغرب کی نماز پڑھی لوگ نفل پڑھنے اٹھے تو آپ نے فرمایا،، یہ نماز گھر میں پڑھا کرو،، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں صحیح روایت وہ ہے جسے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دو رکعتیں گھر میں پڑھا کرتے تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی اور پھر عشاء پڑھنے تک مسجد میں ہی نفل پڑھتے رہے اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کے دو نفل مسجد میں پڑھے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۴۱۸؛مَا ذُكِرَ فِي الصَّلاةِ بَعْد الْمَغْرِبِ اَنَّهٗ فِي الْبَيِّتِ أَفضَلُ،حدیث نمبر ٦٠٤)
قبول اسلام کے وقت غسل کرنا حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اسلام لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل کرنے کا حکم فرمایا، اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں علماء کا اس پر عمل ہے وہ اسے اچھا سمجھتے ہیں کہ جب کوئی اسلام لائے تو غسل بھی کرے اور کپڑے بھی دھوئے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر،باب۴۱۹؛فِی الْاِغْتِسَالِ عِندَ مَا يُسلِمُ الرَّجُلُ،حدیث نمبر ٦٠٥)
بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت،،بسم اللّٰہ،، پڑھنا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنوں کی نگا ہوں اور انسانوں کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء میں داخل ہو تو بسم اللہ پڑھے،، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں اور اس کی سند قومی نہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی اس بارے میں روایت مذکور ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۴۲۰؛مَا ذُكِرَ مِنَ التَّسْمِيَةِ فِي دُخُولِ الْخَلاءِ،حدیث نمبر ٦٠٦)
قیامت کے دن اس امت کا خاص نشان سجدوں اور طہارت کے اثرات ہونگے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میری امت قیامت کے دن سجدوں کی وجہ سے روشن اور وضو کی وجہ سے پنج کلیان ہو گی(اعضائے وضو چمک دار ہوں گے) امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس وجہ یعنی عبداللہ بن بسر کی روایت سے صحیح حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب السفر،باب۴۲۱؛مَا ذَُکَرَ مِنْ سِمَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ اٰثارِ السُّجُودِ وَالظُّهُورِ يَومَ القِيمةِ،حدیث نمبر ٦٠٧)
وضو میں دائیں اعضاء سے ابتدا کرنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے کنگھی فرماتے اور نعلین مبارک پہنتے وقت داہنی طرف سے شروع فرمانا پسند فرماتے تھے ، ابو شعثاء کا نام سلیم بن اسود محاربی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۴۲۲؛مَا يَسْتَحِبُّ مِنَ التَّيَمُّنِ فِي الظُّهُورِ،حدیث نمبر ٦٠٨)
وضو میں کتنا پانی کافی ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو میں دو رطل( ایک سیر )پانی کافی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اسے ان الفاظ کے ساتھ صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔ شعبہ نے بواسطہ عبد الله بن عبد الله بن جبر، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع (پانی سے وضو فرماتے اور غسل کے لئے پانچ صاع( پانی) استعمال فرمائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر،باب۴۲۳؛ذِكرِ قَدْرِ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الوُضُوْءِ،حدیث نمبر ٦٠٩)
دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا شیر خوار بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارے جائیں اور بچی کے پیشاب کو اچھی طرح دہویاجائے حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ اس وقت ہے جب کھانا نہ کھائے ہوں جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو دونوں کا پیشاب دہویا جائے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ہشام دستوائ نے اسے حضرت قتادہ سے مرفوعاً بیان کیا ہے سعید بن ابی عروبہ نے اسے حضرت قتادہ سے ہی موقوفًا روایت کیا ہے مرفوعاً نقل نہیں کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر؛باب۴۲۴؛ما ذكر في نَضْحِ بَولِ الْغُلَامِ الرَّضِيعِ،حدیث نمبر ٦١٠)
جنبی کے لئے وضو کر کے کھانے اور سونے کی اجازت حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی آدمی کو اجازت دی ہے کہ جب وہ کھانا پینا یا سونا چاہے تو نماز کے وضو جیسا وضو کرلے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ جامع ترمذی شریف،کتاب السفر،باب۴۲۵؛مَا ذُكِرَ فِي الرَّخْصَةِ لِلْجُنبِ فِی الآكِل وَالنَّوْمِ إِذَا تَوَصَّا،حدیث نمبر ٦١١،و حدیث نمبر ٦١٢،و حدیث نمبر ٦١٣)
فضیلت نماز حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا " اے کعب میں تجھے اپنے بعد آنیوالے حکمرانوں سے اللہ تعال کی پناہ میں دینا چاہتا ہوں جس نے انکے، دروازوں کو ڈھانکا( انکے قریب ہوا) انکے جھوٹ کی تصدیق کی ، ظلم پر انکی مدد کی اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ اور نہ وہ حوض (کوثر) پر وارد ہو گا اور جو ان کے دروازے کے قریب آئے یا نہ آئے لیکن اس نے نہ تو انکے جھوٹ کی تصدیق کی۔ اور نہ ہی ظلم پر انکا مددگار ہوا اس کا مجھ سے اور میرا اس سے تعلق ہے اور وہ میرے حوض پر وارد ہوگا اے کعب ! نماز دلیل ہے. روزہ گناہوں سے ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹادیتا ہے جسطرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اے کعب بن حجرہ ! جو گوشت حرام سے پروان چڑھتا ہے وہ آگ کے زیادہ لائق ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق جانتے ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے صرف عبید اللہ بن موسیٰ کی حدیث سے اسے پہچانا اور اسے غریب بتلایا امام بخاری فرماتے ہیں ہم سے یہ حدیث ابن نمیر نے بواسطہ عبیداللہ بن موسیٰ غالب سے بیان کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر،باب۴۲۶؛مَا ذُكِرَ فِي فَضْلِ الصَّلٰوةِ،حدیث نمبر ٦١٤،و حدیث نمبر ٦١٥)
دخول جنت کے ذریعے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے حجتہ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا" اپنے رب اللہ سے ڈرو"پانچ نمازیں پڑھو۔ رمضان شریف کے روزے رکھو ، اپنے مالوں کی زکوٰۃ دو؛اپنے امراء کا حکم مانو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے سلیم بن عامر کہتے ہیں میں نے ابو امامہ سے پوچھا آپ نے یہ حدیث کب سنی ؟ انہوں نے فرمایا ، میں اس وقت تیس سال کا تھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب السفر،باب۴۲۷؛مِنْہُ،حدیث نمبر ٦١٦)
Tirmizi Shareef : Abwabus Safar
|
Tirmizi Shareef : أَبْوَابُ السَّفَرِ
|
•