
ماہ رمضان کی فضیلت "بسمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیٹریاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پیس ان میں سے کوئی بند نہیں کیا جاتا۔ ایک منادی پکارتا ہے اسے طالب خیر ، آگے آ اے شر کے متلاشی ! رک جا اور اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔ ساری رات یونہی ہوتا رہتا ہے اس باب میں حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ابن مسعود اور سلمان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے رمضان شریف کے روزے رکھے اور (رات کو) قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو آدمی لیلتہ القدر میں ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے کھڑا ہو کر عبادت کرے اس کے گذشتہ گناہ (صغیرہ )بخش دیئے جاتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ جسے ابو بکر بن عیاش نے روایت کیا غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا حسن بن ربیع نے بواسطہ ابواحوص اور اعمش، مجاہد سے ان کا قول نقل کیا اس کے الفاظ وہی ہیں جو پہلی حدیث کے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں یہ روایت میرے نزدیک ابوبکر بن عیاش کی روایت سے اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۶۶؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانْ،حدیث نمبر ٦٨٢،و حدیث نمبر ٦٨٣)
رمضان سے ایک دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان شریف سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھو ہاں اگر کوئی شخص متعین دن کا روزہ رکھتا ہو اور وہ انہی دنوں میں آجائے (تو اجازت ہے ) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور دیکھ کر افطار کرو اس باب میں بعض دوسرے صحابہ کرام سے بھی روایت ہے منصور بن معتمر نے بواسطہ ربعی بن خراش بعض صحابہ کرام سے اس کے ہم معنی مرفوعاً حدیث نقل کی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے وہ اس بات کو مکروہ جانتے ہیں کہ کوئی شخص تعظیم رمضان کی خاطر مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ رکھے۔ اور اگر کوئی شخص روزہ رکھا کرتا ہے ۔ اور وہ ان ہی دنوں سے موافق ہو جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو البتہ جو شخص پہلے سے روزے رکھتا ہو وہ رکھ سکتا ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم، باب ۴۶۷؛مَا جَاءَ لَا تَتَقَدَّ مُوْ الِشَهْرِ بِصَوْمٍ،حدیث نمبر ٦٨٤،و حدیث نمبر ٦٨٥)
شک کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے صلہ بن زفر فرماتے ہیں ہم حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی۔ انہوں نے فرمایا کھاؤ ایک شخص علیحدہ ہو گیا اور کہنے لگا میں روزہ دار ہوں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول میں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عمار حسن صحیح ہے اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری ، مالک بن انس ، عبد اللہ بن مبارک شافعی ، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں فرماتے میں شک کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے اکثر کی رائے یہ ہے کہ اگر شک کے دن روزہ رکھا) اور بعد میں پتہ چلا کہ ) وہ دن رمضان کا تھا تو اس روزہ کی قضا کرے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۶۸؛مَا جَاءَ فی كَرَاهِيَةِ صَوْمٍ يَوْمَ الشَّکِّ،حدیث نمبر ٦٨٦)
رمضان کے لیے شعبان کے چاند کا خیال رکھنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان کی خاطر شعبان کے چاند کا خیال رکھو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ کو ہم اس طرح صرف ابو معاویہ کی روایت سے پہچانتے ہیں صحیح روایت وہ ہے محمد بن عمرو نے بواسطہ ابو سلمہ حضرت ابوهریره رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو؛؛یحیٰی بن کیسر سے بھی بواسطہ ابو سلمہ اسی طرح مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۶۹؛مَا جَاءَ فِی احْصَاءِ هِلال شعبان لرمضان،حدیث نمبر ٦٨٧)
چاند دیکھ کر روزہ رکھنا اور عید کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان شریف سے پہلے روزہ نہ رکھو چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور دیکھ کر افطار کرو اور اگر اس کے درمیان بادل حائل کر جائیں تو تیس دن پورے کرو۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، ابو بکرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے میں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے اور آپ سے کئی طریقوں سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۷۰؛مَا جَاءَ أَنَّ الصَّومَ لِرُؤْيَةِ الهلال والأَفْطَارَلَہُ،حديث نمبر ٦٨٨)
مہینہ کبھی انتیس (۲۹) دن کا ہوتا ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتیس دن کے روزے میں تیس دنوں کے روزوں کے مقابلے میں زیادہ مرتبہ رکھے ہیں ۔ اس باب میں حضرت عمر ، ابو ہریرہ عائشہ سعد بن ابی وقاص ، ابن عباس ، ابن عمر، انس جابر ، ام سلمہ اور ابو بکرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس (۲۹) دن کا ہوتا ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ ایلاء فرمایا( یعنی جدا رہنے کی قسم کھائی ) اس دوران آپ انتیس دن بالاخانہ میں تشریف فرما رہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے تو ایک مہینہ جدا رہنے کی قسم کھائی تھی ؟ آپ نے فرما یا مہینہ انتیس دن کا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۷۱؛مَا جَآءَ اَنَّ الشَهْرَ يَكُوْنُ تِسْعًاوَّعِشْرِيْنَ،حدیث نمبر ٦٨٩،و حدیث نمبر ٦٩٠)
گواہی پر روزہ رکھنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر کہنے لگا میں نے چاند دیکھا ہے آپ نے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں کہنے لگا جی ہاں، آپ نے فرمایا اے بلال! لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ ہو گا۔ ابو کریب نے بواسطہ حسین جعفی اور زاہد ، سماک بن حرب سے اسی کے اہم مثل روایت ذکر کی ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس میں اختلاف ہے سفیان ثوری وغیرہ نے اسے بواسطہ سماک بن حرب حضرت عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے اکثر اصحاب سماک نے بھی اسے مرسل روایت کیا ہے۔ اکثر علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں رمضان کے لیے ایک آدمی کی گواہی قبول کی جائے ابن مبارک شافعی اور احمد رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں امام اسحاق فرماتے ہیں دو آدمیوں کی گوہی سے روزہ رکھا جائے افطار کے بارے میں علماء کا اتفاق ہے کہ اس میں دو آدمیوں کی گواہی معتبر ہو گی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۷۲؛مَا جَاءَ فِی الصَوْمِ بِالشَّهَادَةِ،حدیث نمبر ٦٩١)
عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے حضرت عبد الرحمٰن بن ابی بکرہ اپنے والدہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوعیدوں کے مہینے( رمضان اور ذو الحجہ ) کم نہیں ہوتے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث مرسل ( بلا واسطہ ابی بکرہ بھی روایت کی گئی ہے امام احمد فرماتے ہیں اس میں جس کمی کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے ایک سال میں رمضان اور ، ذالحجہ دونوں مہینے کم نہیں ہوتے اگر ایک کم ہوگا دوسرا پورا ہو گا امام اسحٰاق فرماتے ہیں اگر دونوں مہینے انتیس انتیس کے بھی ہوں تب بھی ناقص نہیں ہوں گے (یعنی ثواب پورا ملے گا) امام اسحٰاق کے نزدیک یہ دونوں مہینے ایک سال میں انتیس دنوں کے بھی ہو سکتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۷۳٫مَا جَاءَ شَهْرَا عِيدِ لَّا يَنْقُصَانِ،حدیث نمبر ٦٩٢)
ہر شہر کے لیے علیحدہ چاند دیکھنا ضروری ہے حضرت کریب فرماتے ہیں کہ حضرت ام الفضل بنت حارث نے انہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ملک شام بھیجا فرماتے ہیں میں شام میں آیا اور اپنا کام مکمل کیا ابھی شام میں ہی تھا کہ رمضان کا چاند ہو گیا ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ طیبہ آیا مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دیگر باتوں کے علاوہ چاند کے بارے میں بھی پوچھا تم نے چاند کب دیکھا ؟ میں نے عرض کیا ہم نے جمعہ کی شب دیکھا حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا تم نے بھی شب جمعہ دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا لوگوں نے چاند دیکھا اور روزہ رکھا حضرت امیر معاویہ نے بھی روزہ رکھا حضرت ابن عباس رضی الله عنهما فرمایا ہم نے ہفتہ کی رات کو دیکھا ہے لہذا ہم تیس (۳۰) روزے رکھیں گے بشرطیکہ (انتیس ۲۹ دن کے بعد )چاند نہ دیکھ لیں- حضرت کریب فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کیا ہمارے لیے حضرت امیر معاویہ کا چاند دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں ؟ فرمایا نہیں ہمیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح حکم دیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح غریب ہے اور علماء کا اس حدیث پر عمل ہے کہ ہر شہر والوں کے لیے چاند دیکھنا ضروری ہے ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۷۴؛مَا جَاءَ لِكُلِّ أَهْلِ بَلَدٍ رَؤيَتُهُمْ،حدیث نمبر ٦٩٣)
کس سے روزہ افطار کرنا اچھا ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھجور پاۓ اس سے افطار کرے اور جسے نہ ملے وہ پانی سے افطار کرے کیونکہ پانی پاک کر نیوالا ہے اس باب میں حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ہمارے علم کے مطابق سعید بن عامر کے علاوہ شعبہ سے حدیث انس کو کسی دوسرے راوی نے اس طرح روایت نہیں کیا یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور ہم بواسطہ عبد العزیز بن صہیب حضرت انس سے اس کی اصل نہیں جانتے اصحاب شعبہ نے یہ حدیث بواسطه شعبہ ، عاصم احوال، حفصہ بنت سیرین ، رباب اور سلمان بن عامر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہ سعید بن عامر کی روایت سے اصح ہے۔ اسی طرح انہوں نے شعبہ سے روایت کیا لیکن اس میں رباب کا واسطہ نہیں ہے ۔ صحیح روایت وہ ہے جسے سفیان ثوری، ابن عیینہ اور کئی ، دوسرے راویوں نے بواسطہ عاصم احول، حفصہ بنت سیرین رباب اور سلمان بن عامر نقل کیا ہے ۔ ابن عون کی روایت میں رباب کی جگہ ام الرائح بنت صلیع ہے رباب ، ام الرائح ہی تو ہے، سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور کےساتھ اور کھجور نہ ملنے کی صورت میں پانی کے ساتھ افطار کرے کیونکہ وہ پاک کرنے والاہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) مغرب کی ) نماز سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے اگر تازہ کجھوریں نہ ہو تیں تو خشک کھجوروں سے روزہ کھولتے اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم٫باب۴۷۵٫مَا جَاءَ مَا يَسْتَحِبُّ عَلَيْهِ الْإِفْطَارُ،حدیث نمبر ٦٩٤،و حدیث نمبر ٦٩٥،و حدیث نمبر ٦٩٦)
عید الفطر، افطار کی اور عید الاضحیٰ قربانی کی عید ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ اس دن کا ہے جب تم (سب) روزہ رکھو ، عید الفطر وہ ہے جس دن تم سب افطار کرو اور عیدالاضحیٰ وہ ہے جب تم قربانی کرتے ہو امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب حسن ہے بعض علماء نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اجتماعی روزہ اور افطار ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۷۶؛مَا جَاءَ اَنَّ الْفِطَرَ يومَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحٰى يَوْمَ تُضَحُونَ،حدیث نمبر ٦٩٧)
روزہ کھولنے کا وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات آجائے ، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو یہ وقت افطار ہے اس باب میں حضرت ابن ابی اوفی اور ابوسعید رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے میں حدیث عمرحسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۷۷مَا جَاءَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَاَدْبَرَ النَّهَارُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ،حدیث نمبر ٦٩٨)
افطار میں جلدی کرنا حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک لوگ جلدی افطار کرتے رہنگے ، بھلائی میں رہنگے اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، ابن عباس ، عائشہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث سہیل بن سعد ، حسن صحیح ہے ۔ صحابہ کرام اور تابعیں نے اسے اختیار فرمایا ان کے نزدیک جلدی افطار کرنا مستحب ہے امام شافعی ، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے نزدیک محبوب ترین بندہ وہ ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے ۔ عبد اللہ بن عبد الرحمٰن نے بواسطہ ابو عاصم ابو مغیرہ اوزاعی سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ ابو عطیہ فرماتے ہیں میں اور مسروق ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے مومنوں کی ماں ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے دو آدمی ایسے ہیں جن میں سے ایک جلدی افطار کرتا اور جلدی ہی نماز پڑھتا ہے۔ اور دوسرا شخص دیر سے افطار کرتا ہے اور نماز میں جلدی کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا افطار اور نماز میں کون جلدی کرتا ہے ؟ ہم نے عرض کیا حضرت عبد اللہ بن مسعود آپ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے۔ دوسرے صحابی حضرت ابو موسٰی رضی اللہ عنہ ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ابو عطیہ کا نام مالک بن ابی عامر ہمدانی ہے مالک بن عامر ہمدانی بھی کہا جاتا ہے یہ اصح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۷۸؛مَا جَاءَ فِی تَعجيل الإفطار،حدیث نمبر ٦٩٩ و حدیث نمبر ٧٠٠ و حدیث نمبر ٧٠١ و حدیث نمبر ٧٠٢)
سحری دیر سے کھانا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سحری کھائی پھر نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے حضرت قتادہ فرماتے ہیں میں نے پوچھا دونوں میں کتنا وقفہ تھا ؟ فرمایا" پچاس آیتوں کا “- ہناد نے بواسطہ وکیع ہشام سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی لیکن آخر میں یہ الفاظ زاید ہیں "پچاس آیتوں کے پڑھنے کا اندازہ" اس باب میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث زید بن ثابت حسن صحیح ہے امام شافعی ، احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے وہ تاخیر سحری کو مستحب سمجھتے ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۷۹؛مَا جَاءَ فِی تَأخِيرِ السُّحُورِ،حدیث نمبر ٧٠٣ و حدیث نمبر ٧٠٤)
صبح صادق تک وقت سحر ابو طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھاؤ پیو تم کو صبح کاذب سحری کھانے سے نہ روکے صبح سرخ ( صبح صادق ) تک کھا پی سکتے ہو۔ اس باب میں عدی بن حاتم ، ابو ذر اور سمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث طلق بن علی ، اس طریق سے حسن غریب ہے علماء کا اس پر عمل ہے کہ وہ صبح صادق تک روزہ دار کے لیے کھانا پینا حرام نہیں قرار دیتے عام علماء کا یہی قول ہے ہناد اور یوسف بن عیسیٰ بواسطه وکیع ، ابو ہلال اور سوادہ بن حنظلہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال کی اذان اور صبیح کاذب تمہیں کھاتے سے نہ رو کے البتہ آسمان کے کناروں میں پھیلی ہوئی فجر ( صبح صادق) کے وقت رک جاؤ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ؛ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۸۰؛مَا جَاءَ فِی بَيَانِ الْفَجْرِ، حدیث نمبر ٧٠٥ و حدیث نمبر ٧٠٦)
روزہ دار کا غیبت کرنا سخت گناہ ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے اللہ تعالٰی کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں ۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے؛ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۸۱؛مَا جَاءَ فِی التَّشْدِيدِ فِی الْغِیْبَةِ لِلصَّآئمِ،حدیث نمبر ٧٠٧)
سحری کھانے کی فضیلت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے “ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ عبد اللہ بن مسعود ، جابر بن عبد اللہ ، ابن عباس، عمرو بن العاص ، عرباض بن ساریہ ، عقبہ بن عبد اور ابودرداء رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس حسن صحیح ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے اپ نے فرمایا ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان صرف سحری کھانے کا فرق ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ہم سے قتیبہ نے بواسطہ لیث ، موسیٰ بن علی ، علی ، ابو قیس مولا عمرو بن العاص، عمرو بن العاص مرفوعاً بیان کی یہ حدیث صحیح ہے اہل مصر کہتے ہیں موسیٰ بن علی اور اہل عراق موسیٰ بن علی “ کہتے ہیں اور یہ موسیٰ بن علی بن رباح لحمی ہیں (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۸۲؛مَا جَاءَ فِى فَضْلِ السُّحُورِ ،حدیث نمبر ٧٠٨ و حدیث نمبر ٧٠٩)
سفر میں روزہ نہ رکھنا حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ کی طرف چلے آپ نے روزہ رکھا لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ روزہ رکھا جب مقام کراع غیم تک پہنچے تو عرض کیا گیا لوگوں پر روزہ بھاری ہو گیا اور وہ آپ کے فعل کے منتظر ہیں آپ نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگا کر نوش فرمایا لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے تھے پس بعض لوگوں نے افطار کر دیا اور بعض نے رکھے رکھا آپ تک خبر پہنچی کہ بعض لوگ روزہ دار ہیں آپ نے فرمایا یہ لوگ نافرمان ہیں اس باب میں حضرت کعب بن عاصم، ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں سفر میں روزے کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں بعض صحابہ کرام اور تابعین کی رائے یہ ہے کہ سفر میں افطار افضل ہے یہاں تک بعض علماء کے نزدیک سفر میں روزہ رکھا تو دوبارہ رکھنا پڑے گا امام احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ نے سفر میں روزہ نہ رکھنے کو پسند فرمایا بعض صحابہ کرام اور تابعین کے نزدیک اگر رکھنے کی طاقت ہو اور رکھے تو اچھا ہے اور یہی افضل ہے اگر افطار کرے تو یہ بھی ٹھیک ہے ،سفیان ثوری مالک بن انس اور عبداللہ بن مبارک رحمہم اللہ کا یہی قول ہے امام شافعی فرماتے ہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد،،سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں،،اور اسی طرح اپ نے سفر میں روزہ نہ توڑنے والوں کے بارے میں فرمایا وہ نافرمان ہیں ،، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس وقت ہے جب جب اس کا دل اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی رخصت پر راضی نہ ہو لیکن جو شخص افطار کو جائز سمجھتا ہو اور طاقت بھی ہو تو اس کا روزہ مجھے زیادہ پسند ہے ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۸۳؛ مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ الصَّوْمِ فِی السَّفَرِ،حدیث نمبر ٧١٠)
سفر میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم سے سفر میں روزے کے بارے میں پوچھا اور وہ مسلسل روزے رکھا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو رکھو اور نہ چاہو نہ رکھو اس باب میں حضرت انس بن مالک ، ابو سعید ، عبد اللہ بن مسعود عبد الله بن عمرو ، ابو درداء اور حمزہ بن عمر و اسلمی رضی اللہ عنہم سے روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ کہ حمزہ بن عمرو اسلمی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، حسن صحیح ہے ، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا کرتے تھے تو روزہ دار کا روزہ اور افطار کرنے والے کا افطار معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کرتے تو ہم میں سے بعض کا روزہ ہوتا اور بعض غیر روزہ دار ہوتے دونوں ایک دوسرے پر غضب ناک نہ ہوتے تھے بلکہ ان کا نظریہ تھا کہ جس نے قوت پائی اور روزہ رکھا اس نے بھی اچھا کیا اور جس نے کمزوری کے باعث نہ رکھا اس نے بھی اچھا کیا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۸۴مَا جَاءَ فِی الرُّخْصَةِ فِی الصَّوْمِ فِی السَّفَرِ،حدیث نمبر ٧١١ و حدیث نمبر ٧١٢ و حدیث نمبر ٧١٣)
مجاہد کے لیے افطار کی اجازت معمربن ابی حییہ نے حضرت ابن مسیب رضی اللہ عنہ سے سفر میں روزہ رکھنے کے تعلق پوچھا تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بیان کی حضرت عمر فرماتے ہیں ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان شریف میں دو جہاد کئے غزوہ بدر اور فتح مکہ ہم نے ان دونوں میں روزہ نہ رکھا اس باب میں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عمرکو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض غزوات میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت فرمائی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث مروی ہے کہ آپ نے دشمن سے مقابلہ کے وقت افطار کی اجازت دی ۔ بعض علماء کا یہی قول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۸۵؛مَا جَاءَ فِی الرُّخْصَةِ لِلْمُحَارِبِ فِی الأَفْطَارِ،حدیث نمبر ٧١٤)
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو افطار کی اجازت حضرت عبد اللہ بن کعب کے ایک فرد) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے ہماری قوم پر لوٹ مار کی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا قریب ہو جاؤ اور کھاؤ میں نے عرض کیا میں روزے سے ہوں آپ نے فرمایا قریب آؤ میں تمہیں روزے (یا روزوں )کا مسئلہ بتاؤں اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور حاملہ و دودھ پلانے والی سے روزہ (یا روزے) معاف فرما دیے ہیں حضور نے دونوں کے لیے فرمایا ایک کے لئیے افسوس میری جان پر میں نے حضور کے کھانے میں سےکیوں نہ کھایا ۔ اس باب میں حضرت ابو امیہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس بن مالک کعبی حسن ہے انس بن مالک (یہ انس بن مالک انصاری خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے اس ایک حدیث کے سوا کوئی دوسری حدیث ہمارے علم میں نہیں بعض علماء کا اس پر عمل ہے بعض علماء فرماتے ہیں حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں روزہ نہ رکھیں بلکہ قضاء کریں اور کھانا کھلائیں سفیان مالک ، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں افطار کریں اور کھانا کھلائیں لیکن قضاء نہیں ہے، اگر چاہیں قضاء کریں اب ان پر کھانا نہیں ہو گا امام اسحٰاق یہی فرماتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۸۶؛مَا جَاءَ فِی الرُّخْصَةِ فِی الْأَفْطَارِ لِلْحُبلٰى والمُرْضِع -حدیث نمبر ٧١٥)
مردے کی طرف سے روزہ رکھنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ میری بہن فوت ہو گئی ہے اس کے ذمہ متواتر دوماہ کے روزے ہیں، آپ نے فرمایا بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو ادا کرتیں (یا نہیں ؟ اس نے عرض کیا ہاں ادا کرتی ، آپ نے فرمایا اللہ کا حق ادائیگی کے زیادہ لائق ہے۔ اس باب میں حضرت بریدہ ، ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے ۔ ابو کریب نے بواسطہ ابو خالد احمد، اعمش سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم مثل حدیث نقل کی ۔ امام بخاری فرماتے ہیں ابو خالد کی روایت کی مثل کئی دوسرے راویوں نے بھی حدیث بیان کی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابو معاویہ اور کئی دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث بواسطه اعمش، مسلم بطین اور سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل کی ہے لیکن اس میں سلمہ بن کھیل ، عطاء اور مجاہد کے واسطے کا ذکر نہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۸۷؛مَا جَاءَ فِی الصّومِ عَن الْمَيِّتِ،حدیث نمبر ٧١٦ و حدیث نمبر ٧١٧)
روزوں کا کفارہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ رمضان شریف کے روزے باقی ہوں تو ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر صرف اسی طریق سے مرفوعاً معروف ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول یعنی حدیث موقوف ہے۔ علماء کا اس میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں میت کی طرف سے روزہ رکھا جائے امام احمد اور اسحٰاق رحمہما اللہ اسی کے قائل ہیں فرماتے ہیں اگر میت کے ذمہ نذر کے روزے ہوں تو بدلے میں روزے رکھے جائیں اور اگر اس کے ذمہ قضاء رمضان ہو تو اس کی طرف سے کھانا دیا جائے۔ امام مالک ، سفیان اور شافعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے روزے نہ رکھے اشعث سے مراد ابن سوار ہیں اور محمد سے مراد محمد بن عبد الرحمٰن ابن ابی لیلیٰ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم،باب۴۸۸'ماجَآءَ فِی الكَفَّارَةِ،حدیث نمبر ٧١٨)
حالت روزہ میں قے کا حکم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں روزہ دار کا روزہ نہیں توڑتیں سینگی لگوانا ، قے اور احتلام - امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن سعید خدری غیر محفوظ ہے۔ عبداللہ بن زید بن اسلم عبد العزیز بن محمد اور کئی دوسرے راویوں نے یہ حدیث زید بن اسلم سے مرسل روایت کی اور ابوسعید کا واسطہ مذکور نہیں۔ عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم کو حدیث میں صعیف کہا گیا ہے میں نے ابو داؤد سجزی سے سنا فرماتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل سے عبدالرحمن بن زید کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس کے بھائی عبداللہ بن زید میں کوئی حرج نہیں میں نے امام بخاری سے سنا انہوں نے علی بن عبداللہ سے نقل کیا کہ عبداللہ بن زید بن اسلم ثقہ ہیں اور عبدالرحمن بن زید ضعیف ہے امام بخاری فرماتے ہیں میں اس سے کوئی روایت نہیں لیتا ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۸۹؛مَا جَاءَ فِی الصِّيَامِ يَذْرَعُہُ الْقَىْءُ،حدیث نمبر ٧١٩)
جان بوجھ کر قے کرنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس پر قے غالب آجائے اس پر قضاء نہیں اور جو جان بوجھ کر قے کرے اسے قضاء روزہ رکھنا چاہئیے ۔ اس باب میں حضرت ابو درداء ثوبان اور فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف عیسیٰ بن یونس کی روایت سے پہچانتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث کئی طریقوں سے مروی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں حضرت ابو درداء ، ثوبان اور فضالہ بن عبیدہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے فرمائی اور روزہ توڑ دیا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ نفلی روزے سے تھے آپ کو قے آئی اور آپ نے کمزوری محسوس فرماتے ہوئے روزہ کھول دیا بعض احادیث میں اسکی وضاحت اسی طرح ہے علماء کا حدیث ابو ہریرہ پر عمل ہے کہ خود بخود قے سے قضاء نہیں لیکن جان بوجھ کرقے کرنے سے قضاء ہے امام شافعی سفیان ثوری ، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے ، ف : حنفیہ کے نزدیک قصداً قے منہ بھر کر ہو تو قضاء ہے ورنہ نہیں (مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۶۹۸؛مَا جَاءَ فِی مَنِ اسْتَقَاء عَمَدًا،حدیث نمبر ٧٢٠)
روزہ دار کا بھول کر کھا پی لینا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے بھول کر کھایا یا پیا وہ روزہ نہ توڑے یہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمایا- حضرت ابن سیرین اور اخلاس نے بواسطہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے ہم معنی روایت نقل کی اس باب میں حضرت ابوسعید اور ام اسحٰاق غنو یہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایات منقول ہیں,امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے,اکثر علماء کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری شافعی,احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر رمضان میں بھول کر کھائے تو قضاء ہے پہلا قول اصح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۹۱؛مَا جَاءَ فِی الصَّائِمِ يَا كُلُ وَيَشْرَبُ نَاسِيًا،حدیث نمبر ٧٢١،و حدیث نمبر ٧٢٢)
جان بوجھ کر روزہ توڑنا حضرت ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا جس نے بغیر شرعی اجازت اور بیماری کے رمضان شریف کا ایک روزہ بھی توڑا اسے عمر بھر کے روزے کفایت نہیں کر سکتے اگرچہ وہ تمام عمر روزے رکھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ میں نے امام بخاری سے سنا فر ماتے ہیں ابو مطوس کا نام یزید بن مطوس ہے اور ان سے اس کے علاوہ کوئی دوسری حدیث میرے علم میں نہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۹۲؛مَا جَاء فِی الإِفْطَارِ مُتَعَمِّدًا،حدیث نمبر ٧٢٣)
رمضان کے روزے کا کفارہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ میں ہلاک ہو گیا آپ نے فرمایا کس چیز نے تجھے ہلاک کیا ؟ کہنے لگا میں نے رمضان شریف میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا حضور نے فرمایا کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے؟ عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا متواتر دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے ؟ کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے ؟ عرض کرنے لگا نہیں آپ نے فرمایا بیٹھ جا وہ بیٹھ گیا اتنے میں آپ کی خدمت میں کجھوروں کا ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا آپ نے فرمایا اسے صدقہ کر دو اس نے عرض کیا مدینہ شریف کی دو پہاڑیوں کے درمیان ہم سے زیادہ کوئی محتاج نہیں حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا یہاں تک کہ آپ کے انیاب (یعنی سامنے کے دو دانتوں کے ساتھ دائیں بائیں دودانت ) مبارک نظر آنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ اور یہ اپنے گھر والوں کو کھلاؤ اس باب میں حضرت ابن عمر، عائشہ اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول میں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ جو شخص رمضان میں جان بوجھ کر جماع کے ذریعے روزہ توڑے (اس کا یہ حکم ہے) لیکن جان بوجھ کر کھانے پینے سے روزہ توڑنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء فرماتے ہیں اس پر قضاء اور کفارہ دونوں ہیں انہوں نے کھانے پینے کو جماع کے مشابہ قرار دیا سفیان ثوری ، ابن مبارک اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی نظریہ ہے بعض علماء کے نزدیک اس پر قضاء ہے کفارہ نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جماع کے بارے میں کفارہ کا ذکر ہے کھانے پینے کے بارے میں نہیں ان علماء کے نزدیک کھانا پینا جماع کے مشابہ نہیں ۔ امام شافعی اور احمد رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے امام شافعی فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ توڑنے والے کو کھجوریں دیتے ہوئے یہ فرمانا کہ یہ لے لو اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ یہ مختلف معافی کا احتمال رکھتا ہے یہ تبھی احتمال ہے کہ کفارہ صرف اسی پر ہے جسے طاقت ہو اور یہ شخص کفارہ کی ادائیگی پر قادر نہ تھا جب آپ نے اسے کھجوریں عطافرما کر ان کا مالک بنادیا تو اس نے عرض کیا ہم سے زیادہ کوئی محتاج نہیں آپ نے فرمایا لگ جاؤ اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ کیونکہ کفارہ اس وقت ہے جب اپنی ضروریات سے زائد ہو امام شافعی کے نزدیک پسندیدہ بات یہ ہے کہ اس قسم کا آدمی خود کھائے اور کفارہ اس کے ذمہ قرض ہو گا جب اسے طاقت ہو کفارہ ادا کر دے ، ف : احناف کے نزدیک جان بوجھ کر کھانے پینے سے بھی قضاء و کفارہ دونوں لازم ہیں (مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب الصوم،باب۴۹۳؛مَا جَاءَ فِی كَفَّارَةِ الفِطْرِ فِی رَمَضَانَ،حدیث نمبر ٧٢٤)
روزہ دار کیلیے مسواک کا حکم حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومتعدد بار روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ہے ۔ اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکو رہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عامربن ربیعہ حسن ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک روزہ دار کے لیے مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ بعض علماء کے نزدیک تربڑی سے اور اسی طرح دن کے آخری حصہ میں مسواک کرنا مکروہ ہے امام شافعی کے نزدیک دن کے اول و آخر میں کوئی کراہت نہیں امام احمد اور اسحٰاق رحمہما اللہ کے نزدیک دن کے آخر میں مسواک کرنا مکروہ ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۹۴؛مَا جَاءَ فِی السِّوَاكِ لِلصَّائِمِ،حدیث نمبر ٧٢٥)
روزہ دار کا سرمہ لگانا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ میری آنکھیں دکھتی ہیں کیا میں سرمہ لگا سکتا ہوں جبکہ میں روزہ دار ہوں ۔ آپ نے فرمایا ہاں لگا سکتا ہے ، اس باب میں حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس کی سند قوی نہیں اور اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کوئی صحیح روایت نہیں ابو عاتکہ ضعیف ہے روزہ دار کے لیے سرمہ لگانے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک مکروہ ہے۔ سفیان ثوری ، ابن مبارک ، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء کے نزدیک اجازت ہے امام شافعی (اور امام ابوحنیفہ) کا یہی قول ہے) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۹۵؛مَا جَاءَ فِی الكُحْلِ لِلصَائِمِ،حدیث نمبر٧٢٦)
حالت روزہ میں بوسہ لینا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان میں بوسہ لیا کرتے تھے ۔ اس باب میں حضرت عمر بن خطاب ، حفصہ، ابوسعید ، ام سلمہ ، ابن عباس انس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ سن صحیح ہے صحابہ کرام اور تابعین کا حالت روزہ میں بوسہ لینے کے بارے میں اختلاف ہے بعض صحابہ کرام نے بوڑھے کو بوسہ لینے کی اجازت دی لیکن جوان کو اجازت نہیں دی اس ڈر سے کہ کہیں اس کا روزہ نہ ٹوٹ جائے مباشرت ان حضرات کے نزدیک سخت منع ہے۔ بعض علماء کے نزدیک بوسہ لینے سے ثواب کم ہو جاتا ہے ۔ روزہ نہیں ٹوٹتا لہذا نفس پر کنٹرول ہو تو بوسہ لے سکتا ہے اور اگر نفس پر قابو نہ ہو تو بوسہ نہ لے تاکہ روزہ محفوظ رہے سفیان ثوری اور امام شافعی رحمہا اللہ کا یہی قول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۹۶؛مَا جَاءَ فِی الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ،حدیث نمبر ٧٢٧)
حالت روزہ میں مباشرت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مجھ سے مباشرت فرماتے اور آپ تو سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو پانے والے تھے - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور مباشرت فرماتے اور آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو پاتے تھے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ابو میسرہ کا نام عمرو بن شرجیل اور لفظ "لِاِرْبِهٖ" کے معنی اپنے نفس کے ہیں ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۴۹۷؛مَا جَاءَ فِی مُبَاشَرَةِ الصَّائِمِ ،حدیث نمبر ٧٢٨ و حدیث نمبر ٧٢٩)
رات کو نیت کرنا ضروری ہے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے فجر سے پہلے نیت نہ کی اسکا روزہ صحیح( کامل) نہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے مرفوعاً پہچانتے ہیں نافع نے اسے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے طور پر (موقوفًا) نقل کیا ہے اور یہی اصح ہے بعض علماء کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رمضان قضائے رمضان یا نذر کے روزہ کے لیے رات کو نیت نہ کی تو درست نہیں لیکن نفل روزہ کے لیے صبح کے بعد بھی نیت کر سکتا ہے امام شافعی ، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ۔ ف : امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ کے نزدیک رمضان کے روزہ نفل روزہ اور نذر معین کے روزہ کے لیے دوپہر سے پہلے پہلے نیت کی جاسکتی ہے البتہ قضائے رمضان ، کفارہ اور نذر مطلق کے لیے رات کو نیت ضروری ہے حدیث مذکورہ بالا میں کمال کی نفی ہے لمعات (مترجم) ( جامع ترمذی شریف،کتاب الصوم،باب۴۹۸؛مَا جَاءَ لَا صِيامَ لِمَنْ لَمْ يَعْزِم مِنَ اللَّيْلِ ،حدیث نمبر ٧٣٠)
نفل روزہ توڑ دینا حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ آپکو پانی پیش کیا گیا آپ نے نوش فرمایا پھر مجھے عطا فرمایا میں نے بھی پیا پھر میں نے عرض کیا مجھ سے گناہ ہوگیا بس میرے لیے دعائے مغفرت فرمائیں آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ میں نے عرض کیا میں روزہ دار تھی اور میں نے روزہ توڑ دیا حضور نے فرمایا کیا قضاء روزہ رکھا ہوا تھا عرض کیا نہیں فرمایا پھر تجھے کوئی نقصان نہیں اس باب میں حضرت ابوسعید اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایات مذکور ہیں (امام ترمذی فرماتے ہیں) حدیث ام ہانی کی سند میں کلام ہے بعض صحابہ کرام اور دوسرے لوگوں کا اس پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا جب روزہ توڑ دے اس پر قضاء نہیں ہاں چاہے تو قضاء کر لے سفیان ثوری، احمد اسحٰاق اور شافعی رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے (امام ابو حنیفہ کے نزدیک قضاء ضروری ہے ، سماک بن حرب فرماتے ہیں مجھ سے حضرت ام ہانی کی اولاد میں سے کسی ایک نے حدیث بیان کی حضرت شعبہ فرماتے ہیں میں نے ان میں سے افضل سے ملاقات کی ان کا نام جعدہ تھا وہ اپنی دادی ام ہانی رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان (ام ہانی) کے پاس تشریف لائے اور پانی منگوایا۔ پانی نوش فرما کر باقی حضرت ام ہانی کو دے دیا انہوں نے پیا اور پھر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں روزہ دار تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نفل روزہ رکھنے والانفس کا امین ہے چاہے روزہ رکھے چاہیے کھول دے ،حضرت شعبہ فرماتے ہیں میں نے ان (جعدہ )سے پوچھا کیا آپ نے خود حضرت ام ہانی سے یہ بات سنی ہے، فرمایا نہیں بلکہ ابو صالح اور ہمارے گھر والوں نے امام ہانی سے بیان کیا ہے ۔ حماد بن سلمہ نے یہ حدیث سماک سے روایت کی اور کہا ہم ام ہانی سے ان کے نواسے ہارون نے روایت کیا ہے شعبہ کی روایت احسن ہے، محمود بن غیلان نے ابو داؤد سے اسی طرح ؛؛امین نفسہ؛؛ کے الفاظ نقل کیے محمود کے علاوہ دوسرے راویوں نے ابو داؤد سے شک کے ساتھ (امیر نفسہ یا امین نفسہ) بیان کیا ۔ شعبہ سے بھی اسی طرح شک کے ساتھ کئی طرق سے منقول ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے )کچھ ہے ؟" فرماتی ہیں میں نے عرض کیا نہیں فرمایا تو میں روزہ سے ہوں۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور فرماتے کیا تیرے پاس کھانا ہے میں عرض کرتی نہیں تو آپ فرماتے میں روزے سے ہوں ، فرماتی ہیں ایک دن تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ! ہمارے پاس ایک تحفہ آیا ہے آپ نے فرمایا وہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا حیسں (ایک کھانا جو گھی چھوارے اور پنیر وغیرہ ملاکر تیار کیا جا تا ہے ) آپ نے فرمایا میں نے روزہ رکھا ہوا ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں پھر آپ نے تناول فرمایا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الصوم،باب۴۹۹؛مَاجَاءَ فِی اِفْطَارِ الصَّائِمِ الْمُتَطَوِّعِ،حدیث نمبر ٧٣١،و حدیث نمبر ٧٣٢،و حدیث نمبر ٧٣٣،و حدیث نمبر ٧٣٤)
نفل روزے کی قضا واجب ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اور حفصہ رضی اللہ عنہما ) روزہ دار تھیں کہ ہمارے سامنے کھانا پیش کیا گیا جسکی ہمیں خواہش تھی ہم نے اس سے کھایا اتنے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے حضرت حفصہ نے گفتگو میں مجھ سے سبقت کی اور کیوں نہ ہوتا ، وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں (یعنی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی طرح جری تھیں )کہنے لگیں یارسول اللہ! ہم دونوں نے روزہ رکھا ہواتھا پھر ہمارے پاس کھانا آیا جس کی ہمیں تمنا تھی تو ہم نے اس سے کھا لیا آپ نے فرمایا کسی دوسرے دن اسکی قضاء کر لینا امام ترمذی فرماتے ہیں صالح بن ابی اخضر اور محمد بن ابی حفصہ نے یہ حدیث بواسطہ زہری اور عروہ حضرت عائشہ سے اسکی مثل روایت کی ہے مالک بن انس معمر ، عبید اللہ بن عمر، زیاد بن سعد اور کئی دوسرے حفاظ نے بواسطہ زہری حضرت عائشہ سے مرسلًا روایت کی ہے اس میں حضرت عروہ کا ذکرنہیں ہے اور یہ اصح ہے کیونکہ ابن جریج کہتے ہیں میں نے زہری سے پو چھا کیا حضرت عروہ نے حضرت عائشہ کی روایت تم سے بیان کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا میں نے اس مسئلے میں عروہ سے کچھ نہیں سنا البتہ سلیمان بن عبدالملک کے دور حکومت میں لوگوں سے ان حضرات کا قول سنا جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا۔ ابن جریج نے یہ حدیث بیان کی اور فرما یا بعض صحابہ کرام اور دوسرے لوگوں نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے روزہ توڑنے والے پر قضاء واجب ہونے کا قول کیا ۔ مالک بن انس رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۰۰؛مَا جَاءَ فِی ایْجَابِ الْقَضَاءِ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٧٣٥)
شعبان و رمضان کا اتّصال حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان ورمضان کے علاوہ دو مہینے متواتر روزے رکھتا نہیں دیکھا اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت منقول ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ام سلمہ حسن ہے یہ حدیث بواسطہ ابو سلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔ آپ فرماتی ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا آپ اکثر دنوں کے روزے رکھتے بلکہ پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔ ابو سلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث مرفوعاً روایت کی ابو نضر اور کئی دوسرے راویوں نے یہ حدیث بواسطہ ابوسلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محمد بن عمرو کی روایت کی طرح بیان کی ۔ ابن مبارک سے مروی ہے وہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں، کلام عرب میں جائز ہے کہ جب اکثر مہینے کے روزے رکھے جائیں تو کہا جائے پورے مہینے کے روزے رکھے کہا جاتا ہے فلاں شخص پوری رات کھڑا رہا حالانکہ ہو سکتا ہے اس نے رات کا کھانا کھایا ہو یاکسی اور کام میں مشغول ہوا ہو. ابن مبارک کے نزدیک دونوں حدیثوں پر اتفاق یے فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ مہینے کے اکثر دن روزہ رکھتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۰۱؛مَا جَاءَ فِی وِصَالِ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ،حدیث نمبر ٧٣٦ و حدیث نمبر ٧٣٧)
تعظیم رمضان کیلیے شعبان کےدوسرے نصف میں روزہ رکھنا مکروہ ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب شعبان آدھا رہ جائے تو روزہ نہ رکھو: امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے ۔ ہم صرف اسی طریق سے ان الفاظ سے جانتے ہیں بعض علماء کے نزدیک اس کا مطلب یہ کہ کوئی آدمی اول شعبان میں روزہ نہ رکھ رہا ہو اور جب دوسرا نصف شروع ہو تو تعظیم رمضان کے لئے روزہ رکھنا شروع کر دے ( یہ نا جائز ہے) اس کی مثل حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری حدیث مروی ہے ۔ اور یہ ایسا ہی ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان سے پہلے روزہ نہ رکھو ہاں اگر کوئی اس سے پہلے روزہ رکھنے کا عادی ہو اور یہ روزہ دونوں میں آجائے (تو رکھ سکتا ہے ) اس حدیث میں اس پر دلالت ہے کہ کراہت اس صورت میں ہے جب جان بوجھ کر رمضان کے لئے روزہ رکھے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۷۰۲؛مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ الصَّوْمِ فِى النِّصْفِ الْبَاقِي مِنْ شَعْبَانَ لِحَالِ رَمَضَانَ، حدیث نمبر ٧٣٨)
شعبان کی پندرہویں رات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک رات میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو میں آپ کی تلاش میں نکلی کیا دیکھتی ہوں کہ آپ جنت البقیع میں ہیں آپ نے فرمایا کیا تجھے ڈر ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کرے گا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے سوچا شاید آپ کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے آپ نے فرمایا اللہ تعالی پندرہویں شعبان کی رات کو آسمان دنیا پر (جیسا کہ اس کی شایاں شان ہے) اترتا ہے اور بنو کلب قبیلہ کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کو بخشتا ہے اس باب میں حضرت ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ کو ہم صرف اسی طریق یعنی حجاج کی روایت سے جانتے ہیں میں نے امام بخاری سے سنا وہ اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یحییٰ بن کثیر کو عروہ سے سماع نہیں اور حجاج نے یحییٰ بن کثیر سے نہیں سنا ،(جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۷۰۳؛ماجاء فِی لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ -حدیث نمبر ٧٣٩)
محرم کے روزے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا رمضان کے روزوں کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے افضل ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ، ابو ہریرہ ، حسن ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے آپ سے کسی نے پوچھا رمضان کے بعد آپ کس مہینے کے روزے رکھنے کا مجھے حکم فرماتے ہیں آپ نے فرمایا میں نے صرف ایک آدمی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے سنا میں بھی حاضر خدمت تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو رمضان کے بعد روزہ رکھنا چاہیے تو محرم کے روزے رکھ کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی اور ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۰۴؛مَا جَاءَ فِی صَوْمِ الْمُحَرَّمِ،حدیث نمبر ٧٤٠ و حدیث نمبر ٧٤١)
جمعہ کا روزہ حضرت زرین بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مہینے کے شروع میں تین دن روزہ رکھتے اور بہت کم جمعہ کے دن روزے کا ناغہ فرماتے اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عبداللہ حسن غریب ہے اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک جمعہ کا روزہ پسندیدہ ہے اور اس طرح جمعہ کا روزہ مکروہ ہے کہ نہ تو اس سے پہلے رکھتے اور نہ ہی بعد یہ حدیث شعبہ نے عاصم سے موقوف روایت کی ہے ۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الصوم،باب۵۰۵؛مَا جَاءَ فِي صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر ٧٤٢)
صرف جمعہ کاروزه مکروہ ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے مگر اس سے پہلے اور بعد کا روزہ بھی رکھے ۔ اس باب میں حضرت علی ، جابر، جنادہ ازدی، جویریہ ، انس اور عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک مکروہ ہے کہ کوئی شخص جمعہ کا دن روزے کے لئے مخصوص کرے کہ نہ تو اس سے پہلے رکھے اور نہ ہی بعد امام احمد اور اسحٰاق رحمہما اللہ کا یہی قول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۰۶؛مَاجَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ صَوْمِ الْجُمُعَةِ وَحْدَهٗ،حدیث نمبر ٧٤٣)
ہفتہ کے دن کا روزہ حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ اپنی ہمشیرہ سے روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو مگر جو تم پر فرض کیا گیا اور اگر رہیں تو کسی کو انگور کا چھلکا یا درخت کی لکڑی کے سوا کچھ نہ ملے تو اسے ہی چبا لے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور اس دن میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص روزہ رکھنے کے لیے ہفتے کا دن مخصوص نہ کرے کیونکہ یہودی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۰۷؛مَا جَاءَ فِی صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ،حدیث نمبر ٧٤٤)
سوموار اور جمعرات کا روزہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم سوموار اور جمعرات کے دن کا خاص خیال فرماتے تھے۔ اس باب میں حضرت حفصہ، ابو قتادہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ اس طریق سے حسن غریب ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مہینے ہفتہ اتوار اور پیر کا روزہ رکھتے اور دوسرے مہینے منگل بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھتے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے اسے سفیان سے غیر مرفوع روایت کیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سوموار اور جمعرات کا اعمال بارگاہ خداوندی میں) پیش کئے جاتے ہیں میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اس صورت میں پیش ہوں کہ میں روزہ سے ہوں، امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حدیث ابو ہریرہ حسن غریب ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۰۸؛مَا جَاءَ فِی صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ،حدیث نمبر ٧٤٥ و حدیث نمبر ٧٤٦ و حدیث نمبر ٧٤٧)
بدھ اور جمعرات کا روزہ حضرت عبداللہ مسلم قرشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے یا کسی اور نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمر بھر روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے پھر فرما یا رمضان اور اس سے ملے ہوئے مہینے (شوال) کے روزے رکھو اور ہر بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھو اس صورت میں گویا کہ تم نے عمر بھر کے روزے بھی رکھے اور کھاتے پیتے بھی رہے اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث مسلم قرشی ، غریب ہے بعض راویوں نے بواسطہ ہارون بن سلمان اور مسلم بن عبید اللہ عبید اللہ سے روایت کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۰۹؛مَا جَاءَ فِی صَوْمِ الْأَرْبَعَاءِ وَالْخَمِيسِ،حدیث نمبر ٧٤٨)
عرفہ کا روزہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دے،، اس باب میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو قتادہ حسن ہے علماء کے نزدیک یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے لیکن میدان عرفات میں نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۱۰؛مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَوْمِ يَومٍ عَرَفَة،حدیث نمبر ٧٤٩)
میدان عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنا منع ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہمیں نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں روزہ افطار کیا (نہ رکھا ) ام الفضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا آپ نے اسے نوش فرمایا اس باب میں حضرت ابوہریرہ ، ابن عمر ام الفضل رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا اور آپ نے عرفہ کے دن روزہ نہ رکھا حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ گیا توانہوں نے بھی نہ رکھا اکثر علماء کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک میدان عرفات میں روزہ نہ رکھنا مستحب ہے تاکہ آدمی اچھی طرح دعا کر سکے بعض علماء نے یوم عرفہ کو میدان عرفات میں روزہ رکھا ہے۔ ابن ابی نجیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں نے انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ہمراہ سفر کئے ان میں سے کسی نے بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھا میں نہ اس دن کا روزہ رکھتا ہوں نہ اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ابو نجیح کا نام یسار ہے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سماع حاصل ہے۔ ابن ابی نجیح نے اس حدیث کو ابو نجیح اور ایک دوسرے راوی کے واسطہ سے بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۱۱؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ صُومِ يَوْمِ عَرْفَةَ بِعَرَفَةِ،حدیث نمبر ٧٥٠ و حدیث نمبر ٧٥١)
عاشورہ کے روزہ کی ترغیب حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص یوم عاشورہ کا روزہ رکھے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالٰی اس کے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دے اس باب میں حضرت علی، محمد بن صیفی سلمہ بن اکوع ، هند بن اسماء، ابن عباس ، ربیع بنت معوذ بن عفراء ، عبد الرحمٰن بن خزاعی بواسطہ ان کے چچا اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشورہ کے روزہ ترغیب فرمائی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو قتادہ کے علاوہ کسی دوسری روایت سے حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرمان کہ یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے کا ہمیں علم نہیں امام احمد اور اسحٰاق اسی حدیث کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۱۲؛مَا جَاءَ فِي الْحِثِّ عَلَى صَوْمِ عَاشُورَاءَ،حدیث نمبر ٧٥٢)
یوم عاشورہ کا روزہ چھوڑنے کی اجازت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں قریش، زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے خود بھی یہ روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی حکم دیا جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو صرف یہی (رمضان ہی کے )روزے فرض رہ گئے اور عاشورہ کے بارے میں اختیار دے دیا گیا جو چاہے رکھے جو چاہے نہ رکھے۔ اس باب میں حضرت ابن مسعود ، قیس بن سعد، جابر بن سمرہ، ابن عمر اور معاویہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث پر علماء کا عمل ہے اور یہ صحیح حدیث ہے علماء کے نزدیک عاشورہ کا روزہ واجب نہیں البتہ جسے رغبت ہو (وہ رکھے) کیونکہ اس میں فضیلت ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۱۳؛مَا جَاءَ فِی الرُّحْصَةِ فِی تَرَكِ صَومِ يَوْمِ عَاشُوْرَاءَ،حدیث نمبر ٧٥٣)
عاشوراء کونسا دن ہے حکم بن اعرج فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا آپ چادر لپیٹے آب زم زم کے پاس تشریف فرماتھے میں نے عرض کیا مجھے بتائیے عاشورہ کونسا دن ہے ؟ تاکہ میں اس کا روزہ رکھوں آپ نے فرمایا محرم کا چاند دیکھنے کے بعد دنوں کا شمار کرتے رہو پھر نویں محرم کو روزہ رکھو میں نے عرض کیا حضور کا عمل یہی تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ یعنی دسویں محرم کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس صحیح ہے۔ علماء کا یوم عاشورہ کے بارے میں اختلاف سے بعض کے نزدیک نویں محرم ہے، جبکہ بعض دسویں محرم کے قائل ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نویں اور دسویں محرم (دونوں) کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو . امام شافعی احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۱۴؛مَا جَاءَ فِی عَاشُورَاء أَيُّ يَوْمٍ هُوَ،حدیث نمبر ٧٥٤،و حدیث نمبر ٧٥٥)
ذی الحجہ کے دس روزے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے پہلے دس دن روزہ رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کئی راویوں نے اس طرح بواسطہ اعمش ، ابراہیم اور اسود، حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے۔ سفیان ثوری وغیرہ نے بواسطہ منصور ابراہیم سے یہ روایت کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوذی الحجہ سے پہلے دس دنوں میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا گیا۔ ابو احوص نے بواسطہ منصور اور ابراہیم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی لیکن اس میں اسود کا ذکر نہیں حدیث میں منصور کے بارے میں اختلاف ہے اعمش کی روایت اصح اور سند کے لحاظ سے زیادہ متصل ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے ابوبکر محمدبن ابان کو کہتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے وکیع سے سنا کہ ابراہیم سے روایت کرنے میں منصور کے مقابلے میں اعمش احفظ ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۱۵؛مَا جَاءَ فِی صِيَامِ الْعَشْرِ -حدیث نمبر ٧٥٦)
ذی الحجہ کے پہلے دس روزوں کی فضیلت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں ان دس دنوں کے مقابلے میں کسی دن کا عمل زیادہ محبوب نہیں ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ کیا اللہ تعالی کے راستے میں جہاد بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں جہاد بھی نہیں البتہ وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ راہ خدا میں نکلا پھر ان میں سے کسی چیز کے ساتھ واپس نہ ہوا (یعنی شہید ہو گیا ) اس باب میں حضرت ابن عمر ابو ہریرہ ، عبد اللہ بن عمرو اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن غریب صحیح ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن دنوں میں رب کی عبادت کی جاتی ہے ان میں سے کوئی دن عشرہ ذی الحجہ سے زیادہ پسندیدہ نہیں ان میں سے ہر دن کا روزہ سال کے روزوں اور ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف مسعود بن واصل بواسطہ نہاس کی روایت سے پہچانتے ہیں میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا انہیں بھی اس طریق کے علا وہ اسطرح معلوم نہ تھا نیز آپ نے فرمایا کہ حضرت قتادہ سے بواسطہ سعید بن مسیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مرسلًا کچھ مذکور ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۱۶؛مَا جَاءَ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ،حدیث نمبر ٧٥٧ و حدیث نمبر ٧٥٨)
شوال کے چھ روزے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھ کر پھر شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ عمر بھر کے روزوں کی طرح ہے اس باب میں حضرت جابر ابوہریرہ اور ثوبان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ایوب حسن صحیح ہے، ایک جماعت کے نزدیک اس حدیث کے مطابق شوال کے چھ روزے مستحب ہیں ۔ ابن مبارک فرماتے ہیں مہینے کے تین روزوں کی طرح یہ بھی اچھے ہیں نیز آپ نے فرمایا حدیث میں ہے کہ ان کو رمضان کے روزون سے ملایا جائے ابن مبارک کے نزدیک مہینے کے شروع سے چھ روزے رکھنا مختار ہے یہ بھی روایت ہے کہ آپ (ابن مبارک) نے فرمایا کہ شوال کے چھ روزے متفرق بھی جائز ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں عبد العزیز بن محمد نے صفوان بن سلیم اور سعد بن سعید سے حدیث یہ حدیث بواسطه عمر بن ثابت اور ابوایوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی شعبہ نے اسے بواسطہ ورقاء بن عمر سعد بن سعید سے روایت کیا ہے۔ سعد بن سعید یحییٰ بن سعید انصاری کے بھائی ہیں۔ بعض محدثین نے سعد بن سعید کے حفظ میں کلام کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۱۷؛مَا جَاءَ فِي صِيَامٍ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ, حدیث نمبر ٧٥٩)
ہر مہینے سے تین روزے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے تین وعدے لئے وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں ہر مہینے کے تین روزے (رکھوں) اور نماز چاشت (پڑھوں) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم علی اللہ علیہ و آلہِ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! جب تو مھینے کے تین روزے رکھے تو تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں کے روزے رکھا کر۔ اس باب میں حضرت ابو قتادہ، عبداللہ بن عمرو ، قره بن ایاس مزنی ، عبداللہ بن مسعود ، ابو عقرب ابن عباس ، عائشہ، قتادہ بن ملحان عثمان بن العاص اور جریر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ذر حسن ہے بعض احادیث میں ہے کہ جس نے ہر مہینے کی تین روزے رکھے یہ ایسا ہی ہے جیسے زمانہ بھر کے روزے رکھے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر مہینے تیں روزے رکھے تو یہ عمر بھر کے روزے ( شمار ہوتے ہیں ) اللہ تعالی نے اس کی تصدیق میں اپنی کتاب( کی آیت ) نازل فرمائی جو شخص ایک نیکی کرے اس کیلیئے اسکا دس گنا ہے۔ تو ایک دن (ثواب میں ) دس دنوں کے برابر ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ ابو شمر اور ابو تیاح سے بواسطہ ابو عثمان حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ۔ حضرت معاذہ فرماتی ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کیا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، ہر مہینے تیں دن کے روزے رکھا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کونسے دنوں میں ام المومنین نے فرمایا حضور اس بات کی پرواہ نہیں فرماتے تھے کہ وہ کونسے دن ہوں (جن تاریخوں میں چاہتے رکھ لیتے ) امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے یزید الرشک سے مراد یزید الضبعی ہے اور وہ یزید قاسم بھی کہلاتا ہے اور وہ بہت تقسیم کرنے والا ہے کیونکہ بصریوں کے لغت میں رشک کے معنی بہت تقسیم کرنے والے کے ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۱۸؛مَا جَاءَ فِي صَوْمِ ثَلٰثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ،حدیث نمبر ٧٦٠ و حدیث نمبر ٧٦١ و حدیث نمبر ٧٦٢ و حدیث نمبر ٧٦٣)
روزہ کی فضیلت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارا رب فرماتا ہے ہرنیکی( کا ثواب ) دس گنا سے سات سو گنا تک ہے (لیکن) روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکی جزاء دیتا ہوں ۔ روزہ آگ سے ڈھال ہے ۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کے خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے اور تم میں سے کوئی روزے سے ہو اور اس سے کوئی بد زبان . بد زبانی سے پیش آئے تو کہہ دے میں روزے سے ہوں ۔ اس باب میں حضرت معاذ بن جبل، سهل بن سعد، کعب بن عجرہ سلامہ بن قیصر اور بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں بشیر کا نام زحم بن معبد ہے اور خصاصیہ انکی ماں ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ اس طریق سےحسن غریب ہے ۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے جسکا نام ریان ہے اس سے (صرف) روزہ داروں کو بلایا جائیگا بس جو روزے دار ہو گا وہ داخل ہو جائے گا اور جو اس میں داخل ہو گا کبھی پیاسا نہ ہو گا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۱۹؛مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصٌَوْمِ،حدیث نمبر ٧٦٤،و حدیث نمبر ٧٦٥،و حدیث نمبر ٧٦٦)
ہمیشہ روزہ رکھنا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ہمیشہ روزے رکھنے والا کیسا ہے آپ نے فرمایا نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو ، عبد اللہ بن شخیر، عمران بن حصین اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو قتادہ ، حسن ہے۔ بعض علماء کے نزدیک ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ لیکن فرماتے ہیں ہمیشہ کا روزہ اس وقت ہے جب عیدین اور ایام تشریف میں بھی روزہ رکھے ورنہ مکروہ نہیں۔ اور اس صورت میں یہ ہمیشہ روزہ رکھنے والا نہیں کہلائے گا۔ مالک بن انس سے اسی طرح مروی ہے اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ امام احمد اور اسحاق نے بھی یوں ہی کہا ہے۔ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں ان پانچ دنوں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا یعنی عیدین اور ایام تشریق کے علاوہ دوسرے دنوں میں روزہ نہ رکھنا واجب نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۲۰؛مَا جَاءَ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ -حدیث نمبر ٧٦٧)
متواتر روزے رکھنا حضرت عبد اللہ بن شقیق فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو آپنے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (متواتر) روزے رکھتے یہاں تک کہ ہم سمجھتےآب افطار نہیں فرمائیں گے اور کبھی( مسلسل ) نہ رکھتے یہاں تک کہ ہم خیال کرتے اب نہیں رکھیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان کے علاوہ پورا مہینہ کبھی روزے نہیں رکھے اس باب میں حضرت انس اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا گیا آپ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات (اسطرح) مسلسل روزے رکھتے کہ گمان ہوتا اب افطار کا ارادہ نہیں اور کبھی متواتر نہ رکھتے یہاں تک کہ خیال ہوتا اب روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں فرمائیں گے میں جب بھی جاہتا کہ آپکو رات کے وقت نماز پڑھتے دیکھوں تونماز پڑھتے ہی دیکھتا اور اگر چاہتا کہ آپ کو آرام کی حالت میں دیکھوں تواسی طرح دیکھتا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین روزہ میرے بھائی داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے ۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمن سے مقابلے کے وقت بھاگتے نہیں تھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ابو العباس،نابینا شاعر ہے جس کا نام سائب بن فروخ ہے بعض علماء فرماتے ہیں بہترین روزہ یہ ہیں کہ ایک دن رکھا جائے ایک دن افطار کیا جائے،کہا جاتا ہے یہ سخت ترین روزے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۲۱؛مَا جَاءَ فِی سَرْدِ الصَّوْمِ،حدیث نمبر ٧٦٨ و حدیث نمبر ٧٦٩ و حدیث نمبر ٧٧٠)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں (یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ) میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت عمر، علی ، عائشہ، ابو ہریرہ ،عقبہ بن عامر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور میں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو سعید حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں عمرو بن یحییٰ سے مراد ابن عمارہ بن ابو الحسن مازنی مدینی ہیں اور وہ ثقہ ہیں سفیان ثوری ، شعبہ اور مالک بن انس رحمہم اللہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں ۔ ابو عبیدہ مولٰی عبد الرحمٰن بن عوف فرماتے ہیں میں قربانی کے دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی پھر فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ رضی اللہ عنہ نے ان دو دنوں کے روزہ سے منع فرمایا عید الفطر میں اس لئے کہ وہ تمہارے روزوں سے افطار کا دن ہے اور مسلمانوں کی عید ہے ۔ اور عید الاضحیٰ میں اس لئے کہ تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاؤ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے ابو عبید مولٰی عبد الرحمٰن بن عوف کا نام سعد ہے اور انہیں مولٰی عبد الرحمٰن بن ازھر بھی کہا جاتا ہے عبد الرحمٰن بن ازہر ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کےچچا زاد بھائی ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۲۲؛مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ الصَوْمِ يَوْمَ الفِطْرِ ويَوْمَ النحْرِ، جلد ۱ص۴۱۶،حدیث نمبر ٧٧١ و حدیث نمبر ٧٧٢)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوم عرفہ قربانی کا دن اور ایام تشریق (عید الاضحیٰ کے بعد تین دن) ہم مسلمانوں کی عید اور کھانے پینے کے دن ہیں ۔ اس باب میں حضرت علی سعد، ابو ہریرہ ، جابر، نبیشه بشر بن سحیم ، عبد الله بن حذافہ ، انس حمزہ بن عمرو اسلمی ، کعب بن مالک ، عائشہ عمرو بن العاص اور عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عقبہ بن عامر حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ وہ ایام تشریق کے روزے کو مکروہ جانتے ہیں البتہ بعض صحابہ اور دوسرے حضرات نے تمتع کرنے والے کو اجازت دی ہے اگر اسے قربانی کا جانور نہ ملے اور ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کے روزے بھی نہیں رکھے تو وہ ایام تشریق کے روزے رکھ لے، امام مالک بن انس ، شافعی ، احمد اور اسحٰاق رحیم اللہ اسی بات کے قائل ہیں ( امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے نزدیک متمتع بھی ایام تشریق میں روزہ نہ رکھے۔ مترجم ) امام ترمذی فرماتے ہیں اہل عراق کے نزدیک موسیٰ بن علی بن رباح ہے اور مصری موسیٰ بن علی بن رباح کہتے ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے قتیبہ سے سنا انہوں نے لیث بن سعد کے واسطہ سے موسیٰ بن علی کا قول نقل کیا کہ میں کسی کے لئے جائز نہیں سمجھتا کہ وہ میرے باپ کے نام کی تصغیر کرے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۲۳؛مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ صَومِ آيَامِ التَّشْرِيقِ ، جلد ۱ص۴۱۷،حدیث نمبر ٧٧٣)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے اور لگوانے والے (دونوں) کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ اس باب میں حضرت سعد علی ، شداد بن اوس ، ثوبان ، اسامه بن زید، عائشہ ،معقل بن یسار ( معقل بن سنان بھی کہا جاتا ہے ) ابو ہریرہ ، ابن عباس ، ابو موسیٰ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث رافع بن خدیج حسن صحیح ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ سے مذکور ہے آپ نے فرمایا اس باب میں اصح بات ، رافع بن خدیج کی روایت ہے۔ علی بن عبد اللہ کے بارے میں ہے ۔ آپ نے فرمایا اس باب میں ثوبان اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہما کی حدیث زیادہ صحیح ہے ، کیونکہ یحییٰ بن ابی کثیر نے ان دونوں حضرات کی روایتیں نقل کی ہیں۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین کے نزدیک روزہ دار کے لئے سینگی لگوانا مکروہ ہے حتیٰ کہ بعض صحابہ کرام رات کو سینگی لگواتے تھے ۔ ابو موسیٰ اشعری اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی اسی جماعت میں ہیں ۔ ابن مبارک بھی اسی کے قائل ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے اسحاق بن منصور سے عبد الرحمٰن بن مہدی کا قول سنا کہ روزے کی حالت میں سینگی لگوانے والے پر قضاء ہے۔ اسحٰاق بن منصور فرماتے ہیں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ اور اسحاق بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں مجھے حسن بن محمد رعفرانی نے بتایا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزےکی حالت میں سینگی لگوانا بھی مروی ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا،فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ ان میں سے ایک حدیث بھی ثابت ہو اگر روزہ دار سینگی لگوانے سے باز رہے تو میرے نزدیک یہ زیادہ پسندیدہ ہے اور اگر حالت روزہ میں ہی سینگی لگوائے تو بھی (میرے نزدیک) روزہ نہیں ٹوٹتا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، بغداد میں اسی بات کے قائل تھے ۔ جب آپ مصر تشریف لائے تو رخصت کی طرف مائل ہو گئے اور سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہ سمجھا آپ نے اس واقعہ سے استدلال کیا کہ.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر روزے اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۲۴؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْحَجَامَةِ لِلصَّائمِ، جلد ۱ص۴۱۷،حدیث نمبر ٧٧٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزے اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے۔ وہیب نے اسی طرح عبد الوارث کی مثل بیان کیا ۔ اسماعیل بن ابراہیم نے بواسطہ ایوب حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت نقل کی اس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزے کی حالت میں سینگی لگوائی،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث طریق سے حسن غریب ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان (ایک مقام پر ) روزے اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی ۔ اس باب میں حضرت ابو سعید جابر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس حدیث پر عمل ہے۔ روزه دار کے نئے سینگی لگوانے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے ۔ سفیان ثوری، مالک بن انس اور امام شافعی رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۲۵، مَا جَاءَ مِنَ الرَّحْصَةِ فِي ذَلِكَ، جلد ۱ص۴۱۹،حدیث نمبر ٧٧٥ و حدیث نمبر ٧٧٦،و حدیث نمبر ٧٧٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن رات روزہ (صوم وصال) نہ رکھو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صوم وصال رکھتے ہیں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح کا نہیں ہوں میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے اس باب میں حضرت علی ابو ہریرہ۔ عائشہ۔ ابن عمر۔ جابر۔ ابو سعید اور بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے۔ اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک صوم وصال (دن رات بغیر افطار اور سحری کے روزہ رکھنا ) مکروہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کئی دن مسلسل روزہ رکھتے اور افطار نہ فرماتے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۲۶؛مَاج٘اءَ فِی كَرَاهِيَةِ الْوِصَالِ فِی الصِّيَامِ، جلد ۱ص۴۱۹،حدیث نمبر ٧٧٨)
حضرت ابو بکر بن عبد الرحمٰن بن حارث بن ہشام فرماتے ہیں مجھے حضرت عائشہ اور ام سلمہ ( ازواج مطہرات) رضی اللہ عنہمانے بتایا کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جماع کے سبب حالت جنب میں ہوتے کہ صبح ہو جاتی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرما کر روزہ رکھ لیتے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا و ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حسن صحیح ہے اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے ۔ سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ بعض تابعین فرماتے ہیں جب کوئی شخص حالت جنب میں صبح کرے تو اسے اس دن (کے روزے )کی قضاء کرنی چاہئیے ۔ پہلا قول اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۲۷؛مَا جَاءَ فِی الْجُنُبِ يُدْرِكُهُ الفَجُرُوَهُوَ يُرِيدُ الصّوم - جلد ۱ص۴۲۰،حدیث نمبر ٧٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے کے لیے بلایا جائے تو اسے جانا چایئے اگر روزے سے ہو تو (محض) دعا مانگ لے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے دار ہو تو کہہ دے میں روزے سے ہوں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دونوں روایتیں صحیح ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۲۸؛مَا جَاءَ فِی إِجَابَةِ الصَّائِمِ الدَّعْوَةِ - جلد ۱ص۴۲۰،حدیث نمبر ٧٨٠،و حدیث نمبر ٨٨١)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس عورت کا خاوندموجود ہو وہ رمضان کے علاوہ کوئی دوسرا روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے ۔ ابو زناد سے بھی یہ حدیث بواسطہ موسیٰ بن ابو عثمان ، ابو عثمان اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً منقول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۲۹؛مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ صَوْمِ الْمَرْأَةِ اِلاَّبِاِذْنِ زَوْجِهاَ - خاوند کی اجازت کے بغیر عورت کے رونے کا حکم،جلد ۱ص۴۲۱،حدیث نمبر ٧٨٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال سے پہلے رمضان کے قضاء روزے شعبان میں رکھا کرتی تھی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے یحییٰ بن سعید انصاری نے بھی اسے بواسطہ ابو سلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم،باب۵۳۰مَاجٓاءَ فِی تا خِيرِ فَضَاءِ رَمَضَانَ. جلد ۱ص۴۲۱،حدیث نمبر ٧٨٣)
لیلیٰ بن مولیٰ (ام عمارہ )رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب روزہ دار کے پاس غیر روز دار کھا رہے ہوں تو اس کے لئے فرشتے دعائے رحمت کرتے ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں شعبہ نے بھی یہ حدیث بواسطہ حبیب بن زید، اور انکی دادی ام عمارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت کی ہے ۔ ام عمارہ بنت کعب سے روایت ہے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ و آلہِ و سلم ان کے ہاں تشریف لے گئے ام عمارہ نے کھانا پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو بھی کھا عرض کیا میں روزے دار ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب روزہ دار کے پاس کچھ لوگ بیٹھے کھا رہے ہوں تو اس کے لئے فرشتے رحمت کی دعا مانگتے ہیں یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائیں کہیں فرمایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو جائیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور شریک کی حدیث سے اصح ہے۔ ام عمارہ بن کعب سے ایک دوسری روایت میں اسی کی مثل مرفوعاً مروی ہے۔ لیکن اس میں فارغ ہونے یا سیر ہونے کا ذکر نہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ام عمارہ حبیب بن زید انصاری کی دادی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۳۱؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّائِمِ إِذَا أَكِلَ عِندَه ، جلد ۱ص۴۲۲،حدیث نمبر ٧٨٤،و حدیث نمبر ٧٨٥،و حدیث نمبر ٧٨٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم عہد رسالت میں حیض میں مبتلا ہوتیں تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں پاک ہونے پر روزوں کا حکم فرماتے لیکن قضائے نماز کا حکم نہ دیتے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور بواسطہ معاذہ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے علماء کا اس پر بلا اختلاف عمل ہے کہ حائضہ عورت پر روزوں کی قضاء ہے۔لیکن نمازیں قضاء نہ کرے، امام ترمذی فرماتے ہیں عبیدہ سے ابن معتب ضبی کوفی مراد ہیں ان کی کنیت ابو عبدالکریم ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۳۲؛مَا جَاءَ فِی فَضَاءِ الْحَائِضِ الصِيَامَ دُونَ الصَّلٰوةِ، جلد ۱ص۴۲۲،حدیث نمبر ٧٨٧)
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے وضو کے بارے میں بتائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کامل وضو کرو انگلیوں کا خلال کرو اور اگر روزہ نہ ہو تو ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرو،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے علماء کے نزدیک ناک میں پانی چڑھانا مکروہ ہے اور ان کا خیال ہے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے حدیث کے الفاظ سے انکے موقف میں قوت ) پیدا ہوتی ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۳۳؛مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَة مُبَالَغَةِ الاِسْتِنْشَاقِ لِلصَّائِمِ، جلد ۱ص۴۲۳،حدیث نمبر ٧٨٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جوشخص کسی کے ہاں مہمان بنے وہ میزبان کی اجازت بغیر نفل روزہ نہ رکھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے کسی ایسے ثقہ راوی کو ہم نہیں پہچانتے جس نے اسے ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہو ۔ موسیٰ بن داؤد نے بواسطہ ابو بکر مدینی هشام بن عروہ اور عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے یہ حدیث بھی ضعیف ہے ۔ ابوبکر مدینی جنہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کی ان کا نام فضل بن مبشر ہے اور وہ اس ( ابو بکر ) سے زیادہ ثقہ اور مقدم ہیں ۔ (جامد ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۳۴؛مَا جَاءَ فِيمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَلا يَصُومُ اِلاَّ بِاِذْنِهِمْ، جلد ۱ص۴۲۳،حدیث نمبر ٧٨٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصال تک رمضان شریف کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے ۔ اس باب میں حضرت ابی بن کعب ، ابولیلٰی ابو سعید ، انس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابو ہریرہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو صبح کی نماز پڑھ کر جائے اعتکاف میں تشریف لے جاتے،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث بواسطہ یحییٰ بن سعید حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسلًا مروی ہے ، مالک اور کئی دوسرے رویوں نے اسے یحییٰ بن سعید سے مرسل روایت کیا ہے ۔ اوزاعی اور سفیان ثوری نے اسے بواسطہ یحییٰ بن سعید اور عمره حضرت عا ئشه رضی الله عنہا روایت کیا بعض علماء کا اس حدیث پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں اعتکاف کا ارادہ کرنے والا صبح کی نماز پڑھ کر اعتکاف گاہ میں چلا جائے ۔ امام احمد بن جنبل اور اسحٰاق بن ابراہیم اسی کے قائل ہیں بعض علماء فرماتے ہیں اگر اعتکاف کا ارادہ ہو تو سورج غروب ہوتے وقت اپنے اعتکاف گاہ میں بیٹھا ہونا چاہیے۔ سفیان ثوری اور مالک بن انس رحمہما اللہ کا یہی مذہب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۳۵؛مَا جَاءَ فِی الاعْتِكَافْ، جلد ۱ص۴۲۴،حدیث نمبر ٧٩٠،و حدیث نمبر ٧٩١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان شریف کے آخری دس دنوں میں اعتکاف بیٹھتے اور ارشاد فرماتے رمضان کے آخری عشرہ میں لیلتہ القدر کو تلاش کرو۔ اس باب میں حضرت عمر ، ابی بن کعب ، جابر بن سمره ، جابر بن عبد الله ابن عمر، فلتان بن عاصم ، انس ، ابوسعید عبدالله بن انیس ابوبکرہ ، ابن عباس ، بلال اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے" یجاور" کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں بیٹھتے اکثر روایات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے (لیلہ القدر کو ) رمضان شریف کے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو لیلتہ القدر کے بارے میں آپ سے مروی ہے کہ وہ اکیسویں تیسویں پچیسویں ۔ ستائیسویں ، انتیسویں اور آخری رات ہے ۔ امام شافعی فرماتے ہیں میرے نزدیک یہی ہے اللہ تعالی خوب جانتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوال کے مطابق جواب دیتے تھے ۔ عرض کیا جاتا ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے فلاں رات میں تلاش کرو۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔ مرے نزدیک اکیسویں رات کی روایت زیادہ قوی ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قسم کھاتے کے وہ اکیسویں رات ہے اور فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کی نشانی بتائی ہم نے اسے شمار کیا اور یاد رکھا ابو قلابہ فرماتے ہیں لیلۃ القدر اخری دس راتوں میں پھرتی رہتی ہے۔ عبد بن حمید نے بواسطہ عبدالرزاق معمر اور ایوب،ابو قلابہ سے اس کی خبر دی۔ حضرت زر فر ماتے ہیں میں نے حضرت ابی بن کعب سے پوچھا اے ابو المنذر ! تجھے کیسے معلوم ہوا کہ یہ ستائیسویں رات ہے آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ اس رات کی صبح کو سورج کی شعاع نہیں ہو گی ہم نے اس بات کا خیال کیا اور اسے یاد رکھا اللہ کی قسم ! ابن مسعود کو معلوم ہے کہ وہ رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے لیکن انہوں نے تمہیں بتا نا پسند نہ کیا تا کہ تم اس پر اکتفا نہ کرلو امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ عیینہ بن عبد الرحمٰن فرماتے ہیں مجھ سے میرے والد نے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ابو بکرہ کے پاس لیلتہ القدر کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا میں اسے تلاش نہیں کرتا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات سنی ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) آگاہ رہو! وہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے نیز میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے تلاش کرو جب نو یا سات یا پانچ یا تین راتیں یا آخری رات باقی رہ جائے ۔ عبد الرحمٰن کہتے ہیں ابو بکرہ ، رمضان کے پہلے بیسں دنوں میں عام دنوں کی طرح نماز پڑھتے جب آخری دس دن شروع ہوتے تو کوشش فرماتے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۳۶؛مَا جَاءَ فِی لَيْلَةِ الْقَدر، جلد ۱ص۴۲۵،حدیث نمبر ٧٩٢،و حدیث نمبر ٧٩٣،و حدیث نمبر ٧٩٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں گھر والوں کو (عبادت کے لیے) جگا تے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں (عبادت کی) جس قدر کوشش فرماتے اتنی دوسرے دنوں میں نہ فرماتے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۳۷؛مِنْهُ، جلد ۱ص۴۲۶،حدیث نمبر ٧٩٥،و حدیث نمبر ٧٩٦)
حضرت عامر بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ٹھنڈی نعمت ہے ، سردیوں میں روزہ رکھنا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث مرسل ہے عامر بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ نہیں پایا اور یہ ابراہیم بن عامر قرشی کے والد ہیں ان سے شعبہ اور سفیان ثوری نے روایت کی ہے (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۳۸؛مَا جَاءَ فِی الصّومِ فی الشتاء، جلد ۱ص۴۲۷،حدیث نمبر ٧٩٧)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں جب آیت" و علی الذین یطیقونه" اور جنہیں طاقت نہ ہو ان پر ایک مسکین کا کھانا فدیہ ہے ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جو چاہتا روزه نہ رکھتا اور فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ بعد والی آیت نازل ہوئی اور اس نے اسے منسوع کر دیا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ یزید سے ابو عبید کے بیٹے مراد ہیں جو سلمہ بن اکوع کے غلام ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۳۹؛مَا جَاءَ عَلَى الَّذِينَ يُطيقونة، جلد ۱ص۴۲۷،حدیث نمبر ٧٩٨)
محمد بن کعب فرماتے ہیں میں رمضان شریف کے مہینے میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ سفر پر جانا چاہتے تھے۔ میں نے ان کی سواری پر کجاوہ باندہا انہوں نے سفر کا لباس پہنا اور پھر کھانا منگا کر کھایا میں نے پوچھا یہ سنت ہے ؟ تو فرمایا ہاں سنت ہے پھر آپ سوار ہو گئے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۴۰؛مَا جَاءَ فِی مَنْ أَكَلَ تُم خَرَجَ يُرِيدُ سَفَرًا، جلد ۱ص۴۲۷،حدیث نمبر ٧٩٩)
ایک دوسری سند سے بھی حضرت محمد بن کعب سے یونہی مروی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور محمد بن جعفر سے مراد ابن ابی کثیر مدینی ہیں یہ تقہ ہیں اور اسماعیل بن جعفر کے بھائی ہیں۔ عبداللہ بن جعفر نجیح کے بیٹے اور علی بن مدینی کے والد ہیں یحییٰ معین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے بعض علماء کا اس حدیث پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں مسافر کے لئے سفر پر جانے سے گھرمیں افطار کرنا جائز ہے ۔ لیکن نماز میں قصر اس وقت تک جائز نہیں جب تک شہر یا گاؤں کی دیوار سے باہر نہ ہو جائے اسحاق بن ابراہیم اس کے قائل ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۴۰؛مَا جَاءَ فِی مَنْ أَكَلَ تُم خَرَجَ يُرِيدُ سَفَرًا، جلد ۱ص۴۲۸،حدیث نمبر ٨٠٠)
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کا تحفہ تیل اور انگیٹھی ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب اس کی سند کچھ نہیں ہم اسے صرف سعد بن طریف کی روایت سے جانتے ہیں اور سعد، ضعیف ہے ۔ عمیر بن مامون کو عمیر بن ماموم بھی کہا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۴۱؛مَا جَاءَ فِی تُحْفَةِ الصَّائِمِ،جلد۱ص۴۲۸،حدیث نمبر ٨٠١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عید الفطر اس دن ہے جب لوگ روزہ افطار کریں اور عید الاضحیٰ اس دن ہے جب لوگ قربانی کریں امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے پوچھا کیا محمد بن منکدرنے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنی ہے انہوں نے فرمایا "ہاں "وہ اپنی حدیث میں کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے سنا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۴۲؛مَا جَاءَ فِی الْفِطْرِ وَ الْأَضْحٰى مَتٰى يَكُوْنُ - جلد ۱ص۴۲۹،حدیث نمبر ٨٠٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال رمضان شریف کے آخری عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھتے تھے ایک سال اعتکاف میں نہ بیٹھے تو آئندہ سال بیسں دن اعتکاف میں بیٹھے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حضرت انس کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے ۔ علماء کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو اعتکاف میں بیٹھ کر پورا کرنے سے پہلے توڑ ڈالے بعض علماء فرماتے ہیں اعتکاف توڑنے سے قضاء واجب ہے انہوں نے حدیث شریف سے استدلال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف سے باہر تشریف لائے اور پھر شوال کے دس دن اعتکاف میں بیٹھے ۔ امام مالک کا یہی قول ہے بعض علماء کے نزدیک اگر نذر کا اعتکاف ہو یا ایسا اعتکاف ہو جو خود اس نے اپنے اوپر واجب نہ کیا ہو بلکہ نفل ہو تو اس صورت میں اعتکاف توڑنے سے قضاء واجب نہیں بلکہ اسے اختیار ہے امام شافعی کا یہی قول ہے امام شافعی فرماتے ہیں ہر وہ عمل جس کا شروع کرنا تمہارے لیے لازمی نہیں اگر اس کو شروع کر کے توڑ دیا تو قضاء واجب نہیں البتہ حج اور عمرہ کی قضاء ہے اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۴۳؛مَا جَاءَ فِي الْاعْتِكَافِ إِذَاخَرَجَ مِنْهُ، جلد ۱ص۴۲۹،حدیث نمبر ٨٠٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مبارک میرے قریب کرتے اور میں کنگھی کرتی اور آپ صرف انسانی ضرورت کے لئے ہی گھر میں تشریف لاتے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اسی طرح کئی راویوں نے حضرت مالک بن انس سے روایت کیا ہے ۔ ابن شہاب بواسطہ عروہ اور عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں اور صحیح یہ ہے کہ عروہ اور عمرہ دونوں حضرت ام المؤمنین سے روایت کرتے ہیں اسی طرح اسکو لیث بن سعد نے بواسطہ ابن شہاب ، عروہ اور عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۴۴؛الْمُعْتَكِفُ يَخْرُجُ لِحَاجَتِهِ امْ لَا - جلد ۱ص۴۳۰،حدیث نمبر ٨٠٤)
قتیبہ نے لیث سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے کہ اعتکاف بیٹھنے والا صرف انسانی ضرورت کے لئے باہر جا سکتا ہے۔ اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ قضائے حاجت اور پیشاب کے لئے جاسکتا ہے۔ بیمار پرسی جمعہ کی نماز اور جنازہ کے لئے جانے میں علماء کا اختلاف ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کے نزدیک اگر اعتکاف بیٹھتے وقت ان امور کی شرط کر لی تو بیمار پرسی جمعہ کی نماز اور جنازہ کے لئے جاسکتا ہے سفیان ثوری اور اس مبارک رحمہما اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء کے نزدیک یہ (تینوں) کام نہیں کر سکتا وہ فرماتے ہیں اگر معتکف اس شہر میں ہو جہاں جمعہ ہوتا ہے تو جامع مسجد میں اعتکاف بیٹھے تاکہ ضرورت انسانی کے بغیر اسے باہر جانے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ ان علماء کے نزدیک انسانی ضرورت کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے باہر جانا اعتکاف کو توڑ دیتا ہے امام مالک اور شافعی رحمہما اللہ کا یہی قول ہے امام احمد فرماتے ہیں حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مطابق بیمار پرسی اور جنازہ میں شمولیت کے لیے نہ جائے۔ امام اسحٰاق فرماتے ہیں اگر شرط لگائی ہے تو پھر جنازہ میں بھی شریک ہو سکتا ہے اور بیمار پرسی بھی کر سکتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۴۴؛الْمُعْتَكِفُ يَخْرُجُ لِحَاجَتِهِ امْ لَا - جلد ۱ص۴۳۰،حدیث نمبر ٨٠٥)
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز (تراویح) نہ پڑھائی جب رمضان شریف کے سات دن باقی رہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ ( نماز پڑھانے کے لئے ) کھڑے ہوئے یہاں تک کہ تہائی رات گزرگئی پھر اگلی رات نہ کھڑے ہوئے اور پچیسویں رات کو نماز پڑھائی یہاں تک کہ نصف رات گزر گئی ۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باقی رات بھی ہمیں نماز پڑھاتے (تو اچھا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلام نے فرمایا جو شخص امام کے ہمراہ (نماز کے لئے ) سلام پھیرنے تک کھڑا ہو اس کے لئے پوری رات قیام (کا ثواب )لکھا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز تراویح نہ پڑھائی یہاں تک کہ تین دن باقی رہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستائیسویں شب کو نماز پڑھائی اپنے اہل بیت و ازواج مطہرات کو بھی بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی لمبی نماز پڑھائی کہ ہمیں سحری (کے چھوٹ جانے) کا خوف ہوا جبیر بن نفیر کہتے ہیں میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا فلاح کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "سحری " امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ علماء کا قیام رمضان (تراویح) میں اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک وتروں کے ساتھ اکیس رکعات ہیں اہل مدینہ کا یہ قول ہے اور اسی پر مدینہ والوں کا عمل ہے اکثر علماء کے نزدیک جیسا کہ حضرت علی عمر رضی اللہ عنہما اور کئی دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہے۔ بیس رکعات ہیں سفیان ثوری، ابن مبارک،شافعی،(اور امام ابو حنیفہ) رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے اسی طرح اپنے شہر مکہ مکرمہ والوں کو بیس رکعت پڑھتے ہوئے پایا ہے امام احمد رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس بارے میں مختلف روایات ہیں انہوں نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔ امام اسحٰاق فرماتے ہیں ہم اکتالیس رکعتیں پسند کرتے ہیں جس طرح کہ حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے۔ ابن مبارک۔ احمد اور اسحٰاق رحمہم اللّٰہ نے جماعت کے ساتھ تراویح کو پسند فرمایا لیکن امام شافعی فرماتے ہیں اگر قاری ہو تو علیحدہ پڑھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۴۵؛مَا جَاءَ فِی قَيَام شَهْرِ رَمَضَانَ، جلد ۱ص۴۳۱،حدیث نمبر ٨٠٦)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے روزہ دار کو روزہ افطار کرایا اس کے لئے اس کی مثل یعنی روزہ دار برابر ثواب ہے اس کے بغیر کہ روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی ہو امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم ؛باب۵۴۶؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ مَنْ فَطَّرَصَائِمًا - جلد ۱ص۴۳۲،حدیث نمبر ٨٠٧)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بنی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیام رمضان (تراویح) کی طرف رغبت دیتے لیکن وجوب کا حکم نہ فرماتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے رمضان( کی راتوں ) میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے گئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال تک یہی صورت رہی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اور پھر دور فاروقی کے شروع شروع میں بھی یہی حالت رہی۔ اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی حدیث مروی ہے یہ حدیث صحیح ہے زہری نے بواسطہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث مرفوعاً روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصوم؛باب۵۴۷؛التَرَعْبُبُ فِی قَيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الْفَضْلِ - جلد ۱ص۴۳۲،حدیث نمبر ٨٠٨)
Tirmizi Shareef : Abwabus Saom
|
Tirmizi Shareef : أبواب الصوم
|
•