
قاضی عبداللہ بن موہب سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا جاؤ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو،انہوں نے عرض کیا امیرالمومنین مجھے معاف کرے ، آپ نے فرمایا تم اسے ناپسند کیوں کرتے ہو تمہارے والد بھی تو فیصلہ کیا کرتے تھے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے جو شخص قاضی ہو اور وہ انصاف سے فیصلہ کرے تو اس کام سے برابری کی بنیاد پر فارغ ہونے کے لائق ہیں،اس کے بعد میں کس چیز کی امید رکھوں اس حدیث میں ایک واقعہ ہے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ غریب ہے میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں عبدالملک جن سے معتبر روایت کرتے ہیں یہ عبدالملک بن ابی جمیلہ ہیں، حضرت ریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں: دو جہنمی، اور ایک جنتی، ایک وہ جو جان بوجھ کر نا حق فیصلے کرے، وہ جہنمی ہے، دوسرا جو نہ جانتا ہو اور لوگوں کے حقوق برباد کر دے، وہ بھی جہنمی ہے، اور تیسرا وہ قاضی ہے جو حق کے ساتھ فیصلے کرے وہ جنتی ہے“ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۸۹۶،مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَاضِى،جلد۱ص۶۶۷،حدیث نمبر ١٣٢٢)
قاضی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے منصب قضاء کا خود سوال کیا وہ اپنے نفس کے حوالے کیا گیا اور جس کو زبردستی یہ عہدہ دیا گیا اس پر ایک فرشتہ اترتا ہے تو اس کی مدد کرتا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۸۹۶،مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَاضِى،جلد۱ص۶۶۷،حدیث نمبر ١٣٢٣)
قاضی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے عہدہ قضاء طلب کیا اور اس کے لیے سفارش لایا وہ اپنے نفس کے حوالہ کیا گیا اور جو اس پر مجبور کیا گیا اللہ تعالٰی اس پر ایک فرشتہ اتارتا ہے جو اسے راہ راست پر رکھتا ہے، یہ حدیث حسن غریب ہے اور اسرائیل کی روایت سے اصح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۸۹۶،مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَاضِى،جلد۱ص۶۶۷،حدیث نمبر ١٣٢٤)
قاضی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو قضاء سونپی گئی یا (فرمایا) اسے لوگوں کے درمیان قاضی بنایا گیا وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دیگر طرق سے بھی مروی ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۸۹۶،مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَاضِى،جلد۱ص۶۶۷،حدیث نمبر ١٣٢٥)
قاضی کا فیصلہ صحیح بھی ہوتا ہے اور غلط بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حاکم فیصلہ کرتے وقت غور و فکر سے کام لے اور صحی فیصلہ کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور اگر خطا ہو جائے تو اس کے لیے ایک ثواب ہے، اس باب میں حضرت عمرو بن عاص اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس طریق سے حسن غریب ہے،بواسطہ سفیان ثوری، یحییٰ بن سعید کی روایت سے ہم اسے صرف بواسطہ عبدالرزاق اور معمر سفیان ثوری سے پہچانتے ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۸۹۷،مَا جَاءَ فِي الْقَاضِي يُصِيبُ وَيُخْطِے،جلد۱ص۶۶۹،حدیث نمبر ١٣٢٦)
قاضی کیسے فیصلہ کرے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا کیسے فیصلہ کرو گے ؟ عرض کیا جو کچھ اللہ کی کتاب میں ہے اس کے مطابق فیصلہ کروں گا اپ نے فرمایا اگر وہ اللہ کی کتاب میں نہ ہو (یعنی تم نہ پاؤ ) عرض کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا،آپ نے فرمایا اگر سنت میں بھی نہ ہو عرض کیا اپنی رائے سے (کتاب و سنت کے مطابق) اجتہاد کروں گا اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کے لیے ستائش ہے جس نے اپنے رسول کے قاصد کو یہ توفیق دی، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۸۹۸،مَا جَاءَ فِي الْقَاضِي كَيفَ يَقْضِى،جلد۱ص۶۶۲،حدیث نمبر١٣٢٧)
قاضی کیسے فیصلہ کرے محمد بن بشار نے بواسطہ محمد بن جعفر اور عبدالرحمٰن بن مہدی،شعبہ،ابو عون،حارث بن عمر (حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے نتیجے) اور اہل حمص،حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں،میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں،ابو عون ثقفی کا نام محمد بن عبید اللہ ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۸۹۸،مَا جَاءَ فِي الْقَاضِي كَيفَ يَقْضِى،جلد۱ص۶۶۹،حدیث نمبر ١٣٢٨)
عادل حاکم کی فضیلت حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالٰی کے ہاں سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والا عادل حکمران ہوگا،اور اللہ تعالٰی کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت اور ان سب سے زیادہ دور بیٹھنے والا شخص ظالم حکمران ہوگا، اس باب میں حضرت ابن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے، حدیث حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ حسن غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۸۹۹،مَا جَاءَ فِي الْإِمَامِ الْعَادِلِ،جلد۱ص۶۷۰،حدیث نمبر ١٣٢٩)
عادل حاکم کی فضیلت حضرت عبد اللہ ابن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیشک اللہ تعالٰی قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور شیطان اس سے چمٹ جاتا ہے، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف عمران قطان کی روایت سے پہچانتے ہیں, (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۸۹۹،مَا جَاءَ فِي الْإِمَامِ الْعَادِلِ،جلد۱ص۶۷۰،حدیث نمبر ١٣٣٠)
قاضی کو فریقین کی بات سننے سے پہلے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا جب دو آدمی تمہارے پاس فیصلہ لینے آئیں تو دوسرے کی بات سننے سے پہلے ایک کے حق میں فیصلہ نہ کرنا عنقریب تم فیصلہ کرنے کا طریقہ جان لو گے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد میں ہمیشہ قاضی رہا، یہ حدیث حسن ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۰،مَا جَاءَ فِي الْقَاضِي لَا يَقْضِي بَيْنَ الْخَصْمَيْنِ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَهَا،جلد۱ص۶۷۰،حدیث نمبر ١٣٣١)
رعایا کی خبرگیری حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو حاکم حاجت مندوں غریبوں اور مسکینوں پر اپنا دروازہ بند کر دیتا ہے اللہ تعالٰی اس کی حاجت غریب اور محتاجی کے وقت اس پر آسمانوں کے دروازے بند کر دیتا ہے اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ضروریات (معلوم کرنے کے لیے ان) پر ایک آدمی مقرر فرما دیا، اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہیں حدیث عمرو بن مرہ غریب ہے اس طریق کے علاوہ بھی یہ حدیث مروی ہے عمرو بن جہنی کی کنیت ابو مریم ہے (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۱،مَا جَاءَ فِي إِمَامِ الرَّعِيَّة،جلد۱ص۶۷۱،حدیث نمبر ١٣٣٢)
رعایا کی خبرگیری علی بن حجر نے بواسطہ یحییٰ بن حمزہ یزید بن مریم اور قاسم بن مخیمرہ،ابو مریم رضی اللہ عنہ (صحابی) سے اس کے ہم معنی حدیث نقل کی (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۱،مَا جَاءَ فِي إِمَامِ الرَّعِيَّة،جلد۱ص۶۷۰،حدیث نمبر ١٣٣٣)
قاضی حالت غصہ میں فیصلہ نہ کرے حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ سے روایت ہے کہ میرے والد نے عبید اللہ بن ابوبکرہ کو لکھا اور وہ قاضی تھے کہ حالت غصہ میں فریقین کے درمیان فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا حاکم غصہ کی حالت میں فریقین کے درمیان فیصلہ نہ کرے، یہ حدیث حسن صحیح ہے ابوبکرہ کا نام نفیع ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۱۳۴۵،مَا جَاءَ لَا يَفْضِي الْقَاضِي وَهُوَ غَضْبَانُ،جلد۱ص۶۷۱،حدیث نمبر ١٣٣٤)
حاکموں کا تحائف قبول کرنا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف (حاکم بنا کر )بھیجا جب میں چلا تو میرے پیچھے ایک آدمی بھیج کر مجھے واپس بلایا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانتے ہو میں نے تمہارے پیچھے آدمی کیوں بھیجا ؟ اس لیے کہ میری اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ لینا کیونکہ یہ خیانت ہے اور جو خیانت کرے گا قیامت کے دن اپنے خیانت کی ہوئی چیز لے کر حاضر ہوگا اسی بات کے لیے میں نے تمہیں بلایا ہے اب اپنے کام پر جاؤ، اس باب میں حضرت عدی بن عمیرہ،مستورد بن شداد،ابو حمید اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث معاذ حسن غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق یعنی بواسطہ ابو اسامہ داؤداودی کی روایت سے پہچانتے ہیں ، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۳،مَا جَاءَ فِي هَدَايَا الْاُمَرَاءِ،جلد۱ص۶۷۱،حدیث نمبر ١٣٣٥)
فیصلہ سے متعلق رشوت دینے اور لینے والا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کہ سلسلہ میں رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت فرمائی, اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو،حضرت عائشہ،حضرت ابن حدیدہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث ابوہریرہ حسن ہے بواسطہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن حضرت عبداللہ بن عمرو سے بھی مروی ہے،بواسطہ ابو سلمہ اور ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے اور یہ صحیح نہیں میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے سنا فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو سے ابو سلمہ کی روایت اس باب میں احسن اور اصح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۴،مَا جَاءَ فِي الرَّاشِي وَالْمُرُ تَشِي فِي الْحُكْمِ،جلد۱ص۶۷۲،حدیث نمبر ١٣٣٦)
فیصلہ سے متعلق رشوت دینے اور لینے والا حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے اور لینے والے (دونوں ) پر لعنت فرمائی یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۴،مَا جَاءَ فِي الرَّاشِي وَالْمُرُ تَشِي فِي الْحُكْمِ،جلد۱ص۶۷۲،حدیث نمبر ١٣٣٧)
تحفہ اور دعوت قبول کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے بکری کا کھر (بھی) تحفہ کے طور پر بھیجا جائے تو میں قبول کر لوں گا،اور اگر مجھے اس پر بلایا جائے تو میں چلا جاؤں گا، اس باب میں حضرت علی،حضرت عائشہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ، حضرت سلمان معاویہ بن حیدہ اور عبدالرحمٰن بن علقمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث انس حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۵،مَا جَاءَ فِي قُبُولِ الْهَدِيَّةِ وَإِجَابَةِالدَّعْوَةِ،جلد۱ص۶۷۳،حدیث نمبر ١٣٣٨)
اگر غیر مستحق کے حق میں فیصلہ ہو جائے تو اسے وہ چیز لینا جائز نہیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میرے پاس اپنا جھگڑا لے کر آتے ہو اور میں بھی ایک انسان ہوں ہو سکتا ہے تم میں سے ایک اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز زبان ہو پس اگر میں کسی کے لیے اس کے بھائی کے حق سے فیصلہ کر دوں تو میں اس کے لیے دوزخ کا ایک ٹکڑا کاٹتا ہوں لہذا وہ اس میں سے کچھ نہ لے، اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ام سلمہ حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۶،مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عَلَى مَنْ يُقْضَى لَهُ بِشَىءٍ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَهُ،جلد۱ص۶۷۳،حدیث نمبر ١٣٣٩)
مدعی کے ذمہ گواہ اور مدعٰی علیہ پر قسم حضرت علقمہ بن ابو وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو آدمی ایک حضر موت سے اور دوسرا کندہ سے آئے،حضرمی نے عرض کی یا رسول اللہ ! اس شخص نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے کندی نے کہا یہ میری زمین ہے اور میرے قبضہ میں ہے اس کا اس پر کوئی حق نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا تیرے پاس گواہ ہیں اس نے عرض کیا ؛؛نہیں؛؛ آپ نے فرمایا پھر تیرے لیے اس (مدعٰی علیہ) کی قسم ہے، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ فاجر شخص ہے جس چیز کی قسم کھائے اس کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ہی کسی چیز سے ڈرتا ہے آپ نے فرمایا اس کی طرف سے تیرے لیے صرف یہی ہے راوی فرماتے ہیں وہ کندی شخص اس کے لیے قسم کھانے چلا جب اس نے پشت پھیری تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اگر اس نے تیرے مال پر قسم کھائی تاکہ اسے ظلماً کھائے تو وہ اللہ تعالٰی سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں فرمائے گا، اس باب میں حضرت عمر ،ابن عباس، عبداللہ بن عمرو اور اشعث بن قیس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث وائل بن حجر حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۷،مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْبَيْنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعٰى عَلَيْهِ،جلد۱ص۶۷۰،حدیث نمبر ١٣٤٠)
مدعی کے ذمہ گواہ اور مدعٰی علیہ پر قسم عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا گواہ مدعی کے ذمہ ہیں اور قسم مدعٰی علیہ پر ہے، اس حدیث کی اسناد میں کلام ہے محمد بن عبیداللہ بن عرزی کو حدیث میں حفظ کے اعتبار سے ضعیف کہا گیا ہے،ابن مبارک وغیرہ نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۷،مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْبَيْنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعٰى عَلَيْهِ،جلد۱ص۶۷۳،حدیث نمبر ١٣٤١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ قسم مدعا علیہ پر ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ گواہ مدعٰی کے ذمہ اور قسم مدعا علیہ ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۷،مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْبَيْنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعٰى عَلَيْهِ،جلد۱ص۶۷۳،حدیث نمبر ١٣٤٢)
گواہ کے ساتھ قسم بھی لینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ فرمایا ربیعہ کہتے ہیں مجھے سعد بن عبادہ کے لڑکے نے خبر دی کہ ہم نے سعد بن عبادہ کی کتاب میں پایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ فرمایا، اس باب میں حضرت علی، حضرت جابر، حضرت ابن عباس اور سرق رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں حدیث ابو ہریرہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ فرمایا حسن غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۸،مَا جَاءَ فِي الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ،جلد۱ص۶۷۵،حدیث نمبر ١٣٤)
گواہ کے ساتھ قسم بھی لینا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کی موجودگی میں قسم کے ساتھ فیصلہ فرمایا، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۸،مَا جَاءَ فِي الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ،جلد۱ص۶۷۵،حدیث ١٣٤٤)
گواہ کے ساتھ قسم بھی لینا جعفر بن محمد اپنے والد سے راوی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کی موجودگی میں قسم کے ساتھ فیصلہ فرمایا راوی فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی تمہارے درمیان اسی کے ساتھ فیصلہ فرمایا یہ زیادہ صحیح ہے سفیان ثوری نے بواسطہ جعفر بن محمد اور محمد، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مرسل روایت کیا ہے عبدالعزیز بن ابو سلمہ اور یحییٰ بن سلیم نے یہ حدیث بواسطہ جعفر بن محمد، اور محمد ،حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے کہ ایک گواہ کے موجودگی میں،حقوق اور اموال میں قسم لینا جائز ہے مالک بن انس،شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے کہ ایک گواہ کے ساتھ قسم کے ذریعہ صرف حقوق و اموال میں ہی فیصلہ کیا جائے البتہ بعض علماء کوفہ،نے ایک گواہ کے ساتھ قسم کے ذریعہ فیصلہ کرنا جائز کہا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۸،مَا جَاءَ فِي الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ،جلد۱ص۶۷۵،حدیث نمبر ١٣٤٥)
مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اگر آزاد کرنے والے کے پاس اتنا ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ اس کی باقی قیمت کے برابر ہو جائے تو وہ آزاد ہوگا ورنہ اتنا ہی حصہ آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا، ایوب کہتے ہیں نافع نے بعض اوقات اس روایت میں یوں کہا اس سے اتنا آزاد ہوا جتنا اس نے آزاد کیا، حدیث حضرت ابن عمر حسن صحیح ہے سالم نے بھی بواسطہ والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے روایت کیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۹،مَا جَاءَ فِي الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ رَجُلَينِ فَيَعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَہْ،جلد۱ص۶۷۶،حدیث نمبر ١٣٤٦)
مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنا حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی غلام سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اگر اس کے پاس اس کی قیمت کے برابر مال ہے تو وہ اس کے مال سے آزاد ہوگا ،یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۹،مَا جَاءَ فِي الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ رَجُلَينِ فَيَعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَہْ،جلد۱ص۶۷۶،حدیث نمبر ١٣٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے غلام سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس کے مال سے آزاد ہوگا اور اگر اس کے پاس اتنا مال نہیں تو انصاف کے ساتھ قیمت لگائی جائے اور غلام سے محنت کرا کے بقیہ حصہ کی قیمت ادا کر دی جائے لیکن اس کو زیادہ مشقت میں نہ ڈالا جائے، اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطہ یحییٰ بن سعید سعید بن عروبہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی اور (نصیبہ کی جگہ)" شقیصہ" کا لفظ استعمال کیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابان بن یزید نے قتادہ سے سعید بن ابو عروبہ کی روایت کی مثل نقل کی لیکن محنت کا ذکر نہیں کیا غلام سے محنت کرانے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک اس سے محنت کرائی جائے سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے امام اسحٰاق بھی یہی فرماتے ہیں بعض علماء فرماتے ہیں اگر غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو دیکھا جائے اگر اس کے پاس اپنے ساتھی کا حصہ ادا کرنے کے لیے مال ہے تو یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو جتنا آزاد کیا اتنا ہی آزاد ہوگا لیکن اس سے محنت مشقت نہیں کرائی جائے گی ان حضرات نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے مطابق رائی دی ہے اہل مدینہ کا یہی قول ہے مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۰۹،مَا جَاءَ فِي الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ رَجُلَينِ فَيَعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَہْ،جلد۱ص۶۷۶،حدیث نمبر ١٣٤٨)
عمر بھر کے لیے کوئی چیز ہبہ کرنا حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمریٰ(عمر بھر کے لیے ہبہ) اس کو جس کو ہبہ کیا گیا ) کے گھر والوں کے لیے جائز ہے یا (فرمایا) اس کے گھر والوں کے لیے وراثت ہے اس باب میں حضرت زید بن ثابت، حضرت جابر،حضرت ابوہریرہ ،حضرت عائشہ،حضرت ابن زبیر اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۰،مَا جَاءَ فِي الْعُمریٰ،جلد۱ص۶۷۷،حدیث نمبر ١٣٤٩)
عمر بھر کے لیے کوئی چیز ہبہ کرنا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو کسی دوسرے کے طرف سے عمر بھر کے لیے کوئی چیز ہبہ کی جائے وہ اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے ہوگا وہ اسی کے لیے رہے گا جس کو دیا گیا دینے والے کی طرف نہیں لوٹے گا کیونکہ اس نے ایسا عطیہ دیا جس میں میراث واقعی ہوئی، یہ حدیث حسن صحیح ہے معمر اور کئی دوسرے حضرات نے زہری سے مالک کی روایت کی طرح نقل کیا بعض محدثین نے زہری سے روایت کیا لیکن ؛؛ ولعقبہ ؛؛ کے الفاظ مذکور نہیں۔ بعض علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جب معطی نے کہا یہ ساری زندگی تیرے لیے اور تیرے بعد والوں کے لیے ہے تو یہ اسی کے لیے ہوگا جس کو دیا گیا پہلی کی طرف واپس نہیں ہوگا اور اگر بعد والوں کے لیے کہ الفاظ نہ کہے تو موہوب لہ کے مرنے کے بعد واہب کو واپس دیا جائے گا۔ مالک بن انس اور شافعی رحمہ اللہ کا یہی قول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد طرق سے مروی ہے کہ عمریٰ، اپنے اہل کے لیے جائز ہے بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں۔ موہوب لہ کہ مرنے پر وہ اس کے ورثاء کے لیے ہوگا اگرچہ واہب نے یہ نہ کہا ہو کہ تیرے بعد والوں کے لیے ہے سفیان ثوری احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۰،مَا جَاءَ فِي الْعُمریٰ،جلد۱ص۶۷۷،حدیث نمبر ١٣٥٠)
رقبیٰ کا حکم حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمریٰ اس کے اہل کے لیے جائز ہے اور رقبیٰ اس کے اہل کے لیے جائز ہے ، یہ حدیث حسن ہے بعض محدثین نے بواسطہ ابو زبیر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفًا روایت کیا ہے۔بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے کہ رقبیٰ عمریٰ کی طرح جائز ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء کوفہ اور دوسرے حضرات نے عمریٰ اور رقبیٰ میں فرق کرتے ہوئے عمریٰ کو جائز رکھا لیکن رقبیٰ کو ناجائز کہا رقبیٰ کا مطلب یہ ہے کہ دینے والا دوسرے کو کہے جب تک تو زندہ ہے یہ چیز تیرے لیے ہے اگر تو مجھ سے پہلے مر جائے تو یہ دوبارہ میری ہو جائے گی امام احمد اور اسحٰاق فرماتے ہیں رقبیٰ عمریٰ کی طرح ہے اور یہ اسی کے لیے ہوگا جس کو دیا گیا دینے والے کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۱،مَا جَاءَ فِی الرُقبٰی،جلد۱ص۶۷۸،حدیث ١٣٥١)
لوگوں کے درمیان صلح کرانا عمر بن عوف مدنی بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے درمیان صلح کرانا جائز ہے مگر وہ صلح جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر دے جائز نہیں اور مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں مگر ایسی شرط جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دے جائز نہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۲،مَا ذَكَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّلْحِ بَيْنَ النَّاسِ،جلد۱ص۶۷۸،حدیث نمبر ١٣٥١)
پڑوسی کی دیوار میں لکڑی گاڑنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے سر جھکا دیئے آپ نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں اس سے منہ پھیر تے دیکھتا ہوں ؟ اللہ کی قسم ! میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان گاڑ دوں گا، اس باب میں حضرت ابن عباس اور مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام شافعی بھی یہی کہتے ہیں، بعض علماء جن میں مالک بن انس رحمہم اللہ بھی شامل ہیں فرماتے ہیں کوئی شخص پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کر سکتا ہے پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۳،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَضَعُ عَلَى حَائِطِ جَارِهِ خَشَبًا،جلد۱ص۶۷۹،حدیث نمبر ١٣٥٣)
سچی قسم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحیح قسم وہی ہے جس کے سبب تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف بواسطہ ہشیم، عبداللہ بن ابو صالح کی روایت سے پہچانتے ہیں عبداللہ سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ اگر قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت معتبر ہوگی اور اگر قسم لینے والا مظلوم ہو تو اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۴،مَا جَاءَ أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى مَا يُصَدِّقُ صَاحِبُہُ،جلد۱ص۶۷۰،حدیث نمبر ١٣٥٤)
اختلاف کی صورت میں راستہ کتنا بڑا بنایا جائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راستہ سات ہاتھ بناؤ۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۵،مَا جَاءَ فِي الطَّرِيقِ إِذَا اخْتُلِفَ فِيهِ کَمْ يُجْعَلُ،جلد۱ص۶۸۰،حدیث نمبر ١٣٥٥)
اختلاف کی صورت میں راستہ کتنا بڑا بنایا جائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب راستے کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اسے سات ہاتھ بناؤ۔ وکیع کی روایت سے یہ اصح ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے بواسطہ بشیر بن کعب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت حسن صحیح ہے بعض محدثین نے بواسطہ قتادہ اور بشیر بن نہیک، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی اور وہ غیر محفوظ ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۵،مَا جَاءَ فِي الطَّرِيقِ إِذَا اخْتُلِفَ فِيهِ کَمْ يُجْعَلُ،جلد۱ص۶۸۰،حدیث نمبر ١٣٥٦)
ماں باپ کی جدائی کی صورت میں لڑکے کو اختیار دیا جائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکے کو ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا کہ جس کے پاس جی چاہے رہے اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور عبدالحمید بن جعفر کے دادا رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے ابو میمونہ کا نام سلیم ہے۔ بعض صحابہ کرام اور علماء کا اس پر عمل ہے والدین کے درمیان بیٹے کے بارے میں اختلاف کی صورت میں بچے کو اختیار دیا جائے جہاں اس کا جی چاہے رہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہ اللہ کا یہی قول ہے نیز یہ دونوں فرماتے ہیں بچہ جب چھوٹا ہو تو ماں زیادہ حقدار ہے اور جب سات سال کا ہو جائے تو اختیار دیا جائے گا۔ ہلال بن ابو میمونہ سے ہلال بن علی بن اسامہ مراد ہیں اور یہ مدنی ہیں، ان سے یحییٰ بن ابو کثیر، مالک بن انس،فلیح اور سلیمان نے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۶،مَا جَاءَ فِي تَخَيِیْرِ الْغُلَامِ بَيْنَ أَبَوَيهِ إِذَا افْتَرَقَا،جلد۱ص۶۸۰،حدیث نمبر ١٣٥٧)
باپ بیٹے کے مال سے خرچ کر سکتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا سب سے پاک کھانا وہ ہے جو تم اپنی کمائی سے کھاؤ اور تمہاری اولاد تمہاری کمائی سے ہے اس باب میں حضرت جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن ہے بعض محدثین نے اسے بواسطہ عمارہ بن عمیر اور ان کی والدہ عمارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اکثر نے ان کی پھوپھی کے واسطہ سے ام المومنین سے نقل کیا بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں باپ کا ہاتھ اولاد کے مال پر کھلا ہے اس سے جتنا چاہے لے،بعض علماء فرماتے ہیں اس کے مال سے صرف ضرورت کے وقت ہی لے سکتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۷،مَا جَاءَ أَنَّ الْوَالِدِ يَأْخُذُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ،جلد۱ص۶۸۱،حدیث نمبر ١٣٥٨)
کسی شخص کی کوئی چیز توڑی جائے تو کیا حکم ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے آپ کی خدمت میں ایک پیالے میں کھانا بھیجا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہاتھ مار کر پیالہ گرا دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھانے کے بدلے کھانا اور برتن کے بدلے برتن ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۸،مَا جَاءَ فِي مَن يُكْسَرَ لَهُ الشَّىءُ مَا يُحكَمُ لَهُ مِنْ مَالِ الْكَاسِرِ،جلد۱ص۶۸۱،حدیث نمبر ١٣٥٩)
کسی شخص کی کوئی چیز توڑی جائے تو کیا حکم ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ مستعار لیا اور کہیں ضائع ہو گیا تو آپ نے اس کے بدلے ان کو قیمت ادا کی یہ حدیث غیر محفوظ ہے میرے نزدیک سوید نے ثوری والی روایت بیان کرنا چاہی۔ حدیث ثوری اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۸،مَا جَاءَ فِي مَن يُكْسَرَ لَهُ الشَّىءُ مَا يُحكَمُ لَهُ مِنْ مَالِ الْكَاسِرِ،جلد۱ص۶۸۱،حدیث نمبر ١٣٦٠)
مرد اور عورت کی حدِ بلوغ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں مجھے ایک لشکر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا اس وقت میں چودہ سال کا تھا آپ نے مجھے قبول نہ فرمایا آئندہ سال ایک لشکر میں مجھے آپ کے سامنے پیش کیا گیا اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ نے مجھے قبول فرما لیا نافع فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے پھر آپ نے لکھا پندرہ سال والے کے لیے حصہ مقرر کیا جائے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان بن عینیہ، عبید اللہ بن عمر اور نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے ہم معنی مرفوعاً روایت کیا لیکن اس میں یہ مذکور نہیں ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے لکھا یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے ابن عیینہ نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا یہ لڑکوں اور مجاہدین کے درمیان حد ہے،یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ یہی فرماتے ہیں۔ کہ لڑکا پندرہ سال کا ہو جائے تو وہ مردوں کے حکم میں ہے اگر پندرہ سال سے پہلے اس سے احتلام آئے تو اس وقت سے مردوں کے حکم میں ہوگا امام احمد اور اسحٰاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں بلوغ کی تین منازل ہیں۔ پندرہ سال یا احتلام اور اگر یہ دونوں معلوم نہ ہو سکے تو زیر ناف بالوں کا آنا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۱۹،مَا جَاءَ فِي حَدِ بُلُوغِ الرَّجُلِ والمرأة،جلد۱ص۶۸۲،حدیث نمبر ١٣٦١)
سوتیلی ماں سے نکاح کا حکم حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میرے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے فرمایا مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا سر لانے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیا ہے، اس باب میں حضرت قرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے حدیث براء حسن غریب ہے محمد بن اسحٰاق نے یہ حدیث بواسطہ عدی بن ثابت اور عبداللہ بن یزید حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی بواسطہ اشعث، عدی اور یزید بن براء بھی حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نیز بواسطہ اشعث عدی اور یزید بن براء ان کے ماموں سے بھی مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۲۰،مَا جَاءَ فِي مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ،جلد۱ص۶۸۳،حدیث نمبر ١٣٦٢)
ایک شخص کی زمین پست جگہ ہو تو پانی کا حکم حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک انصاری نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے پتھرلی زمین کی ان نالیوں کے بارے میں جھگڑا کیا جن کے ذریعے کھجوروں کو پانی دیا جاتا تھا انصاری نے کہا پانی گزرنے دو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ انکار کیا چنانچہ دونوں اپنا جھگڑا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے آپ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے زبیر ! اپنی زمین سے سیراب کر لو پھر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو یہ سن کر انصاری کو غصہ آگیا کہنے لگا اس لیے کہ یہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے انور کا رنگ بدل گیا آپ نے فرمایا زبیر ! سیراب کرو پھر پانی روک دو یہاں تک کہ منڑیروں تک بھر جائے۔حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قسم بخدا ! میرا خیال ہے یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يَحْکِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ الخ۔ اے محبوب تیرے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو آپس کے جھگڑوں میں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرماؤ اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جسے مان لیں۔ شعیب بن ابی حمزہ نے بواسطہ زہری اور عروہ بن زبیر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا واسطہ مذکور نہیں۔ عبداللہ بن وہب۔ لیث سے اور یونس۔ زہری سے روایت کرتے ہیں لیکن پہلی روایت کی طرح یہاں بھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا واسطہ مذکور نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۲۱،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلَيْنِ يَكُونُ أَحَدُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْآخَرِ فِي الْمَاءِ،جلد۱ص۶۸۳،حدیث ١٣٦٣)
تنگدست کا مرتے وقت غلام آزاد کرنا حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک انصاری نے مرتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے اس کے پاس ان کے سوا اور کچھ مال نہ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ نے اسے سخت سست کہا پھر ان غلاموں کو بلا کر ان کے حصے کیے اور ان میں قرعہ اندازی فرمائی دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلامی میں باقی رکھا، اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے حدیث عمران بن حصین حسن صحیح ہے عمران بن حصین سے اس کے علاوہ بھی مروی ہے بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے مالک بن انس، شافعی ،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں کہ اس میں اور اس طرح کے دوسرے معاملات میں قرعہ اندازی کی جائے بعض علماء کوفہ اور دیگر حضرات کے نزدیک قرعہ اندازی نہ ہوگی بلکہ ہر غلام سے ایک تہائی آزاد ہو جائے گا دو تہائی کی آزادی کے لیے ان سے محنت مزدوری کرائی جائے گی ابو مہلب کا نام عبدالرحمٰن بن عمرو ہے معاویہ بن عمرو بھی کہا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۲۲،مَا جَاءَ فِي مَنْ يُعْتِقُ مَمَا لِيْكَ عِنْدَ مَوْتِہٖ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمُ۔ جلد۱ص۶۸۴،حدیث نمبر ١٣٦٤)
رشتہ دار کا غلامی میں آجانا حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے کسی محرم رشتہ دار کا مالک بنے وہ رشتہ دار آزاد ہے اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ سے مسندًا جانتے ہیں بعض نے بواسطہ قتادہ اور حسن،حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا کچھ حصہ روایت کیا۔ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی محرم رشتہ دار کی غلامی میں آجائے وہ آزاد ہے، اس حدیث میں صرف محمد بن بکر نے عاصم احوال کا واسطہ ذکر کیا ہے بعض اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے بواسطہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا جو شخص اپنے محرم رشتہ دار کی غلامی میں آجائے آزاد ہو جائے گا ضمرہ بن ربیعہ نے بواسطہ سفیان ثوری اور عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا اس حدیث میں ضمرہ بن ربیعہ کا کوئی متابع نہیں محدثین کے نزدیک اس روایت میں غلطی ہوئی۔ (جامع ترمذی شریف،باب۹۲۳،مَا جَاءَ فِي مَنْ مَلَكَ ذَا مَحَرَمٍ،جلد۱ص۶۸۵،حديث ١٣٦٥)
کسی کی زمین میں بلا اجازت کھیتی باڑی کرنا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے دوسری کی زمین میں بلا اجازت کھیتی باڑی کی اسے ایک کھیتی سے کچھ نہیں ملے گا صرف مزدوری ملے گی، یہ حدیث حسن غریب ہے حدیث ابو اسحٰاق سے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے نیز فرمایا میں اس کو ابو اسحٰاق سے صرف شریک کی روایت سے پہچانتا ہوں امام بخاری فرماتے ہیں ہم سے معقل بن مالک بصری نے بواسطہ عقبہ بن اصم عطاء اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،مَا جَاءَ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِم،جلد۱ص۶۸۵،حديث نمبر ١٣٦٦﴾
اولاد کو عطیہ دیتے وقت مساوات قائم رکھنا حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان کے والد نے اپنے ایک لڑکے کو ایک غلام عطیہ دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کو گواہ بنانے حاضر ہوئے آپ نے فرمایا کیا تم نے اپنے تمام لڑکوں کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا اسے بھی واپس لے لو، یہ حدیث حسن صحیح ہے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اولاد میں برابری مستحب ہے یہاں تک کہ بعض علماء کے نزدیک چومنے میں بھی برابری چاہیے بعض علماء فرماتے ہیں عطیات دینے میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں برابر ہیں سفیان ثوری رحمہ اللہ کا یہی قول ہے کچھ علماء کے نزدیک مساوات یہ ہیں کہ لڑکوں کو میراث کی طرح یہاں بھی دوگنا دیا جائے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جا مع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۲۵،مَا جَاءَ فِي النَّحْلِ وَالتَّسْوِيَةِ بَيْنَ الْوَلَدِ،جلد۱ص۶۸۶،حديث مرفوع ١٣٦٧)
حق شفعہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مکان کا پڑوسی مکان کا زیادہ حقدار ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت شریر ابو رافع اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث سمرہ حسن صحیح ہے عیسیٰ بن یونس نے بواسطہ سعید بن ابی عروبہ اور قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس کی مثل روایت کیا سعید بن عروبہ بواسطہ قتادہ حسن اور سمرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اہل علم کے نزدیک حسن کی سمرہ سے روایت صحیح ہے،حضرت انس سے قتادہ کی روایت ہمیں صرف عیسیٰ بن یونس سے معلوم ہے عبداللہ بن عبدالرحمٰن طائفی کی روایت بواسطہ عمر بن شریر اور ان کے والد شریر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسن ہے ابراہیم بن میسرہ بواسطہ عمر بن شریر اور ابو رافع، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے سنا فرماتے ہیں میرے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۲۶،مَا جَاءَ فِي الشَّفْعَةِ،جلد۱ص۶۸۷،حديث ١٣٦٨)
غائب کے لیے حق شفعہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑوسی اپنے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے اس کا انتظار کیا جائے اگرچہ غائب ہو جبکہ دونوں کا راستہ ایک ہو یہ حدیث حسن غریب ہے عبدالملک بن ابی سلیمان کے سوا ہم کسی دوسرے کو نہیں جانتے جس نے بواسطہ عطاء حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ہو،شعبہ نے اس حدیث کے سبب عبدالملک بن ابی سلیمان کے بارے میں کلام کیا ہے بواسطہ ابن مبارک، سفیان ثوری سے منقول ہے کہ عبدالملک بن ابی سلیمان علم میں ترازو ہیں۔ اہل علم کے نزدیک اس حدیث پر عمل ہے کہ آدمی اپنے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے اگرچہ غائب ہو واپس آنے پر شفع کا حق حاصل ہوگا اگرچہ یہ مدت کتنی ہی طویل ہو۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۲۷،مَا جَاءَ فِي الشَّفْعَةِ لِلْغَائِبِ،جلد۱ص۶۸۷،حديث ١٣٦٩)
حدود اور حصے مقرر ہونے پر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب حد مقرر ہو جائیں اور راستے پھیر دیئے جائیں تو شفعہ کا حق نہیں ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض راوی نے جسے بواسطہ ابو سلمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے بعض صحابہ کرام جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔ اس حدیث پر عمل ہے۔ بعض تابعین فقہاء جیسے حضرت عمر بن عبدالعزیز وغیرہ رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں اہل مدینہ کا بھی یہی قول ہے اس میں یحییٰ بن سعید انصاری ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن اور مالک بن انس رحمہم اللہ بھی شامل ہیں امام شافعی، احمد، اسحٰاق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ شفعہ صرف شریک کے لیے ہے۔ پڑوسی اگر شریک نہ ہو تو اسے حق شفعہ حاصل نہیں ہوگا بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء فرماتے ہیں پڑوسی کو حق شفعہ حاصل ہے ان حضرات نے مرفوع حدیث سے استدلال کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مکان کا پڑوسی مکان کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ نیز آپ نے فرمایا ہمسایہ قربت کی وجہ سے زیادہ حقدار ہیں سفیان ثوری ابن مبارک اور اہل کوفہ رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۲۸،إِذَا حُدَّاتِ الْحُدُودَ وَقَعَتِ السَّهَامُ فَلَا تُشْفَعَةَ،جلد۱ص۶۸۸،حديث نمبر ١٣٧٠)
شریک کے لیے حق شفعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شریک شفع کا مستحق ہے اور شفعہ ہر غیر منقولہ چیز میں ہوتا ہے ہم اسے صرف ابو حمزہ سکری کی روایت سے پہچانتے ہیں متعدد افراد نے یہ حدیث بواسطہ عبدالعزیز بن رفیع اور ابن ابی ملیکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ ہناد نے بواسطہ ابوبکر بن عیاش، عبدالعزیز بن رفیع اور ابن ابی ملیکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا واسطہ مذکور نہیں کئی دوسرے افراد نے بھی عبدالعزیز بن رفیع سے بے واسطہ ابن عباس اس کی مثل روایت کیا ابو حمزہ کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے ابو حمزہ ثقہ ہیں ممکن ہے کسی دوسرے سے غلطی واقع ہوئی ہو۔ ہناد نے بواستہ ابو احوص عبدالعزیز بن رفیع اور ابن ابی ملیکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو بکر بن عیاش کی روایت کی مثل روایت کی اکثر علماء فرماتے ہیں شفعہ مکانات اور زمین میں ہوتا ہے ہر چیز میں شفعہ نہیں جبکہ بعض علماء کے نزدیک ہر چیز میں شفعہ ہے پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۲۹، مَا جَاءَ أَنَّ الشَّرِيكَ شَفِيعُ،جلد۱ص۶۸۱،حدیث نمبر ١٣٧١)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گری ہوئی چیز کا حکم پوچھا آپ نے فرمایا ایک سال تشہیر کرو پھر اس کا بندھن ظرف اور غلاف پہچان لو اور خرچ کرو اگر کوئی آجائے تو اسے دے دو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہیں اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! گمشدہ اونٹ کا حکم کیا ہے راوی فرماتے ہیں یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا یہاں تک کہ رخسار مبارک یا فرمایا چہرے انور سرخ ہو گیا آپ نے فرمایا تجھے اس سے کیا واسطہ اس کی جوتیاں اور پانی اس کے پاس ہے حتٰی کہ وہ اپنے مالک کے پاس پہنچ جائے۔ اس باب میں حضرت ابی بن کعب عبداللہ بن عمر۔ جارود بن معلٰی،عیاض بن حمار اور جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث زید بن خالد حسن صحیح ہے اور ان سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ حدیث یزید مولٰی منبعت زید بن خالد سے حسن صحیح ہے۔ اور ان سے متعدد طرق سے مروی ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۰،مَا جَاءَ فِي الْلُّقْطَةِ وَضَالَّةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ،جلد۱ص۶۸۹،حديث نمبر ١٣٧٢)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گری ہوئی چیز کا حکم پوچھا آپ نے فرمایا ایک سال تشہیر کرو پھر اس کا بندھن ظرف اور غلاف پہچان لو اور خرچ کرو اگر کوئی آجائے تو اسے دے دو۔ حدیث زید بن خالد حسن صحیح ہے اور ان سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ حدیث یزید مولٰی منبعت زید بن خالد سے حسن صحیح ہے۔ اور ان سے متعدد طرق سے مروی ہے، بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے انہوں نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ ایک سال تشہیر کی جائے اور مالک نہ ملے تو اس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے۔امام شافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ یہی فرماتے ہیں بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء فرماتے ہیں ایک سال تشہیر کریں مالک آ جائیں تو ٹھیک ورنہ صدقہ کر دے سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں اہل کوفہ کا بھی یہی قول ہے ان کے نزدیک گمشدہ چیز کو پانے والا امیر ہو تو وہ اس سے نفع نہیں اٹھا سکتا امام شافعی فرماتے ہیں۔اگرچہ مالدار نفع اٹھا سکتا ہے کیونکہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک تھیلی پائی جس میں سو دینار تھے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ایک سال تشہیر کریں پھر نفع اٹھائیں اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کثیر المال تھے اور دولت مند صحابہ کرام میں سے تھے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہیر کا حکم دیا پھر مالک کے نہ ملنے پر استعمال کا حکم دیا اگر گمشدہ چیز حلال نہ ہوتی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے بھی حلال نہ ہوتی کیونکہ آپ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک دینار پایا اس کی تشہیر کی پھر جب کوئی پہچاننے والا نہ ملا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھانے کا حکم دیا حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے صدقہ جائز نہیں بعض اہل علم نے بلا تشہیر چیز کھانے کی اجازت دی ہے جبکہ قلیل ہو بعض فرماتے ہیں دینار سے کم ہو تو ایک ہفتہ تشہیر کرے اسحٰاق بن ابراہیم رحمہ اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۰،مَا جَاءَ فِي الْلُّقْطَةِ وَضَالَّةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ،جلد۱ص۶۸۱، حدیث نمبر ١٣٧٣)
گری پڑی چیز اور گم شدہ جانور کا حکم سوید بن غفلہ سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ باہر نکلا تو مجھے ایک کوڑا ملا ابن نمیر کی روایت میں ہے میں نے ایک کوڑا پڑا ہوا دیکھا اور اٹھا لیا۔ دونوں حضرات نے کہا اسے رکھ دو تاکہ درندے کھا لیں میں نے کہا درندوں کے کھانے کے لیے نہیں چھوڑوں گا بلکہ اسے لوں گا۔اور اس سے نفع اٹھاؤں گا پھر میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا ان سے پورا واقعہ عرض کیا۔ انہوں نے فرمایا تم نے اچھا کیا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے میں اسے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سال اس کی تشہیر کرو میں نے ایک سال تشہیر کی مجھے اس کا پہچاننے والا کوئی نہ ملا تو میں پھر حاضر خدمت ہوا۔ آپ نے فرمایا ایک سال اور تشہیر کرو میں نے ایک سال مزید تشہیر کی پھر لے کر حاضر بارگاہ ہوا۔ اپ نے فرمایا مزید ایک سال تشہیر کرو۔ نیز فرمایا اس کی تعداد ظرف اور جس رسی وغیرہ سے باندھی ہوئی ہے اس کو ذہن نشین رکھو جب کوئی لینے والا آ کر اس کی تعداد برتن اور رسی وغیرہ بتائے تو اسے دے دو ورنہ اس سے نفع اٹھاؤ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۰،مَا جَاءَ فِي الْلُّقْطَةِ وَضَالَّةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ،جلد۱ص۶۸۹،حديث نمبر ١٣٧٤)
احکام وقف حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین بطور غنیمت ملی آپ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے خیبر سے مال ملا ہے اس جیسا نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا اب آپ کا کیا حکم ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہو تو اصل زمین وقف کر دو اور محاصل کو صدقہ کر دو چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ میں دے دیا تاکہ اس کی اصل نہ بیچی جائے نہ ہبہ کی جائے اور نہ وراثت میں دی جائے اسے محتاجوں رشتہ داروں غلاموں کے آزاد کرنے اللہ کے راستہ میں مسافروں میں اور مہمانوں میں صدقہ کیا جائے جو اس کا متولی بنے اسے اس سے دستور کے مطابق کھانے اور دوستوں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں البتہ جمع نہ کرے کہ کہیں مالدار نہ بن جائے، راوی کہتے ہیں میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا۔ اسے مال اکٹھا کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں ابن عوف فرماتے ہیں ایک دوسرے آدمی نے مجھ سے بیان کیا کہ اس نے ایک سرخ چمڑے کے ٹکڑے پر ؛غیر متاثل؛ کے الفاظ پڑھے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسماعیل فرماتے ہیں میں نے ابن عبید اللہ بن عمر کے پاس پڑھا اس میں بھی یہی الفاظ تھے بعض صحابہ اور علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے ہم زمین وغیرہ کو وقف کرنے میں متقدمین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پاتے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۱،مَا جَاءَ فِي الْوَقْفِ،جلد۱ص۶۹۲،حديث نمبر ١٣٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں البتہ تین عمل باقی رہتے ہیں صدقہ جاریہ، نفع بخش علم اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۱،مَا جَاءَ فِي الْوَقْفِ،جلد۱ص۶۹۲،حديث نمبر ١٣٧٦)
چوپا یہ کا زخمی کرنا معاف ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوپائے کا زخم معاف ہے۔ کنواں کھود تے وقت گر کر مرنے والے اور کان میں دب کر مر جانے والے کا خون معاف ہے اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے، اس باب میں حضرت جابر ،عمر بن عوف مدنی اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے۔ قتیبہ نے بواسطہ لیث، ابن شہاب، سعید بن مسیب، سلمہ بن عبدالرحمٰن اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنیٰ حدیث روایت کی۔ انصاری بواسطہ معن حضرت مالک بن انس رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے چوپائے کا زخم معاف ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ معاف ہے اس پر کوئی دیت نہیں۔بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا کہ وہ جانور ہے جو مالک سے بھاگ گیا اگر وہ کسی کو زخمی کر دے تو مالک پر جرمانہ نہیں کان کی معافی کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے کان کھودی اور کوئی شخص اس میں گر کر مر گیا تو اس پر کوئی جرمانہ نہیں اسی طرح کسی نے مسافروں کے لیے کنواں کھودا اور اس میں کوئی شخص گر کر مر گیا تو مالک کو جرمانہ نہ ہوگا۔رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔ رکاز سے جاہلیت کے دور کا دفینہ مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کو یہ دفینہ ملے وہ پانچواں حصہ حکومت کو دے باقی کا وہ خود مالک ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۲،مَا جَاءَ فِي الْعَجْمَاءِ أَنَّ جُرْ حَهَا جُبَارٌ،جلد۱ص۶۹۳،حديث نمبر ١٣٧٧)
حضرت سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی بنجر زمین (جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو) آباد کی تو وہ اسی کی ہے کسی ظالم شخص کا کوئی حق نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز ہے، ۴- بعض علماء کہتے ہیں: حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز نہیں ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، ۵- اس باب میں حضرت جابر، کثیر کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور حضرت سمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۶- ہم سے ابوموسیٰ محمد بن مثنی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوولید طیالسی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «وليس لعرق ظالم حق» کا مطلب پوچھا، انہوں نے کہا: «العرق الظالم» سے مراد وہ غاصب ہے جو دوسروں کی چیز زبردستی لے۔ میں نے کہا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسرے کی زمین میں درخت لگائے؟ انہوں نے کہا: وہی شخص مراد ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غیر آباد زمین (جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو) آباد کرے تو وہ اسی کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: (ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۳،مَا ذُكِرَ فِي إِحْيَاءِ أَرْضِ الْمَوَاتِ،جلد۱ص۶۹۴،حديث نمبر ١٣٧٩)
جاگیر بخشنا حضرت ابیض بن حمال سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے لیے نمک کی کان مقرر کرانے حاضر ہوئے آپ نے مقرر کر دی جب وہ واپس ہوئے تو مجلس میں سے ایک آدمی نے عرض کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے اس کے لیے کیا مقرر فرمایا ؟ آپ نے تو اس کے لیے نہ ختم ہونے والا پانی مقرر فرمایا راوی کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کان ان سے واپس لے لی پھر انہوں نے آپ سے پیلو کے درختوں کی زمین گھیرنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وہ زمین جس میں اونٹوں کے کھر نہ پہنچیں۔ ﴿یعنی چرا گاہوں سے دور ہو ﴾ قتیبہ نے اس روایت کی تصدیق کی۔ محمد بن یحییٰ بن ابی عمر نے محمد بن یحییٰ بن قیس ماربی سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے، اس باب میں حضرت وائل اور اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ابیض حمال کی روایت حسن غریب ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے کہ حکمران جس کے لیے چاہے جاگیر مقرر کر سکتا ہے۔ جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۵،مَاجَاءَ فِي الْقَطَائِعِ،جلد۱ص۶۹۴،حديث نمبر ١٣٨٠)
علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حضر موت میں ایک زمین جاگیر کے طور پر دی محمود کہتے ہیں نضر نے شعبہ سے روایت کیا اور اس میں یہ اضافہ کیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ پیمائش کے لیے بھیجا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۵،مَاجَاءَ فِي الْقَطَائِعِ،جلد۱ص۶۹۴،حديث نمبر ١٣٨١)
درخت لگانے کی فضیلت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص درخت لگائے یا کھیتی باڑی کرے پھر اس سے انسان پرندے یا جانور کھائیں وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے، اس باب میں حضرت ابو ایوب، ام مبشر، حضرت جابر اور زید بن خالد رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں حدیث انس حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۵،مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْغَرْسِ،جلد۱ص۶۹۵،حديث نمبر ١٣٨٢)
کھیتی باڑی کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے وہاں کے پھلوں اور کھیتی کی نصف پیداوار کا معاملہ طے کیا، اس باب میں حضرت انس، ابن عباس، زید بن ثابت اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے و نصف تہائی یا چوتھائی پر مزارعت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے بعض کے نزدیک مختاریہ ہے کہ بیج مالک زمین کا ہو امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض کے نزدیک تہائی اور چوتھائی پر مزارعت مکروہ ہے البتہ تہائی اور چوتھائی پر درختوں کا معاملہ طے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مالک بن انس اور شافعی رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں بعض علماء کے نزدیک مزارعت کسی صورت میں جائز نہیں مگر یہ کہ زمین سونے اور چاندی کے بدلے میں لی جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۶،مَا جَاءَ فِي الْمُزَارَعَةِ،جکد۱ص۶۹۶،حديث نمبر ١٣٨٣)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جس میں بظاہر ہمارا نفع تھا وہ یہ کہ ہم میں سے کوئی شخص اپنی زمین پیداوار کے کچھ حصہ یا دراھم کے بدلے مزارعت پر دے۔ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی زمین کا مالک ہو تو وہ اپنے بھائی کو بطور ادھار دے یا خود زراعت کرے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۷،جلد۱ص۶۹۶،حديث نمبر ١٣٨٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت کو حرام نہیں فرمایا لیکن ایک دوسرے کے ساتھ نرمی برتنے کا حکم فرمایا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔اس باب میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہیں رافع کی روایت میں اضطراب ہے یہ حدیث حضرت رافع سے ان کے چچاؤں کے واسطہ سے بھی مذکور ہے۔ اور ظہیر بن رافع کے واسطہ سے بھی مذکور ہے اور یہ بھی ان کے چچا ہیں حضرت رافع سے یہ حدیث مختلف طرق سے مروی ہے۔ فائدہ : - کسی کو اپنی زمین اس طور پر کاشت کے لیے دینا کہ جو کچھ پیداوار ہوگی دونوں میں مثلاً نصف نصف یا ایک تہائی یا دو تہائیاں تقسیم ہو جائے گی اس کو مزارعت کہتے ہیں۔ بٹائی پر کھیت دینے کا بھی یہی مطلب ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مزارعت ناجائز ہے مگر آپ کے شاگردوں حضرت امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ ہے کہ مزارعت جائز ہے لیکن اس کی جواز کے لیے کچھ شرائط ہیں تفصیل کے لیے دیکھیں۔ بہار شریعت،﴿ج۱۵ص۹۹﴾ مصنفیہ صدرالشریعہ مولانا محمد امجد علی اعظمی قدس سرہ۔ مترجم۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الاحکام،باب۹۳۷،جلد۱ص۶۹۶)
Tirmizi Shareef : Abwabul Ahkaam
|
Tirmizi Shareef : ابواب الاحکام
|
•