
زکوٰۃ نہ دینے پر تنبیہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا آپ کعبتہ اللہ کے سائے میں تشریف فرما تھے فرماتے ہیں مجھے آتا دیکھ کر آپنے فرمایا رب کعبہ کی قسم! وہی لوگ قیامت کے دن زیادہ خسارے میں ہیں حضرت ابوزر فرماتے ہیں میں نے سوچا مجھے کیا ہوا ؟ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے، فرماتے ہیں میں نے عرض کیا " میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ ! وہ کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا زیادہ مال جمع کرنے والے مگر جسں نے ایسے ایسے اور ایسے دیا آپ نے اپنے، آگے دائیں اور بائیں طرف اشارہ فرمایا پھر فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جسکے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کوئی شخص جب مرتا ہے اور اونٹ گائے وغیرہ چھوڑ جاتا ہے جنکی زکوۃ اس نے ادا نہیں کی قیامت کے دن وہ جانور نہایت بڑے اور موٹے ہو کر اس کے پاس آئیں گے اپنے کھروں سے اسے روندیں گے اور سینگوں سے ماریں گے جب آخری چلا جائے گا پہلا دوبارہ آئے گا یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ہو جائے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسکی مثل منقول ہے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں زکوٰۃ نہ دینے والے پر لعنت کی گئی ہے قبیصہ بن ہلب بواسطہ ہلب،جابر بن عبد اللہ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے بھی (اس باب میں) روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ابی ذر حسن صحیح ہے ابو ذر کا نام جندب بن سکن ہے ابن جنادہ بھی کہا جاتا ہے۔ ضحاک بن مزاحم فرماتے ہیں،مال جمع کرنے والوں سے دس ہزار کے مالک مراد ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکوۃ؛باب۴۲۸؛مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وسلم فِی مَنْعِ الزَّكوة مِنَ التَّشْدِيدِ،حدیث نمبر ٦١٧،)
زکوۃ کی ادائیگی سے فرض ادا ہو گیا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تونے اپنے مال کی زکوٰۃ دیدی تو تو نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے اور کئی طرق سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله ! کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر ہے، آپ نے فرمایا نہیں البتہ یہ کہ تو نفلی صدقہ دے ، ابن حجیرہ کا نام عبد الرحمن بن حجيره بصری ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہماری خواہش ہوتی تھی کہ کوئی عقلمند اعرابی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھے اور ہم بھی وہاں موجود ہوں ایک دن ہم حاضر تھے کہ ایک اعرابی آیا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا،اس نے کہا اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم ) آپکا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ آپنے رسالت کا دعویٰ فرمایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ہاں" اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو بلند کیا، زمین کو بچھایا اور پہاڑوں کو کھڑا کیا کیا اللہ تعالیٰ نے آپکو بھیجا ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ "ہاں" کہنے لگا آپکے قاصد نے ہمیں کہا کہ آپ فرماتے ہیں دن رات میں پانچ نمازیں ہمارے ذمہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا " ہاں " کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے آپکو رسول بناکر بھیجا کیا اللہ تعالیٰ نے آپکو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا "ہاں" کہنے لگا آپکے قاصد نے ہمیں آپ کا فرمان بتایا کہ ہم پر سال میں ایک مہینے کے روزے لازم ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپکو رسول بناکر بھیجا کیا اللہ تعالیٰ نے آپکو اسکا حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا " ہاں " پھر کہنے لگا آپکے قاصد نے ہمیں آپ کا یہ ارشاد بھی بتایا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے آپنے فرمایا اس نے سچ کہا، کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے آپکو رسول بنایا کیا اللہ تعالی نے آپکو یہ حکم دیا۔ آپنے فرمایا، ہاں ، پھر کہنے لگا آپکے قاصد نے یہ بھی کہا کہ آپ فرماتے ہیں ہم میں سے جو طاقت رکھتا ہو اس پر بیت اللہ شریف کا حج فرض ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ سلم نے فرمایا، ہاں ، کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے آپکو رسول بنا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے آپنے فرمایا، ہاں، کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے آپکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا انمیں سے کسی چیزکو نہیں چھوڑونگا اور نہ ہی ان سے تجاوز کرونگا پھر جلد ی جلدی اٹھا( اور چلاگیا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، اگر اعرابی نے سچ کہا ہے تو جنت میں داخل ہوگا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے اسکے علاوہ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے سنافرماتے ہیں بعض علماء حدیث نے اس حدیث سے یہ فقہی مسئلہ استباط فرمایا کہ عالم کے سامنے سماع کے طریقے پر پڑھنا اور پیش کرنا جائز ہے اور دلیل یہ دی کہ اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا اور آپ نے اس کے ساتھ اقرار کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکوۃ؛باب۴۲۹؛مَا جَاءَ إِذَا ادَّيْتَ الزَكٰوةَ فَقَدُ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ،حدیث نمبر ٦١٨،و حدیث نمبر ٦١٩)
سونےچاندی کی زکوٰۃ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تم سے (خدمت کے) گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ معاف کر دی پس چاندی کی زکوٰۃ ادا کرو چالیس درہموں میں ایک درہم ہے ایک سو ننانوے میں کچھ نہیں جب دو سو ہو جائیں ان میں پانچ درہم ہیں اس باب میں حضرت ابو بکر صدیق اور عمر وبن حزم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں اعمش اور ابو عوانہ نے یہ حدیث بواسطہ ابو اسحاق اور عاصم بن ضمرہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کی ہے سفیان ثوری ،ابن عینیہ اور کئی دوسرے راویوں نے اسے بواسطہ ابو اسحاق اور حارث ،حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا میرے نزدیک یہ دونوں روایتیں ابو اسحاق سے صحیح ہیں ہو سکتا ہے یہ روایت دونوں (حارث اور عاصم) سے مروی ہو۔ ف : حدیث مذکورہ بالا سے معلوم ہوا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کے احکام میں جس طرح چاہیں استثناء فرمائیں امام قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں اور علامہ سیوطی نے خصائص الکبریٰ میں اسے حضور کے خصائص سے لکھا ہے اس مسئلہ کی مزید تحقیق کے لئے امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کی تصنیف "الامن والعلیٰ"کا مطالعہ کیجئے(مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ،باب۴۳۰؛مَا جَاءَ فِي زَكٰوةِ الذَّهَبِ وَالْوَرَقِ،حدیث نمبر ٦٢٠)
اونٹ اور بکری کی زکٰوۃ حضرت سالم اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے بارے میں ایک کتاب لکھی آپ نے یہ کتاب اپنے عمال کیطرف نہیں بھیجی تھی کہ آپ کا وصال ہو گیا آپ نے اسے تلوار سے ملا کر کھا ہوا تھا آپ کے وصال کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ نے اس پرعمل کیا ان کے پردہ فرمانے پر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس پر عمل کیا اسکی کی تحریر یہ تھی پانچ اونٹوں میں ایک بکری ہے دس میں دو بکریاں، پندرہ میں تین بکریاں، بیسں میں چار، پچیس میں اونٹ کا ایک سالہ بچہ پینتسیں تک، اس سے زیادہ پر پنیتالیس تک دو سالہ بچہ اس سے زیادہ پر تین سالہ یہاں تک کہ ساٹھ ہوجائیں،اس سے زائد پچہتر تک ہوں توان پر اونٹ کا چار سالہ،بچہ اس سے زائد پر نوے تک ایک سالہ دو اونٹ ، اس سے زائد ایک سو بیس تک میں دو سالہ دو اونٹ ، اس سے اوپر ہر پچاس میں ایک تین سالہ اونٹ، اور ہر چالیس میں دو سالہ اونٹ ، چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے یہ ایک سوبیس تک ہے اس سے اوپر دو سو تک میں دو بکریاں ہیں، اس سے زائد تین سو بکریوں تک میں تین بکریاں ہیں پھر ہر سومیں ایک بکری ہے، سو سے کم میں کچھ نہیں زکوٰۃ کے ڈر سے متفرق کو جمع نہ کیا جائے اور جمع شدہ میں تفریق نہ کرے دو شریکیوں کا حصہ برابر تقسیم کیا جائے ، زکٰوۃ میں بوڑھی اور عیب دار بکری نہ لی جائے، زہری فرماتے ہیں زکوٰۃ لینے والا (عامل) بکریوں کو تین حصوں (یعنی اعلیٰ ، اوسط اور ادنی ) میں تقسیم کر دے اور وصول کرتے وقت اوسط درجے سے وصول کرے زہری نے گائے کا ذکر نہیں کیا، اس باب میں حضرت ابو بکر صدیق ، بہز بن حکیم بواسطہ والد اپنے دادا سے ، ابوذر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر، حسن ہے، اور عام فقہا کا اس پر عمل ہے یونس بن یزید اور کئی دوسرے راویوں نے اسے بواسطه زہری ، حضرت سالم سے موقوفًا روایت کیا ہے سفیان بن حسین نے مرفوعاً روایت نقل کی ہے ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ ؛باب۴۳۱؛مَا جَاءَ فِي زَكٰوةِ الْإِبِلِ وَالْغَيْمِ،حدیث نمبر ٦٢١)
گائے کی زکوٰۃ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیس گایوں میں گائے کا ایک سالہ بچھڑا یا بچھیا ہے اور چالیس گایوں میں دو سال کی گائے ہے ،اس باب میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں عبد السلام بن حرب نے خصیف سے اسی طرح روایت کیا ہے عبد السلام ثقہ حافظ ہیں شریک نے یہ حدیث بواسطہ خصیف،ابو عبیدہ اور ان کے والد، سے سماع حاصل نہیں ہے، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف(حاکم بنا کر) بھیجا اور حکم فرمایا کہ میں تیس گایوں پر ایک سالہ بچھڑا یا بچھیا اور چالیس پر دو سالہ گائے صدقہ لوں ، اور ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر کپڑے لوں ،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے بعض محدثین نے یہ حدیث بواسطه سفیان ، اعمش اور ابو وائل،حضرت مسروق سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، اور زکوٰۃ لینے کا حکم فرمایا یہ اصح روایت ہے، عمرہ بن مرہ فرماتے ہیں میں نے ابو عبیدہ سے پوچھا ،،کیا آپ کو حضرت عبد اللہ سے کچھ یاد ہے ؟ انہوں نے فرمایا "نہیں"، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۳۲؛مَا جَاءَ فِی زَكٰوةِ الْبَقَرِ،حدیث نمبر ٦٢٢،و حدیث نمبر ٦٢٣،و حدیث نمبر ٦٢٤)
صدقہ میں عمدہ مال لینا منع ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کے طرف بھیجا تو فرمایا آپ ایسی قوم کے پاس جارہے ہیں جو اہل کتاب سے ہیں انہیں کلمہ شہادت کی دعوت دیں اگر مان جائیں تو انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر مان جائیں تو ان کو بتائیں کہ اللہ تعالی نے ان کے مالوں میں زکٰوۃ فرض کی ہے مالداروں سے لے کر فقراء کو دی جائے اگر تسلیم کریں تو ان کے عمدہ مال لینے سے بچیں مظلوم کی بد دعا سے ڈرنا کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پر دہ نہیں،اس باب میں حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے ابن عباس کے غلام ابو معبد کا نام نافذ ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۳۳؛مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ أَخْذِ خِيَارِالمَالِ فِی الصَّدَقَةِ،حدیث نمبر ٦٢٥)
کھیتی، پھل اور غلہ کی زكٰوة حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم (غلہ)میں زکوٰۃ نہیں؛اس باب میں حضرت ابو ہریرہ، ابن عمر جابر اور عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ محمد بن بشار نے متعدد واسطوں سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی سعید حسن صحیح ہے اور آپ سے کئی طرق سے مروی ہے علماء کا اس پر عمل ہے کہ پانچ وسق سے کم غلہ پر زکٰوة نہیں ، ایک وسق ساٹھ صاع کا اور پانچ وسق تین سو صاع کے ہوتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع پانچ اور ایک تہائی رطل کا ہے اہل کوفہ کا صاع آٹھ رطل کا ہے پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ایک اوقیہ چالیس درہموں کا ہوتا ہے پانچ اوقیہ دو سو درہم کے ہوتے ہیں اسی طرح پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں جب بیس اونٹ ہوجائیں تو ان میں ایک سال کی اونٹنی ہے اور پچیس سے کم اونٹوں میں ہرپانچ پر ایک بکری ہے۔ ف: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک جو کچھ زمین سے پیدا ہو کم ہو یا زیادہ اس پر عشر ہے کیونکہ حدیث شریف میں بلا تفصیل فرمایاگیا جوکچھ زمین سے پیدا ہو اس میں عشر ہے ۔ اس حدیث میں زکوٰۃ تجارت کا نصاب بیان کیا گیا ہے (ہدایہ اولیں) مترجم۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۳۴؛مَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ الذَّوَْدِ وَالَّمْرِوالْحُبُوْبِ،حدیث نمبر ٦٢٦،و حدیث نمبر ٦٢٧)
گھوڑے اور غلام پر کی زکوٰۃ نہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ نہیں اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عمر اور علی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے اور اس پر علماء کا عمل ہے کہ چرنے والے گھوڑے اور خدمت کے لئے غلام پر زکوٰۃ نہیں البتہ اگر تجارت کے لئے ہوں تو سال گزرنے پر ان کی قیمت پر زکوٰۃ ہوگی۔ جامع ترمذی شریف ایف،کتاب الزکٰوۃ،باب۴۳۵؛مَا جَاءَ لَيْسَ فِی الخَيلِ والرَّقيق صَدَقَةٌ، حدیث نمبر ٦٢٨)
شہد کی زکوٰۃ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ سلم نے فرمایا شہد کی دس مشکوں پر ایک مشک زکوٰۃ ہے ،اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، ابو سیارہ متعی اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر کی سند میں کلام کیا گیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی زیادہ بات ثابت نہیں ہے اکثر علماء کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰق کا بھی یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں شہد پر زکوٰۃ نہیں۔ ف : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شہد پر عشر ہے جبکہ زمین سے ہو۔ (مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ،باب۴۳۶؛مَا جَاءَ فِی زَكٰوةِ الْعَسْلِ،حدیث نمبر ٦٢٩،و حدیث نمبر ٦٣٠)
مال مستفاد پر ایک سال گزرنے سے پہلےزکٰوۃ نہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مال حاصل کیا اس پر سال گزرنے سے پہلے زکوٰۃ واجب نہیں، اس باب میں حضرت سری بنت نبہان رضی اللہ عنہا سے بھی روایت منقول ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مال حاصل ہوا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں جب تک مالک کے پاس ایک سال نہ گزر جائے یہ حدیث پہلی حدیث کے مقابلے میں اصح ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں اسے ایوب ، عبید اللہ اور کئی دوسرے راویوں نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر سے موقوف روایت کیا ہے عبدالرحمن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہے امام احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور کئی دوسرے علماء حدیث نے اسے ضعیف کہا ہے اور کثیر الغلط ہے متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے کہ حاصل شدہ مال پر سال گزرنے سے پہلے زکوٰۃ نہیں ، مالک بن انس شافعی، احمد بن جنبل اور اسحٰاق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں اگر اس کے پاس ایسا مال ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس میں بھی زکوٰۃ واجب ہوگی اور اگراس مال کے علاوہ کوئی دوسرا مال نہ ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہو تواس پر سال گزرنےسے پہلے زکوٰۃ واجب نہ ہوگی اگرمال زکوٰۃ پرسال پورا ہو نے سے پہلے کچھ اور مال حاصل ہوگیا تو پہلے مال کے ساتھ نئے مال کی زکوٰۃ بھی دینی پڑے گی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۳۷؛مَا جَاءَ لَا زَكٰوۃَعَلَى الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ حَتّٰى يَحُولُ عَلَيہ الحَولُ،حدیث نمبر ٦٣١،و حدیث نمبر ٦٣٢)
مسلمانوں پر جزیہ نہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ایک زمین میں دو قبلے جائز نہیں اور مسلمانوں پر جزیہ نہیں، ابو کریب نے بواسط جریر، قابوس سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت نقل کی، اس باب میں حضرت سعد بن زید اور حرب بن عبید اللہ ثقفی کے دادا سے بھی روایات منقول ہیں۔امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس کو قابوس بن ابی ظبیان نے بواسطہ اپنے والد مرسل روایت کیا ہے،عام علماء کا اس پر عمل ہے کہ جب کوئی عیسائی مسلمان ہو جائے اس سے جزیہ ہٹادیا جائیگا،حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ مسلمانوں پر جزیہ عشور نہیں اس سے مراد جزئیہ رقبہ ہے حدیث میں ایسے لفظ موجود ہیں جو اسکی تفسیر کرتے ہیں آپ کا ارشاد ہے کہ عشور (یعنی جزیہ)یہود و نصاری پر ہے مسلمانوں پر نہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۳۸؛مَا جَاءَ لَيْسَ عَلَى المُسلِمِينَ جِزْيَة،حدیث نمبر ٦٣٣،و حدیث نمبر ٦٣٤)
زیورات کی زکوٰۃ حضرت زینب زوجہ عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا " اے عورتو!صدقہ کرو اگر چہ تمہارے زیورات سے ہو کیونکہ قیامت کے دن تم میں سے اکثر جہنم میں جائیں گی ، عمر بن حارث نے اپنی پھوپھی زینب زوجہ ابن مسعود سے اسی کے ہم معنی روایت مرفوعاً نقل کی ہے اور یہ حدیث ابی معاویہ سے اصح ہے ، ابو معاویہ نے اپنی روایت میں خطا کرتے ہوئے کہا کہ عمرو بن حارث نے زینب کے بھتیجے سے روایت کی حالانکہ صحیح یہ ہے کہ عمرو بن حارث ہی زینب کے بھتیجے ہیں عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں ، کہ زیورات میں زکوٰۃ ہے اس کی سند میں کلام ہے علماء کا اس مسئلے میں، اختلاف ہے بعض صحابہ اور تابعین کے نزدیک سونے اور چاندی کے زیورات میں زکوٰۃ ہے سفیان ثوری ، اور عبد اللہ بن مبارک کا یہی قول ہے ،بعض صحابہ کرام جن میں ابن عمر ،عائشہ ، جابر بن عبد اللہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم بھی ہیں کے نزدیک زیورات میں زکوٰۃ نہیں ، بعض تابعین فقہاء سے بھی اسی طرح مروی ہے مالک بن انس ، شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا بھی یہی مسلک ہے ، عمر و بن شعیب بواسطه والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے آپنے فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا " نہیں آپ نے فرمایا کیا تم چاہتی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے، عرض کرنے لگیں " نہیں، آپ نے فرمایا" پھر زکوٰۃ ادا کرو امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کومثنی بن صباح نے عمرو بن شعیب سے اسکے ہم معنی روایت کیا ہے مثنی بن صباح اور ابن لہیعہ، دونوں حدیث میں ضعیف ہیں اس باب میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح روایت ثابت نہیں ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ،باب۴۳۹؛مَا جَاءَ فِی زَكٰوةِ الحُلِيِّ،حدیث نمبر ٦٣٥،و حدیث نمبر ٦٣٦،و حدیث نمبر ٦٣٧)
سبزیوں کی زکوٰۃ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک خط میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (سبزیوں) کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا سبزی سے مراد ترکاری ہے آپ نے فرمایا اس میں کچھ نہیں٫ امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند صحیح نہیں اور اس باب میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح روایت ثابت نہیں؛یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی ہے علماء کا اس پر عمل ہے کہ سبزیوں میں زکوٰۃ نہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حسن سے مراد ابن عمارہ ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے شعبہ وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا اور عبداللہ بن مبارک نے اسے ترک کیا، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ،باب۴۴۰؛مَا جَاءَ فِی زَكٰوةِ الْحَضْرَوَاتِ، حدیث نمبر ٦٣٨)
نہری زمین کی زكٰوة حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن زمینوں کو بارش اور چشموں کا پانی سیراب کرے ان میں دسواں حصہ اور جنہیں رہٹ وغیرہ سے پانی دیا جائے ان میں بیسواں حصہ ہے اس باب میں حضرت انس بن مالک، ابن عمر، اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث بکير بن عبد الله بن اشج ، سلیمان بن یسار اور بسر بن سعید سے بھی مرسلاً مروی ہے اور وہ اصح ہے اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث صحیح ہے اور عام فقہاء کااسی پر عمل ہے، حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بارش اور چشموں سے سیراب ہونے والی زمین یا عشری زمین میں دسواں حصہ مقرر فرمایا اور جنہیں ڈول وغیرہ سے پانی دیا جائے ان میں بیسواں حصہ ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۴۱؛مَا جَاءَ فِی الصَّدَقَةِ فِيمَا يُسقٰى بالْاَ نْهَارِ وَغَيرہٖ،حدیث نمبر ٦٣٩،و حدیث نمبر ٦٤٠)
مال یتیم کی زکوٰۃ عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جو کسی صاحب مال یتیم کا والی بن جائے تو اسے چاہیے کہ اس میں تجارت کرے اور ویسے نہ چھوڑ دے کہ اسے صدقہ ہی کھالے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اسی طریق سے مروی ہے اور اس کی سند میں کلام ہے کیونکہ مثنی بن صباح،حدیث میں ضعیف ہے بعض نے یہ حدیث بواسطہ عمرو بن شعیب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان ہی الفاظ کے ساتھ نقل کی،علماء کا اس باب میں اختلاف ہے متعدد صحابہ کرام کے نزدیک یتیم کے مال میں زکوٰۃ ہے ان صحابہ کرام میں حضرت عمر ،علی، عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں ،امام مالک ،شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں ایک جماعت کے نزدیک یتیم کے مال میں زکوٰۃ نہیں،سفیان ثوری،اور عبداللہ بن مبارک کا یہی مسلک ہے عمرو بن شعیب،عبداللہ بن عمرو بن عاص کے پرپوتے ہیں اور شعیب کو اپنے دادا عبداللہ سے سماع حاصل ہے، یحییٰ بن سعید نے حدیث عمرو بن شعیب میں کلام کیا اور فرمایا اس کی حدیث ہمارے نزدیک کمزور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں جس نے انہیں ضعیف کہا ہے اس کے نزدیک ضعیف کی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو کے صحیفہ سے روایت کرتے ہیں اکثر محدثین عمرو بن شعیب کی حدیث کو صحیح سمجھتے اور اس سے دلیل پکڑتے ہیں امام احمد اور اسحٰق وغیرہ ان ہی میں سے ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۴۲؛مَا جَاءَ فِی زَكٰوةِ مَالِ الْيَتِيمِ،حدیث نمبر ٦٤١)
چوپائے کا زخم معاف ہے اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا چوپائے کا زخم معاف ہے کان اور کنوان معاف ہے اور دفینے میں پانچواں حصہ ہے ،اس باب میں حضرت انس بن مالک،عبداللہ بن عمرو،عبادہ بن صامت،عمرو بن عوف مزنی اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۴۳؛مَا جَاءَاَنَّ الْعَجْمَاءَ جُرْ حُھَا جُبَارٌ وَفِی الرِّكَازِ الخُمُسُ،حدیث نمبر ٦٤٢)
ایمان دار عامل کی فضیلت حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا صدقہ لینے والا ایمان دار عامل، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی کی طرح ہے،یہاں تک کہ وہ گھر لوٹ آئے، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث رافع بن خدیج حسن ہے اور یزید بن عیاض محدثین کے نزدیک ضعیف ہے محمد بن اسحاق کی روایت اصح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۴۵؛مَا جَاءَ فِی الْعَامِلِ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ،حدیث نمبر ٦٤٣)
صدقہ لینے میں حد سے تجاوز کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ لینے میں حد سے بڑھنے والا ، روکنے والے کی طرح ہے اس باب میں حضرت ابن عمر، ام سلمہ، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس اس طریق سے غریب ہے امام احمد بن حنبل نے سعد بن سنان میں کلام کیا ہے لیث بن سعد نے بھی اسی طرح کہا ہے کہ یزید بن حبیب نے بواسط سعد بن سنان حضرت انس بن مالک سے روایت کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے سنا انہوں نے فرمایا صحیح نام ،،سنان بن سعد ،،ہے اور تجاوز کرنے والا روکنے والے کی مثل ہے،سے مراد یہ ہے کہ تجاوز پر اسی طرح گناہ ہے جس طرح کسی روکنے والے پر ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ،باب۴۴۶؛فِی الْمُعْتَدِى فِی الصَّدَقَةِ،حدیث نمبر ٦٤٤)
زکٰوۃ لینے والے کوخوش رکھنا حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے٫ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے پاس زکٰوة لینے والا آئے تو وہ تم سے رضا مندی سے ہی جدا ہوا۔ سفیان نے بواسطہ داؤد، شعبی اور جریر رضی اللہ عنہ سے اس کے معنی روایت کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں، شعبی سے داؤد کی روایت مجالد کی روایت کے مقابلے میں اصح ہے، بعض علماء نے مجالد کو ضعیف قرار دیا اور وہ کثیر الغلط ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ،باب۴۴۷؛مَا جَاءَ فِی رِضَى الْمُصَدِقِ،حدیث نمبر ٦٤٧،و حدیث نمبر ٦٤٨)
زکوٰۃ امراء سے لے کر غرباء کو دی جائے حضرت عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا( مقرر کرده) عامل آیا اس نے ہمارے امیروں سے زکوٰۃ وصول کی اور غریبوں کو دیدی فرماتے ہیں میں ایک یتیم بچہ تھا اس لئے مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی ،اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی جحیفہ حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۴۸؛مَا جَاءَ أَنَّ الصَّدَقَة تُؤْخَذُ مِنَ الاَغْنِيَاءِ فَتُرَدُّ عَلَى الْفُقَرَاءِ،حدیث نمبر ٦٤٩)
کس کو زکٰوۃ دینا جائز ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس حالت میں سوال کیا کہ اس کے پاس اتنا مال ہے جو اسے غنی کر دے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا سوال اس کے چہرے میں زخموں اور خراش کی صورت میں ظاہر ہوگا عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! کتنے مال سے غنی ہوتا ہے آپ نے فرمایا پچاس درہم (چاندی) یا اس کی قیمت کا سونا، اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن مسعود حسن ہے، شعبہ نے اس حدیث کی وجہ سے حکیم بن جبیر میں کلام کیا ہے، محمود بن غیلان نے بواسط یحییٰ بن آدم اور سفیان حکیم بن جبیر سے یہ حدیث روایت کی تو شعبہ کے شاگرد عبد اللہ بن عثمان نے کہا کاش! حکیم بن جبیر کے سوا کوئی دوسرا اسے روایت کرتا ، اس پر سفیان نے اس سے کہا کیا بات ہے شعبہ حکیم سے روایت نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا ہاں انہیں کرتے سفیان نے کہا میں نے زبیدہ سے سنا انہوں نے یہ حدیث محمد بن عبد الرحمن ابن یزید سے روایت کی ہے ہمارے بعض اصحاب کا اس پر عمل ہے ، سفیان ثوری، ابن مبارک احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ اگر کسی شخص کے پاس پچاس درہم ہوں اس کے لئے مانگنا جائز نہیں بعض علماء نے حکیم بن جبیر کی حدیث پر عمل نہیں کیا اور اس میں گنجائش رکھی ہے ، وہ فرماتے ہیں کسی کے پاس پچاس درہم ہوں یا زیادہ لیکن اسے ضرورت ہو تو وہ لے سکتا ہے امام شافعی اور دیگر فقہاء کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ،باب۴۴۹؛مَنْ تَحِلُّ له الزَكٰوةَ،حدیث نمبر ٦٥٠،و حدیث نمبر ٦٥١)
کس کو زکٰوۃ دینا جائز نہیں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غنی اور تندرست آدمی کو زکٰوۃ لینا جائز نہیں اس باب میں حضرت ابوہریرہ حبشی بن جنادہ اور قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عبداللہ بن عمرو، حسن ہے شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ غیر مرفوع روایت کی ہے،ایک دوسری روایت میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غنی اور تندرست کے لیے مانگنا جائز نہیں لیکن اگر تندرست شخص محتاج ہو اور اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو کوئی اسے زکوٰۃ دے دے تو دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی،بعض علماء کے نزدیک اس حدیث کی بنیاد سوال پر ہے ،(کہ سوال جائز نہیں،) حضرت حبشی بن جناده سلولی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حجتہ الوداع کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ میدان عرفات میں کھڑے تھے ایک اعرابی آیا اس نے آپکی چادر مبارک کا کنارہ پکڑ کر سوال کیا آپنے اسے چادر عطا فرما دی اور وہ چلا گیا اس کے بعد سوال حرام کر دیا گیا رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غنی اور تندرست کے لئے سوال کرنا جائز نہیں البتہ وہ فقیر جو نہایت ذلت کو پہنچ چکا یا بہت ضروری حاجت والا سوال کر سکتے ہیں اور جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے مانگے قیامت کے دن اسکے چہرے پر خراشیں ہوں گی اور دو گرم پتھر کی صورت میں ظاہر ہوگا جسے وہ کھائے گا پس جو چاہے کم مال پر اکتفاء کرے اور جو چاہے زیادہ اکٹھا کرے محمود بن غیلان نے بواسطہ یحییٰ بن آدم عبدالرحیم بن سلیمان سے اسکے ہم معنی روایت نقل کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۵۰؛مَا جَاءَ مَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَة،حدیث نمبر ٦٥٢،٦٥٣،٦٥٤)
قرض دار وغیرہ کو زکٰوۃ لینا جائز ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عہد رسالت میں ایک شخص پھل خریدنے کی وجہ سے مصیبت زدہ ہوا اور اس پر قرض زیادہ ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اس کو صدقہ دیا،لیکن وہ اس کے قرض کو پورا نہ کر سکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو کچھ تمہیں مل جائے لے لو اس کے علاوہ تمہارے لئے کچھ نہیں ، اس باب میں حضرت عائشہ ، جویریہ اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی سعید حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۵۱؛مَنْ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَهُ مِنَ الْغَارِ مِينَ وَغَيْرِهِم،حدیث نمبر ٦٥٥)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل بیت اور آپ کے غلاموں کے لئے زکٰوۃ لینا جائز نہیں۔ حضرت بہز بن حکیم بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی چیز پیش کی جاتی آپ پوچھتے کیا یہ صدقہ یا تحفہ ؟ اگر کہا جاتا صدقہ ہے تو نہ کھاتے اور اگر کہتے ہدید ہے تو تناول فرماتے، اس باب میں حضرت سلمان ، ابوہریرہ ، انس، اور حسن بن علی ابو عمیر ( معرف بن حاصل کے دادا ہیں اور ان کا نام رشید بن مالک ہے ) میمون (یا مهران) ابن عباس ، عبد الله بن عمرو ، ابورافع ، عبد الرحمٰن بن علقمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، عبد الرحمٰن بن علقمہ نے عبد الرحمٰن بن ابی عقیل سے بھی یہ حدیث مرفوعاً روایت کی ہے بہز بن حکیم کے دادا کا نام معاویہ بن حیدہ قشیری ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث بہز بن حکیم حسن غریب ہے، حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک محزومی کو زکوٰۃ لینے بھیجا اس نے ابو رافع سے کہا آپ بھی میرے ساتھ چلیں تاکہ اس سے آپ کو بھی کچھ مل جائے انہوں نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر نہیں جاؤں گا چنانچہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہو کر پوچھا تو آپ نے فرمایا ہمارے لئے صدقہ جائز نہیں اور غلام (بعض احکام میں) قوم سے ہی ہوتے ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ابو رافع حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے اور ان کا نام اسلم تھا،ابن ابی رافع کا نام عبداللہ ہے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب کے کاتب تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۵۲؛مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ الصَّدَقَةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلِ بَيتِهِ وَمَوَالهِ،حدیث نمبر ٦٥٦،و حدیث نمبر ٦٥٧)
رشتہ داروں کو صدقہ دینا سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی (روزہ) افطار کرے تو کجھور سے کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کیونکہ یہ پاک ہے نیز فرمایا مسکین کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے لیکن رشتہ دار پر صدقہ دو چیزیں ہیں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی، اس باب میں حضرت زینب زوجہ عبد اللہ بن مسعود جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث سلیمان بن عامر حسن ہے رباب سے صلیع کی بیٹی ام الرائح مراد ہے سفیان ثوری نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث مرفوعاً روایت کی ہے شعبہ نے بھی اس سند کے ساتھ روایت نقل کی ، لیکن اس میں رباب کا ذکر نہیں سفیان ثوری اور ابن عینیہ کی حدیث اصح ہے ،ابن عون اور ہشام بن حسان بواسطہ حفصہ بنت سیرین رباب سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۵۳؛مَا جَاءَ فِی الصَّدَقَةِ عَلَى ذِی الْقَرَابَةِ،حدیث نمبر ٦٥٨)
مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہے میں نے یا کسی اور نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکٰوۃ کے متعلق پوچھا، آپ نے فرمایا مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے ، پھر آپ نے سورہ بقرہ کی آیت ،،ليس البر ان تولوا الخ ،، تلاوت فرمائی، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے " امام ترمذی فرماتے ہیں، اس حدیث کی سند قومی نہیں ابو حمزہ میمون اعور حدیث میں ضعیف ہیں، بیان اور اسماعیل بن سالم نے اس کو شعبی سے ان کے قول کے طور پر نقل کیا اور یہ اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ،باب۴۵۴؛مَا جَاءَ انَّ فِی الْمَالِ حَقًّا سِوَى الزَّكٰوةِ،حدیث نمبر ٦٥٩،و حدیث نمبر ٦٦٠)
صدقہ کی فضیلت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دل کی خوشی سے صدقہ دیتا ہے، اور اللہ تعالی خوشی سے دئے ہوئے صدقہ کو ہی قبول فرماتا ہے اللہ تعالی جو رحمٰن ہے اسے اپنے داہنے ہاتھ (قبولیت سے کنایہ ہے) میں پکڑتا ہے، اگر وہ کھجور ہو تو اس کے دست اقدس میں بڑھتی ہے یہان تک کہ وہ (اس کا ثواب )پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے یا دودھ چھوڑنے والے بچھڑے کو پاتا ہے،اس باب میں حضرت عائشہ ،عدی بن حاتم، انس عبدالله بن ابی اوفیٰ حارثہ بن و ہب عبد الرحمن بن عوف اور بریدہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا رمضان شریف کے بعد کس مہینے کے روزے افضل ہیں؟آپ نے فرمایا"تعظیم رمضان کے لئے شعبان کے روزے رکھنا " پوچھا گیا، کون سا صدقہ افضل ہے،آپ نے فرمایا،،رمضان شریف میں صدقہ دینا،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک قوی نہیں، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،بے شک صدقہ اللہ تعالی کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا اور بری حالت کو دور کرتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس وجہ سے حسن غریب ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ صدقہ قبول فرماتا ہے اور اسے اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑتا ہے پھر اسے تمہارے لئے بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی ایک اپنے گھوڑے کے بچے کو پال کر بڑھاتا ہے یہاں تک ایک لقمہ احد پہاڑ کی طرح ہو جاتا ہے اس کی تصدیق قرآن پاک میں بھی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے ،،وہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقات لیتا ہے اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقوں کو بڑھاتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح مرفوعاً روایت ہے ، یہ حدیث اور اس طرح دوسری روایات جن میں اللہ تعالیٰ کی صفات( ہاتھ پاؤں وغیرہ) اور ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کا ذکر ہے کے بارے میں علماء فرماتے ہیں یہ روایات ثابت ہیں اور ان پر ہمارا ایمان ہے ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے اور یہ نہ کہا جائے کہ یہ کیونکر ہے مالک بن انس ، سفیان بن عینیہ اور عبد اللہ بن مبارک سے اسی طرح مروی ہے وہ فرماتے ہیں ان احادیث کو کیفیت کے بغیر ہی پڑھنا( اور ماننا) چاہئیے ، اہل سنت و جماعت کا یہی قول ہے جہمیہ فرقہ نے ان روایات کا انکار کیا اور کہا یہ تشبیہ ہے امام ترمذی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ہاتھ سمع اور بصر کا ذکر فرمایا جہمیہ نے ان آیات کی تفسیر و تاویل اہل علم کے تفاسیر کے خلاف کی اور کہا کہ اللہ تعالی نے ادم علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے نہیں پیدا کیا بلکہ ہاتھ سے مراد قدرت ہے اسحٰق بن ابراہیم فرماتے ہیں تشبیہ تب ہوتی جب یہ کہا جاتا کہ (اس کا) ہاتھ) دوسرے) ہاتھوں کی طرح ہے یا (اس کی) سمع (دوسروں کی) سمع کی طرح ہے یہ تو تشبیہ ہے ،لیکن جب یہ کہا جائے کہ اللہ تعالی کیلئے ہاتھ سمع اور بصر ہے لیکن بلا کیفیت ہے اور کیفیت و مثلیت کا ذکر نہ ہو تو تشبیہ نہ ہوگی اور یہ اس طرح ہے جس طرح اللہ تعالی نے قران پاک میں فرمایا ،،اس کی مثل کوئی چیز نہیں وہی سننے دیکھنے والا ہے ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛ باب۴۵۵؛مَا جَاءَ فَضلِ الصَّدَقَةِ،حدیث نمبر )
سائل کا حق ام بجید رضی اللہ عنہا(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کا شرف حاصل کیا ) فرماتی ہیں میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ ! ایک مسکین میرے دروازے پر آکر کھڑا ہوتا ہے میرے پاس اس کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا( تو میں کیا کروں ) ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تیرے پاس اسے دینے کے لئے جلے ہوئے کھر کے سوا کچھ نہ ہو تو وہ ہی اسے دے ڈال، اس باب میں حضرت علی حسین بن علی ابو ہریرہ اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ام بجید حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۵۶؛مَا جَاءَ فِیْ حَقِّ السَّائِلِ،حدیث نمبر ٦٦٥)
مولفین قلوب کو صدقہ دینا حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگ حنین کے دن مال عطا فرمایا،حالانکہ اس وقت آپ میرے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ قابل نفرت تھے آپ مجھے مسلسل دیتے رہے یہاں تک کہ آپ میرے نزدیک مخلوق میں سب سے محبوب ترین ہوگئے ،امام ترمذی فرماتے ہیں حسن بن علی نے مجھ سے یہ حدیث یا اس کے مشابہ حدیث بیان فرمائی۔ اس باب میں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث صفوان معمر وغیرہ نے بواسطہ زہری سعید بن مسیب رضی الہ عنہ سے بیان کی کہ صفوان بن امیہ نے فرمایا ( آخر تک) یہ حدیث اصح اور اشبہ ہے کہ سعید بن مسیب بلا واسطہ صفوان بن امیہ سے راوی ہیں مؤلفین قلوب کو زکوٰۃ دینے میں علماء کا اختلاف ہے اکثر علماء فرماتے ہیں نہ دی جائے وہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ تھے جنکے دلوں کو عہد رسالت میں اسلام کے لئے نرم کیا جارہا تھا یہاں تک وہ اسلام لے آئے لیکن آج اس مقصد کے لئے ان کو (زكٰوة و غیره) نہ دی جائے ۔ سفیان ثوری، اہل کو فہ وغیر ہم کا یہی قول ہے۔ امام احمد اور اسحق بھی یہی کہتے ہیں بعض علماء کو خیال یہ ہے کہ جو لوگ آج بھی اس حالت پر ہیں اور مسلمانوں کے امام کی رائے ان کو زکوٰۃ دینے کے حق میں ہے تو دینا جائز ہے امام شافعی کا یہی قول ہے ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۵۷؛مَا جَاءَ فِی اِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُم،حدیث نمبر ٦٦٦)
صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کاوارث بن سکتا ہے حضرت عبد اللہ بریدہ رضی اللہ عنہا اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ دی تھی( اب) میری ماں مرگئی ، آپ نے فرمایا تیرا ثواب لازم ہوگیا اور وہ لونڈ ی وراث میں تیری طرف لوٹے گی،عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کے ذمہ ایک مہینے کے روزے ہیں کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں آپ نے فرمایا تم اس کی طرف سے روزے رکھو“ اس نے عرض کیا یارسول اللہ ! اس نے کبھی بھی حج نہیں کیا ، کیا میں اسکی طرف سے حج کروں؟ آپ نے فرمایا ہاں تم اس کی طرف سے حج کرو، امام ترمذی فرماتے یہ حدیث حسن صحیح ہے بریدہ سے یہ حدیث صرف اسی طریق سے معروف ہے عبداللہ بن عطاء محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اکثر علماء کا اس پر عمل ہے کہ جب کوئی شخص صدقہ دے پھر اس کا وارث ہو جائے تو اس کے لئے حلال ہے ، بعض علماء فرماتے ہیں صدقہ ایک ایسی چیز ہے جو اس نے اللہ تعالی کے لیے دی ہے لہذا وارث ہونے کے بعد واجب ہے کے ادھر ہی لوٹا ۓ سفیان ثوری اور زہیر بن معاویہ نے یہ حدیث عبداللہ بن عطاء سے روایت کی ہے ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ،باب۴۵۸؛مَا جَاءَ فِی المُتَصَدِق يَرِثُ صَدَقَتَه،حدیث نمبر ٦٦٧)
صدقہ واپس لینا مکروہ ہے حضرت ابن عمر فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے راستے ہیں ایک گھوڑا سواری کے لئے دیا پھر اسے فروخت ہوتا دیکھ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، صدقہ واپس نہ لو، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۵۹؛مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ الْعُودِ فِي الصَّدَقَةِ،حدیث نمبر ٦٦٨)
میت کی طرف سے صدقہ دینا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا " یا رسول اللہ ! میری ماں فوت ہو چکی ہے اگر میں اس کی طرف سے صدقہ دوں تو کیا وہ اسے نفع پہنچائے گا؟" آپ نے فرمایا ٫٫ ہاں، (پہنچائے گا) اس نے عرض کیا میرے پاس ایک باغ ہے آپ گواہ رہیں میں نے یہ باغ، اس کی طرف سے صدقہ کر دیا ؛ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور علماء کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں میت کو صرف صدقہ اور دعا پہنچتی ہے بعض محدثین نے یہ حدیث بواسطه عمرو بن دینار اور عکرمہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم سے مرسل روایت کی ہے مخرف کا معنی " باغ " ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۶۰؛ مَا جَاءَ فِی الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ،حدیث نمبر ٦٦٩)
بیوی کا خاوند کے گھر سے خرچ کرنا حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت ہے،فرماتے ہیں میں نے سنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا کوئی عورت، خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ نہ خرچ کرے، عرض کیا گیا " یا رسول الله! کھانا بھی نہیں دے سکتی ، آپ نے فرمایا یہ ہمارے افضل مالوں سے ہے اس باب میں حضرت سعد بن ابی وقاص ، اسماء بنت ابی بکر ابو ہریرہ عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی امامہ ، حسن ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ دے تو اس کے لئے بھی اجر ہے اور خاوند کے لئے اس کی مثل ہے خزانچی کے لئے بھی اس کے برابر ہے اور کسی ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب میں کمی نہیں کرے گا خاوند کے لئے کمانےکا اور عورت کے لئے خرچ کرنے کا ثواب ہے،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت نیک نیتی کے ساتھ خاوند کے گھر سے بغیر اس کا نقصان کئے صدقہ دے تو اسے خاوند کے برابر ثواب ہوگا عورت کو اچھی نیت کا ثواب ہوگا اور خزانچی کے لئے بھی اس کے برابر ثواب ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور عمرو بن مرہ بواسطہ ابو وائل کی حدیث سے اصح ہے عمرو بن مرہ نے اپنی روایت میں مسروق کا ذکر نہیں کیا۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۶۱؛ما جاء فِی نَفَقَةِ المَرأَةِ مِنْ بَيْتِ زَوْجَهَا،حدیث نمبر ٦٧٠ و حدیث نمبر ٦٧١ و حدیث نمبر ٦٧٢)
صدقۂ فطر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم عہد رسالت میں صدقہ فطر ایک صاع کھانا یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع انگور یا ایک صاع چاول دیا کرتے تھے، اسی طرح ہم دیتے رہے یہاں تک کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ آئے انہوں نے لوگوں سے اس بارے میں کلام کیا اور فرمایا میرے خیال میں شامی گندم کے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، ابوسعید فرماتے ہیں لوگوں نے اس پر عمل شروع کر دیا لیکن میں اسی طریقے سے دیتا رہا جس طرح حضور کے سامنے میں دیتا تھا، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک ہر چیز سے ایک صاع ہے ،امام شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے ، بعض صحابہ کرام اور تابعین فرماتے ہیں،گندم کے سوا ہر چیز کا ایک صاع ہونا چاہیئے لیکن گندم نصف صاع کافی ہے ، سفیان ثوری، ابن مبارک ، اور اہل کوفہ کے نزدیک گندم کا نصف صاع ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب بواسطه والد اپنے دادا راوی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی شاہراہوں پر ایک منادی بھیجا، (اس نے اعلان کیا) سن لو ! صدقہ فطر دو مد گندم یا ایک صاع کھانا ہر مسلمان مرد ، عورت ، آزاد، غلام ، چھوٹے اور بڑے (سب) پر واجب ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب حسن ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرد ، عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، صدقۂ فطر واجب فرمایا حضرت ابن عمر فرماتے ہیں پھر لوگوں نے نصف صاع گندم کو اسکے برابر کر لیا،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں حضرت ابوسعید ابن عباس، حارث بن عبد الرحمٰن کے دادا ابو ذباب ثعلبہ بن ابی صغیر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے رمضان کا صدقۂ فطر ایک صاع کجھور یا ایک صاع جو ہر مسلمان آزاد یا غلام مرد یا عورت پر فرض (واجب) فرمایا امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے مالک نے اسے بواسطه نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث ایوب کی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں "من المسلمین" کے الفاظ زائد ہیں کئی دوسرے راویوں نے بھی نافع سے یہ روایت نقل کی لیکن " من المسلمین " کا ذکر نہیں کیا۔،علماء کا اس میں اختلاف ہے بعض فرماتے ہیں جب کسی کے پاس غیر مسلم غلام ہوں تو ان کا صدقۂ فطر ادا نہ کرے امام مالک، شافعی، اور احمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے، بعض علماء فرماتے ہیں ان کی طرف سے بھی ادا کرے اگر چہ وہ غیر مسلم ہیں، سفیان ثوری ، ابن مبارک اور اسحٰاق رحمہم اللّٰہ اس کے قائل ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۶۲؛مَا جَاءَ فِی صَدَقَةِ الْفِطْرِ،حدیث نمبر ٦٧٣ و حدیث نمبر ٦٧٤ و حدیث نمبر ٦٧٥ و حدیث نمبر ٦٧٦)
صدقۂ فطر نماز سے پہلے دینا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نماز کے لئے جانے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا کرتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے علماء کے نزدیک نماز عید کے لئے جانے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا مستحب ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۶۳؛مَا جَاءَ فِی تَقْدِيمِهَا قَبْلَ الصَّلٰوةِ،حدیث نمبر ٦٧٧)
زکوٰۃ جلدی ادا کرنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وقت سے پہلے زکوٰۃ ادا کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اس کو اس کی اجازت دے دی، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "ہم نے حضرت عباس کی زکوٰۃ سال سے پہلے وصول کرلی ہے اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے تعجیل زکوٰۃ کے بارے میں حجاج بن دینار سے اسرائیل کی روایت ہمیں صرف اسی طریق سے معلوم ہے ، حجاج سے اسماعیل کی روایت میرے نزدیک اسرائیل کی روایت سے اصح ہے حکم بن عتیبہ سے بھی یہ حدیث مرسل روایت کی گئی ہے وقت سے پہلے زکوٰۃ کی ادائیگی میں علماء کا اختلاف ہے علماء کی ایک جماعت کہتی ہے جلدی ادا نہ کرے ، سفیان ثوری کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں، جلدی نہ کرنا مجھے زیادہ یسند ہے اکثر علماء فرماتے ہیں اگر وقت سے پہلے ادا کر دے تو بھی جائز ہے ، امام شافعی ، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ؛باب۴۶۴؛مَا جَاءَ فِی تَعْجِيلِ الزَّكٰوةِ،حدیث نمبر ٦٧٨ و حدیث نمبر ٦٧٩)
سوال کرنے کی ممانعت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک اپنی پیٹھ پر لکڑیاں اٹھا کر لائے اور صدقہ کر دے اور اس کے ذریعے لوگوں سے بے نیاز ہو جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرے ، اب اس کی مرضی دے یا نہ دے اوپر کا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہے اور آپ گھر والوں سےابتدا کرو۔ اس بات میں حکیم بن حزام ، ابوسعید خدری زبیر بن عوام عطیہ سعدے ، عبد الله بن مسعود، مسعود ابن عمرو ابن عباس ، ثوبان ، زیاد بن حارث صدائی ، انس ، حبشی بن جنادہ، قبیصہ بن مخارق سمرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح غریب ہے بیان (راوی) کی قیسں سے روایت کی وجہ سے یہ غریب ہے، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سوال ایک زخم ہے جس کے ساتھ آدمی اپنا چہرہ زخمی کرتا ہے البتہ کوئی شخص حکمران سے یا کسی ضروری امر میں سوال کرے( تو جائز ہے ) امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الزکٰوۃ،باب۴۶۵؛مَا جَاءَ فِی النَّھي عَنِ الْمَسْأَلَةِ،حدیث نمبر ٧٨٠،و حدیث نمبر ٦٨١)
Tirmizi Shareef : Abwabuz Zakat
|
Tirmizi Shareef : أبواب الزكاة
|
•