asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Haj

From 809 to 964

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ابو تشریح عدوی سے مروی ہے انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا اور وہ مکہ مکرمہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا ، اے امیر ! مجھے اجازت دو میں تم سے ایک بات بیان کروں جس کے ساتھ کل یوم فتح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے میرے کانوں نے سنا دل نے یاد رکھا اور آنکھوں نے دیکھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات بیان فرمائی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر فرمایا بے شک اللہ تعالٰی نے مکہ مکرمہ کو قابل عزت بنایا اسے لوگوں نے قابل احترام نہیں بنا یا کسی شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے یہ جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے یا وہاں کے درخت کاٹے اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (وہاں) قتال کی وجہ سے اس میں لڑائی کو جائز سمجھے تو اسے کہو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی تجھے تو اجازت نہیں دی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا )مجھے ایک دن تھوڑی سی دیر کے لئے اجازت دی۔ پھر اس کی عزت و احترام ایسے ہی لوٹ آئی جیسی کل تھی۔ حاضر ، غائب تک یہ بات پہنچا دئے ۔ ابو شریح سے پوچھا گیا پھر آپ کو عمرو بن سعید نے کیا جواب دیا ؟ انہوں نے فرمایا عمرو نے جواب دیا اے ابو شریح ! میں تجھ سے زیادہ جانتا ہوں کہ حرم شریف کسی گنہگار ،خون کر کے بھاگنے والے اور تقصیر کر کے بھاگنے والے کو پناہ نہیں دیتا، امام ترمذی فرماتے ہیں۔ خزیہ(بے حیائی کا کام) کا لفظ بھی مروی ہے اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو شریح حسن صحیح ہے ابو شریح خزاعی کا نام خویلد بن عمرو عدوی کعبی ہے۔ ولا فارا بخربۃٍ۔ سے مراد جنایت یعنی تقصیر کر کے بھاگنے والا مراد ہے جو شخص نقصان کر کے خون ریزی کے بعد حرم میں آجائے اس پر حد قائم کی جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۴۳۳؛ عنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَہ ، مَا جَاءَ فِي حُرُمَةِ مَكَةً -جلد ۱ص۴۳۳،حدیث نمبر ٨٠٩)

أبواب الحج أَبْوَابُ الحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي حُرْمَةِ مَكَّةَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ العَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ البُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ، أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغَدَ مِنْ يَوْمِ الفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ، حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ: حَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا، أَوْ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً،، فَإِنْ أَحَدٌ - تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكَ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهِ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا اليَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الغَائِبَ "، فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ، وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ.: وَيُرْوَى وَلَا فَارًّا بِخِزْيَةٍ، وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: «حَدِيثُ أَبِي شُرَيْحٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَأَبُو شُرَيْحٍ الخُزَاعِيُّ: اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ العَدَوِيُّ، وَهُوَ الكَعْبِيُّ " وَمَعْنَى قَوْلِهِ: «وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ»، يَعْنِي: الجِنَايَةَ، يَقُولُ: مَنْ جَنَى جِنَايَةً، أَوْ أَصَابَ دَمًا، ثُمَّ لَجَأَ إِلَى الحَرَمِ فَإِنَّهُ يُقَامُ عَلَيْهِ الحَدُّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 809

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حج اور عمرہ  ایک دوسرے کے بعد کرتے رہو کیونکہ یہ دونوں محتاجی اور گناہ کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے سونے اور چاندی کی میل کچیل کو دور کرتی ہے حج مقبول کا ثواب جنت ہے اس باب میں حضرت عمر ، عامر بن ربیعہ، ابو ہریرہ ، عبدالله بن حبشی ام سلمہ اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن مسعود اس روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۴۹؛مَا جَاءَ فِی ثَوَابِ الْحَجِّ وا لعُمْرَةِ۔ جلد ۱ص۴۳۴،حدیث نمبر ٨١٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَابِعُوا بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الكِيرُ خَبَثَ الحَدِيدِ، وَالذَّهَبِ، وَالفِضَّةِ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ المَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الجَنَّةُ» وَفِي البَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَجَابِرٍ.: «حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 810

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے حج کیا پس نہ عورت سے ہمبستری کی اور نہ ہی گناہ کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے ۔ ابو حازم کوفی اشجعی ہیں ، ان کا نام سلمان ہے اور یہ عزۃ الاشجعیہ کے غلام ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۴۹؛مَا جَاءَ فِی ثَوَابِ الْحَجِّ وا لعُمْرَةِ۔ جلد ۱ص۴۳۴،حدیث نمبر ٨١١)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَأَبُو حَازِمٍ كُوفِيٌّ وَهُوَ الأَشْجَعِيُّ،: وَاسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الأَشْجَعِيَّةِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 811

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس سامان سفر اور سواری ہو جو اسے بیت اللہ شریف تک پہنچا دے پھر وہ حج نہ کرے پس اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کہ ۔ اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالی اپنی کتاب میں فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے لئے بیت اللہ شریف کا حج ان لوگوں پر فرض ہے جو اس کی طرف جانے کی طاقت رکھتے ہوں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے پہچانتے ہیں اس کی سند میں کلام ہے ہلال بن عبد الله مجہول ہے اور حارث کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۰؛مَاجَاءَ مِنَ التَّغْلِيظِ فِی تَرْكِ الحَج۔ جلد ۱ص۴۳۵،حدیث نمبر ٨١٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الحَجِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى القُطَعِيُّ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى رَبِيعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ البَاهِلِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الهَمْدَانِيُّ، عَنْ الحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: 97] ": «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَجْهُولٌ، وَالحَارِثُ يُضَعَّفُ فِي الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 812

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک شخص نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس چیز سے حج فرض ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سامان سفر اور سواری سے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ جب کوئی شخص زادراہ اور سواری کا مالک ہو اس پر حج فرض ہے ابراہیم بن یزید، خوزی مکی ہے ۔ بعض علماء نے اس کے حفظ میں کلام کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۱؛مَا جَاءَ فِیْ إِيجَابِ الْحَجِّ بِالزَّادِوَ الرَّاحِلَةِ، جلد ۱ص۴۳۵،حدیث نمبر ٨١٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي إِيجَابِ الحَجِّ بِالزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُوجِبُ الحَجَّ؟ قَالَ: «الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَالعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً وَجَبَ عَلَيْهِ الحَجُّ «وَإِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الخُوزِيُّ المَكِّيُّ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 813

حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں جب آیت کر یمہ" وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ الخ " اور اللہ کے لئے لوگوں پر بیت اللہ کاحج فرض ہے جو وہاں تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں ) نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اور فرمایا ، اگر میں ہاں کہدیتا تو واجب ہو جاتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں نہ پوچھو کہ اگر تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں " اس باب میں حضرت ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی رضی اللہ عنہ اس طریق سے حسن غریب ہے ابو بختری کا نام سعید بن ابی عمران ہے، اور وہ سعید بن فیروز ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۲؛مَا جَاءَ كَم فُرِضَ الحَجُّ، جلد ۱ص۴۳۵،حدیث نمبر ٨١٤)

بَابُ مَا جَاءَ كَمْ فُرِضَ الحَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي البَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: 97]، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ «فَسَكَتَ»، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ قَالَ: " لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ , لَوَجَبَتْ "، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ، سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: أَبُو الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا. وَاسْمُ أَبِي البَخْتَرِيِّ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ فَيْرُوزَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 814

حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حج کئے دو حج ہجرت سے پہلے اور ایک حج ہجرت کے بعد۔ اس کے ساتھ عمرہ بھی کیا آپ تریسٹھ (۶۳) اونٹ لے گئے باقی اونٹ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ یمن سے لیکر آئے ان میں ایک اونٹ ابو جہل کا بھی تھا اس کے ناک میں نکیل تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی قربانی کی اور ہر جانور سے ایک ایک بوٹی لیکر پکانے کا حکم فرمایا پس گوشت پکا یا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ شوربہ نوش فرمایا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث سفیان کی روایت سے غریب ہے ، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے پہچانتے ہیں ۔ میں نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن کو دیکھا انہوں نے یہ حدیث اپنی کتابوں میں عبد اللہ بن زیاد سے روایت کی میں نے امام بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سفیان ثوری کی سند سے نہیں پہنچانا میرا خیال ہے کہ وہ اسے محفوظ حدیث نہیں سمجھتے تھے ۔ نیز فرماتے تھے کہ یہ سفیان ثوری سے بواسطہ اسحٰاق و مجاہد مرسلاً مروی ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کئے انہوں نے فرمایا ایک حج اور چار عمرے ایک عمرہ ذی قعدہ میں دوسرا عمرہ حدیبیہ تیسرا عمرہ حج کے ساتھ اور چوتھا عمرہ جعرانہ میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کی غنیمت تقسیم فرمائی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے حبان بن ہلال ابو حبیب بصری ہیں۔ اور وہ بڑے بزرگ ثقہ ہیں یحییٰ بن سعید قطان نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۳؛ مَا جَاءَ كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جلد ۱ص۴۳۶،حدیث نمبر ٨١٥)

بَابُ مَا جَاءَ كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، -عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَجَّ ثَلَاثَ حِجَجٍ، حَجَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ، وَحَجَّةً بَعْدَ مَا هَاجَرَ، وَمَعَهَا عُمْرَةٌ، فَسَاقَ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ بَدَنَةً»، وَجَاءَ عَلِيٌّ مِنَ اليَمَنِ بِبَقِيَّتِهَا فِيهَا جَمَلٌ لِأَبِي جَهْلٍ فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ «فَنَحَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبِضْعَةٍ، فَطُبِخَتْ، وَشَرِبَ مِنْ مَرَقِهَا»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ» وَرَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَوَى هَذَا الحَدِيثَ فِي كُتُبِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَلَمْ يَعْرِفْهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَيْتُهُ لَمْ يَعُدَّ هَذَا الحَدِيثَ مَحْفُوظًا "، وقَالَ: إِنَّمَا يُرْوَى عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ مُرْسَلًا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " حَجَّةً وَاحِدَةً، وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ: عُمْرَةٌ فِي ذِي القَعْدَةِ، -[171]- وَعُمْرَةُ الحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ، وَعُمْرَةُ الجِعِرَّانَةِ، إِذْ قَسَّمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَحَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ هُوَ أَبُو حَبِيبٍ البَصْرِيُّ هُوَ جَلِيلٌ ثِقَةٌ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 815

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے پہلا عمرہ حدیبیہ ، دوسرا عمرہ جو دوسرے سال قضاء کے طور پر کیا تیسرا عمرہ جعرانہ سے اور چوتھا حجۃ الوداع کے ساتھ اس باب میں حضرت انس ، عبد اللہ بن عمرو اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس غریب ہے۔ ابن عیینہ نے یہ حدیث بواسطه عمرو بن دینار حضرت عکرمہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار عمرے کئے اس روایت میں حضرت ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ۔ سعید بن عبد الرحمٰن مخزومی نے بواسطہ سفیان بن عیینہ اور عمرو بن دینار حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۴؛مَا جَاءَ كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُ صَلى اللّٰهُ عِليْهِ وَسَلَمْ، جلد ۱ص۴۳۷،حدیث نمبر ٨١٦)

بَابُ مَا جَاءَ كَمْ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ العَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ: عُمْرَةَ الحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةَ الثَّانِيَةِ مِنْ قَابِلٍ، وَعُمْرَةَ القَضَاءِ فِي ذِي القَعْدَةِ، وَعُمْرَةَ الثَّالِثَةِ مِنَ الجِعِرَّانَةِ، وَالرَّابِعَةِ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ " وَفِي البَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»، وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ المَخْزُومِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 816

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں سے احرام باندھا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا تو لوگوں کو اطلاع دی اور مقام بیدا، پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ۔ اس باب میں حضرت ابن عمر ، انس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحج،باب۵۵۵؛ مَاجَاءَ فِیْ اَيِّ مَوْضِعٍ اَحْرَمَ النَّبي صلى الله عليه وسلم، جلد۱ص۴۳۷، حدیث نمبر ٨١٧)

بَابُ مَا جَاءَ مِنْ أَيِّ مَوْضِعٍ أَحْرَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحَجَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَلَمَّا أَتَى البَيْدَاءَ أَحْرَمَ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَالمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ.: «حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 817

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مقام بیداء کا ذکر کر کے تم رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولتے ہو اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد حرام کے پاس ایک درخت کے قریب احرام باندها امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحج،باب۵۵۵؛ مَاجَاءَ فِیْ اَيِّ مَوْضِعٍ اَحْرَمَ النَّبي صلى الله عليه وسلم، جلد۱ص۴۳۷، حدیث نمبر ٨١٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «البَيْدَاءُ -الَّتِي يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ المَسْجِدِ مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 818

رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کب احرام باندھا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے بعد احرام باندھا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ عبد السلام بن حرب کے سوا کسی اور نے اسے روایت کیا ہو۔ اس بات کو علماء نے پسند کیا ہے کہ آدمی نماز کے بعد احرام باندھے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۶؛مَاجَا مَتٰى أَحْرَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَليہ وَسَلِّم، جلد ۱ص۴۳۸،حدیث نمبر ٨١٩)

بَابُ مَا جَاءَ مَتَى أَحْرَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ العِلْمِ: أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 819

حج افراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج افراد کیا ۔ اس باب میں حضرت جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم نے حج افراد کیا۔ قتیبہ نے بواسطہ عبداللہ بن نافع صائغ ، عبید اللہ بن عمر اور نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث روایت کی امام ترمذی حضرت سفیان کا قول نقل کرتے ہیں کہ افراد ، قران اور تمتع میں سے جو بھی ہو اچھا ہے امام شافعی نے بھی اسی طرح فرمایا اور کہا کہ ہمیں زیادہ پسند افراد ہے پھر تمتع پھر قران - ف : حج کی تین قسمیں ہیں افراد، قران، اور متمتع۔ صرف حج کا احرام جس باندھا وہ مفرد ہے ، حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھنے والا قارن اور عمرہ کا احرام باندھ کر افعال عمرہ بجا لائے پھر ایام حج میں حج کا احرام باندھ کر حج ادا کرے تو یہ متمتع ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے تو احرام نہ کھولے اور جانور ساتھ نہیں تو احرام کھول دے لیکن مکہ مکرمہ میں ہی ٹھہرا رہے اور حج سے پہلے کہیں نہ جائے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک قِران افضل ہے۔ مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۷؛مَا جَاءَ فِیْ اِفْرَادِ الحَجِّ - جلد ۱ص۴۳۸،حدیث نمبر ٨٢٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي إِفْرَادِ الحَجِّ حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قِرَاءَةً عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الحَجَّ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ» وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» أَفْرَدَ الحَجَّ «، وَأَفْرَدَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ» حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا.: وقَالَ الثَّوْرِيُّ: «إِنْ أَفْرَدْتَ الحَجَّ فَحَسَنٌ، وَإِنْ قَرَنْتَ فَحَسَنٌ، وَإِنْ تَمَتَّعْتَ فَحَسَنٌ»، وقَالَ الشَّافِعِيُّ مِثْلَهُ، وَقَالَ: «أَحَبُّ إِلَيْنَا الإِفْرَادُ، ثُمَّ التَّمَتُّعُ، ثُمَّ القِرَانُ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 820

حج و عمرہ جمع کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے، الٰہی میں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ اس باب میں حضرت عمر اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرمات ہیں حدیث انس حسن صحیح ہے بعض علماء اسی طرف گئے ہیں کوفہ والوں اور دوسرے لوگوں نے اسے پسند کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۸؛مَاجَاءَ فِی الجَمْعِ بَيْنَ الْحَجِّ وَالَعُمْرَةِ، جلد ۱ص۴۳۹،حدیث نمبر ٨٢١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الجَمْعِ بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ» وَفِي البَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِلَى هَذَا، وَاخْتَارَهُ مِنْ أَهْلِ الكُوفَةِ، وَغَيْرِهِمْ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 821

محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ حج اور عمرے کو ملا کر تمتع کرنے کا ذکر کر رہے تھے۔ ضحاک بن قیس نے کہا ایسا وہی کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بے خبر ہو ۔ حضرت سعد نے کہا اے بھائی ! تو نے بری بات کہی ضحاک نے کہا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا ہے، حضرت سعد نے کہا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا اور ہم نے بھی آپ کے ہمراہ اسی طرح کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۹؛مَا جَاءَ فِی التَّمَتُّع - جلد ۱ص۴۳۹, حدیث نمبر ٨٢٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالعُمْرَةِ إِلَى الحَجِّ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ: لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ سَعْدٌ: «قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 822

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے تمتع کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس سے منع فرمایا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۹؛مَا جَاءَ فِی التَّمَتُّع - جلد ۱ص۴۳۹،حدیث نمبر ٨٢٣)

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاووُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ "، وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 823

ابن شہاب سے مروی ہے سالم بن عبداللہ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ایک شامی کو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عمرہ اور حج کو ملا کر تمتع کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا۔  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ جائز ہے۔ شامی نے کہا آپ کے والد نے منع فرمایا ہے حضرت ابن عمر نے فرمایا بتاؤ اگر میرے باپ نے منع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا تو کیا میرے باپ کی اتباع کی جائے گی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اپنایا جائے گا ؟ اس شخص نے کہا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی پیروی کی جائے گی، آپ نے فرمایا تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس باب میں حضرت علی، عثمان ، جابر، سعد ، اسماء بنت ابی بکر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن ہے صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت نے عمرہ کے ساتھ تمتع کو پسند کیا ہے، تمتع یہ ہے کہ آدمی حج کے مہینے میں عمرہ کے ساتھ داخل ہو پھر ٹھہرا رہے یہاں تک کہ حج کرے۔ یہ متمتع کہلاتا ہے ۔ اس پر ایک جانور کا ذبح کرنا فرض ہے جو بھی حاصل ہو ۔ جسے (قربانی کا جانور ) نہ ملے وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے گھر لوٹ کر رکھے۔ متمتع کے لئے مستحب ہے کہ وہ تین روزے جو حج کے دنوں میں رکھ رہا ہے پہلے عشرہ میں ہوں اور آخری روزہ عرفہ کے دن ہو۔ اگر عشرہ اول میں نہیں رکھے تو پھر ایام تشریق میں رکھے یہ بعض صحابہ کرام کا قول ہے ان میں حضرت ابن عمر،اور عائشہ رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں امام مالک،شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے،بعض علماء فرماتے ہیں ایام تشریق میں نہ رکھے اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۹؛مَا جَاءَ فِی التَّمَتُّع - جلد ۱ص۴۳۹،حدیث نمبر ٨٢٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالعُمْرَةِ إِلَى الحَجِّ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: هِيَ حَلَالٌ، فَقَالَ الشَّامِيُّ: إِنَّ أَبَاكَ قَدْ نَهَى عَنْهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: " أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَبِي نَهَى عَنْهَا وَصَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَأَمْرَ أَبِي نَتَّبِعُ؟ - أَمْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ الرَّجُلُ: بَلْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَقَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانَ، وَجَابِرٍ، وَسَعْدٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ عُمَرَ. حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمُ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ. وَالتَّمَتُّعُ أَنْ يَدْخُلَ الرَّجُلُ بِعُمْرَةٍ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، ثُمَّ يُقِيمُ حَتَّى يَحُجَّ فَهُوَ مُتَمَتِّعٌ وَعَلَيْهِ دَمٌ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيُسْتَحَبُّ لِلْمُتَمَتِّعِ إِذَا صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ، أَنْ يَصُومَ الْعَشْرَ وَيَكُونَ آخِرُهَا يَوْمَ عَرَفَةَ، فَإِنْ لَمْ يَصُمْ فِي الْعَشْرِ صَامَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، فِي قَوْلِ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمُ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ. وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَصُومُ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ. وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ. وَأَهْلُ الْحَدِيثِ يَخْتَارُونَ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ فِي الْحَجِّ. وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 824

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اُنہوں نے احرام باندھا اور یہ تلبیہ کہتے ہوئے چلے میں حاضر ہوں اے اللہ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں تیرے حضور حاضر ہوں بے شک تعریف، نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں حضرت نافع کہتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، آپ (حضرت ابن عمر ) اس تلبیہ میں اپنی طرف سے یہ اضافہ فرماتے میں حاضر بار گاہ ہوں میں حاضر بارگاہ ہوں میں تیری عبادت کے لیے ہر وقت تیار ہوں بھلائی تیرے ہی اختیار میں سے تیری ہی طرف رغبت ہے اور عمل تیری ہی رضا کے لیے ہے " یہ حدیث صحیح ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت ابن مسعود، جابر ، عائشہ، ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر ، حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے۔ سفیان ثوری، شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی مسلک ہے امام شافعی فرماتے ہیں اگر کسی نے تلبیہ میں کچھ ایسے الفاظ زیادہ کیے جن میں اللہ تعالی کی تعظیم پائی جاتی ہے تو انشاءاللہ کوئی حرج نہیں لیکن مجھے یہ بات پسند ہے کہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہی پڑھے امام شافعی فرماتے ہیں یہ بات کہ تعظیم خداوندی کے کچھ الفاظ زیادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہم نے اس لیے کہی کہ حضرت ابن عمر کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یاد تھا پھر (بھی) آپ نے اپنی طرف سے اس میں یہ الفاظ زیادہ کیے۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں تیری ہی طرف رغبت ہے اور تیرے ہی لیے عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۰؛مَا جَاءَ فِي التَّلبيةِ، جلد ۱ص۴۴۱, حدیث نمبر ٨٢٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّلْبِيَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.: «حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: «وَإِنْ زَادَ فِي التَّلْبِيَةِ شَيْئًا مِنْ تَعْظِيمِ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» - قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَإِنَّمَا قُلْنَا لَا بَأْسَ بِزِيَادَةِ تَعْظِيمِ اللَّهِ فِيهَا لِمَا جَاءَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ حَفِظَ التَّلْبِيَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ زَادَ ابْنُ عُمَرَ فِي تَلْبِيَتِهِ مِنْ قِبَلِهِ: لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالعَمَلُ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 825

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اُنہوں نے احرام باندھا اور یہ تلبیہ کہتے ہوئے چلے میں حاضر ہوں اے اللہ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں تیرے حضور حاضر ہوں بے شک تعریف، نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں حضرت نافع کہتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر فرمایا کرتے تھے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، آپ (حضرت ابن عمر ) اس تلبیہ میں اپنی طرف سے یہ اضافہ فرماتے میں حاضر بار گاہ ہوں میں حاضر بارگاہ ہوں میں تیری عبادت کے لیے ہر وقت تیار ہوں بھلائی تیرے ہی اختیار میں سے تیری ہی طرف رغبت ہے اور عمل تیری ہی رضا کے لیے ہے " یہ حدیث صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۰؛مَا جَاءَ فِي التَّلبيةِ، جلد ۱ص۴۴۱, حدیث نمبر ٨٢٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ، فَيَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ»، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: " هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالعَمَلُ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 826

تلبیہ اور قربانی کی فضیلت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا حج افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس میں بلند آواز سے تلبیہ کہا جائے اور قربانی کی جائے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج،باب۵۶۱؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ التَّلْبِيَةِ وَالنَّحْرِ، جلد ۱ص۴۴۲،حدیث نمبر ٨٢٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ التَّلْبِيَةِ وَالنَّحْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «العَجُّ وَالثَّجُّ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 827

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مسلمان تلبیہ کہتا ہے،اس کے دائیں بائیں تمام پتھر ، درخت ڈھیلے (سب)  تلبیہ کہتے ہیں یہاں تک کہ زمین ادھرادھر (مشرق و مغرب )سے پوری ہو جاتی ہے۔ ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس باب میں حضرت ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو بکر غریب ہے ہم اسے صرف ابن ابی فدیک کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ محمد بن منکدر کو عبد الرحمٰن بن یربوع سے سماع حاصل نہیں محمد بن منکدر نے سعید بن عبد الرحمٰن کے واسطہ سے عبد الرحمٰن بن یربوع سے اس کے علاوہ حدیث روایت کی ہے ابو نعیم الطحان ضرار بن صرد نے یہ حدیث بواسطہ ابن ابی فدیک ، ضحاک بن عثمان محمد بن منکدر، سعید بن عبد الرحمٰن اور عبد الرحمٰن بن یربوع ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی اس میں ضرار سے خطاء واقع ہوئی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے احمد بن حنبل سے سنا آپ فرماتے تھے جس نے یہ حدیث بواسطہ محمد بن منکدر اور سعید بن عبد الرحمٰن ، عبد الرحمٰن یربوع سے روایت کی اس نے غلطی کی میں نے امام بخاری سے سنا جب ان کے سامنے ضرار بن صرد کی روایت کا ذکر کیا گیا تو فرمایا یہ غلط ہے ۔ میں نے عرض کیا ابن ابی فدیک سے دوسروں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے تو امام بخاری نے فرمایا کچھ نہیں ان راویوں نے ابن ابی فدیک سے روایت نقل کی لیکن اس میں سعید بن عبد الرحمٰن کا ذکر نہیں (امام ترمذی کہتے ہیں ) میرے خیال میں امام بخاری کی ضرار بن صرد کو ضعیف سمجھتے ہیں" عج "کے معنی بلند آواز سے تلبیہ کہتا اور ثج کے معنی قربانی ذبح کرنا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج،باب۵۶۱؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ التَّلْبِيَةِ وَالنَّحْرِ، جلد ۱ص۴۴۲،حدیث نمبر ٨٢٨)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ مِنْ حَجَرٍ، أَوْ شَجَرٍ، أَوْ مَدَرٍ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الأَرْضُ مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا» حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو البَصْرِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ. وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ.: «حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ»، «وَمُحَمَّدُ بْنُ المُنْكَدِرِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ»، «وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ المُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِيهِ، غَيْرَ هَذَا الحَدِيثِ»، وَرَوَى أَبُو نُعَيْمٍ الطَّحَّانُ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْطَأَ فِيهِ ضِرَارٌ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الحَسَنِ يَقُولُ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: «مَنْ قَالَ فِي هَذَا الحَدِيثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَقَدْ أَخْطَأَ». وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: " وَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ ضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، فَقَالَ: هُوَ خَطَأٌ "، فَقُلْتُ: قَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ -- ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ أَيْضًا مِثْلَ رِوَايَتِهِ، فَقَالَ: «لَا شَيْءَ إِنَّمَا رَوَوْهُ عَنْ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَرَأَيْتُهُ يُضَعِّفُ ضِرَارَ بْنَ صُرَدٍ»، " وَالعَجُّ: هُوَ رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ، وَالثَّجُّ: هُوَ نَحْرُ البُدْنِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 828

تلبیہ کے ساتھ آواز بلند کرنا حضرت خلاد بن سائب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور کہا کہ میں اپنے صحابہ کرام کو اہلال یا (فرمایا) تلبیہ کے ساتھ آواز بلند کرنے کا حکم دوں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث خلاد بواسطہ سائب حسن صحیح ہے بعض راویوں نے اسے بواسطہ خلاد بن سائب، فرید بن خالد سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور یہ صحیح نہیں صحیح روایت وہ ہے جس میں خلاد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور یہ خلاد بن سائب بن خلاد بن سوید انصاری ہیں، اس باب میں حضرت زید بن خالد ابو ہریرہ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۲؛مَا جَاءَ فِی رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّلبية، جلد ۱ص۴۴۳،حدیث نمبر ٨٢٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ» وَفِي البَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: «حَدِيثُ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الحَدِيثَ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ، وَالصَّحِيحُ هُوَ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، وَهُوَ خَلَّادُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 829

احرام باندھتے وقت غسل کرنا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما ) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کے لئے کپڑے اتارے اور غسل فرمایا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے بعض علماء کے نزدیک احرام کے وقت غسل کرنا مستحب ہے ۔ امام شافعی (اور امام ابو حنیفہ )رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۳؛مَا جَاءَ فِی الإِغْتِسَالِ عِندَ الإحرام، جلد ۱ص۴۴۴،حدیث نمبر ٨٣٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاغْتِسَالِ عِنْدَ الإِحْرَامِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ المَدَنِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ «رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهِ وَاغْتَسَلَ»:- «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ» وَقَدْ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ الِاغْتِسَالَ عِنْدَ الإِحْرَامِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 830

غیرملکی کیلیے مقامات احرام حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی نے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کہاں سے احرام باندھیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ والے ذوالحلیفہ سے ، اہل شام جحفہ سے ، نجد والے قرن سے اور یمن والے یلملم سے احرام باند ھیں ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس ، جابر بن عبداللہ اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۴؛مَا جَاءَ فِي مَوَاقِیتِ الْإِحْرَامِ لِأَهْلِ الافاق - جلد ۱ص۴۴۴،حدیث نمبر ٨٣١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي مَوَاقِيتِ الإِحْرَامِ لِأَهْلِ الآفَاقِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: مِنْ أَيْنَ نُهِلُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «يُهِلُّ أَهْلُ المَدِينَةِ مِنْ ذِي الحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ»، قَالَ: «وَأَهْلُ اليَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.: «حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 831

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مشرق کے لئے مقام عقیق کو میقات احرام باندھنے کی جگہ مقرر فرمایا امام ترمذی فرماتے ہی حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۴؛مَا جَاءَ فِي مَوَاقِیتِ الْإِحْرَامِ لِأَهْلِ الافاق - جلد ۱ص۴۴۴،حدیث نمبر ٨٣٢)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ المَشْرِقِ العَقِيقَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 832

محرم کیلیے کونسا لباس جائز نہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں حالت احرام میں کونسا لباس پہننے کا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قمیض پاجامہ برنس (برساتی ، پگڑی اور موزے نہ پہنو لیکن اگر کسی کے جوتے نہ ہوں تو ٹخنوں سے نیچے تک کے موزے پہن سکتا ہے وہ کپڑا بھی نہ پہنو جس میں زعفران اور ورس (ایک خوشبو) لگی ہو ۔ عورت ، حالت احترام میں نقاب نہ ڈالے اور نہ ہی دستانے پہنے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۷؛مَا جَاءَ فِي مَا لَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ لُبْسُہٗ، جلد ۱ص۴۴۵،حدیث نمبر ٨٣٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا لَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ لُبْسُهُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الحَرَمِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْبَسُوا القُمُصَ، وَلَا -- السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا البَرَانِسَ، وَلَا العَمَائِمَ، وَلَا الخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا مَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلَا الوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبِ المَرْأَةُ الحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسِ القُفَّازَيْنِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 833

تہبند اور جوتا نہ ہوتو پاجامہ اور موزے پہننا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: محرم کو تہبند نہ ملے تو پاجامہ پہن لے اور اگر جوتا نہ پائے تو موزے پہن لے۔ قتیبہ نے بواسطہ حماد بن زید حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے ۔اس باب میں حضرت ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں اگر محرم کو جوتے نہ ملے تو موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے سفیان ثوری اور امام شافعی رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۶؛مَا جَاءَ فِي لُبْسِ السَّرَاوِيلِ وَالْخُفَّيْنِ لِلمُحرمِ إِذَ الم يجد الإِزَارَ وَ النَعْلَينِ - جلد ۱ص۴۴۵،حدیث نمبر ٨٣٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ السَّرَاوِيلِ وَالخُفَّيْنِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ وَالنَّعْلَيْنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «المُحْرِمُ إِذَا لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ، وَإِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ» حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، نَحْوَهُ. وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ.:«هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا: إِذَا لَمْ يَجِدِ المُحْرِمُ الإِزَارَ لَبِسَ السَّرَاوِيلَ، وَإِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ لَبِسَ الخُفَّيْنِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ " وقَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ»، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 834

احرام کے وقت قمیض اور جبہ اتار دینا حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعرابی کو حالت احرام میں جبہ پہنے ہوئے دیکھا تو اسے اتارنے کا حکم دیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۷؛مَا جَاءَ فِي الذِي يُحْرِمَ وَ عَلَيْهِ قَمِیْصٌ اَوْجُبَّةٌ - جلد ۱ص۴۴۶،حدیث نمبر ٨٣٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الَّذِي يُحْرِمُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ أَوْ جُبَّةٌ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: «رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيًّا قَدْ أَحْرَمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْزِعَهَا»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 835

ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان ، عمرو بن دینار، عطاء، اور صفوان بن یعلی ٫ یعلی بن امیہ سے بہ حدیث مرفوعاً بیان کی صحیح روایت وہ ہے ہے عمرو بن دینار اور ابن جریج نے بواسطہ عطاء اور صفوان بن یعلی بن امیہ سےمرفوعاً روایت کیا ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۷؛مَا جَاءَ فِي الذِي يُحْرِمَ وَ عَلَيْهِ قَمِیْصٌ اَوْجُبَّةٌ - جلد ۱ص۴۴۶،حدیث نمبر ٨٣٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، «وَهَذَا أَصَحُّ، وَفِي الحَدِيثِ قِصَّةٌ».: هَكَذَا رَوَاهُ قَتَادَةُ، وَالحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 836

محرم کے لیے جانوروں کا قتل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا پانچ موزی جانور رہا ، بچھو ، کوا ، چیل اور کاٹنے والا کتا ، حرم میں بھی مار ڈالے جائیں اس باب میں حضرت ابن مسعود ابن عمر ، ابو ہریرہ ،ابو سعید اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۸؛مَاجَاءَ وَ يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوابِ، جلد ۱ص۴۴۶،حدیث نمبر ٨٣٧)

بَابُ مَا يَقْتُلُ المُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الحَرَمِ: الفَأْرَةُ، وَالعَقْرَبُ، وَالغُرَابُ، وَالحُدَيَّا، وَالكَلْبُ العَقُورُ " وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: «حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 837

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا محرم حملہ آور جانوروں کاٹنے والے کتے چوہے ، بچھو، چیل اور کوے کو مار ڈالے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے، اور علماء کا اس پر عمل ہے ۔ وہ فرماتے ہیں محرم ، حملہ آور جانوروں اور کتے کو مار ڈالے سفیان ثوری اور امام شافعی رحمہما اللہ کا یہی قول ہے امام شافعی فرماتے ہیں ہر وہ درندہ جو لوگوں یا ان کے چارپایوں پر حملہ آور ہو اسے محرم قتل کر ڈالے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۸؛مَاجَاءَ وَ يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوابِ، جلد ۱ص۴۴۶،حدیث نمبر ٨٣٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَقْتُلُ المُحْرِمُ السَّبُعَ العَادِيَ، وَالكَلْبَ العَقُورَ، وَالفَأْرَةَ، وَالعَقْرَبَ، وَالحِدَأَةَ، وَالغُرَابَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا: المُحْرِمُ يَقْتُلُ السَّبُعَ العَادِيَ وَالْكَلْبَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ " وقَالَ الشَّافِعِيُّ: «كُلُّ سَبُعٍ عَدَا عَلَى النَّاسِ أَوْ عَلَى دَوَابِّهِمْ فَلِلْمُحْرِمِ قَتْلُهُ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 838

محرم کے لیے سینگی کا حکم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالتِ احرام میں سینگی لگوائی ۔ اس باب میں حضرت انس عبد اللہ بن بحینہ اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے ایک جماعت نے محرم کے لئے سینگی لگوانے کی اجازت دی ہے۔ لیکن بال منڈوانے کی نہیں ۔ امام مالک فرماتے ہیں محرم ضرورت کے تحت سینگی لگوا سکتا ہے ۔ سفیان ٹوری اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ محرم کے لئے سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں لیکن بال نہ اُکھیڑے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۹؛مَا جَاءَ فِي الحَجَامَةِ لِلمُحرم، جلد ۱ص۴۴۷،حدیث نمبر ٨٣٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ،- عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ» وَفِي البَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، وَجَابِرٍ.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ فِي الحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ قَالُوا: لَا يَحْلِقُ شَعْرًا " وقَالَ مَالِكٌ: «لَا يَحْتَجِمُ المُحْرِمُ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ» وقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ: «لَا بَأْسَ أَنْ يَحْتَجِمَ المُحْرِمُ، وَلَا يَنْزِعُ شَعَرًا»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 839

محرم کو نکاح کی ممانعت نبیہ بن وہب کہتے ہیں ابن معمر نے اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہا تو مجھے امیر حج ابان بن عثمان کے پاس بھیجا میں نے آکر کہا آپ کا بھائی اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ آپ اس موقعے پر موجود ہوں۔ ابان بن عثمان نے فرمایا میں انہیں غافل اعرابی خیال کرتا ہوں۔ محرم نہ تو خود نکاح کر سکتا ہے اور نہ دوسرے کا نکاح کرا سکتا ہے ۔ یا جیسا کہ آپ نے فرمایا ) پھر حضرت عثمان سے مرفوع حدیث بیان کی ۔ اس باب میں حضرت ابو رافع اور میمونہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عثمان حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام کا اس پر عمل ہے جن میں حضرت عمربن خطاب علی ابن ابی طالب اور ابن عمر شامل ہیں بعض فقہاء تابعین کا یہی قول ہے امام مالک ، شافعی ، احمد اور اسحق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں انکے نزدیک محرم کا نکاح کرنا جائز نہیں اور باطل ہوگا (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۰؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ تزْوِيْجِ الْمُحْرِمِ، جلد ۱ص۴۴۷،حدیث نمبر ٨٤٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ تَزْوِيجِ المُحْرِمِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ مَعْمَرٍ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ، فَبَعَثَنِي إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ أَمِيرُ المَوْسِمِ بِمَكَّةَ، - فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ يُرِيدُ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ، فَأَحَبَّ أَنْ يُشْهِدَكَ ذَلِكَ، قَالَ: «لَا أُرَاهُ إِلَّا أَعْرَابِيًّا جَافِيًا، إِنَّ المُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكَحُ»، أَوْ كَمَا قَالَ. ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ مِثْلَهُ يَرْفَعُهُ. وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، وَمَيْمُونَةَ.: «حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ: عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عُمَرَ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ «،» وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ: لَا يَرَوْنَ أَنْ يَتَزَوَّجَ المُحْرِمُ، قَالُوا: فَإِنْ نَكَحَ فَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 840

حضرت ابو رافع فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ محرم نہ تھے شب زفاف میں بھی آپ احرام میں نہیں تھے میں دونوں کے درمیان قاصد تھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے ہم نہیں جانتے کہ حماد بن زید کے سوا کسی نے اس کو مسند بیان کیا ہو حماد، بواسطہ مطر الوراق، ربیعہ سے روایت کرتے ہیں۔ مالک بن انس نے بواسطہ ربیعہ سلیمان بن یسار سے مرسلًا روایت کیا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ سے نکاح کیا تو آپ محرم نہ تھے سلیمان بن بلال نے بھی ربیعہ سے مرسل روایت کی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یزید بن اصم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا آپ فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو آپ محرم تھے۔  بعض راویوں نے یزید بن اصم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یزید بن اصم حضرت میمونہ کے بھانجے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۰؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ تزْوِيْجِ الْمُحْرِمِ، جلد ۱ص۴۴۷،حدیث نمبر ٨٤١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الوَرَّاقِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ، وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ»، وَكُنْتُ أَنَا الرَّسُولَ فِيمَا بَيْنَهُمَا: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الوَرَّاقِ، عَنْ رَبِيعَةَ»، -- وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ»، رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا، وَرَوَاهُ أَيْضًا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ مُرْسَلًا.: وَرُوِي عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَلَالٌ» وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ. وَيَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ هُوَ ابْنُ أُخْتِ مَيْمُونَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 841

محرم کو نکاح کی اجازت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سےنکاح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت محرم تھے۔اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری اور اہلِ کوفہ کا بھی اسی پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۱؛ماجاء في الرخصة في ذلك، جلد ۱ص۴۴۹،حدیث نمبر ٨٤٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ» وَفِي البَابِ عَنْ عَائِشَةَ- حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَهْلُ الكُوفَةِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 842

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۱؛ماجاء في الرخصة في ذلك، جلد ۱ص۴۴۹،حدیث نمبر ٨٤٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 843

ایک دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے۔ ابوشعشاء کا نام جابر بن زید ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت میمونہ کے ساتھ نکاح میں اختلاف ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مکہ مکرمہ کے راستے میں نکاح کیا اس لیے بعض علماء فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام سے نہیں تھے لیکن خبر نکاح احرم با ندھنے کے بعد پہلی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے راستے میں مقام شرف پر شب زفاف گزاری اور اسوقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام سے نہیں تھے  حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بھی مقام شرف میں ہوا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ پہلی رات گزاری تھی وہاں ہی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو دفن کیا گیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۱؛ماجاء في الرخصة في ذلك، جلد ۱ص۴۴۹،حدیث نمبر ٨٤٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ العَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ» وَأَبُو الشَّعْثَاءِ: اسْمُهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ " وَاخْتَلَفُوا فِي تَزْوِيجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ:- تَزَوَّجَهَا حَلَالًا، وَظَهَرَ أَمْرُ تَزْوِيجِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ بِسَرِفَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، وَمَاتَتْ مَيْمُونَةُ بِسَرِفَ حَيْثُ بَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدُفِنَتْ بِسَرِفَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 844

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے نہ تھے اور اسی حالت میں اول شب گزاری حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بھی وہیں ہوا اور ان کو وہاں ہی دفن کیا گیا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ پہلی رات گزاری تھی امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور متعدد راویوں نے اسے حضرت یزید بن اصم رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم نہ تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۱؛ماجاء في الرخصة في ذلك، جلد ۱ص۴۴۹،حدیث نمبر ٨٤٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا فَزَارَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا، وَمَاتَتْ بِسَرِفَ، وَدَفَنَّاهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ» وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الحَدِيثَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ مُرْسَلًا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 845

محرم کے لیے شکار کھانے کا حکم حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکارنہ کرو اور یہ تہمارے حکم سے شکار کیا جائے اس باب میں حضرت ابوقتادہ اور طلحہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔  امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر مفسر ہے مطلب کیلیے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماع ہمارے علم میں نہیں بعض علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے وہ محرم کیلئے شکار کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے بشرطیکہ نہ تو اس نے خود شکار کیا ہواور نہ ہی اس کیلیے شکار کیا گیا ہو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں یہ حدیث احسن اور زیادہ عمدہ ہے اس پر عمل ہے ۔ اور امام احمد واسحاق رحمہما اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۲؛مَا جَاءَ فِیْ أَكلِ الصَّيْدِ لِلْمُحرِم، جلد ۱ص۴۵۰،حدیث نمبر ٨٤٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو -بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ المُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَيْدُ البَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ، مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَطَلْحَةَ.: «حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ وَالمُطَّلِبُ لَا نَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ جَابِرٍ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ: لَا يَرَوْنَ بِالصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ بَأْسًا إِذَا لَمْ يَصْطَدْهُ، أَوْ لَمْ يُصْطَدْ مِنْ أَجْلِهِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: «هَذَا أَحْسَنُ حَدِيثٍ رُوِيَ فِي هَذَا البَابِ وَأَقْيَسُ»، «وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 846

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب مکہ مکرمہ کے ایک راستے میں پہنچے تو اپنے بعض احرام باندھے ہوئے ساتھیوں کے ساتھ حضور سے پیچھے رہ گئے وہ خود احرام سے نہیں تھے انہوں نے ایک گور خر دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سیدھے ہو گئے اور ساتھیوں سے لاٹھی مانگی ۔ انہوں نے انکار کیا تو نیزہ مانگا۔ انہوں نے اس سے بھی انکار کیا تو آپنے خود اٹھایا اور گورخر پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ بعض صحابہ کرام نے اس سے کھایا اور بعض نے انکار کر دیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس کے متعلق دریافت کیا آپ نے فرمایا یہ ایک لقمہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۲؛مَا جَاءَ فِیْ أَكلِ الصَّيْدِ لِلْمُحرِم، جلد ۱ص۴۵۰،حدیث نمبر ٨٤٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ -- أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ، فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الحِمَارِ، فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَأَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 847

قتیبہ نے بوا سطلہ زید بن اسلم اور عطاء بن یسار حضرت ابو قتادہ سے ایک روایت نقل کی ابو نضر کی روایت کی طرح اس میں بھی گورخر کا ذکر ہے ۔ لیکن اس میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ (بچا ہوا) ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۲؛مَا جَاءَ فِیْ أَكلِ الصَّيْدِ لِلْمُحرِم، جلد ۱ص۴۵۰،حدیث نمبر ٨٤٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فِي حِمَارِ الوَحْشِ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 848

محرم کو شکار کا گوشت کھانے کی ممانعت حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا مقام بودان میں ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گور خر کا تحفہ پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹا دیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے چہرے پر نا خوش گواری کے اثرات دیکھے توفرمایا ہم نے یہ کسی ناراضگی کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اس لیے کہ ہم محرم ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس حدیث پرعمل ہے۔ انکے نزدیک محرم کو شکار کا گوشت کھا نا مکروہ ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں ہما رے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے لوٹایا کہ شاید میرے لیے شکار کیاگیا ہو۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض احتیاطاً اسکے کھانے سے اجتناب فرمایا بعض اصحاب زہری نے یہ حدیث حضرت زہری سے روایت کی اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گورخر کا گوشت پیش کیا یہ غیرمحفوظ ہے۔ اس باب میں حضرت علی اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۲؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ لَحُمِ الصَّيْدِ لِلْمُحرِم - جلد ۱ص۴۵۱،حدیث نمبر ٨٤٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ لَحْمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ بِالأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَى لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِهِ مِنَ الكَرَاهِيَةِ، فَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا الحَدِيثِ، وَكَرِهُوا أَكْلَ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ " وقَالَ الشَّافِعِيُّ: «إِنَّمَا وَجْهُ هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَنَا إِنَّمَا رَدَّهُ عَلَيْهِ لَمَّا ظَنَّ أَنَّهُ صِيدَ مِنْ أَجْلِهِ، وَتَرَكَهُ عَلَى التَّنَزُّهِ»، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الحَدِيثَ، وَقَالَ: أَهْدَى لَهُ لَحْمَ حِمَارٍ وَحْشٍ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 849

محرم کے لیے دریائی شکار کا حکم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم حج یا عمرہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے۔ پس ٹڈیوں کا ایک دَل ہمارے سامنے آیا تو ہم اسے اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھاؤ یہ دریا کا شکار ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف ابو مہزم کی روایت سے پہچانتے ہیں ابو مہزم کا نام یزید بن سفیان ہے اور اس کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے علماء کی ایک جماعت نے محرم کو اجازت دی ہے کہ وہ ٹڈیوں کا شکار کرے اور کھائے بعض علماء کے نزدیک ٹڈیوں کا شکار کرنے یا کھانے والے پر صدقہ واجب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۴؛مَا جَاءَ فِي صَيْدِ الْبَحْرِ لِلْمُحرم، جلد ۱ص۴۵۱،حدیث نمبر ٨٥٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي صَيْدِ البَحْرِ لِلْمُحْرِمِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي المُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوهُ فَإِنَّهُ مِنْ صَيْدِ البَحْرِ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي المُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ»، " وَأَبُو المُهَزِّمِ: اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ «،» وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَصِيدَ الجَرَادَ وَيَأْكُلَهُ، وَرَأَى بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ صَدَقَةً إِذَا اصْطَادَهُ وَأَكَلَهُ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 850

بُجّو کا شکار ابن عمار کہتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا بجو شکار ہے ؟ آپ نے فرمایا " ہاں" فرماتے ہیں میں نے پوچھا کیا میں اسے کھا سکتا ہوں ؟ فرمایا، ہاں، میں نے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی طرح) فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا " ہاں" امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حضرت علی نے یحییٰ بن سعید کا قول نقل کیا کہ جریر بن حازم نے اس حدیث کو بواسطہ جا بر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا۔ ابن جریج کی روایت اصح ہے۔ امام احمد اور اسحق کا یہی قول ہے ۔ بعض علماء کا اس حدیث پر عمل ہے کہ محرم جب بجو کا شکار کرے تو اس پر بدلہ دینا واجب ہے۔ فائدہ : بُجو کا شکار جائز ہے لیکن کھانا منع ہے۔ کیونکہ کیل والے شکاری درندوں کے کھانے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے امام ابو حنیفہ،امام ابو یوسف،اور امام محمد رحمہم اللّٰہ کا یہی نظریہ ہے۔ شرح معانی الآثار جلد۲ص۲۴۰ (مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۵؛مَا جَاءَ فِیْ الضَّبَعِ يُصِيبُهَاالْمُحْرِمْ، جلد ۱ص۴۵۲،حدیث نمبر ٨٥١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهَا المُحْرِمُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ -قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: الضَّبُعُ أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: قُلْتُ: آكُلُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: قُلْتُ: أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ». قَالَ عَلِيُّ بْنُ المَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الحَدِيثَ، فَقَالَ: عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، «وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ فِي المُحْرِمِ إِذَا أَصَابَ ضَبُعًا أَنَّ عَلَيْهِ الجَزَاءَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 851

دخول مکہ کے لیے غسل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے مقام فخ میں غسل فرمایا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غیر محفوظ ہے صحیح روایت وہ ہے جسے حضرت نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل فرمایا کرتے تھے۔ امام شافعی اسی بات کے قائل ہیں کہ دخول مکہ کے لیے غسل مستحب ہے (امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے) عبدالرحمٰن بن زید بن مسلم، حدیث میں ضعیف ہیں امام احمد بن حنبل علی بن مدینی اور دوسرے محدثین نے انہیں ضعیف کہا ہے ہم اس حدیث کو صرف انہی سے مرفوعاً جانتے ہیں۔ ( جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۶؛مَا جَاءَ فِی الاغْتَسَأَلِ لِدَخُولِ مَکَّۃَ، جلد ۱ص۴۵۲،حدیث نمبر ٨٥٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاغْتِسَالِ لِدُخُولِ مَكَّةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ الطَّلْحِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِدُخُولِهِ مَكَّةَ بِفَخٍّ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ» وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ «كَانَ يَغْتَسِلُ لِدُخُولِ مَكَّةَ»، " وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ: يُسْتَحَبُّ الِاغْتِسَالُ لِدُخُولِ مَكَّةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ فِي الحَدِيثِ؛ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ المَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا «،» وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الحَدِيثَ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 852

مکہ مکرمہ میں داخل ہونا اور نکلنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو اوپر کی جانب سے داخل ہوئے اور نیچے کی طرف سے باہر تشریف لے گئے ۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۷؛مَا جَاءَ فِي دُخُولِ النَّبِيِّ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَة مِنْ أَعْلَاهَاوَخُرُوجِهِ أَسْفَلَهَا، جلد ۱ص۴۵۳،حدیث نمبر ٨٥٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي دُخُولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مِنْ أَعْلَاهَا وَخُرُوجِهِ مِنْ أَسْفَلِهَا حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ أَعْلَاهَا، وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 853

مکہ مکرمہ میں دن کو جانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں دن کے وقت داخل ہوئے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۸؛مَا جَاءَ فِي دُخُولِ النبي صلى الله عليه وسلم مكةَ نَهَارًا . جلد ۱ص۴۵۳،حدیث نمبر ٨٥٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي دُخُولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ نَهَارًا حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا العُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ نَهَارًا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 854

بیت اللہ کو دیکھتے وقت ہاتھ اٹھانا مہاجر مکی سے روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا،،یہاں بیت اللہ کو دیکھ کر آدمی ہاتھ اٹھائے ؟ آپ نے (فرمایا ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا۔ تو کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں ؟ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ بیت اللہ کو دیکھتے وقت ہاتھوں کو اٹھانا ہم صرف شعبہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ شعبہ نے اسے ابو قزعہ سے روایت کیا۔ ابوقزعہ کا نام سوید بن حجر ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۹مَا جَاء فِي كَرَاهِبَةِ رَفْعِ الْيَدِ عندَرُويَة البَيتِ - جلد ۱ص۴۵۳،حدیث نمبر ٨٥٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ رَفْعِ اليَدَيْنِ عِنْدَ رُؤْيَةِ البَيْتِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ البَاهِلِيِّ، عَنْ المُهَاجِرِ المَكِّيِّ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَيَرْفَعُ الرَّجُلُ يَدَيْهِ إِذَا رَأَى البَيْتَ؟ فَقَالَ: «حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أًفَكُنَّا نَفْعَلُهُ؟ -» رَفْعُ اليَدَيْنِ عِنْدَ رُؤْيَةِ البَيْتِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ " وَأَبُو قَزَعَةَ: اسْمُهُ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 855

طواف کا طریقہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مسجد میں داخل ہوئے۔ حجر اسود کو بوسہ دیا پھر دائیں جانب چل دیے۔ تین چکر بازؤں کو تیز تیز ہلاتے ہوئے پورے کیے اور چار پھیروں میں اپنی رفتار سے چلے پھر مقام ابراہیم پر تشریف لائے اور آیت کریمہ " مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ " پڑھ کر دو رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ مقام ابراہیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بیت اللہ شریف کے درمیان تھا۔ دو رکعتوں کے بعد حجر اسود کے پاس تشریف لائے اسے بوسہ دیا اور پھر صفا کی طرف چل پڑے میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا" ان الصفاء و المروة" الخ ) بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں سے ہیں) اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس عمل ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۰؛مَا جَاءَ كَيفَ الطَّوَافُ، جلد ۱ص۴۵۴،حدیث نمبر ٨٥٦)

بَابُ مَا جَاءَ كَيْفَ الطَّوَافُ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ دَخَلَ المَسْجِدَ، فَاسْتَلَمَ الحَجَرَ، ثُمَّ مَضَى عَلَى يَمِينِهِ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى المَقَامَ، فَقَالَ: " {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] "، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَالمَقَامُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ البَيْتِ، ثُمَّ أَتَى الحَجَرَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا، أَظُنُّهُ قَالَ: " {إِنَّ الصَّفَا وَالمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158] " وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ. حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 856

حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مونڈھے ہلا تے ہوئے تیز تیز قدم چل کر حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکر لگائے اور چار پھیروں میں عام رفتار سے چکر لگایا۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے ۔ امام شافعی فرماتے ہیں اگر بھول کر رمل (تیزی سے چلنا) چھوڑ دےتو اس نے غلطی کی لیکن اس پر کوئی بدلہ نہیں۔ اور اگر پہلے تین پھیروں میں رمل نہیں کیا تو باقی چکروں میں نہ کرے۔ بعض علماء فرماتے ہیں اہل مکہ پر رمل نہیں اور نہ ہی ان پر جنہوں نے مکہ مکرمہ سے احرام باندھا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۱؛مَا جَاءَ فِي الرِّمَلِ مِنَ الحَجَر إلى الحجر - جلد ۱ص۴۵۴،حدیث نمبر ٨٥٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّمَلِ مِنَ الحَجَرِ إِلَى الحَجَرِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الحَجَرِ إِلَى الحَجَرِ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، «وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ»، قَالَ الشَّافِعِيُّ: «إِذَا تَرَكَ الرَّمَلَ عَمْدًا فَقَدْ أَسَاءَ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، وَإِذَا لَمْ يَرْمُلْ فِي الأَشْوَاطِ الثَّلَاثَةِ لَمْ يَرْمُلْ فِيمَا بَقِيَ»، " وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: لَيْسَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ رَمَلٌ، وَلَا عَلَى مَنْ أَحْرَمَ مِنْهَا "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 857

حجر اسود اور رکن یمانی کو بوسہ دیتا حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ہم حضرت ابن عباس اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ تھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جس رکن سے گزرتے بوسہ دیتے ۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو بوسہ دیا کرتے تھے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بیت اللہ شریف کی کوئی چیز خالی نہیں چھوڑی گئی۔ اس باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے کہ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو بوسہ دیا جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۲؛مَا جَاءَ فِی اسْتِلَام الْحَجَرِوَ الرُّكْنِ الْيَمَانِي دُونَ مَا سِوٰهُمَا - جلد ۱ص۴۵۵،حدیث نمبر ٨٥٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِلَامِ الحَجَرِ، وَالرُّكْنِ اليَمَانِي دُونَ مَا سِوَاهُمَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُعَاوِيَةُ لَا يَمُرُّ بِرُكْنٍ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْتَلِمُ إِلَّا الحَجَرَ الأَسْوَدَ، وَالرُّكْنَ اليَمَانِيَ»، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ البَيْتِ مَهْجُورًا وَفِي البَابِ عَنْ عُمَرَ.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ: أَنْ لَا يَسْتَلِمَ إِلَّا الحَجَرَ الأَسْوَدَ، وَالرُّكْنَ اليَمَانِيَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 858

حالت اضطباع میں طواف کرنا حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کی حالت میں طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چادر مبارک تھی۔امام ترمذی فرماتے ہیں۔ ہم سفیان ثوری کی اس حدیث کو ابن جریج سے صرف اسی روایت سے پہچانتے ہیں ۔ اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عبدالحمید سے مراد ابن جبیر بن شعبہ ہیں ۔ اور ابن یعلی کے والد حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ف : چادر کو داہنے بغل سے نکال کر بائیں کاندھے پر ڈالنے کو اضطباع کہتے ہیں۔ (مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۳؛مَا جَاءَ اَنَّ النَّبي صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ مُضْطَجِعًا - جلد ۱ص۴۵۵،حدیث نمبر ٨٥٩)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ مُضْطَبِعًا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الحَمِيدِ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالبَيْتِ مُضْطَبِعًا وَعَلَيْهِ بُرْدٌ»: «هَذَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَعَبْدُ الحَمِيدِ هُوَ ابْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 859

حجر اسود کو بوسہ دینا حضرت عابس بن ربیعہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے تھے اور ساتھ ہی فرماتے جاتے تھے۔ میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اورمیں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی نہ چومتا۔ اس باب میں حضرت ابوبکر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔حدیث عمر حسن صحیح ہے اورعلماء کا اس پر عمل ہے وہ حجر اسود کو بوسہ دینا مستحب سمجھتے ہیں ۔ اگر اس تک پہنچنا نا ممکن ہو تو ہاتھ لگا کر اسے چوم لے اگر ہاتھ بھی نہ پہنچ سکتا ہو تو جب وہاں پہنچے اس کی طرف منہ کر کے اللہ اکبر کہے ۔ امام شافعی کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۴؛مَا جَاءَ فِي تَقْبِيْلِ الْحَجَرِ۔ جلد ۱ص۴۵۶،حدیث نمبر ٨٦٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْبِيلِ الحَجَرِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ يُقَبِّلُ الحَجَرَ، وَيَقُولُ:«إِنِّي أُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: يَسْتَحِبُّونَ تَقْبِيلَ الحَجَرِ، فَإِنْ لَمْ يُمْكِنْهُ وَلَمْ يَصِلْ إِلَيْهِ اسْتَلَمَهُ بِيَدِهِ وَقَبَّلَ يَدَهُ، وَإِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهِ اسْتَقْبَلَهُ إِذَا حَاذَى بِهِ وَكَبَّرَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 860

زبیر بن عربی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی الله عنہما سے حجر اسود کا بوسہ لینے کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرے اسود کو چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔اس نے کہا: اچھا بتائیے اگر میں وہاں تک پہنچنے میں مغلوب ہو جاؤں اور اگر میں بھیڑ میں پھنس جاؤں؟ تو اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:تم(یہ اپنا ) اگر مگر یمن میں رکھو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ یہ زبیر بن عربی وہی ہیں، جن سے حماد بن زید نے روایت کی ہے، کوفے کے رہنے والے تھے، ان کی کنیت ابوسلمہ ہے۔ انہوں نے انس بن مالک اور دوسرے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے حدیثیں روایت کیں ہیں۔ اور ان سے سفیان ثوری اور دوسرے کئی اور ائمہ نے روایت کی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ان سے یہ دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ حجر اسود کے بوسہ لینے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور آدمی وہاں تک نہ پہنچ سکے تو اسے اپنے ہاتھ سے چھو لے اور اپنے ہاتھ کا بوسہ دے لے اور اگر وہ اس تک نہ پہنچ سکے تو جب اس کے سامنے میں پہنچے تو اس کی طرف رخ کرے اور اللہ اکبر کہے، یہ شافعی کا قول ہے۔ (سنن الترمذی،ابواب الحج،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْبِيلِ الحَجَرِ،حدیث نمبر ٨٦١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ اسْتِلَامِ الحَجَرِ، فَقَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ»، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ غُلِبْتُ عَلَيْهِ؟ أَرَأَيْتَ إِنْ زُوحِمْتُ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِاليَمَنِ، «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ» وَهَذَا هُوَ الزُّبَيْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ رَوَى، عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ كُوفِيٌّ، سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ ".: «حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ»، " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: يَسْتَحِبُّونَ تَقْبِيلَ الحَجَرِ، فَإِنْ لَمْ يُمْكِنْهُ وَلَمْ يَصِلْ إِلَيْهِ اسْتَلَمَهُ بِيَدِهِ وَقَبَّلَ يَدَهُ، وَإِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهِ اسْتَقْبَلَهُ إِذَا حَاذَى بِهِ وَكَبَّرَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 861

صفا سے سعی شروع کرنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کا سات مرتبہ طواف کیا مقام ابراہیم پر آئے تو یہ آیت تلاوت کی (ترجمہ) اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ پکڑو" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کے پیچھے نمانہ پڑھی۔ پھر حجر اسود کے پاس تشریف لائے۔ اسے بوسہ دیا۔ پھر فرمایا ہم اسی مقام سے ابتداء کرتے ہیں جہاں سے اللہ تعالی نے آغاز فرمایا " یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفاء سے سعی شروع کیا اور پڑھا ،، بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ مروہ سے پہلے صفا سے آغاز کیا جائے ۔ اگر مروہ سے ابتدا کرے گا تو جائز نہیں (دوبارہ) صفا سے شروع کرے جو آدمی بیت اللہ شریف کا طواف کرے لیکن صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء فرماتے ہیں اگر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کیے بغیر مکہ مکرمہ سے باہر آ گیا تو اگر اسے قریب ہی یاد آجائے تو واپس لوٹ کر صفا مروہ کے درمیان سعی کرے اگر یاد نہ آیا یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ گیا تو جائز ہے۔ اور اس پر خون (قربانی) واجب ہے سفیان ثوری کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں اگر سعی کیے بغیر گھر آگیا تو جائز نہیں۔ امام شافعی کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں۔ صفا مروہ کے درمیان سعی واجب ہے اسکے بغیر حج جائز نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۵؛مَا جَاءَ أَنَّهُ يَبْدَأُ بِالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَةِ، جلد ۱ص۴۵۶،حدیث نمبر ٨٦٢)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّهُ يَبْدَأُ بِالصَّفَا قَبْلَ المَرْوَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ طَافَ بِالبَيْتِ سَبْعًا، فَقَرَأَ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125]، فَصَلَّى خَلْفَ المَقَامِ، ثُمَّ أَتَى الحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ قَالَ: «نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ»، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، وَقَرَأَ: {إِنَّ الصَّفَا وَالمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158]: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ أَنَّهُ يَبْدَأُ بِالصَّفَا قَبْلَ المَرْوَةِ، فَإِنْ بَدَأَ بِالمَرْوَةِ قَبْلَ الصَّفَا لَمْ يُجْزِهِ، وَبَدَأَ بِالصَّفَا، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ العِلْمِ فِيمَنْ طَافَ بِالبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ حَتَّى رَجَعَ»، " فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: إِنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ فَإِنْ ذَكَرَ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْهَا رَجَعَ فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ، وَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ حَتَّى أَتَى بِلَادَهُ أَجْزَأَهُ وَعَلَيْهِ دَمٌ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ » وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنْ تَرَكَ الطَّوَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى بِلَادِهِ، فَإِنَّهُ لَا يُجْزِيهِ "، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ قَالَ: «الطَّوَافُ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ وَاجِبٌ لَا يَجُوزُ الحَجُّ إِلَّا بِهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 862

صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا اور مروہ کے درمیان اس لیے دوڑے کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں۔ اس باب میں حضرت عائشہ، ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے علماء کے نزدیک مستحب ہے کہ صفا مروہ کے درمیان دوڑا جائے۔ اگر دوڑنے کی بجائے اپنی رفتار سے چلے تو بھی جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۶؛مَا جَاءَ فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَ المَرْوَةَ - جلد ۱ص۴۵۷،حدیث نمبر ٨٦٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ لِيُرِيَ المُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ» وَفِي البَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، «وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ العِلْمِ أَنْ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ، فَإِنْ لَمْ يَسْعَ وَمَشَى بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ رَأَوْهُ جَائِزًا»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 863

کثیر بن جمہاں کہتے ہیں۔ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفامروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھ کر پوچھا ؟ کیا آپ صفا مروہ کے درمیان اپنی (عام) رفتار سے چلتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ۔ اگر میں دوڑ کر چلوں تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور اگر اپنی عام رفتار سے چلوں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح جاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ اور میں بوڑھا آدمی ہوں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سعید بن جبیر نے بھی حضرت ابن عمر سے اس کے ہم معنی روایت بیان کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۶؛مَا جَاءَ فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَ المَرْوَةَ - جلد ۱ص۴۵۷،حدیث نمبر ٨٦٤)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي السَّعْيِ،- فَقُلْتُ لَهُ: أَتَمْشِي فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ؟ قَالَ: «لَئِنْ سَعَيْتُ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَلَئِنْ مَشَيْتُ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي»، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوُهُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 864

سوار ہو کر طواف کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر طواف کیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن کے پاس پہنچتے تو اس کی طرف اشارہ فرماتے۔ اس باب میں حضرت جابر، ابوطفیل اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے۔ علماء کی ایک جماعت کے نزدیک بلاعذر سوار ہوکر طواف اور سعی کرنا مکروہ ہے ۔ امام شافعی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۷)مَا جَاءَ فِی الطَّوَافِ راكِبًا، جلد ۱ص۴۵۸،حدیث نمبر ٨٦٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الطَّوَافِ رَاكِبًا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، وَأُمِّ سَلَمَةَ.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، «وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ أَنْ يَطُوفَ الرَّجُلُ بِالبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ رَاكِبًا إِلَّا مِنْ عُذْرٍ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 865

طواف کی فضیلت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے پچاس مرتبہ بیت اللہ شریف کا طواف کیا وہ گناہوں سے ایسے باہر آئے گا۔ جیسے پیدائش کے وقت تھا۔ اس باب میں حضرت انس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس غریب ہے۔ میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حضرت ابن عباس سے موقوفاً مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۸؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الطَّوَافِ ، جلد ۱ص۴۵۸،حدیث نمبر ٨٦٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الطَّوَافِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَافَ بِالبَيْتِ خَمْسِينَ مَرَّةً خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» وَفِي البَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ» سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الحَدِيثِ، فَقَالَ: «إِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ»،

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 866

حضرت ایوب کہتے ہیں۔ لوگ عبداللہ بن سعید کو ان کے والد سعید بن جبیر سے افضل خیال کرتے تھے ان کے ایک بھائی تھے جن کا نام عبدالملک بن سعید بن جبیر ہے ۔ ان سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۸؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الطَّوَافِ ، جلد ۱ص۴۵۸،حدیث نمبر ٨٦٧)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، قَالَ: «كَانُوا يَعُدُّونَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَفْضَلَ مِنْ أَبِيهِ»، " وَلِعَبْدِ اللَّهِ أَخٌ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ المَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَيْضًا "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 867

طواف کرنے والے کا صبح اور عصر کے بعد نماز پڑھنا حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اے عبد مناف کی اولاد ! کسی شخص کو اس گھر کے طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔ رات اور دن میں جس وقت بھی وہ چاہے۔ اس باب میں حضرت ابن عباس اور ابو ذر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جبیر بن مطعم حسن صحیح ہے۔ عبداللہ بن ابی نجیح نے اسے عبد الله بن باباہ سے بھی روایت کیا ہے ۔ مکہ مکرمہ میں فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے میں علماء کا اختلاف ہے بعض فرماتے ہیں عصر اور صبح کے بعد نماز پڑھنے اور طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں امام شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ انہوں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کیا بعض علماء فرماتے ہیں اگر عصر کے بعد طواف کرے تو غروب آفتاب تک نماز نہ پڑھے۔ اسی طرح اگر صبح کی نماز کے طواف کیا تو بھی طلوع شمس سے پہلے نماز نہ پڑھے ۔ ان حضرات نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے دلیل پکڑی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز کے بعد طواف کیا۔ اور نماز پڑھے بغیر مکہ مکرمہ سے باہر تشریف لے گئے۔ یہاں تک کہ مقام ذی طویٰ میں اتر کر طلوع آفتاب کے بعد نماز پڑھی۔ سفیان ثوری اور مالک بن انس رحمہا اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۹؛مَا جَاءَ فِي الصَّلوةِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْد َالصُّبْحِ فِی الطَّوَافِ لِمَنْ يَطُوفُ، جلد ۱ص۴۵۹،حدیث نمبر ٨٦٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ العَصْرِ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ لِمَنْ يَطُوفُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا البَيْتِ، وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي ذَرٍّ.: «حَدِيثُ جُبَيْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ أَيْضًا «وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ العِلْمِ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ العَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ بِمَكَّةَ»، " فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ وَالطَّوَافِ بَعْدَ العَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا " وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا طَافَ بَعْدَ العَصْرِ لَمْ يُصَلِّ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَكَذَلِكَ إِنْ طَافَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ أَيْضًا لَمْ يُصَلِّ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، -وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَافَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمْ يُصَلِّ، وَخَرَجَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى نَزَلَ بِذِي طُوًى فَصَلَّى بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 868

نماز طواف کی قرآت حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کی دو رکعتوں میں اخلاص کی دو سورتیں (یعنی) ” قل یاایہاالکفرون" اور قل ھو اللہ احد پڑھیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۴۹۰؛مَا جَاءَ مَا يُقرأ فِی رَكْعَتِىَ الِطَّوَافِ، جلد ۱ص۴۵۹،حدیث نمبر ٨٦٩)

بَابُ مَا جَاءَ مَا يُقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الطَّوَافِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ المَدَنِيُّ، قِرَاءَةً، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الطَّوَافِ بِسُورَتَيِ الْإِخْلَاصِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 869

جعفر بن محمد اپنے والد سے راوی ہیں کہ وہ طواف کی دو رکعتوں میں " قل یا ایہا الکفرون" اور  قل ہو اللہ احد پڑھنا پسند کرتے تھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث عبدالعزیز بن عمران کی روایت سے اصح ہے یعنی اس میں جعفر بن محمد کی اپنے والد سے روایت بنسبت اس روایت کے زیادہ صحیح ہے ۔ جسے وہ بواسطہ والد اور حضرت جابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ عید العزیز بن عمران حدیث میں ضعیف ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۴۹۰؛مَا جَاءَ مَا يُقرأ فِی رَكْعَتِىَ الِطَّوَافِ، جلد ۱ص۴۵۹،حدیث نمبر ٨٧٠)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ «كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يَقْرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الطَّوَافِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ»: «وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عِمْرَانَ»، «وَحَدِيثُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، «وَعَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ضَعِيفٌ فِي الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 870

ننگے ہو کر طواف کرنے کی ممانعت زید بن اثیع کہتے ہیں میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا۔ آپ کس چیز کے ساتھ بھیجے گئے تھے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا چار باتوں کے ساتھ کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔ بیت اللہ شریف کا طواف برہنہ ہو کر نہ کیا جائے۔ اس سال کے بعد مسلمان اور مشرک جمع نہ ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جس سے معاہدہ ہے وہ اپنی معیاد تک ہے اور جس کی معیاد نہیں وہ چار ماہ تک ہے۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۱؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الطَّوَافِ عُريَانَا - جلد ۱ص۴۶۰،حدیث نمبر ٨٧١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الطَّوَافِ عُرْيَانًا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ؟ قَالَ: " بِأَرْبَعٍ: لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ المُسْلِمُونَ وَالمُشْرِكُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَا مُدَّةَ لَهُ فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ " وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.: «حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ».

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 871

ابن ابی عمر اور نضر بن علی (دونوں) نے بواسطہ سفیان ابو اسحق سے اس کی مثل حدیث روایت کی اور زید بن اثیع کی جگہ زیدبن یثیع کہا اور یہ زیادہ صحیح ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں شعبہ سے اس میں خطاء ہوئی اور انہوں نے زید بن اُثِیل کہا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۱؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الطَّوَافِ عُريَانَا - جلد ۱ص۴۶۰،حدیث نمبر ٨٧٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ نَحْوَهُ، «وَقَالَا زَيْدُ بْنُ يُثَيْعٍ وَهَذَا أَصَحُّ».: «وَشُعْبَةُ وَهِمَ فِيهِ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أُثَيْلٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 872

خانہ کعبہ میں داخل ہونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس سے نہایت مسرور اور خوش دل تشریف لے گئے اور پر یشان واپس ہوئے میں نے (سبب) پوچھا تو فرمایا میں کعبہ معظمہ میں داخل ہوا اور میں نے دل میں سوچا کہ نہ داخل ہوتا تو اچھا تھا (کیونکہ) مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد میری امت مشقت میں نہ پڑ جائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۴۶۱؛مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الكَعْبَةِ، جلد ۱ص۴۶۱،حدیث نمبر ٨٧٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الكَعْبَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ المَلِكِ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ العَيْنِ، طَيِّبُ النَّفْسِ، فَرَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: «إِنِّي دَخَلْتُ الكَعْبَةَ، وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 873

خانہ کعبہ میں نماز پڑھنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وسط کعبہ میں نماز پڑھی ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز نہیں پڑھی۔ بلکہ صرف تکبیر کہی ۔ اس باب میں حضرت اسامہ بن زید فضل بن عباس ، عثمان بن طلحہ اور شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث بلال حسن صحیح ہے۔ اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے کہ کعبہ مکرمہ میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں خانہ کعبہ میں نوافل پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ فرض نماز مکروہ ہے۔ امام شافعی کے نزدیک نفل اور فرض دونوں میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ طہارت اور قبلہ کا حکم فرض اور دونوں کے لیے ایک جیسا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج ،باب۵۹۳؛مَاجَاءَ فِی الصَّلٰوةِ فی الْكَعْبَةِ، جلد ۱ص۴۶۱،حدیث نمبر ٨٧٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ فِي الكَعْبَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ بِلَالٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي جَوْفِ الكَعْبَةِ» -قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَمْ يُصَلِّ وَلَكِنَّهُ كَبَّرَ». وَفِي البَابِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَالفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ.: «حَدِيثُ بِلَالٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، " وَالعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ: لَا يَرَوْنَ بِالصَّلَاةِ فِي الكَعْبَةِ بَأْسًا "، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: «لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ النَّافِلَةِ فِي الكَعْبَةِ، وَكَرِهَ أَنْ تُصَلَّى المَكْتُوبَةُ فِي الكَعْبَةِ»، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: «لَا بَأْسَ أَنْ تُصَلَّى المَكْتُوبَةُ وَالتَّطَوُّعُ فِي الكَعْبَةِ لِأَنَّ حُكْمَ النَّافِلَةِ وَالمَكْتُوبَةِ فِي الطَّهَارَةِ وَالقِبْلَةِ سَوَاءٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 874

تعمیر کعبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اگر تمہاری قوم عہد جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ مکرمہ کو توڑ کر اس میں دو دروازے بناتا۔ پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے دور حکومت میں اسے توڑ کر دو دروازے بنائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۴؛مَا جَاءَ فِي كَسْرِ الكَعْبَة، جلد ۱ص۴۶۱،حدیث نمبر ٨٧٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَسْرِ الكَعْبَةِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَهُ: حَدِّثْنِي بِمَا كَانَتْ تُفْضِي إِلَيْكَ أُمُّ المُؤْمِنِينَ يَعْنِي عَائِشَةَ، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أَنَّ -رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِالجَاهِلِيَّةِ، لَهَدَمْتُ الكَعْبَةَ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ» قَالَ: فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا وَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ.: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 875

حطیم میں نماز پڑھنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں چاہتی تھی کہ خانہ کعبہ میں داخل ہو کر نماز پڑھوں۔ پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے حطیم میں داخل کیا اور فرمایا حطیم میں نماز پڑھو۔ اگر تم بیت اللہ شریف میں داخل ہونا چاہتی ہو تو یہ بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ لیکن تمہاری قوم نے کعبہ مکرمہ بناتے وقت اسے چھوڑ دیا اور اسے کعبہ سے باہر کر دیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور علقمہ بن ابی علقمہ سے مراد علقمہ بن بلال ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۵؛مَا جَاءَ فِي الصّلٰوةِ فِی الْحِجْرِ، جلد ۱ص۴۶۲،حدیث نمبر ٨٧٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ فِي الحِجْرِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ البَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَأَدْخَلَنِي الحِجْرَ، فَقَالَ: «صَلِّي فِي الحِجْرِ إِنْ أَرَدْتِ دُخُولَ البَيْتِ، فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ البَيْتِ، وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوهُ حِينَ بَنَوْا الكَعْبَةَ فَأَخْرَجُوهُ مِنَ البَيْتِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَعَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ هُوَ عَلْقَمَةُ بْنُ بِلَالٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 876

حجر اسود اور مقام براہیم کی فضیلت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حجر اسود جنت سے اترا تو دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا۔ پھر انسان کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔ اس باب میں حضرت عبد الله بن عمرو اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۶؛مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْحَجر الاَسْوَدِ وَالرُّكْنِ وَالْمَقَامِ -جلد ۱ص۴۶۲،حدیث نمبر ٨٧٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الحَجَرِ الأَسْوَدِ، وَالرُّكْنِ، وَالمَقَامِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلَ الحَجَرُ الأَسْوَدُ مِنَ الجَنَّةِ، وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 877

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے یا قوتوں میں سے دو یا قوت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے نور کی روشنی بجھا دی اور اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بجھاتا تو یہ مشرق سے مغرب تک سب کچھ روشن کر دیتے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حضرت عبداللہ بن عمرو کا اپنا قول ( حدیث موقوف) مروی ہے ۔ اس بارے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے اور وہ غریب حدیث ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۶؛مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْحَجر الاَسْوَدِ وَالرُّكْنِ وَالْمَقَامِ -جلد ۱ص۴۶۲،حدیث نمبر ٨٧٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَجَاءٍ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ مُسَافِعًا الحَاجِبَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرُّكْنَ، وَالمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الجَنَّةِ، طَمَسَ اللَّهُ نُورَهُمَا، وَلَوْ لَمْ يَطْمِسْ نُورَهُمَا لَأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ»: «هَذَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا قَوْلُهُ، وَفِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَيْضًا وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 878

منٰی کی طرف جانا اور وہاں ٹھہرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مقام منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں پڑھائیں اور پھر عرفات کی طرف تشریف لے گئے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ اسماعیل بن مسلم کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۷؛مَا جَاءَ فِي الخُرُوج إلٰى مِنٰى وَالْمَقَامُ بِھَا، جلد ۱ص۴۶۳،حدیث نمبر ٨٧٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الخُرُوجِ إِلَى مِنًى وَالمُقَامِ بِهَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَجْلَحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى الظُّهْرَ، وَالعَصْرَ، وَالمَغْرِبَ، وَالعِشَاءَ، وَالفَجْرَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَاتٍ»: «وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ قَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 879

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منٰی میں ظہر اور فجر کی نماز پڑھائی اور اول وقت میں ہی عرفات کی طرف تشریف لے گئے ۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن زبیر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ علی بن مدینی نے بواسطه یحییٰ شعبہ کا قول نقل کیا کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ حدیثیں سنی ہیں ۔ شعبہ نے ان حدیثوں کو شمار کرتے ہوئے اُن حدیث کا ذکر نہیں کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۷؛مَا جَاءَ فِي الخُرُوج إلٰى مِنٰى وَالْمَقَامُ بِھَا، جلد ۱ص۴۶۳،حدیث نمبر ٨٨٠)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَجْلَحِ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ الحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالفَجْرَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَاتٍ» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَنَسٍ.: «حَدِيثُ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ». قَالَ عَلِيُّ بْنُ المَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى: قَالَ شُعْبَةُ: «لَمْ يَسْمَعِ الحَكَمُ مِنْ مِقْسَمٍ إِلَّا خَمْسَةَ أَحَادِيثَ، وَعَدَّهَا، وَلَيْسَ هَذَا الحَدِيثُ فِيمَا عَدَّ شُعْبَةُ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 880

منٰی پہلے پہنچنے والوں کی جگہ ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے عرض کیا۔ یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منٰی میں سایہ دار جگہ نہ بنادی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " نہیں " منٰی ان لوگوں کی جگہ ہے ۔ جو پہلے وہاں پہنچ جائیں امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۸؛مَاجَاءَ آنَّ مِنٰى مُناخُ سَبَقَ، جلد ۱ص۴۶۴،حدیث نمبر ٨٨١)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بَيْتًا يُظِلُّكَ بِمِنًى؟ قَالَ: «لَا، مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 881

منٰی میں نماز قضا کرنا حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے منٰی میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں ادا کیں۔ لوگ اس وقت بہت امن میں اور زیادہ تھے اس باب میں حضرت عبدالله بن مسعود ، ابن عمر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکر ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث حارثہ بن وہب حسن صحیح ہے۔ حضرت ابن مسعود سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صدیق اکبر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کے ساتھ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں منیٰ میں دو رکعتیں نماز ادا کی۔ مکہ والوں کے لیے منٰی میں نماز قضا کرنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں اہل مکہ منٰی میں قضا نہ کریں۔ قضا صرف مسافر کے لیے ہے۔ ابن جریج، سفیان ثوری، یحییٰ بن سعید قطان، شافعی ، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء کے نزدیک اہل مکہ بھی منٰی میں قضا کر سکتے ہیں۔ امام اوزاعی ، مالک سفیان بن عینیہ اور عبدالرحمٰن بن مهدی رحمہم اللّٰہ اسی بات کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج،باب۵۹۹؛مَاجَاءَ فِی تقصير الصِّلٰوةِ بِمِنٰى، جلد ۱ص۴۶۴،حدیث نمبر ٨٨٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ -أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ وَأَكْثَرَهُ رَكْعَتَيْنِ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ.: «حَدِيثُ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ، وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ» وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ العِلْمِ فِي تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى لِأَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: لَيْسَ لِأَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ بِمِنًى، إِلَّا مَنْ كَانَ بِمِنًى مُسَافِرًا، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ القَطَّانِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ «،» وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا بَأْسَ لِأَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ بِمِنًى، وَهُوَ قَوْلُ الأَوْزَاعِيِّ، وَمَالِكٍ، وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 882

عرفات میں ٹھہرنا دعا کرنا یزید بن شیبان فرماتے ہیں۔ ہمارے پاس ابن مربع انصاری تشریف لائے۔ ہم اس وقت عرفات میں اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جسے عمرو دور بتاتے تھے ، انہوں نے فرمایا میں تمہاری طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ اپنی اپنی عبادت کی جگہ بیٹھے رہو ۔ کیو نکہ تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ترکہ میں سے ایک ترکہ پر ہو٫ اس باب میں حضرت علی ، عائشہ، جبیر بن مطعم اور شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکورہ ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن مربع حسن ہے۔ ہم اسے صرف این عیینہ کی روایت سے پہچانتے ہیں جو عمرو بن دینار سے روایت کی گئی ہے۔ ابن مربع کا نام یزید بن مربع انصاری ہے۔ ان سے صرف یہی ایک حدیث معروف ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۰؛مَا جَاءَ فِی الْوُقُوفِ بَعَرَفَاتٍ وَالدُّعَاءِ فِيْهَا، جلد ۱ص۴۶۵،حدیث نمبر ٨٨٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الوُقُوفِ بِعَرَفَاتٍ وَالدُّعَاءِ بِهَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ وُقُوفٌ بِالمَوْقِفِ مَكَانًا يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو، فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ: «كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ» وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَالشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ.: «حَدِيثُ ابْنِ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ» وَابْنُ مِرْبَعٍ: اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِيُّ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الحَدِيثُ الوَاحِدُ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 883

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے قریش اور وہ لوگ جو ان کے دین پر تھے یعنی حمس، مزدلفہ میں ٹھہر جاتے (عرفات نہ جاتے) اور کہتے ہم اللہ تعالیٰ کے پاس رہنے والے ہیں۔ دوسرے لوگ عرفات میں ٹھہرتے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی (ترجمہ) پھر وہاں واپس لوٹو جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ مکہ حرم سے باہر نہیں جاتے تھے اور عرفات حرم سے باہر ہے۔ اہل مکہ مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور کہتے ہم اللہ تعالیٰ کے قطین یعنی اس کے پاس رہنے والے ہیں۔ غیر مکی عرفات میں ٹھہرتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی،، پھر وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے لوگ واپس اتے ہیں۔ حمس۔ سے مراد اہل حرم ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۰؛مَا جَاءَ فِی الْوُقُوفِ بَعَرَفَاتٍ وَالدُّعَاءِ فِيْهَا، جلد ۱ص۴۶۵،حدیث نمبر ٨٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ كَانَ عَلَى دِينِهَا وَهُمُ الحُمْسُ يَقِفُونَ بِالمُزْدَلِفَةِ يَقُولُونَ: نَحْنُ قَطِينُ اللَّهِ، وَكَانَ مَنْ سِوَاهُمْ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: 199] ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ». " وَمَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ: أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ مِنَ الحَرَمِ، وَعَرَفَةُ خَارِجٌ مِنَ الحَرَمِ، وَأَهْلُ مَكَّةَ كَانُوا يَقِفُونَ بِالمُزْدَلِفَةِ، وَيَقُولُونَ: نَحْنُ قَطِينُ اللَّهِ، يَعْنِي: سُكَّانَ اللَّهِ، وَمَنْ سِوَى أَهْلِ مَكَّةَ كَانُوا يَقِفُونَ بِعَرَفَاتٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: 199]، وَالحُمْسُ هُمْ أَهْلُ الحَرَمِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 884

تمام عرفات ٹھہر نے کی جگہ ہے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں ٹھہرے اور فرمایا یہ عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارے کا سارا عرفات ٹھرنے کی جگہ ہے۔ غروب آفتاب کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بٹھایا اور اسی حالت میں ہاتھ سے اشارہ کرنے لگے۔ لوگ دائیں بائیں اونٹوں کو چلانے کے لیے مارتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے لوگو! اطمینان سے چلو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچے وہاں دو نمازیں ( مغرب وعشاء) اکٹھی پڑھیں۔ صبح ہوئی تو مقام قزح تشریف لائے اور وہاں ٹھہرے فرمایا یہ قزح ہے اور یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ مزدلفہ سارے کا سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر وہاں سے چل کر وادی محسر میں پہنچے تو اونٹنی کو ایڑ لگائی وہ دوڑ پڑی وادی محسر سے نکل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کواپنے پیچھے بٹھایا۔ پھر جمرہ پر پہنچ کر کنکریاں ماریں اس کے بعد قربانی کی جگہ پہنچے اور فرمایا یہ قربانی کی جگہ ہے اور سارے کا سارا منٰی قربان گاہ ہے (وہاں) قبیلہ خثعم کی ایک نوجوان عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک فتویٰ پوچھا۔ اس نے عرض کیا (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) میرا باپ بہت بوڑھا ہے اور اس پر حج فرض ہے کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " تو اس کی طرف سے حج کر،، راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل بن عباس کی گردن (دوسری طرف) پھیردی۔ اس پر حضرت عباس نے فرمایا،،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچازاد کی گردن کیوں پھیر لی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نوجوان مرد اور نوجوان عورت کو دیکھا تو میں ان پر شیطان سے بے خوف نہیں ہوا۔ ایک شخص نے آ کر مسئلہ پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے سر منڈانے سے پہلے کعبۃ اللہ کا طواف استفاضہ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر منڈا لے یا فرمایا بال کٹوا دے کوئی حرج نہیں۔ راوی کہتے ہیں ایک دوسرے آدمی نے آکر عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کنکریاں پھینکنے سے پہلے جانور ذبح کردیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنکریاں پھینکو کوئی حرج نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف کے پاس آئے اسکا طواف کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم پر تشریف لائے اور فرمایا اے عبد المطلب کی اولاد اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غالب آجائیں گے تو میں بھی زمزم کا پانی کھینچتا (نکالتا) یعنی اس صورت میں ہر کوئی اتباع سنت میں زمزم کا پانی نکالنے کی کوشش کرے گا۔ مترجم) اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث علی حسن صحیح ہے ہم اسے صرف اسی طریق یعنی عبدالرحمٰن بن حارث بن عیاش کی روایت سے پہچانتے ہیں کئی راویوں نے سفیان ثوری سے اسکی مثل حدیث روایت کی ہے علماء کا اس پر عمل ہے۔ کہ عرفات میں ظہراور عصرکی نماز ظہر کے وقت میں جمع کی جائیں بعض علماء فرماتے ہیں اگر کوئی شخص اپنے خیمہ میں (اکیلا) نماز پڑھے اور امام کی جماعت میں شریک نہ ہوتو بھی امام کے طریقے پر دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھ سکتا ہے زید بن علی سے زید بن حسین بن علی رضی اللّٰہ عنہم مراد ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۱،مِا جَاءَ أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوقِفٌ، جلد ۱ص۴۶۶،حدیث نمبر ٨٨٥)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: «هَذِهِ عَرَفَةُ، وَهُوَ الْمَوْقِفُ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ»، ثُمَّ أَفَاضَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَجَعَلَ يُشِيرُ بِيَدِهِ عَلَى هِيْئَتِهِ، وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا، يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، وَيَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ»، ثُمَّ أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهِمُ الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى قُزَحَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «هَذَا قُزَحُ وَهُوَ المَوْقِفُ، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ»، ثُمَّ أَفَاضَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى وَادِي مُحَسِّرٍ، فَقَرَعَ نَاقَتَهُ، فَخَبَّتْ حَتَّى جَاوَزَ الوَادِيَ فَوَقَفَ، وَأَرْدَفَ الفَضْلَ ثُمَّ أَتَى الجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى المَنْحَرَ، فَقَالَ: «هَذَا المَنْحَرُ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ»، -[224]- وَاسْتَفْتَتْهُ جَارِيَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمٍ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الحَجِّ، أَفَيُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: «حُجِّي عَنْ أَبِيكِ»، قَالَ: وَلَوَى عُنُقَ الفَضْلِ، فَقَالَ العَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ؟ قَالَ: «رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَلَمْ آمَنِ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا»، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ، قَالَ: «احْلِقْ، أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ»، قَالَ: وَجَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ»، قَالَ: ثُمَّ أَتَى البَيْتَ فَطَافَ بِهِ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ، فَقَالَ: «يَا بَنِي عَبْدِ المُطَّلِبِ، لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَنْهُ لَنَزَعْتُ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ. حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحَارِثِ بْنِ عَيَّاشٍ. وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الثَّوْرِيِّ مِثْلَ هَذَا، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ رَأَوْا أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالعَصْرِ بِعَرَفَةَ فِي وَقْتِ الظُّهْرِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ فِي رَحْلِهِ وَلَمْ يَشْهَدِ الصَّلَاةَ مَعَ الإِمَامِ إِنْ شَاءَ جَمَعَ هُوَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِثْلَ مَا صَنَعَ الإِمَامُ. وَزَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 885

عرفات سے واپسی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی محسر میں تیزی سے چلتے بشر نے اس میں اضافہ کر کے کہا کہ آپ مزدلفہ سے واپس لوٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سکون تھے اور سکون سے ہی چلنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم بھی فرمایا ابو نعیم نے یہ الفاظ زائد نقل کیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکریوں کی طرح کی کنکریاں مارنے کا حکم فرمایا اور فرمایا اور یا شاید میں اس سال کے بعد تم کو نہ دیکھوں۔ اس باب میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ ف : حدیث مذکورہ بالا سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال مبارک کے وقت سے اگاہ کر رکھا تھا اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو فرمایا کہ شاید میں آئندہ سال تمہیں نہ دیکھوں۔ موت کے وقت یا جگہ سے خدا کے بتائے بغیر کوئی آگاہ نہیں لیکن جسے چاہے وہ مطلع فرما دے۔ قرآن پاک کی آیات اور احادیث میں یوں ہی تطبیق ہے ورنہ تضاد لازم آئے گا۔ مترجم (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۲؛مَا جَاءَ فِي الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتِ، جلد ۱ص۴۶۷،حدیث نمبر ٨٨٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَبِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ - وَزَادَ فِيهِ بِشْرٌ: - وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، - وَزَادَ فِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ: - وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الخَذْفِ، وَقَالَ: «لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا» وَفِي البَابِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ.: «حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 886

مزدلفہ میں عشاء اور مغرب کو اکٹھا پڑھنا عبداللہ بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ہی تکبیر سے پڑھیں اور فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام پر ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۳؛مَا جَاءَ فِي الجَمْعِ بين المَغْرب وَالْعِشَاء بِالْمُزْدَ لفَةِ -جلد ۱ص۴۶۸،حدیث نمبر ٨٨٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الجَمْعِ بَيْنَ المَغْرِبِ وَالعِشَاءِ بِالمُزْدَلِفَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، صَلَّى بِجَمْعٍ فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِإِقَامَةٍ، وَقَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا المَكَانِ»،

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 887

حضرت سعید بن جبیر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی مثل حدیث مرفوعاً روایت کی۔ محمد بن بشار، یحییٰ کا قول نقل کرتے ہیں کہ حدیث سفیان بہتر ہے۔ اس باب میں حضرت علی، ابوایوب عبداللہ بن مسعود، جابر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ابن عمر بروایت سفیان اسماعیل بن خالد کی روایت سے اصح ہے۔ اور حدیث سفیان حسن صحیح ہے، اسرائیل نے یہ حدیث ابو اسحٰق اور مالک کے دو بیٹوں عبداللہ اور خالد کے واسطہ سے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کی۔ ابن عمر سے سعید بن جبیر کی روایت بھی  حسن صحیح ہے سلمہ بن کہیل نے اسے سعید بن جبیر سے روایت کیا  ہے ابو اسحٰاق نے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد کے واسطہ سے حضرت ابن عمر سے روایت کیا۔ علماء کا اس پر عمل ہے کہ مزدلفہ (پہنچنے) سے پہلے مغرب کی نماز نہ پڑھے۔ جب مزدلفہ پہنچے تو دو  نمازوں کو ایک اقامت کے ساتھ جمع کرے۔ دونوں کے درمیان نفل نہ پڑھے بعض علماء نے اسے ہی اختیار کیا ہے اور سفیان ثوری کا یہی قول ہے۔ سفیان فرماتے ہیں اگر چاہیں تو مغرب پڑھ کر کھانا کھائے۔ کپڑے اتارے پھر اقامت کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھے۔ بعض علماء فرماتے ہیں۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ جمع کرے۔ مغرب کی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہے اور نماز پڑھے۔ پھر اقامت کہہ کر عشاء کی نماز پڑھے۔ امام شافع اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۳؛مَا جَاءَ فِي الجَمْعِ بين المَغْرب وَالْعِشَاء بِالْمُزْدَ لفَةِ -جلد ۱ص۴۶۸،حدیث نمبر ٨٨٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: قَالَ يَحْيَى: «وَالصَّوَابُ حَدِيثُ سُفْيَانَ». وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ.: حَدِيثُ ابْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ لِأَنَّهُ لَا تُصَلَّى صَلَاةُ المَغْرِبِ دُونَ جَمْعٍ، فَإِذَا أَتَى جَمْعًا وَهُوَ المُزْدَلِفَةُ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، وَلَمْ يَتَطَوَّعْ فِيمَا بَيْنَهُمَا، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ، وَذَهَبَ إِلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ " قَالَ سُفْيَانُ: «وَإِنْ شَاءَ صَلَّى المَغْرِبَ، ثُمَّ تَعَشَّى وَوَضَعَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى العِشَاءَ» وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: يَجْمَعُ بَيْنَ المَغْرِبِ وَالعِشَاءِ بِالمُزْدَلِفَةِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ، يُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ المَغْرِبِ وَيُقِيمُ، وَيُصَلِّي المَغْرِبَ ثُمَّ يُقِيمُ وَيُصَلِّي العِشَاءَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ".: وَرَوَى إِسْرَائِيلُ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَخَالِدٍ ابْنَيْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «وَحَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَيْضًا» رَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَأَمَّا أَبُو إِسْحَاقَ فَرَوَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَخَالِدٍ ابْنَيْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 888

امام کو مزدلفہ میں پانے والے نے حج کو پا لیا عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجد کے چند آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عرفات میں تھے ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم فرمایا۔ اس نے اعلان کیا۔ حج عرفات میں ہے۔ جو آدمی مزدلفہ کی رات صبح ہونے سے پہلے  آجائے اس نے حج کو پا لیا منٰی کے تین دن ہیں جو جلدی کرتے ہوئے دو دنوں کے بعد واپس آگیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اور جو ٹھہرا رہا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ محمد بن بشار کہتے ہیں یحییٰ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ کہ آپ نے ایک آدمی کو  (سواری پر) پیچھے بٹھایا اور اس نے اعلان کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۴؛مَا جَاءَ مَنْ أَدْرَكَ الاِمام بِجَمْعِ فَقَدْ اَدْرَكِ الْحَجِ - جلد ۱ص۴۶۹،حدیث نمبر ٨٨٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ أَدْرَكَ الإِمَامَ بِجَمْعٍ فَقَدْ أَدْرَكَ الحَجَّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَسَأَلُوهُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى: «الحَجُّ عَرَفَةُ، مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الحَجَّ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» قَالَ: وَزَادَ يَحْيَى: وَأَرْدَفَ رَجُلًا فَنَادَى،

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 889

ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان بن عیینہ ، سفیان ثوری اور بکیر بن عطاء عبدالرحمن بن یعمر سے اسی کے ہم معنی حدیث مرفوعاً نقل کی ۔ ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ کا قول نقل کیا کہ یہ نہایت کھری حدیث ہے۔ سفیان ثوری نے اسے روایت کیا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں صحابہ کرام اور تابعین کا عبدالرحمٰن بن یعمر کی حدیث پر عمل ہے کہ جو آدمی صبح ہونے سے پہلے عرفات میں نہ ٹھہرا۔ اس کاحج چھوٹ گیا۔ صبح کے بعد آئے تو حج نہ ہو گا۔ اسے عمرہ بنادے۔ دوسرے سال حج کرے ۔ سفیان ثوری،شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے شعبہ نے بکیر بن عطاء سے حدیث ثوری کی مثل حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ میں نے جاردو سے سناوہ وکیع سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ حدیث روایت کی اور کہا کہ یہ حدیث ام المناسک ( مسائل حج کی اصل) ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۴؛مَا جَاءَ مَنْ أَدْرَكَ الاِمام بِجَمْعِ فَقَدْ اَدْرَكِ الْحَجِ - جلد ۱ص۴۶۹،حدیث نمبر ٨٩٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: «وَهَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ».: -«وَالعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُ مَنْ لَمْ يَقِفْ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ طُلُوعِ الفَجْرِ فَقَدْ فَاتَهُ الحَجُّ وَلَا يُجْزِئُ عَنْهُ إِنْ جَاءَ بَعْدَ طُلُوعِ الفَجْرِ وَيَجْعَلُهَا عُمْرَةً، وَعَلَيْهِ الحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ».: «وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ نَحْوَ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ». قَالَ: وَسَمِعْتُ الجَارُودَ يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا أَنَّهُ ذَكَرَ هَذَا الحَدِيثَ، فَقَالَ: «هَذَا الحَدِيثُ أُمُّ المَنَاسِكِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 890

عروه بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام طائی سے مروی ہے ۔ فرماتے ہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مزدلفہ میں حاضر ہوا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں طے کے دو پہاڑوں سے آیا ہوں۔ میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا اور اپنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت میں ڈالا۔ قسم بخدا ! میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا جس پر نہ ٹھہرا ہوں کیا میرا حج ہوگیا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہماری اس وقت کی نماز میں شرکت کی اور واپس جانے تک ہمارے پاس ٹھہرا۔ اس سے پہلے ایک رات دن عرفات میں ٹھہرا تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس کی میل کچیل دور ہوگئی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۴؛مَا جَاءَ مَنْ أَدْرَكَ الاِمام بِجَمْعِ فَقَدْ اَدْرَكِ الْحَجِ - جلد ۱ص۴۶۹،حدیث نمبر ٨٩١)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَزَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ الطَّائِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالمُزْدَلِفَةِ حِينَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ -- فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ صَلَاتَنَا هَذِهِ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نَدْفَعَ وَقَدْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا، أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ أَتَمَّ حَجَّهُ، وَقَضَى تَفَثَهُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَوْلُهُ تَفَثَهُ، يَعْنِي: نُسُكَهُ، قَوْلُهُ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ: إِذَا كَانَ مِنْ رَمْلٍ يُقَالُ لَهُ حَبْلٌ، وَإِذَا كَانَ مِنْ حِجَارَةٍ يُقَالُ لَهُ: جَبَلٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 891

مزدلفہ سے کمزوروں کو پہلے بھیجنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے مسافروں کا سامان دے کر اپنے عیال کے ہمراہ رات پہلے ہی بھیج دیا۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، ام حبیبہ، اسماء اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۵؛مَاجَاءَ فِی تَقْدِيمِ الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، جلد ۱ص۴۷۰،حدیث نمبر ٨٩٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْدِيمِ الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَقَلٍ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ» وَفِي البَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَالفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 892

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمزور اہل وعیال کو پہلے بھیج دیا اور فرمایا۔ سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ مارنا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے۔ علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ اور وہ مزدلفہ سے کمزور لوگوں کو رات کے وقت منٰی کی طرف بھیجنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ حدیث کے مطابق بعض علماء نے فرمایا کہ وہ سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں ۔ بعض علماء نے رات کے وقت کنکریاں مارنے کی اجازت دی ہے ۔ (بہر حال )عمل حدیث ہی پر ہے۔ سفیان ثوری اور امام شافعی رحمہما اللہ کا یہی قول ہے۔ اور ان سے کئی طرق سے مروی ہے شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ مشاش عطاء اورابن عباس ، حضرت فضل بن عباس سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمزور اہل وعیال کو مزدلفہ سے پہلے ہی رات کو بھیج دیا۔ اس حدیث میں مشاش سے غلطی ہوئی اور فضل بن عباس کا واسطہ زیادہ کیا۔ انن جریج وغیرہ نے اس حدیث کو بواسطہ عطاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا اس میں فضل بن عباس کا ذکر نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۵؛مَاجَاءَ فِی تَقْدِيمِ الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، جلد ۱ص۴۷۰،حدیث نمبر ٨٩٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ المَسْعُودِيِّ، عَنْ الحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، وَقَالَ: «لَا تَرْمُوا الجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يَتَقَدَّمَ الضَّعَفَةُ مِنَ المُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ يَصِيرُونَ إِلَى مِنًى. وقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ العِلْمِ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ لَا يَرْمُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِي أَنْ يَرْمُوا بِلَيْلٍ، وَالعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ لَا يَرْمُونَ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ. حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَقَلٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ، رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ. وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ مُشَاشٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ. وَهَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ، أَخْطَأَ فِيهِ مُشَاشٌ، وَزَادَ فِيهِ عَنِ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ، وَغَيْرُهُ هَذَا الحَدِيثَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَمُشَاشٌ بَصْرِيٌّ رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 893

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن چاشت کے وقت کنکریاں مارتے تھے لیکن دوسرے دنوں میں زوال شمس کے بعد مارتے، امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اکثر علماء کا اس پر عمل ہے کہ قربانی کے دن کے بعد زوال آفتاب کے بعد ہی کنکریاں ماری جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۶؛ جلد ۱ص۴۷۱،حدیث نمبر ٨٩٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي رَمْيِ يَوْمِ النَّحْرِ ضُحًى حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ، فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ أَنَّهُ لَا يَرْمِي بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَّا بَعْدَ الزَّوَالِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 894

مزدلفہ سے واپسی طلوع آفتا سے پہلے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے واپس ہوئے ۔ اس باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس صحیح ہے۔ دور جہالت کے لوگ طلوع آفتاب کی انتظار کرتے۔ اور پھر لوٹتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۷؛مَا جَاءَ اِنَّ الْإِفَاضَةَ مِنْ جَمْع قَبلَ طُلُوع الشمس -جلد ۱ص۴۷۲،حدیث نمبر ٨٩٥)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الإِفَاضَةَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ الحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ» - وَفِي البَابِ عَنْ عُمَرَ.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الجَاهِلِيَّةِ يَنْتَظِرُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ يُفِيضُونَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 895

عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین سورج نکلنے سے پہلے واپس نہیں ہوتے تھے اور کہتے تھے ثبیر ! چمک ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت فرمائی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ طلوع آفتاب سے پہلے چل پڑے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۷؛مَا جَاءَ اِنَّ الْإِفَاضَةَ مِنْ جَمْع قَبلَ طُلُوع الشمس -جلد ۱ص۴۷۲،حدیث نمبر ٨٩٦)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يُحَدِّثُ يَقُولُ: كُنَّا وُقُوفًا بِجَمْعٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ: " إِنَّ المُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَكَانُوا يَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ "، فَأَفَاضَ عُمَرُ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 896

چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماری جائیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خذف ( جو دوانگلیوں سے پھینکی جائے) کے برا ہر کنکریاں مارتے تھے ۔ اس باب میں حضرت سلیمان بن عمرو بن احوص بواسطه ان کی والدہ ایم جندب ازدب یه ، ابن عباس، فضل بن عباس ، عبد الرحمٰن بن عثمان تیمی اور عبدالرحمٰن بن معاذ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے علماء نے اختیار کیا ہے کہ جو کنکریاں ماری جائیں ۔ وہ ایسی ہوں جن کو دو انگلیوں سے پھینکا جاسکے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب ۶۰۸؛مَا جَاءَ أَنَّ الْجِمَارَ الَّتِي تُرمٰى مِثْلُ حَصَى الْخَذَفْ، جلد ۱ص۴۷۲،حدیث نمبر ٨٩٧)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الجِمَارَ الَّتِي يُرْمَى بِهَا مِثْلُ حَصَى الخَذْفِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ - قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الخَذْفِ» وَفِي البَابِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ وَهِيَ أُمُّ جُنْدُبٍ الأَزْدِيَّةُ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ.: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ العِلْمِ أَنْ تَكُونَ الجِمَارُ الَّتِي يُرْمَى بِهَا مِثْلَ حَصَى الخَذْفِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 897

زوال آفتاب کے بعد کنکریاں مارنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوال آفتاب کے بعد کنکریاں پھینکتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۹ماجاء في الرَمِيْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسَ، جلد ۱ص۴۷۳،حدیث نمبر ٨٩٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّمْيِ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الحَجَّاجِ، عَنْ الحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الجِمَارَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 898

سوار ہو کر کنکریاں مارنا حضرت ابن عباس رضی عنہما فرماتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن سوار ہو کہ جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں۔ اس باب میں حضرت جابر ، قدامہ بن عبدالله اور ام سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکورہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن ہے ۔ اور بعض علما کا اس پر عمل ہے ۔ بعض علماء کے نزدیک پیدل چل کر کنکریاں مارنا اچھا ہے۔ ہمارے نزدیک حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے بعض اوقات سوار ہو کہ کنکریاں ماریں ۔ تاکہ آپ کے فعل کی پیروی کی جائے۔ علماء کا دونوں حدیثیوں پرعمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۰مَا جَاءَ فِي رَمِيِ الجِمَارِ رَاكِبًا، جلد ۱ص۴۷۳،حدیث نمبر ٨٩٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي رَمْيِ الجِمَارِ رَاكِبًا وَمَاشِيًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا الحَجَّاجُ، عَنْ الحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَقُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأُمِّ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الجِمَارِ " وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي إِلَى الجِمَارِ» وَوَجْهُ هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَنَا أَنَّهُ رَكِبَ فِي بَعْضِ الأَيَّامِ لِيُقْتَدَى بِهِ فِي فِعْلِهِ، وَكِلَا الحَدِيثَيْنِ مُسْتَعْمَلٌ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 899

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جمروں  پر کنکریاں مارنے کے یے پیدل جاتے اور اسی طرح واپس آتے ۔امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض محدثین نے اسے عبید اللہ سے غیر مرفوع بیان کیا ۔ اکثر علماء کا اس پر عمل ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں۔ قربانی کے دن سوار ہو کر اور باقی دنوں میں پیدل کنکریاں مار ے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں جس نے یہ کہا گویا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کا خیال کیا۔ کیونکہ آپ سے مروی ہے کہ آپ نے قربانی کے دن سوار ہو کر کنکریاں ماریں قربانی کے دن صرف جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۰مَا جَاءَ فِي رَمِيِ الجِمَارِ رَاكِبًا، جلد ۱ص۴۷۳،حدیث نمبر ٩٠٠)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،- عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الجِمَارَ مَشَى إِلَيْهَا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يَرْكَبُ يَوْمَ النَّحْرِ، وَيَمْشِي فِي الأَيَّامِ الَّتِي بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ ".: «وَكَأَنَّ مَنْ قَالَ هَذَا، إِنَّمَا أَرَادَ اتِّبَاعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِعْلِهِ، لِأَنَّهُ إِنَّمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَكِبَ يَوْمَ النَّحْرِ حَيْثُ ذَهَبَ يَرْمِي الجِمَارُ، وَلَا يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ إِلَّا جَمْرَةَ العَقَبَةِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 900

کنکریاں مارنے کا طریقہ حضرت عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد الله جمرہ عقبہ پر آئے تو وادی کے درمیان قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے اور اپنی داہنی جانب سے کنکریاں مارنے لگے سات کنکریاں ماریں ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے رہے پھر فرمایا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی جگہ سے اس ذات بابرکات نے کنکریاں پھینکی ہیں جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ حضرت وکیع نے مسعودی سے سند مذکور کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت نقل کی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت فضل بن عباس، ابن عباس، ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنھم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی بطن وادی سے سات کنکریاں پھینکے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے۔  بعض علماء نے اجازت دی ہے کہ اگر وسط وادی سے پھینکنا شروع ہو تو جہاں سے ہو سکے پھینک دے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۱؛كَيْفَ تُرْمَى الجِمَارُ، جلد ۱ص۴۷۴،حدیث نمبر ٩٠١)

بَابُ مَا جَاءَ كَيْفَ تُرْمَى الجِمَارُ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا المَسْعُودِيُّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ جَمْرَةَ العَقَبَةِ اسْتَبْطَنَ الوَادِيَ، وَاسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ، وَجَعَلَ - يَرْمِي الجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الأَيْمَنِ، ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مِنْ هَاهُنَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ البَقَرَةِ» حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ المَسْعُودِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ. وَفِي البَابِ عَنْ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وجَابِرٍ.: «حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، «وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ يَرْمِيَ الرَّجُلُ مِنْ بَطْنِ الوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِنْ لَمْ يُمْكِنْهُ أَنْ يَرْمِيَ مِنْ بَطْنِ الوَادِي رَمَى مِنْ حَيْثُ قَدَرَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي بَطْنِ الوَادِي»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 901

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جمعرات کو کنکریاں مارنا اور صفا مروہ کے درمیان دوڑنا اللہ تعالی کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۱؛كَيْفَ تُرْمَى الجِمَارُ، جلد ۱ص۴۷۴،حدیث نمبر ٩٠٢)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الجَهْضَمِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ القَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الجِمَارِ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ»: «وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 902

کنکریاں مارتے وقت لوگوں کو ہٹانا مکروہ ہے حضرت قدامہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر بیٹھے کنکریاں پھینکتے دیکھا۔ نہ تو وہاں مارتا تھا نہ ادھر ادھر کرتا اور نہ یہ کہ ایک طرف ہو جاؤ، اس باب میں حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث قدامہ بن عبد اللہ حسن صحیح ہے یہ حدیث صرف اسی طریق سے معروف ہے اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امین بن نابل، محدثین کے نزدیک ثقہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۲؛مَا جَاءَ كَرَاهِبَة طَرْدِ النَّاسِ عِندَ رمِی الْجِمَارِ ، جلد ۱ص۴۷۵،حدیث نمبر ٩٠٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ طَرْدِ النَّاسِ عِنْدَ رَمْيِ الجِمَارَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الجِمَارُ عَلَى نَاقَةٍ لَيْسَ ضَرْبٌ، وَلَا طَرْدٌ، وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ.: «حَدِيثُ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الحَدِيثُ مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وَهُوَ حَدِيثُ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 903

اونٹ اور گائے میں شرکت حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات آدمیوں کی طرف سے گائے اور سات ہی کی طرف سے اونٹ کی قربانی دی۔ اس باب میں حضرت ابن عمر ابو ہریرہ عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ اونٹ اور گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے ہیں۔ سفیان ثوری، امام شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ۔ بواسطہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ گائے اور اونٹ دس دس آدمیوں کی طرف سے ہیں۔ امام اسحاق کا یہی قول ہے۔ انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا۔ حدیث ابن عباس کو ہم صرف ایک طریق سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۳؛مَا جَاءَ فِي الْاشْتِرَاكِ فِی الْبُدْنَةِوالْبَقْرَةِ ، جلد ۱ص۴۷۵،حدیث نمبر ٩٠٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاشْتِرَاكِ فِي البَدَنَةِ وَالبَقَرَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «نَحَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الحُدَيْبِيَةِ البَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: «حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: يَرَوْنَ الجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ " وَرُوِي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّ البَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالجَزُورَ عَنْ عَشَرَةٍ» وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاقَ، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الحَدِيثِ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ وَجْهٍ وَاحِدٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 904

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ اسی دوران عید قربان آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس افراد شریک ہوئے امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث یعنی حدیث حسین بن واقد غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۳؛مَا جَاءَ فِي الْاشْتِرَاكِ فِی الْبُدْنَةِوالْبَقْرَةِ ، جلد ۱ص۴۷۵،حدیث نمبر ٩٠٥)

حَدَّثَنَا الحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ الأَضْحَى، فَاشْتَرَكْنَا فِي البَقَرَةِ سَبْعَةً، وَفِي الجَزُورِ عَشَرَةً»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 905

اونٹ پر نشان لگانا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے مقام پر اونٹنی کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں اور ہدی کو دائیں جانب سے زخمی کر کے نشان لگایا۔ اور خون صاف کر دیا۔ اس باب میں حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے ۔ اور ابو الاحسان اعرج کا نام مسلم ہے اس حدیث پر صحابہ کرام اور تابعین کا عمل ہے وہ اشعار کو سنت سمجھتے ہیں ۔ امام ثوری، شافعی ، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ میں نے یوسف بن عیسیٰ وکیع سے سنا۔ انہوں نے حدیث روایت کرتے ہوئے فرمایا یہ اس معاملے میں اہل رائے کا قول نہ دیکھو نشان لگانا سنت ہے۔ اہل رائے کہتے ہیں بدعت ہے۔ نیز امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ میں نے ابو سائب سے سنا وہ کہتے ہیں ہم وکیع کے پاس تھے کہ انہوں نے اہل رائے میں سے ایک شخص سے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا۔ (نشان لگایا) اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں۔ یہ مثلہ (اعضاء کا کاٹنا) ہے اس شخص نے کہا۔ ابراہیم نخعی بھی کہتے ہیں کہ یہ مثلہ ہے میں نے وکیع کو دیکھا سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا میں کہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تو کہتا ہے۔ ابراہیم نخعی نے یوں کہا تم اس قابل ہو کہ تمہیں قید کیا جائے۔ اور اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک تم اپنے قول سے باز نہ آ جاؤ۔ ف : شعار اپنی حد کے اندر ہو اور گوشت نہ کاٹا جائے تو کوئی کراہت نہیں۔ لیکن ایسی صورت جو جانور کی ہلاکت کا باعث ہو۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے نزدیک مکروہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۴؛مَا جَاءَ فِی اِشْعَارِ الْبَدَنِ، جلد ۱ص۴۷۶،حدیث نمبر ٩٠٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي إِشْعَارِ البُدْنِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّدَ نَعْلَيْنِ، وَأَشْعَرَ الهَدْيَ فِي الشِّقِّ الأَيْمَنِ بِذِي الحُلَيْفَةِ، وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ» وَفِي البَابِ عَنْ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَأَبُو حَسَّانَ الأَعْرَجُ: اسْمُهُ مُسْلِمٌ «وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ»، «يَرَوْنَ الإِشْعَارَ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ» سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ عِيسَى يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ حِينَ رَوَى هَذَا الحَدِيثَ، فَقَالَ: «لَا تَنْظُرُوا إِلَى قَوْلِ أَهْلِ الرَّأْيِ فِي هَذَا، فَإِنَّ الإِشْعَارَ سُنَّةٌ، وَقَوْلُهُمْ بِدْعَةٌ». وَسَمِعْتُ أَبَا السَّائِبِ يَقُولُ: " كُنَّا عِنْدَ وَكِيعٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ مِمَّنْ يَنْظُرُ فِي الرَّأْيِ: أَشْعَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ أَبُو حَنِيفَةَ هُوَ مُثْلَةٌ؟ قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: الإِشْعَارُ مُثْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ وَكِيعًا غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: أَقُولُ لَكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ، مَا أَحَقَّكَ بِأَنْ تُحْبَسَ، ثُمَّ لَا تَخْرُجَ حَتَّى تَنْزِعَ عَنْ قَوْلِكَ هَذَا "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 906

ہدی کا جانور خریدنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام قدید سے ہدی کا جانور خریدا امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے حدیث ثوری سے صرف یحییٰ بن یمان کی روایت سے پہچانتے ہیں حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ان عمر رضی اللہ عنہما نے مقام قدید سے ہدی کا جانور خریدا امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۵،جلد۱ص۴۷۷،حدیث نمبر ٩٠٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ اليَمَانِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ اليَمَانِ» وَرُوِيَ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ «اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ».: «وَهَذَا أَصَحُّ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 907

مقیم کا ہدی کے گلے میں ہار ڈالنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے ہار گوندھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو احرام باندھا اور نہ ہی کوئی کپڑا چھوڑا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں۔ حج کا ارادہ کرنے والے شخص کے لیے مہدی کے گلے میں ہار ڈالنے سے نہ تو ( سلا ہوا) کپڑا حرام ہوتا ہے اور نہ ہی خوشبو۔ جب تک کہ احرام نہ باند ھے بعض علماء فرماتے ہیں۔ ہدی کے گلے میں ہار ڈالنے سے وہ سب کچھ واجب ہو جاتا ہے۔ جو احرام باندھنے سے واجب ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۶؛مَا جَاءَ فِي تقْلِيدِ الْهَدَىِ لِلْمُقِيمِ، جلد ۱ص۴۷۷،حدیث نمبر ٩٠٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْلِيدِ الهَدْيِ لِلْمُقِيمِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ يُحْرِمْ وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ»:«هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا: إِذَا قَلَّدَ الرَّجُلُ الهَدْيَ وَهُوَ يُرِيدُ الحَجَّ، لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ حَتَّى يُحْرِمَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: إِذَا قَلَّدَ الرَّجُلُ هَدْيَهُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ مَا وَجَبَ عَلَى المُحْرِمِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 908

بکریوں کے گلے میں ہار ڈالنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے ہار گوندھتی تھی اور یہ جانور سب بکریاں ہوتیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام نہیں باندھتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ بکریوں کے گلے میں ہار ڈالے جائیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۷؛مَا جَاءَ فِي تَقْلِيدِ الْغَنَمِ، جلد ۱ص۴۷۸،حدیث نمبر ٩٠٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْلِيدِ الغَنَمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا غَنَمًا، ثُمَّ لَا يُحْرِمُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: يَرَوْنَ تَقْلِيدَ الغَنَمِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 909

ہدی مرنے کے قریب ہو تو کیا کیا جائے حضرت ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہدی مرنے کے قریب ہو تو کیا کروں؟ فرمایا اسے ذبح کر دو۔ پھر اس کے (ہاروں والے) جوتے اس کے خون میں ڈبو کر اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو تا کہ وہ اس سے کھائیں۔ اس باب میں ذویب ابو قبیصہ خراعی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ناجیہ حسن صحیح ہے۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے ۔ وہ فرماتے ہیں۔ اگر نفلی ہدی مرنے کے قریب ہو تو اسے نہ خود کھائے نہ اس کے ساتھی کھائیں بلکہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیں تا کہ وہ اس سے کھائیں، یہ اس کی طرف سے کافی ہوگی ۔ امام شافعی، احمد اور اسحق کا یہی قول ہے ۔ فرماتے ہیں اگر اس سے کچھ بھی کھایا تو کھانے کی مقدار تاوان دے۔ بعض علماء فرماتے ہیں اگر نفلی ہدی سے کھائے گا تو تاوان دینا ہوگا ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۸؛مَا جَاءَ إِذَا عَطِبَ الْهَدْیُ مَا يُصْنَعُ بِهٖ ، جلد ۱ص۴۷۸،حدیث نمبر ٩١٠)

بَابُ مَا جَاءَ إِذَا عَطِبَ الهَدْيُ مَا يُصْنَعُ بِهِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الخُزَاعِيِّ، صَاحِبِ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ البُدْنِ؟ قَالَ: «انْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهَا، فَيَأْكُلُوهَا» وَفِي البَابِ عَنْ ذُؤَيْبٍ أَبِي قَبِيصَةَ الخُزَاعِيِّ.: «حَدِيثُ نَاجِيَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا فِي هَدْيِ التَّطَوُّعِ: إِذَا عَطِبَ لَا يَأْكُلُ هُوَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِهِ، وَيُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهُ، وَقَدْ أَجْزَأَ عَنْهُ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَقَالُوا: إِنْ أَكَلَ مِنْهُ شَيْئًا غَرِمَ بِقَدْرِ مَا أَكَلَ مِنْهُ " وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: إِذَا أَكَلَ مِنْ هَدْيِ التَّطَوُّعِ شَيْئًا فَقَدْ ضَمِنَ الَّذِي أَكَلَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 910

ہدی پر سوار ہونا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ ہدی کو ہانک کرلے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر سوار ہوجا، عرض کرنے لگا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہدی کا جانور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا تجھ پرافسوس یا تیرے لیے ہلاکت ہے۔ سوار ہو جا۔ اس باب میں حضرت علی ابو ہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث انس صحیح حسن ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت نے ضرورت کے وقت ہدی پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے ۔ امام شافعی احمد اور اسحق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ بعض علما فرماتے ہیں جب تک سوار ہونے پر مجبور نہ ہو سوار نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج، باب۶۱۹؛مَا جَاءَ فِی رُكُوبِ الْبَدَنَةِ، جلد ۱ص۶۷۸،حدیث نمبر ٩١١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي رُكُوبِ البَدَنَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ لَهُ: «ارْكَبْهَا»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ: «ارْكَبْهَا وَيْحَكَ، أَوْ وَيْلَكَ» وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ.: «حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي رُكُوبِ البَدَنَةِ إِذَا احْتَاجَ إِلَى ظَهْرِهَا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَرْكَبُ مَا لَمْ يُضْطَرَّ إِلَيْهَا "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 911

سر کے بال کس طرف سے منڈوانے شروع کیے جائیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد اپنی قربانی کا جانور ذبح کیا پھر حجام (مونڈنے والا) کی طرف اپنے سر مبارک کا داہنا حصہ کیا اس نے مونڈا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیے پھر دوسرا حصہ حجام کے سامنے رکھا اس نے اسے منڈا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بال لوگوں میں( تبرک کے لیے تقسیم کر دو) ابن ابی عمر نے بواسطه ابن سفیان ابن عیینہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۰؛مَاجَاءَ بِاَيِّ جَانِبِ الرأسِ يُبْدَاُ فِی الْخَلْقِ، جلد ۱ص۴۷۹،حدیث نمبر ٩١٢)

بَابُ مَا جَاءَ بِأَيِّ الرَّأْسِ يَبْدَأُ فِي الحَلْقِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الجَمْرَةَ نَحَرَ نُسُكَهُ، ثُمَّ نَاوَلَ الحَالِقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ شِقَّهُ الأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، فَقَالَ: «اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ» حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ.: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 912

بال منڈوانا اور کتروانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی ایک جماعت نے سرمنڈ وایا جبکہ بعض صحابہ کرام نے بال کتر وائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یا دو بار فرمایا " اللہ تعالیٰ سرمنڈوانے والوں پر رحم فرمائے یا پھر فرمایا ۔ بال کتروا نے والوں پر بھی( اللہ تعالی رحم فرمائے) اس باب میں حضرت ابن عباس ، ابن ام حسین ، مارب، ابوسعید ابو مریم ، حبشی بن جناده، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ ان کے نزدیک منڈوا نا بہتر ہے ۔ اگر چہ کتروانا بھی کافی ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۱؛مَا جَاءَ فِی الْحَلْقِ وَالتَّقْصِير، جلد ۱ص۴۷۹،حدیث نمبر ٩١٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَلْقِ وَالتَّقْصِيرِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَحِمَ اللَّهُ المُحَلِّقِينَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ»، ثُمَّ قَالَ: «وَالمُقَصِّرِينَ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ أُمِّ الحُصَيْنِ، وَمَارِبَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي مَرْيَمَ، وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: يَخْتَارُونَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، وَإِنْ قَصَّرَ يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 913

عورتوں کے بال منڈوانا منع ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو سر منڈوانے سے منع فرمایا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۲،مَاجَاءَ فِی كَرَاهِيَة الْحَلْقِ لِلنِّسَاءِ، جلد ۱ص۴۸۰،حدیث نمبر ٩١٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الحَلْقِ لِلنِّسَاءِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْجُرَشِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ المَرْأَةُ رَأْسَهَا»،

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 914

محمد بن بشار نے بواسطه ابو داؤد اور ھمام ، خلاس سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی لیکن اس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ذکر نہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی رضی اللہ عنہ میں اضطراب ہے۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث بواسطہ قتادہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہماسے روایت کی کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم  نے عورت کو سر کے بال منڈوانے سے منع فرمایا۔ علماء کا اس پر عمل ہے کہ عورت کے لیے سر منڈوانا نہیں بلکہ بال کتروانے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۲،مَاجَاءَ فِی كَرَاهِيَة الْحَلْقِ لِلنِّسَاءِ، جلد ۱ص۴۸۰،حدیث نمبر ٩١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ خِلَاسٍ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ: «حَدِيثُ عَلِيٍّ فِيهِ اضْطِرَابٌ» وَرُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تَحْلِقَ المَرْأَةُ رَأْسَهَا»، «وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ لَا يَرَوْنَ عَلَى المَرْأَةِ حَلْقًا، وَيَرَوْنَ أَنَّ عَلَيْهَا التَّقْصِيرَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 915

ذبح سے پہلے سرمنڈوانے اور کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرنے کا حکم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کرو کوئی حرج نہیں۔ ایک دوسرے آدمی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کنکریاں پھینکنے سے پہلے قربانی کر لی( کیا جائز ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنکریاں پھینکو کوئی حرج نہیں۔ اس باب میں حضرت علی ، جابر، ابن عباس ابن عمر اسامه بن شریک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث عبداللہ بن عمرو حسن صحیح ہے ۔ اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے ۔ امام احمد اور اسحق رحمہا اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں افعال حج میں تقدیم و تاخیر سے جانور ذبح کرنا واجب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۳؛مَاجَاءَ فِي مَنْ حَلَقَ قَبْلُ أَن يَذْبَحَ او نَحَرَ قَبْلُ اَنْ یَرْمِی۔ جلد ۱ص۴۸۰،حدیث نمبر ٩١٦) -

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ المَخْزُومِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ فَقَالَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ»، وَسَأَلَهُ آخَرُ، فَقَالَ: نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ.: «حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ «،» وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: إِذَا قَدَّمَ نُسُكًا قَبْلَ نُسُكٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 916

احرام کھولنے پر طواف سے پہلے خوشبو لگانا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ان کے) احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی اور قربانی کے دن طواف سے پہلے مشک والی خوشبو لگائی ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ محرم کے لیے قربانی کے دن جمرہ عقبہ پر کنکریاں پھینک لینے ، جانور ذبح کر لینے اور سرمنڈوانے یا کتروانے کے بعد عورتوں کے سوا وہ سب کچھ حلال ہو جاتا ہے جو ابھی تک (بوجہ احرام ) حرام تھا۔ امام شافعی ، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ عورتوں اور خوشبو کے سوا اس کے لیے سب چیزیں حلال ہیں۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین کا یہی نظریہ ہے اور اہلِ کوفہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۴؛مَاجَاءَ في الطِيْبِ عِنْدَ الإحْلِالِ قَبْلَ الزِيَارَةِ ، جلد ۱ص۴۸۱،حدیث نمبر ٩١٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الطِّيبِ عِنْدَ الإِحْلَالِ قَبْلَ الزِّيَارَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالبَيْتِ، بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ: أَنَّ المُحْرِمَ إِذَا رَمَى جَمْرَةَ العَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَذَبَحَ، وَحَلَقَ أَوْ قَصَّرَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَرُمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: «حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ»، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِلَى هَذَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الكُوفَةِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 917

حج میں تلبیہ ختم کرنے کا وقت حضرت فضل ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزدلفہ سے منیٰ تک اپنے پیچھے بٹھا کر لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ اس باب میں حضرت علی ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ، فضل بن عباس حسن صحیح ہے۔ (بعض) صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ حاجی جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے سے سے پہلے تلبیہ کہتا ختم نہ کرے۔ امام شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا ہی قول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۵؛مَاجَاءَ مَتٰى يُقْطَعُ التَّلْبِيَةُ فِى الْحَجْ، جلد ۱ص۴۸۲،حدیث نمبر ٩١٨)

بَابُ مَا جَاءَ مَتَى تُقْطَعُ التَّلْبِيَةُ فِي الحَجِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الجَمْرَةَ» وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: «حَدِيثُ الفَضْلِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: أَنَّ الحَاجَّ لَا يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَرْمِيَ الجَمْرَةَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 918

عمرہ میں تلبیہ کب ختم کیا جائے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھمامرفوعًا بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ میں حجرہ اسود کو بوسہ دینے سے پہلے تلبیہ بند نہیں کرتے تھے۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس صحیح ہے اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے ۔ وہ فرماتے ہیں عمرہ کرنے والا حجرہ اسود کو بوسہ دینے سے پہلے تلبیہ ختم نہ کرے بعض علماء فرماتے ہیں مکہ مکرمہ پہنچ جائے تو تلبیہ ختم کر دیں عمل رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر ہے ۔ سفیان ثوری شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۶؛مَاجَاءَ مَتٰى يُقْطَعُ التَّلْبِيَةُ فِي العُمْرَةِ ، جلد ۱ص۶۸۲،حدیث نمبر ٩١٩)

بَابُ مَا جَاءَ مَتَى تُقْطَعُ التَّلْبِيَةُ فِي العُمْرَةِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ، يَرْفَعُ الحَدِيثَ «أَنَّهُ كَانَ يُمْسِكُ عَنِ التَّلْبِيَةِ فِي العُمْرَةِ إِذَا اسْتَلَمَ الحَجَرَ» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا: لَا يَقْطَعُ المُعْتَمِرُ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَسْتَلِمَ الحَجَرَ " وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا انْتَهَى إِلَى بُيُوتِ مَكَّةَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ، وَالعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 919

رات کو طواف زیارت کرنا حضرت ابن عباس و عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ اور بعض علماء نے طواف زیارت رات تک مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے۔ جبکہ بعض علماء کے نزدیک قربانی کے دن طواف زیارت مستحب ہے۔ بعض نے وسعت دیتے ہوئے منٰی کے آخر تک مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج،باب۶۲۷؛مَاجَاءَ فِي طَوَافِ الزِّيَارَةِ بِاللَّيْلِ، جلد ۱ص۴۸۲،حدیث نمبر ٩٢٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي طَوَافِ الزِّيَارَةِ بِاللَّيْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِي أَنْ يُؤَخَّرَ طَوَافُ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ، وَاسْتَحَبَّ بَعْضُهُمْ أَنْ يَزُورَ يَوْمَ النَّحْرِ، وَوَسَّعَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُؤَخَّرَ وَلَوْ إِلَى آخِرِ أَيَّامِ مِنًى "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 920

وادئ ابطح میں اترنا حضرت عبید اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر صدیق ، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم وادی ابطح میں اترتے تھے۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، ابو رافع اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عمرحسن صحیح غریب ہے ہم اسے عبد الرزاق کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک وادی البطح میں اترنا مستحب ہے واجب نہیں ۔ جو چاہیے اترے ۔ امام شافعی فرماتے ہیں ۔ وادی البطح میں اترنا حج کے افعال سے نہیں ۔ یہ ایک مقام ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اترتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۸؛مَاجَاءَ فِی نُزُولِ الْأَبْطَحِ، جلد ۱ص۴۸۳،حدیث نمبر ٩٢١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي نُزُولِ الأَبْطَحِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا -- عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، يَنْزِلُونَ الأَبْطَحَ» وَفِي البَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: «حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ» وَقَدْ اسْتَحَبَّ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ نُزُولَ الأَبْطَحِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَرَوْا ذَلِكَ وَاجِبًا إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ذَلِكَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: «وَنُزُولُ الأَبْطَحِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 921

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں تحصیب کوئی (لازمی) چیز نہیں۔ وہ ایک منزل ہے ۔ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اترتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں تحصیب کا مطلب وادی البطح میں اترنا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۸؛مَاجَاءَ فِی نُزُولِ الْأَبْطَحِ، جلد ۱ص۴۸۳،حدیث نمبر ٩٢٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»: " التَّحْصِيبُ: نُزُولُ الأَبْطَحِ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 922

وادی ابطح میں اترنے کی وجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وادی البطح میں اس لیے اترتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے لیے یہ آسان تھی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان ہشام بن عروہ اس کے ہم معنی روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۹؛جلد۱ص۴۸۳،حدیث نمبر ٩٢٣)

بَابُ مَنْ نَزَلَ الأَبْطَحَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ المُعَلِّمُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَبْطَحَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ».: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 923

بچے کا حج حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک عورت اپنا بچہ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا بھی حج ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور تیرے لیے ثواب ہے ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے۔ حدیث جابر غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۰؛مَاجَاءَ فِیْ حَجِّ الصَّبِيِّ، جلد ۱ص۴۸۴،حدیث نمبر ٩٢٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي حَجِّ الصَّبِيِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ - مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَفَعَتْ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ، قَالَ: «نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. «حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ».

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 924

محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث روایت کی ہے۔ محمد بن منکدر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل حدیث بھی روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۰؛مَاجَاءَ فِیْ حَجِّ الصَّبِيِّ، جلد ۱ص۴۸۴،حدیث نمبر ٩٢٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ البَاهِلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، بعني حديث محمد بن طريف «وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 925

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حجتہ الوداع کے موقع پر میرے والد نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا۔ میں بھی ساتھ تھا۔ اس وقت میں سات سال کا تھا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔علماء کا اتفاق ہے کہ اگر بچہ بالغ ہونے سے پہلے حج کرے تو بلوغت کے بعد بشرط استطاعت حج واجب ہوگا یہ حج اس کے لیے کافی نہ ہو گا۔ اسی طرح اگر غلام نے حالت غلامی میں حج کیا تو آزادی کے بعد استطاعت کی صورت میں دوبارہ حج کرنا ہوگا۔ غلامی کا حج کافی نہ ہو گا۔ سفیان ثوری، شافعی ، احمد اور اسحق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۰؛مَاجَاءَ فِیْ حَجِّ الصَّبِيِّ، جلد ۱ص۴۸۴،حدیث نمبر ٩٢٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: «حَجَّ بِي أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ العِلْمِ: أَنَّ الصَّبِيَّ إِذَا حَجَّ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَ فَعَلَيْهِ الحَجُّ - إِذَا أَدْرَكَ، لَا تُجْزِئُ عَنْهُ تِلْكَ الحَجَّةُ عَنْ حَجَّةِ الإِسْلَامِ، وَكَذَلِكَ المَمْلُوكُ إِذَا حَجَّ فِي رِقِّهِ ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَيْهِ الحَجُّ إِذَا وَجَدَ إِلَى ذَلِكَ سَبِيلًا، وَلَا يُجْزِئُ عَنْهُ مَا حَجَّ فِي حَالِ رِقِّهِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 926

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرتے تو عورتوں کی طرف سے تلبیہ کہتے اور بچوں کی طرف سے کنکریاں پھینکتے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ۔ علماء کا اجماع ہے کہ عورت کی طرف سے کوئی دوسرا آدمی تلبیہ نہ کہے۔ بلکہ وہ خود کہے۔ لیکن اس کے لیے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مکروہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۰؛مَاجَاءَ فِیْ حَجِّ الصَّبِيِّ، جلد ۱ص۴۸۴،حدیث نمبر ٩٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الوَاسِطِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ نُمَيْرٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كُنَّا إِذَا حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنَّا نُلَبِّي عَنِ النِّسَاءِ، وَنَرْمِي عَنِ الصِّبْيَانِ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ» وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ العِلْمِ عَلَى: أَنَّ المَرْأَةَ لَا يُلَبِّي عَنْهَا غَيْرُهَا، بَلْ هِيَ تُلَبِّي عَنْ نَفْسِهَا، وَيُكْرَهُ لَهَا رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 927

بہت بوڑھے اور میت کی طرف سے حج حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد پر حج فرض ہے۔ لیکن وہ بوڑھے ہیں۔ اونٹ کی پیٹھ پر نہیں ٹھر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان کی طرف سے حج کر اس باب میں حضرت علی ، بریده حصین بن عوف ابو رزین عقیلی، سودہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث فضل بن عباس حسن صحیح ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسے سنان بن عبداللہ جھنی اور ان کی چچی کے واسطہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور خود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی براہ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ میں نے امام بخاری سے ان روایات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس بارے میں اصح روایت وہ ہے جسے حضرت ابن عباس نے سے بواسطه فضل بن عباس حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت ابن عباس نے یہ حدیث فضل ابن عباس وغیرہ کے واسطہ سے حضور سے سن کر مرسلًا روایت کی ہو ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث مروی ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے۔ سفیان ثوری۔ ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی مسلک ہے ان سب کے نزدیک میت کی طرف سے حج جائز ہے امام مالک فرماتے ہیں اگر میت نے (مرنے سے پہلے) وصیت کی تھی تو اس کی طرف سے حج کیا جائے بعض علماء نے زندہ کی طرف سے بھی حج کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ وہ بوڑھا ہو یا ایسی حالت میں ہو کہ حج نہ کر سکتا ہو۔ ابن مبارک اور شافعی رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۱؛مَاجَاءَ فِي الحَجِّ عَنِ الشيخ الكَبِيْرِ الْمَيِّتِ، جلد ۱ص۴۸۵،حدیث نمبر ٩٢٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَجِّ عَنِ الشَّيْخِ الكَبِيرِ، وَالمَيِّتِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ البَعِيرِ، قَالَ: «حُجِّي عَنْهُ» وَفِي البَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَبُرَيْدَةَ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَبِي رَزِينٍ العُقَيْلِيِّ، وَسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: حَدِيثُ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا، عَنْ سِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الجُهَنِيِّ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ، فَقَالَ: «أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا البَابِ مَا رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ مُحَمَّدٌ: " وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعَهُ مِنَ الفَضْلِ وَغَيْرِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَوَى هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْسَلَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ.: «وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا البَابِ غَيْرُ حَدِيثٍ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ المُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ يَرَوْنَ أَنْ يُحَجَّ عَنِ المَيِّتِ. وقَالَ مَالِكٌ: «إِذَا أَوْصَى أَنْ يُحَجَّ عَنْهُ حُجَّ عَنْهُ»، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُحَجَّ عَنِ الحَيِّ إِذَا كَانَ كَبِيرًا أَوْ بِحَالٍ لَا يَقْدِرُ أَنْ يَحُجَّ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ المُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 928

عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت ابور رزین عقیلی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد بہت بوڑھے ہو چکے ہیں نہ حج و عمرہ کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی سفر کر سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ کی طرف سے حج اور عمرہ کرو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرے کا ذکر صرف اسی حدیث میں ہے۔ ابو رزین عقیلی کا نام لقیطہ بن عامر ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۲؛منہ، جلد ۱ص۴۸۶،حدیث نمبر ٩٢٩)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ العُقَيْلِيِّ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الحَجَّ، وَلَا العُمْرَةَ، وَلَا الظَّعْنَ، قَالَ: «حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا ذُكِرَتِ العُمْرَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الحَدِيثِ أَنْ يَعْتَمِرَ الرَّجُلُ عَنْ غَيْرِهِ وَأَبُو رَزِينٍ العُقَيْلِيُّ: اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 929

حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے را وی ہیں کہ ایک عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) میری ماں فوت ہو چکی ہیں۔ انہوں نے حج نہیں کیا۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کروں ؟  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تم ان کی طرف سے حج کرو امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۲؛منہ، جلد ۱ص۴۸۶،حدیث نمبر ٩٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، حُجِّي عَنْهَا» وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 930

عمرہ واجب ہے یا نہیں ؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا عمرہ واجب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، نہیں،، بلکہ افضل ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔ بعض علماء کا یہی قول ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔ عمرہ واجب نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دو حج ہیں بڑا حج قربانی کے دن اور چھوٹا حج عمرہ ہے ، امام شافعی فرماتے ہیں۔ عمرہ سنت ہے ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس کے چھوڑنے کی اجازت دی ہو۔ اس کے نفل ہونے کے بارے کوئی حدیث ثابت نہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ضعیف روایت ثابت ہے۔ جس سے دلیل قائم نہیں کی جا سکتی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہمیں ایک روایت پہنچی ہے کہ یہ واجب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۳؛مَا جَاءَ فِي الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةً هِيَ أَمْ لَا، جلد ۱ص۴۸۶،حدیث نمبر ٩٣١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي العُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ أَمْ لَا؟ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ الحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ العُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ؟ قَالَ: «لَا، وَأَنْ تَعْتَمِرُوا هُوَ أَفْضَلُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا: العُمْرَةُ لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ، وَكَانَ يُقَالُ: هُمَا حَجَّانِ الحَجُّ الأَكْبَرُ يَوْمُ النَّحْرِ، وَالحَجُّ الأَصْغَرُ العُمْرَةُ. - وقَالَ الشَّافِعِيُّ: " العُمْرَةُ سُنَّةٌ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَخَّصَ فِي تَرْكِهَا، وَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ ثَابِتٌ بِأَنَّهَا تَطَوُّعٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الحُجَّةُ، وَقَدْ بَلَغَنَا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يُوجِبُهَا: كُلُّهُ كَلَامُ الشَّافِعِيِّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 931

عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا۔ اس باب میں حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما حسن ہے ۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ اسی طرح فرماتے ہیں۔ مفہوم حدیث یہ ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی اور فرمایا ۔ قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا۔ یعنی حج کے مینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ حج کے مینے شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔ کسی شخص کے لیے ان مہینوں کے سوا حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ عزت والے مہینے رجب۔ ذیقعدہ اور ذالحجہ اور محرم (کے مہینے) ہیں۔ متعدد صحابہ کرام اور تابعین نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الحج؛باب۶۳۴، مِنْہُ، جلد ۱ص۴۸۷،حدیث نمبر ٩٣٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دَخَلَتِ العُمْرَةُ فِي الحَجِّ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ»، وَفِي البَاب عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَمَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ: أَنْ لَا بَأْسَ بِالعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الحَجِّ، وَهَكَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ،- وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ، وَمَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ: أَنَّ أَهْلَ الجَاهِلِيَّةِ كَانُوا لَا يَعْتَمِرُونَ فِي أَشْهُرِ الحَجِّ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلَامُ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: «دَخَلَتِ العُمْرَةُ فِي الحَجِّ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ»، يَعْنِي: لَا بَأْسَ بِالعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الحَجِّ، وَأَشْهُرُ الحَجِّ: شَوَّالٌ، وَذُو القَعْدَةِ، وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الحِجَّةِ، لَا يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُهِلَّ بِالحَجِّ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الحَجِّ، وَأَشْهُرُ الحُرُمِ: رَجَبٌ، وَذُو القَعْدَةِ، وَذُو الحِجَّةِ، وَالمُحَرَّمُ، هَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 932

عمرہ کی فضیلت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عمرہ دوسرے عمره تک درمیان کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہے۔ حج مقبول کا ثواب جنت ہی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۵؛ مَاجَاءَ فِیْ ذِكْرِ فَضْلِ الْعُمْرَةِ، جلد ۱ص۴۸۸،حدیث نمبر ٩٣٣)

بَابُ مَا ذُكِرَ فِي فَضْلِ العُمْرَةِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «العُمْرَةُ إِلَى العُمْرَةِ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا، وَالحَجُّ المَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الجَنَّةُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 933

تنعیم سے عمرہ کرنا حضرت عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مقام تنعیم سے عمرہ کرائیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۶؛مَا جَاءَ فِی العُمْرِ ۃِ مِنَ التَّنْعِيمِ، جلد ۱ص۴۸۸،حدیث نمبر ٩٣٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي العُمْرَةِ مِنَ التَّنْعِيمِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُعْمِرَ عَائِشَةَ مِنَ التَّنْعِيمِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 934

جعرانہ سے عمرہ محرش کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات مقام جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھ کر نکلے۔ رات کے وقت ہی مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ اپنا عمرہ پورا کیا اور راتوں رات وہاں سے چل پڑے صبح کے وقت جعرانہ میں پہنچے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ہی یہاں گزاری تھی۔ دوسرے دن زوال آفتاب کے بعد میدان سرف کی طرف تشریف لے گئے یہاں تک کہ مزدلفہ کے ساتھ ساتھ میدان سرف کے وسطہ میں پہنچ گئے اسی لیے لوگوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمرہ پوشیدہ رہا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے۔ محرش کعبی سے اس کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الحج؛باب۶۳۷؛مَا جَاءَ فِي الْعُمَرَةِ مِنَ الْجَعْرَانَةِ، جلد ۱ص۴۸۸،حدیث نمبر ٩٣٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي العُمْرَةِ مِنَ الجِعِرَّانَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَرِّشٍ -- الكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَرَجَ مِنَ الجِعِرَّانَةِ لَيْلًا مُعْتَمِرًا، فَدَخَلَ مَكَّةَ لَيْلًا، فَقَضَى عُمْرَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْ لَيْلَتِهِ، فَأَصْبَحَ بِالجِعِرَّانَةِ كَبَائِتٍ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ مِنَ الغَدِ خَرَجَ مِنْ بَطْنِ سَرِفَ، حَتَّى جَاءَ مَعَ الطَّرِيقِ طَرِيقِ جَمْعٍ بِبَطْنِ سَرِفَ»، فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ خَفِيَتْ عُمْرَتُهُ عَلَى النَّاسِ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَلَا نَعْرِفُ لِمُحَرِّشٍ الكَعْبِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الحَدِيثِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 935

ماہ رجب میں عمرہ کرنا حضرت عروہ فرماتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رجب میں۔ فرماتے ہیں پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہر عمرہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ر ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رجب کے مہینے میں عمرہ نہیں کیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے ۔ میں نے امام بخاری سے سنا۔ فرماتے تھے حبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے حدیث نہیں سنی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۸؛مَاجَاءَ فِیْ عُمْرَةِ رَجَبٍ، جلد ۱ص۴۸۹،حدیث نمبر ٩٣٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي عُمْرَةِ رَجَبٍ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ: فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «فِي رَجَبٍ»، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ - تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - وَمَا اعْتَمَرَ فِي شَهْرِ رَجَبٍ قَطُّ»: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 936

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے۔ ان میں ایک رجب کے مہینے میں تھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۸؛مَاجَاءَ فِیْ عُمْرَةِ رَجَبٍ، جلد ۱ص۴۸۹،حدیث نمبر ٩٣٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 937

ذی قعدہ میں عمرہ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ کے مہینے میں عمرہ کیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۹؛مَاجَاءَ فِیْ عُمَرَ ةِ ذِی الْقَعْدَةِ، جلد ۱ص۴۸۹،حدیث نمبر ٩٣٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي عُمْرَةِ ذِي القَعْدَةِ حَدَّثَنَا العَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ هُوَ السَّلُولِيُّ الكُوفِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ البَرَاءِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ فِي ذِي القَعْدَةِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 938

رمضان میں عمرہ حضرت ام معقل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس، جابر، ابوہریرہ ، انس اور وہب بن خنبش رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ ہرم بن خنبش بھی کہا جاتا ہے۔ بیان اور جابر نے شعبی سے وہب بن خنبش اور داؤد نے اودی اور شعبی سے ہرم بن خنبش نقل کیا ۔ وہب بن خنبش زیاده صحیح ہے۔ حدیث ام معقل اس طریق سے حسن غریب ہے۔ امام احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔ کہ رمضان کا عمرہ حج کے برابر ہے۔ امام اسحٰق فرماتے ہیں۔ اس حدیث کا مطلب اسی طرح ہے۔ جیسے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے "قل ہواللہ احد " پڑھی اس نے قرآن کا ایک تہائی پڑھا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۰؛مَاجَاءَ فِي عُمرَة رَمَضَانَ، جلد ۱ص۴۹۰،حدیث نمبر ٩٣٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي عُمْرَةِ رَمَضَانَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ أُمِّ مَعْقِلٍ، عَنْ أُمِّ مَعْقِلٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَوَهْبِ بْنِ خَنْبَشٍ: " وَيُقَالُ: هَرِمُ بْنُ خَنْبَشٍ "، قَالَ: بَيَانٌ، وَجَابِرٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَنْبَشٍ، وقَالَ دَاوُدُ الأَوْدِيُّ: عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ هَرِمُ بْنِ خَنْبَشٍ، وَوَهْبٌ أَصَحُّ، وَحَدِيثُ أُمِّ مَعْقِلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ: قَدْ ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً»- قَالَ إِسْحَاقُ: مَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَدْ قَرَأَ ثُلُثَ القُرْآنِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 939

احرام باندھنے کے بعد معذور ہو جاتا حضرت عکرمہ فرماتے ہیں مجھ سے حجاج بن عمرو نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا پاؤں ٹوٹ گیا یا وہ لنگڑا ہو گیا وہ احرام سے نکل گیا۔ اب اس پر دوسرا حج واجب ہے ۔ عکرمہ فرماتے ہیں۔ میں نے حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو ان دونوں نے فرمایا ۔ اس ( حجاج بن عمرو)نے سچ کہا۔ اسحٰق بن منصور نے بواسطہ محمد بن عبداللہ انصاری حجاج سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔ اور متعدد راویوں نے حجاج صواف سے اس کی مثل نقل کیا ہے۔ معمر اور معاویہ بن سلام نے یہ حدیث بواسطہ یحییٰ بن ابی کثیر عکرمہ اور عبداللہ بن رافع ، حجاج بن عمرو سے مرفوعاً روایت کی حجاج صواف نے اپنی روایت میں عبداللہ بن رافع کا ذکر نہیں کیا ۔ حجاج محدثین کے نزدیک ثقہ حافظ ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ میں نے امام بخاری سے سنا۔ انہوں نے فرمایا معمر اور معاویہ بن سلام کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ عبد بن حمید نے بواسطہ عبد الرزاق، معمر، یحییٰ بن ابی کثیر، عکرمہ اور عبد اللہ بن رافع ، حجاج بن عمرو سے اس کے ہم معنی حدیث مرفوعاً روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۱؛مَا جَاءَ فِي الَّذِي يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَيُكْسَرُ أوْ يَعْرَجُ، جلد ۱ص۴۹۰, حدیث نمبر ٩٤٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الَّذِي يُهِلُّ بِالحَجِّ فَيُكْسَرُ أَوْ يَعْرَجُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى»، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَا: صَدَقَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنِ الحَجَّاجِ مِثْلَهُ. قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ -- وَاحِدٍ، عَنْ الحَجَّاجِ الصَّوَّافِ نَحْوَ هَذَا الحَدِيثِ. وَرَوَى مَعْمَرٌ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ الحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الحَدِيثَ. وَحَجَّاجٌ الصَّوَّافُ لَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَافِعٍ، وَحَجَّاجٌ ثِقَةٌ حَافِظٌ عِنْدَ أَهْلِ الحَدِيثِ. وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: «رِوَايَةُ مَعْمَرٍ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ أَصَحُّ». حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ الحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 940

حج میں شرط لگانا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ ضباعہ بنت زبیر نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں ۔ کیا میں شرط کر سکتی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔ کہنے لگیں۔ کیسے کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہو۔ حاضر ہوں ۔ اے اللہ ! تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ اس میں جہاں تو رو کے احرام سے باہر آجاؤں گی ۔ اس باب میں حضرت جابر، اسماء اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے وہ حج میں شرط کو جائز قرار دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں اگر شرط رکھی تو بیماری پیش آنے یا کسی دوسرے عذر کی وجہ سے احرام سے باہر آسکتا ہے۔ امام شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء کے نزدیک حج کو کسی شرط سے مشروط کرنا جائز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں اگر شرط کی تب بھی احرام سے نکلنے کا حق نہیں رکھتا گویا کہ شرط کرنا نہ کرنا برابر ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۲؛مَا جَاءَ فِي الاِشْتَرَاطِ فِی الحَجِّ ، جلد ۱ص۴۹۱،حدیث نمبر ٩٤١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاشْتِرَاطِ فِي الحَجِّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ البَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ -- الزُّبَيْرِ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الحَجَّ، أَفَأَشْتَرِطُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَتْ: كَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: «قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي» وَفِي البَاب عَنْ جَابِرٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَعَائِشَةَ.: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ يَرَوْنَ الِاشْتِرَاطَ فِي الحَجِّ، وَيَقُولُونَ: إِنْ اشْتَرَطَ فَعَرَضَ لَهُ مَرَضٌ أَوْ عُذْرٌ فَلَهُ أَنْ يَحِلَّ وَيَخْرُجَ مِنْ إِحْرَامِهِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَلَمْ يَرَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ الِاشْتِرَاطَ فِي الحَجِّ، وَقَالُوا: إِنْ اشْتَرَطَ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ إِحْرَامِهِ وَيَرَوْنَهُ كَمَنْ لَمْ يَشْتَرِطْ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 941

شرط نہ کرنا حضرت سالم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ حج میں شرط کرنے کو برا سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کیا تمہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۳٫مِنْہُ، جلد ۱ص۴۹۲،حدیث نمبر ٩٤٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الحَجِّ، وَيَقُولُ: «أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 942

طواف زیارت کے بعد عورت کو حیض آنا حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کیا گیا کہ حضرت صفیہ بنت حیی کو ایام منٰی میں حیض آگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کیا وہ ہمیں روکنے والی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا انہوں نے طواف زیارت کر لیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب کوئی بات نہیں اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ عورت طواف زیارت کر چکے پھرا سے حیض آئے تو وہ چلی آئے اس پر کوئی چیز واجب نہیں ۔ سفیان ثوری، شافعی احمد اور اسحٰق (اور امام ابوحنیفہ)  رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الحج٫باب۶۴۴٫ مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعد الإفاضةِ، جلد ۱ص۴۹۲،حدیث نمبر ٩٤٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي المَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الإِفَاضَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: ذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ حَاضَتْ فِي أَيَّامِ مِنًى، فَقَالَ: «أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟»، قَالُوا: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا إِذًا» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ أَنَّ المَرْأَةَ إِذَا طَافَتْ طَوَافَ الزِّيَارَةِ ثُمَّ حَاضَتْ، فَإِنَّهَا تَنْفِرُ وَلَيْسَ عَلَيْهَا شَيْءٌ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 943

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو شخص بیت اللہ شریف کا حج کرے اسے چاہیے کہ اس کا آخری وقت خانہ کعبہ میں ہو البته حیض والی عورتوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (طواف زیارت ترک کرنے کی) اجازت فرمائی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الحج٫باب۶۴۴٫ مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعد الإفاضةِ، جلد ۱ص۴۹۲،حدیث نمبر ٩٤٤)

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «مَنْ حَجَّ البَيْتَ فَلْيَكُنْ -آخِرُ عَهْدِهِ بِالبَيْتِ إِلَّا الحُيَّضَ، وَرَخَّصَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 944

حائضہ، حج کے کون سے امور ادا کرے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ میں حائضہ ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خانہ کعبہ کے طواف کے علاوہ تمام مناسک حج ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ علماء کا اس حدیث پر عمل ہے کہ حائضہ عورت بیت اللہ کے طواف کےعلاوہ تمام مناسک ادا کرے۔ یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسرے طریقوں سے بھی مروی ہے۔ حضرت ابن عباس مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ نفاس اور حیض والی عورتیں غسل کر کے احرام باندھیں اور تمام مناسک حج ادا کریں سوائے طواف کعبہ کے جب تک کہ پاک نہ ہو جائیں یہ حدیث اسی طریق سے حسن غریب ے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۷؛مَاجَاءَ مَا تَقْضِی الْحَائِضُ مِنَ المَناسِکِ، جلد ۱ص۴۹۳،حدیث نمبر ٩٤٥)

بَابُ مَا جَاءَ مَا تَقْضِي الحَائِضُ مِنَ المَنَاسِكِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «حِضْتُ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ»: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا مَا خَلَا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ الجَزَرِيُّ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَ الحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ النُّفَسَاءَ وَالحَائِضَ تَغْتَسِلُ، وَتُحْرِمُ، وَتَقْضِي المَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفَ بِالبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرَ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 945

طواف وداع حارث بن عبد اللہ بن ادرس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیت اللہ شریف کا حج یا عمرہ کرے اس کا آخری وقت بیت اللہ شریف میں گزرنا چاہیے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم اپنے ہاتھوں میں گرے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی اور ہمیں نہیں بتائی۔ اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث عارث بن عبد اللہ بن اوس غریب ہے اسی طرح کئی راویوں نے حجاج بن ارطاۃ سے اس کی مثل روایت کی۔ لیکن بعض سندوں میں حجاج کے خلاف بھی مذکور ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۶؛مَاجَاءَ مَنْ حَجِّ أَوِ اعْتَمرَ فَلْيَكُن اٰخِرُ عَهْدِهِ بالْبَيْتِ ، جلد ۱ص۴۹۳،حدیث نمبر ٩٤٦)

بَابُ مَا جَاءَ مَنْ حَجَّ أَوْ اعْتَمَرَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالبَيْتِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا المُحَارِبِيُّ، عَنْ الحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ المُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ البَيْلَمَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ الحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَجَّ هَذَا البَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالبَيْتِ»، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: خَرَرْتَ مِنْ يَدَيْكَ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تُخْبِرْنَا بِهِ -- وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: حَدِيثُ الحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الحَجَّاجِ بْنِ أرْطَاةَ مِثْلَ هَذَا، وَقَدْ خُولِفَ الحَجَّاجُ فِي بَعْضِ هَذَا الإِسْنَادِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 946

قارن صرف ایک طواف کرے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ملایا اور دونوں کے لیے صرف ایک طواف کیا۔ اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جابر حسن ہے۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔ قارن صرف ایک طواف کرے۔ امام شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ بعض صحابہ کرام فرماتے ہیں۔ دو طواف کرے اور (صفا مروہ کے درمیان) دو سعی کرے۔ سفیان ثوری اور اہلِ کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۷؛مَاجَاءَ انَ الْقَارِنَ يَطُوفُ طَوَافًا وَاحِدًا ، جلد ۱ص۴۹۴،حدیث نمبر ٩٤٧)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ القَارِنَ يَطُوفُ طَوَافًا وَاحِدًا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَنَ الحَجَّ وَالعُمْرَةَ، فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ قَالُوا: القَارِنُ يَطُوفُ طَوَافًا وَاحِدًا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: يَطُوفُ طَوَافَيْنِ، وَيَسْعَى سَعْيَيْنِ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الكُوفَةِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 947

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے حج اور عمرہ کا (اکٹھا) احرام باندھا اسے دونوں کی طرف سے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے۔ یہاں تک کہ دونوں کا احرام کھول دے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ دراوردی اس لفظ کے ساتھ متفرد ہوا جب کہ متعدد راویوں نے اسے عبیداللہ بن عمر سے غیر مرفوع (موقوف) روایت کیا ہے اور یہی اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۷؛مَاجَاءَ انَ الْقَارِنَ يَطُوفُ طَوَافًا وَاحِدًا ، جلد ۱ص۴۹۴،حدیث نمبر ٩٤٨)

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ البَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْرَمَ بِالحَجِّ وَالعُمْرَةِ، أَجْزَأَهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَسَعْيٌ وَاحِدٌ مِنْهُمَا، حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَلَى ذَلِكَ اللَّفْظِ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ وَهُوَ أَصَحُّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 948

طوٰف وداع کے بعد مکہ مکرمہ میں تین دن قیام کرنا حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ مہاجر، حج کے افعال ادا کر چکنے کے بعد تین دن مکہ مکرمہ میں ٹھہرے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس سند کے ساتھ کئی طرق سے مرفوعاًمروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحج،باب۶۴۸ مَا جَاءَ إِنْ يَمُكُثَ المُهَا جرُبِمکَّةَ بَعْدَالصَّدْرِثَلٰثًا، جلد ۱ص۴۹۵،حدیث نمبر ٩٤٩)

بَابُ مَا جَاءَ أَنْ يَمْكُثَ المُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ الصَّدْرِ ثَلَاثًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، سَمِعَ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ العَلَاءِ بْنِ الحَضْرَمِيِّ يَعْنِي مَرْفُوعًا، قَالَ: «يَمْكُثُ المُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ بِمَكَّةَ ثَلَاثًا»:هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الوَجْهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مَرْفُوعًا

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 949

حج اور عمرے سے واپسی پر کیا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد یا حج عمرہ سے سے واپس تشریف لاتے وقت جب کسی بلند مقام پا ٹیلے پر چڑھتے تو تین مرتبہ تکبیر کہہ کر پڑھتے (ترجمہ) اللہ تعالی کے سواکوئی معبود نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کی بادشاہی ہے وہی لائق تعریف ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے ہم لوٹنے والے ہیں (گناہوں سے) تو بہ کرنیوالے ہیں عبادت کر نیوالے ہیں پھر سے واپسی ہونیوالے ہیں۔ اور اپنے رب کی تعریف کر نیوالے ہیں اللہ تعالی نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور تنہا تمام جماعتوں کو شکست دی اس باب میں حضرت براء انس اور جا بر رضی الله عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۹؛مَاجَاءَ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْقُفُولِ مِنَ الحج والعمرة، جلد ۱ص۴۹۵، حدیث نمبر ٩٥٠)

بَابُ مَا جَاءَ مَا يَقُولُ عِنْدَ القُفُولِ مِنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْماَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوَةً أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَعَلَا فَدْفَدًا مِنَ الأَرْضِ أَوْ شَرَفًا كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَائِحُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ» وَفِي البَاب عَنْ البَرَاءِ، وَأَنَسٍ، وجَابِرٍ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 950

احترام کی حالت میں مرنے کا بیان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے اونٹ سے گرا تو اسکی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا ۔ وہ احرام باندھے ہوئے تھا۔رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس کو پانی اور بیری (کے پتوں )سے غسل دو انہی کپڑوں میں اسے دفن کرو لیکن سر کو مت ڈھانکو قیامت کے دن یہ اسی حالت میں احرام باندھے ہوئے یا تلبیہ کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سفیان ثوری، شافعی ، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں محرم کے مرنے سے اس کا احرام ختم ہو جاتا ہے۔ لہذا اس کے ساتھ وہ عمل اختیار کیا جائے جو غیر محرم سے کیا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۰؛مَا جَاءَ فِی الْمُجْرِمِ يَمُوتُ فِیْ إحْرَامِهٖ، جلد ۱ص۴۹۵،حدیث نمبر ٩٥١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي المُحْرِمِ يَمُوتُ فِي إِحْرَامِهِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَجُلًا قَدْ سَقَطَ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ القِيَامَةِ يُهِلُّ أَوْ يُلَبِّي»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: إِذَا مَاتَ المُحْرِمُ انْقَطَعَ إِحْرَامُهُ وَيُصْنَعُ بِهِ كَمَا يُصْنَعُ بِغَيْرِ المُحْرِمِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 951

محرم کی دکھی آنکھوں کا مُصَبَّرْ سے علاج عمر بن عبید اللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں اور وہ اس وقت احرام میں تھے۔ چنانچہ انہوں نے ابان بن عثمان سے پوچھا (کہ کیا کروں ؟) انہوں نے فرمایا اس پر مصبر کا لیپ کرو میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث سنی ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر مصبر کا لیپ کیا کرو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ محرم کے لیے دوائی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب تک کہ اس میں خوشبو نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۱؛مَاجَاءَ فِي الْمُحْرِمِ يَشْتَكِىْ عَيْنُه فَيَضُمدُ هَا بالصَّبْرِ، جلد ۱ص۴۹۶،حدیث نمبر ٩٥٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي المُحْرِمِ يَشْتَكِي عَيْنَهُ فَيَضْمِدُهَا بِالصَّبِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ اشْتَكَى عَيْنَيْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَسَأَلَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، فَقَالَ: اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَذْكُرُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يَتَدَاوَى المُحْرِمُ بِدَوَاءٍ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيبٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 952

حالت احرام میں سرمنڈانے پر فدیہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام حدیبیہ میں ان کے پاس سے گزرے وہ محرم تھے اور ابھی مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہوئے تھے وہ ایک ہنڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں گر کر ان کے منہ پر پڑ رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، کیا تمہاری یہ جوئیں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرمنڈوالو اور ایک فرق (تین صاع) کھانا چھ مسکینوں میں تقسیم کردو یا تین روزے رکھو یا ایک جانور ذبح کرو ابن ابی نجیح کہتے ہیں یا بکری ذبح کرو، امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ محرم جب سر منڈوائے یا ایسا کپڑا پہن سے جو احرام میں نہیں پہننا چاہیے تھا یا خوشبو لگائے تو اس پر کفارہ ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۲؛مَاجَاءَ فِي الْمُحْرِمِ يَحْلِقُ رَأْسَهُ في إحرامِهٖ مَا عَلَيْهِ ، جلد ۱ص۴۹۶،حدیث نمبر ٩٥٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي المُحْرِمِ يَحْلِقُ رَأْسَهُ فِي إِحْرَامِهِ مَا عَلَيْهِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَحُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، وَعَبْدِ الكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ؟»، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: " احْلِقْ، وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ - وَالفَرَقُ: ثَلَاثَةُ آصُعٍ، - أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ انْسُكْ نَسِيكَةً " قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوْ اذْبَحْ شَاةً.: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَالعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: أَنَّ المُحْرِمَ إِذَا حَلَقَ رَأْسَهُ، أَوْ لَبِسَ مِنَ الثِّيَابِ مَا لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَلْبَسَ فِي إِحْرَامِهِ، أَوْ تَطَيَّبَ فَعَلَيْهِ الكَفَّارَةُ بِمِثْلِ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 953

چرواہوں کے لیے کنکریاں مارنے کا بیان ابو البداح بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو ایک دن کنکریاں مارنے اور ایک دن چھوڑنے کی اجازت دی ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ ابن عیینہ نے اس طرح روایت کیا ہے مالک بن انس نے بواسطہ عبد اللہ بن ابی بکر، ابو بکر ، ابو بداح بن عاصم بن عدی اور عاصم بن عدی سے روایت کیا مالک بن انس کی روایت اصح ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے چرواہوں کے لیے رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن کنکریاں ماریں اور ایک دن چھو ڑ دیں ۔ امام شافعی کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۳مَا جَاءَ فِي الرخَّصَةِ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوْا يَوْمًا وَيَدْعُوا يومًا، جلد ۱ص۴۹۷،حدیث نمبر ٩٥٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي البَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ: أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا، وَيَدَعُوا يَوْمًا ": هَكَذَا رَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي البَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، وَرِوَايَةُ مَالِكٍ أَصَحُّ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ لِلرِّعَاءِ: أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا، وَيَدَعُوا يَوْمًا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 954

عاصم بن عدی فرماتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منٰی میں رات گزارنے کے دنوں میں چرواہوں کو اجازت دی ہے کہ قربانی کے دن کنکریاں ماریں۔ پھر دونوں کی رمی جمع کر کے ایک دن ماریں ۔ امام مالک فرماتے ہیں۔ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان دونوں میں سے پہلے دن ماریں۔ پھر منٰی سے روانگی کے  دن پھینکیں۔  یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ ابن عینیہ کی روایت سے اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۳مَا جَاءَ فِي الرخَّصَةِ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوْا يَوْمًا وَيَدْعُوا يومًا، جلد ۱ص۴۹۷،حدیث نمبر ٩٥٥)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ -- أَبِي البَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الإِبِلِ فِي البَيْتُوتَةِ: أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ فَيَرْمُونَهُ فِي أَحَدِهِمَا - قَالَ مَالِكٌ: ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ: فِي الأَوَّلِ مِنْهُمَا - ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ ": هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 955

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ یمن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے عرض کیا جس نیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں احرام کھول دیتا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۴؛جلد۱ص۴۹۸،حدیث نمبر ٩٥٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَرْوَانَ الأَصْفَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اليَمَنِ، فَقَالَ: «بِمَ أَهْلَلْتَ؟» قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ مَعِي هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 956

حج اکبر حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج اکبر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قربانی کا دن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۵؛جلد۱ص۴۹۸،حدیث نمبر ٩٥٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي يَوْمِ الحَجِّ الأَكْبَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَوْمِ الحَجِّ الأَكْبَرِ، فَقَالَ: «يَوْمُ النَّحْرِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 957

حارث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے موقوف حدیث روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج اکبر قربانی کے دن ہے۔ یہ پہلی حدیث سے اصح ہے ۔ ابن عیینہ کی موقوف روایت محمد بن اسحٰق کی مرفوع روایت سے اصح ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ متعدد حفاظ نے اسی طرح جو بواسطہ ابواسحٰق اور حارث، حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے موقوفاً روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۵؛جلد۱ص۴۹۸،حدیث نمبر ٩٥٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «يَوْمُ الحَجِّ الأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ»: وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الحَدِيثِ الأَوَّلِ، وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ مَوْقُوفًا أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ مَرْفُوعًا، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الحُفَّاظِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 958

رکنین کو ہاتھ لگانے اور طواف کرنے کی فضیلت عبید بن عمیر کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما رکنین (حجر اسود اور رکن یمانی) پر لوگوں پر غلبہ کرتے میں نے کہا اے ابوعبدالرحمٰن ! آپ دونوں رکنوں پر اس قدر غلبہ کرتے ہیں کہ میں نے کسی صحابی رسول کو اس قدر غلبہ کرتے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو ہاتھ لگانا گنا ہوں کا کفارہ ہے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جس نے اس گھر کے سات چکر لگائے اور اس کی حفاظت کی تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کی مثل ہے ۔ میں نے یہ بھی سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جب بھی ایک قدم رکھتا ہے اور ایک قدم اٹھاتا ہے اللہ تعالی اس کے سبب اس کی ایک غلطی معاف کرتا ہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حماد بن زید نے بواسطہ عطاء بن سائب اور ابن عبید بن عمیر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی کے ہم معنی روایت نقل کی لیکن اس میں ان کے والد کا ذکر نہیں ۔ یہ حدیث حسن ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛ باب۶۵۶؛مَا جَاءَ فِی اسْتِلاَمِ الرُّكْنَيْنِ، جلد ۱ص۴۹۹،حدیث نمبر ٩٥٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّكَ تُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنْ أَفْعَلْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا» وَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: «مَنْ طَافَ بِهَذَا البَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرَى إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً»: وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 959

طواف میں کلام کرنا کیسا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بیت اللہ شریف کے گرد طواف ، نماز کی مثل ہے۔ سن لو تم اس میں گفتگو کرتے ہو۔ پس جو اس میں کلام کرے وہ نیکی ہی کی بات کر ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ ابن عباس اور دوسرے لوگوں سے بواسطه طاؤس حضرت ابن عباس کا قول (حدیث موقوف) مروی ہے ۔ ہم صرف عطاء بن سائب کی روایت سے اسے مرفوع جانتے ہیں ۔ اکثر علماء کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک مستحب ہے کہ طواف میں صرف ضرورت کے تحت کلام کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو یا علمی گفتگو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۷؛جلد۱ص۴۹۹،حدیث نمبر ٩٦٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الكَلَامِ فِي الطَّوَافِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطَّوَافُ حَوْلَ البَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ، إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ، فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ»: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا، وَلَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ: يَسْتَحِبُّونَ أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ الرَّجُلُ فِي الطَّوَافِ إِلَّا لِحَاجَةٍ، أَوْ بِذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى، أَوْ مِنَ العِلْمِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 960

حجر اسود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا۔ اللّٰہ کی قسم! اللہ تعالی قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھائے گا کے اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا۔ زبان ہوگی جس سے بولے گا اور جس نے اسے حق کے ساتھ چوما اس پر گواہی دے گا امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن ہ۔ے (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۸؛مَا جَاءَ فِیِ الحَجْرِ الْاَسْوَدِ، جلد ۱ص۵۰۰،حدیث نمبر ٩٦١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَجَرِ الأَسْوَدِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الحَجَرِ: «وَاللَّهِ لَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 961

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیه وسلم حالت احرام میں بلا خو شبو زیتون کا تیل استعمال فرماتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ ( مقتت )کے معنی خوشبو دارکے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم اسے صرف فرقد سبخی کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ یحییٰ بن سعید نے فرقد سبخی کے بارے میں کلام کیا ہے۔اور لوگوں نے ان سے روایت بھی لی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۸؛مَا جَاءَ فِیِ الحَجْرِ الْاَسْوَدِ، جلد ۱ص۵۰۰،حدیث نمبر ٩٦٢)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ وَهُوَ مُحْرِمٌ غَيْرِ المُقَتَّتِ»: " المُقَتَّتُ: المُطَيَّبُ «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ»، وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، وَرَوَى عَنْهُ النَّاسُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 962

زمزم کا پانی لے جانا ہشام بن عروہ اپنے والد حضرت عروہ رضی عنہ سے مروی ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زمزم کا پانی اٹھا کر لے جاتیں اور فرماتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسے لے جاتے تھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اور ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۹؛جلد۱ص۵۰۰،حدیث نمبر ٩٦٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَزِيدَ الجُعْفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْمِلُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَتُخْبِرُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْمِلُهُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 963

حج کے موقعہ پر مقامات نماز عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا مجھے ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھویں ذی الحجہ کو ظہر کی نماز کہاں پڑھی ؟ حضرت انس نے فرمایا منٰی میں فرماتے ہیں میں نے کہا واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی ؟ فرمایا وادی البطح میں، پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اسی طرح کرو جس طرح تمہارے امیر کرتے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اسحٰق ارزق کی روایت سے غریب سمجھی گئی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۶۰؛جلد،۱ص۵۰۰،حدیث نمبر ٩٦٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الوَزِيرِ الوَاسِطِيُّ المَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: «بِمِنًى». قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى العَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: «بِالأَبْطَحِ»، ثُمَّ قَالَ: «افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الأَزْرَقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Haj, Hadees No. 964

Tirmizi Shareef : Abwabul Haj

|

Tirmizi Shareef : أبواب الحج

|

•