asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Iman

From 1 to 441

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ایمان کا بیان=یہ باب ہے ایمان و اسلام و تقدیر اور علامات قیامت کی معرفت کے متعلق؛(امام ابو الحسین مسلم بن حجاج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ابتداء کرتے ہیں اور اسی کو کافی سمجھتے ہیں اور ہماری توفیق صرف اللہ عزوجل کی مدد سے ہے؛(پھر امام مسلم نے اپنی مکمل سند کے ساتھ یحییٰ بن یعمر سے روایت کرتے ہیں کہ یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا کہ سب سے پہلے جس نے بصرہ میں تقدیر کے معاملے میں گفتگو کی وہ معبد جہنی ہے ۔میں اور حمید بن عبد الرحمن حمیری دونوں حج یا عمرے کے لیے نکلے اورہم نے کہا کاش ہمیں کسی صحابی رسول ﷺسے ملاقات ہوتی تو تقدیر کے حوالے سےان لوگوں کے خیال کے بارے میں پوچھتے۔اتفاق سے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مسجد جاتے ہوئے ملاقات ہوئی۔ہم نے ان کو درمیان میں کردیا ایک دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف ۔میرا خیال تھا کہ میرا ساتھی مجھے بات کرنے کا موقع دے گا (اسی لیے میں نے بات کی) میں نے کہا اے ابا عبد الرحمن (یہ ابن عمر کی کنیت تھی)ہمارے ملک میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں اور علم کا شوق رکھتے ہیں یا اس کی باریکیاں نکالتے ہیں۔اور ان کا حال بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں تقدیر نامی کوئی چیز نہیں ہے ۔اور سب کام ناگہاں(اچانک) ہوگئےہیں۔عبد اللہ بن عمر نے کہا جب آپ ایسے لوگوں سے ملیں گے تو ان سے کہہ دو کہ میں ان سے بیزار ہوں اور وہ مجھ سے۔اللہ کی قسم ایسے لوگوں میں سے اگر کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو۔پھر وہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو اتنی دیر تک قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تقدیر پر ایمان نہیں لائے گا۔ پھر فرمانے لگے مجھے اپنے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہم ایک روز رسول اللہ کے پاس بیٹھے تھے ،اتنے میں ایک شخص نمودار ہوا۔جس کے کپڑے نہایت سفید تھے اور بال نہایت کالے تھے ، اس کے اوپر سفر کے آثار نہیں تھے اورنہ ہی ہم میں سے کوئی اس کو پہچانتا تھا۔یہاں تک کہ وہ آپ ﷺکے پاس بیٹھ گئے۔اور اپنے گھٹنے آپ ﷺ کے گھٹنوں سے ملا دئیے۔اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھے۔(جیسے شاگرد استاد کے سامنے بیٹھتا ہے)پھر کہنے لگا اے محمد ﷺ!مجھے اسلام کے بارے میں بتائیں کہ اسلام کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اسلام یہ ہے کہ آپ اس بات کی گواہی دے کہ کوئی سچا معبود نہیں ہے سوائے اللہ کے اور محمد ﷺاس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔اور نماز قائم کریں۔اور زکوٰۃ ادا کریں اور رمضان کے روزے رکھیں اور خانہ کعبہ کا حج کریں اگر آپ سے ہوسکے۔اس نے کہا آپ نے سچ کہا۔ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کررہا ہے اور خود ہی تصدیق کرتا ہے۔پھر اس نے کہا ایمان کیا ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا ایمان یہ ہے کہ آپ اللہ،او ر اس کے فرشتوں،کتابوں؛رسولوں؛اور آخرت کے دن پر ایمان لائیں۔اور ایمان لائیں تقدیر پر اچھا ہو یا برا (سب اللہ کی طرف سے ہے)اس نے کہا آپ نے سچ کہا۔ پھر وہ کہنے لگا مجھے احسان کے بارے میں بتائیں کہ احسان کیا ہے؟آپ ﷺنے فرمایا احسان یہ ہے کہ آپ اللہ کی عبادت اس طرح دل لگاکر کریں جیسے آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں ،اگر تو اس کو نہیں دیکھتا تو اتنا ہو کہ وہ آپ کو دیکھ رہاہے۔پھر اس نے کہا مجھے قیامت کے بارے میں بتائیں کہ وہ کب ہوگی؟ آپﷺنے فرمایا آپ جس سے پوچھتے ہو وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔وہ کہنے لگا مجھے اس کی نشانیاں بتلائیں؟ آپ ﷺنے فرمایا ایک نشانی یہ ہے کہ لونڈی اپنے مالک کو جنے گی۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ آپ ننگے بدن،بغیر جوتا،کنگال،اور چرواہے کو بڑی بڑی عمارتوں پر فخر کرتے دیکھیں گے۔راوی نے کہا وہ شخص چلا گیا ۔میں بڑی دیر تک ٹھہرا رہا۔اس کے بعد آپﷺنے مجھے فرمایا اے عمر ! آپ جانتے ہیں یہ سوال کرنے والا کون تھا؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔آپﷺنے فرمایا وہ جبریل علیہ السلام تھے آپ کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے؛؛ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ معرفة الْإِيمَانِ، وَالْإِسْلَامِ، والقَدَرِ وَعَلَامَةِ السَّاعَةِ؛جلد ١ ص ٣٦؛حدیث نمبر ١؛ (یہاں ایک خاص بات سمجھنے والی ہیکہ امام مسلم کے نام رضی اللہ عنہ لکھا ہوا جو اس بات کی دلیل ہیکہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ تمام اولیاء اللہ علماء کرام صالحین کو بھی رضی اللہ عنہ لکھ سکتے ہیں؛

كِتَابُ الْإِيمَانَ= بَابُ معرفة الْإِيمَانِ، وَالْإِسْلَامِ، والقَدَرِ وَعَلَامَةِ السَّاعَةِ=قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: «بِعَوْنِ اللهِ نَبْتَدِئُ، وَإِيَّاهُ نَسْتَكْفِي، وَمَا تَوْفِيقُنَا إِلَّا بِاللهِ جَلَّ جَلَالُهُ»حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ - وَهَذَا حَدِيثُهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ - أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ - فَقُلْنَا: لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ فِي الْقَدَرِ، فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلًا الْمَسْجِدَ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ، وَذَكَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ، وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ، وَأَنَّ الْأَمْرَ أُنُفٌ، قَالَ: «فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّي»، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ «لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَ اللهُ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ» ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ، وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: «مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ» قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا، قَالَ: «أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ»، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 1

۔یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے کہ جب معبد جہنی نے تقدیر کےبارے میں باتیں کرنا شروع کی۔ ہم نے اس کا انکار کیا پھر میں اور حمید حج کے لیے روانہ ہوگئے ۔۔۔آگے وہی حدیث ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے چند الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ۔ (کتاب الایمان؛بَابُ معرفة الْإِيمَانِ، وَالْإِسْلَامِ، والقَدَرِ وَعَلَامَةِ السَّاعَةِ؛جلد ١ ص ٣٨؛حدیث نمبر ٢؛؛؛

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: لَمَّا تَكَلَّمَ مَعْبَدٌ بِمَا تَكَلَّمَ بِهِ فِي شَأْنِ الْقَدَرِ أَنْكَرْنَا ذَلِكَ، قَالَ: فَحَجَجْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَجَّةً، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ كَهْمَسٍ وَإِسْنَادِهِ، وَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ وَنُقْصَانُ أَحْرُفٍ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 2

۔یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ ہم عبد اللہ بن عمر سے ملے اور ہم نے ان سے تقدیر کے مسئلہ کا ذکر کیا اور ان باتوں کا بھی جو لوگ اس کے بارے میں کررہے تھے توانہوں نے یہی حدیث بیان کی جو گذر چکی ہے(حدیث نمبر ١ میں)چند الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ۔۔ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ معرفة الْإِيمَانِ، وَالْإِسْلَامِ، والقَدَرِ وَعَلَامَةِ السَّاعَةِ؛ج:١۔ص:٣٨؛حدیث نمبر ٣؛؛

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا: لَقِينَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ، وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ، فَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ كَنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ شَيْءٌ مِنْ زِيَادَةٍ وَقَدْ نَقَصَ مِنْهُ شَيْئًا.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 3

۔اس سند سے بھی) حدیث نمبر ١)مروی ہے (مسلم شریف کتاب الایمان۔بَابُ معرفة الْإِيمَانِ، وَالْإِسْلَامِ، والقَدَرِ وَعَلَامَةِ السَّاعَةِج:١۔ص٣٨؛حدیث نمبر ٤؛؛

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 4

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا یارسول اللہ ! ایمان کسے کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تو یقین کرے دل سے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس سے ملنے پر اور اس کے پیغمبروں پر اور یقین کرے قیامت میں زندہ ہونے پر۔ پھر وہ شخص بولا کہ یارسول اللہ ﷺ! اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو اللہ جل جلالہ کی عبادت کرےاور اس کیساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور فرض نماز کو قائم کرے اور فرض زکوٰۃ دے اور رمضان کےروزے رکھے ۔ پھر وہ شخص بولا یارسول اللہ ﷺ! احسان کسے کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو عبادت کرے اللہ کی جیسے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر تو اس کو نہیں دیکھتا (یعنی توجہ کا یہ درجہ نہ ہو سکے )تو اتنا تو ہو کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ شخص بولا یارسول اللہﷺ ! قیامت کب ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہو وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن اس کی نشانیاں میں تجھ سے بیان کرتا ہوں کہ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب ننگے بدن ننگے پاؤں پھرنے والے لوگ سردار بنیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب بکریاں یا بھیڑیں چرانے والے بڑی بڑی عمارتیں بنائیں تو یہ بھی قیامت کی نشانی ہے۔ اور یہ علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی(بذات خود)نہیں جانتا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی کہ ''اللہ ہی جانتا ہے قیامت کو اور وہی اتارتا ہے پانی کو اور جانتا ہے جو کچھ ماں کے رحم میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس ملک میں مرے گا۔ اللہ ہی جاننے والا اور خبردار ہے'' (لقمان: آیت ٣٤) پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو پھر واپس لے آؤ۔ لوگ اس کو لینے چلے لیکن وہاں کچھ نہ پایا (یعنی اس شخص کا نشان بھی نہ ملا) تب آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، تم کو دین کی باتیں سکھلانے آئے تھے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابٌ: الْإِيمَانُ مَا هُوَ وَبَيَانُ خِصَالِهِ؛یعنی باب ہے ایمان کے خصائص کے متعلق؛ج:١۔ص:٣٩؛حدیث نمبر ٥؛؛

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولُ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: «الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللهَ، وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهَ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّهَا، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا كَانَتِ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ، ثُمَّ تَلَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّ اللهِ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: ٣٤] " قَالَ: ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ»، فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ، فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 5

یہ حدیث) نمبر ٥)اس سند سے بھی مروی ہے اور اس میں ”رب“کے بجائے ”بعل “کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں (مسلم شریف کتاب الایمان ۔بَابٌ: الْإِيمَانُ مَا هُوَ وَبَيَانُ خِصَالِهِ؛ج:١۔ص٣٩؛حدیث نمبر ٦؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَتِهِ: «إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ بَعْلَهَا» يَعْنِي السَّرَارِيَّ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 6

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مجھ سے (دین کی باتیں) پوچھو۔ لوگ آپﷺسے سوال کرنے سے ڈر گئے۔اتنے میں ایک آدمی آیا اور آپ ﷺکے گھٹنوں کے پاس بیٹھ گئے اور بولا یا رسول اللہ !اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے ۔وہ کہنے لگا آپ نے سچ کہا۔ پھر اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! ایمان کیا ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتاب پر اور اس سے ملنے پر اور اس کے رسولوں پر یقین کرے۔اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر یقین کرے ، اور پوری تقدیر پر یقین کرے ۔وہ کہنے لگا آپ نے سچ کہا ۔پھر اس نے کہا یا رسول اللہ ! احسان کیا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا تم اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے آپ اس کو دیکھ رہے ہیں اگر آپ اس کو نہیں دیکھتے تو اتنا تو ہے کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔اس نے کہا آپ نے سچ کہا ۔ پھر اس نے کہا قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جس سے آپ پوچھتے ہیں وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتے۔البتہ میں آپ سے اس کی نشانیاں بیان کرتا ہوں ۔ جب لونڈی کو دیکھے کہ وہ اپنے مالک کو جنے تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب آپ ننگے پاؤں،ننگے بدن،گوناگوں اور بہروں (احمق اور نادانوں کو)کو دیکھے وہ ملک کے بادشاہ ہیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے۔اور جب آپ بکریاں چرانے والوں کو بڑی بڑی عمارتیں بناتے دیکھے تو یہ قیامت کی نشانی ہے؛ اور وقوع۔قیامت کا علم اس غیب کی پانچ باتوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو(بذات خود)معلوم نہیں ہے۔پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی؛ان اللہ عندہ علم الساعۃ آخر تک پڑھی ۔یعنی اللہ کے پاس قیامت کا علم اور وہ بارش برساتا ہے اور جو ماں کے پیٹ میں ہے اس کو جانتا۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس ملک میں مرے گا۔ پھر وہ شخص اٹھ کے چلا گیا ۔آپﷺنے فرمایا اس کو میرے پاس بلاؤ ، لوگوں نے ڈھونڈا تو کسی جگہ نہیں پایا ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا یہ جبریل تھے جب تم نے سوال نہیں کیا تو جبریل نے چاہا کہ تم کوعلم کی کچھ باتیں حاصل ہو (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ الْإِسْلَامِ مَا هُوَ وَبَيَانُ خِصَالِهِ۔یعنی اسلام کے خصائص کے متعلق یہ باب ہے؛ ج:١۔ص:٤٠؛حدیث نمبر ٧؛؛؛

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلُونِي»، فَهَابُوهُ أَنْ يَسْأَلُوهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَجَلَسَ عِنْدَ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: «لَا تُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تَخْشَى اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»، قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ قَالَ: " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا رَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكْمَ مُلُوكَ الْأَرْضِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا رَأَيْتَ رِعَاءَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ "، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللهِ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: ٣٤] قَالَ: ثُمَّ قَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوهُ عَلَيَّ»، فَالْتُمِسَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا جِبْرِيلُ، أَرَادَ أَنْ تَعَلَّمُوا إِذْ لَمْ تَسْأَلُوا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 7

نمازوں کا بیان جو ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے۔ (پھر امام مسلم یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ)حضرت ابو سہیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے سنا کہ نجد والوں میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺکے پاس آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔اس کی آواز کی گنگناہٹ ہم سن رہے تھے لیکن سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کہتا ہے یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺکے قریب آیا ۔ تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں ہیں ۔ وہ کہنے لگا ان کے سوا میرے اوپر اور کوئی نماز ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا نہیں مگر یہ کہ آپ نفل پڑھنا چاہے ۔اور رمضان کے روزے ہیں۔وہ کہنے لگا مجھ پر رمضان کے سوا اور کوئی روزہ ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا نہیں مگر یہ کہ آپ نفل روزہ رکھنا چاہے ۔ پھر آپﷺنے ا س سے زکاۃکا بیان کیا۔وہ کہنے لگا مجھ پر اس کے سوا اور کوئی چیز ہے ؟ آپﷺنے فرمایا نہیں مگر یہ کہ آپ نفل ثواب کے لیے صدقہ دینا چاہے۔ راوی نے کہا پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا اللہ کی قسم میں نہ ان سے زیادہ کروں گا نہ ان میں کمی کروں گا۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اگر یہ سچاہے تو کامیاب ہوا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ بَيَانِ الصَّلَوَاتِ الَّتِي هِيَ أَحَدُ أَرْكَانِ الْإِسْلَامِ-جلد:١ ۔ص نمبر:٤٠؛حدیث نمبر ٨؛

بَابُ بَيَانِ الصَّلَوَاتِ الَّتِي هِيَ أَحَدُ أَرْكَانِ الْإِسْلَامِ=حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّأْسِ، نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ، وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ، وَاللَّيْلَةِ» فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ»، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ فَقَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ»، وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ»، قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 8

طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ وہ نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں؛دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے جیسے اوپر گزری،(یعنی حدیث نمبر ٨ میں پس)اتنا فرق ہے کہ جب اس شخص نے کہا قسم اللہ کی میں اس میں کمی بیشی نہیں کروں گا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا اس شخص نے نجات پائی قسم اس کے باپ کی اگر سچا ہے۔ یا جنت میں جائے گا قسم اس کے باپ کی اگر سچا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ بَيَانِ الصَّلَوَاتِ الَّتِي هِيَ أَحَدُ أَرْكَانِ الْإِسْلَامِ؛ج:١۔ص:٤١۔حدیث نمبر ٩؛

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 9

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسےسوال پوچھنے سے ہم منع کئے گئے تھے ۔تو ہم پسند کرتے تھے کہ گاؤں سے کوئی سمجھدار شخص آئے اور آپﷺسے سوال پوچھےاور ہم سنیں۔اتنے میں دیہات سے ایک شخص آیا اور کہنے لگا اے محمد ﷺ!آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا آپﷺکہتے ہیں کہ اللہ نے آپﷺکو رسول بنا کر بھیجاہے ۔آپﷺنے فرمایا اس نے سچ کہا۔ وہ شخص کہنے لگا آسمان کس نے پیدا کیا ؟آپﷺنے فرمایا اللہ نے ۔ پھر اس نے کہا پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا ؟ آپﷺنے فرمایا اللہ نے ۔ پھر اس نے کہا پہاڑوں کو کس نے کھڑا کیا اور ان میں جو چیزیں ہیں وہ کس نے پیدا کیں؟آپﷺنے فرمایا اللہ نے ۔ تب اس شخص نے کہا قسم ہے اس کی جس نے آسمان کوپیدا کیا اور زمین بنائی اور پہاڑوں کو کھڑا کیا ، کیا اللہ تعالیٰ نے سچ مچ آپ کو رسول بنا کر بھیجا؟آپﷺنے فرمایا ہاں۔ پھر وہ شخص کہنے لگا آپ کے قاصد نے ہم سے کہا کہ ہم پر دن او رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔آپﷺنے فرمایا اس نے سچ کہا۔ وہ شخص کہنے لگا قسم ہے اس کی جس نے آپﷺکو رسول بنا کر بھیجا، کیا اللہ نے آپ کو ان نمازوں کا حکم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ پھر وہ شخص کہنے لگا آپ کے قاصد نے کہا کہ ہم پر ہمارے مالوں کی زکاۃ ہے آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا وہ شخص کہنے لگا قسم اس کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، کیا اللہ نے آپﷺکو زکاۃ کا حکم کیا ہے آپﷺنے فرمایا ہاں ۔ پھر وہ شخص کہنے لگا آپﷺکے قاصد نے کہا ہم پر ہر سال رمضان کے روزے فرض ہیں آپ ﷺنے فرمایا اس نے سچ کہا ۔ وہ شخص کہنے لگا قسم اس کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا؛ کیا اللہ نے آپ کو ان روزوں کا حکم دیا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا ہاں ۔ پھر وہ شخص کہنے لگا آپ کے قاصد نے کہا کہ ہم پر بیت اللہ کا حج فرض ہے جو اس کی طرف راہ پاسکتے ہوں۔(استطاعت رکھتے ہوں)آپﷺنے فرمایا اس نے سچ کہا ۔ یہ سن کر وہ شخص پیٹھ موڑ کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا قسم ہے اس کی جس نے آپﷺکو سچا پیغمبر بناکر بھیجا ، میں ان باتوں میں کمی بیشی نہیں کروں گا ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں جائے گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابٌ فِي بَيَانِ الْإِيمَانِ بِاللهِ وَشَرَائِعِ الدِّينِ یعنی ارکان اسلام کے بارے میں سوال ج:١۔ص:٤١؛حدیث نمبر ١٠؛؛؛

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ، فَيَسْأَلَهُ، وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ: «صَدَقَ»، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ: «اللهُ»، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: «اللهُ»، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ؟ قَالَ: «اللهُ»، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ، وَخَلَقَ الْأَرْضَ، وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا، وَلَيْلَتِنَا، قَالَ: «صَدَقَ»، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا، قَالَ: «صَدَقَ»، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا، قَالَ: «صَدَقَ»، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ: «صَدَقَ»، قَالَ: ثُمَّ وَلَّى، قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 10

ایک دوسری سند سے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں قرآن میں ہمیں نبی اکرمﷺسے سوال کرنے سے منع کیا گیا تھا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں باقی حدیث وہی(حدیث نمبر ١٠ کی طرح) ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابٌ فِي بَيَانِ الْإِيمَانِ بِاللهِ وَشَرَائِعِ الدِّينِ؛ج:١۔ص:٤٢؛حدیث نمبر ١١؛؛

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: كُنَّا نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 11

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں جارہے تھے اتنے میں ایک دیہاتی سامنے آیا اور آپﷺکی اونٹنی کی رسی یا نکیل پکڑ کر کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ!یا یوں کہا یا محمدﷺ!مجھے وہ چیز بتلائیے جو مجھے جنت کی نزدیک اور جہنم سے دور کرے ؟ آپﷺیہ سن کر رک گئے اور اپنے اصحاب کی طرف دیکھا ، پھر فرمایا اس کی توفیق دی گئی یا ہدایت کی گئی۔آپﷺنے فرمایا تو نے کیا کہا؟ اس نے پھر وہی کہا (یعنی مجھے وہ بات بتلائے جوجنت کے نزدیک کرے اور جہنم سے دور کردے) تب رسول اللہ ﷺنے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور نماز کو قائم کرو، اور زکاۃ دو ،اور رشتے ناتے کو جوڑو(رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو) اور اونٹی کو چھوڑدے۔ (کیونکہ اب تیرا کام ہوگیا؛ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ بَيَانِ الْإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ؛یعنی اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخلےکا سبب بنے گا ، اور جس نے احکام پر عمل کیا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ج:١۔ص:٤٢؛حدیث نمبر ١٢؛؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ - أَوْ بِزِمَامِهَا ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ - أَوْ يَا مُحَمَّدُ - أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَا يُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَكَفَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَظَرَ فِي أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ وُفِّقَ، أَوْ لَقَدْ هُدِيَ»، قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَأَعَادَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، دَعِ النَّاقَةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 12

ایک اور سند سے بھی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس(حدیث نمبر ١٢) کی مثل حدیث روایت کرتے ہیں (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ بَيَانِ الْإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ۔ج:١۔ص:٤٣؛حدیث نمبر ١٣؛؛؛

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَبُوهُ عُثْمَانَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 13

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کےپاس آکر کہنے لگا مجھے کوئی ایسا کام بتلائیے جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کردے؟آپﷺنے فرمایا وہ کام یہ ہے کہ آپ اللہ کی عبادت کرے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرے ۔ اور نماز قائم کرے اورزکاۃدے اور رشتے ناتے کو جوڑے؛ جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو آپﷺنے فرمایا اگر یہ ان باتوں پر چلا جن کا حکم کیا گیا ،یا میں نے جن کا حکم کیا تو جنت میں جائے گا۔ایک روایت میں صرف یہ ہے کہ اگر اس نے مضبوطی سے اختیار کیا ("جس کااسےحکم دیاگیا" کےالفاظ نہیں ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ بَيَانِ الْإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ج:١۔ص:٤٣؛حدیث نمبر ١٤؛؛؛

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْنِينِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ ذَا رَحِمِكَ» فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللهَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ إِنْ تَمَسَّكَ بِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 14

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔یا رسو ل اللہ! ﷺمجھے بتلائیے کوئی ایسا کام جس کے کرنے سے میں جنت میں چلا جاؤں ؟ آپﷺنے فرمایا وہ کام یہ ہے کہ آپ اللہ کی عبادت کرے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اورفرض نمازقائم کرے-اورفرض زکاۃ دے، اور رمضان کے روزے رکھے۔وہ شخص کہنے لگا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اس میں(بطورفرض)کمی بیشی نہیں کروں گا۔ تب وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا اور آپﷺنے فرمایا جو جنتی کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھے (مسلم شریف کتاب الایمان ۔بَابُ بَيَانِ الْإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ج :١ ۔ص:٤٤؛حدیث نمبر ١٥؛؛

وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولِ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ»، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا أَبَدًا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنَّ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 15

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ!آپ کا کیا خیال ہے۔جب میں فرض نماز ادا کر لوں۔حرام کو حرام اور حلال کو حلال سمجھوں توکیامیں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپﷺنےفرمایا ہاں(داخل ہو جاؤ گے) (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ بَيَانِ الْإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ج:١۔ص:٤٤؛حدیث نمبر ١٦؛؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَةَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 16

ایک دوسری سند سے بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بعد پہلی حدیث(نمبر ١٦)کی طرح ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ اس پر کوئی اضافہ نہ کروں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ بَيَانِ الْإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ج:١ ۔ص:٤٤؛حدیث نمبر ١٧؛؛

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَأَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِمِثْلِهِ، وَزَادَا فِيهِ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 17

۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺسے پوچھا میں اگر فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال سمجھوں اور حرام کو حرام ، اس سے زیادہ کچھ نہ کروں تو جنت میں جاؤں گا ؟ آپﷺنے فرمایا ہاں ۔ وہ شخص کہنے لگا اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ بَيَانِ الْإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ج:١۔ص:٤٤؛حدیث نمبر ١٨؛؛

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَاللهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 18

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺسے سنا آپﷺنے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اللہ تعالیٰ کو ایک ماناجائے (یعنی توحید کا اقرار کرنا ) اورنماز قائم کرنا ، زکاۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا ، حج ادا کرنا ، ایک شخص کہنے لگا ”حج او ررمضان کے روزے“ (حج کو پہلے بیا ن کیا گیا اور روزوں کو بعد میں )۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں، رمضان کے روزے اور حج ،اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی الاسلام علی خمس؛ جلد:١ص نمبر٤٥؛ حدیث نمبر ١٩؛؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الْأَحْمَرَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسَةٍ، عَلَى أَنْ يُوَحَّدَ اللهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَالْحَجِّ»، فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَجُّ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، قَالَ: «لَا، صِيَامُ رَمَضَانَ، وَالْحَجُّ» هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 19

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔اللہ تعالی کی عبادت کی جائےاور اس کے سوا تمام جھوٹے معبودوں کا انکار کیا جائے،نماز قائم کرنا،زکاۃدینا، بیت اللہ شریف کاحج کرنا،اور رمضان کے روزے رکھنا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی الاسلام علی خمس؛ جلد:١ص نمبر٤٥؛حدیث نمبر ٢٠""

وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ السُّلَمِيُّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، عَلَى أَنْ يُعْبَدَ اللهُ، وَيُكْفَرَ بِمَا دُونَهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 20

حضرت عاصم (جو محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے بیٹے ہیں)وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺاس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اورنماز قائم کرنا، زکاۃ دینا،خانہ کعبہ کا حج کرنا،اور رمضان کے روزے رکھنا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی الاسلام علی خمس؛جلد:١ص نمبر٤٥؛ حدیث نمبر ٢١"

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 21

حضرت حنظلہ فرماتے ہیں میں نےحضرت عکرمہ بن خالد سےسنا۔وہ حضرت طاؤس سے روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے کہا کہ تم جہاد کیوں نہیں کرتے؟انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ سے سنا آپ ﷺفرماتےتھے اسلام کے پانچ ستون ہیں۔اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔نماز قائم کرنا،زکاۃ دینا،رمضان کے روزے رکھنا اور خانہ کعبہ کا حج کرنا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی الاسلام علی خمس؛ جلد:١ص نمبر٤٥؛ حدیث نمبر٢٢ ؛؛؛

وحَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ، يُحَدِّثُ طَاوُسًا، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: أَلَا تَغْزُو؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ الْبَيْتِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 22

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عبد القیس کا وفد رسول اللہ ﷺکے پاس آیا اور کہا؛ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ربیعہ کے قبیلہ میں سے ہیں ہمارے اور آپﷺکے درمیان میں مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم آپ تک نہیں آسکتےمگرحرمت والے مہینوں میں ہی(اس سبب)۔آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتلائیں جس پر ہم عمل کریں اور لوگوں کوبھی اس طرف بُلائیں۔آپﷺنےفرمایا میں آپ کو چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔اس چیز کی گواہی دو کہ اللہ کےسوا کوئی معبود برحق نہیں ہے،اور محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں۔اور نماز قائم کرو،اور زکاۃ ادا کرو۔مال غنیمت کاخمس (پانچواں حصہ)اداکرو۔اور میں منع کرتاہوں دباء (یعنی کدوکے برتن )سے،حنتم(سبز گھڑے)سے، نقیر(لکڑی کے کھودےہوئے برتن)سے،مقیر (تارکول چڑھایا ہوابرتن)سے۔خلف بن ہشام نے اپنی روایت میں اتنا زیادہ کیا ہے کہ آپﷺنے اپنی انگلی مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سواکوئی سچا معبود نہیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الامرباالایمان باللہ ورسولہ، وشرائع الدین،والدعاءالیہ؛ جلد:١ص نمبر٤٦؛ حدیث نمبر ٢٣؛؛

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا، وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانِ بِاللهِ "، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ، فَقَالَ: «شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنَّ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ» زَادَ خَلَفٌ فِي رِوَايَتِهِ: «شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»، وَعَقَدَ وَاحِدَةً

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 23

حضرت ابوجمرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کےسامنے ان کے اورلوگوں کےدرمیان مترجم تھا،اتنے میں ایک عورت آئی جو آپ رضی اللہ عنہ سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں پوچھتی تھی۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نےکہا عبدالقیس کاوفدرسول اللہ ﷺکے پاس آیا اور آپﷺنے پوچھا یہ وفد کون ہیں یا یہ کس قوم کے لوگ ہیں؟ تو؛لوگوں نے کہا یہ ربیعہ کے قبیلہ سے ہیں۔آپ نے اس قوم یا وفد کو خوش آمدید کہا،اور کہا نہ انہیں ذلت ہو اور نہ ہی ندامت (یعنی ان کا آنا بہت خوب ہے، لڑائی کے بغیر خود مسلمان ہونے کے لیے آئے،اگر لڑائی کے بعد مسلمان ہوتےتووہ رسواہوتے، لونڈی غلام بنائےجاتے،مال لٹ جاتا تو شرمندہ ہوتے)ان لوگوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ!ہم آپﷺکےپاس دوردرازسےسفر کرکے آئے ہیں،ہمارےاور آپﷺکے درمیان یہ مضر کے کافروں کا قبیلہ ہے،ہم حرمت والے مہینے میں ہی آپ کے پاس آسکتے ہیں۔اس لیے ہمیں آپ ایسی واضح بات بتائیں جس کی خبر ہم اپنے پچھلے لوگوں کوبھی دیں(جو یہاں نہیں آسکے ہیں)اور اس کے سبب ہم جنت میں داخل ہوجائیں۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتےہیں کہ آپﷺنے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے منع فرمایا۔ان کو حکم کیا اللہ کی توحید پر ایمان لانے کا اور ان سے پوچھا کہ جانتے ہو ایمان کیا ہے؟انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔آپ ﷺنے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺاس کے رسول ہیں۔نماز کا قائم کرنا، زکاۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا۔اور غنیمت کے مال میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا۔اور ان کو منع فرمایا کدو کے برتن سے،روغنی گھڑے سے،اور تارکول چڑھایا ہوا برتن سے۔ شعبہ نے کبھی یوں کہا ”اور نقیر سے اور کبھی کہا مقیر سے“اور فرمایا ان کو یاد رکھواور ان باتوں کی خبر ان لوگوں کو بھی دوجوتمہارے پیچھے ہیں۔ابو بکربن ابی شیبہ نے مَنْ وراءَکم کہا مِنْ ورائکم کے بدلے،اور مطلب دونوں کا ایک ہےاور ان کی روایت میں مقیرکاذکرنہیں ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الامرباالایمان باللہ ورسولہ،وشرائع الدین،والدعاء الیہ؛ جلد:١ص نمبر٤٧؛ حدیث نمبر ٢٤؛؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ أَبُو بَكْرِ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ يَدَيِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَبَيْنَ النَّاسِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ الْوَفْدُ؟ أَوْ مَنِ الْقَوْمُ؟»، قَالُوا: رَبِيعَةُ، قَالَ: «مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ، أَوْ بِالْوَفْدِ، غَيْرَ خَزَايَا، وَلَا النَّدَامَى»، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيكَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، قَالَ: «أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللهِ وَحْدَهُ»، وَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللهِ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنَّ تُؤَدُّوا خُمُسًا مِنَ الْمَغْنَمِ»، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ - قَالَ شُعْبَةُ: وَرُبَّمَا قَالَ - النَّقِيرِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَرُبَّمَا قَالَ: الْمُقَيَّرِ، وَقَالَ: «احْفَظُوهُ، وَأَخْبِرُوا بِهِ مِنْ وَرَائِكُمْ» وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: «مَنْ وَرَاءَكُمْ»، وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ الْمُقَيَّرُ.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 24

دوسری روایت بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح ہے(حدیث نمبر ٢٤ کی طرح ہے لیکن)-اس میں یہ ہےکہ میں تم کومنع کرتاہوں اس نبیذسےجوبھگوئی جائےکدوکےبرتن میں،لکڑی کے بنائےہوئے برتن میں،روغنی برتن میں،اور تارکول چڑھائے ہوئے برتن میں۔ابن معاذ نے اپنی روایت میں اپنے باپ سے اتنا زیادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺعبد القیس کے اشج سے(جس کا نام منذر بن حارث تھا)فرمایا تجھ میں دو عادتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ایک توعقل مندی،دوسری سوچ سمجھ کر کام کرنا،جلدی نہ کرنا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الأمرباالایمان باللہ ورسولہ،وشرائع الدین،والدعاء الیہ؛جلد:١ص نمبر٤٨؛حدیث نمبر٢٥""

وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَقَالَ: «أَنْهَاكُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ» وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ. قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 25

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے اس شخص نے یہ روایت بیان کی جو اس وفد سے ملا جو رسول اللہ ﷺکے پاس آیا تھا۔عبد القیس کے قبیلہ میں سے،سعیدنےکہا قتادہ نےابو نضرہ کا نام لیا انہوں نےابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے سنا،تو قتادہ رضی اللہ عنہ نےاس حدیث کو ابونضرہ سےسناانہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہ کچھ لوگ عبد القیس کے رسول اللہﷺکے پاس آئےاور کہنے لگے اے اللہ کے نبی ہم ربیعہ خاندان کے ایک قبیلہ سے ہیں ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافر حائل ہیں ہم حرمت کے مہینوں میں ہی آسکتے ہیں۔اس لیے ہمیں کوئی ایسا حکم کیجئے جو ہم اپنے پیچھے رہنے والوں کو بتلائیں اور اس کے سبب ہم جنت میں داخل ہوجائیں اگر ہم اس پر عمل کریں۔آپ ﷺنے فرمایا میں تمہیں چار چیزوں کاحکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو،رمضان کے روزے رکھو،مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرو۔اور میں آپ کو چار چیزوں سے منع کرتا ہوں دباء (یعنی کدو کے برتن )سے،حنتم (روغنی گھڑے)سے،نقیر(لکڑی کےکھودےہوئےبرتن)سے،مزفت (تارکول چڑھایا ہوا برتن)سے۔لوگوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ!نقیر آپﷺجانتے ہیں آپ ﷺنے فرمایا کیوں نہیں جانتا،نقیر ایک لکڑی ہے جس کو تم کھرچتے ہو،پھر اس میں ایک چھوٹی کجھور کوبھگوتےہو،سعید نے کہا یاتم بھگوتے ہو۔پھر اس میں پانی ڈالتے ہو جس سے اس کا جوش تھم جاتا ہے۔پھر اس کو پیتے ہویہاں تک کہ ایک تم میں اپنےچچا کےبیٹےکو تلوار سے مارتا ہے۔(نشہ میں آکر جب عقل جاتی رہتی ہے تو دوست دشمن کی شناخت نہیں رہتی)راوی نے کہا ہمارے لوگوں میں اس وقت ایک شخص موجود تھا جس کا نام جہم تھا)اس کو اسی نشہ کی بدولت ایک زخم لگ چکا تھا،اس نے کہا کہ لیکن میں شرم کی وجہ سے اس کورسول اللہ ﷺسے چھپاتا تھا۔میں نے کہا یارسول اللہﷺپھر کس برتن میں ہم شربت پئیں؟آپﷺنے فرمایا چمڑے کے برتنوں میں (مشکوں) میں جن کا منہ باندھا جاتا ہے۔لوگوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ ہمارے ملک میں چوہے بہت زیادہ ہیں وہاں چمڑے کے برتن نہیں رہ سکتے۔آپﷺ نے فرمایا چمڑے کے برتنوں میں پیو اگرچہ چوہے ان کو کاٹ ڈالیں۔(یعنی جس طرح بھی ہوسکے چمڑے ہی کے برتن میں پیو، چوہوں سے حفاظت کرو لیکن ان برتنوں میں پینا درست نہیں کیونکہ وہ شراب کے برتن ہیں)راوی نے کہا رسول اللہ ﷺنے عبد القیس کے اشج سے فرمایا تجھ میں دوخصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے،ایک تو عقلمندی، دوسری سمجھ سے کام کرناجلدی نہ کرنا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الأمرباالایمان باللہ ورسولہ، وشرائع الدین،والدعاء الیہ؛جلد:١ص نمبر٤٨؛حدیث نمبر٢٦؛؛

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ سَعِيدٌ: وَذَكَرَ قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ هَذَا: أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْمُرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: اعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، وَصُومُوا رَمَضَانَ، وَأَعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ " قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ؟ قَالَ: " بَلَى، جِذْعٌ تَنْقُرُونَهُ، فَتَقْذِفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ - قَالَ سَعِيدٌ: أَوْ قَالَ: مِنَ التَّمْرِ - ثُمَّ تَصُبُّونَ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ، أَوْ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ " قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ كَذَلِكَ قَالَ، وَكُنْتُ أَخْبَؤُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «فِي أَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَرْضَنَا كَثِيرَةُ الْجِرْذَانِ، وَلَا تَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الْأَدَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ» قَالَ: وَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 26

حضرت سعید رضی اللہ عنہ ،حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ۔وہ فرماتے ہیں مجھ سے ایسے کئی لوگوں نے بیان کیا جنہوں نے اس وفد سےملاقات کی اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے ابو نضرہ سے بیان کیا کہ عبد القیس کا وفد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔پھر انہوں نے گزشتہ حدیث(حدیث نمبر ٢٦)کی مثل ذکر کیا البتہ اس میں (قطيعاءکی بجائے) تزیفون کا لفظ ہے کہ تم اس میں چھوٹی کھجوریں،چھوہارے اور پانی ڈالتے ہو۔اس روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں"کہ حضرت سعید نے فرمایا من التمر (کھجوروں سے) فرمایا" ۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الأمرباالایمان باللہ ورسولہ، وشرائع الدین،والدعاء الیہ؛جلد:١ص نمبر٤٩؛حدیث نمبر ٢٧""

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ لَقِيَ ذَاكَ الْوَفْدَ، وَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ «وَتَذِيفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ، أَوِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ»، وَلَمْ يَقُلْ: قَالَ سَعِيدٌ، أَوْ قَالَ مِنَ التَّمْرِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 27

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ عبد القیس کاوفد جب رسول اللہ ﷺکے پاس آیا تو کہنے لگا اے اللہ کے نبی!اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کریں۔کونسی شراب ہمارےلیے درست ہے؟آپ ﷺنے فرمایا نقیر میں نہ پیو۔انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ!اللہ ہمیں آپﷺ پر فدا کرے کیا آپ نقیر کوجانتے ہیں؟ آپﷺنےفرمایا نقیر ایک لکڑی ہے جس کو درمیان میں کھود کر گڑھا بنالیا جاتاہے۔اور نہ پیو کدو کے برتن میں،اور نہ ہی روغنی برتن میں،بلکہ چمڑے کےان مشکوں میں پیو جن کا منہ ڈوری یا تسمہ سےبندھا ہوتا ہے (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الأمرباالایمان باللہ ورسولہ، وشرائع الدین،والدعاء الیہ؛جلد:١ص نمبر٥٠؛حدیث نمبر٢٨""

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ، أَخْبَرَهُ وَحَسَنًا، أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، جَعَلَنَا اللهُ فِدَاءَكَ مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الْأَشْرِبَةِ؟ فَقَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ»، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، جَعَلَنَا اللهُ فِدَاءَكَ، أَوَ تَدْرِي مَا النَّقِيرُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَى»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 28

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ نے (یمن کی طرف حاکم بناکر )بھیجا تو فرمایا تم ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں ان کو اللہ کی توحید اور میری رسالت کی گواہی کی دعوت دینا اگر انہوں نے اس کو مان لیا،تو انہیں بتادیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔اگر انہوں نے اس کو مان لیا،توانہیں بتادیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے۔جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی،اور انہی کے فقیروں اور محتاجوں کو دی جائے گی۔اگر وہ اس بات کو مان لیں تو ان کے عمدہ مال کو ہرگز نہیں لینا(یعنی زکاۃ میں درمیانی جانور لینا،عمدہ دودھ والا اور موٹا تازہ جانور نہیں لینا)۔اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ مظلوم کی بددعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الدعاء الی الشهادتين وشرائع الاسلام؛جلد:١ص نمبر٥٠؛حدیث نمبر٢٩؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رُبَّمَا قَالَ وَكِيعٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاذًا، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 29

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا عنقریب تم ایک قوم کے پاس جاؤ گے۔آگے پہلے حدیث کی مثل ہے۔(یعنی حدیث نمبر ٢٩ کے مثل ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الدعاء الی الشهادتين وشرائع الاسلام؛جلد:١ص نمبر٥١؛حدیث نمبر٣٠"

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 30

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنےجب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔پس تم سب سے پہلے ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلانا جب وہ اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل کر لیں تو ان کو بتانا اللہ تعالی نے دن رات میں ان پرپانچ نمازيں فرض کیں ہیں،اگروہ اسے تسلیم کرلیں توپھرانہیں یہ بتانا کہ اللہ تعالی نے ان پرزکاۃ فرض کی ہے جومالداروں سےلے کر غرباومساکین کودی جائےگی۔جب وہ یہ بھی مان لیں تو ان سے زکاۃ لے،لیکن عمدہ اور نفیس مالوں کو(زکاۃ میں)لینے سےگریز کریں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الدعاء الی الشهادتين وشرائع الاسلام؛جلد:١ص نمبر٥١؛حدیث نمبر٣١"

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: «إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا عَرَفُوا اللهَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا، فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 31

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺکا وصال ہوااور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے لوگ جو کافر ہونے تھے وہ کافر ہوگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا تم ان لوگوں سےکیونکر لڑوگے حالانکہ رسول اللہﷺنے فرمایا ہے مجھےلوگوں سے لڑنے کا حکم ہوایہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں، پھر جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس نے مجھ سے اپنے مال اور جان کو بچا لیامگر اسلام کا حق باقی ہےاوراس کاحساب اللہ پرہے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم میں تو لڑوں گا اس شخص سے جو نمازاور زکاۃ میں فرق کرے گااس لئے کہ زکاۃ مال کا حق ہے۔اللہ کی قسم اگر وہ ایک عقال(اونٹ کا گھٹنا باندھنے والی رسی) روکیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھےتومیں ان سےاس کے نہ دینے پر لڑوں گا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم!میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نےحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سینہ جہاد کے لیے کھول دیا تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الامربقتال الناس حتیٰ یقولوا:لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ؛جلد:١ص نمبر٥١؛حدیث نمبر٣٢""

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ، وَنَفْسَهُ، إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَوَاللهِ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 32

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایامجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم ہوا ہے۔یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں پھر جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس نے مجھ سے اپنے مال و جان کو بچالیا مگر اسلام کا حق باقی ہے اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الامربقتال الناس حتیٰ یقولوا:لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ؛جلد:١ص نمبر٥٢؛حدیث نمبر٣٣""

وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى - قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 33

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم ہوا ہے۔یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔اور مجھ پر ایمان لائیں(کہ میں اللہ کا رسول ہوں)اور اس پر جس کو میں لیکر آیا ہوں (یعنی قرآن پر)جب وہ ایسا کریں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے مال و جان کو بچالیا مگر اسلام کا حق باقی ہے اور اس کاحساب اللہ پر ہے (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الامربقتال الناس حتیٰ یقولوا:لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ؛جلد:١ص نمبر٥٢؛حدیث نمبر٣٤؛؛

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنِ الْعَلَاءِ، ح وحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي، وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 34

ایک دوسری سند سے بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سےلڑوں۔آگے حدیث ٣٤کی مثل ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الامربقتال الناس حتیٰ یقولوا:لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ؛جلد:١ص نمبر٥٢؛حدیث نمبر٣٥"

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ. وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ» بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ "، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ}

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 35

حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم ہوا ہے۔یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں پھر انہوں نے لا الہ الا اللہ کہا تو مجھ سے اپنے مال و جان کو بچالیاالبتہ ان کا حق باقی ہےاور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ پھر آپﷺنے یہ آیت پڑھی "إنما أنت مذکر ، لست علیہم بمصیطر"(سورہ غاشیہ؛ آیت نمبر:٢١)"آپ تو صرف یاد دلانے والے ہیں، آپ ان پر نگراں نہیں ہیں" ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الامربقتال الناس حتیٰ یقولوا:لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ؛جلد:١ص نمبر٥٢؛حدیث نمبر٣٦"

وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ "، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ}

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 36

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنےفرمایامجھے لوگوں سے لڑنےکاحکم ہواہے۔یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں۔اور محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں اور نماز کو قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں،جب وہ ایسا کریں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے مال و جان کو بچالیاالبتہ ان کاحق ہےاور ان کا حساب اللہ پر ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الامربقتال الناس حتیٰ یقولوا:لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ؛جلد:١ص نمبر٥٣؛حدیث نمبر٣٧"

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 37

حضرت ابو مالک اپنےوالدسے روایت کرتےہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سناآپﷺنے فرمایاجس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا اور ان چیزوں کاانکار کیاجن سےاللہ کے علاوہ پوجا کی جاتی ہے۔تو اس کا مال اور خون حرام ہوگیا۔(یعنی اس نے اپنے مال و جان کو بچالیا) اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الامربقتال الناس حتیٰ یقولوا:لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ؛جلد:١ص نمبر٥٣؛حدیث نمبر٣٨"

وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مَنْ دُونِ اللهِ، حَرُمَ مَالُهُ، وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 38

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابو مالک سے مروی ہے۔وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کو ایک مانا(پھر باقی حدیث نمبر٣٨کی طرح ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب الامربقتال الناس حتیٰ یقولوا:لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ؛جلد:١ص نمبر٥٣؛حدیث نمبر٣٩؛

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَحَّدَ اللهَ»، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 39

حضرت سعید بن مسیب اپنے والدسے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا جب ابو طالب کی وفات کا وقت ہوا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور وہاں ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بیٹھےتھےآپﷺ نےفرمایا اےمیرےچچاجان!لا الہ الا اللہ کہہ دو،ایک کلمہ،میں اللہ کے پاس اسکا گواہ رہوں گا۔ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولےاےابوطالب!کیاآپ عبد المطلب کادین چھوڑتے ہو؟اور رسول اللہ ﷺ برابر یہی بات ان سے دہراتے رہے (یعنی کلمہ توحید پڑھنے کے لیے،ادھر ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ اپنی بات بکتے رہے)۔بالآخر ابو طالب نے یہ کہا میں عبد المطلب کےدین پرہوں اور لا الہ الا اللہ کاانکار کردیا۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہارے لیے اُس وقت تک(بخشش کی)دعا کروں گا جب تک مجھے منع نہیں کیا جاتا۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی"ما کان للنبی والذین آمنوا"۔۔۔آخر تک"نبی اور ایمان والوں کے لئےجائزنہیں کہ مشرکین کے لیےبخشش طلب کرےاگرچہ وہ ان کےقریبی رشتہ دارہوں اس کےبعدکہ ان کے لیےان کاجہنمی ہوناواضح ہو گیا ہو"(التوبہ:113)اوراللہ تعلی نے ابو طالب کے بارے میں آیت نازل فرمائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا" انک لا تہدی من أحببت ".. آخر تک۔"بیشک آپ اس کو ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہے لیکن اللہ تعالی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے"(القصص:(56) (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب اول الایمان قول لاالہ الااللہ؛جلد:١ص نمبر٥٣؛حدیث نمبر٤٠"

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَمِّ، قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللهِ "، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ: هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَاللهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ»، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ} [التوبة: ١١٣]، وَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ}

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 40

حضرت معمر اور حضرت صالح دونوں حضرت زہری سے اسی سند کے ساتھ اس(حدیث نمبر ٤٠)کی مثل رویت کرتے ہیں۔البتہ حضرت صالح کی روایت"اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے بارے میں آیت نازل فرمائی" کے الفاظ پر ختم ہو جاتی ہے اور دونوں آیتوں کا ذکر نہیں کیا اور انہوں نے اپنی حدیث میں یہ بات بھی نقل کی کہ دونوں اپنی بات لوٹا رہے تھے اور حضرت معمر کی روایت میں "المقالہ" کی جگہ "الکلمۃ" کا لفظ ہے کہ وہ دونوں اپنا کلمہ (اپنی بات) مسلسل کہتے رہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب اول الایمان قول لاالہ الااللہ؛جلد:١ص نمبر٥٤؛حدیث نمبر٤١؛

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ صَالِحٍ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْآيَتَيْنِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: وَيَعُودَانِ فِي تِلْكَ الْمَقَالَةِ، وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ مَكَانَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ فَلَمْ يَزَالَا بِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 41

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے رسول اللہ ﷺنے اپنے چچا(ابو طالب)سے مرتے وقت کہا لا الہ الا اللہ کہو میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس پر گواہ رہوں گا۔انہوں نےانکارکیا۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی "إنک لا تہدی من أحببت"(القصص؛ ٥٦)آخر تک۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب اول الایمان قول لاالہ الااللہ؛جلد:١ص نمبر٥٤؛حدیث نمبر٤٢؛؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَبَى "، فَأَنْزَلَ اللهُ: {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ} [القصص: ٥٦] الْآيَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 42

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےاپنےچچا)ابوطالب)سےفرمایاکہولاالہ الا اللہ میں قیامت کےدن آپ کے لیےاس کی بنیاد پرآپ کی گواہی دوں گا۔انہوں نے کہااگر قریش مجھےطعنہ نہ دیتے،وہ یہی کہیں گے کہ ابو طالب ڈر گیا(یعنی مرتے وقت ڈر کے مارے اپنا دین بدل ڈالا)،تو میں تمہاری آنکھ ٹھنڈی کردیتا (یعنی لا الہ الا اللہ کا اقرار کرکے تمہیں خوش کردیتا)۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی"إنک لا تہدی من أحببت آخر تک"(القصص؛ ٥٦) (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب اول الایمان قول لاالہ الااللہ؛جلد:١ص نمبر٥٥؛حدیث نمبر٤٣؛؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ: {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ} [القصص: ٥٦]

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 43

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجو شخص اس حالت میں فوت ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر یقین رکھتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٥؛حدیث نمبر٤٤"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حُمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مِثْلَهُ سَوَاءً

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 44

ایک دوسری سند سے بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ اس کی مثل برابر برابر فرمارہےتھے(یعنی حدیث نمبر٤٤کی مثل) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٥؛حدیث نمبر٤٥"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مِثْلَهُ سَوَاءً

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 45

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکےساتھ ایک سفر(جنگ تبوک )میں تھے لوگوں کا زاد راہ ختم ہوگیا،آپﷺنے بعض لوگوں کے اونٹ ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا،اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیایا رسول اللہ ﷺ!اگر آپ وہ سامان جمع کر لیں جو لوگوں کے پاس بچا ہوا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں (تو اچھا ہے)راوی فرماتے ہیں آپﷺنے ایسا ہی کیا۔جس کے پاس گندم تھی وہ لیکر آیا،اور جس کے پاس کجھور تھی وہ کجھور لیکر آیااور جس کے پاس گٹھلی تھی وہ گٹھلی لیکر آیا۔(حضرت طلحہ فرماتے ہیں)میں نے کہا گٹھلی کو کیا کرتے تھے؟انہوں نے کہا اس کو چوستے تھے پھر اس پر پانی پی لیتے تھے۔راوی نے کہا آپﷺنے اس جمع شدہ توشہ(زاد راہ)پردعا کی یہاں تک کہ لوگوں نے اپنے اپنے برتنوں کو توشہ سے بھر لیا۔اس وقت آپﷺنے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،اور میں اللہ کا رسول ہوں۔اور جو شخص بھی ان دو باتوں کے ساتھ بغیر کسی شک کےاللہ تعالیٰ سے ملےتو وہ جنت میں جائے گا۔ (نوٹ؛ کھانے کی چیزوں کو سامنے رکھ کر فاتحہ پڑھنا یا دعا مانگنا ناجائز نہیں بلکہ یہ حدیث اس کی اصل ہے نیز یہ آپ کا معجزہ بھی ہے۔) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٥؛حدیث نمبر٤٦"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ، قَالَ: فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ، قَالَ: حَتَّى هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ، فَدَعَوْتَ اللهَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَجَاءَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهِ، وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهِ، قَالَ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَذُو النَّوَاةِ بِنَوَاهُ، قُلْتُ: وَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَى؟ قَالَ: كَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهَا قَالَ حَتَّى مَلَأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ، قَالَ: فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، لَا يَلْقَى اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 46

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔حضرت اعمش(راوی) کو شک ہے۔جب غزوہ تبوک کادن ہوا تو لوگوں کو سخت بھوک لگی۔انہوں نےعرض کیایا رسول اللہ ﷺ!کاش!آپﷺہمیں اجازت دیتے تو ہم اپنے اونٹوں کو جن پر پانی لاتے ہیں ذبح کرلیتے،گوشت کھاتے اور چربی کا تیل بناتے۔آپﷺنے فرمایا ٹھیک ہے ذبح کرو۔اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائےتوعرض کیایارسول اللہ ﷺاگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہوجائیں گی۔بلکہ آپ ان کے کھانے سے بچا ہوا طلب فرمائیں پھر آپ اس جمع شدہ زاد راہ پر اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا فرمائیں۔یقیناًاس میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے گا۔رسول اللہ ﷺنے فرمایاہاں فرماتے ہیں پھر آپ ﷺنے ایک دستر خوان منگوایااور اس کو بچھادیا اور سب کا بچا ہوا زاد راہ طلب فرمایا۔راوی فرماتےہیں کہ کوئی مٹھی بھر جوار لایا،کوئی مٹھی بھر کھجوریں لایا،کوئی روٹی کا ٹکڑا، یہاں تک کہ اس تھوڑے سے توشے کو دستر خوان پر جمع کردیا۔پھر آپﷺنے اس پر برکت کی دعا کی۔ا سکے بعد آپﷺنے فرمایا اپنے اپنے برتنوں میں توشہ بھرلو۔راوی فرماتے ہیں سب نے اپنے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ لشکر میں کوئی بھی برتن نہ چھوڑا جس کو نہ بھراہو۔پھر سب نے کھانا شروع کیا اور سیر ہوگئے،اس پر بھی کچھ بچ گیا۔تب رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔جو شخص بھی ان دو باتوں پر بغیر کسی شک کے اللہ تعالیٰ سے ملے تووہ جنت سے پردہ میں نہیں ہوگا (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٦؛حدیث نمبر٤٧"

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - شَكَّ الْأَعْمَشُ - قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا، فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْعَلُوا»، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ، وَلَكِنْ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، ثُمَّ ادْعُ اللهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ، لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»، قَالَ: فَدَعَا بِنِطَعٍ، فَبَسَطَهُ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ، قَالَ: وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ، قَالَ: وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكَسْرَةٍ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: «خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ»، قَالَ: فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ، حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، لَا يَلْقَى اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ، فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 47

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جوشخص یہ کہےکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں،وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں،اور محمد ﷺاس کے بندے اور رسول ہیں۔اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کی بندی (مریم علیہا السلام )کے بیٹے ہیں اور اس کے کلمہ ہیں جنہیں حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا گیا اور اس کی روح ہیں اور(اس بات کی بھی گواہی دے کہ) بے شک جنت اور جہنم حق ہے،تواللہ تعالیٰ اس کو جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے داخل ہونا چاہتا ہے داخل کرے گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٧؛حدیث نمبر٤٨؛

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللهِ، وَابْنُ أَمَتِهِ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 48

گزشتہ حدیث(حدیث نمبر ٤٨)کی سندمیں کچھ تبدیلی کے ساتھ بھی اس حدیث کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریگا۔وہ جو بھی عمل کرے اور یہ الفاظ مذکورنہیں کہ جنت کی آٹھ درازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٧؛حدیث نمبر٤٩"

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ»، وَلَمْ يَذْكُرْ «مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 49

حضرت صنابحی سے روایت ہے کہ میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوااور وہ موت کی حالت میں تھے میں رونے لگا انہوں نےفرمایا رک جاؤ کیوں رو رہے ہو؟اللہ کی قسم اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی تومیں تمہارے لیے ضرور بضرورگواہی دوں گا۔اوراگر مجھ سے سفارش طلب کی گئی تو میں ضرور تمہاری سفارش کروں گااور اگر میں تجھے نفع دے سکا تو ضرور نفع دوں گا۔پھر انہوں نے کہا اللہ کی قسم کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس کو میں نے آپﷺسے سنی ہو-اس میں تمہاری بھلائی تھی-نہ بتائی ہو،سوائے ایک حدیث کے۔اس کو آج بیان کررہا ہوں اس لیے کہ میرے نفس کو گھیر لیا گیا ہے(موت کا وقت ہے)(وہ حدیث یہ ہے)میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے سنا کہ جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سواکوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کردے گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٧؛حدیث نمبر٥٠؛؛

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ، فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: مَهْلًا، لِمَ تَبْكِي؟ فَوَاللهِ لَئِنْ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ، وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ، وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ، إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ، وَقَدِ اُحِيطَ بِنَفْسِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ النَّارَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 50

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سوار)تھا اور میرے اور آپ کے درمیان صرف کجاوےکا پچھلا حصہ تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے معاذ بن جبل!میں نےعرض کیایا رسول اللہ حاضر ہوں(فرمائے)پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلے اس کے بعد فرمایا کہ اے معاذ بن جبل!میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حاضر ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلے اس کے بعد فرمایا کہ اے معاذ بن جبل!میں نےکہایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حاضر ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ توجانتا ہےاللہ کا حق بندوں پر کیا ہے؟میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔پھر آپ تھوڑی دیر چلے پھر فرمایا کہ اے معاذ بن جبل!میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو جانتا ہے کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ جب بندے یہ کام کریں(یعنی اسی کی عبادت کریں،کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کریں) میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ حق یہ ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٨؛حدیث نمبر٥١"

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ»، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ، وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا»، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ، وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 51

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ( ایک سفر میں )نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک دراز گوش پر سوار تھاجس کا نام عفیر تھا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے معاذ! کیاتم جانتےہوکہ اللہ کے اپنے بندوں پر کیا حقوق ہیں؟اور بندوں کے اللہ پر کیاحق ہیں؟ میں نے کہا:اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ بنائیں،اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا انہیں عذاب نہ ديں۔میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو مت بتاؤ وہ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٨؛حدیث نمبر٥٢""

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ، يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ، قَالَ: فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقَّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوا اللهَ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ، قَالَ: «لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 52

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اے معاذ!کیاتم جانتےہوکہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟اس نے کہا:اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتےہیں۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں۔اورفرمایا کیاتم جانتےہو بندوں کا اللہ پر کیا حق ہےاگر وہ یہ کریں!؟اس نے کہا:اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺنے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٩؛حدیث نمبر٥٣"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، وَالْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ، يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مُعَاذُ، أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» قَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَنْ يُعْبَدَ اللهُ وَلَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ»، قَالَ: «أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟» فَقَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 53

حضرت اسود بن ہلال فرماتے ہیں۔میں نے حضرت معاذسے سنا فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا تو میں حاضر ہوا۔آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر کیا حق ہے(پھرحدیث نمبر٥٣کی طرح ذکر کیا) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٩؛حدیث نمبر٥٤"

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذًا، يَقُولُ: دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى النَّاسِ؟» نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 54

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے تھے اور ہمارے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی دیگر چند افرادکےہمراہ تھے۔اتنے میں رسول اللہ ﷺ اٹھے(اور باہر تشریف لے گئے) پھر آپ نے ہمارے پاس آنے میں دیر لگائی تو ہم کو ڈر ہوا کہ کہیں دشمن آپ کو اکیلا پا کر مار نہ ڈالیں۔ہم گھبرا گئے اور اٹھ کھڑےہوئے۔سب سے پہلے میں گھبرایا تو میں آپ کو ڈھونڈنے کیلئے نکلا اور بنی نجار کے باغ کے پاس پہنچا۔(بنی نجار انصار کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ تھا)میں نے اس کےگرد چکر لگایا کہ آیا مجھے کوئی دروازہ ملتا ہے لیکن میں نے نہیں پایا(کیونکہ گمان ہوا کہ شاید رسول اللہ ﷺ اس کے اندر تشریف لے گئے ہوں)اچانک دیکھا کہ باہر کنوئیں میں سے ایک نالی باغ کے اندر جاتی ہے،میں لومڑی کی طرح سمٹ کر اس نالی کے اندر گھسا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔آپﷺ نے فرمایا ابوہریرہ؟میں نے عرض کیا جی یارسول اللہﷺ!آپ ﷺ نے فرمایا کیا بات ہے؟میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ! آپ ہم لوگوں میں تشریف رکھتے تھے۔پھر آپ ﷺ باہر چلے آئے اور واپس آنے میں دیر لگائی تو ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں دشمن آپ کو اکیلا پا کر مار نہ ڈالیں،ہم گھبرا گئے اور سب سے پہلے میں گھبرا کر اٹھا اور اس باغ کے پاس آیا(دروازہ نہ ملا) تو اس طرح سمٹ کر گھس آیا جیسے لومڑی اپنے بدن کو سمیٹ کر گھس جاتی ہےاورسب لوگ میرے پیچھے آئے ہیں۔آپ ﷺ نے مجھے اپنی نعلین مبارک عطا فرماکرارشادفرمایا۔کہ اےابو ہریرہ! میری یہ نعلین لے جاؤ اور جو کوئی تجھے اس باغ کے پیچھے ملے اور وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اس بات پر دل سے یقین رکھتا ہو تو اس کو جنت کی خوشخبری دو۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری ملاقات سب سے پہلےسیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔انہوں نے پوچھا کہ اے ابو ہریرہ یہ نعلین کیسی ہیں؟میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی نعلین ہیں۔آپ ﷺ نے یہ دے کر مجھے بھیجا ہے کہ میں جس سے ملوں اور وہ لا الٰہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو،دل سے یقین کر کے،تو اس کو جنت کی خوشخبری دوں۔یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ میری چھاتی کے بیچ میں مارا تو میں پیٹھ کے بل گرپڑا۔پھر کہا کہ اے ابوہریرہ! لوٹ جا۔میں رسول اللہ ﷺ کے پاس لوٹ کر چلا گیااور رونے لگااور میرے ساتھ پیچھے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آ پہنچے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ!تجھے کیا ہوا؟میں نے کہا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور جو پیغام آپ ﷺ نے مجھے دیکر بھیجا تھا پہنچایا تو انہوں نے میری چھاتی کے بیچ میں ایسا مارا کہ میں پیٹھ کے بل گر پڑا اور کہا کہ لوٹ جا۔رسول اللہ ﷺنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ!آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ابو ہریرہ کو آپ نے اپنی نعلین دیکربھیجا تھا کہ جو شخص ملے اور وہ گواہی دیتا ہو لا الٰہ الا اللہ کی دل سے یقین رکھ کر تو اسے جنت کی خوشخبری دو؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ سیدنا عمر ﷺرضی اللہ عنہ نے کہا کہ (آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں)ایسا نہ کیجئے کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس پر توکل کر لیں گے(یعنی اسی پر بھروسہ کرکے عمل ترک نہ کردیں) ،ان کو عمل کرنے دیجئے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھا ان کو عمل کرنے دو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٥٩؛حدیث نمبر٥٥"

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا، وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا، وَفَزِعْنَا، فَقُمْنَا، فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ، فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا؟ فَلَمْ أَجِدْ، فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةٍ - وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ - فَاحْتَفَزْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَبُو هُرَيْرَةَ» فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» قُلْتُ: كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا، فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا، فَفَزِعْنَا، فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ، فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ، فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ، وَهَؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائِي، فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ، قَالَ: «اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ، فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ، فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ»، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ، فَقَالَ: مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَقُلْتُ: هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ، بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَخَرَرْتُ لِاسْتِي، فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْهَشْتُ بُكَاءً، وَرَكِبَنِي عُمَرُ، فَإِذَا هُوَ عَلَى أَثَرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟» قُلْتُ: لَقِيتُ عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ، فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي، قَالَ: ارْجِعْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُمَرُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي، أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ، مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا، فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَخَلِّهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 55

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آپﷺکے ساتھ سواری پر بیٹھے تھے،آپﷺنے فرمایااے معاذ!انہوں نےعرض کیا یارسول اللہ!حاضر ہوں(پھر) آپﷺنے فرمایااےمعاذ!انہوں نےعرض کیایارسول اللہ حاضر ہوں(پھر)آپﷺنے فرمایااے معاذ!انہوں نےعرض کیا یا رسول اللہ حاضر ہوں۔آپ ﷺنے فرمایا جو بندہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔تواللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ کو حرام کر دیتا ہے۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا یارسول اللہ ﷺکیامیں اس کی خبر لوگوں کو نہ دوں کہ وہ خوش ہوجائیں گے۔آپ ﷺ نے فرمایااس وقت وہ(اسی پر)بھروسہ کرلیں گے پس حضرت معاذ نے وصال کے وقت یہ بات بتائی تاکہ(علم چھپانے کے)گناہ سے بچ جائیں (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٦١؛حدیث نمبر٥٦"

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ، قَالَ: «يَا مُعَاذُ» قَالَ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «يَا مُعَاذُ» قَالَ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «يَا مُعَاذُ» قَالَ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا حَرَّمَهُ اللهُ عَلَى النَّارِ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا أُخْبِرُ بِهَا فَيَسْتَبْشِرُوا، قَالَ: «إِذًا يَتَّكِلُوا»، فَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذُ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 56

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھ سےمحمود بن ربیع نےعتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئےبیان کیاپھر حضرت انس فرماتےہیں کہ میں مدینہ میں آیا تو عتبان سے ملا اور میں نے کہا کہ ایک حدیث ہے جو مجھے تم سے پہنچی ہے عتبان نے کہا کہ میری نگاہ میں فتور ہو گیا(دوسری روایت میں ہے کہ وہ نابینا ہو گئےاور شاید ضعفِ بصارت مراد ہو)میں نے رسول اللہﷺکے پاس پیغام بھیجاکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے مکان پر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو مصلیٰ بنا لوں(یعنی ہمیشہ وہیں نماز پڑھا کروں اور یہ درخواست اس لئے کی کہ آنکھ میں فتور ہو جانے کی وجہ سے مسجدِ نبوی میں آنا دشوار تھا) تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور جن کو اللہ نے چاہا اپنے اصحاب میں سے ساتھ لائے۔آپ اندر آئے اور نماز پڑھنے لگےاور آپ ﷺ کے اصحاب(صحابہ کرام)آپس میں باتیں کر رہے تھے (منافقوں کا ذکر چھڑ گیا تو ان کا حال بیان کرنے لگے اور ان کی بُری باتیں اور بُری عادتیں ذکر کرنے لگے)پھر انہوں نے بڑےمنافق مالک بن دخشم کو زیر بحث لایا اور چاہا کہ رسول اللہ ﷺ اس کیلئے بددعاکریں اور وہ مرجائےاور اس پر کوئی آفت آئےاتنے میں رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئےاور فرمایا کہ کیاوہ(یعنی مالک بن دخشم) اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔صحابہ کرام نے عرض کیا وہ تو اس بات کو زبان سے کہتا ہے لیکن دل میں اس کا یقین نہیں رکھتا۔آپ ﷺ نے فرمایا جو سچے دل سے لا الٰہ الا اللہ کی گواہی دے اور اس بات کی بھی گواہی دے کہ محمد رسول اللہﷺہیں۔اسے اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل نہیں کرتایا فرمایا اسے آگ کا ذائقہ نہیں چکھاتا۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہاکہ یہ حدیث مجھے بہت اچھی معلوم ہوئی تو میں نے اپنے بیٹے سے کہاکہ اس کو لکھ لے،پس اس نے لکھ لیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٦١؛حدیث نمبر٥٧"

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ عِتْبَانَ، فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ، قَالَ: أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْءِ، فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِي، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ شَاءَ اللهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ وَكُبْرَهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخْشُمٍ، قَالُوا: وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، وَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، وَقَالَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ؟»، قَالُوا: إِنَّهُ يَقُولُ ذَلِكَ، وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ، قَالَ: «لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، فَيَدْخُلَ النَّارَ، أَوْ تَطْعَمَهُ»، قَالَ أَنَسِ: فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثَ، فَقُلْتُ لِابْنِي: اكْتُبْهُ فَكَتَبَهُ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 57

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عتبان بن مالک نے مجھے حدیث بیان کی اور وہ نابینا ہوچکے تھے تو انہوں نے رسول اللہﷺکے پاس پیغام بھیجا کہ میرے مکان پر تشریف لائیے اور مسجد کی ایک جگہ مقرر کردیجئے۔رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ کے ساتھ کچھ صحابہ بھی تشریف لائے ان میں سے ایک شخص غائب ہو گئے جن کومالک بن دخیشم کہا جاتا تھا۔(پھرحدیث نمبر٥٧کی طرح ذکر کیا) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ لَقِي اللهَ بِالْإِيمَانِ وَهُو غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ؛جلد:١ص نمبر٦٢؛حدیث نمبر٥٨"

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ عَمِيَ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ قَوْمُهُ وَتغيب رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 58

حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہﷺسے سنا آپﷺنےفرمایا اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھا جو اللہ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہو (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِي بِاللهِ رَبًّ؛؛ترجمہ؛ جوشخص اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوا اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا؛ جلد:١ص نمبر٦٢؛حدیث نمبر٥٩"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، وَبِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 59

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ایمان کےستر سےزائدشعبےہیں۔اور حیابھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ شُعَبِ الْإِيمَان؛ِ؛ترجمہ؛یہ باب ہےایمان کےشعبےکےبیان کےبارےمیں؛جلد:١ص نمبر٦٣؛حدیث نمبر٦٠"

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 60

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺنے فرمایا ایمان کی سترسےکچھ زیادہ یا(فرمایا)ساٹھ اور اس سےکچھ اوپرشعبےہیں۔ان سب میں افضل لا الہ الا اللہ کہنا ہے۔اوران سب میں ادنیٰ یہ ہے راستے میں تکلیف دہ چیز کا ہٹانا ہے۔اورحیابھی ایمان کا ایک شعبہ ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ شُعَبِ الْإِيمَان؛جلد:١ص نمبر٦٣؛حدیث نمبر٦١"

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ - أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ - شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 61

حضرت سالم نے اپنے والد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سےروایت کیا کہ رسول اللہﷺنےایک شخص کو سنا وہ اپنےبھائی کوحیاکےبارے میں نصیحت کررہا تھا(یعنی اس کو حیاکرنے سے منع کررہا تھا)۔آپ ﷺنےفرمایا( اس کو چھوڑ دے) حیا تو ایمان میں سے ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ شُعَبِ الْإِيمَان؛ جلد:١ص نمبر٦٣؛حدیث نمبر٦٢"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 62

ایک دوسری سند سے بھی حضرت زہری سے روایت ہے۔آگےوہی سند ہےجو حدیث نمبر٦٢کی ہےیعنی حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتےہیں۔انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ شُعَبِ الْإِيمَان؛جلد:١ص نمبر٦٣؛حدیث نمبر٦٣"

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 63

حضرت عمران بن حصین حدیث بیان کررہے تھےکہ رسول اللہ ﷺنےفرمایاحیابھلائی ہی لاتا ہے۔اس پر بشیر بن کعب نےکہا کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیا سے سکون حاصل ہوتا ہے۔عمران نے ان سے کہا میں تجھے رسول اللہﷺکی حدیث بیان کرتا ہوں اور آپ اپنی کتاب کی باتیں مجھ کو سناتے ہو(مطلب یہ کہ حضورصل اللہ علیہ وسلم کے کلام کے مقابلےمیں کلام پیش کر رہے ہو) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ شُعَبِ الْإِيمَان؛جلد:١ص نمبر٦٤؛حدیث نمبر٦٤"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ»، فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّهُ مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ: أَنَّ مِنْهُ وَقَارًا، وَمِنْهُ سَكِينَةً، فَقَالَ عِمْرَانُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صُحُفِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 64

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم عمران بن حصین کے پاس اپنے ایک رہط(دس سے کم مردوں کی جمات کو رہط کہتے ہیں۔)میں تھے اور ہم میں بشیر بن کعب بھی تھے۔اس دن عمران بن حصین نےہم سےبیان کرتےہوے فرمایاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا حیامکمل طورپر بھلائی ہےبشیر بن کعب نے کہا ہم نے بعض کتابوں میں یا حکمت(کی باتوں)میں دیکھا ہے کہ اس(حیا)کی وجہ سے سکون اور وقار حاصل ہوتاہےاور کبھی اس سے کمزوری ہوتی ہےیہ سن کر عمران کو اتنا غصہ آیا کہ ان کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور انہوں نے کہا کہ میں تو رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تو اس کے خلاف بیان کرتا ہے۔ابو قتادہ نے کہا کہ عمران نےپھردوبارہ اسی حدیث کو بیان کیا۔بشیر نےپھر دوبارہ وہی بات کہی تو عمران غصہ ہوئے(اور انہوں نے بشیر کو سزا دینے کا قصد کیا)تو ہم سب نےکہا کہ اےابونجید!(یہ عمران بن حصین کی کنیت ہے)بشیر ہم میں سے ہے(یعنی مسلمان ہے)اس میں کوئی عیب نہیں۔(یعنی وہ منافق یابےدین یابدعتی نہیں ہےجیسے تم نے خیال کیا) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ شُعَبِ الْإِيمَان؛جلد:١ص نمبر٦٤؛حدیث نمبر٦٥"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ حَدَّثَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي رَهْطٍ، وَفِينَا بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ، فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ، يَوْمَئِذٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ» قَالَ: أَوْ قَالَ: «الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ» فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّا لَنَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ - أَوِ الْحِكْمَةِ - أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا لِلَّهِ، وَمِنْهُ ضَعْفٌ، قَالَ: فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَّتَا عَيْنَاهُ، وَقَالَ: أَلَا أَرَى أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُعَارِضُ فِيهِ، قَالَ: فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَعَادَ بُشَيْرٌ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ، قَالَ: فَمَا زِلْنَا نَقُولُ فِيهِ إِنَّهُ مِنَّا يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 65

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزشہ(حدیث نمبر٦٥)کی مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ شُعَبِ الْإِيمَان؛ جلد:١ص نمبر٦٤؛حدیث نمبر٦٦"

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيْرَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيَّ، يَقُولُ عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 66

حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی سے روایت ہےمیں نےکہایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اسلام میں ایک ایسی بات بتادیجئے کہ پھر میں اس کو آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر قائم رہوں۔اور ابو اسامہ کی روایت میں ہے”غیرک“یعنی آپ کے علاوہ کسی سے نہ پوچھوں (مسلم شریف کتاب الایمان؛-بَابُ جَامِعِ أَوْصَافِ الْإِسْلَامِ؛ترجمہ؛یہ باب ہے اسلام کے اوصاف کے بارے میں؛جلد:١ص نمبر٦٥؛حدیث نمبر٦٧"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ - وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ - قَالَ: " قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، فَاسْتَقِمْ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 67

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون ساعمل اسلام کا بہتر ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(بھوکے)کو کھانا کھلاؤ، اورہرشخص سےسلام کروخواہ تواس کوپہچانتےہویانہ پہچانتے ہو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ تَفَاضُلِ الْإِسْلَامِ،وَأَيُّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ؛ترجم؛یہ باب ہے اس بات کے بیان کے لئےکہ اسلام میں کون سا کام افضل ہے؛جلد:١ص نمبر٦٥؛حدیث نمبر٦٨"

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ، وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 68

حضرت ابو الخير فرماتے ہیں انہوں نےحضرت عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا مسلمان بہتر ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(یعنی نہ زبان سے کسی مسلمان کی برائی کرےنہ ہاتھ سے کسی کو ایذا دے)۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ تَفَاضُلِ الْإِسْلَامِ،وَأَيُّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ؛جلد:١ص نمبر٦٥؛حدیث نمبر٦٩"

وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، ِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ؟ قَالَ: «مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 69

حضرت ابوزبیرفرماتے ہیں انہوں نےحضرت جابر رضی اللہ عنہ سےسناوہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے(کامل)مسلمان وہ ہے جس کی زبان اورہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ تَفَاضُلِ الْإِسْلَامِ،وَأَيُّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ؛جلد:١ص نمبر٦٥؛حدیث نمبر٧٠"

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، قَالَ: عَبْدٌ، أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 70

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےفرماتے ہیں میں نے عرض کیایا رسول اللہ کون سا اسلام افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ تَفَاضُلِ الْإِسْلَامِ،وَأَيُّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ؛جلد:١ص نمبر٦٦؛حدیث نمبر٧١)

وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 71

ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں پوچھا گیا کہ کون سا مسلمان افضل ہے۔اس کے بعد حدیث نمبر٧١کی مثل۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ تَفَاضُلِ الْإِسْلَامِ،وَأَيُّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ؛جلد:١ص نمبر٦٦؛حدیث نمبر٧٢"

وَحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ؟ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 72

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین باتیں جس میں ہونگی وہ ان کی وجہ سے ایمان کی مٹھاس اور حلاوت پائے گا۔ایک تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے دوسرے سب لوگوں سے زیادہ محبت رکھے۔دوسرے یہ کہ کسی آدمی سے صرف اللہ کی خاطردوستی رکھے(یعنی دنیا کی کوئی غرض نہ ہو نہ اس سے ڈر ہو)تیسرے یہ کہ کفر میں دوبارہ جانے کواتناناپسند کرےجتناآگ میں پڑنے کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ خِصَالٍ مَنِ اتَّصفَ بِهِنَّ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ؛ترجمہ؛یہ باب ہے اس چیز کے بیان کے بارے میں کہ ایمان کی مٹھاس کب حاصل ہوتی ہے؛جلد:١ص نمبر٦٦؛حدیث نمبر٧٣"

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللهُ مِنْهُ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 73

ایک دوسری سند سے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس میں تین باتیں ہونگی وہ ایمان کی مٹھاس پائےگا۔جو کسی آدمی سے صرف اللہ کی خاطر دوستی رکھے۔اللہ اور اس کے رسول سے دوسرے سب لوگوں سے زیادہ دوستی رکھے۔آگ میں ڈالا جانا پسندکرےمگرکفراختیارکرناپسندنہ کرےجبکہ اللہ نےاس کو کفرسےنجات دی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ خِصَالٍ مَنِ اتَّصفَ بِهِنَّ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ؛جلد:١ص نمبر٦٦؛حدیث نمبر٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَمَنْ كَانَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللهُ مِنْهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 74

Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 75

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 75

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں جب تک وہ اپنے اہل وعیال,مال اور سب لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ کرے-عبد الوارث کی روایت میں ہے کوئی آدمی مؤمن نہیں ہوتا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وُجُوبِ مَحَبَّةِ رَسُولِ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنَ الْأَهْلِ وَالْوَلَدِ، وَالْوَالِدِ والنَّاسِ أجْمَعِينَ، وَإِطْلَاقِ عَدَمِ الْإِيمَانِ عَلَى مَنْ لمْ يُحِبَّهُ هَذِهِ الْمَحَبَّةَ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےسب سے زیادہ محبت؛جلد:١ص نمبر٦٧؛حدیث نمبر٧٦"

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ - وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ: الرَّجُلُ - حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 76

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سےکوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتاجب تک میں اس کےوالد اس کی اولاد اور تمام لوگوں سےزیادہ(اس کے نزدیک) محبوب نہ ہوجاؤں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وُجُوبِ مَحَبَّةِ رَسُولِ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنَ الْأَهْلِ وَالْوَلَدِ،وَالْوَالِدِوالنَّاسِ أجْمَعِينَ، وَإِطْلَاقِ عَدَمِ الْإِيمَانِ عَلَى مَنْ لمْ يُحِبَّهُ هَذِهِ الْمَحَبَّةَ؛جلد:١ص نمبر٦٧؛حدیث نمبر٧٧"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 77

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ تم میں سےکوئی شخص (کامل)مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اپنے بھائی کے لئے یا(فرمایا)اپنے ہمسایہ کے لئے وہ چیز پسندنہ کرےجواپنےلئے پسندکرتاہے- (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مِنْ خِصَالِ الْإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ؛ترجمہ؛جو کچھ اپنے لئے پسند ہو وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرنا-جلد:١ص نمبر٦٧؛حدیث نمبر٧٨"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ - أَوْ قَالَ: لِجَارِهِ - مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 78

ایک دوسری سند سےحضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔کوئی بندہ کامل مؤمن نہیں ہو سکتاجب تک اپنے بھائی یا ہمسایہ کے لیے وہی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مِنْ خِصَالِ الْإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ:جلد١ص نمبر٦٨؛حدیث نمبر٧٩؛

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ - أَوْ قَالَ: لِأَخِيهِ - مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 79

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جنت میں نہیں داخل ہوگا جس کا ہمسایہ(پڑوسی)اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ تَحْرِيمِ إِيذَاءِ الْجَارِ؛ترجمہ؛پڑوسی کی ایذارسانی سے بچنا؛جلد١ص نمبر٦٨؛حدیث نمبر٨٠"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 80

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔کہ؛آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کو چاہیے یا تو اچھی بات کرے یا چپ رہے اور جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اپنے ہمسایہ(پڑوسی)کی خاطر داری کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت پرایمان رکھتاہے اس کو چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر داری کرے (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى إِكْرَامِ الْجَارِ وَالضَّيْفِ، وَلُزُومِ الصَّمْتِ إِلَّا عَنِ الْخَيْرِ وَكَوْنِ ذَلِكَ كُلِّهِ مِنَ الْإِيمَانِ؛ترجمہ؛یہ باب ہے پڑوسی اور مہمان کی عزت افزائی اور اچھی گفتگو کے تعلق سے۔جلد١ص نمبر٦٨؛حدیث نمبر٨١"

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 81

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجو شخص اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے،اور جو شخص اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی خاطر داری کرے۔اورجو شخص اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى إِكْرَامِ الْجَارِ وَالضَّيْفِ، وَلُزُومِ الصَّمْتِ إِلَّا عَنِ الْخَيْرِ وَكَوْنِ ذَلِكَ كُلِّهِ مِنَ الْإِيمَانِ؛جلد١ص نمبر٦٨؛حدیث نمبر٨٢"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيسْكُتْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 82

ایک دوسری سند سےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد (حدیث نمبر ٨٢کی طرح ہے) البتہ یہ فرق ہے کہ اِس میں یہ فرمایااسے اپنے پڑوسی سےاچھاسلوک کرناچاہیے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى إِكْرَامِ الْجَارِ وَالضَّيْفِ، وَلُزُومِ الصَّمْتِ إِلَّا عَنِ الْخَيْرِ وَكَوْنِ ذَلِكَ كُلِّهِ مِنَ الْإِيمَانِ؛جلد١ص نمبر٦٩؛حدیث نمبر٨٣"

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ، أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي حُصَيْنٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 83

حضرت ابو شریح خُزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجوشخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسایہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کے ساتھ عزت سے پیش آےاورجوشخص اللہ اور آخرت کےدن پرایمان رکھتاہووہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى إِكْرَامِ الْجَارِ وَالضَّيْفِ، وَلُزُومِ الصَّمْتِ إِلَّا عَنِ الْخَيْرِ وَكَوْنِ ذَلِكَ كُلِّهِ مِنَ الْإِيمَانِ؛جلد١ص نمبر٦٩؛حدیث نمبر٨٤"

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 84

حضرت قیس بن مسلم،حضرت طارق بن شہاب سے روایت کرتےہیں۔وہ فرماتے ہیں سب سے پہلےجس نے عید کے دن نماز سے قبل خطبہ شروع کیا وہ مروان تھا۔اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا نمازخطبہ سے پہلے ہوتی ہے۔مروان نے کہا یہ طریقہ یہاں متروک ہو چکا ہے۔حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا اس شخص نے تو اپنا حق ادا کردیا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص تم میں سے کسی منکر(خلاف شرع)کام کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے،اور اگر اتنی طاقت نہ ہو تو دل سے(برا سمجھے) (یعنی دل میں اس کو برا جانے اور اس سے بیزارہو) یہ سب سے کم درجے کا ایمان ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ النَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْإِيمَانِ،وَأَنَّ الْإِيمَانَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ،وَأَنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاجِبَانِ؛ترجمہ؛اس بات کا بیان کہ بری بات سےمنع کرنا ایمان کی علامت ہے،اور یہ کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، اور امر بالمعروف والنہی عن المنکر دونوں واجب ہیں؛ جلد١ص نمبر٦٩؛حدیث نمبر٨٥"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ - وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ - قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ: قَدْ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ».

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 85

ایک دوسری سند سےحضرت طارق بن شہاب نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سےمروان کے واقعہ میں روایت کی اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت(حدیث نمبر ٨٥)کی مثل ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ النَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْإِيمَانِ،وَأَنَّ الْإِيمَانَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ،وَأَنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاجِبَانِ؛جلد١ص نمبر٦٩؛حدیث نمبر٨٦"

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فِي قِصَّةِ مَرْوَانَ، وَحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 86

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کی امت میں سے حواری اور اصحاب نہ ہوں جو ان کے طریقے پر چلتے تھےاور ان کے حکم کی پیروی کرتے تھے۔پھر ان کے بعد کچھ نا خلف آئےجو ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر عمل نہیں کرتے،اور ان کاموں کو کرتے ہیں جن کا انہیں حکم نہیں دیاجاتا۔جو کوئی ان سے ہاتھ سےجہاد(لڑے) کرے وہ مؤمن، اور جو کوئی زبان سے لڑے (ان کو بُرا کہے اور ان کی باتوں کا رد کرے)وہ بھی مؤمن ہے،اور جو کوئی ان سے دل سے لڑے(دل میں ان کو بُرا جانے)وہ بھی مؤمن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں۔ (یعنی اگر دل سے بھی بُرا نہ جانے تو اس میں ذرہ برابر بھی ایمان نہیں)۔ ابو رافع رضی اللہ عنہ (جنہوں نے اس حدیث کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ رسول اللہ کے مولیٰ تھے) نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کی انہوں نے(حدیث ماننے سے) انکار کیا۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ"قناۃ"(مدینہ کی ایک وادی کا نام ہے) میں ٹھہرے ہوئے تھے۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی عیادت کیلئے اپنے ساتھ لے گئے۔میں ان کیساتھ گیا۔ جب ہم بیٹھے تو میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کےبارےمیں پوچھاتو انہوں نے اسی طرح بیان کیاجیسےمیں نےابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا تھا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ النَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْإِيمَانِ،وَأَنَّ الْإِيمَانَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ،وَأَنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاجِبَانِ؛جلد١ص نمبر٦٩؛حدیث نمبر٨٧"

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ، وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ» قَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَحَدَّثْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فَأَنْكَرَهُ عَلَيَّ، فَقَدِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَنَزَلَ بِقَنَاةَ فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُهُ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثْتُهُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ صَالِحٌ: وَقَدْ تُحُدِّثَ بِنَحْوِ ذَلِكَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 87

ایک دوسری سند سے بھی حضرت ابو رافع عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکوئی نبی ایسا نہیں گزراجس کے حواری نہ ہوں وہ اس کی راہ پر چلتے ہیں۔اور اس کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔ پھر روایت کو اسی طرح بیان کیا(جو حدیث نمبر ٨٧ میں بیان ہوا)مگر اس میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے آنے کا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ملنے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ النَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَأَنَّ الْإِيمَانَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَأَنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاجِبَانِ؛جلد١ص نمبر٧٠؛حدیث نمبر٨٨"

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ الْفُضَيْلِ الْخَطْمِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يَهْتَدُونَ بِهَدْيِهِ، وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ» مِثْلَ حَدِيثِ صَالِحٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ قُدُومَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَاجْتِمَاعَ ابْنِ عُمَرَ مَعَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 88

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا سنو! ایمان ادھر سے ہے اور دل کی تنگی اور سختی ربیعہ اور مضر میں ہے جو اونٹوں والے ہیں وہاں شیطان کے دو سینگ طلوع ہوں گے(شیطان کے دو سینگ سےمرادایسےدوشخص ہیں جن سے زبردست گمراہی پھیلنا تھی اور ان کاظہورنجدسےہونا تھاایک مسیلمہ کذاب جو پہلی صدی میں ظاہر ہوا اور دوسرا محمد بن عبد الوہاب جو بارہویں صدی ہجری میں ظاہرہوا) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛ترجمہ؛یہ باب ہے یمن والوں کی فضیلت کے بارے میں؛جلد١ص نمبر٧١؛حدیث نمبر٨٩"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يَرْوِي عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ الْإِيمَانَ هَهُنَا، وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ، عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ، وَمُضَرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 89

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا اہل یمن آئے(خود مسلمان ہونے کو)وہ لوگ نرم دل ہیں۔ایمان یمن والوں کے پاس ہے،فقہ بھی یمنی ہے،اور حکمت بھی یمن میں ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧١؛حدیث نمبر٩٠"

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ».

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 90

ایک دوسری سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے(حدیث نمبر ٩٠کی مثل)روایت کرتےہیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٢؛حدیث نمبر٩١"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 91

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں وہ نہایت نرم دل لوگ ہیں،فقہ بھی یمنی ہےاورحکمت بھی یمنی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٢؛حدیث نمبر٩٢"

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 92

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کفر کا مرکز مشرق کی طرف ہے فخر اور تکبر گھوڑے اور اونٹ رکھنے والوں میں اور عاجزی بکریاں رکھنے والوں میں ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٢؛حدیث نمبر٩٣"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ الْفَدَّادِينَ، أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 93

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ایمان یمن میں ہے اور کفر مشرق کی طرف ہےاوراطمینان اور تواضع بکری والوں میں ہےاور فخر اور تکبر کرنا گھوڑے اور اونٹ پالنے والوں میں ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٢؛حدیث نمبر٩٤"

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ، وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْوَبَرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 94

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتےسنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فخر اور تکبر اونٹ اور گھوڑے رکھنے والوں میں اورعاجزی بکریاں رکھنے والوں میں ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٢؛حدیث نمبر٩٥"

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 95

ایک دوسری سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی مثل(حدیث نمبر ٩٥)کی طرح مروی ہےاور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ایمان یمن سے ہے اور حکمت بھی یمنی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٣؛حدیث نمبر٩٦"

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ: «الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 96

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اہل یمن آئے ہیں ان کے دل بہت نرم ہیں۔ایمان یمن میں ہے اور حکمت بھی یمن سے تعلق رکھتی ہے۔ٹھہراؤ اور سکون بکریاں رکھنے والوں میں ہے۔فخر اور تکبر گھوڑے اور اونٹ رکھنے والوں میں ہے جو طلوع آفتاب (مشرق) کی طرف ہیں۔(نجد کی طرف اشارہ ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٣؛حدیث نمبر٩٧"

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، وَأَضْعَفُ قُلُوبًا، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، السَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ، أَهْلِ الْوَبَرِ، قِبَلَ مَطْلِعِ الشَّمْسِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 97

ایک دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں ان کے دل بہت نرم ہیں۔ایمان یمن میں ہے اور حکمت بھی یمن سے تعلق رکھتی ہے۔کفر کا گڑھ مشرق کی طرف ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٣؛حدیث نمبر٩٨"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 98

ایک دوسری سند سے بھی بواسطہ اعمش حضرت ابو صالح سے مروی ہے۔وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےاور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل(حدیث نمبر٩٨کی طرح) روایت کرتےہیں لیکن اس میں یہ بات ذکر نہیں کی گئی کہ کفر کا مرکز مشرق کی جانب ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٣؛حدیث نمبر٩٩"

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَلَمْ يَذْكُرْ: رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 99

ایک دوسری سند سے بھی حضرت اعمش اس کی مثل(حدیث نمبر٩٩)کی طرح حضرت ابو صالح سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔اس میں یہ اضافہ ہے کہ فخر اور تکبر اونٹ رکھنے والوں میں اور ٹھہراؤ اور وقار بکریاں رکھنے والوں میں ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٣؛حدیث نمبر١٠٠"

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ: «وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَصْحَابِ الشَّاءِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 100

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایادلوں کی سختی اورظلم مشرق والوں میں ہےاور ایمان حجاز والوں میں ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ،وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ؛جلد١ص نمبر٧٣؛حدیث نمبر١٠١"

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غِلَظُ الْقُلُوبِ، وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ، وَالْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 101

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تک ایمان نہیں لاؤگےجنت میں نہیں جاؤ گے،اور اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتےجب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔اور میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے کرنے سے تم آپس میں محبت کروگے(وہ یہ ہے کہ) سلام کو آپس میں عام کرو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ،وَأَنَّ مَحَبَّةَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْإِيمَانِ،وَأَنَّ إِفْشَاءَ السَّلَامِ سَبَبًا لِحُصُولِهَا؛ترجمہ؛یہ باب ہے اس تعلق سے کہ جنت میں صرف مومن جائیں گے،اور مومنوں سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے،اور سلام کو عام کرنا محبت کا سبب ہے؛جلد١ص نمبر٧٤؛حدیث نمبر١٠٢"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 102

ایک دوسری سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نےفرمایااس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گےجب تک ایمان نہ لاؤ۔اس کے بعد حدیث نمبر١٠٢کی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ،وَأَنَّ مَحَبَّةَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْإِيمَانِ،وَأَنَّ إِفْشَاءَ السَّلَامِ سَبَبًا لِحُصُولِهَا جلد١ص نمبر٧٤؛حدیث نمبر١٠٣"

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا» بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٍ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 103

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین خیرخواہی ہے۔ہم نےعرض کیاکس کےلیے(خیر خواہی)؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا اللہ کے لئے،اس کی کتاب کے لئے،اس کے رسول کے لئے،مسلمانوں کے حاکموں کے لئے اورعام مسلمانوں کے لئے(خیر خواہی)۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ؛ترجمہ؛یہ باب اس تعلق سے کہ دین خیرخواہی کا نام ہے؛جلد١ص نمبر٧٤؛حدیث نمبر١٠٤"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قُلْتُ لِسُهَيْلٍ: إِنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِيكَ، قَالَ: وَرَجَوْتُ أَنْ يُسْقِطَ عَنِّي رَجُلًا، قَالَ: فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ أَبِي كَانَ صَدِيقًا لَهُ بِالشَّامِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 104

ایک دوسری سند سے بھی بواسطہ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےحدیث نمبر ١٠٤کی طرح روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ؛جلد١ص نمبر٧٥؛حدیث نمبر١٠٥"

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 105

ایک اورسندسےبھی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےحدیث نمبر ١٠٤کی طرح روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ؛جلد١ص نمبر٧٥؛حدیث نمبر١٠٦"

وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، سَمِعَهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 106

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سےروایت ہےوہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے،زکاۃ ادا کرنے،اور ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کی بیعت کی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ؛جلد١ص نمبر٧٥؛حدیث نمبر١٠٧"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: «بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 107

ایک دوسری سند سے بھی حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہر مسلمانوں سے خیر خواہی کی بیعت کی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ؛جلد١ص نمبر٧٥؛حدیث نمبر١٠٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، سَمِعَ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 108

ایک دوسری سند سے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی کہ آپ کا ہر حکم سنوں گااور مانوں گا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا تو آپ نے مجھے حسب استطاعت عمل کاحکم دیا (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ؛جلد١ص نمبر٧٥؛حدیث نمبر١٠٩"

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: «بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ - فَلَقَّنَنِي - فِيمَا اسْتَطَعْتُ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ» قَالَ يَعْقُوبُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 109

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایازانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا ہےاور جب چور چوری کرتا ہے تو وہ ایمان(کے نور)سے محروم ہوتا ہے۔جب شرابی شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ کوئی شخص لوگوں کے سامنے کسی عمدہ مال کو اچکتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بيان نقصان الإيمان بالمعاصي ونفيه عن المتلبس بالمعصية على إرادة نفي كماله؛ترجمہ:یہ باب ہے گناہوں سے ایمان کے گھٹ جانے اور بوقت گناہ گنہگار سے ایمان کے جدا ہوجانے یعنی گناہ کرتے وقت ایمان کا کامل نہ رہنے کے بیان میں؛جلد١ص نمبر٧٦؛حدیث نمبر١١٠"

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولَانِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُمْ هَؤُلَاءِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ يَقُولُ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ: «وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 110

ایک دوسری سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زانی جب زنا کرتا ہے آخر تک حدیث نمبر١١٠کی طرح ذکر کیا اور اس میں اچکنے کا بھی ذکر کیا البتہ عمدہ چیز کا ذکر نہیں پھر ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١١٠کی طرح مروی ہے البتہ اس میں اچکنے کا ذکر نہیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بيان نقصان الإيمان بالمعاصي ونفيه عن المتلبس بالمعصية على إرادة نفي كماله؛جلد١ص نمبر٧٦؛حدیث نمبر١١١"

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي» وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ يَذْكُرُ، مَعَ ذِكْرِ النُّهْبَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَاتَ شَرَفٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ هَذَا إِلَّا النُّهْبَةَ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 111

ایک دوسری سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١١٠کی طرح مروی ہے اس میں اچکنے کا ذکر ہے لیکن."عمدہ چیز"کے الفاظ نہیں کہےہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بيان نقصان الإيمان بالمعاصي ونفيه عن المتلبس بالمعصية على إرادة نفي كماله؛جلد١ص نمبر٧٦؛حدیث نمبر١١٢"

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَذَكَرَ النُّهْبَةَ وَلَمْ يَقُلْ ذَاتَ شَرَفٍ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 112

ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١١٠کی طرح مروی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بيان نقصان الإيمان بالمعاصي ونفيه عن المتلبس بالمعصية على إرادة نفي كماله؛جلد١ص نمبر٧٧؛حدیث نمبر١١٣"

وَحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 113

امام مسلم محمد بن رافع سے اور وہ اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےاور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١١٠کی طرح روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بيان نقصان الإيمان بالمعاصي ونفيه عن المتلبس بالمعصية على إرادة نفي كماله؛جلد١ص نمبر٧٧؛حدیث نمبر١١٤"

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 114

امام مسلم حضرت قتیبہ بن سعید سے اور وہ اپنی سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١١٠کی طرح روایت کرتے ہیں۔یہ سب حضرات، حضرت زہری کی حدیث روایت کرتے ہیں۔لیکن علا اور صفوان بن سلیم کی روایت(حدیث نمبر ١١٣،١١٤)میں یہ الفاظ نہیں کہ لوگوں کے سامنے اچک لے جبکہ ہمام کی روایت(حدیث نمبر ١١٥)میں ہے کہ اہل ایمان اس کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھیں اور وہ اچکتے وقت مؤمن ہو اور یہ بھی اضافہ ہے کہ کوئی شخص خیانت کرے تو وہ اس حالت میں مومن نہیں ہوتا۔پس(ان کاموں سے)اپنے آپ کو بچاؤ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بيان نقصان الإيمان بالمعاصي ونفيه عن المتلبس بالمعصية على إرادة نفي كماله؛جلد١ص نمبر٧٧؛حدیث نمبر١١٥"

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ أَنَّ الْعَلَاءَ، وَصَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: «يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ»، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: «يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ» وَزَادَ: «وَلَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 115

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجب زانی زنا کرتاہےتووہ مومن نہیں ہوتا اور نہ ہی چور چوری کرتے وقت مومن ہوتا ہےاورجب وہ شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور(اس کے باوجود)توبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بيان نقصان الإيمان بالمعاصي ونفيه عن المتلبس بالمعصية على إرادة نفي كماله؛جلد١ص نمبر٧٧؛حدیث نمبر١١٦"

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 116

ایک اور سند سےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زانی جب زنا کرتا ہے۔آخر تک حدیث نمبر١١٦کی طرح ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بيان نقصان الإيمان بالمعاصي ونفيه عن المتلبس بالمعصية على إرادة نفي كماله؛جلد١ص نمبر٧٧؛حدیث نمبر١١٧"

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي» ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 117

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چار باتیں ایسی ہیں کہ جس میں ہوں گی وہ خالص منافق ہے۔اور جس میں ان چاروں میں سے ایک خصلت ہو گی،تو اس میں نفاق کی ایک ہی عادت ہے،یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے۔ایک تو یہ کہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے،دوسری یہ کہ جب معاہدہ کرے تو اس کے خلاف کرے،تیسری یہ کہ جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، چوتھی یہ کہ جب جھگڑا کرے تو بدکلامی کرے یا گالی گلوچ کرے۔اور حضرت سفیان کی روایت میں”خلۃ“ کی جگہ”خصلۃ“ کا لفظ ہے(دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ خِصَالِ الْمُنَافِقِ؛ترجمہ؛یہ باب ہے منافق کی عادتوں کے بیان میں؛جلد١ص نمبر٧٨؛حدیث نمبر١١٨"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ " غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ: «وَإِنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 118

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامنافق کی نشانی تین ہیں.جب بات کرے تو جھوٹ بولےجب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ خِصَالِ الْمُنَافِقِ؛ جلد١ص نمبر٧٨؛حدیث نمبر١١٩"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 119

ایک دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی علامات میں سے تین باتیں یہ ہیں.جب بات کرےتوجھوٹ بولےجب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائےتوخیانت کرے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ خِصَالِ الْمُنَافِقِ؛جلد١ص نمبر٧٨؛حدیث نمبر١٢٠"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ عَلَامَاتِ الْمُنَافِقِ ثَلَاثَةٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 120

حضرت علاءبن عبد الرحمن حدیث نمبر ١٢٠کی سند سےبیان کرتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں(جو حدیث نمبر١٢٠ میں مذکور ہے)اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ خِصَالِ الْمُنَافِقِ؛جلد١ص نمبر٧٨؛حدیث نمبر١٢١"

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ أَبُو زُكَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 121

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پھر حدیث نمبر ١٢٠ کی طرح ذکر کیا اور اس میں یہ بھی ہےکہ اگرچہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان خیال کرے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ خِصَالِ الْمُنَافِقِ؛جلد١ص نمبر٧٩؛حدیث نمبر١٢٢"

وَحَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، ذَكَرَ فِيهِ: «وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 122

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب کوئی شخص اپنے(مسلمان)بھائی کو کافر کہتا ہے تو یہ بات ان میں سے ایک کی طرف لوٹتی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ:يَا كَافِرُ؛ترجمہ؛کسی مسلمان بھائی کو کافر کہنا؛ جلد١ص نمبر٧٩؛حدیث نمبر١٢٣"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَفَّرَ الرَّجُلُ أَخَاهُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 123

حضرت عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے(مسلمان)بھائی کو کافر کہے تو یہ بات ان میں سے ایک کی طرف لوٹتی ہے۔اگر وہ ایسا ہی ہو(جس کو کافر کہا گیا تو ٹھیک ہے) ورنہ اس(کہنے والے) کی طرف لوٹ آئے گا (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ:يَا كَافِرُ؛جلد١ص نمبر٧٩؛حدیث نمبر١٢٤"

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا، إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ، وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 124

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جوشخص جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے(کسی دوسرے کو اپنا باپ بناے)تواس نے ناشکری کی اور جس آدمی نے کسی دوسرے کی چیز پر دعویٰ کیا وہ ہم میں سے نہیں۔اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے اور جس نے کسی(مسلمان)کو کہا اے کافر!یا اے اللہ کے دشمن!اور وہ ایسا نہیں ہے تو یہ بات اسی کی طرف لوٹےگی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ:يَاكَافِرُ؛جلد١ص٧٩؛حدیث نمبر١٢٥"

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ، وَمَنِ ادَّعَى مَا ليْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا، وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْكُفْرِ، أَوْ قَالَ: عَدُوُّ اللهِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِلَّا حَارَ عَلَيْهِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 125

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آباؤ اجداد سے منہ نہ پھیرو جس نے اپنے باپ سے اعراض کیا(باپ نہ مانا)تو اس نے ناشکری کی (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ؛ترجمہ؛جان بوجھ کر نسب بدلنا؛جلد١ص٨٠؛حدیث نمبر ١٢٦"

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 126

حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں۔جب زیاد(کے بھائی ہونے) کا دعویٰ کیا گیا تو میں نے ابوبکرہ سے ملاقات کی۔میں نے ان سے کہا تم نے یہ کیا کیا؟میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے اپنے کانوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس نے اسلام(کی حالت) میں جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی کو اپنا باپ قرار دیا تو اس پر جنت حرام۔حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے (مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابُ بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ؛؛جان؛جلد١ص٨٠؛حدیث نمبر ١٢٧"

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ؟ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: سَمِعَ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ، يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ» فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 127

حضرت ابوعثمان،حضرت سعداور حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ دونوں سے روایت کرتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کہتا ہے کہ میرےکانوں نےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص اپنے باپ کے غیر کی طرف اپنی نسبت کرے حالانکہ وہ جانتا ہے(کہ ایسا نہیں ہے)تو اس پر جنت حرام ہے (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ؛جلد١ص٨٠؛حدیث نمبر١٢٨"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ كِلَاهُمَا، يَقُولُ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 128

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا گناہ ہےاور اس سے لڑنا کفر ہے(جب کہ اس لڑائی کو حلال سمجھے)حضرت زبید (راوی)کہتے ہیں میں نے ابو وائل راوی سے پوچھا کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ حضور علیہ السلام سے روایت کرتےہیں۔انہوں نے فرمایا ہاں میں نے سنا ہے حضرت شعبہ کی روایت میں حضرت زبید کا ابو وائل سے سوال مذکورنہیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ»؛ترجمہ؛مسلمان کو گالی دینا گناہ اور اس سے لڑنا کفر ہے؛جلد١ص٨١؛حدیث نمبر١٢٩"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» قَالَ زُبَيْدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ يَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ قَوْلُ زُبَيْدٍ لِأَبِي وَائِلٍ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 129

ایک اور دوسری سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر١٢٩کی طرح مروی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ»؛جلد١ص٨١؛حدیث نمبر١٣٠"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 130

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سےمروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا لوگوں کو خاموش کراؤ۔پھر فرمایا میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارو ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ«لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے بعد ایک دوسرے کو قتل کر کے کافر نہ ہوجانا؛جلد١ص٨١؛حدیث نمبر١٣١"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، ٍ عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّهِ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اسْتَنْصِتِ النَّاسَ» ثُمَّ قَالَ: «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 131

ایک دوسری سند سےحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١٣١کی طرح روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ«لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»؛جلد١ص٨٢؛حدیث نمبر١٣٢"

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 132

ایک اور دوسری سند سے بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا(ویحکم یا ویلکم فرمایا) تمہارے لیے ہلاکت ہو(محاورے کے طور پر فرمایا بددعا نہیں ہے)میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ«لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»؛جلد١ص٨٢؛حدیث نمبر١٣٣"

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " وَيْحَكُمْ - أَوْ قَالَ: وَيْلَكُمْ - لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 133

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سےحدیث نمبر ١٣٣کی طرح مروی ہے۔وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ«لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»؛جلد١ص٨٢؛حدیث نمبر١٣٤"

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ وَاقِدٍ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 134

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لوگوں میں دو باتیں کفر ہیں(کافروں کا طریقہ)نسب میں طعن کرنا اور میت پرنوحہ کرنا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ إِطْلَاقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى الطَّعْنِ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛نسب میں طعن کرنے والے اور میت پر نوحہ کرنے والے پر کفر کا اطلاق؛جلد١ص٨٢؛حدیث نمبر١٣٥"

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - اللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ: الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 135

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ انہوں نےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا آپ نے فرمایاجو غلام اپنے آقاؤں سے بھاگ جائے اس نے کفر کیا۔جب تک لوٹ کر ان کے پاس نہ آئے۔(یہاں کفر سے مراد ناشکری ہے کیونکہ اس نے مالک کاحق ادا نہ کیا)۔منصور راوی کہتے ہیں اللہ کی قسم یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ یہ حدیث یہاں بصرہ میں مجھ سے بیان کی جائے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَسْمِيَةِ الْعَبْدِ الْآبِقِ كَافِرًا؛ترجمہ؛بھاگے ہوئے غلام کو کافر کہنے کا بیان؛جلد١ص٨٣؛حدیث نمبر١٣٦"

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: «أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ» قَالَ مَنْصُورٌ: «قَدْ وَاللهِ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يُرْوَى عَنِّي هَاهُنَا بِالْبَصْرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 136

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو غلام بھاگ جاے وہ(اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کی) ضمانت سے نکل گیا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَسْمِيَةِ الْعَبْدِ الْآبِقِ كَافِرًا؛جلد١ص٨٣؛حدیث نمبر١٣٧"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 137

حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب غلام بھاگ جاتا ہے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔(سخت وعید ہے تاکہ باز رہے)۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَسْمِيَةِ الْعَبْدِ الْآبِقِ كَافِرًا؛جلد١ص٨٣؛حدیث نمبر١٣٨"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 138

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز حدیبیہ میں( جو مکہ کے قریب ایک مقام کا نام ہے )پڑھائی اور رات کی بارش کا اثر باقی تھا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا؟صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ میرے بندوں میں سے بعضوں کی صبح تو ایمان پر ہوئی اور بعضوں کی کفر پر۔تو جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ مجھ پر ایمان لا یا اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی ہے تو وہ میرا انکار کرنے والا اور ستاروں پر ایمان(عقیدہ) رکھنے والا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ:مُطِرْنَا بِالنَّوْءِ؛ترجمہ؛جس نے کہا ہمیں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش حاصل ہوئی اس نے کفر کیا؛ جلد١ص٨٣؛حدیث نمبر١٣٩"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 139

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات کو نہیں دیکھتے جو تمہارے رب نے فرمائی ہے۔اس نے ارشاد فرمایا میں اپنے بندوں کو جو نعمت عطا کرتا ہوں تو ایک جماعت اس کا انکار کرتی ہے اور وہ کہتے ہیں ہمیں یہ بارش ستاروں کی وجہ سے ملی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِالنَّوْءِ؛جلد١ص٨٤؛حدیث نمبر١٤٠"

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ الْمُرَادِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ. يَقُولُونَ الْكَوَاكِبُ وَبِالْكَوَاكِبِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 140

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے کہا اللہ تعالیٰ آسمان سے جو برکت نازل فرماتا ہے(یعنی بارش)تو ایک جماعت اس کا انکار کرتی ہے۔بارش اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے(ایک روایت میں کواکب ہے اور دوسری میں کوکب ہے۔دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِالنَّوْءِ؛جلد١ص٨٤؛حدیث نمبر١٤١"

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَرَكَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ، يُنْزِلُ اللهُ الْغَيْثَ فَيَقُولُونَ: الْكَوْكَبُ كَذَا وَكَذَا " وَفِي حَدِيثِ الْمُرَادِيِّ: «بِكَوْكَبِ كَذَا وَكَذَا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 141

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں پر بارش برسی تو لوگوں میں سے بعض اس کا شکر ادا کرنے والے ہو گئے اور بعض نے انکار(شکر کرنے والوں نے کہا) یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں ہے(اور ان میں بعض جنہوں نے انکار کیا)نے کہا فلاں فلاں ستارہ سچا ہو گیا آپ فرماتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔{فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} [الواقعة: ٧٥]،حَتَّى بَلَغَ: {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ} [الواقعة:٨٢]ترجمہ؛قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے۔بے شک یہ عزت والا قرآن ہے۔محفوظ نوشتہ میں اسے نہ چھوئیں مگر باوضو،اتارا ہوا ہے سارے جہاں کے رب کا تو کیا اس بات میں تم سستی کرتے ہو اور اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ جھٹلاتے ہو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِالنَّوْء؛جلد١ص٨٤؛حدیث نمبر ١٤٢"

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے کہا اللہ تعالیٰ آسمان سے جو برکت نازل فرماتا ہے تو ایک جماعت اس کا انکار کرتی ہے۔بارش اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے(ایک روایت میں کواکب ہے اور دوسری میں کوکب ہے۔دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے)(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِالنَّوْءِ؛جلد١ص٨٤؛حدیث نمبر١٤١)

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 142

حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سےسنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی علامت انصارسےبغض رکھنا اور مؤمن کی نشانی انصار سے محبت رکھنا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ حُبَّ الْأنْصَارِ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ وَعَلَامَاتِهِ، وَبُغْضِهِمْ مِنْ عَلَامَاتِ النِّفَاقِ؛ترجمہ؛انصار اور حضرت علی رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے؛جلد١ص٨٥؛ حدیث نمبر١٤٣"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آيَةُ الْمُنَافِقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ، وَآيَةُ الْمُؤْمِنِ حُبُّ الْأَنْصَارِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 143

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا انصار کی محبت ایمان کی علامت اور ان سے دشمنی منافقت کی علامت ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ حُبَّ الْأنْصَارِ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ وَعَلَامَاتِهِ، وَبُغْضِهِمْ مِنْ عَلَامَاتِ النِّفَاقِ؛جلد١ص٨٥؛ حدیث نمبر١٤٤"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «حُبُّ الْأَنْصَارِ آيَةُ الْإِيمَانِ، وَبُغْضُهُمْ آيَةُ النِّفَاقِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 144

حضرت براءرضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کرتےہیں۔آپ نے انصار کے بارے میں فرمایا کہ ان سے محبت وہی کرتا ہےجو مؤمن ہےاور ان سے دشمنی صرف منافق کرتا ہے جو ان سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ہے۔اللہ تعالی اس کو ناپسند کرتا ہے۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات حضرت براءرضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو انہوں نے فرمایا۔انہوں نے مجھ سے ہی بیان فرمائی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ حُبَّ الْأنْصَارِ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ وَعَلَامَاتِهِ،وَبُغْضِهِمْ مِنْ عَلَامَاتِ النِّفَاقِ؛جلد١ص٨٥؛حدیث نمبر١٤٥"

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ: «لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللهُ» قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِعَدِيٍّ: سَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ؟، قَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 145

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص انصار سے بغض نہیں رکھتا جو اللہ تعالیٰ اور اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ حُبَّ الْأنْصَارِ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ وَعَلَامَاتِهِ، وَبُغْضِهِمْ مِنْ عَلَامَاتِ النِّفَاقِ؛جلد١ص٨٦؛حدیث نمبر١٤٦"

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 146

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔وہ انصار سے بغض نہیں رکھے گا۔(حب مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی ہجرت کی تو انصار نے ان کو ٹھکانہ دیا اور ہر قسم کی مدد کی اس لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ اعزاز عطا کیا ہے کہ ان کی محبت کو ایمان کی علامت قرار دیا ) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ حُبَّ الْأنْصَارِ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ وَعَلَامَاتِهِ، وَبُغْضِهِمْ مِنْ عَلَامَاتِ النِّفَاقِ؛جلد١ص٨٦؛حدیث نمبر١٤٧"

وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 147

حضرت زِر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور ذی روح کو پیدا کیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ مجھ سے وہی محبت کرے گا جو مؤمن ہوگا اور مجھ سے منافق ہی بغض رکھے گا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ حُبَّ الْأنْصَارِ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ وَعَلَامَاتِهِ، وَبُغْضِهِمْ مِنْ عَلَامَاتِ النِّفَاقِ؛جلد١ص٨٥؛ حدیث نمبر١٤٨"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ: «أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 148

حضرت عبداللہ بن عمر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایااےعورتوں کی جماعت! تم صدقہ دو اور استغفار کرو،کیونکہ میں نے دیکھا کہ جہنم میں زیادہ تعداد میں عورتیں ہیں۔ایک عقلمند عورت بولی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا سبب ہے،عورتیں کیوں زیادہ جہنم میں ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لعنت بہت کرتی ہیں اور خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔میں نے تم سے بڑھ کر کسی کو عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص نہیں دیکھا تم عقلمند انسان پر بھی غالب آجاتی ہو۔اس نے پوچھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عقل کے اعتبار سے نقصان یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہےتو یہ عقل کے اعتبار سے کمی ہے۔اور دین میں کمی یہ ہے کہ عورت کئی راتیں (اور دن) اس طرح گزارتی ہے کہ نماز نہیں پڑھ سکتی اور رمضان المبارک میں روزہ نہیں رکھ سکتی(حیض ونفاس کی وجہ سے)ایک دوسری سند سے بھ مذکورہ بالا حدیث مروی ہے (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ نُقْصَانِ الْإِيمَانِ بِنَقْصِ الطَّاعَاتِ، وَبَيَانِ إِطْلَاقِ لَفْظِ الْكُفْرِ عَلَى غَيْرِ الْكُفْرِ بِاللهِ، كَكُفْرِ النِّعْمَةِ وَالْحُقُوقِ؛ترجمہ؛عبادات کی کمی سے ایمان کا گھٹنا ،اور کفر کا کفران نعمت پر اطلاق کا بیان؛ جلد١ص٨٦؛ حدیث نمبر ١٤٩"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ وَأَكْثِرْنَ الِاسْتِغْفَارَ، فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ» فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ جَزْلَةٌ: وَمَا لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ: " أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ: فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ، وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ مَا تُصَلِّي، وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ " وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 149

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے(حدیث نمبر ١٤٩)کی مثل روایت ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ نُقْصَانِ الْإِيمَانِ بِنَقْصِ الطَّاعَاتِ، وَبَيَانِ إِطْلَاقِ لَفْظِ الْكُفْرِ عَلَى غَيْرِ الْكُفْرِ بِاللهِ، كَكُفْرِ النِّعْمَةِ وَالْحُقُوقِ؛جلد١ص٨٧؛حدیث نمبر ١٥٠"

وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 150

ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (حدیث نمبر ١٤٩ کے معنی کی مثل مروی ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ نُقْصَانِ الْإِيمَانِ بِنَقْصِ الطَّاعَاتِ، وَبَيَانِ إِطْلَاقِ لَفْظِ الْكُفْرِ عَلَى غَيْرِ الْكُفْرِ بِاللهِ، كَكُفْرِ النِّعْمَةِ وَالْحُقُوقِ؛جلد١ص٨٧؛حدیث نمبر ١٥١"

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 151

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجب انسان آیتِ سجدہ پڑھ کرسجدہ کرتا ہےتو شیطان دور ہو جاتا ہے اور روتے ہوئے کہتا ہے ہاے ہلاکت!(ابو بکر بن شیبہ کی روایت میں"یاویل"اور ابوکریب کی روایت میں"ویلی"کے ألفاظ ہیں دونوں کا معنی ہلاکت ہے)انسان کو سجدے کا حکم دیا گیاتو اس نے سجدہ کیا پس اس کے لئے جنت ہےاور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا پس میرے لئے جہنم ہے. (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ إِطْلَاقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ؛ترجمہ؛ترک نماز پر لفظِ کفر کا اطلاق؛جلد١ص٨٧؛حدیث نمبر١٥٢"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ: يَا وَيْلِي - أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 152

ایک دوسری سند کے ساتھ حدیث نمبر ١٥٢کی طرح مروی ہےالبتہ اس میں یوں ہے کہ میں نے نافرمانی کی پس میرے لئے جہنم ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ إِطْلَاقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٨٨؛حدیث نمبر١٥٣"

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَعَصَيْتُ فَلِيَ النَّارُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 153

حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ انسان(مسلمان) اور شرک وکفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔(مطلب یہ ہے کہ مسلمان نماز پڑھتا ہے اور کافر اور مشرک نہیں پڑھتا لہذانمازمسلمانوں کا شعار ہےاس کا یہ مطلب نہیں کہ نماز نہ پڑھنے سے کافر ہو جاتا ہے ہاں انکار کرے تو کافر ہو جائے گا) ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ إِطْلَاقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ؛ جلد١ص٨٨؛حدیث نمبر١٥٤"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 154

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے انسان اور کفروشرک کےدرمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ إِطْلَاقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٨٨؛حدیث نمبر١٥٥"

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 155

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا،پوچھا گیا پھر کونسا عمل؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا،کہا گیا پھر کونسا؟فرمایا مقبول حج، حضرت محمد بن جعفر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ بِاللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ؛ترجمہ؛اللہ تعالٰی پر ایمان سب سے زیادہ فضیلت والا کام ہے؛جلد١ص٨٨؛حدیث نمبر١٥٦"

وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ح، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللهِ»، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ» قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «حَجٌّ مَبْرُورٌ»، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 156

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٦کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ بِاللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ؛جلد١ص٨٨؛حدیث نمبر١٥٧"

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 157

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کون سا عمل زیادہ فضیلت والا ہے؟فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کون سی سواری سب سے بہتر ہے فرمایا جو اپنے مالکوں کے یہاں نفیس ترین ہو اور اس کی قیمت سب سے زیادہ ہو-فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟فرمایا کسی شخص کے کام میں اس کی مدد کرو اور بےہنر کے لیے کام کرو-فرماتے ہیں -میں نے عرض کیا اگر میں کسی کام کی طاقت بھی نہ رکھوں؟آپ نے فرمایا لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو،یہ تمہاری طرف سےتمہارے نفس پر صدقہ ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ بِاللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ؛جلد١ص٨٩؛حدیث نمبر١٥٨"

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ» قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا» قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: «تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: «تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 158

ایک دوسری سند کےساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١٥٨کی طرح روایت کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اس روایت میں ہے کہ کسی شخص کے کام میں مدد کر اور بےہنر کے لئے کام کر(البتہ الفاظ کے معرفہ اور نکرہ ہونے میں فرق ہے۔پہلی روایت میں"صانعا"اور دوسری میں"الصانع"ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ بِاللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ؛جلد١ص٨٩؛حدیث نمبر١٥٩"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 159

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل زیادہ بہتر ہے؟آپ نے فرمایا وقت پر نماز ادا کرنا،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا پھر کونسا؟فرمایا ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا،فرماتے ہیں میں نے پوچھا پھر کونسا عمل؟آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا میں مزید پوچھنا چاہتا تھا مگر آپ کی طبیعت پربوجھ پڑنے کا خیال کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ بِاللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ؛جلد١ص٨٩؛حدیث نمبر١٦٠"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قَالَ: قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ» فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ إِلَّا إِرْعَاءً عَلَيْهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 160

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!کونسا عمل جنت کے زیادہ قریب ہے؟آپ نے فرمایا وقت پر نماز کی ادائیگی،میں نے عرض کیا اور کیا؟ فرمایا ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا،میں نے عرض کیا اور کیا؟آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ بِاللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ؛جلد١ص٨٩؛حدیث نمبر١٦١"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا» قُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 161

ابوعمروالشیبانی فرماتے ہیں مجھ سے اس گھر والے یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون ساعمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا وقت پر نماز پڑھنا۔میں نے پوچھا پھر کونسا عمل؟آپ نے فرمایا والدین سےاچھا سلوک کرنا۔میں نے عرض کیا پھر کونسا؟فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمایا اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ مزید ارشاد فرماتے (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ بِاللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ؛جلد١ص٩٠؛حدیث نمبر١٦٢"

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ» قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 162

ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ١٦٢کی طرح مروی ہے۔اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابوعمروالشیبانی نےحضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور ان کا نام نہیں لیا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ بِاللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ؛جلد١ص٩٠؛حدیث نمبر١٦٣"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللهِ، وَمَا سَمَّاهُ لَنَا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 163

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا افضل اعمال یا فرمایا عمل،وقت پر نماز پڑھنا اور ماں باپ سے حسن سلوک کرنا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ بِاللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ؛جلد١ص٩٠؛حدیث نمبر١٦٤"

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ - أَوِ الْعَمَلِ - الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 164

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک کونسا گناہ سب سےبڑا(گناہ)ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا، فرماتے ہیں میں نے عرض کیا بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا پھر کونسا گناہ ہے؟فرمایا پھر یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس بات کے خوف سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے فرماتے ہیں میں نے عرض کیااس کے بعد کونسا گناہ(بڑا گناہ ہے)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ كَوْنِ الشِّرْكِ أَقْبَحَ الذُّنُوبِ،وَبَيَانِ أَعْظَمِهَا بَعْدَهُ؛ترجمہ؛شرک سب سے بڑا گناہ ہے؛جلد١ص٩٠؛حدیث نمبر١٦٥"

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 165

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نزدیک کونسا گناہ سب سے بڑا(گناہ)ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔ عرض کیا پھر کونسا گناہ ہے؟فرمایا پھر یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس بات کے خوف سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے اس نے عرض کیااس کے بعد کونسا گناہ(بڑا گناہ ہے)آپ نےفرمایا اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا۔پس اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی۔{وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ،وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ٦٨]ترجمہ؛ اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ہے ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پاے گا؛ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ كَوْنِ الشِّرْكِ أَقْبَحَ الذُّنُوبِ،وَبَيَانِ أَعْظَمِهَا بَعْدَهُ؛جلد١ص٩١؛حدیث نمبر١٦٦"

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ» قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ» فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ٦٨]

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 166

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد(رضی اللہ عنہما)سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں۔آپ نے تین بار پوچھا(پھر فرمایا)اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا۔ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔اور جھوٹی گواہی دینا یا فرمایا جھوٹی بات کرنا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگا رکھی تھی تو سیدھے ہوکر تشریف فرما ہوئے۔پس مسلسل یہ بات فرماتے رہے حتیٰ کہ ہم نے(دل)میں کہا کاش آپ خاموشی اختیارفرمالیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الْكَبَائِرِ وَأَكْبَرِهَاِ؛ترجمہ؛کبیرہ گناہ؛جلد١ص ٩١؛حدیث نمبر١٦٧"

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟» ثَلَاثًا «الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ - أَوْ قَوْلُ الزُّورِ -» وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا، فَجَلَسَ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 167

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ماں باپ کی نافرمانی کرنا کسی کو(ناحق)قتل کرنا اور جھوٹی بات کہنا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الْكَبَائِرِ واکبرہا؛جلد١ص٩١؛حدیث نمبر١٦٨"

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَبَائِرِ، قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَوْلُ الزُّورِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 168

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا۔آپ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایااللہ تعالیٰ کے ساتھ(کسی کو)شریک ٹھہرانا، کسی(جان) کو ناحق قتل کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں؟(پھر)فرمایا جھوٹی بات یا(جھوٹی)شہادت،حضرت شعبہ فرماتے ہیں۔میراغالب گمان یہی ہے آپ نے جھوٹی شہادت کا ذکر فرمایا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الْكَبَائِرِ واکبرہا؛جلد١ص٩٢؛حدیث نمبر١٦٩"

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ - أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ - فَقَالَ: «الشِّرْكُ بِاللهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ» وَقَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟» قَالَ: " قَوْلُ الزُّورِ - أَوْ قَالَ: شَهَادَةُ الزُّورِ - "، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 169

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-سات ہلاکت خیز کاموں سے بچو_عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ سات باتیں کیا ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا،جادو کرنا،کسی جان کو ناحق قتل کرنا جسےاللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا،یتیم کا مال کھانا،سود کھانا،جہاد کے دن بھاگ جانا،پاکدامن بےخبر مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الْكَبَائِرِ واکبرہا؛جلد١ص ٩٢؛حدیث نمبر١٧٠"

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَأَكْلُ الرِّبَا، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصِنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 170

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کسی آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے(ایک گناہ)ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیایارسول اللہ کیا کوئی شخص اپنے والدین کو گالی دیتا ہے؟فرمایاوہ کسی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ دوسرا شخص اس کے باپ کو گالی دیتا ہےاور وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ شخص اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الْكَبَائِرِ واکبرہا؛جلد١ص ٩٢؛حدیث نمبر١٧١"

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 171

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧١ کی طرح مروی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الْكَبَائِرِ واکبرہا؛جلد١ص٩٢؛حدیث نمبر١٧٢"

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلَاهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 172

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جس کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائیگا۔ایک شخص نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کا جوتا اچھا ہو(تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟)آپ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال(خوبصورتی)کو پسند کرتا ہے تکبر حق بات کوجھٹلانااور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ؛ترجمہ تکبر کا حرام ہونا اور تکبر کیا ہے؛ جلد١ص٩٣؛حدیث نمبر١٧٣"

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ» قَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ: «إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 173

حضرت عبداللہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گاجس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہوگااور وہ شخص جنت میں نہیں جائیگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔(مطلب یہ ہے کہ اول مرحلے میں جنت میں نہیں جائیگا بعد میں جائیگا اور تکبر کی وجہ سے ضروریاتِ دین کا منکر ہو تو کفر کی وجہ سے جہنم میں جائیگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ؛جلد١ص٩٣؛حدیث نمبر١٧٤"

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، قَالَ مِنْجَابٌ: أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرِيَاءَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 174

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ؛جلد١ص٩٣؛حدیث نمبر١٧٥"

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 175

حضرت ابن نمیر اور حضرت وکیع دونوں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حالت میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو وہ جہنم میں جائے گا۔اور میں کہتا ہوں جو شخص اس حالت میں فوت ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ،وَمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا دَخَلَ النَّارَ؛ترجمہ؛ایمان پرخاتمہ دخول جنت اور کفر پر مرنا جہنم میں جانے کا باعث ہے جلد١ص٩٤؛حدیث نمبر١٧٦"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - قَالَ وَكِيعٌ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ»، وَقُلْتُ أَنَا: «وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 176

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سےروایت ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! دو لازم کرنے والی چیزیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا جوشخص فوت ہواور وہ مشرک نہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگااور جو آدمی حالت شرک پر انتقال کرے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ،وَمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا دَخَلَ النَّارَ؛جلد١ص٩٤؛حدیث نمبر١٧٧"

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ: «مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 177

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے یوں ملاقات کرے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایاہوتووہ جنت میں جائیگااور جو شخص اس سے ملاقات کرے اور اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا ہو تو وہ جہنم میں جائیگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ،وَمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا دَخَلَ النَّارَ؛جلد١ص٩٤؛حدیث نمبر١٧٨"

وَحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ لَقِيَ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ» قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 178

ایک دوسری سند کےساتھ بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٧٨کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ،وَمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا دَخَلَ النَّارَ؛جلد١ص٩٤؛حدیث نمبر١٧٩"

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 179

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے خوشخبری دی کہ آپ کی امت میں سے جو شخص فوت ہو جائے اور وہ اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا-میں نے پوچھا اگر چہ زنا کرے اور اگرچہ چوری کرے؟آپ نے فرمایا اگرچہ زنا کرے اور اگرچہ چوری کرے (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ،وَمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا دَخَلَ النَّارَ؛جلد١ص٩٤؛حدیث نمبر١٨٠"

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 180

حضرت ابو الاسود الدیلی سے روایت ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بیان کیا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ آرام فرما رہے تھے آپ پر سفید کپڑا تھا(میں واپس لوٹ گیا)۔جب دوبارہ آیا توبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمارہےتھے۔جب تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ چکے تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لا الٰہ الا اللہ کہے (یعنی اللہ کی توحید کا عقیدہ رکھے اور پھر اسی پر)وہ فوت ہو جائے تو جنت میں جائے گا۔میں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ اس سے چوری اور زنا بھی ہو جائے،پھر بھی؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''ہاں اگرچہ اس سے زنا اور چوری بھی ہو جائے''چنانچہ میں نے تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا اور چوتھی مرتبہ سوال پر فرمایا ''ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو"(یہ محاورے کے طور پر ہے بددعا نہیں ہے)راوی فرماتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ یہ بات فرماتے ہوئے باہر تشریف لائے کہ ابوذرکی ناک خاک آلود ہو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ،وَمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا دَخَلَ النَّارَ؛جلد١ص٩٥؛حدیث نمبر١٨١"

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: «وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ» قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: «وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ» ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: «عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ» قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 181

حضرت مقداد بن اسودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر مجھے کسی کافر سے مڈ بھیڑہوجائے وہ مجھ سے لڑے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ ڈالے پھر مجھ سے بچ کر ایک درخت کی آڑ لے لے اور کہنے لگے کہ میں اللہ کے لئے اسلام لایا تو کیا میں اس کو قتل کر دوں جبکہ وہ کلمہ اسلام کہہ چکا ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو مت قتل کر۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس نے میرا ہاتھ کاٹ ڈالا پھر ایسا کہنے لگا تو کیا میں اس کو قتل کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو قتل مت کر۔ (اگرچہ تجھ کواس سے صدمہ پہنچا اور زخم لگا)اگر تو اس کو قتل کرے گا تو وہ اس مقام پر ہوگا جس پر تم قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس کی جگہ ہو گے جس مقام پر وہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْكَافِرِ بَعْدَ أَنْ قَالَ:لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛ترجمہ؛کوئی کافر لاالہ الا اللہ پڑھےتو اس کے بعد قتل کرنا حرام ہے؛جلد١ص٩٥؛حدیث نمبر١٨٢"

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ - وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ - أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْتُلْهُ» قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا، أَفَأَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 182

امام مسلم نے مختلف سندوں کےساتھ اس حدیث کو ذکر کیا اور یہ حدیث نمبر ١٨٢کی طرح ہےالبتہ اس میں یہ ہے کہ وہ کہے اسلام لایا میں اللہ کے لیے اورحضرت معمر کی روایت میں یہ تبدیلی ہے کہ انہوں نے فرمایا جب میں اسے قتل کرنے کی طرف مائل ہوا تو اس نے لاالہ الا اللہ پڑھا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْكَافِرِ بَعْدَ أَنْ قَالَ:لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد١ص٩٦؛حدیث نمبر ١٨٣"

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. أَمَّا الْأَوْزَاعِيُّ، وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ كَمَا قَالَ اللَّيْثُ. وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ: فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 183

ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت مقداد بن عمروجو ابن اسود کندی کہلاتے ہیں۔یہ بنو زہرہ کے حلیف تھے اور بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہونے والوں میں سے تھے۔فرماتے ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!بتائیں اگر کسی کافر سے میرا آمنا سامنا ہو،اس کے بعد حدیث نمبر ١٨٢کی مثل ذکر کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْكَافِرِ بَعْدَ أَنْ قَالَ:لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد١ص٩٦؛حدیث نمبر ١٨٤"

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 184

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا۔صبح کے وقت ہم جہینہ قبیلہ کی بستی میں پہنچ گئے ۔پھر میں نے ایک شخص کو پایا،اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا میں نے برچھی سے اس کو مار دیا۔اس کے بعد میرے دل میں وہم ہوا(کہ لا الٰہ الا اللہ کہنے پر مارنا درست نہ تھا)میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا تھا اور تو نے اس کو مار ڈالا؟میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے ہتھیار سے ڈر کر کہا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا تاکہ تجھے معلوم ہوتا کہ اس کے دل نے یہ کلمہ کہا تھا یا نہیں؟ (مطلب یہ ہے کہ دل کا حال تجھے کہاں سے معلوم ہوا؟)پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں اسی دن مسلمان ہوا ہوتا (تو اسلام لانے کے بعد ایسے گناہ میں مبتلا نہ ہوتا کیونکہ اسلام لانے سے کفر کے اگلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں)۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم میں کسی مسلمان کو نہ ماروں گا جب تک اس کو ذوالبطین یعنی اسامہ نہ مارے۔ایک شخص بولا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے:وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} [الأنفال٣٩]؟”؛ان سے لڑو حتیٰ کہ فتنہ نہ رہے اور پورے کا پورا دین اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جائے"۔تو سیدنا سعدرضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم تو(کافروں سے )اس لئے لڑے کہ فساد نہ ہواور تو اور تیرے ساتھی اس لئے لڑتے ہیں کہ فساد ہو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْكَافِرِ بَعْدَ أَنْ قَالَ:لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد١ص٩٦؛حدیث نمبر١٨٥"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَأَدْرَكْتُ رَجُلًا فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَقَتَلْتَهُ؟» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلَاحِ، قَالَ: «أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟» فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: فَقَالَ سَعْدٌ: وَأَنَا وَاللهِ لَا أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: أَلَمْ يَقُلِ اللهُ: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} [الأنفال: ٣٩]؟ فَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَأَنْتَ وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 185

حضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ فرماتےہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حرقہ کی طرف بھیجا جو جہینہ کا ایک قبیلہ ہے۔ہم نے صبح کے وقت ان پر چڑھائی کی اور ان کو شکست دی۔(جنگ کے دوران) مجھےاور ایک انصاری کو ایک آدمی ملا،اس کو پکڑکر ہم مارنے والے ہی تھے کہ اس نے(فورا )لا الہ الا اللہ کہہ دیا۔انصاری پیچھے ہٹ گیا اور میں نے نیزے کے ساتھ اس کو مار ڈالا یہاں تک کہ مر گیا۔جب ہم واپس آگئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اسامہ تو نے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی اس کو مار ڈالا۔میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس نے اپنے آپ کو بچانے کی خاطر کہا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی اس کو مار ڈالا۔آپ بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کاش میں آج سے پہلے اسلام قبول نہ کرتا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْكَافِرِ بَعْدَ أَنْ قَالَ:لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد١ص٩٧؛حدیث نمبر١٨٦"

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، يُحَدِّثُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " يَا أُسَامَةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا، قَالَ: فَقَالَ: «أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟» قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 186

صفوان بن محرز سے روایت ہے کہ سیدنا جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو پیغام بھیجا سیدنا عبد اللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے زمانۂ فتنہ میں کہ تم اپنے چند بھائیوں کو اکٹھا کرو تاکہ میں ان سے باتیں کروں۔عسعس نے لوگوں کو پیغام بھیجا۔وہ اکٹھے ہوئے تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ آئے،ایک زرد برنس اوڑھے ہوئے تھے(بُرنس زردرنگ کی ٹوپی یا چادرہے جسے لوگ شروع زمانہ اسلام میں پہنتے تھے )انہوں نے کہا کہ تم باتیں کرو جو کرتے تھے۔یہاں تک کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کی باری آئی تو انہوں نے برنس اپنے سر سے ہٹا دیا اور کہا کہ میں تمہارے پاس صرف اس ارادے سے آیا ہوں کہ تم سے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کروں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکوں کی ایک قوم پر بھیجا اور وہ دونوں ملے(یعنی آمنا سامنا ہوا میدانِ جنگ میں)تو مشرکوں میں ایک شخص تھاجب وہ کس مسلمان کو قتل کرنا چاہتا تو اسے شہید کر دیتا آخر ایک مسلمان نے اس کو غفلت(کی حالت میں)دیکھا۔راوی فرماتے ہیں(کہ)وہ مسلمان سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر جب انہوں نے تلوار اس پر سیدھی کی تو اس نے کہا لا الٰہ الا اللہ لیکن انہوں نے اسے مار ڈالا اس کے بعد قاصد خوشخبری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حال پوچھا۔اس نے سب حال بیان کیا یہاں تک کہ اس شخص کا بھی حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایااور پوچھا کہ تم نے کیوں اس کو مارا؟سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیف دی، فلاں اور فلاں کو مارا اور کئی آدمیوں کا نام لیا۔پھر میں اس پر غالب ہوا،جب اس نے تلوار کو دیکھا تو لا الٰہ الا اللہ کہنے لگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کو قتل کر دیا؟انہوں نے کہا ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیا جواب دو گے جب وہ لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ آئیگا؟انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے لئے بخشش کی دعا کیجئے!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا جواب دو گےجب وہ لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ آئیگا قیامت کے دن؟پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ کچھ نہ کہا اور یہی کہتے رہے کہ تم کیا جواب دو گے لا الٰہ الا اللہ کا جب وہ قیامت کے دن وہ کلمے کے ساتھ آئیگا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْكَافِرِ بَعْدَ أَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد١ص٩٧؛حدیث نمبر ١٨٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ خَالِدًا الْأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، حَدَّثَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيَّ بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ، فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ، فَقَالَ: تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ، فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ، قَالَ: وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَتَلَهُ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ، حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «لِمَ قَتَلْتَهُ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ، وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا، وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا، وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقَتَلْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: «وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 187

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا؛ترجمہ؛جوشخص ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے؛جلد١ص٩٨؛حدیث نمبر١٨٨"

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 188

حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد سے(رضی اللہ عنہما )اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایاجس نے ہم پر تلوار میان سے نکالی وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا؛جلد١ص٩٨؛حدیث نمبر١٨٩"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيْفَ فَلَيْسَ مِنَّا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 189

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا جس نے ہم پر ہتھیاراٹھایاوہ ہم میں سے نہیں(ان احادیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ کسی مسلمان کو ڈرانا کس قدر جرم ہے اور یہ مسلمان کا کام نہیں کیونکہ مسلمان کو دہشت زدہ کرنا کافروں کا کام ہے مسلمانوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے)۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا؛جلد١ص٩٨؛حدیث نمبر١٩٠"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 190

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہم(مسلمانوں)پر ہتھیار اٹھایا۔وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ(بھی)ہم میں سے نہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ قوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»؛ترجمہ؛جوشخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں؛جلد١ص٩٩؛حدیث نمبر١٩١"

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، كِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 191

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو آپ نےاپنا دست مبارک اس میں داخل کیا تو آپ کے ہاتھ کو رطوبت پہنچی۔آپ نے فرمایا اے غلے والے! یہ کیا ہے؟اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بارش پہنچی ہے۔آپ نے فرمایا تم نے اسے غلے کے اوپر کیوں نہیں کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے جو شخص دھوکہ کرتا ہے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ قوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»؛جلد١ص٩٩؛حدیث نمبر١٩٢"

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 192

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جو(مصیبت کے وقت)منہ پیٹے یا گریبان پھاڑے یا جاہلیت کی پکار پکارے(ماتم کرے)(اس حدیث کا مطلب بھی یہی ہے کہ دور جاہلیت والے کاموں سے بچنا چاہیے یہ مطلب نہیں کہ وہ کافر ہوگیا ہاں کفریہ کلمات کہنے سے کافر ہو جائیگا) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؛ترجمہ؛پیٹنا، گریبان وغیرہ پھاڑنا اور جاہلیت کے کلمات بولنا؛جلد١ص٩٩؛حدیث نمبر١٩٣"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ» هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، وَأَمَّا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَا: «وَشَقَّ وَدَعَا بِغَيْرِ أَلِفٍ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 193

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٣کی طرح مروی لیکن وہ"یا"کے ساتھ نہیں بلکہ واو کے ساتھ ہے کہ گریبان پھاڑااور جاہلیت کی پکار پکاری۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؛ جلد١ص١٠٠؛حدیث نمبر١٩٤"

وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَقَالَا: «وَشَقَّ وَدَعَا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 194

حضرت ابوبردہ بن ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو سخت درد تھا۔پس آپ بےہوش ہوگئے اور ان کا سر ان کے گھر کی کسی خاتون کی گود میں تھا تو اہل خانہ میں سے کوئی خاتون چینخ چینخ کرپکارنے لگی لیکن حضرت ابوموسیٰ اسے کوئی جواب نہ دے سکے۔جب افاقہ ہوا تو فرمایا میں اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا۔بےشک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے والی،سرمنڈانے والی اور گریبان پھاڑنے والی عورتوں سے بیزار تھے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؛جلد١ص١٠٠؛حدیث نمبر١٩٥"

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، قَالَ: وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ، وَالْحَالِقَةِ، وَالشَّاقَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 195

حضرت عبدالرحمن بن یزید اور ابوبردہ بن ابو موسیٰ دونوں فرماتے کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بے ہوش ہوگئے تو ان کی زوجہ ام عبداللہ آئیں اور روتے ہوئے چلانے لگیں۔دونوں راوی فرماتے ہیں۔جب انکو افاقہ ہواتو انہوں نے فرمایا کیا تم نہیں جانتی اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس(عورت)سے بیزار ہوں جو سر منڈوائے،نوحہ کرے اور کپڑے پھاڑے۔(جو لوگ محرم میں ماتم کرتے ہیں ان کو یہ احادیث پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جس کام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس سے باز رہنا ضروری ہے)۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؛جلد١ص١٠٠؛حدیث نمبر١٩٦"

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَا: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى وَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ، قَالَا: ثُمَّ أَفَاقَ، قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمِي وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 196

امام مسلم نے تینوں سندوں کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےیہ حدیث روایت کرتے ہیں۔البتہ ان میں ایک راوی حضرت عیاض اشعری کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا۔وہ ہم میں سے نہیں،بیزار ہونے کا لفظ نہیں فرمایا (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؛جلد١ص١٠٠؛حدیث نمبر١٩٧"

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا» وَلَمْ يَقُلْ «بَرِيءٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 197

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص چغل خوری کرتا تھا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ؛ترجمہ؛چغلی کھاناسخت حرام ہے؛ جلد١ص١٠١؛حدیث نمبر١٩٨"

وَحَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبُعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذيْفَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا يَنِمُّ الْحَدِيثَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 198

حضرت ھمام بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں کہ ایک شخص لوگوں کی باتیں حاکم تک پہنچاتا تھاپس ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا یہ شخص حاکم تک باتیں پہنچاتاہے۔وہ آدمی آیا اور اسکے پاس بیٹھ گیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا چغل خور جنت میں نہیں جائے گا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ؛جلد١ص١٠١؛حدیث نمبر١٩٩"

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَى الْأَمِيرِ، فَكُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: الْقَوْمُ هَذَا مِمَّنْ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَى الْأَمِيرِ، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 199

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ھمام بن حارث سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آکر ہمارے پاس بیٹھ گیا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ یہ شخص بادشاہ تک باتیں پہنچاتاہے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے سناتے ہوئے فرمایا۔میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ؛جلد١ص١٠١؛حدیث نمبر٢٠٠"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح، وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ حُذَيْفَةَ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا فَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ: إِنَّ هَذَا يَرْفَعُ إِلَى السُّلْطَانِ أَشْيَاءَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ إِرَادَةَ أَنْ يُسْمِعَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 200

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا تین(قسم کے) آدمی وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں کریگا نہ انکی طرف نظر رحمت فرمائے گا اور نہ ہی ان کو پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عزاب ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا وہ لوگ نامراد ہوئے اور انہوں نے نقصان اٹھایا۔یا رسول اللہ!وہ کون لوگ ہیں؟آپ نے فرمایا(تکبرکے طور پر)تہبند(یا شلوار وغیرہ ٹخنوں سے نیچے)لٹکانے والا،بہت زیادہ احسان جتانے والا اور اپنا سامان جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ إِسْبَالِ الْإِزَارِ، وَالْمَنِّ بِالْعَطِيَّةِ، وَتَنْفِيقِ السِّلْعَةِ بِالْحَلِفِ، وَبَيَانِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم؛ترجمہ؛تین کام جو سخت حرام ہے؛جلد١ص١٠٢؛حدیث نمبر٢٠١"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» قَالَ: فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِرَارًا، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا، مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 201

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا تین(قسم کے)لوگ وہ ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا۔احسان جتانے والا کہ وہ کوئی چیز دیتا ہے تو احسان جتاتا ہے اور اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا اور اپنے تہبند کو(تکبر کے طور پر ٹخنوں سے نیچے)لٹکانے والا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ إِسْبَالِ الْإِزَارِ،وَالْمَنِّ بِالْعَطِيَّةِ، وَتَنْفِيقِ السِّلْعَةِ بِالْحَلِفِ،وَبَيَانِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ،وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم؛جلد١ص١٠٢؛حدیث نمبر٢٠٢"

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 202

ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین(قسم کے)لوگ وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا،نہ ان کی طرف نظر رحمت کرے گا اور نہ ہی ان کو پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ إِسْبَالِ الْإِزَارِ، وَالْمَنِّ بِالْعَطِيَّةِ، وَتَنْفِيقِ السِّلْعَةِ بِالْحَلِفِ، وَبَيَانِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ،وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم؛جلد١ص١٠٢؛حدیث نمبر ٢٠٣"

وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 203

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین(قسم کے)آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کو پاک کرے گااور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔بوڑھا زانی،جھوٹا بادشاہ اور متکبر فقیر ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ إِسْبَالِ الْإِزَارِ، وَالْمَنِّ بِالْعَطِيَّةِ، وَتَنْفِيقِ السِّلْعَةِ بِالْحَلِفِ، وَبَيَانِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ،وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم؛جلد١ص١٠٢؛حدیث نمبر٢٠٤"

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ - قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ - وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: شَيْخٌ زَانٍ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 204

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(تین قسم کے)آدمی وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں فرمائے گا نہ ان کی طرف نظر رحمت کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔وہ شخص کہ جنگل میں اس کے پاس زائد پانی ہے لیکن وہ مسافر سے روکتا ہے۔وہ شخص جوکسی پر اپنا سامان عصر کے بعد بیچتا ہے۔(چونکہ عصر کے وقت صبح اور شام کے آنے جانے والے فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں اور وہ نامہ اعمال میں جھوٹا لکھا جاتا ہے اس لیے اس وقت کا ذکر کیا)پس اس کے سامنے قسم کھاتا ہے کہ اس نے اتنی رقم پر لیا دوسرا شخص اس کی بات کو درست سمجھتا ہےحالانکہ وہ سچ نہیں ہے اور تیسرا وہ آدمی جو دنیا حاصل کرنے کے لیے کسی حکمران کی بیعت کرتا ہےاگر وہ اس کو اس میں سے دے دیتا ہے تو بیعت کو پورا کرتا ہے اور اگر نہ دے تو پورا نہیں کرتا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ إِسْبَالِ الْإِزَارِ، وَالْمَنِّ بِالْعَطِيَّةِ، وَتَنْفِيقِ السِّلْعَةِ بِالْحَلِفِ، وَبَيَانِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم؛جلد١ص١٠٣؛حدیث نمبر٢٠٥"

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنَ ابْنِ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 205

ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٢٠٥کی طرح مروی ہے البتہ حضرت جریر کی روایت میں یہ ہے کہ وہ کسی شخص سے سامان کا بھاؤ لگاتا ہے(اور جھوٹی قسم کھاتا ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ إِسْبَالِ الْإِزَارِ، وَالْمَنِّ بِالْعَطِيَّةِ، وَتَنْفِيقِ السِّلْعَةِ بِالْحَلِفِ، وَبَيَانِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم؛جلد١ص١٠٣؛حدیث نمبر٢٠٦"

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح، وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: «وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ».

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 206

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےاور راوی ابو صالح اسے مرفوع خیال کرتے ہیں اور( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)تین(قسم کے)آدمی وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف نظررحمت فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ایک وہ شخص جو عصر کے بعد کسی مسلمان کے مال کے بارے میں قسم کھاکر اسے لے لیتا ہے۔باقی حدیث حدیث نمبر ٢٠٥کی طرح ہے (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ إِسْبَالِ الْإِزَارِ، وَالْمَنِّ بِالْعَطِيَّةِ، وَتَنْفِيقِ السِّلْعَةِ بِالْحَلِفِ، وَبَيَانِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم؛جلد١ص١٠٣؛حدیث نمبر٢٠٧"

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُرَاهُ مَرْفُوعًا، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ فَاقْتَطَعَهُ " وَبَاقِي حَدِيثِهِ نَحْوُ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 207

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اپنے نفس کو کسی ہتھیار سے قتل کیا(یعنی خودکشی کی تو قیامت کے دن)اسکا ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ جہنم کی آگ میں اس کو اپنے پیٹ میں ہمیشہ ہمیشہ مارتا رہے گا اور جو شخص زہر پی کر اپنے آپ کو ختم کرے گا وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ اس کا گھونٹ بھرتا رہے گا اور جو آدمی اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر ہلاک کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں گرتا رہے گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ، وَأَنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ، وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ؛ترجمہ؛خودکشی کرنا سخت حرام ہے؛جلد١ص١٠٣؛حدیث نمبر٢٠٨"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ شَرِبَ سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 208

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٨کی طرح مروی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ، وَأَنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ، وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ؛جلد١ص١٠۴؛حدیث نمبر٢٠٩"

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح، وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ح، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 209

حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہوں نے درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اسلام کے علاوہ کسی ملت پر جھوٹی قسم کھائی وہ اسی طرح جس طرح اس نے کہا اور جس نے خودکشی کی اسے اس وجہ سے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو اسکی نذر نہیں ہوتی۔(مثلاً میرا اگر فلاں کام ہوگیا تو فلاں چیز صدقہ کروں گا حالانکہ وہ کسی اور کی ملکیت ہے تو یہ نذر صحیح نہیں ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ، وَأَنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ، وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ جلد١ص١٠٤؛حدیث نمبر ٢١٠"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِي شَيْءٍ لَا يَمْلِكُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 210

حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا کسی شخص پر اس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہیں۔مؤمن پر لعنت بھیجنا اس کو قتل کرنے کی طرح ہے اور جو شخص دنیا میں کسی چیز کے ساتھ خودکشی کرے قیامت کے دن اسی کے ساتھ عذاب دیا جائے گا اور جو شخص زیادہ مال حاصل کرنے کے لیے جھوٹا دعویٰ کرے اللہ تعالٰی اس کے لئے اسی قلت میں اضافہ کرےگااسی طرح اس شخص کو بھی عذاب ہوگا جو جھوٹی قسم کھاتا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ، وَأَنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ، وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ جلد١ص١٠٤؛حدیث نمبر ٢١١"

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللهُ إِلَّا قِلَّةً، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ فَاجِرَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 211

حضرت ثابت بن ضحاک فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جان بوجھ کر اسلام کے علاوہ کسی ملت کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اسی طرح ہےجو اس نے کہا اور جو شخص کسی چیز کے ساتھ اپنے آپ کو قتل کرے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں عذاب دے گا۔دوسری سندمیں یوں ہیں کہ جو شخص اسلام کے علاوہ کسی ملت کی جھوٹی قسم کھاے وہ اسی طرح ہے جیسے اس نے کہا اور جو آدمی خودکشی کرے وہ قیامت کے دن ذبح کیا جائے گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ، وَأَنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ، وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ جلد١ص١٠٥؛حدیث نمبر ٢١٢"

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ، كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا، فَهْوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، عَذَّبَهُ اللهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ» هَذَا حَدِيثُ سُفْيَانَ، وَأَمَّا شُعْبَةُ فَحَدِيثُهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ، كَاذِبًا، فَهْوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ ذَبَحَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، ذُبِحَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 212

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں شریک ہوئے۔آپ نے ایک شخص کے بارے میں جو اسلام کا دعویٰ کرتا تھا فرمایا یہ جہنمیوں میں سے ہے جب ہم لڑائی کے لئےحاضر ہوئے تو وہ شخص نہایت جرءت سے لڑا تو زخمی ہوگیا۔عرض کیا گیایا رسول اللہ!ابھی جس آدمی کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ اہل جہنم سے ہے تو وہ خوب لڑا اور مر گیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنم میں جائے گا۔پس قریب تھا کہ بعض مسلمان شک کا شکار ہو جائیں وہ اسی حالت میں تھے کہ کہا گیا وہ شخص فوت نہیں ہوا بلکہ وہ شدید زخمی ہے۔جب رات کا وقت ہوا تو وہ زخم برداشت نہ کر سکا اور اس نے خودکشی لی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع کی گئی تو آپ نے فرمایا"اللہ اکبر"میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اسکا رسول ہوں۔پھر آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا کہ جنت میں وہی جائیگا جو مسلمان ہوگا اور بےشک اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد کسی فاجر کے ذریعے بھی فرماتا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ،وَأَنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ،وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ؛جلد١ص١٠٥؛حدیث نمبر٢١٣"

وَحَدَّثَنَا مُحمَّدُ بْنُ رافعٍ، وعبْدُ بْنُ حُميْدٍ، جميعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ رافعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يُدْعَى بِالْإِسْلَامِ: «هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ»، فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا، فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، الرَّجُلُ الَّذي قُلْتَ لَهُ آنِفًا: «إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ» فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا، وَقَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَى النَّارِ»، فَكَادَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَرْتَابَ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ قِيلَ: إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنَّ بِهِ جِرَاحًا شَدِيدًا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: «اللهُ أَكْبُرُ، أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ»، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ: «أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَأَنَّ اللهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 213

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کا جنگ میں سامناہوا پس آپس میں لڑائی ہوئی۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کی طرف گئے اور وہ لوگ بھی اپنے لشکر کی طرف گئے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص تھا(اس کا نام قزمان تھا اور وہ منافقوں میں سے تھا)وہ ان کفار میں جس کو تنہا دیکھتا اس کا پیچھا کر کے تلوار سے مار ڈالتا(یعنی جس کافر سے ملتا اس کو قتل کر دیتا)،تو صحابہ نے کہا کہ جس طرح یہ شخص آج ہمارے کام آیا ایسا کوئی نہ آیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو جہنمی ہے۔ایک شخص ہم میں سے بولا کہ میں اس کے ساتھ رہوں گا(اور اس کی خبر رکھوں گا کہ وہ جہنم میں جانے کا کونسا کام کرتا ہے کیونکہ ظاہر میں تو بہت عمدہ کام کر رہا تھا)۔پھر وہ شخص اس کے ساتھ نکلا اور جہاں وہ ٹھہرتا یہ بھی ٹھہر جاتا اور جہاں وہ دوڑ کر چلتا یہ بھی اس کے ساتھ دوڑ کر جاتا۔آخر وہ شخص(یعنی قزمان)سخت زخمی ہوا اور(زخموں کی تکلیف پر صبر نہ کر سکا)جلدی مر جانا چاہا اور تلوار کا قبضہ زمین پر رکھا اور اس کی نوک اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان میں،پھر اس پر زور ڈال دیا اور اپنے آپ کو مار ڈالا۔تب وہ شخص(جو اس کے ساتھ گیا تھا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا ہوا؟وہ شخص بولا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی جس شخص کو جہنمی فرمایا تھا اور لوگوں نے اس پر تعجب کیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ میں تمہارے واسطے اس کی خبر رکھوں گا۔پھر میں اس کی تلاش میں نکلا وہ سخت زخمی ہوا اور جلدی مرنے کے لئے اس نے تلوار کا قبضہ زمین پر رکھا اور اس کی نوک اپنی دونوں چھاتیوں کے بیچ میں،پھر اس پر زور ڈال دیا یہاں تک کہ اپنے آپ کو مار ڈالا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ آدمی لوگوں کے نزدیک جنتیوں کے سے کام کرتا ہےاور وہ جہنمی ہوتا ہےاور ایک شخص لوگوں کے نزدیک جہنمیوں کے سے کام کرتا ہےاور وہ(انجام کے لحاظ سے)جنتی ہوتا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ،وَأَنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ، وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ؛جلد١ص١٠٦؛حدیث نمبر ٢١٤"

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ - حَيٌّ مِنَ الْعَرَبِ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ، فَاقْتَتَلُوا، فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَسْكَرِهِ، وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ، وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ، فَقَالُوا: مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ ‍، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ»، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا صَاحِبُهُ أَبَدًا، قَالَ: فَخَرَجَ مَعَهُ، كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ، قَالَ: فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَ: الرَّجُلُ الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا: «أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ»، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: أَنَا لَكُمْ بِهِ، فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ حَتَّى جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 214

حضرت حسن بصری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔تم سے پہلے(گزشتہ امتوں میں)ایک شخص تھا جسے پھوڑا نکلا جب اس سے اس کو تکلیف ہوئی تو اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر اسے چیر دیا۔پس خون نہ رکا حتیٰ کہ وہ مر گیا تمہارے رب عزوجل نے فرمایا میں نے اس پر جنت کو حرام کر دیا اس کے بعد حضرت حسن بصری علیہ الرحمۃ نے اپنا ہاتھ مسجد کی طرف بڑھایا اور فرمایا اللہ کی قسم!یہ حدیث حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اس مسجد میں مجھ سے بیان کی۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ،وَأَنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ، وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ؛جلد١ص١٠٧؛حدیث نمبر ٢١٥"

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجَتْ بِهِ قُرْحَةٌ، فَلَمَّا آذَتْهُ انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَكَأَهَا، فَلَمْ يَرْقَأِ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ، قَالَ رَبُّكُمْ: «قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»، ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: إِي وَاللهِ، لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ جُنْدَبٌ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 215

حضرت حسن بصری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے اس مسجد میں ہم سے بیان کیا اور ہم نہ تو بھولے ہیں اور نہ ہی ہمیں یہ ڈر ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ منسوب کیا۔وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے پہلی امتوں میں ایک شخص کو پھوڑا نکلا۔آگے حدیث نمبر ٢١٥کی طرح ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ،وَأَنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ، وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ؛جلد١ص١٠٧؛حدیث نمبر٢١٦"

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا جُنْدَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، فَمَا نَسِينَا، وَمَا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ بِرَجُلٍ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خُرَّاجٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 216

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔جب(فتح)خیبر کا دن ہوا تو رسول اللہ کے کئی صحابہ رضی اللہ عنہم آئے اور کہنے لگے فلان شہید ہے اور فلاں شہید ہے یہاں تک کہ ایک شخص کا ذکر ہوا کہنے لگے یہ بھی شہید ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں،میں نے اس کو جہنم میں ایک چوری شدہ چادر یا عبا میں دیکھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے!اٹھ اورلوگوں کو بتائیں کہ جنت میں صرف مؤمن داخل ہوں گے(یعنی چور نہیں جائیں گے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نکلا اور میں نے لوگوں میں اعلان کردیا۔کہ جنت میں مؤمن ہی داخل ہوں گے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ،وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ؛ترجمہ؛مال غنیمت میں خیانت کرنے کی حرمت اور یہ کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔؛جلد١ص١٠٧؛حدیث نمبر ٢١٧"

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فُلَانٌ شَهِيدٌ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا، إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا - أَوْ عَبَاءَةٍ -» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ، أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ»، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ: أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 217

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح دی،ہمیں مال غنیمت میں سونا اور چاندی حاصل نہ ہوئی بلکہ ہم نے سامان،غلہ اور کپڑے بطور غنیمت حاصل کئے پھر ہم وادی کی طرف چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام بھی تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبیلہ جذام میں سے ایک شخص جس کا نام رفاعہ بن زیدتھا،نے ہبہ کیا تھااور وہ بنی ضبیب میں سے تھا۔جب ہم وادی میں اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام کھڑا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ(اونٹ کی کاٹھی )کھول رہا تھا کہ اتنے میں ایک(غیبی)تیر اس کو لگا جس میں اس کی موت ہوگئی۔ہم لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی شہادت مبارک ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہیں قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ وہ چادر اس پر آگ کی طرح سلگ رہی ہےجو اس نے مالِ غنیمت میں سے خیبر کے دن لے لی تھی اور اس وقت تک غنیمت کی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔یہ سن کر لوگ ڈر گئے اور ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے خیبر کے دن ان کو پایا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک تسمہ یادو تسمے آگ کے ہیں(یعنی اگر تو ان کو واپس نہ کرتا تو یہ تسمہ انگارہ ہو کر قیامت کے دن تجھ پر لپٹتا یا تجھے ان تسموں کی وجہ سے عذاب ہوتا)۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ،وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ؛جلد١ص١٠٨؛حدیث نمبر٢١٨"

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْنَا فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا وَرِقًا، غَنِمْنَا الْمَتَاعَ وَالطَّعَامَ وَالثِّيَابَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الْوَادِي، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لَهُ، وَهَبَهُ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُذَامٍ يُدْعَى رِفَاعَةَ بْنَ زَيْدٍ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ، فَلَمَّا نَزَلْنَا الْوَادِيَ، قَامَ عَبْدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُلُّ رَحْلَهُ، فَرُمِيَ بِسَهْمٍ، فَكَانَ فِيهِ حَتْفُهُ، فَقُلْنَا: هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ الشِّمْلَةَ لَتَلْتَهِبُ عَلَيْهِ نَارًا أَخَذَهَا مِنَ الْغَنَائِمِ يَوْمَ خَيْبَرَ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ»، قَالَ: فَفَزِعَ النَّاسُ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَبْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 218

حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے(مکہ میں ہجرت سے پہلے)اور عرض کیاکیا آپکو ایک مضبوط قلعے یا کسی پناہ گاہ کی ضرورت ہے(اس قلعہ کے لئے کہا جو کہ جاہلیت کے زمانہ میں دوس کا تھا)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے قبول نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انصار کے حصے میں یہ بات لکھ دی تھی کہ(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ان کی حمایت اور حفاظت میں رہیں گے)پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی،تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک شخص نے بھی ہجرت کی۔پھر مدینہ کی ہوا ان کو ناموافق ہوئی(اور ان کے پیٹ میں عارضہ پیدا ہوا)تو وہ شخص جو سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا تھا،بیمار ہو گیا اور تکلیف کے مارے اس نے اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے تو اس کے دونوں ہاتھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔پھر سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں نہایت اچھی حالت میں دیکھا مگر اپنے دونوں ہاتھوں کو چھپائے ہوئے تھا۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس نے کہامجھے اس لئے بخش دیا کہ میں نے اس کے نبی کی طرف ہجرت کی تھی۔سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ تو اپنے دونوں ہاتھ چھپائے ہوئے ہے؟ وہ بولا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ ہم اس کو نہیں سنواریں گے جس کو تو نے خود بخود بگاڑا ہے۔پھر یہ خواب سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی بخش دے جیسے تو نے اس کے سارے بدن پر کرم کیا ہے (اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی درست کر دے )۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنْ قَاتِلَ نَفْسِهُ لَا يَكْفُرُ؛ترجمہ؛خودکشی کرنے سے کافر نہیں ہوجاتا؛جلد١ص١٠٨؛حدیث نمبر ٢١٩"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ؟ - قَالَ: حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - فَأَبَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللهُ لِلْأَنْصَارِ، فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَمَرِضَ، فَجَزِعَ، فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ، فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ، فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ، فَرَآهُ وَهَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ، وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ؟ فَقَالَ: غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَيْكَ؟ قَالَ: قِيلَ لِي: لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ، فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 219

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالی یمن کی طرف سے ایک ہوا بھیجے گا جو ریشم سے زیادہ نرم ہوگی تو وہ کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑی گی جس کے دل میں ایمان ہوگا۔حضرت ابو علقمہ فرماتے ہیں ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔عبدالعزيز(راوی)کہتے ہیں ایک ذرہ کے برابر ایمان ہوگا تو اسے بھی سلب کر لے گی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْمُبَادَرَةِ بِالْأَعْمَالِ قَبْلَ تَظَاهُرِ الْفِتَنِ؛ترجمہ؛قرب قیامت ہوا کا ان لوگوں کو اٹھا لینا جن کے دلوں میں تھوڑا بھی ایمان ہوگا؛جلد١ص١٠٩؛حدیث نمبر ٢٢٠"

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ رِيحًا مِنَ الْيَمَنِ أَلْيَنَ مِنَ الْحَرِيرِ، فَلَا تَدَعُ أَحَدًا فِي قَلْبِهِ - قَالَ أَبُو عَلْقَمَةَ مِثْقَالُ حَبَّةٍ، وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: مِثْقَالُ ذَرَّةٍ - مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 220

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس فتنہ سے پہلے اعمال میں جلدی کرو جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوگا۔ایک شخص صبح مؤمن ہوگا شام کو کافر ہو جائے گا اور شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر ہو جائے گا وہ اپنے دین کو دنیوی سامان کے بدلے فروخت کرے گا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْمُبَادَرَةِ بِالْأَعْمَالِ قَبْلَ تَظَاهُرِ الْفِتَنِ؛ترجمہ؛فتنہ ظاہر ہونے سے پہلے اعمال میں جلدی کرنا؛جلد١ص١١٠؛حدیث نمبر؛٢٢١"

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 221

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ}[الحجرات: ٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ،”اے ایمان والو!اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کرو …… آخر تک“نازل ہوئی تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور کہنے لگے کہ میں تو جہنمی ہوں(کیونکہ ان کی آواز بہت بلند تھی اور وہ انصار کے خطیب تھے،اس لئے وہ ڈر گئے)اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرنہ ہوے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےسیدنا سعد بن معاذرضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو عمرو!ثابت کا کیا حال ہے کیا بیمار ہو گیا ہے؟سیدنا سعدرضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ میرا ہمسایہ ہے،میں نہیں جانتا کہ وہ بیمار ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدناسعد بن معاذرضی اللہ عنہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھاتو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت اتری اور تم جانتے ہو کہ میری آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اونچی ہے،(اس لئے) میں تو جہنمی ہوں۔پھر سیدنا سعدرضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں،بلکہ وہ جنتی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مَخَافَةِ الْمُؤْمِنِ أَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ؛ترجمہ؛اعمال ضائع ہونے کا خوف؛جلد١ص١١٠؛حدیث نمبر؛٢٢٢"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: ٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ، وَقَالَ: أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، فَقَالَ: «يَا أَبَا عَمْرٍو، مَا شَأْنُ ثَابِتٍ؟ اشْتَكَى؟» قَالَ سَعْدٌ: إِنَّهُ لَجَارِي، وَمَا عَلِمْتُ لَهُ بِشَكْوَى، قَالَ: فَأَتَاهُ سَعْدٌ، فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ثَابِتٌ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 222

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ثابت بن قیس بن شمال انصار کے خطیب تھے جب یہ آیت نازل ہوئی۔اس کے بعد انہوں نے حدیث نمبر ٢٢٢کی طرح ذکر کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مَخَافَةِ الْمُؤْمِنِ أَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ؛جلد١ص١١٠؛حدیث نمبر؛٢٢٣"

وَحَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيبَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 223

ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب آیت کریمہ؛ "ياأيهاالَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ}[الحجرات: ٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ،”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کرو …… آخر تک نازل ہوئی۔آگے حدیث نمبر ٢٢٢کی طرح ہے لیکن اس روایت میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مَخَافَةِ الْمُؤْمِنِ أَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ؛ جلد١ص١١١؛حدیث نمبر؛٢٢٤"

وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: ٢]، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، فِي الْحَدِيثِ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 224

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٢٢کی طرح مروی ہے۔البتہ اس میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے اور یہ اضافہ ہے کہ ہم ان کو دیکھتے کہ وہ ہمارے درمیان ایک جنتی کی طور پر چلتے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مَخَافَةِ الْمُؤْمِنِ أَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ؛جلد١ص١١١؛حدیث نمبر؛٢٢٥"

وَحَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَذْكُرُ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، وَزَادَ فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 225

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں کچھ لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہمارے دور جاہلیت والے اعمال پر بھی مواخذہ ہوگا۔آپ نے فرمایا تم میں سے جس نے اسلام میں اچھا عمل کیا۔اس کا ان اعمال میں مواخذہ نہیں ہوگا اور جس نے(حالت اسلام میں)برے کام کیے اس کا مواخذہ دور جاہلیت اور حالت اسلام(دونوں)میں کیے گئے اعمال پر ہوگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ؟ترجمہ؛دور جاہلیت کے اعمال کا مواخذہ؛جلد١ص؛ ١١١؛حدیث نمبر؛٢٢٦"

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: «أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ، فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا، وَمَنْ أَسَاءَ، أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 226

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نےعرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے جو کام دور جاہلیت میں کئے کیا ہم سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔آپ نے فرمایا جس نے اسلام میں اچھے کام کیے جاہلیت کے دور میں کیے گئے اعمال پر اس کا مواخذہ نہیں ہوگا اور جس نے اسلام میں برے اعمال کئے پہلے اور پچھلے سب اعمال پر اس کا مواخذہ ہوگا۔(اسلام میں برے اعمال سے مراد منافقت ہے مطلب یہ ہے کہ جو شخص صدق دل سے ایمان نہ لایا ورنہ اسلام لانے کے بعد پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جب وہ شرک وکفر سےصاف ہوگیا تو باقی کون سا رہ گیا لہٰذا اس حدیث میں جس مواخذہ کا ذکر ہے وہ منافق کے بارے میں ہے کیونکہ وہ کفر پر برقرار ہے۔) (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ؟؛جلد١ص؛١١١؛حدیث نمبر؛٢٢٧"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَوَكِيعٌ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: «مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ، أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 227

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٧کی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ؟؛جلد١ص؛١١١؛حدیث نمبر؛٢٢٨؛

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 228

حضرت ابن شماسہ مہری کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ اس وقت قریب المرگ تھے تو وہ(سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ) بہت دیر تک روئے اور اپنا منہ دیوار کی طرف پھیر لیا تو ان کے بیٹے کہنے لگے کہ اے ہمارے والد!آپ کیوں روتے ہی؟کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ خوشخبری نہیں دی،یہ خوشخبری نہیں دی؟تب انہوں نے اپنا منہ سامنے کیا اور کہا کہ سب باتوں میں افضل ہم اس بات کی گواہی دینے کو سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمداللہ کے رسول ہیں اور میرے اوپر تین دور گزرے ہیں۔ایک دور یہ تھا کہ میں دیکھتا ہوں کہ مجھ سے بڑھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھنے والا کوئی نہیں تھا اور مجھے یہ بات بہت زیادہ پسند تھی کہ مجھے آپ پر قابو حاصل ہو تو میں آپ کو شہید کر دوں۔پھر اگر میں اسی حال میں مر جاتا تو جہنمی ہوتا۔دوسرا دور یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ اپنا داہنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ سے(اسلام پر)بیعت کروں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے اس وقت اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمرو!تجھے کیا ہوا؟میں نے کہا کہ میں ایک شرط رکھنا چاہتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کونسی شرط؟میں نے کہا کہ یہ شرط کہ میرے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے؟(جو میں نے اب تک کئے ہیں)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمرو!تو نہیں جانتا ہے اسلام پہلے تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے اور اسی طرح ہجرت پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔اسی طرح حج تمام پیشتر گناہوں کو مٹادیتا ہے۔پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی سے محبت نہ تھی اور نہ میری نگاہ میں آپ سے زیادہ کسی کی شان تھی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےاحترام کی وجہ سےآپ کو آنکھ بھر کر نہ دیکھ سکتا تھا۔اور اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میں آپ کا وصف بیان کروں تو میں بیان نہیں کر سکتا کیونکہ میں آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکا اور اگر میں اس حال میں فوت ہو جاتا تو امید تھی کہ میں جنتی ہوتاپھر ہمیں کچھ امور کا ذمہ دار بنایا گیا مجھے معلوم نہیں۔ان امور کے حوالے سے میرا کیا حال ہوگا۔تو جب میں انتقال کر جاؤں تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی رونے چلانے والی نہ ہو،اور نہ آگ ہو اور جب مجھے دفن کرنا تو مجھ پر(میری قبر پر)اچھی طرح مٹی ڈال دینا اور میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر تک کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ کاٹا جاتا ہے اور اس کا گوشت بانٹا جاتا ہے تاکہ میں تم سے مانوس رہوں اور میں دیکھوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔(امام نووی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اس حدیث میں کئی فوائد ہیں ایک یہ کہ عذاب قبر حق ہے اور فرشتوں کا سوال جواب بھی حق ہے نیز دفن کرنے کے بعد قبر کے پاس کچھ دیر ٹھہرنا مستحب ہے اور میت کو قبر کے پاس کھڑے لوگوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔(حاشیہ صحیح مسلم جلد١ص٧٦) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ كَوْنِ الْإِسْلَامِ يَهْدِمُ مَا قَبْلَهُ وَكَذَا الْهِجْرَةِ وَالْحَجِّ؛ترجمہ؛اسلام،ہجرت اور حج پہلے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں؛جلد١ص١١٢؛حدیث نمبر٢٢٩"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ، يَبَكِي طَوِيلًا، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْجِدَارِ، فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ: يَا أَبَتَاهُ، أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا؟ أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا؟ قَالَ: فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: إِنَّ أَفْضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى أَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ قَدِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ، فَقَتَلْتُهُ، فَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَلَمَّا جَعَلَ اللهُ الْإِسْلَامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَمِينَكَ فَلْأُبَايِعْكَ، فَبَسَطَ يَمِينَهُ، قَالَ: فَقَبَضْتُ يَدِي، قَالَ: «مَا لَكَ يَا عَمْرُو؟» قَالَ: قُلْتُ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ، قَالَ: «تَشْتَرِطُ بِمَاذَا؟» قُلْتُ: أَنْ يُغْفَرَ لِي، قَالَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟» وَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ، وَمَا كُنْتُ أُطِيقُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْهُ إِجْلَالًا لَهُ، وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ؛ لِأَنِّي لَمْ أَكُنْ أَمْلَأُ عَيْنَيَّ مِنْهُ، وَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ وَلِينَا أَشْيَاءَ مَا أَدْرِي مَا حَالِي فِيهَا، فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ، وَلَا نَارٌ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا، ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا، حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ، وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 229

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے کچھ لوگ جو بکثرت قتل اور زنا کے جرم میں مبتلا تھے(شرک کی حالت میں)۔پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو فرماتے ہیں اور جس راہ کی طرف بلاتے ہیں،وہ اچھی ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بتلائیں کہ کیا وہ ہمارے گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہے؟(اگر کفارہ ہے تو ہم اسلام لائیں گے )تب یہ آیت اتری:{وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ٦٨] وَنَزَلَ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} [الزمر: ٥٣] "اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ہے ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائےگا"... اور یہ آیت نازل ہوئی"اے میرے بندو!جنہوں نے اپنے نفسوں پر (گناہ کے ذریعے)زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو"۔(اسلام لانے سے گزشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور حالت اسلام کے گناہوں سے توبہ کی جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرمادیتا ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ كَوْنِ الْإِسْلَامِ يَهْدِمُ مَا قَبْلَهُ وَكَذَا الْهِجْرَةِ وَالْحَجِّ؛جلد١ص١١٣؛حدیث نمبر٢٣٠"

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ قَتَلُوا فَأَكْثَرُوا، وَزَنَوْا فَأَكْثَرُوا، ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ، وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَ: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ٦٨] وَنَزَلَ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} [الزمر: ٥٣]

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 230

حضرت حکیم بن حزام فرماتے ہیں۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے دور جاہلیت میں کچھ نیک کام کئے ہیں۔آپ بتائیں کیا مجھے ان کا کچھ ثواب ملے گانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام لانے کے بعد تمہارے گزشتہ اچھے اعمال باقی رہیں گے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان-؛بَابُ بَيَانِ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ؛ترجمہ؛اسلام لانے کےبعد حالت کفر کے اعمال کا حکم؛جلد١ص١١٣؛حدیث نمبر٢٣١"

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ هَلْ لِي فِيهَا مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ» وَالتَّحَنُّثُ: التَّعَبُّدُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 231

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے دور جاہلیت میں کچھ نیک کام کئے ہیں یعنی صدقہ کیا ہے، غلام آزاد کئےاور صلہ رحمی کی ہے کیا مجھے اس پر ثواب ملے گا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام لانے کے بعد تمہارے گزشتہ اچھے اعمال نیکیوں میں اضافہ کا باعث ہوں گے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ؛جلد١ص١١٤؛حدیث نمبر٢٣٢"

وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، مِنْ صَدَقَةٍ، أَوْ عَتَاقَةٍ، أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ، أَفِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 232

ایک اور سند کے ساتھ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دور جاہلیت میں کچھ اعمال کرتا تھا۔ہشام(راوی)کہتے ہیں ان کی مراد نیک اعمال ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان نیک اعمال کی برکت سے تم نے اسلام قبول کیا ہے۔فرماتے ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم!میں نے دور جاہلیت میں جو کام کئے ہیں۔اسلام لانے کے بعد بھی ضروربضروربجا لاؤں گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ؛جلد١ص١١٤؛حدیث نمبر٢٣٣)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَشْيَاءَ كُنْتُ أَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ - قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ لَكَ مِنَ الْخَيْرِ»، قُلْتُ: فَوَاللهِ، لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا فَعَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهُ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 233

حضرت ہشام بن عروہ(رضی اللہ عنہما)اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ دور جاہلیت میں ایک سو غلام آزاد کئے۔ایک سو اونٹ(راہ خدا میں)سواری کےلیے دئیے۔پھر اسلام لانے کے بعد ایک سو غلام آزاد کئے اور ایک سو اونٹ سواری کے لیے راہ خدا میں دیئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس کے بعد گزشہ احادیث کی مثل ذکر کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ؛جلد١ص١١٤؛حدیث نمبر٢٣٤"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ، وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ، ثُمَّ أَعْتَقَ فِي الْإِسْلَامِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 234

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:{الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إيْمَانَهُمْ بَظُلٍ} [الأنعام: ٨٢]"وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم(شرک)سے نہیں ملایا"۔ توصحابہ کرام پر یہ بات گراں گزری اور انہوں نے عرض کیا۔ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بات اس طرح نہیں ہے جس طرح تمہارا خیال ہے۔بلکہ اس طرح ہے جیسے لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا تھا۔:{يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ "،[لقمان: ١٣]"اے بیٹے!شرک نہ کرنا بےشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔" (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ صِدْقِ الْإِيمَانِ وَإِخْلَاصِهِ؛ترجمہ؛ایمان میں سچائی اور اخلاص؛جلد١ص١١٤؛حدیث نمبر؛٢٣٥"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا} [الأنعام: ٨٢] إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ، إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ: {يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللهِ إِنَّ الشِّرْكَ} [لقمان: ١٣] لَظُلْمٌ عَظِيمٌ "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 235

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٢٣٥کی طرح مروی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ صِدْقِ الْإِيمَانِ وَإِخْلَاصِهِ؛جلد١ص١١٥؛حدیث نمبر؛٢٣٦)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، ح، وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِيهِ أَوَّلًا أَبِي، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 236

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی{لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة:٢٨٤]یعنی”جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے،سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔تم اس بات کو ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا چھپائے رکھو،اللہ تعالیٰ تم سے حساب لے لے گا،پھر جس کو چاہے گا معاف کر دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے“نازل ہوئی تو یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرگراں گزری۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دو زانو ہوکر با ادب بیٹھ گئے۔پھر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(پہلےتو)ہم نماز،روزہ،جہاداور صدقہ وغیرہ ایسے اعمال کے مکلف بنائے گئے تھے(جن پر طاقت رکھتے تھے)،اور اب آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے،اس کی تو ہم طاقت ہی نہیں رکھتے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ویسی ہی بات کہنا چاہتے ہو جیسی تم سے پہلے دو کتابوں والوں(یہودونصاریٰ)نے کہی تھی(یعنی انہوں نے کہا)”سمعنا و عصینا“کہ ہم نے(اللہ اور رسول کی بات کو)سن تو لیا ہے لیکن مانتے نہیں ہیں،بلکہ آپ لوگوں کو یوں کہنا چاہیئے کہ ہم نے(اللہ کی اور رسول کی بات کو)سن لیا اور مان لیا۔اے ہمارے رب!ہمیں بخش دے اور ہم نے تیری طرف ہی لوٹنا ہے۔انہوں نے عرض کیا ہم نے سنااور مانا اے ہمارے رب!ہمیں بخش دے اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔جب انہوں نے یہ کلمات کہے اور ان کی زبانوں پر یہ جاری ہوے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ :{آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} [البقرة: ٢٨٥]رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اترا اور ایمان والے۔سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کیا کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کر کے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔: {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: ٢٨٦] یعنی”اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔اسی کا فائدہ جو نیکی وہ کمائے اور اسی کا نقصان جو برائی وہ کمائے اے ہمارے رب اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا۔..... اللہ تعالیٰ نے فرمایا"ہاں"(ٹھیک ہے) {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَاإِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة:٢٨٦]"اور ہم پر وہ بوجھ نہ رکھنا جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا"۔فرمایا ہاں (ٹھیک ہے){وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ} [البقرة: ٢٨٦]"اے ہمارے رب!اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوانا جس کی ہمیں طاقت نہیں اور ہمیں معاف کرنا اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہمارا مالک ہے پس کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔اللہ تعالی نے فرمایا" ہاں"(ٹھیک ہے).... (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ} [البقرة: ٢٨٤]ترجمہ؛ اللہ تعالیٰ کا قول"اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دل میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا"کےبیان میں؛جلد١ص١١٥؛حدیث نمبر٢٣٧)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، وَاللَّفْظُ لِأُمَيَّةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة: ٢٨٤]، قَالَ: فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ، فَقَالُوا: أَيْ رَسُولَ اللهِ، كُلِّفْنَا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ، الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ، وَقَدِ اُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا؟ بَلْ قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ "، قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ، ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ فِي إِثْرِهَا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} [البقرة: ٢٨٥]، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللهُ تَعَالَى، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: ٢٨٦] " قَالَ: نَعَمْ " {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: ٢٨٦] " قَالَ: نَعَمْ " {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ} [البقرة: ٢٨٦] " قَالَ: نَعَمْ " {وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ} [البقرة: ٢٨٦] " قَالَ: نَعَمْ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 237

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی{وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ} [البقرة: ٢٨٤]،اور اگر تم اس چیز کو ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو چھپاؤ اللہ تعالیٰ اس پر تمہارا محاسبہ فرمائےگا۔فرماتے ہیں(یہ سن کر)صحابہ کرام کے دلوں میں ایسا خوف پیدا ہوا جو پہلے پیدا نہیں ہوا تھا۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو ہم نے سنا اور اطاعت کی اور تسلیم کیا۔فرماتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا اور اس پر اس نے یہ آیت نازل فرمائی۔{لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا}[البقرة: ٢٨٦](آخر تک مع ترجمہ حدیث نمبر ٢٣٧میں گزر چکا ہے)اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے ایسا کیا(یعنی نسیان اور خطا پر تمہارا مواخذہ نہیں ہوگا)" {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: ٢٨٦] "(آخر تک مع ترجمہ گزشتہ حدیث نمبر ٢٣٧میں مذکور ہے)اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے ایسا کیا(تم پر بوجھ نہیں ڈالا)"{وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا}[البقرة: ٢٨٦] "(آخر تک مع ترجمہ حدیث نمبر ٢٣٧میں گزر چکا)فرمایا میں نے ایسا کیا یعنی معاف کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ} [البقرة: ٢٨٤]جلد١ص١١٦؛حدیث نمبر٢٣٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ} [البقرة: ٢٨٤]، قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا " قَالَ: فَأَلْقَى اللهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: ٢٨٦] " قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ " {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: ٢٨٦] " قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ " {وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا} [البقرة: ٢٨٦] " قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 238

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان کے دلوں کی باتوں کو معاف کر دیا ہے۔جب تک اس کو زبان پر نہ لائیں یا عمل نہ کریں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَجَاوُزِ اللهِ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ،إِذَا لَمْ تَسْتَقِرَّ؛ترجمہ؛اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائے؛جلد١ص١١٦؛حدیث نمبر٢٣٩)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وُمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا، أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 239

ایک دوسری سند کےساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی مروی ہے(حدیث نمبر٢٣٩)البتہ اس میں عمل کا پہلے اور گفتگو کا بعد میں ذکر ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَجَاوُزِ اللهِ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ،إِذَا لَمْ تَسْتَقِرَّ؛جلد١ص١١٦؛حدیث نمبر٢٤٠)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 240

ایک دوسری سند کےساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٠کی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَجَاوُزِ اللهِ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ،إِذَا لَمْ تَسْتَقِرَّ؛جلد١ص١١٦؛حدیث نمبر٢٤١)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَهِشَامٌ، ح، وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 241

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالی(فرشتوں سے)فرماتا ہے۔جب میرا بندہ گناہ کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اس پر نہ لکھو اور اگر وہ اس پر عمل کرے تو ایک گناہ لکھ دو اور جب وہ نیکی کا ارادہ کرے اور عمل نہ کرے تو ایک نیکی لکھ دو اور اگر عمل کرے تو دس نیکیاں لکھ دو ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ إِذَا هَمَّ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ كُتِبَتْ،وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ؛بندے کے نیکی کے ارادے کو لکھنے کا،اور بدی کے ارادے کو نہ لکھنے کا بیان؛جلد١ص١١٧؛حدیث نمبر٢٤٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا سَيِّئَةً، وَإِذَا هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا عَشْرًا "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 242

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو میں اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہوں اور اگر عمل کرے تو میں اس کے لئے دس نیکیوں سے سات گنا تک لکھتا ہوں اور جب گناہ کا ارادہ کرے لیکن عمل نہ کرے تو میں اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں لکھتا اور اگر عمل کرے تو میں اس کے ذمہ ایک گناہ لکھتا ہوں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ إِذَا هَمَّ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ كُتِبَتْ،وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ؛جلد١ص١١٧؛حدیث نمبر٢٤٣"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا، لَمْ أَكْتُبْهَا عَلَيْهِ، فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا سَيِّئَةً وَاحِدَةً "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 243

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ جب میرے بندےکےدل میں نیکی کرنے کا خیال پیدا ہوتا ہے تو میں اس کے لئے ایک نیکی(کا ثواب)لکھتا ہوں،جب تک کہ اس نے وہ نیکی نہیں کی۔پھر اگر وہ نیکی کرلے تو اس کو میں اس کے لئے دس نیکیاں(ایک کے بدلے )لکھتا ہوں اور جب وہ گناہ کا ارادہ کرے دل تو میں اس کو بخش دیتا ہوں جب تک کہ وہ بُرائی(پر عمل)نہ کرے۔اور پھر جب وہ برائی (پر عمل) کرے تو اس کے لئے ایک ہی بُرائی لکھتا ہوں اور رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے کہتے ہیں کہ اے پروردگار یہ تیرا بندہ ہے،بُرائی کرنا چاہتا ہے،اور اللہ تعالیٰ اسے خود دیکھتا ہے اور فرماتا ہے انتظار کرو۔اگر وہ بُرائی کرے تو ایک بُرائی ویسی ہی لکھ لو اور اگر نہ کرے (اور اس بُرائی کے ارادے سے باز رہے)تو اس کے لئے ایک نیکی لکھ لو کیونکہ اس نے میرے ڈر سے اس بُرائی کو چھوڑ دیا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سےکوئی ایک اچھی طرح اسلام قبول کرتا ہے(یعنی خالص اور سچا،نفاق سے خالی)تو پھر وہ جو نیکی کرتا ہے اس کے لئے ایک کے بدلے دس نیکیاں سات سو گنا تک لکھی جاتی ہیں اور جو بُرائی کرتا ہے تو اس کے لئے ایک ہی بُرائی لکھی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سےجا ملے (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ إِذَا هَمَّ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ كُتِبَتْ،وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ؛جلد١ص١١٧؛حدیث نمبر٢٤٤)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً، فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ، فَإِذَا عَمِلَهَا، فَأَنَا أَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً، فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَهُ مَا لَمْ يَعْمَلْهَا، فَإِذَا عَمِلَهَا، فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا " وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَتِ الْملَائِكَةُ: رَبِّ، ذَاكَ عَبْدُكَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً، وَهُوَ أَبْصَرُ بِهِ، فَقَالَ: ارْقُبُوهُ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا، وَإِنْ تَرَكَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، إِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرَّايَ " وَقَالَ رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ، فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللهَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 244

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص نیکی کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور پھراس کو کرتا نہیں تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔اور جو اس نیکی کو کرتا ہے تو اس کے لیے دس نیکیوں سے سات سو نیکیوں تک لکھی جاتی ہے اور جو برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن کرتا نہیں تو وہ برائی نہیں لکھی جاتی،اور جو کرے تو لکھی جاتی ہے جو وہ کرتے ہیں ۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ إِذَا هَمَّ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ كُتِبَتْ،وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ؛جلد١ص١١٨؛حدیث نمبر٢٤٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا، كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، لَمْ تُكْتَبْ، وَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 245

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ اپنے رب عز وجل سے نقل کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے نیکیاں برائیاں لکھ دیں۔پھر اس بات کو بیان کیا۔پس جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے اور نیکی نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو پوری ایک نیکی لکھے گااور جس نے نیکی کی تو اس کے لیے دس نیکیوں سے سات سو تک اورزیادہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔اور جو برائی کا ارادہ کرےاور اس برائی کو نہ کرے تو اللہ اس کے لیے ایک پوری نیکی لکھے گااور جو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک ہی برائی لکھے گا (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ إِذَا هَمَّ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ كُتِبَتْ،وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ؛جلد١ص١١٨؛حدیث نمبر٢٤٦)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ: «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا، كَتَبَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا، كَتَبَهَا اللهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 246

ایک دوسری سند کےساتھ گزشتہ حدیث کی مثل مروی ہے اور اس میں اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو مٹا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہی ہلاک کرتا ہے جو خود ہونا چاہتا ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ إِذَا هَمَّ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ كُتِبَتْ،وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ؛جلد١ص١١٨؛حدیث نمبر٢٤٧)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَزَادَ: «وَمَحَاهَا اللهُ وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللهِ إِلَّا هَالِكٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 247

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ ہم اپنے دلوں میں ایسی باتیں پاتے ہیں جنکا اظہار بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔آپ نے فرمایا کیا تم ایسی بات پاتے ہو؟عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا یہ تو صریح ایمان ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛ترجمہ؛ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟؛جلد١ص١١٩؛حدیث نمبر٢٤٨)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: «وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 248

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےحدیث نمبر ٢٤٨کی مثل مروی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١١٩؛حدیث نمبر ٢٤٩)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، ح، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 249

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وسوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ تو محض ایمان ہے۔(مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ باتیں اندر ہی اندر رہتی ہیں اگر زبان پر آجائیں تو کفر ہو جائے لہذا ان کا محض وسوسے کی صورت میں رہناایمان کی علامت ہے۔) (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١١٩؛حدیث نمبر٢٥٠)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْوَسَةِ، قَالَ: «تِلْكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 250

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ مسلسل ایک دوسرے سے سوالات کرتے ہیں حتی کہ کہا جاتا ہے۔یہ مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا) پھر جب سوالات کا سلسلہ دراز ہوتا تو کوئی سوچتا ہے)۔اللہ تعالی کو کس نے پیدا کیا تو جس کے دل میں اس قسم کا خیال آئے وہ یوں کہے"اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا" (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١١٩؛حدیث نمبر٢٥١)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللهُ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 251

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے آسمان کو کس نے پیدا کیا زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٥١ کی طرح ہے اور اس کے بعد یہ اضافہ ہے کہ میں اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١٢٠؛حدیث نمبر٢٥٢)

وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَيَقُولُ: اللهُ " ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ، وَرُسُلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 252

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے فلاں کو کس نے پیدا کیا۔فلاں کو کس نے پیدا کیا حتیٰ کہ اس سے کہتا ہے تیرے رب کو کس نے پیدا کیا جب وہ یہاں تک پہونچے تو اس شخص کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے اور رک جائے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١٢٠؛حدیث نمبر٢٥٣)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولَ: مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ لَهُ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ وَلْيَنْتَهِ "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 253

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔شیطان بندے کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے فلاں کو کس نے پیدا کیا۔حتیٰ کہ اس سے کہتا ہے تیرے رب کو کس نے پیدا کیا جب وہ یہاں تک پہونچے تو اس شخص کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے اور رک جائے۔حدیث نمبر ٢٥٤کی طرح (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١٢٠؛حدیث نمبر٢٥٤)

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟ " مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 254

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا لوگ تم سے علم کے بارے میں مسلسل سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ کہیں گے کہ اللہ جس نے ہمیں پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا حضرت ابوہریرہ نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔اس حالت میں انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا مجھ سے دو آدمیوں نے سوال کیا اور تیسرا ہے یا فرمایا مجھ سے ایک شخص نے سوال کیا اور یہ دوسرا ہے (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١٢٠؛حدیث نمبر٢٥٥"

حَدَّثَنِي عَبْدُ الوارثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جدِّي، عَنْ أيُّوبَ، عَنْ مُحمَّدِ بْنِ سِيرينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنِ الْعِلْمِ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللهُ خَلَقَنَا، فَمَنْ خَلَقَ اللهَ؟ " قَالَ: وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ، فَقَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالثُ، أَوْ قَالَ: سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّاني

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 255

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےحدیث نمبر ٢٥٥ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس سند میں یہ نہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا البتہ حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١٢٠؛حدیث نمبر٢٥٦)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُليَّةَ، عَنْ أيُّوبَ، عَنْ مُحمَّدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ»، بِمثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، غَيْرَ أنَّهُ لمْ يَذْكُرِ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِسْنَادِ، وَلَكِنْ قَدْ قَالَ: فِي آخِرِ الْحَدِيثِ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 256

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے ابوہریرہ!لوگ مسلسل آپ سے پوچھتے رہیں گے حتیٰ کہ وہ کہیں گے یہ اللہ ہے اس کو کس نے پیدا کیا۔راوی فرماتے ہیں اس دوران میں مسجد میں تھا کہ کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا۔اے ابوہریرہ!یہ اللہ تعالیٰ ہے تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی مٹھی میں کنکریاں لے کر اس پر پھینک دیں۔پھر فرمایا اٹھ جاؤ،اٹھ جاؤ۔میرے خلیل(دوست)نے سچ فرمایا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١٢١؛حدیث نمبر٢٥٧)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللهُ، فَمَنْ خَلَقَ اللهَ؟ " قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَنِي نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا اللهُ، فَمَنْ خَلَقَ اللهَ؟ قَالَ: فَأَخَذَ حَصًى بِكَفِّهِ فَرَمَاهُمْ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا قُومُوا صَدَقَ خَلِيلِي

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 257

حضرت یزید بن اصم فرماتے ہیں ۔میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب لوگ تم سے ہر چیز کے بارے میں پوچھیں گے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا _(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١٢١؛حدیث نمبر٢٥٨)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَسْأَلَنَّكُمُ النَّاسُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَقُولُوا: اللهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، فَمَنْ خَلَقَهُ؟ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 258

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آپ کی امت مسلسل کہتی رہے گی کہ یہ کیا ہے، یہ کیا ہے حتی کہ وہ کہیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔اللہ تعالی کو کس نے پیدا کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١٢١؛حدیث نمبر٢٥٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُونَ: مَا كَذَا؟ مَا كَذَا؟ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللهَ "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 259

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث(حدیث نمبر ٢٥٩)کی طرح رویت کیا البتہ اس میں یہ بات ذکر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کی امت(کہے گی)۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا؛جلد١ص١٢١؛حدیث نمبر٢٦٠)

حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ كِلَاهُمَا عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ لَمْ يَذْكُرْ قَالَ: «قَالَ اللهُ إِنَّ أُمَّتَكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 260

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کے حق پر قبضہ کرے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آگ لازم کر دی اور جنت حرام کردی۔ایک شخص نے عرض کیا۔اگرچہ تھوڑی سے چیز ہو؟یا رسول اللہ!آپ نے فرمایا اگرچہ پیڑ کی ایک شاخ ہو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ؛ترجمہ؛جھوٹی قسم کے ذریعے دوسرے مسلمان کا حق مارنا؛جلد١ص١٢١؛حدیث نمبر ؛٢٦١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَلَاءُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 261

ایک دوسری سند کےساتھ بھی حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٦٢کی مثل مروی ہے (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ؛جلد١ص١٢٢؛حدیث نمبر ؛٢٦٢)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 262

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے کسی مسلمان کا حق مارنے کے لئے جھوٹی قسم کھائی تو وہ اللہ تعالیٰ سے یوں ملاقات کریگا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔راوی کہتے ہیں اشعث بن قیس اندر داخل ہوئے اور پوچھا حضرت ابو عبدالرحمن(عبداللہ) تم سے کیا بیان کرتے ہیں حاضرین نے بتایا کہ فلاں فلاں بات ذکر کر رہے ہیں۔انہوں نے فرمایا ابو عبدالرحمن صحيح فرماتے ہیں۔یہ بات میرے بارے میں فرمائی تھی۔میرے اور ایک شخص کے درمیان یمن میں جھگڑا تھا۔میں اپنا مقدمہ بارگاہ نبوی میں لے گیا تو آپ نے فرمایا تمہارے پاس گواہ ہے۔میں نے عرض کیا نہیں ہے۔آپ نے فرمایا پھر وہ شخص قسم اٹھائے گا میں نے عرض کیا وہ جھوٹی قسم اٹھالے گا تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھائے تاکہ کسی مسلمان کے مال پر قبضہ کرے وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا}[آل عمران: ٧٧]إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؛"بےشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسم کے بدلے تھوڑی قیمت(دینا) لیتے ہیں(وہ اپنے پیٹوں میں آگ ڈالتے ہیں) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ؛جلد١ص١٢٢؛حدیث نمبر ؛٢٦٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»، قَالَ: فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالُوا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فِيَّ نَزَلَتْ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟» فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَيَمِينُهُ»، قُلْتُ: إِذَنْ يَحْلِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» فَنَزَلَتْ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 263

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جو شخص مال حاصل کرنے کے لیے قسم کھاے اور وہ اس میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے یوں ملاقات کرےگا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا۔پھر حدیث نمبر ٢٦٣کی طرح ذکر کیا البتہ انہوں نے یوں فرمایا کہ میرے اور ایک دوسرے شخص کے درمیان ایک کنویں کے بارے میں جھگڑا تھا تو ہم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا تو آپ نے فرمایا تم دو گواہ پیش کرو یا وہ قسم کھاے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ؛جلد١ص١٢٣؛حدیث نمبر ؛٢٦٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا، هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 264

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے جو شخص کسی مسلمان کا مال ناحق طورپرحاصل کرنے کے لیے(جھوٹی)قسم کھاے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کریگا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کے مطابق قرآن مجید کی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔(آیت یہ ہے) {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَة؛(ترجمہ حدیث نمبر ٢٦٣میں گزر چکا ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ؛جلد١ص١٢٣؛حدیث نمبر ؛٢٦٥)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقِّهِ، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»، قَالَ عَبْدُ اللهِ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللهِ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 265

حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد(رضی اللہ عنہما)سے روایت کرتے کہ ایک شخص حضرموت(شہر)سے اور دوسرا کندہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضرمی نے کہا یا رسول اللہ!اس شخص نے جو میرے باپ کی زمیں پر قبضہ کر لیا۔کندی نے کہا یہ میری زمین ہے۔میرے قبضے میں ہے۔اور میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں۔اس میں اس شخص کا کوئی حق نہیں ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا تو گواہی پیش کر سکتا ہے۔عرض کیانہیں۔آپ نے فرمایا پھر تمہیں اس کی قسم پر اعتماد کرنا ہوگا۔اس نے عرض کیا یا رسول!یہ فاجر شخص ہے۔اسے کوئی پرواہ نہیں کہ یہ کس بات پر قسم اٹھا رہا ہے اور یہ کسی بات سے اجتناب نہیں کرتا ۔آپ نے فرمایا تیرے لیے یہی ہے وہ(دوسرا شخص)قسم اٹھانے لگا اور اس نے پیٹھ پھیری تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس لئے قسم کھائی کہ بطور ظلم یہ مال کھاے تو وہ اللہ سے اس طرح ملاقات کریگا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ؛جلد١ص١٢٣؛حدیث نمبر؛٢٦٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو عَاصِمٍ الْحَنَفِيُّ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: «لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ»، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: «أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 266

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ کے پاس دو آدمی آے جو ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے۔ان میں سے ایک نے عرض کیا۔یا رسول اللہ!اس نے دور جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کیا اور وہ امرؤاالقیس بن عابس الکندی تھا اور اس کے مدمقابل ربیعہ بن عبدان تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس گواہ ہیں؟اس نے عرض کیا۔میرا کوئی گواہ نہیں۔آپ نے فرمایا پھر اس کو قسم دی جائے گی۔اس نے کہا اس طرح تو وہ زمین کو لے جائیگا۔آپ نے فرمایا تمہارے لئے صرف یہی ہے۔راوی فرماتے ہیں جب وہ شخص قسم اٹھانے کے لئے کھڑا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے زیادتی کرتے ہوئے کسی کی زمین پر قبضہ کیا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کریگا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔اسحاق کی روایت میں ربیعہ بن عبدان نام منقول ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ؛جلد١ص١٢۴:حدیث نمبر ؛٢٦٧)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ - قَالَ: «بَيِّنَتُكَ» قَالَ: لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ، قَالَ: «يَمِينُهُ» قَالَ: إِذَنْ يَذْهَبُ بِهَا، قَالَ: «لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَاكَ»، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»، قَالَ إِسْحَاقُ فِي رِوَايَتِهِ: رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 267

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا یا رسول!آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص میرا مال لینے کی غرض سے آے(تو میں کیا کروں؟)آپ نے فرمایا،تم اس سے لڑو اس نے عرض کیا۔اگر وہ قتل کر دے تو؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شہید ہوگے۔اس نے عرض کیا اگر میں اسے قتل کروں تو؟ فرمایا وہ جہنم میں جائیگا۔(امام نووی فرماتے ہیں اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی کا مال ناحق طور پرلینے والے کا قتل جائز ہے کیونکہ اس سلسلے میں متعدد روایات آئی ہیں اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ قَصَدَ أَخْذَ مَالِ غَيْرِهِ بِغَيْرِ حَقٍّ، كَانَ الْقَاصِدُ مُهْدَرَ الدَّمِ فِي حَقِّهِ، وَإِنْ قُتِلَ كَانَ فِي النَّارِ،وَأَنَّ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ؛ترجمہ؛ناحق چھیننے والے کا خون رائیگاں ہے اور اگر وہ اس لڑائی کے دوران قتل ہوجائے تو جہنمی ہے اور جو مال کی حفاظت میں قتل ہوجائے تو وہ شہید ہے۔جلد١ص١٢٤؛حدیث نمبر٢٦٨)

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: «فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ» قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: «قَاتِلْهُ» قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: «فَأَنْتَ شَهِيدٌ»، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: «هُوَ فِي النَّارِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 268

حضرت سلیمان بن احول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالرحمن کے غلام ثابت نے ان کو بتایا کہ جب حضرت عبد اللہ بن عمرو اور عنبسہ بن ابوسفیان کے درمیان جھگڑا ہوا اور وہ لڑائی کے لئے تیارہوےتو حضرت خالد بن عاص سوار ہو کر حضرت عبد اللہ بن عمرو کے پاس گئے اور ان کو وعظ ونصیحت کرنے لگے تو حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا کیا آپ نہیں جانتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہوجائے وہ شہید ہے_ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ قَصَدَ أَخْذَ مَالِ غَيْرِهِ بِغَيْرِ حَقٍّ، كَانَ الْقَاصِدُ مُهْدَرَ الدَّمِ فِي حَقِّهِ، وَإِنْ قُتِلَ كَانَ فِي النَّارِ،وَأَنَّ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ؛جلد١ص١٢٤؛حدیث نمبر٢٦٩)

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ، فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ خَالِدٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 269

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٩کی طرح مروی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ قَصَدَ أَخْذَ مَالِ غَيْرِهِ بِغَيْرِ حَقٍّ، كَانَ الْقَاصِدُ مُهْدَرَ الدَّمِ فِي حَقِّهِ، وَإِنْ قُتِلَ كَانَ فِي النَّارِ، وَأَنَّ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ؛جلد١ص١٢٤؛حدیث نمبر٢٧٠)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 270

حضرت حسن کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد(حاکم وقت)،سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی اس بیماری میں جس میں ان کا انتقال ہوا،عیادت کرنے آیا،تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور اگر میں جانتا کہ میں ابھی زندہ رہوں گا،تو تجھ سے بیان نہ کرتا۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعیت(ماتحت باشندوں)کا حاکم بنادیا ہو اور وہ اس حال میں مرجائے کہ اس نے ان کے معاملہ میں خیانت کی ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کردے گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اسْتِحْقَاقِ الْوَالِي الْغَاشِّ لِرَعِيَّتِهِ النَّارَ؛ترجمہ؛رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والے حاکم کے لیے جہنم کی وعید؛جلد١ص١٢٥؛حدیث نمبر؛٢٧١)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: عَادَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، قَالَ مَعْقِلٌ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللهُ رَعِيَّةً، يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ، إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 271

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے کہ عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ تکلیف میں مبتلا تھے۔اس نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو اس سے پہلے میں نے تم سے بیان نہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو کسی رعایا کا نگراں بناتا ہے اور پھر وہ اس رعایا سے خیانت کرتےہوئے مر جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔عبیداللہ نے کہا آپ نے اس سے پہلے مجھ سے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی۔آپ نے کہا میں تم سے بیان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اسْتِحْقَاقِ الْوَالِي الْغَاشِّ لِرَعِيَّتِهِ النَّارَ؛جلد١ص١٢٥؛حدیث نمبر؛٢٧٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: دَخَلَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ، عَلَى مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ، وَهُوَ وَجِعٌ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَمْ أَكُنْ حَدَّثْتُكَهُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَسْتَرْعِي اللهُ عَبْدًا رَعِيَّةً، يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا، إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»، قَالَ: أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ؟ قَالَ: «مَا حَدَّثْتُكَ»، أَوْ «لَمْ أَكُنْ لِأُحَدِّثَكَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 272

حضرت حسن فرماتے ہیں ہم حضرت معقل بن یسار کے پاس تھے کہ عبیداللہ بن زیاد حاضر ہوا۔حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔پھر گزشتہ دو حدیثوں کی مثل ذکر کی۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اسْتِحْقَاقِ الْوَالِي الْغَاشِّ لِرَعِيَّتِهِ النَّارَ؛جلد١ص١٢٦؛حدیث نمبر؛٢٧٣)

وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ: كُنَّا عِنْدَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ نَعُودُهُ، فَجَاءَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ: إِنِّي سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 273

ایک اور سند کے ساتھ روایت کیا کہ عبیداللہ بن زیاد نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کی تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تم سے یہ حدیث بیان نہ کرتا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا امیر بنے پھر ان کے لئے کوشش نہ کرے اور انکی خیرخواہی نہ کرے تو وہ ان کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اسْتِحْقَاقِ الْوَالِي الْغَاشِّ لِرَعِيَّتِهِ النَّارَ؛جلد١ص١٢٦؛حدیث نمبر؛٢٧٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ، وَيَنْصَحُ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 274

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دو باتیں بیان فرمائیں۔میں نے ان میں سے ایک کو دیکھ لیا ہے اور دوسری کا منتظر ہوں۔آپ نے فرمایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائی میں اتری پھر قرآن مجید نازل ہوا تو انہوں نے قرآن مجید سے سیکھااور سنت سے سیکھا۔پھر ہم سے امانت اٹھ جانے کا ذکر فرمایا۔آپ نے فرمایا ایک شخص سوئے گا تو اسکے دل سے امانت نکال لی جائے گی اور پھیکے رنگ کی طرح اسکا اثر باقی رہے گا۔پھر وہ سوجائے گا توامانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی تو اسکا اثر چھالے کی طرح ہوگا۔جیسے تمہارے پاؤں کے نیچے انگارے سے چھالا پڑ جائے وہ اٹھا ہوا ہوتا ہے اور اندر سے خالی ہوتا ہے۔پھ آپ ایک کنکری لے کر اسکو اپنے پاؤ پر لڑکایا(اور فرمایا)پس لوگ خرید وفروخت کریں گے۔کوئی امانت دار نہیں ہوگا حتیٰ کہ کہا جائے گا فلاں قبیلے میں ایک شخص امانت دار ہے اور یہ کہ فلاں شخص کتنا بیدار مغز، خوش طبع اور عقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائے کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے اوپر ایک دور گزر چکا ہے جب میں بغیر کسی ڈر کے ہر ایک سے معاملہ(یعنی لین دین)کرتا تھا،اس لئے کہ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اس کو بے ایمانی سے باز رکھتا اور جو نصرانی یا یہودی ہوتا تو حاکم اس کو بے ایمانی سے باز رکھتا تھا لیکن آج کے دن تو میں تم لوگوں سے کبھی معاملہ نہ کروں گا،البتہ فلاں اور فلاں شخص سے(معاملہ)کروں گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ رَفْعِ الْأَمَانَةِ وَالْإِيمَانِ مِنْ بَعْضِ الْقُلُوبِ،وَعَرْضِ الْفِتَنِ عَلَى الْقُلُوبِ؛ترجمہ؛بعض دلوں سے امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا ،اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان؛جلد١ص١٢٦؛حدیث نمبر٢٧٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا، وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ حَدَّثَنَا: «أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ، فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ، وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ»، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَةِ قَالَ: " يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ - ثُمَّ أَخَذَ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى رِجْلِهِ - فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ حَتَّى يُقَالَ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، حَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا أَجْلَدَهُ مَا أَظْرَفَهُ مَا أَعْقَلَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ، وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، وَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبَايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 275

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٥کی مثل مروی ہے (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ رَفْعِ الْأَمَانَةِ وَالْإِيمَانِ مِنْ بَعْضِ الْقُلُوبِ،وَعَرْضِ الْفِتَنِ عَلَى الْقُلُوبِ؛جلد١ص١٢٦؛حدیث نمبر٢٧٦)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَوَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 276

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے کہا:تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟بعض لوگوں نے کہا کہ ہاں! ہم نے سنا ہے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شاید تم فتنوں سے وہ فتنے سمجھے ہو جو آدمی کو اس کے گھر بار اور مال اور ہمسائے میں ہوتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ ہاں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان فتنوں کا کفارہ تو نماز،روزےاور زکوٰۃ سے ہو جاتا ہے،لیکن تم میں سے ان فتنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس نے سنا ہے جو دریا کی موجوں کی طرح امنڈ کر آئیں گے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہُ عنہ نے کہا کہ لوگ خاموش ہو گئے میں نے کہا کہ میں نے سنا ہے۔سیدنا عمر رضی اللہُ عنہ نے کہا کہ تو نے سنا ہے تیرا باپ بہت اچھا تھا۔(یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے جو عرب لوگ استعمال کرتے ہیں)سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ فتنے دلوں پر ایک کے بعد ایک،ایک کے بعد ایک ایسے آئیں گے جیسےچٹائی کی تیلیاں ایک کے بعد ایک ہوتی ہیں۔پھر جس دل میں فتنہ رچ جائے گا،اس میں ایک کالا داغ پیدا ہو گا اور جو دل اس کو نہ مانے گا تو اس میں ایک سفید نورانی دھبہ ہو گا،یہاں تک کہ اسی طرح کالے اور سفید دھبے ہوتے ہوتے دو قسم کے دل ہو جائیں گے۔ایک تو خالص سفید دل چکنے پتھر کی طرح کہ آسمان و زمین کے قائم رہنے تک اُسے کوئی فتنہ نقصان نہ پہنچائے گا۔دوسرا سیاہ ہوگا جو اوندھے لوٹے کی طرح ہوگا۔نہ نیکی کی معرفت (اورعمل)اور نہ برائی کا انکار ہوگا بس اپنی خواہش پر عمل پیرا ہوگا۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ تمہارے اور اس فتنے کے درمیان میں ایک بند دروازہ ہے،مگر نزدیک ہے کہ وہ ٹوٹ جائےگا۔سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا کہ تیرا باپ نہ ہو(یہ بھی ایک کلمہ ہے جسے عرب عام طور پر کسی کام پر متنبہ کرنے یا مستعد کرنے کو کہتے ہیں)،کیا وہ ٹوٹ جائے گا؟اگر کھولا جاتا تو شاید دوبارہ لوٹ آتا۔ میں نے کہا کہ نہیں بلکہ وہ توڑ دیا جائے گا اور میں نے ان سے بیان کیا کہ یہ دروازہ ایک شخص ہے جسے شہید کر دیا جائے گا یا فوت ہوجائے گا۔یہ ایک صاف بات ہے کوئی مغالطہ نہیں ہے(اس دروازے سے مرادحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ذات تھی اور حضرت حذیفہ نے انکی شہادت کی طرف اشارہ کیا اور فتنوں سے مراد وہ فتنے ہیں جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے آخر میں پیدا ہوئے)۔ابو خالد نے کہا کہ میں نے سعد سے پوچھا کہ ”اَسْوَدُ مُرْباَدّ“سے کیا مراد ہے؟انہوں نے کہا کہ سیاہی میں سفیدی کی شدت۔ میں نے کہا کہ”الْكُوزُ مُجَخِّيًا"؟سے کیا مراد ہے؟انہوں نے کہا کہ الٹاکیا ہوا کوزہ۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْإِسْلَامِ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، وَأَنَّهُ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ؛اسلام کی ابتدا اور انتہا غرباء ہیں اور اسلام دو مسجدوں میں سمٹ جائے گا؛جلد١ص١٢٨؛حدیث نمبر؛٢٧٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ؟ فَقَالَ قوْمٌ: نَحْنُ سَمِعْنَاهُ، فَقَالَ: لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ؟ قَالُوا: أَجَلْ، قَالَ: تِلْكَ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ، وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا، فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا، نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا، نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ ، حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ، عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ، مُجَخِّيًا لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا، إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ»،قَالَ حُذَيْفَةُ: وَحَدَّثْتُهُ، «أَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ»، قَالَ عُمَرُ: أَكَسْرًا لَا أَبَا لَكَ؟ فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ لَعَلَّهُ كَانَ يُعَادُ، قُلْتُ: «لَا بَلْ يُكْسَرُ»، وَحَدَّثْتُهُ «أَنَّ ذَلِكَ الْبَابَ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ» قَالَ أَبُو خَالِدٍ: فَقُلْتُ لِسَعْدٍ: يَا أَبَا مَالِكٍ، مَا أَسْوَدُ مُرْبَادٌّ؟ قَالَ: «شِدَّةُ الْبَيَاضِ فِي سَوَادٍ»، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْكُوزُ مُجَخِّيًا؟ قَالَ: «مَنْكُوسًا»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 277

حضرت ربعی فرماتے ہیں جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس سے تشریف لائے تو ہمارے پاس بیٹھے اور بیان کرنے لگے۔انہوں نے فرمایا کل جب میں امیرالمومنین کے پاس بیٹھاتو انہوں نے اپنے احباب سے پوچھا کہ تم میں سے کس کو فتنوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول یاد ہے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٧٧کی طرح ذکر کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْإِسْلَامِ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، وَأَنَّهُ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ؛جلد١ص؛١٣٠؛حدیث نمبر ٢٧٨)

وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قالَ: لَمَّا قَدِمَ حُذَيْفَةُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ جَلَسَ، فَحَدَّثَنَا، فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمْسِ لَمَّا جَلَسْتُ إِلَيْهِ سَأَلَ أَصْحَابَهُ، أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ تَفْسِيرَ أَبِي مَالِكٍ لِقَوْلِهِ: «مُرْبَادًّا مُجَخِّيًا»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 278

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم میں سے کون بیان کریگا یا فرمایا تم میں سے کون ہم سے بیان کریگا۔جو کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں فرمایا۔حضرت حذیفہ نے عرض کیا میں بیان کروں گا پھر حدیث نمبر٢٧٧کی مثل بیان کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْإِسْلَامِ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، وَأَنَّهُ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ؛جلد١ص١٣٠؛حدیث نمبر٢٧٩)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: مَنْ يُحَدِّثُنَا أَوْ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحَدِّثُنَا - وَفِيهِمْ حُذَيْفَةُ - مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ كَنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قَالَ حُذَيْفَةُ: حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ، وَقَالَ: يَعْنِي أَنَّهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 279

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی ابتداء حالت غربت میں ہوئی اور عنقریب وہ غربت کی طرف لوٹے گا اور غرباء کے لیے مبارک باد ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب بدأ الإسلام غريبًا؛اسلام کی ابتداء غرباء ہیں؛جلد١ص١٣٠؛حدیث نمبر٢٨٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ، قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 280

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا بے شک اسلام کی ابتداء غربت ہے اور عنقریب یہ غربت کی طرف لوٹ جائے گااور یہ دو مسجدوں(مسجد حرام اور مسجد نبوی)کی طرف سکڑ جائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں سکڑکر گھس جاتا ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب بدأ الإسلام غريبًا؛جلد١ص١٣١؛حدیث نمبر٢٨١)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، وَهُوَ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 281

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان مدینہ طیبہ کی طرف سمٹ جائے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ جاتا ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب بدأ الإسلام غريبًا؛جلد١ص١٣١؛حدیث نمبر٢٨٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 282

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی۔جب تک زمین میں کوئی اللہ اللہ کرنے والا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ ذَهَابِ الْإِيمَانِ آخَرِ الزَّمَانِ؛ترجمہ؛آخری زمانے میں ایمان کا اختتام؛جلد١ص١٣١؛حدیث نمبر٢٨٣)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللهُ، اللهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 283

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے فرماتے ہیں کسی ایک پر قیامت نہیں ہوگی جو اللہ اللہ پکارتا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ ذَهَابِ الْإِيمَانِ آخَرِ الزَّمَانِ؛جلد١ص١٣١؛حدیث نمبر٢٨٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ: اللهُ، اللهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 284

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ نے فرمایا شمار کر کس قدر لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔حضرت حذیفہ فرماتے ہیں۔ہم نےعرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ کو ہمارے بارے میں ڈر ہے؟اور ہم چھ سو سے سات سو تک ہیں۔آپ نے فرمایا تم نہیں جانتے شاید تمہاری آزمائش ہو۔فرماتے ہیں پھر ہم آزمائش میں ڈالے گئے حتیٰ کہ ہم میں سے بعض چھپ چھپ کر نماز پڑھتے تھے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابُ الِاسْتِسْرَارِ لِلْخَائِفِ؛ترجمہ؛اپنا ایمان چھپانا؛جلد١ص١٣١؛حدیث نمبر٢٨٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَحْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الْإِسْلَامَ»، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّمِائَةٍ إِلَى السَّبْعِمِائةٍ؟ قَالَ: «إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا»، قَالَ: «فَابْتُلِيَنَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 285

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!فلاں کو بھی عطاء کیجئے۔وہ مومن ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ مسلمان ہے میں نے تین بار اپنی بات دہرائی اور ہر بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا"کیا وہ مسلمان ہے"پھر فرمایا میں ایک شخص کو دیتا ہوں حالانکہ اسکے علاوہ مجھے زیادہ پسند ہوتے ہیں لیکن مجھے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں اوندہانہ ڈال دے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَأَلُّفِ قَلْبِ مَنْ يَخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ لِضَعْفِهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ بِالْإِيمَانِ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ قَاطِعٍ؛ترجمہ؛کمزور ایمان والوں کی تالیف قلوب؛جلد١ص١٣٢؛حدیث نمبر٢٨٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ مُسْلِمٌ» أَقُولُهَا ثَلَاثًا، وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا «أَوْ مُسْلِمٌ»، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، مَخَافَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللهُ فِي النَّارِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 286

ایک دوسری سند کےساتھ بھی حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبیلے کو کچھ عطا کیا اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان میں تشریف فرما تھے۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو چھوڑ دیا اور اسے مال نہ دیا حالانکہ مجھے دوسروں کی نسبت وہ زیادہ پسند تھا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ نے فلاں کو کیوں نہیں عطاء کیا فرمایا اللہ کی قسم میں اسے مؤمن خیال کرتا ہوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"یا وہ مسلمان ہے"فرماتے ہیں میں کچھ دیر خاموش رہا۔پھر اس کے بارے میں میرا علم غالب آگیا مجھ پر تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا وجہ ہے آپ فلاں کو عطاء نہیں فرماتے۔میں جانتا ہوں کہ وہ مومن ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"یاوہ مسلمان ہے"فرماتے ہیں پھر میں کچھ دیر خاموش رہا۔اس کے بعد پھر اس کے بارے میں میرا علم مجھ پر(غالب)آگیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا وجہ ہے آپ فلاں کو عطاء نہیں فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میرے خیال میں وہ مومن ہے۔آپ نے فرمایا"یا وہ مسلمان ہے"(اور فرمایا)میں ایک شخص کو دیتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہوتے ہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں اسے جہنم میں اوندہاڈال نہ دیا جائے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَأَلُّفِ قَلْبِ مَنْ يَخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ لِضَعْفِهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ بِالْإِيمَانِ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ قَاطِعٍ؛جلد١ص١٣٢؛حدیث نمبر٢٨٧)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ سَعْدٌ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ، وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟ فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ مُسْلِمًا»، قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟ فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ مُسْلِمًا»، قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟ فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ مُسْلِمًا، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 287

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو عطاء فرمایا اور میں ان کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔پھر حدیث نمبر ٢٨٧کی مثل روایت کیا۔البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں اٹھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سر گوشی کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا وجہ ہے آپ فلاں شخص کو عطاء نہیں فرماتے ۔(مسلم شریف کتاب الایما؛بَابُ تَأَلُّفِ قَلْبِ مَنْ يَخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ لِضَعْفِهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ بِالْإِيمَانِ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ قَاطِعٍ؛جلد١ص١٣٣؛حدیث نمبر٢٨٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، وَزَادَ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ هَذَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: «أَقِتَالًا؟ - أَيْ سَعْدُ - إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 288

ایک اور سند کے ساتھ حضرت محمد بن سعد اس حدیث کو روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے(حضرت سعد رضی اللہ عنہ)سے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری گردن اور کندھے کے درمیان مار کر پھر ارشاد فرمایا۔اے سعد!کیوں بحث کر رہے ہو۔پھر آپ نے فرمایا میں ایک شخص کو دیتا ہوں(آخر تک جیسے حدیث نمبر٢٨٧میں گزرا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَأَلُّفِ قَلْبِ مَنْ يَخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ لِضَعْفِهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ بِالْإِيمَانِ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ قَاطِعٍ؛جلد١ص١٣٣؛حدیث نمبر ٢٨٩)

وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ هَذَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: «أَقِتَالًا؟ - أَيْ سَعْدُ - إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 289

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلےمیں شک کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔جب انہوں نے کہا {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ:أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [البقرة: ٢٦٠] "،اے میرے رب!مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔فرمایا کیا تمہارا ایمان نہیں؟عرض کیا ہاں کیوں نہیں(لیکن اس لئے سوال کیا)تاکہ دل مطمئن ہو جائے اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے وہ مضبوط ستون کی پناہ حاصل کرتے تھے اور اگر میں یوسف علیہ السلام کی طرح قید خانے میں طویل رہتا تو بلانے والے کی پکار کا جواب دیتا۔(امام نووی فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کو تم شک سمجھتے ہو یہ شک نہیں بلکہ یہ مزید یقین کے حصول کے لیے سوال ہے۔اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام نے جو کچھ کہا یہ بھی ایمان کی مضبوطی کا سبب ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ تَأَلُّفِ قَلْبِ مَنْ يَخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ لِضَعْفِهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ بِالْإِيمَانِ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ قَاطِعٍ؛جلد١ص١٣٣؛حدیث نمبر ٢٩٠)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ: {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ: أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [البقرة: ٢٦٠] "، قَالَ: «وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 290

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےحدیث نمبر ٢٩٠کی مثل روایت کرتے ہیں لیکن حضرت مالک کی روایت میں"ولکن ليطمئن قلبی"آیت کو آگے تک بڑھایا ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ زِيَادَةِ طُمَأْنِينَةِ الْقَلْبِ بِتَظَاهُرِ الْأَدِلَّةِ؛جلد١ص١٣٣؛حدیث نمبر؛٢٩١)

وَحَدَّثَنِي بِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَأَبَا عُبَيْدٍ، أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ِ وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ: " {وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [البقرة: ٢٦٠] " قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى جَازَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 291

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس طرح آیت کو آگے بڑھانے کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ زِيَادَةِ طُمَأْنِينَةِ الْقَلْبِ بِتَظَاهُرِ الْأَدِلَّةِ؛جلد١ص١٣٣؛حدیث نمبر٢٩٢)

حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، كَرِوَايَةِ مَالِكٍ بِإِسْنَادِهِ، وَقَالَ: ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَنْجَزَهَا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 292

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس قدر نشانیاں عطافرمائیں کہ ان پر کوئی شخص ایمان لاسکے اور مجھ پر کتاب وحی کی گئی وہ بھی نشانی(اور معجزہ)ہے اور مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے پیچھے آنے والے زیادہ ہوں گے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وُجُوبِ الْإِيمَانِ بِرِسَالَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمِيعِ النَّاسِ،وَنَسْخِ الْمِلَلِ بِمِلَّتِهِ؛ترجمہ؛ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا سب پر واجب ہے؛جلد١ص١٣٤؛حدیث نمبر٢٩٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدِ اُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 293

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔اس امت میں سے کوئی یہودی اور نصرانی میرے بارے میں سنے اور میرے لائے ہوئے دین پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنمیوں میں سے ہوگا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وُجُوبِ الْإِيمَانِ بِرِسَالَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمِيعِ النَّاسِ،وَنَسْخِ الْمِلَلِ بِمِلَّتِهِ؛جلد١ص١٣٤؛حدیث نمبر ٢٩٤)

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ، وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 294

حضرت صالح بن صالح الہمدانی،شعبی سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو کہ خراسان کا رہنے والا تھا اس نے شعبی سے پوچھا کہ ہمارے ملک کے لوگ کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کر کے پھر اس سے نکاح کر لے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی قربانی کے جانور پر سواری کرے۔حضرت شعبی نے فرمایا کہ مجھ سے ابو بردہ بن ابی موسیٰ نے بیان کیا،انہوں نے اپنے والد سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”تین قسم کے آدمیوں کو دوہرا ثواب ملے گا۔ ایک تو وہ شخص جو اہل کتاب میں سے ہو“(یعنی یہودی یا نصرانی)اپنے پیغمبر پر ایمان لایا ہو اور پھر میرا زمانہ پائے اور مجھ پر بھی ایمان لائے،میری پیروی کرے اور مجھے سچا جانے گا تو اس کو دوہرا ثواب ہے۔اور ایک اس غلام کو جو اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالک کا بھی،اس کو دوہرا ثواب ہے۔اور ایک اس شخص کو جس کے پاس ایک لونڈی ہو، پھر اچھی طرح اس کو کھلائے اور پلائے اس کے بعد اچھی طرح تعلیم و تربیت کرے،پھر اس کو آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کو بھی دوہرا ثواب ہے۔اس کے بعد حضرت شعبی نے اس خراسانی سے فرمایا کہ یہ حدیث کسی عوض کے بغیر لے جاؤ ورنہ ایک شخص اس حدیث کے لئے مدینہ طیبہ کا سفر کرتا تھا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وُجُوبِ الْإِيمَانِ بِرِسَالَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمِيعِ النَّاسِ، وَنَسْخِ الْمِلَلِ بِمِلَّتِهِ؛جلد١ص١٣٤؛حدیث نمبر٢٩٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ سَأَلَ الشَّعْبِيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا: فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ وَصَدَّقَهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللهِ تَعَالَى وَحَقَّ سَيِّدِهِ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَغَذَّاهَا، فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا، ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ "، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ: خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا إِلَى الْمَدِينَةِ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 295

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٥کی طرح مروی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ وُجُوبِ الْإِيمَانِ بِرِسَالَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمِيعِ النَّاسِ،وَنَسْخِ الْمِلَلِ بِمِلَّتِهِ؛جلد١ص١٣٤؛حدیث نمبر٢٩٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 296

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔عنقریب تم میں حضرت ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے وہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔پس وہ صلیب کو توڑیں گے۔خنزیر کو قتل کریں گے،جزیہ کو معاف کر دیں گے اور اس قدر مال ہوگا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ ترجمہ؛حضرت عیسٰی علیہ السلام کا نزول اور شریعت مصطفوی پر عمل؛جلد١ص١٣٥؛حدیث نمبر٢٩٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 297

اور بھی سندوں کے ساتھ اس کی مثل مروی ہے۔ان میں ابن عیینہ کی روایت میں منصف امام اور عادل حاکم کا ذکر ہے لیکن حضرت یونس کی روایت میں عادل حاکم کا ذکر ہے۔لیکن انہوں نے انصاف کرنے والے امام کا ذکر نہیں کیا جبکہ حضرت صالح کی روایت میں منصف حاکم کا ذکر ہے۔ابن عیینہ کی روایت میں منصف امام اور عادل حکمران کا ذکر ہے اور ان کی حدیث میں یہ اضافہ ہے۔فرماتے ہیں حتی کہ ایک سجدہ دینا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے بہتر ہے۔پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر چاہو تو یہ پڑھو"{وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ} [النساء: ١٥٩](آخرتک)" اور تمام اہل کتاب حضرت عیسٰی علیہ السلام کے وصال سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٣٥؛حدیث نمبر٢٩٨)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح، وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، ح، وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: «إِمَامًا مُقْسِطًا، وَحَكَمًا عَدْلًا» وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ: «حَكَمًا عَادِلًا»، وَلَمْ يَذْكُرْ «إِمَامًا مُقْسِطًا»، وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ: «حَكَمًا مُقْسِطًا»، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ: وَفِي حَدِيثِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ: «وَحَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ} [النساء: ١٥٩] الْآيَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 298

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم!حضرت ابن مریم(علیہ السلام)عادل حاکم کے طور پر ضرور اتریں گے۔پس وہ صلیب کو توڑیں گے۔خنزير کو قتل کریں گے اور جزیہ معاف کریں گے۔اونٹوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے گا اور ان سے کام نہیں لیا جائے گا۔کینہ،بغض اور حسد ختم ہوجائے گا اور لوگوں کو مال کی طرف بلایا جائیگا لیکن اسے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا۔(یہ غیبی خبریں ہیں کیونکہ عقل اور حواس کے ذریعے حاصل نہیں ہوسکتیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ غیبی خبریں دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیب پر مطلع فرمایا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٣٦؛حدیث نمبر٢٩٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللهِ، لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلًا، فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ، وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ، وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ، وَلَتُتْرَكَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا، وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَاءُ وَالتَّبَاغُضُ وَالتَّحَاسُدُ، وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 299

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب حضرت ابن مریم(علیہ السلام)تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم(میں)سے ہوگا؛ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٣٦؛حدیث نمبر٣٠٠)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ؟»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 300

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب حضرت ابن مریم تم میں اتریں گے اور تمہاری امامت کریں گے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٣٦؛حدیث نمبر٣٠١)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَأَمَّكُمْ؟»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 301

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تم میں حضرت ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔ولید بن مسلم کہتے ہیں میں نے ابن ابی ذئب سے پوچھا کہ حضرت اوزاعی نے حضرت زہری سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت نافع سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ تمہارا امام تم سے ہوگا۔ابن ابی ذئب نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ تم میں سے تمہاری امامت کریں گا کا کیا مطلب ہے۔فرماتے ہیں میں نے کہا مجھے بتائیے۔انہوں نے فرمایا وہ تمہارے رب کی کتاب اور تمہارے نبی کی سنت کے ساتھ تمہاری امامت کریں گے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٣٧؛حدیث نمبر ٣٠٢)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّكُمْ مِنْكُمْ؟»، فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ: إِنَّ الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ» قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ: «تَدْرِي مَا أَمَّكُمْ مِنْكُمْ؟» قُلْتُ: تُخْبِرُنِي، قَالَ: «فَأَمَّكُمْ بِكِتَابِ رَبِّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 302

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا میری امت میں سے ایک جماعت قیامت تک ہمیشہ حق کے لئے کھلم کھلا لڑے گی اور فرمایا حضرت عیسٰی علیہ السلام اتریں گے اور انکا امیر کہے گا۔آگے تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں۔وہ فرمائیں گے نہیں۔تم میں سے بعض بعض کے امرا ہوں گے اور یہ اعزاز اس امت کو اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے شرف کے طور پر حاصل ہوگا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٣٧؛حدیث نمبر ٣٠٣)

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»، قَالَ: " فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 303

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔پس جب وہ مغرب سے طلوع ہوگا تو سب لوگ ایمان لائیں گے{لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا}[الأنعام: ١٥٨] "اس دن کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دیگا۔جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو" ۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لَا يُقْبَلُ فِيهِ الْإِيمَانُ؛ترجمہ؛جب ایمان قبول نہ ہوگا۔جلد١ص١٣٧؛حدیث نمبر٣٠٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ مَغْرِبِهَا آمَنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ فَيَوْمَئِذٍ {لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: ١٥٨]

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 304

امام مسلم نے اور سندودں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٠٤کی طرح روایت کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لَا يُقْبَلُ فِيهِ الْإِيمَانُ؛جلد١ص١٣٧؛حدیث نمبر٣٠٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وابْنُ نُميْرٍ، وأَبُو كُريْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح، وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زاَئِدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 305

امام مسلم نے متعدد حضرات سے ان کی اسناد کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی۔آپ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین نشانیاں ایسی ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوں گی تو اس وقت کسی شخص کو اسکا ایمان نفع نہیں دیگا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہیں کمائی۔سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دجال اور دابةالارض کا ظاہر ہونا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لَا يُقْبَلُ فِيهِ الْإِيمَانُ؛جلد١ص١٣٧؛حدیث نمبر ٣٠٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، جَمِيعًا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَدَابَّةُ الْأَرْضِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 306

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتا ہے۔فرمایا یہ چلتا ہے حتی کہ عرش کے نیچے اپنے ٹھکانے پر پہونچ جاتا ہے پس سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔یہ مسلسل اسی طرح کرتا ہے حتی کہ اس سے کہا جاتا ہے بلند ہو اور وہاں لوٹ جا جہاں سے آیا ہے۔پس وہ اپنے مطلع سے طلوع کرتا ہے۔پھر چلتا ہے حتی کہ عرش کے نیچے اپنے ٹھکانے پر چلا جاتا ہے اور سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔وہ اپنا یہ عمل جاری رکھتا ہے حتی کہ اس سے کہا جاتا ہے،بلند ہو اور وہاں چلا جا جہاں سے آیا ہے۔پس وہ اپنے مطلع سے طلوع کرتا ہے پھر چلتا ہے(اور)لوگ اس سے کسی بات میں تبدیلی محسوس نہیں کرتے حتیٰ کہ وہ عرش کے نیچے اپن ٹھکانے پر چلا جائیگا تو اس سے کہا جائے گا بلند ہو اور اپنے مغرب سے طلوع کر۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو۔یہ بات کب ہوگی اس وقت ایسا ہوگا جب کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دیگا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہیں کمائی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لَا يُقْبَلُ فِيهِ الْإِيمَانُ؛جلد١ص١٣٨؛حدیث نمبر٣٠٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ، - سَمِعَهُ فِيمَا أَعْلَمُ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا: «أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرُّ سَاجِدَةً، فَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرُّ سَاجِدَةً، وَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجْرِي لَا يَسْتَنْكِرُ النَّاسَ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا ذَاكَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَيُقَالُ لَهَا: ارْتَفِعِي أَصْبِحِي طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِكِ، فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِهَا "، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَدْرُونَ مَتَى ذَاكُمْ؟ ذَاكَ حِينَ {لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: ١٥٨] "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 307

امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٠٧کی مثل روایت کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لَا يُقْبَلُ فِيهِ الْإِيمَانُ؛جلد١ص١٣٩؛حدیث نمبر٣٠٨)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا: «أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ؟» بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 308

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے ابوذر!کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ تعالٰی اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا یہ جاتا ہے اور سجدہ کرنے کے لئے اجازت مانگتا ہے۔پس اس کو اجازت دی جاتی ہے اور گویا اس سے ایک دن کہا جائیگا۔جاؤ جہاں سے آئے ہو فرمایا پس یہ مغرب سے طلوع ہوگا۔پھر انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت پڑھی"وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا"یہ اس کا ٹھکانہ ہے" (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لَا يُقْبَلُ فِيهِ الْإِيمَانُ؛جلد١ص١٣٩؛حدیث نمبر ٣٠٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لَأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ، فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا "، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللهِ: وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 309

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےاللہ تعالیٰ کے ارشاد گرامی کے بارے میں پوچھا"{وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا} [يس: ٣٨]؟ قَالَ: «مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ»" اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا ہے(آپ نے فرمایا)اس کا ٹھکانہ عرش کے نیچے ہے"۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لَا يُقْبَلُ فِيهِ الْإِيمَانُ؛جلد١ص١٣٩؛حدیث نمبر٣١٠)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا} [يس: ٣٨]؟ قَالَ: «مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 310

عروہ بن زبیر سے روایت ہے اور انہیں اُمّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح نمودار ہوتا۔پھر آپ کے دل میں خلوت نشینی کی محبت ڈال دی گئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں اکیلے تشریف رکھتے،کئی کئی راتوں تک وہاں عبادت کیا کرتے اور گھر میں نہ آتے،اپنا توشہ ساتھ لے جاتے۔پھر اُمّ المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ کر آتے اور اتنی مدت کے لئے مزید سامان لے جاتے یہاں تک کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی غارِ حرا میں تھے کہ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ پڑھو!آپ نے فرمایا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔(آپ نے فرمایا کہ)اس فرشتے نے بغلگیرہوکر مجھے زور سے دبایا،حتیٰ کہ مجھے تھکادیا،پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھئے!میں نے کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ بغلگیر ہو کر یوں دبایا کہ مجھے تھکا دیا۔پھر چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھئے!میں نے کہا میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔آپ فرماتے ہیں اس نے مجھے پکڑ کر تیسری مرتبہ گلے لگا کر یوں دبایا کہ مجھے تھکا دیا۔ پھر چھوڑ دیا اور کہا کہ{اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} [العلق: ٢] ”پڑھو! اپنے رب کے نام سے،جس نے پیدا کیا۔جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔پڑھو اور تمہارا رب بڑے کرم والا ہے۔جس نے قلم کے ذریعے(علم)سکھایا۔جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا“۔اس وحی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے کا گوشت حرکت کر رہا تھا(چونکہ یہ وحی کا پہلا مرحلہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عادت نہ تھی،اس واسطے ہیبت چھا گئی)یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمّ المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا کہ مجھے(چادر)اوڑھا دو،مجھے(چادر)اوڑھا دو۔گھر والوں نے چادر اوڑھا دی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا اس وقت اُمّ المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اے خدیجہ میرا کیا ہوگا۔اور سب حال بیان کیا اور کہا کہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔اُمّ المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہرگز نہیں آپکو خوشخبری ہواللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا۔آپ صلہ رحمی کرتے ہیں،سچی بات کہتے ہیں،بےسہاروں کی دستگیری کرتے ہیں، جن کے پاس مال نہیں ان کی مدد کرتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں،اور امور حق میں مدد کرتے ہیں۔پھر اُمّ المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور وہ اُمّ المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچازاد بھائی تھےاور جاہلیت کے زمانہ میں وہ نصرانی ہو گئے تھے اور عربی لکھنا جانتے تھے،تو جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا انجیل کو عربی زبان میں لکھتے تھے اور بہت بوڑھے تھے،ان کی بینائی(بڑھاپے کی وجہ سے)جاتی رہی تھی۔اُمّ المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اے چچا!(وہ چچا کے بیٹے تھے لیکن بزرگی کے لئے ان کو چچا کہا اور ایک روایت میں چچا کے بیٹے ہیں)اپنے بھتیجے کی سنو۔ ورقہ نے کہا کہ اے میرے بھتیجے!تم نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیفیت دیکھی تھی سب بیان کی تو ورقہ نے کہا یہ وہی فرشتہ ہےجو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اترا تھا۔کاش میں جوان ہوتا۔،کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپکی قوم آپکو نکلنے پر مجبور کرے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ورقہ نے کہا ہاں!جب کوئی شخص دنیا میں وہ لے کر آیا،جسے تم لائے ہو(یعنی شریعت اور دین)تو لوگ اس کے دشمن ہو گئے اور اگر میں اس دن کو پاؤں گا تو اچھی طرح تمہاری مدد کروں گا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزولِ وحی کا آغاز؛جلد١ص١٣٩؛حدیث نمبر٣١١)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لَا يَرَى [ص: ١٤٠] رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ - اللَّيَالِيَ أُوْلَاتِ الْعَدَدِ، قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ»، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: قُلْتُ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ»، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: أَقْرَأْ، فَقُلْتُ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ»، فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} [العلق: ٢]، فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي»، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ: «أَيْ خَدِيجَةُ، مَا لِي» وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، قَالَ: «لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي»، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: كَلَّا أَبْشِرْ، فَوَاللهِ، لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، وَاللهِ، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ، وَيَكْتُبُ مِنَ الْإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمِّ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ: يَا ابْنَ أَخِي، مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَآهُ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ؟» قَالَ وَرَقَةُ: نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 311

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔آپ نے ابتدائی وحی کا ذکر کرتے ہوئے حدیث نمبر ٣١١ذکر کی۔البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی غمگیں نہیں کرے گا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات سنیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٤٢؛ حدیث نمبر ٣١٢)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَوَاللهِ، لَا يُحْزِنُكَ اللهُ أَبَدًا، وَقَالَ: قَالَتْ خَدِيجَةُ: أَيْ ابْنَ عَمِّ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 312

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف لوٹے تو آپ کا دل گھبرا رہا تھا اس کے بعد آگے حدیث بیان کی لیکن پہلی دو احادیث کا ابتدائی حصہ بیان نہیں کیا کہ وحی کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا اور"لایخزیک اللہ ابدا"(اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرےگا کے الفاظ کے ساتھ یونس راوی کی حدیث(حدیث٣١١کی)ابتاع کی اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا قول کہ اے میرے چچا زاد!اپنے بھتیجے کی بات سنیں ذکر کیا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ جلد١ص ١٤٢؛حدیث نمبر٣١٣)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ، يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، وَمَعْمَرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ، وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَى قَوْلِهِ، فَوَاللهِ ِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، وَذَكَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ: أَيْ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 313

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔اس دوران کہ میں جارہا تھا میں نے آسمان سے ایک آواز سنی میں نے سر اٹھایا تو وہی فرشتہ تھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا۔وہ آسمان وزمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں اس سے گھبرا گیا تو واپس لوٹا۔میں نے کہا مجھے اوڑھا دو، مجھے اوڑھا دو۔پس گھر والوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ} [المدثر: ٢]"اے کمبل اوڑھنے والے!کھڑے ہوجاو پھر ڈر سناؤ اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور بتوں سے دور رہو۔" الرجز"سے مراد بت ہیں۔فرماتے ہیں پھر تسلسل کے ساتھ وحی آنے لگی۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٤٣؛حدیث نمبر٣١٤)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ - قَالَ فِي حَدِيثِهِ -: «فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسًا عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ»، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا، فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، فَدَثَّرُونِي، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ} [المدثر: ٢] فَاهْجُرْ - وَهِيَ الْأَوْثَانُ - " قَالَ: «ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 314

ایک اور سند کے ساتھ!حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے پھر مجھ سے وحی کا سلسلہ رک گیا تو اس دوران کہ میں چل رہا تھا پھر حدیث نمبر ٣١١کی مثل ذکر کیا۔البتہ اس میں یہ فرمایا کہ مجھے اس سے خوف آنے لگا کہ میں زمین پر گر جاؤں گا۔ابوسلمہ فرماتے ہیں"الرجز" سے بت مراد ہیں پھر وہی تسلسل کے ساتھ آنے لگی۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ جلد١ص١٤٣؛حدیث نمبر؛٣١٥)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي»، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَجُثِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ»، قَالَ: وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَالرُّجْزُ الْأَوْثَانُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 315

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث یونس(حدیث نمبر٣١١کی)کی مثل مروی ہے اور اس میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یاایھاالمدثرسے"والرجز فاھجر" تک آیات اتاریں اور ابھی تک نماز فرض نہیں تھی۔"رجز"سےمراد بت ہیں۔آپ فرماتے ہیں میں اس سے گھبرا گیا جیسا کہ حدیث نمبر ٣١٥میں ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٤٣؛حدیث نمبر٣١٦)

قَالَ: ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ. وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ، وَقَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ} [المدثر: ١]، إِلَى قَوْلِهِ {وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: ٥] قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ - وَهِيَ الْأَوْثَانُ - وَقَالَ: فَجُثِثْتُ مِنْهُ كَمَا قَالَ عُقَيْلٌ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 316

ولید بن مسلم کہتے ہیں مجھ سے حضرت اوزاعی نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت یحییٰ سے سنا۔وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن میں سے کیا اترا؟ انہوں نے کہا کہ ﴿یَأیُّہاَ الْمُدَثِّرُ﴾ میں نے کہا کہ یا ﴿اِقْرَأْ﴾(سب سے پہلے اتری؟)انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قرآن میں سب سے پہلے کیا اترا تو انہوں نے کہا کہ ﴿یَأیُّہاَ الْمُدَثِّرُ﴾میں نے کہا کہ یا ﴿اِقْرَأْ﴾ (سب سے پہلے اتری؟)سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تم سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں(غار)حرا میں ایک مہینے تک رہا۔جب میری رہنے کی مدت پوری ہو گئی تو میں اترا اور وادی کے اندر چلا، کسی نے مجھے آواز دی،میں نے سامنے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں دیکھا، کوئی نظر نہ آیا۔پھر مجھے کسی نے آواز دی، میں نے دیکھا مگر کسی کو نہ پایا۔ پھر کسی نے مجھے آواز دی تو میں نے سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو وہ ہوا میں ایک تخت پر ہیں یعنی جبریل علیہ السلام۔مجھے یہ دیکھ کر سخت گھبراہٹ ہوئی۔تب میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ مجھے اڑھا دو! انہوں نےمجھے چادر اوڑھا دی پانی میرے اوپر ڈالا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتاریں۔ ”: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [المدثر: ٢]۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٤٤؛حدیث نمبر٣١٧)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ؟ قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، فَقُلْتُ: أَوِ اقْرَأْ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ؟ قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، فَقُلْتُ: أَوْ اقْرَأْ؟ قَالَ جَابِرٌ: أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَهْرًا، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي، فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ - يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي، فَدَثَّرُونِي، فَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [المدثر: ٢] "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 317

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی(حدیث نمبر ٣٠٧کی مثل مروی ہے)یہ حدیث مروی ہے۔اس میں ہے کہ وہ شخص(فرشتہ)آسمان وزمین کے درمیان تخت پر بیٹھا ہوا تھا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص١٤٥؛حدیث نمبر٣١٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 318

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے ایک سفید براق لایا گیا، اور وہ ایک جانور ہے سفید رنگ کا، لمبا، گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا، اپنے پاؤں وہاں رکھتا ہے جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے(تو ایک لمحہ میں آسمان تک جا سکتا ہے)۔فرمایا:میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس تک آیا۔فرمایا:وہاں میں نے اس جانور کو اس حلقہ سے باندھ دیا،جس سے اور پیغمبر اپنے اپنے جانوروں کو باندھا کرتے تھے(یہ حلقہ مسجد کے دروازے پر ہے اور باندھ دینے سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کو اپنی چیزوں کی احتیاط اور حفاظت ضروری ہے اور یہ توکل کے خلاف نہیں)پھر میں مسجد کے اندر گیا اور دو رکعت نماز پڑھی پھر باہر نکلا تو جبریل علیہ السلام دو برتن لے کر آئے،ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا۔ میں نے دودھ پسند کیا تو جبریل نے کہا،آپ نے فطرت کو پسند کیا۔پھر جبریل علیہ السلام مجھے آسمان پر لے کر گئے،(جب وہاں پہنچے)تو فرشتوں سے دروازہ کھولنے کے لئے کہا،انہوں نے پوچھا کون ہے؟جبریل نے کہا کہ جبریل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے ساتھ دوسرا کون ہے؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔فرشتوں نے پوچھا کہ کیا وہ بلائے گئے تھے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں۔پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا اور میں نے آدم علیہ السلام کو دیکھا تو انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے بہتری کی دعا کی۔ پھر جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ دوسرے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے؟انہوں نے کہا کہ جبریل۔ فرشتوں نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ دوسرا کون شخص ہے؟انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ ان کو بلانے کا حکم ہوا تھا؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں حکم ہوا ہے۔پھر دروازہ کھلا تو میں نے دونوں خالہ زاد بھائیوں کو دیکھا یعنی عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو۔ان دونوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے بہتری کی دعا کی۔ پھر جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ تیسرے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا،تو فرشتوں نے کہا کہ کون ہے؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ جبریل۔فرشتوں نے کہا کہ تمہارے ساتھ دوسرا کون ہے؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔فرشتوں نے کہا کہ کیا ان کو بلانے کے لئے پیغام گیا تھا؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں پیغام گیا تھا۔پھر دروازہ کھلا تو میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا۔اللہ نے حسن(خوبصورتی)کا آدھا حصہ ان کو دیا تھا۔انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور نیک دعا کی۔پھر جبریل علیہ السلام ہمیں لے کر چوتھے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا تو فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے ؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ جبریل۔انہوں نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ دوسرا کون ہے؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔فرشتوں نے کہا کہ کیا وہ بلوائے گئے ہیں؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں بلوائے گئے ہیں۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا۔انہوں نے مرحبا کہا اور مجھے اچھی دعا دی۔اللہ جل جلالہ نے فرمایا ہے کہ ”ہم نے ادریس کو اونچی جگہ پر اٹھا لیا“(تو اونچی جگہ سے یہی چوتھا آسمان مراد ہے)۔پھر جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ پانچویں آسمان پر چڑھے اور انہوں نے دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون؟ کہا کہ جبریل۔فرشتوں نے پوچھا کہ تمہارے سا تھ کون ہے؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں بلوائے گئے ہیں۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے ہارون علیہ السلام کو دیکھا۔انہوں نے مرحبا کہا اور مجھے نیک دعا دی۔پھر جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا۔فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ جبریل۔فرشتوں نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ اور کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا اللہ نے ان کو لے کر آنے کے لئے پیغام بھیجا تھا؟جبریل علیہ السلام نے کہا، ہاں! بھیجا تھا۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے مرحبا کہا اور مجھے اچھی دعا دی۔ پھر جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ ساتویں آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے ؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ جبریل ہوں۔ پوچھا کہ تمہارے ساتھ اور کون ہے؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کیا وہ بلوائے گئے ہیں؟انہوں نے کہا کہ ہاں بلوائے گئے ہیں۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ بیت المعمور سے اپنی پیٹھ کا تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔(اس سے معلوم ہوا کہ قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا گناہ نہیں)اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں کہ پھر کبھی ان کی باری نہیں آئے گی۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے سدرۃ المنتیٰ کے پاس لے گئے۔اس کے پتے اتنے بڑے تھے جیسے ہاتھی کے کان اور اس کے پھل مٹکوں کے برابر تھے۔(ایک بڑا گھڑا جس میں دو مشک یا زیادہ پانی آتا ہے)پھر جب اس درخت کو اللہ تعالیٰ کے حکم نے ڈھانکا تو اس کا حال ایسا ہو گیا کہ کوئی مخلوق اس کی خوبصورتی بیان نہیں کر سکتی۔ پھر اللہ جل جلالہ نے میرے دل میں القاء کیا جو کچھ القاء کیا اور پچاس نمازیں رات اور دن میں مجھ پر فرض کیں۔جب میں وہاں سے اترا اور موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا کہ تمہارے پروردگار نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پھر اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جاؤ اور تخفیف چاہو،کیونکہ تمہاری امت کو اتنی طاقت نہ ہو گی اور میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا ہے۔ میں اپنے پروردگار کے پاس لوٹ گیا اور عرض کیا کہ اے پروردگار! میری امت پر تخفیف کر۔اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں گھٹا دیں۔ میں لوٹ کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کر دیں۔انہوں نے کہا تمہاری امت کو اتنی طاقت نہ ہو گی، آپ پھر اپنے رب کے پاس جاؤ اور تخفیف کراؤ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس طرح برابر اپنے پروردگار کے درمیان آتا جاتا رہا،یہاں تک کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں،اور ہر ایک نماز میں دس نمازوں کا ثواب ہے۔تو وہی پچاس نمازیں ہوئیں(سبحان اللہ! مالک کی اپنے بندوں پر کیسی عنایت ہے کہ پڑھیں تو پانچ نمازیں اور ثواب پچاس نمازوں کا ملے)اور جو کوئی شخص نیک کام کرنے کی نیت کرے اور پھر اس کو نہ کر سکے تو اس کو ایک نیکی کا ثواب ملے گا اور جو کرے تو اس کو دس نیکیوں کا اور جو شخص برائی کرنے کی نیت کرے اور پھر اس کو نہ کرے،تو کچھ نہ لکھا جائے گا اور اگر کر لے تو ایک ہی بُرائی لکھی جائے گی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ پھر اپنے رب کے پاس لوٹ جاؤ اور تخفیف چاہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف(اس قدر) لوٹا ہوں حتیٰ کہ اب مجھے حیا آتی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ،وَفَرْضِ الصَّلَوَات؛ترجمہ؛معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور فرضیت نماز؛جلد١ص ١٤٥ و ١٤٦ ؛حدیث نمبر ٣١٩)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ، وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ، وَدُونَ الْبَغْلِ، يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ»، قَالَ: «فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ»، قَالَ: «فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ»، قَالَ " ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنَ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: َ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ، فَرَحَّبَ بِي، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقِيلَ: مَنَ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِابْنَيْ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّاءَ، صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمَا، فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنَ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا هُوَ قَدِ اُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا} [مريم: ٥٧]، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَحَّبَ، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ، وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ "، قَالَ: " فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى، فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ، فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ "، قَالَ: " فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي،فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي، فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ "، قَالَ: " فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَبَيْنَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ، فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً "، قَالَ: " فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ "، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 319

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی میرے پاس آئے پھر وہ مجھے زمزم کے پاس لے گئے میرا سینہ کھولا گیا۔پھر زمزم کے ساتھ دھویا گیا پھر مجھے چھوڑا گیا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ،وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١۴۷؛حدیث نمبر٣٢٠)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُتِيتُ فَانْطَلَقُوا بِي إِلَى زَمْزَمَ، فَشُرِحَ عَنْ صَدْرِي، ثُمَّ غُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ أُنْزِلْتُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 320

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت جبریل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ بچوں کے ہمراہ کھیل رہے تھے۔انہوں نے آپکو پکڑ کر لٹایا اور آپکے سینے کو شق کیا،قلب مبارک نکالا اور اس میں سے ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا۔یہ آپکے اندر شیطان کا حصہ تھا۔(بعض چیزیں تخلیق کا حصہ ہوتی ہیں پھر انکو دور کیا جاتا ہے اور اس میں کئی حکمتیں ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ نے شیطان کا حصہ رکھ کر پھر اسے نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ظاہر فرمایا) پھر قلب اقدس کو سونے کے کھال میں آب زمزم کے ساتھ دھویا۔پھر اسے لاکر اپنی جگہ رکھ دیا ہے۔بچے روتے ہوئے آپکے رضاعی ماں(حضرت حلیمہ)کے پاس گئے اور کہنے لگے بےشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا گیا وہ لوگ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغير تھا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں آپکے سینے میں سلائی کا نشان دیکھتا تھا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص ١٤٧؛حدیث نمبر٣٢١)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ، فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَقَالَ: هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ لَأَمَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ - يَعْنِي ظِئْرَهُ - فَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ، فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ "، قَالَ أَنَسٌ: «وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ».

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 321

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس رات کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کعبہ سے سیر کرائی گئی تو آپ کے پاس تین آدمی آئے اور ابھی آپ پر وحی نہیں آئی تھی اور آپ مسجد حرام میں آرام فرما تھے پھر انہوں نے حدیث نمبر ٣٢١کی مثل بیان کیا لیکن اس میں کچھ الفاظ میں تقدم وتاخیر اور کمی زیادتی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١۴٨؛حدیث نمبر٣٢٢)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَقَدَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَأَخَّرَ وَزَادَ وَنَقَصَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 322

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نےکہا حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر کی چھت کھولی گئی اور میں مکہ میں تھا پھر حضرت جبریل علیہ السلام اترے انہوں نے میرا سینہ چیرا۔پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت لائے جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہواتھا وہ میرے سینے میں ڈال دیا پھر سینہ جوڑ دیا(اس کو مہر کردی)پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑکر مجھے آسمان کی طرف لے گئے۔جب ہم آسمان دنیا پر آئے تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا کھول اس نے پوچھا کون ہے؟جواب ملا جبریل علیہ السلام اس نے پوچھا تمہارے ساتھ کوئی اور ہے جبریل علیہ السلام نےکہا ہاں۔میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس نے پوچھا کیا اس کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا؟جبریل نے فرمایا ہاں۔خیر اس نے کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھے وہاں ایک شخص بیٹھا دیکھا جس کے داہنے طرف لوگوں کے جُھنڈ تھے اور بائیں طرف بھی جُھنڈ تھے جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتاتو ہنستا اور جب بائیں طرف دیکھتا رو دیتا اس نے(مجھ کو دیکھ کر)کہا(آؤ)خوش آمدید ہو نیک پیغمبر اور نیک بیٹے،میں نے جبریل علیہ السلام سے کہا یہ کون ہیں انہوں نے کہا یہ آدم علیہ السلام ہیں اور جو ان کے داہنے اور بائیں طرف کے لوگوں کے جھنڈ دیکھتے ہو یہ ان کے بیٹوں کے ارواح ہیں تو ان کی داہنی طرف والے بہشتی ہیں اور بائیں طرف کے دوزخی ہیں وہ جب اپنے داہنے طرف دیکھتے ہیں(خوشی سے)ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں (رنج سے)رو دیتے ہیں پھر جبریل علیہ السلام مجھ کو لے کر دوسرے آسمان کی طرف چڑھے وہاں کے داروغہ سے کہا کھول اس نے بھی وہی پوچھا جو پہلے داروغہ نے پوچھا تھا آخر دروازہ کھولا۔انس رضی اللہ عنہ نے کہا ابوذر نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں میں آدم علیہ السلام اور ادریس علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام پیغمبروں کو دیکھا مگر ہر ایک کا ٹھکانہ نہیں بیان کیا اتنا کہا کہ آپ پہلے آسمان پر آدم کو پایا اور چھٹے آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو۔حضرت انس نے کہا جب جبریل علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ کو لیے ہوئے ادریس پیغمبر پر گزرے تو انہوں نے کہا(آؤ)خوش آمدید ہو نیک پیغمبر اور نیک بھائی،میں نے(جبریل سے)پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے کہا یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔پھر میں موسیٰ پر سے گزرا انہوں نے کہا آؤ خوش آمدید ہو نیک پیغمبر اور نیک بھائی میں نے پوچھا یہ کون ہیں جبریل نے کہا یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں پھر میں عیسیٰ علیہ السلام پر سے گزرا انہوں نے کہا آؤ خوش آمدید ہو نیک پیغمبر اور نیک بھائی میں نے جبریل سے پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے کہا یہ عیسی علیہ السلام ہیں،پھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر سے گزرا انہوں نے کہا آؤ خوش آمدید ہو نیک پیغمبر اورنیک بیٹے۔میں نے جبریل سے پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے کہا یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ابن شہاب نے کہا مجھ کو ابو بکر بن حزم نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس اور ابوحبہ انصاری دونوں یوں کہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے اوپر لے جایا گیا حتیٰ کہ میں مقام استوی پر پہونچا وہاں میں نے قلموں کی آواز سنی۔ابن حزم اور انس بن مالک نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں(ہر رات اور دن میں) میں یہ حکم لے کر لوٹا جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا اللہ نے آپکی امت پر کیا فرض کیا،میں نے کہا پچاس نمازیں فرض کیں انہوں نے کہا پھر اپنے مالک کے پاس لوٹ جائیں کیونکہ آپکی امت اتنی طاقت نہیں رکھتی،پھر میں لوٹا(اور عرض کیا)اللہ نے کچھ نمازیں معاف کردیں،پھر موسیٰ کے پاس آیا اور یہ کہا کہ اللہ نے کچھ نمازیں معاف کردیں،انہوں نے کہا اپنے مالک کے پاس لوٹ جائیں آپکی امت اتنی طاقت نہیں رکھتی میں لوٹا پھر اللہ نے کچھ معاف کردیں پھر موسیٰ کے پاس آیا،انہوں نے کہا اپنے مالک کے پاس لوٹ جائیں آپکی امت اتنی طاقت نہیں رکھتی پھر لوٹا(ایسا کئی بار ہوا)آخر اللہ نے فرمایا پانچ نمازیں ہیں اور حقیقت میں پچاس ہیں میرے پاس بات نہیں بدلتی،پھر موسیٰ کے پاس آیا انہوں نے کہا اپنے مالک کے پاس لوٹ جائیں میں نے کہا اب مجھے اپنے مالک سے(عرض کرنے میں)شرم آتی ہے۔ پھر جبریل مجھ کو لے کر چلے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ تک مجھ کو پہنچایا اور کئی طرح کے رنگوں نےاس کو ڈھانک لیا تھا میں نہیں جانتا وہ کیا تھے پھر مجھ کو جنت میں لے گئے کیا دیکھتا ہوں وہاں موتیوں کے ہار ہیں اور وہاں کی مٹی کستوری ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١۴٨؛حدیث نمبر ٣٢٣"

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ، يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا: افْتَحْ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، مَعِيَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَفَتَحَ، قَالَ: فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَإِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، قَالَ: فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، قَالَ: فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، وَالِابْنِ الصَّالِحِ "، قَالَ: " قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا آدَمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى "، قَالَ: " ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا: افْتَحْ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا: فَفَتَحَ "، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ، وَإِدْرِيسَ، وَعِيسَى، وَمُوسَى، وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، قَالَ: فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ قَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قَالَ: " ثُمَّ مَرَّ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: هَذَا إِدْرِيسُ، قَالَ: ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، وَالْأَخِ الصَّالِحِ "، قَالَ: " قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا مُوسَى "، قَالَ: " ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ "، قَالَ: " ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، وَالِابْنِ الصَّالِحِ "، قَالَ: " قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا إِبْرَاهِيمُ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثُمَّ عَرَجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ»، قَالَ ابْنُ حَزْمٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَفَرَضَ اللهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً»، قَالَ: فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ لِي مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: فَرَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَوَضَعَ شَطْرَهَا، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَقُلْتُ: قَدْ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى نَأْتِيَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ قَالَ: ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤَ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 323

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے شاید مالک بن صعصعہ سے سنا جو ان کی قوم کا بندہ تھا۔انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں خانہ کعبہ کے پاس تھا میری حالت خواب اور بیداری کے درمیان تھی،اتنے میں میں نے ایک شخص کو سنا جو کہتا تھا کہ ہم دونوں کے درمیان تیسرے یہ ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے گئے پھر میرے پاس ایک سونے کا طشت لا یا گیا اس میں زمزم کا پانی تھا اور میرا سینہ یہاں تک اوریہاں تک چیرا گیا۔قتادہ نے کہا جو اس حدیث کے راوی ہیں میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا اس سے کیا مراد ہے؟انہوں نے کہا یعنی پیٹ کے نیچے تک سینے کو چیرا گیا۔اور میرا دل نکالا گیا، زمزم کے پانی سے دھویا گیا پھر اپنی جگہ پر اس کو رکھا گیا۔اور ایمان و حکمت سے(اس کو)بھردیا گیا۔پھر ایک جانور لایا گیا جس کا رنگ سفید تھا اس کو براق کہتے ہیں گدھےسے اونچا اور خچر سے نیچا،اس کا قدم نگاہ کی انتہا تک پہونچتا تھا۔مجھے اس پر سوار کیا پھر ہم چلے یہاں تک کہ پہلے آسمان پر آئے جبریل نے دروازہ کھلوایا فرشتوں نے پوچھا کون ہے؟انہوں نے کہا جبریل۔ فرشتوں نے پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔فرشتوں نے کہا کیا وہ بلوائے گئے ہیں جبریل نے کہا ہاں۔پھر دروازہ کھلا اور فرشتوں نے کہا مرحبا،آپ کا تشریف لانا مبارک ہو۔پھر ہم آدم علیہ السلام کے پاس آئے۔اور حدیث کا پورا قصہ بیان کیا۔اور انہوں نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے آسمان پر عیسیٰ اور یحییٰ سے ملاقات کی۔اور تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے اور چوتھے آسمان پر ادریس سے اور پانچویں آسمان پر ہارون علیہ السلام سے۔پھر کہا ہم چلے یہاں تک کہ چھٹے آسمان پر پہنچے وہاں حضرت موسیٰ سے ملے ان کو میں نے سلام کیا انہوں نے کہا مرحبا نیک بھائی اور نیک نبی کو۔جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے آواز آئی اے موسیٰ کیوں روتے ہو؟انہوں نے کہا اے پروردگار اس نوجوان(آپ صلی اللہ علیہ وسلم) کو تو نے میرے بعد پیغمبر بنا کر بھیجا اورمیری امت کے مقابلے میں اس کی امت میں سے جنت میں زیادہ لوگ جائیں گے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم چلے یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچے وہاں میں نے ابراہیم علیہ السلام کودیکھا اور اس حدیث میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے چار نہریں دیکھیں جو سدرۃ کی جڑ سے نکلتی تھیں دو نہریں کھلی ہیں اور دو نہریں پوشیدہ ہیں میں نے کہا اے جبریل علیہ السلام!یہ نہریں کیسی ہیں؟انہوں نے کہا پوشیدہ دو نہریں تو جنت میں گئی ہیں اور کھلی ہوئی نیل و فرات ہیں۔پھر میرے لیے بیت المعمور اٹھایا گیا،میں نے کہا اے جبریل یہ کیا ہے؟انہوں نے کہا یہ بیت المعمور ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں جو پھر کبھی اس میں دوبارہ واپس نہیں آتے۔پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں شراب تھا اور دوسرے میں دودھ،دونوں مجھے پیش کئے گئے میں نے دودھ کو پسند کیا۔کہا گیا کہ آپ نے ٹھیک کیا،اللہ آپکے ذریعے آپکی امت کو فطرت پر رکھے گا۔پھر میرے اوپر ہر روز پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔پھر آخر تک سارا قصہ بیان کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٤٩،١٥٠؛حدیث نمبر٣٢٤"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، لَعَلَّهُ قَالَ: عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ: أَحَدُ الثَّلَاثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، فَأُتِيتُ فَانْطُلِقَ بِي، فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا - قَالَ قَتَادَةُ: فَقُلْتُ لِلَّذِي مَعِي مَا يَعْنِي قَالَ: إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ - فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي، فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ، ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً، ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ، يُقَالُ لَهُ: الْبُرَاقُ، فَوْقَ الْحِمَارِ، وَدُونَ الْبَغْلِ، يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ، فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفَتَحَ لَنَا، وَقَالَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ "، قَالَ: «فَأَتَيْنَا عَلَى آدَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَذَكَرَ أَنَّهُ «لَقِيَ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ عِيسَى، وَيَحْيَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَفِي الثَّالِثَةِ يُوسُفَ، وَفِي الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ، وَفِي الْخَامِسَةِ هَارُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، قَالَ: " ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى، فَنُودِيَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: رَبِّ، هَذَا غُلَامٌ بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي "، قَالَ: «ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ»، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَحَدَّثَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ رَأَى أَرْبَعَةَ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذِهِ الْأَنْهَارُ؟ قَالَ: أَمَّا النَّهْرَانِ الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ: فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ، ثُمَّ رُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرُ مَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا خَمْرٌ، وَالْآخَرُ لَبَنٌ، فَعُرِضَا عَلَيَّ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقِيلَ: أَصَبْتَ أَصَابَ اللهُ بِكَ أُمَّتُكَ عَلَى الْفِطْرَةِ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسُونَ صَلَاةً "، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهَا إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 324

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٢٤کی مثل مروی ہے۔اس میں یہ اضافہ ہے کہ میرے پاس سونے کا ایک تھال لایا گیا جو حکمت وایمان سے بھرا ہوا تھا۔،پھر سینے سے لیکر پیٹ کے نیچے تک چیرا گیا،اور زمزم کے پانی سے (سینہ)کو دھویا گیا،پھر حکمت اور ایمان سے بھرا گیا (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٥١؛حدیث نمبر٣٢٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ: «فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَشُقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ، فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 325

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر معراج کا ذکر کیا تو فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے تھے اور ان کا قد لمبا تھا۔ایسا تھا گویا شَنُوءَہ قبیلے کا کوئی فرد ہواور فرمایا حضرت عیسٰی علیہ السلام کا قد لمبا اور جسم گھٹا ہوا تھا۔آپ نے جہنم کے داروغہ حضرت مالک(فرشتے)کا ذکربھی کیا اور دجال کا ذکر بھی کیا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٥١؛حدیث نمبر٣٢٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ، فَقَالَ: «مُوسَى آدَمُ، طُوَالٌ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ»، وَقَالَ: «عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ»، وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 326

قتادہ سے روایت ہے انہوں نے ابو عالیہ سے سنا وہ کہتے تھے مجھے تمہارے پیغمبر کے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن عباس نے حدیث بیان کی۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے سیر کرائی گئی تو میں حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو وہ گندمی رنگ اور لمبے قد کے تھے اور ان کے بال گھنگھریالے تھے گویا شَنُوءَہ قبیلے کا کوئی فرد ہواور میں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو دیکھاکہ ان کا قد لمبا اور جسم گھٹا ہوا تھااور رنگ سرخ سفیدی مائل تھااور بال سیدھے تھے(اس سے معلوم ہوا کہ انبیائے کرام علیہم السلام زندہ ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کےجسم کی صفات کو بیان کیا اگر جسم کے ساتھ مشاہدہ نہ ہوتا تو یہ صفات کیسے بیان ہوتیں۔)اور خازن جہنم حضرت مالک علیہ السلام کو بھی دیکھا۔نیز دجال کو بھی۔منجملہ ان نشانیوں کے جواللہ تعالی نے دکھلائیں ہیں _"أَرَاهُنَّ اللهُ إِيَّاهُ، {فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ} [السجدة: ٢٣]۔"یہ ان نشانیوں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپکو دکھائیں۔پس تم اس ملاقات میں شک نہ کرنا"حضرت قتادہ اس کی وضاحت یوں کرتےتھےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٥١؛حدیث نمبر٣٢٧)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، رَجُلٌ آدَمُ طُوَالٌ جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْطَ الرَّأْسِ»، وَأُرِيَ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ، وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللهُ إِيَّاهُ، {فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ} [السجدة: ٢٣]، قَالَ: كَانَ قَتَادَةُ «يُفَسِّرُهَا أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَقِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 327

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ازرق پر گزرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟لوگوں نے کہا کہ وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہاہوں کہ وہ بلندی سے اتر رہے ہیں اور وہ بلند آواز سے لبیک کہ رہے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرشا کی وادی پر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کون سی وادی ہے؟لوگوں نے کہا ’ہرشا‘کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:گویا کہ میں یونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں کہ صوف کا ایک جبہ پہنے ہوئے ایک سرخ اونٹنی پر سوار ہیں اور ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے چھال کی ہے،اور وہ لبیک کہہ رہے ہیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٥٢؛حدیث نمبر٣٢٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِوَادِي الْأَزْرَقِ، فَقَالَ: «أَيُّ وَادٍ هَذَا؟» فَقَالُوا: هَذَا وَادِي الْأَزْرَقِ، قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ هَابِطًا مِنَ الثَّنِيَّةِ، وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللهِ بِالتَّلْبِيَةِ»، ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى، فَقَالَ: «أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟» قَالُوا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى، قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ وَهُوَ يُلَبِّي»، قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ هُشَيْمٌ: يَعْنِي لِيفًا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 328

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان چل رہے تھے کہ ایک وادی پر گزرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟لوگوں نے کہا کہ وادی ازرق ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں،(پھر موسیٰ علیہ السلام کا رنگ اور بالوں کا حال بیان کیاجو(راوی حدیث)داؤد بن ابی ہند کو یاد نہ رہا)۔جو انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے ہوئے،بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی میں سے جا رہے ہیں۔سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم پھر چلے یہاں تک کہ ایک وادی پر آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کون سی وادی ہے؟لوگوں نے کہا کہ’ہرشا‘کی یا ’لفت‘ کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:گویا کہ میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ صوف کا ایک جبہ پہنے ہوئے ایک سرخ اونٹنی پر سوار ہیں اور ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے چھال کی ہے،وہ اس وادی میں لبیک کہتے ہوئے جا رہے ہیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٥٢؛حدیث نمبر٣٢٩)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَمَرَرْنَا بِوَادٍ، فَقَالَ: «أَيُّ وَادٍ هَذَا؟» فَقَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ، فَقَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعَرِهِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ - وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللهِ بِالتَّلْبِيَةِ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي» قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ: «أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟» قَالُوا: هَرْشَى - أَوْ لِفْتٌ - فَقَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، خِطَامُ نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 329

مجاہد سے روایت ہے کہ ہم عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے لوگوں نے دجال کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر کا لفظ لکھا ہوا ہوگا۔ابن عباس نے کہا یہ تو میں نے نہیں سنا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابراہیم تو ایسے ہیں جیسے تم اپنے صاحب کو دیکھتے ہو۔(یعنی صورت میں میری مشابہ ہیں)اور موسیٰ گندمی رنگ،گھنگھریالے بالوں والے،سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ جب وہ وادی سے اتر رہے ہیں تو تلبیہ کہ رہے ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ،وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٥٣؛حدیث نمبر٣٣٠)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ»، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَاكَ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: «أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى، فَرَجُلٌ آدَمُ، جَعْدٌ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 330

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر انبیاء کرام کو پیش کیا گیا تو گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام شنوئہ قبیلہ کے مردوں میں سے ایک مرد ہے اور میں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو دیکھا تو وہ حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے زیادہ مشابہ ہیں۔میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا تو وہ حضرت دحیہ کلبی کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ابن رمح کی روایت میں"دحیہ بن خلیفہ"کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٥٣؛حدیث نمبر٣٣١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ، فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهُ -، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دَحْيَةُ» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ: «دَحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 331

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب مجھے معراج کرایا گیا تو میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ وہ دبلے پتلے سر میں کنگھی کیے ہوئے تھے۔گویا وہ شنوئہ قبیلہ میں سے ہو۔آپ فرماتے ہیں میری ملاقات حضرت عیسٰی علیہ السلام سے ہوئی۔آپ نے انکا وصف بیان فرمایا کہ انکا قد درمیانہ اور رنگ سرخ تھا۔گویا حمام سے باہر آئے ہوں۔آپ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا اور ان کی اولاد میں سے میں ان سے زیادہ متشابہ ہوں۔پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے۔ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی۔مجھے کہا گیا کہ ان میں سے جو چاہے لے لیں تو میں نے دودھ لیا اور نوش کرلیا۔فرشتے نے کہا آپ نے فطرت کو پالیا۔اگر آپ شراب لیتے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٥٣؛حدیث نمبر٣٣٢)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حِينَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجُلٌ - حَسِبْتُهُ قَالَ - مُضْطَرِبٌ، رَجِلُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ»، قَالَ: «وَلَقِيتُ عِيسَى - فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَبْعَةٌ أَحْمَرُ، كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ» - يَعْنِي حَمَّامًا - قَالَ: «وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ، وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ»، قَالَ: " فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ، وَفِي الْآخَرِ خَمْرٌ، فَقِيلَ لِي: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَشَرِبْتُهُ، فَقَالَ: هُدِيتَ الْفِطْرَةَ - أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ - أَمَّا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 332

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ایک رات(خواب میں)میں نے اپنے آپکو کعبہ شریف کے پاس دیکھا تو میں نے ایک گندمی رنگ کا آدمی دیکھا جو گندمی رنگ والوں میں سے نہایت حسین تھا۔اس کی زلفیں بہت خوبصورت تھیں۔اس نے کنگھی کر رکھی تھی اور بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا اس نے دو آدمیوں پر ٹیک لگا رکھی تھی یا فرمایا کہ دو آدمیوں کے کندھوں کا سہارا لیا ہوا تھا اور بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟یہ مسیح ابن مریم ہے پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے سخت گھنگھریالےبال تھے اور دائیں آنکھ سے کانا تھا اور وہ انگور کی طرح ابھری ہوئی تھی میں نے پوچھا یہ کون ہے؟کہا گیا یہ مسیح دجال ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ، وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؛ترجمہ؛مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا ذکر؛جلد١ص١٥٤؛حدیث نمبر٣٣٣

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرَانِي لَيْلَةً عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ، قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً، مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ - أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ - يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ، أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 333

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے درمیان مسیح دجال کا ذکر کیا تو فرمایا:کہ اللہ جل جلالہ کانا نہیں ہے۔سنو!مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہے۔گویا اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک رات خواب میں میں نے اپنے آپ کو کعبہ کے پاس دیکھا کہ ایک گندمی رنگ کا شخص جیسے کوئی بہت اچھا گندمی رنگ کا شخص ہوتا ہے،اس کے بال کندھوں تک تھے اور بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی،سر میں سے پانی ٹپک رہا تھا،اور وہ اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔میں نے پوچھا کہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ مریم کے بیٹے مسیح علیہ السلام ہیں۔اور ان کے پیچھے میں نے ایک اور شخص کو دیکھا جو کہ سخت گھونگھریالے بالوں والا،داہنی آنکھ کا کانا تھا۔میں نے جو لوگ دیکھے ان سب میں ابن قطن اس سے زیادہ مشابہ ہے،وہ بھی اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے طواف کر رہا تھا۔میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ، وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؛جلد١ص١٥٥؛حدیث نمبر٣٣٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ، عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ»، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَانِي اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ كَأَحْسَنِ مَا تَرَى مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ، رَجِلُ الشَّعْرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ، وَهُوَ بَيْنَهُمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا، أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 334

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے کعبہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا اس کے بال سیدھے،اس کے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر تھے اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا میں نے پوچھا یہ کون ہے؟لوگوں نے کہا کہ یہ مریم کے بیٹے ہیں یا یوں کہا مسیح علیہ السلام ہیں۔مریم کے بیٹے مسیح علیہ السلام ہیں۔معلوم نہیں کون سا لفظ کہا۔پھر میں نے ان کے پیچھے ایک اور شخص کو دیکھا جو سرخ رنگ،سخت گھونگھریالے بالوں والا،داہنی آنکھ کا کانا تھا۔میں نے جو لوگ دیکھے ان سب میں ابن قطن اس سے زیادہ مشابہ ہے،میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ،وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؛جلد١ص١٥٦؛حدیث نمبر٣٣٥)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ رَجُلًا آدَمَ، سَبْطَ الرَّأْسِ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَجُلَيْنِ يَسْكُبُ رَأْسُهُ - أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ - فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - أَوِ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، لَا نَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ - وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ، جَعْدَ الرَّأْسِ، أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 345

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حطیم کعبہ میں کھڑا ہوا اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کردیا تو میں اسے دیکھ دیکھ کر ان لوگوں سے اس کی نشانیاں بیان کرنے لگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ، وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؛جلد١ص١٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ، قُمْتُ فِي الْحِجْرِ، فَجَلَا اللهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 336

حضرت عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اس دوران کہ میں آرام فرما تھا۔میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں کعبہ شریف کا طواف کر رہا ہوں۔اچانک وہاں ایک آدمی کو دیکھا جس کے بال بالکل سیدھے تھے اور وہ دو آدمیوں کے درمیان تھا۔ان کے سر سے پانی کے قطرے بہ رہے تھے۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟حاضرین نے کہا یہ حضرت(عیسی)ابن مریم ہیں۔پھر میں متوجہ ہوا تو ایک سرخ رنگ کے جسم شخص کو دیکھا جس کے بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور وہ ایک آنکھ سے کانا تھا۔گویا اس کی آنکھ انگور کے دانے کی طرح ابھری ہوئی تھی۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟انہوں نے کہا یہ دجال ہے جو ابن قطن کے زیادہ مشابہ تھا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ، وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؛جلد١ص١٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٧)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ، سَبِطُ الشَّعْرِ، بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً - أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً - قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ، فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ، جَسِيمٌ، جَعْدُ الرَّأْسِ، أَعْوَرُ الْعَيْنِ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الدَّجَّالُ، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 337

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے آپ کو حطیم میں دیکھا اور قریش مجھ سے میری سیر کا حال پوچھ رہے تھے (یعنی معراج کا) تو انہوں نے بیت المقدس کی کئی چیزیں پوچھیں جو مجھے محفوظ نہ تھی مجھے بڑا رنج ہوا ایسا رنج کبھی نہیں ہوا تھا پھر اللہ نے بیت المقدس کو اٹھاکر میرے سامنے کردیا میں اس کو دیکھنے لگا اب جو بات پوچھتے تھے میں بتادیتا تھا اور میں نےاپنے آپ کو پیغمبروں کی ایک جماعت میں پایا دیکھا تو موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں وہ ایک گھنگر یالےبالوں والے جیسے شنوہ کے آدمی ہوتے ہیں اور میں نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھا وہ بھی کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں ان کے مشابہ سب سے زیادہ عروہ بن مسعود ثقفی کو پایا۔اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا وہ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں ان کے مشابہ سب سے زیادہ تمہارے صاحب ہیں(یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم)۔پھر نماز کا وقت آیا تو میں نے امامت کی اور سب پیغمبروں نے میرے پیچھے نماز پڑھی جب میں فارغ ہوا تو ایک بولنے والا بولا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!یہ جہنم کا مالک ہے اس کو سلام کرو۔میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے خود پہلے سلام کیا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ، وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؛جلد١ص١٥٦؛حدیث نمبر٣٣٨)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ، فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا، فَكُرِبْتُ كُرْبَةً مَا كُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ»، قَالَ: " فَرَفَعَهُ اللهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِذَا مُوسَى قَائِمٌ يُصَلِّي، فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ، جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَإِذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَائِمٌ يُصَلِّي، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ، وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَائِمٌ يُصَلِّي، أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهُ - فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ قَائِلٌ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا مَالِكٌ صَاحِبُ النَّارِ، فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ، فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 338

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرایا گیا تو آپ کو سدرۃالمنتہی تک لے جایا گیا اور وہ چھٹے اسمان میں ہے۔زمیں سے جو چیز اوپر جاتی ہے وہ وہاں تک پہونچتی ہےاور اسےوہاں وصول کیا جاتا ہے اور جو اسکے اوپر سے آتی ہے۔وہ بھی وہاں تک پہونچتی ہے اور انکو وصول کیا جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: " {إِذْ يَغْشَى} [النجم: ١٦] السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى "،سدرہ کو ڈھانپا جس چیز نے ڈھانپا"۔سے سونے کے پروانے مراد ہیں۔وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں دی گئیں۔پانچ نمازیں دی گئیں۔سورہ بقرہ کی آخری آیات اور آپکی امت میں جو شخص شرک نہ کرے۔اس کے گناہ بخش دئے گئے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابٌ فِي ذِكْرِ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى؛ترجمہ؛سدرۃالمنتہی کا ذکر؛جلد١ص١٥٧؛ حدیث نمبر٣٣٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنَ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا، وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا»، قَالَ: " {إِذْ يَغْشَى} [النجم: ١٦] السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى "، قَالَ: «فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ»، قَالَ: " فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا: أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَغُفِرَ لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا، الْمُقْحِمَاتُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 339

حضرت شیبانی فرماتے ہیں میں نے حضرت زربن حبیش رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے قول:{فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: ٩]،"پس دو کمانوں کا فاصلہ یا اس سے بھی زیادہ قریب ہوے" کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا مجھے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا اور انکے چھ سو پر ہیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب:{وَلَقَدْرَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى}[ص: ١٥٨]جلد١ص١٥٧؛حدیث نمبر٣٤٠)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: ٩]، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 340

حضرت عبد اللہ بن مسعود سے ہی مروی ہے۔انہوں نے:{مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى}[النجم: ١١]،کی تفسیر کے بارے میں فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا انکے چھ سو پر ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب:{وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى)جلد١ص١٥٨؛حدیث نمبر ٣٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ "، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} [النجم: ١١]، قَالَ: «رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 341

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔:{لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: ١٨]،کے بارے میں فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو انکی اصلی صورت میں دیکھا انکے چھ سو پر ہیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛باب:{وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى}؛جلد١ص١٥٨؛حدیث نمبر٣٤٢)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: ١٨]، قَالَ: «رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 342

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،{وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]،کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مَعْنَى قَوْلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]، وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ؛ترجمہ؛آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا تھا یا نہیں؛جلد١ص١٥٨؛حدیث نمبر٣٤٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]، قَالَ: «رَأَى جِبْرِيلَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 343

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے دیکھا(علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ حضرت خزیمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دوباردیکھا ایک بار دل کی آنکھ سے اور ایک بار سر کی آنکھ سے۔شرح صحیح مسلم علامہ غلام رسول سعیدی جلداول ص٢٩٨) (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مَعْنَى قَوْلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]، وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ؛جلد١ص١٥٨؛حدیث نمبر ٣٤٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «رَآهُ بِقَلْبِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 344

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٥کی مثل مروی ہے ؛(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَعْنَى قَوْلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]، وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ؛جلد١ص١٥٩؛حدیث نمبر ٣٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو جَهْمَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 346

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا کہ اے ابو عائشہ!(یہ مسروق کی کنیت ہے)تین باتیں ایسی ہیں کہ جو کوئی ان کا قائل ہو،اس نے اللہ تعالیٰ پر بڑا جھوٹ باندھا۔میں نے کہا کہ وہ تین باتیں کونسی ہیں؟انہوں نے کہا کہ(ایک یہ ہے کہ)جو کوئی سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے،اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا۔مسروق نے کہا کہ میں تکیہ لگائے ہوئے تھا،یہ سن کر میں بیٹھ گیا اور کہا کہ اے اُمّ المؤمنین!مجھے مہلت دیجئے اور جلدی نہ کریں۔کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ: {وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ} [التكوير: ٢٣]، {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]؟”اور بیشک انہوں نے اسے روشن کنارہ پر دیکھا"۔اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبارہ دیکھا"۔اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس امت میں سب سے پہلے میں نے ان آیتوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان آیتوں سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں۔میں نے ان کواس صورت پرجس پر انکو پیدا کیا گیا ان دوبار کے علاوہ نہیں دیکھا۔میں نے ان کو دیکھا کہ وہ آسمان سے اتر رہے تھے اور ان کے جسم کی بڑائی نے آسمان سے زمین تک کے فاصلہ کو بھر دیا تھا۔پھر اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} [الأنعام: ١٠٣]،”آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہے اور وہی ہے نہایت باطن پورا خبردار"۔کیا تو نے نہیں سنا کہ: {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ} [الشورى: ٥١]؟،"اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پردہ عظمت کے اُدھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے بیشک وہ بلندی اور حکمت والا ہے"۔(دوسری یہ ہے کہ)جو کوئی خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا،تو اس نے(بھی)اللہ تعالیٰ پر بڑا جھوٹ باندھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:{يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ} [المائدة: ٦٧]،”اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے،پہنچا دیجئے۔اور ایسا نہ ہو تو تم نے اسکا کوئی پیام نہ پہونچایا"۔اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اور جو کوئی کہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کل کی خبر(ذاتی طور پر)دیتے ہیں تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:{قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ} [النمل: ٦٥]،"تم فرماؤ خود غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر اللہ" ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَعْنَى قَوْلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]، وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ؛جلد١ص١٥٩؛حدیث نمبر٣٤٧)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَائِشَةَ، ثَلَاثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ، قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالَتْ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ، قَالَ: وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْظِرِينِي، وَلَا تُعْجِلِينِي، أَلَمْ يَقُلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ} [التكوير: ٢٣]، {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]؟ فَقَالَتْ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ، لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ، رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ»، فَقَالَتْ: أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللهَ يَقُولُ: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} [الأنعام: ١٠٣]، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللهَ يَقُولُ: {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ} [الشورى: ٥١]؟، قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا مِنْ كِتَابِ اللهِ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ، وَاللهُ يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ} [المائدة: ٦٧]، قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ، وَاللهُ يَقُولُ: {قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ} [النمل: ٦٥]،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 347

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٧کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں میں سے جو آپ پر نازل ہوئیں کسی بات کو چھپاتے تو اس آیت کو چھپاتے۔:{وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ} [الأحزاب: ٣٧]،اور اے محبوب یاد کرو جب تم فرماتے تھے اسے جسے اللہ نے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی کہ اپنی بیوی اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنے کا اندیشہ تھا اور اللہ زیادہ حق دار ہے اسکا خوف دل میں ہو. ۔"(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَعْنَى قَوْلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]، وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ؛جلد١ص١٦٠؛حدیث نمبر ٣٤٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَزَادَ قَالَتْ: وَلَوْ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ} [الأحزاب: ٣٧]،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 348

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟۔انہوں نے فرمایا سبحان اللہ!یہ بات سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں مکمل حدیث ذکر کی اور یہ نسبتاً زیادہ مکمل اور تفصیلی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَعْنَى قَوْلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]، وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ؛جلد١ص١٦٠؛حدیث نمبر ٣٤٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي لِمَا قُلْتَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 349

ایک اور سند سے حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے قول{ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى} [النجم: ٩]کہاں ہے؟۔"پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا پھر خوب اتر آیا تو اس جلوے اور محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی"۔تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے حضرت جبریل علیہ السلام مراد ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انسانی صورت میں آئے تھے اور اس مرتبہ وہ اپنی اصلی صورت میں حاضر ہوئے تو آسمان کے افق کو بھر دیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَعْنَى قَوْلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: ١٣]، وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ؛جلد١ص١٦٠؛حدیث نمبر٣٥٠)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ؟ {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى} [النجم: ٩] قَالَتْ: " إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرِّجَالِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ فِي هَذِهِ الْمَرَّةِ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 350

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ نور ہے میں نے اسے دیکھا ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ فی قولہ علیہ السلام"نور انی اراہ,وفی قولہ"رأیت نورا"؛جلد١ص١٦٠؛حدیث نمبر ٣٥١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 351

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔حضرت عبد اللہ بن شقیق فرماتے ہیں۔میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتا تو آپ سے سوال کرتا۔انہوں نے پوچھا کس بات کے بارے میں سوال کرتے؟میں نے کہا میں یہ بات پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہےحضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے آپ سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا میں نے نور دیکھا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابٌ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ»، وَفِي قَوْلِهِ: «رَأَيْتُ نُورًا»؛جلد١ص١٦١؛حدیث نمبر ٣٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عفَّانُ بْنُ مُسْلمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ كِلَاهمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتَ لِأَبِي ذرٍّ، لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: عَنْ أيِّ شيْءٍ كُنْتَ تَسْأَلُهُ؟ قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَدْ سَأَلْتُ، فَقَالَ: «رَأَيْتُ نُورًا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 352

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان پانچ کلمات(کے بیان)کے ساتھ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور نہ ہی اس کے لئے سونا مناسب ہے وہ ترازو کو جھکاتا اور بلند کرتا ہے اسکی طرف رات کا عمل دن سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اٹھایا جاتا ہے اسکا حجاب نور ہے۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اگر وہ اس حجاب کو اٹھا دے تو اس کی ذات کی شعائیں حد نگاہ تک مخلوق کو جلا دیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّ اللهُ لَا يَنَامُ، وَفِي قَوْلِهِ: حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ؛ترجمہ؛نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:" اللہ سوتا نہیں"،اور یہ فرمان:" اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اسے کھول دے تو اس کےذات کی شعاعیں حد نگاہ تک مخلوق کو جلا دیں"۔؛جلد١ص١٦١؛حدیث نمبر٣٥٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: النَّارُ - لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَلَمْ يَقُلْ: حَدَّثَنَا.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 353

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی یہ روایت اسی طرح منقول ہے لیکن اس میں چار باتوں کا ذکر ہے اور مخلوق کا ذکر نہیں اور یہ بات فرمائی کہ اس کا حجاب نور ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّ اللهُ لَا يَنَامُ، وَفِي قَوْلِهِ: حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِه؛جلد١ص١٦٢؛حدیث نمبر٣٥٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: «مِنْ خَلْقِهِ» وَقَالَ: حِجَابُهُ النُّورُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 354

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان چار باتوں کے بیان کے لیے کھڑے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور نہ ہی اس کے لئے سونامناسب ہے وہ ترازو کو بلند کرتا اور جھکاتا ہے اور دن کے اعمال رات کے وقت اور رات کے اعمال دن کے وقت اس کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّ اللهُ لَا يَنَامُ، وَفِي قَوْلِهِ: حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ؛جلد١ص١٦٢؛حدیث نمبر٣٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ: «إِنَّ اللهَ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُهُ، وَيُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ بِاللَّيْلِ، وَعَمَلُ اللَّيْلِ بِالنَّهَارِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 355

حضرت عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور دیگر سازوسامان چاندی کا ہے اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور تمام سازوسامان سونے کا ہے۔لوگوں کے لئے اپنے رب کے دیدار میں جنت عدن میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی چادر حائل ہوگی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْآخِرَةِ رَبَّهُمْ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى؛ترجمہ؛مومنوں کو آخرت میں اپنے رب کا دیدار ہوگا؛جلد١ص١٦٣؛حدیث نمبر٢٥٦)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمَسْمَعِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 356

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرماۓگا تم مزید کوئی چیز چاہتے ہو؟تو وہ عرض کریں گے یا اللہ!کیا تو نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا؟کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟اور جہنم سے نجات نہیں دی۔آپ نے فرمایا پھر حجاب اٹھایا جائےگاتو انکو اپنے رب کے دیدار سے زیادہ پیاری چیز نہیں دی جائے گی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْآخِرَةِ رَبَّهُمْ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى؛جلد١ص١٦٣؛حدیث نمبر٣٥٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، قَالَ: يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ، فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 357

ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٣٥٧کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔:{لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: ٢٦]؛ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نیکی کی بھلائی ہے اور اس سے زائد بھی ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْآخِرَةِ رَبَّهُمْ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى؛جلد١ص١٦٣؛حدیث نمبر٣٥٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: ٢٦]

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 358

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیاکہ کیا قیامت کے روز ہم اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم چودھویں رات کے چاند میں شک کرتےہو؟انہوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم سورج میں شک کرتے ہو جب اس کے سامنے بادل نہ ہو۔؟لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسی طرح تم اپنے پروردگار کو دیکھو گے۔اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جمع کرے گا تو فرمائے گا کہ جو کوئی جس کو پوجتا تھا اسی کے ساتھ ہو جائے۔پھر جو شخص سورج کو پوجتا تھا وہ سورج کے ساتھ ہو جائے گااور جو چاند کو پوجتا تھا وہ چاند کے ساتھ اور جو طاغوت کو پوجتا تھا وہ طاغوت کے ساتھ ہو جائے گا۔بس یہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم باقی رہ جائے گی جس میں منافق لوگ بھی ہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ صورت کے ساتھ آئیگا جسے وہ پہچانتے ہیں اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور ہم اسی جگہ ٹھہرے رہیں گے یہاں تک کہ ہمارا پروردگار آئے گا تو ہم اس کو پہچان لیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں،تو وہ کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے۔پھر وہ اس کے ساتھ ہو جائیں گے اور دوزخ کی پشت پر پُل صرات رکھا جائے گا تو میں اور میری امت سب سے پہلے پار ہوں گے اور سوائے پیغمبروں کے اور کوئی اس دن بات نہ کر سکے گا۔اور پیغمبروں کا بول اس وقت یہ اللھم سلم اللھم سلم ہوگا اور دوزخ میں سعدان بوٹی کے کانٹوں کی طرح کنڈے ہوں گے(سعدان ایک کانٹوں دار جھاڑ ی ہے)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم نے سعدان بوٹی دیکھی ہے؟انہوں نے کہا ہاں دیکھی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پس وہ سعدان کے کانٹوں کی شکل پر ہوں گے لیکن سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کتنے بڑے ہوں گے۔وہ کانٹے لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے پس ان میں سے بعض اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہونے والے ہوں گے اور ان میں سے بعض ان سے محفوظ ہوں گے حتیٰ کہ نجات پائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے فیصلے سے فارغ ہو گا اور چاہے گا کہ دوزخ والوں میں سے جس کو چاہے اپنی رحمت سے نکالے،تو فرشتوں کو حکم دے گادوزخ سے اس شخص کو نکالیں جس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا ہو،جس پر اللہ نے رحمت کرنی چاہی ہو،جو کہ لا الٰہ الا اللہ کہتا ہو گا،تو فرشتے دوزخ میں ایسے لوگوں کو پہچان لیں گے اور وہ انہیں سجدوں کے نشان سے پہچانیں گے۔آگ آدمی کو جلا ڈالے گی سوائے سجدے کے نشان کی جگہ کے (کیونکہ)اللہ تعالیٰ نے آگ پر اس جگہ کا جلاناحرام کیا ہے۔پھر وہ دوزخ سے جلے بھنے نکالے جائیں گے،تب ان پر آبِ حیات چھڑکا جائے گا تو وہ تازہ ہو کر ایسے جم اٹھیں گے جیسے دانہ پانی کے بہاؤ میں جم اٹھتا ہے(پانی جہاں پر کوڑا کچرا مٹی بہا کر لاتا ہے وہاں دانہ خوب اگتا ہے اور جلد شاداب اور سرسبز ہو جاتا ہے اسی طرح وہ جہنمی بھی آبِ حیات ڈالتے ہی تازے ہو جائیں گے اور جلن کے نشان بالکل جاتے رہیں گے)پھر جب اللہ تعالیٰ بندوں کے فیصلے سے فارغ ہو گا اور ایک مرد باقی رہ جائے گا جس کا منہ دوزخ کی طرف ہو گا اور یہ جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہو گا،وہ کہے گا کہ اے رب!میرا منہ جہنم کی طرف سے پھیر دے کیونکہ اس کی بو مجھے ایذا میں ڈالنے والی اور اس کی گرمی مجھے جلا رہی ہے۔چنانچہ جس قدر اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اللہ تعالیٰ کو پکارے گا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوسکتا اگر میں یہ کام کروں تو کسی اور بات کا سوال کرے وہ کہے گا میں کوئی اور سوال نہیں کروں گااور وہ اللہ تعالیٰ سے پکا وعدہ کرےگاجو اللہ تعالیٰ چاہے گا پس اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے پھیر دے گا۔(جنت کی طرف)۔جب وہ جنت کی طرف متوجہ ہوگا اور اسے دیکھے گا تو جس قدر اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے میرے رب!مجھے جنت کے دروازے کی طرف بھیج دے۔اللہ تعالی اس سے فرمائے گا کیا تم نے مجھ سے پکا وعدہ نہیں کیا کہ میں نے جو کچھ تجھے عطا کیا اسکے علاوہ کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا۔افسوس اے انسان!تو کس قدر وعدہ خلافی کرنے والا ہے۔وہ کہے گا اے میرے رب!اللہ تعالیٰ کو پکارے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوسکتا ہے میں تیرا یہ مطالبہ کروں توتواس کے علاوہ کسی چیز کا سوال کرے وہ کہے گا تیری عزت کی قسم!(کوئی اور سوال نہیں)کروں گا۔جس قدر اللہ چاہے گا وہ اپنے رب سے وعدہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کی طرف بھیج دیگا۔جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہوگا تو وہ اس کے لئے کشادہ ہو جائے گا اور کھل جائے گا۔وہ جنت کے اندر خیر اور سرور دیکھے گا تو جس قدر اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا۔پھر کہے گا اے میرے رب!مجھے جنت میں داخل کردے اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں تجھے عطا کروں اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگےگا۔اے انسان!تیرے لئے خرابی ہو تو کس قدر دھوکہ کرتا ہے۔وہ کہے گا اے میرے رب!میں تیری مخلوق میں سے سب سے زیادہ بدبخت نہ ہو جاؤں(کہ اندر نہ جاؤں)وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کو(اپنی شان کے مطابق)ہنسی آئیگی جب اللہ تعالیٰ اس کی اس بات پر ہنسی فرمائے گا تو ارشاد فرمائے گا جنت میں داخل ہوجا۔جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرماۓ گا تمنا کروہ اپنے رب سے سوال کرے گا اور تمنا کرےگا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت کی مختلف نعمتیں خود یاد دلاےگا یہاں تک کہ جب اسکی آرزوئیں پوری ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیرے لئے یہ بھی ہے اور اسکی مثل اور بھی۔حضرت عطاء بن یزید اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کسی بات کو رد نہیں کرتے لیکن جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یوں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائے گا تیرے لئے یہ بھی ہے اور اور اس کی مثل بھی تو حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابوہریرہ!اسکے ساتھ دس مثل کا ذکر کیا تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا مجھے صرف اتنی بات یاد ہے کہ(فرمایا)تمہارے لیے یہ سب کچھ ہے اور اس کے ساتھ اس کی مثل بھی۔حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات یاد رکھی ہےاور کہ آپ نے فرمایا تمہارے لئے یہ ہے اور اس کی دس مثل بھی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ شخص جنت میں داخل ہونے والوں میں سے سب سے آخری آدمی ہوگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَعْرِفَةِ طَرِيقِ اللہ؛ تعالیٰ کے دیدار کی کیفیت؛جلد١ص١٦٣تا١٦٦؛حدیث نمبر٣٥٩)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَاسًا قَالُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟» قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟» قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ، كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِمُ اللهُ تَعَالَى فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتَّبِعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ، وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ، وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللهُمَّ سَلِّمْ، سَلِّمْ، وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ رَأَيْتُمُ السَّعْدَانَ؟ " قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلَّا اللهُ، تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمُ الْمُؤْمِنُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُجَازَى حَتَّى يُنَجَّى، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مِنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا مِمَّنْ أَرَادَ اللهُ تَعَالَى أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ، يَعْرِفُونَهُمْ بِأَثَرِ السُّجُودِ، تَأْكُلُ النَّارُ مِنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ، حَرَّمَ اللهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ وَقَدِ امْتَحَشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ مِنْهُ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، ثُمَّ يَفْرُغُ اللهُ تَعَالَى مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَيَدْعُو اللهَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَدْعُوَهُ، ثُمَّ يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ اللهُ، فَيَصْرِفُ اللهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ، قَدِّمْنِي إِلَى بَابُِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللهُ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، يَدْعُو اللهَ حَتَّى يَقُولَ لَهُ: فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ، فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ اللهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابُِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا قَامَ عَلَى بَابُِ الْجَنَّةِ انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَرَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ وَالسُّرُورِ، فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ؟، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللهَ حَتَّى يَضْحَكَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، فَإِذَا ضَحِكَ اللهُ مِنْهُ قَالَ: ادْخُلْ الْجَنَّةَ، فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللهُ لَهُ: تَمَنَّهْ، فَيَسْأَلُ رَبَّهُ وَيَتَمَنَّى حَتَّى إِنَّ اللهَ لَيُذَكِّرُهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ "، قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ اللهَ قَالَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ: «وَمِثْلُهُ مَعَهُ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: «وَعَشْرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ»، يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا حَفِظْتُ إِلَّا قَوْلَهُ: «ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ: «ذَلِكَ لَكَ وَعَشْرَةُ أَمْثَالِهِ»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 359

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے۔اسکے بعد حدیث نمبر ٣٥٩کا مفہوم مذکور ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَعْرِفَةِ طَرِيقِ الرُّؤْيَةِ؛جلد١ص١٦٨؛حدیث نمبر ٣٦٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ النَّاسَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 360

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں تم میں سے کسی ایک کا درجہ کم سے کم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ فرماۓگا تمنا کرو وہ تمنا کریگا تو اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کیا تم نے تمنا کر لی وہ عرض کرےگا جی ہاں اللہ تعالیٰ فرماۓگا تیرے لئے وہ جسکی تو نے تمنا کی اور اسکے ساتھ اسکی مثل ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَعْرِفَةِ طَرِيقِ الرُّؤْيَةِ؛جلد١ص١٦٨؛حدیث نمبر٣٦١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى، وَيَتَمَنَّى، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَمَنَّيْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 361

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔جب آسمان صاف ہو اور بادل نہ ہو توتم لوگوں کو دوپہر کے وقت سورج کے دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟(اور اسی طرح)جب آسمان صاف ہو اور بادل نہ ہو توتم لوگوں کو چودھویں رات کے چاند کے دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟انہوں نے کہا نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو دیکھنے میں یہی صورت ہوگی جو ان دونوں(سورج اور چاند)کے دیکھنے میں ہے(یعنی شک نہیں ہوگا)۔جب قیامت کا دن ہوگا ایک پکارنے والا پکارے گا ہر گروہ(جماعت)اپنے اپنے معبود کے ساتھ ہوجائے۔پھر جتنے لوگ اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت کرتے تھے جیسے بتوں وغیرہ کی۔ان میں سے کوئی نہیں بچے گا سب کے سب آگ میں گریں گے اور وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی خالص عبادت کرتے تھے خواہ نیک ہو یا بد اور کچھ لوگ اہل کتاب میں سے۔پھر یہودی بلائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے ہم حضرت عُزیر جو اللہ کے بیٹے ہیں اس کی پوجا کرتے تھے۔ان کو جواب ملے گا تم جھوٹے تھے اللہ جل جلالہ نے نہ کسی کو اپنی بیوی بنایا اور نہ بیٹا۔اب تم کیا چاہتے ہو؟وہ کہیں گے اےہمارے رب!ہم پیاسے ہیں ہمیں پانی پلا دے۔چنانچہ ان کی طرف اشارہ کر کے فرشتوں کو کہا جاۓگاچنانچہ سب کو آگ(جہنم)کی طرف لے جایا جائے گا ان کو ایسا معلوم ہوگا جیسے سراب (چمکتی ریت پانی کی طرح نظر آئے گی)۔اور جہنم ایسے شعلے ماررہا ہوگا گویااسکے بعض دوسرےبعض کو کھاۓگا۔وہ سب آگ میں گر پڑیں گے۔اس کے بعد نصاریٰ بلائے جائیں گےان سے پوچھا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے؟وہ کہیں گے ہم حضرت مسیح جو اللہ کے بیٹے ہیں ان کی پوجاکرتے تھے۔ ان کو جواب ملے گا تم جھوٹے تھے اللہ جل جلالہ نے نہ کسی کو اپنی بیوی بنایا اور نہ بیٹا۔اب تم کیا چاہتے ہو؟وہ کہیں گےاےہمارے رب!ہم پیاسے ہیں ہمیں پانی پلا دے۔تو انکی طرف اشارہ کیا جائے گا اور فرشتوں کو بلاکر ان لوگوں کو آگ کی طرف لے جایا جائے گا اور جہنم کی آگ سراب کی طرح ہوگی اور اسکا بعض دوسرے بعض کو کھاۓ گا۔پھر وہ جہنم میں گر جائیں گےحتی کہ صرف وہی لوگ رہ جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔خواہ نیک ہو یابد۔اس وقت سارے جہاں کا رب ان کے پاس ایک ایسی صورت بن کر آئےگا جسکو وہ دنیا میں قریب سے دیکھ چکے ہوں اور فرمائے گا تم کس بات کے منتظر ہو؟ہر گروہ اپنے اپنے معبود کے ساتھ ہوگیا ۔وہ کہیں گے اے ہمارے رب!ہم نے تو دنیا میں ان لوگوں کا ساتھ نہ دیا(یعنی مشرکوں کا)جب ہم ان کے محتاج تھے اور نہ ان کی صحبت میں رہے۔پھروہ فرمائے گا میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں تم سے اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے دو یا تین بار یہی کہیں گے یہاں تک ان میں سے بعض انقلاب کا شکار ہو جائیں گے(کیونکہ یہ امتحان بہت سخت ہوگا)پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گااچھا تم اپنے رب کی کوئی نشانی جانتے ہو جس سے رب کو پہچانو وہ کہیں گے ہاں بس وہ اپنی ساق منکشف فرمائے گا۔اور جو شخص اللہ کو اپنے دل سے(بغیر جبر اور خوف یا ریا کے)سجدہ کرتا ہوگا اس کو وہاں بھی سجدہ میسر ہوگا اور جو شخص دنیا میں اپنی جان بچانے کی خاطر یا دکھلاوے کی وجہ سے سجدہ کرتا تھا اس کی پیٹھ کواللہ تعالیٰ تختہ بنادے گا جب وہ سجدہ کرنا چاہے گا تو چت گرپڑے گا۔پھر وہ لوگ اپنا سراٹھائیں گے تو وہ اپنی پہلی والی صورت پر ہوگاجسکو وہ دیکھ چکے ہوں گے اور وہ کہیں گے تو ہمارا رب ہے۔اس کے بعد جہنم پر پل رکھا جائے گا اور سفارش(شفاعت)کی اجازت دی جائے گی اور سب کہیں گے."اللھم سلم اللھم سلم"یا اللہ سلامتی عطاء فرما۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پل کیا ہے؟فرمایا پھسلنے کی جگہ ہے اور اس میں دندانے کانٹے ہوں گے جو سعدان نامی کانٹے دار بوٹی کی طرح ہوں گے جو نجد میں ہوتی ہے۔مؤمن اس پر پلک جھپکنے کی طرح،بجلی کی طرح،ہوا کی طرح،پرندے کی طرح،تیز رفتار گھوڑے اوراونٹوں کی طرح گزر جائیں گے۔کچھ مسلمان بلکل بچ نکلیں گے کچھ زخمی ہوکر جہنم میں گر جائیں گے حتیٰ کہ جب مؤمن جہنم سے بچ جائیں گے تو اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ مسلمانوں کے جو بھائی جہنم میں چلے جائیں گے وہ ان کے لئے اللہ سے اس قدر لڑیں گے کہ تم مومنوں سے حق لینے کے لیے بھی اس قدر نہیں لڑتے وہ کہیں گے اے ہمارے رب!یہ لوگ ہمارے ساتھ روزہ رکھتے تھے،نماز پڑھتے تھے،اور حج کرتے تھے تو ان سے کہا جائے گا جنکو تم پہچانتے ہو انکو نکال لو تو انکی صورتیں جہنمیوں پر حرام کر دی جائیں گی چنانچہ وہ بہت لوگوں کو جہنم سے نکالیں گے جن کی پنڈلیوں تک آگ پہنچ گئی ہوگی اور کچھ کے گھٹنوں تک آگ پہونچ گئی ہوگی پھر کہیں گے اے ہمارے رب!جنکے بارے میں تو ہمیں حکم دیا ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا۔اللہ تعالی فرمائے گا واپس جاؤ اور جسکے دل میں نصف دینار کے برابر بھی نیکی پاؤ اسے اس سے نکال دو پس وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے پھر وہ کہیں گے اے ہمارے رب!جن لوگوں کے بارے میں تو نے ہمیں حکم دیا تھا ہم نے ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑااللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا جاؤ اور جسکے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی نیکی پاؤ اسکو جہنم سے نکال دو پس وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے پھر کہیں گے اے ہمارے رب!ہم نے وہاں کسی نیکی والے کو نہیں چھوڑا۔حضرت ابوسعید خدری فرماتے تھے اگر تم اس حدیث کے بارے میں میری تصدیق نہیں کرتے تو اگر چاہو تو قرآن مجید کی یہ آیت پڑھو۔: {إِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: ٤٠]،"بےشک اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اسے بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے"۔پس اللہ تعالیٰ فرماۓگا فرشتوں نے سفارش کی،انبیاء کرام علیہم السلام نے شفاعت کی اور ایمان والوں نے سفارش کی اور اب صرف ارحم الراحمين کی ذات باقی ہے۔پس وہ(اپنی شان کے مطابق)جہنم سے ایک مٹھی بھر کر ایسے لوگوں کو باہر نکالے گا جنہوں نے کبھی نیکی نہیں کی ہوگی وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے۔اللہ تعالی انکو محلات جنت کے دروازوں پر آب حیات کی نہر میں ڈالے گا تو وہ یوں نکلیں گے جیسے سیلاب کے کیچڑ میں دانہ اگتا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو دانہ پتھر یا درخت کے جانب ہوتا ہے تو اس میں سے جو حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے۔وہی زرد اور سبز ہوتا ہے اور جو ساۓمیں ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!(ایسا معلوم ہوتا ہے)گویا آپ جنگلوں میں(اونٹ یا بکریاں)چراتے رہے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ موتیوں کی صورت میں نکالے جائیں گے انکی گردنوں میں سونے کے پٹےہوں گے۔اہل جنت انکو پہچانیں گے(اور کہیں گے)یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کریگا حالانکہ نہ تو انہوں نے کوئی عمل کیا اور نہ کوئی نیکی آگے بھیجی۔پھر فرمائے گا جنت میں داخل ہوجاو جو کچھ تم دیکھتے ہو وہ تمہارے لیے ہے وہ کہیں گے اے ہمارے رب!تو نے ہمیں وہ کچھ عطاء کیا جو تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔اللہ تعالی فرماۓگا تمہارے لیے میرے پاس اس سے بھی افضل ہے وہ کہیں گے اے ہمارے رب! اس سے افضل کیا چیز ہے؟وہ فرماۓگا میری رضا ہے میں اس کے بعد کبھی بھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛باب معرفة طريق الرؤية جلد١ص١٦۷تا ١۷٠حدیث نمبر ٣٦٢)

وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ صَحْوًا لَيْسَ مَعَهَا سَحَابٌ؟ وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟» قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " مَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لِيَتَّبِعْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللهِ سُبْحَانَهُ مِنَ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَغُبَّرِ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَيُدْعَى الْيَهُودُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَمَاذَا تَبْغُونَ؟ قَالُوا: عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا، فَاسْقِنَا، فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِدُونَ؟ فَيُحْشَرُونَ إِلَى النَّارِ كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، ثُمَّ يُدْعَى النَّصَارَى، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ، كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَاذَا تَبْغُونَ؟ فَيَقُولُونَ: عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا، فَاسْقِنَا، قَالَ: فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِدُونَ؟ فَيُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ تَعَالَى مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِي أَدْنَى صُورَةٍ مِنَ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا قَالَ: فَمَا تَنْتَظِرُونَ؟ تَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، قَالُوا: يَا رَبَّنَا، فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا أَفْقَرَ مَا كُنَّا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ لَا نُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَكَادُ أَنْ يَنْقَلِبَ، فَيَقُولُ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ فَتَعْرِفُونَهُ بِهَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ إِلَّا أَذِنَ اللهُ لَهُ بِالسُّجُودِ، وَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ اتِّقَاءً وَرِيَاءً إِلَّا جَعَلَ اللهُ ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً، كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ عَلَى قَفَاهُ، ثُمَّ يَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ وَقَدْ تَحَوَّلَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، ثُمَّ يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَى جَهَنَّمَ، وَتَحِلُّ الشَّفَاعَةُ، وَيَقُولُونَ: اللهُمَّ سَلِّمْ، سَلِّمْ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْجِسْرُ؟ قَالَ: " دَحْضٌ مَزِلَّةٌ، فِيهِ خَطَاطِيفُ وَكَلَالِيبُ وَحَسَكٌ تَكُونُ بِنَجْدٍ فِيهَا شُوَيْكَةٌ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ، فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ كَطَرْفِ الْعَيْنِ، وَكَالْبَرْقِ، وَكَالرِّيحِ، وَكَالطَّيْرِ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ، وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، حَتَّى إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ بِأَشَدَّ مُنَاشَدَةً لِلَّهِ فِي اسْتِقْصَاءِ الْحَقِّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ فِي النَّارِ، يَقُولُونَ: رَبَّنَا كَانُوا يَصُومُونَ مَعَنَا وَيُصَلُّونَ وَيَحُجُّونَ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ، فَتُحَرَّمُ صُوَرُهُمْ عَلَى النَّارِ، فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا قَدِ أَخَذَتِ النَّارُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ، وَإِلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا مَا بَقِيَ فِيهَا أَحَدٌ مِمَّنْ أَمَرْتَنَا بِهِ، فَيَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا، ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا أَحَدًا، ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيْرًا "، وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَقُولُ: إِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي بِهَذَا الْحَدِيثِ فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: {إِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: ٤٠]، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ، وَشَفَعَ النَّبِيُّونَ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ، فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ قَدْ عَادُوا حُمَمًا، فَيُلْقِيهِمْ فِي نَهَرٍ فِي أَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ: نَهَرُ الْحَيَاةِ، فَيَخْرُجُونَ كَمَا تَخْرُجُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، أَلَا تَرَوْنَهَا تَكُونُ إِلَى الْحَجَرِ، أَوْ إِلَى الشَّجَرِ، مَا يَكُونُ إِلَى الشَّمْسِ أُصَيْفِرُ وَأُخَيْضِرُ، وَمَا يَكُونُ مِنْهَا إِلَى الظِّلِّ يَكُونُ أَبْيَضَ؟ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَأَنَّكَ كُنْتَ تَرْعَى بِالْبَادِيَةِ، قَالَ: " فَيَخْرُجُونَ كَاللُّؤْلُؤِ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِمُ، يَعْرِفُهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللهِ الَّذِينَ أَدْخَلَهُمُ اللهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ، وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ، ثُمَّ يَقُولُ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا رَأَيْتُمُوهُ فَهُوَ لَكُمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَيَقُولُ: لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا، فَيَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا، أَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا؟ فَيَقُولُ: رِضَايَ، فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا "، قَالَ مُسْلِمٌ: قَرَأْتُ عَلَى عِيسَى بْنِ حَمَّادٍ زُغْبَةَ الْمِصْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الشَّفَاعَةِ، وَقُلْتُ لَهُ: أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَ مِنَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ لِعِيسَى بْنِ حَمَّادٍ: أَخْبَرَكُمُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمٌ صَحْوٌ» قُلْنَا: لَا، وَسُقْتُ الْحَدِيثَ حَتَّى انْقَضَى آخِرُهُ وَهُوَ نَحْوُ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ، وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: «لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرَةِ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ، وَليْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ وَمَا بَعْدَهُ "، فَأَقَرَّ بِهِ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 362

امام مسلم فرماتے ہیں میں نے شفاعت کے سلسلے میں یہ حدیث عیسی بن حماد زغبۃ مصری کے سامنے پڑھی اور میں نے ان سے کہا میں یہ حدیث آپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتا ہوں آپ نے اسے لیث بن سعد سے سنا ہے؟انہوں نے کہا ہاں سنا ہے میں نے عیسٰی بن حماد سے کہا کیا لیث بن سعد نے تمہیں یہ خبر دی کہ انہوں نے خالدبن یزید سے سنا انہوں نے حضرت سعید بن ابی ہلال سے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔وہ فرماتے ہیں ہم نے کہا یارسول اللہ!کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم سورج کو دیکھنے میں شک کرتے ہو؟جب آسمان صاف ہو ہم نے کہا نہیں فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث آخر تک بیان کی اور یہ حفص بن میسرہ کی حدیث کی طرح ہے۔ اس میں اس بات کے بعد کہ انکو کسی عمل اور نیکی کے بغیر جنت میں داخل کرےگا۔یہ اضافہ ہے کہ ان سے کہا جائے گا تمہارے لئے وہ ہے جو تم نے دیکھا اور اسکی مثل اسکے ساتھ،حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا اور حضرت لیث کی روایت میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں وہ کچھ عطاء کیا جو تمام جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا اور نہ اسکے بعد دیگا تو حضرت عیسٰی بن حماد نے اسکا اقرار کیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان;باب معرفة طريق الرؤية;جلد١ص١٧٠:حديث نمبر ٣٦٣)

قَالَ مُسْلِمٌ: قَرَأْتُ عَلَى عِيسَى بْنِ حَمَّادٍ زُغْبَةَ الْمِصْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الشَّفَاعَةِ، وَقُلْتُ لَهُ: أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَ مِنَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ لِعِيسَى بْنِ حَمَّادٍ: أَخْبَرَكُمُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمٌ صَحْوٌ» قُلْنَا: لَا، وَسُقْتُ الْحَدِيثَ حَتَّى انْقَضَى آخِرُهُ وَهُوَ نَحْوُ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ، وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: «لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرَةِ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ، وَليْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ وَمَا بَعْدَهُ "، فَأَقَرَّ بِهِ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 363

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٣کی مثل مروی ہے البتہ اس میں کچھ کمی زیادتی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ مَعْرِفَةِ طَرِيقِ الرُّؤْيَةِ؛جلد١ص١٧١؛حدیث نمبر؛٣٦٤)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بِإِسْنَادِهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ، وَقَدْ زَادَ وَنَقَصَ شَيْئًا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 364

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا تو جسے چاہے گا اپنی رحمت سے داخل کرےگا اور جہنم والوں کو جہنم میں داخل کرےگا پھر فرماۓگا دیکھ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان پاتے ہو اسے نکال لو۔پس وہ اس میں سے انکو نکالیں گے جو جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔پھر انکو آب حیات میں ڈالا جائے گا تو وہ اس دانے کی طرح پروان چڑھیں گے جو سیلاب کے کیچڑ میں بڑھتا ہے کیا تم نے اسکو نہیں دیکھا کہ وہ زردی مائل ہوکر اگتا ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ إِثْبَاتِ الشَّفَاعَةِ وَإِخْرَاجِ الْمُوَحِّدِينَ مِنَ النَّارِ؛ترجمہ؛شفاعت کا ثبوت اور موحدین کا جہنم سے نکلنا؛جلد١ص١٧٢؛حدیث نمبر٣٦٥)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُدْخِلُ اللهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ بِرَحْمَتِهِ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارِ، ثُمَّ يَقُولُ: انْظُرُوا مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا قَدْ امْتَحَشُوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ، أَوِ الْحَيَا، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ إِلَى جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً؟ "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 365

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٥کی مثل مروی ہے کچھ الفاظ کا فرق ہے۔مفہوم وہی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ إِثْبَاتِ الشَّفَاعَةِ وَإِخْرَاجِ الْمُوَحِّدِينَ مِنَ النَّارِ؛جلد١ص١٧٢؛حدیث نمبر٣٦٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، ح، وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ كِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ: الْحَيَاةُ، وَلَمْ يَشُكَّا، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ: «كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءَةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ»، وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: «كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةٍ - أَوْ حَمِيلَةِ السَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 366

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک جہنمیوں کا تعلق ہے جو اسکے اہل ہیں تو وہ اسی میں مریں گے نہ زندہ ہوں گے لیکن تم میں سے بعض لوگوں کو انکے گناہوں کی وجہ سے آگ پہونچے گی تو اللہ تعالیٰ انکو موت دےگا حتیٰ کہ جب وہ کوئلے کی طرح ہوجائیں گے۔تو شفاعت کی اجازت دی جائے گی اور انکو گروہ در گروہ بلایا جائے گا اور انکو جنت کی لہروں پر تقسیم کر دیا جائے گا پس انکو جنتی نہروں پر پھیلا دیا جائے گا۔پھر کہا جائے گا اے اہل جنت!ان پر پانی بہاؤ تو وہ اس دانے کے اگنے کی طرح نشوونما پائیں گے جو سیلاب کے گارے میں ہوتا ہے۔ان لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا(ایسا معلوم ہوتا ہے)گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگل میں رہے ہوں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابُ إِثْبَاتِ الشَّفَاعَةِ وَإِخْرَاجِ الْمُوَحِّدِينَ مِنَ النَّارِ؛جلد١ص١٧٢؛حدیث نمبر٣٦٧)

وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ - أَوْ قَالَ بِخَطَايَاهُمْ - فَأَمَاتَهُمْ إِمَاتَةً حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا، أُذِنَ بِالشَّفَاعَةِ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ، فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ قِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ "، فَقَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، كَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ بِالْبَادِيَةِ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 367

ایک اور سند کے ساتھ بھی امام مسلم سے حدیث نمبر ٣٦٧کی مثل مروی ہے البتہ"سیلاب کے گارے" کے الفاظ کے بعد والے کلمات مذکور نہیں ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان:- بَابُ إِثْبَاتِ الشَّفَاعَةِ وَإِخْرَاجِ الْمُوَحِّدِينَ مِنَ النَّارِ؛جلد١ص١٧٣؛حدیث نمبر٣٦٨)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ: " فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 368

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس شخص کو جانتا ہوں جو جہنم سے سب سے آخر میں نکلے گا اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا۔ایک شخص جو جہنم سے ہاتھوں اور پاؤں پر گھسیٹتاہوا نکلے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا جا اور جنت میں داخل ہوجا۔آپ نے فرمایا وہ جائے گا اور خیال کرےگا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے پس واپس آجائے گا اور عرض کرےگا۔اے میرے رب!وہ تو بھری ہوئی ہے اللہ تعالیٰ اس سے فرماۓگا جا اور جنت میں داخل ہوجا۔فرمایا وہ آئیگا اور خیال کرے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے پس واپس لوٹ جائیگا اور عرض کرے گا اے میرے رب!وہ تو بھری ہوئی ہےاللہ تعالیٰ فرماۓگا جا جنت میں داخل ہوجا تیرے لیے دنیا اور اسکی مثل دس ہے یافرمایا تیرے لئے دنیا کی دس مثل ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ کہے گا یااللہ تو مجھ سے مذاق کرتا ہے یا مجھ پر ہنستا ہے تو تو بادشاہ ہے۔حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے ہیں حتیٰ کہ آپکی داڑھیں مبارک ظاہر ہوئیں۔آپ نے فرمایا یہ جنتی سب سے کم درجہ والا جنتی ہوگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛-بَابُ آخَرِ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا؛جلد١ص١٧٣؛حدیث نمبر ٣٦٩)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا، فَيَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ "، قَالَ: " فَيَأْتِيهَا، فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللهُ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا - أَوْ إِنَّ لَكَ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا - "، قَالَ: " فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي - أَوْ أَتَضْحَكُ بِي - وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ "، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: " فَكَانَ يُقَالُ: ذَاكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 369

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں اس شخص کو جانتا ہوں جو جہنم میں سب سے آخر میں نکلے گا اور اپنے کولہوں کے بل گھسیٹتا ہوا نکلے گا۔اس سے کہا جائے گا جاؤ اور جنت میں داخل ہوجاو فرمایا وہ جائے گا اور جنت میں داخل ہوجائے گا اور لوگوں کو یوں پائے گا وہ اپنے اپنے گھروں میں رہ رہے ہیں اس سے کہا جائے گا کیا تمہیں وہ وقت یاد ہے جو تم نے گزارا ہے وہ کہے گا ہاں(یاد ہے)پس اس سے کہا جائے گا تمنا کرو تو وہ تمنا کرے گا تو اس سے کہا جائے گا تیرے لئے وہ بھی ہے جسکی تو تمنا کی اور دنیا کا دس گنا بھی وہ کہےگا کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے۔راوی فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں ۔(شریف مسلم کتاب الایمان؛ بَابُ آخَرِ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا؛جلد١ص١٧٤؛حدیث نمبر ٣٧٠)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخَرُ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ "، قَالَ: " فَيَذْهَبُ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ، فَيَتَمَنَّى، فَيُقَالُ لَهُ: لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا "، قَالَ: " فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ "، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 370

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا شخص وہ ہوگا جو کبھی چلے گا۔کبھی اوندھا ہوگا اور کبھی جہنم کی آگ اسے دھکیلے گی جب وہ جہنم سے نکل جائے گا تو اس کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا وہ ذات پاک ہے جس نے مجھے تجھ سے نجات دی اور اس نے مجھے وہ چیز عطا کی جو پہلوں اور پچھلوں میں سے کسی کو عطاء نہیں کی پس اسکی طرف ایک درخت اٹھایا جائے گا تو وہ کہے گا اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے ساۓ سےلطف اندوز ہوں اور اسکا پانی پیئوں۔اللہ تعالی فرمائے گا اے انسان!کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگے گا۔وہ کہے گا ہاں میرے رب یہ دے دے مزید سوال نہیں کروں گا۔اللہ تعالی اسکی معذرت قبول فرمائے گا کیونکہ اس نے وہ چیز دیکھی ہے جسے وہ صبر نہیں کرسکتا۔پس اللہ تعالیٰ اسے اسکے قریب کر دےگا اور وہ اس کے ساۓ سے لطف اندوز ہوگا اور اسکے پانی سے پئے گا۔پھر جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت اسکے سامنے کیا جائے گا جو پہلے دونوں سے زیادہ خوبصورت ہوگا۔وہ کہے گا اے میرے رب!مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کے ساۓ سے نفع حاصل کروں اور اسکے پانی سے پئوں میں اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا۔اللہ تعالی فرماۓگا اے انسان!کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مزید کچھ نہیں مانگے گا۔وہ عرض کرےگا ہاں یا رب!پس اسکے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا اور اسکا رب اسکا عزر قبول فرمائے گا۔کیونکہ اس نے وہ کچھ دیکھاجس سے صبر نہیں کرسکتا۔پس وہ اسے اسکے قریب کر دیگا تو وہ جنتیوں کی آوازیں سنے گا اور کہے گا اے میرے رب مجھے اس میں داخل کردے۔اللہ تعالی فرماۓگا اے انسان تیرے سوالوں کو کون سی چیز روک سکتی ہے۔کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں تجھے دنیا اور اسکے ساتھ اسکی مثل دوں؟وہ کہے گا اے میرے رب!کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ کہ تو تمام جہان والوں کا پروردگار ہے۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور فرمایا کیا تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ نہیں پوچھتے؟حاضرین نے پوچھا آپ کیوں ہنسے ہیں۔فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح ہنسے اور صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کیوں ہنسے ہیں؟آپ نے فرمایا رب العالمين کی ہنسنے کی وجہ سے(جس طرح اسکے شایان شان ہے)جب اس نے کہا کہ کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے۔اللہ تعالی فرماۓگا میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا لیکن میں جو چاہوں اس پر قادر ہوں۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ آخَرِ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا؛جلد١ص١٧٤؛حدیث نمبر٣٧١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ، فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً، وَيَكْبُو مَرَّةً، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً، فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: لَا، يَا رَبِّ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابُِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا، قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْخِلْنِيهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ؟ أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا؟ قَالَ: يَا رَبِّ، أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ "، فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ، قَالَ: هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " مِنْ ضَحِكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حِينَ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 371

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جنت میں سب سے کم درجہ اس شخص کا ہوگا جسکے چہرے کو اللہ تعالیٰ جہنم سے جنت کی طرف پھیرے گا اور اس کے لئے ایک سایہ دار درخت کی صورت سامنے لائی جائے گی تو وہ کہے گا اے میرے رب!مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے ساۓ میں ہو جاؤں۔اس کے بعد حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کی مثل(حدیث نمبر ٣٧١)حدیث نقل کی اور یہ الفاظ نقل نہیں کئے کہ اللہ تعالیٰ فرماۓگا۔اے انسان!تجھے مجھ سے سوال کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔آخر تک۔اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے خود سوال یاد دلائے گا کہ فلاں فلاں چیز کا سوال کر پس جب اسکی خوہشات ختم ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرماۓگا۔یہ بھی تیرے لئے ہے اور اسکی مثل دس اور بھی۔فرمایا پھر وہ اسے اسکے(جنتی) گھر میں داخل کرے گا تو اسکے پاس اسکی دو بیویاں جو حوروں میں سے ہوں گی، داخل ہوں گی اور کہیں گی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے تجھے ہمارے لئے پیدا کیا اور ہمیں تیرے لئے پیدا کیا تو وہ کہے گا۔جو کچھ مجھے دیا گیا ہے اسکی مثل کسی کو نہیں دیا گیا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٧٥؛حدیث نمبر٣٧٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، رَجُلٌ صَرَفَ اللهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا " وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ: فَيَقُولُ: «يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ؟» إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِيهِ: " وَيُذَكِّرُهُ اللهُ، سَلْ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ، قَالَ اللهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ "، قَالَ: " ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، فَتَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا، وَأَحْيَانَا لَكَ "، قَالَ: " فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 372

مختلف اسانید کے ساتھ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے ممبر پر خطبہ دیتے ہوئے مرفوع حدیث نقل کی کہ(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھا اہل جنت کا سب سے کم درجہ کون سا ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ ایک ایسا شخص ہوگا جو اہل جنت کے جنت میں داخل ہونے کے بعد آئے گا تو اس سے کہا جائے گا تو جنت میں داخل ہوجا۔وہ کہے گا اے میرے رب!میں کس طرح داخل ہوں جبکہ تمام لوگ اپنے اپنے ٹھکانے میں جا چکے ہیں اور اپنے اپنے مقام پر پہنچ چکے ہیں۔اس سے پوچھا جائے گا کیا تجھے پسند ہے کہ تیرے لئے دنیوی بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ملک کے جیسا ہو وہ کہے گا۔اے میرے رب!میں راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ فرماۓگا وہ اور اسکی پانچ مثل تیرے لئے ہے پانچویں مرتبہ وہ کہے گا اے میرے رب!میں راضی ہوا اللہ تعالیٰ فرماۓگا تیرے لئے یہ بھی ہے اسکی مثل دس بھی اور وہ بھی جو تیرا دل چاہے اور جو تیری آنکھوں کو چاہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا اے میرے رب! سب سے اعلیٰ مرتبہ والا جنتی کون ہوگا؟فرمایا وہ لوگ جنکو عزت واحترام عطا کرنے کا میں نے ارادہ کیا اور اس پر میں نے مہر لگائی پس نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اسکا خیال آیا۔فرمایا اس کا مصداق قرآن مجید کی آیت ہے۔:"{فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: ١٧] الْآيَةَ.(کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ انکی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے۔) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٧٦؛حدیث نمبر٣٧٣)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، وَابْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رِوَايَةً - إِنْ شَاءَ اللهُ - ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يُخْبِرُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، وَابْنُ أَبْجَرَ سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ - قَالَ سُفْيَانُ: رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا، أُرَاهُ ابْنَ أَبْجَرَ - قَالَ: " سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ، مَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، قَالَ: هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، كَيْفَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: لَكَ ذَلِكَ، وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ، فَقَالَ فِي الْخَامِسَةِ: رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، وَلَكَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: رَبِّ، فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ "، قَالَ: وَمِصْدَاقُهُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: " {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: ١٧] الْآيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 373

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا۔اہل جنت میں سے کس کا حصہ سب سے ہلکا ہوگا آگےحدیث نمبر ٣٧٣کی مثل ہے(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٧٧؛حدیث نمبر٣٧٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ سَأَلَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ أَخَسِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْهَا حَظًّا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 374

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے نکلنے کے اعتبار سے آخری آدمی کون ہوگا۔فرمایا ایک شخص قیامت کے دن لایا جائے گا تو کہا جاۓگااس پر اسکے صغيره گناہ پیش کرو اور اسکے کبیرہ گناہ اس سے اٹھادوپس اس پر اسکےصغیرہ گناہ پیش کئے جائیں گے اور کہا جاۓگا تم نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں عمل کیا؟وہ کہے گا ہاں کیا وہ انکار نہیں کر سکے گا اور اسے ڈر ہوگا کہ کہیں کبیرہ گناہ اسکے سامنے نہ لاۓ جائیں تو اس سے کہا جائے گا تیرے لئے ہر برائی کی جگہ نیکی ہے۔وہ کہے گا اے میرے رب!میں نے کچھ ایسے کام کئے ہیں جو یہاں نہیں دیکھ رہا۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کی مبارک داڑھیں نظر آنے لگیں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٧٧؛حدیث نمبر ٣٧٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ، وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ، فَيُقَالُ: عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا، وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُولُ: رَبِّ، قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَا هُنَا " فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 375

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر٣٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٧٧؛حدیث نمبر٣٧٦)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 376

حضرت ابوالزبير فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سناان سے میدان محشر کے بارے میں سوال کیا جارہا تھا تو انہوں نے فرمایا قیامت کے دن ہم ایک اونچے مقام پر ہوں گے۔پھر تمام امتوں کو انکے بتوں کے ساتھ ترتیب وار بلایا جائے گا پھر ہمارا رب تجلی فرمائے گا تو پوچھے گا تم کسکو دیکھ رہے ہو؟وہ کہیں گے ہم اپنے رب کو دیکھ رہے وہ فرماۓگا میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے ہم تجھے دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ(اپنی شان کے مطابق)ہنستے ہوئے تجلی فرماۓگا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اپنی شان کے مطابق چل پڑے گا تو وہ اسکے پیچھے چلیں گے اور ان میں سے ہر انسان کو چاہے وہ مومن ہو یا منافق نور عطاء کر دیا جائے گا پھر وہ اسکے پیچھے چلیں گے اور جہنم کے کنارے پر کانٹے ہوں گے جسے اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اسے پکڑیں گے۔پھر منافقوں کا نور بجھ جائے گا اور مؤمن نجات پائیں گے تو پہلی جماعت جو نجات پائےگی۔انکے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہونگے۔وہ ستر ہزار ہوں گے جنکا حساب نہیں ہوگا۔پھر جو ان سے متصل جماعت ہوگی۔انکے چہرے آسمان میں سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے۔پھر اسی طرح(درجہ درجہ)ہوں گے،اس کے بعد شفاعت کی اجازت اور وہ شفاعت کریں گے حتیٰ کہ جہنم سے وہ بھی باہر آئے گا جس نے کلمہ طیبہ پڑھا اور اس کے دل میں جو کے برابر بھلائی ہوگی۔انکو جنت کے صحن میں رکھا جائے گا اور اہل جنت ان پر پانی کی چھینٹے ماریں گے حتیٰ کہ وہ اس طرح نشوونما پائیں گے جس طرح سیلاب(کے کیچڑ)میں کوئی سبزی اگتی ہے اور اسکی جلن چلی جاۓگی پھر اس سے سوال کیا جائے گا حتیٰ کہ اسکے لئے دنیا اور اسکے ساتھ اسکی دس مثل مقرر کیا جائے گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٧٧؛حدیث نمبر٣٧٧)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، كِلَاهُمَا عَنْ رَوْحٍ، قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ، فَقَالَ: نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا وَكَذَا، انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ؟ قَالَ: فَتُدْعَى الْأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا، وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ، الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: مَنْ تَنْظُرُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَنْظُرُ رَبَّنَا، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَيَتَّبِعُونَهُ، وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقًا، أَوْ مُؤْمِنًا نُورًا، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ، تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللهُ، ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ، ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ، فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَأِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ كَذَلِكَ ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ، وَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مِنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ، وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ حَتَّى يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ، وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ، ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 377

ایک اور سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔میں نے اپنے کانوں سے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کوجہنم سےنکال کر جنت میں داخل کریگا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٧٨؛حدیث نمبر٣٧٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِهِ، يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ يُخْرِجُ نَاسًا مِنَ النَّارِ فَيُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 378

حماد بن زید فرماتے ہیں میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو شفاعت کے ذریعے جہنم سے نکالے گا؟انہوں نے فرمایا ہاں(سنا ہے)۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٧٨؛حدیث نمبر٣٧٩)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ يُخْرِجُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ؟» قَالَ: نَعَمْ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 379

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جماعت کو جہنم سے نکالا جائے گا جو اس میں جل چکے ہوں گے مگر انکے چہرے محفوظ ہوں گے۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٧٨؛حدیث نمبر٣٨٠)

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ يَحْتَرِقُونَ فِيهَا، إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 380

حضرت یزید فقیر فرماتے ہیں۔مجھے خوارج کی رائے نے گھیر رکھا تھا(کہ گناہ کبیرہ کرنے والے جہنم میں جائیں اور جو اس میں داخل ہوگا وہ اس سے نہیں نکلے گا)پھر ہم ایک جماعت کے ساتھ گئے اور ہمارا ارادہ تھا کہ حج کریں گے اور اسکے بعد(خوارج کے)اسکے عقیدے کی تبلیغ کریں گے۔جب مدینہ طیبہ سے گزرے تو دیکھا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ لوگوں سے کچھ بیان کر رہے تھے اور آپ ایک ستون کے سہارے بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے(نقل کرتے ہوئے)بیان کر رہے تھے۔جب انہوں نے دوزخیوں کا ذکر کیا تو میں نے کہا اے صحابی رسول یہ آپ کیا بیان کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو ارشاد فرماتا ہے۔: {إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ} [آل عمران: ١٩٢] وَ {كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا} [السجدة: ٢٠]،(جسکو تو نے جہنم میں داخل کیا اسکو تو نے ذلیل ورسوا کیا)(اور جب وہاں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے انکو وہاں ہی لوٹایا جائے گا)۔تو تم کیا بات کہتے ہو۔انہوں نے فرمایا کیا تم نے قرآن مجید پڑھا ہے؟میں نے کہا ہاں پڑھا ہے فرمایا کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کے بارے میں سنا ہے۔یعنی کیا اس مقام کے بارے میں سنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ آپ کو بٹھائے گا۔میں نے کہا جی ہاں فرمایا یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے جسے مقام محمود کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے نکالے گا جسکو نکالے گا۔پھر آپ نے پل صراط رکھنے اور اس پر سے لوگوں کے گزرنے کی کیفیت بیان فرمائی۔حضرت یزید فقیر کہتے ہیں۔مجھے ڈر ہے کہ میں یاد نہ رکھ سکا لیکن حضرت جابر نے فرمایا کہ کچھ لوگوں کو جہنم میں بھیجنے کے بعد وہاں سے نکالا جائے گا۔وہ آبنوس کی لکڑیوں کی طرح(سیاہ)نکلیں گے۔پھر انکو جنت کی نہروں میں سے کسی نہر میں داخل کیا جائے گا۔اور اس میں غسل کریں گے اور جب نکالے جائیں گے تو کاغذ کی طرح(سفید)ہونگے۔حضرت یزید فقیر فرماتے ہیں جب ہم واپس آئے تو ہم نے کہا۔تمہارے لیے ہلاکت ہو کیا تم دیکھتے ہو کہ اس بزرگ(حضرت جابر رضی اللہ عنہ)نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ کہا ہے؟(یعنی جھوٹ نہیں کہا) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٧٩؛حدیث نمبر٣٨١)

وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، قَالَ: كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ، فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ، ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ؟ وَاللهُ يَقُولُ: {إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ} [آل عمران: ١٩٢] وَ {كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا} [السجدة: ٢٠]، فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ؟ قَالَ: فَقَالَ: «أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللهُ فِيهِ -؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ»، قَالَ: ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ، وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ، - قَالَ: وَأَخَافُ أَنْ لَا أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ - قَالَ: غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا، قَالَ: - يَعْنِي - فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ، قَالَ: «فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ، فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ»، فَرَجَعْنَا قُلْنَا: وَيْحَكُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعْنَا فَلَا وَاللهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ، أَوْ كَمَا قَالَ: أَبُو نُعَيْمٍ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 381

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے چار آدمیوں کو نکالا جائے گا۔پھر انکو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا تو ان میں سے ایک متوجہ ہوکر کہے گا۔اے میرے رب!جب تو نے مجھے وہاں سے نکالا ہے تو اب مجھے وہاں داخل نہ کرنا پس اللہ تعالیٰ اسے اس سے نجات دےگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٨٠؛حدیث نمبر٣٨٢)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللهِ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا فَلَا تُعِدْنِي فِيهَا، فَيُنْجِيهِ اللهُ مِنْهَا "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 382

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا تو ان کے دل میں یہ بات ڈال دے گا کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت پیش کریں حتیٰ کہ وہ اس جگہ سے ہمیں آرام دے۔فرماتے ہیں وہ لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوکر کہیں گے۔آپ آدم ہیں جو تمام مخلوق کے باپ ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے آپکو پیدا فرمایا اور اس میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کے لئے سجدہ کیا۔آپ ہمارے رب کے پاس ہماری سفارش کرے تاکہ ہمیں اس جگہ سے چھٹکارا حاصل ہو۔وہ فرمائیں گے یہ میرا منصب نہیں اور وہ اپنی اس لغزش کا ذکر کریں گے جو انکو پہونچی اور اس سبب سے وہ اپنے رب سے حیا کریں گے(اور فرمائیں گے)حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ پہلے رسول ہیں جنکو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا چنانچہ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ میرا کام نہیں اور وہ اس خطا کا ذکر کریں گے جو انکو پہونچی اور اس وجہ سے اپنے رب سے حیا کریں گے(اور کہیں گے)بلکہ تم حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ جنکو اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا چنانچہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو وہ فرمائیں گے۔یہ میرا منصب نہیں اور وہ بھی اپنی خطا کا ذکر کریں گے جو انکو پہونچی اور اپنے رب سے حیا کرتے ہوئے کہیں گے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور انکو تورات عطاء کی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ فرمائیں گے یہ میرا کام نہیں اور وہ اس خطأ کا ذکر کریں گے جو انکو پہونچی اور اس وجہ سے اپنے رب سے حیا کریں گے(فرمائیں گے)تم حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ تعالیٰ کی روح اور اسکا کلمہ ہیں چنانچہ وہ عیسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ فرمائیں گے یہ میرا منصب نہیں تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ ایسے بندے ہیں جنکے سبب سے پہلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دۓ گۓ۔راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس وہ لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی۔پس میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں سجدہ ریز ہوں گا اور جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا مجھے اسی حالت میں چھوڑ دے گا۔پھر کہا جاۓگا۔اے محمد! اپنا سر انور اٹھاۓ۔آپ کہیں آپکی بات سنی جائے گے۔آپ سوال کریں اپکو عطاء کیا جائے گا۔شفاعت فرمائیں آپکی شفاعت قبول کی جائے گی۔پس میں سر اٹھا کر اپنے رب کی حمد بیان کروں گا جو مجھے میرا رب سکھاۓگا۔پھر شفاعت کروں گا تو مجھے ایک حد بتائی جائے گی تو میں انکو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔پھر میں سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور اللہ جتنا وقت چاہے گا مجھے اسی حالت میں چھوڑےگا۔پھر فرماۓگا اے محمد!اپنا سر اٹھائیں اور کہیں آپکی بات سنی جائے گی اور سوال کریں اپکو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کرے آپکی شفاعت قبول کی جائے گی۔پس میں اپنا سر اٹھاکر ان الفاظ کے ساتھ اپنے رب کی حمد کرونگا جو مجھے میرا رب سکھاۓگا۔پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لئے ایک حد مقرر کی جائے گی۔پس میں انکو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔راوی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں۔آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا پس میں کہوں گا۔اے میرے رب جہنم میں صرف وہی لوگ رہ گۓ ہیں جنکو قرآن نے روکا ہے یعنی جن پر ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا(بحکم قرآن)ہمیشہ واجب کیا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٨٠؛حدیث نمبر٣٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ - قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجْمَعُ اللهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ - وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ - فَيَقُولُونَ: لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، قَالَ: فَيَأْتُونَ آدَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ، أَبُو الْخَلْقِ، خَلَقَكَ اللهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللهُ "، قَالَ: " فَيَأْتُونَ نُوحًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللهُ خَلِيلًا، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي كَلَّمَهُ اللهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ، قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللهِ وَكَلِمَتَهُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى رُوحَ اللهِ وَكَلِمَتَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ "، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيُؤْذَنُ لِي، فَإِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللهُ، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، قُلْ تُسْمَعْ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ رَبِّي، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ يَا مُحَمَّدُ، قُلْ تُسْمَعْ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجَهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ " - قَالَ: فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ - قَالَ " فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ". قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ قَتَادَةُ: «أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ».

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 383

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالی قیامت کے دن مؤمنوں کو جمع فرماۓگا تو وہ خود کوشش کریں گے یاانکو اس بات کا الہام فرماۓگا۔پھر حدیث نمبر٣٨٣کی طرح ہے۔اور اس حدیث میں یہ ہے کہ پھر میں چوتھی دفعہ آؤں گا یا فرمایا چوتھی دفعہ لوٹوں گا تو کہوں گا اے میرے رب اب وہی باقی رہ گئے ہیں جنکو قرآن نے روکا ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٨١؛حدیث نمبر٣٨٤)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ بِذَلِكَ» - أَوْ يُلْهَمُونَ ذَلِكَ - بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " ثُمَّ آتِيهِ الرَّابِعَةَ - أَوْ أَعُودُ الرَّابِعَةَ - فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 384

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومنوں کو جمع فرماۓگا تو انکو اس بات کا الہام فرماۓگا۔پھر حدیث نمبر٣٨٤کی طرح ہے۔البتہ چوتھی مرتبہ کا ذکر کیا کہ میں کہوں گا اے میرے رب!جہنم میں وہی لوگ باقی رہ گئے ہیں جنکو قرآن نے روک رکھا ہے یعنی ان پر ہمیشہ رہنا واجب ہوگیا ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٨١؛حدیث نمبر٣٨٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَجْمَعُ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ» بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، وَذَكَرَ فِي الرَّابِعَةِ: " فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 385

ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کلمہ طیبہ پڑھا اور اسکے دل میں جو کے برابر بھی نیکی ہے۔اسے جہنم سے نکالا جائے گا پھر اسکو نکالا جائے گا جس نے لاالہ الا اللہ پڑھا اور اسکے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی نیکی ہے۔پھر اسکو جہنم سے نکالا جائے گا جس نے لا الہ الا اللہ پڑھا اور اسکے دل میں ذرہ برابر بھی نیکی ہے۔امام مسلم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔بعض روایات میں ذرے کی جگہ جوار کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٨٢؛حدیث نمبر٣٨٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مِنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مِنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مِنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً ". زَادَ ابْنُ مِنْهَالٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ: يَزِيدُ، فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ شُعْبَةُ: حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ جَعَلَ مَكَانَ الذَّرَّةِ ذُرَةً، قَالَ يَزِيدُ: صَحَّفَ فِيهَا أَبُو بِسْطَامَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 386

معبد بن ہلال عنبری سے روایت ہے کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ثابت کی سفارش چاہی آخر ہم ان تک پہنچے وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے ثابت نے ہمارے لیے اندر آنے کی اجازت مانگی ہم اندر گئے انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ثابت نے کہا اے ابو حمزہ(انس کی کنیت) تمہارے بھائی بصرہ والے چاہتے ہیں تم ان کو شفاعت کی حدیث سناؤ انہوں نے کہا ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کے پاس جائیں گے۔پس وہ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے کہ اپنی اولاد کے لئے سفارش کریں وہ فرمائیں گے یہ میرا منصب نہیں ہے بلکہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔وہ اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں۔پس وہ حضرت ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو وہ فرمائیں گے۔یہ میرا منصب نہیں ہے تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ تعالیٰ کے کلیم ہیں۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے تو وہ فرمائیں گے۔یہ میرا کام نہیں ہےتم حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ تعالیٰ کی روح اور اسکا کلمہ ہیں۔وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ فرمائیں گے یہ میرا منصب نہیں ہے بلکہ تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا۔میں ہی اس مقصد کیلئے ہوں میں جاکر اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی۔پس میں اس کے حضورکھڑا ہوکر ایسے الفاظ کے ساتھ اسکی حمد بیان کروں گا۔جن پر اس وقت قادر نہیں ہوں۔اللہ تعالی مجھے وہ کلمات الہام فرماۓگا۔پھر میں سجدے میں گرپڑوں گا آخر حکم ہوگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!اپنا سر اٹھا ئیے۔اور کہیے آپ کی بات سنی جائے گی،اور مانگ لیجئے آپ کو دیا جائےگا۔اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول ہوگی۔میں عرض کروں گا اے میرے رب!میری امت(کو بخش دے)میری امت(کو بخش دے)۔حکم ہوگا جاؤ جس کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اس کو جہنم سے نکال لیجئے۔میں ایسے سب لوگوں کونکال لوں گا اور پھر اپنے رب کے پاس واپس آکر ویسے ہی تعریفیں کروں گا پھر سجدہ میں جاؤں گا حکم ہوگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!اپنا سر اٹھائیں اور کہیں آپکی بات سنی جائے گی اور سوال کرے اپکو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپکی شفاعت قبول کی جائے گی۔میں عرض کروں گا اے میرے رب !میری امت(کو بخش دے)میری امت(کو بخش دے)۔حکم ہوگا جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اس کو جہنم سے نکال لے میں ایسا ہی کروں گا اور پھر لوٹ کر اپنے رب کے پاس آؤں گا اور ایسی ہی تعریفیں کروں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا حکم ہوگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!اپنا سر مبارک اٹھائیے اور کہیے آپ کی بات سنی جائے گی،سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔میں عرض کروں گا اے میرے رب!میری امت(کو بخش دے)میری امت(کو بخش دے)حکم ہوگا جاؤ اور جس کےدل میں رائی کے دانہ کے ادنی سے ادنیٰ کے برابر بھی ایمان ہے اسکو جہنم سے نکال لیں تو میں جاؤں گا اور انکو نکالوں گا۔معبد بن ہلال نے کہا یہ انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو انہوں نے ہمیں بیان کی پھر ہم انکے پاس سے نکلے جب جبان(قبرستان)کی بلندی پر پہنچے تو ہم نے کہا کاش ہم حسن(بصری)کی طرف چلیں اور ان کو سلام کریں اور وہ ابو خلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے(حجاج بن یوسف ظالم کے ڈر سے)خیر ہم ان کے پاس گئے اور ان کو سلام کیا ہم نے کہا اے ابو سعید ہم تمہارے بھائی ابو حمزہ( حضرت انس رضی اللہ عنہ)کے پاس سے آرہے ہیں انہوں نے شفاعت کے بارے میں ایک حدیث بیان کی ویسی حدیث ہم نے نہیں سنی۔انہوں نے فرمایا مجھے بھی سناؤتو ہم نے انکو وہ حدیث سنائی۔انہوں نے کہا اور سناؤہم نے کہا بس اس سے زیادہ ہم سےانہوں نے بیان نہیں کی۔انہوں نے کہا یہ حدیث تو انہوں نے ہم سے بیس برس پہلے بیان کی تھی جب وہ اتنے بوڑھے نہیں تھے جیسے اب ہیں)اب انہوں نے کچھ چھوڑدیا ہے۔میں نہیں جانتا وہ بھول گئے یا تم سے بیان کرنا مناسب نہ جانا۔ایسا نہ ہو تم بھروسہ کر بیٹھو(اور نیک اعمال میں سستی کرنے لگو)ہم نے ان سے کہا وہ کیا ہے؟ہمیں بتاؤ۔یہ سن کر ہنسے اور کہا:{خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ} [الأنبياء: ٣٧]،"انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے"۔میں نے تم سے یہ قصہ اس لیے ذکر کیا تھا کہ میں تم سے بیان کرنا چاہتا تھا۔(پھر انہوں نے بیان کیا کہ)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پھر لوٹوں گا اپنے رب کے پاس چوتھی بار اور اسی طرح تعریف کروں گا پھر سجدے میں گروں گا مجھے حکم ہوگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!سر اٹھاؤ اور کہو آپ کی بات سنی جائے گی مانگو آپ کو دیا جائے گا،سفارش کرو آپ کی سفارش قبول ہوگی۔میں اس وقت عرض کروں گا اے میرے رب مجھے اجازت دیجئے اس شخص کو بھی جہنم سے نکالنے کی بھی جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ آپکا حصہ نہیں یا فرمایا اسکی شفاعت آپکے سپرد نہیں کی گئی بلکہ مجھے اپنی عزت،کبریائی،عظمت اور جبار ہونے کی قسم میں جہنم سے اس شخص کو بھی نکالوں گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو۔معبد نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ حسن نے یہ حدیث ہمیں بیان کی اور کہا کہ انہوں نے اسکوانس سے سناہےاور میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ بیس سال پہلے کی بات ہے جب وہ نوجوان تھے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٨٢تا١٨٣؛حدیث نمبر٣٨٧)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ، قَالَ: انْطَلَقْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَتَشَفَّعْنَا بِثَابِتٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الضُّحَى، فَاسْتَأْذَنَ لَنَا ثَابِتٌ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَجْلَسَ ثَابِتًا مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ، فَقَالَ: لَهُ يَا أَبَا حَمْزَةَ، إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ أَنْ تُحَدِّثَهُمْ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ لَهُ: اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِكَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللهِ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللهِ، فَيُؤْتَى مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنَّهُ رُوحُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ، فَيُؤتَى عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُوتَى، فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيُؤْذَنُ لِي، فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الْآنَ، يُلْهِمُنِيهِ اللهُ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ، أَوْ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ لِي: انْطَلِقْ فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَى رَبِّي فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ لِي: انْطَلِقْ فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ "، هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ، قُلْنَا: لَوْ مِلْنَا إِلَى الْحَسَنِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ، جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَبِي حَمْزَةَ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ، قَالَ: هِيَهِ، فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هِيَهِ قُلْنَا: مَا زَادَنَا، قَالَ: قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ، وَلَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ، أَوْ كَرِهَ أَنْ يُحَدِّثَكُمْ، فَتَتَّكِلُوا، قُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا، فَضَحِكَ وَقَالَ: {خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ} [الأنبياء: ٣٧]، مَا ذَكَرْتُ لَكُمْ هَذَا إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ، " ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ لَكَ - أَوْ قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ - وَلَكِنْ وَعِزَّتِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي وَجِبْرِيَائِي، لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، "، قَالَ: فَأَشْهَدُ عَلَى الْحَسَنِ أَنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُرَاهُ قَالَ: قَبْلَ عِشْرِينَ سَنَةً وَهُوَ يَوْمِئِذٍ جَمِيعٌ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 387

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو دستی(بازو)کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا،وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دانتوں سے نوچا اور فرمانے لگے کہ میں قیامت کے دن سب آدمیوں کا سردار ہوں گا۔اور کیا تم جانتے ہو کہ ایسا کیوں ہوگا(پھر فرمایا)اللہ تعالیٰ تمام پہلے اور پچھلے کو ایک میدان میں جمع کرےگا،پکارنے والے کی آواز ان سب کو سنائی دے گی اورسب دیکھیں گے اور سورج قریب ہوگا۔لوگ غم اور تکلیف میں اس قدر مبتلا ہوں گے کہ اس(برداشت کرنے)کی طاقت نہیں رکھیں گے وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کیا تم دیکھتے نہیں کہ تم کس حاجت میں ہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہی کس قدر تکلیف پہنچی ہے۔کیا تم اسکو تلاش نہیں کرتے کہ جو(تمہارے رب کے ہاں)تمہاری سفارش کرے تو ان میں سے کچھ دوسرے بعض سے کہیں گے کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلو،تو سب کے سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ تمام آدمیوں کے باپ ہیں،اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا،اور آپ میں اپنی(خاص)روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا،آپ پروردگار سے ہماری شفاعت کیجئے۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟اور کس قدر تکلیف میں ہیں۔آدم علیہ السلام کہیں گے کہ آج میرے رب نے ایسا غصہ فرمایا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غصہ نہیں فرمایا تھا اور نہ ہی اس کے بعدایساغضب فرمائے گااور اس نے مجھے اس درخت(کے قریب جانے)سے منع کیا تھا،لیکن مجھ سے خطا ہوئی مجھے تو اپنی جان کی فکر ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ پھر لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اے نوح علیہ السلام!تم سب پیغمبروں سے پہلے زمین پر آئے، اللہ نے اپکانام عبداً شکوراً (شکر گزار بندہ)رکھا ہے،تم اپنے رب کے پاس ہماری سفارش کرو،کیا تم نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں؟اور جو مصیبت ہم پر آئی ہے؟وہ کہیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ اتنا غضب میں ہے کہ نہ تو ایسا پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد ہو گا اور میرے واسطے ایک دعا کا حکم تھا(کہ وہ مقبول ہو گی)،وہ میں اپنی امت کے خلاف مانگ چکا( وہ مقبول دعا اپنی قوم پر بددعا کی شکل میں کر چکا ہوں جس سے وہ ہلاک ہو گئی تھی)،اس لئے مجھے اپنی فکر ہے،تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔پھر سب ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی اور ساری زمین والوں میں اس کے دوست ہیں،آپ اپنے پروردگار کے ہاں ہماری سفارش کیجئے،کیا آپ نہیں دیکھتے جس حال میں ہم ہیں؟اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے؟وہ کہیں گے کہ میرا پروردگار آج بہت غضب میں ہے اتنا غضب میں کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور وہ اپنی خلاف واقع بات کے بارے میں ذکر کریں گے اور فرمائیں گےاس لئے مجھے خود اپنی فکر ہے،تم میرے علاوہ کسی دوسرے کے پاس جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اے موسیٰ علیہ السلام!آپ اللہ کے رسول ہیں،اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیام(رسالت)اور کلام سے فضیلت و بزرگی دی ہے،آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کیجئے،کیا آپ نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں؟ اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے؟موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسے غضب میں ہے کہ اتنا غضب میں نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا، اور میں نے دنیا میں ایک شخص کو قتل کیایا قتل کرنے کا حکم دیاتھا،جس کا مجھے حکم نہ تھا،اس لئے مجھے اپنی فکر پڑی ہے،تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں آپ نے(ماں کی) گود میں لوگوں سے باتیں کیں،اور اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی طرف ڈالا تھا اور اس کی طرف سے روح ہیں،آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجئے کیا آپ نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے؟عیسی علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب بہت غضب میں ہے،اتنا غضب میں کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا۔حضرت عیسٰی علیہ السلام کسی گناہ کا ذکر نہیں فرمائیں گے۔البتہ یہ فرمائیں گے کہ مجھے تو خود اپنی فکر ہے تم اور کسی کے پاس جاؤ،محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔تو وہ لوگ میرے(محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں،اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دئے ہیں،آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجئے،کیا آپ ہمارا حال نہیں دیکھتے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت میں ہیں؟پس میں یہ سنتے ہی(میدانِ حشر سے)چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے پروردگار کو سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔پھر اللہ تعالیٰ اپنی حمدوثنامیں سے وہ کلمات مجھ پر کھولے گا اور مجھے الہام کرے گا جو مجھ سے پہلے کسی پر نہیں کھولے۔وہ فرماۓگا اے محمد!صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سرانور اٹھائے اور مانگئے،جو مانگیں گے،دیا جائے گا،سفارش کریں،قبول کی جائے گی۔میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا اے میررب!میری امت میری امت(کو بخش دے)اللہ تعالیٰ فرماۓگا۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!آپ اپنی امت میں سے جتنے لوگوں کو چاہیں کسی حساب کے بغیر جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے داخل کریں باقی دروازوں میں وہ دوسرے لوگو(امتوں)کے ساتھ شریک ہوں گے اور اس ذات کی قسم جسکے قبضۂ قدرت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جنتی دروازوں کے دو کواڑوں کے درمیان مکہ مکرمہ سے مقام ہجر تک یا فرمایا مکہ مکرمہ سے بصری تک کا فاصلہ ہوگا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٨٤تا١٨٥؛حدیث نمبر٣٨٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَاتَّفَقَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ إِلَّا مَا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا مِنَ الْحَرْفِ بَعْدَ الْحَرْفِ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِلَحْمٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً فَقَالَ: " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاكَ؟ يَجْمَعُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ، وَمَا لَا يَحْتَمِلُونَ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: أَلَا تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ؟ أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ؟ أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ؟ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: ائْتُوا آدَمَ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، خَلَقَكَ اللهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَيَقُولُ آدَمُ: إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ، فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ، أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الْأَرْضِ، وَسَمَّاكَ اللهُ عَبْدًا شَكُورًا، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَيَقُولُ لَهُمْ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي، نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ نَبِيُّ اللهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ، نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى، فَيَأْتُونَ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى، أَنْتَ رَسُولُ اللهِ فَضَّلَكَ اللهُ بِرِسَالَاتِهِ، وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا، نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ، وَكَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ، وَرُوحٌ مِنْهُ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا، نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ، فَيَأْتُونِّي فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، وَخَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ، وَغَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ، وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَأَنْطَلِقُ، فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي، ثُمَّ يَفْتَحُ اللهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ، وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ لِأَحَدٍ قَبْلِي، ثُمَّ يُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، أَدْخِلْ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ الْبَابُِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْأَبْوَابِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى "،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 388

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ثرید اور گوشت کا ایک پیالہ رکھا۔آپ نے اسکا بازو تناول فرمایا آپکو بکری کے گوشت میں سے یہ زیادہ پسند تھا۔آپ نے ان میں سے کچھ دانتوں سے لیا(نوچا)اور فرمایا میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔پھر دوبارہ گوشت نوچا اور فرمایا میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔جب آپ نے دیکھا کہ آپکے صحابہ کرام کوئی سوال نہیں کرتے تو فرمایا کیا تم اسکی کیفیت نہیں پوچھتے؟انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!اسکی کیفیت کیا ہوگی؟آپ نے فرمایا لوگ تمام جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔اسکے بعد حدیث نمبر ٣٨٨کی مثل ذکر کیا البتہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کے ضمن میں ذکر کیا کہ آپ نے ستاروں کو دیکھ کر لوگوں سے پوچھا کہ کیا انکو میرا رب بتاتے ہو؟اور انکے(جھوٹے)خداؤں(بتوں)کے بارے میں فرمایا۔ان میں سے بڑے بت نے یہ کام کیا(بتوں کو توڑا ہے)اور فرمایا کہ میں بیمار ہوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم!جسکے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔جنت کےدروازوں کے دوکواڑوں کے درمیان مکہ مکرمہ اور مقام ہجر کے درمیان یا فرمایا ہجر یا مکہ مکرمہ کے درمیان جتنا فاصلہ ہے(راوی کو شک ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٨٦؛حدیث نمبر٣٨٩)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ، فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ وَكَانَتْ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ، فَنَهَسَ نَهْسَةً، فَقَالَ: «أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى، فَقَالَ: «أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لَا يَسْأَلُونَهُ قَالَ: «أَلَا تَقُولُونَ كَيْفَهْ؟» قَالُوا: كَيْفَهْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، وَزَادَ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: وَذَكَرَ قَوْلَهُ فِي الْكَوْكَبِ: ِ {هَذَا رَبِّي} [الأنعام: ٧٦] وَقَوْلَهُ لِآلِهَتِهِمْ: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: ٦٣]، وَقَوْلَهُ: {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: ٨٩]، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِلَى عِضَادَتَيِ الْبَابُِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ، أَوْ هَجَرٍ وَمَكَّةَ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 389

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا تو مومن کھڑے ہوں گے حتیٰ کہ جنت انکے قریب کردی جائے گی۔پس وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے ابا جان!ہمارے لئے جنت کا دروازہ کھلوایۓ وہ کہیں گے تمہارے باپ آدم علیہ السلام ایک خطا کی وجہ سے جنت سے باہر آئے تھے۔یہ میرا منصب نہیں ہے تم میرے بیٹے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے یہ میرا کام نہیں نہیں۔میرا مقام تو اسکے بعد ہے(عاجزی کرتے ہوئے فرمائیں گے)حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سہارا لو اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا۔چنانچہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔تو وہ فرمائیں گے یہ میرا منصب نہیں ہے۔تم حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور اسکی روح ہیں۔چنانچہ حضرت عیسٰی علیہ السلام فرمائیں گے۔یہ میرا کام نہیں ہے پس وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں گے۔آپ کھڑے ہوں گے اور آپکو اجازت دی جائے گی اور امانت اور رحم کو چھوڑا جاۓگا تو وہ پل صراط کی دونوں جانب دائیں بائیں(انسانی شکل میں)کھڑے ہوں گے۔(فرمایا)تم میں سے پہلا گروہ بجلی کی طرح گزرے گا۔راوی فرماتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔بجلی کی طرح کونسی چیز گزرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم بجلی کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح گزرتی ہے اور پلکے جھپکے واپس آجاتی ہے۔پھر ہوا کی طرح گزریں گے۔پھر پرندوں کے رفتار میں اور آخر میں انسانی رفتار میں گزریں گے۔انکے اعمال انکے ساتھ چلیں گے اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پل صراط پر کھڑے"رب سلم سلم"(اے رب سلامتی سے گزار دے)کہتے ہوں گے۔حتیٰ کہ بندوں کے اعمال عاجز ہو جائیں گے۔حتیٰ کہ کچھ لوگ آئیں گے تو وہ چل نہیں سکیں گے اس لیے گھسیٹتے ہوئے جائیں گے اور پل صراط کے دونوں جانب کانٹے لٹک رہے ہوں گے انکو حکم دیا گیا ہوگا لہذا جسکے بارے میں حکم ہوگا اسکو پکڑ لیں گے پس کوئی زخمی ہوکر جہنم میں گر جائیں گے۔اس ذات کی قسم جسکے قبضۂ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے۔جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا؛جلد١ص١٨٦تا١٨٧؛حدیث نمبر٣٩٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفِ بْنِ خَلِيفَةَ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُو مَالِكٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْمَعُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ، فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا أَبَانَا، اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ آدَمَ، لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللهِ "، قَالَ: " فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ، اعْمِدُوا إِلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَلَّمَهُ اللهُ تَكْلِيمًا، فَيَأْتُونَ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى كَلِمَةِ اللهِ وَرُوحِهِ، فَيَقُولُ عِيسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ، وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ، فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ " قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ: " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ؟ ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ، وَشَدِّ الرِّجَالِ، تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُولُ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ، حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا "، قَالَ: «وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنِ اُمِرَتْ بِهِ، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ، وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ» وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 390

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت(کے لئے)میں سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء کرام کے مقابلے میری اتباع کرنے والے زیادہ ہوں گے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابٌ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا»ترجمہ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول جنت میں سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے مقابلے میری اتباع کرنے والے زیادہ ہوں گے؛جلد١ص١٨٧؛حدیث نمبر٣٩١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 391

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے مقابلے میں میری اتباع کرنے والے زیادہ ہوں گے اور سب سے پہلے جنت کا دروازہ میں کھٹکھٹاؤں گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابٌ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا»؛جلد١ص١٨٨؛حدیث نمبر ٣٩٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 392

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت (کے لئے)میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور کسی نبی کی اس قدر تصدیق نہیں کی گئی جتنی میری تصدیق کی گئی ہے۔بعض انبیاء کرام وہ ہیں جنکی تصدیق انکی امت میں سے صرف ایک شخص نے کی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابٌ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا»؛جلد١ص١٨٨؛حدیث نمبر٣٩٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ، لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَا صُدِّقْتُ، وَإِنَّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيًّا مَا يُصَدِّقُهُ مِنْ أُمَّتِهِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 393

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں جنت کے دروازے پر آؤں گا اور اسکو کھلواؤں گا تو خازن(فرشتہ)پوچھے گا تم کون ہو؟میں کہوں گا۔میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں وہ کہے گا مجھے آپ کےلیے کھولنے کا حکم دیا گیا ہے؟آپ سے پہلے میں کسی کے لئے نہ کھولوں گا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابٌ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا»؛جلد١ص١٨٨؛حدیث نمبر٣٩٤)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُليْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتفْتِحُ، فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ، فَيَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 394

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے لئے(مخصوص)دعا ہے تو میں اپنی اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کیلئے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛؛جلد١ص١٨٨؛حدیث نمبر٣٩٥)

حَدَّثَنِي يُونسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: َ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا، فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 395

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک(مقبول)دعا ہے تو میں نے ارادہ کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو میں اپنی اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کیلئے محفوظ رکھوں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٨٩؛حدیث نمبر٣٩٦)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ زُهيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، وَأَرَدْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 396

ایک اور سند کے ساتھ بھی بواسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٩٦کی مثل مروی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٨٩؛حدیث نمبر٣٩٧)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهابٍ، عَنْ عمِّهِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 397

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ سے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک مقبول دعا ہے جسکے ساتھ وہ(بارگاہِ خدا وندی میں)دعا کرتا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کیلئے محفوظ رکھوں۔حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں(سنی ہے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٨٩؛حدیث نمبر٣٩٨)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيَّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لِكَعْبِ الْأَحْبَارِ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا، فَأَنَا أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فَقَالَ كَعْبٌ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «نَعَمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 398

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک مقبول دعا ہے تو ہر نبی نے اپنی دعا میں جلدی کی لیکن میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کیلئے محفوظ رکھا ہے انشاءاللہ!یہ دعا میری امت کے ہر اس شخص کو پہنچے گی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہراۓ ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٨٩؛حدیث نمبر٣٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ،، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 399

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک مستجاب دعا ہے وہ انکے لئے قبول ہوگی اور میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کیلئے محفوظ رکھی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٨٩؛حدیث نمبر٤٠٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا فَيُسْتَجَابُ لَهُ، فَيُؤْتَاهَا، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 400

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک دعا ہے جو دعا انہوں نے اپنی امت کے لئے مانگی اور وہ انکے لئے قبول ہوئی اور میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کیلئے مؤخر کردوں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٩٠؛حدیث نمبر ٤٠١)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ، وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللهُ أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 401

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک(مخصوص)دعا ہے جو اس نبی نے اپنی امت کے لئے مانگی ہے اور میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کیلئے محفوظ رکھی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٩٠؛حدیث نمبر٤٠٢)

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَانَا، وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنُونَ ابْنَ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَاهَا لِأُمَّتِهِ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 402

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٠٢کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٩٠؛حدیث نمبر ٤٠٣)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. ح،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 403

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٠٢کی مثل مروی ہے اور اس میں(دعا کے مطابق)عطا کیا گیا کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٩٠؛حدیث نمبر٤٠٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: قَالَ: أُعْطِيَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 404

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٠٢کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٩٠؛حدیث نمبر ٤٠٥)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 405

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا جو اس نبی نے اپنی امت کے لئے مانگی ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کیلئے محفوظ رکھا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ؛جلد١ص١٩٠؛حدیث نمبر؛٤٠٦)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، وَخَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 406

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراهيم علیہ السلام کے بارے میں قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی(کہ انہوں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا) {رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي} [إبراهيم: ٣٦]"اے میرے رب انہوں نے(بتوں نے)بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا پس جس نے میری اتباع کی تو اس کا مجھ سے تعلق ہے"۔اور حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا(قرآن نے یوں نقل کیا):{إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: ١١٨]"(یااللہ)اگر تو انکو عذاب دے تو بلاشبہ یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انکو بخش دے تو توہی غالب حکمت والا ہے"۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنادست مبارک بلند کیےاور دعا مانگی۔یااللہ!میری امت، میری امت(کو بخش دے)اور آپ رو پڑے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے جبریل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر پوچھیں کہ وہ کیوں رو رہے ہیں۔حالانکہ تمہارا رب خوب جانتا ہے۔حضرت جبریل علیہ السلام آپکی خدمت میں حاضر ہوئےاور(رونے کا سبب پوچھا)تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو خبر دی۔جو کچھ آپ نے فرمایا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا اے جبریل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر کہو ہم آپکو آپکی امت کے بارے میں راضی کریں گے اور پریشان نہیں کریں گے۔(امام نووی فرماتے ہیں اس حدیث میں کئی فوائد ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کمال شفقت اور انکے معاملات کا اہتمام۔دعا کے وقت ہاتھ اٹھانا مستحب ہے۔امت کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور یہ حدیث بہت زیادہ امید دلاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدرومنزلت بہت زیادہ ہیں اور اسکا آپ پر بڑا لطف وکرم ہےاور حضرت جبریل علیہ السلام کو بھیجنے میں حکمت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف کو ظاہر کیا جاۓ ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّتِهِ، وَبُكَائِهِ شَفَقَةً عَلَيْهِمْ؛ ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کےلیے دعا اور شفقت؛جلد١ص١٩١؛حدیث نمبر ٤٠٧)

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَلَا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ: {رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي} [إبراهيم: ٣٦] الْآيَةَ، وَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: ١١٨]، فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اللهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي»، وَبَكَى، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: «يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، وَرَبُّكَ أَعْلَمُ، فَسَلْهُ مَا يُبْكِيكَ؟» فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ، وَهُوَ أَعْلَمُ، فَقَالَ اللهُ: " يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، فَقُلْ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ، وَلَا نَسُوءُكَ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 407

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے باپ کہاں ہیں؟فرمایا جہنم میں۔جب اس نے پیٹھ پھیری تو اسکو بلایا اور فرمایا میرا باپ(یعنی میرا چچا)اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔(اس سے ابو لہب مراد ہے اور عرب میں چچا کو باپ کہا جاتا ہے حضور کےوالدین طیبین جنتی ہیں اس لئے ان لوگوں کی بات نہ سنی جائے جو آپکے والدین کے بارے میں اس قسم کی بیہودہ بات کرتے ہیں کہ معاذ اللہ وہ مشرک تھے(ماخوز شرح مسلم از علامہ صدیق ہزاروی)۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ مِنْ مَاتَ عَلَى الْكُفْرِ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَلَا تَنَالُهُ شَفَاعَةٌ، وَلَا تَنْفَعُهُ قَرَابَةُ الْمُقَرَّبِينَ؛ترجم کافر کی شفاعت نہیں ہوگی؛جلد١ص١٩١؛حدیث نمبر٤٠٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: «فِي النَّارِ»، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: «إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 408

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]،"آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں"توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا تو وہ سب عام وخاص جمع ہوئے۔آپ نے فرمایا اے بنو کعب بن لوی اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ،اے بنو مرہ بن کعب!اپنے آپ کوآگ سے بچاؤ،اے بنو عبد شمس!اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ،اے بنو عبد مناف!اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ اے بنو ہاشم!اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ،اے بنو عبدالمطلب!اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔اے فاطمہ!(رضی اللہ عنہا)اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔بے شک میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں البتہ تمہارے ساتھ رشتہ داری ہےجسے تر رکھوں گا۔(بعض لوگ کم علمی کے سبب یہ خیال کیا کہ اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کی نفی کی ہے حالانکہ آپ نے انکو بتایا کہ عمل کرو اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اس وقت فرمایا تھا جب کے ایمان کی دعوت دے رہے تھے کیونکہ جب ایمان اور عمل ہی نہیں ہوگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قربت کوئی فائدہ نہ دیگی اسی سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ میرے بھروسے پر نہ رہنا کہ ہم ایمان لائیں یا نہ لائیں عمل کریں یا نہ کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لیں گے اگر تمہارا سوچنا ہے تو غلط ہے اور اس کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آنے والوں کو بھی سبق دیا کہ ہر شخص ایمان اور عمل کی ضرورت ہے کسی معزز شخصیت کی اولاد ہونا کافی نہیں ورنہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کو بخشوا سکتے ہیں تو اپنوں کو کیوں نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہیکہ كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَنْقَطِعُ , إلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي )۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]ترجمہ؛ اللہ تعالیٰ کا قول"اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں"؛ جلد١ص١٩٢؛حدیث نمبر٤٠٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]، دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ، فَقَالَ: «يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي مُرَّةَ بنِ كَعْبٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي هَاشِمٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا فَاطِمَةُ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 409

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٠٩کی مثل مروی ہےاور پہلی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]؛جلد١ص١٩٢؛حدیث نمبر٤١٠)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَحَدِيثُ جَرِيرٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 410

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں جب آیت کریمہ:{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفاپر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ بنت محمد!اے صفیہ بنت عبدالمطلب!اے بنو عبدالمطلب!میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں(البتہ)میرے مال سے جو چاہو سوال کرو ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]؛جلد١ص١٩٢؛حدیث نمبر٤١١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 411

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب آیت:{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]نازل ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے قریش کے گروہ اپنے نفسوں کو اللہ پر بیچ ڈالو۔میں(اپنے آپ)اللہ تعالیٰ سے تمہیں بچا نہیں سکتا۔اے بنو عبدالمطلب!میں تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آۓ ہوئے عذاب کو ٹال نہیں سکتا۔اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ!میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی کسی بات کو تم سے دور نہیں کرسکتا۔اے فاطمہ بنت محمد!مجھ سے جو چاہو مانگو(لیکن)میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی بات کو تم سے دور نہیں کرسکتا۔(مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر تم سے کچھ دور نہیں کرسکتا نیز عمل کی ترغیب ہے) ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]؛جلد١ص١٩٢؛حدیث نمبر٤١٢)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] «يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللهِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ، سَلِينِي بِمَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 412

ایک اور سند کے ساتھ بھی بواسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤١٢کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]؛جلد١ص١٩٣؛حدیث نمبر ٤١٣)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 413

حضرت قبیصہ مخارق اور حضرت زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت کریمہ{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]،نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کی چٹانوں پر تشریف لے گئے اور ان میں سے سب سے بلند(چٹان)پر تشریف لے جا کر آواز دی۔اے بنو عبد مناف!میں ڈر سنانے والا ہوں۔بیشک میری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے گھر والوں کی طرف متوجہ ہوا اور اسے ڈر ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تو وہ زور زور سے پکارنے لگا اے لوگو بچو! (مسلم شریف کتاب الایمان؛ باب فی قولہ تعالیٰ{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ}[الشعراء: ٢١٤]،جلد١ص١٩٣؛حدیث نمبر٤١٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَا: لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]، قَالَ: انْطَلَقَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ، فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا، ثُمَّ نَادَى «يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ إِنِّي نَذِيرٌ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ، فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ، يَا صَبَاحَاهُ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 414

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤١٤کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ}[الشعراء:٢١٤]جلد١ص١٩٣؛حدیث نمبر٤١٥)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 415

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب آیت کریمہ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] نازل ہوئی اور حکم ہوا کہ اپنے مخلص لوگوں کو ڈرائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے حتیٰ کہ صفا(پہاڑی)پر تشریف لے گئے اور آواز دی سنو!ہوشیار ہوجاوتو انہوں نے کہا یہ کون آواز دے رہا ہے تو دوسرے حضرات نے جواب دیا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔چنانچہ وہ سب آپکے پاس جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا اے بنو فلاں!اے بنو فلاں!اے بنو فلاں!اے بنو عبد مناف!اے عبدالمطلب!پھر وہ سب لوگ آپکے قریب ہوۓتو آپ نے فرمایا مجھے بتاؤ۔اگر میں تمہیں بتاؤں کہ اس پہاڑ کے دامن سے ایک لشکر آرہا ہے تو کیا تم میری تصدیق کروگے؟انہوں نے کہا ہمیں آپ سے جھوٹ کا تجربہ نہیں(آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو میں سخت عذاب سے ڈراتا ہوں۔راوی فرماتے ہیں ابولہب نے کہا!(معاذاللہ)تمہارے لئے ہلاکت ہو ہمیں اس کام کے لئے بلایا تھا۔پھر وہ کھڑا ہوا تو یہ سورت نازل ہوئی۔"تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وقد تَبَّ"(ابو لهب کے ہاتھ ہلاک ہوۓاور وہ خود ہلاک ہوگیا) اعمش کی قرأت میں اسی طرح(لفظ"وقدتب" کے ساتھ) ہے۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]؛جلد١ص١٩٣؛حدیث نمبر٤١٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا، فَهَتَفَ: «يَا صَبَاحَاهْ»، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: «يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ»، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: «أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟» قَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ: «فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ»، قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وقد تَبَّ، كَذَا قَرَأَ الْأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 416

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤١٦کی مثل مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صفا پر تشریف لے گئے اور فرمایا لوگوں!ہوشیار ہوجاؤ اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٦کی طرح ذکر کیا اور آیت{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] کے نزول کا ذکر نہیں کیا ۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]؛جلد١ص١٩٤؛حدیث نمبر ٤١٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا، فَقَالَ: «يَا صَبَاحَاهُ» بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الْآيَةِ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 417

حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ نے ابوطالب کو کوئی نفع دیا وہ آپکی حفاظت کرتے اور آپکے لئے(مخالفین پر)غضب ناک ہوتے تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں جہنم کی آگ انکے ٹخنوں تک ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوتے۔(جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ابو طالب کو فائدہ پہونچا سکتے ہیں تو مسلمانوں کو فائدہ کیسے نہیں پہنچا سکتے) (مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ؛ترجمہ؛ابوطالب کے لیے تخفیف عذاب کی شفاعت؛جلد١ص١٩٤؛ حدیث نمبر٤١٨)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 418

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول!ابوطالب آپکی حفاظت اور مدد کرتے تھے۔نیز آپکے لئے غضبناک ہوتے تھے تو کیا انکے اس عمل نے انکو نفع دیا؟فرمایا ہاں میں نے انکو جہنم کی گہرائی میں پایا تو انکو اوپر لے آیا کہ آگ ٹخنوں تک ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ؛جلد١ص١٩٥؛حدیث نمبر٤١٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ، فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ».

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 419

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر٤١٩کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ؛جلد١ص١٩٥؛حدیث نمبر ٤٢٠)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 420

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپکے چچا ابوطالب کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا قیامت کے دن انکو میری شفاعت فائدہ دےگی تو انکو آگ کے اوپر رکھا جائے گا کہ وہ انکے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے انکا دماغ کھولے گا۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ؛جلد١ص١٩٥؛حدیث نمبر٤٢١)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ: «لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 421

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنمیوں کا کم ازکم عذاب یہ ہوگا کہ انکو آگ کے جوتے پہناۓجائیں گے اور ان جوتوں کی حرارت سے انکا دماغ کھولے گا۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا؛ترجمہ؛جہنمیوں کا سب سے کم عذاب؛جلد١ص١٩٥؛حدیث نمبر٤٢٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَنْتَعِلُ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 422

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جہنم میں سب سے کم عذاب ابو طالب کو ہوگا۔انکو(آگ کے)دو جوتے پہناۓجائیں گے جس سے انکا دماغ کھولے گا۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا؛جلد١ص١٩٦؛حدیث نمبر٤٢٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ، وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 423

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوۓ کہا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا_آپ نے فرمایا_قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہوگا جسکے پاؤں کے تلوؤں میں دو انگارے رکھے جائیں گے جن سے اسکا دماغ کھولے گا_(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا؛جلد١ص١٩٦؛حدیث نمبر٤٢٤)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 424

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے کم عذاب والا جہنمی وہ شخص ہوگا جسکے جوتے اور تسمےآگ کے ہوں گے اور ان سے اسکا دماغ کھولتا ہوگا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے ان سے سخت عذاب والا کوئی نہیں دیکھا جاۓگا اور یہ سب سے ہلکا عذاب ہوگا۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا؛جلد١ص١٩٦؛حدیث نمبر٤٢٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِ الْمِرْجَلُ، مَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 425

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ دور جاہلیت میں ابن جدعان صلہ رحمی کرتا اور مسکین کو کھانا کھلاتاتھا تو کیا یہ بات اسے نفع دے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے یہ عمل نفع نہیں دےگا کیوں کہ اس نے ایک دن بھی یہ بات نہیں کہی۔کہ اے میرے رب!قیامت کے دن میری خطائیں معاف کردینا۔(مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اپنے کفر سے توبہ کرلیتاتو اسکے اعمال صالحہ نفع دیتے لیکن کفر سے توبہ نہ ہو تو تمام نیک اعمال بیکار ہو جاتے ہیں۔)(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مِنْ مَاتَ عَلَى الْكُفْرِ لَا يَنْفَعُهُ عَمَلٌ؛ترجمہ؛کفر پر مرنے والوں کا کوئی عمل نفع بخش نہیں؛جلد١ص١٩٦؛حدیث نمبر٤٢٦)

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ؟ قَالَ: " لَا يَنْفَعُهُ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ "

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 426

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے(فرماتے ہیں)میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کھل کھلا کسی پوشیدگی کے بغیر سنی کہ سنو!بنو فلاں میرے دوست نہیں بےشک میرا دوست اللہ اور نیک مؤمنين ہیں۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ مُوَالَاةِ الْمُؤْمِنِينَ وَمُقَاطَعَةِ غَيْرِهِمْ وَالْبَرَاءَةِ مِنْهُمْ؛ترجمہ؛مومنوں سے دوستی اور کفار سے قطع تعلق؛جلد١ص١٩٨؛ حدیث نمبر ٤٢٧)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ، يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ آلَ أَبِي، يَعْنِي فُلَانًا، لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 427

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار افراد حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔آپ نے دعا مانگی اے اللہ!اسے ان میں سے کردے پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!۔اللہ تعالی سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے آپ نے فرمایا حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ تجھ سے سبقت کر گئے ہیں۔(حضرت قاضی عیاض علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں دوسرا شخص اس مقام کا مستحق نہیں تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ منافق تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب انداز میں جواب دیا(اور یہی حکمت کا تقاضہ تھا)یہ بھی کہا گیا ہے کہ وحی کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عکاشہ کے بارے میں بتایا گیا تھا اور دوسرا شخص حضرت سعد بن عبادہ تھے لہذا منافق والا قول باطل ہے امام نووی نے اس بات کو ترجیح دی۔)(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؛ترجمہ؛مسلمانوں کی ایک جماعت کسی حساب کے بغیر جنت میں جائیگی۔جلد١ص١٩٧؛حدیث نمبر٤٢٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ»، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ»، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 428

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ۴٢٨کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؛جلد١ص١٩٧؛حدیث نمبر٤٢٩)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بِمِثْلِ حَدِيثِ الرَّبِيعِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 429

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میری امت میں سے ایک گروہ جو ستر ہزار افراد پر مشتمل ہوگا جنت میں جائیگا۔ان لوگوں کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ فرماتے ہیں۔حضرت عکاشہ بن محصن الاسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے دھاری دار چادر اٹھا رکھی تھی۔عرض کیا یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کردے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا اللہ!ان کو ان لوگوں میں کردے پھر ایک انصاری نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عکاشہ تم سے سبقت کر گئے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؛جلد١ص١٩٧؛حدیث نمبر٤٣٠)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ»، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 430

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں پر مشتمل ایک گروہ جنت میں داخل ہوگا جو چاندکی صورت میں ہوں گے۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؛جلد١ص١٩٨؛حدیث نمبر٤٣١)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا زُمْرَةٌ وَاحِدَةٌ، مِنْهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 431

حضرت عمران سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میری امت میں سے ستر ہزار افراد کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!وہ کون لوگ ہیں۔آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو(علاج کے لیے بلاضرورت)داغ نہیں لگاتے اور نہ ہی دم کراتے ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔حضرت عکاشہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے آپ نے فرمایا تم ان میں سے ہو۔راوی فرماتے ہیں ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔اے اللہ کے نبی!اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے تو آپ نے فرمایا حضرت عکاشہ تم سے سبقت کر گئے۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؛جلد١ص١٩٨؛حدیث نمبر٤٣٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ»، قَالُوا: وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»، فَقَامَ عُكَّاشَةُ، فَقَالَ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتَ مِنْهُمْ»، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، ادْعُ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 432

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار افراد حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!وہ کون لوگ ہیں۔آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم نہیں کرواتے،فال نہیں لیتے اور داغ نہیں لگواتے بلکہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔(اس حدیث میں دم کرنے یا داغ وغیرہ کے ذریعے علاج کی ممانعت نہیں بلکہ یہ اس گروہ کا ذکر ہے جو توکل کے اعلٰی درجہ پر فائز ہیں ورنہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بیماریوں کے دم خود سکھائے ہیں نیز اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوائی وغیرہ کو سبب مانتے ہیں شفا دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے لہذا اس عقیدے کے ساتھ علاج جائز ہے۔)(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؛جلد١ص١٩٨؛حدیث نمبر٤٣٣)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ»، قَالُوا: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 433

حضرت سہل بن سعد سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار افراد یا(فرمایا)سات لاکھ،ابو حازم راوی کو معلوم نہیں کہ ان دونوں میں سے کون سی تعداد بیان فرمائی۔وہ سب ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل ہوں گے۔ان میں سے پہلا اس وقت تک داخل نہیں ہوگا۔جب تک آخری داخل نہ ہو جائے گا۔وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؛جلد١ص١٩٨؛حدیث نمبر ٤٣٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا، أَوْ سَبْعُمِائَةِ أَلْفٍ - لَا يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيَّهُمَا قَالَ - مُتَمَاسِكُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، لَا يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ آخِرُهُمْ، وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 434

حضرت حصین بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔آپ نے فرمایا تم سے کس نے وہ ستارہ دیکھا ہے جو گزشتہ رات ٹوٹا ہے(حضرت حصین فرماتے ہیں)میں نے کہا میں نے دیکھا ہے۔پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا لیکن مجھے ڈسا گیا(بچھو نے ڈسا)انہوں نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا؟ عرض کیا میں نے دم کروایا فرمایا تم نے ایسا کس بنیاد پر کیا۔عرض کیا ایک حدیث کی بنیاد پر جو حضرت شعبی نے ہم سے بیان کی۔فرمایا حضرت شعبی نے تم سے کیا بیان کیا؟میں نے کہا انہوں نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا نظر لگنے اور بچھو کے ڈسنے کے علاوہ کسی چیز میں دم(زیادہ)معبد نہیں۔حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔جس نے جو کچھ سن کر اس پر عمل کیا۔اس نے اچھا کیا لیکن ہم سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔آپ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں تو میں نے کسی نبی کو یوں دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔کسی نبی کے ساتھ ایک یا دو مرد ہیں اور کسی نبی کے ساتھ ایک بھی نہیں کہ اچانک میرے لئے ایک جم غفیر ظاہر کیا گیا۔میں نے خیال کیا کہ یہ میری امت ہے تو مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور انکی قوم ہے آپ دوسروں افق کی طرف دیکھیں۔میں نے دیکھا تو بہت بڑا اجتماع تھا۔مجھے پھر کہا گیا کہ افق کی طرف دیکھیں تو میں نے ایک عظیم ہجوم دیکھا۔مجھے کہا گیا کہ یہ آپکی امت ہے اور انکے ساتھ ستر ہزار افراد ہیں جو کسی حساب وعذاب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر خانہ اقدس میں تشریف لے گئے تو صحابہ کرام نے ان لوگوں کے بارے میں غوروخوض شروع کردیاجو کسی حساب وکتاب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔تو ان میں سے بعض نے کہا شاید یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضور علیہ السلام کی صحابیت اختیار کی اور بعض نے کہا شاید یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔صحابہ کرام نے مختلف توجیہات ذکر کیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔آپ نے فرمایا تم کس بات میں غور کر رہے تھے؟انہوں نے بتایا تو آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم نہیں کرواتے اور نہ بدشگونی لیتے ہیں اور یہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔حضرت عکاشہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔آپ نے فرمایا تم بھی ان میں سے ہو۔ایک اور شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا کہ آپ دعا فرمائیں۔اللہ تعالی مجھے ان میں سے کردے۔آپ نے فرمایا حضرت عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؛جلد١ص١٩٩؛حدیث نمبر٤٣٥)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ قُلْتُ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ، قَالَ: فَمَاذَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قُلْتُ: حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ فَقَالَ: وَمَا حَدَّثَكُمُ الشَّعْبِيُّ؟ قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ، أَوْ حُمَةٍ، فَقَالَ: قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ، وَلَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي، فَقِيلَ لِي: هَذَا مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْمُهُ، وَلَكِنْ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ "، ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللهِ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ؟» فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ: " ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «أَنْتَ مِنْهُمْ؟» ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»،

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 435

ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٤٣٥کی مثل مروی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں پھر حدیث نمبر٤٣٥کی مثل ذکر کیا اور حدیث کا پہلا حصہ ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؛جلد١ص٢٠٠؛حدیث نمبر٤٣٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ»، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 436

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتیوں کا چوتھا حصہ ہو۔فرماتے ہیں ہم نے نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو؟فرماتے ہیں میں نے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی۔پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہوگےاور میں عنقریب تمہیں اس بارے میں بتاؤں گا۔کفار کے مقابلے میں مسلمان کی تعداد ایسے ہے جیسا سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال ہو یا سفید بیل کی کھال میں ایک سیاہ بال ہو۔ (مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ كَوْنِ هَذِهِ الْأُمَّةِ نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛یہ امت اہل جنت کا نصف ہوگی۔جلد١ص٢٠٠؛حدیث نمبر٤٣٧)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْكُفَّارِ إِلَّا كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ، أَوْ كَشَعْرَةٍ سَوْدَاءَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 437

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم چالیس کے قریب افراد ایک خیمے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو آپ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ تم تمام جنتیوں کا چوتھائی حصہ ہو؟ہم نے عرض کیا جی ہاں فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ تمام اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو؟ہم نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے۔مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہوگے وہ اس طرح کہ جنت میں صرف مسلمان جائیں گے اور مشرکین میں تمہاری تعداد اس قدر ہے جس قدر سیاہ بیل کی جلد میں سفید بال یا(فرمایا راوی کو شک ہے)سرخ بیل کے چمڑے میں سیاہ بال ہوتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ كَوْنِ هَذِهِ الْأُمَّةِ نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جلد١ص٢٠٠؛حدیث نمبر٤٣٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا، فَقَالَ: «أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ: «أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 438

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو آپ نے چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے سے ٹیک لگائی۔پھر فرمایا،سنو!جنت میں صرف مسلمان جائیں گے یااللہ!کیا میں نے(تیرا پیغام)پہنچا دیا یا اللہ تو گواہ رہنا،(پھر فرمایا)کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو؟میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!فرمایا کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم تمام اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!آپ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم تمام جنتیوں کا نصف ہوگے تم دوسری امتوں کے مقابلے اس قدر ہو جس قدر سفید بیل کے سیاہ بال یا سیاہ بیل کے سفید بال ہوتے ہیں۔(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو خوشخبری دی اور شروع میں نصف امت کا ذکر اس لئے نہیں فرمایا کہ اس سے صحابہ کرام کو زیادہ خوشی ہوئی کیوں کہ جب نعمت تدریجاعطاہوتو زیادہ مسرت ہوتی ہے۔یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت وبرکت ہے جس سے امت مسلمہ کو فائدہ حاصل ہورہا ہے اور آپ کے طفیل میں اس امت کی کثرت جنتی قرار پائی)(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ كَوْنِ هَذِهِ الْأُمَّةِ نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جلد١ص٢٠١؛حدیث نمبر٤٣٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةِ أَدَمٍ، فَقَالَ: «أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللهُمَّ اشْهَدْ، أَتُحِبُّونَ أَنَّكُمْ رُبُعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» فَقُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، مَا أَنْتُمْ فِي سِوَاكُمْ مِنَ الْأُمَمِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 439

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماۓگا اے آدم علیہ السلام!تو وہ عرض کریں گے میں حاضر ہوں اور تمام بھلائی تیرے قبضۂ قدرت میں ہے۔اللہ تعالی فرمائے گاجہنمیوں کی جماعت کو نکالو آپ پوچھیں گے جہنمیوں کی جماعت کتنی ہے؟اللہ تعالیٰ فرماۓگا ہزار میں سے ننانوے افراد،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہی وقت ہوگا جب بچے بوڑھے ہوجائیں گےاور حمل والی کا حمل ساقط ہوجائے گا اور تم لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے۔یہ بات صحابہ کرام پر دشوار ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!پھر ہم میں سے کون جنتی ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار اور تم میں سے ایک شخص ہوگا۔راوی فرماتے ہیں۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہوگے اس پر ہم نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور تکبیر بیان کی۔پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہوگے تو ہم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور تکبیر کہی۔پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔مجھے امید ہے کہ تم تمام جنتیوں کا نصف ہوگے باقی امتوں میں تمہاری مثال اس طرح ہے جیسے سیاہ بیل کے چمڑے میں سفید بال گدھے کی ٹانگ میں ایک نشان ہو۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ قَوْلِهِ يَقُولُ اللهُ لِآدَمَ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسَعَةٍ وَتِسْعِينَ؛جلد١ص٢٠١؛حدیث نمبر٤٤٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، قَالَ يَقُولُ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ: فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِيدٌ " قَالَ: فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: «أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا، وَمِنْكُمْ رَجُلٌ» قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَحَمِدْنَا اللهَ وَكَبَّرْنَا. ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَحَمِدْنَا اللهَ وَكَبَّرْنَا. ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ»

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 440

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٤٠کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ تم اس دن دوسرے لوگوں کی نسبت اس طرح ہوگے جس طرح سیاہ بیل میں سفید بال یا سفید بیل میں سیاہ بال ہوتے ہیں اس میں گدھے کی ٹانگ میں نشان کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ قَوْلِهِ يَقُولُ اللهُ لِآدَمَ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسَعَةٍ وَتِسْعِينَ؛جلد١ص ٢٠٢؛حدیث نمبر ٤٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ وَلَمْ يَذْكُرَا أَوِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ

Muslim Shareef, Kitabul Iman, Hadees No. 441

Muslim Shareef : Kitabul Iman

|

Muslim Shareef : کتاب الایمان

|

•