
کتاب:انبیاء کی احادیث کا بیان۔ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی ذریت کا بیان۔ صلصال کا معنی ایسا گارا ہے:جس میں ریت ملی ہو اور وہ اس طرح بجنے لگے جس طرح ٹھیکرا بجتا ہے۔اور صلصال کا لفظ صل سے نکلا ہے۔کہا جاتا ہے اس کا معنی بدبودار ہے۔جیسے صر صر ۔صر ۔سے نکلا ہے ۔دروازہ بند کرتے وقت صر الباب کہتے ہیں۔جب دروازہ بند کرنے سے آواز نکلے۔جیسے کبکبتہ ،کب، سے نکلا ہے۔اور الاعراف میں مذکور ہے:فَمَرَّتْ بِهِ، اس کا معنی ہے وہ چلتی پھرتی رہی اور اس نے مدت حمل پوری کی۔اور أَنْ لَا تَسْجُدَ(الأعراف) کا معنی ہے۔تجھ کو سجدہ کرنے سے۔ باب؛ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور یاد کیجیے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا:بے شک میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔(البقرہ ٣٠)اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ میں لما کا معنی الا ہے۔یعنی مگر اس میں کوئی محافظ ہے۔اور فِي كَبَدٍ میں کبد کا معنی تخلیق کی شدت ہے۔اور رِيَاشًا کامعنی ہے مال۔دوسروں نے کہا:الرِّيَاحُ اور الرِّيشُ واحد ہے۔اور سے مراد انسان کا ظاہری لباس ہے۔اور مَا تُمْنُونَ کا معنی ہے:جو تم عورتوں کے رحم میں نطفہ ڈالتے ہو۔اور مجاہد نے کہا:وہ اس کو لوٹانے پر قادر ہے یعنی نطفہ کو آلہ تناسل کے سوراخ میں لوٹانے پر قادر ہے۔اور چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ جوڑا ہے آسمان جوڑا ہے اور فرد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔أَحْسَنِ خَلْقٍ کا معنی ہے:سب حسین تخلیق میں پیدا کیا۔أَسْفَلَ سَافِلِينَ کا معنی ہے:سب نیچوں سے زیادہ نیچے سوائے مومنین کے۔اور خُسْرٍ کا معنی ہے:گمراہی پھر اس ایمان والوں کو مستثنیٰ فرمایا۔اور لَازِبٍ کا معنی ہے لازم ۔اور نُنْشِئَكُمْ کا معنی ہے:ہم جس طرح چاہیں تمہاری صورت بنائے۔اور نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ کا معنی ہے:ہم آپ کے حمد کے ساتھ آپ کی تعظیم کرتے ہیں۔اور ابو العالیہ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا:پس آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات حاصل کر لیے۔البقرہ ٣٧،وہ کلمات یہ ہیں:رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا۔اے ہمارے رب! ہم نے اپنے جانوں پر ظلم کیا۔اور فَأَزَلَّهُمَا کا معنی ہے:پس ان دونوں کا لغزش میں مبتلا کردیا۔اور يَتَسَنَّهْ کا معنی ہے:متغیر ہونا۔آسن کا معنی ہے متغیر۔اور مسنون کا معنی بھی ہے متغیر۔اور حَمَأٍ جو ہے وہ حَمْأَةٍ کی جمع ہے۔اور اس کا معنی ہے سڑی ہوئی مٹی۔اور يَخْصِفَانِ کا معنی ہے:وہ دونوں چپکانے لگے یعنی حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام جنت کے پتے ایک دوسرے پر رکھ کر چپکانے لگے۔اور سَوْآتُهُمَا کا لفظ ان کی شرم گاہوں سے کنایہ ہے۔اور وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ میں حین کا معنی ہے:اب سے لیکر قیامت تک۔اور حین عرب کے نزدیک ایک گھنٹہ سے لیکر غیر متناہی وقت کے لیے ہے۔اور قَبِيلُهُ سے مراد شیطان کا وہ گروہ ہے جس میں وہ خود بھی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کو ساٹھ ہاتھ لمبا بنایا پھر فرمایا کہ جا اور ان ملائکہ کو سلام کر، دیکھنا کن لفظوں میں وہ تمہارے سلام کا جواب دیتے ہیں کیوں کہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا طریقہ سلام ہوگا۔ آدم (علیہ السلام) (گئے اور) کہا، السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے ورحمۃ اللہ کا جملہ بڑھا دیا، پس جو کوئی بھی جنت میں داخل ہوگا وہ آدم (علیہ السلام) کی شکل اور قامت پر داخل ہوگا، آدم (علیہ السلام) کے بعد انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الأنبياء، بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِهِ،حدیث نمبر ٣٣٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ان کی صورتیں ایسی روشن ہوں گی جیسے چودھویں کا چاند روشن ہوتا ہے، پھر جو لوگ اس کے بعد داخل ہوں گے وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے۔ نہ تو ان لوگوں کو پیشاب کی ضرورت ہوگی نہ پاخانہ کی، نہ وہ تھوکیں گے نہ ناک سے آلائش نکالیں گے۔ ان کے کنگھے سونے کے ہوں گے اور ان کا پسینہ مشک کی طرح ہوگا۔ ان کی انگیٹھیوں میں خوشبودار عود جلتا ہوگا، یہ نہایت پاکیزہ خوشبودار عود ہوگا۔ ان کی بیویاں بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی۔ سب کی صورتیں ایک ہوں گی۔ یعنی اپنے والد آدم (علیہ السلام) کے قد و قامت پر ساٹھ ساٹھ ہاتھ اونچے ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء، بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِه،حدیث نمبر ٣٣٢٧)
زینب بنت ابی سلمہ نے نے بیان کیا کہ ان سے (ام المؤمنین) حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا، تو کیا اگر عورت کو احتلام ہو تو اس پر بھی غسل ہوگا؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ہاں! بشرطیکہ وہ تری دیکھ لے۔ حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو اس بات پر ہنسی آگئی اور فرمانے لگیں، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا (ہاں بالکل عورت کو احتلام ہوتا اگر ایسا نہیں ہے)تو پھر بچے میں(ماں کی)مشابہت کہاں سے آتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء، بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِهِ،حدیث نمبر ٣٣٢٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کی خبر ملی تو وہ آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھوں گا۔ جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ وہ کون سا کھانا ہے جو سب سے پہلے جنتیوں کو کھانے کے لیے دیا جائے گا؟ اور کس چیز کی وجہ سے بچہ اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے ابھی ابھی مجھے آ کر اس کی خبر دی ہے۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ملائکہ میں سے وہی تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کی سب سے پہلی علامت ایک آگ کی صورت میں ظاہر ہوگی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی، سب سے پہلا کھانا جو اہل جنت کی دعوت کے لیے پیش کیا جائے گا، وہ مچھلی کی کلیجی پر جو ٹکڑا ٹکا رہتا ہے وہ ہوگا اور بچے کی مشابہت کا جہاں تک تعلق ہے تو جب مرد عورت کے قریب جاتا ہے اس وقت اگر مرد کی منی پہل کر جاتی ہے تو بچہ اسی کی شکل و صورت پر ہوتا ہے۔ اگر عورت کی منی پہل کر جاتی ہے تو پھر بچہ عورت کی شکل و صورت پر ہوتا ہے۔ (یہ سن کر)حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بول اٹھے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہود انتہا کی جھوٹی قوم ہے۔ اگر آپ کے دریافت کرنے سے پہلے میرے اسلام قبول کرنے کے بارے میں انہیں علم ہوگیا تو نبی کریم ﷺ کے سامنے مجھ پر ہر طرح کی تہمتیں دھرنی شروع کردیں گے۔ چناں چہ کچھ یہودی آئے اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ گھر کے اندر چھپ کر بیٹھ گئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا تم لوگوں میں عبداللہ بن سلام کون صاحب ہیں؟ سارے یہودی کہنے لگے وہ ہم میں سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں۔ ہم میں سب سے زیادہ بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے صاحب زادے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا، اگر عبداللہ مسلمان ہوجائیں تو پھر تمہارا کیا خیال ہوگا؟ انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔ اتنے میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اب وہ سب ان کے متعلق کہنے لگے کہ ہم میں سب سے بدترین اور سب سے بدترین کا بیٹا ہے، وہیں وہ ان کی برائی کرنے لگے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء، بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِهِ،حدیث نمبر ٣٣٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا(عبدالرزاق کی) روایت کی طرح کہ اگر قوم بنی اسرائیل نہ ہوتی تو گوشت نہ سڑا کرتا اور اگر حواء علیہا السلام نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء، بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِهِ،حدیث نمبر ٣٣٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:عورتوں کے بارے میں میری وصیت کا ہمیشہ خیال رکھنا، کیوں کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اسے بالکل سیدھی کرنے کی کوشش کرے تو انجام کار توڑ کے رہے گا اور اگر اسے وہ یونہی چھوڑ دے گا تو پھر ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہ جائے گی۔ پس عورتوں کے بارے میں میری نصیحت مانو، عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِهِ،حدیث نمبر ٣٣٣١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا:اور آپ علیہ السلام سچوں کے سچے تھے کہ انسان کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں پہلے چالیس دن تک پوری کی جاتی ہے۔ پھر وہ اتنے ہی دنوں تک علقة یعنی غلیظ اور جامد خون کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں کے لیے مضغة(گوشت کا لوتھڑا)کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پھر(چوتھے چالیس دنوں میں)اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے۔ پس وہ فرشتہ اس کے عمل، اس کی مدت زندگی، روزی اور یہ کہ وہ نیک ہے یا بد، کو لکھ لیتا ہے۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پس انسان (زندگی بھر)دوزخیوں کے کام کرتا رہتا ہے۔ اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر سامنے آتی ہے اور وہ جنتیوں کے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں چلا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر سامنے آتی ہے اور وہ دوزخیوں کے کام شروع کردیتا ہے اور وہ دوزخ میں چلا جاتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِهِ،حدیث نمبر ٣٣٣٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم کے لیے ایک فرشتہ مقرر کردیا ہے وہ فرشتہ عرض کرتا ہے، اے رب! یہ نطفة ہے، اے رب یہ مضغة ہے۔ اے رب! یہ علقة ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتہ پوچھتا ہے اے رب! یہ مرد ہے یا اے رب! یہ عورت ہے، اے رب! یہ بد ہے یا نیک؟ اس کی روزی کیا ہے؟ اور مدت زندگی کتنی ہے؟ چناں چہ اسی کے مطابق ماں کے پیٹ ہی میں سب کچھ فرشتہ رکھ لیتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِهِ،حدیث نمبر ٣٣٣٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ (بروز قیامت)اس شخص سے پوچھے گا جسے دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب کیا گیا ہوگا۔ اگر دنیا میں تمہاری کوئی چیز ہوتی تو کیا تو اس عذاب سے نجات پانے کے لیے اسے بدلے میں دے سکتا تھا؟ وہ شخص کہے گا کہ جی ہاں! اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تو آدم کی پیٹھ میں تھا تو میں نے تجھ سے اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا (روز ازل میں)کہ میرا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانا، لیکن(جب تو دنیا میں آیا تو) اسی شرک کا عمل اختیار کیا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِهِ،حدیث نمبر ٣٣٣٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بھی کوئی انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے تو آدم (علیہ السلام) کے سب سے پہلے بیٹے (قابیل) کے نامہ اعمال میں بھی اس قتل کا گناہ لکھا جاتا ہے۔ اس لیے کہ قتل ناحق کی بنیاد سب سے پہلے اسی نے رکھی تھی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِهِ،حدیث نمبر ٣٣٣٥)
باب:روحیں جھنڈ کے جھنڈ لشکر ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا کہ :روحیں جھنڈ کے جھنڈ لشکر ہیں۔جو وہاں ایک دوسرے سے متعارف ہوتی ہیں ۔وہ یہاں ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں۔اور جو وہاں ایک دوسرے سے اجنبی ہوتی ہیں وہ یہاں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں ۔یحییٰ بن ایوب نے کہا:مجھے یحییٰ بن سعید نے اسی طرح حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ،حدیث نمبر ٣٣٣٦)
باب:اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:بے شک ہم نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔(سورۃ ہود آیت ٣٥) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا :بَادِئَ الرَّأْيِ کا معنی ہے:جو بات ہم پر ظاہر ہوئی۔اور أَقْلِعِي کا معنی ہے رک جا اور ٹہر جا۔اور وَفَارَ التَّنُّورُ کا معنی ہے۔پانی ابل پڑا۔اور عکرمہ نے کہا:(تنور کا معنی) زمین کا چہرا۔اور مجاہد نے کہا:الْجُودِيُّ جزیرہ میں ایک پہاڑ ہے۔اور دَأْبٌ کا معنی عادت کی مثل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:بے شک ہم نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ آپ اپنی قوم کو دردناک عذاب آنے سے پہلے ڈرائیں۔(نوح آیت ١)آخری آیت تک۔اور آپ ان پر نوح علیہ السلام کا قصہ بیان کیجئے کہ جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیتوں کے ساتھ میرا نصیحت کرنا تمہیں شاق گزرتا ہے تو یاد رکھو کہ میں نے صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا ہے۔ یہ آیت مسلمین تک پڑھی۔(سورۃ یونس آیت ٧١ تا ٧٢) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں خطبہ سنانے کھڑے ہوئے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی، اس کی شان کے مطابق ثنا بیان کی، پھر دجال کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ میں تمہیں دجال کے فتنے سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا۔ لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے بھی اپنی قوم کو نہیں بتائی تھی، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دجال کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : { وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ }۔حدیث نمبر ٣٣٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کیوں نہ میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات بتادوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو اب تک نہیں بتائی۔ وہ کانا ہوگا اور جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔ پس جسے وہ جنت کہے گا درحقیقت وہی دوزخ ہوگی اور میں تمہیں اس کے فتنے سے اسی طرح ڈراتا ہوں، جیسے نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } حدیث نمبر ٣٣٣٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا(حشر کے دن) حضرت نوح (علیہ السلام) بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا، کیا(میرا پیغام) تم نے پہنچا دیا تھا اپنی قوم کو ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) عرض کریں گے میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا تھا۔ اے رب العزت! اب اللہ تعالیٰ ان کی امت سے دریافت فرمائے گا، کیا(نوح (علیہ السلام) نے) تم تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ جواب دیں گے نہیں، ہمارے پاس تیرا کوئی نبی نہیں آیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نوح (علیہ السلام) سے دریافت فرمائے گا، اس کے لیے آپ کی طرف سے کوئی گواہی بھی دے سکتا ہے؟ وہ عرض کریں گے کہ محمد ﷺ اور ان کی امت (کے لوگ میرے گواہ ہیں) چناں چہ ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنی قوم تک پہنچایا تھا اور یہی مفہوم اللہ جل ذکرہ کے اس ارشاد کا ہے:وكذلک جعلناکم أمة وسطا لتکونوا شهداء على الناس:اے مسلمانو! اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ۔(البقرہ ١٤٣) اور وسط کے معنی بہترین کے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ،حدیث نمبر ٣٣٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے۔ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بکری کے دستی کا گوشت پیش کیا گیا جو نبی اکرم ﷺ کو بہت مرغوب تھا۔نبی اکرم ﷺ نے اس دستی کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا۔ تمہیں معلوم ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ(قیامت کے دن) تمام مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا؟ اس طرح کہ دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا۔ آواز دینے والے کی آواز ہر جگہ سنی جاسکے گی اور سورج بالکل قریب ہوجائے گا۔ ایک شخص اپنے قریب کے دوسرے شخص سے کہے گا، دیکھتے نہیں کہ سب لوگ کیسی پریشانی میں مبتلا ہیں؟ اور مصیبت کس حد تک پہنچ چکی ہے؟ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللہ پاک کی بارگاہ میں ہم سب کی شفاعت کے لیے جائے۔ کچھ لوگوں کا مشورہ ہوگا کہ دادا آدم (علیہ السلام) اس کے لیے مناسب ہیں۔ چناں چہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے بابا آدم علیہ السلام ! آپ انسانوں کے دادا ہیں۔ اللہ پاک نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا تھا، اپنی روح آپ کے اندر پھونکی تھی، فرشتوں کو حکم دیا تھا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تھا اور جنت میں آپ کو (پیدا کرنے کے بعد) ٹھہرایا تھا۔ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کردیں۔ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس درجہ الجھن اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ وہ فرمائیں گے کہ (گناہ گاروں پر) اللہ تعالیٰ آج اس درجہ غضبناک ہے کہ کبھی اتنا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا اور مجھے پہلے ہی درخت(جنت)کے کھانے سے منع کرچکا تھا لیکن میں اس فرمان کو بجا لانے میں کوتاہی کر گیا۔ آج تو مجھے اپنی ہی پڑی ہے(نفسی نفسی) تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں، نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ چناں چہ سب لوگ نوح (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے نوح (علیہ السلام)! آپ (آدم (علیہ السلام) کے بعد) روئے زمین پر سب سے پہلے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبد شکور کہہ کر پکارا ہے۔ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ آج ہم کیسی مصیبت و پریشانی میں مبتلا ہیں؟ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیجئیے۔ وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میرا رب آج اس درجہ غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی اس کے بعد اتنا غضبناک ہوگا۔ آج تو مجھے خود اپنی ہی فکر ہے۔ (نفسی نفسی) تم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جاؤ چناں چہ وہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں (ان کی شفاعت کے لیے)عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پھر آواز آئے گی، اے محمد! سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا کہ ساری حدیث میں یاد نہ رکھ سکا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ،حدیث نمبر ٣٣٤٠)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی:فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ۔تو ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا! (القمر ١٥) آپ نے عام قراءت کی مثل پڑھا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ،حدیث نمبر ٣٣٤١)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور بے شک الیاس ضرور اللہ کے پیغمبروں میں سے ہیں۔جب انہوں نے اپنے مخاطبین سے کہا:تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو۔کیا تم بعل کی عبادت کرتے ہو ۔اور سب سے بہترین پیدا کرنے والے کو چھوڑتے ہو۔اللہ کو جو تمہارے اور تمہارے باپ دادا کا بھی رب ہے۔تو انہوں نے ان کی تکذیب کی۔سو بے شک وہ ضرور عذاب میں حاضر کیے جائیں گے ۔سوائے اللہ کے برگزیدہ بندوں کے۔اور بعد میں آنے والوں میں ہم ان کو ذکر چھوڑا ۔(الصٰفٰت ١٢٣ تا ١٢٩)سلام ہو الیاس پر۔ہم نیک کاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔بے شک وہ ہمارے کامل ایمان والے بندوں میں سے ہیں۔(الصٰفٰت ١٣٠ تا ١٣٢)اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ذکر کیا جاتا ہے کہ بے شک حضرت الیاس ہی حضرت ادریس ہیں۔ باب:حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر۔ اور وہ حضرت نوح کے والد کے دادا ہیں۔اور ان کو حضرت نوح کا دادا کہا جاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور ہم نے انہیں بلند مقام ہر اٹھا لیا(مریم آیت ٥٧) حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے گھر کی چھت پر شگاف کیا گیا۔اور میں اس وقت مکہ میں تھا۔پس حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے۔پس انہوں نے میرے سینے میں شگاف کیا۔پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا پھر وہ سونے کا ایک تھال لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔پس اس تھال کو میرے سینے میں انڈیل دیا۔پھر میرے سینے کو منطبق کر دیا۔پھر مجھے آسمان کی برف معراج کرائی گئی۔پس جب وہ آسمان دنیا کی طرف آئے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے آسمان کے محافظ سے کہا:دروازہ کھولو! اس نے پوچھا! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا:یہ جبرئیل ہیں ۔اس نے پوچھا! تمہارے ساتھ کوئی ہے؟ انہوں نے کہا :میرے ساتھ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس نے پوچھا کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:ہاں! پس آسمان کا دروازہ کھول دیا گیا۔جب آسمان کے اوپر چڑھے تو وہاں ایک آدمی تھا۔ان کے دائیں طرف بھی لوگ جمع تھے اور بائیں طرف بھی لوگ جمع تھے۔جب وہ دائیں طرف کے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں ۔اور جب وہ بائیں طرف کے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو روتے ہیں۔پس انہوں نے کہا:نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید! میں نے کہا جبرئیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا:یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں ۔اور جو لوگوں کی جماعتیں ان کے دائیں اور بائیں جانب ہیں۔یہ ان کے اولاد کی روحیں ہیں۔پس ان میں سے دائیں جانب والے اہل جنت ہیں۔اور ان میں بائیں جانب والے اہل دوزخ ہیں۔پس جب وہ دائیں جانب والے کو دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں ۔اور جب وہ بائیں جانب والے کو دیکھتے ہیں تو روتے ہیں۔پھر حضرت جبریل مجھے لیکر اوپر چڑھے۔حتیٰ کہ دوسرے آسمان پر آئے پس اس کے محافظ سے کہا:دروازہ کھولو! اس کے محافظ نے بھی پہلے محافظ کی طرح بات کی۔پس دروازہ کھول دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آپ علیہ السلام نے آسمان میں حضرت آدم علیہ السلام حضرت ادریس علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت عیسٰی علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پایا اور یہ نہیں بتایا کہ ان کے کہاں کہاں ٹھکانے تھے۔سوائے اس کے انہوں نے یہ بتایا کہ آپ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا میں پایا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھٹے آسمان میں پایا۔اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ:جب حضرت جبریل علیہ السلام(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں) حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا کہ:نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید۔پس میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا یہ حضرت ادریس علیہ السلام ہیں۔پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا:نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید ہو! میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔پھر میں حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا:نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید ہو! تو میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں،پھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا:نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید ہو! میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ابو حیہ انصاری رضی اللہ عنہ دونوں کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پھر مجھے اوپر چڑھایا گیا حتیٰ کہ میں مقام مستوی پر پہنچا وہاں پر میں قلم کے چلنے کی آواز سن رہا تھا۔ اور ابن حزم رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :پھر مجھ پر اللہ تعالیٰ نے پچاس نمازیں فرض کردیں۔میں ان نمازوں کو لے کر لوٹا حتیٰ کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی امت پر کیا فرض کیا گیا؟ میں نے کہا :ان پر پچاس نمازیں فرض کردی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب کے پاس واپس جائییے۔پس بے شک آپ کی امت ان نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھے گی۔پس میں واپس گیا اور اپنے رب سے رجوع کیا، تو اس نے نمازوں کی آدھی مقدار کم کردی، میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا تو انہوں نے کہا آپ اپنے رب کی طرف( دوبارہ) واپس جائیں، آپ نے پھر اس کی مثل ذکر کیا۔پس اللہ تعالیٰ نے نمازوں کا ایک حصہ کم کر دیا۔پس میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف گیا اور ان کو خبر دی ۔پس انہوں نے کہا :آپ پھر اپنے رب کے پاس واپس جائیں، کیوں کہ آپ کی امت اتنے نمازوں کی طاقت نہیں رکھے گی ۔پس میں واپس گیا اور اپنے رب سے رجوع کیا۔تو (اور نمازیں کم کردی یہاں تک پانچ وقت کی نماز باقی رہی تب پھر)اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ عدد میں پانچ نمازیں ہیں(لیکن) اجر و ثواب میں یہ پچاس نمازوں کے برابر ہیں۔اور میرے قول میں تبدیلی نہیں کی جاتی ہے۔پس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا تو تو انہوں نے کہا آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں، تو میں نے کہا:اب مجھے اپنے رب سے حیا آتی ہے۔پھر میں گیا حتیٰ کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچا جس کو کئی رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا میں از خود نہیں جانتا کہ وہ کیسے رنگ تھے، پھر مجھے ان میں داخل کیا گیا۔تو اس میں موتیوں کی رسیاں تھیں۔اور اس کی مٹی مشک تھی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ ذِكْرِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا }،حدیث نمبر ٣٣٤٢)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی(ہم قبیلہ) ھود کو بھیجا۔انہوں نے فرمایا:اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو(الاعراف ٦٥، ھود ٥٠)اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور یاد کیجیے جب قوم عاد کے بھائی(ہم قبیلہ) نے اپنے مخاطبین کو احقاف(ریگستانی بستی) میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا،(یہ آیت یہاں تک پڑھی)ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔(الأحقاف ٢١ تا ٢٥)اس باب میں از عطا و سلیمان از حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی روایت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور رہے قوم عاد کے لوگ تو وہ ایک سخت گرجتی ہوئی نہایت تیز آندھی سے ہلاک کیے گئے، ابن عیینہ نے اس آیت کے لفظ،عاتیہ، کی تشریح میں کہا:وہ اپنے محافظ فرشتوں کے قابو میں نہ رہی جسے اللہ نے ان پر مسلط کر دیا تھا، سات راتوں اور آٹھ دن تک متواتر،( تو اے مخاطب) تو ان لوگوں کو ان (راتوں اور دنوں میں) اس طرح گرا ہوا(ان کی لاشوں کو) دیکھتا ہے۔گویا وہ کھجور کے گرے ہوئے درختوں کی جڑیں ہیں۔تو کیا ان میں سے کسی کو باقی دیکھتا ہے۔(الحاقہ ٦ تا ٨) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری صبا(مشرقی ہوا) سے مدد کی گئی اور قوم عاد کو دبور(مغربی ہوا) سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے(یمن سے)نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کردیا، اقرع بن حابس حنظلی ثم المجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید طائی بنی نبہان والے اور علقمہ بن علاثہ عامری بنو کلاب والے، اس پر قریش اور انصار کے لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ نے نجد کے بڑوں کو تو دیا لیکن ہمیں نظر انداز کردیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں صرف ان کے دل ملانے کے لیے انہیں دیتا ہوں (کیوں کہ ابھی حال ہی میں یہ لوگ مسلمان ہوئے ہیں)پھر ایک شخص سامنے آیا، اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، کلے پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی اٹھی ہوئی، ڈاڑھی بہت گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا۔ اس نے کہا اے محمد! اللہ سے ڈرو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے روئے زمین پر دیانت دار بنا کر بھیجا ہے۔ کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ اس شخص کی اس گستاخی پر ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے کہ یہ خالد بن ولید تھے، لیکن نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس سے روک دیا، پھر وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس شخص کی نسل سے یا (نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ)اس شخص کے بعد اسی کی قوم سے ایسے لوگ جھوٹے مسلمان پیدا ہوں گے، جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا (عذاب الٰہی سے)قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ }حدیث نمبر ٣٣٤٣،و حدیث نمبر ٣٣٤٤)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پڑھتے ہوئے سنا:فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ۔کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا۔(القمر ١٥) (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ۔بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ } حدیث نمبر ٣٣٤٥)
باب:یاجوج و ماجوج کا قصہ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور انہوں نے کہا:اے ذو القرنین! بے شک یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں (الکہف ٩٤) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اے نبی مکرم یہ لوگ آپ سے ذو القرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہیے کہ میں ابھی تم سے ان کا ذکر بیان کرتا ہوں ۔بے شک ہم نے انہیں زمین میں سلطنت عطا فرمائی اور ہم نے انہیں ہر چیز سے ساز و سامان عطا کر دیا۔تم میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ۔(الکہف ٨٣ تا ٩٦)الکہف ٩٦ میں زبر کا لفظ ہے اس کا واحد زبرۃ ہے اور اس کا معنی ہے ٹکڑے۔اور الکہف ٩٦ میں یہ الفاظ ہیں:حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ،حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کی تفسیر میں کہا ہے:دو پہاڑ۔؛ ور سدین کا معنی بھی ہے دو پہاڑ۔اور الکہف ٩٤ میں ہے خَرْجًا کا لفظ:اس کا معنی ہے اجر۔اور ذوالقرنین نے کہا:اس پر آگ دھکاؤ حتیٰ کہ جب اسے سرخ آگ کرو یا تو کہا:میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ جس کو میں اس پر انڈیل دوں۔(الکہف ٩٦)قِطْرًا کا معنی سیسہ ہے اور اس کو لوہا بھی کہا جاتا ہے۔اور ان کو پیتل بھی کہا جاتا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کی تفسیر تانبے کے ساتھ کی ہے۔ اور الکہف ٩٧ میں ہے:فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ۔یعنی یاجوج و ماجوج اس دیوار پر نہ چڑھ سکے یہ اطاع سے باب استفعال ہے اور بعض علماء نے کہا یہ استطاع، یستطیع سے بنا ہے اور اس کا معنی ہے وہ اس پر نہ چڑھ سکے۔اور اس دیوار میں سوراخ کر سکے، ذوالقرنین نے کہا :یہ میرے رب کی رحمت ہے جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اسے ریزہ ریزہ کر دے گا(الکہف ٩٨)دکاء کا معنی ہے زمین کے ساتھ چپکا دیا ۔جس اونٹنی کا کوہان نہ ہو اسے کہا جاتا ہے۔نَاقَةٌ دَكَّاءُ :اور الدَّكْدَاكُ مِنَ الْأَرْضِ اس مثال کے لیے بولتے ہیں جو زمین ہموار ہو کر سخت ہو گئی ہو اور فی نفسہ سخت نہ ہو۔اور انہوں نے کہا:میرے رب کا وعدہ سچا ہے:اور اس دن ہم بعض یاجوج و ماجوج کو چھوڑ دیں گے حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ ہو جائے۔(الکہف ٩٨ تا ٩٩)حتیٰ کہ جب یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلندی سے دوڑ پڑیں گے(الانبیا ٩٦)قتادہ نے کہا :حَدَبٌ کا معنی ٹیلا ہے۔ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا:میں نے اس دیوار کو دھاری دار چادر کی طرح دیکھا ہے۔آپ نے فرمایا واقعی تم نے اسے دیکھا ہے۔ حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا ان سے حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ ان سے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ ان کے یہاں تشریف لائے نبی کریم ﷺ کچھ گھبرائے ہوئے تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، ملک عرب میں اس برائی کی وجہ سے بربادی آجائے گی جس کے دن قریب آنے کو ہیں، آج یاجوج ماجوج نے دیوار میں اتنا سوراخ کردیا ہے پھر نبی کریم ﷺ نے انگوٹھے اور اس کے قریب کی انگلی سے حلقہ بنا کر بتلایا۔حضرت ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا ہم اس کے باوجود ہلاک کر دئیے جائیں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہوں گے؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب فسق و فجور بڑھ جائے گا (تو یقیناً بربادی ہوگی) ۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قِصَّةِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ،حدیث نمبر ٣٣٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے یاجوج ماجوج کی دیوار سے اتنا کھول دیا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے نوے کا عدد بنا کر بتلایا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا }حدیث نمبر ٣٣٤٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ(قیامت کے دن) فرمائے گا، اے آدم! آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں، مستعد ہوں، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی دست قدرت میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جہنم میں جانے والوں کو (لوگوں میں سے الگ)نکال لو۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے۔ اے اللہ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت (کی ہولناکی اور وحشت سے) بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اس وقت تم (خوف و دہشت سے) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو گے، حالاں کہ وہ بیہوش نہ ہوں گے۔ لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہوگا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! وہ ایک شخص ہم میں سے کون ہوگا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں بشارت ہو، وہ ایک آدمی تم میں سے ہوگا اور ایک ہزار دوزخی یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم (امت مسلمہ)تمام جنت والوں کے ایک تہائی ہو گے۔ پھر ہم نے اللہ اکبر کہا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت والوں کے آدھے ہو گے پھر ہم نے اللہ اکبر کہا، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ (محشر میں) تم لوگ تمام انسانوں کے مقابلے میں اتنے ہو گے جتنے کسی سفید بیل کے جسم پر ایک سیاہ بال، یا جتنے کسی سیاہ بیل کے جسم پر ایک سفید بال ہوتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا ،حدیث نمبر ٣٣٤٨)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنایا(النساء ١٢٥)اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:بے شک ابراهيم علیہ السلام بنفس نفیس فرمانبردار امت تھے(النحل ١٢٠)اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:بے شک ابراهيم علیہ السلام بہت نرم دل نہایت حلم والے تھے۔(التوبہ ١١٤)ابو میسرہ نے کہا:اواہ کا معنی حبشی زبان میں رحیم ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگ حشر میں ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بن ختنہ اٹھائے جاؤ گے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی:كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا کنا فاعلين:جس طرح ہم نے پہلے تخلیق کی ابتداء کی تھی اسی طرح ہم اس کا اعادہ کریں گے یہ ہمارا وعدہ ہے۔ہم اسے ضرور پورا کرنے والے ہیں(الانبیاء ١٠٤) اور انبیاء میں سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑا پہنایا جائے گا اور میرے اصحاب میں سے بعض کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو میں پکار اٹھوں گا کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں، میرے اصحاب! لیکن مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کے وصال کے بعد یہ لوگ ہمیشہ دین سے اپنی ایڑیوں پر پھرے رہے۔اس وقت میں بھی وہی جملہ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام)کہیں گے وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم: جب تک میں ان میں رہا ان کا نگہبان تھا(اور جب تو مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا)۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد الحکيم تک پڑھی(المائدہ ١١٧) (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ،حدیث نمبر ٣٣٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے (عرفی) باپ آذر سے قیامت کے دن جب ملیں گے تو ان کے (عرفی باپ کے) چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری مخالفت نہ کیجئے۔ وہ کہیں گے کہ آج میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا۔ابراہیم (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ اے رب! تو نے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہیں کرے گا۔ آج اس رسوائی سے بڑھ کر اور کون سی رسوائی ہوگی کہ میرا(عرفی) باپ تیری رحمت سے سب سے زیادہ دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے جنت کافروں پر حرام قرار دی ہے۔ پھر کہا جائے گا کہ اے ابراہیم! تمہارے قدموں کے نیچے کیا چیز ہے؟ وہ دیکھیں گے تو ایک ذبح کیا ہوا جانور خون میں لتھڑا ہوا وہاں پڑا ہوگا اور پھر اس کے پاؤں پکڑ کر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا }حدیث نمبر ٣٣٥٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مولیٰ کریب نے بیان کیا کہ ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو اس میں ابراہیم (علیہ السلام) اور مریم (علیہما السلام) کی تصویریں دیکھیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ قریش کو کیا ہوگیا؟ حالاں کہ انہیں معلوم ہے کہ فرشتے کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں رکھی ہوں، یہ ابراہیم (علیہ السلام) کی تصویر ہے اور وہ بھی پانسہ پھینکتے ہوئے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا،حدیث نمبر ٣٣٥١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جب بیت اللہ شریف میں تصویریں دیکھیں تو اندر اس وقت تک داخل نہ ہوئے جب تک وہ مٹا نہ دی گئیں اور نبی اکرم ﷺ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی تصویریں دیکھیں کہ ان کے ہاتھوں میں تیر (پانسے کے) تھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ ان پر بربادی لائے۔ واللہ ان حضرات نے کبھی تیر نہیں پھینکے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا،حدیث نمبر ٣٣٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہم آپ سے اس کے متعلق نہیں پوچھتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ (سب سے زیادہ شریف ہیں)صحابہ کرام نے کہا کہ ہم اس کے متعلق بھی نہیں پوچھتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اچھا عرب کے خاندانوں کے متعلق تم پوچھنا چاہتے ہو۔ سنو جو جاہلیت میں شریف تھے اسلام میں بھی وہ شریف ہیں جب کہ دین کی سمجھ انہیں آجائے۔ ابواسامہ اور معتمر نے عبیداللہ سے بیان کیا، ان سے سعید نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا،حدیث نمبر ٣٣٥٣)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: آج کی رات میرے پاس (خواب میں) دو فرشتے (جبرئیل و میکائیل علیہما السلام)آئے۔ پھر یہ دونوں فرشتے مجھے ساتھ لے کر ایک لمبے قد کے بزرگ کے پاس گئے، وہ اتنے لمبے تھے کہ ان کا سر میں نہیں دیکھ پاتا تھا اور یہ ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا }حدیث نمبر ٣٣٥٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ آپ کے سامنے لوگ دجال کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہوگا:کافر یا (یوں لکھا ہوا ہوگا)ک ف ر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ نبی کریم ﷺ سے میں نے یہ حدیث نہیں سنی تھی۔ البتہ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی کہ ابراہیم (علیہ السلام) (کی شکل و وضع معلوم کرنے)کے لیے تم اپنے صاحب کو دیکھ سکتے ہو اور موسیٰ (علیہ السلام) کا بدن گٹھا ہوا، گندم گوں، ایک سرخ اونٹ پر سوار تھے۔ جس کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی۔ جیسے میں انہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا }حدیث نمبر ٣٣٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مقام قدوم میں اسی ٨٠ سال کی عمر میں ختنہ کروایا۔ اور ابو الزناد نے خبر دی کہ القدوم بغیر تشدد کے ہے اس حدیث کی ایک دوسری روایت بھی موجود ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا }حدیث نمبر ٣٣٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابراہیم (علیہ السلام) نے توریہ تین مرتبہ کے سوا اور کبھی نہیں کیا۔(یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین مرتبہ ظاہری جھوٹ بولے تھے) (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا } حدیث نمبر ٣٣٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے تین مرتبہ(ظاہری)جھوٹ بولا تھا، دو ان میں سے خالص اللہ عزوجل کی رضا کے لیے تھے۔ ایک تو ان کا فرمانا (بطور ظاہری جھوٹ یہ تھا)کہ میں بیمار ہوں اور دوسرا ان کا یہ فرمانا کہ بلکہ یہ کام تو ان کے بڑے (بت) نے کیا ہے۔اور بیان کیا کہ ایک مرتبہ ابراہیم (علیہ السلام) اور سارہ (علیہا السلام) ایک ظالم بادشاہ کی حدود سلطنت سے گزر رہے تھے۔ بادشاہ کو خبر ملی کہ یہاں ایک شخص آیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ دنیا کی ایک خوبصورت ترین عورت ہے۔ بادشاہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنا آدمی بھیج کر انہیں بلوایا اور سارہ (علیہا السلام) کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہیں۔ پھر آپ سارہ (علیہا السلام) کے پاس آئے اور فرمایا کہ اے سارہ! یہاں میرے اور تمہارے سوا اور کوئی بھی مومن نہیں ہے اور اس بادشاہ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس سے کہہ دیا کہ تم میری(دینی اعتبار سے)بہن ہو۔ اس لیے اب تم کوئی ایسی بات نہ کہنا جس سے میں جھوٹا بنوں۔ پھر اس ظالم بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلوایا اور جب وہ اس کے پاس گئیں تو اس نے ان کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا لیکن فوراً ہی پکڑ لیا گیا۔ پھر وہ کہنے لگا کہ میرے لیے اللہ سے دعا کرو(کہ اس مصیبت سے نجات دے)میں اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ چناں چہ انہوں نے اللہ سے دعا کی اور وہ چھوڑ دیا گیا۔ لیکن پھر دوسری مرتبہ اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس مرتبہ بھی اسی طرح پکڑ لیا گیا، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت اور پھر کہنے لگا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کرو، میں اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔حضرت سارہ (علیہا السلام) نے دعا کی اور وہ چھوڑ دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے کسی خدمت گار کو بلا کر کہا کہ تم لوگ میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے ہو، یہ تو کوئی سرکش جن ہے (جاتے ہوئے) حضرت سارہ (علیہ السلام) کے لیے اس نے ہاجرہ (علیہا السلام) کو خدمت کے لیے دیا۔جب حضرت سارہ آئیں تو ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے ہاتھ کے اشارہ سے ان کا حال پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر یا (یہ کہا کہ)فاجر کے فریب کو اسی کے منہ پردے مارا اور ہاجرہ (علیہا السلام) کو خدمت کے لیے دیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے بني ماء السماء. (اے آسمانی پانی کی اولاد! یعنی اہل عرب) تمہاری والدہ یہی (ہاجرہ علیہا السلام) ہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا }حدیث نمبر ٣٣٥٨)
حضرت سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ انہیں حضرت ام شریک رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا تھا اور فرمایا کہ اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آگ پر پھونکا تھا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا }، حدیث نمبر ٣٣٥٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت اتری: الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم :جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملایا۔(الانعام ٨٢)تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم میں ایسا کون ہوگا جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہوگا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ واقعہ وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو۔ جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی۔ (میں ظلم سے مراد) شرک ہے کیا تم نے حضرت لقمان (علیہ السلام) کی اپنے بیٹے کو یہ نصیحت نہیں سنی کہ اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا، بیشک شرک بہت ہی بڑا ظلم ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا }حدیث نمبر ٣٣٦٠)
بَابٌ:يَزِفُّونَ کا معنی ہے دوڑ کر چلے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو ایک ہموار اور وسیع میدان میں جمع کرے گا، اس طرح کہ پکارنے والا سب کو اپنی بات سنا سکے گا اور دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا (کیوں کہ یہ میدان ہموار ہوگا، زمین کی طرح گول نہ ہوگا)اور لوگوں سے سورج بالکل قریب ہوجائے گا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے شفاعت کا ذکر کیا کہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ آپ روئے زمین پر اللہ کے نبی اور خلیل ہیں۔ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور میں شفاعت کیجئے، پھر انہیں اپنے(بظاہر) جھوٹ یاد آجائیں گے اور کہیں گے کہ آج تو مجھے اپنی ہی فکر ہے۔ تم لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم ﷺ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { يَزِفُّونَ } : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ،حدیث نمبر ٣٣٦١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ(حضرت ہاجرہ علیہا السلام)پر رحم کرے، اگر انہوں نے جلدی نہ کی ہوتی (اور زمزم کے پانی کے گرد منڈیر نہ بناتیں)تو آج وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ :حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ماں(حضرت ہاجرہ علیہا السلام) کو لے کر آئے۔اور وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلا رہی تھیں ان کے ساتھ ایک پرانی مشک تھی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس حدیث کو مرفوع بیان نہیں کیا، پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو اور ان کے بیتے اسماعیل علیہ السلام کو لے کر آئے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { يَزِفُّونَ } : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ،حدیث نمبر ٣٣٦٢،و حدیث نمبر ٣٣٦٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا:عورتوں میں کمر پٹہ باندھنے کا رواج حضرت اسماعیل(علیہ السلام) کی والدہ(حضرت ہاجرہ علیہا السلام) سے چلا ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے کمر پٹہ اس لیے باندھا تھا تاکہ حضرت سارہ (علیہا السلام) ان کا سراغ نہ پائیں(وہ جلد بھاگ جائیں)پھر انہیں اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ابراہیم (علیہ السلام)ساتھ لے کر مکہ میں آئے، اس وقت ابھی وہ اسماعیل (علیہ السلام) کو دودھ پلاتی تھیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دونوں کو کعبہ کے پاس ایک بڑے درخت کے پاس بٹھا دیا جو اس جگہ تھا جہاں اب زمزم ہے۔ مسجد کی بلند جانب میں۔ان دنوں مکہ میں کوئی انسان نہیں تھا۔ اس لیے وہاں پانی نہیں تھا۔حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان دونوں کو وہیں چھوڑ دیا اور ان کے لیے ایک چمڑے کے تھیلے میں کھجور اور ایک مشک میں پانی رکھ دیا۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) (اپنے گھر کے لیے) روانہ ہوئے۔ اس وقت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ان کے پیچھے پیچھے آئیں اور کہا کہ اے ابراہیم! اس خشک جنگل میں جہاں کوئی بھی آدمی اور کوئی بھی چیز موجود نہیں، آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کئی دفعہ اس بات کو دہرایا لیکن ابراہیم (علیہ السلام) ان کی طرف دیکھتے نہیں تھے۔ آخر حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہاں! اس پر حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) بول اٹھیں کہ پھر اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرے گا، وہ ہم کو ہلاک نہیں کرے گا۔ چناں چہ وہ واپس آگئیں اور ابراہیم (علیہ السلام) روانہ ہوگئے۔ جب وہ ثنیہ پہاڑی پر پہنچے جہاں سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے تو ادھر رخ کیا، جہاں اب کعبہ ہے(جہاں پر حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو چھوڑ کر آئے تھے)پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی کہ اے ہمارے رب!بے شک میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایسی وادی میں ٹھہرایا ہے جو بنجر (بے آباد) تیرے حرمت والے گھر کے پاس۔(سورۃ ابراہیم) یہ دعا انہوں نے يشکرون تک پڑھی۔ادھر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ان کو دودھ پلانے لگیں اور خود پانی پینے لگیں۔ آخر جب مشک کا سارا پانی ختم ہوگیا تو وہ پیاسی رہنے لگیں اور ان کے لخت جگر بھی پیاسے رہنے لگے۔ وہ اب دیکھ رہی تھیں کہ سامنے ان کا بیٹا(پیاس کی شدت سے)پیچ و تاب کھا رہا ہے یا(کہا کہ) زمین پر لوٹ رہا ہے۔ وہ وہاں سے ہٹ گئیں کیوں کہ اس حالت میں بچے کو دیکھنے سے ان کا دل بےچین ہوتا تھا۔ صفا پہاڑی وہاں سے نزدیک تر تھی۔ وہ (پانی کی تلاش میں)اس پر چڑھ گئیں اور وادی کی طرف رخ کر کے دیکھنے لگیں کہ کہیں کوئی انسان نظر آئے لیکن کوئی انسان نظر نہیں آیا، وہ صفا سے اتر گئیں اور جب وادی میں پہنچیں تو اپنا دامن اٹھا لیا(تاکہ دوڑتے وقت نہ الجھیں)اور کسی پریشان حال کی طرح دوڑنے لگیں پھر وادی سے نکل کر مروہ پہاڑی پر آئیں اور اس پر کھڑی ہو کر دیکھنے لگیں کہ کہیں کوئی انسان نظر آئے لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔ اس طرح انہوں نے سات چکر لگائے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا(صفا اور مروہ کے درمیان)لوگوں کے لیے دوڑنا اسی وجہ سے مشروع ہوا۔(ساتویں مرتبہ)جب وہ مروہ پر چڑھیں تو انہیں ایک آواز سنائی دی، انہوں نے کہا، خاموش! یہ خود اپنے ہی سے وہ کہہ رہی تھیں اور پھر آواز کی طرف انہوں نے کان لگا دئیے۔ آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی پھر انہوں نے کہا کہ تمہاری آواز میں نے سنی۔ اگر تم میری کوئی مدد کرسکتے ہو تو کرو۔ کیا دیکھتی ہیں کہ جہاں اب زمزم شریف (کا کنواں) ہے، وہیں ایک فرشتہ موجود ہے۔ فرشتے نے اپنی ایڑی سے زمین میں گڑھا کردیا، یا یہ کہا کہ اپنے بازو سے، جس سے وہاں پانی ابل آیا۔حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے اسے حوض کی شکل میں بنادیا اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کردیا(تاکہ پانی بہنے نہ پائے)اور چلو سے پانی اپنے مشکیزہ میں ڈالنے لگیں۔ جب وہ بھر چکیں تو وہاں سے چشمہ پھر ابل پڑا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ! ام اسماعیل پر رحم کرے، اگر زمزم شریف کو انہوں نے یوں ہی چھوڑ دیا ہوتا یا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ چلو سے مشکیزہ نہ بھرا ہوتا تو زمزم ایک بہتے ہوئے چشمے کی صورت میں ہوتا۔ بیان کیا کہ پھر حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) نے خود بھی وہ پانی پیا اور اپنے بیٹے کو بھی پلایا۔ اس کے بعد ان سے فرشتے نے کہا کہ اپنے برباد ہونے کا خوف ہرگز نہ کرنا کیوں کہ یہیں اللہ کا گھر ہوگا،جسے یہ بچہ اور اس کا باپ تعمیر کریں گے اور اللہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا، اب جہاں بیت اللہ ہے، اس وقت وہاں ٹیلے کی طرح زمین اٹھی ہوئی تھی۔ سیلاب کا دھارا آتا اور اس کے دائیں بائیں سے زمین کاٹ کرلے جاتا۔ اس طرح وہاں کے دن و رات گزرتے رہے اور آخر ایک دن قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ وہاں سے گزرے یا (آپ نے یہ فرمایا کہ)قبیلہ جرہم کے چند گھرانے مقام کداء(مکہ کا بالائی حصہ)کے راستے سے گزر کر مکہ کے نشیبی علاقے میں انہوں نے پڑاؤ کیا(قریب ہی)انہوں نے منڈلاتے ہوئے کچھ پرندے دیکھے، ان لوگوں نے کہا کہ یہ پرندہ پانی پر منڈلا رہا ہے۔ حالاں کہ اس سے پہلے جب بھی ہم اس میدان سے گزرے ہیں یہاں پانی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آخر انہوں نے اپنا ایک آدمی یا دو آدمی بھیجے۔ وہاں انہوں نے واقعی پانی پایا چناں چہ انہوں نے واپس آ کر پانی کی اطلاع دی۔ اب یہ سب لوگ یہاں آئے۔ راوی نے بیان کیا کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ اس وقت پانی پر ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ کیا آپ ہمیں اپنے پڑوس میں پڑاؤ ڈالنے کی اجازت دیں گی۔حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) نے فرمایا کہ ہاں! لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں ہوگا۔ انہوں نے اسے تسلیم کرلیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اب ام اسماعیل کو پڑوسی مل گئے۔ انسانوں کی موجودگی ان کے لیے دلجمعی کا باعث ہوئی۔ ان لوگوں نے خود بھی یہاں قیام کیا اور اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلوا لیا اور وہ سب لوگ بھی یہیں آ کر ٹھہر گئے۔ اس طرح یہاں ان کے کئی گھرانے آ کر آباد ہوگئے اور بچہ(حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جرہم کے بچوں میں)جوان ہوا اور ان سے عربی سیکھ لی۔ جوانی میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ایسے خوبصورت تھے کہ آپ پر سب کی نظریں اٹھتی تھیں اور سب سے زیادہ آپ بھلے لگتے تھے۔ چناں چہ جرہم والوں نے آپ کی اپنے قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کردی۔ پھر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ(حضرت ہاجرہ علیہا السلام)کا انتقال ہوگیا)۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شادی کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہاں اپنے چھوڑے ہوئے خاندان کو دیکھنے آئے۔حضرت اسماعیل (علیہ السلام) گھر پر نہیں تھے۔ اس لیے آپ نے ان کی بیوی سے اسماعیل(علیہ السلام) کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ روزی کی تلاش میں کہیں گئے ہیں۔ پھر آپ نے ان سے ان کی معاش وغیرہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حالت اچھی نہیں ہے، بڑی تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے۔ اس طرح انہوں نے شکایت کی۔حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارا شوہر آئے تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔پھر جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) واپس تشریف لائے تو جیسے انہوں نے کچھ انسیت سی محسوس کی اور دریافت فرمایا، کیا کوئی صاحب یہاں آئے تھے؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں ایک بزرگ اس اس شکل کے یہاں آئے تھے اور آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے، میں نے انہیں بتایا(کہ آپ باہر گئے ہوئے ہیں)پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر اوقات کا کیا حال ہے؟ تو میں نے ان سے کہا کہ ہماری گزر اوقات بڑی تنگی سے ہوتی ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے دریافت کیا کہ انہوں نے تمہیں کچھ نصیحت بھی کی تھی؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں مجھ سے انہوں نے کہا تھا کہ آپ کو سلام کہہ دوں اور وہ یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ آپ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ بزرگ میرے والد تھے اور مجھے یہ حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں جدا کر دوں،(یعنی طلاق دے دوں) اب تم اپنے گھر جاسکتی ہو۔ چناں چہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے انہیں طلاق دے دی اور بنی جرہم ہی میں ایک دوسری عورت سے شادی کرلی۔ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا،حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے یہاں نہیں آئے۔ پھر جب کچھ دنوں کے بعد وہ تشریف لائے تو اس مرتبہ بھی اسماعیل (علیہ السلام) اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔ آپ ان کی بیوی کے یہاں گئے اور ان سے اسماعیل (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے لیے روزی تلاش کرنے گئے ہیں۔حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا تم لوگوں کا حال کیسا ہے؟ آپ نے ان کی گزر بسر اور دوسرے حالات کے متعلق پوچھا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا حال بہت اچھا ہے، بڑی فراخی ہے، انہوں نے اس کے لیے اللہ کی تعریف و ثنا کی۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کھاتے کیا ہو؟ انہوں نے بتایا کہ گوشت! آپ نے دریافت کیا فرمایا کہ پیتے کیا ہو؟ بتایا کہ پانی! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے لیے دعا کی، اے اللہ :ان کے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان دنوں انہیں اناج میسر نہیں تھا۔ اگر اناج بھی ان کے کھانے میں شامل ہوتا تو ضرور آپ اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ صرف گوشت اور پانی کی خوراک میں ہمیشہ گزارہ کرنا مکہ کے سوا اور کسی زمین پر بھی موافق نہیں پڑتا۔حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے (جاتے ہوئے) اس سے فرمایا کہ جب تمہارے شوہر واپس آجائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور ان سے کہہ دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ باقی رکھیں۔ جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تشریف لائے تو پوچھا کہ کیا یہاں کوئی آیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں ایک بزرگ، بڑی اچھی شکل و صورت کے آئے تھے۔ بیوی نے آنے والے بزرگ کی تعریف کی پھر انہوں نے مجھ سے آپ کے متعلق پوچھا (کہ کہاں ہیں؟ )اور میں نے بتادیا، پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر بسر کا کیا حال ہے۔ تو میں نے بتایا کہ ہم اچھی حالت میں ہیں۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے تمہیں کوئی وصیت بھی کی تھی؟ انہوں نے کہا جی ہاں! انہوں نے آپ کو سلام کہا تھا اور حکم دیا تھا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ بزرگ میرے والد تھے، چوکھٹ تم ہو اور آپ مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں۔ پھر جتنے دنوں اللہ تعالیٰ کو منظور رہا،(معاملہ ایسا چلتا رہا پھر اس) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے یہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ اسماعیل زمزم شریف کے قریب ایک بڑے درخت کے سائے میں (جہاں حضرت ابراہیم انہیں چھوڑ گئے تھے)اپنے تیر بنا رہے ہیں۔جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا تو ان کی طرف کھڑے ہو گے اور جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اور بیٹا اپنے باپ کے ساتھ محبت کرتا ہے وہی طرز عمل ان دونوں نے بھی ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کیا۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا،اسماعیل اللہ نے مجھے ایک حکم دیا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے عرض کیا، آپ کے رب نے جو حکم آپ کو دیا ہے آپ اسے ضرور پورا کریں۔ انہوں نے فرمایا اور تم بھی میری مدد کرسکو گے؟ عرض کیا کہ میں آپ کی مدد کروں گا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسی مقام پر اللہ کا ایک گھر بناؤں اور آپ نے ایک اور اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا کہ اس کے چاروں طرف! کہا کہ اس وقت ان دونوں نے بیت اللہ کی بنیاد پر عمارت کی تعمیر شروع کی۔حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر کرتے جاتے تھے۔ جب دیواریں بلند ہوگئیں تو حضرت اسماعیل علیہ السلام یہ پتھر لائے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اسے رکھ دیا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے لگے۔حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پتھر دیتے جاتے تھے اور یہ دونوں یہ دعا پڑھتے جاتے تھے:اے ہمارے رب!اس کو ہم سے قبول فرما بے شک تو بہت سننے والے اور بہت جاننے والا ہے۔(البقرہ ١٢٧)فرمایا کہ یہ دونوں تعمیر کرتے رہے اور بیت اللہ کے چاروں طرف گھوم گھوم کر یہ دعا پڑھتے رہے۔ اے ہمارے رب!اس کو ہم سے قبول فرما بے شک تو بہت سننے والے اور بہت جاننے والا ہے۔(البقرہ ١٢٧) (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { يَزِفُّونَ } : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ،حدیث نمبر ٣٣٦٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی (حضرت سارہ علیہا السلام) کے درمیان جو کچھ جھگڑا ہونا تھا جب وہ ہوا تو آپ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ (حضرت ہاجرہ علیہا السلام)کو لے کر نکلے، ان کے ساتھ ایک مشکیزہ تھا۔جس میں پانی تھا،حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ اسی مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اور اپنا دودھ اپنے بچے کو پلاتی رہیں۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ پہنچے تو انہیں ایک بڑے درخت کے پاس ٹھہرا کر اپنے گھر واپس جانے لگے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ان کے پیچھے پیچھے آئیں۔ جب مقام کداء پر پہنچے تو انہوں نے پیچھے سے آواز دی کہ اے ابراہیم! ہمیں کس پر چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پر!حضرت ہاجرہ (علیہاالسلام) نے کہا کہ پھر میں اللہ پر خوش ہوں۔ بیان کیا کہ پھر حضرت ہاجرہ علیہا السلام اپنی جگہ پر واپس چلی آئیں اور اسی مشکیزے سے پانی پیتی رہیں اور اپنا دودھ اپنے بچے کو پلاتی رہیں جب پانی ختم ہوگیا تو انہوں نے سوچا کہ ادھر ادھر دیکھنا چاہیے، ممکن ہے کہ کوئی آدمی نظر آجائے۔ راوی نے بیان کیا کہ یہی سوچ کر وہ صفا (پہاڑی) پر چڑھ گئیں اور چاروں طرف دیکھا کہ شاید کوئی نظر آجائے لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ پھر جب وادی میں اتریں تو دوڑ کر مروہ تک آئیں۔ اسی طرح کئی چکر لگائے، پھر سوچا کہ چلوں ذرا بچے کو تو دیکھوں کس حالت میں ہے۔ چناں چہ آئیں اور دیکھا تو بچہ اسی حالت میں تھا (جیسے تکلیف کے مارے) موت کے لیے تڑپ رہا ہو۔ یہ حال دیکھ کر ان سے صبر نہ ہوسکا، سوچا چلوں دوبارہ دیکھوں ممکن ہے کہ کوئی آدمی نظر آجائے، آئیں اور صفا پہاڑ پر چڑھ گئیں اور چاروں طرف نظر پھیر پھیر کر دیکھتی رہیں لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ اس طرح ہاجرہ (علیہا السلام) نے سات چکر لگائے پھر سوچا، چلوں دیکھوں بچہ کس حالت میں ہے؟ اسی وقت انہیں ایک آواز سنائی دی۔ انہوں نے (آواز سے مخاطب ہو کر) کہا کہ اگر تمہارے پاس کوئی بھلائی ہے تو میری مدد کرو۔ وہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) موجود تھے۔ انہوں نے اپنی ایڑی سے یوں کیا (اشارہ کر کے بتایا)اور زمین ایڑی سے کھودی۔ راوی نے بیان کیا کہ اس عمل کے نتیجے میں وہاں سے پانی پھوٹ پڑا۔ ام اسماعیل ڈریں۔ (کہیں یہ پانی غائب نہ ہوجائے) پھر وہ زمین کھودنے لگیں۔ راوی نے بیان کیا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: اگر وہ پانی کو یوں ہی رہنے دیتیں تو پانی زمین پر بہتا رہتا۔ غرض حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) زمزم کا پانی پیتی رہیں اور اپنا دودھ اپنے بچے کو پلاتی رہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ اس کے بعد قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ وادی کے نشیب سے گزرے۔ انہیں وہاں پرند نظر آئے۔ انہیں یہ کچھ خلاف عادت معلوم ہوا۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ پرندہ تو صرف پانی ہی پر (اس طرح) منڈلا سکتا ہے۔ ان لوگوں نے اپنا آدمی وہاں بھیجا۔ اس نے جا کر دیکھا تو واقعی وہاں پانی موجود تھا۔ اس نے آ کر اپنے قبیلے والوں کو خبر دی تو یہ سب لوگ یہاں آگئے اور کہا کہ اے ام اسماعیل! کیا ہمیں اپنے ساتھ رہنے کی یا (یہ کہا کہ)اپنے ساتھ قیام کرنے کی اجازت دیں گی؟ پھر ان کے بیٹے (حضرت اسماعیل علیہ السلام) بالغ ہوئے اور قبیلہ جرہم ہی کی ایک لڑکی سے ان کا نکاح ہوگیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خیال آیا اور انہوں نے اپنی اہلیہ (حضرت سارہ علیہا السلام) سے فرمایا کہ میں جن لوگوں کو (مکہ میں) چھوڑ آیا تھا ان کی خبر لینے جاؤں گا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مکہ تشریف لائے اور سلام کر کے دریافت فرمایا کہ اسماعیل کہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ شکار کے لیے گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ جب وہ آئیں تو ان سے کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔ جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) آئے تو ان کی بیوی نے واقعہ کی اطلاع دی۔حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہیں ہو(جسے بدلنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہہ گئے ہیں)اب تم اپنے گھر جاسکتی ہو۔ بیان کیا کہ پھر ایک مدت کے بعد دوبارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خیال ہوا اور انہوں نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ میں جن لوگوں کو چھوڑ آیا ہوں انہیں دیکھنے جاؤں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ حضرت اسماعیل کہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ شکار کے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ ٹھہرئیے اور کھانا تناول فرما لیجئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کھاتے پیتے کیا ہو؟ انہوں نے بتایا کہ گوشت کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔ آپ نے دعا کی کہ اے ہمارے رب! ان کے کھانے اور ان کے پانی میں برکت عطا فرما۔ بیان کیا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کی برکت اب تک چلی آرہی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر (تیسری بار)حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک مدت کے بعد خیال ہوا اور اپنی اہلیہ سے انہوں نے کہا کہ جن کو میں چھوڑ آیا ہوں ان کی خبر لینے مکہ جاؤں گا۔ چناں چہ آپ تشریف لائے اور اس مرتبہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی، جو زمزم کے پیچھے اپنے تیر ٹھیک کر رہے تھے۔حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا، اے اسماعیل! تمہارے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہاں اس کا ایک گھر بناؤں، بیٹے نے عرض کیا کہ پھر آپ اپنے رب کا حکم بجا لائیے۔ انہوں نے فرمایا اور مجھے یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم اس کام میں میری مدد کرو۔ عرض کیا کہ میں اس کے لیے تیار ہوں۔ یا اسی قسم کے اور الفاظ ادا کئے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر دونوں باپ بیٹے اٹھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دیواریں اٹھاتے تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) انہیں پتھر لا لا کردیتے تھے اور دونوں یہ دعا کرتے جاتے تھے۔ اے ہمارے رب! ہماری طرف سے یہ خدمت قبول کر۔ بیشک تو بڑا سننے والا،اور بہت جاننے والا ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر جب دیوار بلند ہوگئی اور بزرگ(حضرت ابراہیم علیہ السلام)کو پتھر (دیوار پر) رکھنے میں دشواری ہوئی تو وہ مقام(ابراہیم)کے پتھر پر کھڑے ہوئے اور اسماعیل (علیہ السلام) ان کو پتھر اٹھا اٹھا کردیتے جاتے اور ان حضرات کی زبان پر یہ دعا جاری تھی۔ اے ہمارے رب! ہماری طرف سے اسے قبول فرما لے۔ بیشک تو بڑا سننے والا بہت جاننے والا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { يَزِفُّونَ } : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ،حدیث نمبر ٣٣٦٥۔)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! سب سے پہلے روئے زمین پر کون سی مسجد بنی ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مسجد الحرام۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے عرض کیا اور اور اس کے بعد؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ (بیت المقدس)میں نے عرض کیا، ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا فاصلہ رہا ہے؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر فرمایا اب جہاں بھی تجھ کو نماز کا وقت ہوجائے وہاں نماز پڑھ لے۔ بڑی فضیلت نماز پڑھنا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { يَزِفُّونَ } : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ،حدیث نمبر ٣٣٦٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے احد پہاڑ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا اور میں مدینہ کے دو پتھریلے علاقے کے درمیانی علاقے کے حصے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں۔ اس حدیث کو حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { يَزِفُّونَ } : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ،حدیث نمبر ٣٣٦٧)
حضرت سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو حضرت ابن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تمہیں معلوم نہیں کہ جب تمہاری قوم نے کعبہ کی(نئی)تعمیر کی تو کعبہ شریف کی ابراہیمی بنیاد کو چھوڑ دیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! پھر آپ ابراہیمی بنیادوں کے مطابق دوبارہ اس کی تعمیر کیوں نہیں کردیتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا(تو میں ایسا ہی کرتا)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ جب کہ یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان دونوں رکنوں کے، جو حجر اسود کے قریب ہیں، بوسہ لینے کو صرف اسی وجہ سے چھوڑا تھا کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد پر نہیں بنا ہے(یہ دونوں رکن آگے ہٹ گئے ہیں) اسماعیل بن ابی اویس نے اس حدیث میں عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کہا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { يَزِفُّونَ } : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ،حدیث نمبر ٣٣٦٨)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته، كما صليت على آل إبراهيم، و بارک على محمد وأزواجه وذريته، كما بارکت على آل إبراهيم، إنک حميد مجيد. اے اللہ! رحمت نازل فرما سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی بیویوں پر اور آپ کی اولاد پر جیسا کہ تو نے رحمت نازل فرمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور اپنی برکت نازل فرما سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی بیویوں اور آپ کی اولاد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر۔ بیشک تو انتہائی خوبیوں والا اور عظمت والا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { يَزِفُّونَ } : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ،حدیث نمبر ٣٣٦٩)
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کیوں نہ تمہیں(حدیث کا) ایک تحفہ پہنچا دوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا۔ میں نے عرض کیا جی ہاں! مجھے یہ تحفہ ضرور عنایت فرمائیے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تھا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجا کریں؟(کیوں کہ) اللہ تعالیٰ نے سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں خود ہی سکھا دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: اللهم صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنک حميد مجيد، اللهم بارک على محمد،وعلى آل محمد،كما بارکت على إبراهيم،وعلى آل إبراهيم،إنک حميد مجيد. اے اللہ! اپنی رحمت نازل فرما سیدنا محمد ﷺ پر اور سیدنا محمد ﷺ کی آل پر جیسا کہ تو نے اپنی رحمت نازل فرمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور آل ابراہیم (علیہ السلام) پر۔ بیشک تو بڑی خوبیوں والا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! برکت نازل فرما سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر،جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور آل حضرت ابراہیم علیہ السلام پر۔ بیشک تو بڑی خوبیوں والا اور بڑی عظمت والا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { يَزِفُّونَ } : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ،حدیث نمبر ٣٣٧٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمہارے بزرگ دادا(حضرت ابراہیم علیہ السلام) بھی ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو دیتے تھے۔(وہ کلمات یہ ہیں)أعوذ بکلمات الله التامة من کل شيطان وهامة، ومن کل عين لأمة: میں اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے تم کو اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { يَزِفُّونَ } : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ،حدیث نمبر ٣٣٧١)
باب:اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور انہیں ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا حال سنائیے! جب وہ ان کے پاس آئے (الحجر ٥١ تا ٥٢)لاتوجل کا معنی ہے:آپ مت ڈریں! اور ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرے گا(یہاں تک پڑھیں) لیکن اس لیے تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔(البقرہ ٢٦٠) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں جب کہ انہوں نے کہا تھا کہ اے میرے رب! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:کیا آپ کو اس پر یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ‘لیکن اس لیے کہ تاکہ میرے دل اور زیادہ مطمئن ہوجائے۔اور اللہ حضرت لوط (علیہ السلام) پر رحم کر کہ وہ زبردست رکن (یعنی اللہ تعالیٰ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید خانے میں رہتا جتنی مدت تک یوسف (علیہ السلام) رہے تھے تو میں بلانے والے کے بات ضرور مان لیتا (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،۔بَابٌ : قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ : { وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ }. قَوْلُهُ : { وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ،حدیث نمبر ٣٣٧٢)
باب:اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور اے نبی مکرم آپ کتاب میں اسماعیل علیہ السلام کو یاد کیجیے بے شک وہ وعدہ کے سچے تھے(مریم ٥٤) حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کے چند لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے بنو اسماعیل تیر اندازی کرو کیونکہ تمہارے والد بھی تیر انداز تھے اور بے شک میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں پھر دو فریقوں میں سے ایک نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پوچھا:کیا وجہ ہے تم تیر اندازی کیوں نہیں کر رہے ہو انہوں نے کہا :یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! ہم کیسے تیر اندازی کریں!جب کہ آپ ان کے ساتھ ہیں آپ نے فرمایا؛ تم تیر اندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں ۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ }حدیث نمبر ٣٣٧٣)
باب:حضرت اسحاق بن ابراہیم علیہا السلام کا قصہ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادیث ہیں از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:کیا تم اس وقت حاضر تھے جب یعقوب علیہ السلام کی وفات ہوئی۔یہ آیت یہاں تک پڑھیں۔اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔(البقرہ ١٣٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:پھر سب سے زیادہ شریف یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ(یعقوب بن نبی اللہ(اسحاق) بن خلیل اللہ (ابراہیم علیہم السلام) تھے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:کیا تم لوگ عرب کے شرفاء کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جاہلیت میں جو لوگ شریف اور اچھے عادات و اخلاق کے تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف اور اچھے سمجھے جائیں گے جب کہ وہ دین کی سمجھ بھی حاصل کریں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ }، إِلَى قَوْلِهِ : { وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ }حدیث نمبر ٣٣٧٤)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور یاد کیجیے جب لوط علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:کیا تم دیکھتے ہوئے بے حیائی کے کام کرتے ہو،کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر نفسانی خواہش کے لیے مردوں کے پاس ضرور جاتے ہو۔بلکہ تم جاہل لوگ ہو۔تو ان کی قوم کا صرف یہ جواب تھا۔آل لوط کو اپنی بستی سے نکال دو ۔یہ بہت پاک باز بنتے ہیں سو ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دے دی سوائے ان کی بیوی کے. ہم نے مقدر فرما دیا تھا کہ وہ رہ جانے والوں میں سے ہیں ۔اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش کی تھی جن کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا تھا ۔(النحل ٥٤ تا٥٨) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) کی مغفرت فرمائے کہ وہ زبردست رکن (یعنی مضبوط کسی جائے پناہ )تمنا کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ ،حدیث نمبر ٣٣٧٥)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :پس جب آل لوط کے پاس فرشتے آئے تو لوط نے کہا:بے شک تم اجنبی لوگ ہو(الحجر ٦١ تا ٦٢)بِرُكْنِهِ(الزاریات ٣٩)اپنی قوت سے اپنے ساتھیوں کی قوت سے کیوں کہ اس کے فوجی افسر اس کی قوت تھے۔اور تَرْكَنُوا کا معنی ہے تم مائل ہوتے ہو۔پس ان کو اجنبی پایا اور نَكِرَهُمْ اور اسْتَنْكَرَهُمْ کا معنی واحد ہے۔اور يُهْرَعُونَ کا معنی ہے:وہ لوگ دوڑتے ہوئے آئے۔اور دَابِرٌ کا معنی ہے آخر یا انجام۔اور صَيْحَةٌ کا معنی ہے:ایسی چنگھاڑ جس کو سن کر لوگ ہلاک ہو جائے۔اور لِلْمُتَوَسِّمِينَ کا معنی ہے بصیرت والوں کے لیے۔بِسَبِيلٍ کا معنی ہے راستہ پر۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فهل من مدکر پڑھا تھا:یعنی کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ } { قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ،حدیث نمبر ٣٣٧٦)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا(الاعراف ٧٣،ہود ٦١)اور بے شک وادی حجر والوں نے رسولوں کو جھٹلادیا(الحجر ٨٠)حجر ثمود کی جگہ ہے، لیکن(سورۃ الانعام میں جو) حَرْثٌ حِجْرٌ کا لفظ ہے وہاں حجر کے معنی حرام اور ممنوع ہے۔اور ممنوع چیز حجر محجور ہے، اور حجر ہر اس عمارت کو بھی کہتے ہیں جس کو تم نے بنایا ہو۔اور جس زمین کو تم دیوار یا باڑ سے گھیر لو اس کو بھی حجر کہتے ہیں۔اسی اعتبار سے بیت اللہ کے حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں ۔یہ مَحْطُومٍ سے ماخوذ ہے جیسے قتیل مقتول سے ماخوذ ہے۔اور گھوڑوں کو بھی حجر کہا جاتا ہے اور عقل بھی حجر اور حجی کہتے ہیں ۔اور رہا حجرُ الیمامہ تو وہ ایک منزل ہے۔ حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا(خطبہ کے دوران)نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کا ذکر کیا جنہوں نے(حضرت صالح علیہ السلام کی) اونٹنی کو ذبح کردیا تھا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ۔اس اونٹی کے درپے جو شخص ہوا تھا۔وہ ظاہراً ایک بہت ہی باعزت آدمی(قیدار نامی)تھا ‘جیسے ہمارے زمانے میں ابوزمعہ(اسود بن مطلب) ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا }،حدیث نمبر ٣٣٧٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نےجب حجر (ثمود کی بستی)میں غزوہ تبوک کے لیے جاتے ہوئے پڑاؤ کیا تو نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم فرمایا کہ یہاں کے کنوؤں کا پانی نہ پینا اور نہ اپنے برتنوں میں ساتھ لینا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ ہم نے تو اس سے اپنا آٹا بھی گوندھ لیا ہے اور پانی اپنے برتنوں میں بھی رکھ لیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ گندھا ہوا آٹا پھینک دیا جائے اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ جس نے آٹا اس پانی سے گوندھ لیا ہو(وہ اسے پھینک دے) ۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا }حدیث نمبر ٣٣٧٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ثمود کی بستی حجر میں پڑاؤ کیا تو وہاں کے کنوؤں کا پانی اپنے برتنوں میں بھر لیا اور آٹا بھی اس پانی سے گوندھ لیا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ جو پانی انہوں نے اپنے برتنوں میں بھر لیا ہے اسے انڈیل دیں اور گوندھا ہوا آٹا جانوروں کو کھلا دیں۔اس کے بجائے نبی کریم ﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ اس کنویں سے پانی لیں جس سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا }حدیث نمبر ٣٣٧٩)
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ انہیں ان کے والد (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ )نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جب مقام حجر سے گزرے تو فرمایا:ان لوگوں کی بستی میں جنہوں نے ظلم کیا تھا نہ داخل ہو ‘ لیکن اس صورت میں کہ تم روتے ہوئے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر وہی عذاب آجائے جو ان پر آیا تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈال لی۔نبی اکرم ﷺ اس وقت کجاوے پر تشریف رکھتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا،حدیث نمبر ٣٣٨٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب نہ پکڑ لے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا }حدیث نمبر ٣٣٨١)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:کیا تم اس وقت حاضر تھے جب یعقوب علیہ السلام فوت ہوئے(البقرہ ١٣٣) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ حضرت يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ،ہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ ،حدیث نمبر ٣٣٨٢)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:بے شک یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصے میں پوچھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں(یوسف ٧) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ شریف آدمی کون ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:جو اللہ کا خوف زیادہ رکھتا ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ عرب کے خانوادوں کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو۔ دیکھو! لوگوں کی مثال کانوں کی سی ہے (کسی کان میں سے اچھا مال نکلتا ہے کسی میں سے برا)جو لوگ تم میں سے زمانہ جاہلیت میں شریف اور بہتر اخلاق کے تھے وہی اسلام کے بعد بھی اچھے اور شریف ہیں بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ }حدیث نمبر ٣٣٨٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (مرض الوصال میں)ان سے فرمایا ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کیا کہ وہ بہت نرم دل ہیں، آپ کی جگہ جب کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہوجائے گی۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں دوبارہ یہی حکم دیا۔ لیکن انہوں نے بھی دوبارہ یہی عذر بیان کیا ‘ شعبہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تم تو یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی عورتیں ہو۔ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو نماز پڑھائیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ }حدیث نمبر ٣٣٨٤)
ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جب بیمار پڑے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نہایت نرم دل انسان ہیں لیکن نبی کریم ﷺ نے دوبارہ یہی حکم فرمایا اور انہوں نے بھی وہی عذر دہرایا۔ آخر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان سے کہو نماز پڑھائیں۔ تم تو یوسف علیہ السلام کے زمانے کی عورتیں ہو۔ چناں چہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں امامت کی اور حسین بن علی جعفی نے زائدہ سے رجل رقيق کے الفاظ نقل کئے کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ }حدیث نمبر ٣٣٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی:اے اللہ! عياش بن أبي ربيعة کو نجات دے ۔اے اللہ! سلمة بن هشام کو نجات دے ۔ اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے ‘ اے اللہ تمام ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کو سخت گرفت میں پکڑ لے۔ اے اللہ! یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کی سی قحط سالی ان(ظالموں)پر مسلط فرما۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ }حدیث نمبر ٣٣٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست قلعہ کے پناہ کی تمنا کرتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رہتا جتنی یوسف (علیہ السلام) رہے تھے اور پھر میرے پاس(بادشاہ کا آدمی)بلانے کے لیے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ }حدیث نمبر ٣٣٨٧)
مسروق نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی والدہ حضرت ام رومان رضی اللہ تعالٰی عنہا سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بارے میں جو بہتان تراشا گیا تھا اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک انصاریہ عورت ہمارے یہاں آئی اور کہا کہ اللہ فلاں(مسطح بن اثاثہ)کو تباہ کر دے اور وہ اسے تباہ کر بھی چکا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں انہوں نے بتایا کہ اسی نے تو یہ جھوٹ مشہور کیا ہے۔ پھر انصاریہ عورت نے(حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر تہمت کا سارا)واقعہ بیان کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے (اپنی والدہ سے)پوچھا کہ کون سا واقعہ؟ تو ان کی والدہ نے انہیں واقعہ کی تفصیل بتائی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کہ کیا یہ قصہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ کو بھی معلوم ہوگیا ہے؟ ان کی والدہ نے بتایا کہ ہاں! یہ سنتے ہی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیہوش ہو کر گرپڑیں اور جب ہوش آیا تو جاڑے کے ساتھ بخار چڑھا ہوا تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ انہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ ایک بات ان سے ایسی کہی گئی تھی اور اسی کے صدمے سے ان کو بخار آگیا ہے۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اٹھ کر بیٹھ گئیں اور کہا اللہ کی قسم! اگر میں قسم کھاؤں جب بھی آپ لوگ میری بات نہیں مان سکتے اور اگر کوئی عذر بیان کروں تو اسے بھی تسلیم نہیں کرسکتے۔ بس میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں کی سی ہے (کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کی من گھڑت کہانی سن کر فرمایا تھا کہ) جو کچھ تم کہہ رہے ہو میں اس پر اللہ ہی کی مدد چاہتا ہوں۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ واپس تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کو جو کچھ منظور تھا وہ(براءت کی آیات) نازل فرمایا۔جب نبی کریم ﷺ نے اس کی خبر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو دی تو انہوں نے کہا کہ اس کے لیے میں صرف اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کسی اور کا نہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ،حدیث نمبر ٣٣٨٨)
عروہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے اس آیت کے متعلق پوچھا:حتى إذا استيأس الرسل وظنوا أنهم قد کذبوا (تشدید کے ساتھ) ہے یا کذبوا(بغیر تشدید کے۔یعنی ان کی تکذیب کی گئی یا ان سے جھوٹا وعدہ کیا گیا) یعنی:حتیٰ کہ جب رسول اپنی قوم کے ایمان سے نا امید ہونے لگے اور لوگوں نے گمان کر لیا کہ ان سے جھوٹا وعدہ کیا گیا ہے(یوسف ١١٠) تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا:بلکہ ان کی قوم نے ان کی تکذیب کی تھی۔تو میں نے کہا:اللہ کی قسم! ان رسولوں کو تو یہ یقین تھا کہ ان کی قوم نے ان کی تکذیب کی ہے۔اور ان کو اس کا گمان نہیں تھا۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا :اے عُرَيَّةُ! بیشک ان کو تو یقین تھا۔ میں نے کہا تو شاید اس آیت میں بغیر تشدید کے کذبوا ہوگا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا:معاذاللہ! اللہ کے رسول اپنے رب کے ساتھ ایسا گمان نہیں کرتے اور رہی یہ آیت!تو یہ لوگ رسولوں کے پیروکار تھے۔جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی تھی. اور ان پر مصائب کی مدت دراز ہو گئی۔اور مدد کے آنے میں تاخیر ہو گئی ۔حتیٰ کہ ان کی قوم کے جن لوگوں نے تکذیب کی تھی وہ مایوس ہو گئے۔۔اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ رسولوں کے پیروکاروں نے ان سے جھوٹ کہا تھا۔تو ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی مدد آگئی۔امام ابوعبداللہ (امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا کہ: استيأسوا، افتعلوا کے وزن پر ہے جو يئست منه سے نکلا ہے۔ اى من يوسف. (سورۃ یوسف کی آیت کا ایک جملہ ہے یعنی حضرت زلیخا یوسف (علیہ السلام) سے ناامید ہوگئی۔ ) لا تيأسوا من روح الله(سورۃ یوسف: 87) یعنی اللہ کی رحمت سے امید رکھو ناامید مت ہو۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ }،حدیث نمبر ٣٣٨٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ حضرت يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ ".ہیں ۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ }حدیث نمبر ٣٣٩٠)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور ایوب کو یاد کیجیے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے(انبیاء ٨٣)اور ارْكُضْ کا معنی ہے:ماریے۔اور يَرْكُضُونَ کا معنی ہے وہ اچھلتے کودتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب حضرت ایوب علیہ السلام برہنہ غسل کر رہے تھے تو ان پر ایک ٹڈی گر پڑی جو سونے کی تھی حضرت ایوب علیہ السلام اس کو اپنے کپڑے میں دونوں ہاتھوں سے جمع کرنے لگے تو ان کے رب نے ان کو ندا کی:اے ایوب! کیا میں نے آپ کو اس سے غنی نہیں کردیا جس کو آپ دیکھ رہے ہیں حضرت ایوب علیہ السلام نے عرض کیا:کیوں نہیں اے رب! لیکن میں تیری برکت سے مستغنی نہیں ہوں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ،حدیث نمبر ٣٣٩١)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اے رسول مکرم! آپ کتاب میں موسیٰ کو یاد کیجیے بے شک وہ چنے ہوئے تھے اور رسول نبی تھے، اور ہم نے ان کو طر کی دائیں جانب سے ندا فرمائی اور ہم نے انہیں اپنا راز دار بنانے کے لیے مقرب بنایا، اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون عطا فرمائے(مریم آیت ٥١ تا ٥٣)اور واحد تثنیہ اور جمع کے لیے نَجِيٌّ ہے، اور خَلَصُوا نَجِيًّا کا معنی ہے:وہ نکل کر مشورہ کرنے لگے، اور اس کی جمع أَنْجِيَةٌ بھی ہوتی ہے۔يَتَنَاجَوْنَ کا لفظ بھی اسی سے ماخوذ ہے۔ عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا پھر نبی کریم ﷺ (غار حراء سے) حضرت ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس لوٹ آئے تو نبی کریم ﷺ کا دل کپکپا رہا تھا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، وہ نصرانی مرد تھے اور انجیل کو عربی میں پڑھتے تھے۔ ورقہ بن نوفل نے پوچھا کہ آپ کیا دیکھتے ہیں؟ آپ نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہی ہیں وہ ناموس(فرشتہ ہے)جنہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس بھیجا تھا اور اگر میں تمہارے زمانے تک زندہ رہا تو میں تمہاری پوری مدد کروں گا۔ ناموس(فرشتہ)محرم راز کو کہتے ہیں جو ایسے راز سے بھی آگاہ ہو جو آدمی دوسروں سے چھپائے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بابٌ : وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَى إِنَّهُ كَانَ مُخْلِصًا وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا { وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا،حدیث نمبر ٣٣٩٢)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور کیا آپ کے پاس موسیٰ کی خبر آئی۔جب انہوں نے آگ کو دیکھا۔پاک میدان طویٰ میں،تک (طٰہ ٩ تا ١٢)اور آنَسْتُ کا معنی ہے:میں نے دیکھا۔بے شک میں نے آگ دیکھی ہے۔میں اس سے تمہارے پاس کوئی انگارہ لاؤں(طٰہ ١٠)الا یہ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:المقدس کا معنی ہے۔المبارک ہے۔طُوًى وادی کا نام ہے۔سِيرَتَهَا کا معنی ہے۔اپنی حالت پر۔النُّهَى کا معنی ہے۔بچانے والی چیز یعنی عقل۔بِمَلْكِنَا کا معنی ہے:ہم نے اپنے اختیار سے۔هَوَى کا معنی ہے:بدبخت ہوا۔فَارِغًا کا معنی ہے:حضرت موسیٰ کی ماں کا دل موسیٰ علیہ السلام کی یاد کے سوا ہر چیز سے خالی ہوا۔رِدْءًا کا معنی ہے:تاکہ وہ میری تصدیق کرے ۔ناسوس اس محرم راز کو کہتے ہیں جو اس راز پر مطلع ہو جس کو انسان دوسرے سے چھپائے۔يَبْطُشُ یہ لفظ يَبْطِشُ بھی پڑھا گیا ہے۔يَأْتَمِرُونَ کا معنی ہے:وہ مشورہ کر رہے ہیں۔الْجِذْوَةُ کا معنی ہے:جلتی ہوئی لکڑی کا موٹا ٹکڑا جس میں شعلہ نہ ہو۔سَنَشُدُّ کا معنی ہے:ہم عنقریب آپ کی مدد کریں گے۔تم جب تم کسی چیز کو سہارا دو تو گواکا تم نے اس کو بازو دیا۔اور دوسروں نے کہا:جب بھی کوئی شخص کسی حرف کو نہ بول سکے یا اس کو اس میں تردد ہو یا ہکلاہٹ ہو تو کہا جاتا ہے۔اس کی زبان میں گرہ ہے۔أَزْرِي کا معنی ہے میری پشت۔فَيُسْحِتَكُمْ کا معنی ہے:پس وہ تم کو ہلاک کر دے گا، الْمُثْلَى جو الْأَمْثَلِ کی تانیث ہے، وہ کہتے تھے، تمہارے اچھے طریقے کو عرب کہتے ہیں، اچھا طریقہ لو، اچھا حکم لو۔ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا کا معنی ہے:پھر تم اپنی صفیں بنا لو۔کہا جاتا ہے آج تو صف میں گیا تھا، یعنی جائے نماز پر گیا تھا جہاں نماز پڑھی جاتی ہے۔فَأَوْجَسَ کا معنی ہے:دل میں خوف رکھا۔خیفۃ اصل میں خوف تھا خاء کی کسرہ کی وجہ سے خوف کی واؤ یا سے بدل گئی ۔فِي جُذُوعِ النَّخْلِ کا معنی ہے:کھجور کے تنے کے اوپر ۔خَطْبُكَ کا معنی ہے:تمہارا حال۔مِسَاسَ چونا یہ مَاسَّهُ مِسَاسًا کا مصدر ہے۔لَنَنْسِفَنَّهُ کا معنی ہے:ہم اس کو دریا میں بہا دیں گے ۔الضَّحَاءُ کا معنی ہے:گرمی۔قُصِّيهِ کا معنی ہے:اس کے قدم کے نشان کے پیچھے جاؤ، اور کبھی اس کا معنی ہوتا ہے۔کلام سے قصہ بیان کرنا۔جیسے قرآن مجید میں ہے:ہم آپ کے سامنے قصہ بیان کرتے ہیں ۔عَنْ جُنُبٍ کا معنی ہے:دور سے۔عن جَنَابَةٍ اور عن اجْتِنَابٍ کا معنی واحد ہے:(یعنی:بُعد) مجاہد نے کہا:عَلَى قَدَرٍ۔کا معنی ہے:مقرر کردہ وقت۔ لَا تَنِيَا کا معنی ہے:تم دونوں کمزور نہ پڑنا۔يَبَسًا کا معنی ہے:خشک ۔مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ کا معنی ہے:وہ زیورات جو بنی اسرائیل نے آل فرعون سے عاریۃً لیے تھے ۔فَقَذَفْتُهَا کا معنی ہے:میں نے اس کو ڈول دیا ۔أَلْقَيْتُهَا کا معنی ہے:کوئی کام کیا۔پس موسیٰ علیہ السلام بھول گئے اور وہ یہ کہتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام نے رب کو پہچانے میں خطا کی وہ بچھڑا ان کی کسی بات کو جواب نہیں دے سکتا تھا ۔ حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس رات کے متعلق بیان کیا جس میں آپ کو معراج ہوا کہ جب آپ پانچویں آسمان پر تشریف لے گئے تو وہاں حضرت ہارون (علیہ السلام) سے ملے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہ حضرت ہارون (علیہ السلام) ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: خوش آمدید‘ صالح بھائی اور صالح نبی۔ اس حدیث کو قتادہ کے ساتھ ثابت بنانی اور عباد بن ابی علی نے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : { وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى،حدیث نمبر ٣٣٩٣)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور ایک مرد مؤمن نے فرعون والوں میں سے کہا جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا یہ آیت:جو حد سے گزرنے والا سخت جھوٹا ہے، تک ہے(المؤمن ٢٨) باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور کیا آپ کے پاس موسیٰ کی خبر آئی (طٰہ ٩)اور اللہ نے موسیٰ سے بہ کثرت کلام فرمایا(النساء ١٦٤) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس رات کی کیفیت بیان کی جس میں آپ علیہ السلام کو معراج ہوا کہ میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ ایک دبلے پتلے سیدھے بالوں والے آدمی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قبیلہ شنوہ میں سے ہوں اور میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی دیکھا ‘ وہ میانہ قد اور نہایت سرخ و سفید رنگ والے تھے۔ ایسے تروتازہ اور پاک و صاف کہ معلوم ہوتا تھا کہ ابھی غسل خانہ سے نکلے ہیں اور میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کی اولاد میں سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ پھر دو برتن میرے سامنے لائے گئے۔ ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ دونوں چیزوں میں سے آپ کا جو جی چاہے پیجئے۔ میں نے دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے پی گیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا (دودھ آدمی کی پیدائشی غذا ہے) اگر اس کے بجائے آپ نے شراب پی ہوتی تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى }، { وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا }حدیث نمبر ٣٣٩٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کسی شخص کو یوں نہ کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ‘نبی کریم ﷺ نے ان کا نام ان کے والد کی طرف منسوب کر کے لیا۔ اور نبی کریم ﷺ نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) گندم گوں اور دراز قد تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے قبیلہ شنوہ کے کوئی صاحب ہوں اور فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) گھنگریالے بال والے اور میانہ قد کے تھے اور نبی کریم ﷺ نے داروغہ جہنم مالک کا بھی ذکر فرمایا اور دجال کا بھی ذکر فرمایا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى }، { وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا }حدیث نمبر ٣٣٩٥،و حدیث نمبر ٣٣٩٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ایک دن یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں (یہودیوں) نے بتایا کہ یہ بڑی عظمت والا دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نجات دی تھی اور آل فرعون کو غرق کیا تھا۔ اس کے شکر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان لوگوں سے زیادہ قریب ہوں۔ چناں چہ نبی اکرم ﷺ نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور صحابہ کرام کو بھی اس کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى }، { وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا }حدیث نمبر ٣٣٩٧)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا،اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا عرض کی اے رب میرے! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بیہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (الاعراف ١٤٢،تا ١٤٣)دَكَّهُ کا معنی ہے اس پر زلزلہ طاری کردیا ۔زمین اور پہاڑوں کو ہلا دیا، پس ان پر زلزلہ طاری ہو گیا، اور یہاں پہاڑوں کو ایک چیز کی مثل قرار دیا۔جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:بے شک آسمان اور زمین دونوں بند تھے(الانبیاء ٣٠)اور جمع کے صیغہ سے یوں نہیں فرمایا:وہ سب بند اور جڑے ہوئے تھے۔أُشْرِبُوا کا معنی ہے:وہ رنگے گئے جیسے کہا جاتا ہے:کپڑا پلایا ہوا یعنی رنگ پلایا ہوا یعنی رنگا ہوا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:انْبَجَسَتْ کا معنی ہے پھٹ گیے۔إِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ کا معنی ہے ہم نے ان کے اوپر پہاڑ اٹھا لیا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب لوگ بیہوش ہوجائیں گے، پھر سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا اور دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔پس میں از خود نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ہوں گے یا (بیہوش ہی نہیں کئے گئے ہوں گے بلکہ) انہیں کوہ طور کی بے ہوشی کا بدلہ ملا ہوگا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَوَاعَدْنَا مُوسَى ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً،حدیث نمبر ٣٣٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے(اور من و سلویٰ کا گوشت جمع کر کے نہ رکھتے) تو گوشت کبھی نہ سڑتا۔اور اگر حضرت حوا نہ ہوتیں (یعنی وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو بہکاتیں نہیں تو )کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت کبھی نہ کرتی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَوَاعَدْنَا مُوسَى ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً،حدیث نمبر ٣٣٩٩)
باب:سیلاب سے طوفان۔بہ اکثر اموات کو بھی طوفان کہا جاتا ہے اور بہ اکثر اموات سے (امام بخاری کی) مراد یہ ہے کہ لوگوں کو لگاتار موت آئے۔الْقُمَّلُ اس چپڑی کو کہتے ہیں جو چھوٹی جوں کے مشابہ ہوتی ہے۔حَقِيقٌ کا معنی ہے برحق اور سچی بات۔سُقِطَ ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے۔جو نادم ہو۔عرب کہتے ہیں:فلاں شخص اپنے ہاتھ میں گر گیا۔یعنی نادم ہوا۔ باب:حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حدیث۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت حر بن قیس فزاری رضی اللہ عنہ سے صاحب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں ان کا اختلاف ہوا۔ پھر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میرا اپنے ان ساتھی سے صاحب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف ہوگیا ہے جن سے ملاقات کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے راستہ پوچھا تھا کیا رسول اللہ ﷺ سے آپ نے ان کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں! میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا ‘ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اس تمام زمین پر آپ سے زیادہ علم رکھنے والا ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل کی کہ کیوں نہیں۔ ہمارا بندہ خضر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان تک پہنچنے کا راستہ پوچھا تو انہیں مچھلی کو اس کی نشانی کے طور پر بتایا گیا اور کہا گیا کہ جب مچھلی گم ہوجائے (تو جہاں گم ہوئی ہو وہاں) واپس آجانا وہیں ان سے ملاقات ہوگی۔ چناں چہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دریا میں(سفر کے دوران)مچھلی کی برابر نگرانی کرتے رہے۔ پھر ان سے ان کے رفیق سفر نے کہا کہ آپ نے خیال نہیں کیا جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تو میں مچھلی کے متعلق آپ کو بتانا بھول گیا تھا اور مجھے شیطان نے اسے یاد رکھنے سے غافل رکھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اسی کی تو ہمیں تلاش ہے چناں چہ یہ بزرگ اسی راستے سے پیچھے کی طرف لوٹے اور حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی ان دونوں کے ہی وہ حالات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ حَدِيثِ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ،حدیث نمبر ٣٤٠٠)
سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کیا کہ نوف بکالی یہ کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ‘ صاحب خضر بنی اسرائیل کے حضرت موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ دوسرے حضرت موسیٰ ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ دشمن اللہ نے بالکل غلط بات کہی ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو کھڑے ہو کر خطاب فرما رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا کون سا شخص سب سے زیادہ علم والا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیوں کہ انہوں نے علم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ کیوں نہیں میرا ایک بندہ ہے جہاں دو دریا آ کر ملتے ہیں وہاں رہتا ہے اور وہ تم سے زیادہ علم والا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اے رب العالمین! میں ان سے کس طرح مل سکوں گا؟ سفیان نے (اپنی روایت میں یہ الفاظ) بیان کئے کہ اے رب! وكيف لي به! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مچھلی پکڑ کر اسے اپنے تھیلے میں رکھ لینا ‘ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے بس میرا بندہ وہیں تم کو ملے گا۔ بعض دفعہ راوی نے (بجائے فهو ثم کے)فهو ثمه کہا۔ چناں چہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مچھلی لے لی اور اسے ایک تھیلے میں رکھ لیا۔ پھر وہ اور ایک ان کے رفیق سفر حضرت یوشع بن نون روانہ ہوئے ‘ جب یہ چٹان پر پہنچے تو سر سے ٹیک لگالی ‘حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نیند آگئی اور مچھلی تڑپ کر نکلی اور دریا کے اندر چلی گئی اور اس نے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ محراب کی طرح ہوگئی ‘ انہوں نے واضح کیا کہ یوں محراب کی طرح۔ پھر یہ دونوں اس دن اور رات کے باقی حصے میں چلتے رہے ‘ جب دوسرا دن آیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رفیق سفر سے فرمایا کہ اب ہمارا کھانا لاؤ کیوں کہ ہم اپنے سفر میں بہت تھک گئے ہیں۔حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت تک کوئی تھکان محسوس نہیں کی تھی جب تک وہ اس مقررہ جگہ سے آگے نہ بڑھ گئے جس کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ ان کے رفیق نے کہا کہ دیکھئیے تو سہی جب چٹان پر اترے تھے تو میں مچھلی (کے متعلق کہنا)آپ سے بھول گیا اور مجھے اس کی یاد سے شیطان نے غافل رکھا اور اس مچھلی نے تو وہیں (چٹان کے قریب)دریا میں اپنا راستہ عجیب طور پر بنا لیا تھا۔ مچھلی کو تو راستہ مل گیا اور یہ دونوں حیران تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہی وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم نکلے ہیں۔ چناں چہ یہ دونوں اسی راستے سے پیچھے کی طرف واپس ہوئے اور جب اس چٹان پر پہنچے تو وہاں ایک بزرگ اپنا سارا جسم ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے موجود تھے۔حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا پھر کہا کہ تمہارے خطے میں سلام کا رواج کہاں سے آگیا؟ حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا ‘ بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ فرمایا کہ جی ہاں۔ میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے وہ علم نافع سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اے موسیٰ! میرے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم سکھایا ہے اور آپ اس کو نہیں جانتے۔ اسی طرح آپ کے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں اسے نہیں جانتا۔حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں انہوں نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے اور واقعی آپ ان کاموں کے بارے میں صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد إمرا تک آخر موسیٰ اور خضر (علیہم السلام) دریا کے کنارے کنارے چلے۔ پھر ان کے قریب سے ایک کشتی گزری۔ ان حضرات نے کہا کہ انہیں بھی کشتی والے کشتی پر سوار کرلیں۔ کشتی والوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پہچان لیا اور کوئی مزدوری لیے بغیر ان کو سوار کرلیا۔ جب یہ حضرات اس پر سوار ہوگئے تو ایک چڑیا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ کر اس نے پانی میں اپنی چونچ کو ایک یا دو مرتبہ ڈالا۔حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا: اے موسیٰ! میرے اور آپ کے علم کی وجہ سے اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں ہوئی جتنی اس چڑیا کے دریا میں چونچ مارنے سے دریا کے پانی میں کمی ہوئی ہوگی۔ اتنے میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے کلہاڑی اٹھائی اور اس کشتی میں سے ایک تختہ نکال لیا۔حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو نظر اٹھائی تو وہ اپنی کلہاڑی سے تختہ نکال چکے تھے۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بول پڑے کہ یہ آپ نے کیا کیا؟ جن لوگوں نے ہمیں بغیر کسی اجرت کے سوار کرلیا انہیں کی کشتی پر آپ نے بری نظر ڈالی اور اسے چیر دیا کہ سارے کشتی والے ڈوب جائیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ نے نہایت ناگوار کام کیا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ (یہ بےصبری اپنے وعدہ کو بھول جانے کی وجہ سے ہوئی ‘ اس لیے) آپ اس چیز کا مجھ سے مواخذہ نہ کریں جو میں بھول گیا تھا اور میرے معاملے میں تنگی نہ فرمائیں۔ یہ پہلی بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بھول کر ہوئی تھی پھر جب دریائی سفر ختم ہوا تو ان کا گزر ایک بچے کے پاس سے ہوا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس کا سر پکڑ کر اپنے ہاتھ سے(دھڑ سے) جدا کردیا۔ سفیان نے اپنے ہاتھ سے (جدا کرنے کی کیفیت بتانے کے لیے) اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز توڑ رہے ہوں۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ نے ایک جان کو ضائع کردیا۔ کسی دوسری جان کے بدلے میں بھی یہ نہیں تھا۔ بلاشبہ آپ نے ایک برا کام کیا۔حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: اچھا اس کے بعد اگر میں نے آپ سے کوئی بات پوچھی تو پھر آپ مجھے ساتھ نہ لے چلئے گا، بیشک آپ میرے بارے میں حد عذر کو پہنچ چکے ہیں۔ پھر یہ دونوں آگے بڑھے اور جب ایک بستی میں پہنچے تو بستی والوں سے کہا کہ وہ انہیں اپنا مہمان بنالیں ‘ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ پھر اس بستی میں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔ سفیان نے (کیفیت بتانے کے لیے) اس طرح اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز اوپر کی طرف پھیر رہے ہوں۔ میں نے سفیان سے مائلا کا لفظ صرف ایک مرتبہ سنا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ لوگ تو ایسے تھے کہ ہم ان کے یہاں آئے اور انہوں نے ہماری میزبانی سے بھی انکار کیا۔ پھر ان کی دیوار آپ نے ٹھیک کردی ‘ اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت ان سے لے سکتے تھے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بس یہاں سے میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہوگئی جن باتوں پر آپ صبر نہیں کرسکتے ‘ میں ان کی تاویل و توجیہ اب تم پر واضح کر دوں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہماری تو خواہش یہ تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صبر کرتے اور اللہ تعالیٰ تکوینی واقعات ہمارے لیے بیان کرتا۔ سفیان نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم کرے ‘ اگر انہوں نے صبر کیا ہوتا تو ان کے (مزید واقعات) ہمیں معلوم ہوتے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے (جمہور کی قرآت ودرائهم کے بجائے) أمامهم ملك يأخذ کل سفينة صالحة غصبا پڑھا ہے۔ اور وہ بچہ (جس کی حضرت خضر (علیہ السلام) نے جان لی تھی)کافر تھا اور اس کے والدین مومن تھے۔ پھر مجھ سے سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو مرتبہ سنی تھی اور انہیں سے(سن کر) یاد کی تھی۔ سفیان نے کسی سے پوچھا تھا کہ کیا یہ حدیث آپ نے عمرو بن دینار سے سننے سے پہلے ہی کسی دوسرے شخص سے سن کر(جس نے عمرو بن دینار سے سنی ہو) یاد کی تھی؟ یا(اس کے بجائے یہ جملہ کہا) تحفظته من إنسان دو مرتبہ (شک علی بن عبداللہ کو تھا) تو سفیان نے کہا کہ دوسرے کسی شخص سے سن کر میں یاد کرتا ‘ کیا اس حدیث کو عمرو بن دینار سے میرے سوا کسی اور نے بھی روایت کیا ہے؟ میں نے ان سے یہ حدیث دو یا تین مرتبہ سنی اور انہیں سے سن کر یاد کی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ حَدِيثِ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ،حدیث نمبر ٣٤٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:خضر (علیہ السلام) کا یہ نام اس وجہ سے ہوا کہ وہ ایک سوکھی زمین (جہاں سبزی کا نام بھی نہ تھا) پر بیٹھے۔ لیکن جوں ہی وہ وہاں سے اٹھے تو وہ جگہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ حَدِيثِ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ،حدیث نمبر ٣٤٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ بیت المقدس میں سجدہ و رکوع کرتے ہوئے داخل ہوں اور یہ کہتے ہوئے کہ یا اللہ! ہم کو بخش دے۔ لیکن انہوں نے اس کو الٹا کیا اور اپنے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور یہ کہتے ہوئے:حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ(یعنی بالیوں میں دانے خوب ہوں) داخل ہوئے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ حَدِيثِ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ،حدیث نمبر ٣٤٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بڑے ہی شرم والے اور بدن ڈھانپنے والے تھے۔ ان کی حیاء کی وجہ سے ان کے بدن کا کوئی حصہ بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے جو لوگ انہیں اذیت پہنچانے کے درپے تھے ‘ وہ کیوں باز رہ سکتے تھے ‘ ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اس درجہ بدن چھپانے کا اہتمام صرف اس لیے ہے کہ ان کے جسم میں عیب ہے یا کوڑھ ہے یا ان کے خصیتین بڑھے ہوئے ہیں یا پھر کوئی اور بیماری ہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ہفوات سے پاکی دکھلائے۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرنے کے لیے آئے ایک پتھر پر اپنے کپڑے( اتار کر )رکھ دیئے۔ پھر غسل شروع کیا۔ جب فارغ ہوئے تو کپڑے اٹھانے کے لیے بڑھے لیکن پتھر ان کے کپڑوں سمیت بھاگنے لگا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا اٹھایا اور پتھر کے پیچھے دوڑے۔ یہ کہتے ہوئے کہ پتھر! میرا کپڑا دیدے۔ آخر بنی اسرائیل کی ایک جماعت تک پہنچ گئے اور ان سب نے آپ کو بے کپڑے کے دیکھ لیا ‘ اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر حالت میں اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی تہمت سے ان کی برات کر دی۔ اب پتھر بھی رک گیا اور آپ نے کپڑا اٹھا کر پہنا۔ پھر پتھر کو اپنے عصا سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم اس پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے تین یا چار یا پانچ جگہ نشان پڑ گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «يا أيها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها» "اے ایمان والو! ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا تو اللہ نے اسے بَری فرمادیا اس بات سے جو انہوں نے کہی اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے(کنز الایمان) ۔" میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ حَدِيثِ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ،حدیث نمبر ٣٤٠٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ مال تقسیم کیا ‘ ایک شخص نے کہا کہ یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کی رضا جوئی کا کوئی لحاظ نہیں کیا گیا۔ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی اکرم ﷺ غصہ ہوئے اور میں نے نبی اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار دیکھے۔ پھر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ‘ ان کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی تھی مگر انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ حَدِيثِ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ،حدیث نمبر ٣٤٠٥)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :پس وہ ایسی قوم کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں پر جمے بیٹھے تھے(الاعراف آیت نمبر ١٣٨)مُتَبَّرٌ کا معنی ہے نقصان زدہ، لِيُتَبِّرُوا کا معنی ہے خراب کریں ۔مَا عَلَوْا کا معنی ہے جس جگہ حکومت پائیں، غالب ہوں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں پیلو کے پھل چن رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تم سیاہ رنگ کے پھل چنو، کیوں کہ وہ زیادہ لذیذ ہوتے ہیں، صحابہ نے پوچھا کہ کیا آپ علیہ السلام بکریاں چراتے رہے تھے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا :ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : يَعْكِفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَهُمْ، { مُتَبَّرٌ } : خُسْرَانٌ. { وَلِيُتَبِّرُوا } : يُدَمِّرُوا. { مَا عَلَوْا } : مَا غَلَبُوا،حدیث نمبر ٣٤٠٦)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور یاد کیجیے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا:بے شک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم گائے کو ذبح کرو (البقرہ ٦٧)ابو العالیہ نے کہا کہ؛ الْعَوَانُ کا معنی جوانی اور بڑھاپے کے درمیان نصف ہے۔فَاقِعٌ کا معنی ہے صاف اور چمکدار ۔لَا ذَلُولٌ کا معنی ہے:اس ہل چلانے کے کام نے کمزور اورلاغر نہ کر دیا ہو۔ایسی کمزور نہ ہو کہ نہ زمین میں ہل چلا سکے اور نہ کھیت میں پانی دے سکے۔مُسَلَّمَةٌ کا معنی وہ عیب سے خالی ہو۔ لَا شِيَةَ کا معنی ہے اس میں سفیدی نہ ہو۔صَفْرَاءُ کا معنی تم چاہو تو سیاہ کردو۔اور صفراء زرد کو بھی کہتے ہیں اور کہا جاتا ہے:زردی مائل سیاہ اونٹ۔فَادَّارَأْتُمُ کا معنی ہے تم نے اختلاف کیا۔ باب:حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات اور اس کے بعد کا ذکر۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ملک الموت کو بھیجا۔جب ملک الموت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہوں نے انہیں چانٹا مارا(کیوں کہ وہ انسان کی صورت میں آیا تھا) ملک الموت ‘ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں واپس ہوئے اور عرض کیا کہ تو نے اپنے ایک ایسے بندے کے پاس مجھے بھیجا جو موت کے لیے تیار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دوبارہ ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھیں، ان کے ہاتھ میں جتنے بال اس کے آجائیں ان میں سے ہر بال کے بدلے ایک سال کی عمر انہیں دی جائے گی (ملک الموت دوبارہ آئے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سنایا)حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بولے: اے رب! پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر موت ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ پھر ابھی کیوں نہ آجائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ بیت المقدس سے مجھے اتنا قریب کردیا جائے کہ (جہاں ان کی قبر ہو وہاں سے)اگر کوئی پتھر پھینکے تو وہ بیت المقدس تک پہنچ سکے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں وہاں موجود ہوتا تو بیت المقدس میں ‘ میں تمہیں ان کی قبر دکھاتا جو راستے کے کنارے پر ہے ‘ ریت کے سرخ ٹیلے سے نیچے۔ عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا۔ (بخاری شریف کتاب ،بَابُ وَفَاةِ مُوسَى وَذِكْرِهِ بَعْدُ،حدیث نمبر ٣٤٠٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مسلمانوں کی جماعت کے ایک آدمی اور یہودیوں میں سے ایک شخص کا جھگڑا ہوا۔ مسلمان نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا میں برگذیدہ بنایا ‘ قسم کھاتے ہوئے انہوں نے یہ کہا۔ اس پر یہودی نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساری دنیا میں برگزیدہ بنایا۔ اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھا کر یہودی کو تھپڑ مار دیا۔ وہ یہودی ‘ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اپنے اور مسلمان کے جھگڑے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا کہ مجھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ترجیح نہ دیا کرو۔ لوگ قیامت کے دن بیہوش کر دئیے جائیں گے اور سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا پھر دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا پایہ پکڑے ہوئے کھڑے ہیں۔ اب مجھے از خود معلوم نہیں کہ وہ بھی بیہوش ہونے والوں میں تھے اور مجھ سے پہلے ہی ہوش میں آگئے یا انہیں اللہ تعالیٰ نے بیہوش ہونے والوں میں ہی نہیں رکھا تھا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ وَفَاةِ مُوسَى وَذِكْرِهِ بَعْدُ،حدیث نمبر ٣٤٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے آپس میں بحث کی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ آپ آدم ہیں جنہیں ان کی خطا نے جنت سے نکالا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) بولے اور آپ وہ موسیٰ (علیہ السلام) ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے نوازا ‘ پھر بھی آپ مجھے ایک ایسے معاملے پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی پہلے مقدر کردیا۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: چناں چہ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ وَفَاةِ مُوسَى وَذِكْرِهِ بَعْدُ،حدیث نمبر ٣٤٠٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا:میرے سامنے تمام امتیں لائی گئیں اور میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی جماعت آسمان کے کناروں پر چھائی ہوئی ہے۔ پھر بتایا گیا کہ یہ اپنی قوم کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ وَفَاةِ مُوسَى وَذِكْرِهِ بَعْدُ،حدیث نمبر ٣٤١٠)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی، یہ آیت یہاں تک پڑھی جائے:اور وہ اطاعت گزارون میں سے تھیں(التحریم ١١ تا ١٢) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مردوں میں تو بہت لوگ کامل ہیں اور عورتوں میں صرف آسیہ فرعون کی بیوی اور مریم بنت عمران کامل ہیں۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَةَ فِرْعَوْنَ }. إِلَى قَوْلِهِ : { وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ ،حدیث نمبر ٣٤١١)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :بے شک قارون پہلے موسیٰ کی قوم سے تھا(القصص ٧٦)پوری آیت پڑھیں۔لَتَنُوءُ کا معنی ہے وہ بھاری ہو جاتی تھیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہآ: أُولِي الْقُوَّةِ کا معنی ہے مردوں کی ایک جماعت (قارون کے) چابیوں کے بوجھ کو نہیں اٹھا سکتی تھیں۔اترنے والوں کو الْفَرِحِينَ کہا جاتا ہے۔وَيْكَأَنَّ اللَّهَ کا معنی اس کی مثل ہے۔کیا تم کو نہیں معلوم کہ بے شک اللہ! يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا تنگ کر دیتا ہے۔وَيُوَسِّعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ فراخی کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے۔ باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور مدین کی طرف ان کے قومی بھائی شعیب کو بھیجا(العنکبوت ٣٦)مدین سے اہل مدین مراد ہیں :کیوں کہ مدین شہر ہے، اسی کی مثل ہے بستی سے پوچھیے:اور مراد ہے بستی والوں سے پوچھیے، اور فرمایا قافلہ سے پوچھیے، اور مراد ہے قافلہ والوں سے پوچھیے، اور تم نے اسے پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا ہے، یعنی تم اس کی طرف توجہ نہیں کرتے جب کسی کی حاجت پوری نہ ہو تو کہا جاتا ہے تم نے اسے پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا ہے، یا کہا جاتا ہے:تم نے مجھے پیٹھ کے پیچھے کر دیا، امام بخاری نے کہا:الظِّهْرِيُّ اس جانور یا اس تھیلے کو کہتے ہیں جس کو تم قوت کے حصول کے لیے اپنے ساتھ رکھتے ہو۔مَكَانُهُمْ ان کی مکانت اور ان کے مکان کا ایک معنی ہے یعنی اپنی جگہ، يَغْنَوْا کا معنی ہے وہ رہتے تھے، يَأْيَسُ کا معنی ہے وہ غم کرتا ہے، آسَى کا معنی ہے میں غم کروں! اور حسن بصری نے کہا:بے شک آپ تو بڑے تحمل والے عقل مند ہیں (ھود ٨٧)یہ انہوں نے حضرت شعیب کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا۔اور مجاہد نے کہا:لَيْكَةُ،الْأَيْكَةُ ہے یعنی جنگل۔يَوْمِ الظُّلَّةِ کا معنی ہے بادلوں کا سایا جو ان پر عذاب تھا۔ باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور بے شک یونس ضرور رسولوں میں سے ہیں، یہ آیت یہاں تک ہے:وہ اپنے آپ کو ملامت کرنے والے تھے:(الصٰفت ١٣٩ تا ١٤٢)اور آپ مچھلی والوں کی طرح نہ ہوں جنہوں نے اپنے رب کو اس وقت پکارا جب وہ غمگین تھے (القلم آیت ٤٨)كَظِيمٌ کا معنی مغموم ہے۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں ۔مسدد نے یہ اضافہ کیا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ،حدیث نمبر ٣٤١٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی سے بہتر قرار دے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد کی طرف منسوب کر کے ان کا نام لیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ }حدیث نمبر ٣٤١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ لوگوں کو ایک یہودی اپنا سامان دکھا رہا تھا لیکن اسے اس کی جو قیمت لگائی گئی اس پر وہ راضی نہ تھا۔ اس لیے کہنے لگا کہ ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں میں برگزیدہ قرار دیا۔ یہ لفظ ایک انصاری صحابی نے سن لیے اور کھڑے ہو کر انہوں نے ایک تھپڑ اس یہودی کے منہ پر مارا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ابھی ہم میں موجود ہیں اور تو اس طرح قسم کھاتا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام انسانوں میں برگزیدہ قرار دیا۔ اس پر وہ یہودی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے ابوالقاسم! میرا مسلمانوں کے ساتھ امن اور صلح کا عہد و پیمان ہے۔ پھر فلاں شخص کا کیا حال ہوگا جس نے میرے منہ پر چانٹا مارا ہے ‘ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس صحابی سے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے منہ پر کیوں چانٹا مارا؟ انہوں نے وجہ بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہوگئے اس قدر کہ غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نمایاں ہوگئے۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں آپس میں ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو، جب صور پھونکا جائے گا تو آسمان و زمین کی تمام مخلوق پر بےہوشی طاری ہوجائے گی ‘ سوا ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور سب سے پہلے مجھے اٹھایا جائے گا ‘ لیکن میں دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کو پکڑے ہوئے کھڑے ہوں گے ‘ اب مجھے از خود معلوم نہیں کہ یہ انہیں طور کی بےہوشی کا بدلا دیا گیا ہوگا یا مجھ سے بھی پہلے ان کی بےہوشی ختم کردی گئی ہوگی۔ اور میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کوئی شخص حضرت یونس بن متی سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ }حدیث نمبر ٣٤١٤،و حدیث نمبر ٣٤١٥)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی بندہ کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ میں حضرت یونس بن متیٰ سے افضل ہوں ۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ }حدیث نمبر ٣٤١٦)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور ان سے اس بستی کا حال پوچھیے جو دریا کے کنارے واقع تھی جب وہ ہفتہ کے دن کے بارے میں حد سے بڑھنے لگے(الاعراف ١٦٣)يَعْدُونَ کا معنی ہے:وہ ہفتہ کے دن حد سے آگے بڑھتے تھے، جب ان مچھلیاں ان کے ہفتہ کے دن پانی پر تیرتی ہوئی ان کے پاس بہ کثرت آئیں (الاعراف ١٦٣)شُرَّعًا کی تفسیر شَوَارِعَ ہے، یہ آیت یہاں تک ہے:تم ذلیل بندر بن جاؤ(الاعراف ١٦٤) باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور ہم نے داؤد علیہ السلام کو زبور دی(النساء ١٦٣)الزُّبُرُ کا معنی کتب کتابیں اس کا واحد زبور ہے، زَبَرْتُ کا معنی ہے میں نے لکھا:اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور ہم نے داؤد علیہ السلام کو فضیلت عطا فرمائی اے پہاڑوں! خوش الحانی سے داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھو! اور اے پرندوں! تم بھی اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا کہ آپ مکمل زرہیں بنائیں اور مناسب اندازے سے ان کی کڑیاں جوڑیں۔(سباء آیت ١٠ تا ١١)مجاہد نے کہا:سَبِّحِي کا معنی ہے اس کے ساتھ تسبیح پڑھو! والطَّيْرِ کا معنی ہے:اور پرندے۔اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔کہ پوری کشادہ زرہیں بنائیں، سَابِغَاتٍ کا معنی ہے:کشادہ زرہیں۔الدُّرُوعَ کا معنی ہے زرہیں۔اور اندازہ سے زرہ کی کڑیاں جوڑیں یعنی زرہ کی کیلو اور حلقوں میں اندازہ رکھیں کیلو کو اتنا باریک بھی نہ کریں کہ ڈھیلی ہو جائے اور نہ اتنی بڑی رکھیں کہ ٹوٹ جائے۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور تم سب نیک عمل کرتے رہو بے شک میں تمہارے تمام کاموں کو خوب دیکھنے والا ہوں (سبا ١١) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور کی قراءت میں آسانی کر دی گئی تھی، وہ اپنی سواریوں پر زین بچھانے کا حکم دیتے پس زین بچھائی جاتی اور وہ سواریوں پر زین بچھائی جانے سے پہلے زبور کی قراءت مکمل کر لیتے اور وہ صرف اپنی ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ اس حدیث کو موسیٰ بن عقبہ نے از صفوان از عطا بن یسار از ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم روایت کیا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا }حدیث نمبر ٣٤١٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں نے کہا ہے کہ اللہ کی قسم! جب تک میں زندہ رہوں گا ‘ دن میں روزے رکھوں گا اور رات بھر عبادت کیا کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں نے یہ کہا ہے کہ اللہ کی قسم! جب تک زندہ رہوں گا دن بھر روزے رکھوں گا اور رات بھر عبادت کروں گا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! میں نے یہ جملہ کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے نبھا نہیں سکو گے ‘ اس لیے روزہ بھی رکھا کرو اور بغیر روزے کے بھی رہا کرو اور رات میں عبادت بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو۔ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو ‘ کیوں کہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اس طرح روزہ کا یہ طریقہ بھی(ثواب کے اعتبار سے)زندگی بھر کے روزے جیسا ہوجائے گا۔ میں نے کہا کہ میں اس سے افضل طریقہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کرو اور دو دن بغیر روزے کے رہا کرو۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی افضل طریقے کی طاقت رکھتا ہوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا کرو۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے کا طریقہ بھی یہی تھا اور یہی سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں اس سے بھی افضل طریقے کی طاقت رکھتا ہوں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے افضل اور کوئی طریقہ نہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا }حدیث نمبر ٣٤١٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:کیا میری یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن بھر (روزانہ)روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں! نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تم اسی طرح کرتے رہے تو تمہاری آنکھیں کمزور ہوجائیں گی اور تمہارا جی اکتا جائے گا(اس لیے تم ایسا کرو کہ)۔ ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو کہ یہی (ثواب کے اعتبار سے)زندگی بھر کا روزہ ہے ‘ یا(؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ)زندگی بھر کے روزے کی طرح ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں اپنے میں محسوس کرتا ہوں(کہ اس بہتر طریقے سے میں روزہ رکھ سکتا ہوں) مسعر نے بیان کیا کہ آپ کی مراد قوت سے تھی۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے کی طرح روزے رکھا کرو۔ وہ ایک دن روزے رکھا کرتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے اور دشمن سے مقابلہ کرتے تو میدان سے بھاگا نہیں کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا }حدیث نمبر ٣٤١٩)
باب:اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ روزے حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں، حضرت داؤد علیہ السلام آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے اور پھر رات کے چھٹے حصے میں سوتے تھے، اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول ہے کہ سحر کے وقت میں نے آپ علیہ السلام کو جب بھی پایا آپ میرے پاس سوئے ہوئے ہوتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ،اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز ہے وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور تہائی رات میں نماز کے لیے قیام کرتے تھے اور پھر رات کے چھٹے حصے میں سوتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَيَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا. قَالَ عَلِيٌّ، وَهُوَ قَوْلُ عَائِشَةَ : مَا أَلْفَاهُ السَّحَرُ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا،حدیث نمبر ٣٤٢٠)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور یاد کیجیے ہمارے طاقت ور بندے داؤد کو بے شک وہ ہماری طرف رجوع کرنے والے تھے،ان آیت کو:فَصْلَ الْخِطَابِ تک پڑھیں! (ص آیت ١٧ تا ٢٠)اور مجاہد نے کہا:فَصْلَ الْخِطَابِ کا معنی ہے:فیصلہ کی فہم! وَلَا تُشْطِطْ کا معنی ہے حد سے تجاوز نہ کرنا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور ہمیں سیدھی راہ بتائیں!(ص ٢٢)اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :بے شک میرا بھائی ہے اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں، اور میرے پاس ایک دنبی ہے اب کہتا ہے وہ ایک دنبی بھی مجھے دے دو(ص ٢٢)(یاد رہے یہاں! دنبی سے مراد عورت ہے کیونکہ)عورت کو دنبی کہا جاتا ہے اور بکری بھی کہا جاتا ہے، اور زکریا کو اس کفیل بنایا(آل عمران ٣٤)عَزَّنِي کا معنی ہے :مجھ پر غالب آگیا، کہا جاتا ہے:صَارَ أَعَزَّ مِنِّي،وہ مجھ سے زیادہ غالب ہو گیا، أَعْزَزْتُهُ کا معنی ہے:میں نے اس کلام میں غالب کر دیا۔خطاب کے لیے کہا جاتا ہے:الْمُحَاوَرَةُ یعنی خطاب کو محاورہ بھی کہا جاتا ہے، داؤد نے کہا بے شک اس نے تیری دنبی کو اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کا سوال کرکے تجھ پر ظلم کیا(ص ٢٤)اور بے شک اکثر شریک (الْخُلَطَاءِ کا معنی شرکاء ہے) زیادتی کرتے ہیں، یہ آیت یہاں تک پڑھیں :(داؤد علیہ السلام نے گمان کیا کہ) ہم نے ان کی آزمائش کی(ص ٢٤)حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ :اس کا معنی ہم نے اس کو آزمائش میں ڈالا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا:فَتَّنَّاهُ تا پر تشدید کے ساتھ، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :تو انہوں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور سجدہ میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا(ص ٢٤) مجاہد نے کہا میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا:آیا ہم سورہ ص میں سجدہ کریں؟ پس انہوں نے یہ آیت پڑھی :اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان ہیں، حتیٰ کہ یہاں تک پڑھا:پس آپ ان سب کی ہدایت کی پیروی کیجیے! (الانعام ٨٤ تا ٩٠)پس انہوں نے کہا:تمہارے نبی ان میں سے ہیں جن کو ان سب نبیوں کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُدَ ذَا الْأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ }حدیث نمبر ٣٤٢١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ سورہ ص کا سجدہ ضروری نہیں، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس سورة میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُدَ ذَا الْأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ،حدیث نمبر ٣٤٢٢)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیے، وہ کیا ہی اچھے بندے ہیں، بے شک وہ ہماری طرف بہت رجوع کرنے والے ہیں (ص ٣٠)أَوَّابٌ کا معنی رجوع کرنے والا انابت کرنے والا، اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا کی:اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کو سزاوار نہ ہو(ص ٣٥)اور وہ جادو کے پیچھے لگ گئے سلیمان کے عہد حکومت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے (البقرہ ١٠٢)اور سلیمان کے لیے ہوا کو قابو میں کر دیا اس کی صبح کی رفتار ایک ماہ کی تھی اور شام کی رفتار ایک ماہ کی تھی(سباء ١٢)اور ہم نے ان کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا (سباء ١٢)یعنی ان کے لیے لوہے کا چشمہ بہا دیا۔اور جنات میں سے بعض ان کے پاس کام کرتے تھے (سباء ١٣)یہ مِنْ مَحَارِيبَ تک پڑھیں۔مجاہد نے کہا:مَحَارِيبَ کا معنی ہے:قلعہ سے چھوٹی عمارت،تَمَاثِيلُ یعنی مجسمے، اور حوض جیسی بڑی دیگ(سباء ١٣)جیسے اونٹوں کے لیے حوض ہوتے ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا:جیسے زمین میں بڑھا گڑھا ہے۔اور چولہوں پر جمی ہوئی بڑی دیگیں یہ آیت:الشَّكُورُ کا مراد ہے۔(سباء ١٣)سو جب ہم نے ان پر موت کا حکم نافذ کر دیا تو جنات کو کسی نے ان کی موت پر راہنمائی نہیں کی سوائے زمین کی دیمک کے جو سلیمان کی عصا کو کھاتی رہی۔دَابَّةُ الْأَرْضِ کا معنی ہے:زمین کی دیمک۔اور مِنْسَأَتَهُ کا معنی ہے:عصا،پھر جب سلیمان زمین پر آرہے ہیں۔یہ آیت الْمُهِينِ تک پڑھیں۔(سباء ١٤)بے شک میں نے مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے پسند کی (سباء ٣٢)اپنے رب کی ذکر کی وجہ سے۔پس وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے (ص ٣٣)یعنی:گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر۔الْأَصْفَادُ کا معنی ہے بیڑیاں اور زنجیریں، اور مجاہد نے کہا:الصَّافِنَاتُ کا معنی ہے:صَفَنَ الْفَرَسُ سے ماخوذ ہے:یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب گھوڑا ایک پاؤں اٹھا کر کھر کی نوک پر کھڑا ہو جائے۔الْجِيَادُ کا معنی ہے:تیز رفتار گھوڑے۔جَسَدًا کا معنی ہے :شیطان۔رُخَاءً کا معنی ہے:نرمی اور خوشی سے۔حَيْثُ أَصَابَ کا معنی ہے:جہاں تک وہ جانا چاہتے۔فَامْنُنْ کا معنی ہے:بغیر حساب کے اور بغیر تنگی کے عطا کریں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سرکش جن کل رات میرے سامنے آگیا تاکہ میری نماز خراب کر دے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے اسے پکڑ لیا۔ پھر میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں کہ تم سب لوگ بھی دیکھ سکو۔ لیکن مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی یہ دعا یاد آگئی کہ یا اللہ! مجھے ایسی سلطنت دے جو میرے سوا کسی کو سزاوار نہ ہو۔ اس لیے میں نے اسے نامراد واپس کردیا۔ عفريت سرکش کے معنی میں ہے، خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنوں میں سے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَوَهَبْنَا لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ }حدیث نمبر ٣٤٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) نے کہا کہ آج رات میں اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا ان شاء اللہ، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ چناں چہ کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ پیدا نہیں ہوا، صرف ایک کے یہاں بچہ ہوا اور اس کی بھی ایک جانب بیکار تھی۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان شاء اللہ کہہ لیتے(تو سب کے یہاں بچے پیدا ہوتے)اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔ شعیب اور ابن ابی الزناد نے بجائے ستر کے) نوے کہا ہے اور یہی بیان زیادہ صحیح ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَوَهَبْنَا لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ،حدیث نمبر ٣٤٢٤)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا:یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی تھی؟ فرمایا کہ مسجد الحرام! میں نے سوال کیا، اس کے بعد کون سی؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ۔ میں نے سوال کیا اور ان دونوں کی تعمیر کا درمیانی فاصلہ کتنا تھا؟ فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ بھی نماز کا وقت ہوجائے فوراً نماز پڑھ لو۔ تمہارے لیے تمام روئے زمین مسجد ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَوَهَبْنَا لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ }حدیث نمبر ٣٤٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اور تمام انسانوں کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی ہو۔ پھر پروانے اور کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے ہوں۔ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو عورتیں تھیں اور دونوں کے ساتھ دونوں کے بچے تھے۔ اتنے میں ایک بھیڑیا آیا اور ایک عورت کے بچے کو اٹھا لے گیا۔ ان دونوں میں سے ایک عورت نے کہا بھیڑیا تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے اور دوسری نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے۔ دونوں حضرت داؤد (علیہ السلام) کے یہاں اپنا مقدمہ لے گئیں۔ آپ نے بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کردیا۔ اس کے بعد وہ دونوں حضرت سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) کے یہاں آئیں اور انہیں اس جھگڑے کی خبر دی۔ انہوں نے فرمایا کہ اچھا چھری لاؤ۔ اس بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان بانٹ دوں۔ چھوٹی عورت نے یہ سن کر کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے ایسا نہ کیجئے، میں نے مان لیا کہ اسی بڑی کا لڑکا ہے۔ اس پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس چھوٹی کے حق میں فیصلہ کیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے سكين کا لفظ اسی دن سنا، ورنہ ہم ہمیشہ(چھری کے لیے) مدية. کا لفظ بولا کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَوَهَبْنَا لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ }حدیث نمبر ٣٤٢٦،و حدیث نمبر ٣٤٢٧)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور بے شک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر عطا کریں، یہ آیت یہاں تک پڑھیں:بے شک اللہ کسی اکڑنے والے متکبر کو پسند نہیں کرتا۔(لقمان ١٢ تا ١٨)وَلَا تُصَعِّرِ کا معنی ہے:چہرے کے ساتھ کسی سے اعراض کرنا۔(یعنی اس کی طرف توجہ نہ کرنا) حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملاتے (الانعام ٨٢)تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا:ہم میں سے کون اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملاتا؟ تب یہ آیت نازل ہوئی:اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا بے شک شرک کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔(لقمان ١٣) (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : { وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ } إِلَى قَوْلِهِ : { إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ }حدیث نمبر ٣٤٢٨)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملایا۔(الانعام ٨٢)تو یہ چیز مسلمان پر بہت دشوار ہوئی پس انہوں نے کہا:یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! ہم میں سے کون ہے جو اپنے نفس پر کوئی نہ کوئی ظلم نہیں کرتا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا :ظلم سے مراد یہ نہیں ہے یہاں ظلم سے مراد صرف شرک ہے کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا جب وہ اس کو نصیحت کر رہے تھے:اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا بے شک شرک کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔(لقمان ١٣) (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : { وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ } إِلَى قَوْلِهِ : { إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ }حدیث نمبر ٣٤٢٩)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور ان کے لیے بستی والوں کی مثال پیش کیجئے(یٰسین ١٣)فَعَزَّزْنَا کی تفسیر مجاہد نے کہا:ہم نے قوت دی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا :طَائِرُكُمْ کی تفسیر ہے:تمہارے مصاحب۔ باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :یہ ذکر ہے آپ کے رب کی رحمت کا اس کے بندے زکریا پر ،جب انہوں نے اپنے رب کو پست آواز سے پکارا، عرض کیا اے میرے رب! بے شک میری ہڈیاں کمزور ہو گئیں اور سر بڑھاپے سے شعلہ کی طرح بھڑک اٹھا۔اس کے بعد یہاں تک پڑھیں، ہم نے اس سے پہلے ان کا کوئی ہمنام نہیں بنایا۔(مریم ٢ تا ٧)حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا :مِثْلًا۔ کہا جاتا ہے۔رَضِيًّا،مَرْضِيًّا۔یعنی پسندیدہ۔عُتِيًّا کا معنی ہے:عَصِيًّا۔يَعْتُو سے ماخوذ ہے۔زکریا نے عرض کیا:اے میرے رب میرے لیے لڑکا کہاں سے ہوگا۔اس کو یہاں تک پڑھیں:تم تین رات دن تندرست ہونے کے باوجود لوگوں سے کلام نہ کر سکو گے۔(مریم ٨ تا ١٠)اور صحیح بھی کہا جاتا ہے:یعنی تندرست۔سو وہ اپنے لوگوں کے سامنے عبادت کے حجرہ سے باہر آئے۔پس ان کی طرف اشارہ کیا کہ صبح اور شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو (مریم ١١)فَأَوْحَى کا معنی ہے اشارہ کیا:اے یحییٰ پوری قوت کے ساتھ کتاب تھام لو اس کو یہاں تک پڑھیں:جس دن وہ زندہ اٹھائیں جائیں(مریم ١٣ تا ١٥) حَفِيًّا کا معنی لطیف۔عَاقِرًا کا معنی ہے:بانجھ خواہ وہ مرد ہو یا عورت اس میں برابر ہے۔ حضرت مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شب معراج کے متعلق یہ حدیث بیان کی کہ پھر آپ دوسرے آسمان پر چڑھے پھر حضرت جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا پس کہا گیا یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا جبرئیل ہے۔کہا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کہا گیا کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا :جی ہاں! پس جب میں دوسرے آسمان پر پہنچ گیا تو وہاں حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام تھے اور وہ دونوں آپس میں خالہ زاد تھے،حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا؛ یہ حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام ہیں ۔آپ ان دونوں کو سلام کیجیے! پس میں نے سلام کیا سو ان دونوں نے سلام کا جواب دیا پھر ان دونوں نے کہا نیک بھائی اور نیک نبی کو سلام ہو۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : { وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا أَصْحَابَ الْقَرْيَةِ } الْآيَةَ. { فَعَزَّزْنَا } حدیث نمبر ٣٤٣٠)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور کتاب میں مریم کو یاد کیجیے! جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرقی جگہ میں چلی گئی(مریم ١٦)جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں ایک کلمہ کی خوش خبری دیتا ہے(آل عمران ٤٥)بے شک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو۔ان کے زمانے کے سارے جہان والوں پر (آل عمران ٣٣)اس آیت کو یہاں تک پڑھیں:بے شک اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے۔(آل عمران ٢٨ تا ٣٣)حکومت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا :آل عمران اور آل ابراہیم میں سے مومنین ہیں اور آل عمران اور آل یٰسین اور آل سیدنا محمد ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:بے شک تمام لوگوں میں ابراہیم سے قریب تر وہی لوگ تھے جنہوں نے ان کی پیروی کی(آل عمران ٦٨)اور وہی مؤمن ہیں۔اور اہل یعقوب کو آل یعقوب کہا جاتا ہے۔پس جب وہ آل کی تصغیر کرتے ہیں تو اس کو اصل کی طرف لوٹاتے ہیں وہ کہتے ہیں :اھیل۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو میں نے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر بنو آدم جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو انگلی چبھوتا ہے تو وہ شیطان کے انگلی چبھونے سے چیخ مار کر روتا ہے سوا مریم اور ان کے بیٹے کہ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:( عمران کی بیوی نے دعا کی) میں مریم کو اس کی اولاد کو شیطان رجیم کے شر سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔(مریم ٣٦) (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا }حدیث نمبر ٣٤٣١)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تجھے چن لیا اور خوب ستھرا کیا اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا اے مریم اپنے رب کے حضور ادب سے کھڑی ہو اور اس کے لئے سجدہ کر اور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کر،یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے(آل عمران ٤٢ تا ٤٤) کہا جاتا ہے:يَكْفُلُ کا معنی ہے:ملاتا ہے:كَفَلَهَا کا معنی ہے:اس کو ملایا اس پر تشدید نہیں ہے، یہ قرضہ جات کی کفالت اور اس کے مشابہ چیزوں سے نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :تمام عورتوں میں سب سے افضل مریم بنت عمران ہیں اور تمام عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،٣٤٣٢)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور یاد کرو جب فرشتوں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار (باعزت) ہوگا دنیا اور آخرت میں اور قرب والا۔یہ آیت یہاں تک پڑھیں:کُنۡ فَیَکُوۡنُ۔(آل عمران ٤٥ تا ٤٧)يُبَشِّرُكِ اور يَبْشُرُكِ دونوں کا معنی ایک ہے:وَجِيهًا کا معنی معزز ۔اور ابراہیم نے کہا:الْمَسِيحُ کا معنی ہے:صدیق اور مجاہد نے کہا:الْكَهْلُ کا معنی برد بار ۔الْأَكْمَهُ کا معنی ہے جو دن میں دیکھتا ہو اور رات کو نہ دیکھتا ہو اور دوسروں نے کہا:جو شخص پیدائشی اندھا ہو۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:عورتوں پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی۔(اور)مردوں میں سے تو بہت سے کامل ہو گزرے ہیں لیکن عورتوں میں حضرت مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی۔ اور ابن وہب نے بیان کیا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والیوں(عربی خواتین)میں سب سے بہترین قریشی خواتین ہیں۔(کیوں کہ وہ) اپنے بچے پر سب سے زیادہ محبت و شفقت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال و اسباب کی سب سے بہتر نگراں و محافظ ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہتے تھے کہ حضرت مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی تھیں۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو زہری کے بھتیجے اور اسحاق کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : قَوْلُهُ تَعَالَى : { إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ } إِلَى قَوْلِهِ : { فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ }حدیث نمبر ٣٤٣٣،و حدیث نمبر ٣٤٣٤)
باب؛اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اے کتاب والو! اپنے دین میں زیادتی نہ کرو اور اللہ پر نہ کہو مگر سچ، مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا اللہ کا رسول ہی ہے اور اس کا ایک کلمہ کہ مریم کی طرف بھیجا اور اس کے یہاں کی ایک روح تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور تین نہ کہو باز رہو اپنے بھلے کو اللہ تو ایک ہی خدا ہے پاکی اسے اس سے کہ اس کے کوئی بچہ ہو اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کافی کارساز،(سورۃ النساء آیت ١٧١)ابو عبید نے کہا:اور وہ اس کا کلمہ كُنْ ہو جا ہیں سو وہ ہو گئے۔اور دوسروں نے کہا:رُوحٌ مِنْهُ کا معنی ہے:اللہ نے ان کو زندہ کیا پھر ان کو روح بنادیا۔ :اور یہ نہ کہو کہ وہ تین ہیں۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ وحدہ لا شریک ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جسے پہنچا دیا تھا اللہ نے مریم تک اور ایک روح ہیں اس کی طرف سے اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو اس نے جو بھی عمل کیا ہوگا(آخر)اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ولید نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابن جابر نے بیان کیا، ان سے عمیر نے اور جنادہ نے اور اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا(ایسا شخص)جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے (داخل ہوگا) ۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،قَوْلُهُ : { يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ انْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلًا }حدیث نمبر ٣٤٣٥)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور کتاب میں مریم کو یاد کیجیے! جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرقی جگہ میں چلی گئی (مریم ١٦) نَبَذْنَاهُ کا معنی ہے:ہم نے ان کو ڈال دیا وہ مشرقی جانب نکل گئیں یعنی اس جانب جو مشرق کے قریب ہے۔فَأَجَاءَهَا یہ جنت کے مادہ سے باب افعال کا صیغہ ہے۔جیسے کہا جاتا ہے:أَلْجَأَهَا۔جس کا معنی ہے:اس مجبور اور لاچار کر دیا۔تُساقَطْ کا معنی ہے:تَسْقُطْ۔یعنی گریں گی۔قَصِيًّا کا معنی ہے:قَاصِيًا۔یعنی دور دراز۔فَرِيًّا کا معنی ہے عظیم یعنی سنگین کام۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا:نِسْيًا کا معنی ہے:میں کچھ بھی نہ ہوتی۔اور دوسروں نے کہا:النِّسْيُ کا معنی ہے۔حقیر۔ابو وائل نے کہا:حضرت مریم نے جان لیا کہ اللہ سے ڈرنے والا وہ شخص ہوتا ہے جو عقل والا ہو جب انہوں نے یہ کہا:اگر تو اللہ سے ڈرنے والا ہے۔وکیع نے کہا از اسرائیل از ابی اسحاق از البراء کہ:سریانیہ میں سَرِيًّا کا معنی ہے چھوڑ دیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:گود میں تین بچوں کے سوا اور کسی نے بات نہیں کی۔ اول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)(دوسرے کا واقعہ یہ ہے کہ)بنی اسرائیل میں ایک بزرگ تھے، نام ان کا جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی ماں نے انہیں پکارا۔ انہوں نے۔(اپنے دل میں)کہا کہ میں والدہ کا جواب دوں یا نماز پڑھتا رہوں؟ اس پر ان کی والدہ نے (غصہ ہو کر)بددعا کی: اے اللہ! اس وقت تک اسے موت نہ آئے جب تک یہ زانیہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔حضرت جریج اپنے عبادت خانے میں رہا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے سامنے ایک فاحشہ عورت آئی اور ان سے بدکاری چاہی لیکن انہوں نے(اس کی خواہش پوری کرنے سے)انکار کیا۔ پھر وہ ایک چرواہے کے پاس آئی اور اسے اپنے اوپر قابو دے دیا اس سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ اور اس نے حضرت جریج پر یہ تہمت دھری کہ یہ جریج کا بچہ ہے۔ ان کی قوم کے لوگ آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا، انہیں نیچے اتار کر لائے اور انہیں گالیاں دیں۔ پھر انہوں نے وضو کر کے نماز پڑھی، اس کے بعد بچے کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے؟ بچہ(اللہ کے حکم سے) بول پڑا کہ چرواہا ہے اس پر(ان کی قوم شرمندہ ہوئی اور)کہا ہم آپ کا عبادت خانہ سونے کا بنائیں گے۔ لیکن انہوں نے کہا ہرگز نہیں، مٹی ہی کا بنے گا(تیسرا واقعہ)اور ایک بنی اسرائیل کی عورت تھی، اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ قریب سے ایک سوار نہایت عزت والا اور خوش پوش گزرا۔ اس عورت نے دعا کی: اے اللہ! میرے بچے کو بھی اسی جیسا بنا دے لیکن بچہ (اللہ کے حکم سے)بول پڑا کہ اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا۔ پھر اس کے سینے سے لگ کر دودھ پینے لگا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے میں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی انگلی چوس رہے ہیں(بچے کے دودھ پینے کی کیفیت بتلاتے وقت)پھر ایک باندی اس کے قریب سے لے جائی گئی (جسے اس کے مالک مار رہے تھے)تو اس عورت نے دعا کی کہ اے اللہ! میرے بچے کو اس جیسا نہ بنانا۔ بچے نے پھر اس کا پستان چھوڑ دیا اور کہا کہ اے اللہ! مجھے اسی جیسا بنا دے۔ اس عورت نے پوچھا۔ ایسا تو کیوں کہہ رہا ہے؟ بچے نے کہا کہ وہ سوار ظالموں میں سے ایک ظالم شخص تھا اور اس باندی سے لوگ کہہ رہے تھے کہ تم نے چوری کی اور زنا کیا حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا ،حدیث نمبر ٣٤٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس رات مجھے معراج ہوئی(،اس رات) میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان کیا وہ .... میرا خیال ہے کہ معمر نے کہا .... دراز قامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی ملاقات کی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کا بھی حلیہ بیان فرمایا کہ درمیانہ قد اور سرخ و سپید تھے، جیسے ابھی ابھی غسل خانے سے باہر آئے ہوں اور میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بھی ملاقات کی تھی اور میں ان کی اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب۔ مجھ سے کہا گیا کہ جو آپ کا جی چاہے لے لو۔ میں نے دودھ کا برتن لے لیا اور پی لیا۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ فطرت کی آپ نے راہ پا لی، یا فطرت کو آپ نے پا لیا۔ اس کے بجائے اگر آپ شراب کا برتن لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا،حدیث نمبر ٣٤٣٧)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں نے حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کو دیکھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہایت سرخ گھونگھریالے بال والے اور چوڑے سینے والے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) گندم گوں دراز قامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے کوئی قبیلہ زُط کا آدمی ہو۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا ،حدیث نمبر ٣٤٣٨)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے، لیکن دجال داہنی آنکھ سے کانا ہوگا، اس کی آنکھ اٹھے ہوئے انگور کی طرح ہوگی۔ اور میں نے رات کعبہ کے پاس خواب میں ایک گندمی رنگ کے آدمی کو دیکھا جو گندمی رنگ کے آدمیوں میں شکل کے اعتبار سے سب سے زیادہ حسین و جمیل تھا۔ اس کے سر کے بال شانوں تک لٹک رہے تھے، سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے شانوں پر رکھے ہوئے وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ حضرت مسیح ابن مریم ہیں۔ اس کے بعد میں نے ایک شخص کو دیکھا، سخت اور مڑے ہوئے بالوں والا جو داہنی آنکھ سے کانا تھا۔ اسے میں نے ابن قطن سے سب سے زیادہ شکل میں ملتا ہوا پایا، وہ بھی ایک شخص کے شانوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا، یہ کون ہیں؟ فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے نافع سے کی ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا،حدیث نمبر ٣٤٣٩،و حدیث نمبر ٣٤٤٠)
حضرت سالم نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہرگز نہیں! اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ سرخ تھے بلکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اپنے کو دیکھا، اس وقت مجھے ایک صاحب نظر آئے جو گندمی رنگ لٹکے ہوئے بال والے تھے، دو آدمیوں کے درمیان ان کا سہارا لیے ہوئے اور سر سے پانی صاف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ آپ حضرت ابن مریم (علیہ السلام) ہیں۔ اس پر میں نے انہیں غور سے دیکھا تو مجھے ایک اور شخص بھی دکھائی دیا جو سرخ، موٹا، سر کے بال مڑے ہوئے اور داہنی آنکھ سے کانا تھا، اس کی آنکھ ایسی دکھائی دیتی تھی جیسے اٹھا ہوا انار ہو، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس سے شکل و صورت میں ابن قطن بہت زیادہ مشابہ تھا۔ زہری نے کہا کہ یہ قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص تھا جو جاہلیت کے زمانہ میں مرگیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا،حدیث نمبر ٣٤٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میں ابن مریم (علیہما السلام) سے دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ قریب ہوں، انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہیں اور میرے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا،حدیث نمبر ٣٤٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء (علیہم السلام) علاتی بھائیوں (کی طرح) ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے۔امام بخاری یہی حدیث کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک اور سند بیان کی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا،حدیث نمبر ٣٤٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا پھر اس سے دریافت فرمایا: تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور میری آنکھوں کو دھوکا ہوا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا،حدیث نمبر ٣٤٤٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا تھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شان میں غلو نہ کرو جس طرح نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کے متعلق غلو کیا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو(میرے متعلق) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا،حدیث نمبر ٣٤٤٥)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی لونڈی کو اچھی طرح ادب سکھلائے اور پورے طور پر اسے دین کی تعلیم دے۔ پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرلے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے اور وہ شخص جو پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتا تھا، پھر مجھ پر ایمان لایا تو اسے بھی دوگنا ثواب ملتا ہے اور وہ غلام جو اپنے رب کا بھی ڈر رکھتا ہے اور اپنے آقا کی بھی اطاعت کرتا ہے تو اسے بھی دوگنا ثواب ملتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا،حدیث نمبر ٣٤٤٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے دن) تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی:جیسے ہم نے پہلے تخلیق کی ابتداء کی تھی۔اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے ۔یہ ہم پر وعدہ ہے اس کو ہم ضرور پورا کرنے والے ہیں۔۔(الانبیاء ١٠٤)۔ پھر سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ پھر میرے اصحاب کو دائیں(جنت کی) طرف لے جایا جائے گا۔ لیکن کچھ کو بائیں(جہنم کی) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں لیکن مجھے بتایا جائے گا کہ جب آپ ان سے جدا ہوئے تو اسی وقت انہوں نے ارتداد اختیار کرلیا تھا۔ میں اس وقت وہی کہوں گا جو عبد صالح حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) نے کہا تھا کہ:اور میں اس وقت تک ان پر نگہبان تھا جب تک میں ان میں رہا۔پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر تو ہی نگہبان تھا۔ ان کی نگرانی کرتا رہا لیکن جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان ہے اور تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔اس آیت کا العزيز الحکيم تک پڑھیں (المائدہ ١١٧ تا ١١٨)۔محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ ابوعبداللہ سے روایت ہے اور ان سے قبیصہ نے بیان کیا کہ یہ وہ مرتدین ہیں جنہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں کفر اختیار کیا تھا اور جن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جنگ کی تھی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا }حدیث نمبر ٣٤٤٧)
باب:حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا آسمان سے اترنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ زمانہ قریب ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہوجائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔ اس وقت کا ایک سجدہ دنيا وما فيها سے بڑھ کر ہوگا۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو: (اور نزول عیسٰی علیہ السلام کے وقت)اور اہل کتاب میں سے ہر شخص حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے ضرور بضرور ایمان لے آئے گا ۔اور قیامت کے دن حضرت عیسٰی علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے ۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ،حدیث نمبر ٣٤٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہا السلام تم میں اتریں گے (تم نماز پڑھ رہے ہو گے)اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔ اس روایت کی متابعت عقیل اور اوزاعی نے کی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ : نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ،حدیث نمبر ٣٤٤٩)
ربعی بن حراش نے بیان کیا کہ حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ وہ حدیث ہم سے نہیں بیان کریں گے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی دونوں ہوں گے لیکن لوگوں کو جو آگ دکھائی دے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور لوگوں کو جو ٹھنڈا پانی دکھائی دے گا تو وہ جلانے والی آگ ہوگی۔ اس لیے تم میں سے جو کوئی اس کے زمانے میں ہو تو اسے اس میں گرنا چاہیے جو آگ ہوگی کیوں کہ وہی انتہائی شیریں اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے میں نے سنا آپ فرما رہے تھے کہ تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا۔اس کے پاس اس کی روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت آیا اس سے پوچھا گیا،کیا تو نے کوئی نیکی کا کام کیا۔اس نے کہا :مجھے معلوم نہیں۔اس سے کہا گیا:تم غور کرو۔اس نے کہا:میں اس کے سوا کوئی اور بات نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں کی چیزیں فروخت کرتا تھا۔پس میں ان سے تقاضا کرتا تھا۔جو مال دار ہوتا اس کو مہلت دیتا اور جو تنگ دست ہوتا اس سے در گزر کرتا۔پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرما دیا۔ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ایک شخص کی موت کا جب وقت آگیا اور وہ اپنی زندگی سے بالکل مایوس ہوگیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میری موت ہوجائے تو میرے لیے بہت ساری لکڑیاں جمع کرنا اور ان میں آگ لگا دینا۔ جب آگ میرے گوشت کو جلا چکے اور آخری ہڈی کو بھی جلا دے تو ان جلی ہوئی ہڈیوں کو پیس ڈالنا اور کسی تند ہوا والے دن کا انتظار کرنا اور (ایسے کسی دن)میری راکھ کو دریا میں بہا دینا۔ اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کیا اور اس سے پوچھا ایسا تو نے کیوں کروایا تھا؟ اس نے جواب دیا کہ تیرے ہی خوف سے اے اللہ! اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی۔ حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا تھا کہ یہ شخص کفن چور تھا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٥٠، و حدیث نمبر ٣٤٥١،و حدیث نمبر ٣٤٥٢)
عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی چادر چہرہ مبارک پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا، اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس امت کو ان کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٥٣،و حدیث نمبر ٣٤٥٤)
ابوحازم نے بیان کیا کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں پانچ سال تک بیٹھا ہوں۔ میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب بھی ان کے کوئی نبی فوت ہوجاتے تو دوسرے ان کی جگہ آموجود ہوتے، لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں میرے نائب ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ان کے متعلق آپ کا ہمیں کیا حکم ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے جس سے بیعت کرلو، بس اسی کی وفاداری پر قائم رہو اور ان کا جو حق ہے اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو کیوں کہ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٥٥)
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم لوگ پہلی امتوں کے طریقوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی ساہنہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کی مراد پہلی امتوں سے یہود و نصاریٰ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کون ہوسکتا ہے؟ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٥٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (نماز کے لیے اعلان کے طریقے پر بحث کرتے وقت) صحابہ کرام نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا، لیکن بعض نے کہا کہ یہ تو یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے۔ آخر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ اذان میں(کلمات) دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر میں ایک ایک دفعہ۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٥٧)
مسروق نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو ناپسند کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اس طرح یہود کرتے ہیں۔اسی کی متابعت کی ہے شعبہ نے اعمش کے حوالے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٥٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارا زمانہ پچھلی امتوں کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت ہے، تمہاری مثال یہود و نصاریٰ کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کچھ مزدور لیے اور کہا کہ میرا کام آدھے دن تک کون ایک ایک قیراط کی اجرت پر کرے گا؟ یہود نے آدھے دن تک ایک ایک قیراط کی مزدوری پر کام کرنا طے کرلیا۔ پھر اس شخص نے کہا کہ آدھے دن سے عصر کی نماز تک میرا کام کون شخص ایک ایک قیراط کی مزدوری پر کرے گا۔ اب نصاریٰ ایک ایک قیراط کی مزدوری پر آدھے دن سے عصر کے وقت تک مزدوری کرنے پر تیار ہوگئے۔ پھر اس شخص نے کہا کہ عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک دو دو قیراط پر کون شخص میرا کام کرے گا؟ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ تمہیں ہو جو دو دو قیراط کی مزدوری پر عصر سے سورج ڈوبنے تک کام کرو گے۔ تم آگاہ رہو کہ تمہاری مزدوری دگنی ہے۔ یہود و نصاریٰ اس فیصلہ پر غصہ ہوگئے اور کہنے لگے کہ کام تو ہم زیادہ کریں اور مزدوری ہمیں کو کم ملے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا:کیا میں نے تمہیں تمہارے حق سے کچھ کم دیا ہے، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں عطاء کرتا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٥٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فلاں کو تباہ کرے۔انہیں کیا معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: یہود پر اللہ کی لعنت ہو، ان کے لیے چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کردیا۔ اس روایت کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٦٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرا پیغام لوگوں کو پہنچاؤ! اگرچہ ایک ہی آیت ہو اور بنی اسرائیل کے واقعات تم بیان کرسکتے ہو، ان میں کوئی حرج نہیں اور جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہود و نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو (یعنی بالوں کو رنگا کرو) (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٦٢)
حسن نے کہا کہ ہم سے جندب بن عبداللہ نے اسی مسجد میں بیان کیا(حسن نے کہا کہ)انہوں نے جب ہم سے بیان کیا ہم اسے بھولے نہیں اور نہ ہمیں اس کا اندیشہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف اس حدیث کی نسبت غلط کی ہوگی، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھلے زمانے میں ایک شخص (کے ہاتھ میں) زخم ہوگیا تھا اور اسے اس سے بڑی تکلیف تھی، آخر اس نے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خون بہنے لگا اور اسی سے وہ مرگیا پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: میرے بندے نے خود میرے پاس آنے میں جلدی کی اس لیے میں نے بھی جنت کو اس پر حرام کردیا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٣٤٦٣)
باب:بنی اسرائیل میں کوڑھی، گنجے اور اندھے کی حدیث۔ دو سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک کوڑھی، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کا امتحان لے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اچھا رنگ اور اچھی چمڑی کیوں کہ مجھ سے لوگ پرہیز کرتے ہیں۔ بیان کیا کہ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہوگئی اور اس کا رنگ بھی خوبصورت ہوگیا اور چمڑی بھی اچھی ہوگئی۔ فرشتے نے پوچھا کس طرح کا مال تم زیادہ پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اونٹ! یا اس نے گائے کہی، اسحاق بن عبداللہ کو اس سلسلے میں شک تھا کہ کوڑھی اور گنجے دونوں میں سے ایک نے اونٹ کی خواہش کی تھی اور دوسرے نے گائے کی۔ چناں چہ اسے حاملہ اونٹنی دی گئی اور کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے گا، پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ عمدہ بال اور موجودہ عیب میرا ختم ہوجائے کیوں کہ لوگ اس کی وجہ سے مجھ سے پرہیز کرتے ہیں۔ بیان کیا کہ فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا عیب جاتا رہا اور اس کے بجائے عمدہ بال آگئے۔ فرشتے نے پوچھا، کس طرح کا مال پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ گائے! بیان کیا کہ فرشتے نے اسے حاملہ گائے دے دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے گا۔ پھر اندھے کے پاس فرشتہ آیا اور کہا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آنکھوں کی روشنی دیدے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ بیان کیا کہ فرشتے نے ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی اسے واپس دے دی۔ پھر پوچھا کہ کس طرح کا مال تم پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ بکریاں! فرشتے نے اسے حاملہ بکری دے دی۔ پھر تینوں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے، یہاں تک کہ کوڑھی کے اونٹوں سے اس کی وادی بھر گئی، گنجے کی گائے بیل سے اس کی وادی بھر گئی اور اندھے کی بکریوں سے اس کی وادی بھر گئی۔ پھر دوبارہ فرشتہ اپنی اسی پہلی شکل میں کوڑھی کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین و فقیر آدمی ہوں، سفر کا تمام سامان و اسباب ختم ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے حاجت پوری ہونے کی امید نہیں، لیکن میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس سے سفر کو پورا کرسکوں۔ اس نے فرشتے سے کہا کہ میرے ذمہ حقوق اور بہت سے ہیں۔ فرشتہ نے کہا، غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں، کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ تم سے گھن کھاتے تھے۔ تم ایک فقیر اور قلاش تھے۔ پھر تمہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں عطا کیں؟ اس نے کہا کہ یہ ساری دولت تو میرے باپ دادا سے چلی آرہی ہے۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔ پھر فرشتہ گنجے کے پاس اپنی اسی پہلی صورت میں آیا اور اس سے بھی وہی درخواست کی اور اس نے بھی وہی کوڑھی والا جواب دیا۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا، اپنی اسی پہلی صورت میں اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں، سفر کے تمام سامان ختم ہوچکے ہیں اور سوا اللہ تعالیٰ کے کسی سے حاجت پوری ہونے کی توقع نہیں۔ میں تم سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں تمہاری بینائی واپس دی ہے، ایک بکری مانگتا ہوں جس سے اپنے سفر کی ضروریات پوری کرسکوں۔ اندھے نے جواب دیا کہ واقعی میں اندھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بینائی عطا فرمائی اور واقعی میں فقیر و محتاج تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے مالدار بنایا۔ تم جتنی بکریاں چاہو لے سکتے ہو، اللہ کی قسم! جب تم نے اللہ کا واسطہ دیا ہے تو جتنا بھی تمہارا جی چاہے لے جاؤ، میں تمہیں ہرگز نہیں روک سکتا۔ فرشتے نے کہا کہ تم اپنا مال اپنے پاس رکھو، یہ تو صرف امتحان تھا اور اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،حَدِيثُ أَبْرَصَ وَأَعْمَى وَأَقْرَعَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ.،حدیث نمبر ٣٤٦٤)
حدیث غار۔ باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :کیا آپ سمجھا کہ غار والے اور کتبے والے (الکہف ٩)الْكَهْفُ ،پہاڑ میں جو درہ ہو اس کو کہف کہتے ہیں۔الرَّقِيمُ کا معنی ہے:لکھا ہوا۔یہ الرَّقْمِ سے بنا ہے۔جس کا معنی ہے لکھنا۔رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ کا معنی ہے۔ہم نے ان پر صبر کا الہام کیا۔شَطَطًا کا معنی ہے:ظلم میں بہت غلو کرنا۔الْوَصِيدُ کا معنی ہے۔صحن ۔اس کی جمع وَصَائِدُ ہے ۔اور وُصُدٌ آتی ہے۔وَصِيدُ دہلیز کو بھی کہتے ہیں۔مُؤْصَدَةٌ کا معنی ہے۔وہ مکان جس کا دروازہ ہر طرف سے بند کیا ہوا ہو۔عرب کہتے ہیں:آصَدَ الْبَابَ۔اور أَوْصَدَ یعنی دروازہ بالکل بند کر دیا۔بَعَثْنَاهُمْ کا معنی ہے:ہم نے ان کو زندہ کیا۔أَزْكَى کا معنی ہے جو زیادہ پاکیزہ ہو۔پس اللہ نے غار میں ان کے کانوں پر ضرب لگائی۔یعنی ان کو سلا دیا۔رَجْمًا بِالْغَيْبِ کا معنی ہے:ان پر واضح نہیں ہوا تھا۔اور مجاہد نے کہا:تَقْرِضُهُمْ کا معنی ان کو چھوڑ دیتی ہے۔ باب:غار کی حدیث: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھلے زمانے میں (بنی اسرائیل میں سے) تین آدمی کہیں راستے میں جا رہے تھے کہ اچانک بارش نے انہیں آلیا۔ وہ تینوں پہاڑ کے ایک کھوہ(غار)میں گھس گئے(جب وہ اندر چلے گئے)تو غار کا منہ بند ہوگیا۔ اب تینوں آپس میں یوں کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ہمیں اس مصیبت سے اب تو صرف سچائی ہی نجات دلائے گی۔ بہتر یہ ہے کہ اب ہر شخص اپنے کسی ایسے عمل کو بیان کر کے دعا کرے جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ وہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے کیا تھا۔ چناں چہ ایک نے اس طرح دعا کی۔ اے اللہ! تجھ کو خوب معلوم ہے کہ میں نے ایک مزدور رکھا تھا جس نے ایک فرق(تین صاع)چاول کی مزدوری پر میرا کام کیا تھا لیکن وہ شخص (غصہ میں آ کر) چلا گیا اور اپنے چاول چھوڑ گیا۔ پھر میں نے اس ایک فرق چاول کو لیا اور اس کی کاشت کی۔ اس سے اتنا کچھ ہوگیا کہ میں نے پیداوار میں سے گائے بیل خرید لیے۔ اس کے بہت دن بعد وہی شخص مجھ سے اپنی مزدوری مانگنے آیا۔ میں نے کہا کہ یہ گائے بیل کھڑے ہیں ان کو لے جا۔ اس نے کہا کہ میرا تو صرف ایک فرق چاول تم پر ہونا چاہیے تھا۔ میں نے اس سے کہا یہ سب گائے بیل لے جا کیوں کہ اسی ایک فرق کی آمدنی ہے۔ آخر وہ گائے بیل لے کر چلا گیا۔ پس اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ ایمانداری میں نے صرف تیرے ڈر سے کی تھی تو، تو غار کا منہ کھول دے۔ چناں چہ اسی وقت وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔ پھر دوسرے نے اس طرح دعا کی۔ اے اللہ! تجھے خوب معلوم ہے کہ میرے ماں باپ جب بوڑھے ہوگئے تو میں ان کی خدمت میں روزانہ رات میں اپنی بکریوں کا دودھ لا کر پلایا کرتا تھا۔ ایک دن اتفاق سے میں دیر سے آیا تو وہ سو چکے تھے۔ ادھر میرے بیوی اور بچے بھوک سے بلبلا رہے تھے لیکن میری عادت تھی کہ جب تک والدین کو دودھ نہ پلا لوں، بیوی بچوں کو نہیں دیتا تھا مجھے انہیں بیدار کرنا بھی پسند نہیں تھا اور چھوڑنا بھی پسند نہ تھا(کیوں کہ یہی ان کا شام کا کھانا تھا اور اس کے نہ پینے کی وجہ سے وہ کمزور ہوجاتے)پس میں ان کا وہیں انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ پس اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو تو ہماری مشکل دور کر دے۔ اس وقت وہ پتھر کچھ اور ہٹ گیا اور اب آسمان نظر آنے لگا۔ پھر تیسرے شخص نے یوں دعا کی۔ اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے ایک بار اس سے صحبت کرنی چاہی، اس نے انکار کیا مگر اس شرط پر تیار ہوئی کہ میں اسے سو اشرفی لا کر دے دوں۔ میں نے یہ رقم حاصل کرنے کے لیے کوشش کی۔ آخر وہ مجھے مل گئی تو میں اس کے پاس آیا اور وہ رقم اس کے حوالے کردی۔ اس نے مجھے اپنے نفس پر قدرت دے دی۔ جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان بیٹھ چکا تو اس نے کہا کہ اللہ سے ڈر اور مہر کو بغیر حق کے نہ توڑ۔ میں(یہ سنتے ہی)کھڑا ہوگیا اور سو اشرفی بھی واپس نہیں لی۔ پس اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ عمل تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو، تو ہماری مشکل آسان کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مشکل دور کردی اور وہ تینوں باہر نکل آئے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،حَدِيثُ الْغَارِ،حدیث نمبر ٣٤٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی کہ ایک سوار ادھر سے گزرا، وہ اس وقت بھی بچے کو دودھ پلا رہی تھی(سوار کی شان دیکھ کر) عورت نے دعا کی: اے اللہ! میرے بچے کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ اس سوار جیسا نہ ہوجائے۔اسی وقت(بقدرت الہٰی)بچہ بول پڑا۔ اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ کرنا۔ اور پھر وہ دودھ پینے لگا۔ اس کے بعد ایک عورت کو ادھر سے لے جایا گیا، اسے لے جانے والے اسے گھسیٹ رہے تھے اور اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ ماں نے دعا کی: اے اللہ! میرے بچے کو اس عورت جیسا نہ کرنا، لیکن بچے نے کہا کہ اے اللہ! مجھے اسی جیسا بنادینا (پھر تو ماں نے پوچھا، ارے یہ کیا معاملہ ہے؟ اس بچے نے بتایا کہ سوار تو کافر و ظالم تھا اور عورت کے متعلق لوگ کہتے تھے کہ تو زنا کراتی ہے تو وہ جواب دیتی حسبي الله(اللہ کی ذات میرے لیے کافی ہے، وہ میری پاک دامنی جانتا ہے) لوگ کہتے کہ تو چوری کرتی ہے تو وہ جواب دیتی حسبي الله (اللہ میرے لیے کافی ہے اور وہ میری پاک دامنی جانتا ہے)۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ :حدیث نمبر ٣٤٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا:ایک کتا ایک کنویں کے چاروں طرف چکر کاٹ رہا تھا جیسے پیاس کی شدت سے اس کی جان نکل جانے والی ہو کہ بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے اسے دیکھ لیا۔ اس عورت نے اپنا موزہ اتار کر کتے کو پانی پلایا اور اس کی مغفرت اسی عمل کی وجہ سے ہوگئی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ،حدیث نمبر ٣٤٦٧)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ ایک سال جب وہ حج کے لیے گئے ہوئے تھے تو منبرنبوی پر کھڑے ہو کر انہوں نے پیشانی کے بالوں کا ایک گچھا لیا جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھا اور فرمایا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کدھر گئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس طرح (بال جوڑنے کی)ممانعت فرمائی تھی اور فرمایا تھا کہ بنی اسرائیل پر بربادی اس وقت آئی جب (شریعت کے خلاف) ان کی عورتوں نے اس طرح بال سنوارنے شروع کردیئے تھے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،بَابٌ،حدیث نمبر ٣٤٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ امتوں میں محدث لوگ ہوا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمر بن خطاب ہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٦٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے خون ناحق کئے تھے پھر وہ نادم ہو کر) مسئلہ پوچھنے نکلا۔ وہ ایک درویش کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کیا اس گناہ سے توبہ قبول ہونے کی کوئی صورت ہے؟ درویش نے جواب دیا کہ نہیں۔ یہ سن کر اس نے اس درویش کو بھی قتل کردیا (اور سو خون پورے کر دئیے)پھر وہ(کچھ دنوں کے بعد نادم ہوا اور پھر دوسروں سے)پوچھنے لگا۔ آخر اس کو ایک درویش نے بتایا کہ فلاں بستی میں چلا جا کیوں کہ وہاں اللہ کے نیک بندے رہتے ہیں چناں چہ )(وہ آدھے راستے بھی نہیں پہنچا تھا کہ)اس کی موت واقع ہوگئی۔ مرتے مرتے اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف جھکا دیا۔ آخر رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں باہم جھگڑا ہوا۔(کہ کون اسے لے جائے) لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نصرہ نامی بستی کو (جہاں وہ توبہ کے لیے جا رہا تھا)حکم دیا کہ اس کی نعش سے قریب ہوجائے اور دوسری بستی کو (جہاں سے وہ نکلا تھا)حکم دیا کہ اس کی نعش سے دور ہوجا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ اب دونوں کا فاصلہ دیکھو اور (جب ناپا تو) اس بستی کو (جہاں وہ توبہ کے لیے جا رہا تھا) ایک بالشت نعش سے نزدیک پایا اس لیے وہ بخش دیا گیا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھی پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:ایک شخص(بنی اسرائیل کا) اپنی گائے ہانک کر لیے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا اور پھر اسے مارا۔ اس گائے نے(بقدرت الہیٰ ) کہا کہ ہم جانور سواری کے لیے نہیں پیدا کئے گئے۔ ہماری پیدائش تو کھیتی کے لیے ہوئی ہے۔ لوگوں نے کہا سبحان اللہ! گائے بات کرتی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر بھی۔ حالاں کہ یہ دونوں وہاں موجود بھی نہیں تھے۔ اسی طرح ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور ریوڑ میں سے ایک بکری اٹھا کرلے جانے لگا۔ ریوڑ والا دوڑا اور اس نے بکری کو بھیڑئیے سے چھڑا لیا۔ اس پر بھیڑیا (بقدرت الہیٰ )بولا، آج تو تم نے مجھ سے اسے چھڑا لیا لیکن درندوں والے دن میں (قرب قیامت)اسے کون بچائے گا جس دن میرے سوا اور کوئی اس کا چرواہا نہ ہوگا؟ لوگوں نے کہا، سبحان اللہ! بھیڑیا باتیں کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اس بات پر ایمان لایا اور ابوبکر و عمر بھی حالاں کہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔ امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا اور ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے مسعر سے، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کیا اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک شخص نے دوسرے شخص سے مکان خریدا اور مکان کے خریدار کو اس مکان میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا جس سے وہ مکان اس نے خریدا تھا اس سے اس نے کہا بھائی گھڑا لے جا۔ کیوں کہ میں نے تم سے گھر خریدا ہے سونا نہیں خریدا تھا۔ لیکن پہلے مالک نے کہا کہ میں نے گھر کو ان تمام چیزوں سمیت تمہیں بیچ دیا تھا جو اس کے اندر موجود ہوں۔(پھر معاملہ یہاں تک پہنچا کہ) یہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے کہا کہ لڑکے کا لڑکی سے نکاح کر دو اور سونا انہیں پر خرچ کر دو اور خیرات بھی کر دو۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٧٢)
عامر بن سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا اور انہوں نے (عامر نے)اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ)کو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھتے سنا تھا کہ طاعون کے بارے میں آپ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاعون ایک عذاب ہے جو پہلے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا یا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ (بھی) فرمایا کہ ایک گزشتہ امت پر بھیجا گیا تھا۔ اس لیے جب کسی جگہ کے متعلق تم سنو (کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے)تو وہاں نہ جاؤ۔ لیکن اگر کسی ایسی جگہ یہ وبا پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ ابوالنضر نے کہا یعنی بھاگنے کے سوا اور کوئی غرض نہ ہو تو مت نکلو۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٧٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے بھیجتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو مومنوں کے لیے رحمت بنادیا ہے۔ اگر کسی شخص کی بستی میں طاعون پھیل جائے اور وہ صبر کے ساتھ اللہ کی رحمت سے امید لگائے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے کہ ہوگا وہی جو اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھا ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٧٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ مخزومیہ خاتون(فاطمہ بنت اسود)جس نے(غزوہ فتح کے موقع پر)چوری کرلی تھی،اس کے معاملہ نے قریش کو فکر میں ڈال دیا۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے گفتگو کون کرے! آخر یہ طے پایا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کرسکتا۔ چناں چہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ کہا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے اسامہ! کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتا ہے؟ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا (جس میں)نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہوگئیں کہ جب ان کا کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٧٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ایک صحابی(حضرت عمرو بن العاص رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) کو قرآن مجید کی ایک آیت پڑھتے سنا۔ وہی آیت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف قرآت کے ساتھ میں سن چکا تھا، اس لیے میں انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا لیکن میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر اس کی وجہ سے ناراضگی کے آثار دیکھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اچھا پڑھتے ہو۔ آپس میں اختلاف نہ کیا کرو۔ تم سے پہلے لوگ اسی قسم کے جھگڑوں سے تباہ ہوگئے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٧٦)
شقیق بن سلمہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا میں گویا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ آپ بنی اسرائیل کے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ ان کی قوم نے انہیں مارا اور خون آلود کردیا۔ لیکن وہ نبی خون صاف کرتے جاتے اور یہ دعا کرتے:اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي کہ اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما۔ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٧٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ امتوں میں ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے خوب دولت دی تھی۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا میں تمہارے حق میں کیسا باپ ثابت ہوا؟ بیٹوں نے کہا کہ آپ ہمارے بہترین باپ تھے۔ اس شخص نے کہا لیکن میں نے عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا۔ اس لیے جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر میری ہڈیوں کو پیس ڈالنا اور (راکھ کو)کسی سخت آندھی کے دن ہوا میں اڑا دینا۔ بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ لیکن اللہ پاک نے اسے جمع کیا اور پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس شخص نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے ہی خوف سے چناں چہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دی۔ اس حدیث کو معاذ عنبری نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٧٨)
حضرت عقبہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے کہا:کیا آپ ہمیں وہ حدیث نہیں سناتے جس کو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے! انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :ایک شخص کے پاس موت کی علامت آئی جب وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو گیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو میرے لیے بہت ساری لکڑیاں جمع کرنا پھر ان میں آگ لگا دینا حتیٰ کہ جب آگ میرا گوشت کھا لے اور میری ہڈیوں تک پہنچ جائے تو پھر ان ہڈیوں کو لے کر پیسنا پھر مجھے سخت گرمی یا فرمایا :سخت آندھی کے ان دریا میں پھینک دینا(وصیت کے مطابق ایسا کیا گیا تو) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے اجزاء کو جمع کیا پس پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا:تیرے خوف کی وجہ سے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا۔ ہمیں موسیٰ نے حدیث بیان کیا کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا اور کہا کہ اس روایت میں في يوم راح ہے(سوا شک کے)اس کے معنی بھی سخت آندھی کے دن میں۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکروں کو اس نے یہ کہہ رکھا تھا کہ جب تم کسی کو مفلس پاؤ(جو میرا قرض دار ہو) تو اسے معاف کردیا کرو۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ بھی ہمیں معاف فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا(انتقال کے بعد) تو اللہ نے اسے بخش دیا۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب حديث نمبر ٣٤٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک شخص بہت گناہ کیا کرتا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹوں سے اس نے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا ڈالنا پھر میری ہڈیوں کو پیس کر ہوا میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے اتنا سخت عذاب کرے گا جو پہلے کسی کو بھی اس نے نہیں کیا ہوگا۔ جب وہ مرگیا تو (اس کی وصیت کے مطابق)اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم فرمایا کہ اگر ایک ذرہ بھی کہیں اس کے جسم کا تیرے پاس ہے تو اسے جمع کر کے لا۔ زمین حکم بجا لائی اور وہ بندہ اب (اپنے رب کے سامنے)کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: اے رب! تیرے ڈر کی وجہ سے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کردی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سوا دوسرے صحابہ نے اس حدیث میں لفظ خشيتك کے بدل مخافتک کہا ہے (دونوں لفظوں کا مطلب ایک ہی ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٨١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:(بنی اسرائیل کی)ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا تھا جسے اس نے قید کر رکھا تھا جس سے وہ بلی مرگئی تھی اور اس کی سزا میں وہ عورت دوزخ میں گئی۔ جب وہ عورت بلی کو باندھے ہوئے تھی تو اس نے اسے کھانے کے لیے کوئی چیز نہ دی، نہ پینے کے لیے اور نہ اس نے بلی کو چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب ۔حدیث نمبر ٣٤٨٢)
حضرت ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے اگلے پیغمبروں کے کلام جو پائے ان میں یہ بھی ہے کہ جب تجھ میں حیاء نہ ہو تو پھر جو جی چاہے کر۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٨٣)
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگلے پیغمبروں کے کلام میں سے لوگوں نے جو پایا یہ بھی ہے کہ جب تجھ میں حیاء نہ ہو پھر جو جی چاہے کر۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٨٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین سے گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا(گیا) اور اب وہ قیامت تک یوں ہی زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن خالد نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہم(دنیا میں)تمام امتوں کے آخر میں آئے لیکن(قیامت کے دن)تمام امتوں سے آگے ہوں گے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ انہیں پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں بعد میں ملی اور یہی وہ(جمعہ کا)دن ہے جس کے بارے میں لوگوں نے اختلاف کیا۔ یہودیوں نے تو اسے اس کے دوسرے دن(ہفتہ کو اختیار )کرلیا اور نصاریٰ نے تیسرے دن(اتوار کو اختیار کرلیا) ۔ پس ہر مسلمان کو ہفتے میں ایک دن (یعنی جمعہ کے دن)تو اسے جسم اور سر کو دھو لینا لازم ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٨٦۔و حدیث نمبر ٣٤٨٧)
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالٰی عنہما نے مدینہ کے اپنے آخری سفر میں ہمیں خطاب فرمایا اور (خطبہ کے دوران)آپ نے بالوں کا ایک گچھا نکالا اور فرمایا، میں سمجھتا ہوں کہ یہودیوں کے سوا اور کوئی اس طرح نہ کرتا ہوگا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس طرح بال سنوارنے کا نام الزور (فریب و جھوٹ)رکھا ہے۔ آپ کی مراد وصال في الشعر. سے تھی۔ یعنی بالوں میں جوڑ لگانے سے تھی(جیسے اکثر عورتیں مصنوعی بالوں میں جوڑ کیا کرتی ہیں) آدم کے ساتھ اس حدیث کو غندر نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٨٨)
Bukhari Shareef : Kitabo Ahadisil Ambiyaye
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ.
|
•